Baaghi TV

Category: خواتین

  • کیا مخصوص ایام میں عورت اچھوت ہو جاتی ہے؟ — ابو بکر قدوسی

    کیا مخصوص ایام میں عورت اچھوت ہو جاتی ہے؟ — ابو بکر قدوسی

    مذہبی طور پر مخلوط معاشروں کا بہرحال یہ المیہ ہوتا ہے کہ وہاں دوسرے مذاہب کے اثرات قبول کیے جاتے ہیں – ہمارے برصغیر میں ہندووں کی بہت سی عادات اور عقائد کو ہمارے لوگوں نے کم علمی کے سبب اپنا معمول بنا لیا – اس کمزوری سے بچنے کی واحد صورت یہ ہے کہ ہم کو خود اپنے دین اور اس کی تعلیمات کا مکمل معلوم ہو –

    بائبل عہد قدیم کے مطابق عورت حائضہ عورت ناپاک ہوتی ہے جس برتن کو چھوٙئے وہ برتن توڑ دیا جائے جس بستر پر بیٹھے وہ بستر ناپاک جس کپڑے کو چھوئے وہ کپڑا ناپاک ایام حیض کے بعد غسل اور دو قمریوں کی قربانی گذرانے کے بعد پاک ہوتی ۔۔۔

    عرب کے یہود میں عورت کے حیض کے دن اس کو اچھوت بنا دیتے تھے ، اس کا کھانا پینا اور رہنا سہنا سب الگ کر دیا جاتا – یہی صورت ہمارے ہندستان میں ہندوں میں موجود رہی ہے ۔ہندووں میں بھی ان ایام میں عورت کو الگ کر دیا جاتا ہے ۔۔۔۔

    پاکستان میں گلگت کے ساتھ ملحق کافرستان کہلانے والے علاقے میں مقامی قبائل آباد ہیں ، جو ایام حیض میں عورتوں کے لئے الگ ایک مخصوص عمارت میں عورتوں بیٹیوں کو بھیج دیتے ہیں ۔

    دو برس پہلے بی بی سی اردو پر ایک خاتون کی کہانی نے عورت کی اس تذلیل کو ان لفظوں میں بیان کیا ، آپ اس کو پڑھیے ، آپ حیران ہو جائیں گے – خاتون کہتی ہیں :

    مجھے 12 برس کی عمر میں حیض آئے۔ میری ماں اور بھابھیاں حیض کے دنوں میں گھر سے باہر بنی مٹی کی ایک جھونپڑی میں رہا کرتی تھیں اس لیے میں نے بھی وہاں جانا شروع کر دیا۔ میں ہمیشہ ڈرتی تھی کہ جانے یہاں کیا ہوگا کیونکہ مجھے کیڑے مکوڑوں اور جنگلی جانوروں سے ڈر لگتا تھا۔

    مجھے بتایا گیا تھا کہ اِن دنوں میں کتابوں کو ہاتھ لگانا گناہ ہے اس لیے میں اپنے حیض کے دنوں میں سکول ہی نہیں جاتی تھی۔

    آج بھی حیض والی عورتوں کو مویشیوں کے باڑے میں جانے کی اجازت نہیں کیونکہ وہ ان دنوں میں دودھ ، مکھن اور دہی استعمال نہیں کر سکتیں۔ مجھے بہت دکھ ہوا جب مجھے اپنے ہی گھر کے باڑے میں جانے نہیں دیا گیا۔ حیض کے دوران لوگ آپ کو کھانا بھی ہاتھ میں نہیں دیتے بلکہ آپ کے سامنے پھینک جاتے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ ان دنوں میں آپ کو اپنے سے بڑوں کو چھونا بھی نہیں چاہیے۔”

    اسی تہذیب نے یہاں مسلمانوں کو بھی متاثر کیا …ابھی کچھ دن پہلے ایک دوست نے بتایا کہ ان کے علاقے میں حالت حیض کی صورت میں عورت کو کسی حد تک اچھوت ہی سمجھ لیا جاتا ہے اسی طرح ایک دوست نے بتایا کہ بچے کی پیدائش پر پلید سمجھتے ہیں چالیس دن تک اس کے ساتھ ہاتھ تک نہیں ملاتے سر پر ہاتھ نہیں رکھتے ۔۔یعنی حیرت ہے کہ عورت کے ہاں بچے کی پیدائش کی صورت میں بھی اس کو اچھوت سمجھ لیا جاتا ہے -اور بعض علاقوں میں چالیس دن تک عورت کا بستر ، برتن اور چارپائی غرض ہر شے الگ کر دی جاتی ہے – حالانکہ ان دنوں میں عورت زیادہ معزز ہوتی ہے ، اس کی تکریم معمول سے زیادہ کرنی چاہیے اور ان دنوں میں ہی اس کو آپ کی محبت ، ہمدردی اور ساتھ کی زیادہ ضرورت ہوتی ہے –

    کیونکہ : زچگی کی صورت میں ویسے ہی وہ ایک بڑی تکلیف سے گزر چکی ہوتی ہے ، ایسے میں اسے پل پل آپ کے پیار کی ضرورت ہوتی ہے نہ کہ آپ اسے اچھوت بنا دیں – ویسے بھی آپ جو اولاد کو ترس رہے ہوتے ہیں اور کبھی تو بیٹے کی خواہش میں مرے جا رہے ہوتے ہیں اور اس نے آپ کی خواہش کو اپنایت سے اپنے اندر چھپا لیا – آپ کی خواہش کی تکمیل کے لیے نو ماہ کی اذیت برداشت کی ہوتی ہے اور آپ اسے تنہا کر دیتے ہیں –

    اسی طرح حالت حیض میں بھی عورت آپ کی محبت کی معمول سے زیادہ حق دار ہوتی ہے کیونکہ وہ دن رات آپ کے خدمت میں کمربستہ ہوتی ہے ، آپ کے بچے پالتی ہے ، آپ کا کھانا بناتی ہے ، اور اگر ورکنگ وومن ہے تو کسی نہ کسی طور آپ کے حصہ کا کام بھی کرتی ہے کیونکہ ہم نے دیکھا ہے عورت کو وراثت ملے ، یا خاوند کی کمائی سے کچھ بچا پائے یا نوکری کر کے تنخواہ لائے …. آخر گھر میں ہی خرچ کرتی ہے …تو ان مشکل دنوں میں وہ آپ کے ساتھ کی ضرورت مند ہوتی ہے جہاں تک ہمارے دین کا تعلق ہے اس کی تعلیمات ان دنوں کے حوالے سے بہت واضح اور روشن ہیں.

    سیدنا انس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ جب عورت حیض سے ہوتی تو یہودی اس کے ساتھ کھاتے پیتے نہیں تھے اور نہ اس کے ساتھ گھروں میں اکٹھے رہتے تھے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

    "حائضہ سے ہر کام کرو سوائے جماع کے”۔
    [صحیح مسلم، الحیض، باب جواز غسل الحائض راس زوجھا۔۔۔۔، حدیث:302]

    دیکھا جائے تو یہ حدیث ہر معاملے کو واضح کر رہی ہے کہ سوائے ہم بستری کے ان ایام میں ان کے ساتھ ہر معاملہ جائز ہے – ایک یہ جہالت بھی پائی جاتی ہے کہ ان ایام میں بیوی کے جسمانی طور پر پاس جانا بھی گناہ ہے حالانکہ گناہ صرف ہم بستری یعنی صحبت ہے – اس کے علاوہ آپ اپنی بیوی سے محبت والے دیگر معاملات کر سکتے ہیں – میں پہلے لکھ چکا ہوں یہ دن عورت کے نارمل دن نہیں ہوتے اس کو ان دنوں میں زیادہ محبت کی ضرورت ہوتی ہے زیادہ توجہ کی بھی …..اور محبت کا بہترین اظہار جسمانی قرب ہوتا ہے ..اور ہمارے رسول کریم صلی اللہ علیه وسلم سے زیادہ کون نفسیات انسانی کو سمجھ سکتا تھا ..سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ فرماتی ہیں :

    ” رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے ‘حالت حیض میں’ ازار باندھنے کا حکم دیتے، سو میں ازار باندھتی۔ آپ مجھے گلے لگاتے تھے اور میں حیض والی ہوتی تھی۔”

    [صحیح البخاری، الحیض، باب مباشرۃ الحائض، حدیث:300، وصحیح مسلم، الحیض، باب مباشرۃ الحائض فوق الازار، حدیث:293]
    ایک اور حدیث میں ہے

    عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد ‘میں اپنی اعتکاف گاہ’ سے مجھے بوریا پکڑانے کا حکم دیا۔ میں نے کہا کہ میں حائضہ ہوں۔

    آپ نے فرمایا:

    "تیرا حیض تیرے ہاتھ میں نہیں ہے۔”

    [صحیح مسلم، الحیض، باب جواز غسل الحائض راس زوجھا۔۔۔۔، حدیث:298]

    اور میاں بیوی کی محبت اور پیار کی اس سے زیادہ کیا تصویر کشی ہو سکتی ہے ، اور شوہر کی توجہ کا مظہر اس سے زیادہ کیا انداز ہو سکتا ہے

    عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے:

    نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میری گود کو تکیہ بنا کر قرآن حکیم کی تلاوت کرتے تھے، حالانکہ میں حائضہ ہوتی تھی۔

    [صحیح البخاری، الحیض، باب قراء ۃ الرجل فی حجر امراتہ وھی حائض، حدیث:297، وصحیح مسلم، الحیض ، باب جواز غسل الحائض راس زوجھا۔۔۔۔، حدیث:301]

    یہ تمام احادیث اس پر دلالت کرتی ہیں کہ یہ دن عورت کو معزز اور محترم بناتے ہیں نہ کہ اچھوت –

    ایک واحد معاملہ اور پابندی ضرور ہے کہ ان ایام میں عورت عبادت کے لیے مسجد میں نہیں آ سکتی تو بھی اس میں کوئی امتیازی سلوک نہیں بلکہ ایک طرح کی سہولت ہے کہ ان دنوں میں تو عورت گھر میں بھی کسی بھی قسم کی فرض عبادت سے آزاد ہوتی ہے –

    لیکن اس خون کو نجاست ضرور قرار دیا گیا اسی سبب مسجد میں آنا بھی ممنوع ہے .

  • جدید خاندانی منصوبہ بندی — خطیب احمد

    جدید خاندانی منصوبہ بندی — خطیب احمد

    ہم مڈل کلاسیوں کی شادیوں میں شادی لڑکے کی ہو یا لڑکی کی جتنی بھی سادگی برتی جائے نہ نہ کرتے اخراجات قرض لینے کی سطح تک پہنچ ہی جاتے ہیں۔ گھر کی خواتین لڑکے اور لڑکی دونوں سائیڈ سے زیور کے بغیر شادی کو حرام سمجھتی ہیں۔ شادی کے بعد اکثریت میں جوڑے مالی مشکلات کا شکار ہو جاتے ہیں۔ اور وہ مشکلات پلس خاوند کی مالی حیثیت تب اور واضح ہو جاتی جب پہلے دوسرے ماہ ہی خوشخبری آجاتی۔

    بھائی یورین ٹیسٹ پازیٹو آنے کے فوری بعد کسی تجربہ کار ریڈیالوجسٹ سے اسکین کروا کر پریگنینسی کی لوکیشن معلوم کرنا ہوتی ہے۔ اور پھر اس اسکین کے ساتھ گائناکالوجسٹ سے ملنا ہوتا ہے۔ بنیادی ٹیسٹنگ اور اگر کسی دوا کی ضرورت ہو تو وہ شروع کر دی جاتی ہے۔ 20 روپے کی سٹک سے یورین ٹیسٹ کرکے گھر نہیں بیٹھنا ہوتا۔

    اگر خوشخبری ملنے پر آپکے پاس کوئی پیسے نہیں ہیں۔ اور یہ کام اتنی جلدی ہو گیا ہے کہ ابھی شادی کا بھی قرض باقی ہے تو اگر پاس کچھ سونا موجود ہے وہ بغیر کسی کو بتائے دونوں میاں بیوی مشورہ کرکے بیچ دیں۔ اور خاوند اپنی حاملہ بیوی کی خود کئیر کرے۔ ہر چیز خود میسر کرے۔ نہ کہ اسے اپنی امی یا بہنوں یا گھر کی بزرگ خواتین کے حوالے کر دے۔ ہر ماہ ریگولر چیک اپ کرائیں اور ڈیلیوری بے شک نارمل ہی کیوں نہ بتائی گئی ہو۔ کسی بھی قیمت پر دائی یا کسی ایسے ہسپتال میں مت کرائیں جہاں بچے کو فی الفور آکسیجن لگانے کی سہولت میسر نہ ہو۔

    کوشش کریں کسی ایسی جگہ ڈیلیوری ہو جہاں بچوں کی نرسری موجود ہو۔ کم از کم وہاں سے قریب ہی کسی ہسپتال میں نرسری ہو۔ گاؤں سے شہر یا شہر کے ایک کونے سے دوسرے کونے میں آکسیجن لگوانے یا نرسری میں بچہ لیجانے تک وہ زندہ بچ بھی جائے اسکا برین کسی حد تک متاثر یا ڈیمج ہو چکا ہوتا۔ اس چیز کا فوری پتا نہیں چلتا۔ چند ماہ یا ایک دو سال تک جب بچہ اپنی عمر کے مطابق حرکات و سکنات نہیں کرتا تو ڈاکٹر پوچھتے کہ پیدائش کہاں ہوئی تھی۔ بچہ رویا تھا اسکا رنگ کیا تھا اسے آکسیجن لگی تھی ؟ تو خیال آتا گڑ بڑ کہاں ہوئی تھی۔

    برین ڈیمج کے نتیجے میں ہونے والی معذوری کبھی بھی ٹھیک نہیں ہو سکتی۔ اسے سیری برل پالسی کہتے ہیں۔ جسم مفلوج ہوجاتا اور ساری عمر بچے کو بیٹھنے کھڑا ہونے بات کرنے میں مشکلات کا سامنا رہتا ہے۔ بروقت کیا گیا فیصلہ جو حاملہ ماں کی اچھی کئیر اور اچھی جگہ ڈیلیوری عمر بھر کے پچھتاوے سے بہتر ہے۔

    اگر زیور نہیں ہے تو کم از کم قرض اتر جانے یا قرض اترنے کی کوئی سبیل ہی بن جانے تک انتظار کر لیا جائے۔ فیملی بڑھانے کا فیصلہ باہمی رضا مندی سے مؤخر کر لیا جائے۔

    میں اور مہدی بخاری بھائی سکردو کے ایک ہوٹل میں رکے ہوئے تھے۔ ہمارے ساتھ والے کمرے میں ایک فرینچ کپل رکا تھا۔ ان سے چائے کی میز پر گپ شپ ہوئی تو معلوم ہوا کہ وہ ایک سال کے ہنی مون پر ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ دونوں کا فیصلہ ہے ہم ایک سال تک کوالٹی ٹائم ساتھ گزاریں گے چھ ماہ چند ملکوں میں اور چھ ماہ پیرس میں جاکر گزاریں گے۔ پاکستان میں وہ ایک ماہ رکنے والے تھے۔ اور پھر فیملی بڑھائیں گے۔ یہاں یہ کنسپٹ تو جیسے گناہ سمجھا جاتا ہے۔ اس بات کو نیو بیاہتا جوڑوں تک پہنچانے کی ضرور کوشش کریں۔۔

  • عورتیں گھر بیٹھے بچہ جنم دیتی تھیں!!! — ضیغم قدیر

    عورتیں گھر بیٹھے بچہ جنم دیتی تھیں!!! — ضیغم قدیر

    سوال پوچھا گیا تھا کہ پہلے خواتین گھر میں بچہ جنم دے لیا کرتی تھیں جبکہ آج ایسا نہیں ہے۔ کیا عورتیں کمزور ہو گئی ہیں؟

    لیکن درحقیقت ہماری ماضی کا علم کافی دھندلا ہے۔ آج ہسپتال میں ہونے والی ڈلیوریز کی وجہ سے ہم کڑوڑوں ماؤں کو زندہ بچا رہے ہیں۔

    سی سیکشن کے کامن استعمال سے پہلے 1.5% خواتین بچے کو جنم دیتے فوت ہو جایا کرتی تھیں۔ اگر اب کے حساب سے دیکھیں تو یہ تعداد کڑوڑوں میں نکل آتی ہے۔ مزید جواب یوں تھا کہ

    چند سال پہلے عورتیں گھر بیٹھے بچہ جنم دیتی تھیں تو انکی موت کے امکانات بھی اتنے ہی زیادہ ہوتے تھے۔ آج ہر ایک لاکھ عورتوں میں سے صرف 15 عورتیں بچے کو جنم دیتے اون ایوریج فوت ہو رہی ہیں ۔

    جبکہ 18 ویں صدی میں یہی تعداد ایک لاکھ میں 600+ اموات تھی۔ اس سے پیچھے چلے جائیں تو یہی تعداد اس کے دوگنا سے بھی زیادہ تھی۔ یاد رہے ابھی یہ اعداد و شمار صرف ماؤں کی موت کے ہیں۔ بچوں کی موت کے اعداد و شمار اس سے الگ ہیں اور بھیانک ہیں۔

    آج کم عورتیں بچہ جنم دیتے فوت ہوتی ہیں اور کم بچے پیدائش کے وقت فوت ہوتے ہیں کیونکہ جو کیس پیچیدہ ہوتے ہیں ان کو ہم آپریشن کی مدد سے ہینڈل کر لیتے ہیں۔ سی سیکشن ڈلیوری کی وجہ سے آج لاکھوں مائیں اور بچے زندگی پا رہے ہیں اور یہ ایک نعمت سے کم نہیں۔

    ہاں ملک عزیز میں اسکا کچھ جگہوں پہ غلط استعمال ہو تو اس کا ہم کچھ نہیں کہہ سکتے۔

  • طلاق کے بعد تنگ نہ کیا کریں!!! — ڈاکٹر عدنان خان نیازی

    طلاق کے بعد تنگ نہ کیا کریں!!! — ڈاکٹر عدنان خان نیازی

    ایک کولیگ بتا رہے تھے کہ ان کے جاننے والے کے ساتھ ایک عجیب واقعہ پیش آیا ۔ وہ اپنی بیوی کو چھ سات ماہ پہلے طلاق دے چکے تھے اور وہ عدت کے بعد میکے میں تھی۔ طلاق کے چھ ماہ سات ماہ بعد ان کی دوسری شادی ہو رہی تھی تو پہلی مطلقہ (بیوی) پولیس لے کر پہنچ گئی کہ یہ میرا شوہر ہے اور مجھ سے اجازت لیے بغیر دوسری شادی کر رہا ہے۔

    اب چونکہ طلاق زبانی ہوئی تھی تو پولیس نے اسے گرفتار کر کے مقدمہ بنا دیا۔ شادی میں بھی بدمزگی پیدا ہوئی، اسے چند دن حوالات میں بھی رہنا پڑا ، پیسے بھی کافی لگے اور کیس کا فیصلہ ابھی تک نہیں ہو سکا ہے۔

    حالانکہ اس نے وہاں بھی کہا کہ میں اسے اتنے ماہ پہلے ہی طلاق دے چکا ہوں، وہاں ان کے سامنے بھی طلاق دی اور بعد میں کاغذات بنوا کر بھی عدالت میں پیش کیے۔ لیکن ابھی تک اس مطلقہ عورت کے وکیل کا کہنا ہے کہ یہ طلاق اس نے مقدمے اور سزا سے بچنے کے لیے اب دی ہے۔

    مجھے نہیں معلوم کہ اس سلسلے میں قانون کیا ہے اور اس کی جان کیسے چھوٹ سکتی ہے، یہ تو کوئی وکیل ہی بتا سکتا ہے لیکن یہاں دو باتیں عرض کرنا چاہوں گا کہ آج کل کوئی بھی کام کریں تو اسے رجسٹر لازمی کروائیں۔

    چاہے نکاح ہو طلاق ہو ، کوئی کاروباری معاہدہ ہو، کسی گاڑی، مکان، زمین وغیرہ کی خرید و فروخت ہو۔ کیونکہ کب قریبی اور پیارے جان کے دشمن بن جائیں کوئی پتہ نہیں لگتا۔

    دوسری بات یہ کہ طلاق کبھی بھی خوشی سے نہیں ہوتی ہے۔ جب بھی ہوتی ہے مجبوری، غصے یا نہ نبھ سکنے کی وجہ سے ہوتی ہے۔ تو طلاق ہونے کے بعد انا اور ضد کو چھوڑ دیا کریں۔

    بس جو وقت گزرا اور جیسے بھی گزرا، اس کی لاج رکھتے ہوئے ایک دوسرے کو طلاق کے بعد تنگ نہ کیا کریں ورنہ اس کا حساب یقیناً آخرت میں دینا ہو گا اور اس دنیا میں بھی اصول ہے کہ کسی کو بے سکون کر کے آپ کبھی بھی سکون نہیں پا سکتے ہیں۔

    اس میں اکثر کیسز میں دیکھا ہے کہ مرد حضرات تو دوسری شادی کر لیتے ہیں، انھیں کنواری لڑکیوں کا بھی رشتہ مل جاتا ہے، بچے ہوں تب بھی مل جاتا ہے لیکن عورتیں دوسری شادی کا نام بھی نہیں سننا چاہتی ہیں اور اکثر دوسری شادی نہ کرنے کی وجہ سے پہلے والی شوہر میں ہی پھنسی رہتی ہیں اور اس کی خوشی ان سے نہیں دیکھی جاتی۔

    اللہ ہمیں انا اور ضد سے بچائے۔

  • مطلقہ مائیں متوجہ ہوں!!! — ڈاکٹر عدنان خان نیازی

    مطلقہ مائیں متوجہ ہوں!!! — ڈاکٹر عدنان خان نیازی

    مردوں کا عالمی دن آیا اور گزر گیا پر ایک بات کہنا چاہوں گا جس مرد سے طلاق کے بعد اسکے بچے کی کفالت کے ہر ماہ پیسے لیتی ہو اس مرد سے اپنی اولاد کو ملنے کا جائز حق بھی نہ چھینا کرو۔ ہماری عدالتیں خرچ نہ دینے پر باپ کی جائیداد نیلام کرنے اسکی تنخواہ ضبط کرنے سے لیکر اسے جیل میں ڈالنے کا تو حق رکھتی ہیں۔ مگر جو اپنی مرضی سے خرچ دے رہا ہو اسے اسکی اولاد سے اسکے اپنے گھر ملنے کا حق دلانے میں ناکام ہیں۔ کسی غریب کا اپنے بچوں سے اسکے گھر ملاقات کا شیڈول بن بھی جائے تو اس پر بھی اس سے اوپر کی عدالت سٹے آرڈر دی دیتی ہے۔

    لڑکی اور اسکے گھر والے بچوں کو والد سے اس لیے نہیں ملنے دیتے کہ انکی غیرت گوارہ نہیں کرتی جس نے طلاق دی اس سے بچے ملیں۔ تو تم لوگوں کی غیرت اس سے ہر ماہ پیسے لینے پر کہاں چلی جاتی ہے؟ طلاق دینے کے بعد وہ کوئی حیوان تو نہیں بن جاتا انسان ہی رہتا ہے اور ان بچوں کا باپ بھی رہتا ہے۔ اور اسکی ذہنی صحت بھی ماں سے اکثریت کیسز میں بہت بہتر ہوتی ہے۔ وہ بچوں کو ماں سے بدگمان نہیں کرتا جیسے ماں بچوں کے باپ کو ولن وحشی اور نجانے کیا کچھ بنا دیتی ہے۔

    آج ایک وکیل دوست کے آفس میں ایک عورت رو رہی تھی کہ میرے بچے دو دن کے لیے اپنے باپ کے گھر جا رہے ہیں۔ وہ اسٹے آرڈر لینا چاہتی تھی۔ جس پر اس نے اسے کہا کہ بچوں کو والد سے ملنے دو میں یہ کیس نہیں لے سکتا۔ میں نے پوچھا وہ خرچ دیتا ہے تو کہتی ہاں بھائی دیتا ہے۔ مگر میں اپنے بچوں کے بغیر دو دن کیسے رہوں گی۔ میں نے کہا جیسے وہ رہتا ہے۔ بولی اتنا انکا سگا ہوتا تو طلاق ہی نہیں دیتا۔ میں نے کہا پیسے کس حق سے لیتی ہو بہن؟ بولی میں تو اسے جیل بھیجنا چاہتی ہوں پیسوں کی ضرورت نہیں ہے۔ میں خود کچھ بھی کر لوں گی۔ خرچ بڑھے گا نہیں دے سکے گا تو جیل جائے گا۔ میں بچوں کو پال لوں گی۔

    یعنی نفرت ہے اور انا ہے کہ اسے نیچا دکھانا۔ اور انہی چکروں میں اپنی جوانی اور ذہنی صحت تباہ کر لینی۔ طلاق کی وجہ جو بھی تھی اب اس کو بھلا کر آگے بڑھنے کی بجائے نفرت کی آگ میں اپنا سکون ضرور برباد کرنا ہے۔ دوسری طرف لڑکے کی شادی ہو چکی ہے۔ اسکے دو بچے ہیں وہ اپنی زندگی میں خوش ہے۔ بات صرف یہ ہے کہ اسکی خوشی دیکھی نہیں جا رہی۔ وہ ترلے لے رہا کہ بچے واپس کر دو اور تم بھی شادی کرو۔ مگر نہیں۔ اکثریت میں طلاق شدہ خواتین کی یہی نفسیات بن جاتی ہے۔ اور پھر کہا جاتا ہے کہ طلاق شدہ سے کوئی شادی نہیں کرتے۔ انکی سوچ تو دیکھو وہ کتنی ظالم اور سفاک ہو چکی ہوتی ہیں۔ جو آج انصاف نہیں کر رہی وہ آگے کیا کرے گی۔

    اکثریت خواتین بچوں کا خرچ چھوڑ دیتی ہیں کہ والد بچوں سے ملاقات یا انکی حوالگی کا مطالبہ ہمیشہ کے لیے چھوڑ دے۔

    اسکے برعکس بہت سے مرد خرچ نہیں دیتے وہ بچوں سے کیوں ملیں گے۔ وہ آج مخاطب نہیں ہیں۔ ذلیل ہوتے ہیں جیل کاٹتے ہیں اور عدالتوں میں خوار ہوتے رہتے ہیں۔

    جو لڑکیاں بچے انکے باپ کے پاس چھوڑ دیتی۔ اور طلاق کے فوراً بعد شادی کر لیتی ہیں وہ اس خود ساختہ اذیت سے نکل جاتی ہیں۔ ورنہ نفرت حسد اور بغض کی آگ میں جلنا اور کورٹ کچہریوں میں خوار ہونے کے سوا کچھ بھی ہاتھ نہیں آتا۔ یہ بات طلاق شدہ خواتین کو بڑی دیر بعد سمجھ آتی ہے جب بہت دیر ہو چکی ہوتی۔

  • میاں بیوی میں قربت — ڈاکٹر عدنان خان نیازی

    میاں بیوی میں قربت — ڈاکٹر عدنان خان نیازی

    میں ان کے گھر تیسرے بچے کی پیدائش پر مبارک بعد کے لیے بیٹھا تھا۔ وہ دونوں بہت خوش تھے۔ ان کا بس نہیں چل رہا تھا کہ میرے سامنے دنیا جہان کی چیزیں لا کر رکھ دیں۔ یہ میری ان دونوں سے دوسری ملاقات تھی جو اسی جگہ ان کے گھر ہوئی تھی۔ ان دونوں سے پہلی ملاقات بھی اسی ڈرائنگ روم میں تقریباً اس ملاقات سے دو سال قبل ہوئی تھی۔ لیکن وہ ملاقات بہت تلخ ماحول میں ہوئی تھی۔ وہ دونوں میری تحاریر پڑھتے تھے اور مجھے جانتے تھے ۔

    میں انھیں نہیں جانتا تھا۔ لڑکی کے والد سے میری شناسائی تھی اور ان کے کہنے پر ہی میں ان کے ساتھ ان دونوں سے ملاقات کے لیے گیا تھا۔ یہ دونوں اس وقت علیحدگی کا فیصلہ کر چکے تھے اور اب اس پر کوئی بھی بات سننے کو تیار نہیں تھے۔ عورت جانے کے لیے ساری پیکنگ پہلے ہی کر چکی تھی اور طلاق کے کاغذات تیار کروا چکے تھے۔

    میں نے ان دونوں سے صرف ایک گزارش کی تھی کہ اب لوگ ایک دوسرے سے بے شک الگ ہو جائیں لیکن ابھی طلاق کے کاغذات پھاڑ دیں اور چھ ماہ کے بعد اگر ضرورت رہی تو یہ کاغذات میں خود آپ لوگوں کو تیار کروا دونگا۔ میں انھیں نہیں جانتا تھا، میرا اس میں کوئی مفاد نہیں تھا لیکن بس ایک خواہش تھی کہ کسی طرح ان کا گھر بچ جائے۔

    تقریباً بیس منٹ رہنے والی اس تلخ ملاقات میں ان دونوں نے بمشکل میری یہ بات مان لی تھی، طلاق کے کاغذات پھاڑ دیے تھے اور لڑکی اپنے دونوں بچوں کو ساتھ لے کر اس گھر سے اپنے والدین کے گھر چلی گئی تھی۔ چار ماہ ایک دوسرے سے الگ رہنے کے بعد ان کی بات چیت دوبارہ شروع ہوئی اور پھر اگلے ماہ وہ واپس اپنے گھر آگئی تھی۔ یوں ان کا گھر بچ گیا تھا۔

    اب میری ملاقات ہوئی تو انھیں یوں خوش دیکھ کر میری آنکھوں میں بھی خوشی کے آنسو تھے۔ وہ بھی شکر گزار تھے کے اس دن جلد بازی میں طلاق کے کاغذات پر دستخط کر دیتے تو اب وہ بھی پتہ نہیں کس حال میں ہوتے اور بچے بھی رل جاتے۔

    میاں بیوی میں اختلافات ہو جانا ایک نارمل بات ہے لیکن کبھی بھی حالات آخری سٹیج تک نہ لے کر جائیں۔ اگر بہت زیادہ بگڑ جائیں تو پھر بغیر طلاق کے ہی کچھ وقت کے لیے علیحدگی اختیار کر لیں تاکہ دونوں کو اندازہ ہو جائے کہ علیحدگی کے بعد کی زندگی کیسی ہے۔

    یاد رہے کہ جلد بازی میں دونوں کو لگ رہا ہوتا ہے کہ اب ساتھ رہنا ممکن نہیں لیکن میاں بیوی میں قربت قدرتی ہے اور کچھ وقت الگ بتانے سے دونوں کو اپنی غلطیوں کا احساس بھی ہوتا ہے اور قربت کے لیے بھی دل کرتا ہے۔

    اس رشتے کی مضبوطی کے لیے نارمل حالات میں بھی تین چار ماہ بعد عورت کو میکے لازمی جانا چاہیے تاکہ میاں بیوی کچھ وقت ایک دوسرے سے دور رہ کر ایک دوسرے کی کمی محسوس کر سکیں۔ اس سے پیار محبت بڑھتی ہے۔ میاں کو بھی احساس ہوتا ہے کہ کیسے اس کے کام بہترین ہو رہے ہوتے ہیں اور چند دن بیوی کے نہ ہونے سے گھر کا نظام کیسے درہم برہم ہو جاتا ہے۔

  • فلمی پیار اور حقیقی پیار — ضیغم قدیر

    فلمی پیار اور حقیقی پیار — ضیغم قدیر

    اکثر ہم سمجھتے ہیں کہ جب تک فلموں کی طرح ہیرو ہیروئن بن کر ایکدوسرے کو گلے نہیں مل لیتے تب تک پیار کنفرم نہیں ہو سکتا، مگر زندگی ایسے نہیں چلتی۔

    پیار کے اظہار کے کئی طریقے ہوتے ہیں جن میں جسم کا ملنا اہم نہیں ہوتا بلکہ کبھی چلتے چلتے بھیڑ والی جگہ میں اپنی پارٹنر کو پروٹیکٹ کرنے کے لئے آگے چلنا بھی پیار کا اظہار ہوتا ہے۔

    وہیں پر مصروفیت سے بھرے دن میں رینڈم ٹیکسٹ کرکے پوچھنا کہ تم کیسے ہو یہ بھی پیار کا اظہار ہے۔ اپنی پارٹنر کے لئے دروازہ کھولنا بھی پیار کا اظہار ہے وہیں پر اپنے پارٹنر کو فیملی یا دوستوں کے سامنے دنیا کا سب سے طاقتور مرد بتانا یہ بھی پیار کا اظہار ہے۔

    دن بھر تھکاوٹ سے چور ہو کر واپس آنے پر اگر پارٹنر کو خوش دیکھیں اور اس کو بجائے اپنی پریشانی بتا کر خوشی زائل کرنے کے اس کی خوشی سن کر اپنی پریشانی بھول جانا بھی پیار کا اظہار ہے۔

    رینڈم باتیں کرتے ہوئے اپنے پارٹنر کو بتانا کہ وہ بہترین ہے اس سے بہتر اظہار نہیں ہوتا۔

    لیکن،

    ہمارے لٹریچر میں پڑھایا جاتا ہے کہ اگر آپ کسی کو میسر آئیں گے تو وہ قدر کم کرنا شروع کر دے گا جبکہ حقیقت میں قدر وہیں کم ہوتی ہے جہاں کبھی تھی ہی نہیں۔ جو آپ کے لئے بنا ہے وہ ہر وقت آپ کے میسر ہونے کے لئے بے چین رہے گا۔

    سو اپنے پارٹنر کیساتھ انجوائے کرنا سیکھیں۔ ایٹی ٹوڈز میں زندگی گزارنے والے لوگ کبھی خوش نہیں رہ سکتے ہیں۔

    اسی طرح،

    مجھے دو طرح کے لوگ ایک برابر ناپسند ہیں ایک وہ جو اپنے ریلیشن شپس کی بری باتیں پبلیکلی ڈسکس کرتے ہیں دوسرے جو اچھی باتیں پبلیکلی ڈسکس کرتے ہیں۔

    مطلب مجھے اپنے پرسنل ریلیشن شپس ڈسکس کرنیوالے لوگ نا پسند ہیں۔

    بہت سے لوگ جو اپنے پارٹنر کیساتھ کسی اچھی جگہ کو وزٹ کر لیں کسی خوبصورت لمحے کو انجوائے کر لیں اس کو ہر کسی کے سامنے بیان کرنا فخر کی بات سمجھتے ہیں۔

    وہیں پر،

    بہت سے لوگ اپنے پارٹنر کیساتھ ہلکے سے جھگڑے کے بعد اس کی برائیاں بیان کرنیوالے قصے سنانا بہت بڑی اچیومنٹ سمجھتے ہیں۔

    اور ان باتوں کو سوشل میڈیا نے مزید آسان بنا دیا ہے لڑائی ہوئی نہیں جھٹ سے سٹیٹس، پارٹنر کو جوک سنایا نہیں چیٹ کا سکرین شارٹ سٹیٹس پر، لیکن میرے نزدیک ایسی چیزیں دراصل آپکے پارٹنر کی توہین ہیں۔ اگر آپ سوشل میڈیا پہ پارٹنر سے لڑائی کے بعد دکھی روگ لگانا پسند کرتے ہیں تو اس کا یہی مطلب ہے کہ آپ کا پارٹنر انتہائی لو آئی کیو شخص ہے جسے آپکے احساسات کی پرواہ نہیں ہے اور آپ بھی شرم نہیں رکھتے کہ اپنے پارٹنر کی برائیاں پوری دنیا کو بتا رہے ہیں۔

    دنیا کا کوئی بھی رشتہ ہو بات چیت سے حل ہو جاتا ہے بس بات شروع کرنے والے بنیں۔ وہیں پر اپنے پارٹنر سے فلمی توقعات کی بجائے رئیلسٹک توقعات رکھیں۔ انسان کے موڈز خراب ہونا نارمل بات ہے۔ جھگڑے ہونا بھی، ان کو بنیاد بنا کر اپنے پرسنل ریلیشنز کی سوشل میڈیا پہ تشہیر مت کریں۔

    وہیں پر،

    اپنے پارٹنر کو بغیر کسی قصور کے بھی سوری کہنا سیکھیں، ریلیشن شپ میں سوری کا مطلب یہ نہیں ہوتا کہ آپ کمزور ہیں بلکہ اس کا یہ مطلب ہوتا ہے کہ آپ کو اپنی اناء سے زیادہ رشتہ عزیر ہے سو اس کو عزیز جانیں۔ اگر آپ آج کی لڑائی آج حل نہیں کرتے تو کل کو یہ آپ کے رشتے کے لئے کینسر بن جائے گی اور پھر اس کو حل کرنا ناممکن ہوگا۔

    میری حلقہ اھباب میں بہت سے ایسے ہم عمر ہیں جنہیں یہ سادہ سی باتیں یاد رکھنی چاہیں انکے کام آنے والی ہیں۔ زندگی پیار بھرے احساس کا نام ہے مگر یہ ایک ہائی وے کا سفر نہیں بلکہ کچے راستے کا سفر ہے اس کو انجوائے کرنا سیکھیں۔

    بڑے بڑے کاموں میں پیار ڈھونڈنے کی بجائے چھوٹی چھوٹی چیزوں میں پیار ڈھونڈنے کی کوشش کریں کیونکہ یہی حقیقی پیار ہے۔

  • شادی کے لئے سب سے آئیڈیل عمر — ضیغم قدیر

    شادی کے لئے سب سے آئیڈیل عمر — ضیغم قدیر

    شادی کے لئے سب سے آئیڈیل عمر 23 سے 26 سال کی عمر ہے۔ اس میں انسان کو شادی ضرور کر لینی چاہیے۔ فیملی سٹارٹ کرنے سے لیکر پارٹنر سے ذہنی ہم آہنگی تک، ہر کام کے لئے یہ لائف پیریڈ بہت اہم ہے۔ اور ہو سکے تو انسان کو اپنے پارٹنر کے بارے میں 20 سال کی عمر تک کلئیر ہونا چاہیے یا کم از کم اس کے جیسے انسانوں کی خصوصیات کا علم ہونا چاہیے کہ اس کو کیسا پارٹنر چاہیے۔ تاکہ وہ ایک ذہنی کوفت سے آزاد رہ کر باقی سرگرمیوں پہ زیادہ سے زیادہ انرجی صرف کرسکے۔

    ماڈرنزم ایک طرف، فیمنزم ایک طرف، انسان کا جو بائیولوجیکل وجود ہے وہ ایک پارٹنر مانگتا ہے اور بہت شدت سے مانگتا ہے۔ انسان جتنا مرضی اس بات کی مخالفت کرتا نظر آئے کہ انسان کو شادی نہیں کرنی چاہیے فلاں کام کرنا چاہیے لیکن جب اس کو پیار ہو جاتا ہے یا اس کا جسم بغاوت کرتا ہے تو شادی ایک مجبوری امر بن جاتی ہے۔ سو یہ ایک ایسا جسمانی رد عمل ہے جس سے فرار نا ممکن ہے۔

    رہی بات بائیولوجی کی، تو بائیولوجیکلی ایک انسانی عورت 30 کے بعد اگر ماں بننے کی طرف جاتی ہے تو یہ آنے والے بچوں کے لئے خطرے کی گھنٹی ہے۔ سو ارتقاء نے ہمارے جسموں کو اس سختی سے ڈیزائن کیا ہے کہ ہماری مادائیں 30 کے بعد "شادی” کی طرف جائیں تو یہ نا صرف انکے لئے بلکہ آنے والی نسلوں کے لئے بھی نقصاندہ ہے۔

    ماڈرنزم ہماری زندگیوں کو کافی بدل چکی ہے اس میں خصوصاً لڑکیوں کو 20-30 سال کی عمر کے دوران اتنی ڈیٹنگ آپشن مل جاتی ہیں کہ وہ ایک مستقل پارٹنر رکھنا فضول سمجھنے لگ جاتی ہیں مگر جونہی انکی عمر ایک خاص لمٹ کراس کرتی ہے تو کوئی ان کی طرف دیکھنا گوارا نہیں کرتا۔ یہی حساب لڑکوں کا ہے کہ کیرئر کی دوڑ میں وہ اس اہم کام کو بھلا بیٹھتے ہیں اور ظاہر ہے ہر لڑکا ویل سیٹل نہیں ہو پاتا تو وہ بھی تنہا رہ جاتا ہے۔

    بظاہر 35 سال تک تو انسان کو لگتا ہے کہ وہ بہت سے لوگ رکھتا ہے مگر جب سب کی فیملیز شروع ہو جاتی ہیں تو وہ تنہائی محسوس کرنا شروع کر دیتا ہے اور آخر میں وہ مکمل طور پہ ایموشنل تنہائی کا شکار ہو جاتا ہے۔ یہ ایموشنل تنہائی بہت خطرناک چیز ہوتی ہے۔ آپ اکثر ان لوگوں کو دیکھیں جو شادی کئے بغیر رہ رہے ہیں پھر انکی زندگی اور روٹین دیکھیں تو آپ کو ایک جھرجھری ضرور آئے گی۔

    ہمارے معاشرے میں اس چیز کو ڈسکس کرنا ٹابو سمجھا جاتا ہے مگر یہ باتیں حقیقت کے قریب ہیں ۔ آپ معاشی طور پہ جتنا مرضی آزاد ہو جائیں آپ کو ایک ایموشنل بانڈ کی ضرورت ہمیشہ رہے گی۔ 30 تک یہ بانڈ شوہر یا بیوی دے سکتی ہے اور پھر بچے آپ کی اس نفسیاتی ضرورت کو پورا کر سکتے ہیں۔

    امیجن کریں کہ آپ 70 سال کی عمر میں بستر مرگ پہ ہوں اور آپ سے جدا ہونے کے غم میں تیس چالیس پوتے پوتیاں نم آنکھیں لئے کھڑے ہوں یہ آپ کی زندگی کی ایک بڑی کامیابی ہے بجائے اس کے کہ آپ کی وفات کا ماسوائے آپکے بہن بھائیوں کے کسی کو بھی خاص غم نا ہو بلکہ ان کو بھی اندر سے آپکی ذمہ داری ختم ہونے کی خوشی ہوگی۔

  • نفسیاتی بیماریوں میں مبتلا خواتین کی تعداد میں اضافہ، تحریر: صوفیہ صدیقی

    نفسیاتی بیماریوں میں مبتلا خواتین کی تعداد میں اضافہ، تحریر: صوفیہ صدیقی

    کیا آپ جانتے ہیں کہ 14 ملین پاکستانی تھوڑے سے درمیانے درجے کی نفسیاتی بیماریوں میں مبتلا ہیں؟ تاہم، اس طرح کی تعداد اس وسیع آبادی کا سایہ بنی ہوئی ہے جو اس ذہنی پریشانی کی اطلاع دینے یا اسے تسلیم کرنے سے بھی انکار کرتی ہے جس کا وہ سامنا کر رہے ہیں۔ اس آبادی کا ایک وسیع حصہ خواتین پر مشتمل ہے۔

    گلوبل ہیومن رائٹس ڈیفنس کی 2015 میں کی گئی تحقیق کے مطابق پاکستان کی 10 سے 16 فیصد آبادی نفسیاتی پریشانی یا الجھنوں کا شکار ہے۔ جس میں ڈپریشن، شیزوفرینیا اور مرگی جیسے امراض شامل ہیں۔

    حال ہی میں میری ایک ایسی لڑکی سے ہوئی جو کہ اسلام آباد میں ایک یونیورسٹی میں ایم ایس پروگرام میں زیر تعلیم ہے۔ لڑکی کی عمر لگ بھگ اٹھائیس سے تیس سال ہے اور معاشرتی رویوں نے اسے شدید دباؤ کا شکار کر رکھا ہے۔ عاصمہ نے مجھے بتایا کہ کس قدر مشکلوں کے بعد وہ اپنے آبائی علاقے ایبٹ آباد سے اسلام آباد پہنچی ہے۔ گھر میں تعلیم حاصل کرنے سے لے کر ایک بے جوڑ شادی اس کے ذہنی دباؤ میں اضافہ کر رہے تھے۔ اس لڑکی کو لگتا ہے کہ اسے با اختیار ہونا چاہیئے ، وہ اپنی تعلیمی قابلیت کو معاشرے میں بہتری کے لیے استعمال کرنا چاہتی ہے۔ لیکن اس کے خوابوں کے رستے میں سب سے بڑی رکاوٹ اس کے والدین ہیں ، جو اس سے پیار کرنے کے دعویدار تو ہیں لیکن اپنی اولاد کو بہت سے رشتے داروں کے تعنوں سے بچنے، اور رشتے داروں کے روٹھنے خوف سے، ان کی مرضی کے بنا ہی شادی کرنے لیے آمادہ ہیں۔

    ابھی کل ہی کی بات ہے ، ایک سہیلی کے ریفرنس سے طیبہ سے ملاقات ہوئی، جو کہ آج کل فری لانسر ہے۔ بیس منٹ کی ملاقات میں طیبہ کے مسائل سننا اور اس سے اس کی جنگ میرے لیے اب شاید روز کی بات ہے ۔

    طیبہ، نے اس مختصر سی ملاقات میں کافی کے ساتھ دو سگریٹ سلگائے ۔ اس کی شادی انیس سال کی عمر میں ایک وکیل سے ہوئی تھی، تقریباً پینتیس سالہ، طیبہ کے تین بچےہیں، جن کی کفالت کی وہ اکیلی ذمہ دار ہے۔ کیونکہ شادی کے آٹھ سال بعد اس نے خلاء لے لی۔ طیبہ کے مطابق، گھریلو ضروریات نہ پوری کرنے کے ساتھ ساتھ اسکا سابق خاوند مذہبی انتہا پسندی ، شک اور تشدد پسند بھی تھا۔ وہ کہتی یے کہ اسکا شوہر اکثر شہر سے باہر رہتا میں نے سسرال اور میکے والوں کو بہت بار کہا کہ اس کو نفسیات کے کسی ڈاکٹر کو دکھائیں شاید زندگی میں کچھ بہتری آجائے۔ لیکن! ہم سب اپنا علاج کرنے کی بجائے دوسروں کو پاگل بنانے کو ترجیح دیتےہیں۔ طیبہ کہتی ہے کہ وہ شدید کرب، لاچاری اور ذہنی اذیت سے دوچار ہو کر علحیدہ ہوئی تو اس کے بچوں کو وراثت سے آک کر دیا گیا۔ کئی مہینے ماں باپ کے گھر میں خود کو قید کر لیا۔ اور پھر اپنی ایک کلاس فیلو کے تعاون سے اس نے اپنے آپ سے لڑنا چھوڑا اور اپنی ذمہ داریوں کو اٹھانے کا فیصلہ کیا۔

    کچھ منٹ ہم سب خاموش رہے ، طیبہ اٹھ کر جا رہی تھی اور میں یہ سوچ رہی تھی کہ ٹاسک ریلیشن کتنی بڑی اذیت ہیں۔پاکستان میں ناجانے کتنی خواتین روزآنہ ایسے ذہنی دباؤ میں مبتلا ہوتی ہوں گی۔ نہ صرف خواتین بلکہ مرد بھی جس دباؤ سے گزرتے ہیں اس کا اظہار ایک ٹیبو ہے۔ جہاں وہ خاموشی سے اپنے مسائل سے لڑتے ہی رہتے ہیں۔ان سارے سوچوں کے ساتھ میں اپنے ایک جاننے والی پروفیسر کے پاس پہنچی جو کہ آٹھ سال تک ذہنی امراض کے ایک کلینک میں کام کرتی رہیں ہیں اور اب نمس یورنیورسٹی میں شعبہ نفسیات میں پڑھا رہیں ہیں۔ ڈاکٹر عظمی نے بتایا کہ ذہنی صحت کے حوالے سے ہماری کمیونٹیز کی ذہنیت مریضوں کی صحت کو کس طرح نمایاں طور پر متاثر کر سکتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہا کہ پرانی نسل کی اقدار کو برقرار رکھنے والے والدین ، اکثر اپنے بچوں کے لیے اضطراب کا باعث بنتے ہیں۔ جس سے ان کی اولاد میں خود اعتمادی کی کمی پیدا ہوتی ہے۔ یہاں تک کہ اگر وہ (پاکستانی والدین) اس طرح کی بیماریوں کے بارے میں حساس اور آگاہ بھی ہیں کو نہیں سمجھتے ۔

    10 سالہ بچے کے ساتھ مسجد کے حجرے میں برہنہ حالت میں امام مسجد گرفتار

    بنی گالہ کے کتوں سے کھیلنے والی "فرح”رات کے اندھیرے میں برقع پہن کر ہوئی فرار

    ہمیں چائے کے ساتھ کبھی بسکٹ بھی نہ کھلائے اورفرح گجر کو جو دل چاہا

    فرح خان کتنی جائیدادوں کی مالک ہیں؟ تہلکہ خیز تفصیلات سامنے آ گئیں

    ہم میں سے اکثر والدین پدرانہ نظام کا حصہ رہے ہیں جس میں خواتین کے جذبات بمشکل ہی بحث کا موضوع ہوتے ہیں۔ خواتین کے جذبات، احساسات اکثر معاشرے میں نظر انداز کر دیے جاتے ہیں۔ کیونکہ خاندان اور رشتے داروں کے نزدیک وہ قابل ذکر نہیں ہوتے، کم عمری میں شادی ، بے جوڑ رشتے اور بعض اوقات لوگوں کے مطابق ایک عمر تک شادی نہ ہونے یا کرنے کی صورت میں خواتین کو اکثر طعنے سننا پڑتے ہیں ۔ انھوں نے کہا کہ یہاں تک کہ انھیں مجبوریوں کا واسطہ دے کر ایک اور تکلیف میں مبتلا کر دیا جاتاہے ۔

    وہ کہہ رہیں تھی کہ صرف ہم نہیں بلکہ سارا ملک ہی ایسے بہت سے کرب میں مبتلا ہے، بے سکونی، نیند نہ آنا، غربت و افلاس، تعلیم اور شعور کی کمی اور مذہبی و معاشرتی جنون ہم سب کے لیے ایک بڑا المیہ ہیں ۔ ہم نفسیاتی کے متعلق بیماریوں کو جاننا یا حل تلاش کرنے کو پاگل پن سمجھتے ہیں۔انھوں نے کہا کہ دماغی صحت کا مسئلہ پاکستان باقی رہے گا اگر پاکستانی نوجوان اپنے بزرگوں سے مختلف ذہنیت کو ترجیح دینے میں ڈٹے رہے تو ذہنی بیماریوں کی شناخت نہ صرف آسان ہوجائے گی بلکہ نوجوانوں خاص طور پر خواتین کی پر اعتمادی میں اضافہ ہوگا ۔

    حال ہی میں جاری ہونے والی ورلڈ بینک کی ایک نئی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کو صحت کی دیکھ بھال کے ایک جامع نقطہ نظر کی ضرورت یے یہ ان کی تولید صحت کے لیے بھی ضروری ہے۔ جو ملک میں خواتین کی صحت کی بہترین پر کام کرے گا وہاں زیادہ ترقی ہو گی۔ پاکستان میں خواتین کی صحت کی سطح دنیا میں سب سے کم ہے اور اس کا موازنہ ہمسایہ جنوبی ایشیائی ممالک کی خواتین کے مقابلے میں کیا جاتا ہے۔ پاکستان میں ہر 38 میں سے ایک عورت حمل سے متعلق وجوہات کی وجہ سے موت کے منہ میں جاتی ہے جبکہ سری لنکا میں یہ شرح 230 میں سے ایک ہے۔

    بنی گالہ میں کتے سے کھیلنے والی فرح کا اصل نام کیا؟ بھاگنے کی تصویر بھی وائرل

    بشریٰ بی بی کی قریبی دوست فرح نے خاموشی توڑ دی

    کمسن بچوں کے ساتھ گھناؤنا کام کرنیوالا سفاک ملزم اہل محلہ نے پکڑ لیا،فحش ویڈیوز بھی برآمد

    شہر قائد کراچی کی منی بسوں میں فحش ڈانس کی ویڈیوز چلنے لگی

    ماضی کی رپورٹس بھی کچھ ایسا ہی احوال پیش کرتی ہیں۔کراچی کی آغا خان یونیورسٹی/ہسپتال میں یونیورسٹی کے شعبہ نفسیات میں ایک اور 5 سالہ سروے (1992-1996) یہ ظاہر کرتا ہے کہ سائیکو تھراپی حاصل کرنے والے 212 مریضوں میں سے 65% خواتین تھیں، جن میں سے 72% شادی شدہ تھیں۔ مشورے کے محرک میاں بیوی اور سسرال والوں کے ساتھ تنازعات تھے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ان میں سے 50% خواتین میں کوئی نفسیاتی تشخیص نہیں تھی اور انہیں ‘پریشان خواتین’ کا لیبل لگایا گیا تھا۔ 28 فیصد خواتین ڈپریشن یا اضطراب کا شکار تھیں، 5-7 فیصد شخصیت یا ایڈجسٹمنٹ کی خرابی تھی اور سترہ فیصد کو دیگر امراض تھے۔

    تحقیقات سے یہ بھی پتا چلتا یے کہ پاکستان میں بیس سے چالیس سال کی عمر زیادہ ذہنی امراض کا شکار ہے۔ گویا پالیسی بنانے والوں کو اس عمر کی خواتین کو اپنی ترجیحات میں شامل کرنا ہوگا تاکہ ان کی ذہنی اور تولیدی صحت کس کم سے کم متاثر کیا جائے اور ان کی خود اعتمادی میں اضافہ ہو۔

  • بریسٹ کینسر کا موضوع ٹیبو کیوں ؟؟  — اعجازالحق عثمانی

    بریسٹ کینسر کا موضوع ٹیبو کیوں ؟؟ — اعجازالحق عثمانی

    اپنے کمرے میں حقہ پیتے ہوئے اچانک چاچے رحمتے نے اپنی جیب سے فون نکالا۔ نمبر ڈائل کرنے کے بعد انھوں نے اپنے کسی عزیز کی آواز سننے کےلیے فون کا سپیکر آن کیا۔ مگر آواز۔۔۔۔۔۔۔۔

    "چھاتی کا کینسر خواتین میں پایا جانے والا ایک جان لیوا مرض ہے۔”

    یہ جملہ ابھی مکمل ہی نہیں ہو پایا تھا کہ چاچے رحمتے نے کال بند کر دی ۔

    رانی کمرے کے باہر کھڑی فون سے آنے والی یہ آوازیں بڑے غور سے سن رہی تھی۔ گزشتہ کئی دنوں سے وہ اپنے سینے میں گلٹی محسوس کر رہی تھی۔ مگر گھر میں کسی کو بتانے سے ہچکچا رہی تھی۔ پورا دن اس کے ذہن میں ایک ہی جملہ گونجتا رہا۔

    "چھاتی کا کینسر خواتین میں پایا جانے والا ایک جان لیوا مرض ہے۔”

    اور یہ اسے کہیں نہ کہیں پریشان بھی کر رہا تھا۔ ذہن کو پرسکون کرنے کی خاطر اس نے ٹی وی کا ریموٹ اٹھایا۔ ٹی وی سکرین پر ایک ڈاکٹر چھاتی کے کینسر کی علامت بتا رہا تھا۔

    "کسی واضح گلٹی یا دانوں کے علاوہ بھی چھاتی کے کینسر کی مختلف علامات ہو سکتی ہیں۔ جیسا کہ چھاتی کی جلد کے دیکھنے اور چھونے میں تبدیلی، چھاتی میں درد یا بے آرامی، خاص طور پر اگر یہ درد نیا اور جانے کا نام نہ لے رہا ہو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”۔یہ سب سنتے ہوئے رانی کا ماتھا پریشانی اور خوف کی وجہ سے پیسنے سے شرابور تھا۔خوف اور درد سے وہ روئے جارہی تھی۔ مگر وہ گھر میں اپنی یہ حالت کسی کو بھی نہیں بتا پارہی تھی۔طبیعت میں شدید بگاڑ کی وجہ سے وہ ایک دن سے ہسپتال میں داخل تھی۔ کہ اگلے روز ڈاکٹر نے وارڈ سے نکلتے ہوئے چاچے رحمتے کو بتایا کہ چھاتی کا کینسر آپکی بیٹی کی جان لے گیا۔

    ہر سال اکتوبر میں بریسٹ کینسر یا چھاتی کے سرکان کے حوالے سے آگاہی مہم کا انقعاد کیا جاتا ہے۔ اور یہ ماہ بریسٹ کینسر یا چھاتی کے سرکان سے آگاہی کے مہینہ کے طور پر منایا جاتا ہے۔ 1990 میں پہلی دفعہ بریسٹ کینسر کے حوالے سے عوام میں شعور اجاگر کرنے کی غرض سے "پنک ربن” مہم کا آغاز کیا گیا تھا ۔

    مگر آج بھی بریسٹ کینسر کا موضوع ایک ٹیبو ہے۔ ہم بات کرتے ہوئے شرم محسوس کرتے ہیں۔ اگر کوئی بات کرے بھی تو ہم سننا پسند نہیں کرتے ۔شاید اسی وجہ سے آج بھی پاکستان میں ہر 9 میں سے ایک خاتون کو بریسٹ کینسر کا خطرہ ہے۔ پاکستان میں بریسٹ کینسر کی پہلی سٹیج پر تشخیص کا ریٹ آج بھی 4 فی صد سے کم ہے۔ ایشیا میں بریسٹ کینسر کی سب سے زیادہ شرح پاکستان میں پائی جاتی ہے ۔ ڈیٹا کے مطابق ہر سال تقریباً 90 ہزار خواتین میں بریسٹ کینسر کی تشخیص ہوتی ہے۔ جبکہ چالیس ہزار سے زائد خواتین ہر برس اس مرض سے موت کا شکار ہوتی ہیں۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق پاکستان میں بریسٹ کینسر یا چھاتی کے سرکان سے موت کی شرح 26 فی صد سے زائد ہے۔

    چھاتی کا سرکان خواتین کو ہونے والے کینسرز میں سر فہرست ہے ۔ یہ کینسر عموماً 50 سے 60 سال کی عمر کی خواتین میں پایا جاتا ہے ۔ لیکن کم عمری میں بھی چھاتی کا سرکان رپورٹ ہورہا ہے۔

    چھاتی کا سرکان یا بریسٹ کینسر شرم کی بات نہیں۔ باقی بیماریوں کی طرح یہ بھی ایک بیماری ہے۔ جس کا علاج ممکن ہے۔ مگر آگاہی کے بنا اس بیماری سے لڑنا، ممکن نہیں ہے۔ کیونکہ اگر خواتین کو بریسٹ کینسر کے بارے میں آگاہی ہوگی تو وہ بروقت ڈاکٹر کے پاس جائیں گی۔ بروقت تشخیص سے اسکا علاج ممکن ہے۔

    خواتین کو چاہیے کہ چھاتی میں کوئی گلٹی یا فرق محسوس کریں تو فوراً ڈاکٹر سے رجوع کریں ۔اگر چھاتی کے سرکان سے بچنا ہے تو پلیز بریسٹ کینسر کے موضوع کو ٹیبو سمجھنا بند کیجئے ۔