Baaghi TV

Category: خواتین

  • میرے خواب کب پورے ہونگے .تحریر:راحیلہ عقیل

    میرے خواب کب پورے ہونگے .تحریر:راحیلہ عقیل

    جب ایک لڑکی پیدا ہوتی ہے اس وقت اس بچی کے ساتھ ساتھ ماں باپ کی سوچ فکر بھی جنم لیتی ہے بچی کی بڑھتی عمر کے ساتھ ساتھ ماں باپ کی سوچ بھی پڑھتی جاتی ہے، کے کیسے بیٹی کو اسکے گھر کا کرنا ہے لیکن کیا کبھی کسی ماں باپ نے یہ سوچا ہے کے ہماری بیٹی کی بھی کچھ خواہشات ہونگی اسکے سپنے ہونگے جو روزانہ اس نے جاگتی آنکھوں سے دیکھے ہونگے اچھی تعلیم روشن محفوظ مستقبل کھلا آسمان، مہکتی صبح کے ساتھ پھولوں کی طرح کھلنا، گڑیا سے کھیلنا، بہن بھائیوں سے ناز اٹھوانا، والد سے فرمائشیں پوری کروانا، ماں کے آنچل میں بادلوں کی آواز سے چھپ کر سوجانا، سہیلیوں سے گھنٹوں باتیں کرنا، من پسند کتابوں کو تکیے کے نیچے چھپا کر سونا، یہ سب ایک نارمل لڑکی کے سپنے ہی تو ہیں جو وہ جینا چاہتی ہے بارہ سال کی ہوئی گھر کے کام کاج سیکھو 14 کی ہوئی تو طریقے سے ڈوپٹہ لو گھر سے اکیلے باہر جانا بند کھیلنا بند دوستی گڑیا کھلونے سب سے ناطہ توڑ کر والدین لڑکی کو اسکے گھر کا کرنے میں لگ جاتے۔۔۔۔۔۔۔۔

    وہ معصوم جس نے گھر کی چار دیواری کے باہر کی دنیا صرف کتابوں کہانیوں میں دیکھی وہ اچانک اتنی بڑی سمجھدار کیسے ہوگئی کے اسکو دوسرے گھر بھیجنے کی تیاری ہونے لگے وہ ہاتھوں میں مہندی لگائے خوب چمک دمک کا ڈوپٹہ اوڑھے خاندان والوں کے درمیاں بیٹھی اپنی ہتھیلیوں کو غور سے دیکھتی رہی کے آخر ابھی کچھ وقت ہی تو گزرا جب اس نے اپنی گڑیا رانو کی شادی اپنی دوست کے گڈے سے کی تھی اور آج اچانک اتنی جلدی وہ خود کسی کی دلہن بنی بیٹھی ہے اس کے سارے خوب ریت کی طرف بہہ گئے وہ رونا چاہتی تھی چیخنا چاہتی تھی پر اسکی آنکھوں کے سامنے اسکی ماں کمزور سا چہرہ لیے بیٹھی تھی ماں باخوبی واقف تھی اپنی اولاد کی حالت سے پر وہ کیا کرتی یہ خاندانی روایت ختم ہونے کا نام نہیں لیتی ناجانے کب تک یونہی پھولوں جیسی نازک بچیاں اپنے خوابوں کو بکھرتا دیکھتی رہنگی کب وہ دن ہوگا جب وہ آزادی سے اپنی مرضی سے تعلیم حاصل کرینگی آزاد ہوا میں سانس لینگی؟؟
    کسی معصوم نے اپنی مرضی سے ایک قدم جو اٹھایا اس کا حساب اپنے خون سے دینا پڑتا ایسی نا جانے کتنی معصوم بچیاں ہونگی جو نا چاہتے ہوئے بھی ماں باپ کی مرضی پر قربان ہوجاتی ہیں پھر ساری زندگی اپنے سپنوں کو روند کر زندگی کی حقیقت کا سامنا کرتی۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    کاش کے سب والدین اپنی اولادوں کو پڑھانے پر توجہ دیں انکو زندگی میں آگے بڑھنے کا موقع دیں ناکہ انھیں مزید دلدل میں دھکیل دیں غربت سے نکلنے کا واحد راستہ تعلیم ہے۔۔۔۔۔ جو بےحد ضروری ہے ہمارے لیے ہماری آنے والی نسلوں کے بہتر محفوظ مستقبل کے لیے

    …….سوچ بدلیں وقت خود با خود بدل جاے گا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

  • مروت .تحریر : فضیلت اجالہ

    مروت .تحریر : فضیلت اجالہ

    ایک ایسا لفظ جو آج کی لڑکی کے لیے سب سے نقصان دہ ہتھیار بن چکا ہے وہ ہے مروت ،اس ایک لفظ کے چکر میں بہت سی لڑکیاں پہلے پہل تو اپنے آرام و سکون کو داؤ پر لگاتی ہیں، لیکن پھر رفتہ رفتہ بات یہاں تک آ پہنچتی ہے کہ عزت تک کا سودا کرنا پڑ جاتا ہے۔۔۔۔

    زندگی میں بہت سے مقامات پر "نہیں ” کہنا بہت ضروری ہوتا ہے،بلخصوص ایک لڑکی کے لیے۔۔۔
    یاد رکھیے۔۔
    ہماری مروت کے حقدار صرف ہمارے محرم رشتے ہیں”اور بس۔۔
    انکے علاوہ اس دنیا کا کوئی غیر محرم اس لائق نہیں ہے کہ اسکی مروت میں آ کر، یہ سوچ کر کہ اسے کہیں برا نہ لگ جائے۔۔۔
    ہم اسکی کسی الٹی سیدھی بات پر منہ نہ توڑ سکیں۔۔۔

    زمانہ اتنا شاطر ہو چکا ہے کہ گھر بیٹھی عزت دار معصوم لڑکیوں کو ورغلانے کے ہزاروں نسخے لیے پھرتا ہے۔۔۔

    ہم یہی سوچتی رہ جاتی ہیں میرے ساتھ ایسا نہیں ہو گا۔۔
    یا میرے ساتھ ایسا نہیں ہو سکتا اور ہماری اسی بیوقوفی میں ہمارے ساتھ سب ہو جاتا ہے ۔۔تباہی کے دھانے پر کھڑی لڑکیاں اسی معاشرے میں ہوتی ہیں۔ہم جیسی ہی ہوتی ہیں۔اور سب سے اہم "آسمان سے نہیں اترتی، ہم میں سے ہی ہوتی ہیں۔”

    جاگ جائیے۔۔۔
    بھائی کہہ دینے سے کوئی آپکا بھائی بن نہیں جاتا۔۔۔
    آپکا بھائی صرف وہی مرد ہے جسے اللّٰہ نے تخلیق کر کے بھیجا ہے۔۔۔
    باقی خود کو بہلانے کے طریقے ہیں تو شوق سے بہلیے۔۔۔ لیکن پھر اس دن کا انتظار کیجئے جب آپکے ہاتھ میں پھسلتی ریت کی طرح کچھ نہیں بچے گا۔

    اب بہت سے زہنوں میں
    ایک سوال آتا ہے کہ آخر "نہیں ” کہنا کب ہے۔۔۔۔

    تو سنیے
    ایک سادہ سا فارمولا ہے اسکا ۔۔۔

    جب آپ کو لگے کہ کوئی انسان آپکے کمفرٹ زون میں داخل ہو رہا ہے۔۔اسکے آپ کی زندگی میں ہونے کی وجہ سے آپ کچھ ایسے کام کرنے جا رہی ہیں جو زندگی میں آج تک نہیں کیے، جو آپکی حد سے باہر تھے۔یا کچھ ایسا جسے آپ فخر سے سب کے سامنے بیان نہیں کر سکتی۔۔
    تو خدارا کسی کو وہ حدود کراس کرنے کی اجازت نہیں دیجیے ۔یہ وہ مقام ہوتا ہے جب ایک عزت دار لڑکی نے مقابل کو شٹ اپ کال دینی ہوتی ہے۔۔۔
    یا سادہ الفاظ میں کہوں تو "نہیں ” کہنا ہوتا ہے۔۔۔

    اور یہ "نہیں ” کسی کو بھی کہا جا سکتا ہے۔۔۔
    "کسی کو بھی۔۔۔۔۔۔۔۔”
    اپنے جاننے والوں کو ۔۔۔
    ملنے ملانے والوں کو ۔۔۔
    کزنز کو ۔۔۔
    کولیگز کو ۔۔۔
    سوشل میڈیا پر قدم قدم پر ملتے بھائیوں کو
    زندگی میں کہیں پر بھی
    اپنے اندر کسی کی غلط بات پر اسکا منہ توڑنے کی ہمت پیدا کریں ۔یوں ہاتھ جھٹکیں کہ مقابل کو ایسا کرنٹ لگے اور اسکا ہاتھ ایسا مفلوج ہو کر رہ جائے کہ دوبارہ کبھی آگے بڑھنے کی ہمت نہ کر سکے۔۔
    ہماری مقدس کتاب میں ربِ کعبہ نے فرما دیا کہ؛

    "يَٰنِسَآءَ ٱلنَّبِيِّ لَسۡتُنَّ كَأَحَدٖ مِّنَ ٱلنِّسَآءِ إِنِ ٱتَّقَيۡتُنَّۚ فَلَا تَخۡضَعۡنَ بِٱلۡقَوۡلِ فَيَطۡمَعَ ٱلَّذِي فِي قَلۡبِهِۦ مَرَضٞ وَقُلۡنَ قَوۡلٗا مَّعۡرُوفٗا”

    "اے نبی کی بیویو! تم عام عورتوں کی طرح نہیں ہو۔ اگر تم اللّٰہ سے ڈرتی ہو تو بات کرنے میں ایسی نرمی نہ کرو کہ دل کا مریض آدمی کچھ لالچ کرے اور تم اچھی بات کہو۔۔۔”

    (سورہ احزاب۔ آیت 32)

    اس آیت میں پہلے تو امہات المؤمنین کی برتری بیان کی گئی۔۔۔ لیکن ساتھ جو ہدایت دی گئی علماء کے مطابق اس کا اطلاق تمام مومن عورتوں پر ہوتا ہے۔۔۔
    یہ قاعدہ ربِ کریم نے سب خواتین کے لیے مختص کیا ہے۔۔۔
    یعنی ہمارے خدا نے تو حد بندی کر دی کہ غیر سے بات کرنے کے لیے لہجہ سخت کر لو۔۔
    لیکن پھر ہم نے کیا کیا؟
    ہم نے تو اپنا الگ ہی معیار مقرر کر لیا۔

    اونچے عہدے والے سے ہنس کر بات کرنی ہے اور رکشے والے سے سختی سے بات کرنی ہے۔۔۔

    سوشل میڈیا پر ایڈمنز سے مسکرا کر بات کرنی ہے اور ممبران کی بار حدود یاد آ گئی۔۔۔

    سمجھدار لگ رہا ہے تو اچھا امپریشن دینا ہے، ایویں سا ہے تو بھاڑ میں جائے۔۔۔

    بڑی عمر کے انکل جی کا تو دل نہیں دکھا سکتے ناں ہم۔۔۔
    ان سے تو ویسے ہی پیار سے بات کرنی ہو گی۔۔۔
    وہ الگ بات ہے کہ آجکل اکثر انکل جی ہی "پیا جی” بن بیٹھتے ہیں۔۔۔
    مرد کو تو خود کو اچھا اور ڈیسنٹ شو کروانا ہی ہے۔۔ اور ہم ٹھہری بھولی بھالی مخلوق۔۔۔
    ہاں یہ بھی سچ ہے کہ اکثر لڑکیاں بھائی کا لفظ احتراماً نہیں، احتیاطً ہی استعمال کر رہی ہوتی ہیں۔۔

    لیکن بھئی ضرورت کیا ہے اس سب کی۔۔
    اس مروت کے ڈھونگ کی۔۔
    جن محرم رشتوں میں مروت اور لچک دکھانی ہے وہاں آجکی لڑکی کو اپنے دو نمبر حقوق کی بناء پر زبان چلانی ہے،اور جہاں سختی دکھانی ہے وہاں اتنی لاچاری۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟
    آپ یہ کیسے بھول سکتی ہیں کہ کردار کا آئینہ ایک بار ٹوٹ گیا تو لاکھ ایلفیاں لگانے پر بھی یہ کبھی نہیں جڑ پائے گا۔۔۔۔
    "اس ایک لفظ "مروت” کے چکر میں آپ اتنی کمزور نہیں بن سکتی کہ کوئی آپ سے کھیل جائے اور آپ بھیگی بلی کی طرح کھی کھی کرتی رہ جائیں۔۔۔۔۔۔۔۔”

    تلخ الفاظ کے لیے پیشگی معذرت۔۔۔۔
    لیکن اس میں بڑا سبق ہے۔۔۔
    اگر سمجھیں تو
    یا

    "اگر سمجھنا چاہیں تو۔۔۔۔
    @_Ujala_R

  • غیرت اور عورت   تحریر:   ازان حمزہ ارشد

    غیرت اور عورت تحریر: ازان حمزہ ارشد

    عورت اور غیرت کا صدیوں سے گہرا تعلق ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ غیرت کے نام پر جب بھی ہوئی عورت ہی داغدار ہوئی۔

    ہم ایسے معاشرے کا حصہ ہے جو کہ عورت کو سب سے زیادہ عزت و وقار دینے کا دعویٰ کرتا ہے یہی عورت گھر میں ہو تو اسے عزت سمجھا جاتا ہے اور اگر یہی عورت کسی دفتر یا کارخانے میں محنت مزدوری کر رہی ہو تو اسے بدکار سمجھا جاتا ہے۔ اپنے گھر کی عورت پر کوئی نظر ڈالے تو نظر ڈالنے والے کی آنکھیں نکال دی جاتی ہے اور اگر وہی نظریں خود کسی دوسرےگھر کی عورت پر ڈالی جائے تو اسے مردانگی کی اعلیٰ صفت قرار دے دیا جاتا ہے۔

    اپنی بہن کسی کے ساتھ بھاگ جائے تو عزت مٹی میں مل جاتی ہے اور اگر خود کسی کی بہن بھگا لاؤ تو اسے محبت اور جوانی کے جوش کا نام دے دیا جاتا ہے۔

    قریب ایک سال پہلے کی بات ہے میری ایک قریبی رشتہ دار 23 سالہ نوجوان 3 بچوں کی ماں کو اس کے شوہر نے بے دردی سے قتل کر دیا قتل کی وجہ گھریلو مسائل تھے ہم سب غم سے نڈھال تھے تبھی میرے کان میں میت کے قریب بیٹھے کچھ لوگوں کی آوازیں سنائی دی جو کہ کہہ رہے تھے کہ ضرور اس لڑکی کا کہی اور چکر ہوگا اور غیرت کے نام پر اسکے شوہر نے اسے قتل کر دیا۔
    مجھے افسوس یہ ہوا کہ ایسی باتیں کرنے والی خود عورتیں ہی تھی۔ یہ بات بتانے کا مقصد یہ ہے کہ اصل میں مرد نہیں عورت ہی عورت کی اصل دشمن ہے۔
    عورت کو غیرت کا نام لے کر قتل کیا جاتا ہے اور پھر اسی عورت کو موٹروے پر روک کر زیادتی کی جاتی ہے اور پھر اسی عورت پر الزام لگایا جاتا ہے کہ اسکا لباس درست نہیں۔ میں پوچھتا ہوں کہ جب 5 سالہ بچی کے ساتھ جنسی زیادتی کی جاتی ہے تو اس میں اسکے لباس کا کیا قصور تھا؟ جب عورت کو سسرال والوں کے ناجائز مطالبات پورے نہ کرنے پر جلا دیا جاتا ہے تو اس میں اسکا کیا قصور تھا؟

    قصور عورت کا نہیں ہماری سوچ کا ہے قصور ہم میں موجود اس جانور کا ہے جو عورت کو محض لطف کا ذریعہ سمجھتا ہے۔ قصور اس نظر کا ہے جو گندگی سے بھرپور ہے۔

    خدارا اپنے گھر اور دوسروں کے گھر کی عورت کو برابر سمجھ کر انھیں عزت دینا شروع کر دیں ورنہ وہ وقت دور نہیں جب ہماری مائیں بہنیں ہمارے مکہ فاتح کی بھینٹ چڑھ جائے گی۔

    اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہم سب کی عزتوں کو اپنے حفظ و امان میں رکھے آمین۔

  • آزمائشوں کا مقابلہ کیسے کیا جائے .تحریر: فروا نذیر

    آزمائشوں کا مقابلہ کیسے کیا جائے .تحریر: فروا نذیر

    یہ زندگی اللہ پاک کی عطا کردہ نعمتوں میں سے ایک ہے…
    سب سے بڑی بات یہ کہ اللہ نے انسان کو اشرف المخوقات ہونے کا شرف بخشا اللہ نے ہمیں جانور پرندے نہیں بنادیا اللہ کا ہم انسانوں پر سب سے بڑا احسان یہ ہے..
    اللہ تعالٰی کے پاس عبادت کیلیے فرشتوں کی کمی نہیں ہے لیکن اللہ نے انسان کو زمین پر اتارا حضرت آدم علیہ السلام سے یہ سلسلہ شروع کیا اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ والٰہ وسلم پر ختم ہوا اللہ نے ہر نبی کو معجزہ الگ الگ معجزات عطا کیے تاکہ جو گمراہی میں لوگ ہیں وہ سیدھے راستے پر چل سکیں ہر نبی نے اسلام کا پیغام پہنچایا..

    اللہ پاک نے نبی پاک صلی اللہ علیہ والٰہ وسلم کو ہر انسان کیلیے رحمت بنایا جب نبی پاک اس دنیا سے رخصت ہوئے تو تو انہوں نے فرمایا کہ میں اپنی امت کو اپنی سیرت اور اسوۂ حسنہ چھوڑ کر جارہا ہو تم اسکو تھام لو…
    لیکن میں اب اصل بات کی طرف آتی ہو اللہ نے ہم انسانوں کی رہنمائی فرمائی اپنے انبیاء کے ذریعے تاکہ انسانوں کو مشکل نہ ہو…

    لیکن میں آتی ہو اب کے حالات کی طرف…
    ہم انسان آجکل اسطرح کے ہو چکے ہیں کہ ذرا سی مشکل آئے تو اللہ کو بھول جاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اللہ نے دنیا جہان کی ہر مشکل ہمارے سر پر ڈال دی ہے ہم آزمائش کو سزا بنا لیتے ہیں اللہ پاک نے اپنے ہر پیارے نبی پر آزمائش دی
    حضرت موسٰی کو فرعون کے پاس بھیج دیا حضرت یوسف کو کنویں میں تین دن رکھا اور ظالموں پاس بھجوادیا لیکن ان سب انبیاء نے افف تک نہ کیا

    لیکن ہم.سب مسلمان جو اسلامی تعلیمات پر عمل کرنے کا دعوٰی کرتے تو ذرا سی مشکل پر واویلا کرتے ہیں

    ہم انسانوں میں صبر ختم ہو چکا ہے آزمائش شرط ہے یہ تو اللہ پاک نے قرآن میں فرمایا ہے:
    اللہ پاک اپنے ہر بندے کو آزماتا ہے کبھی لے کر آزماتا ہے تو کبھی دے کر آزماتا ہے
    اللہ نے ہر انسان کو جہاں مشکل دی ہے وہی آسانی بھی دی ہے

    فرمایا گیا ہے:
    ان مع الاسر یسرا
    فان مع الاسر یسرا

    ہر مشکل کے بعد آسانی ہے
    ہر غم کے بعد راحت ہے

    پس تم صبر کرو جتنا کرسکتے ہو اللہ اپنے بندے کو زیادہ مشکل میں نہیں ڈالتا
    ہم سب کو نبی کی تعلیمات پر عمل پیرا ہوتے ہوئے ہر.مشکل میں صبر کرنا چاہیے کیونکہ مایوسی کفر ہے

    اللہ پاک قرآن میں فرماتا تم مشکل میں صبر کرو اور مجھے یاد کرو کثرت سے
    تمہاری ہر مشکل آسان ہو.جائے گی

    تو میری اپنے تمام دنیا میں جہاں بھی مسلمان ہیں ان سب سے گزارش ہے کہ مشکل وقت میں صبر کریں اللہ کا ذکر کریں اللہ اپنے بندوں کو اکیلا نہیں چھوڑتا

    اللہ پاک سے دعا ہے کہ اللہ تعالٰی ہم سبکو سیدھے راستے پر چلائے اور صبر کرنے کی تلقین عطافرمائے

    آمین ثمہ آمین

    @InvisibleFari_

  • جنسی زیادتی کے اسباب اور سدباب  تحریر: بشارت حسین

    جنسی زیادتی کے اسباب اور سدباب تحریر: بشارت حسین

    معاشرے میں جنسی زیادتی کا بڑھتا ہوا رجحان خطرناک حد تک بڑھ چکا۔ دور حاضر میں جنسی زیادتی کا شکار نہ صرف خواتین ہیں بلکہ کم عمر بچے اور بچیاں بھی ہونے لگیں ہیں۔ بلکہ یوں کہا جائے گا کہ اب تو جانور بھی اس سے محفوظ نہیں تو یہ غلط نہ ہو گا۔
    جنسی زیادتی کہ شرح میں خطرناک حد تک کا اضافہ معاشرے میں خوف اور عدم استحکام کا سبب بن چکا ہے۔
    والدین اپنے بچوں کو گھر سے نکالتے ہوئے ڈرتے ہیں کہ پتا نہیں کیا ہو گا اللہ خیر کرے۔
    لیکن ہمارے معاشرے کے وہ ناسور اور درندے کھلے عام پھرتے ہیں اپنا شکار تلاش کرتے ہیں اگر پکڑے بھی جائیں تو اکثر والدین بدنامی کے ڈر سے تھانوں کچہریوں میں جاتے ہیں نہی اگر چلے بھی جائیں تو کچھ عرصہ بعد وہ درندے پھر سے جیلوں سے بری ہو کر آ جاتے ہیں۔
    یوں یہ رحجان بڑھتا ہی چلا جا رہا ہے۔
    اسباب
    معاشرے میں اس بیماری اور ناسور کے پھیلنے کی وجوہات مندرجہ ذیل ہیں
    جن میں سب سے پہلا انٹرنیٹ کا کردار ہے۔
    انٹرنیٹ جہاں بہت حد تک زندگی میں اسائیش لایا وہیں پورن ویب سائٹ نے ہمارے معاشرے کے خوبصورت ماحول کو تہس نہس کر دیا۔
    ایسی ویب سائیٹ پہ صرف زنا اور ہر طرح کے گندے کام دکھائے جاتے ہیں جس سے ہمارے بچے وقت سے پہلے جوان ہو جاتے ہیں اور ان میں یہ جنسی خواہشات کا رحجان بڑھ جاتا ہے اس طرح تقریبا انٹرنیٹ استعمال کرنے والے بچے پچاس سے پینسٹھ فیصد تک اس خطرناک مرض کا شکار ہو جاتے ہیں۔
    دوسرے نمبر پہ شادی کے مسائل
    ہمارے معاشرے میں شادی کو عموما اتنا مہنگا کر دیا ہے کہ اب نکاح مہنگا اور سنا سستا ہو گیا ہے۔
    جوان بچوں کی شادیوں میں اتنی دیر کر دی جاتی ہے کہ وہ نہ چاہتے ہوئے بھی غلط رستوں پہ چل نکلتے ہیں۔
    دین سے دوری
    اکثر ہمارے بچے اور بچیوں کو دیں سے شناسائی ہی نہیں ہوتی انکی نظر میں یہ کام کوئی زیادہ غلط نہیں ہوتا اس کو وہ تنگ نظری کہہ کر رد کر دیتے ہیں کہ اس میں کوئی حرج نہیں ۔
    سدباب
    معاشرے میں اس ناسور کو روکنے کیلئے سخت قوانین کی اشد ضرورت تو ہے ہی ساتھ والدین کی چند اہم ذمہ داریاں بہت نمایاں ہیں۔
    چھوٹے بچوں کو والدین ہر وقت اپنی نظر میں رکھیں انکے ساتھ اپنے تعلقات دوستانہ رکھیں۔
    بچے کے ساتھ ملنے والے ہر شخص کے کردار کو دیکھیں اور اپنے سے بڑی عمر کے بچوں سے دور رکھیں۔
    بچوں کے انٹرنیٹ استعمال پر نظر رکھیں اور بند کمروں میں انٹرنیٹ سے بچائیں۔
    بچے کو کسی کے ساتھ زبردستی کہیں بھی نہ بھیجیں اور نہ بچہ کوئی بات کر رہا ہو اور اس کو روکیں ہو سکتا ہے وہ اپنی پریشانی بتا رہا ہو اور آپ اس کو نظر انداز کریں اور وہی اس کیلئے خطرناک ہو۔
    بچوں کو اکیلا دکان وغیرہ پہ مت بھیجیں بلاشبہ یہ مشکل ہے لیکن اس پہ نظر رکھیں یہ آپ کے بچوں کے مستقبل کا معاملہ ہے۔
    میاں بیوی بچوں کے سامنے کبھی بھی کوئی ایسی ویسی حرکت نہ کریں۔
    بچوں اور بچیوں کو الگ الگ سلائیں۔
    کزن وغیرہ پہ بھی اعتماد نہ کریں بچوں کے معاملے میں کسی پہ کوئی اعتماد نہ کریں۔
    بچے جوان ہوں تو کسی نیک گھرانے میں بغیر لالچ کے شادی کریں۔
    بچوں کی عمر ضائع نہ کریں اور نہ ایسا موقع دیں کہ وہ آپکی رسوائی کا سبب بنیں۔
    مذہبی تعلیم سے آراستہ کریں اور برے کاموں پہ اللہ کی پکڑ کے بارے میں بتائیں۔
    معاشرے کا پر شخص ایسے لوگوں پہ نظر رکھے اور انکو پولیس کے حوالہ کرے۔
    اپنے محلے کے بچوں اور بچیوں کی غلط حرکات سے انکے والدین کو آگاہ کریں۔
    ہم سب ایک ہوں گے تو ہمارا معاشرہ صاف ستھرا ہو گا ہم ایک دوسرے کا خیال رکھیں گے تو کسی کو ہمارے ماحول کو معاشرے کو گندہ کرنے کی ہمت نہیں ہو گی۔

    https://twitter.com/Live_with_honor?s=09

  • عورتوں میں عدم برداشت   تحریر:فراز حیدر چشتی

    عورتوں میں عدم برداشت تحریر:فراز حیدر چشتی

    آج کل زیادہ تر حضرات صرف عورتوں کے حقوق کی بات کرتے ہیں لیکن میں سمجھتا ہوں کے دور حاضر کے حساب سے ہمیں مردوں کے حقوق کا بھی تحفظ کرنا ہوگا اور ہر فورم پے آواز اٹھانے کی ضرورت ہے میں تو کہتا ہوں کہ مردوں کے حقوق کے لیے پاکستان کے پارلیمنٹ میں ایک بل پیش کرنا چاہیے پر اس کے برعکس سیاست دان تو دور دنیا کے بیشتر صحافی کالم نگار ادیب خواتین کے خلاف لکھنے سے قبل ہزار بار سوچتے ہے
    دور جاہلیت کے وقتوں کی بات ہے جب مرد حضرات عورتوں پر تشدد کرتے تھے عورتوں کے حقوق پورے نہیں کرتے تھے محض بیٹیاں پیدا کرنے پہ ہی طلاق دے دیتے تھے تشدد کا نشانہ بناتے تھے حقوق پورے نہیں کرتے تھے لیکن آج کا زمانہ تبدیل ہو چکا ہے آج کل مرد حضرات پے عورتیں مظالم کرتی ہے ذہنی و جسمانی طور پر شدید ٹارچر کیا جاتا ہے مردوں کے ذرائع آمدن سے زیادہ اور مہنگے مہنگے برانڈز کی فرمائشیں کرتی ہیں عورتوں میں احساس تقریباً ختم ہو چکا ہے جس کے چلتے نوبت طلاق تک چلی جاتی ہے اس بات کا اندازہ آپ ایک رپورٹ سے لگائیں کے صرف کراچی میں 2019 کی رپورٹ کے مطابق 11 ہزار 143 کیسز دائر کروائے گئے ہیں طلاق کے لیے یہ ایک بہت بڑی تعداد ہے اسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا یہ تو صرف کراچی کی رپورٹ ہے پاکستان کے باقی تمام شہر کی عدالتوں میں مقدمات کی بھرمار ہے آج کل طلاق کی زیادہ تر منگ عورتوں کی طرف سے رکھی جاتی ہے عدالتوں میں بیشتر لڑکیاں طلاق کا مطالبہ کرتی ہیں ابھی چند روز قبل کی ہی بات ہے کہ میرے ایک دوست کی ایک بیٹی ہے سارا دن موبائل پے لگی رہتی ہے اپنے خاوند کے حقوق کا ذرا خیال نہیں رکھتی آئے روز ان کا جھگڑا ہوتا رہتا تھا موبائل کی وجہ سے تو تنگ آ کر اس کے خاوند نے کہا کہ يا یہ موبائل رکھ لو یا مجھے رکھ لو اس کی بیوی نے جواب دیا کے میں طلاق لے سکتی ہوں لیکن موبائل کو نہیں چھوڑ سکتی یہ ہے آج کی بیشتر لڑکیوں کا حال میری اپنی ماؤں بہنوں سے التماس ہے کہ سیدہ فاطمۃ الزہراء سلام اللہ علیہا کی سیرت پر عمل پیرا ہوتے ہوئے اپنے اندر عدم برداشت لانا ہوگا اور بڑھتے ہوئے طلاق کے رجحان کو روکنا ہوگا گا اور مرد حضرات سے التماس ہے کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت علی کرم االلہ وجہہ الکریم کی سیرت پر عمل پیرا ہوتے ہوئے عورتوں کے حقوق کا خیال رکھنا ہوگا کیونکہ عورتوں کے حقوق کے سب سے بڑے علمبردار ہمارے نبی پاک ہیں معاشرہ روز بروز اپنی تباہی کی طرف گامزن ہے مردوں اور عورتوں کو اپنی بے جا خواہشات کو علیحدہ رکھتے ہوئے دین اسلام کی بہترین تعلیمات کو اپنانا ہوگا اسی میں کامیابی ہے

  • بیٹی کے گھر کے آداب تحریر : انجینیئر مدثر حسین

    بیٹی اللہ کی دی ہوئی ایسی رحمت ہے جس کی چہچہاہٹ سے گھر کے آنگن میں رونق رہتی ہے. خود سے پیار لیتی اور بھرپور لاڈلی اور محبتوں کے حصار میں رہتی ہے. ایک باپ کے ساتھ اپنی بیٹی کی محبت دنیا کی تمام چیزوں سے انمول ہوتی ہے. لہجہ بھلے سخت ہی لیکن بیٹی کے لیے دل ہمیشہ موم کی طرح نم ہوتا ہے. بیٹی کے بچپن کے لاڈ، پھر تعلیم و تربیت بھر بلوغت کے ساتھ ساتھ اس کی شادی کی فکر باپ کی تگ و دو میں اضافہ کرتی چلی جاتی ہے.
    الغرض ایک باپ اپنی ہمت اور جوانی بیچ کر اپنی زاتی خواہشات کو ختم کر کے اپنے بچوں کا مستقبل خریدتا ہے. لیکن اس سب کے باوجود کائنات کی ہر چیز بھی بیچ ڈالے بیٹی کا نصیب اپنی مرضی کا نہیں خرید سکتا. بیٹی شادی کے ساتھ ہی باپ کی محبتیں اپنے دامن میں لئے اپنے شوہر کے گھر روانہ ہو جاتی ہے. ماں تو آہ و بقا کر لیتی ہے. باپ چپکے چپکے محبت کے آنسو اپنے دامن سے پونچتا ماں کو حوصلہ دیتا دکھائی دیتا ہے. دنیا اس باپ کا مضبوط اور حوصلہ مند کندھا تو دیکھتا ہے اس کے اندر بہتا جدائی کا سمندر کوئی نہیں دیکھ پاتا. اس کے آنگن کی چہچہاہٹ اس کو ہمیشہ کے لئے چھوڑ کسی اور کے آنگن میں مسکراہٹ بکھیرنے چل پڑتی ہے. یہ دنیا کا دستور اور قانون قدرت ہے. اپنے چگر کا ٹکڑا کسی کے حوالے کرن؛ اور کسی کے جگر کے ٹکڑے کو اپنے گھر کی عزت بنانا ازل سے چلا آ ریا قانون قدرت ہے اور سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہے.
    اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے اس نے زندگی کے ہر شعبے سے متعلق رہنمائی فرمائی وہاں ہر رشتے کے آداب بھی سکھاے. بیٹی کے گھر کے آداب بھی سکھاے. نبی کریم خاتم النبیںن محمد صلی اللہ علیہ وسلم اپنی بیٹی جنہیں جنتی عورتوں کی سردار کا درجہ دیا گیا کیسے ان کے ساتھ پیش آتے اس حوالے سے دو واقعات اپنی تحریر کا حصہ بنانا چاہتا ہوں تاکہ ہماری رہنمائی ہو سکے.
    صحیح بخاری میں روایت موجود ہے جس کا مفہوم ہے. ایک بار حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہ حضور کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوئیں فرمانے لگیں بابا جان (صلی اللہ علیہ وسلم) میرے ہاتھ میں چکی چلا چلا کر چھالے پڑ گئے ہیں ابھی مال غنیمت میں کچھ لونڈیاں اور غلام آئے ہیں ان میں سے ایک مجھے دے دیں. آپ (رضی اللہ عنہا) نے جب ہاتھ بڑھایا حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں چھالے دیکھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کی آنکھوں میں آنسو بھر آئے آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے خاموشی سے دامن میں آنسو سمیٹے اور بیٹی کو تسبیح فاطمہ کا تحفہ دیا اور ساری دنیا کو پیغام دے دیا کہ بیٹی کے معاملات میں صبر سے کام لیا جاتا ہے. اور سمجھا دیا کہ بیٹا چکی پھر بھی تم نے پیسنی بچے پھر بھی تم نے ہی پالنے اور شوہر کی خدمت الغرض گھر کے سارے معاملات تم نے ہی دیکھنے ہیں.
    *یہ تو ہے تربیت اہلیبیت بزبان مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم*
    کہ بیٹی کے گھر کے معاملات میں کوئی کسی قسم کی بھی دخل اندازی نہیں کی. چاہتے تو ایک لونڈی یا غلام دءلے سکتے تھے لیکن ساری دنیا کو ایک پیغام دے دیا کہ بیٹی کے معاملے میں صبر اور برداشست سے کام لیا جائے اور اسے اپنے گھر کو خود سمبھالنے کا موقع دیا جاے اور حالات سے خود نمٹنے کا موقع دیا جاے.
    ایک جانب تو ہی پیغام تو دوسری جانب گھر کے آداب دیکھیں.

    مسجد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم سے کچھ فاصلے پر حضرت علی رضی اللہ عنہ کا گھر مبارک ہے جس کے کچھ فاصلے پر ایک مسجد منارتین واقع ہے. جو لوگ عمرہ اور حج کے لیے سفر کرتے ہیں اس جگہ سے تقریباً آگاہ ہیں. ہے ترک میوزیم (جو کسی دور میں ترک سٹیشن ہوا کرتا تھا) سے تھوڑا فاصلے پر اسی سڑک کے کنارے واقع ہے. حضور کریم خاتم النبیںن محمد صلی اللہ علیہ وسلم جب بھی بیٹی خاتون جنت سیدہ فاطمہ الزہراء رضی اللہ عنہا سے ملنے جاتے تو پہلے مسجد میں قیام کرتے اور گھر پیغام بھجواتے جب گھر سے واپس قاصد لوٹتا اجازت مل جاتی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان رضی اللہ عنہا کے گھر تشریف لے جاتے. تو اس سے دو باتیں واضح ہوئیں.
    *1. بیٹی کے گھر کے راز کسے بھی صورت آپ پر عیاں نا ہو سکیں اسی لیے جب بھی جاؤ اجازت لے کر جاؤ. تاکہ وہ اپنے معاملات کو حل کر سکیں اور بیٹی کا شوہر کا مقام کسی صورت مجروح نہ ہو سکے.*
    *2. بالفرض کسی وجہ سے گھر میں آپسی ناراضگی والا معاملہ بھی ہو تو اس کو دور کرنے کا موقع مل سکے کیونکہ آپسی ناراضگی آپسی سمجھوتے سے ہی حل ہوتی ہے بیرونی مداخلت سے معاملات بگڑ جاتے ہیں*
    کتنی خوبصورتی سے دین نے ہر معاملے کے آداب بتا رکھے ہیں ان دو واقعات سے ہمیں کھلی آگہی ملتی ہے بیٹی کے گھر سے متعلق معاملات میں رہنمائی ملتی ہے.
    اللہ کریم ہمیں سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے
    آمین

    @EngrMuddsairH

  • حجاب حکمِ ربی۔ تحریر: نصرت پروین

    حجاب حکمِ ربی۔ تحریر: نصرت پروین

    حجاب دین اسلام کے احکامات میں سے ایک اہم حکم ہے۔
    حجاب حکمِ ربی ہے،
    حجاب قرآن کی آیت ہے،
    حجاب پردہ ہے،
    حجاب آڑ ہے،
    حجاب ڈھال ہے،
    حجاب زندگی ہے،
    حجاب بندگی ہے،
    حجاب عورت کا حق ہے،
    حجاب آزادی ہے بےحیائی سے،
    حجاب رکاوٹ ہے ان نظروں سے جو آپ کو بری نیت سے دیکھتی ہیں۔
    حجاب آپکے لئے جنت کا ٹکٹ بن سکتا ہے۔ حجاب آپکا محافظ ہے۔
    حجاب آپکو بے شمار برائیوں سے بچاتا ہے۔ کچھ نام نہاد روشن خیال مغرب کی تقلید کرنے والے حجاب کو ترقی کی راہ میں رکاوٹ تصور کرتے ہیں حالانکہ حقیقت اسکے برعکس ہے عورت حجاب میں زیادہ پر اعتماد طریقے سے معاشی و معاشرتی خدمات انجام دے سکتی ہے۔
    الله تعالی نے کچھ چیزیں انمول بنائی ہیں جیسے غلاف میں چھپا کعبہ،
    غلاف میں قرآن،
    بند سیپ میں چھپے ہوئے موتی،
    کوئلے کی کان میں چھپے ہیرے،
    گہرے پانی میں چھپے گوہر،
    اسی طرح حجاب میں لپٹی ہوئی لڑکی۔
    الله تعالی نے تمام پھلوں اور سبزی پر ایک چھلکا محافظ مقرر کیا ہے جو جراثیم سے انکی حفاظت کرتا ہے جو انکا حجاب ہوتا ہے۔انار کو دیکھیں اسکے دانوں پہ ایک لئیر سی ہوتی ہے لئیر حجاب ہی تو ہےاور پھر اس لئیر پہ چھلکا۔ اگر آپ حفظانِ صحت کے اصولوں سے واقف ہوں اور آپکو بغیر چھلکے کے پھل ملیں تو کیا آپ انہیں استعمال کرینگے؟ انہیں کوئی استعمال نہیں کرے گا کیونکہ سب جانتے ہیں کہ بغیر چھلکے کے تو گودے پر جراثیم لگ جاتے ہیں۔ اسی طرح ہر قیمتی چیز کی حفاظت کی جاتی ہے آپ غور کریں بدن کے زیادہ قیمتی اعضاء زیادہ بڑے حجاب میں ہیں جیسے آپ کا دل پسلیوں کے اندر ہے، ہڈیوں کے ڈھانچے کے اندر پھر اوپر جلد کا پردہ ہے اسی طرح آپکا دماغ جھلی، کھوپڑی، جلد اور پھر بالوں کے اندر چھپا ہے اسی طرح خشک میوہ جات دیکھیں سب چھلکے میں محفوظ ہیں۔ اسی طرح آپ قیمتی ہیں انمول ہیں منفرد ہیں اور حجاب آپ کا محافظ ہے۔
    جب آپ حجاب اوڑھیں تو یہ سوچ کر اوڑھیں کہ آپ نے اپنے رب کا حکم اوڑھ لیا ہے۔
    الله رب العزت نے قرآن میں فرمایا !
    یٰۤاَیُّہَا النَّبِیُّ قُلۡ لِّاَزۡوَاجِکَ وَ بَنٰتِکَ وَ نِسَآءِ الۡمُؤۡمِنِیۡنَ یُدۡنِیۡنَ عَلَیۡہِنَّ مِنۡ جَلَابِیۡبِہِنَّ ؕ ذٰلِکَ اَدۡنٰۤی اَنۡ یُّعۡرَفۡنَ فَلَا یُؤۡذَیۡنَ ؕ وَ کَانَ اللّٰہُ غَفُوۡرًا رَّحِیۡمًا ﴿۵۹﴾
    اے نبی! اپنی بیویوں سے اور اپنی صاحبزادیوں سے اور مسلمانوں کی عورتوں سے کہہ دو کہ وہ اپنے اوپر اپنی چادریں لٹکا لیا کریں ۔ اس سے بہت جلد ان کی شناخت ہو جایا کرے گی پھر نہ ستائی جائیں گی اور اللہ تعالٰی بخشنے والا مہربان ہے ۔
    سورہ الاحزاب: آیت نمبر:59

    جب پردےکا حکم صحابیات کے لئے آیا انہوں نے بغیر کسی بہانے کے اطاعت کی۔ تو آپکے لئے انکی زندگی مشعلِ راہ ہے اگر حجاب اوڑھنا آپکو الجھن، گھٹن، اور آگ میں ہونا لگتا ہے تو الله کی رضا کی خاطر یہ گھٹن، الجھن اور آگ اوڑھ لیں دوزخ کی آگ میں بھی تو گرمی ہو گی نہ۔اور جسطرح حضرت ابراہیم علیہ السلام الله کی رضا کی خاطر آگ میں کود پڑے تھے اور وہ آگ ٹھنڈی ہو کر انکے لئے لباسِ گل بن گئی اسی طرح حجاب بھی آپکے لئے لباسِ گل بن جائے گا۔
    حجاب ایک عورت کو خوبصورت بنا دیتا ہےاس سے بھی خوبصورت جو آنکھیں دیکھتی ہیں حجاب ایک مرد کو مجبور کرتا ہے کہ وہ ایک عورت کو عزت کی نگاہ سے دیکھے نہ کہ کسی چیز کی حثیت سے، عورت حجاب میں نایاب پھولوں کا گلدستہ لگتی ہے۔ حجاب واجب ہو یا مستحب۔ لیکن نیکی تو ہے نہ۔ اور قیامت کے دن جب انسان ایک ایک نیکی کو ترسے گا پچھتائے گا تو کل کے پچھتانے سے بہتر ہے آج حکمِ ربی مان لیں۔ تو حجاب اوڑھ لیں۔
    Nusrat Perveen
    @Nusrat_186

  • اسلام میں عورت کا مقام   تحریر : تقویٰ نور

    اسلام میں عورت کا مقام تحریر : تقویٰ نور

    اسلام سے قبل عورت کو معاشرے میں کوئی مقام حاصل نہیں تھا. عورت کو تمام برائیوں کی جڑ اور قابل نفرت سمجھا جاتا تھا. بیٹیوں کو منحوس سمجھا جاتا اور انہیں پیدا ہوتے ہی زندہ درگور کر دیا جاتا تھا. عورت ہر طرح کے ظلم و بربریت کا شکار تھی.
    طلوعِ اسلام کے بعد عورت کو اس کا اصل مقام اور حق حاصل ہوا. اسلام نے ان تمام جاہلانہ رسومات کا خاتمہ کیا جو عورت کی عزت اور وقار کے خلاف تھیں. عورت نے معاشرے میں وہ مقام حاصل کیا جس کی وہ حقدار تھی اسے تمام معاشرتی، تعلیمی اور معاشی حقوق حاصل ہوئے. اسلام وہ دین ہے جس نے عورت کو بطور ماں، بہن، بیوی اور بیٹی کے عزت بخشی. جنت کو ماں کے قدموں تلے رکھ دیا.حضور اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے حسن سلوک کی سب سے زیادہ حقدار ماں کو قرار دیا.

    قرآن پاک میں مرد و عورت کے لیے ایک جیسے احکامات بیان کیے گئے ہیں.اگر عورت کوئی نیک کام کرے تو اس کی جزا اور گناہ پر سزا ہے اور یہی احکامات مرد کے لیے بھی ہیں.

    ارشاد باری تعالیٰ ہے
    ’’جو کوئی بھی نیک عمل کرے مرد ہو یا عورت اور وہ ایمان والا ہو، ہم اس کو ضرور بالضرور پاکیزہ و طیب زندگی عطا فرمائیں گے‘‘۔

    زمانہ جاہلیت میں بیٹیوں کو زندہ دفن کر دیا جاتا تھا. اسلام نے اس قبیح رسم کا خاتمہ کیا اور بیٹی کی پیدائش کو باعث رحمت قرار دیا.
    حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے :

    جس نے دو لڑکیوں کی پرورش کی یہاں تک کہ وہ بلوغ کو پہنچ گئیں تو قیامت کے روز میں اور وہ اس طرح آئیں گے۔ آپؐ نے اپنی انگشت شہادت کو ساتھ والی انگلی سے ملا کر دکھایا”۔

    اسلام سے قبل عورت کو وراثت کا حق حاصل نہیں تھا. اسلام نے عورت کا وراثت میں باقاعدہ حصہ مقرر کیا.

    ارشاد ربانی ہے :

    لِّلرِّجَالِ نَصيِبٌ مِّمَّا تَرَكَ الْوَالِدَانِ وَالْأَقْرَبُونَ وَلِلنِّسَاءِ نَصِيبٌ مِّمَّا تَرَكَ الْوَالِدَانِ وَالْأَقْرَبُونَ مِمَّا قَلَّ مِنْهُ أَوْ كَثُرَ نَصِيبًا مَّفْرُوضًاO

    ’’مردوں کے لئے اس (مال) میں سے حصہ ہے جو ماں باپ اور قریبی رشتہ داروں نے چھوڑا ہو اور عورتوں کے لئے (بھی) ماں باپ اور قریبی رشتہ داروں کے ترکہ میں سے حصہ ہے۔ وہ ترکہ تھوڑا ہو یا زیادہ (اللہ کا) مقرر کردہ حصہ ہےo‘‘

    اسلام نے مرد کو عورت کے نان و نفقہ کا ذمہ دار بنایا ہے. شادی سے پہلے باپ اور بھائی اور شادی کے بعد شوہر اور بیٹے کو عورت کا نگران مقرر کیا.اس طرح عورت کو روٹی، کپڑا اور مکان کی پریشانی سے آزاد کیا. عورت کو گھر کی ملکہ بنایا تا کہ وہ گھر میں رہے اور اپنے بچوں کی بہترین تربیت کرے…

    غرضیکہ جتنے حقوق اسلام نے عورت کو دیے ہیں اس کی مثال کسی اور مذہب میں نہیں ملتی

     

    @TaqwaNoorPTI

  • اسلام میں خواتین کی حقیقی اہمیت اوربحیثیت مسلمان ہمارے فرائض  تحریر: محمد اختر

    اسلام میں خواتین کی حقیقی اہمیت اوربحیثیت مسلمان ہمارے فرائض تحریر: محمد اختر

    قارئین کرام، اسلام قبول کرنے والی پہلی عورت حضرت خدیجہ (رض) تھیں، اسلام کی سب سے بڑی عالمِ دین ایک عورت حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا تھیں۔وہ شخص جس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سب سے زیادہ پیار کیا وہ بھی ایک عورت ہی تھیں جن کا نام حضرت فاطمہ (رض)تھا، آج کے اِس دور میں اسلام کو غلط معنی میں پیش کیا جاتا ہے، جبکہ در حیقت اسلام میں سب سے زیادہ اہمیت اور عزت عورت کو دی گئی ہے بشرط یہ کہ ہم اسلامی تاریخ کا اُس کی اصل روح سے مطالعہ کریں۔دورِ حاضر میں غلط فہمیوں کے باوجود، اسلام میں خواتین کا درجہ محبوب کے برابر کا ہے۔ تاریخ کے اوراق پلٹیں توپتا چلتا ہے کہ ایک گہری جنس پرست تاریخی سیاق و سباق کے درمیان، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خواتین کی اہمیت پر دلیری سے تبلیغ کی۔ خاندان اور معاشرے میں ان کی شراکت کوسراہا، خواتین کے ساتھ ناروا سلوک کی مذمت اور ان کے حقوق کے لئے مہم چلائے۔اسلام میں خواتین کے ارد گرد بہت سے منفی دقیانوسی تصورات اسلامی رہنمائی سے نہیں بلکہ ثقافتی طریقوں سے جنم لیتے ہیں، جو نہ صرف خواتین کے حقوق اور تجربات کی نفی کرتے ہیں بلکہ اللہ تعالٰی اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تعلیمات کی بھی براہ راست مخالفت کرتے ہیں۔ نادان اور پردہ دار مسلمان عورت کی دقیانوسی باتوں سے دور، شیخ ابن باز نے کہا، ”اس میں کوئی شک نہیں کہ اسلام اس عورت کی عزت، حفاظت کرنے، انسانیت کے بھیڑیوں سے اس کی حفاظت کرنے، اس کے حقوق کو محفوظ بنانے اور اس کی حیثیت کو بلند کرنے کے لئے آیا ہے۔ ” تاریخ، ثقافت اور مذہب کے مابین تمام الجھنوں کے ساتھ، خود سے یہ سوال پوچھنا ضروری ہے۔ قرآن مجید اور احادیث اسلام میں خواتین کی حیثیت کے بارے میں در حقیقت ہمیں کیا سکھاتی ہیں؟

    اسلام ہمیں برابری کے بارے میں کیا تعلیم دیتا ہے

    قرآن کریم ہمیں سکھاتا ہے کہ آدم اور حوا کو ایک ہی روح سے پیدا کیا گیا تھا۔ دونوں برابر کے قصوروار، یکساں ذمہ دار اور یکساں طور پر قابل قد تھے۔ بحیثیت مسلمان، ہم سمجھتے ہیں کہ تمام انسان ایک خالص حالت میں پیدا ہوئے ہیں – مرد اور خواتین – اور ہمیں ایمان کے ساتھ ساتھ اچھے ارادے اور عمل کے ذریعہ اس پاکیزگی کو بچانے کے لئے جدوجہد کرنی ہوگی۔مساوات کا مرکزی خیال دیگر اسلامی تعلیمات کے ذریعہ بھی چلتا ہے۔ قرآن مجید کی ایک اہم آیت میں لکھا ہے، ”مرد مومن اور خواتین مومن ایک دوسرے کے لئے ذمہ دار ہیں۔ وہ نیکی کا حکم دیتے ہیں اور برائیوں سے روکتے ہیں، نماز پڑھتے ہیں اور خیرات دیتے ہیں اور خدا اور اس کے نبی کی اطاعت کرتے ہیں۔ (قرآن، 9:71)۔ یہ آیت ہمیں بتاتی ہے کہ اسلامی تعلیمات پر عمل پیرا ہونے کے لئے مرد اور عورت کی یکساں ذمہ داریاں ہیں۔ ایک اور قرآنی آیت میں خواتین اور مردوں کے مساوی حیثیت کی وضاحت کی گئی ہے، اور کہا گیا ہے، ”جو بھی مرد، عورت، نیک عمل اور ایمان رکھتے ہیں، ہم ان کو ایک اچھی زندگی دیں گے اور ان کے بہترین اعمال کے مطابق انہیں بدلہ دیں گے۔” (16:97)
    خواتین کے حقوق کا تحفظ
    610 ء عیسوی میں، پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سیکس ازم میں جڑے ہوئے تاریخی تناظر میں رہ رہے تھے۔ یورپ سے لے کر عربی دنیا تک، خواتین کو مردوں کے برابر سلوک نہیں کیا گیا۔ اسلام خود ہی جزیرالعرب، اب سعودی عرب میں پیدا ہوا تھا، جہاں خواتین کے پاس کاروبار نہ تھے، نہ ہی ان کی ملکیت تھی اور نہ ہی ان کا مال وراثت میں تھا۔ مزید یہ کہ جبری شادی عام تھی، لڑکیوں کے لئے تعلیم شاذ و نادر ہی تھی، اور خواتین بچوں کو اکثر ترک کردیا جاتا تھا یا انہیں زندہ دفن کیا جاتا تھا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کی تاجر زوجہ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا ان بہت سے ناجائز عمل کے خلاف کھڑی ہوئیں، مردوں سے عورتوں اور لڑکیوں کے ساتھ انتہائی احترام کے ساتھ پیش آنے کی وکالت کی۔ اسلام کے قوانین کے مطابق،ہر انسان کی زندگی کو مقدس سمجھا جاتا ہے، اور مرد اور خواتین کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ کس سے شادی کرے اس کا انتخاب کریں اور انہیں کبھی بھی زبردستی نہیں لینا چاہئے۔ اسلامی قوانین کے تحت، خواتین کو یہ بھی حق حاصل ہے کہ وہ جائیدادیں فروخت اور خریدیں، کاروبار چلائیں، شادی کے دوران کسی بھی وقت اس سے جہیز کا مطالبہ کریں، ووٹ دیں اور سیاست اور معاشرے کے تمام پہلوؤں میں سرگرم حصہ لیں۔ یہاں یہ قابل ِ ذکر ہے کہ بہت سارے اسلامی ممالک، جیسے پاکستان اور ترکی میں خواتین کی ورزائے اعظم کی حیثیت میں سربراہی رہ چُکی ہے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تعلیم تک یکساں رسائی کو فروغ دیا، ہمیں یہ تعلیم دی کہ، ”علم کی جستجو ہر مسلمان، مرد اور عورت کا فرض ہے۔” [ابن ماجہ] محبوب کی اپنی بیٹی، حضرت فاطمہ (رض)، اعلی تعلیم یافتہ اور قابل احترام تھیں۔ آنحضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرتِ مبارکہ کا مطالعہ کریں تویہ ثابت ہوتاہے کہ جب بھی فاطمہ رضی اللہ عنہا کسی کمرے میں داخل ہوتی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوجاتے اور اپنی نشست ا نہیں دے دیتے۔

    بحیثیت مسلمان ہمارا فرض

    قارئین کرام، ماضی قریب میں عورتوں کیخالف تشویش ناک حد تک بڑھتے جرائم درحقیقت دینِ اسلام کی حقیقی تعلیمات سے دور ہو کر مغربی ثقافت کو پروان چڑھانے کا نتیجہ ہے، ہمیں دینِ اسلام کی حقیقی تعلیمات کو عام کرنا ہوگا اور معاشرے میں چُھپے درندہ صفت بھیڑیوں کو عورت کے مقام، عزت و مرتبہ کا بتانا ہوگا۔کیونکہ عورت ہی وہ ہستی ہے جو ماں،بہن،بیوی کے روپ میں ہمیں اچھی تربیت دے کر عورت کی عزت کرنا سکھاتی اور معاشرے کا ایک کارآمد شخص بناتی ہے۔ خواتین کو بااختیار بنانے کی میراث، بحیثیت مسلمان، سنت کی پیروی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عظیم کاموں کو جاری رکھنے کی کوشش کرنا ہے۔ ہمیں ایک مہذب معاشرے اور قوم کو تشکیل دینے کے لئے اسلام کے احکامات اور قوانین کی روشنی میں خواتین کی فلاح و بہبود کے لئے کام کرنا ہوگا۔
    @MAkhter_۔