Baaghi TV

Category: خواتین

  • بیٹیاں آخر کہاں محفوظ ہیں؟تحریر:شمسہ رانی

    بیٹیاں آخر کہاں محفوظ ہیں؟تحریر:شمسہ رانی

    ذرا اس باپ کے دل میں اتر کر دیکھیے ۔جس کی پانچ سالہ بیٹی 14 دن سے لاپتہ ہے۔ وہ گلیوں، بازاروں اور دروازوں پر اپنی بچی کا نام پکارتا پھرتا ہے ۔ہر بار یہی دعا کرتا ہے یا اللہ میری بیٹی مجھے صحیح سلامت مل جائے۔ مگر پند رہویں دن اگر وہی باپ اپنی معصوم بیٹی کو کسی کنویں سے بے جان حالت میں پائے تو اس کے دل پر کیا گزرتی ہوگی ؟ یہ سوال الفاظ سے نہیں صرف درد سے سمجھا جا سکتا ہے۔

    یہ صرف ایک بچی کا سانحہ نہیں، یہ ہمارے معاشرے کے ماتھے پر ایک ایسا سوال ہے ۔جس سے ہم نظر یں نہیں چرا سکتے ۔اخر ہماری بیٹیاں محفوظ کہاں ہیں ؟ اجنبیوں سے بچائیں تو کبھی اپنے ہی جاننے والے خوف بن کر سامنے ا جاتے ہیں۔ رشتہ دار، ہمسائے، شناسا جب اعتماد کے رشتے ہی زخم دینے لگیں تو والدین اپنی بچیوں کو کس حصار میں رکھیں۔؟
    ہم ایسے دور میں جی رہے ہیں جہاں مصنوعی ذہانت انسان کے کام سیکھ رہی ہے ۔ مگر افسوس کہ انسان خود انسان کا درد بھولتا جا رہا ہے۔ مشینوں میں ذہانت بڑھ رہی ہے اور انسانوں میں احساس کم ہوتا جا رہا ہے ۔ایک ننھی بچی کے درد کو محسوس نہ کر سکنے والا انسان اخر کس ترقی پر ناز کرے۔
    آج ہر باپ کی انکھ میں ایک ہی سوال ہے ۔( ہم اپنی بیٹیوں کو کہاں لے کر جائیں)

    اس سوال کا جواب صرف حکومت یا قانون نے نہیں ہم سب نے دینا ہے ۔ہمیں اپنے بچوں کے لیے ایسا معاشرہ بنانا ہوگا جہاں معصومیت خوف کے سائے میں نہیں تحفظ کے حصار میں پروان چڑھے۔
    بیٹی کسی ایک گھر کی ذمہ داری نہیں۔ پوری انسانیت کی امانت ہے۔ اگر ہم نے اج بھی انکھیں نہ کھولیں تو کل شاید ہمارے پاس انسو تو ہوں گے مگر معصومیت بچانے کے لیے وقت نہیں ہوگا۔

  • ربیع الاول ،  ہجرت ہمیشہ راستہ بدلنے کا نام نہیں،تحریر: زینب جہانزیب

    ربیع الاول ، ہجرت ہمیشہ راستہ بدلنے کا نام نہیں،تحریر: زینب جہانزیب

    ہم میں سے اکثر نے ہجرت کو ایک جگہ چھوڑ کر دوسری جگہ جانے کے معنی میں سمجھا ہے۔ مگر کبھی کبھی انسان اپنی جگہ پر موجود رہتے ہوئے بھی ایک بہت طویل ہجرت سے گزر رہا ہوتا ہے۔ کوئی شہر نہیں بدلتا، کوئی گھر نہیں بدلتا، کوئی راستہ بھی بظاہر وہی رہتا ہے، مگر انسان کے اندر کچھ ایسا بدل جاتا ہے کہ واپسی پھر ممکن نہیں رہتی۔

    شاید ہر انسان کی زندگی میں ایک ایسی ہجرت ضرور آتی ہے جس کا کوئی نقشہ نہیں ہوتا۔ یہ ہجرت انسان اپنے ہی اندر کرتا ہے؛ اپنی پرانی عادتوں سے، اپنی کمزوریوں سے، اپنے خوف سے، اپنی انا سے، اُن خواہشوں سے جنہیں وہ جانتا ہے کہ اب اسے اپنے ساتھ نہیں لے کر چلنا۔ہم اکثر نئی زندگی شروع کرنے کے لیے حالات بدلنے کا انتظار کرتے ہیں۔ سوچتے ہیں کہ جگہ بدل جائے تو دل بدل جائے گا، لوگ بدل جائیں تو سکون مل جائے گا، وقت بدل جائے تو ہم بھی بدل جائیں گے۔ مگر شاید اصل تبدیلی باہر کے منظر بدلنے سے نہیں آتی۔ کبھی کبھی وہ اسی جگہ کھڑے ہو کر شروع ہوتی ہے جہاں ہم سب سے زیادہ تھک چکے ہوتے ہیں۔

    ہجرت کا سب سے مشکل حصہ شاید راستہ نہیں، چھوڑنا ہے۔ کچھ چیزیں انسان جانتا ہے کہ اس کے لیے اچھی نہیں، پھر بھی انہیں چھوڑ نہیں پاتا۔ کچھ تعلقات ختم نہیں ہوتے، مگر اُن کی شکل بدل جاتی ہے۔ کچھ یادیں ساتھ رہتی ہیں، مگر اُن کا اثر آہستہ آہستہ کم کرنا پڑتا ہے۔ کچھ خواہشیں پوری نہ ہونے کے باوجود انسان کو قبول کرنا سیکھنا پڑتا ہے۔ اور کچھ ایسے خواب بھی ہوتے ہیں جنہیں چھوڑتے ہوئے انسان کو لگتا ہے جیسے وہ اپنے وجود کا ایک حصہ پیچھے چھوڑ رہا ہے۔

    لیکن شاید ہر چیز کو ساتھ لے کر آگے نہیں بڑھا جا سکتا۔ کبھی منزل تک پہنچنے کے لیے سامان کم کرنا پڑتا ہے۔
    یہ بات مجھے ہجرت کے تصور میں بہت گہری محسوس ہوتی ہے کہ سفر صرف قدموں سے نہیں ہوتا، نیت سے بھی ہوتا ہے۔ انسان ایک ہی جگہ پر رہ کر بھی اپنے اندر کی سمت بدل سکتا ہے۔ کل جس چیز کو اپنی دنیا سمجھتا تھا، آج اُس سے آگے دیکھ سکتا ہے۔ کل جس بات پر ٹوٹ جاتا تھا، آج اُسے اللہ کے سپرد کرنا سیکھ سکتا ہے۔ کل جس شخص کی رائے اُس کی پوری دنیا تھی، آج وہ اپنے دل کا سکون کسی اور جگہ تلاش کرنا شروع کر سکتا ہے۔
    اور شاید یہی اندرونی ہجرت انسان کو سب سے زیادہ آزاد کرتی ہے۔
    ہم دوسروں کو چھوڑنے کی بات بہت کرتے ہیں، مگر کبھی کبھی ہمیں اپنے اندر موجود اُس شخص کو چھوڑنا ہوتا ہے جو ہر وقت دوسروں سے منظوری چاہتا ہے، ہر بات کا جواب چاہتا ہے، ہر زخم کا حساب چاہتا ہے اور ہر تعلق سے اپنی خواہش کے مطابق نتیجہ چاہتا ہے۔

    شاید انسان کی سب سے بڑی ہجرت اُس دن شروع ہوتی ہے جب وہ یہ مان لیتا ہے کہ ہر چیز اُس کے اختیار میں نہیں۔ کچھ راستے خود چننے ہوتے ہیں، کچھ راستے قبول کرنے پڑتے ہیں، اور کچھ راستوں پر صرف اتنا کرنا ہوتا ہے کہ انسان چلتا رہے، چاہے اسے ابھی منزل دکھائی نہ دے۔
    حضور اکرم ﷺ کی سیرت میں ہجرت کا ذکر آتا ہے تو میرے لیے یہ صرف ایک تاریخی واقعہ نہیں رہتا۔ یہ مجھے اپنے اندر کی اُن جگہوں کو دیکھنے پر مجبور کرتا ہے جہاں میں ابھی تک رکی ہوئی ہوں۔ وہ خوف جنہیں میں نے اپنا مقدر سمجھ لیا ہے، وہ عادتیں جنہیں میں نے اپنی شخصیت کا نام دے دیا ہے، وہ دکھ جنہیں میں نے اپنی شناخت بنا لیا ہے۔
    شاید ہمیں کبھی کبھی خود سے پوچھنا چاہیے: میں اپنی زندگی میں کس چیز سے ہجرت کرنے سے ڈر رہی ہوں؟ کیا وہ خوف ہے؟ کیا کوئی پرانی سوچ ہے؟ کیا کوئی ایسی خواہش ہے جس نے میرے دل کو باندھ رکھا ہے؟ یا پھر میرا اپنا وہ عکس ہے جس سے میں برسوں سے واقف ہوں، مگر اب وہ مجھے آگے بڑھنے نہیں دیتا؟

    ہر ہجرت کا مطلب کسی چیز سے دور ہونا نہیں ہوتا۔ بعض ہجرتیں انسان کو اُس کے اصل کے قریب لے جاتی ہیں۔اور شاید یہی سب سے خوبصورت سفر ہے،جب انسان دنیا سے بھاگنے کے لیے نہیں، بلکہ اپنے رب کی طرف بڑھنے کے لیے اپنے اندر کے فاصلے کم کرنا شروع کر دے۔

    تب راستے وہی رہتے ہیں، شہر وہی رہتے ہیں، لوگ وہی رہتے ہیں، مگر مسافر بدل جاتا ہے۔
    اور شاید زندگی کی سب سے بڑی ہجرت بھی یہی ہے کہ انسان وہی رہتے ہوئے وہ نہ رہے جو پہلے تھا۔

  • میلا د مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم نور ہدایت اور آج کا معاشرہ،تحریر:شمسہ رانی

    میلا د مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم نور ہدایت اور آج کا معاشرہ،تحریر:شمسہ رانی

    وہ دور جب ہر طرف جہالت کے اندھیرے چھائے ہوئے تھے۔ طاقتور کمزور پر حاوی تھا ،بیٹی کی پیدائش باعث ندامت سمجھی جاتی تھی، غلاموں پر ظلم ہوتا تھا، عورت کو عزت و وقار سے محروم رکھا جاتا تھا ،اور معاشرہ بے شمار برائیوں کی گرفت میں تھا، ایسے گھٹا ٹوپ اندھیرے میں نور مجسم رحمت حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے۔ اپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم جہالت کے اندھیروں کو مٹانے والے معلم اعظم ،غریبوں کے سہارا ،غلاموں کے اقا، عورتوں کے محافظ اور انسانیت کے لیے رحمت بن کر ائے۔ اپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انسان کو انسان کی عزت سکھائی، بیٹی کو رحمت قرار دیا، غلاموں کے حقوق دیے اور معاشرے کو عدل، محبت، اخوت اور انسانیت کا درس دیا۔

    لیکن آج میلاد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم مناتے ہوئے ہمیں اپنے گریبان میں بھی جھانکنا ہوگا۔ ہم زبان سے تو عشق رسول کا اظہار کرتے ہیں ۔محفل سجاتے ہیں ،درود و سلام پڑھتے ہیں۔ مگر کیا ہماری زندگیوں میں سیرت مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کا نور بھی موجود ہے۔ آج بھی بیٹیاں ظلم و تشدد کا شکار ہے، عورت کی عزت پامال ہوتی ہے، کمزور کو دبایا جاتا ہے، جھوٹ اور خود غرضی ہمارے معاشرے میں جگہ بنا چکی ہے۔ اگر نبی رحمت صلی اللہ علیہ وسلم کی امت ہونے کے باوجود بھی ہمارے کردار میں رحم، انصاف، سچائی اور محبت نہیں تو ہمیں سوچنا ہوگا کہ ہم نے میلاد کے اصل پیغام کو کتنا سمجھا ہے۔

    میلاد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کا حقیقی جشن یہی ہے کہ ہم اپنے کردار کو سیرت مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے سانچے میں ڈالیں۔ ایک بیٹی کو عزت دیں ۔ایک کمزور کا سہارا بنے کسی کا حق نہ مارے، جھوٹ سے بچے ،ظلم کے سامنے اواز اٹھائیں ،اور دلوں میں نفرت کے بجائے محبت پیدا کریں۔ اج ہمیں چراغ صرف گھروں میں نہیں اپنے کردار میں روشن کرنے کی ضرورت ہے۔ کیونکہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم دنیا میں نور بن کر ائے تھے اور اس نور کی حقیقی امتی وہی ہیں جو اپنے عمل سے دوسروں کی زندگیوں میں بھی روشنی بانٹیں۔ یہی میلاد کا پیغام ہے یہی سیرت کا درس اور یہی ہمارے معاشرے کی حقیقی اصلاح کا راستہ ہے۔

  • میں باغی ہوں،تحریر: مبراء عبدالقیوم

    میں باغی ہوں،تحریر: مبراء عبدالقیوم

    میں باغی ہوں!
    ہاں، میں باغی ہوں… مگر کسی ریاست کے خلاف نہیں، کسی شخص کے خلاف نہیں، کسی نظام کو گرانے کے لیے نہیں ہوں۔ میں تو ان رویوں کے خلاف باغی ہوں جو انسان کو انسان سے دور کر دیتے ہیں۔
    میں اس خاموشی کے خلاف باغی ہوں جو ظلم دیکھ کر اختیار کر لی جاتی ہے۔
    میں اس سوچ کے خلاف باغی ہوں جو بیٹی کی خواہش کو بوجھ سمجھتی ہے۔
    میں اس معاشرے کے خلاف باغی ہوں جہاں انسان کی قدر اس کے کردار سے نہیں، اس کی جیب، لباس اور عہدے سے کی جاتی ہے۔
    میں اس وقت بھی باغی ہو جاتی ہوں جب کوئی کمزور صرف اس لیے خاموش کر دیا جائے کہ اس کے پاس بولنے کی طاقت نہیں ہے۔

    مجھے سکھایا گیا تھا کہ بڑوں کا احترام کرو، میں آج بھی کرتی ہوں۔ لیکن احترام کا مطلب یہ نہیں کہ غلط کو درست کہہ دوں۔ مجھے سکھایا گیا تھا کہ خاموشی اختیار کرو مگر میں نے یہ بھی سیکھا کہ ہر خاموشی صبر نہیں ہوتی ہے۔ کچھ خاموشیاں ظلم کی شریک بن جاتی ہیں۔
    میں سوال کرتی ہوں۔
    کیوں ہماری بیٹیوں کے خوابوں کی حد معاشرہ مقرر کرے؟
    کیوں غریب کی عزت اس کی دولت سے ناپی جائے؟
    کیوں سچ بولنے والا بدتمیز اور خوشامد کرنے والا سمجھدار کہلائے؟
    کیوں ہم دوسروں کی زندگیوں میں جھانکنے کو اپنا حق سمجھتے ہیں، مگر اپنے گریبان میں دیکھنے سے گھبراتے ہیں؟
    اگر یہ سوال کرنا بغاوت ہے تو ہاں، میں باغی ہوں۔

    میں ان لفظوں کی باغی ہوں جو زبان سے تو محبت کی بات کرتے ہیں مگر دلوں میں نفرتیں پالتے ہیں۔ میں ان دعوؤں کی باغی ہوں جو عمل کے بغیر صرف تقریروں میں خوبصورت لگتے ہیں۔
    لیکن میری بغاوت میں نفرت نہیں ہے۔
    میری بغاوت میں کسی کو گرانے کی خواہش نہیں ہے۔
    میری بغاوت صرف اتنی ہے کہ میں غلط کو غلط کہنے کی جرأت رکھنا چاہتی ہوں۔
    میں چاہتی ہوں کہ میرے بچے ایسا معاشرہ دیکھیں جہاں سچ بولنے پر انسان اکیلا نہ رہ جائے۔ جہاں کسی کی کامیابی دوسرے کے لیے حسد کا سبب نہ بنے۔ جہاں اختلاف دشمنی نہ بنے اور جہاں انسان کو صرف انسان ہونے کی وجہ سے عزت ملے۔
    میں باغی ہوں، کیونکہ میں تبدیلی کا خواب دیکھتی ہوں۔
    اور شاید ہر بڑی تبدیلی کی ابتدا ایک چھوٹے سے سوال سے ہوتی ہے:
    "کیا ہم واقعی ایسے ہی رہنا چاہتے ہیں؟”
    اگر جواب نہیں ہے تو پھر شاید ہمارے اندر کا باغی ابھی زندہ ہے۔

  • پاکستان! تُو تھک تو نہیں گیا؟تحریر: زینب جہانزیب

    پاکستان! تُو تھک تو نہیں گیا؟تحریر: زینب جہانزیب

    کبھی کبھی مجھے لگتا ہے پاکستان ایک ملک نہیں، ایک ایسا شخص ہے جو برسوں سے اپنے ہی گھر کی دہلیز پر بیٹھا کسی کے لوٹ آنے کا انتظار کر رہا ہے۔ وہ شخص جس کے ہاتھ میں ابھی بھی امید کی ایک چھوٹی سی شمع ہے، مگر انگلیاں جل چکی ہیں۔ وہ مسکراتا ہے تو معلوم ہوتا ہے کہ وہ خوش نہیں، صرف دوسروں کو حوصلہ دے رہا ہے۔ وہ خاموش ہے تو یہ مت سمجھنا کہ اس کے پاس کہنے کو کچھ نہیں، شاید اس نے بہت کچھ کہہ کر دیکھ لیا ہے۔ ہم نے اس ملک کو نقشے میں تو بہت دیکھا، مگر کبھی اس کی آنکھوں میں جھانک کر نہیں دیکھا۔ اگر آج پاکستان کی آنکھوں میں دیکھیں تو وہاں کیا نظر آئے گا؟ ایک ماں نظر آئے گی جو مہنگائی کے بیچ اپنے بچوں کے مستقبل کا حساب لگا رہی ہے۔ ایک باپ نظر آئے گا جو اپنی ضرورتیں چھپا کر اولاد کی خواہشیں پوری کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ ایک نوجوان نظر آئے گا جو ڈگری ہاتھ میں لیے سوچ رہا ہے کہ اس ملک میں اس کے خواب کی کوئی جگہ ہے بھی یا نہیں۔ ایک طالب علم نظر آئے گا جو کتاب کھولتا ہے مگر مستقبل کے سوالات اسے پڑھنے نہیں دیتے۔ اور ایک عام آدمی… وہ شاید اب سوال بھی نہیں کرتا، کیونکہ کچھ سوال اتنی بار پوچھے جائیں کہ جواب نہ ملے تو انسان سوال کرنا چھوڑ دیتا ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں قومیں خطرے میں پڑتی ہیں؛ جب بھوک صرف پیٹ میں نہ رہے، دل میں اتر جائے؛ جب مایوسی صرف حالات میں نہ رہے، نسلوں کی سوچ بن جائے؛ جب نوجوان اپنے ملک کو بنانے کے خواب کے بجائے اسے چھوڑنے کے راستے تلاش کرنے لگے؛ اور جب ایک قوم کے بہترین ذہن یہ سوچنے لگیں کہ یہاں رہ کر کیا ملے گا؟ تب مسئلہ صرف معیشت کا نہیں رہتا، تب مسئلہ روح کا ہوتا ہے۔

    ہم نے بہت سال یہ بحث کی کہ قصور کس کا ہے۔ کسی نے سیاست کو ذمہ دار ٹھہرایا، کسی نے اداروں کو، کسی نے حکمرانوں کو، کسی نے عوام کو، اور شاید ہم سب اپنی اپنی جگہ کچھ نہ کچھ درست بھی کہتے رہے۔ مگر ایک سوال آج بھی جواب مانگتا ہے: آخر وہ کون سا لمحہ تھا جب ہم نے اپنے ملک کے دکھ کو اپنا دکھ سمجھنا چھوڑ دیا؟ کب ہم نے یہ سیکھ لیا کہ اگر مسئلہ میرے گھر کی چار دیواری سے باہر ہے تو وہ میرا مسئلہ نہیں؟ کب ہم نے دوسروں کی تکلیف کو صرف ایک خبر سمجھنا شروع کیا؟ کب کسی غریب کی بھوک ہمارے ضمیر کو جگانے کے بجائے ہماری انگلی کو موبائل کی اسکرین پر اسکرول کرنے لگی؟ اور سب سے خوفناک سوال یہ ہے کہ کب ہمیں ظلم سے زیادہ اپنے سیاسی اختلاف کی فکر ہونے لگی؟

    ہم ایک دوسرے سے لڑ رہے ہیں؛ ناموں پر، جماعتوں پر، جھنڈوں پر، نظریات پر، اور اس دوران شاید اصل پاکستان کہیں ہمارے قدموں کے نیچے خاموشی سے زخمی پڑا ہے۔ ہم نے اختلاف کو دشمنی بنا دیا، سوال کو بغاوت بنا دیا، تنقید کو نفرت بنا دیا، سیاست کو شناخت بنا لیا، اور پھر حیران ہیں کہ معاشرہ اتنا تقسیم کیوں ہے۔ مگر قومیں صرف سڑکوں پر نہیں ٹوٹتیں؛ قومیں پہلے اپنے دلوں میں ٹوٹتی ہیں۔ ایک دوسرے پر اعتماد ختم ہوتا ہے، پھر مکالمہ ختم ہوتا ہے، پھر برداشت ختم ہوتی ہے، پھر امید ختم ہوتی ہے، اور آخر میں صرف شور باقی رہ جاتا ہے۔ آج پاکستان میں شور بہت ہے، مگر کیا ہم سن بھی رہے ہیں؟ کیا ہم اس ماں کی آواز سن رہے ہیں جو اپنے بچے کے مستقبل سے خوفزدہ ہے؟ کیا ہم اس نوجوان کی خاموشی سن رہے ہیں جو اپنی صلاحیت کے باوجود راستہ نہیں دیکھ پا رہا؟ کیا ہم اس مزدور کے ہاتھ دیکھ رہے ہیں جن پر محنت کی لکیریں ہیں مگر زندگی کی آسائش نہیں؟ کیا ہم اس استاد کی تھکن دیکھ رہے ہیں جس سے قومیں بنتی ہیں؟ کیا ہم اس ڈاکٹر، انجینئر، کسان، دکاندار، مزدور اور طالب علم کو دیکھ رہے ہیں جو ہر روز اس ملک کو اپنے اپنے حصے سے چلا رہا ہے؟ یا ہم صرف یہ دیکھ رہے ہیں کہ کون جیتا اور کون ہارا؟

    شاید اصل سوال یہ نہیں کہ کون جیتا۔ اصل سوال یہ ہے: پاکستان ہارا تو نہیں؟ اور اگر پاکستان ہار رہا ہے تو ہم کس طرف کھڑے ہیں؟ تماشائیوں کی صف میں یا اس کے زخموں پر ہاتھ رکھنے والوں میں؟ مجھے ڈر کسی ایک حکومت کے آنے یا جانے سے نہیں لگتا۔ مجھے ڈر اس دن سے لگتا ہے جب پاکستان کے نوجوان امید کرنا چھوڑ دیں گے۔ جب ایک بچہ اپنے استاد سے پوچھے گا، "سر، کیا اس ملک میں رہ کر بھی بڑا خواب دیکھا جا سکتا ہے؟” اور استاد کے پاس جواب نہ ہوگا۔ مجھے ڈر اس دن سے لگتا ہے جب ایک ماں اپنے بیٹے سے کہے گی، "بیٹا، یہاں مت رکنا… جہاں موقع ملے چلے جانا۔” اور بیٹا جاتے ہوئے ایک بار بھی پلٹ کر نہیں دیکھے گا۔ کیونکہ جب نسلیں ملک سے محبت تو کریں مگر اپنے مستقبل کو اس ملک سے وابستہ نہ کر سکیں، تو سمجھ لینا چاہیے کہ زخم بہت گہرا ہے۔

    لیکن ابھی سب ختم نہیں ہوا۔ کیونکہ میں نے اس ملک میں آج بھی ایسے لوگ دیکھے ہیں جو اندھیرے میں چراغ جلاتے ہیں۔ ایسے استاد جو کم وسائل میں بھی بچوں کو خواب دیکھنا سکھاتے ہیں، ایسے نوجوان جو ہار ماننے کے بجائے دوبارہ شروع کرتے ہیں، ایسے لوگ جو رشوت نہ لے کر شاید اپنے لیے نقصان خریدتے ہیں مگر اپنے ضمیر کو بچا لیتے ہیں، ایسی مائیں جو مشکل حالات میں بھی بچوں کو یہ سکھاتی ہیں کہ حلال کم ہو تو بھی حرام سے بہتر ہے۔ اور شاید پاکستان ابھی انہی لوگوں کی وجہ سے زندہ ہے۔ پاکستان کو شاید کسی ایک نجات دہندہ کا انتظار نہیں۔ پاکستان کو کروڑوں چھوٹے چراغوں کی ضرورت ہے۔ ہر شخص اپنے حصے کا اندھیرا کم کرے، ہر شخص اپنے حصے کا جھوٹ چھوڑ دے، اپنے حصے کی بددیانتی چھوڑ دے، اپنے حصے کی نفرت چھوڑ دے، اپنے حصے کی بے حسی چھوڑ دے، اور اپنے حصے کی امید بچا لے۔ کیونکہ شاید پاکستان کو بچانے کا آغاز پارلیمان سے نہیں، ہماری ذات سے ہوگا۔

    اور شاید ایک دن تاریخ ہم سے یہ نہیں پوچھے گی کہ تمہارے دور میں کون حکمران تھا۔ وہ ہم سے صرف یہ پوچھے گی: "جب تمہارا وطن زخمی تھا، تم کیا کر رہے تھے؟” اور اس سوال سے بچنے کے لیے ہمارے پاس کوئی نعرہ نہیں ہوگا، کوئی جھنڈا نہیں ہوگا، کوئی جماعت نہیں ہوگی، کوئی بہانہ نہیں ہوگا۔ صرف ہم ہوں گے، اور ہمارے سامنے پاکستان ہوگا؛ زخمی، خاموش، مگر شاید اب بھی زندہ۔ اور شاید وہ آخری بار ہم سے یہی کہہ رہا ہوگا: "مجھے بچانے سے پہلے یہ فیصلہ کرو کہ تم نے مجھے اپنا سمجھا بھی تھا؟”

  • حرف آغازسےہنر تک کا سفر: استاد محترم کے نام ،تحریر: ماریہ بتول

    حرف آغازسےہنر تک کا سفر: استاد محترم کے نام ،تحریر: ماریہ بتول

    اللّٰہ تعالٰی نے انسان کو اشرف المخلوقات بنایا ۔اور زمین پر نائب کے عہدے پہ فائز کیا ۔نائب کی زمہ داریاں پوری کرنے کے لیے اللّٰہ تعالٰی نے انسان کو مکمل شعور اور لاشعور کی قوت عطا کی۔اسی قوت کی بدولت انسان سوچ سمجھ اور محنت سے ہر کام کر سکتا ہے ۔کسی بھی کام کو کرنے کے لیے انسان جو راستہ یا سفر شروع کرتا ہے ۔اسے پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لیے انسانی سوچ سمجھ ،جنون،قوت کے ساتھ ساتھ رہبر اور رہنمائی کی بھی ضرورت ہوتی ہے ۔

    کہتےہیں کہ سنگ تراش اگر ماہر ہوتو وہ بے جان پتھر کو بھی بولنا سکھا دیتا ہے لیکن ایک مخلص استاد وہ مصلح ہے جو انسان کے خاموش مگر منتشر ذہن کو حرف وبیان کی ایسی روشنی دیتا ہے کہ وہ معاشرے کا ضمیر بن جاتا ہے ۔
    کچھ لوگ تاریخ پڑھتے ہیں اور کچھ لوگ تاریخ لکھتے ہیں ،لیکن ایک استاد وہ عظیم ہستی ہے جو تاریخ لکھنے والے قلم کار پیدا کرتا ہے ۔آج میں جس مقام کھڑی خود کو کالم نگار کہنے کی جرات کر رہی ہوں یہ دراصل میرے استاد محترم کی تراش خراش کا نتیجہ ہے ۔

    کالم نگاری محض ایک فن نہیں ،بلکہ یہ دل کے جزبوں کو لفظوں کا لباس پہنا کر معاشرے کے سامنے پیش کرنے کا نام ہے ۔جب میں نے اس راستے پر چلنے کا قوی ارادہ کیا تو میرے پاس صرف لکھنے پڑھنے کی خواہش تھی ،لیکن یہ علم نہیں تھا کہ حرف کو ہنر میں کیسے ڈھالا جائے ۔اسی کشمکش کے دوران مجھے ایک ایسی شخصیت کی رہنمائی میسر آئی جنھوں نے قدم قدم پر میری رہنمائی کی۔اور مُجھے آزاد سوچنا سکھایا ۔وہ نام ہے محترم جناب ابوالحسن نعیم صاحب کا۔

    کالم نگاری کا کورس جو کچھ عرصہ قبل شروع ہؤا تھا ۔اب اپنے اختتام کو پہنچ چکا ہے ۔لیکن سچ تو یہ ہے کہ یہ صرف ایک کورس نہیں تھا بلکہ میری روحانی اور فکری بیداری کا ایک مختصر ،جامع اور یادگار سفر تھا ۔استاد محترم جناب ابوالحسن نعیم صاحب کی سرپرستی میں یہ سفر طے کرنا میرے لئے ایک بہت بڑا اعزاز ہے ۔ان کا پڑھانے کا انداز روایتی اساتذہ سے بالکل مختلف اور منفرد ہے ۔وہ صرف مشق(کالم) لکھنا نہیں سکھاتے بلکہ قاری کی نفسیات کو بھی سمجھنا سکھاتے ہیں ۔انھوں نے بتایا کہ ایک اچھا کالم نگار وہ ہے جو اپنے جذبات پر قابو رکھ کر غیر جانبداری سے سچ لکھے ۔معاشرے کے پہلوؤں پر نظر ثانی کرے اور نا انصافی کے خلاف اپنے قلم کی طاقت سے امید کا دیا جلائے ۔استاد محترم نے کالم کی ابتدائیہ کی اہمیت سے لیکر وسطانیہ کی گہرائی اور اختتامیہ کے پراثر ہونے کے تمام گر اتنی مہارت سے سکھائے کہ کالم لکھتے ہوئے وہ سب اصول میرے ذہن میں نقش ہوگئے ہیں ۔ان کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ وہ شاگرد کی معمولی سی کوشش پر بھی اس کی دل سے حوصلہ افزائی کرتے ہیں ۔جس سے لکھنے والے کا اعتماد آسمان کا چھونے لگتا ہے ۔

    آج جب یہ کورس ختم ہو رہا ہے تو دل میں ایک عجیب سی اداسی بھی ہے اور عزم بھی ۔کیونکہ سیکھنے کا سفر منزل سے زیادہ خوبصورت ہوتا ہے ۔روزانہ مشق لکھنا ،غلطیاں کرنا ،غلطیوں کو درست کرنا پھر سیکھنا اور روزانہ استاد محترم کی رہنمائی سے فیض یاب ہونا یہ سب سفر کی خوبصورتی ہے۔۔اور عزم اس بات کا کہ جو ہنر استاد محترم نے میرے سپرد کیا ہے اس کی لاج رکھنی ہے۔

    میں یہ کالم اپنے استاد محترم ابوالحسن نعیم صاحب کے نام معنون کرتی ہوں ۔یہ کالم میرے پاس ان کے لیے ایک ادنیٰ سا ہدیہ تشکر ہے۔آخر میں استاد محترم آپ کا بے حد شکریہ کہ آپ نے مُجھے صرف لکھنا نہیں سکھایا بلکہ آزاد اور وسیع سوچنا سکھایا ۔آپ نے میرے لفظوں کو وہ تاثیر اور ترتیب دی جو اب قارئین کے دلوں پر دستک دے گی ۔دعا ہے کہ اللّٰہ تعالٰی آپ کے علم ،عمر اور صحت میں برکت عطا فرمائے اور آپ کی علمی شفقت ہمیشہ سلامت رہے (آمین ثم آمین).

  • پاکستان کی کم سن مائیں – ابھرتے گلشن کا نوحہ،تحریر:مریم یاسین

    پاکستان کی کم سن مائیں – ابھرتے گلشن کا نوحہ،تحریر:مریم یاسین

    قوموں کی تقدیر جس سیاست سے لکھی جاتی ہے اس کا پہلا قطرہ ایک ماں کی گود سے پھٹتا ہے۔ ماں تہذیب کا چشمہ، مہر، بی بی آخری پناہگاہ، اور وہ نسلوں کی معمار ہے۔ اسلام نے ماں کے قدموں تلے جنت رکھی اور دنیا نے ماں درگاہ "کا خطاب دیا۔ مگر افسوس! جب وہ مقدس منصب ایسے نازک کندھوں پر رکھ دیا جائے جو ابھی چن کا بوجھ بھی نہ اٹھا سکیں ہوں، تو دل خون کے آنسو روتا ہے۔ پاکستان کے دیہات، بچی بیٹیوں اور غرور کے اظہریوں میں آج بھی ہزاروں کہانیاں وقت سے پہلے مسل دی جاتی ہیں۔ 13،14،15 سال کی عمر – عمر تعلب، قلم اور کھیل کی عمر ہے۔ مگر غربت کی زنجیر، جہالت کا اندھیر اور "جلدی رخصت کرو” کی فرسودہ سوچ ان معصوموں کی کہانیوں میں پھندورا ڈال دیتی ہے۔ وہ خود بھی "بیٹی” کے لفظ کی شناخت سے آشنا نہیں ہوتیں کہ ان سے "ماں” ہونے کا تقاضا کر لیا جاتا ہے۔ جس عمر میں خواب اور اسکول گھنٹے ہونا چاہیے، اس عمر میں چولہے کی بھٹی اور رات بھر کی جاگ سے اس کی ہنسی چھین لی جاتی ہے، اس کے خواب چھلنی جاتے ہیں۔ ایک ان پڑھ، ناتواں، ناپختہ ماں قوم کو کیا دے گی۔ جب ماں خود جہالت ہو تو بچے کو قلم کیسے تھمائے گی؟ اس طرح ایک فرد نہیں پوری نسل کی پسماندگی بن جاتا ہے۔ اس کے پیچھے بہت سے عوامل کارفرما ہیں جیسا معاشی تنگی وغیرہ غریب باپ بیٹی کو "بوجھ” سمجھ کر جلدی فارغ کرنا چاہتا ہے۔ دوسری وجہ یہ کہ جہاں اسکول نہیں وہاں شعور بھی نہیں۔ ساہی روایت جیسی کہ "ہماری برادری میں ایسے ہی ہوتا ہے”۔ قانون کی کمزوری بھی کسی حد تک ذمہ دار ہوتی ہے اور پھر ٹوٹی پھوٹی Child Marriage Restraint Act میں چھاوہ کی گنجائش کیسے نکالی جائے۔ اس نظام کا مداوا ممکن ہے اگر ہم مل کر عہد کریں کہ تعلیم عام کریں۔ بیٹی کو اسکول بھیجنا عبادت ہے۔ ہر بیٹی لکھی ماں 10 نسلیں سنوار دیتی ہے۔ احتیاطی طور پر شعور بیدار کریں، منبر، میڈیا اور استاد یہ پیغام دیں کہ کم عمری میں شادی جرم ہے، ظلم ہے۔ قانون نافذ کریں 18 سال سے کم عمر کی شادی سخت سزا دی جائے۔ معاشی مدد کے لیے اعلیٰ اقدامات کو تیزی دی جائے، بیٹی کو بوجھ نہیں، سرمایہ اور رحمت سمجھا جائے۔

    نبی کریم ﷺ نے فرمایا "جس نے دو بیٹیوں کی اچھی پرورش کی وہ میرے ساتھ جنت میں ہوگا”۔ تو کیا ہم اس بشارت کو ٹھکرا کر بیٹیوں کو کچن تک محدود دیں گے؟ پاکستان کی کم سن مائیں ہماری اجتماعی شرمندگی ہیں۔ یاد رکھیں: "جو قوم بیٹیوں کو وقت سے پہلے مسل دیتی ہے، اس کے گلشن کبھی نہیں مہکتے”۔ آئیں ہم مل کر بیٹیوں کواس کا بچپن واپس دیں۔ کیونکہ ماں اگر کھو پھول ہو تو نسل گلستان ہوتی ہے۔

    "میں لفظوں کی سودا گر نہیں، میں زخموں کی ترجمان ہوں۔”

  • میں ایک عورت ہوں،تحریر: سماویہ اعظم

    میں ایک عورت ہوں،تحریر: سماویہ اعظم

    میں ایک عورت ہوں
    مگر میری تعریف
    کسی لغت میں مکمل نہیں ملتی
    میرے معنی ہمیشہ
    کسی اور کے جملے میں
    قید رہتے ہیں
    میں ایک عورت ہوں
    اور میری کہانی
    کسی ایک دن کی نہیں
    صدیوں کے سفر کی داستان ہے
    میں ایک عورت ہوں
    کبھی مجھے چار دیواری کے
    اندر چپ رہنے کا ہنر سکھایا گیا
    کبھی میری آنکھوں میں
    خوابوں کی پوری کائنات آباد رہی
    میں ایک عورت ہوں
    میری کہانی صرف رشتوں
    یا ذمہ داریوں کی محتاج نہیں
    میں خود ایک کتاب ہوں
    جو ہر صفحے پر
    تاریخ کی دھندلی لکیروں میں
    اپنے رنگ بھرتی ہے
    میں ایک عورت ہوں
    میں نے دیکھا ہے
    ماں کی ہتھیلی پر
    دن بھر کی تھکن
    اور لب پر دعائیں
    میں نے سنا ہے
    بیٹی کے دل کی خاموش فریاد
    بہن کی چھپی ہوئی آنکھوں کی گہرائی
    اور اپنے ہی وجود کی تنہائی
    میں ایک عورت ہوں
    میں نے تاریخ کے
    ہر ظلم کے خلاف اپنے قدم جمائے
    اور ہر زخم سے نیا عزم پیدا کیا
    خوف کو حوصلے میں بدلا
    اور آنسوؤں کو روشنی میں پرویا
    کیوں کہ
    میں ایک عورت ہوں

  • زندگی آسان نہیں ہے ۔ تحریر: نور فاطمہ

    زندگی آسان نہیں ہے ۔ تحریر: نور فاطمہ

    زندگی کا نام ہی امتحان ہے۔ یہ پھولوں کی سیج نہیں کہ ہر قدم پر آسانیاں ملیں۔ زندگی میں کبھی خوشی ہے تو کبھی غم، کبھی کامیابی ہے تو کبھی ناکامی۔
    انسان جب پیدا ہوتا ہے تو اسے لگتا ہے کہ سب کچھ آسانی سے مل جائے گا۔ لیکن جیسے جیسے وہ بڑا ہوتا ہے، اسے پتہ چلتا ہے کہ ہر چیز کے لیے محنت کرنا پڑتی ہے۔ اسکول، کالج، نوکری، رشتے ہر جگہ مقابلہ ہے۔ کبھی پیسے کی تنگی ہوتی ہے، کبھی لوگوں کی باتیں دل دکھاتی ہیں۔
    لیکن یہی مشکلات ہمیں مضبوط بناتی ہیں۔ اگر زندگی آسان ہوتی تو ہم کچھ سیکھ نہ پاتے۔ گر کر ہی انسان چلنا سیکھتا ہے۔ ہر مشکل کے بعد آسانی آتی ہے۔
    اصل کامیابی یہی ہے کہ مشکلات کے باوجود ہمت نہ ہاریں۔ صبر، محنت اور اللہ پر بھروسہ رکھیں۔ جو لوگ مشکلات میں مسکرا کر آگے بڑھتے ہیں، وہی زندگی جیتتے ہیں۔
    یاد رکھیں مشکل وقت مستقل نہیں رہتا، لیکن مضبوط لوگ رہتے ہیں۔
    اس لیے ہار ماننے کے بجائے لڑیں، کیونکہ آسان راستے منزل تک نہیں لے جاتے۔

  • پاکستان نے ہمیں کیا دیا؟ تحریر: نور فاطمہ

    پاکستان نے ہمیں کیا دیا؟ تحریر: نور فاطمہ

    14 اگست 1947 کو ہمیں ایک آزاد وطن ملا جس کا نام پاکستان ہے۔ یہ ملک ہمارے اسلاف کی قربانیوں کا نتیجہ ہے۔ پاکستان نے ہمیں صرف زمین کا ٹکڑا نہیں دیا بلکہ ایک شناخت، ایک پہچان اور جینے کا موقع دیا۔
    پاکستان نے ہمیں غلامی سے نجات دی۔ آج ہم آزاد ہو کر اپنی مرضی سے زندگی گزارتے ہیں اور اپنے مذہب پر عمل کرتے ہیں۔ دنیا میں ہماری ایک الگ قومی شناخت ہے۔ ہمارا اپنا پرچم، قومی ترانہ اور پاسپورٹ ہے۔
    تعلیم اور مواقع پاکستان نے ہمیں سکول، کالج، یونیورسٹیاں دیں۔ ڈاکٹر، انجینئر، استاد اور فوجی بننے کے مواقع دیے۔

    قدرتی وسائل ہمیں زرخیز زمینیں، دریا، پہاڑ اور معدنیات ملیں۔ پاکستان دنیا میں زرعی اور خوبصورت ملکوں میں شمار ہوتا ہے۔محبت اور بھائی چارہ یہاں مختلف قومیں ایک پرچم تلے رہتی ہیں۔ مشکل وقت میں قوم ایک ہو جاتی ہے جیسے زلزلہ اور سیلاب میں۔پاکستان نے ہمیں بہت کچھ دیا ہے۔ اب ہماری باری ہے کہ ہم پاکستان کو کیا دیتے ہیں۔ اگر ہم ایمانداری، محنت اور اتحاد سے کام لیں تو پاکستان مزید ترقی کرے گا۔ قائد اعظم کا قول ہے: "کام، کام اور صرف کام۔ آئیے ہم سب مل کر پاکستان کی تعمیر میں اپنا حصہ ڈالیں۔