Baaghi TV

Category: خواتین

  • مشرقی لڑکی  اور ہمارا معاشرہ  تحریر: از عمرہ خان

    مشرقی لڑکی اور ہمارا معاشرہ تحریر: از عمرہ خان

    آج کل دیکھا جائے تو عورتیں ہر محاذ پر مردوں کے زمانہ بشانہ کھڑی ہیں اور یہ ہونا بھی چاہیے ۔۔۔ مگر دیکھا جائے تو ایک عورت جتنی ترقی کرلے وہ مرد سے ایک قدم پیچھے ہی رہے گی کیونکہ یہی قدرت کا قانون ہے ۔۔۔۔ بے شک ایک عورت پائلٹ ضرور بن سکتی ہے مگر 40 اور پچاس کلو وزن اٹھانا؟؟؟ یہ اسکے لئے ممکن نہیں ہے کیونکہ اسے تو خود ایک آبگینہ کہا گیا ہے ۔۔۔۔ اور آبگینہ کیا ہوتا ہے؟ نازک آبگینہ یعنی کانچ کا ٹکڑا جو ذرا سی کھرونچ سے اپنی خوبصورت کھو دیتا ہے ۔۔۔۔گر جائے یا ٹکرا جائے تو پاش پاش ہوجاتاہے ۔۔۔۔ عورت تو وہ نازک آبگینہ ہے ۔۔۔۔۔
    اونٹ اپنی رفتار سے چلائے جارہے ہیں کہ اونٹ بان کو حکم ہوتا ہے
    رُوَيْدَكَ يَا أَنْجَشَةُ، لَا تَكْسِرِ الْقَوَارِيرَ”
    (بخاری:6211)
    "انجشہ! دھیرے چلو، ورنہ آبگینے ٹوٹ جائیں گے _”
    یہ آبگینے کون تھے ؟؟ یہ وہ عورتیں تھیں جو ان اونٹوں پر سوار تھیں۔ اور یہ کہنے والی ہستی ؟؟ یہ وہ ہستی صلی اللّٰہ علیہ وسلم تھی کے جسکے لئے کائنات کو وجود بخشا گیا ۔۔۔۔۔
    آج جب ایک عورت آزادی کیلئے آواز اٹھاتی ہے تو وہ درحقیقت اپنے خلاف خلاف آواز اٹھاتی ہے
    اور صرف یہی نہیں پھر مردوں کے بیچ وہ رہتی ہے۔ہر قسم کی باتیں اس ماحول میں کرتی ہے تو بھی وہ اپنی نسوانیت کھو رہی ہوتی ہے
    پھر وہ لڑکی ان مردوں میں اٹھتی بیٹھتی ہے ہنسی مذاق اور بات چیت کرتی ہے ۔۔۔۔۔ایک لڑکی کے پاس تربیت کے علاؤہ کوئی مانع نہیں ہوتا کہ وہ یہ ہنسی مذاقفضول گوئی نہ کرے ۔۔۔۔ اب ان باتوں پر بہت سے لوگ آئینگے کہ جنھیں یہ باتیں کنجسٹڈ سوچ اور دقیانوسیت لگے گی ۔۔۔۔۔مگر ہم چودہ صدی پیچھے جائیں تو دیکھتے ہیں امت مسلمہ کی رول ماڈلز کو حکم ہوا ہے کہ
    اے نبی کی بیویو! تم عام عورتوں کی طرح نہیں ہو، اگر تم پرہیزگاری اختیار کرو تو نرم لہجے میں بات نہ کرو مبادا جس کے دل میں روگ ہو وہ کوئی برا خیال وابستہ کر لے اور قاعدہ کے مطابق گفتگو کرو۔‘‘
    پھر وہ تو پاکیزہ لوگوں کا دور تھا آج جہاں فتنہ و فساد برپا ہے جہاں 2 اور تین سالہ بچی نہیں بخشی جاتی وہاں ایک لڑکی مردوں سے بے تکلف ہوتی ہے ہنسی مذاق اور فضول گوئی کرتی ہے اور آج تو دل کے روگ کا اور بھی شبہ ہے ۔۔۔۔۔ کیا اچھا نہ ہو کہ عورت اپنی حدود میں رہ کر معرکہ سر کرے ۔۔۔۔۔ کیا اس وقت عورتیں باہر نہیں نکلتی تھیں ؟ کیا اس دور میں عورت گھر کی قیدی تھی؟؟۔ حضرت اسماء بنت ابوبکر رضی اللّٰہ عنھما وہ مدینے کے اطراف میں کھجور کی گھٹلیاں چننے جایا کرتی تھیں ۔۔۔۔حضرت خولہ بنت ازور اس وقت اسلامی لشکر میں آگے آگے تھیں جب وہ لشکر انکے بھائی کو کفار سے چھڑانے کفار کا پیچھا کر رہا تھا ۔۔۔۔۔ حضرت عائشہ صدیقہ امت ماں ۔۔۔ رضی اللّٰہ عنھا انسے بے شمار صحابہ نے بے شمار احادیث نقل فرمائیں۔ مگر ان سب عظیم عورتوں نے یہ سب اللّٰہ کی قائم کردہ حدودوں میں رہ کر کیا ۔۔۔۔۔۔
    صرف یہی نہیں دین اسلام کی پہلی شہید بھی ایک عورت تھیں حضرت سمیہ رضی اللّٰہ عنھا
    دین کی نشرو اشاعت سے لیکر روز مرہ کے کام کاج تک سبھی تو کرتی تھیں عورتیں چودہ سال پہلے بھی ۔۔۔۔۔اور پھر آزادی ؟؟؟ کیا ہمیں آزادی 1400 سال پہلے نہیں مل گئی؟؟ جب بچیوں کو زندہ دفنا دیا جاتا تھا ۔۔۔جب عورت دنیا کی حقیر ترین شئے تھی !!! اسلام آیا اور وہی عورت عظیم ترین ہوگئی ماں ہے تو قدموں تلے جنت بیٹی ہے تو رحمت ۔۔۔۔کیا یہ آزادی ملنا نہیں تھا؟ پھر یہ آزادی جو آج عورت چاہتی ہے کیا ہے؟ اب جو رہا ہے وہ مردوں کے برابر آ کھڑا ہونا ہے اور یہ تو قدرت ہی کہ قانون کے خلاف ہوجائے ۔۔۔۔ کیونکہ عورت تو اللّٰہ تعالٰی کی بڑی نفاست اور لچک سے بنی مخلوق پھر وہ کیسے ایک مرد کے برابر ہوسکتی ہے۔۔
    پھر دنیاوی کام کاج وہ تو آج سے چودہ سال پہلے بھی عورتوں نے نہیں چھوڑے تھے دین کے نام پر ۔۔۔۔۔بس آپ ایک بہن ایک بیٹی ایک ماں بن کر اللّٰہ کے حدود کی پاسداری کریںتو سب کچھ ممکن ہے۔۔۔۔۔ ترقی آج بھی عورت کر رہی ہے مگر یہ سوچ کہ ترقی کیلئے چھوٹے کپڑے اور بڑی سوچ ضروری ہے تو یہ سوچ غلط ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔جس سوچ کو آج کل بڑی سوچ کہا جارہا ہے یہ اور کچھ نہیں صرف ذہن کا فتور ہے عورت پردے میں رہ کر بھی وہ سب کرسکتی ہے جو کچھ آ ج چھوٹے کپڑے اور بڑی سوچ کے نام پر گھٹیا سوچ بناکر کر رہی ہے۔۔۔۔کسی کو یہ باتیں چھوٹی سوچ کی عکاسی لگتی ہیں تو لگیں ۔۔۔عورت ایک آبگینہ ہے جو جتنا زیادہ چھپا کر اور حفاظت سے رکھا جائے اتنا ہی اپنی خوبصورتی برقرار رکھتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔ اپنے معاشرے اور دین اسلام کی ان حدود سے کسی عورت کو شکایت ہے تو وہ مغربی ممالک کی عورت کو دیکھے امید ہے کہ شکایت میں کمی واقع ہوگی یوں بھی نسل عورت سے بنتی ہے آج کل جب سب کچھ الٹ چل رہا نسل نو پستی کا شکار ہے تو اس میں بھی کہیں نہ کہیں عورت کا ہاتھ ہے کیونکہ اس نسل کو اپنی پہلی درس گاہ سے ہی اچھا سبق نہ مل سکا تو دنیا میں فتوحات کیسے ہوں
    مشہور سپہ سالار نیپولین بوناپارٹ کا ایک قول ہے کہ
    ” مجھے اچھی مائیں دو میں تمہیں بہترین قوم دونگا ”
    اس بات کو تو مغرب بھی تسلیم کرتا ہے یہی وجہ ہے کہ اب وہ اسلامی معاشرے میں عورت کے کردار کو بری طرح مسخ کرنے کے درپے ہے تو آج تو عورت کو اور زیادہ دامن بچا بچا کر اور ثابت قدمی سے رہنا ہے ۔۔۔۔۔۔
    Twitter handle: @Amk_20k

  • مجبور اور لاچار عورتیں تحریر:حنا سرور

    مجبور اور لاچار عورتیں تحریر:حنا سرور

    آپ نے جگہ جگہ دیکھا ہو گا اپنے آس پاس گلی محلے میں ہی ہے ۔بہت سی عورتوں ایسی ہوں گی ۔جو بیوہ یا طلاق یافتہ ہوں گی جو اپنے باپ بھائ کی بھابیوں کی ڈانٹ ڈپٹ سنتی ہوں گی ان کے کام کرتی ہو گی ۔اس سب کے باوجود وہ خوش نہی ہوں گی ۔۔ان کو اپنے بھائیوں سے بھابھی سے والدین سے ہزار شکوے ہوں گے ۔وہ اپنے بچوں کو اچھی زندگی نہیں دے سکتی ۔بھائ کے بچوں سے مقابلہ یا لڑائ جھگڑے عجیب سی سوچ ہو جاتی ان عورتوں کی ۔۔اس سب کی ذمہ دار کون؟ والدین ۔۔والدین کو لڑکی کو یہ تو سکھاتے ہیں کہ شادی کے بعد شوہر کی خدمت کرنی ہے ساس سسر کی خدمت کرنی ہے وہ مر لڑائ جھگڑا کرے مگر تم نے وہ ہی رہنا ہے ۔۔لیکن اگر والدین کو لڑکی کو اس قابل بنائیں ۔کہ کل اللہ نہ کرے لڑکی کو طلاق ہو جاتی ہے آگے شادی نہیں کر سکتے ۔یا لڑکی بیوہ ہو جاتی ہے ۔تو کم از کم اسے اس قابل بنائیں کہ وہ اپنا اور اپنے بچوں کا پیٹ پال سکے اسے بھیک مانگ کر زندگی نہ گزارنی پڑے ۔آپ لڑکی کو نہیں پڑھا سکتے نہیں پڑھانا چاہتے مت پڑھائیں ۔آپ اسے سلائ سکھائیں ۔آج کے دور میں سلائ سب سے بہترین ہے وہ اپنی زندگی آسانی سے گزار سکتی ۔آپ اسے پڑھانا چاہتے اسے ضرور پڑھائیں ۔اسے کسی قابل بنائیں ۔شادی کا کیا ۔وہ تو ہو ہی جاتی لیکن کامیاب شادی یہ نصیب کی بات ہے ۔نصیب تو کوی بھی نہی دیکھ سکتا کہ آگے اس کے نصیب میں کیا ہے ۔اگر آپ اسے کسی قابل بنا دیں گے تو یہی آپکی اصل تربیت ہو گی ۔کہ وہ لوگوں کے سامنے اپنی دکھی داستان سنا کر تماشہ بننے یا مجبوری میں بھیک مانگ کر گزارنا کرنے سے بہتر ہے اسے خودار بنائیں ۔۔لازمی نہیں کہ آپ کو میری یہ بات اچھی لگی ہو ۔۔مگر ممکن ہے کہ تیرے دل میں اتر جاے میری بات

     Article Author Name

    Hina Sarwar

     

  • طوائف کی زندگی  تحریر: فوزیہ چوہدری

    طوائف کی زندگی تحریر: فوزیہ چوہدری

    طوائف تو دنیا کی تھی بے حیاء
    رہے نسبتاً ہم ہی بےباک کم

    آ پ نے اکثر دیکھا ہو گا نئی چم چماتی گاڑیاں لیکن ان گاڑیوں کا استعمال لوگ کچرہ اٹھانے کے لئے گندگی صاف کرنے کے لیے نہیں کر سکتے بلکہ اس کام کے لئے الگ سے گاڑیاں ہوتی ہیں جو کہ آ پ کو کم ہی دیکھنے کو ملتی ہیں اور اگر آپ پاس سے گزر جائیں تا ناک پر رومال رکھ لیتے ہیں کیوں؟ کراہت محسوس ہوتی ہے بدبو آ تی ہے اسی لیے نہ ؟ پر ان گاڑیوں کا ہونا بھی ضروری ہے ورنہ آ پ کو ہر گلی کوچے میں گندگی کے ڈھیر نظر آ ئیں گے اور آ پکا جینا مشکل ہو جائے گا۔
    بلکل اسی طرح طوائف کی بھی زندگی ہے یہ وہ عورت ہوتی ہے جو ایسے مردوں کی گندی کو اپنے اندر سمیٹ لیتی ہے جو عیاش ہوتے ہیں حوس کے پوجاری ہوتے ہیں اور جیب میں چاندی کے سکے اور بہت سے پیسے لے کر گھومتے ہیں۔
    ایک عورت کو طوائف بنانے والے بھی مرد ہی ہوتے ہیں وہ لڑکی جو کسی مرد کے پیار میں گھر سے بھاگ جاتی ہے یا تو اسے بیچ دیا جاتا ہے یا چھوڑ دیا جاتا ہے تو وہ لڑکی کیا کرے جس کے پاس واپسی کا کوئی راستہ نہیں تو ایسی ہی لڑکی پھر ٹوٹ کر بکھر جاتی ہے اور زندگی گزارنے کے لئیے غلط راستہ اختیار کر لیتی ہے۔
    یقین جانیں اگر یہ طوائف نہ ہو تو مرد کی گندگی آ پ کو ہر جگہ دکھائی دے گی اور شاید حوس کا پوجاری مرد اپنے ہی گھر کی بہو بیٹیوں کے ساتھ گندہ کھیل کھیل بیٹھے اور میں ایسے واقعات سنے بھی ہیں کہ باپ نے بیٹی کے ساتھ زیادتی کی،یہاں تک کہ بے زبان جانور تک کو نہیں چھوڑتے یہ لوگ،ایک معصوم بلی کے ساتھ لڑکوں کا وحشیانہ سلوک تو سب کو یاد ہی ہو گا ۔
    جس چیز کی مانگ زیادہ ہوگی وہ تو مارکیٹ میں ضرور آئے گی اور مرد کی مانگ ہے عورت اور رنگین رات اسی لیے آ ج بھی کہیں نہ کہیں چکلہ آ پکو ملے گا اور اگر مرد اچھا ہو جائے تو یقین کیجیے یہ چکلے ہر جگہ سے خود بخود بند ہو جائیں ۔
    ایک عام عورت اور ایک طوائف میں یہ فرق ہے کہ طوائف اپنے لیے خود کماتی ہے اور عام عورت کے پاس کمانے کے بہت لوگ ہوتے ہیں اسکا باپ بھائی یا بیٹا۔
    اور ایک بات یہ کہ اچھے اور برے لوگوں میں فرق صرف ہم انسان کرتے ہیں خدا تو کسی کو اکیلا نہیں چھوڑتا۔
    میں نے دیکھا ہے نیک لوگوں کو دوسروں کا مذاق اڑاتے ہوئے ان پر ہنستے ہوئے اور گناہ میں ڈوبے لوگوں کو راتوں میں اللّٰہ کے سامنے روتے ہوئے۔ہم نہیں جانتے کون اچھا ہے کون برا تو ہم کون ہوتے ہیں کسی پر بھی فتوا لگانے والے۔
    یہاں آ پ کو ایک مثال سے بھی سمجھا دیتی ہوں کہ آپ کی اولاد میں سے ایک بچہ لائق اور ایک نالائق ہے تو کیا آ پ اپنے نالائق بیٹے کو اکیلا چھوڑ دیں گے نہیں بلکہ اس پر زیادہ توجہ دیں گے کہ کسی طرح یہ بھی لائق ہو جائے پر آ پ انکا موازنہ یا مقابلہ ہر گز نہیں کریں گے۔
    بلکل اسی طرح ایک عام عورت اور طوائف کا کوئی مقابلہ ہے ہی نہیں بلکہ کسی ایک انسان کا دوسرے انسان سے نہیں ہے ہر انسان اپنے آ پ میں ایک ہیرا ہے کوئی نہ کوئی خوبی موجود ہے کیونکہ اللّٰہ نے کسی کو بھی فضول نہیں بنایا ہے۔
    بی
    بہت سے لوگ مجھے کہتے ہیں کہ آ پ سیاہ قلم ہو کڑوا لکھتی ہو تو میں کہنا چاہوں گی کہ میں معاشرے کا چہرہ دکھاتی ہوں اور اگر آپ میرا لکھا آ پ برداشت نہیں کر سکتے تو پھر یہ معاشرہ بھی بھیانک ہے جسے برداشت نہیں کیا جا سکتا۔
    نوٹ: میں نے اس تحریر میں ہر مرد کو برا نہیں کہا ہے جو برے ہیں انکو برا لکھا اور بیان کیا ہے بے شک پانچوں انگلیاں برابر نہیں ہوتی ایسے ہی ہر مرد ایک جیسا نہیں ہوتا شکریہ تحریر کیسی لگی ضرور بتائیے گا۔ خوش رہیں محبتیں بانٹتے رہیں

    @iam_FoziaCh

  • عورت اور معاشرتی رویّے  تحریر: سویرااشرف

    عورت اور معاشرتی رویّے تحریر: سویرااشرف

    مرد اور عورت اللہ تعالی کی پخلیق کردہ دو اصناف ہیں اور دونوں کی اپنی اپنی اہمیت ہے ۔آج کے ماڈرن اورنام نہاد لبرل دور میں صنفی امتیاز کا لفظ تو زبانِ زدِ عام ہے جس کا مطلب کسی صنف کو اس کے حقوق سے محرومی یا عدم دستیابی کا لیا جاتا ہے، جو یقینا کہیں نہ کہیں دیکھنے میں بھی آجاتی ہے۔ انسانی تاریخ میں ناانصافی inequality. کی ٹرم بیسویں صدی سے باقاعدہ جانی جانے لگی تھی اور مرد اور خواتین کی برابری کی فضا باقاعدہ ماحول میں بدلنے لگی۔ اس اہمیت کو جانتے ہوئے لوگوں میں شعور بیدار ہوا کہ حقوقِ انسانی، خصوصاً عورتوں کے حقوق ، بھی کسی بلا کانام ہے۔ تحریک چلی تو چلتے چلتے ہر سُو پھیلنے لگی اور یوں ہم نے Gender Equality یا Gender Discriminationجیسے الفاظ سے نیا ناتا جوڑلیا۔پاکستان میں حالیہ برسوں میں صنفی مساوات کو فروغ دینے میں اہم پیش رفت ہوئی ہے آج کی پاکستانی خواتین اپنی پچھلی نسلوں کی نسبت فیصلہ سازی کے زیادہ اختیارات رکھتی ہیں۔ لیبر فورس ہو یا ریاست، خواتین کی نمائندگی ہرشعبۂ زندگی میں دیکھنے کو ملتی ہے۔ جس کے مثبت نتائج اس طرح دیکھنے میں آتے ہیں کہ آج کی خواتین ہر محاذ پر مردوں کے شانہ بشانہ نظر آتی ہیں۔ ملکی ترقی اور استحکام ہو یا اُمورِ خانہ داری، صنفِ نازک کی اوّل صفوں میںموجودگی اِس بات کا اظہار ہے کہ خواتین کسی صورت مردوں سے کم نہیں۔

    یہ تو ہوگئی مردوں اور عورتوں میں امتیاز کی بات لیکن ایک امتیاز ہماری سوسائٹی میں خواتین کا خواتین کے مابین بھی دیکھا جاتا ہے جس کوWorking Woman اور Housewife کے نام سے منسوب کردیاگیا ہے۔یہ تفریق معاشرے سے کہیں زیادہ ہمارے رویوں نے پیدا کی ہے لہٰذا ہم اس کا بوجھ معاشرے کے کندھوں پر نہیں ڈال سکتے۔ ایک مشرقی معاشرے میں، گھر میں رہ کر پورا دن گھر میں کام کرنے والی خاتون کو، 9 سے5 ملازمت کرنے والی خواتین سے، کم تر سمجھا جاتا ہے، یایہ کہا جائے کہ ملازمت کرنے والی گھر کی خاتون کو غیر ملازمہ گھر کی خواتین کی نسبت زیادہ عزت دی جاتی ہے لیکن یہ صورت حال ہر جگہ ایک سی نہیں ، ہم دیہی علاقوں کا رُخ کریں تو وہاں گھریلو خاتون کودی جانے والی ترجیح واضح دکھائی دیتی ہے۔ اسے عزت دی جاتی ہے جبکہ ایک عورت کے لئے باہر کے کام کرنا وہاں معیوب گردانا جاتا ہے۔یہ ہمارے معاشرے کے مختلف رویے ہیں جو ایک ہی صنف کے لئے مختلف نوعیت کا انداز رکھتے ہیں۔
    اب یہ ہمارے ماحول پر منحصر ہے کہ ہماری سوچ کس زوایے سے سب پرکھتی ہے اور کیسے پروان چڑھے گی۔ ماحول مثبت ہوگا تو سوچ اورخیالات بھی مثبت سمت میں پروان چڑھیں گے اور اگر ماحول منفی ہوگا تو نتائج بھی منفی ہوں گے۔ اِن تمام باتوں کو ذہن میں رکھتے ہوئے اگر ہم ایک شوہر کی حیثیت سے دیکھیں تو وہ ہمیشہ ایک کام کرنے والی خاتون کو بہتر سمجھتا ہے کیونکہ ایک ورکنگ لیڈی معاشی طور پر کنبے میں حصہ ڈال سکتی ہے اور شوہر کا بوجھ بانٹ سکتی ہے لیکن ہر جگہ ایسا نہیں سمجھا جاتا اسلیے ساتھ میں کچھ ایسے لوگ بھی ہیں جو قدامت پسند سوچ رکھتے ہیں اور اپنی بیویوں کو کام کرنے، کی اجازت دینے میں عار محسوس کرتے ہیں ۔
    ایک بچے کی حیثیت سے دیکھیں تو ایک غیر ملازمت والی ماں بہتر ہے کیونکہ وہ بچے کی بہتر تربیت کرتی ہے اور اس کو اپنا سارا وقت دیتی ہے جس کی اس کی اولاد کو زندگی میں سب سے زیادہ ضرورت ہوتی ہے۔۔ لیکن دوسری طرف دیکھا جاۓ تو ایک ورکنگ لیڈی بھی اچھی ماں ثابت ہو سکتی ہے ۔ ہمارے پاس بہت سی ایسی مثالیں موجود ہیں جہاں ایک عورت نوکری کے ساتھ ساتھ بہترین ماں بھی ثابت ہوئی ہے، وہ عورت جو گھر اور نوکری کے فراٸض میں توازن رکھے اور ایک ساتھ باخوبی نبھائے تو وہ معاشرے کے لئے قابلِ تحسین بھی۔ بچے کی پرورش میں ماں کا کردار باپ سے زیادہ اہم ہوتا ہے اور اس لئے یہ ترجیح ہوتی ہے کہ ماں بچوں پر خصوصی توجہ اور وقت دے جس اور مزیدیہ کہ اپنے اپنے نقطۂ نظر کے مطابق بچے کی پرورش کرے۔
    گھر سے باہر رہ کر مردوں کے معاشرے میں کام کرنا یقینا ایک بہت بہادر عمل ہے لیکن اسکا مطلب یہ ہر گز نہیں اپنی مائوں، بہنوں کو جو دن رات24/7گرمی کی حدت اور سردی کی شدت میں ہمارے اور گھروالوں کے لئے اپنے دل و جان سے کام کرتی ہیں۔ معاشرتی طور پر ہمارا رویہ ایسا ہے کہ ایک ورکنگ وومین کا کام پہاڑ توڑنے کے مترادف سمجھتے ہیں اور دوسری طرف جب کوئی گھریلو خاتون اپنی پریشانی کا تھوڑا سا اظہار کردے تو ہم اسے کسی خاطر میں نہیں لاتے۔
    بس یہی فرق ہے ہماری سوچ کا۔۔۔۔ ہمارے رویوں کا۔۔۔ خواتین کسی بھی جگہ ہوں،کسی بھی رشتے،کسی بھی ذمہ داری کو نبھا رہی ہوں، گھریلو یا ورکنگ ،وہ قابلِ عزت ہے،قابلِ احترام ہے ۔ہمیں اپنے معاشرتی رویوں کو بدلنا ہوگا ہمیں یہ بات تسلیم کرنی ہوگی کہ ایک گھریلو خاتون کسی طور پر بھی ورکنگ وومین سے کم نہیں ہے۔
    ایک طرف دیکھا جاۓ تو ورکنگ لیڈی کو اپنے کام کی اجرت ملتی ہے جبکہ گھریلو عورت کو کام کرنے کے باوجود اکثر لعن طعن ہی ملتی ہے
    ان حقائق کو مدِ نظر ہوئے اس بات کا فیصلہ کرنا مشکل ہے کہ کون کس سے بہتر ہے ۔
    ایک عورت ماں بھی ہے، بیٹی بھی،بہن بھی اور بیوی بھی۔ زندگی کے ہر روپ میں عورت کو اللہ نے ایک خاص مقام عطا کیا ہے اور اس خاص مقام کی بدولت ہی خدا نے اس کے قدموں تلے جنت رکھی ہے ۔ غرض عورت کے وجود سے ہی کائنات کی رونق ہے اور خود عورت ہونا ایک فخر کی بات ہے۔۔۔ لیکن افسوس کا مقام وہاں آتا ہے جب ہم ورکنگ ویمن کو گھریلو خاتون کے مقابلے میں زیادہ عزت دیتے ہیں۔ یہ بات انتہائی قابلِ افسوس ہے کہ ہمارا زیادہ تر پڑھا لکھا طبقہ بھی اس طرح کی سوچ رکھتے ہوئے زمانۂ جاہلیت کی باتوں میں پھنسا ہوا ہے۔ اگر ایک مرد گھریلو اور ملازمت پیشہ خواتین کے لئے الگ الگ رائے قائم کرتا ہے تو اس کی یہ سوچ کسی حد تک قابلِ قبول ہو سکتی ہے لیکن ایک عورت ہو کر دوسری عورت کے لئے اس طرح کی سوچ رکھنا یقینا غیر مناسب ہے۔
    اگر کام کرنے والی خواتین اپنے کیرٸیر کیساتھ ساتھ بچوں،شوہر کی دیکھ بھال کے لئے وقت نکالنے کی جدو جہد کرتی ہیں وہی ایک گھریلو خاتون کو اپنے لئے وقت نکالنے کیجدوجہد کرتی ہے ۔ گویا دونوں کو وقت اور حالات کے تناظر میں مختلف چیلنجز کا سامنا رہتا ہے ہمیں کوشش کرنی چاہئے کہ کوئی بھی بات یا فعل ایسا نہ ہو جس سے معاشرے کا کوئی بھی فرد حوصلہ شکنی کا شکار ہو یا اس میں احساسِ کمتری پیدا ہو کیونکہ زمانہ کتنی ہی ترقی کیوں نہ کرلے، تعلیم کے ساتھ ساتھ تربیت اور انسانی رویّوں کی دیکھ بھال ہر دَور کی ضرورت رہی ہے۔ اس لئے اس طرح کے امتیاز کو ذہنی اور معاشرتی طور پر کم کرنا چاہئے کیونکہ حوّا کی بیٹیوں کے دَم سے ہی اس بزمِ جہاں میں رونق ہے اور وہ زندگی کے کسی بھی شعبے سے وابستہ ہوں، معاشرے کی فلاح اور پروان میں دونوں کا اپنااپنا کردار ہے اور دونوں ہی اپنی اپنی جگہ پرانتہائی اہمیت کی حامل ہیں۔

    @IamSawairaKhan1

  • بیوی ایک حسین ساتھی  تحریر:  محمد بلال اسلم

    بیوی ایک حسین ساتھی تحریر: محمد بلال اسلم

    حضور نبی کریم ﷺ نے اپنی ازواج مطہرات کے ساتھ خوش خلقی، حسن معاشرت کی عظیم مثالیں قائم کرکے گھریلو زندگی کو خوشگوار بنانے کے اصول بتا دیے ۔ آپ ﷺ کا اپنی ازواج کے ساتھ جس طرح کا محبت بھرا انداز تھا اسکو اگر ہم اپنی زندگیوں میں لے ائیں تو ہمیں گھریلو ناچاقیوں سے چھٹکارہ مل سکتا ہے اور ہمارے گھر سکون اور خوشیوں بھر سکتے ہیں۔ ہم نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے بتائے ہوئے طریقوں پر عمل کر کے گھر کو جنت بنا سکتے ہیں

    نبی پاک ﷺ کا ارشاد مبارک ہے: ’’تم میں بہترین انسان وہ ہے جو اپنے اہل و عیال کے حق میں بہتر ہو اور میں اپنے اہل کے لیے تم میں سب سے زیادہ بہتر ہوں۔ (ترمذی)

    انسان کو کسی ایسے شخص کی ضرورت ہوتی ہے جس کے سامنے وہ اپنی زندگی کی داستان بیان کرسکے اور یہ ضرورت ایک اچھی بیوی پوری کرتی ہے اور اسی طرح انسان کی خواہش ہوتی ہے کہ وہ سکون حاصل کرے تو بیوی ایسی ذات ہے کہ جسکے ذریعے انسان سکون حاصل کرتا ہے ۔اللہ تعالی کا ارشاد مبارک ہے: ’’اس کی ایک نشانی یہ ہے کہ اس نے تمہارے لیے تم ہی میں سے بیویاں پیدا کیں، تاکہ تم ان کے پاس جاکر سکون حاصل کرو۔‘‘ ( القرآن )

    حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی اپنی ازواج سے محبت ۔۔
    ( 1) آپ ﷺ کی حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے محبت کا عالم یہ تھا کہ آپ ﷺ ان کے پس خوردہ کو بھی پسند فرماتے تھے اور جہاں سے آپ رضی اللہ عنہا ہڈی سے گوشت کھاتیں سرکار ﷺ وہیں سے گوشت تناول فرمایا کرتے تھے۔۔۔( 2) حضرت ربیعہ بن عثمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ سرکار ﷺ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا : تم مجھے مکھن ملی کھجور سے بھی زیادہ محبوب ہو۔ ( الطبقات الکبری لابن سعد)(3) حضرت سیدتنا عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ (مقام حُر) سے واپس آرہے تھے، میں ایک اونٹ پر سوار تھی جو دوسرے اونٹوں میں آخر میں تھا، میں نے رسول اللہ ﷺ کی آواز سنی آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”ہائے میری دلہن“۔ (مسند احمد: 26866 ) ایسے ہی حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم گھر کے کاموں میں اپنی ازواج کا ہاتھ بٹاتے اور انکے ساتھ مزاح فرماتے ۔۔ہمیں بھی چاہیے کہ ہم اپنی بیوی کے ساتھ حسن سلوک سے پیش ائیں

    اور مردوں کو ایک بات ذہن نشین کر لینی چاہیے کہ مرد بیوی کو گھر کے کام پر مجبور نہیں کر سکتا، اگرچہ مستحب ہے کہ عورت گھر کے کام کو انجام دے ۔۔عورت کا اخلاقی حق ہے کہ وہ اپنے شوہر کے گھر کے افراد کے کام کرے لیکن اسپر ضروری نھیں ۔۔اور شوہر ماں اور بیوی دونوں کو ساتھ لیکر چلے بیوی کی وجہ سے ماں کے ساتھ نا انصافی نا کرے اور ماں کی وجہ سے بیوی کے ساتھ نا انصافی نا کرے ۔۔کسی کے سامنے دوسرے کو نا ڈانٹے بلکے کسی اکیلے وقت میں انکو سمجھائے۔۔۔۔۔اللہ پاک ہمیں نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے نقش قدم پر چلائے ۔آمین

    @BilalAslam_2

  • وجودِ زن سے ہے، تصویر کائنات میں رنگ  تحریر: سمعیہ رشید

    وجودِ زن سے ہے، تصویر کائنات میں رنگ تحریر: سمعیہ رشید

    برصغیر پاک و ہند میں ایک عام تصور تھا کہ خواتین کی زمہ داری صرف گھر گر ہستی سنبھالنے تک محدود ہے، اور یہ تاثر 1947 سے سات دھائیاں گزر جانے کے بعد بھی عوام الناس کے دل و دماغ سے نا نکل سکا
    یہ تصور صحیح ہے یا غلط، اس تحریر کا مقصد یہ باآور کروانا ہرگز نہیں ہے بلکہ ان ستر سالوں میں خواتین نے جو ہمارا سر فخر سے بلند کیا ہے اسکو خراجِ تحسین پیش کرنے کی ایک چھوٹی سی کوشش کرنا ہے.

    محترمہ فاطمہ جناح

    انیسویں صدی میں اعلیٰ تعلیم یافتہ، پیشہ کے لحاظ سے ڈاکٹر بھابھی کی وفات کے بعد سب چھوڑ کے نا صرف بھائی کا گھر سنبھالنے لگیں بلکہ سیاسی میدان میں بھی ہر جگہ انکے شانہ بشانہ رہیں. آل انڈیا مسلم سٹوڈنٹس فیڈریشن کی بنیاد بھی انہی کی کاوشوں کا نتیجہ تھی جس نے بعد ازاں آل پاکستان ویمنز ایسوسی ایشن کی شکل دھار لی.
    سیاست کے علاوہ سماجی طور پہ بھی بیگم لیاقت علی خان کے ساتھ خواتین کے حقوق کیلیے ایک قد آور شخصیت ثابت ہوئیں، پاکستانی نوجوان نسل کیلیے وہ سیاسی و سماجی اعتبار سے رول ماڈل کی حیثیت رکھتی

    بیگم شائستہ اکرام اللہ


    بیگم صاحبہ لندن یونیورسٹی سے تعلیم یافتہ پہلی پی ایچ ڈی ہولڈر ڈاکٹر تھیں، پاکستان قانون ساز اسمبلی سے سب سے پہلی خاتون ممبر منتخب ہو کے عورتوں کیلیے سیاست میں آنے کی راہ ہموار کی، نا صرف اقوام متحدہ میں پاکستان کی نمایندگی کی بلکہ مراکو میں سفیر بھی رہیں
    محترمہ سیاست کے علاوہ بہت اردو اور انگلش اخباروں میں مصنفہ بھی رہیں
    حکومت پاکستان کی طرف سے نشان امتیاز لینے والی بلاشبہ پاکستانی بچیوں کیلئے ایک عملہ نمونہ ہیں

    عائشہ فاروق

    ہمت و جواں مردی، بہادری اور دیدہ دلیری کی بات ہو تو ہمیشہ مردوں کی طرف دھیان جاتا ہے پر یہ ریت بھی عائشہ فارق صاحبہ نے توڑ ڈالی جب چھبیس برس کی عمر میں پہلی فایٹر پائیلٹ بنی.
    اب خواتین صرف میڈیکل، انجینئرنگ اور کارپوریٹس سیکٹر تک ہی محدود نہیں رہیں بلکہ شاہینوں کے ساتھ پرواز کے سفر میں گامزن ہیں

    ارفع کریم

    جس عمر میں عموماً بچیاں کھلونوں اور گڑیاؤں سے کھیلتی ہیں اس عمر میں ایک نو سالہ غیر معمولی ذہین ننھی پری، مائکروسوفٹ سرٹیفائیڈ پروفیشنل بنی ، جس نے نا صرف پاکستان کا نام روشن کیا بلکہ مختلف بین الاقوامی پلیٹ فارمز پہ نمایندگی بھی کرتی رہی،
    اور صرف سولہ سال کی عمر میں سب آنکھوں کو اشکبار چھوڑ کے ابدی نیند جا سوئیں..

    شمیم اختر

    جہاں بہت کم خواتین ٹرک کی سواری ہی کر پاتی ہیں وہاں ایک با ہمت عورت ٹرک چلانے لگتی ہے
    بے تحاشا تنقید اور مخالفت کے باوجود بھی محترمہ نا صرف اپنے فیصلے پہ ثابت قدم رہیں بلکہ تھوڑے ہی عرصے میں اپنی قابلیت کا لوہا بھی منوایا
    بلاشبہ شمیم بیگم کا ایسے شعبے میں آنا قابلِ تحسین ہے.
    جہاں ہر طرف مردوں کی اجارہ داری ہو اور عورت کو فیصلے کرنے کا بھی اختیار نا ہو وہاں ایک عورت کا باقی خواتین کے حقوق کیلیے اواز بلند کرنا اور ایک جرگے کی نمایندگی کرنا قابلِ تحسین ہے.

    تبسم عدنان

    تیرہ برس کی عمر میں دلہن بننے والی، شوہر کے ظلم و ستم کے خلاف کھڑی ہونے والی سماجی کارکن تبسم کو کم ہی لوگ جانتے ہونگے جو "خویندہ و جرگہ” کے نام سے ہفتہ وارانہ عورتوں کے مسائل حل کرتی ہیں..
    ان سب خواتین کو ملک و قوم کا نام روشن کرنے اور مردوں کے شانہ بشانہ کام کرنے پہ ہم خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں…

  • والد کا احترام   تحریر:  سمیرا جمال

    والد کا احترام تحریر: سمیرا جمال

    والد وہ ہستی ہے جس کی شفقت کے سائے میں اولاد پروان چڑھتی ہے۔بچپن سے جوانی
    میں پاؤں رکھنے تک اولاد اپنے باپ کی وجہ سے خود کو مضبوط اور محفوظ سمجھتی ہے ۔کیونکہ والد ہی وہ ہستی ہے جو دنیا کے تنام غم اور تکلیف کو خود میں پرو لیتا ہے مگر اولاد پہ آنچ نہیں آنے دیتا۔باپ ہی وہ ہستی ہے جو خود تو بھوکا رہ لیتا ہے مگر اولاد کی بھوک اس سے برداشت نہیں ہوتی،یہ وہ ہستی ہے جو مصائب و آلام کے تھپیڑوں کے سامنے اولاد کے لئے ڈھال بن جاتی ہے ‏۔باپ اولاد کے لئے سائباں ہوتا ہے ،پتہ اس وقت چلتا ہے جب یہ عظیم ،بے غرض ،محبت بھرا رشتہ دنیا میں آپکو اکیلا چھوڑ کے عدم سدھار جاتا ہے ۔تب احساس ہوتا ہے کہ آپ تو کڑی دھوپ میں بے سہارا کھڑے ہیں،وہ ہاتھ جو ہر تکلیف میِ آپکو تھام لیتے تھے،وہ جسم جو زمانے کے سامنےآپ کے لئے ڈھال بن جاتا تھا، وہ ساکت ہے تب آپ زندہ لاش بن جاتے ہیِں۔استدعا ہے کہ والدین کا احترام سیکھیں،ان کا خیال اسی طرح رکھیں جیسا انہوں نے بچپن نیں آپ کا خیال رکھا۔تب جا کے اس قابل ہوئے کہ بول سکیں یا چل سکیں ۔بولنے کے بعد وہی زبان اپنے والدین کے سامنے نہ چلائیں۔ ہمارا مذ ہب بھی والدن سے نرمی کے برتاؤ کا درس دیتا ہے ایک موقع پر باپ کا مقام بیان کرتے ہوئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”باپ جنت کے بیچ کا دروازہ ہے، اگر تو چاہے تو اس دروازے کی حفاظت کر یا اس کو ضائع کردے۔
    ایک اور جگہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ شخص ذلیل و رسوا ہوا، وہ شخص ذلیل و رسوا ہوا، وہ شخص ذلیل و رسوا ہوا۔ صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کی، یا رسول اللہﷺ کون؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس نے اپنے ماں باپ میں سے دونوں یا کسی ایک کو بڑھاپے میں پایا اور پھر (ان کی خدمت کرکے) جنت میں داخلے کا حق دار نہ بن سکا۔“
    ۔بیٹی ہو یا بیٹا باپ کی شخصیت اولاد کے لئے آئیڈیل ہوتی ہے ۔مگر باپ بیٹی کا رشتہ ازل سے ہی بہت پیار اور انسیت کا رشتہ ہے باپ اور بیٹی کا رشتہ اللہ رب العزت نے بہت مقدس بنایا ہے اور اس رشتے کو بہت خوب صورت احساس سے نوازا ہے۔ بیٹیاں باپ کے آنگن کی رونق ہوتی ہیں۔باپ کا شفقت بھری تربیت بیٹیوں کے اندر زمانے کے تھپیڑوں سے نبرد آزما ہونے کی ہمت اور طاقت پیدا کرتی ہے۔
    خوش قسمت ہے وہ اولاد جن کے والدین حیات ہیں اور وہ خدمت سے جنت کما رہے ہیں ،اور بدبخت ہے وہ اولاد جو بڑھاپے میں اپنے والد صاحب کو اپنا وقت دے کر دعاؤں سے اپنا دامن نہ بھر سکیں۔
    آج زندہ ہیں تو ہتھیلی کا چھالا بنا کر رکھیں جب پردہ فرما گئے تو پھر زندہ لاشوں کی معاشرے کو کوئ ضرورت نہیں ۔
    سب تو اچیاں سنگتاں یارو باپ دیاں
    جیدے صدقے بندیاں قسمتاں آپ دیاں
    باپ مرے تے سارے حوصلے ٹے جاون
    پتر ، تیاں وچ مصیبتاں پے جاون
    لوک پرائے کدی وی نیڑے لگدے نئیں
    ٹر جاون جد باپ تے مڑ کے لبدے نئیں.😭

  • مجھے بھی تکلیف ہوتی ہے تحریر: طاہرہ

    مجھے بھی تکلیف ہوتی ہے تحریر: طاہرہ

    ایک لڑکی جب اپنے والدین کے گھر سے وداع ہوتی ہے تو اسکے دل میں مستقبل کے لئے ہزاروں خواب امیدیں خواہشیں ہوتی ہے. ہم لڑکیوں کو بچپن سے ہی زہن نشین کرا دیا جاتا ہے کہ تمہارا اصلی گھر شوہر کا گھر ہوگا. اسی ایک سپنے کو ایک لڑکی سینچتے بڑی ہوتی ہے والدین کے گھر کتنے بھی ناز و نعم سے پلی چھوٹی سی پری جب بابل کے گھر سے وداع لیتی ہے تو اسے یہ باور کرایا جاتا ہے کہ اب اسی گھر کو اپنا ماننا ہے اسی گلستان کو سینچنا ہے اسکی اینٹوں کو جوڑے رکھنا ہے اور جب وہ گلستان وہ آشیان وہ سائبان کسی وحشی درندے کی بھی اماہ جگاہ ہو تو وہی حسین خواب ایک بھیانک حقیقت کا روپ دھار لیتا ہے.
    اپنی تکلیفوں پر روتی بلبلاتی جب والدین کے سامنے کچھ کہنے کی کوشش کرے تو اسے ہی سمجھایا جاتا ہے کہ گھر ایسے نہیں بنتے اسکے لئے قربانی دینی پڑتی ہے اپنے خوابوں کی.
    اسکی تکلیف کوئی سمجھنے کی کوشش ہی نہیں کرتا جان چھڑکنے والے ماں باپ اسکے دکھوں کو ان دیکھا کردیتے ہیں شادی کے بعد صرف کہنے کو ہی نہیں واقعی لڑکیوں کو پرایا دھن سمجھا جانے لگتا ہے.وہ دل ہی دل کڑہتی سسکتی اپنے ماں باپ کے مان انکی عزت کیلئے جسم اور روح پر پڑتے نیل کو سہتی رہتی ہے.سب یہ کیوں بھول جاتے ہیں کہ وہ بھی انسان ہے اس کو بھی تکلیف ہوتی ہے بیٹیاں بوجھ تو نہیں ہوتی بیٹیاں تو رحمت ہوتی ہیں جو اللہ خوش ہوکر گھروں میں برساتا ہے بیٹیوں کی تربیت پر تو جنت کی وعید ہے مگر یہ کسی کتاب میں نہیں لکھا کسی مزہب میں نہیں لکھا کہ بیٹیوں کو مرنے کیلئے چھوڑ دو.
    شادی کے بعد بھی وہ آپ کی ہی بیٹی ہوتی ہے کوئی اپنے جسم کا ٹکڑا کاٹ کر کیسے علیحدہ کرسکتا ہے
    اسلام نے لڑکیوں کو وہ سارے حقوق دئیے جو اسکا حق تھا پھر معاشرہ کیوں ان کو خوش رہنے کا حق نہیں دیتا کیوں ان کے لئے زندگی نام نہاد غیرتوں سے باندھ دی جاتی ہے اگر وہ کہتی ہیں کہ وہ تکلیف میں ہے تو اسکی تکلیف سمجھیں.
    بیٹیاں آپ کے آنگن کی بلبل ہیں اگر وہ خاموش ہوجائیں تو اسکی روح کی چیخیں سننے کی کوشش کریں
    اپنی بیٹیوں کو عینی نا بننے دیں

    @Chiishmish

  • عورتوں پر تشدد اور یہ معاشرہ  تحریر:محمد کامران

    عورتوں پر تشدد اور یہ معاشرہ تحریر:محمد کامران

    عورتوں پر تشدد زمانہ قدیم سے لیکر
    اب تک چلا آ رہا ہے کسی پر زبردستی اپنی جارحیت اور ظلم کا نشانہ بنانہ تشدد کہلاتا ہے عورتوں پر تشدد کو غیر فطری نہیں سمجھا جاتا کیونکہ مرد کا
    عورت پر جبر ایک تاریخی پس منظر ہے لوگ اس کو روایات کا نام بھی دیتے ہیں، عورت کو نچلی زات سمجھا جاتا ہے. عورتوں کو انکے جائز حقوق سے بھی محروم رکھا جاتا ہے. جسمانی تشدد کہ ساتھ ساتھ انکو زہنی دباؤ اور زیادتی کا شکار بھی کیا جاتا ہے. یوں ہر شعبے میں مردوں کو عورت پر فوقیت دی جاتی ہے مرد اپنی طاقت کا اظہار تشدد کی صورت میں کرتے ھیں مختلف ادوار میں
    حکومت نے عورتوں کہ حقوق کی پاسداری اور ظلم و جبر روکنے کہ لیے متعدد بار قانون سازی کی مگر عملی طور پر عورتوں پر تشدد اور غیرت کے نام پر قتل عام ہے اور کوئی بھی قانون اس ظلم کو روکنے میں ابھی تک قاصر ہے. بہت سے واقعات میں عورتوں کو گھروں سے نکال کر انکے معصوم بچوں سے دور رکھا جاتا ہے. اگرچہ گورنمنٹ اور سول سوسائٹی نے عورتوں کی بالادستی اور مثاوی حقوق کہ لیے بہت آواز بلند کی ہے مگر ہمارے معاشرے میں عورتوں کا بنیادی تحفظ اور گھریلو تشدد کے واقعات کم ضرور ہوئے ہیں لیکن ابھی تک عورتوں کو وہ مقام نہیں مل سکا. بدقسمتی سے ہمارا معاشرہ بھی عورتوں پر تیزاب پھینکنے، جنسی ہراساں کرنے جیسے واقعات میں ملوث ہے. دین اسلام نے عورتوں کو تعلیم سے لیکر گھریلو داری تک عزت اور مثاوی حقوق دیئے ہیں. بحثیت مسلمان ہمیں عورتوں کہ حقوق اور پر تشدد واقعات کو روکنے کہ لیے اپنی آواز بلند کرنا ہوگی. اگر عورت مضبوط ہوگی تو آنے والی نسل بھی بہترین پروش پا کر ملک و قوم کے لیے تعمیری سرگرمیوں میں حصہ لے گی اور بہت سی معاشرتی برائیوں سے معاشرہ پاک رہے گا.

  • ‏عدت کیا ہے اور کیوں لازم ہے  تحریر: علی رضا بخاری

    ‏عدت کیا ہے اور کیوں لازم ہے تحریر: علی رضا بخاری

    شوہر کا انتقال ہونے کی صورت میں بیوہ کو عدت کے طور پر چار مہینے اور دس دن گزارنے ہوتے ہیں۔

    قرآن پاک میں اللّٰہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
    "اور تم میں سے جو لوگ فوت ہو جائیں اور بیویاں چھوڑ جائیں وہ عورتیں اپنے آپ کو چار مہینے اور دس دن عدت میں رکھیں”
    (سورۃ البقرۃ : 234)

    شوہر کے انتقال سے پہلے عورت حاملہ ہو يا کچھ دن بعد علم ہو تو عدت ڈیلیوری تک ہوگی خواہ یہ مدت 9 ماہ کی ہی کیوں نہ ہو۔

    قرآن پاک میں اللّٰہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
    "اور حمل والیوں کی عدت ان کا حمل ہے”
    (سورۃ الطلاق : 4)

    اگر عورت کو طلاق یا خلع ہوئی ہے تو اس صورت میں عدت تین ماہواری ہوگی۔

    عدت کے مسائل:
    عدت کی شروعات اس دن سے ہوگی جب شوہر کی وفات ہوئی ہے، اگر کسی بیوہ کو کچھ دن تاخیر سے شوہر کی وفات کی خبر ملتی ہے تو بھی عدت کی شروعات اسی دن سے مانی جائے گی جب وفات ہوئی ہو یعنی انجانے میں گزرے ایام بھی عدت میں شمار کیے جائیں گے۔

    بیوہ کیلئے نبی پاکﷺ کا فرمان ہے:
    "تم اپنے اس گھر میں عدت بسر کرو جہاں تمہیں اپنے خاوند کی موت کی خبر ملی تھی حتٰی کہ کتاب اللّٰہ کی بیان کی ہوئی مدت پوری ہو جائے”

    دورانِ عدت سفر کرنا منع ہے اس لیے حج و عمرہ کا سفر ہو یا سیر و تفریح کا یہ سب بیوہ کیلئے دورانِ عدت ممنوع ہیں، بیوہ ضرورت کے تحت سفر کر سکتی ہے مثلاً شوہر کے گھر عدت گزارنا مشکل ہو یا دوسرے کا گھر ہو تو مناسب جگہ منتقل ہو کر عدت گزار سکتی ہے، اسی طرح کوئی ضرورت کی چیز لا دینے والا نہ ہو تو خود باہر جا کر اشیاء خرید سکتی ہے اور اگر بیمار پڑ جائے تو علاج کی غرض سے بھی گھر سے باہر نکل سکتی ہے یعنی بیوہ کیلئے دورانِ عدت ضرورت کے تحت باہر جانا جائز ہے۔

    بیوہ کو دورانِ عدت زینت کی چیزیں مثلاً میک اپ، کان کی بالیاں، پازیب، کنگن، ہار، انگوٹھی، چوڑیاں، کریم، پاؤڈر اور مہندی وغیرہ استعمال کرنا منع ہے۔

    عورت عدت کے دوران گھر کی معمول کی زندگی گزارے گی اور آنے والے محرم رشتہ داروں سے ملاقات اور میل جول کر سکتی ہے۔

    جب عورت کی عدت مکمل ہو جائے تو جہاں چاہے دوسرے دین دار مرد سے شادی کر سکتی ہے۔

    ‎@aliraza_rp