Baaghi TV

Category: خواتین

  • عید قُرباں اور ہماری زمہ داری.تحریر.اُم سلمیٰ

    عید قُرباں اور ہماری زمہ داری.تحریر.اُم سلمیٰ

    عیدالاضحی آمد آمد ہے اور ہر سال عید آتی اور گذر جاتی ہے اور ہر بار شہروں میں صفائی کا بڑا سنگین مسئلہ پیدا ہوتا ہے عید قربان پے جانورں کی قربانی سے بچی آلائشیںوں کو ٹھکانے لگانے کا سب سے اہم مرحلہ ہوتا ہے.
    اسی حوالے سے گورنمنٹ کے منتخب اداروں کی طرف سے عملہ صفائی کی چھٹیاں منسوخ کرنے کے ساتھ ساتھ صفائی کا اہتمام کے لئے خصوصی انتظامات کیے جاتے ہیں
    ۔صوبائی وزرائے اعلیٰ نے بھی اپنے اپنے صوبے میں اس حوالے سے شعبہ صفائی کو سختی سے ہدایت کرتے ہیں،
    ہر بڑے شہر میں انتظامیہ کی طرف سے انتظامات کیے جاتے ہیں اور ساتھ ساتھ عوام سے بار بار اپیل بھی کی جاتی ہے قربانی جگہ جگہ نہ کی جائے اور جانوروں کے ذبح کے بعد آلائشیں کھلی جگہ پر نہ پھینکیں جائیں،اسے شعبہ صفائی کی طرف سے مقرر کردہ مقامات پر جمع کیا جائے۔ تاکہ برقت عیدالاضحی کے حوالے سے آلائشوں کو سمیٹنا ممکن ہو سکے گا آسان ہوسکے اور فوری ہوسکے.آلائشیں فوری اٹھانا اس لیے ضروری ہے کے وقت بڑھنے کے ساتھ ان میں پیدا ہونے والے تعفن سے کئی قسم کے امراض اور آلودگی پھیلنے کا خدشہ ہوتا ہے تو گورمنٹ انتظامی محکموں کے ساتھ ہم پے بھی یہ ذمداری عائد ہوتی ہے کے ہم اس موقعے پر بھرپور تعاون کریں۔

    ماہرین طب کے مُطابق عید قرباں پر آلودہ ماحول کے وجہ سے وبائی امراض پھیلنے کا خدشہ ہوتا ہے .اس لیے اپنے لیے اپنے خاندان اور صاف معاشرے کے لیے اپنی ذمداری پوری کریں قربانی کرنے کے بعد اس جگہ کی صفائی آلائشیں کو منتخب کردہ جگہ پر پنچہنا قربانی کے ساتھ ہمارا اہم فریضہ ہونا چاہیے.
    اگرچہ بنیادی طور پر یہ سرکاری اداروں اور ذمدار افراد کی ہی ذمہ داری ہے کہ عید الاضحٰی کے موقع پر صفائی کے انتظامات کو یقینی بنائیں لیکن اس حوالے سے عوام الناس بھی بری الذمہ نہیں ہوسکتے اِنکی بھی ذمداری ہے کے وہ عید کے موقع پر بھرپور تعاون کریں.

    عوام کو چاہیے کہ جس اہتمام سے وہ جانور خریدتے ہیں، اس کی خدمت کرتے ہیں، قربانی کے لیے قصائی کا بندوبست کرتے ہیں، گوشت بانٹتے اور پکا کے کھاتے کھلاتے ہیں، اسی اہتمام سے قربان کیے گئے جانوروں کی آلائشوں اور گندگی کو ٹھکانے لگانے کے لیے بھی انتظام کریں اپنی زمداری سمجھیں۔ سب جانتے ہیں کہ قربانی کے جانوروں کی کوئی چیز ضائع نہیں کی جاتی اور آلائشوں کو مفت میں اٹھا کر لے جانے والے باآسانی مل جاتے ہیں۔ بس آپ کی طرف سے ذمہ داری لینے اور تھوڑی سی کوشش کرنے کی بات ہے۔

    قربانی کے بعد اپنے علاقے اپنی گلی کی صفائی سرکاری اداروں پر نہ رہیں، زندگی کے اور کتنے ہی معاملات ایسے ہیں جن میں ہم ذاتی حیثیت میں کوشش کرکے اپنا اور دوسروں کا بھلا کرلیتے ہیں تو اس میں کیوں نہں؟ اسی طرح اس حوالے سے بھی انفرادی کوشش کو اپنا فرض جانیں کیوں کے یہ آپ کی گلی، آپ کا محلہ، آپ کا علاقہ اور آپ کا شہر ہے یہ آپ کا پیارا ملک پاکستان ہے اس کی صفائی جتنی گورمنٹ کے اداروں کی زمداری ہے اتنی آپ کی بھی ہے.

    عید کے موقع پر ہماری گلیاں ہماری محلے ہمارا ملک بھی ایسے ہی صاف ستھرا دکھائی دینا چاہیے جیسے ہمارے گھر خوشی کے موقع پر چمک دمک رہے ہوتے ہیں۔

    آئیے ہم سب مل کر عہد کریں کہ ہم اس عید قربان پر صفائی کو یقینی بنائیں گے اور اگلی ہر عید پر ایسا ہی کریں گے اور اپنی آئندہ نسلوں کو بھی یہی تربیت دیں گے کے گورمنٹ کے ساتھ ساتھ ہم سب بھی صفائی کا خیال رکھیں گے اور اپنی ذمداری پوری کریں گے۔۔
    قربانی کرتے وقت اور عید کے موقع پر ماسک لگانا اور سماجی فاصلہ رکھنا بھی نہ بھولیں تاکہ آپ خود اور دوسرے کو محفوظ رکھ سکیں۔
    @umesalma_

  • والدین کی یاد عید کے موقع پر.تحریر : فروا نزیر

    والدین کی یاد عید کے موقع پر.تحریر : فروا نزیر

    Twitter id: @InvisibleFari_

    عید ایک ایسا تہوار ہے جو اپنوں کے بغیر نامکمل لگتا ہے
    دنیا میں ایسے بہت سے لوگ ہیں جو یا تو پردیس میں عید گزارتے ہیں یا جن کے والدین حیات نہیں ہوتے

    اگر میں یہ کہوں والدین اللہ کا خوبصورت تحفہ ہیں تو یہ غلط نہ ہو گا…
    دنیا میں سب سے بلند مقام والدین کا ہے ماں کا الگ اور باپ کا الگ جو ہمارے لیے ڈھیروں قربانیاں دیتے ہیں

    ماں کے پاؤں تلے جنت تو باپ جنت کا دروازہ

    ماں ایک بہت ہی خوبصورت لفظ ہے جسے بولتے ہی مسکراہٹ آجاتی ہے خودبخود اور باپ اتنا عظیم رشتہ جو شخصیت کو ابھارنے میں مدد کرتا ہے

    زندگی میں ان دو رشتوں سے لامحدود محبت ہوتی ہے
    ایسے سمجھ لیں کہ جیسے انسان نے دنیا میں کوئی بھی کام کرنا ہو تو مطلب ضرور ہوتا ہے جیسے عبادت نیکیوں کیلیے لیکن ماں باپ بنا کسی لالچ کے اپنی اولاد کی تعلیم و تربیت کرتے ہیں

    اولاد چاہے کتنی ہی بڑی ہو جائے والدین کیلیے وہ ہمیشہ بچے ہی ہوتے ہیں
    جو ہمیشہ خیال رکھتے ہیں

    میں اس عید کے موقع پر اپنے سب بھائیو بہنوں کو پیغام دینا چاہتی ہو
    میری خواہش ہے کہ ہر انسان اس پر لازمی عمل پیرا ہو تاکہ وہ مشکلات سے بچے اور پرسکون رہے…

    یہ زندگی اللہ کی امانت ہے ہر ذی روح نے موت کا مزہ چکھنا ہے
    اللہ پاک انسان کو آزمائش مختلف طریقوں سے دیتا یے کبھی دے کر تو کبھی من پسند چیزیں لے کر

    اب جیسے کہ بہت سے لوگ ہوتے ہیں جن کے والدین حیات نہیں ہوتے یا کسی کی والدہ نہیں ہوتی یا کسی کے والد نہیں ہوتے
    اور وہ سب لوگ زندگی سے ناامید یوتے ہیں مایوس ہوتے ہیں
    میں جانتی ہو یہ باتیں بہت مشکل ہیں لیکن جب اللہ پر توکل ہو تو ہم مایوس نہ ہو اللہ کے فیصلے پر عمل کریں

    اللہ پاک اپنے ہر بندے سے بہت پیار کرتا ہے کسی کو اکیلا نہیں چھوڑتا لیکن ہم پر چھوٹی سی مشکل آجائے تو کہتے ہیں کہ سب مشکلات بس ہم پر آگئی ہیں
    لیکن اگر تاریخ دیکھیں تو اللہ نے اپنے ہر انبیاء کو مشکلات دی اور ان سب نے اللہ کے فیصلوں پر صبر سے کام لیا

    ہم انسان تو کچھ نہیں اللہ نے اپنے پیارے محبوب پر اتنی سخت آزمائش دی کہ بن باپ کے پیدا ہوئے والدہ چھ ماہ بعد ہوئی
    حضرت موسٰی علیہ السلام ماں کے ہوتے ہوئے کافروں میں پرورش پائی
    یہ سب اللہ ہی کے حکم سے تھا اور ان سب نے اللہ کے فیصلوں کو دل سے مانا

    اور یہ عیدالاضحٰی قربانی کا دن ہے اللہ کی راہ میں کچھ بھی قربان کرنے کا دن
    سب سے بڑی آزمائش تو حضرت ابراہیم علیہ السلام پر تھی جن کو دس سال بعد پیدا ہونے والےبیٹے کو ذبح کرنے کا حکم دیا اور آپ قربان کرنے چلے گئے

    سلامتی ہو ابراہیم پر اور انکی آل پر

    انبیاء پر آزمائشیں اللہ نے اس لیے دی تاکہ عمل کر سکیں
    لیکن ہم مسلمان دعوے کرتے ہیں لیکن عمل.غائب ہوتا ہے

    اور بیشک فرمایا گیا ہے:
    اور جو کچھ تمہارے پاس ہے اسکا شکر بجالاؤ ناشکری نہ کرو

    اگر اللہ نے والدین میں سے ایک واپس بلالیا ہے تو آپ کے کوئی تو ہوتا ہے بھائی یا بہن ہوتا تو اس وقت بھی اللہ کا شکر ادا کرو کیونکہ یہ بھی بہت بڑی نعمت ہے
    اور جو شکر کرتے اللہ کو یاد کرتے ہیں بیشک اللہ انکے ساتھ ہوتا ہے

    میری سب سے درخواست ہے کہ عید پر اداس ہونے کی بجائے خوشیاں بانٹیں باقی رشتوں کو ضائع نہ کریں مایوسی کفر ہے

    اللہ کے احکامات کو سمجھے کیونکہ اللہ کے ہر کام میں مصلحت ہوتی ہے پیاروں کیلیے دل سے دعا کریں لیکن اداس نہ ہو

    عیدالاضحٰی مبارک ہو اہلِ اسلام کو

    خوش رہے خوشیاں بانٹیں

  • عید اور ہم لڑکیاں۔   تحریر: کنزہ صدیق

    عید اور ہم لڑکیاں۔ تحریر: کنزہ صدیق

    لو جی عید آگئ ہے اور ہمیشہ کی طرح ہم لڑکیوں کی خوشی دیدنی ہے کیونکہ ظاہر ہے بھئ جہاں بات آجائے سجنے سنورنے کی اور نئے نئے کپڑے جوتے جیولری پہننے کی تو ہم لڑکیاں سب سے زیادہ خوش ہوتیں ہیں۔
    یوں تو عید کی تیاریاں عید سے کافی دن پہلے ہی شروع ہوجاتی ہیں۔
    بازار کے بار بار چکر لگانا،درزی کو جلدی کپڑے سینے کا کہا، چوڑیاں جوتیاں میچنگ لیسز لینا اور نجانے کیا کیا سیاپے ہیں ہم لڑکیوں کے۔۔
    تیاریاں کرتے کرتے عید سر پہ آن پہنچتی ہے لیکن یہ ٹینشن دماغ پہ سوار ہی رہتی ہے کہ ابھی تک درزی نے کپڑے نہیں دئیے تو بار بار درزی کو کال کرنا شروع ہوجاتے ہیں لیکن جناب درزی صاحب تو اپنے آپ میں ماشااللہ سے انجینئر بنے ہوتے ہیں وہ اپنا نمبر ہی بند کر دیتے ہیں اور اب ہماری پریشانی میں مزید اضافہ ہوجاتا ہے کہ بھلا درزی کا نمبر کیوں بند ہے کہیں اس نے کپڑے نہ سئیے تو کیا ہوگا وغیرہ وغیرہ۔
    اسی ٹینشن کے چلتے ہی بھائی وہ فرشتہ ثابت ہوتے ہیں تو بائیک پہ بیٹھا کر ہمیں درزی کے سر پہ لا کھڑا کرتے ہیں اب غصہ تو بہت آرہا ہوتا ہے لیکن درزی کو کچھ کہا بھی نہیں جاسکتا کیونکہ اگر یہ غصہ ہوگیا تو بھئ ہوگیا کام تمام۔۔
    پھر یاد آتا ہے کہ مہندی بھی تو لگوانی ہے وہ تو رہ ہی گئ جی جناب ایسے کیسے ہو سکتا ہے کہ ہم لڑکیاں مہندی نہ لگائیں تو اب مہندی لگانے والی کی تلاش شروع ہوجاتی یے محلے میں مہندی لگانے والی لڑکیوں کے الگ ہی نخرے ہوتے ہیں بھلا کوئی ان سے یہ پوچھے کہ باجی آپ تھوڑی نہ مفت میں مہندی لگارہی ہیں لیکن نہ نہ اگر یہ کہہ دیا تو مہندی کون لگائے گا۔۔
    خیر اسکے نخرے بھی برداشت کرنے پڑتے ہیں لیکن تھوڑی تھوڑی دیر بعد وہ اپنی زلف اٹھا کر کان کے پیچھے کرکے منہ بنا کر تھکن کا اظہار کرتی ہے تو بس دل کرتا ہے اسے کہیں بی بی "توں رہن دے اسی آپ لاں لیں گے”
    لیکن ایسا تو کہنا ہی گناہ ہے اللہ اللہ کر کے مہندی لگ ہی جاتی ہے پھر آجاتی ہے بھائیوں کے اور اپنے کپڑے پریس کرکے رکھنے کی۔
    جی تو اکثر گھروں میں چاند رات کو ہی سب کے کپڑے استری ہوجاتے ہیں تاکہ صبح سویرے پریشانی نہ ہو لیکن ہم لڑکیوں کو اس لمحے استری کرنا کسی عذاب سے کم نہیں لگتا کیونکہ ابھی پارلر بھی تو جانا ہے لیکن جیسے تیسے منہ بنا کر استری کرنی پڑتی ہے کیونکہ اگر استری نہ کی تو بھائی پارلر نہیں چھوڑ کر آئیں گے اور یہی تو قیامت ہے اگر پارلر نہ گئے تو بس۔۔۔۔۔
    سمجھ ہی گئے ہوں سب ۔۔
    لہذا عید جتنی مزے دار اور خوشگوار احساس دلاتی ہے وہی ہم لڑکیوں کو بے شمار پریشانیاں بھی لاحق ہوتی ہیں لیکن اس کے باوجود پہ ہم اپنے بناو سنگھار کا خیال خوب اچھے سے رکھتی ہیں اب جیسا کہ عید الاضحیٰ آنے والی ہے تو اس عید پہ زیادہ تر وقت کچن میں ہی گزرتا ہے مزے مزے کے پکوان تیار کیے جاتے ہیں اور خوب لطف اٹھایا جاتا ہے لیکن کہاں بھی ہم لڑکیاں بڑی پریشان ہیں وہ کیوں بھلا؟
    وہ اس لیے کہ اتنا تیار ہو کر کچن میں کون جائے لیکن اماں کا ہاتھ بٹانے کے لیے یہ بھی کرنا پڑتا ہے صبح کلیجی بنانی ہے دوپہر میں قورمہ پلاو وغیرہ ابھی دوپہر والا ہضم نہیں ہوتا کہ پھر رات کے لیے باربی کیو تیار کرنا ہے۔۔۔
    بہرحال جو بھی ہو مزہ تو اسی میں ہے کہ ہم لڑکیاں سب کا باقاعدہ خیال رکھنے کے ساتھ ساتھ خود کے بناؤ سنگھار پہ بھی خوب توجہ دیتی ہیں۔
    اسی لیے آپ سب لڑکیوں کو میرا پیار بھرا سلام۔۔

    @KinzaSiddiq

  • فرزانہ سلیمان ہمت کا نشان  حُسنِ قدرت

    فرزانہ سلیمان ہمت کا نشان حُسنِ قدرت

    پاکستان کی پہلی نابینا پی ایچ ڈی ڈاکٹر اور مصنفہ ڈاکٹر فرزانہ سلیمان کی زندگی کے بارے میں آج میں آپ کو بتاؤں گی
    وہ لوگ جو کسی جسمانی معذوری کو روگ بنا کر بیٹھے ہوئے ہیں ان کے لئے ایک بہترین مثال ڈاکٹر فرزانہ سلیمان ہیں جن کی بصارت ہی چلی گئی

    محترمہ فرزانہ سلیمان ایک نارمل بچی پیدا ہوئیں انکا تعلق کراچی سے ہے جب وہ آٹھویں جماعت میں پہنچیں تو ٹائیفائیڈ انکی بصارت چرا گیا اب زندگی انہیں دشوار لگنے لگی اور یہ بھی اب پڑھائے گا کون لیکن انہوں نے ہمت نہیں ہاری نہم اور دہم جماعت کا امتحان پرائیویٹ دیا ،سینٹ لارنس کالج سے انٹر اور جوزف کالج سے گریجویشن کی ،فلسفے میں ماسٹرز کیا تو احساس ہوا کہ یہ مضمون انکے مزاج کے مطابق نہیں پھر انہوں نے اسلامک اسٹڈیز میں ایم اے کیا
    ماسٹرز مکمل ہوتے ہی ” گورنمنٹ کالج پی ای سی ایچ کالج کراچی” میں اسلامک اسٹیڈیز کی لیکچرر ہوئیں
    لیکن
    انکا خواب پی ایچ ڈی کرنے کا تھا تو انہوں نے کراچی یونیورسٹی میں ایڈمیشن لیا اور پی ایچ ڈی مکمل کی اس دوران انکی دوست سارہ نے انکی بہت مدد کی وہ انہیں کتابیں پڑھ پڑھ کر سنایا کرتی تھی
    ڈاکٹر فرزانہ سلیمان نے قرآن کریم حفظ کیا ،تفسیر کا مطالعہ کرتی رہیں اور اب تک 4 کتب تصنیف کر چکی ہیں جن کے نام یہ ہیں
    1۔قرآن،قرآن کی روشنی میں
    2۔توبہ قرآن کی روشنی میں
    3۔تقوی قرآن کی روشنی میں
    4۔تذکرہ آدم قرآن کی روشنی میں
    شامل ہیں
    ڈاکٹر فرزانہ کو بے مثال کارکردگی پہ کئی شیلڈز،تمغے اور اعزازات حاصل ہوئے جن میں سابق صدر (ر) پرویز مشرف کے دور میں ملنے والا "فاطمہ جناح گولڈ میڈل”
    اور گورنر سندھ سے ملنے والا
    "تمغہ حُسنِ کارکردگی”
    نمایاں ہیں
    یہ کہانی کروڑوں لوگوں کےلئے ایک سبق ہے کہ اگر آپ میں ہمت ہے اور آپ کچھ کرنا چاہتے ہیں تو ڈاکٹر فرذانہ کی طرح اپنے حوصلے بلند رکھیں آپ ضرور کامیاب ہوں گے

    Twitter: @HusnHere

  • اے بنت حوا کی بیٹی سنبھل کے چل  تحریر ارشاد حسین

    اے بنت حوا کی بیٹی سنبھل کے چل تحریر ارشاد حسین

    افسوس سے کہنا پڑتا ہے سوشل میڈیا پر کچھ ایسی تحریریں یا تصویریں بھی دکھائی دیتی ہیں دیکھنا اور پڑھنا بھی شرم آتی ہے ۔سوشل میڈیا عمومی تاثر یہ ہے کہ بس خود کو پوشیدہ رکھنا ہی کافی ہے۔۔ شخصیت کی پردہ داری بہت ہے۔۔اسکے بعد کھلی چھٹی ھے جو مرضی کہیں اور جیسی مرضی چاہیں پوسٹس لگائیں۔۔ دراصل بدقسمتی سے ہمارے ہاں حیا کا بہت عام اور سطحی پیمانہ صرف پردے اور ساتر لباس سے ہی مشروط سمجھا جاتا ہے جبکہ ” حیا” کے لغوی معنی وقار ، سنجیدگی اور متانت کے ہیں۔۔ حیا صرف اپنی شخصیت کو پردے میں ملفوف کرنے کا نام نہیں ہے۔۔ یہ گفتار میں بھی نظر آنی چاھیئے اور تحریر میں بھی اور اپنی پبلک پوسٹوں میں بھی یہی احتیاط ملحوظ رکھنا بہت ضروری ہے اکثر وبیشتر کتنی ہی ایسی پوسٹس نظر سے گزرتی ہیں جس میں نوعمر بچیاں جوکہ بظاہر خود کو پردہ دار اور باحجاب کہتی ہیں اپنی تحاریر میں اپنے مستقبل ، اپنی شادی اور اپنے ہونے والے شوہر سے متعلق اپنے بہت ہی ذاتی خیالات اور خواہشات بلاجھجھک شئیر کر دیتی ہیں ۔۔۔ سپنے دیکھنا غلط نہیں ہے لیکن ان سپنوں کی اپنی وال پہ اور خصوصاً پبلک پوسٹس میں یوں تشہیر ضرور معیوب ہے ۔۔ اور اس سے ذیادہ حیرت اس بات پر ہوتی ہے جب ایسی پوسٹس پر دین کی علمبردار اور بہت سی سمجھدار خواتین بھی دعائیہ ، تعریفی اور ستائشی کمنٹس پاس کر رہی ہوتی ہیں۔۔۔ کیوں نہیں اس خاتون یا بچی کی مناسب انداز میں اصلاح کی جاتی کہ آپ کے لیے حیا کے تقاضے پورے کرنا تحریر میں بھی اتنا ہی لازم ہے جتنا کے لباس میں ۔۔ یہ نجی نہیں بلکہ عوامی پلیٹ فارم ہے۔۔ ایسی پبلک پوسٹس لگا کر ہزاروں لوگوں کو متوجہ کرنا بہت نامناسب اور خطرناک عمل ہے ۔۔بلاوجہ کیوں لوگوں کی آتشِ شوق بھڑکائی جائے کبھی کوئی باحجاب خاتون اپنی پوسٹس میں اپنے "گمنام فالورز” کی جانب سے ملنے والے تحائف کی فخریہ تشہیر کر دیتیں ہیں۔۔یوں باقی فالورز کو بھی اس ‘نیکی’ کی ترغیب دلاتی ہیں کوئی سیر سپاٹوں پہ جانے کے لیے اپنے محرم کی تلاش میں دعائیں کر کر ہلکان ہیں پھر بہت سی باپردہ خواتین ایسی بھی ہیں کہ مختلف بولڈ موضوعات پہ انکے بے محابا کمنٹس حیران ہی کر دیتے ہیں۔۔۔ مرد حضرات کی وال پہ اگر کوئی گرما گرم موضوع ، سوشل ایشو چھڑا ہوا ہے تو ضروری نہیں کہ آپ وہاں آستینیں چڑھا کر بے دھڑک کوئی بھی بیان جاری کرنے پہنچ جائیں۔۔۔بس کہیں بھی کچھ بھی کھل کے کہہ دو کہ کونسا ہم پہچان لی جائیں گی۔۔ کیونکہ بھئی نہ تو ہم یہاں دیگر خواتین کی طرح اپنی شکل دکھانے کی بےحیائی کرتے ہیں اور نہ ہی ہم یہاں اپنے اصل نام سے موجود ہیں۔۔ لہذا پردہ داری کی آڑ میں سب کہہ دو ۔۔ دھیان رکھیئے کہ یہ ” پاپا کی پرنسس ، بنت ، ام ، اخت ، اہلیہ ، مسز ، زوجہ ، سونو ، مونو اور دیگر سوشل میڈیا ناموں کی آئی ڈیز ہیں ” یہ سب بھی صنف نازک ہونے کے حوالے ہی ہیں ۔۔۔اور آپ یہاں بہرحال ایک خاتون کی حیثیت سے ہی موجود ہیں ان سب باتوں کا مطلب یہ ہرگز نہیں کے ہماری خواتین اپنی صنف کی نمائندگی ہی نہ کریں سوشل میڈیا پر متحرک نہ ہوں۔۔۔ پتھر کے دور میں چلی جائیں اور اپنی شخصیت کو گمنام کرلیں۔۔۔ ہرگز نہیں۔۔
    اپنا بھرپور کردار ادا کرنا اور اپنی موجودگی یا اپنی رائے کا اظہار بھی کرنا۔۔ اور اس طاقتور پلیٹ فارم سے مثبت چیزیں سیکھنے اور سکھانے کا عمل ضرور جاری رکھنا چاھیئے لیکن ہر قدم پہ احتیاط پسندی ، نپا تلا اور باوقار انداز اولین ترجیح ہونا چاھیئے ۔۔۔ خصوصاً پبلک پوسٹ سے کیسا پیغام جا رہا ہے یہ لحاظ رکھنا اور اپنی حدود متعین کرنا بہت ضروری ہے سارا قصور مردوں ہی پر نہ ڈالیئے۔۔کچھ تو خود بھی احتیاط کیجیئے۔۔ ورنہ پھر یہ رونے بھی مت رویئے کہ لوگ فضول سے کمنٹس کر دیتے ہیں ، انباکس اپروچ کرتے ہیں ، ہمیں پریشان کرتے ہیں۔۔
    صرف باپردہ ہونا ہی عفت مآب ہونے کی دلیل نہیں ہوا کرتا۔۔اور حیاداری صرف چہرے کا پردہ کرنے سے ہی ظاہر نہیں ہوتی بلکہ ہمارے کمنٹس اور ہماری پوسٹس بھی انکی عکاس ہوتی ہیں۔۔
    تحریر ارشاد حسین
    twitter.com/ir_Pti
    @ir_Pti

  • بچوں کی تعلیم وتربیت میں ماں کا کردار  تحریر: صائمہ مسعود

    بچوں کی تعلیم وتربیت میں ماں کا کردار تحریر: صائمہ مسعود

    ماں کے پاؤں تلے جنت ہے
    اس بات سے ماں کی عظمت اور درجے کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے
    اسلام نے عورت کو جو روپ دیئے ان میں سب سے زیادہ افضل ماں کا روپ ہے
    جب ایک بچہ دنیا میں انکھ کھولتا ہے اسکی پہلی درسگاہ اسکی ماں کی گود ہے
    ماں بجے کی جسمانی نشوونما کے ساتھ ساتھ ا سکی ذہنی نشوونما میں اہم کردار ادا کرتی ہیے
    بچہ مکتب جانے سے پہلے بہت ساری باتیں ماں سے سیکھتا ہے
    کھانا کھانے کے اداب
    بڑوں کی عزت کرنا
    بات چیت کرنے کے طور طریقے
    اہم ہیں
    اسکے بعد جب عملی طور پر بچہ گھر سے باہر کے ماحول سے آشنا ہوتا وہ بہت کچھ سیکھ چکا ہوتا ہے
    اور جوں جوں وقت گزرتا ماں ہی وہ ہستی ہوتی جو اساتذہ کے ساتھ ساتھ بچوں کی کردار سازی میں اہم کردار ادا کرتی ہے
    اج کل کے دور میں جہاں زمانہ تبدیلیوں کی جانب رواں دواں ہے وہا معاشرے کے رویوں کو بھی سمجھنا لازم ہو چکا
    ایسے میں تعلیم یافتہ ماں بچے کو ایک ذمہ دار انسان بناتی
    بچے کو احساس ہو کہ وہ مستقبل کا معمار ہے اور معاشرے میں ایک اہم ستون ہے ۔۔
    ماں ہی وہ عظیم ہستی ہوتی جو بچوں کی ہر ذمہ داری باپ کے شانہ بشانہ نبھاتی
    اوربچوں کے بہتر مستقبل کا سوچتی
    بچوں کی مثبت شخصیت بنانے میں ماں کا کردار اہم ہوتا ہے
    اسی لئے ماں خصوصاً جب اسکی بیٹیاں ہوں تو وہ تعلیم و تربیت کے ساتھ ساتھ گھر گرہستی کے امور بھی بچیوں کو سکھاتی ہے
    دنیا بھر میں خواتین خصوصاً وہ جو بچوں کو تن تنہا پالتیں
    ان کا تعلیم یافتہ ہونا ضروری ہے
    بچے یا بچی کے لئے ماں آخرت میں نجات کا ذریعہ ہے
    ماں کو دکھ نہیں دینے چاہیں
    کیونکہ ماں اپنے بچوں کو ہر طرح کے حالات میں تنہا نہیں چھوڑثی
    اور اولاد کے لئے کسی قسم کے حالات ہوں ڈھال اور بہترین پناہ گاہ ہے

    اسی لئے کہتے ماواں ٹھنڈیاں چھاواں
    ماں گھر کو روشن رکھتی اور ماں کے بغیر گھر گھر نہیں رہتا
    ماں بچوں کو تہذیب سے روشناس کراتی
    اج کل کے تیزی سے بدلتے رجحانات میں ماں کا کردار بہت اہمیت کا حامل ہے بچوں کے لباس سے لے کر دور جدید کی تمام سہولیات کو ماں کے سمجھنے کی ضرورت ہے اور وہ ہی بچوں کی بہتر نگرانی کر سکتی کہ بچوں کے دوست کیسے
    موبائل کا استعمال کہیں پڑھائ میں روکاوٹ تو نہیں
    ہمارا مذہب اسلام ہے اور اسلام ہمیں سادگی اور پاکیزگی کا درس دیتا
    بچوں کو دین سے محبت میں ماں کا کردار ایک رول ماڈل کی حیثیت رکھتا
    کیونکہ بچے کی اول درسگاہ ماں کی گود اور تربیت ہے
    اولاد کی نشوونما کے ساتھ ساتھ انہیں نماز کی سکھانا اور راغب کرنا بھی ماں کی اولین ذمہ داری ہے
    ضرورت اس امر کی ہے کہ اولاد کی اچھی تربیت کریں تاکہ مستقبل میں وطن کے لئے فعال اور اچھے شہری بن سکیں

    @simsimsim1930

  • تحریر: حبیب الرحمٰن خان  عنوان: اسلام اور عورت

    تحریر: حبیب الرحمٰن خان عنوان: اسلام اور عورت

    بلاشبہ حضرت انسان کی تخلیق اور اسے اشرف المخلوقات کا لقب عنایت کرنا رب العرش العظیم کی بے پناہ عنایت ہے
    اور اسے بھی دوسری دنیاوی مخلوقات کی طرح جوڑے کی شکل میں پیدا فرمایا
    لیکن ہر صنف کو الگ صفات سے نوازا
    اگر مرد کو طاقت و جرات عنایت فرمائی
    تو عورت کو مرد کے لیے بے مثال بنا کر دنیا میں رونمائی دی
    اگر مرد کو زیب وزینت کی کمی ملی تو
    عورت کو صنف نازک کہا گیا
    اسی صنف نازک کی کمی کا مرد نے ہر دور میں فاہدہ اٹھایا
    اسلام سے قبل عورت کو مرد کے مقابلے میں اشرف المخلوقات سے حصہ دینے سے ہی انکار کر دیا گیا
    جس کی مثال ایسے ہے کہ اسے پیدا ہوتے ہی قتل کر دیا جاتا
    میں سمجھتا ہوں کہ اسلام کے نزول کے مقاصد میں عورت کو مقام دلانا بھی شامل تھا۔
    اسی لیے رب کائنات نے قرآن مجید فرقان حمید اور فرمان رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے زریعے عورت کی بقاء کے لیے مختلف مقامات پر مختلف انداز میں کبھی حکم فرمایا تو کبھی ترغیب دی
    جیسا کہ رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

                    مَنْ عَالَ ثلاثَ بناتٍ فأدَّبَہُنَّ وَزَوَّجَہُنَّ وأحسنَ الیہِنَّ فلہ الجنة(۶)

                    جس نے تین لڑکیوں کی پرورش کی ان کو تعلیم تربیت دی، ان کی شادی کی اور ان کے ساتھ (بعد میں بھی) حسنِ سلوک کیا تو اس کے لیے جنت ہے۔
    اور دین حق نے نبی آخر الزماں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے زریعے عورت کو دنیا کے مختلف امور پر فائز کر کے عورت کی اہمیتِ کو اجاگر کیا
    صحابہ کے درمیان قرآن وحدیث میں علم رکھنے والی خواتین کافی مقدار میں ملتی ہیں، قرآن وحدیث کی روشنی میں مسائل کا استنباط اور فتویٰ دینا بڑا ہی مشکل اور نازک کام ہے؛ لیکن پھر بھی اس میدان میں عورتیں پیچھے نہیں تھیں؛ بلکہ صحابہٴ کرام کے مدِمقابل تھیں، جن میں کچھ کا ذکر کیا جاتاہے۔ مثلاً:

    حضرت خدیجہ ،حضرت عائشہ، حضرت ام سلمہ، حضرت ام عطیہ، حضرت صفیہ، حضرت ام حبیبہ، فاطمہ بنت آقا دوجہاں، اسماء بنت ابوبکر، ام شریک، فاطمہ بنت قیس، وغیرہ نمایاں تھیں۔
    لیکن دور حاضر میں مرد نے دور جہالت کا وطیرہ اپناتے ہوئے ایک بار پھر عورت کو پردے سے نکال کر دنیاوی رونق اور مرد کے لیے عیش و عشرت کا سامان بنا کر پیش کیا۔
    بد قسمتی سے اس سارے معاملے میں عورت نے ہی عورت کے استحصال کے لیے
    اہم کردار ادا کیا
    اور دنیاوی خواہشات کے لیے اپنی ہی جنس کی عزت و آبرو کو پاؤں تلے روندنے کے لیے مواقع فراہم کیے
    میرے خیال سے جسے ہم دور جدید کا نام دیتے ہیں
    وہ دور جہالت کی ہی ایک قسم ہے
    دین سے دوری نے حضرت انسان کو کسی کام کا نہیں چھوڑا
    متفق ہونا ضروری نہیں
    @HabibAlRehmnkhn

  • بیٹیوں کی شادی اور غربت .تحریر:حنا

    بیٹیوں کی شادی اور غربت .تحریر:حنا

    آج کل ہمارے معاشرے میں یہ رواج بنتا جا رہا ہے ۔چاہے لڑکی غریب ہے یا امیر ۔۔خواب سبھی کے ایک سے ہے ۔لڑکا گاڑی والا ہو ۔بنگلے والا ہو ۔۔ہمارے بزرگ کہتے تھے جتنی چادر ہو اتنے پاوں پھلاو ۔۔ہمارا اسلام کہتا ہے ۔لالچ بری بھلا ہے ۔۔بیٹی کا پہلا رشتہ آئے اگر لڑکا اچھا ہو تو فورا شادی طے کر دو ۔لیکن آج کل رواج ہے کہ پہلے بیسوں رشتے ٹھکرای جانے ۔۔اور پھر جب شادی کی عمر گزر جانی تو خود وہی رشتے ڈھونڈنے لگ جانا ۔۔پھر کہنا ملے تو سہی کوی ۔۔بس کر ہی دینی ہے ۔۔اور پھر اچھا رشتہ ملتا نہیں ۔۔دوسری طرف ایک طبقہ جو گیارہ بارہ سال کی بچیوں کی شادی کری جاتے ہیں ۔سولہ سترہ سال کے لڑکوں ساتھ ۔۔آپ جانتے ہو ۔۔معذوری کی شرح بڑھتی جارہی ہے ۔۔۔کبھی نوٹ کیا ہے بارہ تیرہ سال کی بچی جسے بمشکل دو وقت روٹی کھانے کو ملتی ہو اس سے سالہا سال بچے پیدا کرواتے رہنا اور امید رکھنا کہ وہ زندہ بھی رہے ۔

    ۔کبھی گیلی مٹی کے سانچے بنتے دیکھے ہیں۔۔۔نہیں نہ ۔۔تو ایک کمزور بچی کیسے صحت مند بچہ پیدا کر سکتی ہے ۔۔آج بھی ہمارے ہاں کچھ جگہوں پر جہالت کا سماں عام ہے ۔۔۔جنھوں نے عورت کو صرف کام والی یا بچے پیدا کرنے والی مشین سمجھا ہوتا ہے ۔۔پتہ نہیں کیوں لوگ یہ نہیں سمجھتے کہ زندگی کا مقصد صرف شادی نہیں ہوتا ۔۔۔۔میرے نبی صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا فرمان ہے لڑکا لڑکی بالغ ہو تو ان کے رشتے طے کر دو تاکہ وہ گناہ سے بچ سکیں ۔۔لیکن بالغ ہونے کو صرف ان کے جسم میں بدلاو کا مطلب نہیں گیا ۔بلکہ عقل بھی ہو۔۔بچی کی عمر کم از کم سترہ اٹھارہ تو ہو اگر آپ کو زیادہ ہی جلدی ہے اپنی بیٹی کو گھر سے نکالنے کی اور لڑکا کم از کم اٹھارہ سے اوپر کا ہو ۔ایسا نہیں کہ لڑکی بارہ تیرہ سال کی اور لڑکا سولہ سال کا جو لڑتے لڑتے زندگی گزارے اور جوانی میں بیس بار طلاق کا لفظ بھی بول چکے ہیں ایسی عمر میں ان پر شادی کا بوجھ ڈالنا اور سمجھنا کہ وہ عقل مند ہو گے ۔۔بالکل نہیں پھر لڑائ جھگڑے لڑائ جھگڑے نہیں قتل و غارت تک پہنچ جاتے ہیں ۔ایسا ہی تو ہورہا آج کل طلاق اللہ کے نزدیک سب سے ناپسندیدہ لفظ ہے ۔لیکن بہت سارے لوگ بے شمار سمجھدار اچھے بھلے لڑائ جھگڑے میں طلاق بول کر پھر سے ویسے کے ویسے ساتھ رہ رہے ہوتے ہیں کون سا کسی کو پتہ چلا ۔۔جبکہ طلاق کے بعد بیوی کا مرد کے ساتھ رہنا گناہ کے زمرے میں آتا ہے۔۔اب کوی یہ مت سوچے کہ میں شادی کے خلاف ہوں یا لبڑل کی زبان بول رہی ہوں الحمدللہ میں حافظہ ہوں اور قرآن پاک سے اتنا تو سیکھا ہے کہ اسلام بہت آسان دین ہے لوگوں نے ان کی سوچوں نے اسے مشکل بنا دیا ہے ۔۔ہر بندہ اپنے اپنے مطلب کی حدیث نکال کر لے آتا ہے لیکن عورت کو قرآن میں اللہ نے جو حقوق دیے وہ کوی نہی پڑھتے جیسے وراثت میں حصہ ہی دیکھ لیں ۔۔آپ ضرور کریں بچیوں کی شادیاں لیکن کم از کم انھیں کچھ تعلیم بھی دلوائیں تاکہ انھیں شعور تو ہو کہ بیوی کا مقصد شوہر کی خدمت ہوتا اس شوہر کی جو عقلمند ہو اور بیوی کا خیال رکھتا ہو نہ کہ خاموشی سے اس شوہر کا ظلم سہنا جو مار پیٹ کرتا ہو سالہا سال بچے تو پیدا کرواتا ہو لیکن خود نشے پہ لگا ہو اور نچوں کے اخراجات بیوی بچوں کے حقوق کا پتہ تک نہ ہو ۔۔اور پھر انھی بیوی بچوں کو قتل کر دیتا ہو ۔۔یاد رکھیے ظلم پر خاموش رہنا بھی ظلم ہوتا ہے ۔

    اب اصل بات پہ آتی ہوں لالچ ۔۔لوگ لالچ میں اپنی بیٹیوں کی شادیاں بیرون ملک سے آئے بوڑھوں سے کر دیتے ہیں ۔۔کہ بیٹا باہر چلا جاے گا یا لڑکی کے باپ کو وہ بوڑھا اچھا کاروبار کروا دے گا ۔۔لیکن اکثر اس کے برعکس ہوتا ہے ۔۔آج سے چھ سال پہلے ایک دوست تھی ۔اس وقت اس کی عمر اٹھارہ سال تھی تازہ تازہ بی۔اے ۔میں ایڈمشن ۔داخلہ ۔لیا تھا ۔کالج میں کسی ساتھ افیر تھا ۔نہ جانے کیا گناہ کر بیٹھی ۔۔کہ پتہ تب چلا جب باپ کے دوست کا رشتہ آگیا جو ۔عمر میں باپ سے بھی بڑا تھا ۔۔لڑکی اٹھارہ انیس سال کی اور وہ مرد آدمی ساٹھ سال کا ہوگا جو سعودی عرب رہتا تھا دو بچے تھے ۔۔آدمی کی بیٹی شادی شدہ تھی ۔اس لڑکی سے بھی عمر میں بڑی تھی ۔اور ایک لڑکا تھا وہ بھی جوان تھا ۔بیوی بھی زندہ تھی ۔۔۔۔جس لڑکی کی شادی ہونا تھا اس کے خاندان کے دیگر رشتہ داروں نے لڑکی کے والدین کو سمجھایا ۔۔کہ اگر لڑکی سے غلطی ہو بھی گئ ہے ۔تو تو کوی مناسب رشتہ ڈھونڈیں یہ ظلم ہے. لیکن والدین کو لالچ تھا ۔کہ اور بھی چھ بیٹیاں ہے ۔ایک بیٹا ہے ۔بیٹا باہر چلا جاے گا زندگی سنور جاے گی ۔۔ایک تو غریب کے خواب بھی کچھ زیادہ بڑے ہوتے ہیں ۔۔۔۔خیر شادی ہو گئ ۔۔کچھ عرصہ وہ لڑکی وہ آدمی کی فیملی کے ساتھ سعودی عرب رہی ۔پھر وہ فیملی پکا پکا پاکستان آگئ ۔۔۔آج اس کی شادی کو پانچ چھ سال ہو گے چار بچے ہے ۔۔اور اب اس کی عمر چوبیس سال ہو گی جو دکھنے میں کوی پچاس سال کی عورت کی طرح لگتی ہے ۔۔ سارا کام بھی کرتی ہے اور حکم ہے کہ بڑی بیگم جو اس کی ماں سے بھی بڑی ہو گی اس کے سامنے افف بھی نہیں کرنی ۔۔اپنی اچھی بھلی زندگی کو خود اپنے ہاتھوں برباد کر بیٹھی ۔۔ایسے ہی آنکھوں دیکھا ایک اور واقعہ ہے

    ایک تینتیس سال کی عورت بیوہ ہو گئ ۔اس کی ساس جو اس کی پھوپھی بھی تھی اور دو بیٹے تھے عورت کے پھوپھی نے بیٹے چھین لیے بہو کو گھر سے نکال دیا ۔۔۔بھائ کے گھر آگئ ۔۔ٹینشن سے ذہنی مریض بن گئ۔علاج کروایا تھوڑا بہت وہ ٹھیک ہووی ۔تو اس کے نئے رشتے تلاش کرنے لگ گیا ۔دوسری طرف ایک بابا جی تھے جس کا بیٹا اسے اکیلا چھوڑ کر چلا گیا تھا ۔بابا جی کو بھی کسی سہارے کی تلاش تھی کہ سب کام خود کرتا تھا ۔۔خیر بابا کی بیٹی نے خود ہی بابا کا وہ بیوہ سے رشتہ کر دیا ۔۔۔اس عورت کا بھائ بھی لالچی تھا کہ بابا جی ہے بزرگ کل مر جاے گا ساری جائیداد ہماری ۔۔لیکن خدا کو کچھ اور ہی منظور تھا ۔۔اس بابا جی سے وہ عورت کی ہووی دو بیٹیاں ۔۔بابا تو پھس گیا ایک تو ویسے خود بیمار دوسرا اوپر سے خرچہ کے لیے الگ لائن لگ گئ ۔وہ عورت کے بھائ کی بھی امیدوں پر پانی پھر گیا ۔۔پر بابا جی ایسے پھسے کہ وہ عورت پھر سے ذہنی مریض بن گئ ۔لوگوں نے بابا جی کو ڈرایا کہ عورت ہے ٹینشن لیتی ہو گی کہ میرے بام کچھ بھی نہیں کل تمھیں کچھ ہو گیا تو جائیداد میں باقی اولاد کا حصہ بھی آجاے گا میری بچیوں کا کیا ہوگا ۔۔

    بابا جی نے اپنی ساری جمع پونجی جائیداد سب وہ عورت کے نام کر دی ۔۔۔اپنی طرف سے حقوق دے کر سرخرو ہو گیا۔۔لیکن اب کیا ہوا وہ عورت اپنے بیٹوں سے ملنے لگ گئ ۔اب بابا جی اس ٹینشن میں بیمار پڑے ہووے کہ کہیں یہ سب کچھ بیٹوں کے نام نہ لگوا دے ۔اس سارے لکھنے کا مقصد یہ ہے ۔۔کہ لالچ نے ہمیں کتنا اندھا کر دیا ہے ۔۔لالچ میں ایسے لوگ اپنی دس دس سال کی بچیاں بھی خود وڈیروں کے حوالے کر دیتے ہیں۔۔غربت تو بدنام ہے ۔۔کبھی بھوک سے کوی مرا ہے ۔۔کہتے ہیں غربت کی وجہ سے فلاں نے ایسے کیا ویسا کیا ۔۔ارے رزق انسان کے پیچھے موت کی طرح بھاگتا ہے مگر شرط ہے انسان کوشش تو کرے صدق دل سے صاف نیت سے ۔۔پر نہیں انسان چاہتا ہے راتوں رات کوی خزانہ ہاتھ لگ جاے بس لگ جاے کسی بھی طرح پھر حلال حرام کی پہچان کہاں رہتی ہے ۔۔غربت کو روتے ہو تم ۔۔میرے نبی صلی اللہ علیہ والہ وسلم اور صحابہ علیی اسلام سے زیادہ غریب ڈھونڈ کر دکھا دو آج ۔میرے ملک کا فقیر بھی آج پیاز سے روٹی نہیں کھاتا ہوگا ۔۔جو ان عظیم ہستیوں نے کھائ کھجور کا آدھا ٹکرا کھا کر بھی روزے رکھے انھوں نے ۔ نااعوذباللہ نہ غربت کے ڈر سے حرام موت لی کسی نے نہ رب سے گلے شکوے کر کہ اپنا ایمان کمزور کیا ۔۔۔اب یہ نہ کہنا کہاں وہ کہاں ہم ۔۔۔یہاں بات غربت اور انسان کی ہے.اس وقت کیا یہ سب سہولتیں تھی ۔۔۔بالکل نہیں ۔۔انھوں نے تو جنگیں بھی بھوکے پیاسے لڑی ۔۔۔۔مجھے دکھا دو کسی نبی کسی صحابہ نے کسی ایک نے تاریخ میں یا تاریخ کی کسی کتاب میں کسی نے غربت کا رونا رویا ہو ۔۔

    آخر میں اتنا ہی کہوں گی ۔جناب ۔۔غربت بری نہیں نہ غریب برا ہے ۔۔بری تو وہ خواہشات کی لگام ہے جو کھلی چھوڑی ہووی ہے ۔۔۔خدارہ اپنی جانوں پر ظلم نہ کرو ۔۔۔صبر اور برداشت سے جینا سیکھیے۔۔۔ویسے تو ہم کہتے ہیں کہ ہمیں فخر ہے کہ ہم مسلمان ہے صرف مسلمان تو نہ بنیے ۔۔محمد کی امت بھی تو بنے ۔۔وہ امت جسے لوگ دیکھ کر سوچنے پرجبور ہو جائیں ۔۔کہ یہ یہ امت ایسی ہے تو ان کے نبی صلی اللہ علیہ والہ وسلم کیسے ہوں گے ۔۔شاید کہ اتر جاے تیرے دل میں میری بات ۔۔جزاک اللہ ۔

    ۔

    <

  • اولاد کا غم تحریر:  عائشہ رسول

    اولاد کا غم تحریر: عائشہ رسول

    اولاد ایک بڑی نعمت ہے. جنکی اولاد نہیں ہوتی وہ طرح طرح کے جتن کرتے ہیں. اگر اولاد راہ راست پر نہ ہو یعنی نافرمان ہو تو ایسی اولاد زندگی بھر کے لیے روگ بن جاتی ہے
    دورہ حاضر میں پاکستان میں ہی نہیں پوری دنیا میں ہی اس مسئلے کو لے کر لوگ پریشان ہیں

    اولاد کا غم’ غموں کا بادشاہ ہے جسے بھلایا نہیں جاسکتا’ جب یاد آتاہے تازہ ہو جاتا ہے
    نافرمان اولاد ہو یا بیوی وہ قابل قبول نہیں خواہ وہ نبی کی ہی کیوں نہ ہوں

    اسماعیل علیہ السلام بھی نبی کا بیٹا تھا اور نوح علیہ السلام کا بیٹا بھی نبی کا بیٹا تھا. نوح علیہ السلام کی بیوی بھی نبی کی بیوی تھی اور خدیجۃ الکبریٰ رضی اللہ عنہا بھی نبی کی بیوی تھی جنہیں جبرائیل علیہ السلام سلام بھیجتا تھا. حضرت مریم علیہا السلام بھی نبی ہی کی ماں تھیں.

    ماں کا نیک ہونا اولاد کیلئے فضیلت اور اولاد کا نیک ہونا والدین کیلئے. جو اولاد ماں باپ کی عزت و احترام کا خیال نہیں رکھتی وہ ساری زندگی گرم ریت اور کانٹوں پہ بسر کرتی ہے خواہ اس کے محلات اور دولت کے انبار ہی کیوں نہ ہوں. سکون انکے نصیب میں نہیں ہوتا
    والدین مہمان ہوتے اور اولاد میزبان. قدرت کے نظام میں تبدیلی نہیں آئی اج جو کچھ ہم اپنے والدین کے ساتھ کریں گے کل ہمارے ساتھ بھی ایسا ہی ہوگا

    اولاد جزبات سے سوچتی اور والدین جزبوں سے والدین کے جزبات بہت نازک ہوتے ایسے رویے مت رکھیں کہ والدین منہ بند ہو جائے اور آنکھیں ہونے کے باوجود اپکو دیکھنا بند کر دیں. اس عذاب کا بڑا سخت حساب ہوتا. اللہ تعالیٰ مجھے اور آپ سب کو والدین کا فرمانبردار فرمائے.
    آمین ثم آمین

    @Ayesha__ra

  • تحریر: محمد مدنی پاکستان میں بچوں عورتوں کے ساتھ زیادتی جیسے واقعات میں تیزی

    تحریر: محمد مدنی پاکستان میں بچوں عورتوں کے ساتھ زیادتی جیسے واقعات میں تیزی

    پاکستان میں جب سے سوشل میڈیا زیادہ آیا ہے ہر دوسرے دن کہیں نا کہیں ریپ جنسی تشدد کے واقعات سننے کو ملتے ہیں اور یہ بڑھتے ہی جا رہے ہیں سوشل میڈیا سے پہلے بھی یہ کام ہوتا تھا اب بھی ہو رہا ہوگا مگر فرق یہ ہے کہ جلد ہی سوشل میڈیا پر خبر آجاتی ہے آج بھی دیہات گاؤں جیسی جگہوں پر یہ واقعات ہوتے ہیں اس کا علم نہیں ہوتا وہ اس لئے کہ وہاں ہر کسی کے پاس موبائل انٹرنیٹ نہیں اور سادہ آدمی اسے استعمال بھی نہیں کر سکتا
    پاکستان میں اس وحشیانہ اور گھناؤنے جرم میں اکثر یہ دیکھا گیا ہے کہ اس میں ملوث بڑے بڑے لوگ جن کا بزنس بھی ہوتا ہے شامل ہوتے ہیں اور انھی کی سرپرستی میں یہ سب دھندے ہوتے ہیں کسی کی اتنی ہمت کیسے ہو سکتی ہے کہ وہ اتنے کانفیڈینس کے ساتھ کام کرے اس میں ضرور کہیں نا کہیں پولیس بھی شامل ہوتی ہے بہت سننے میں آتا ہے ہمارے مذہب میں کیوں کہا گیا ہے کہ نکاح کو آسان اور جلدی اپناؤ تاکہ بے راہ روی نا پھیلے

    اب ایک اور چیز نکل آئی ہے اور وہ ہے ڈارک ڈیپ ویب یہ سلسلہ ڈیجیٹل اور کمپیوٹر کی دنیا کا ہے جہاں پر ہر غلط کام ہوتا ہے جنسی تشدد کے دوران ویڈیوز بھی بنائی جاتی ہیں اور پھر کسی پر جنسی تشدد یا ریپ کر کے اس کو مزید بلیک میل بھی کیا جاتا ہے یہ کہہ کر کہ اگر تم نے فلاں کو بتایا تو میں ویڈیو وائرل کر دوں گا ڈارک ڈیپ ویب ایک ایسی جگہ ہے جہاں تشدد یا ریپ کے دوران بنائی جانے والی ویڈیو کو وہاں اپلوڈ کر دیا جاتا ہے اور کرپٹو ڈیجیٹل کرنسی میں بزنس بھی کیا جاتا ہے جب پاکستان میں ڈارک ڈیپ ویب کا نام آیا تو بہت سے میڈیا چینلز نے اس کے متعلق بتایا ان ویڈیوز کو وہاں باقاعدہ بیچا جاتا ہے اور ڈالر حاصل کیے جاتے ہیں مطلب باقاعدہ ایک بزنس پاکستان میں ایسے تشدد بڑھنے کی وجہ یہ ویب سائٹ بھی ہے کئیوں کے تو اس آمدنی سے گھر کے خرچے بھی چلتے ہیں ابھی کچھ دنوں پہلے اسلام آباد میں عثمان مرزا نامی شخص نے وحشیانہ درندگی کی اس واقعے سے سب ہی واقف ہو چکے ہوں گے
    زینب بیٹی کا جب واقعہ ہؤا تو میڈیا پر ڈارک ڈیپ ویب سے متعلق انکشافات ہوئے اس وقت زیادہ تر لوگوں نے اس سے انکار کیا لیکن یہ حقیقت نہیں اس دھندے کو ٹریس کرنا ہمارے ہاں زرا مشکل کام ہے لیکن باہر کے ممالک سے تلاش کرنا اور یہ کام کرنے والے کو پکڑنا آسان ہے
    ہمارے ہاں سب سے بڑا مسئلہ سسٹم کا خراب ہونا بھی ہے رشوت ہمارے ہاں عام ہے اور جب انصاف کے کٹہرے میں ملزم جاتا ہے تو اس کے ہاتھ اتنے لمبے اور تعلقات ہوتے ہیں کہ وہ ثبوت بھی مٹوادیتا ہے اور پھر عدالت کے سامنے مجرم نہیں گردانہ جاتا

    اپنی اولاد کو ایک خاص وقت میں اپنی حفاظت کے لیے تدابیر اور معلومات ضرور دیں
    جب تک پاکستان میں ریپ جنسی تشدد کےخلاف سخت سزا اور اس پر عمل نہیں ہوگا اس وقت تک یہ جرم بڑھتا رہے گا اور نہیں رکے گا
    ایک بار سیریا میں ایک ریپ کا کیس ہؤا وہاں اس وقت جنگ کی حالت تھی جس نے ریپ کیا اس کامیڈیکل ہؤا میچ کیا گیا اور پندرہ منٹ کے اندر اندر اس شخص کو سرے عام پھانسی دے دی گئی وہ دن اور آج کا دن اس کے بعد ایسے واقعات نہیں سننے میں آئے جبکہ ہمارے ہاں جب بھی ایسا کچھ سوچا جاتا ہے تو فوراً انسانی حقوق کی تنظیمیں جاگ اٹھتی ہیں اور پریشانیاں لاحق ہونے لگتی ہیں جبکہ انھیں کشمیر اور فلسطین نظر نہیں آتا

    پھر کہتا ہوں جب تک سخت سے سخت سزا نا ہوگی کچھ نہیں ہوگا

    کئی افراد لوگ اپنی شرمندگی کی وجہ سے پولیس کو نہیں بتاتے یا پھر وہ بااثر شخصیات کی دھمکی کی وجہ سے خاموشی اختیار کر لیتے ہیں خاموشی اختیار کرنا ریپ یا جنسی تشدد کرنے والے سے کہیں زیادہ جرم ہے

    ہمیں اپنی آنے والی نسلوں کا سوچنا ہے آئیے اس گند کے خلاف متحد ہوں

    @M1Pak