Baaghi TV

Category: خواتین

  • عورت، فطرت کا نازک سہارا ،تحریر:نور فاطمہ

    عورت، فطرت کا نازک سہارا ،تحریر:نور فاطمہ

    کائنات کے وسیع و عریض صحرا میں، جہاں سخت چٹانیں بھی موجود ہیں اور نرم ریت بھی، فطرت نے چند چیزوں کو خاص مہربانی کے ساتھ تراشا ہے۔ ان میں سے ایک عورت ہے،جس کی نرمی میں طاقت ہے،جس کی نزاکت میں وقار ہے،اور جس کی خاموشی میں پوری کائنات کی گونج چھپی ہے۔عورت، گویا کسی شاعر کے دل سے پھوٹا ہوا نغمہ ہو، جسے ہوائیں بھی ذرا آہستہ چھوتی ہیں، اور روشنی بھی دبے قدموں اترتی ہے۔

    عورت نازک ہے، مگر یہ نازکی اس کے وجود کی کمزوری نہیں، اس کی نفاست کا وہ روپ ہے جسے قدرت نے بڑی محبت سے چنا ہے۔وہ پھول کی مانند ہےجو نرم ضرور ہوتا ہے،لیکن خوشبو کی صورت دلوں کو فتح کرنے کی طاقت رکھتا ہے۔وہ دل کا چراغ ہے،جو ذرا سے جھونکے میں لرز بھی جاتا ہے،اور اسی لرزش میں گھر بھر کی روشنی بھی چھپی ہوتی ہے۔عورت کی قیمت اس کے وجود سے ہے،دنیا کی ہر قیمتی شے نرم، نازک اور دلکش ہوتی ہے۔مگر عورت کی قیمت محض حسن میں نہیں،وہ اس کے کردار کی وسعت،اس کی محبت کی گہرائی،
    اور اس کی برداشت کی بلندی میں ہے۔وہ ماں بن کر محبت کا سمندر بانٹتی ہے،بیٹی بن کر گھر کی رونق کا چراغ بنتی ہے،بہن بن کر وفا کی ڈھال ہوتی ہے،اور بیوی بن کر ایک مرد کی دنیا کو سکون کا گھر بنا دیتی ہے۔ایسی ہستی کمزور نہیں ہوتی،وہ پورے گھر کی بنیاد ہوتی ہے۔

    قدرت نے مرد کے کندھوں پر عورت کی حفاظت کا فریضہ رکھا ہے،یہ فریضہ کوئی تخت نہیں، ایک امانت ہے۔محافظ ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ مرد حکم چلائے،بلکہ یہ کہ وہ عورت کے احساسات کا سپاہی بنے،اس کی عزت کا نگہبان ہو،اور اس کے اعتماد کا پاسبان،طاقت اس وقت تک طاقت نہیں بنتی جب تک وہ کسی کی حفاظت کا وسیلہ نہ بنے۔اگر یہ قیمتی نعمت آپ کے نصیب میں آ جائے،اگر زندگی نے آپ کے دامن میں عورت کی صورت میں ایک ہمسفر رکھ دیا ہے تو سمجھ لیجیے کہ قسمت نے آپ پر مہربانی کی ہے۔یہ وہ نعمت ہے جو الفاظ میں بیان نہیں ہو سکتی،یہ وہ خوشبو ہے جو دل کے چاروں گوشوں کو مہکا دیتی ہے۔لہٰذا اس کی مسکراہٹ کی قیمت پہچانیے،اس کی خاموشیوں کی زبان سمجھئے،اس کے خوابوں کو سہارا دیجئے،اس کے خوفوں کی چھاؤں بنیے،اور اس کے نازک دل کو اپنی طاقت سے امن دیجئے،یہی وہ "حفاظت” ہے جس کا حق عورت رکھتی ہے اور جس کا امتحان مرد پر لازم ہے۔

    عورت ایک پھول نہیں، ایک باغ ہے۔وہ ایک نغمہ نہیں، پوری غزل ہے۔وہ نازک ضرور ہے، مگر اس نرمی میں دنیا کو سنوار دینے کی قدرت ہے۔اس کی حفاظت کیجیےکیونکہ حفاظت اس کی ضرورت نہیں،اس کی قدر کا ثبوت ہے.

  • سر میں خشکی،تیل مفید ہے یا نہیں؟ماہرین کی رائے

    سر میں خشکی،تیل مفید ہے یا نہیں؟ماہرین کی رائے

    دنیا بھر میں سب سے عام مگر پریشان کن مسئلوں میں سے ایک “خشکی” یا “ڈینڈرف” ہے، وہ سفید ذرات جو کندھوں پر گر کر شرمندگی کا باعث بنتے ہیں۔ بعض لوگوں کے لیے یہ وقتی مسئلہ ہوتا ہے، جبکہ کئی افراد کے لیے یہ برسوں جاری رہنے والی کیفیت بن جاتی ہے جس پر کوئی بھی “اینٹی ڈینڈرف شیمپو” کارگر ثابت نہیں ہوتا۔

    ماہرینِ امراضِ جلد کے مطابق خشکی صرف صفائی یا بالوں کی خشکی کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک طبی حالت ہے جس کے کئی اسباب ہیں۔ طبّی زبان میں اسے Seborrheic Dermatitis یا ہلکے درجے میں Pityriasis Capitis کہا جاتا ہے۔ جرنل آف کلینیکل اینڈ انویسٹی گیٹو ڈرمیٹولوجی (2019) کے مطابق، دنیا کی بالغ آبادی میں سے تقریباً 50 فیصد افراد کسی نہ کسی درجے کی خشکی کا شکار ہیں۔بھارت اور برصغیر کے دیگر ممالک میں جہاں نمی، آلودگی اور بالوں میں تیل لگانے کا رواج عام ہے، وہاں ماہرین کہتے ہیں کہ خشکی عموماً سردیوں اور برسات کے بعد کے مہینوں میں بڑھ جاتی ہے۔عام تاثر کے برعکس خشکی کا تعلق “میل کچیل” یا صفائی کی کمی سے نہیں ہے۔یہ ایک خوردبینی فنگس Malassezia globosa کی زیادتی سے پیدا ہوتی ہے، جو سر کی جلد کے قدرتی تیل (Sebum) پر پرورش پاتی ہے۔یہ فنگس ان تیلوں کو توڑ کر Oleic Acid پیدا کرتی ہے جو بعض افراد کی جلد کو جلا دیتا ہے، نتیجتاً خارش، سرخی اور سفید ذرات پیدا ہوتے ہیں۔

    ماہرین کے مطابق خشکی اچانک نہیں آتی۔ذہنی دباؤ (Stress) اور ہارمونل تبدیلیاں تیل کی پیداوار بڑھا دیتی ہیں، جو فنگس کے لیے سازگار ماحول فراہم کرتی ہے۔اسی وجہ سے نوجوانوں اور بلوغت کے دوران یہ مسئلہ زیادہ عام ہے۔سرد، خشک موسم سر کی جلد کو ڈی ہائیڈریٹ کر دیتا ہے جبکہ گرم، مرطوب موسم میں پسینہ اور تیل دونوں بڑھ جاتے ہیں، جس سے فنگس تیزی سے پھیلتی ہے۔تحقیقات سے پتا چلا ہے کہ مرطوب یا آلودہ شہری علاقوں میں رہنے والے افراد کو مستقل خشکی زیادہ ہوتی ہے۔

    بھارت اور پاکستان میں بالوں میں تیل لگانے کی روایت صدیوں پرانی ہے، مگر ماہرین کے مطابق یہ ہر کسی کے لیے مفید نہیں۔بھاری تیل جیسے ناریل یا سرسوں کا تیل اگر خشکی والے سر پر لگایا جائے تو یہ فنگس کو خوراک فراہم کرتا ہے، جس سے خارش اور سوزش بڑھ جاتی ہے۔ ایسے افراد کو چاہیے کہ وہ ہلکے وزن والے، دوائی دار یا اینٹی فنگل تیل،سیریم استعمال کریں اور رات بھر تیل لگا کر نہ چھوڑیں کیونکہ یہ گرمی اور نمی کو بند کر کے فنگس کو بڑھاتا ہے۔

    جرنل آف کاسمیٹک ڈرمیٹولوجی (2022) کے مطابق، دو مختلف اجزاء والے شیمپوؤں کو باری باری استعمال کرنے سے فنگس مزاحمت نہیں کرتی اور بہتر نتائج ملتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق علاج میں تسلسل ضروری ہے۔اکثر دوائی دار شیمپوؤں کو 4 تا 6 ہفتے تک ہفتے میں 2-3 مرتبہ استعمال کرنا پڑتا ہے تاکہ نمایاں بہتری آئے۔

    حالیہ تحقیق کے مطابق، خشکی کا تعلق صرف بیرونی عوامل سے نہیں بلکہ جسم کے اندرونی توازن سے بھی ہے۔Frontiers in Microbiology (2020) میں شائع شدہ تحقیق کے مطابق، جن افراد کو دائمی خشکی ہوتی ہے، ان کے آنتوں کے بیکٹیریا میں تنوع کم اور جسم میں سوزش کے آثار زیادہ پائے گئے۔ ذہنی دباؤ پر قابو پانا بھی ضروری ہے۔ یوگا، ورزش اور نیند کی کمی دور کرنے سے ہارمونل توازن بہتر ہوتا ہے۔

    اگر خشکی کے ساتھ سرخی کانوں، بھنوؤں یا سینے تک پھیل جائے تو یہ عام خشکی نہیں بلکہ Seborrheic Dermatitis ہو سکتا ہے۔اسی طرح اگر موٹی تہیں یا شدید خارش ہو تو یہ Psoriasis یا Eczema کی علامت بھی ہو سکتی ہے، جس کے لیے خود علاج کے بجائے ماہرِ جلد سے رجوع کرنا ضروری ہے۔ گھریلو ٹوٹکوں پر اندھا دھند انحصار، یا ضرورت سے زیادہ تیل لگانا فائدے کے بجائے نقصان دیتا ہے۔

  • اک یادگار ملاقات،تحریر:نور فاطمہ

    اک یادگار ملاقات،تحریر:نور فاطمہ

    زندگی کے طویل اور بے سمت سفر میں کبھی کبھار کچھ لمحے ایسے اترتے ہیں جیسے خزاں رسیدہ دنوں میں اچانک بہار کی ایک نرم جھونک آ جائے۔ یہ لمحے وقت کے دامن پر جگنوؤں کی طرح چمکتے رہتے ہیں ، نہ مٹنے والے، نہ بھلانے والے، انہی نایاب لمحوں میں سے ایک لمحہ اُس روز رقم ہوا جب ننکانہ صاحب کی محترمہ رفعت کھرل اپنی دوست کے ہمراہ لاہور آئیں،ان کی آمد گویا شہرِ ادب کے موسم میں تازگی کا نیا رنگ بھر گئی،رفعت کھر کی شخصیت پہلی ہی نگاہ میں دل پر ایک خوشگوار تاثر چھوڑ جاتی ہے، وہ گفتگو کرتی ہیں تو لگتا ہے جیسے لفظ خوشبو بن کر فضا میں تحلیل ہو رہے ہوں، ہر جملے میں سلیقہ، ہر مسکراہٹ میں شائستگی، اور ہر نظر میں ایک نرم روشنی ، جیسے ادب نے انسان کی صورت اختیار کر لی ہو،ان کے ہمراہ ان کی ایک مخلص دوست بھی تھیں، جن کے لبوں پر خلوص اور آنکھوں میں اپنائیت کی چمک تھی۔ وہ دونوں جب محفل میں آئیں تو فضا بدل گئی۔ باتوں کا سلسلہ یوں چلا جیسے پرانے دوست برسوں بعد ملے ہوں۔ ابتدا رسمی گفتگو سے ہوئی، مگر جلد ہی دلوں کے در وا ہونے لگے، اور موضوعات ادب، محبت اور زندگی کے مختلف رنگوں پر جا پہنچے۔

    رفعت کھرل کا لہجہ نرمی سے بھرا ہوا تھا، مگر اس نرمی میں وہ اعتماد بھی شامل تھا جو صرف اُن لوگوں میں ہوتا ہے جو دل سے لکھتے ہیں اور دل سے جیتے ہیں،ان کی باتوں میں سچائی کی وہ خوشبو تھی جو دکھاوا نہیں کرتی،رفعت کھرل صرف لکھنے والی نہیں، محسوس کرنے والی روح ہیں۔ ان کے اندازِ بیان میں وہ سلیقہ ہے جو محبت کو مروّت میں ڈھال دیتا ہے، اور ان کے چہرے کی روشنی سے اندازہ ہوتا ہے کہ لفظ جب دل سے نکلیں تو چہرے پر ان کا عکس لازماً جھلکتا ہے۔یہ ملاقات محض چند ساعتوں کی تھی، مگر دلوں کی قربت نے اسے یادگار بنا دیا۔ گفتگو کے موضوعات ادب سے نکل کر احساسات تک جا پہنچے، اور ہر جملہ ایک خوشبو کی طرح فضا میں گھلتا چلا گیا۔ وقت کے لمحے تھم سے گئے، اور یوں لگا جیسے یہ نشست ختم نہ ہو ، یہ رفاقت اپنی طوالت خود لکھ رہی ہو۔

    دوستی کے باب میں یہ ایک نئی تحریر کا پہلا حرف تھا ، وہ حرف جو وقت کی کتاب پر ہمیشہ روشن رہے گا،
    کچھ رشتے نصیب سے ملتے ہیں، اور کچھ دل کے خلوص سے، رفعت کھرل جیسی باوقار، خوش مزاج اور سراپا محبت شخصیت سے ملاقات نے یہ یقین پختہ کر دیا کہ ادب دراصل انسانیت کا دوسرا نام ہے،یہ تعلق اب لفظوں سے بڑھ کر ایک احساس بن چکا ہے ، اور یہی احساس ہر ملاقات کے بعد دل میں ایک نرم سی روشنی چھوڑ جاتا ہے۔

  • حنا سرور ، سچ کی راہ پر چلنے والی ایک جری آواز.تحریر:نور ملک

    حنا سرور ، سچ کی راہ پر چلنے والی ایک جری آواز.تحریر:نور ملک

    آج کے دورِ انتشار میں، جب حق بولنا جرم اور سچ لکھنا گناہ سمجھا جانے لگا ہے، ایسے میں کچھ لوگ ہیں جو ہر مخالفت، ہر طعن و تشنیع کے باوجود قلم کو خاموش نہیں ہونے دیتے۔ انہی سچائی کے علمبرداروں میں ایک نمایاں نام ہے حنا سرور کا ، جو نہ صرف ایک معروف لکھاری بلکہ ایک جری سوشل میڈیا ایکٹوسٹ بھی ہیں۔حنا سرور نے ہمیشہ اپنی تحریروں اور خیالات کے ذریعے حق و سچ کا ساتھ دیا۔ وہ موضوعات جن پر اکثر لوگ لب کشائی سے ڈرتے ہیں، حنا سرور نے نہ صرف ان پر بات کی بلکہ دلائل کے ساتھ اپنے مؤقف کو اجاگر کیا۔ یہی ان کی سچائی اور بےباکی ہے جو بعض حلقوں کے لیے ناقابلِ برداشت بن جاتی ہے۔

    تنقید، الزامات اور کردار کشی ، یہ سب وہ حربے ہیں جو ہمیشہ ان لوگوں کے خلاف استعمال کیے گئے جو سچ بولنے سے نہیں گھبراتے۔ لیکن حقیقت یہی ہے کہ جب مخالفین کے پاس دلائل ختم ہو جاتے ہیں تو وہ الزام تراشی پر اتر آتے ہیں۔ حنا سرور پر کی جانے والی تنقید دراصل اس بات کا اعتراف ہے کہ ان کی آواز اثر رکھتی ہے، ان کا قلم سچ لکھتا ہے، اور ان کے الفاظ لوگوں کے دلوں تک پہنچتے ہیں۔سوشل میڈیا پر جو لوگ محض گالم گلوچ کے ذریعے اپنی موجودگی ظاہر کرتے ہیں، وہ دراصل اپنے اندر کی تربیت اور کمزور دلائل کا ثبوت دیتے ہیں۔ حنا سرور کے خلاف استعمال ہونے والی ایسی زبان اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ ان کے ناقدین کے پاس نہ دلیل ہے، نہ اخلاق،حنا سرور کا قلم صرف ایک شخصی آواز نہیں، بلکہ پاکستان کے مفاد، استحکام اور خودمختاری کا ترجمان ہے،انہوں نے ہمیشہ ملکی مفادات کو مقدم رکھا، چاہے بات قومی سلامتی کی ہو یا معاشرتی اصلاح کی، ان کی تحریروں میں ایک درد بھی ہے اور ایک عزم بھی، درد اس وطن کے حالات کا، اور عزم اس کے بہتر مستقبل کا ،حنا سرور کا نظریہ ہمیشہ سے استحکامِ پاکستان کے گرد گھومتا ہے،وہ کسی سیاسی جماعت یا ذاتی مفاد کے لیے نہیں بلکہ ریاستِ پاکستان کے لیے لکھتی ہیں،ان کے مضامین میں حب الوطنی کی خوشبو، فکری گہرائی، اور سماجی آگاہی کی جھلک نمایاں ہے۔انہوں نے ہمیشہ یہ پیغام دیا کہ اختلافِ رائے ضرور کرو، مگر ملکی مفاد پر سمجھوتہ مت کرو،حنا سرور کی تحریریں نوجوان نسل کو شعور دیتی ہیں کہ سوشل میڈیا صرف شور مچانے کا پلیٹ فارم نہیں بلکہ فکر پھیلانے کا ذریعہ بھی ہے،وہ لوگوں کو بتاتی ہیں کہ محبِ وطن ہونا صرف نعرے لگانے سے نہیں بلکہ اپنے عمل اور کردار سے ثابت کرنا ہوتا ہے

    آج جب دشمن عناصر اپنے ایجنڈے کے تحت پاکستان کے نظریاتی اور سماجی ڈھانچے کو نقصان پہنچانے کی کوشش میں ہیں، ایسے میں حنا سرور جیسے لوگ امید کی کرن ہیں۔ وہ ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ قلم اگر سچ لکھے، تو وہ سب سے بڑی مزاحمت بن جاتا ہے۔ ان کے قلم سے نکلا ہر لفظ پاکستان کی سلامتی، وقار اور فکری آزادی کے لیے ہے۔اور یہی وہ چیز ہے جو ان کے مخالفین کو برداشت نہیں۔

  • کم عمری کی شادی کے نقصانات

    کم عمری کی شادی کے نقصانات

    پاکستان میں شادی بیاہ کے سماجی و قانونی ڈھانچے میں، دوسری شادی (تعددِ ازواج) اور کم عمری کی شادی ایسے اہم معاملات ہیں جو نہ صرف خاندانوں کی ساخت بلکہ خاص طور پر خواتین کے بنیادی حقوق اور ان کی زندگی کے امکانات کو گہرے طور پر متاثر کرتے ہیں۔ یہ دونوں رجحانات روایت، مذہب اور قانون کی ایک پیچیدہ آمیزش میں جکڑے ہوئے ہیں، اور حقوقِ نسواں کے تناظر میں شدید تنقید کا نشانہ بنتے ہیں۔

    کم عمری کی شادی، جسے بعض علاقوں میں ’بچپن کی شادی‘ بھی کہا جاتا ہے، پاکستان کے کئی دیہی اور پسماندہ علاقوں میں ایک تشویشناک حقیقت ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق، پاکستان میں ایک بڑی تعداد میں لڑکیوں کی شادی 18 سال کی قانونی عمر سے پہلے کر دی جاتی ہے۔ حالانکہ سندھ جیسے صوبوں نے لڑکے اور لڑکی دونوں کے لیے شادی کی کم از کم عمر 18 سال مقرر کر دی ہے، اور وفاقی سطح پر بھی اس کے خلاف سخت قوانین اور سزائیں موجود ہیں، مگر یہ رواج اپنی جڑیں گہری رکھتا ہے۔ چھوٹی عمر میں شادی کا سب سے پہلا وار تعلیم پر ہوتا ہے۔ کم عمری میں رشتہ ازدواج میں بندھنے والی بچیاں اپنے تعلیمی سلسلے کو جاری نہیں رکھ پاتیں، جس سے ان کی صلاحیتوں کا غیر ارتقائی اختتام ہو جاتا ہے۔ نوعمری میں حمل اور زچگی کے دوران پیچیدگیاں لڑکیوں کی صحت کے لیے سنگین خطرہ بن جاتی ہیں۔ پاکستان میں زچگی کے دوران ہونے والی اموات میں ایک بڑا حصہ کم عمر ماؤں کا ہوتا ہے۔ نابالغ لڑکی، جو جذباتی اور ذہنی طور پر ازدواجی ذمہ داریوں کے لیے تیار نہیں ہوتی، اکثر گھریلو تشدد، زبردستی اور جذباتی استحصال کا شکار ہو جاتی ہے۔ یہ شادی اس کا بچپن، بے فکری اور خود مختاری چھین لیتی ہے۔ چونکہ یہ شادیاں اکثر والدین یا خاندان کے فیصلے پر ہوتی ہیں، لڑکی سے اس کے زندگی کے سب سے اہم فیصلے یعنی شریک حیات کے انتخاب کا حق سلب کر لیا جاتا ہے۔

    اسلام میں تعددِ ازواج کی مشروط اجازت ہے، لیکن پاکستان میں مسلم فیملی لاز آرڈیننس 1961 کے تحت مرد کو دوسری شادی کرنے کے لیے پہلی بیوی سے تحریری اجازت اور یونین کونسل سے اجازت نامہ حاصل کرنا ضروری ہے۔ اس قانون کا مقصد خواتین کے حقوق کا تحفظ اور مردوں کے صوابدیدی اختیار پر قدغن لگانا تھا۔ اگرچہ قانون میں پہلی بیوی کی اجازت لازمی ہے، لیکن کئی واقعات میں مرد حضرات یونین کونسل سے رجوع کیے بغیر یا پہلی بیوی پر دباؤ ڈال کر دوسری شادی کر لیتے ہیں۔ اس صورت میں پہلی بیوی اور اس کے بچوں کے حقوقِ کفالت، مساوات اور جذباتی استحکام شدید خطرے سے دوچار ہو جاتے ہیں۔ دوسری بیوی کو لانے سے اکثر پہلی بیوی اور بچوں کو مالی اور جذباتی طور پر نظرانداز کیا جاتا ہے۔ تعددِ ازواج میں تمام بیویوں کے ساتھ مکمل اور برابر کا سلوک، جو کہ مذہبی حکم بھی ہے، عملی طور پر ایک نازک توازن بن جاتا ہے جسے برقرار رکھنا مشکل ہوتا ہے۔قانون موجود ہونے کے باوجود، دیہی اور دور دراز علاقوں میں اس کی کمزور عملداری اور کم آگاہی کی وجہ سے خواتین اپنے قانونی حقوق سے واقف نہیں ہوتیں اور انہیں استعمال کرنے سے قاصر رہتی ہیں۔

    یہ دونوں سماجی و قانونی چیلنجز خواتین کی حیثیت اور ان کے وقار کے خلاف ہیں۔ حقوقِ نسواں کی حقیقی پاسداری کے لیے درج ذیل اقدامات ضروری ہیں ، کم عمری کی شادی اور غیر قانونی تعددِ ازواج کے خلاف قوانین کو پورے ملک میں بلا امتیاز مذہب و علاقے سختی سے نافذ کیا جائے۔ لڑکیوں کی تعلیم کو ترجیحی بنیادوں پر یقینی بنایا جائے تاکہ وہ شعور اور معاشی خودمختاری حاصل کر سکیں اور اپنے شادی کے فیصلے خود کر سکیں۔ مذہبی رہنماؤں، اساتذہ اور میڈیا کے ذریعے ان سماجی برائیوں کے خلاف مہم چلائی جائے اور اسلام میں خواتین کو دیے گئے حقوقِ مساوات و عدل کی صحیح تفہیم کو فروغ دیا جائے۔تمام صوبوں میں لڑکی کی شادی کی کم از کم عمر کو 18 سال پر لانا اور اس کی خلاف ورزی پر سزاؤں کو سخت کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

    پاکستان میں خواتین کی مکمل خودمختاری کا سفر تب تک ادھورا رہے گا جب تک کم عمری کی شادی اور تعددِ ازواج جیسے مسائل پر تحقیقاتی، تنقیدی اور اصلاحی نظر نہیں ڈالی جاتی۔ خواتین کو صرف خاندان کی زینت نہیں، بلکہ ایک آزاد، باشعور اور بااختیار شہری تسلیم کرنا ضروری ہے تاکہ وہ نہ صرف اپنی زندگی کے فیصلے خود کر سکیں بلکہ ایک مستحکم معاشرے کی تشکیل میں اپنا پورا کردار ادا کر سکیں۔

  • اب تو سب کچھ بدل چکا تھا،تحریر:نور فاطمہ

    اب تو سب کچھ بدل چکا تھا،تحریر:نور فاطمہ

    کمرے کی دیواروں پر وقت کے سائے رینگ رہے تھے۔ کھڑکی کے پردے ہلکے ہلکے ہل رہے تھے، جیسے ہوا بھی کسی انجانی بےچینی کا اظہار کر رہی ہو،شگفتہ آئینے کے سامنے بیٹھی تھی۔آئینہ اُس کا چہرہ نہیں، اُس کی تنہائی دکھا رہا تھا،اس کے ہاتھوں میں کنگھی تھی، مگر وہ بالوں کو نہیں، خیالوں کو سلجھا رہی تھی،خیالات جو برسوں سے الجھے پڑے تھ، کبھی محبت کی نمی میں، کبھی نظراندازی کی دھول میں۔

    ناصر، اس کا شوہر، ہمیشہ کی طرح اخبار کے سمندر میں غرق تھا۔ اس کی آنکھوں کے سامنے حروف ناچتے، خبریں چیختیں، تصویریں لہراتیں ، مگر ان سب میں کہیں شگفتہ نہیں تھی،اسی اثنا،شگفتہ نے دھیرے سے کہا،ناصر، آج چاند بہت خوبصورت ہے ناں،ناصر نے اخبار کے اوپر سے سرسری سی نگاہ ڈالی، اور بنا توجہ کئے بولا، ہوں… شاید،اور پھر حروف کی دنیا میں واپس چلا گیا۔

    یہ شاید کا لفظ شگفتہ کے دل میں کسی خنجر کی طرح اتر گیا۔کیا کسی کی توجہ بھی اب شاید ہو گئی ہے؟رات کے وقت وہ اکثر خود سے باتیں کرتی،کبھی آئینے سے، کبھی دیوار سے، کبھی چاند سے،میں تو کچھ نہیں مانگتی، وہ کہتی، نہ تحفے، نہ وعدے،بس ایک لمحے کی نگاہ ایک سنجیدہ لمسِ توجہ،مگر یہ چھوٹی سی خواہش بھی اب دنیا کے شور میں دب چکی تھی،عورت کی آواز اکثر نرم ہوتی ہے، مگر جب وہ دب جاتی ہے تو صدیوں گونجتی رہتی ہے۔

    شگفتہ کی نگاہیں اب کمرے کے ہر کونے میں بھٹکنے لگیں،دریچے، میز، دیوار پر لٹکا کیلنڈر ، ہر شے خاموش تھی،مگر ان خاموشیوں میں ایک طنز چھپا تھا، جیسے کہہ رہی ہوں تمہیں توجہ چاہیے، مگر تمہارا وجود اب معمول بن چکا ہے،کبھی کبھی اسے یاد آتا وہ دن جب ناصر کی نگاہیں اُس پر ٹکی رہتی تھیں،جب ایک چائے کے کپ میں مسکراہٹ گھول دی جاتی تھی،جب خاموشی میں بھی ایک مکالمہ ہوتا تھالیکن….اب تو سب کچھ بدل چکا تھا،توجہ ایک رسمِ ماضی بن گئی تھی،وہ چاہتی تھی کہ کوئی اُس کے چہرے کی لکیروں میں وقت کی تھکن نہ دیکھے، بلکہ اُس کے دل میں باقی رہ جانے والے احساس کو پہچانے۔

    شگفتہ اکثر سوچتی،یہ دنیا عورت سے محبت تو مانگتی ہے، مگر اسے سننا نہیں جانتی،عورت جب بولتی ہے، تو لوگ کہتے ہیں ‘خاموش رہو،اور جب خاموش رہتی ہے، تو کہتے ہیں ‘تم بدل گئی ہو۔کیا عورت کی توجہ کی خواہش کوئی گناہ ہے،یا یہ فطرت کی وہ صدائے خموش ہے جسے مرد سننے سے قاصر ہے؟ایک رات وہ دیر تک جاگتی رہی،
    چاند کھڑکی سے اندر جھانک رہا تھا،اور چاندنی نے کمرے کے ہر کونے کو چھو لیا تھا،اس نے آہستہ سے کہا، چاند، تم بھی تو ہر رات آتے ہو، مگر کوئی تمہیں دیکھتا کب ہے،تمہاری روشنی سب کے لیے ہے، مگر تمہاری تنہائی تمہاری اپنی ہے۔میں تمہاری طرح ہوں شاید، چمکتی ہوئی، مگر غیرمحسوس

    چاند جیسے سن رہا تھا،روشنی کی ایک لہر اس کے چہرے پر گری،اور وہ مسکرا دی ،وہ مسکراہٹ جو دل کی تھکن سے جنم لیتی ہے، مگر شکستگی میں بھی حسن رکھتی ہے۔شگفتہ نے خود سے کہا،شاید عورت کو توجہ کے لیے دوسروں کا محتاج نہیں ہونا چاہیے۔توجہ ایک کیفیت ہے، جو اندر سے پیدا ہوتی ہے،اگر دل بیدار ہو، تو پوری کائنات اس کی طرف متوجہ ہو جاتی ہے،اور تب پہلی بار، اس نے خود کو محسوس کیا ،اپنے سانسوں کی نرمی، اپنی آواز کی گہرائی، اپنی مسکراہٹ کی موجودگی،

    کمرے میں اب ویسا سنّاٹا نہیں تھا،دیواریں جیسے سانس لے رہی تھیں،شگفتہ نے کھڑکی کھولی ، ہوا کے نرم جھونکے نے اس کے بالوں کو چھوا،وہ لمحہ گویا کائنات کی خاموش اعترافی نگاہ تھی ،ایک خاموش مگر بھرپور توجہ،ناصر اب بھی اخبار پڑھ رہا تھا،مگر اس رات شگفتہ نے اُس کی طرف نہیں دیکھا۔وہ آئینے میں دیکھ رہی تھی ، خود کو،اور شاید پہلی بار،اسے لگا کہ وہ دیکھی جا رہی ہے ،کسی انسان کی نہیں،بلکہ اپنے وجود کی نگاہ سے

  • کیا تم نے دل چیر کر دیکھا ہے؟تحریر:قرۃالعین خالد

    کیا تم نے دل چیر کر دیکھا ہے؟تحریر:قرۃالعین خالد

    زندگی بہت مختصر ہے اور سب کو اپنے اپنے حصے کی ملی ہے۔ کوئی انسان کسی دوسرے کی زندگی نہیں کی سکتا نہ کسی کی قسمت میں لکھے غموں کا بوجھ اٹھا سکتا ہے نہ کسی کو ملی خوشیوں کو جی سکتا ہے۔ کوئی انسان کسی کے سکھ اپنی زندگی میں شامل نہیں کر سکتا اور نہ کسی کے دکھ بانٹ سکتا ہے۔ جو جس کا ہے وہ اسی کا ہے پھر پتہ نہیں کیوں کچھ لوگ اپنے حصے کی زندگی جینے کی بجائے دوسروں کی زندگی میں ذیادہ دلچسپی رکھتے ہیں۔
    الحمدللہ! مجھے میرے پیارے رب نے بہت سے ممالک دیکھنے کا موقع نصیب کیا اور تقریباً پیارے وطن کے تمام شمالی علاقہ جات بھی دیکھنے کا موقع ملا۔ بے شک یہ میرے رب کا فضل ہے۔ سوشل میڈیا کے اس دور میں جہاں ہر طرف ایک گہما گہمی ہے وہاں ہر طرح کے رابطوں کا ذریعہ بھی یہی میڈیم ہے۔ آج سائنس نے اتنی ترقی کر لی ہے کہ ایک کلک کے ساتھ آپ اپنی زندگی کے یادگار لمحات کو ہمیشہ کے لیے اپنی یادوں میں قید کر سکتے ہیں ان کو اپنے پیاروں کے ساتھ شئیر بھی کر سکتے ہیں۔ میں سوشل میڈیا پر بہت ذیادہ ایکٹیو بھی نہیں ہوں لیکن ابھی چند دن ہوئے میں نے چند تصاویر پوسٹ کیں اور میں حیران رہ گئی کہ
    لوگ کیسے دوسروں کو دین سکھاتے ہیں۔
    فتوے جاری کرتے ہیں۔
    تو چلیں کچھ باتیں کرتے ہیں!
    ان لوگوں سے جو مجھ سے محبت کرتے ہیں۔
    ان لوگوں سے جو صرف محبت کا دعویٰ کرتے ہیں۔
    ان لوگوں سے جو میری اصلاح کرنا چاہتے ہیں۔
    ان لوگوں سے جو مجھے دین سکھانا چاہتے ہیں۔
    ان لوگوں سے بھی جو مجھے غلط اور صحیح کا درس دینا چاہتے ہیں۔
    ان لوگوں سے جو میری فرینڈ لسٹ میں ہیں لیکن فرینڈ نہیں۔
    ان لوگوں سے جو۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ان لوگوں سے بھی جو۔۔۔۔۔۔

    اللّٰہ رب العزت قرآن پاک میں فرماتے ہیں کہ میں نے تقویٰ اور فجور انسان کے دل میں ڈال دیا ہے اب یہ انسان پر منحصر ہے کہ وہ اسے کیسے استعمال کرتا ہے۔ سوشل میڈیا کے دور میں کوئی انسان امریکہ جائے، انگلینڈ جائے، دبئی جائے یا دنیا کے کسی کونے میں جائے اس پر تصویر بنانے اور سیلفی لینے میں کوئی فتویٰ جاری نہیں ہوتا لیکن حرم جو سب سے قیمتی، پیاری، پاک جگہ ہے جہاں کا ایک ایک لمحہ محفوظ کرنا ہر مسلمان کی اولین خواہش ہو سکتا ہے وہاں پر تصویر لینے میں فوراً فتویٰ جاری۔۔۔۔۔میرا سوال اہل علم و دانش سے ہے تصویر بنا کر سوشل میڈیا پر لگانا غلط ہے یا حرم میں تصویر بنا کر لگانا غلط۔۔۔۔؟ کیونکہ جہاں تک میری ناقص عقل ہے تو غلط تو ہر جگہ غلط ہی ہوتا ہے۔

    میری عبادت، میرا اللّٰہ سے تعلق، میں اس کی خود ذمہ دار ہوں عام عوام کو میرے لیے پریشان ہونے کی ضرورت نہیں اگر میں حرم سے ہر روز ایک سیلفی لے کر پوسٹ کر رہی ہوں تو بھی میری مرضی ہے۔ مجھے سمجھ نہیں آئی لوگوں کے اعتراضات کی، کوئی صاحب علم و دانش مجھے سمجھا دے کہ گلے میں دوپٹہ ڈال کر یا کبھی بغیر دوپٹے کے بال کھول کر دنیا کے کسی بھی کونے سے کوئی اپنی تصویر بنا کر سوشل میڈیا پر ڈالے تو لوگ ماشاءاللہ کی لائن لگا دیتے ہیں لیکن پردے اور خدود اللّٰہ کا خیال رکھتے ہوئے کوئی اپنی تصویر لگا دے تو اس کا جینا مشکل کر دیتے ہیں لوگ۔
    لوگ بغیر جانے دوسروں کو کیوں جج کرتے ہیں؟
    کسی کے لباس سے کوئی کیسے کسی کا تعلق باللہ جانچ سکتا ہے؟
    کیا اللہ اور بندے کے درمیان کی محبت ماپنے کا کوئی پیمانہ انسانوں کے پاس ہے؟

    اسی لیے ۔۔۔۔اسی لیے۔۔۔۔اسی تنگ نظری کی وجہ سے ہماری نئی نسل دین سے دور ہے۔ وہ سوچتی ہے کہ اگر ہم پردہ کریں گے تو زندگی کے دروازے ہم پر تنگ ہو جائیں گے۔ میں ان کو بتانا چاہتی ہوں دین اسلام میں بہت وسعت ہے بس خدود اللّٰہ کا خیال رکھتے ہوئے اپنی زندگی اللہ کے احکامات کے مطابق جئیں اور دوسروں کو جینے دیں۔ اگر کسی کی عبادت قبول نہیں ہو رہی تو پلیز آپ لوگ ٹینشن نہ لیں۔۔۔۔۔اگر اچھا نہیں بول سکتے تو برا بھی نہ بولیں۔۔۔۔۔اتنے تو ہم سب مسلمان ہیں نا کہ حطبہ حجہ الوداع میں رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا۔
    "لوگو! تمھارے خون، تمھارے مال، تمھاری عزتیں ایک دوسرے پر ایسی حرام ہیں جیسے کہ تم پر آج کا دن اور اس شہر کی حرمت، دیکھو عنقریب تمھیں اللّٰہ کے سامنے حاضر ہونا ہے وہ تم سے تمھارے اعمال کے بارے میں سوال کرے گا۔”

    غور سے پڑھیے گا تمھارے اعمال کے بارے میں سوال ۔۔۔۔۔۔میرے نہیں ۔۔۔۔۔ کسی اور کے اعمال کے بارے میں نہیں بلکہ انسان کے اپنے اعمال کے بارے میں اللہ نے پوچھنا ہے۔
    "مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرا مسلمان محفوظ رہے۔” یہاں تو زبان اور ہاتھ رکتے ہی نہیں۔ جب جس کا دل چاہتا ہے ہاتھ کی انگلیوں سے بٹن دبایا اور تنقید اپنا حق سمجھ لیا۔ اگر تنقید برائے اصلاح ہو تو وہ ان باکس میں کرنی چاہیے کمینٹ باکس میں اصلاح نہیں بلکہ بے عزتی ہوتی ہے۔ صحن حرم میں لی گئی ایک تصویر پر مجھ سے دوستی کے دعوے داروں کا کمینٹ آتا ہے کہ حرم میں جوتا پہنا ہے۔ مجھے بتایا جاتا ہے کہ جوتا اتارتی تو زیادہ عاجزی نظر آتی۔ پھر ایک کمینٹ آتا ہے کہ یہی جوتا واش روم میں لے کر گئیں اور یہی صحن حرم میں، مجھے کوئی ان سے پوچھ کر یہ بتائے جب میں حرم میں واش روم گئی تھی تو یہ میرے ساتھ تھے انہوں نے دیکھا تھا کہ میں نے یہی جوتا پہنا ہے؟ یہاں بھی کوئی سعودی گورنمنٹ کا فتویٰ ہے تو ضرور کوئی مجھے بتائے ورنہ میں نے تو حرم میں ہر سوئیپر کو، ہر پولیس والے کو، ہر ملازم کو ہر ایک کو جوتوں نہیں ۔۔۔۔۔ بلکہ مٹی لگے ہوئے بھاری بھرکم بوٹوں میں دیکھا ہے۔ خدارا دین کو تنگ نہ بنائیں۔
    حضرت انس بن مالک سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "دین میں آسانی پیدا کرو مشکل میں نہ ڈالو، خوشخبری دو اور متنفر نہ کرو۔”
    دین کے ٹھیکے دار بننے کی بجائے اپنے اپنے اعمال کی طرف توجہ دیں۔ دور نبوت میں سیدنا اسامہ رضی اللّٰہ عنہ فرماتے ہیں ہم نے ایک سریہ کے دوران ایسے شخص کو پایا جس نے تلوار دیکھ کر فوراً لا الہ الا اللہ پڑھ لیا مجھے لگا اس نے تلوار اور موت کے ڈر سے کلمہ پڑھا ہے جب یہ معاملہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم تک پہنچا تو انہوں نے فرمایا: "اسامہ! کیا تم نے اس کا دل چیر کر دیکھا تھا؟ تمھیں کیسے پتہ کہ اس نے سچ میں کلمہ پڑھا یا موت کے ڈر سے۔” پھر رسول اللّٰہ بار بار یہ بات دہراتے گئے اور میں نے سوچا کاش میں نے آج اسلام قبول کیا ہوتا اور میرے پچھلے تمام گناہ معاف ہو جاتے۔(حوالہ صحیح مسلم:7)
    کسی کا اللہ سے کیا تعلق ہے؟
    وہ حرم میں تصویر بنائے یا ننگے پاؤں چلے۔۔۔۔وہ فرمان نبوی ہے نا کہ "اللہ بندے کی قربانی کا گوشت یا خون نہیں بلکہ اس کے دل کا تقویٰ دیکھتا ہے۔”
    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مطابق:”اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے۔”
    اور جہاں تک میری ناقص معلومات ہیں تو ابھی تک سائنس نے اتنی ترقی نہیں کی کہ دلوں اور نیتوں کو جانچنے والا کوئی آلہ بنا لیا ہو۔ دوسروں کی نیتوں پر نہیں اپنی نیتوں پر غور کریں۔ خدارا دین میں آسانیاں پیدا کریں جیں اور جینے دیں۔ اللہ پاک ہم سب کی مدد فرمائے آمین!

  • کنجوانی کا سفر ،تحریر: ڈاکٹر الوینہ

    کنجوانی کا سفر ،تحریر: ڈاکٹر الوینہ

    گرمیوں کی چھٹیاں ہمیشہ کسی نہ کسی سیر و تفریح کے بہانے گزر جاتی تھیں۔ اس بار بھی حسبِ روایت منصوبہ بندی جاری تھی کہ اچانک ابو کے ایک رشتہ دار کی کال آ گئی۔ ان کا گھر فیصل آباد کے قریب کنجوانی نامی گاؤں میں تھا اور وہ ہمیں دعوت دے رہے تھے۔ چونکہ یہ پہلا موقع تھا کہ ہم کسی ایسے خاندان سے ملنے جا رہے تھے جنہیں پہلے کبھی دیکھا یا سنا بھی نہ تھا، اس لیے سب ہی پرجوش تھے۔

    جمعرات کی دوپہر ہم سامان باندھ کر نکلے۔ سرگودھا سے فیصل آباد تک کا دو گھنٹے کا سفر تو جلد کٹ گیا، مگر کنجوانی تک پہنچتے پہنچتے مزید تین گھنٹے لگ گئے۔ بھوک کے مارے سب نڈھال تھے کیونکہ ہم یہ سوچ کر نکلے تھے کہ کھانا وہاں جا کر کھائیں گے۔

    جب گاڑی گاؤں میں داخل ہوئی تو کیچڑ، گوبر اور تنگ گلیاں دیکھ کر دل کچھ بوجھل سا ہو گیا۔ بہن کی اونچی ہیلز اور ہمارا شہروں والا انداز اس ماحول میں بالکل اجنبی لگ رہا تھا۔ مگر جیسے ہی گھر پہنچے تو دروازے پر کھڑے میزبانوں کے خوش اخلاق استقبال نے دل کا بوجھ ہلکا کر دیا۔

    گھر دیہاتی طرز کا مگر کشادہ تھا۔ کھلا صحن، لکڑیوں کا چولہا، بیٹھک، کچن اور کمرے سب کچھ ترتیب سے بنا ہوا تھا۔ مکھیاں بےشک بہت تھیں لیکن میزبانوں کی مسکراہٹ نے ساری کوفت کم کر دی۔سب سے پہلے آم کا ملک شیک ملا، پھر تھوڑی دیر بعد تازہ پھل اور اسنیکس۔ ان کے اپنے کھیتوں کی خوبانی اتنی میٹھی تھی کہ شاید ہی زندگی میں کبھی کھائی ہو۔ کچھ ہی دیر بعد بھرپور رات کا کھانا لگا۔مٹن کڑاہی، آلو قیمہ، چکن پلاؤ، رائتہ، سلاد اور میٹھے میں رس ملائی۔ کھانے کے بعد چھت پر گئے تو غروبِ آفتاب اور ہلکی بارش نے منظر اور بھی دلکش بنا دیا۔ شہروں میں ایسے نظارے شاذ ہی نصیب ہوتے ہیں۔اگلی صبح فجر کے وقت ٹھنڈی ہوا اور پرندوں کی آوازیں دل کو سکون بخش رہی تھیں۔ ناشتہ اور بھی شاندار تھا۔تازہ پراٹھے، تندوری نان، حلیم، سبزیاں، اچار، دہی اور لسی۔ شہروں میں جہاں ٹوسٹ اور چائے پر گزارا ہوتا ہے، وہاں کا خالص دیسی ناشتہ لاجواب تھا۔ناشتے کے بعد ہم کھیتوں کی طرف نکلے۔ بارش سے زمین گیلی تھی مگر ہوا خوشگوار تھی۔ تقریباً آدھے گھنٹے کے سفر کے بعد ان کا احاطہ آیا جہاں سولر پر چلنے والا ٹیوب ویل دیکھ کر حیرت ہوئی۔ سب نے کپڑے بدلے اور پانی میں نہانے کا فیصلہ کیا۔

    شروع میں ڈر لگا، لیکن جیسے ہی پانی میں اترا تو لگا کہ ساری تھکن اور الجھنیں بہہ گئی ہیں۔ وہ لمحہ میری زندگی کا سب سے خوشگوار تجربہ تھا۔ دیہات کے ایک چھوٹے سے ٹیوب ویل نے وہ سکون دیا جو بڑے بڑے شہروں کی آسائشیں بھی نہ دے سکیں۔

    کھیتوں میں کپاس چنتی عورتیں، ہنستے مسکراتے چہرے اور ہر گھر میں ملنے والی سچی مسکراہٹ،یہ سب کچھ ہمارے لیے نیا مگر بہت خوبصورت تجربہ تھا۔ گاؤں کے لوگ کم وسائل کے باوجود جتنے خوش مزاج اور مخلص ہیں، شہروں میں ویسی خلوص بھری مسکراہٹ شاذ و نادر ہی دیکھنے کو ملتی ہے۔دوپہر کو چنا چاٹ اور فرائی فش کے بعد ہم نے سرگودھا واپسی کی تیاری کی۔ سفر اگرچہ مختصر تھا مگر یادیں بہت گہری چھوڑ گیا۔

    اس سفر نے ایک بات سچ کر دکھائی جسے ہمیشہ کتابوں میں پڑھا تھا:
    گاؤں جیسا سکون، شہروں میں کہاں!

  • خاموشی،تحریر: اقصیٰ جبار

    خاموشی،تحریر: اقصیٰ جبار

    خاموشی محض الفاظ کے نہ ہونے کا نام نہیں، یہ روح کی وہ کیفیت ہے جس میں انسان اپنے اندر کے مکالمے سنتا ہے۔ بعض اوقات ایک لمحۂ سکوت ہزاروں لفظوں پر بھاری ہوتا ہے۔ دل کی گہرائیوں میں چھپی وہ صدائیں جو زبان ادا نہیں کر پاتی، خاموشی ہی کے پردے میں زیادہ واضح ہو جاتی ہیں۔

    ہمارا موجودہ معاشرہ شور و ہنگامے میں ڈوبا ہوا ہے۔ سیاست کا شور، میڈیا کا شور، بازاروں کا شور—لیکن ان سب آوازوں کے بیچ وہ سکوت کھو گیا ہے جو انسان کو اپنی حقیقت سے روشناس کراتا ہے۔ ہر شخص بول رہا ہے مگر سننے والا کوئی نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ تعلقات کمزور اور دلوں کے فاصلے طویل ہو گئے ہیں۔خاموشی کی اپنی زبان ہے۔ یہ کبھی محبت کی گہری علامت بن جاتی ہے اور کبھی احتجاج کا سب سے مضبوط اظہار۔ کبھی یہ زخموں کو ڈھانپ لیتی ہے اور کبھی دعا کی صورت آسمان تک پہنچتی ہے۔ اہلِ دانش کا کہنا ہے کہ کچھ سچائیاں صرف سکوت میں سمجھی جا سکتی ہیں، کیونکہ شور میں حقیقت کی آواز دب جاتی ہے۔

    لیکن افسوس کہ آج ہم نے یہ دولت کھو دی ہے۔ ہماری زندگیاں مصنوعی مصروفیات میں الجھ گئی ہیں۔ لمحہ بھر کے سکوت کو ہم اجنبیت سمجھنے لگے ہیں، حالانکہ یہی لمحے ہماری روح کے لیے شفا ہیں۔ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم شور سے نکل کر اپنے اندر جھانکیں، اپنے دل کی خاموشی کو سنیں۔ کیونکہ جو شخص اپنی خاموشی کو سمجھ لیتا ہے، وہی اپنے آپ کو پہچان لیتا ہے۔ اور جب انسان خود کو پہچان لے تو دنیا کے ہنگامے بھی اس پر اثر انداز نہیں ہو پاتے۔

  • اب بھی وقت ہے، لوٹ آؤ اپنے رب کی طرف،تحریر:نور فاطمہ

    اب بھی وقت ہے، لوٹ آؤ اپنے رب کی طرف،تحریر:نور فاطمہ

    آج ہم جس دور سے گزر رہے ہیں، وہ ایک فتنوں سے بھرا دور ہے۔ گناہ عام ہو چکے ہیں، بے حیائی نے ہمارے گھروں میں ڈیرے ڈال لیے ہیں، اور سوشل میڈیا نے ہمارے ہاتھوں سے اخلاقی کنٹرول چھین لیا ہے۔ ہم سب اکثر شکایت کرتے ہیں کہ "ہماری گورنمنٹ ٹھیک نہیں”، "معاشی حالات برے ہیں”، "امن و امان نہیں”، مگر کیا ہم نے کبھی خود سے یہ سوال کیا ہے کہ ہم خود کتنے ٹھیک ہیں؟،آج مرد و عورت دن رات سوشل میڈیا پر مصروف ہیں۔ حیا، شرم، اور اسلامی اقدار کا جنازہ نکل چکا ہے۔ لڑکے اور لڑکیاں نامحرموں سے بات چیت کو فخر سمجھتے ہیں۔ تصاویر، ویڈیوز، اور لائکس کی دوڑ نے ہمیں اخلاقی تباہی کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے۔ٹک ٹاک، انسٹا گرام، اور دیگر پلیٹ فارمز پر فحاشی عام ہے۔خواتین اپنے جسم کی نمائش کو آزادی کا نام دیتی ہیں۔مرد ان پلیٹ فارمز پر عورتوں کو تماشہ بنا کر تفریح لیتے ہیں۔نکاح مشکل، زنا آسان ہو گیا ہے۔

    ہم پنج وقتہ نماز چھوڑ کر دعا مانگتے ہیں کہ "یا اللہ ہمیں رزق دے”۔ ہم ماں باپ کی نافرمانی کرکے چاہتے ہیں کہ "اللہ ہماری اولاد کو نیک بنا دے”۔ ہم سود، جھوٹ، اور خیانت کے دھندوں میں ملوث ہو کر دعا کرتے ہیں کہ "اللہ ہمارے ملک کو ترقی دے”۔کیا ہم اللہ کے ساتھ مذاق کر رہے ہیں؟قرآن کہتا ہے:اللہ کسی قوم کی حالت نہیں بدلتا جب تک وہ خود اپنی حالت نہ بدلے،

    جب ہم ٹیکس چوری کرتے ہیں، رشوت لیتے اور دیتے ہیں، جھوٹ بولتے ہیں، وعدہ خلافی کرتے ہیں، سفارش پر حق دار کا حق چھینتے ہیں ، تو کیا قصور صرف حکومت کا ہے؟اگر حکومت کرپٹ ہے، تو یاد رکھیں کہ وہ اسی معاشرے سے نکلی ہے۔ معاشرہ ہم ہیں۔ اگر ہم خود کرپٹ ہیں، تو ہمارے حکمران کیسے نیک ہو سکتے ہیں؟ہمیں حکومت بدلنے سے پہلے اپنے آپ کو بدلنے کی ضرورت ہے۔سوشل میڈیا پر شرم و حیا کو فروغ دیں،اپنی اولاد کی تربیت قرآن و سنت کے مطابق کریں،حلال کمائی کو ترجیح دیں،سچ بولیں، امانت دار بنیں،اللہ کے احکامات پر عمل کریں ،ہمیں یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ اگر ہم خود کو نہیں بدلیں گے، تو نہ نظام بدلے گا، نہ حکومت، نہ حالات۔ معاشرہ افراد سے بنتا ہے، اور ہر فرد کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔آج کا وقت پکار رہا ہے،اب بھی وقت ہے، لوٹ آؤ اپنے رب کی طرف۔