Baaghi TV

Category: خواتین

  • میاں بیوی میں قربت — ڈاکٹر عدنان خان نیازی

    میاں بیوی میں قربت — ڈاکٹر عدنان خان نیازی

    میں ان کے گھر تیسرے بچے کی پیدائش پر مبارک بعد کے لیے بیٹھا تھا۔ وہ دونوں بہت خوش تھے۔ ان کا بس نہیں چل رہا تھا کہ میرے سامنے دنیا جہان کی چیزیں لا کر رکھ دیں۔ یہ میری ان دونوں سے دوسری ملاقات تھی جو اسی جگہ ان کے گھر ہوئی تھی۔ ان دونوں سے پہلی ملاقات بھی اسی ڈرائنگ روم میں تقریباً اس ملاقات سے دو سال قبل ہوئی تھی۔ لیکن وہ ملاقات بہت تلخ ماحول میں ہوئی تھی۔ وہ دونوں میری تحاریر پڑھتے تھے اور مجھے جانتے تھے ۔

    میں انھیں نہیں جانتا تھا۔ لڑکی کے والد سے میری شناسائی تھی اور ان کے کہنے پر ہی میں ان کے ساتھ ان دونوں سے ملاقات کے لیے گیا تھا۔ یہ دونوں اس وقت علیحدگی کا فیصلہ کر چکے تھے اور اب اس پر کوئی بھی بات سننے کو تیار نہیں تھے۔ عورت جانے کے لیے ساری پیکنگ پہلے ہی کر چکی تھی اور طلاق کے کاغذات تیار کروا چکے تھے۔

    میں نے ان دونوں سے صرف ایک گزارش کی تھی کہ اب لوگ ایک دوسرے سے بے شک الگ ہو جائیں لیکن ابھی طلاق کے کاغذات پھاڑ دیں اور چھ ماہ کے بعد اگر ضرورت رہی تو یہ کاغذات میں خود آپ لوگوں کو تیار کروا دونگا۔ میں انھیں نہیں جانتا تھا، میرا اس میں کوئی مفاد نہیں تھا لیکن بس ایک خواہش تھی کہ کسی طرح ان کا گھر بچ جائے۔

    تقریباً بیس منٹ رہنے والی اس تلخ ملاقات میں ان دونوں نے بمشکل میری یہ بات مان لی تھی، طلاق کے کاغذات پھاڑ دیے تھے اور لڑکی اپنے دونوں بچوں کو ساتھ لے کر اس گھر سے اپنے والدین کے گھر چلی گئی تھی۔ چار ماہ ایک دوسرے سے الگ رہنے کے بعد ان کی بات چیت دوبارہ شروع ہوئی اور پھر اگلے ماہ وہ واپس اپنے گھر آگئی تھی۔ یوں ان کا گھر بچ گیا تھا۔

    اب میری ملاقات ہوئی تو انھیں یوں خوش دیکھ کر میری آنکھوں میں بھی خوشی کے آنسو تھے۔ وہ بھی شکر گزار تھے کے اس دن جلد بازی میں طلاق کے کاغذات پر دستخط کر دیتے تو اب وہ بھی پتہ نہیں کس حال میں ہوتے اور بچے بھی رل جاتے۔

    میاں بیوی میں اختلافات ہو جانا ایک نارمل بات ہے لیکن کبھی بھی حالات آخری سٹیج تک نہ لے کر جائیں۔ اگر بہت زیادہ بگڑ جائیں تو پھر بغیر طلاق کے ہی کچھ وقت کے لیے علیحدگی اختیار کر لیں تاکہ دونوں کو اندازہ ہو جائے کہ علیحدگی کے بعد کی زندگی کیسی ہے۔

    یاد رہے کہ جلد بازی میں دونوں کو لگ رہا ہوتا ہے کہ اب ساتھ رہنا ممکن نہیں لیکن میاں بیوی میں قربت قدرتی ہے اور کچھ وقت الگ بتانے سے دونوں کو اپنی غلطیوں کا احساس بھی ہوتا ہے اور قربت کے لیے بھی دل کرتا ہے۔

    اس رشتے کی مضبوطی کے لیے نارمل حالات میں بھی تین چار ماہ بعد عورت کو میکے لازمی جانا چاہیے تاکہ میاں بیوی کچھ وقت ایک دوسرے سے دور رہ کر ایک دوسرے کی کمی محسوس کر سکیں۔ اس سے پیار محبت بڑھتی ہے۔ میاں کو بھی احساس ہوتا ہے کہ کیسے اس کے کام بہترین ہو رہے ہوتے ہیں اور چند دن بیوی کے نہ ہونے سے گھر کا نظام کیسے درہم برہم ہو جاتا ہے۔

  • فلمی پیار اور حقیقی پیار — ضیغم قدیر

    فلمی پیار اور حقیقی پیار — ضیغم قدیر

    اکثر ہم سمجھتے ہیں کہ جب تک فلموں کی طرح ہیرو ہیروئن بن کر ایکدوسرے کو گلے نہیں مل لیتے تب تک پیار کنفرم نہیں ہو سکتا، مگر زندگی ایسے نہیں چلتی۔

    پیار کے اظہار کے کئی طریقے ہوتے ہیں جن میں جسم کا ملنا اہم نہیں ہوتا بلکہ کبھی چلتے چلتے بھیڑ والی جگہ میں اپنی پارٹنر کو پروٹیکٹ کرنے کے لئے آگے چلنا بھی پیار کا اظہار ہوتا ہے۔

    وہیں پر مصروفیت سے بھرے دن میں رینڈم ٹیکسٹ کرکے پوچھنا کہ تم کیسے ہو یہ بھی پیار کا اظہار ہے۔ اپنی پارٹنر کے لئے دروازہ کھولنا بھی پیار کا اظہار ہے وہیں پر اپنے پارٹنر کو فیملی یا دوستوں کے سامنے دنیا کا سب سے طاقتور مرد بتانا یہ بھی پیار کا اظہار ہے۔

    دن بھر تھکاوٹ سے چور ہو کر واپس آنے پر اگر پارٹنر کو خوش دیکھیں اور اس کو بجائے اپنی پریشانی بتا کر خوشی زائل کرنے کے اس کی خوشی سن کر اپنی پریشانی بھول جانا بھی پیار کا اظہار ہے۔

    رینڈم باتیں کرتے ہوئے اپنے پارٹنر کو بتانا کہ وہ بہترین ہے اس سے بہتر اظہار نہیں ہوتا۔

    لیکن،

    ہمارے لٹریچر میں پڑھایا جاتا ہے کہ اگر آپ کسی کو میسر آئیں گے تو وہ قدر کم کرنا شروع کر دے گا جبکہ حقیقت میں قدر وہیں کم ہوتی ہے جہاں کبھی تھی ہی نہیں۔ جو آپ کے لئے بنا ہے وہ ہر وقت آپ کے میسر ہونے کے لئے بے چین رہے گا۔

    سو اپنے پارٹنر کیساتھ انجوائے کرنا سیکھیں۔ ایٹی ٹوڈز میں زندگی گزارنے والے لوگ کبھی خوش نہیں رہ سکتے ہیں۔

    اسی طرح،

    مجھے دو طرح کے لوگ ایک برابر ناپسند ہیں ایک وہ جو اپنے ریلیشن شپس کی بری باتیں پبلیکلی ڈسکس کرتے ہیں دوسرے جو اچھی باتیں پبلیکلی ڈسکس کرتے ہیں۔

    مطلب مجھے اپنے پرسنل ریلیشن شپس ڈسکس کرنیوالے لوگ نا پسند ہیں۔

    بہت سے لوگ جو اپنے پارٹنر کیساتھ کسی اچھی جگہ کو وزٹ کر لیں کسی خوبصورت لمحے کو انجوائے کر لیں اس کو ہر کسی کے سامنے بیان کرنا فخر کی بات سمجھتے ہیں۔

    وہیں پر،

    بہت سے لوگ اپنے پارٹنر کیساتھ ہلکے سے جھگڑے کے بعد اس کی برائیاں بیان کرنیوالے قصے سنانا بہت بڑی اچیومنٹ سمجھتے ہیں۔

    اور ان باتوں کو سوشل میڈیا نے مزید آسان بنا دیا ہے لڑائی ہوئی نہیں جھٹ سے سٹیٹس، پارٹنر کو جوک سنایا نہیں چیٹ کا سکرین شارٹ سٹیٹس پر، لیکن میرے نزدیک ایسی چیزیں دراصل آپکے پارٹنر کی توہین ہیں۔ اگر آپ سوشل میڈیا پہ پارٹنر سے لڑائی کے بعد دکھی روگ لگانا پسند کرتے ہیں تو اس کا یہی مطلب ہے کہ آپ کا پارٹنر انتہائی لو آئی کیو شخص ہے جسے آپکے احساسات کی پرواہ نہیں ہے اور آپ بھی شرم نہیں رکھتے کہ اپنے پارٹنر کی برائیاں پوری دنیا کو بتا رہے ہیں۔

    دنیا کا کوئی بھی رشتہ ہو بات چیت سے حل ہو جاتا ہے بس بات شروع کرنے والے بنیں۔ وہیں پر اپنے پارٹنر سے فلمی توقعات کی بجائے رئیلسٹک توقعات رکھیں۔ انسان کے موڈز خراب ہونا نارمل بات ہے۔ جھگڑے ہونا بھی، ان کو بنیاد بنا کر اپنے پرسنل ریلیشنز کی سوشل میڈیا پہ تشہیر مت کریں۔

    وہیں پر،

    اپنے پارٹنر کو بغیر کسی قصور کے بھی سوری کہنا سیکھیں، ریلیشن شپ میں سوری کا مطلب یہ نہیں ہوتا کہ آپ کمزور ہیں بلکہ اس کا یہ مطلب ہوتا ہے کہ آپ کو اپنی اناء سے زیادہ رشتہ عزیر ہے سو اس کو عزیز جانیں۔ اگر آپ آج کی لڑائی آج حل نہیں کرتے تو کل کو یہ آپ کے رشتے کے لئے کینسر بن جائے گی اور پھر اس کو حل کرنا ناممکن ہوگا۔

    میری حلقہ اھباب میں بہت سے ایسے ہم عمر ہیں جنہیں یہ سادہ سی باتیں یاد رکھنی چاہیں انکے کام آنے والی ہیں۔ زندگی پیار بھرے احساس کا نام ہے مگر یہ ایک ہائی وے کا سفر نہیں بلکہ کچے راستے کا سفر ہے اس کو انجوائے کرنا سیکھیں۔

    بڑے بڑے کاموں میں پیار ڈھونڈنے کی بجائے چھوٹی چھوٹی چیزوں میں پیار ڈھونڈنے کی کوشش کریں کیونکہ یہی حقیقی پیار ہے۔

  • شادی کے لئے سب سے آئیڈیل عمر — ضیغم قدیر

    شادی کے لئے سب سے آئیڈیل عمر — ضیغم قدیر

    شادی کے لئے سب سے آئیڈیل عمر 23 سے 26 سال کی عمر ہے۔ اس میں انسان کو شادی ضرور کر لینی چاہیے۔ فیملی سٹارٹ کرنے سے لیکر پارٹنر سے ذہنی ہم آہنگی تک، ہر کام کے لئے یہ لائف پیریڈ بہت اہم ہے۔ اور ہو سکے تو انسان کو اپنے پارٹنر کے بارے میں 20 سال کی عمر تک کلئیر ہونا چاہیے یا کم از کم اس کے جیسے انسانوں کی خصوصیات کا علم ہونا چاہیے کہ اس کو کیسا پارٹنر چاہیے۔ تاکہ وہ ایک ذہنی کوفت سے آزاد رہ کر باقی سرگرمیوں پہ زیادہ سے زیادہ انرجی صرف کرسکے۔

    ماڈرنزم ایک طرف، فیمنزم ایک طرف، انسان کا جو بائیولوجیکل وجود ہے وہ ایک پارٹنر مانگتا ہے اور بہت شدت سے مانگتا ہے۔ انسان جتنا مرضی اس بات کی مخالفت کرتا نظر آئے کہ انسان کو شادی نہیں کرنی چاہیے فلاں کام کرنا چاہیے لیکن جب اس کو پیار ہو جاتا ہے یا اس کا جسم بغاوت کرتا ہے تو شادی ایک مجبوری امر بن جاتی ہے۔ سو یہ ایک ایسا جسمانی رد عمل ہے جس سے فرار نا ممکن ہے۔

    رہی بات بائیولوجی کی، تو بائیولوجیکلی ایک انسانی عورت 30 کے بعد اگر ماں بننے کی طرف جاتی ہے تو یہ آنے والے بچوں کے لئے خطرے کی گھنٹی ہے۔ سو ارتقاء نے ہمارے جسموں کو اس سختی سے ڈیزائن کیا ہے کہ ہماری مادائیں 30 کے بعد "شادی” کی طرف جائیں تو یہ نا صرف انکے لئے بلکہ آنے والی نسلوں کے لئے بھی نقصاندہ ہے۔

    ماڈرنزم ہماری زندگیوں کو کافی بدل چکی ہے اس میں خصوصاً لڑکیوں کو 20-30 سال کی عمر کے دوران اتنی ڈیٹنگ آپشن مل جاتی ہیں کہ وہ ایک مستقل پارٹنر رکھنا فضول سمجھنے لگ جاتی ہیں مگر جونہی انکی عمر ایک خاص لمٹ کراس کرتی ہے تو کوئی ان کی طرف دیکھنا گوارا نہیں کرتا۔ یہی حساب لڑکوں کا ہے کہ کیرئر کی دوڑ میں وہ اس اہم کام کو بھلا بیٹھتے ہیں اور ظاہر ہے ہر لڑکا ویل سیٹل نہیں ہو پاتا تو وہ بھی تنہا رہ جاتا ہے۔

    بظاہر 35 سال تک تو انسان کو لگتا ہے کہ وہ بہت سے لوگ رکھتا ہے مگر جب سب کی فیملیز شروع ہو جاتی ہیں تو وہ تنہائی محسوس کرنا شروع کر دیتا ہے اور آخر میں وہ مکمل طور پہ ایموشنل تنہائی کا شکار ہو جاتا ہے۔ یہ ایموشنل تنہائی بہت خطرناک چیز ہوتی ہے۔ آپ اکثر ان لوگوں کو دیکھیں جو شادی کئے بغیر رہ رہے ہیں پھر انکی زندگی اور روٹین دیکھیں تو آپ کو ایک جھرجھری ضرور آئے گی۔

    ہمارے معاشرے میں اس چیز کو ڈسکس کرنا ٹابو سمجھا جاتا ہے مگر یہ باتیں حقیقت کے قریب ہیں ۔ آپ معاشی طور پہ جتنا مرضی آزاد ہو جائیں آپ کو ایک ایموشنل بانڈ کی ضرورت ہمیشہ رہے گی۔ 30 تک یہ بانڈ شوہر یا بیوی دے سکتی ہے اور پھر بچے آپ کی اس نفسیاتی ضرورت کو پورا کر سکتے ہیں۔

    امیجن کریں کہ آپ 70 سال کی عمر میں بستر مرگ پہ ہوں اور آپ سے جدا ہونے کے غم میں تیس چالیس پوتے پوتیاں نم آنکھیں لئے کھڑے ہوں یہ آپ کی زندگی کی ایک بڑی کامیابی ہے بجائے اس کے کہ آپ کی وفات کا ماسوائے آپکے بہن بھائیوں کے کسی کو بھی خاص غم نا ہو بلکہ ان کو بھی اندر سے آپکی ذمہ داری ختم ہونے کی خوشی ہوگی۔

  • نفسیاتی بیماریوں میں مبتلا خواتین کی تعداد میں اضافہ، تحریر: صوفیہ صدیقی

    نفسیاتی بیماریوں میں مبتلا خواتین کی تعداد میں اضافہ، تحریر: صوفیہ صدیقی

    کیا آپ جانتے ہیں کہ 14 ملین پاکستانی تھوڑے سے درمیانے درجے کی نفسیاتی بیماریوں میں مبتلا ہیں؟ تاہم، اس طرح کی تعداد اس وسیع آبادی کا سایہ بنی ہوئی ہے جو اس ذہنی پریشانی کی اطلاع دینے یا اسے تسلیم کرنے سے بھی انکار کرتی ہے جس کا وہ سامنا کر رہے ہیں۔ اس آبادی کا ایک وسیع حصہ خواتین پر مشتمل ہے۔

    گلوبل ہیومن رائٹس ڈیفنس کی 2015 میں کی گئی تحقیق کے مطابق پاکستان کی 10 سے 16 فیصد آبادی نفسیاتی پریشانی یا الجھنوں کا شکار ہے۔ جس میں ڈپریشن، شیزوفرینیا اور مرگی جیسے امراض شامل ہیں۔

    حال ہی میں میری ایک ایسی لڑکی سے ہوئی جو کہ اسلام آباد میں ایک یونیورسٹی میں ایم ایس پروگرام میں زیر تعلیم ہے۔ لڑکی کی عمر لگ بھگ اٹھائیس سے تیس سال ہے اور معاشرتی رویوں نے اسے شدید دباؤ کا شکار کر رکھا ہے۔ عاصمہ نے مجھے بتایا کہ کس قدر مشکلوں کے بعد وہ اپنے آبائی علاقے ایبٹ آباد سے اسلام آباد پہنچی ہے۔ گھر میں تعلیم حاصل کرنے سے لے کر ایک بے جوڑ شادی اس کے ذہنی دباؤ میں اضافہ کر رہے تھے۔ اس لڑکی کو لگتا ہے کہ اسے با اختیار ہونا چاہیئے ، وہ اپنی تعلیمی قابلیت کو معاشرے میں بہتری کے لیے استعمال کرنا چاہتی ہے۔ لیکن اس کے خوابوں کے رستے میں سب سے بڑی رکاوٹ اس کے والدین ہیں ، جو اس سے پیار کرنے کے دعویدار تو ہیں لیکن اپنی اولاد کو بہت سے رشتے داروں کے تعنوں سے بچنے، اور رشتے داروں کے روٹھنے خوف سے، ان کی مرضی کے بنا ہی شادی کرنے لیے آمادہ ہیں۔

    ابھی کل ہی کی بات ہے ، ایک سہیلی کے ریفرنس سے طیبہ سے ملاقات ہوئی، جو کہ آج کل فری لانسر ہے۔ بیس منٹ کی ملاقات میں طیبہ کے مسائل سننا اور اس سے اس کی جنگ میرے لیے اب شاید روز کی بات ہے ۔

    طیبہ، نے اس مختصر سی ملاقات میں کافی کے ساتھ دو سگریٹ سلگائے ۔ اس کی شادی انیس سال کی عمر میں ایک وکیل سے ہوئی تھی، تقریباً پینتیس سالہ، طیبہ کے تین بچےہیں، جن کی کفالت کی وہ اکیلی ذمہ دار ہے۔ کیونکہ شادی کے آٹھ سال بعد اس نے خلاء لے لی۔ طیبہ کے مطابق، گھریلو ضروریات نہ پوری کرنے کے ساتھ ساتھ اسکا سابق خاوند مذہبی انتہا پسندی ، شک اور تشدد پسند بھی تھا۔ وہ کہتی یے کہ اسکا شوہر اکثر شہر سے باہر رہتا میں نے سسرال اور میکے والوں کو بہت بار کہا کہ اس کو نفسیات کے کسی ڈاکٹر کو دکھائیں شاید زندگی میں کچھ بہتری آجائے۔ لیکن! ہم سب اپنا علاج کرنے کی بجائے دوسروں کو پاگل بنانے کو ترجیح دیتےہیں۔ طیبہ کہتی ہے کہ وہ شدید کرب، لاچاری اور ذہنی اذیت سے دوچار ہو کر علحیدہ ہوئی تو اس کے بچوں کو وراثت سے آک کر دیا گیا۔ کئی مہینے ماں باپ کے گھر میں خود کو قید کر لیا۔ اور پھر اپنی ایک کلاس فیلو کے تعاون سے اس نے اپنے آپ سے لڑنا چھوڑا اور اپنی ذمہ داریوں کو اٹھانے کا فیصلہ کیا۔

    کچھ منٹ ہم سب خاموش رہے ، طیبہ اٹھ کر جا رہی تھی اور میں یہ سوچ رہی تھی کہ ٹاسک ریلیشن کتنی بڑی اذیت ہیں۔پاکستان میں ناجانے کتنی خواتین روزآنہ ایسے ذہنی دباؤ میں مبتلا ہوتی ہوں گی۔ نہ صرف خواتین بلکہ مرد بھی جس دباؤ سے گزرتے ہیں اس کا اظہار ایک ٹیبو ہے۔ جہاں وہ خاموشی سے اپنے مسائل سے لڑتے ہی رہتے ہیں۔ان سارے سوچوں کے ساتھ میں اپنے ایک جاننے والی پروفیسر کے پاس پہنچی جو کہ آٹھ سال تک ذہنی امراض کے ایک کلینک میں کام کرتی رہیں ہیں اور اب نمس یورنیورسٹی میں شعبہ نفسیات میں پڑھا رہیں ہیں۔ ڈاکٹر عظمی نے بتایا کہ ذہنی صحت کے حوالے سے ہماری کمیونٹیز کی ذہنیت مریضوں کی صحت کو کس طرح نمایاں طور پر متاثر کر سکتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہا کہ پرانی نسل کی اقدار کو برقرار رکھنے والے والدین ، اکثر اپنے بچوں کے لیے اضطراب کا باعث بنتے ہیں۔ جس سے ان کی اولاد میں خود اعتمادی کی کمی پیدا ہوتی ہے۔ یہاں تک کہ اگر وہ (پاکستانی والدین) اس طرح کی بیماریوں کے بارے میں حساس اور آگاہ بھی ہیں کو نہیں سمجھتے ۔

    10 سالہ بچے کے ساتھ مسجد کے حجرے میں برہنہ حالت میں امام مسجد گرفتار

    بنی گالہ کے کتوں سے کھیلنے والی "فرح”رات کے اندھیرے میں برقع پہن کر ہوئی فرار

    ہمیں چائے کے ساتھ کبھی بسکٹ بھی نہ کھلائے اورفرح گجر کو جو دل چاہا

    فرح خان کتنی جائیدادوں کی مالک ہیں؟ تہلکہ خیز تفصیلات سامنے آ گئیں

    ہم میں سے اکثر والدین پدرانہ نظام کا حصہ رہے ہیں جس میں خواتین کے جذبات بمشکل ہی بحث کا موضوع ہوتے ہیں۔ خواتین کے جذبات، احساسات اکثر معاشرے میں نظر انداز کر دیے جاتے ہیں۔ کیونکہ خاندان اور رشتے داروں کے نزدیک وہ قابل ذکر نہیں ہوتے، کم عمری میں شادی ، بے جوڑ رشتے اور بعض اوقات لوگوں کے مطابق ایک عمر تک شادی نہ ہونے یا کرنے کی صورت میں خواتین کو اکثر طعنے سننا پڑتے ہیں ۔ انھوں نے کہا کہ یہاں تک کہ انھیں مجبوریوں کا واسطہ دے کر ایک اور تکلیف میں مبتلا کر دیا جاتاہے ۔

    وہ کہہ رہیں تھی کہ صرف ہم نہیں بلکہ سارا ملک ہی ایسے بہت سے کرب میں مبتلا ہے، بے سکونی، نیند نہ آنا، غربت و افلاس، تعلیم اور شعور کی کمی اور مذہبی و معاشرتی جنون ہم سب کے لیے ایک بڑا المیہ ہیں ۔ ہم نفسیاتی کے متعلق بیماریوں کو جاننا یا حل تلاش کرنے کو پاگل پن سمجھتے ہیں۔انھوں نے کہا کہ دماغی صحت کا مسئلہ پاکستان باقی رہے گا اگر پاکستانی نوجوان اپنے بزرگوں سے مختلف ذہنیت کو ترجیح دینے میں ڈٹے رہے تو ذہنی بیماریوں کی شناخت نہ صرف آسان ہوجائے گی بلکہ نوجوانوں خاص طور پر خواتین کی پر اعتمادی میں اضافہ ہوگا ۔

    حال ہی میں جاری ہونے والی ورلڈ بینک کی ایک نئی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کو صحت کی دیکھ بھال کے ایک جامع نقطہ نظر کی ضرورت یے یہ ان کی تولید صحت کے لیے بھی ضروری ہے۔ جو ملک میں خواتین کی صحت کی بہترین پر کام کرے گا وہاں زیادہ ترقی ہو گی۔ پاکستان میں خواتین کی صحت کی سطح دنیا میں سب سے کم ہے اور اس کا موازنہ ہمسایہ جنوبی ایشیائی ممالک کی خواتین کے مقابلے میں کیا جاتا ہے۔ پاکستان میں ہر 38 میں سے ایک عورت حمل سے متعلق وجوہات کی وجہ سے موت کے منہ میں جاتی ہے جبکہ سری لنکا میں یہ شرح 230 میں سے ایک ہے۔

    بنی گالہ میں کتے سے کھیلنے والی فرح کا اصل نام کیا؟ بھاگنے کی تصویر بھی وائرل

    بشریٰ بی بی کی قریبی دوست فرح نے خاموشی توڑ دی

    کمسن بچوں کے ساتھ گھناؤنا کام کرنیوالا سفاک ملزم اہل محلہ نے پکڑ لیا،فحش ویڈیوز بھی برآمد

    شہر قائد کراچی کی منی بسوں میں فحش ڈانس کی ویڈیوز چلنے لگی

    ماضی کی رپورٹس بھی کچھ ایسا ہی احوال پیش کرتی ہیں۔کراچی کی آغا خان یونیورسٹی/ہسپتال میں یونیورسٹی کے شعبہ نفسیات میں ایک اور 5 سالہ سروے (1992-1996) یہ ظاہر کرتا ہے کہ سائیکو تھراپی حاصل کرنے والے 212 مریضوں میں سے 65% خواتین تھیں، جن میں سے 72% شادی شدہ تھیں۔ مشورے کے محرک میاں بیوی اور سسرال والوں کے ساتھ تنازعات تھے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ان میں سے 50% خواتین میں کوئی نفسیاتی تشخیص نہیں تھی اور انہیں ‘پریشان خواتین’ کا لیبل لگایا گیا تھا۔ 28 فیصد خواتین ڈپریشن یا اضطراب کا شکار تھیں، 5-7 فیصد شخصیت یا ایڈجسٹمنٹ کی خرابی تھی اور سترہ فیصد کو دیگر امراض تھے۔

    تحقیقات سے یہ بھی پتا چلتا یے کہ پاکستان میں بیس سے چالیس سال کی عمر زیادہ ذہنی امراض کا شکار ہے۔ گویا پالیسی بنانے والوں کو اس عمر کی خواتین کو اپنی ترجیحات میں شامل کرنا ہوگا تاکہ ان کی ذہنی اور تولیدی صحت کس کم سے کم متاثر کیا جائے اور ان کی خود اعتمادی میں اضافہ ہو۔

  • بریسٹ کینسر کا موضوع ٹیبو کیوں ؟؟  — اعجازالحق عثمانی

    بریسٹ کینسر کا موضوع ٹیبو کیوں ؟؟ — اعجازالحق عثمانی

    اپنے کمرے میں حقہ پیتے ہوئے اچانک چاچے رحمتے نے اپنی جیب سے فون نکالا۔ نمبر ڈائل کرنے کے بعد انھوں نے اپنے کسی عزیز کی آواز سننے کےلیے فون کا سپیکر آن کیا۔ مگر آواز۔۔۔۔۔۔۔۔

    "چھاتی کا کینسر خواتین میں پایا جانے والا ایک جان لیوا مرض ہے۔”

    یہ جملہ ابھی مکمل ہی نہیں ہو پایا تھا کہ چاچے رحمتے نے کال بند کر دی ۔

    رانی کمرے کے باہر کھڑی فون سے آنے والی یہ آوازیں بڑے غور سے سن رہی تھی۔ گزشتہ کئی دنوں سے وہ اپنے سینے میں گلٹی محسوس کر رہی تھی۔ مگر گھر میں کسی کو بتانے سے ہچکچا رہی تھی۔ پورا دن اس کے ذہن میں ایک ہی جملہ گونجتا رہا۔

    "چھاتی کا کینسر خواتین میں پایا جانے والا ایک جان لیوا مرض ہے۔”

    اور یہ اسے کہیں نہ کہیں پریشان بھی کر رہا تھا۔ ذہن کو پرسکون کرنے کی خاطر اس نے ٹی وی کا ریموٹ اٹھایا۔ ٹی وی سکرین پر ایک ڈاکٹر چھاتی کے کینسر کی علامت بتا رہا تھا۔

    "کسی واضح گلٹی یا دانوں کے علاوہ بھی چھاتی کے کینسر کی مختلف علامات ہو سکتی ہیں۔ جیسا کہ چھاتی کی جلد کے دیکھنے اور چھونے میں تبدیلی، چھاتی میں درد یا بے آرامی، خاص طور پر اگر یہ درد نیا اور جانے کا نام نہ لے رہا ہو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”۔یہ سب سنتے ہوئے رانی کا ماتھا پریشانی اور خوف کی وجہ سے پیسنے سے شرابور تھا۔خوف اور درد سے وہ روئے جارہی تھی۔ مگر وہ گھر میں اپنی یہ حالت کسی کو بھی نہیں بتا پارہی تھی۔طبیعت میں شدید بگاڑ کی وجہ سے وہ ایک دن سے ہسپتال میں داخل تھی۔ کہ اگلے روز ڈاکٹر نے وارڈ سے نکلتے ہوئے چاچے رحمتے کو بتایا کہ چھاتی کا کینسر آپکی بیٹی کی جان لے گیا۔

    ہر سال اکتوبر میں بریسٹ کینسر یا چھاتی کے سرکان کے حوالے سے آگاہی مہم کا انقعاد کیا جاتا ہے۔ اور یہ ماہ بریسٹ کینسر یا چھاتی کے سرکان سے آگاہی کے مہینہ کے طور پر منایا جاتا ہے۔ 1990 میں پہلی دفعہ بریسٹ کینسر کے حوالے سے عوام میں شعور اجاگر کرنے کی غرض سے "پنک ربن” مہم کا آغاز کیا گیا تھا ۔

    مگر آج بھی بریسٹ کینسر کا موضوع ایک ٹیبو ہے۔ ہم بات کرتے ہوئے شرم محسوس کرتے ہیں۔ اگر کوئی بات کرے بھی تو ہم سننا پسند نہیں کرتے ۔شاید اسی وجہ سے آج بھی پاکستان میں ہر 9 میں سے ایک خاتون کو بریسٹ کینسر کا خطرہ ہے۔ پاکستان میں بریسٹ کینسر کی پہلی سٹیج پر تشخیص کا ریٹ آج بھی 4 فی صد سے کم ہے۔ ایشیا میں بریسٹ کینسر کی سب سے زیادہ شرح پاکستان میں پائی جاتی ہے ۔ ڈیٹا کے مطابق ہر سال تقریباً 90 ہزار خواتین میں بریسٹ کینسر کی تشخیص ہوتی ہے۔ جبکہ چالیس ہزار سے زائد خواتین ہر برس اس مرض سے موت کا شکار ہوتی ہیں۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق پاکستان میں بریسٹ کینسر یا چھاتی کے سرکان سے موت کی شرح 26 فی صد سے زائد ہے۔

    چھاتی کا سرکان خواتین کو ہونے والے کینسرز میں سر فہرست ہے ۔ یہ کینسر عموماً 50 سے 60 سال کی عمر کی خواتین میں پایا جاتا ہے ۔ لیکن کم عمری میں بھی چھاتی کا سرکان رپورٹ ہورہا ہے۔

    چھاتی کا سرکان یا بریسٹ کینسر شرم کی بات نہیں۔ باقی بیماریوں کی طرح یہ بھی ایک بیماری ہے۔ جس کا علاج ممکن ہے۔ مگر آگاہی کے بنا اس بیماری سے لڑنا، ممکن نہیں ہے۔ کیونکہ اگر خواتین کو بریسٹ کینسر کے بارے میں آگاہی ہوگی تو وہ بروقت ڈاکٹر کے پاس جائیں گی۔ بروقت تشخیص سے اسکا علاج ممکن ہے۔

    خواتین کو چاہیے کہ چھاتی میں کوئی گلٹی یا فرق محسوس کریں تو فوراً ڈاکٹر سے رجوع کریں ۔اگر چھاتی کے سرکان سے بچنا ہے تو پلیز بریسٹ کینسر کے موضوع کو ٹیبو سمجھنا بند کیجئے ۔

  • ٹک ٹاک کے فیملی پیئرنگ فیچر کے بارے میں چھ باتیں جو تمام والدین کو معلوم ہونا چاہیے

    ٹک ٹاک کے فیملی پیئرنگ فیچر کے بارے میں چھ باتیں جو تمام والدین کو معلوم ہونا چاہیے

    ٹک ٹاک کے فیملی پیئرنگ فیچر کے بارے میں چھ باتیں جو تمام والدین کو معلوم ہونا چاہیے
    آن لائن تجربات تمام عمر کے افراد کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتے ہیں لیکن نو عمر افراد کے لیے اِس کے امکانات بہت زیادہ ہوتے ہیں اور وہ ہر طرح کے خطرات کا بآسانی ہدف بن سکتے ہیں۔یہ بات حیران کن نہیں ہے والدین اگرانٹرنیٹ کے استعمال کے دوران اپنے بچوں کی نگرانی کرنا چاہتیں ہیں کہ وہ کس کے ساتھ رابطے میں ہیں، کس سے بات کر رہے ہیں، کسے تلاش کر رہے ہیں اور اپنا وقت کس طرح گزار رہے ہیں۔انٹر نیٹ پر اپنے بچوں کی سرگرمیوں پر نظررکھنا ایک مشکل کام ہے لیکن مختصر دورانیے کی ویڈیوز کے مقبول پلیٹ فارم، ٹک ٹاک (TikTok) نے’فیملی پیئرنگ‘ فیچر متعارف کراکے والدین کی زندگی آسان بنا دی ہے۔

    فیملی پیئرنگ (Family Pairing) فیچر کیا ہے؟
    یہ فیچر والدین کو اِس بات کا موقع دیتا ہے کہ وہ اپنے ٹک ٹاک اکاؤنٹس کو بچوں کے ٹک ٹاک اکاؤنٹس کے ساتھ منسلک کر سکیں اور مختصر دروانیے کی ویڈیو پلیٹ فارم پر اْن کی سرگرمیوں کو کنٹرول کر سکیں۔بچوں کی سرگرمیوں کی نگرانی کرنے کا یہ زبردست طریقہ ہے جو تمام وقت ڈیجیٹل سیفٹی یقینی بناتا ہے۔ یہاں پر اس فیچر کے چھ پہلو ہیں جن کے بارے میں آپ کو معلوم ہونا چاہیے:

    اسکرین ٹائم(Screen Time): اگر بچوں کا اسکرین پر صرف ہونے والا وقت آپ کو پریشان کررہا ہے تو خاطر جمع رکھیں کیوں کہ اب آپ ٹک ٹاک کے فیملی پیئرنگ فیچر کے ذریعے اسے کنٹرول کر سکتے ہیں۔ ٹک ٹاک والدین کو بااختیار بناتا ہے کہ وہ،اپنا اکاؤنٹ استعمال کرتے ہوئے،بچوں کے لیے اسکرین ٹائم مقرر کر سکیں۔ اگر آپ کا بچہ ایک سے زیادہ ڈیوائسز سے استعمال کرتا ہے تب یہ سیٹنگ تمام ڈیوائسز پر لاگو ہوجاتی ہے۔

    ریسٹریکٹڈ موڈ(Restricted Mode): والدین کو مزید بااختیار بنانے کی غرض سے، ٹک ٹاک اْنھیں اِس بات کے انتخاب کا موقع فراہم کرتا ہے کہ اْن کے بچے ایپ میں کیا دیکھیں اور کیا نہیں۔آسان لفظوں میں، اگر والدین محسوس کرتے ہیں کہ کوئی مواد اْن کے بچوں کے لیے غیر موزوں ہے تو وہ اپنے بچوں کے ٹک ٹاک اکاؤنٹس کی اْس مواد تک رسائی محدود کر سکتے ہیں۔

    سرچ (Search): والدین اِس بات کا بھی فیصلہ کر سکتے ہیں کہ اْن کے بچے کس قسم کی ویڈیوز، ہیش ٹیگس(hashtags)، ساؤنڈز، لوگ یا مواد سرچ کر سکتے ہیں۔اس طرح اْنھیں اپنے بچوں کے ٹک ٹاک اکاؤنٹس پر مزید بہتر نگرانی حاصل ہوتی ہے۔

    ڈائریکٹ میسیجز(Messages Direct): ڈائریکٹ میسیجز جہاں 13 سے 15سال کی عمر کے ٹک ٹاک اکاؤنٹ ہولڈرز کے لیے پہلے سے ہی غیر فعال ہوتاہے، والدین اْسے 16 سال یا اْس سے زیادہ عمر کے بچوں کے لیے بھی مکمل طور پر آف کر سکتے ہیں یا اْس تک رسائی محدود کر سکتے ہیں۔یہ فیچر یقینی بناتا ہے کہ آپ کے والدین اجنبی افراد کے ساتھ رابطے میں نہیں ہیں اور اِس طرح اُنھیں محفوظ رکھنے میں مدد کرتا ہے۔

    لائیکڈ ویڈیوز اور کمنٹس(Liked Videos & Comments): والدین اِس بات کا بھی انتخاب کر سکتے ہیں کہ اْن کے نو عمر افرادکے اکاؤنٹ پر موجود ویڈیوز کون لوگ دیکھ سکتے ہیں یا لائیک کر سکتے ہیں۔ وہ اس بات کا بھی انتخاب کر سکتے ہیں کہ کون لوگ ان کے نوعمر افراد کی ویڈیوز پر کمنٹ کر سکتے ہیں۔یہ فیچر نہ صرف نو عمر افراد کے تجربے میں اضافہ کرتا ہے بلکہ والدین کو سکون کا احساس دیتا ہے ورنہ وہ پریشان ہوتے رہتے ہیں کہ اْن کے بچے انٹرنیٹ پر کن سرگرمیوں میں مصروف ہیں۔

     پولیس نے مدرسے کے لڑکے سے بد فعلی کے ملزم مفتی عزیز الرحمن کے خلاف مقدمہ درج کر دی

    مولانا کی بچے سے زیادتی ، ویڈیو لیک ، اصل حقیقت کیا ہے ، سنیے مبشر لقمان کی زبانی

    مذہبی رہنماوں کا ردعمل

    قابل دریافت ہونا (Discoverability) اور دوسروں کو اکاؤنٹ تجویز کرنا (Suggestions)
    نوعمر افراد کے ٹک ٹاک اکاؤنٹس پر آپ کوکنٹرول دینے اور اْن کے آن لائن تجربے کو محفوظ بنانے کے لیے ٹک ٹاک آپ کو اس بات کے انتخاب کا بھی موقع دیتا ہے کہ آپ کے نوعمر ا فراد کے اکاؤنٹس ’پبلک‘ یا’پرائیویٹ‘ سیٹ ہے یا نہیں۔آپ کے پاس یہ آپشن ہوتا ہے کہ آپ بچوں کے ٹک ٹاک اکاؤنٹس دوسرے لوگوں کو تجویز (Suggest)کیے جا سکتے ہیں یا نہیں۔
    مختصر اً یہ کہ ٹک ٹاک ڈیجیٹل سیفٹی کے اہمیت کو سمجھتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ یہ والدین کی حوصلہ افزائی کرتا ہے کہ وہ اپنے ٹک ٹاک اکاؤنٹس کو بچوں کے اکاؤنٹس کے ساتھ مربوط کر سکیں اور اْنھیں محفوظ رکھنے کے ساتھ پلیٹ فارم پر ان کا تجربہ مزید بہتر بنا سکیں۔

    طالب علم نے چائے پلائی اور پھر….مفتی عزیرالرحمان کی زیادتی کیس میں وضاحتی ویڈیو

    طالب علم سے زیادتی کرنیوالے مفتی کو مدرسہ سے فارغ کر دیا گیا

    تین سال سے ہر جمعہ کو مفتی عزیز الرحمان میرے ساتھ…..متاثرہ طالب علم مزید کتنی ویڈیوز سامنے لے آیا؟

    میں نے کوئی جبر تو نہیں کیا، مفتی عزیزالرحمان اعتراف کے بعد فرار

  • جھجک، اور خواہ مخواہ کی شرم کو زندگی اور صحت سے قیمتی نہ جانیں!!! — ڈاکٹر عزیر سرویا

    جھجک، اور خواہ مخواہ کی شرم کو زندگی اور صحت سے قیمتی نہ جانیں!!! — ڈاکٹر عزیر سرویا

    اٹھائیس سالہ ایم فِل سوشیالوجی کی طالبہ نازیہ نے نہاتے ہوئے محسوس کیا کہ چھاتی میں ایک اُبھار سا بنا ہوا ہے۔ ہاتھ لگانے پر کچھ گُھٹلی جیسا احساس ہوتا تھا۔ لیکن کوئی خاص درد تکلیف وغیرہ نہ تھی۔ اس نے سوچا والدہ سے ڈسکس کر لے گی۔ چند ہفتے یونہی بےدھیانی میں یاد نہ رہا۔ ایک دن دوبارہ نہاتے ہوئے اس طرف دھیان گیا تو ماں سے اس بارے مشورہ کر ہی لیا۔ ماں نے کہا کوئی درد یا تکلیف ہے تو دکھا لیتے ہیں ڈاکٹر کو، ساتھ مشورہ دیا کہ زیادہ مسئلہ نہیں لگ رہا تو پیاز باندھ لو اور ساتھ وظیفہ پڑھ لو یہ آپ ہی “گُھل” جائے گی۔ چند ہفتے وظیفہ پڑھا، اور پیاز بھی باندھا اور ساتھ ساتھ زیتون کے تیل سے ہلکے ہاتھ مالش بھی کی۔ گویا نازیہ نے نفسیاتی طور پر اپنے آپ کو یقین دلا دیا کہ ٹوٹکوں سے ابھار کا سائز کچھ کم ہو گیا ہے۔ وہ مطمئن ہو گئی۔ ابھار اپنی جگہ موجود رہا۔ خاموش۔ کسی تکلیف یا درد کے بغیر۔ جیسے طوفان سے پہلے سمندر ہوتا ہے۔

    چھے مہینے ایسے ہی گزر گئے۔ نازیہ کو بھول گیا کہ ایک چھاتی میں ابھار ہے۔ اب کے نازیہ کو عجیب سا درد دائیں بازو میں اٹھا، جیسے اس کی ہڈی میں کوئی سوراخ سا کرنے کی کوشش کر رہا ہو۔ درد کی دوا لی چند دن، اور درد کو آرام آ گیا۔ لیکن دوا چھوڑتے ہی درد نے پھر زور پکڑا۔ آخرکار قریبی ڈاکٹر سے مشورہ ہوا۔ اس نے کہا جوان لڑکی ہے اسے کیا ہونا ہے۔ کیلشیئم اور وٹامن ڈی تجویز کیا، ساتھ ایک تگڑا سا پین کِلر انجیکشن ٹھوکا اور گولیاں دے کر چلتا کیا۔ پھر سے عارضی آرام آ گیا۔ لیکن دوا کا کورس ختم ہوتے ہی پھر وہی تنگی شروع!

    اب نازیہ کو پریشانی ہوئی کہ یہ موئی درد جان کیوں نہیں چھوڑ رہی۔ اس نے اپنی ڈاکٹر دوست کو کہہ کر سرکاری ہسپتال سے ایکسرے کروایا۔ ایکسرے کروا کے ہڈی والے ڈاکٹر کے پاس لے گئی۔ اس نے ایکسرے دیکھ کر کہا کہ اس میں کچھ گڑبڑ لگ رہی ہے، آپ اس کو ذرا کینسر آوٹ ڈور میں دکھا کر آئیں۔ اور یوں میری نازیہ سے پہلی ملاقات کا بندوبست ہوا۔۔۔۔

    نازیہ نے مجھے سلام کر کے ایکسرے پکڑاتے ہوئے کہا کہ اسے بازو کی ہڈی میں درد کی شکایت ہے۔ میں نے ایکسرے دیکھتے ہی ہڈی کا پوچھنے کی بجائے اس سے پوچھا “آپ کو جسم میں کہیں کوئی گِلٹی محسوس ہوتی ہے”، جس کے جواب میں اس نے کہا کہ ہاں بس چھاتی میں ابھار سا تھا لیکن وہ وظیفے اور مالش سے بہتر ہو گیا، لیکن “تھوڑا سا” ابھی بھی ہے۔ وہ “تھوڑا سا” ابھار چیک کرتے ہی الارم بجنے لگے۔ میں نے نازیہ کو بائیاپسی، ہڈیوں کا اسکین اور سی ٹی اسکین لکھ کر دیے۔ رپورٹ میں چوتھی اسٹیج کا انتہائی اگریسیو بریسٹ کینسر تھا، جس کی جڑیں ہڈیوں میں ہی نہیں بلکہ جگر، پھیپھڑوں اور ایڈرینل گلینڈ میں بھی پہنچ چکی تھیں۔۔۔۔

    نازیہ کے علاج کا دورانیہ لگ بھگ اٹھارہ ماہ کا تھا۔ زندگی کے آخری چار ماہ اس نے بہت تکلیف میں گزارے۔ بستر پر معذوری کے عالم میں وہ کبھی کبھار اپنے دل کی باتیں کیاکرتی تھی۔ وہ شادی کرنا چاہتی تھی۔ ڈگری مکمل کرنا چاہتی تھی۔ ماں بننا چاہتی تھی۔ کچھ اور جینا چاہتی تھی۔ لیکن مقدر کا فیصلہ کچھ اور ہی تھا۔۔۔

    شاید ہمارے ارد گرد بہت سی نازیہ موجود ہوں۔ کیونکہ ہر نو میں سے ایک خاتون اپنی زندگی میں اس کا شکار ہوتی ہے۔ خواتین کو بتانے اور سمجھانے کی ضرورت ہے کہ چھاتی میں تبدیلیاں ہوں تو ڈاکٹر سے مشورے میں تاخیر نہ کریں۔ پہلی اسٹیجز میں اگر ہم اس بیماری کو پکڑ لیں تو اللہ کی مہربانی سے اسے جڑ سے اکھاڑنے کے اچھے چانسز ہوتے ہیں۔ اگر آپ خاتون ہیں اور تصویر میں دکھائی گئی کوئی علامات آپ میں ہیں تو فوراً کسی ڈھنگ کے ڈاکٹر سے معائنہ کروائیں۔ اگر آپ مرد ہیں تو اپنی خواتین کو آگہی دیں کہ جھجک، اور خواہ مخواہ کی شرم کو زندگی اور صحت سے قیمتی نہ جانیں۔

  • بریسٹ کینسر بھی قدرتی آفات سے کم نہیں — ڈاکٹر عزیر سرویا

    بریسٹ کینسر بھی قدرتی آفات سے کم نہیں — ڈاکٹر عزیر سرویا

    آج سے بیس سال پہلے تک بریسٹ (چھاتی) کا کینسر پچاس سالہ یا اس سے اوپر کی خواتین میں زیادہ دیکھتے تھے۔ اس وقت ہمارے (کینسر کے ڈاکٹروں کے) پاس آنے والی بریسٹ کینسر سے متاثرہ خواتین میں سے لگ بھگ آدھی چالیس سال سے کم ہیں۔ بہت سی تو بیس کے پیٹے میں ہیں یعنی بالکل جوان بچیاں۔

    آخر کیا وجہ ہے کہ جو بوڑھوں کی بیماری سمجھی جاتی تھی وہ اب جوانی میں حملہ آور ہونے لگی ہے؟ پاکستان کی ہر نو میں سے ایک خاتون بریسٹ کینسر کا شکار ہو گی، موجودہ اعداد و شمار ایسا کہتے ہیں۔ لیکن مجھے لگتا ہے یہ جس تیزی سے پھیل رہا ہے یہ نمبر نو سے کم ہو کر سات ہو جائے گا۔

    وجوہات پر اسٹدیز کم ہیں اور جو ہیں ان کے نتائج بھی متنازعہ سے ہیں۔ جینیات، آلودگی، ورزش نہ ہونا، ناقص غذا (ماڈرن جَنک فُوڈ)، یہاں تک کہ بہت سے سوچتے ہیں کہ موبائل ریڈی ایشن بھی ممکنہ وجوہات ہو سکتی ہیں کیسز بڑھنے کی۔ اس پر پاکستان میں ماہرین کو سر جوڑنے کی ضرورت ہے کیونکہ اسی شرح سے کیسز میں اضافہ ہوتا رہا تو ہمارا سسٹم اس سے نبرد آزما ہونے کی اہلیت نہیں رکھتا۔

    پہلی اسٹیجز میں یہ مرض بالکل قابل علاج ہے۔ لیکن ہمارے پاس خواتین کیس خراب ہو چکنے کے بعد آتی ہیں۔ جو بروقت آ بھی جائیں ان کے پاس علاج کے پیسے نہیں ہوتے۔ کارڈ شارڈ اس وقت جتنے موجود ہیں وہ زیادہ کومپنی کی مشہوری ہی ہیں ان سے کینسر کے مریضوں کو عملی فوائد کم ہی ہو رہے ہیں (مریضوں کی شرح اموات اس کا ثبوت ہے، اگر کوئی نمبر گیم میں جانا چاہے تو خوشی سے جائے)۔

    اپنے ارد گرد خواتین کو کانفیڈینس دلائیے کہ اگر چھاتی میں کوئی منفی تبدیلی محسوس کریں تو چیک اپ سے نہ جھجکیں۔ حکومت و ریاست سے نا امید رہیے اور اپنی سی کوشش کر کے کسی بھی آزمائش کے لیے رقم اور ہمت جوڑ کر رکھیے۔ سب سے ضروری بات یہ ہے کہ دعا کرتے رہیے کیونکہ یہ چیز بھی زلزلے یا قدرتی آفت ہی کی طرح بغیر وارننگ کے آ پکڑتی ہے۔

  • گھریلو تشدد ،تحریر: ندرت حامد

    گھریلو تشدد ،تحریر: ندرت حامد

    تعلیم کی کمی یا تربیت کا فقدان ۔ دین سے دوری یا غلط صحبت کا شکار ہمارا معاشرہ ظلم و بربریت کی جیتی جاگتی مثال بنتا جا رہا ہے۔ اور اس ظلم و جبر کا نشانہ ہمیشہ عورت ہی بنی ۔ مرد اپنی ہر بات، لین دین کاغصہ بیچاری اس عورت پہ نکالتا ہے جو اس کے گھر میں بیٹھی ہوتی ہے ۔اسلامی معاشرہ نے، دین اسلام نے عورت کو عزت دی ۔ اس کا مقام بلند کیا ۔ماں کا روپ دیا اور قدموں میں جنت رکھ دی ۔ بیٹی کا درجہ دیا اور رحمت بنا ڈالا ،بہن کا درجہ دیا تو محبت کا گہوارہ بنا دیا ۔بیوی کا درجہ دیا گھر کے مرد کے دل کا سکون بنا دیا ۔ مگر یہی مرد جب عورت پہ مار پیٹ ظلم وجبر اور تشدد کی انتہا تک چلا جاتا ہے یہ بھی بھول جاتا ہے کہ وہ بھی انسان ہے اس کے اندر بھی روح ہے ۔

    ہمارے معاشرے عورت کو ہمیشہ چپ کا سبق دیا جاتا ہے ۔رخصت کرتے وقت یہ تلقین کی جاتی ہے کہ اب یہی تمہارا گھر ہے ۔ جو بھی ہو واپسی کا سوچنا بھی مت ۔ اب اس گھر سے صرف تمہارا جنازہ ہی نکلے گا ۔ کبھی سننے میں آتا ہے شوہر نے جھگڑے کے دوران مار پیٹ کی اور بیوی کا بازو ٹوٹ گیا ۔کبھی جھگڑے میں سر پھوڑ دیا جاتا ہے تو کبھی جسم میں لال نیلے نشان پڑ جاتے ہیں ۔

    ہیومن رائٹس واچ کی طرف سے کئے گئے سروے میں بتایا گیا پاکستان میں 10سے 20 فیصد عورتیں کسی نا کسی ظلم و زیادتی کا شکار ہیں ۔ پاکستان میں ہر دن 19 سے 20 گھریلو تشدد کے واقعات رجسٹرڈ ہوتے ہیں اور بہت سے تشدد کے واقعات ایسے ہیں جو رجسٹرڈ ہی نہیں ہوتے ۔ پاکستان میں ہر سال 5000 عورتیں گھریلو تشدد میں قتل کی جاتی ہیں ۔ یہی نہیں آئے روز سوشل میڈیا پہ نت نئی گھریلو تشدد کی ویڈیوز سامنے اتی رہتی ہیں جہاں کبھی شوہر بیوی پہ بہمانہ تشدد کر رہا ہوتا ہے تو کہیں بھائی وراثت میں حصہ مانگنے پر طاقت کے بل پر بہن کا منہ بند کرتا نظر آتا ہے ۔ہر روز ایک ٹرینڈ چل رہا ہوتا ہے جسٹس فار قرات العین ۔جسٹس فار صائمہ جسٹس فار بشری فلاں فلاں ۔جو ہمارے معاشرے کی بے حصی کا منہ بولتا ثبوت ہیں ۔ گھریلو تشدد میں عورتیں مختلف نفسیاتی بیماریوں کا شکار ہو جاتی ہیں ۔ اور یوں وہ خود کیلئے بھی دوسروں کی محتاج ہو جاتی ہیں ۔

    گھریلو تشدد میں عورتیں ڈیریشن اضطرابی کیفیات سے دو چارنظر آتی ہیں۔گھریلو تشدد کا اثر بچوں کی صحت پہ بھی پڑتا ہے وہ زندگی کے کی میدان میں باقیوں سے پیچھے رہ جاتے ہیں تعلیمی لحاظ سے بھی کمزور ہوتے ہیں ۔خدارا عورتوں پہ ظلم و زیادتی کی انتہا کی بجائے انہیں وہ درجہ دیں جو انکا حق ہے جو اسلام نے انکو دیا۔ بحیثیت خاندان پر امن قوم بنیں اور پر امن زندگی گزاریں ۔ گھریلو تشدد جیسے واقعات کی روک تھام کے لیے ہمارے معاشرے کی اسلامی اصولوں کے مطابق تربیت کی ضرورت پر زور دیا جانا چاہیے پاکستانی معاشرے کی اصلاح صرف اسلامی قوانین کو نافذ العمل کرنے سے ہی ممکن ہے نہ کہ مغرب کی تقلید کرنے سے .مرد حضرات کو چاہئے کہ ہر بات کا غصہ بیوی پر نکالنے کی بجائے اپنے گریبان میں بھی جھانک لیں ، ضرورت اس امر کی ہے کہ عورت کو بھی انسان سمجھا جائے .دین اسلام کی تعلیمات کو خود بھی اپنی زندگی میں نافذ کرکے اپنے گھر کو ایک مثالی خاندان بنایا جائے اس کے بغیر ہم مضبوط، پرسکون اور جنت نظیر خاندان اور گھر کا تصور نہیں کرسکتے،یہی آخری آپشن ہے

    کرونا کے مریض صحتیاب ہونے کے بعد کب تک کریں جسمانی تعلقات قائم کرنے سے پرہیز؟

    کرونا کا خوف،60 سالہ مریض کو 4 گھنٹے میں 3 ہسپتالوں میں کیا گیا ریفر،پھر ہوئی ایمبولینس میں موت

    کرونا کے بہانے بھارت میں مسلمان نشانہ،بیان دینے پر مودی نے ہندو تنظیم کے سربراہ کو جیل بھجوا دیا

    مودی کے گجرات میں کرونا کے بہانے مسلمانوں کی زندگی اجیرن بنا دی گئی

    لاہور کے علاقے سے کٹی ہوئی دو ٹانگیں کچرا کنڈی سے برآمد

    گائے ذبیحہ کے نام پر بھارت میں مسلمانوں کو ہزاروں افراد کی موجودگی میں زنجیرمیں جکڑ کر زندہ جلا دیا گیا

  • بریسٹ کینسر کا عالمی دن, پنک ربن بمقابلہ ٹیبو !!! — بلال شوکت آزاد

    بریسٹ کینسر کا عالمی دن, پنک ربن بمقابلہ ٹیبو !!! — بلال شوکت آزاد

    عورت کسی بھی گھر بلکہ کسی بھی معاشرے میں اہمیت کی حامل اور مانندِ ریڑھ ہوتی ہے۔ اگر عورت صحت مند اور تندرست نہ رہے تو گھر کا نظام درہم برہم ہوجاتا ہے اور اگر عورتیں کسی ایسی موزی و خطرناک بیماری میں مبتلا ہوجائیں تو گھر تو گھر معاشرے کا نظام اور توازن بھی درہم برہم ہوسکتا ہے۔

    کیونکہ ایک عورت ایک گھر ایک خاندان پر مشتمل یونٹ کی وہ بنیادی اکائی ہوتی ہے جو کسی جسمانی یا نفسیاتی بیماری کا شکار ہوجائے تو پورا گھر ایک ایسی افرا تفری اور انتشار سے روبرو ہوتا ہے جو اپنے آپ میں ایک الگ مسئلہ ہے۔

    اس صورتحال میں گھر اور معاشرے پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ عورت کی صحت کا خیال کرے, اس کو پیش آمدہ صحت کے مسائل سے ناصرف باخبر رہے بلکہ عورت کو ہر دم آگاہی بہم پہنچاتا رہے تاکہ عورت اپنا اور اپنی صحت کا خیال رکھ سکے۔

    بریسٹ کینسر یا چھاتی کا سرطان بھی ایک ایسی موزی اور خطرناک بیماری ہے جس کا شکار مرد اور عورت دونوں ہوسکتے ہیں لیکن اس کا سب سے زیادہ شکار عورتیں ہورہی ہیں اور ہوتی ہیں۔

    اگر بریسٹ کینسر کی تشخیص بروقت ہوجائے تو قیمتی جان بچانے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں, ایک محتاط اندازے کے مطابق اس وقت ہمارے ہاں ہر نو میں سے ایک خاتون بریسٹ کینسر میں مبتلا ہوتی ہے لیکن گزشتہ دس پندرہ سالوں سے پاکستان میں اس حوالے شعور و آگاہی پھیلانے کی مہم چلائی جاتی ہے جس کا سہرا بلخصوص پنک ربن Pink Ribbon نامی این جی او کو جاتا ہے جو فی سبیل اللہ اس موذی مرض کے خلاف نا صرف متحرک ہیں بلکہ اس کے تدراک کے لیے عملی کوششوں میں ہراول دستے کا کردار ادا کررہیں۔

    پنک ربن Pink Ribbon پاکستان بھر میں بریسٹ کینسر اویئرنس سیمینارز, کانفرنس اور لیکچرز منعقد کرواتے ہیں اور معاشرے کے باشعور و پڑھے لکھے طبقے کی مدد سے ناخوانداہ افراد کو آگاہی پہنچانے کا فریضہ ادا کرتے ہیں۔

    پنک ربن Pink Ribbon کے سروے کے مطابق پاکستان میں ہر 24 گھنٹے میں 109 خواتین بریسٹ کینسر کی وجہ سے موت کے منہ میں جاتی ہیں۔ سالانہ 90,000 نئے چھاتی کے کینسر کے واقعات کے اضافے کے ساتھ سالانہ 40,000 سے زیادہ اموات ایک سنگین تشویش کا معاملہ اختیار کرتا جارہا ہے۔ اگرچہ، بروقت تشخیص اور مناسب علاج چھاتی کے کینسر کے مریضوں کے زندہ رہنے کے امکانات کو 90 فیصد تک بڑھا سکتا ہے, لیکن اس کے لیے ہمیں کھل کر بریسٹ کینسر پر بات کرنی ہوگی کیونکہ ماہواری اور دیگر خواتین کے نفسیاتی و جسمانی اور معاشرتی مسائل کی طرح اس بیماری پر بات کرنا بھی ہمارے معاشرے میں ایک ٹیبو ہے مطلب لوگ ناک منہ چڑھاتے اور اس مسئلے سے پہلو تہی کرتے ہیں۔

    اسی لیے ملک بھر میں چھاتی کے کینسر سے متعلق آگاہی پیدا کرنے سے لے کر حکومتوں اور نجی تنظیموں کے ساتھ مؤثر اتحاد قائم کرنے سے لے کر سپریم کورٹ کے ذریعے عدالتی وکالت تک؛ پنک ربن نے کامیابی کے ساتھ ‘چھاتی کے کینسر’ کے ممنوع موضوع کو ایک فعال ‘نیشنل ہیلتھ ایجنڈا’ میں تبدیل کر دیا ہے۔

    دوسری طرف، پنک ربن Pink Ribbon پاکستان کا پہلا بریسٹ کینسر ہسپتال بنا رہے ہیں جو اب تک 60 فیصد مکمل ہو چکا ہے۔ ہسپتال کا مقصد سالانہ 40,000 چھاتی کے کینسر کے مریضوں کو او پی ڈی، الٹراساؤنڈ، میموگرام، کیموتھراپی، سرجری، اور ان ڈور پیشنٹ ڈیپارٹمنٹ کی سہولت سمیت عالمی معیار کی تشخیص اور علاج کی خدمات فراہم کرنا ہے۔

    پنک ربن ایک خیراتی ادارہ ہے جو خالصتاً زکوٰۃ، صدقات اور عطیات کی شکل میں عوامی فلاحی کاموں پر منحصر ہے, اس لیے عوام کو جس میڈیم سے بھی بریسٹ کینسر اور پنک ربن کی بابت معلومات ملیں وہ حسب توفیق اس کار خیر میں اپنا حصہ بقدر جثہ ضرور جمع کروائیں۔

    یاد رکھیں یہ مرض زیادہ تر عورتوں کو لاحق ہوتا ہے جو آپ کی ماں, بہن, بیوی اور بیٹی کے روپ میں اس معاشرے میں ہر لمحہ موجود رہتی ہیں اس لیے اس خطرناک اور موذی مرض کی آگاہی لازمی لیں اور اپنے گھر کی عورتوں کو اس بارے میں بتاکر ان کا خوف کم کریں کہ اگر بروقت تشخیص ہوجائے تو سروائیول کے چانسز بہت زیادہ ہیں البتہ دیر ہوجائے یا بلکل معلوم ہی نہ ہو تو پھر اس مرض سے موت ہونا طے امر ہے۔

    یہ بیماری خاموشی سے ہمارے معاشرے میں پھیل اور پھل پھول رہی ہے تو اس کی وجہ صرف اور صرف اس بابت ناقص معلومات یا کم علمی تو ہے ہی لیکن اس کے ساتھ ساتھ ہی اس بیماری کے پھیلنے اور اس قدر خطرناک ہونے کی اصل وجہ شرمساری اور خاموشی بھی ہے۔

    گھریلو خواتین جن کی آنکھ ایک پدر سری اور توہم پرستی سے لبریز معاشرے میں کھلی ہے وہ نہ تو خود توجہ دیتی ہیں اور نہ ہی کسی ڈاکٹر سے ایسے مسائل کھل کر ڈسکس کرتی ہیں کہ نام نہاد مشرقیت اور خود ساختہ شریعت کا بھاری بھرکم بوجھ پہلے ہی سینے پر ہوتا ہے کہ اگر بریسٹ کینسر کی تشخیص ہوگئی تو دنیا کیا سوچے گی, میرے گھر کے مرد کیا سوچیں گے وغیرہ وغیرہ اور بیشک ہمارے سماج کی عورتوں کا یہ ڈر خوف اور شرمساری بے جا بھی نہیں کہ ہمارے معاشرےکا مرد عورت کی زیب و زینت کا تو خوب عاشق اور متمنی رہتا ہے لیکن اس کی اسی زیب و زینت کی طبی صحت اور نفسیاتی عوامل سے اس کو کوئی سروکار نہیں ہوتا۔

    آپ مرد ہیں تو یہ بات سمجھ لیں کہ ہمارے معاشرے کا ٹیبو Taboo خواہ وہ ماہواری کے مسائل پر آگاہی ہو, سیکسشوئیل معاملات پر آگاہی ہو یا پھر سروائیکل و بریسٹ کینسر کی بابت آگاہی ہو کو آپ ہی توڑ سکتے ہیں اگر آپ خود سے ان معاملات پر آگاہی حاصل کریں اور اپنی بیوی کو بتائیں اور سمجھائیں اور وہ پھر آگےآپکی ماں بہن بیٹی اور تمام رشتہ دار خواتین کو آگاہی دے تو آپ صدقہ جاریہ کی وجہ بن سکتے ہیں۔

    عورتیں خواہ مغرب کی ہوں یا مشرق کی۔ ۔ ۔ جب تک ان کو ان کے باپ, شوہر, بھائی اور بیٹے ہمت, حوصلہ اور اعتماد نہ دیں وہ بیچاریاں اپنی ذات سے متعلق مسائل, امراض اور معاملات میں بھی تذبذب, ڈر, خوف اور شرمساری کا شکار رہ کر موت کو تو گلے لگالیتی ہیں لیکن کسی اپنے یا پرائے سے اس قدر ممنوعہ بنا دیئے گئے معاملات ڈسکس نہیں کرپاتی۔

    آج بریسٹ کینسر کی آگاہی کا عالمی دن تھا لیکن ہمارے ہاں سوائے پنک ربن Pink Ribbon کے کوئی اس دن کو یاد نہیں کرتا اور نہ ہی خود سے اپنی گھر کی عورت کو اس بابت کچھ پتہ کرنے یا بتانے کا قصد کرتا ہے۔

    بریسٹ کینسر کو مات دینی ہے تو پہلے معاشرتی اور سماجی شرم و حیا کا میکنزم اور ڈیکورم بدلیں ورنہ بریسٹ کینسر اور اس جیسی دیگر موذی بیماریاں آپ کے معاشرے کی عورت کو نگلتی رہیں گی کہ وہ شرم و حیا کا چولا پہنے مرتی مر جائیں گی لیکن اپنی بیماری یا اپنی تکلیف کو راز ہی رکھیں گی, جس سے عورتوں اور مردوں کا تناسب خراب ہوگا اور معاشرہ عدم توازن کی طرف جائے گاکہ

    وجود زن سے ہے تصویر کائنات میں رنگ
    اسی کے ساز سے ہے زندگی کا سوز دروں

    بہر کیف آپ کو بریسٹ کینسر سے متعلق جس طرح کی بھی معلومات درکار ہوں آپ بذریعہ انٹرنیٹ پنک ربن کی ویب سائیٹ اور سوشل میڈیا روابط سے حاصل کرسکتے۔ اس پیغام کو آج کے دن بلخصوص اور روزانہ کی بنیاد پر اپنے گھر کی خواتین سے ضرور شیئرکیجیئے تاکہ وہ خود اس مرض کی تشخیص کرنا سیکھ سکیں اور بروقت آگاہی سے موت کے منہ میں جانے سے بچ سکیں۔