Baaghi TV

Category: خواتین

  • دوستی، انسان سے انسان تک کا خاموش سفر.تحریر:جان محمد رمضان

    دوستی، انسان سے انسان تک کا خاموش سفر.تحریر:جان محمد رمضان

    دوستی کسی تعارف کی محتاج نہیں ہوتی۔ نہ یہ چہروں کی کشش پر رکتی ہے، نہ عمروں کے فرق پر ٹھہرتی ہے، اور نہ ہی دولت و غربت کے ترازو میں تولی جا سکتی ہے۔ یہ وہ تعلق ہے جو نظر سے پہلے دل میں اترتا ہے اور لفظوں سے پہلے احساس میں بولتا ہے۔ دوستی دراصل انسان کے اندر موجود انسانیت کو پہچان لینے کا نام ہے۔اس معاشرے میں جہاں اکثر رشتے فائدے اور ضرورت کے سہارے پنپتے ہیں، وہاں دوستی ایک ایسا نازک مگر سچا جذبہ ہے جو کسی شرط کے بغیر قبول کر لیا جاتا ہے۔ یہاں نہ لباس کی قیمت پوچھی جاتی ہے، نہ گھر کی وسعت دیکھی جاتی ہے۔ بس سامنے والے کا رویہ، اس کی نیت اور اس کا اخلاق ہی سب کچھ کہہ جاتا ہے۔ شائستگی وہ پہلا دروازہ ہے جس سے گزرے بغیر کوئی بھی دوستی کے صحن میں داخل نہیں ہو سکتا۔

    دیانتداری دوستی کی وہ بنیاد ہے جو نظر نہیں آتی مگر پوری عمارت کو سنبھالے رکھتی ہے۔ جھوٹ کے سہارے قائم ہونے والا تعلق وقتی ہو سکتا ہے، مگر دیرپا نہیں۔ سچا دوست وہ ہوتا ہے جو مشکل بات بھی سچ کے ساتھ کہہ دے، مگر انداز ایسا رکھے کہ سامنے والا ٹوٹنے کے بجائے سنبھل جائے۔ یہی دیانت رشتے کو مضبوط بناتی ہے اور اعتماد کو وقت کے تھپیڑوں سے محفوظ رکھتی ہے۔خلوص دوستی کی روح ہے۔ یہ وہ خاموش کیفیت ہے جو کسی دکھاوے کی محتاج نہیں۔ خلوص نہ بلند آواز میں بولتا ہے، نہ تعریف کا طالب ہوتا ہے۔ یہ بس موجود رہتا ہے ہر حال میں، ہر موڑ پر۔ خلوص ہی وہ قوت ہے جو دو اجنبی دلوں کو آہستہ آہستہ ایک دوسرے کا مانوس بنا دیتی ہے۔ جہاں خلوص نہ ہو، وہاں قربت بھی بے معنی لگتی ہے۔باہمی احترام کے بغیر کوئی بھی تعلق زیادہ دیر سانس نہیں لے سکتا۔ احترام وہ حد ہے جو دوستی کو بگاڑ سے بچاتی ہے۔ اختلاف رائے ہو سکتا ہے، مگر لہجے کی شائستگی، سوچ کی وسعت اور دل کی نرمی رشتے کو سلامت رکھتی ہے۔ سچا دوست وہ نہیں جو ہر بات پر متفق ہو، بلکہ وہ ہے جو اختلاف کے باوجود عزت کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑے۔

    دوستی میں عمر کبھی رکاوٹ نہیں بنتی۔ کبھی کوئی ہم سے بہت بڑا ہو کر بھی ہمارے دل کی بات سمجھ لیتا ہے، اور کبھی ہم سے چھوٹا ہو کر بھی ہمیں جینے کا ہنر سکھا دیتا ہے۔ تجربہ اور معصومیت جب ایک دوسرے کا ہاتھ تھام لیں تو دوستی کا رنگ اور گہرا ہو جاتا ہے۔ یہاں سیکھنے اور سکھانے کا سلسلہ خاموشی سے چلتا رہتا ہے۔اسی طرح دولت کی کمی یا فراوانی بھی دوستی کی راہ میں حائل نہیں ہوتی۔ امیر کا خلوص غریب کے خلوص سے کم یا زیادہ نہیں ہوتا۔ اصل فرق نیت کا ہے۔ وہ دوست جو خالی جیب کے ساتھ بھی مسکرا کر ساتھ بیٹھ جائے، اس سے قیمتی کوئی دولت نہیں۔ کیونکہ دوستی سکوں سے نہیں، سکون سے خریدی جاتی ہے۔سچی دوستی میں مقابلہ نہیں ہوتا، ساتھ چلنے کا حوصلہ ہوتا ہے۔ وہاں کامیابی پر حسد نہیں، بلکہ دل سے نکلنے والی خوشی ہوتی ہے۔ وہاں ناکامی پر طعنے نہیں، بلکہ سہارا ہوتا ہے۔ ایک اچھا دوست وہ سایہ ہے جو دھوپ میں لمبا اور اندھیرے میں قریب ہو جاتا ہے۔

    یہ رشتہ وقت کے ساتھ بدلتا ضرور ہے، مگر ختم نہیں ہوتا۔ کبھی باتیں کم ہو جاتی ہیں، کبھی ملاقاتیں، مگر دل کا رشتہ اپنی جگہ قائم رہتا ہے۔ خاموشی بھی اگر اعتماد سے بھری ہو تو دوستی کا حسن بڑھا دیتی ہے۔ دوستی کسی معیار، کسی شکل، کسی حیثیت کی پابند نہیں۔ یہ بس ایک احساس ہےصاف، سچا اور بے لوث۔ اگر شائستگی، دیانتداری، خلوص اور احترام موجود ہوں تو دوستی خود راستہ بنا لیتی ہے۔ کیونکہ اصل میں دوستی انسان کو انسان سے جوڑنے کا سب سے خوبصورت ذریعہ ہے۔

  • راز، رشتے اور احساس کی آبرو ،تحریر: حنا سرور

    راز، رشتے اور احساس کی آبرو ،تحریر: حنا سرور

    زندگی کے ہجوم میں کچھ رشتے ایسے بھی ہوتے ہیں جو ہمارے دل پر نرم تتلیوں کی طرح بیٹھتے ہیں۔ کبھی خونی نسبتوں کی صورت، کبھی دوستی اور کبھی خاموش چاہت کے روپ میں۔ مگر زمانہ اپنے قوانین پر چلتا ہے ہر رشتہ ہمیشہ کے لیے مقدر نہیں ہوتا۔ کوئی لمحہ ایسا بھی آتا ہے جب راستے بچھڑ جاتے ہیں، ہاتھ چھوٹ جاتے ہیں اور رہ جاتی ہے صرف یاد کی دھیمی خوشبو،لیکن اصل کمال وہیں سے شروع ہوتا ہے جہاں تعلق ختم ہوتا ہے۔اسی کیفیت کو ایک جملے میں یوں سمیٹا گیا ہے "اگر تعلق ختم ہونے کے بعد بھی راز اور عزت محفوظ رہے تو سمجھ جانا کسی خاندانی اور نسلی شخص سے واسطہ پڑا تھا۔”

    یہ جملہ تہذیب اور نجابت کی چادر میں لپٹا ہوا کردار کا آئینہ ہے۔اصل شرافت، بچھڑنے کے دنوں میں پہچانی جاتی ہے،ساتھ رہ کر محبت جتانا، وفا کے قصے کہنا اور احترام کے پل باندھنا کوئی فن نہیں۔ اصل فن وہ ہے کہ جب دو دلوں کے راستے جدا ہو جائیں،خوابوں کی گلیاں خالی ہو جائیں،رشتے کا سایا پیچھے رہ جائے،پھر بھی زبان وہی مٹھاس رکھے، نگاہ وہی حیا اور دل وہی پاکیزگی۔ یہ وہ مقام ہے جہاں انسان کی اصل نسل، اصل تربیت اور اصل ظرف سامنے آتا ہے۔خاندانی لوگ جو رشتوں کی قبروں پر بھی بدگمانی کے پتھر نہیں رکھتے،خاندانی ہونا نصیب کی بات نہیں، اسلوبِ زندگی کا انتخاب ہے۔ ایسے لوگ راز کو امانت سمجھ کر سینے میں دفن کر دیتے ہیں،ان کے نزدیک اعتماد ٹوٹ جانے سے اعتماد کی حرمت کم نہیں ہوتی۔ جدائی کے بعد بھی زبان کا وقار قائم رکھتے ہیں،وہ بچھڑتے ہوئے بھی بدذوق جملوں کا سہارا نہیں لیتے۔ محبت ختم ہونے پر بھی احترام کا دامن نہیں چھوڑتے،کیوں کہ ان کے نزدیک عزت دینا خود کی پرورش کی علامت ہے، دوسروں کا حق نہیں۔ دل شکستہ ہو کر بھی نیت کا دامن میلا نہیں ہونے دیتے،جو اپنے اندر کی صفائی نہ کھوئے، وہی اصل میں خاندانی ہوتا ہے۔

    جدائی انسان کی تھکن نہیں بتاتی، اس کا ظرف بتاتی ہے۔ جب کوئی شخص بچھڑ کر بھی آپ کے بارے میں کوئی تلخ لفظ نہ کہے،آپ کی کسی کمزوری کو تماشہ نہ بنائے،آپ کی خاموشیوں کو بازار میں نہ بیچے،آپ کی عزت کو اپنی شکست کا بدلہ نہ بنائے،تو سمجھ لیں کہ آپ نے ایک ایسا کردار دیکھا ہے جو اب زمانوں میں کم پیدا ہوتا ہے۔ہمیں سیکھنا چاہیے کہ رشتے ٹوٹنے سے اخلاق نہیں ٹوٹتا،محبت ختم ہونے سے تہذیب ختم نہیں ہو جانی چاہیے،بچھڑ جانا دشمنی نہیں بن جانا چاہیے،راز اگر کبھی امانت بن جائے تو قیامت تک امانت ہی رہنا چاہیے،اصل شرافت وہ ہے جو جدائی کے لمحوں میں روشن رہے۔

    اگر زندگی میں کبھی کوئی ایسا شخص ملے جو رخصت ہوتے ہوئے بھی آپ کے لیے عزت ہی چھوڑ جائے،جو خاموش ہو کر بھی آپ کی بھرم داری نبھائے،جو بچھڑ کر بھی آپ کی ساکھ کو بدنما نہ ہونے دے،تو یقین جانیے، آپ نے کسی بڑے دل، بڑے ظرف اور بڑی تربیت والے انسان کو چھوا ہے،ایسے لوگ قسمت کی بارش ہوتے ہیں،کم چھوٹتے ہیں، مگر دل پر ہمیشہ کے لیے نشان چھوڑ جاتے ہیں۔

  • آنے والا کل ہماری امید، ہماری طاقت.تحریر: رخسانہ سحر

    آنے والا کل ہماری امید، ہماری طاقت.تحریر: رخسانہ سحر

    ہمیشہ یہی سوچ کر جِئیں کہ آج سے بہتر میرا آنے والا کل ہوگا۔
    یہ جملہ صرف ایک نصیحت نہیں بلکہ زندگی گزارنے کا ایک مثبت انداز ہے۔ انسان کی سب سے بڑی طاقت اُس کا یقین ہے وہ یقین جو مشکل ترین حالات میں بھی اندر کی امید کو زندہ رکھتا ہے۔ جب ہم یہ طے کر لیتے ہیں کہ ہمارا کل آج سے بہتر ہوگا، تو دراصل ہم اپنی سوچ کو روشن سمت میں ڈال دیتے ہیں، اور یہی سوچ ہمیں آگے بڑھنے کی ہمت دیتی ہے۔

    زندگی کی دوڑ میں کبھی ہم تھک جاتے ہیں، کبھی حالات اتنے سخت ہو جاتے ہیں کہ لگتا ہے اب کچھ اچھا نہیں ہوگا۔ مگر یقین مانیے، دنیا کے ہر بڑے انسان کے پاس ایک ہی چیز مشترک تھی مثبت سوچ۔ اُنہوں نے حالات کو نہیں، اپنے اندر کے یقین کو اہمیت دی۔

    آج اگر آپ مشکل میں ہیں، ناکامی کا سامنا کر رہے ہیں، یا حالات آپ کی مرضی کے مطابق نہیں چل رہےتو ایک لمحے کے لیے رُکیں، سانس لیں، اور خود سے صرف اتنا کہہ دیں: “میرا آنے والا کل آج سے بہتر ہوگا۔”
    یہ جملہ آپ کے اندر ایک نئی توانائی بھر دے گا، آپ کے ارادے مضبوط کرے گا اور آپ کو بتائے گا کہ ابھی سب کچھ ختم نہیں ہوا۔خدا بھی اُس بندے کے ساتھ ہے جو ترقی کرنے کے عزم پر قائم رہے، چاہے حالات اُس کے خلاف ہی کیوں نہ ہوں۔یقین رکھیں، ہر نیا سورج اپنے ساتھ نئی امیدیں لے کر طلوع ہوتا ہے۔ اگر آج کا دن سخت ہے تو کل کی صبح بہتر ہوگی اور اگر کل بہتر ہوا تو پرسوں بہترین ہو جائے گا۔اصل راز یہی ہے کہ سوچ کو مثبت رکھیں، نیت کو مضبوط کریں اور محنت جاری رکھیں۔ پھر دیکھئے گا وقت کیسے آپ کی زندگی میں خوشگوار تبدیلیاں لاتا ہے۔
    اس طرح آپ کا کل بہتر سے بہترین ہوتا جائے گا۔
    زندگی کی گہماگہمی میں ایک جملہ ہمیشہ دل کو تھامے رکھتا ہے:
    ’’ہمیشہ یہی سوچ کر جِئیں کہ آج سے بہتر میرا آنے والا کل ہوگا۔‘‘
    یہ جملہ بظاہر سادہ سا لگتا ہے مگر حقیقت میں یہ انسان کی پوری زندگی کا رخ بدل دینے کی طاقت رکھتا ہے۔
    دنیا کی تاریخ اٹھا کر دیکھ لیجیے، کامیاب لوگ وہی تھے جنہوں نے حالات سے نہیں، اپنی امید سے سیکھا۔ وہ گر بھی گئے، ٹوٹے بھی، مگر ہر بار خود کو یہی تسلی دی کہ ’’اگلا لمحہ، اگلا دن، اگلا کل… آج سے بہتر ہوگا۔‘‘
    مایوسی آہستہ آہستہ انسان کے اندر کے چراغ بجھاتی ہے۔
    یہ قوتِ ارادی کم کرتی ہے اور مستقبل کا خوف بڑھاتی ہے۔
    لیکن امید اس کے بالکل برعکس ہے۔
    یہ ٹوٹی ہوئی ہمتوں کو جوڑتی ہے، سوچ کو روشن کرتی ہے، اور انسان کے اندر وہ روشنی پیدا کرتی ہے جو اندھیری راتوں میں بھی راستہ دکھا دیتی ہے۔
    کامیابی کا پہلا قدم مثبت سوچ ہے۔
    اگر آپ یہ طے کر لیں کہ ’’میرا آنے والا کل آج سے بہتر ہوگا‘‘ تو آپ کی ہر کوشش خودبخود اسی سمت میں چل پڑے گی۔
    سوچ جب روشن ہوتی ہے تو راستے خود بخود کھلنے لگتے ہیں۔
    اگر آج ناکامی ملی ہے تو کل کامیابی کا دروازہ کھل سکتا ہے۔
    اگر آج راستہ مشکل ہے تو کل کوئی نیا موقع مل سکتا ہے۔
    اگر آج کوئی آپ کو نہیں سمجھ رہا تو کل حالات بدل سکتے ہیں۔
    اصل بات حوصلہ رکھنے کی ہے۔
    خدا فرماتا ہے:
    "میں اپنے بندے کے گمان کے مطابق ہوتا ہوں۔”
    یعنی جو نیت لے کر انسان آگے بڑھتا ہے، خدا اُس کے ساتھ ویسی ہی مدد کرتا ہے۔
    اگر آپ یقین رکھیں کہ آپ کا مستقبل بہتر ہونے والا ہے تو اللہ آپ کے لیے وہی راستے ہموار کرتا ہے۔
    بس شرط یہ ہے کہ نیت صاف ہو، اور محنت سچی۔
    یہ کائنات ہمیں ایک سبق دیتی ہے:
    رات جتنی بھی لمبی ہو، آخر سورج ضرور طلوع ہوتا ہے۔
    اسی طرح زندگی کا ہر مشکل مرحلہ ایک نہ ایک دن ختم ہو جاتا ہے۔
    بس انسان کو ٹوٹ کر بیٹھ جانے کے بجائے خود کو سنبھالنا ہوتا ہے۔
    آج اگر حالات سخت ہیں تو کل نرم ہوں گے۔
    آج اگر تاریکیاں زیادہ ہیں تو کل روشنی ضرور آئے گی۔
    اور یہی یقین انسان کو زندہ رکھتا ہے۔
    آپ بس اپنا مقصد واضح کرنے، محنت کرنے اور مثبت سوچ رکھنے کا عزم کریں۔
    وقت وہی لوگوں کا ساتھ دیتا ہے جو خود کا ساتھ نہیں چھوڑتے۔
    یقین کیجیے
    اگر آپ آج یہ فیصلہ کر لیں کہ ’’میرا آنے والا کل بہتر ہوگا‘‘ تو واقعی آپ کا کل بہتر سے بہترین ہوتا جائے گا۔

  • دل کی مسافتیں اور خواہش کی شکست،تحریر:نور فاطمہ

    دل کی مسافتیں اور خواہش کی شکست،تحریر:نور فاطمہ

    زندگی کی راہوں میں انسان اکثر ایسی جیتیں سمیٹتا چلا جاتا ہے جن پر دنیا رشک کرتی ہے۔ کبھی یہ جیت شہرت کی صورت ہوتی ہے، کبھی مرتبے کی، کبھی دولت اور اختیار کی۔ مگر انسان کی فطرت کا سب سے نازک گوشہ ایک ایسی حقیقت سے ہمیشہ بے بس رہتا ہے جسے چند الفاظ میں یوں سمیٹا گیا ہے،”آپ چاہے ساری دنیا سے جیت جائیں، مگر من پسند شخص کو خود سے خوش کرنے میں آپ ہمیشہ ہار جاتے ہیں۔”

    یہ جملہ محض ایک خیال نہیں بلکہ انسانی جذبات کے تہہ در تہہ سچ کی آہٹ ہے۔دنیا کی فتح میں عقل، تدبیر اور محنت ساتھ دیتی ہے،مگر دلوں کی سرزمین پر قدم رکھتے ہی انسان اپنی سب تدبیریں ہار جاتا ہے۔یہاں اصول بدل جاتے ہیں، دل کے پیمانے دنیا کے پیمانوں سے مختلف ہو جاتے ہیں،اور وہ انسان جو زمانے کو قائل کر لیتا ہے،اکثر ایک دل کو راضی کرنے میں ناکام رہتا ہے۔انسان دل کا اسیر کیوں ہے؟. دل کی خوشی کسی اختیار کی مرہونِ منت نہیں ہوتی،محبت کے چراغ زبردستی نہیں جلائے جاتے۔جسے دل میں جگہ نہ ہو، اسے ہزار کوششوں سے بھی راضی نہیں کیا جا سکتا۔ جذبات یکطرفہ ہوں تو سارا پیمانہ بگڑ جاتا ہے.محبت کا ظرف وسیع ہے،مگر قبولیت کا ظرف اکثر نہایت تنگ۔آپ چاہیں تو اپنی ہستی فنا کر دیں،مگر جس دل پر دروازہ ہی بند ہو،وہ اس قربانی کو دیکھ بھی نہیں پاتا۔

    انسان کامل نہیں، محبتیں بھی آزمائشیں رکھتی ہیں،کبھی آپ کی کمی رہ جاتی ہے،کبھی اس کی توقعات حد سے بڑھ جاتی ہیں۔یوں تعلق ایک ایسے مقام پر آ کھڑا ہوتا ہے،جہاں ہر کوشش رائیگاں محسوس ہوتی ہے۔دل کی دنیا میں ہار بھی اکثر جیت کا روپ رکھتی ہے۔وہ جیت جو انسان کو اپنے بارے میں کچھ اور سکھا دیتی ہے،صبر، اخلاص اور خاموش محبت کا ہنر۔جس شخص کو راضی کرنے میں آپ ناکام رہے وہ شاید آپ کی تقدیر میں "خوشی” کے لیے نہیں بلکہ”سمجھ” کے لیے لکھا گیا تھا۔اصل جیت اس میں نہیں کہ کوئی شخص آپ کی محبت قبول کر لے،اصل جیت اس میں ہے کہ آپ کا دل محبت کے سچے اظہار سے غافل نہ ہوا ہو۔دنیا کی کامیابیاں وقت کے ساتھ ماند پڑ جاتی ہیں،مگر وہ محبتیں جو پوری نہ ہو سکیں اکثر دل کے سب سے روشن گوشوں میں جگہ بنا لیتی ہیں۔

    زندگی کا سفر ہمیں بتاتا ہے کہ دل کی فتح ہمیشہ انسان کے بس میں نہیں ہوتی۔کچھ دل ہماری تڑپ کے باوجود بھی ہماری پہنچ سے دور رہتے ہیں لیکن یاد رہے،دنیا کی جیتیں انسان کی شہرت بڑھاتی ہیں،مگر دل کی ہاریں اس کی روح کو گہرا کر جاتی ہیں۔کچھ لوگ نصیب میں لمحہ بن کر آتے ہیں،اور کچھ اثر بن کر ہمیشہ کے لیے دل میں ٹھہر جاتے ہیں۔

  • عورت کمزور نہیں،تحریر:نور فاطمہ

    عورت کمزور نہیں،تحریر:نور فاطمہ

    معاشرہ کسی بھی دور میں دو طبقات کی بنیاد پر تولا جاتا ہے،اپنے بچوں کے مستقبل کے حوالے سے، اور اپنی عورتوں کے حال کے حوالے سے۔ جس معاشرے میں عورت خوف کے سائے میں زندگی گزارے، وہاں ترقی کے خواب کاغذوں میں تو بنتے ہیں، مگر حقیقت میں کبھی جڑ نہیں پکڑتے۔عورت کمزور نہیں ہوتی؛ یہ حقیقت ہماری تاریخ، ثقافت اور روزمرہ زندگی کے ہر باب میں لکھی ہوئی ہے۔ البتہ یہ بھی سچ ہے کہ وہ اکثر خاموش رہ جاتی ہےاور یہی خاموشی سب سے بڑا المیہ ہے۔عورت کی چپ اکثر وہ احتجاج ہے جسے سننے کے لیے ہمارے پاس نہ وقت ہوتا ہے، نہ توجہ، اور نہ ارادہ۔ وہ اپنے دکھ کے ساتھ جیتی ہے، اپنے زخم چھپاتی ہے، اور ایک ایسے نظام کا حصہ بن کر رہتی ہے جو اسے بولنے بھی نہیں دیتا، اور چپ رہنے پر بھی قصوروار ٹھہراتا ہے۔

    ہم نے صدیوں سے یہ تاثر پالا ہوا ہے کہ تشدد کا مطلب صرف جسم پر نشان چھوڑ دینا ہے۔ مگر وہ تشدد جو نظر نہیں آتا، زیادہ گہرا، زیادہ مستقل اور زیادہ تباہ کن ہوتا ہے۔تلخ الفاظ، طنزیہ جملے، بے توقیری کے طعنے، یہ سب دل پر ایسے نقش چھوڑتے ہیں جنہیں کوئی مرہم نہیں بھر سکتا۔کسی عورت کو اس کے خواب پورے کرنے سے روک دینا، اس کے فیصلے بے حیثیت سمجھنا، اس کی آزادی کو مشروط کر دینا،یہ تشدد کی وہ صورتیں ہیں جنہیں ہمارا معاشرہ معمول سمجھ کر قبول کیے بیٹھا ہے۔اور شاید سب سے خطرناک تشدد وہ ہے جس میں عورت کو خاموش رہنا سکھا دیا جاتا ہے۔ وہ اپنے خوف کو تقدیر سمجھنے لگتی ہے، اور اپنے دکھ کو زندگی کا لازمی حصہ۔ اس خاموشی کی قیمت صرف وہ نہیں چکاتی، بلکہ پورا سماج چکاتا ہے،پست ذہنیت، عدم تحفظ اور بے حسی کی صورت میں۔

    یہ حقیقت باربار دہرائی جانی چاہیے کہ عورت کی عزت کسی کردار، کسی رشتے یا کسی ذمہ داری کی مرہونِ منت نہیں۔ وہ احترام کی حقدار ہے کیونکہ وہ ایک مکمل انسان ہے۔ہماری تہذیب، ہمارا مذہب اور ہماری معاشرتی اقدار سب اس امر پر متفق ہیں کہ عورت کا وقار اس کے وجود سے وابستہ ہے،نہ کہ اس کردار سے جو اسے معاشرہ دیتا ہے۔مگر سوال یہ ہے کہ کیا ہم واقعی عورت کے اس حق کو پہچانتے بھی ہیں یا صرف کتابوں اور تقریروں میں اس کا ذکر کر کے خود کو مطمئن کر لیتے ہیں؟معاشرے کو بدلنے کا آغاز گھر سے کریں،اصلاح کی راہ کسی بڑے نعرے سے نہیں، چھوٹے رویّوں سے شروع ہوتی ہے۔ ایک باپ اپنی بیٹی کو اعتماد دے، ایک شوہر اپنی بیوی کی رائے کو اہمیت دے، ایک بھائی اپنی بہن کے خوابوں کا احترام کرے،یہی وہ چھوٹے قدم ہیں جو ایک بڑے معاشرتی انقلاب کا پیش خیمہ بنتے ہیں۔

    یہ سوچ بدلنا ہوگی کہ عورت کی آواز بلند ہونا بغاوت ہے؛حقیقت یہ ہے کہ عورت کی آواز دبانا ظلم ہے۔عورت کے لیے محفوظ ماحول مہیا کرنا ہوگا، نہ صرف گھر میں بلکہ معاشرے کے ہر دائرے میں۔اسے تعلیم، رائے اور فیصلے کا حق دینا ہوگا۔اس کے جذبات کو کمزوری نہیں، اس کی طاقت سمجھنا ہوگا۔اور سب سے بڑھ کر ہمیں اس کی خاموشی کو پہچاننا ہوگا، کیونکہ اکثر وہیں سب سے بڑی کہانی چھپی ہوتی ہے۔

    عورت کمزور نہیں، مگر وہ تھک جاتی ہے۔اس کی برداشت لامحدود ضرور ہے، مگر اس کی خاموشی صدیوں کی روایت نہیں ہونی چاہیے۔وقت آ گیا ہے کہ ہم اس کے اندر چھپی اس اذیت، اس بے بسی، اور اس خاموش احتجاج کو سنیں۔معاشرہ تب تک متوازن نہیں ہو سکتا جب تک عورت اپنی زندگی وقار، آزادی اور تحفظ کے ساتھ نہ گزار سکے۔
    ہمیں فیصلہ کرنا ہوگا کہ ہم اسے چپ کروانے والے معاشرے میں رہنا چاہتے ہیں،یا ایسا سماج چاہتے ہیں جہاں عورت کی آواز کو دبایا نہیں جاتا، سنا جاتا ہے۔

  • عورت اور حسد ،تحریر:نور فاطمہ

    عورت اور حسد ،تحریر:نور فاطمہ

    زندگی کی راہوں میں ہر عورت کبھی نہ کبھی ایسی کیفیت سے گزرتی ہے جب اسے لگتا ہے کہ شاید دوسروں کے پاس زیادہ خوشیاں، زیادہ سہولتیں یا زیادہ کامیابیاں ہیں۔ چاہے وہ گھر کی ساس بہو کا ماحول ہو، بہنوں کے درمیان مقابلہ ہو، یا آج کے دور میں سوشل میڈیا کا دباؤ،ہر جگہ ایک بےچینی سی جنم لیتی ہے جسے ہم “حسد” کہتے ہیں۔لیکن حقیقت یہ ہے کہ حسد دل کو جلاتا ہے، مگر کسی کو فائدہ نہیں پہنچاتا۔ نہ اسے نعمتیں واپس ملتی ہیں، نہ سکون، نہ عزت، بلکہ الٹا انسان اپنی اصل صلاحیتوں سے دور ہوتا چلا جاتا ہے۔

    حسد کیوں پیدا ہوتا ہے، خود کو کم تر محسوس کرنا،جب ہم خود کو دوسروں کے مقابلے میں کمزور یا ناکام سمجھنے لگتے ہیں تو دل میں ایک تشویش جنم لیتی ہے اور پھر حسد اس کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔آج ہر کوئی اپنی بہترین تصویر دکھا رہا ہے۔ فیس بک اور انسٹاگرام پر دوسری عورتوں کی خوبصورت تصویریں، کامیابیاں اور خوشگوار زندگیاں دیکھ کر اکثر خواتین خود کو کمتر سمجھنے لگتی ہیں۔دیکھو فلاں کی بیٹی کتنی کامیاب ہے، تم بھی کچھ کرو،اس قسم کے جملے عورت کے دل میں دوسروں کے خلاف بےچینی پیدا کرتے ہیں۔جب انسان اپنی موجود نعمتوں پر توجہ نہیں دیتا، تو دوسروں کی نعمتیں بڑی اور اپنی بہت چھوٹی لگنے لگتی ہیں۔بظاہر تو حسد دوسرے کے بارے میں ہوتا ہے، لیکن اصل نقصان حسد کرنے والے کو پہنچتا ہے، ذہنی سکون ختم ہو جاتا ہے،حسود شخص کبھی خوش نہیں رہتا، اسے ہمیشہ لگتا ہے کہ دنیا اس سے آگے بڑھ رہی ہے۔ عبادت اور دعا کا مزہ ختم ہوجاتا ہے کیونکہ دل میں نفرت اور بےچینی ہو تو اللہ کی قربت محسوس نہیں ہوتی۔ رشتے خراب ہونے لگتے ہیں،حسد آہستہ آہستہ رویے کو سخت بنا دیتا ہے، باتوں میں تلخی آجاتی ہے، اور یوں پیار بھرے رشتے متاثر ہوتے ہیں۔جو لوگ حسد میں مبتلا رہتے ہیں، ان کے ہاتھ کی برکت کھینچ لی جاتی ہے۔ جو کچھ اللہ نے دیا ہوتا ہے، وہ بھی بےسکونی میں ضائع ہونے لگتا ہے۔

    انسان چاہے کتنی بھی کوشش کر لے، کامیابی تبھی ملتی ہے جب اللہ چاہے۔اس دنیا میں کوئی کم محنت کرکے بھی زیادہ پا لیتا ہے،کوئی بہت کوشش کے باوجود تھوڑا حاصل کرتا ہے،کوئی دیر سے کامیاب ہوتا ہے،اور کسی کو بہت جلد عزت مل جاتی ہے۔یہ سب اللہ کی تقسیم ہے۔لہٰذا حسد کرنے کے بجائے قسمت لکھنے والے پر بھروسہ کرنا ضروری ہے۔

    عورت کے لیے بہترین راستہ، مقابلہ دوسروں سے نہیں، اپنے آپ سے ہونا چاہئے، اپنی نعمتوں پر غور کریں،ہر عورت کے پاس وہ کچھ ہوتا ہے جو کسی اور کے پاس نہیں۔ کبھی صرف بیٹھ کر اپنی نعمتوں کی فہرست بنائیں۔ اپنے مقصد پر توجہ دیں،دوسروں کے کام چھوڑیں، اپنی زندگی کے مقصد کو بہتر بنانے پر فوکس کریں۔ دعا اور شکر کرنا اپنا معمول بنائیں،جو چیز شکر سے بڑھتی ہے، وہ حسد سے ختم ہو جاتی ہے۔ دوسروں کے لیے بھلائی چاہیں،جو لوگ دوسروں کے لیے خیر چاہتے ہیں، اللہ ان کی قسمت سے بھلائیاں بڑھا دیتا ہے۔

    حسد کی جگہ محبت لے آئے تو زندگی بدل جاتی ہے،اگر عورت اپنے دل سے حسد نکال دے توچہرے پر سکون اتر آتا ہے، رشتوں میں محبت بڑھ جاتی ہے،اللہ کی مدد شاملِ حال ہوجاتی ہے،گھر میں خوشیاں بڑھتی ہیں کیونکہ اللہ پاک دلوں کو پسند کرتا ہے۔ بلندیاں حسد سے نہیں، صبر، محنت اور دعا سے ملتی ہیں،دنیا کی ہر کامیابی کا اصل ذریعہ اللہ کی ذات ہے،انسان صرف کوشش کرتا ہے، دروازے اللہ کھولتا ہے لہٰذا حسد چھوڑ دیں، اللہ پر بھروسہ کریں، اپنی محنت جاری رکھیں اور یقین رکھیں کہ جو آپ کا نصیب ہے، وہ کوئی نہیں چھین سکتا۔

  • عورت، فطرت کا نازک سہارا ،تحریر:نور فاطمہ

    عورت، فطرت کا نازک سہارا ،تحریر:نور فاطمہ

    کائنات کے وسیع و عریض صحرا میں، جہاں سخت چٹانیں بھی موجود ہیں اور نرم ریت بھی، فطرت نے چند چیزوں کو خاص مہربانی کے ساتھ تراشا ہے۔ ان میں سے ایک عورت ہے،جس کی نرمی میں طاقت ہے،جس کی نزاکت میں وقار ہے،اور جس کی خاموشی میں پوری کائنات کی گونج چھپی ہے۔عورت، گویا کسی شاعر کے دل سے پھوٹا ہوا نغمہ ہو، جسے ہوائیں بھی ذرا آہستہ چھوتی ہیں، اور روشنی بھی دبے قدموں اترتی ہے۔

    عورت نازک ہے، مگر یہ نازکی اس کے وجود کی کمزوری نہیں، اس کی نفاست کا وہ روپ ہے جسے قدرت نے بڑی محبت سے چنا ہے۔وہ پھول کی مانند ہےجو نرم ضرور ہوتا ہے،لیکن خوشبو کی صورت دلوں کو فتح کرنے کی طاقت رکھتا ہے۔وہ دل کا چراغ ہے،جو ذرا سے جھونکے میں لرز بھی جاتا ہے،اور اسی لرزش میں گھر بھر کی روشنی بھی چھپی ہوتی ہے۔عورت کی قیمت اس کے وجود سے ہے،دنیا کی ہر قیمتی شے نرم، نازک اور دلکش ہوتی ہے۔مگر عورت کی قیمت محض حسن میں نہیں،وہ اس کے کردار کی وسعت،اس کی محبت کی گہرائی،
    اور اس کی برداشت کی بلندی میں ہے۔وہ ماں بن کر محبت کا سمندر بانٹتی ہے،بیٹی بن کر گھر کی رونق کا چراغ بنتی ہے،بہن بن کر وفا کی ڈھال ہوتی ہے،اور بیوی بن کر ایک مرد کی دنیا کو سکون کا گھر بنا دیتی ہے۔ایسی ہستی کمزور نہیں ہوتی،وہ پورے گھر کی بنیاد ہوتی ہے۔

    قدرت نے مرد کے کندھوں پر عورت کی حفاظت کا فریضہ رکھا ہے،یہ فریضہ کوئی تخت نہیں، ایک امانت ہے۔محافظ ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ مرد حکم چلائے،بلکہ یہ کہ وہ عورت کے احساسات کا سپاہی بنے،اس کی عزت کا نگہبان ہو،اور اس کے اعتماد کا پاسبان،طاقت اس وقت تک طاقت نہیں بنتی جب تک وہ کسی کی حفاظت کا وسیلہ نہ بنے۔اگر یہ قیمتی نعمت آپ کے نصیب میں آ جائے،اگر زندگی نے آپ کے دامن میں عورت کی صورت میں ایک ہمسفر رکھ دیا ہے تو سمجھ لیجیے کہ قسمت نے آپ پر مہربانی کی ہے۔یہ وہ نعمت ہے جو الفاظ میں بیان نہیں ہو سکتی،یہ وہ خوشبو ہے جو دل کے چاروں گوشوں کو مہکا دیتی ہے۔لہٰذا اس کی مسکراہٹ کی قیمت پہچانیے،اس کی خاموشیوں کی زبان سمجھئے،اس کے خوابوں کو سہارا دیجئے،اس کے خوفوں کی چھاؤں بنیے،اور اس کے نازک دل کو اپنی طاقت سے امن دیجئے،یہی وہ "حفاظت” ہے جس کا حق عورت رکھتی ہے اور جس کا امتحان مرد پر لازم ہے۔

    عورت ایک پھول نہیں، ایک باغ ہے۔وہ ایک نغمہ نہیں، پوری غزل ہے۔وہ نازک ضرور ہے، مگر اس نرمی میں دنیا کو سنوار دینے کی قدرت ہے۔اس کی حفاظت کیجیےکیونکہ حفاظت اس کی ضرورت نہیں،اس کی قدر کا ثبوت ہے.

  • سر میں خشکی،تیل مفید ہے یا نہیں؟ماہرین کی رائے

    سر میں خشکی،تیل مفید ہے یا نہیں؟ماہرین کی رائے

    دنیا بھر میں سب سے عام مگر پریشان کن مسئلوں میں سے ایک “خشکی” یا “ڈینڈرف” ہے، وہ سفید ذرات جو کندھوں پر گر کر شرمندگی کا باعث بنتے ہیں۔ بعض لوگوں کے لیے یہ وقتی مسئلہ ہوتا ہے، جبکہ کئی افراد کے لیے یہ برسوں جاری رہنے والی کیفیت بن جاتی ہے جس پر کوئی بھی “اینٹی ڈینڈرف شیمپو” کارگر ثابت نہیں ہوتا۔

    ماہرینِ امراضِ جلد کے مطابق خشکی صرف صفائی یا بالوں کی خشکی کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک طبی حالت ہے جس کے کئی اسباب ہیں۔ طبّی زبان میں اسے Seborrheic Dermatitis یا ہلکے درجے میں Pityriasis Capitis کہا جاتا ہے۔ جرنل آف کلینیکل اینڈ انویسٹی گیٹو ڈرمیٹولوجی (2019) کے مطابق، دنیا کی بالغ آبادی میں سے تقریباً 50 فیصد افراد کسی نہ کسی درجے کی خشکی کا شکار ہیں۔بھارت اور برصغیر کے دیگر ممالک میں جہاں نمی، آلودگی اور بالوں میں تیل لگانے کا رواج عام ہے، وہاں ماہرین کہتے ہیں کہ خشکی عموماً سردیوں اور برسات کے بعد کے مہینوں میں بڑھ جاتی ہے۔عام تاثر کے برعکس خشکی کا تعلق “میل کچیل” یا صفائی کی کمی سے نہیں ہے۔یہ ایک خوردبینی فنگس Malassezia globosa کی زیادتی سے پیدا ہوتی ہے، جو سر کی جلد کے قدرتی تیل (Sebum) پر پرورش پاتی ہے۔یہ فنگس ان تیلوں کو توڑ کر Oleic Acid پیدا کرتی ہے جو بعض افراد کی جلد کو جلا دیتا ہے، نتیجتاً خارش، سرخی اور سفید ذرات پیدا ہوتے ہیں۔

    ماہرین کے مطابق خشکی اچانک نہیں آتی۔ذہنی دباؤ (Stress) اور ہارمونل تبدیلیاں تیل کی پیداوار بڑھا دیتی ہیں، جو فنگس کے لیے سازگار ماحول فراہم کرتی ہے۔اسی وجہ سے نوجوانوں اور بلوغت کے دوران یہ مسئلہ زیادہ عام ہے۔سرد، خشک موسم سر کی جلد کو ڈی ہائیڈریٹ کر دیتا ہے جبکہ گرم، مرطوب موسم میں پسینہ اور تیل دونوں بڑھ جاتے ہیں، جس سے فنگس تیزی سے پھیلتی ہے۔تحقیقات سے پتا چلا ہے کہ مرطوب یا آلودہ شہری علاقوں میں رہنے والے افراد کو مستقل خشکی زیادہ ہوتی ہے۔

    بھارت اور پاکستان میں بالوں میں تیل لگانے کی روایت صدیوں پرانی ہے، مگر ماہرین کے مطابق یہ ہر کسی کے لیے مفید نہیں۔بھاری تیل جیسے ناریل یا سرسوں کا تیل اگر خشکی والے سر پر لگایا جائے تو یہ فنگس کو خوراک فراہم کرتا ہے، جس سے خارش اور سوزش بڑھ جاتی ہے۔ ایسے افراد کو چاہیے کہ وہ ہلکے وزن والے، دوائی دار یا اینٹی فنگل تیل،سیریم استعمال کریں اور رات بھر تیل لگا کر نہ چھوڑیں کیونکہ یہ گرمی اور نمی کو بند کر کے فنگس کو بڑھاتا ہے۔

    جرنل آف کاسمیٹک ڈرمیٹولوجی (2022) کے مطابق، دو مختلف اجزاء والے شیمپوؤں کو باری باری استعمال کرنے سے فنگس مزاحمت نہیں کرتی اور بہتر نتائج ملتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق علاج میں تسلسل ضروری ہے۔اکثر دوائی دار شیمپوؤں کو 4 تا 6 ہفتے تک ہفتے میں 2-3 مرتبہ استعمال کرنا پڑتا ہے تاکہ نمایاں بہتری آئے۔

    حالیہ تحقیق کے مطابق، خشکی کا تعلق صرف بیرونی عوامل سے نہیں بلکہ جسم کے اندرونی توازن سے بھی ہے۔Frontiers in Microbiology (2020) میں شائع شدہ تحقیق کے مطابق، جن افراد کو دائمی خشکی ہوتی ہے، ان کے آنتوں کے بیکٹیریا میں تنوع کم اور جسم میں سوزش کے آثار زیادہ پائے گئے۔ ذہنی دباؤ پر قابو پانا بھی ضروری ہے۔ یوگا، ورزش اور نیند کی کمی دور کرنے سے ہارمونل توازن بہتر ہوتا ہے۔

    اگر خشکی کے ساتھ سرخی کانوں، بھنوؤں یا سینے تک پھیل جائے تو یہ عام خشکی نہیں بلکہ Seborrheic Dermatitis ہو سکتا ہے۔اسی طرح اگر موٹی تہیں یا شدید خارش ہو تو یہ Psoriasis یا Eczema کی علامت بھی ہو سکتی ہے، جس کے لیے خود علاج کے بجائے ماہرِ جلد سے رجوع کرنا ضروری ہے۔ گھریلو ٹوٹکوں پر اندھا دھند انحصار، یا ضرورت سے زیادہ تیل لگانا فائدے کے بجائے نقصان دیتا ہے۔

  • اک یادگار ملاقات،تحریر:نور فاطمہ

    اک یادگار ملاقات،تحریر:نور فاطمہ

    زندگی کے طویل اور بے سمت سفر میں کبھی کبھار کچھ لمحے ایسے اترتے ہیں جیسے خزاں رسیدہ دنوں میں اچانک بہار کی ایک نرم جھونک آ جائے۔ یہ لمحے وقت کے دامن پر جگنوؤں کی طرح چمکتے رہتے ہیں ، نہ مٹنے والے، نہ بھلانے والے، انہی نایاب لمحوں میں سے ایک لمحہ اُس روز رقم ہوا جب ننکانہ صاحب کی محترمہ رفعت کھرل اپنی دوست کے ہمراہ لاہور آئیں،ان کی آمد گویا شہرِ ادب کے موسم میں تازگی کا نیا رنگ بھر گئی،رفعت کھر کی شخصیت پہلی ہی نگاہ میں دل پر ایک خوشگوار تاثر چھوڑ جاتی ہے، وہ گفتگو کرتی ہیں تو لگتا ہے جیسے لفظ خوشبو بن کر فضا میں تحلیل ہو رہے ہوں، ہر جملے میں سلیقہ، ہر مسکراہٹ میں شائستگی، اور ہر نظر میں ایک نرم روشنی ، جیسے ادب نے انسان کی صورت اختیار کر لی ہو،ان کے ہمراہ ان کی ایک مخلص دوست بھی تھیں، جن کے لبوں پر خلوص اور آنکھوں میں اپنائیت کی چمک تھی۔ وہ دونوں جب محفل میں آئیں تو فضا بدل گئی۔ باتوں کا سلسلہ یوں چلا جیسے پرانے دوست برسوں بعد ملے ہوں۔ ابتدا رسمی گفتگو سے ہوئی، مگر جلد ہی دلوں کے در وا ہونے لگے، اور موضوعات ادب، محبت اور زندگی کے مختلف رنگوں پر جا پہنچے۔

    رفعت کھرل کا لہجہ نرمی سے بھرا ہوا تھا، مگر اس نرمی میں وہ اعتماد بھی شامل تھا جو صرف اُن لوگوں میں ہوتا ہے جو دل سے لکھتے ہیں اور دل سے جیتے ہیں،ان کی باتوں میں سچائی کی وہ خوشبو تھی جو دکھاوا نہیں کرتی،رفعت کھرل صرف لکھنے والی نہیں، محسوس کرنے والی روح ہیں۔ ان کے اندازِ بیان میں وہ سلیقہ ہے جو محبت کو مروّت میں ڈھال دیتا ہے، اور ان کے چہرے کی روشنی سے اندازہ ہوتا ہے کہ لفظ جب دل سے نکلیں تو چہرے پر ان کا عکس لازماً جھلکتا ہے۔یہ ملاقات محض چند ساعتوں کی تھی، مگر دلوں کی قربت نے اسے یادگار بنا دیا۔ گفتگو کے موضوعات ادب سے نکل کر احساسات تک جا پہنچے، اور ہر جملہ ایک خوشبو کی طرح فضا میں گھلتا چلا گیا۔ وقت کے لمحے تھم سے گئے، اور یوں لگا جیسے یہ نشست ختم نہ ہو ، یہ رفاقت اپنی طوالت خود لکھ رہی ہو۔

    دوستی کے باب میں یہ ایک نئی تحریر کا پہلا حرف تھا ، وہ حرف جو وقت کی کتاب پر ہمیشہ روشن رہے گا،
    کچھ رشتے نصیب سے ملتے ہیں، اور کچھ دل کے خلوص سے، رفعت کھرل جیسی باوقار، خوش مزاج اور سراپا محبت شخصیت سے ملاقات نے یہ یقین پختہ کر دیا کہ ادب دراصل انسانیت کا دوسرا نام ہے،یہ تعلق اب لفظوں سے بڑھ کر ایک احساس بن چکا ہے ، اور یہی احساس ہر ملاقات کے بعد دل میں ایک نرم سی روشنی چھوڑ جاتا ہے۔

  • حنا سرور ، سچ کی راہ پر چلنے والی ایک جری آواز.تحریر:نور ملک

    حنا سرور ، سچ کی راہ پر چلنے والی ایک جری آواز.تحریر:نور ملک

    آج کے دورِ انتشار میں، جب حق بولنا جرم اور سچ لکھنا گناہ سمجھا جانے لگا ہے، ایسے میں کچھ لوگ ہیں جو ہر مخالفت، ہر طعن و تشنیع کے باوجود قلم کو خاموش نہیں ہونے دیتے۔ انہی سچائی کے علمبرداروں میں ایک نمایاں نام ہے حنا سرور کا ، جو نہ صرف ایک معروف لکھاری بلکہ ایک جری سوشل میڈیا ایکٹوسٹ بھی ہیں۔حنا سرور نے ہمیشہ اپنی تحریروں اور خیالات کے ذریعے حق و سچ کا ساتھ دیا۔ وہ موضوعات جن پر اکثر لوگ لب کشائی سے ڈرتے ہیں، حنا سرور نے نہ صرف ان پر بات کی بلکہ دلائل کے ساتھ اپنے مؤقف کو اجاگر کیا۔ یہی ان کی سچائی اور بےباکی ہے جو بعض حلقوں کے لیے ناقابلِ برداشت بن جاتی ہے۔

    تنقید، الزامات اور کردار کشی ، یہ سب وہ حربے ہیں جو ہمیشہ ان لوگوں کے خلاف استعمال کیے گئے جو سچ بولنے سے نہیں گھبراتے۔ لیکن حقیقت یہی ہے کہ جب مخالفین کے پاس دلائل ختم ہو جاتے ہیں تو وہ الزام تراشی پر اتر آتے ہیں۔ حنا سرور پر کی جانے والی تنقید دراصل اس بات کا اعتراف ہے کہ ان کی آواز اثر رکھتی ہے، ان کا قلم سچ لکھتا ہے، اور ان کے الفاظ لوگوں کے دلوں تک پہنچتے ہیں۔سوشل میڈیا پر جو لوگ محض گالم گلوچ کے ذریعے اپنی موجودگی ظاہر کرتے ہیں، وہ دراصل اپنے اندر کی تربیت اور کمزور دلائل کا ثبوت دیتے ہیں۔ حنا سرور کے خلاف استعمال ہونے والی ایسی زبان اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ ان کے ناقدین کے پاس نہ دلیل ہے، نہ اخلاق،حنا سرور کا قلم صرف ایک شخصی آواز نہیں، بلکہ پاکستان کے مفاد، استحکام اور خودمختاری کا ترجمان ہے،انہوں نے ہمیشہ ملکی مفادات کو مقدم رکھا، چاہے بات قومی سلامتی کی ہو یا معاشرتی اصلاح کی، ان کی تحریروں میں ایک درد بھی ہے اور ایک عزم بھی، درد اس وطن کے حالات کا، اور عزم اس کے بہتر مستقبل کا ،حنا سرور کا نظریہ ہمیشہ سے استحکامِ پاکستان کے گرد گھومتا ہے،وہ کسی سیاسی جماعت یا ذاتی مفاد کے لیے نہیں بلکہ ریاستِ پاکستان کے لیے لکھتی ہیں،ان کے مضامین میں حب الوطنی کی خوشبو، فکری گہرائی، اور سماجی آگاہی کی جھلک نمایاں ہے۔انہوں نے ہمیشہ یہ پیغام دیا کہ اختلافِ رائے ضرور کرو، مگر ملکی مفاد پر سمجھوتہ مت کرو،حنا سرور کی تحریریں نوجوان نسل کو شعور دیتی ہیں کہ سوشل میڈیا صرف شور مچانے کا پلیٹ فارم نہیں بلکہ فکر پھیلانے کا ذریعہ بھی ہے،وہ لوگوں کو بتاتی ہیں کہ محبِ وطن ہونا صرف نعرے لگانے سے نہیں بلکہ اپنے عمل اور کردار سے ثابت کرنا ہوتا ہے

    آج جب دشمن عناصر اپنے ایجنڈے کے تحت پاکستان کے نظریاتی اور سماجی ڈھانچے کو نقصان پہنچانے کی کوشش میں ہیں، ایسے میں حنا سرور جیسے لوگ امید کی کرن ہیں۔ وہ ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ قلم اگر سچ لکھے، تو وہ سب سے بڑی مزاحمت بن جاتا ہے۔ ان کے قلم سے نکلا ہر لفظ پاکستان کی سلامتی، وقار اور فکری آزادی کے لیے ہے۔اور یہی وہ چیز ہے جو ان کے مخالفین کو برداشت نہیں۔