Baaghi TV

Category: خواتین

  • تحریر: حبیب الرحمٰن خان  عنوان: اسلام اور عورت

    تحریر: حبیب الرحمٰن خان عنوان: اسلام اور عورت

    بلاشبہ حضرت انسان کی تخلیق اور اسے اشرف المخلوقات کا لقب عنایت کرنا رب العرش العظیم کی بے پناہ عنایت ہے
    اور اسے بھی دوسری دنیاوی مخلوقات کی طرح جوڑے کی شکل میں پیدا فرمایا
    لیکن ہر صنف کو الگ صفات سے نوازا
    اگر مرد کو طاقت و جرات عنایت فرمائی
    تو عورت کو مرد کے لیے بے مثال بنا کر دنیا میں رونمائی دی
    اگر مرد کو زیب وزینت کی کمی ملی تو
    عورت کو صنف نازک کہا گیا
    اسی صنف نازک کی کمی کا مرد نے ہر دور میں فاہدہ اٹھایا
    اسلام سے قبل عورت کو مرد کے مقابلے میں اشرف المخلوقات سے حصہ دینے سے ہی انکار کر دیا گیا
    جس کی مثال ایسے ہے کہ اسے پیدا ہوتے ہی قتل کر دیا جاتا
    میں سمجھتا ہوں کہ اسلام کے نزول کے مقاصد میں عورت کو مقام دلانا بھی شامل تھا۔
    اسی لیے رب کائنات نے قرآن مجید فرقان حمید اور فرمان رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے زریعے عورت کی بقاء کے لیے مختلف مقامات پر مختلف انداز میں کبھی حکم فرمایا تو کبھی ترغیب دی
    جیسا کہ رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

                    مَنْ عَالَ ثلاثَ بناتٍ فأدَّبَہُنَّ وَزَوَّجَہُنَّ وأحسنَ الیہِنَّ فلہ الجنة(۶)

                    جس نے تین لڑکیوں کی پرورش کی ان کو تعلیم تربیت دی، ان کی شادی کی اور ان کے ساتھ (بعد میں بھی) حسنِ سلوک کیا تو اس کے لیے جنت ہے۔
    اور دین حق نے نبی آخر الزماں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے زریعے عورت کو دنیا کے مختلف امور پر فائز کر کے عورت کی اہمیتِ کو اجاگر کیا
    صحابہ کے درمیان قرآن وحدیث میں علم رکھنے والی خواتین کافی مقدار میں ملتی ہیں، قرآن وحدیث کی روشنی میں مسائل کا استنباط اور فتویٰ دینا بڑا ہی مشکل اور نازک کام ہے؛ لیکن پھر بھی اس میدان میں عورتیں پیچھے نہیں تھیں؛ بلکہ صحابہٴ کرام کے مدِمقابل تھیں، جن میں کچھ کا ذکر کیا جاتاہے۔ مثلاً:

    حضرت خدیجہ ،حضرت عائشہ، حضرت ام سلمہ، حضرت ام عطیہ، حضرت صفیہ، حضرت ام حبیبہ، فاطمہ بنت آقا دوجہاں، اسماء بنت ابوبکر، ام شریک، فاطمہ بنت قیس، وغیرہ نمایاں تھیں۔
    لیکن دور حاضر میں مرد نے دور جہالت کا وطیرہ اپناتے ہوئے ایک بار پھر عورت کو پردے سے نکال کر دنیاوی رونق اور مرد کے لیے عیش و عشرت کا سامان بنا کر پیش کیا۔
    بد قسمتی سے اس سارے معاملے میں عورت نے ہی عورت کے استحصال کے لیے
    اہم کردار ادا کیا
    اور دنیاوی خواہشات کے لیے اپنی ہی جنس کی عزت و آبرو کو پاؤں تلے روندنے کے لیے مواقع فراہم کیے
    میرے خیال سے جسے ہم دور جدید کا نام دیتے ہیں
    وہ دور جہالت کی ہی ایک قسم ہے
    دین سے دوری نے حضرت انسان کو کسی کام کا نہیں چھوڑا
    متفق ہونا ضروری نہیں
    @HabibAlRehmnkhn

  • بیٹیوں کی شادی اور غربت .تحریر:حنا

    بیٹیوں کی شادی اور غربت .تحریر:حنا

    آج کل ہمارے معاشرے میں یہ رواج بنتا جا رہا ہے ۔چاہے لڑکی غریب ہے یا امیر ۔۔خواب سبھی کے ایک سے ہے ۔لڑکا گاڑی والا ہو ۔بنگلے والا ہو ۔۔ہمارے بزرگ کہتے تھے جتنی چادر ہو اتنے پاوں پھلاو ۔۔ہمارا اسلام کہتا ہے ۔لالچ بری بھلا ہے ۔۔بیٹی کا پہلا رشتہ آئے اگر لڑکا اچھا ہو تو فورا شادی طے کر دو ۔لیکن آج کل رواج ہے کہ پہلے بیسوں رشتے ٹھکرای جانے ۔۔اور پھر جب شادی کی عمر گزر جانی تو خود وہی رشتے ڈھونڈنے لگ جانا ۔۔پھر کہنا ملے تو سہی کوی ۔۔بس کر ہی دینی ہے ۔۔اور پھر اچھا رشتہ ملتا نہیں ۔۔دوسری طرف ایک طبقہ جو گیارہ بارہ سال کی بچیوں کی شادی کری جاتے ہیں ۔سولہ سترہ سال کے لڑکوں ساتھ ۔۔آپ جانتے ہو ۔۔معذوری کی شرح بڑھتی جارہی ہے ۔۔۔کبھی نوٹ کیا ہے بارہ تیرہ سال کی بچی جسے بمشکل دو وقت روٹی کھانے کو ملتی ہو اس سے سالہا سال بچے پیدا کرواتے رہنا اور امید رکھنا کہ وہ زندہ بھی رہے ۔

    ۔کبھی گیلی مٹی کے سانچے بنتے دیکھے ہیں۔۔۔نہیں نہ ۔۔تو ایک کمزور بچی کیسے صحت مند بچہ پیدا کر سکتی ہے ۔۔آج بھی ہمارے ہاں کچھ جگہوں پر جہالت کا سماں عام ہے ۔۔۔جنھوں نے عورت کو صرف کام والی یا بچے پیدا کرنے والی مشین سمجھا ہوتا ہے ۔۔پتہ نہیں کیوں لوگ یہ نہیں سمجھتے کہ زندگی کا مقصد صرف شادی نہیں ہوتا ۔۔۔۔میرے نبی صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا فرمان ہے لڑکا لڑکی بالغ ہو تو ان کے رشتے طے کر دو تاکہ وہ گناہ سے بچ سکیں ۔۔لیکن بالغ ہونے کو صرف ان کے جسم میں بدلاو کا مطلب نہیں گیا ۔بلکہ عقل بھی ہو۔۔بچی کی عمر کم از کم سترہ اٹھارہ تو ہو اگر آپ کو زیادہ ہی جلدی ہے اپنی بیٹی کو گھر سے نکالنے کی اور لڑکا کم از کم اٹھارہ سے اوپر کا ہو ۔ایسا نہیں کہ لڑکی بارہ تیرہ سال کی اور لڑکا سولہ سال کا جو لڑتے لڑتے زندگی گزارے اور جوانی میں بیس بار طلاق کا لفظ بھی بول چکے ہیں ایسی عمر میں ان پر شادی کا بوجھ ڈالنا اور سمجھنا کہ وہ عقل مند ہو گے ۔۔بالکل نہیں پھر لڑائ جھگڑے لڑائ جھگڑے نہیں قتل و غارت تک پہنچ جاتے ہیں ۔ایسا ہی تو ہورہا آج کل طلاق اللہ کے نزدیک سب سے ناپسندیدہ لفظ ہے ۔لیکن بہت سارے لوگ بے شمار سمجھدار اچھے بھلے لڑائ جھگڑے میں طلاق بول کر پھر سے ویسے کے ویسے ساتھ رہ رہے ہوتے ہیں کون سا کسی کو پتہ چلا ۔۔جبکہ طلاق کے بعد بیوی کا مرد کے ساتھ رہنا گناہ کے زمرے میں آتا ہے۔۔اب کوی یہ مت سوچے کہ میں شادی کے خلاف ہوں یا لبڑل کی زبان بول رہی ہوں الحمدللہ میں حافظہ ہوں اور قرآن پاک سے اتنا تو سیکھا ہے کہ اسلام بہت آسان دین ہے لوگوں نے ان کی سوچوں نے اسے مشکل بنا دیا ہے ۔۔ہر بندہ اپنے اپنے مطلب کی حدیث نکال کر لے آتا ہے لیکن عورت کو قرآن میں اللہ نے جو حقوق دیے وہ کوی نہی پڑھتے جیسے وراثت میں حصہ ہی دیکھ لیں ۔۔آپ ضرور کریں بچیوں کی شادیاں لیکن کم از کم انھیں کچھ تعلیم بھی دلوائیں تاکہ انھیں شعور تو ہو کہ بیوی کا مقصد شوہر کی خدمت ہوتا اس شوہر کی جو عقلمند ہو اور بیوی کا خیال رکھتا ہو نہ کہ خاموشی سے اس شوہر کا ظلم سہنا جو مار پیٹ کرتا ہو سالہا سال بچے تو پیدا کرواتا ہو لیکن خود نشے پہ لگا ہو اور نچوں کے اخراجات بیوی بچوں کے حقوق کا پتہ تک نہ ہو ۔۔اور پھر انھی بیوی بچوں کو قتل کر دیتا ہو ۔۔یاد رکھیے ظلم پر خاموش رہنا بھی ظلم ہوتا ہے ۔

    اب اصل بات پہ آتی ہوں لالچ ۔۔لوگ لالچ میں اپنی بیٹیوں کی شادیاں بیرون ملک سے آئے بوڑھوں سے کر دیتے ہیں ۔۔کہ بیٹا باہر چلا جاے گا یا لڑکی کے باپ کو وہ بوڑھا اچھا کاروبار کروا دے گا ۔۔لیکن اکثر اس کے برعکس ہوتا ہے ۔۔آج سے چھ سال پہلے ایک دوست تھی ۔اس وقت اس کی عمر اٹھارہ سال تھی تازہ تازہ بی۔اے ۔میں ایڈمشن ۔داخلہ ۔لیا تھا ۔کالج میں کسی ساتھ افیر تھا ۔نہ جانے کیا گناہ کر بیٹھی ۔۔کہ پتہ تب چلا جب باپ کے دوست کا رشتہ آگیا جو ۔عمر میں باپ سے بھی بڑا تھا ۔۔لڑکی اٹھارہ انیس سال کی اور وہ مرد آدمی ساٹھ سال کا ہوگا جو سعودی عرب رہتا تھا دو بچے تھے ۔۔آدمی کی بیٹی شادی شدہ تھی ۔اس لڑکی سے بھی عمر میں بڑی تھی ۔اور ایک لڑکا تھا وہ بھی جوان تھا ۔بیوی بھی زندہ تھی ۔۔۔۔جس لڑکی کی شادی ہونا تھا اس کے خاندان کے دیگر رشتہ داروں نے لڑکی کے والدین کو سمجھایا ۔۔کہ اگر لڑکی سے غلطی ہو بھی گئ ہے ۔تو تو کوی مناسب رشتہ ڈھونڈیں یہ ظلم ہے. لیکن والدین کو لالچ تھا ۔کہ اور بھی چھ بیٹیاں ہے ۔ایک بیٹا ہے ۔بیٹا باہر چلا جاے گا زندگی سنور جاے گی ۔۔ایک تو غریب کے خواب بھی کچھ زیادہ بڑے ہوتے ہیں ۔۔۔۔خیر شادی ہو گئ ۔۔کچھ عرصہ وہ لڑکی وہ آدمی کی فیملی کے ساتھ سعودی عرب رہی ۔پھر وہ فیملی پکا پکا پاکستان آگئ ۔۔۔آج اس کی شادی کو پانچ چھ سال ہو گے چار بچے ہے ۔۔اور اب اس کی عمر چوبیس سال ہو گی جو دکھنے میں کوی پچاس سال کی عورت کی طرح لگتی ہے ۔۔ سارا کام بھی کرتی ہے اور حکم ہے کہ بڑی بیگم جو اس کی ماں سے بھی بڑی ہو گی اس کے سامنے افف بھی نہیں کرنی ۔۔اپنی اچھی بھلی زندگی کو خود اپنے ہاتھوں برباد کر بیٹھی ۔۔ایسے ہی آنکھوں دیکھا ایک اور واقعہ ہے

    ایک تینتیس سال کی عورت بیوہ ہو گئ ۔اس کی ساس جو اس کی پھوپھی بھی تھی اور دو بیٹے تھے عورت کے پھوپھی نے بیٹے چھین لیے بہو کو گھر سے نکال دیا ۔۔۔بھائ کے گھر آگئ ۔۔ٹینشن سے ذہنی مریض بن گئ۔علاج کروایا تھوڑا بہت وہ ٹھیک ہووی ۔تو اس کے نئے رشتے تلاش کرنے لگ گیا ۔دوسری طرف ایک بابا جی تھے جس کا بیٹا اسے اکیلا چھوڑ کر چلا گیا تھا ۔بابا جی کو بھی کسی سہارے کی تلاش تھی کہ سب کام خود کرتا تھا ۔۔خیر بابا کی بیٹی نے خود ہی بابا کا وہ بیوہ سے رشتہ کر دیا ۔۔۔اس عورت کا بھائ بھی لالچی تھا کہ بابا جی ہے بزرگ کل مر جاے گا ساری جائیداد ہماری ۔۔لیکن خدا کو کچھ اور ہی منظور تھا ۔۔اس بابا جی سے وہ عورت کی ہووی دو بیٹیاں ۔۔بابا تو پھس گیا ایک تو ویسے خود بیمار دوسرا اوپر سے خرچہ کے لیے الگ لائن لگ گئ ۔وہ عورت کے بھائ کی بھی امیدوں پر پانی پھر گیا ۔۔پر بابا جی ایسے پھسے کہ وہ عورت پھر سے ذہنی مریض بن گئ ۔لوگوں نے بابا جی کو ڈرایا کہ عورت ہے ٹینشن لیتی ہو گی کہ میرے بام کچھ بھی نہیں کل تمھیں کچھ ہو گیا تو جائیداد میں باقی اولاد کا حصہ بھی آجاے گا میری بچیوں کا کیا ہوگا ۔۔

    بابا جی نے اپنی ساری جمع پونجی جائیداد سب وہ عورت کے نام کر دی ۔۔۔اپنی طرف سے حقوق دے کر سرخرو ہو گیا۔۔لیکن اب کیا ہوا وہ عورت اپنے بیٹوں سے ملنے لگ گئ ۔اب بابا جی اس ٹینشن میں بیمار پڑے ہووے کہ کہیں یہ سب کچھ بیٹوں کے نام نہ لگوا دے ۔اس سارے لکھنے کا مقصد یہ ہے ۔۔کہ لالچ نے ہمیں کتنا اندھا کر دیا ہے ۔۔لالچ میں ایسے لوگ اپنی دس دس سال کی بچیاں بھی خود وڈیروں کے حوالے کر دیتے ہیں۔۔غربت تو بدنام ہے ۔۔کبھی بھوک سے کوی مرا ہے ۔۔کہتے ہیں غربت کی وجہ سے فلاں نے ایسے کیا ویسا کیا ۔۔ارے رزق انسان کے پیچھے موت کی طرح بھاگتا ہے مگر شرط ہے انسان کوشش تو کرے صدق دل سے صاف نیت سے ۔۔پر نہیں انسان چاہتا ہے راتوں رات کوی خزانہ ہاتھ لگ جاے بس لگ جاے کسی بھی طرح پھر حلال حرام کی پہچان کہاں رہتی ہے ۔۔غربت کو روتے ہو تم ۔۔میرے نبی صلی اللہ علیہ والہ وسلم اور صحابہ علیی اسلام سے زیادہ غریب ڈھونڈ کر دکھا دو آج ۔میرے ملک کا فقیر بھی آج پیاز سے روٹی نہیں کھاتا ہوگا ۔۔جو ان عظیم ہستیوں نے کھائ کھجور کا آدھا ٹکرا کھا کر بھی روزے رکھے انھوں نے ۔ نااعوذباللہ نہ غربت کے ڈر سے حرام موت لی کسی نے نہ رب سے گلے شکوے کر کہ اپنا ایمان کمزور کیا ۔۔۔اب یہ نہ کہنا کہاں وہ کہاں ہم ۔۔۔یہاں بات غربت اور انسان کی ہے.اس وقت کیا یہ سب سہولتیں تھی ۔۔۔بالکل نہیں ۔۔انھوں نے تو جنگیں بھی بھوکے پیاسے لڑی ۔۔۔۔مجھے دکھا دو کسی نبی کسی صحابہ نے کسی ایک نے تاریخ میں یا تاریخ کی کسی کتاب میں کسی نے غربت کا رونا رویا ہو ۔۔

    آخر میں اتنا ہی کہوں گی ۔جناب ۔۔غربت بری نہیں نہ غریب برا ہے ۔۔بری تو وہ خواہشات کی لگام ہے جو کھلی چھوڑی ہووی ہے ۔۔۔خدارہ اپنی جانوں پر ظلم نہ کرو ۔۔۔صبر اور برداشت سے جینا سیکھیے۔۔۔ویسے تو ہم کہتے ہیں کہ ہمیں فخر ہے کہ ہم مسلمان ہے صرف مسلمان تو نہ بنیے ۔۔محمد کی امت بھی تو بنے ۔۔وہ امت جسے لوگ دیکھ کر سوچنے پرجبور ہو جائیں ۔۔کہ یہ یہ امت ایسی ہے تو ان کے نبی صلی اللہ علیہ والہ وسلم کیسے ہوں گے ۔۔شاید کہ اتر جاے تیرے دل میں میری بات ۔۔جزاک اللہ ۔

    ۔

    <

  • اولاد کا غم تحریر:  عائشہ رسول

    اولاد کا غم تحریر: عائشہ رسول

    اولاد ایک بڑی نعمت ہے. جنکی اولاد نہیں ہوتی وہ طرح طرح کے جتن کرتے ہیں. اگر اولاد راہ راست پر نہ ہو یعنی نافرمان ہو تو ایسی اولاد زندگی بھر کے لیے روگ بن جاتی ہے
    دورہ حاضر میں پاکستان میں ہی نہیں پوری دنیا میں ہی اس مسئلے کو لے کر لوگ پریشان ہیں

    اولاد کا غم’ غموں کا بادشاہ ہے جسے بھلایا نہیں جاسکتا’ جب یاد آتاہے تازہ ہو جاتا ہے
    نافرمان اولاد ہو یا بیوی وہ قابل قبول نہیں خواہ وہ نبی کی ہی کیوں نہ ہوں

    اسماعیل علیہ السلام بھی نبی کا بیٹا تھا اور نوح علیہ السلام کا بیٹا بھی نبی کا بیٹا تھا. نوح علیہ السلام کی بیوی بھی نبی کی بیوی تھی اور خدیجۃ الکبریٰ رضی اللہ عنہا بھی نبی کی بیوی تھی جنہیں جبرائیل علیہ السلام سلام بھیجتا تھا. حضرت مریم علیہا السلام بھی نبی ہی کی ماں تھیں.

    ماں کا نیک ہونا اولاد کیلئے فضیلت اور اولاد کا نیک ہونا والدین کیلئے. جو اولاد ماں باپ کی عزت و احترام کا خیال نہیں رکھتی وہ ساری زندگی گرم ریت اور کانٹوں پہ بسر کرتی ہے خواہ اس کے محلات اور دولت کے انبار ہی کیوں نہ ہوں. سکون انکے نصیب میں نہیں ہوتا
    والدین مہمان ہوتے اور اولاد میزبان. قدرت کے نظام میں تبدیلی نہیں آئی اج جو کچھ ہم اپنے والدین کے ساتھ کریں گے کل ہمارے ساتھ بھی ایسا ہی ہوگا

    اولاد جزبات سے سوچتی اور والدین جزبوں سے والدین کے جزبات بہت نازک ہوتے ایسے رویے مت رکھیں کہ والدین منہ بند ہو جائے اور آنکھیں ہونے کے باوجود اپکو دیکھنا بند کر دیں. اس عذاب کا بڑا سخت حساب ہوتا. اللہ تعالیٰ مجھے اور آپ سب کو والدین کا فرمانبردار فرمائے.
    آمین ثم آمین

    @Ayesha__ra

  • تحریر: محمد مدنی پاکستان میں بچوں عورتوں کے ساتھ زیادتی جیسے واقعات میں تیزی

    تحریر: محمد مدنی پاکستان میں بچوں عورتوں کے ساتھ زیادتی جیسے واقعات میں تیزی

    پاکستان میں جب سے سوشل میڈیا زیادہ آیا ہے ہر دوسرے دن کہیں نا کہیں ریپ جنسی تشدد کے واقعات سننے کو ملتے ہیں اور یہ بڑھتے ہی جا رہے ہیں سوشل میڈیا سے پہلے بھی یہ کام ہوتا تھا اب بھی ہو رہا ہوگا مگر فرق یہ ہے کہ جلد ہی سوشل میڈیا پر خبر آجاتی ہے آج بھی دیہات گاؤں جیسی جگہوں پر یہ واقعات ہوتے ہیں اس کا علم نہیں ہوتا وہ اس لئے کہ وہاں ہر کسی کے پاس موبائل انٹرنیٹ نہیں اور سادہ آدمی اسے استعمال بھی نہیں کر سکتا
    پاکستان میں اس وحشیانہ اور گھناؤنے جرم میں اکثر یہ دیکھا گیا ہے کہ اس میں ملوث بڑے بڑے لوگ جن کا بزنس بھی ہوتا ہے شامل ہوتے ہیں اور انھی کی سرپرستی میں یہ سب دھندے ہوتے ہیں کسی کی اتنی ہمت کیسے ہو سکتی ہے کہ وہ اتنے کانفیڈینس کے ساتھ کام کرے اس میں ضرور کہیں نا کہیں پولیس بھی شامل ہوتی ہے بہت سننے میں آتا ہے ہمارے مذہب میں کیوں کہا گیا ہے کہ نکاح کو آسان اور جلدی اپناؤ تاکہ بے راہ روی نا پھیلے

    اب ایک اور چیز نکل آئی ہے اور وہ ہے ڈارک ڈیپ ویب یہ سلسلہ ڈیجیٹل اور کمپیوٹر کی دنیا کا ہے جہاں پر ہر غلط کام ہوتا ہے جنسی تشدد کے دوران ویڈیوز بھی بنائی جاتی ہیں اور پھر کسی پر جنسی تشدد یا ریپ کر کے اس کو مزید بلیک میل بھی کیا جاتا ہے یہ کہہ کر کہ اگر تم نے فلاں کو بتایا تو میں ویڈیو وائرل کر دوں گا ڈارک ڈیپ ویب ایک ایسی جگہ ہے جہاں تشدد یا ریپ کے دوران بنائی جانے والی ویڈیو کو وہاں اپلوڈ کر دیا جاتا ہے اور کرپٹو ڈیجیٹل کرنسی میں بزنس بھی کیا جاتا ہے جب پاکستان میں ڈارک ڈیپ ویب کا نام آیا تو بہت سے میڈیا چینلز نے اس کے متعلق بتایا ان ویڈیوز کو وہاں باقاعدہ بیچا جاتا ہے اور ڈالر حاصل کیے جاتے ہیں مطلب باقاعدہ ایک بزنس پاکستان میں ایسے تشدد بڑھنے کی وجہ یہ ویب سائٹ بھی ہے کئیوں کے تو اس آمدنی سے گھر کے خرچے بھی چلتے ہیں ابھی کچھ دنوں پہلے اسلام آباد میں عثمان مرزا نامی شخص نے وحشیانہ درندگی کی اس واقعے سے سب ہی واقف ہو چکے ہوں گے
    زینب بیٹی کا جب واقعہ ہؤا تو میڈیا پر ڈارک ڈیپ ویب سے متعلق انکشافات ہوئے اس وقت زیادہ تر لوگوں نے اس سے انکار کیا لیکن یہ حقیقت نہیں اس دھندے کو ٹریس کرنا ہمارے ہاں زرا مشکل کام ہے لیکن باہر کے ممالک سے تلاش کرنا اور یہ کام کرنے والے کو پکڑنا آسان ہے
    ہمارے ہاں سب سے بڑا مسئلہ سسٹم کا خراب ہونا بھی ہے رشوت ہمارے ہاں عام ہے اور جب انصاف کے کٹہرے میں ملزم جاتا ہے تو اس کے ہاتھ اتنے لمبے اور تعلقات ہوتے ہیں کہ وہ ثبوت بھی مٹوادیتا ہے اور پھر عدالت کے سامنے مجرم نہیں گردانہ جاتا

    اپنی اولاد کو ایک خاص وقت میں اپنی حفاظت کے لیے تدابیر اور معلومات ضرور دیں
    جب تک پاکستان میں ریپ جنسی تشدد کےخلاف سخت سزا اور اس پر عمل نہیں ہوگا اس وقت تک یہ جرم بڑھتا رہے گا اور نہیں رکے گا
    ایک بار سیریا میں ایک ریپ کا کیس ہؤا وہاں اس وقت جنگ کی حالت تھی جس نے ریپ کیا اس کامیڈیکل ہؤا میچ کیا گیا اور پندرہ منٹ کے اندر اندر اس شخص کو سرے عام پھانسی دے دی گئی وہ دن اور آج کا دن اس کے بعد ایسے واقعات نہیں سننے میں آئے جبکہ ہمارے ہاں جب بھی ایسا کچھ سوچا جاتا ہے تو فوراً انسانی حقوق کی تنظیمیں جاگ اٹھتی ہیں اور پریشانیاں لاحق ہونے لگتی ہیں جبکہ انھیں کشمیر اور فلسطین نظر نہیں آتا

    پھر کہتا ہوں جب تک سخت سے سخت سزا نا ہوگی کچھ نہیں ہوگا

    کئی افراد لوگ اپنی شرمندگی کی وجہ سے پولیس کو نہیں بتاتے یا پھر وہ بااثر شخصیات کی دھمکی کی وجہ سے خاموشی اختیار کر لیتے ہیں خاموشی اختیار کرنا ریپ یا جنسی تشدد کرنے والے سے کہیں زیادہ جرم ہے

    ہمیں اپنی آنے والی نسلوں کا سوچنا ہے آئیے اس گند کے خلاف متحد ہوں

    @M1Pak

  • جہیز ایک بوجھ۔۔ تحریر: نورالعین

    جہیز ایک بوجھ۔۔ تحریر: نورالعین

    "بھائی صاحب یہ جہیز کی لسٹ نوٹ کر لیں۔۔”
    یہ ایسے الفاظ تھے جو بوڑھے باپ کی آنکھوں میں آنسو لے آئے اس کے جھکے ہوئے کندھے مزید جھک گئے اس نے ایک نظر لسٹ کی طرف دیکھا اور ایک نظر سے اپنی بدقسمت بیٹی کی طرف دیکھا جس کی رخصتی کو جہیز کے ٹرک کے ساتھ مشروط کر دیا گیا تھا۔۔
    آپ کو کیا لگتا ہے آسان ہوتا ہے اپنی بیٹی کو انگلی پکڑ کے چلانے سے اس کی شادی تک کا سفر۔۔؟
    لیکن باپ اپنی بیٹی کے لئے خود کو بیچنے کے لئے بھی تیار ہو جاتے ہیں۔وہ وہ چیزیں بھی اپنی بیٹیوں کو جہیز میں دیتے ہیں جو خود ان کے گھر میں نہیں ہوتی۔۔
    جب میں چھوٹی تھی تب بھی محلے یا خاندان میں شادی کا نام سنتی تھی تو ساتھ لازمی یہ بات بھی سنائی دیتی تھی کہ فلاں کی بہو اتنا جہیز لائی۔
    تب بھی میں سوچتی تھی کہ باپ ساری عمر کی کمائی اپنی اولاد پر لگانے کے بعد بھی اپنے فرض سے فارغ نہیں ہو پاتا وہ نا صرف اپنی بیٹی کو جہیز کے بھرے ٹرک دیتا ہے بلکہ شادی کے بعد بھی سسرالیوں کے مطالبات کم نہیں ہوتے، پھر اپنی بیٹی کا گھر بچانے کے لئے اس بوڑھے باپ کو ان مطالبات کی لسٹ بھی پوری کرنی پڑتی ہے۔۔
    کیسا ظلم ہے نا یہ۔۔

    ہم ہرگز کسی کی زندگی میں ذیل اندازی نہیں کر سکتے لیکن ہم اپنی زندگیوں میں اس جہیز جیسی لعنت کو ضرور ختم کر سکتے ہیں۔۔
    پہلے ہمیں اپنے والدین کا ذہن بنانا چاہیے کہ جہیز ایک لعنت ہے۔۔
    کیونکہ جب تک مرد اپنی ذمہ داری کو نہیں سنبھالے گا تب تک کسی نا کسی وجہ سے ان کے گھر کا سکون برباد ہوتا رہے گا، گھر اجڑتے رہیں اور یہ لعنتیں ایسے ہی چلتی رہیں گی۔۔۔
    لیکن اس میں ایک اور پہلو بھی سامنے ہے کہ بعض اوقات لڑکے والے ڈیمانڈنگ نہیں ہوتے لیکن لڑکیاں اپنے والدین پر خود بوجھ ڈالتی ہیں۔تین لاکھ کا لہنگا، لاکھ کا میک اپ، برینڈڈ کپڑے، جیولری۔ تو میری گزارش ہے کہ لڑکیوں کو بھی اپنی خواہشات پر کنٹرول رکھنا چاہیے۔۔
    لڑکیوں کو بھی چاہیے کہ وہ اپنے والدین کی چادر کے مطابق پیر پھیلائیں۔
    میں نے بہت سے ایسے بھی لوگ دیکھیں ہیں جو متوسط طبقے سے تعلق رکھتے ہیں لیکن صرف اور صرف دکھاوے کی خاطر اپنی جمع پونجی شادیوں میں پانی کی طرح بہا دیتے ہیں۔۔
    تو میری تحریر کا مقصد صرف اتنا ہے کہ ناں تو لڑکے اور اس کے گھر والے بیٹی کے باپ پر بوجھ ڈالیں ، اور ناں ہی بچیاں اپنے باپ کے بوڑھے کاندھوں پر اپنی بے جا خواہشات کا بوجھ ڈالیں۔۔

  • اچھا ہم سفر روح کا ساتھی .تحریر: فرزانہ شریف

    اچھا ہم سفر روح کا ساتھی .تحریر: فرزانہ شریف

    کہتے ہیں اچھا ہم سفر قسمت سے ملتا ہےجب دو لوگوں کا نکاح ہوتا ہے اس میں ایک قسم کا عہد ہوتا ہے کہ ہر دکھ درد میں ساتھ نبھانا ہے کسی ایک پر کوئی تکلیف یاآزمائش آنے پر فصلی بٹیرے بن کر اڑ نہیں جانا بلکہ آخری سانس تک ساتھ نبھانا ہے یہ ہی خاندانی بیٹیوں کی پہچان ہوتی ہے
    اللہ سے دعا کرتی رہیں۔ وہ آپکو جسم کا ہی نہیں، روح کا ساتھی عطا کرے۔ جو آپکی عزت کرنے والا ہو، قدر کرے، محبت کرے۔ آپ دونوں ایک دوسرے کے حق میں بہترین، نفیس، آرام دہ لباس ثابت ہوں۔ مودت اور رحمت والا رشتہ ہو۔ ایک دوسرے کی آنکھوں کی ٹھنڈک اور دل کا سکون بنیں۔
    اللہ سے مانگیں ہر وہ چیز جو آپ اپنے شوہر میں دیکھنا چاہتی ہیں۔ وہ عرش کے خزانوں کا مالک ہے۔ سب کو سب کچھ عطا کر دینے پر بھی اس کے پاس کمی نہیں آتی وہ آپکے گمان کے مطابق آپکو اپنے فضل سے نواز دے تو شوہر کے دل کا سکون بننے کے لیے آپ ہر ممکن ہر حال میں ساتھ نبھانے کا دل میں پختہ ارادہ کرلیں غم و خوشی میں شوہر کی خوشی مقدم رکھیں لیکن اس کا مطلب یہ بھی نہیں کی اس کے سر پر 24 گھنٹے سوار ہوجائیں تھوڑی سپیس بھی دیں کہ وہ اپنی مرضی سے سانس بھی لے سکیں اسی طرح شوہر کو بھی اپنی بیوی کو اپنی محبت کا مان دینا چاہئیے
    ممکن ہے کہ آپ شادی سے پہلے کسی اور کو پسند کرتے ہوں پہلی بات تو یہ ہے آپ نے اپنی پسند آخری حد تک حاصل کرنے کی کوشش کرنی چاہئیے تھی اگر آپ ناکام ہوگے ہیں تواپنے دل ودماغ کو اس بات کے لیے راضی کرلیں کہ اب یہی عورت آپ کی محبتوں کی اصل حقدار ہے جو اپنے پیارے چھوڑ کر آپ کے پہلو میں موجود ہے۔ اس کے ساتھ شرارت کریں،اپنی محبت سے اسے تحفظ کا احساس دلائیں

    بالکل جیسے آپ کو صاف ستھری بیوی اچھی لگتی ہے، بیوی کا بھی حق ہے کہ آپ hygiene کا خیال رکھیں۔ اس کے پاس صاف ستھرے ہو کر جائیے۔ اپنے لمحات خوبصورت بنائیے۔ Make her feel loved, not used.
    آپ کے ساس سسر نے کئی سال پال پوس کر اپنی اولاد آپ کے حوالے کی ہے۔ ان کا احترام کریں۔ بیوی بھی آپ کے گھر والوں کے ساتھ حسنِ سلوک سے رہے آپ اپنے بہین بھائیوں پر خرچ کریں تو منہ بسور کر نہ بیٹھ جائے بلکہ ہر معاملے میں آپ کی طاقت بنے نہ کہ کمزوری ہمیشہ اپنے شوہر کی وفادار بن کر رہیں اور وہ اپ کی وفادار رہیں۔
    اپنے شوہر کے لیے خود کو سنوار کر رکھیں اپنی پرسنیلٹی میں کانفیڈینس کے لئے اپنا مخصوص سٹائل۔بنائیں
    جیسےاپنے خاص انداز سے دوپٹہ اوڑھنا۔
    جو accessories پسند ہیں, انہیں سلیقے سے استعمال کریں جیسے ٹراؤزر کیساتھ کرتے پہننا؟یا شرٹ کے رنگوں کے حساب سے ٹراؤزر ۔اہم چیز یہ نوٹ رکھنی ہے آپ پر سوٹ کیا چیز کررہی ہے
    میک اپ کرنا یا نہ کرنا جس سٹائل میں بھی آپ خود کو کمفرٹیبل سمجھتے ہیں، اسے اپنا سگنیچر سٹائل بنالیں اور پورے کانفیڈینس کےساتھ اپنے ہم سفر کے ساتھ قدم سے قدم ملاکر چلیں
    میری دعائیں آپ کے ساتھ ہیں
    اللہ سبحان و تعالی آپ کے رشتوں میں برکتیں دیں
    اللہ نبی ﷺ اور خدیجہؓ والا ساتھ نصیب کرے۔ آمین

  • مصائب اور اسکا مقابلہ .تحریر : ریحانہ بی بی

    مصائب اور اسکا مقابلہ .تحریر : ریحانہ بی بی

    انسانی زندگی میں خوشی اور غم کا عجیب سنگم ہے, کبھی بہت زیادہ خوشی اور کبھی کوئی مصیبت…
    پہلی بات یہ ہے کہ اگر زندگی میں دکھ نہ ہو تو خوشی کا احساس بھی نہیں ہوتا. زندگی اپنی تمام تر خوشیوں اور غموں کے ساتھ, پھول کے ساتھ کانٹے, دھوپ کے ساتھ چھاؤں کا حسین امتزاج ہے. البتہ خوشی کے لمحات غیر محسوس طریقے سے گزر جاتے ہیں.
    اس دنیا میں کبھی بھی انسان کو دائمی خوشی حاصل ہے نہ دائمی غم. یہ سلسلہ ہر انسان کے ساتھ لگا ہوا ہے کوئی اس سے خالی نہیں. پر جب کسی پہ پریشانیوں کا سلسلہ دراز ہوجاتا ہے تو وہ یہ سمجھنے لگتا ہے کہ دنیا کی ساری مصیبتیں اسی کو مل رہی ہیں..
    ہم میں سے بہت سے ایسے لوگ ہیں جو ان مشکلات سے بددل ہوجاتے ہیں کہ انکی زندگی آ زمائشوں کا مجموعہ بن گئی ہے, وہ یہ سمجھنے لگتے ہیں کہ انکی قسمت ہی ایسی بنائی گئی ہے…… مگر یاد رکھیں اللہ کے نبی کا ارشاد ہے کہ :
    لوگوں میں سب سے زیادہ مصائب اور آ زمائش انبیاء کو پہنچے, پھر نیک و صالح لوگوں کو پھر جو اُن سے زیادہ مشابہت رکھنے والے انکو.
    حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے عرض کی اے اللہ کے رسول! لوگوں میں سب سے زیادہ سخت آ زمائش کس کی ہوتی ہے ؟
    آ پ نے فرمایا انبیاء کی, پھر صالحین کی کی.
    حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ جب کسی قوم کو چاہتا ہے اور پسند کرتا ہے تو اسے آ زمائش میں ڈالتا ہے. بندہ جب اس پر راضی رہتا ہے تو اللہ اس سے راضی و خوش ہوجاتا ہے.
    اس حدیث سے اندازہ ہوتا ہے کہ محض بیماری, پریشانی, آزمائش, سزا نہیں بلکہ اُس آ زمائش پر صبر نہ کرنے میں ہے.
    حضرت انس بن مالک سے روایت ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا اللہ جب اپنے بندے کے ساتھ خیر کا معاملہ کرنے کا ارادہ کرتا ہے تو اسے دنیا ہی میں جلدی سزا دے دیتا ہے اور اگر اللہ اپنے بندے کے ساتھ خیر کرنا نہیں چاہتا تو اسکے گناہوں کے باوجود اسکی گرفت نہیں کرتا, پھر قیامت کے دن اسکا بدلہ دیتا ہے.

    ہمیں اپنے مستقبل کے بارے میں سوچنا چاہیے کہ ہمیں مصائب و آ زمائش میں کس طرح رہنا ہے , اس سے کس طرح نمٹنا چاہئے.
    منفی انداز اختیار کرنے سے گریز کرنا چاہیے کیونکہ منفی طرزعمل بندے کو اللہ سے دور کر دیتا ہے.
    ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ اس دنیا میں کوئی انسان ایسا نہیں جو کسی نہ کسی طرح کی آ زمائش میں مبتلا نہ ہو ہاں اسکی نوعیت الگ الگ ضرور ہوتی ہے.
    میری اس تحریر کا مقصد یہ ہے کہ انسان کو مصائب کیوں درپیش ہوتے ہیں اور انکا مقابلہ کیسے کیا جاسکتا ہے.
    انسان مصائب کا مقابلہ صبر سے کرے. اس میں کوئی شک نہیں کہ اسکے مصائب نعمتوں سے بدل جائیں اور نعمتوں کی حفاظت شکر ادا کرکے کریں.

  • صرف پردہ کا حکم عورت کا ہی کیوں عام ؟تحریر قراۃالعین

    صرف پردہ کا حکم عورت کا ہی کیوں عام ؟تحریر قراۃالعین

    ہمارے معاشرے میں ہر جگہ صرف عورت کے پردے کی ہی بات ہوتی ہے اچھی بات ہے اسلام کی خوبصورتی پردے میں ہے ہونی بھی چاہے
    پر وہ مرد جو ہر وقت عورت کا پردہ پردہ کرتے رہتے کیا وہ خود عورت کو دیکھ کر نگاہ نیچ رکھتے؟ ہرگز نہیں۔
    اگر رکھی ہوتی تو انہیں کبھی معلوم نہ ہوتا کوئی عورت بے پردہ گھوم رہی ہے یا پردے میں

    ہر جگہ عورت کا پردہ پردہ کرنے والے یہ بات بھول جاتے ہیں کہ قرآن میں عورت کے پردے سے پہلے مرد کو نگاہ نیچی رکھنے کا حکم ملا ہے

    پر یہ خاصہ مشکل کام ہے آپ کی اٹھی نگاہیں عورت کی بے پردگی کی طرح نہ تو کسی کو نظر آتیں ہیں نہ اس میں کوئی برائی
    سمجھی جاتی

    کوئی عورت پردے میں بھی ہوگی تو اسکا گھر تک پیچھا کیا جاتا اس کو تب تک دیکھا جاتا جب تک وہ آنکھوں سے اوجھل نہ ہو جائے
    تو اس میں قصور کس کا ہوا آپ کی حیوانیت کا یا عورت کے پردے کا
    تو خدارا منافقت چھوڑیں عورت کے پردے کے ساتھ ساتھ مردوں کو نگاہیں نیچے رکھنے کا فیصلہ بھی جگہ جگہ عام کریں
    جس طرح گھر میں اپنی ماں بہن بیٹیوں بہو کو دیکھ کر نگاہیں نیچی کرلی جاتی ہیں اسی طرح پرائی عورتوں کےلئے بھی نگاہیں نیچی
    کریں
    تحریر قراۃالعین
    @qurat_Writters

  • زندگی کا راز اور قانون کشش ،تحریر: آمنہ بخاری

    زندگی کا راز اور قانون کشش ،تحریر: آمنہ بخاری

    لوگ جو چاہتے ہیں وہ ان کے پاس نہیں ہے اور اس کی وجہ صرف ایک ہے کیونکہ وہ زیادہ تر اس بارے میں سوچتے ہیں جو وہ نہیں چاہتے بجائے اس کے جو وہ چاہتے ہیں زندگی کا عظیم راز "قانون کشش” میں رکھا گیا ہے اس قانون کے تحت جو کچھ آپ سوچتے ہیں آپ اس چیز کو اپنی طرف کھینچتے ہیں قانون کشش در حقیقت آپکے خیالات کا ردِ عمل ہے اور یہ قانون بالکل قانون ثقل کی طرح کام کرتا ہے یہ غیر جانبدار اور بے لاگ ہے اور یہ فطرت کا قانون ہے یہ آپکو وہ کچھ دیتا ہے جس کے بارے میں آپ سوچتے ہیں ایک انسان کی حقیقت اسکی سوچ میں موجود ہوتی ہے آپ اگر لگاتار سوچتے ہیں کہ میں بحث نہیں کرنا چاہتا تو قانون کشش کے مطابق آپ زیادہ بحث کرنا چاہتے ہیں

    یہ ساری کائنات خیالات کی آماجگاہ ہے ہر انسان اپنی زندگی قانون کشش و خیالات کے ذریعے تخلیق کر رہا ہے یہ قانون ہر شخص کی زندگی میں ہمیشہ سے کام کر رہا ہے جب کوئی انسان اس قانون سے باخبر ہو جاتا ہے تو اس بات سے بھی باخبر ہو جاتا ہے کہ آپ ناقابل یقین قوت کے مالک ہیں جو آپ کو آپکی زندگی کے وجود کے بارے میں سوچنے کے قابل بناتی ہے آپ جو سوچ رہے ہیں وہ آپ کے مستقبل کی تخلیق کر رہا ہے آپ کو زندگی میں جو کچھ چاہیے آپ کو اپنی ذات کو صرف اس بات کا یقین دلانا ہے کہ وہ چیز آپکی ہو چکی ہے پھر فطرت کا قانون دیکھیں وہ کیسے راستے بنا کر اس چیز کو آپ تک پہنچائے گی آپ کی زندگی تب بدلتی ہے جب آپ اپنی سوچ کا دائرہ کار بدل لیتے ہیں

    "رونڈ ابرن” کی ایک کتاب "دی سیکرٹ” کے مطابق خیالات مقناطیسی ہیں اور خیالات کی ایک فریکوئنسی ہے جیسے ہی آپ اپنے خیالات سوچتے ہیں یہ کائنات میں بھیجے جاتے ہیں اور یہ ایک ہی فریکوئنسی کی مشابہت والی چیزوں کو اپنی طرف کشش کرتے ہیں ہر بھیجی گئی چیز اپنے منبع کی طرف واپس لوٹتی ہےخیالات مثبت اور منفی ہوتے ہیں کوئی دوسرا آپکو نہیں بتا سکتا کہ آپ اچھا محسوس کر رہے ہیں یا برا آپ کے خیالات ہی آپ کے احساسات(جذبات) کا باعث بنتے ہیں اگر آپ برا محسوس کر رہے ہیں تو یہ آپ کے خیالات ہیں جو آپ کو برا محسوس کروا رہے ہیں جب کبھی آپ کو برے احساسات محسوس ہوں تو فوراً اپنی فریکوئنسی کو بدلیں اور اس کے لیے مسلمان ہونے کے ناطے آپ اللّہ کا ذکر کرنا شروع کر دیں اپنی خوشگوار یادوں کی طرف خود کو راغب کریں اور ایسا کرنے کے لیے آپکو صرف دو سے تین منٹ درکار ہیں۔

    پاکستان جیسے ممالک پر کئی دہائیوں سےمنفی سوچ کے بادل چھائے ہوئے ہیں جب پاکستانی ناامیدی کا کفر ترک کر دیں گے اچھی سوچ اور امید سے سر اٹھا کر جینا سیکھیں گے مثبت رویوں کو اپنائیں گےتو یہ مایوسی کے بادل ایسے چھٹ جائیں گےجیسے کبھی تھےہی نہیں "ڈاکٹر جان ہیلگن کے مطابق اندرونی خوشیاں در حقیقت کامیابی کا راز ہیں”
    خوشیاں آپکی سوچ کے تابع ہیں سوچ بدلیں اور دیکھیں آپ کی زندگی کیسے بدلتی ہے۔
    قلمکار: آمنہ بخاری

  • آنلائن بزنس میں خواتین کا کردار،تحریر:طاہرہ عتیق

    آنلائن بزنس میں خواتین کا کردار،تحریر:طاہرہ عتیق

    آنلائن بزنس میں خواتین کا کردار،تحریر:طاہرہ عتیق

    آج کل کے حالات اور مہنگائی کو مد نظر رکھتے ہوئے خواتین کو چاہیے کہ وہ بھی مردوں کے شانہ بشانہ کام کر کے گھر میں آمدنی میں اضافے کا سبب بنیں ،یہ کوئی اتنی انہونی بات نہیں. ہم خواتین اگر کہیں جاب کرنا چاہیں تو انکو اسکول جوائن کرنے ٹیوشن پڑھانے یا بینکنگ میں سیکٹر میں جاب حاصل کرنے کیلئے مشورہ دیا جاتا ہے جس سے خواتین ایک محدود آمدنی کما سکتی ہیں مگر مسئلہ یہ ہے کہ اسکول جاب میں ٹائم تو کم ہے مگر تنخواہ کے نام پر چند ہزار پکڑا دئیے جاتے ہیں جبکہ بینکنگ سیکٹر میں کام تو خوب لیا جاتا ہے مگر ترقی کی راہ میں روذے اٹکانا معمول ہے
    وہ کیا ایسے کام ہیں جو خواتین اپنی مرضی سے اپنی آسانی کےساتھ کرسکتی ہیں

    دیکھا جائے تو آجکل کا سوشل میڈیا بہت طاقتور حیثیت رکھتا ہے. فیس بک انسٹا گرام ٹویٹر پر خواتین کی بڑی تعداد نظر آتی ہے فیس بک اور انسٹا گرام پر تو باقاعدہ پیجز بنا کر خواتین چھوٹے پیمانے پر بزنس چلا رہی ہیں کپڑوں جوتوں جیولری میک اپ کھلونے اور بہت سی ایسی اشیاء ہیں جو یہ خواتین نہایت مناسب دام پر فروخت کر کے اپنا خرچہ پورا کررہی ہیں.یہ خواتین یہ کام گھر سے کرتی ہیں جس سے یہ اپنے گھر کی زمہ داری پوری کرنے کے ساتھ اپنے فری ٹائم. کو استعمال کر کے آمدنی بڑھانے کی کوشش کرتی ہیں اس مد میں وہ ایک اچھا پرافٹ کما لیتی ہیں یہ ایک آسان زریعہ آمدنی ہے جس کے زریعے آپ کو گھر بیٹھے معیاری اشیاء فراہم کردی جاتی اور بازاروں کی خواری سے بھی بچا جاسکتا ہے
    مگر افسوس کا مقام ہے کہ ان خواتین کیلئے حکومت کوئی سنجیدہ قدم نہیں اٹھا سکی جس طرح آنلائن خرید و فروخت میں اضافہ ہوا ہے حکومت کو چاہیے کہ ان خواتین کی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے ان کو باقاعدہ ایک پلیٹ فارم منظم کر کے دے جس میں ایسی خواتین کے مسائل کا تدراک کیا جائے بلکہ انکی حوصلہ افزائی بھی کی جائے.