Baaghi TV

Category: خواتین

  • اچھا ہم سفر روح کا ساتھی .تحریر: فرزانہ شریف

    اچھا ہم سفر روح کا ساتھی .تحریر: فرزانہ شریف

    کہتے ہیں اچھا ہم سفر قسمت سے ملتا ہےجب دو لوگوں کا نکاح ہوتا ہے اس میں ایک قسم کا عہد ہوتا ہے کہ ہر دکھ درد میں ساتھ نبھانا ہے کسی ایک پر کوئی تکلیف یاآزمائش آنے پر فصلی بٹیرے بن کر اڑ نہیں جانا بلکہ آخری سانس تک ساتھ نبھانا ہے یہ ہی خاندانی بیٹیوں کی پہچان ہوتی ہے
    اللہ سے دعا کرتی رہیں۔ وہ آپکو جسم کا ہی نہیں، روح کا ساتھی عطا کرے۔ جو آپکی عزت کرنے والا ہو، قدر کرے، محبت کرے۔ آپ دونوں ایک دوسرے کے حق میں بہترین، نفیس، آرام دہ لباس ثابت ہوں۔ مودت اور رحمت والا رشتہ ہو۔ ایک دوسرے کی آنکھوں کی ٹھنڈک اور دل کا سکون بنیں۔
    اللہ سے مانگیں ہر وہ چیز جو آپ اپنے شوہر میں دیکھنا چاہتی ہیں۔ وہ عرش کے خزانوں کا مالک ہے۔ سب کو سب کچھ عطا کر دینے پر بھی اس کے پاس کمی نہیں آتی وہ آپکے گمان کے مطابق آپکو اپنے فضل سے نواز دے تو شوہر کے دل کا سکون بننے کے لیے آپ ہر ممکن ہر حال میں ساتھ نبھانے کا دل میں پختہ ارادہ کرلیں غم و خوشی میں شوہر کی خوشی مقدم رکھیں لیکن اس کا مطلب یہ بھی نہیں کی اس کے سر پر 24 گھنٹے سوار ہوجائیں تھوڑی سپیس بھی دیں کہ وہ اپنی مرضی سے سانس بھی لے سکیں اسی طرح شوہر کو بھی اپنی بیوی کو اپنی محبت کا مان دینا چاہئیے
    ممکن ہے کہ آپ شادی سے پہلے کسی اور کو پسند کرتے ہوں پہلی بات تو یہ ہے آپ نے اپنی پسند آخری حد تک حاصل کرنے کی کوشش کرنی چاہئیے تھی اگر آپ ناکام ہوگے ہیں تواپنے دل ودماغ کو اس بات کے لیے راضی کرلیں کہ اب یہی عورت آپ کی محبتوں کی اصل حقدار ہے جو اپنے پیارے چھوڑ کر آپ کے پہلو میں موجود ہے۔ اس کے ساتھ شرارت کریں،اپنی محبت سے اسے تحفظ کا احساس دلائیں

    بالکل جیسے آپ کو صاف ستھری بیوی اچھی لگتی ہے، بیوی کا بھی حق ہے کہ آپ hygiene کا خیال رکھیں۔ اس کے پاس صاف ستھرے ہو کر جائیے۔ اپنے لمحات خوبصورت بنائیے۔ Make her feel loved, not used.
    آپ کے ساس سسر نے کئی سال پال پوس کر اپنی اولاد آپ کے حوالے کی ہے۔ ان کا احترام کریں۔ بیوی بھی آپ کے گھر والوں کے ساتھ حسنِ سلوک سے رہے آپ اپنے بہین بھائیوں پر خرچ کریں تو منہ بسور کر نہ بیٹھ جائے بلکہ ہر معاملے میں آپ کی طاقت بنے نہ کہ کمزوری ہمیشہ اپنے شوہر کی وفادار بن کر رہیں اور وہ اپ کی وفادار رہیں۔
    اپنے شوہر کے لیے خود کو سنوار کر رکھیں اپنی پرسنیلٹی میں کانفیڈینس کے لئے اپنا مخصوص سٹائل۔بنائیں
    جیسےاپنے خاص انداز سے دوپٹہ اوڑھنا۔
    جو accessories پسند ہیں, انہیں سلیقے سے استعمال کریں جیسے ٹراؤزر کیساتھ کرتے پہننا؟یا شرٹ کے رنگوں کے حساب سے ٹراؤزر ۔اہم چیز یہ نوٹ رکھنی ہے آپ پر سوٹ کیا چیز کررہی ہے
    میک اپ کرنا یا نہ کرنا جس سٹائل میں بھی آپ خود کو کمفرٹیبل سمجھتے ہیں، اسے اپنا سگنیچر سٹائل بنالیں اور پورے کانفیڈینس کےساتھ اپنے ہم سفر کے ساتھ قدم سے قدم ملاکر چلیں
    میری دعائیں آپ کے ساتھ ہیں
    اللہ سبحان و تعالی آپ کے رشتوں میں برکتیں دیں
    اللہ نبی ﷺ اور خدیجہؓ والا ساتھ نصیب کرے۔ آمین

  • مصائب اور اسکا مقابلہ .تحریر : ریحانہ بی بی

    مصائب اور اسکا مقابلہ .تحریر : ریحانہ بی بی

    انسانی زندگی میں خوشی اور غم کا عجیب سنگم ہے, کبھی بہت زیادہ خوشی اور کبھی کوئی مصیبت…
    پہلی بات یہ ہے کہ اگر زندگی میں دکھ نہ ہو تو خوشی کا احساس بھی نہیں ہوتا. زندگی اپنی تمام تر خوشیوں اور غموں کے ساتھ, پھول کے ساتھ کانٹے, دھوپ کے ساتھ چھاؤں کا حسین امتزاج ہے. البتہ خوشی کے لمحات غیر محسوس طریقے سے گزر جاتے ہیں.
    اس دنیا میں کبھی بھی انسان کو دائمی خوشی حاصل ہے نہ دائمی غم. یہ سلسلہ ہر انسان کے ساتھ لگا ہوا ہے کوئی اس سے خالی نہیں. پر جب کسی پہ پریشانیوں کا سلسلہ دراز ہوجاتا ہے تو وہ یہ سمجھنے لگتا ہے کہ دنیا کی ساری مصیبتیں اسی کو مل رہی ہیں..
    ہم میں سے بہت سے ایسے لوگ ہیں جو ان مشکلات سے بددل ہوجاتے ہیں کہ انکی زندگی آ زمائشوں کا مجموعہ بن گئی ہے, وہ یہ سمجھنے لگتے ہیں کہ انکی قسمت ہی ایسی بنائی گئی ہے…… مگر یاد رکھیں اللہ کے نبی کا ارشاد ہے کہ :
    لوگوں میں سب سے زیادہ مصائب اور آ زمائش انبیاء کو پہنچے, پھر نیک و صالح لوگوں کو پھر جو اُن سے زیادہ مشابہت رکھنے والے انکو.
    حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے عرض کی اے اللہ کے رسول! لوگوں میں سب سے زیادہ سخت آ زمائش کس کی ہوتی ہے ؟
    آ پ نے فرمایا انبیاء کی, پھر صالحین کی کی.
    حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ جب کسی قوم کو چاہتا ہے اور پسند کرتا ہے تو اسے آ زمائش میں ڈالتا ہے. بندہ جب اس پر راضی رہتا ہے تو اللہ اس سے راضی و خوش ہوجاتا ہے.
    اس حدیث سے اندازہ ہوتا ہے کہ محض بیماری, پریشانی, آزمائش, سزا نہیں بلکہ اُس آ زمائش پر صبر نہ کرنے میں ہے.
    حضرت انس بن مالک سے روایت ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا اللہ جب اپنے بندے کے ساتھ خیر کا معاملہ کرنے کا ارادہ کرتا ہے تو اسے دنیا ہی میں جلدی سزا دے دیتا ہے اور اگر اللہ اپنے بندے کے ساتھ خیر کرنا نہیں چاہتا تو اسکے گناہوں کے باوجود اسکی گرفت نہیں کرتا, پھر قیامت کے دن اسکا بدلہ دیتا ہے.

    ہمیں اپنے مستقبل کے بارے میں سوچنا چاہیے کہ ہمیں مصائب و آ زمائش میں کس طرح رہنا ہے , اس سے کس طرح نمٹنا چاہئے.
    منفی انداز اختیار کرنے سے گریز کرنا چاہیے کیونکہ منفی طرزعمل بندے کو اللہ سے دور کر دیتا ہے.
    ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ اس دنیا میں کوئی انسان ایسا نہیں جو کسی نہ کسی طرح کی آ زمائش میں مبتلا نہ ہو ہاں اسکی نوعیت الگ الگ ضرور ہوتی ہے.
    میری اس تحریر کا مقصد یہ ہے کہ انسان کو مصائب کیوں درپیش ہوتے ہیں اور انکا مقابلہ کیسے کیا جاسکتا ہے.
    انسان مصائب کا مقابلہ صبر سے کرے. اس میں کوئی شک نہیں کہ اسکے مصائب نعمتوں سے بدل جائیں اور نعمتوں کی حفاظت شکر ادا کرکے کریں.

  • صرف پردہ کا حکم عورت کا ہی کیوں عام ؟تحریر قراۃالعین

    صرف پردہ کا حکم عورت کا ہی کیوں عام ؟تحریر قراۃالعین

    ہمارے معاشرے میں ہر جگہ صرف عورت کے پردے کی ہی بات ہوتی ہے اچھی بات ہے اسلام کی خوبصورتی پردے میں ہے ہونی بھی چاہے
    پر وہ مرد جو ہر وقت عورت کا پردہ پردہ کرتے رہتے کیا وہ خود عورت کو دیکھ کر نگاہ نیچ رکھتے؟ ہرگز نہیں۔
    اگر رکھی ہوتی تو انہیں کبھی معلوم نہ ہوتا کوئی عورت بے پردہ گھوم رہی ہے یا پردے میں

    ہر جگہ عورت کا پردہ پردہ کرنے والے یہ بات بھول جاتے ہیں کہ قرآن میں عورت کے پردے سے پہلے مرد کو نگاہ نیچی رکھنے کا حکم ملا ہے

    پر یہ خاصہ مشکل کام ہے آپ کی اٹھی نگاہیں عورت کی بے پردگی کی طرح نہ تو کسی کو نظر آتیں ہیں نہ اس میں کوئی برائی
    سمجھی جاتی

    کوئی عورت پردے میں بھی ہوگی تو اسکا گھر تک پیچھا کیا جاتا اس کو تب تک دیکھا جاتا جب تک وہ آنکھوں سے اوجھل نہ ہو جائے
    تو اس میں قصور کس کا ہوا آپ کی حیوانیت کا یا عورت کے پردے کا
    تو خدارا منافقت چھوڑیں عورت کے پردے کے ساتھ ساتھ مردوں کو نگاہیں نیچے رکھنے کا فیصلہ بھی جگہ جگہ عام کریں
    جس طرح گھر میں اپنی ماں بہن بیٹیوں بہو کو دیکھ کر نگاہیں نیچی کرلی جاتی ہیں اسی طرح پرائی عورتوں کےلئے بھی نگاہیں نیچی
    کریں
    تحریر قراۃالعین
    @qurat_Writters

  • زندگی کا راز اور قانون کشش ،تحریر: آمنہ بخاری

    زندگی کا راز اور قانون کشش ،تحریر: آمنہ بخاری

    لوگ جو چاہتے ہیں وہ ان کے پاس نہیں ہے اور اس کی وجہ صرف ایک ہے کیونکہ وہ زیادہ تر اس بارے میں سوچتے ہیں جو وہ نہیں چاہتے بجائے اس کے جو وہ چاہتے ہیں زندگی کا عظیم راز "قانون کشش” میں رکھا گیا ہے اس قانون کے تحت جو کچھ آپ سوچتے ہیں آپ اس چیز کو اپنی طرف کھینچتے ہیں قانون کشش در حقیقت آپکے خیالات کا ردِ عمل ہے اور یہ قانون بالکل قانون ثقل کی طرح کام کرتا ہے یہ غیر جانبدار اور بے لاگ ہے اور یہ فطرت کا قانون ہے یہ آپکو وہ کچھ دیتا ہے جس کے بارے میں آپ سوچتے ہیں ایک انسان کی حقیقت اسکی سوچ میں موجود ہوتی ہے آپ اگر لگاتار سوچتے ہیں کہ میں بحث نہیں کرنا چاہتا تو قانون کشش کے مطابق آپ زیادہ بحث کرنا چاہتے ہیں

    یہ ساری کائنات خیالات کی آماجگاہ ہے ہر انسان اپنی زندگی قانون کشش و خیالات کے ذریعے تخلیق کر رہا ہے یہ قانون ہر شخص کی زندگی میں ہمیشہ سے کام کر رہا ہے جب کوئی انسان اس قانون سے باخبر ہو جاتا ہے تو اس بات سے بھی باخبر ہو جاتا ہے کہ آپ ناقابل یقین قوت کے مالک ہیں جو آپ کو آپکی زندگی کے وجود کے بارے میں سوچنے کے قابل بناتی ہے آپ جو سوچ رہے ہیں وہ آپ کے مستقبل کی تخلیق کر رہا ہے آپ کو زندگی میں جو کچھ چاہیے آپ کو اپنی ذات کو صرف اس بات کا یقین دلانا ہے کہ وہ چیز آپکی ہو چکی ہے پھر فطرت کا قانون دیکھیں وہ کیسے راستے بنا کر اس چیز کو آپ تک پہنچائے گی آپ کی زندگی تب بدلتی ہے جب آپ اپنی سوچ کا دائرہ کار بدل لیتے ہیں

    "رونڈ ابرن” کی ایک کتاب "دی سیکرٹ” کے مطابق خیالات مقناطیسی ہیں اور خیالات کی ایک فریکوئنسی ہے جیسے ہی آپ اپنے خیالات سوچتے ہیں یہ کائنات میں بھیجے جاتے ہیں اور یہ ایک ہی فریکوئنسی کی مشابہت والی چیزوں کو اپنی طرف کشش کرتے ہیں ہر بھیجی گئی چیز اپنے منبع کی طرف واپس لوٹتی ہےخیالات مثبت اور منفی ہوتے ہیں کوئی دوسرا آپکو نہیں بتا سکتا کہ آپ اچھا محسوس کر رہے ہیں یا برا آپ کے خیالات ہی آپ کے احساسات(جذبات) کا باعث بنتے ہیں اگر آپ برا محسوس کر رہے ہیں تو یہ آپ کے خیالات ہیں جو آپ کو برا محسوس کروا رہے ہیں جب کبھی آپ کو برے احساسات محسوس ہوں تو فوراً اپنی فریکوئنسی کو بدلیں اور اس کے لیے مسلمان ہونے کے ناطے آپ اللّہ کا ذکر کرنا شروع کر دیں اپنی خوشگوار یادوں کی طرف خود کو راغب کریں اور ایسا کرنے کے لیے آپکو صرف دو سے تین منٹ درکار ہیں۔

    پاکستان جیسے ممالک پر کئی دہائیوں سےمنفی سوچ کے بادل چھائے ہوئے ہیں جب پاکستانی ناامیدی کا کفر ترک کر دیں گے اچھی سوچ اور امید سے سر اٹھا کر جینا سیکھیں گے مثبت رویوں کو اپنائیں گےتو یہ مایوسی کے بادل ایسے چھٹ جائیں گےجیسے کبھی تھےہی نہیں "ڈاکٹر جان ہیلگن کے مطابق اندرونی خوشیاں در حقیقت کامیابی کا راز ہیں”
    خوشیاں آپکی سوچ کے تابع ہیں سوچ بدلیں اور دیکھیں آپ کی زندگی کیسے بدلتی ہے۔
    قلمکار: آمنہ بخاری

  • آنلائن بزنس میں خواتین کا کردار،تحریر:طاہرہ عتیق

    آنلائن بزنس میں خواتین کا کردار،تحریر:طاہرہ عتیق

    آنلائن بزنس میں خواتین کا کردار،تحریر:طاہرہ عتیق

    آج کل کے حالات اور مہنگائی کو مد نظر رکھتے ہوئے خواتین کو چاہیے کہ وہ بھی مردوں کے شانہ بشانہ کام کر کے گھر میں آمدنی میں اضافے کا سبب بنیں ،یہ کوئی اتنی انہونی بات نہیں. ہم خواتین اگر کہیں جاب کرنا چاہیں تو انکو اسکول جوائن کرنے ٹیوشن پڑھانے یا بینکنگ میں سیکٹر میں جاب حاصل کرنے کیلئے مشورہ دیا جاتا ہے جس سے خواتین ایک محدود آمدنی کما سکتی ہیں مگر مسئلہ یہ ہے کہ اسکول جاب میں ٹائم تو کم ہے مگر تنخواہ کے نام پر چند ہزار پکڑا دئیے جاتے ہیں جبکہ بینکنگ سیکٹر میں کام تو خوب لیا جاتا ہے مگر ترقی کی راہ میں روذے اٹکانا معمول ہے
    وہ کیا ایسے کام ہیں جو خواتین اپنی مرضی سے اپنی آسانی کےساتھ کرسکتی ہیں

    دیکھا جائے تو آجکل کا سوشل میڈیا بہت طاقتور حیثیت رکھتا ہے. فیس بک انسٹا گرام ٹویٹر پر خواتین کی بڑی تعداد نظر آتی ہے فیس بک اور انسٹا گرام پر تو باقاعدہ پیجز بنا کر خواتین چھوٹے پیمانے پر بزنس چلا رہی ہیں کپڑوں جوتوں جیولری میک اپ کھلونے اور بہت سی ایسی اشیاء ہیں جو یہ خواتین نہایت مناسب دام پر فروخت کر کے اپنا خرچہ پورا کررہی ہیں.یہ خواتین یہ کام گھر سے کرتی ہیں جس سے یہ اپنے گھر کی زمہ داری پوری کرنے کے ساتھ اپنے فری ٹائم. کو استعمال کر کے آمدنی بڑھانے کی کوشش کرتی ہیں اس مد میں وہ ایک اچھا پرافٹ کما لیتی ہیں یہ ایک آسان زریعہ آمدنی ہے جس کے زریعے آپ کو گھر بیٹھے معیاری اشیاء فراہم کردی جاتی اور بازاروں کی خواری سے بھی بچا جاسکتا ہے
    مگر افسوس کا مقام ہے کہ ان خواتین کیلئے حکومت کوئی سنجیدہ قدم نہیں اٹھا سکی جس طرح آنلائن خرید و فروخت میں اضافہ ہوا ہے حکومت کو چاہیے کہ ان خواتین کی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے ان کو باقاعدہ ایک پلیٹ فارم منظم کر کے دے جس میں ایسی خواتین کے مسائل کا تدراک کیا جائے بلکہ انکی حوصلہ افزائی بھی کی جائے.

  • ‏جھوٹ بولنا کتنا بڑا گناہ ؟تحریر یاسمین ارشد

    ‏جھوٹ بولنا کتنا بڑا گناہ ؟تحریر یاسمین ارشد

    خود اعتمادی کی زبردست کمی کا شکار رھنا ہر وقت محسوس ھوتی ھوئی دل کی بے سکونی جھوٹ کے نتیجے پہ ملنے والی قدرت کی طرف سے خود کار سسٹم کے تحت روحانی جسمانی ذہنی بیماریاں اگر جھوٹ پکڑا جائے تو دوسروں کا ہمیشہ کیلئے آپکی ذات پر سے اعتبار ختم ہو جاتا ہے جھوٹ بولنے والا ہمیشہ کم ظرفی کا شکار رھتا ھے کیونکہ اسکی سوچ مثبت سوچ سوچنے کی اہلیت سے خالی ھو جاتی ھے جھوٹ بولنے والے کی سوچ ایک کے بعد دوسرا فراڈ کرنے کا موقع ڈھونڈتی ھے یعنی ایسا انسان چاہ کر بھی کسی کے ساتھ بھی مخلص نہیں بن سکتا جھوٹ آپ سے اپکے مخلص سچے محبت کرنے والے دوستوں رشتوں کو چھین لیتا ھے کیونکہ مخلص لوگ جب آپکے لفظوں اور عمل میں جھوٹ اور دغا بازی دیکھتے ہیں تو نفرت کرنے لگتے ہیں کیونکہ انکا مان ٹوٹ جاتا ھے جھوٹ کی عادت بڑھتی بڑھتی ہر صورت منافقت تک پہنچ جاتی ھے یعنی یہ چھوٹی سی معصوم سی عادت سمجھی جانے والی گندی عادت بڑے بڑے گناہوں کو مقناطیس کی طاقت کے برابر اپنی طرف کھینچتی ھے سائنس کے پجاری بھی ذرا کان کھولیں سائنسی مشین کے مطابق جھوٹ ایسے ہارمونز اور کیمیکل جنریٹ کرتا ھے جو کینسر ، موٹاپے ، ڈپریشن ، مستقبل کا خوف ، نشے کی عادت ، جوا کھیلنے کی عادت ، بدکرداری ، اپنے روز مرہ کے کسی بھی کام میں پوری توجہ کا فقدان ، ماضی کے غم میں مستقل رھنے والے پیٹرن بنا دیتا ھے ایسا اس لئے ھوتا ھے کہ جب ہم جھوٹ بولتے ہیں اس وقت ہمارے نیورانز مطلب ذہنی مشینری قدرتی طریقہ کار سے ہٹ کر غلط رستے پر سوار ھو جاتی ھے جبکہ انسانی ذہن اور جسم قدرتی خودکار بنیادوں پہ چلنے والی مشین ھے

    قدرت نے دماغی سسٹم کی سیٹنگ اپنے معیار پہ رکھی ھے لیکن جب انسان اس معیاری سسٹم کو اپنے بے حودہ معیار پہ سیٹ کرتا ھے اس وقت نیورانز کی آمد و رفت میں اچانک ایکسیڈنٹ ھونا شروع ھو جاتے ہیں آگے آپ خود سمجھدار ہیں سسٹم کے اشاروں پہ چلنے والی ٹریفک پرسکون چلتی رھتی ھے جبکہ اپنی مرضی سے چلنے والی اشارہ توڑنے والی بے ہنگم گاڑیوں کی ٹکر کس انداز میں ھو سکتی ھے جسم کا کتنا نقصان ھو سکتا ھے اسکا اندازہ اپ لگا سکتے ہیں یقینا آپ جان چکے کہ گھر بیٹھے روحانی ، جسمانی اور ذہنی صحت کا اتنا بڑا نقصان کوئی جاہل گوار ہی کرے گا لیکن یقینا آپکی ذات اور جہالت میں زمین آسمان کا فاصلہ موجود ھے یہ میں جانتی ھوں جھوٹ چھوٹی موٹی بیماری نہیں ھے جھوٹ وہاں ملتا ھے جہاں انسان اندر سے کمزور ھو اپنے خیالات ، احساسات ، جزبات اپنی خوشیوں اپنے دکھوں کو بیان کرنے کی ہمت نہ رکھتا ھو ڈرا ھوا ھو جھوٹا انسان جھوٹ کی مدد سے رشتہ تو بنا لیتا ھے مگر اسے نبھانے کی اہلیت نہیں رکھتا کیونکہ جھوٹ اپنے ساتھ 10 اخلاقی بیماریاں بھی اسی سوچ میں پیدا کر دیتا ھے جو کسی رشتے کو مسمار کرنے کیلئے کافی ھوتی ہیں

    چنانچہ قرآن کریم میں ایک جگہ ہےکہ”تم بت پرستی کی گندگی اورجھوٹی بات کہنے سے بچو”(حج)اور رسول اکرم ﷺ نے ایک حدیث میں ارشاد فرمایا کہ’تین چیزیں منافق کی نشانیوں میں سے ہے، جب بات کرے توجھوٹ بولے،کسی سے کوئی وعدہ کرے تو اسکی خلاف ورزی کرے،اورامانت میں خیانت کرے'(بخاری)اور ایک دوسری روایت میں ہے کہ اگرچہ وہ روزہ رکھے،نماز پڑھے اور لوگ اسکو مسلمان سمجھیں مگر پھر بھی وہ منافق ہے،غور کرنے کی بات ہے کہ جھوٹے لوگوں کے لئے کتنی سخت وعیدیں آئی ہوئی ہیں،کیا ہمارا کوئی بھی کام آج جھوٹ سے خالی ہوتا ہے؟ہرگھنٹہ اور ہر منٹ بلکہ ہرہر سکنڈ پر آج لوگ جھوٹ بول رہے ہیں،پھر کیا اس جھوٹ میں ہم شامل نہیں؟کیا ہمیں اسکا محاسبہ نہیں کرناچاہئے؟ایک اور حدیث میں آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ’اگر کوئی مذاق کے طور پر بھی جھوٹ بولے تو اس پر اللہ کی لعنت ہے”ایک اور حدیث میں ہے کہ’ایسے جھوٹ بولنے والوں کے لئے ہلاکت ہے جو لوگوں کو ہنسانےکے لئے جھوٹ بولتا ہے،اسکے لئے ہلاکت ہے اسکے لئے تباہی ہے'(ترمذی)ان احادیث کی روشنی میں ہمیں غور کرنا چاہئے کہ کیا ہماری مجلسیں، محفلیں،ہوٹلیں، بازار،دکان اور ہمارے گھر وغیرہ اس سے محفوظ ہیں؟نہیں تو آخر اسکی وجہ کیا ہے؟جھوٹ بولنا بہت بڑاگناہ ہے مگر دو متحارب فریقوں یا دو لوگوں کےدرمیان مصالحت کرا دینا اور اسکے لئے محض صلح جوئی، فتنہ و فساد کے خاتمے کی نیت سے کچھ جھوٹی باتیں کہہ دینا جائز ہے اور اسکی اجازت دی گئی ہے،ایسا شخص جھوٹا اور گناہ گار نہیں کہلائے گا،مگر یہ ضروری ہے کہ وہ باتیں خیرو بھلائی کی ہی ہوں،جو ایک دوسرے کی طرف منسوب کرکے پہنچائی جائیں،ان میں فسق وشرک نہ ہو،بخاری کی حدیث میں ہے”وہ آدمی جھوٹا نہیں جو لوگوں کے درمیان صلح کراتا ہے پھر خیر کی باتیں پہنچاتا ہے یا اچھی باتیں کہتا ہے”اور مسلم شریف کی ایک حدیث میں ہے کہ صرف تین مواقع ایسے ہیں جہاں جھوٹ بولنے کی اجازت دی گئ ہے،ایک شوہر بیوی میں اختلاف کو دورکرنے کے لئے،دوسرے مسلمانوں میں باہمی تعلقات کی اصلاح کے لئے اور تیسرا میدان جنگ میں،

    علماء نے لکھا ہے کہ ان کے علاوہ اور کسی جگہ یاکسی مو قع پر کذب بیانی اورجھوٹ بولنا ہرگز درست نہیں،لیکن ہاں مجبوری کی حالت اس سے مستثنی ہے،اگر انسان کو مجبور کردیا جائے اور اسے اپنی جان کا خدشہ لاحق ہو تو ایسی صورت میں جھوٹ بولکر جان بچانے کی رخصت دی گئی ہے،اس صورت میں وہ گنہگار نہیں ہوگا،جھوٹ ایسی منحوس چیز ہے کہ اسکے بولنے والے کے پاس سے فرشتے بھی دور ہٹ جاتےہیں،ایک حدیث میں ہے کہ”جب بندہ جھوٹ بولتاہے تو فرشتے اسکی بدبو کی وجہ سے ایک میل دور چلے جاتےہیں”(ترمذی)ایک مرتبہ رسول اکرم ﷺ سے پوچھا گیا،کیا مومن بزدل ہوسکتا ہے؟آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا ہاں،پھرسوال کیا گیا کیا مومن بخیل ہوسکتا ہے؟فرمایا ہاں،پھر پوچھا گیا کیامومن جھوٹا ہوسکتا ہے؟آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا نہیں،دیکھا آپ نے اس حدیث میں مسلمان بزدل بھی ہوسکتا ہے،بخیل بھی ہوسکتا ہے لیکن جھوٹا نہیں ہوسکتا،ہمارا حال یہ ہے کہ کوئی بھی کام ہمارے پاس جھوٹ کے بغیر نہیں ہوتا،پھر ہمارے حالات کیسے درست ہوں؟ایک دوسری حدیث میں آپ نے صراحت کے ساتھ فرمایا کہ’تم جھوٹ سے بچو کیونکہ جھوٹ گناہ کی طرف لےجاتا ہے اورگناہ جہنم کی طرف لےجاتا ہے،آدمی ہمیشہ جھوٹ بولتا ہے اورجھوٹ کے پھیرنے میں رہتا ہے یہاں تک کہ اللہ تعالی کے نزدیک کذاب لکھ دیاجاتا ہے،دراصل جھوٹ ایسی بری صفت ہے جو کسی مسلمان کے شایان شان نہیں،ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم جھوٹ بولنے سے احتیاط کریں اورہمیشہ سچ بات کہنے کی عادت ڈالیں،اپنے بچوں کے دلوں میں جھوٹ سے نفرت پیدا کریں،سچائی کی اہمیت اورمحبت اپنے بچوں کے دلوں میں ڈالیں اور یہ بتائیں کہ سچائی ہمیشہ نجات دلاتی ہے اور جھوٹ انسان کو ہلاک وبرباد کر دیتا ہے،بلکہ ایک حدیث میں ہےکہ آپ ﷺ نے فرمایا’جو شخص جھوٹ بولنا چھوڑ دے،اگرچہ وہ باطل ہے تواللہ تعالی اسکے لئے جنت کے صحن میں گھر تعمیر فرمائیں گے'(ترمذی)لہذاٰ کوشش کریں کہ ہم ہرجگہ سچی بات کریں اورسچ کواپنی زندگی میں داخل کریں،تب ہی ایک صالح اورپاکیزہ معاشرہ وجود میں آسکتا ہے جو وقت کی بھی اہم ضرورت اور انسانی تقاضا بھی ہے اللہ تعالیٰ ہم سبکو جھوٹ سے بچائے اورہمیشہ سچ بولنے، سچی بات کہنے کی توفیق عطا فرمائے آمین بھائیو اور بہنو یاد رکھنا ایک سچ سو سکھ لاتا ھے جبکہ ایک جھوٹ آپکی ذات میں ہزار کھوٹ پیدا کرتا چلا جاتا ھے کیا فائدہ جھوٹ کا ، ، ، اور ، ، ، جھوٹے کے ساتھ کا ۔۔۔

    تحریر یاسمین ارشد
    twitter.com/IamYasminArshad
    @IamYasminArshad

  • ریڑھ کی ہڈی میں موجود ڈسک سے جڑے مسائل .تحریر: حسن قدرت

    ریڑھ کی ہڈی میں موجود ڈسک سے جڑے مسائل .تحریر: حسن قدرت

    ڈسک کیا ہے اور کیسے بنتی ہے؟ ریڑھ کی ہڈی میں چھوٹے چھوٹے جوڑ موجود ہوتے ہیں جنہیں ہم ورٹیبری کہتے ہیں کچھ جوڑ آپس میں جڑے ہیں کچھ میں اور کچھ میں سپیس ہے جنکے درمیان ایک لچکیلا مادہ ہوتا ہے جسے ہم ڈسک کہتے ہیں ہماری ریڑھ کی ہڈی کے ٹوٹل33 جوڑ ہیں جن میں 23 انٹرورٹیبرل ڈسک موجود ہیں جتنا انسان صحت مند ہوگا اس میں ڈسک اتنی زیادہ ہوگی اور اسی تناسب سے اسکی لمبائی ہوگی

    ڈسک کے اجزاء: ڈسک میں بنیادی طور پر کولیجن ہوتا ہے اور پروٹیوگلائیکینز (جو پانی کو اپنی طرف اٹریکٹ کرتے ہیں) یہی وجہ ہے کہ ایک صحت مند ڈسک کے نیوکلیس میں 90 فیصد پانی موجود ہوتا ہے

    ڈسک کیسے کام کرتی ہے : ڈسک ہمارے جوڑوں کو رگڑ سے بچاتی ہے ڈسک پانی جذب کرتی ہے اور فاسد مادے خارج کرتی ہے یعنی یہ ایک پراسس ہے جس میں انجذاب اور اخراج ایک ساتھ ایک ہی وقت میں ہوتا ہے یعنی پانی کا انجذاب اور فاسد مادوں کا اخراج اور اگر ایسا نہیں ہوتا ، ڈسک کو صحیح مقدار میں پانی نہیں ملتا تو ڈسک الٹا کام کرنے لگتی ہے یعنی پانی کو خارج کر کے فاسد مادے اکھٹے کرنے لگتی ہے

    ڈسک کیسے متاثر ہوتی ہے:ہماری روزمرہ کی سرگرمیوں کے دوران ڈسک بہت زیادہ کمپرس ہو جاتی ہے جب اس پہ دباؤ پڑتا ہے تو یہ پانی خارج کرتی ہے اور پوٹاشیئم اور سوڈیم کو جذب کرتی ہے (فاسد مادے) جسکی وجہ سے بیلنس خراب ہوتا ہے اور پانی کی کمی کی وجہ سے یہ کم ہو جاتی ہے ( اگر وقت پہ اسکا تدارک نہ کیا جائے تو یہ سپائنل کروز کو متاثر کرتی ہے جس سے پوسچر خطرناک حد تک خراب ہوجاتا ہے )

    وجوہات: اسکی وجوہات عمر کا بڑھنا ،پراپر نیوٹریشن کا نہ ہونا ،ڈایابٹیز،سموکنگ،اوورلوڈنگ،کوئی ماضی کی ڈسک انجری یا ایسا کام جس سے ڈسک بہت زیادہ موبائل ہو یا وائبریٹ ہو ہوسکتی ہیں (اگر آپ کو ڈسک کا کوئی مسئلہ ہے تو کوشش کریں کہ ایسا کام نہ کریں جس سے ڈسک پہ زور آئے یا شاک لگے)

    صبح اٹھ کر ریڑھ کی ہڈی کے سارے جوڑوں میں درد کیوں محسوس ہوتا ہے؟ ایک نارمل بندہ جب صبح اٹھتا ہے تو سپائن کی جو ہائٹ ہے سارا دن وہی رہتی ہے مگر وہ بندہ جسکی ڈسک کا مسئلہ ہے اس میں سپائن کی ہائٹ سارا دن گزرنے کے بعد 2 سینٹی میٹر تک کم ہو جاتی ہے اور عموماً صبح اٹھنے کے 30 منٹ بعد ہی ریڑھ کی ہڈی میں سے 54 فیصد پانی خارج ہو جاتا ہے اسلیے بہت ممکن ہے کہ اسے اٹھتے ساتھ ہی ریڑھ کی ہڈی میں تکلیف ہو جسکی وجہ یہ ہے اٹھتے ساتھ ہی پانی کا اخراج ڈسک سے شروع ہو جاتا ہے یہی وجہ ہے کہ ڈسک انجری کے چانسز صبح کے وقت زیادہ ہوتے ہیں

    جب ہم رات کو ریلکس ہو کر سوتے ہیں ،ڈسک سے پریشر ختم ہوتا ہے وہ پانی کو جلدی سے جذب کرتی ہے اسلیے جب ہم رات کو نیند سے اٹھ کر پانی پیتے ہیں تو اس سے ڈسک کی لمبائی بڑھتی ہے (ڈسک ایک لچکیلا مادہ ہے جو جوڑوں کو آپس میں رگڑ سے بچاتا ہے )

    ڈسک کی صحت اور علاج:ڈسک کی صحت کے ضروری ہے کہ آپ اپنی خوراک کا خیال رکھیں پراپر جوسز لیں (کوشش کریں گھر پہ بنائیں)،فروٹس،کچی سبزیاں، دودھ کی مناسب مقدار اور ایسی غذائیں جن میں آئرن شامل ہو زیادہ پانی پئیں اسکا علاج مخصوص پوسچرل پوزیشنز سے کیا جاتا ہے جوگنگ سے بھی اور رننگ سے بھی اسکے ساتھ مخصوص ورزش بتائی جاتی ہے جس سے یہ مسئلہ حل ہو سکتا ہے کسی اچھے فزیو تھراپسٹ کو اپنی مکمل ہسڑی دیں اور پھر ان سے مشورہ کریں

    @HusnHere

  • "ہمارے معاشرے میں خواتین کا کردار” تحریر:اقصیٰ احمد خان

    "ہمارے معاشرے میں خواتین کا کردار” تحریر:اقصیٰ احمد خان

    عورت معاشرے کی بنیادی اکائی ہے کائنات کی رنگارنگی اور تنوع میں عورت کا کلیدی کردار ہےاسی اہمیت کے پیش نظر قرآن نے جا بجا عورت کی عظمت اور اہمیت کو اجاگر کیا ہےاور عورت کے وجود کو معاشرے کی تشکیل ،تعمیر اور بقا کا ضامن قرار دیا ہے عورت کی اہمیت کسی لحاظ سے بھی مرد سے کم نہیں۔ ایک مرد علم حاصل کر کے زیادہ سے زیادہ اپنے گھر کے لیے فائدہ دے سکتا ہے جبکہ عورت کی تعلیم کے اثرات گھر اور گھرانے سے بڑھ کر شہر اور معاشرے تک پھیل جاتے ہیں ۔ایک بہترین عورت ہی انسانی تہذیب و تمدن کی بنیاد رکھ سکتی ہے۔جب عورت اپنی ذات کی اصلاح کرے اور اسلامی تعلیمات سے آگاہی حاصل کرے تو معاشرے کو ترقی سے ہمکنار کرسکتی ہے۔

    باوقار اور اثر انگیز خاندا ن کی تشکیل اور تعمیر میں عورت مختلف روپ میں مثبت کردار ادا کر تی ہے۔

    عورت اجتماعی اور معاشرتی ترقی میں فقید المثال کارنامہ انجام دے سکتی ہے

    اسلام نے واقعی عورتوں کو بہت حقوق دیے ہیں۔ عورت کو بہترین مقام دیا ہے۔ عورت کے لئے جو حقوق اسلام نے دیے ہیں اور جو شرائط اسلام نے بتائی ہے وہ وقت کے ساتھ تبدیل نہیں ہوسکتیں۔ عورت کو اختیار ہے کہ وہ اپنے آپ کو معاشرے کی تعمیر میں استعمال کرے لیکن حدود کے ساتھ۔۔۔عورت کا ایک حق یہ بھی ہے کہ وہ اپنے مرد کے ساتھ معاشی طور پر بوجھ اٹھاسکتی ہے۔ لیکن ہمارے آج کے مولویوں نے اور مرد حضرات نے اپنی انا کو اونچا رکھنے کے لئے اسلام کو ہتھیار بناکر بدنام کیا ہوا ہے ۔ ایجوکیشن اور ہیلتھ دو شعبے ایسے ہیں جو مسلمان عورت کے لئے موزوں ترین ہیں۔ کیوں کہ اللہ تعالیٰ نے مرد سے عورت کی تخلیق ذرا مختلف بنائی ہے۔ ان دو شعبوں میں مسلم عورتوں کا کردار مسلمہ ہے۔ مسلم سماج میں عورتیں بہتر کردار ادا کررہی ہیں، تاہم ابھی بھی کافی رکاوٹیں ہیں جن کی وجہ سے قومی تشکیل میں ان کا کردار کم ہے۔ عورتوں کو ابھی بھی سیکنڈ گریڈ شہری سمجھا جاتا ہے۔ لیکن گزشتہ ایک عشرے میں کافی تبدیلیاں آئی ہیں۔
    آج اگر ہم اپنی خواتین کو دیکھتے ہیں تو وہ نہ صرف گھر میں بلکہ خاندان میں اپنے آپ سے منسلک ہر رشتے کو بڑی خوبصورتی سے نبھا رہی ہیں اور زندگی کے ہر شعبے میں خواہ وہ سیاسی ، ادبی ، کاروباری ، صحت ، تعلیم ، کھیل جیسا کوئی بھی شعبہ ہو، ہماری خواتین نہ صرف اپنا بلکہ اپنے ملک کا بھی نام روشن کررہی ہیں۔

    تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ کوئی بھی معاشرہ اس وقت تک ترقی نہیں کرسکتا جب تک معاشرے کی خواتین کی شمولیت نہ ہو۔ اس لئے کہا جاتا ہے کہ ہرکامیاب مرد کے پیچھے ایک عور ت کا ہاتھ ضرور ہوتا ہے اسی طرح ہر کامیاب معاشرے کے پیچھے خواتین کی محنت اور کردار ضرور ہوتا ہے۔

    آج پاکستان کی خواتین میدانوں میں، فضاﺅں میںاور خلاﺅں میں ہر جگہ کامیابی کے جھنڈے گاڑتی پھر رہی ہیں۔ بے شک یہ ان خاندانوں کی خواتین ہیں جہاں انہیں عزت دی گئی، جن کو انسان تسلیم کیا گیا۔ چاہے ان کا تعلق پسماندہ ماحول سے ہو یا شہر کے گھٹن زدہ ماحول سے ، انہیں جینے کا پورا پورا حق دیا گیا۔ ماں باپ نے انہیں اعتماد اور شعور دیا، اس لئے وہ کسی پر بوجھ نہیں،وہ طاقتور ہیں۔ اس لئے وہ توانا سوچ کی مالک بھی ہیں۔ اس لحاظ سے پاکستان کی خواتین خوش قسمت ہیں ۔یہ دیکھنے میں آتا ہے کہ وہی معاشرہ مضبوط ہوتا ہے جس معاشرے کی عورت مضبوط ہوتی ہے۔

    اقصیٰ احمد خان
    کراچی
    @ShinyAqsa

  • ریپ کا لباس سے تعلق ؟ تحریر: درخشاں رمضان

    ریپ کا لباس سے تعلق ؟ تحریر: درخشاں رمضان

    سوشل میڈیا پر لوگ ہر قسم کے تبصرے کرتے ہیں جن میں سے کچھ یہ کہہ رہے ہوتے کہ عورت کا لباس کا یا اکیلے نکلنے کا ریپ سے تعلق نہیں جب کہ دوسری طرف کچھ لوگ اس کو ریپ کی وجہ بتاتے ہیں

    تمام باتوں پر اگر بغور جائزہ لیا جائے تو معاشرے میں زیادتی کا تعلق عورت کے لباس سے ہو یا نہ ہو لیکن یہ intentional relation invitation ضرور ہے یہ راستہ ہم نے خود ہی چنا ہے ایک مثال سے سمجھاتی ہوں

    اگر آپ کے سر میں درد ہو اور ڈاکٹر آپ کو دوائی دے اور آپ ڈاکٹر کو کہیں کہ نہیں میں اپنی بیماری خود ڈھونڈ کر دوا استعمال کروں گاآپ ایسا کرلیتےہیں لیکن آرام آنے کی بجائے سر درد مزید بڑھ جاتا ہے تو اس میں آپ کس کو قصور وار ٹھہرائیں گے خود کو یا ڈاکٹر کو

    اسی طرح اللہ نے ہمیں قرآن دیا ایک بہترین نظام دیا ہمیں شرعی سزاوں کا بتایا اور کہا اسے فالو کرو نافذ کرو کامیاب رہو گئے لیکن کیا ہم نے وہ راستہ اپنایا؟ وہ نظام نافذ کیا؟
    فحاشی اور بے حیائی بڑھتی جارہی ہے عورتوں کو اپنی عزت کا احساس نہیں ماں باپ اولاد سے بے خبر ہیں وقت پر شادیاں نہیں کرتے یہ سب کہیں نہ کہیں وجہ ہے زیادتی کی

    آپؐ نے کتنی قربانیاں دیں کتنےصحابہ کرام شہید ہوئے انہوں نے نظام قائم کیالیکن ہم کیا اس نظام قائم کر پائے ہم اپنے ہاتھوں سے معاشرے کو جہنم بنا رہے ہیں

    ملک میں قانون نام کی کوئی چیز نہیں مجرم گرفتار ہوجائیں تو کچھ دن بعد باہر ہوتے ہیں قانون عدالتی نظام کمزور ہونے کی وجہ سے مجرم میں خوف ختم ہوگیا ہے طاقتور مافیا پشت پناہی کرتا ہے اور یہی مافیا اللہ کا نظام قائم کرنے میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے اسلامی سزاوں کے نفاظ کی مخالفت یورپ کی خوشنودی ہے

    آپ ایک منٹ کے زرا سوچیں زناکار زمین میں آدھا دھنسا ہوا اور ہر طرف سے پتھر ہی پتھر برس رہے ہوں کوئی پتھر سر پر لگے اور کوئی آنکھ پر یہ سوچ کر ہی ہمیں خوف آنے لگتا
    تو اگر یہ سزا نافذ کر دی جائے اور ایک بار کسی کو دے دی جائے سرعام تو کیا لوگوں کی روح نہیں کانپیں گی کسی بھی لڑکی کا ریپ تو کیا آنکھیں اٹھانے سے بھی اجتناب کریں گے یہ واحد حل ہے لڑکیوں کے تحفظ کا جو کہ ریاست دے سکتی ہے اس کے علاوہ حجاب کو لڑکی کے لیے لازمی قرار دیا جائے نکاح کو آسان بنایا جائے فحاشی سے بھرپور ڈراموں اور فلموں پر پابندی لگا دی جائے

    والدین اپنے بچوں کی جسمانی تربیت کے ساتھ ذہنی تربیت کریں تو ہی اس سے نجات پائی جاسکتی ہےجب تک ہم شریعت پر عمل نہیں کریں گے شریعت کے مطابق سزائیں نافذ نہیں کریں گے اللہ کا نظام نہیں لائیں گے ہم زلیل ہوتے رہیں گے

    اللہ پاک سب کی عزتوں کی حفاظت فرمائے

    آمین

    ‎@DarakhshanR786

  • برانڈڈ چیزوں کی خواہش .تحریر: حنا

    برانڈڈ چیزوں کی خواہش .تحریر: حنا

    ایک ڈیڑھ سال پہلے ایک نابالغ لڑکی کے ساتھ ایک بہت بڑے اور نامی گرامی ہوٹل میں 11 مردوں نے اجتماعی زیادتی کر ڈالی تھی ۔۔اس وقت مجھے بہت دکھ ہوا ۔۔۔ان گیارہ درندوں کو عبرت ناک موت دینے کو دل چاہ رہا تھا ۔۔۔۔لیکن اب بات میری سمجھ میں نہیں آئی تھی کہ ایک بہت بڑے ہوٹل میں وہ لوگ لڑکی کو بنا اسکی مرضی کے لے کر پہنچ کیسے گئے؟؟؟
    فرض کر لیتے ہیں کہ اسے ایک ہوٹل میں بلایا گیا تھا۔ یعنی وہ اپنی مرضی سے گئی تھی ۔۔۔۔

    کیا بنا مرضی کے کسی ہوٹل میں لے جائی جا سکتی ہے ؟؟اور وہ بھی ایسی صورت میں کہ ایک بندے نے روم بک کیا ہو ۔۔۔۔ایک بہت بڑے ہوٹل میں ایک لڑکی کے ساتھ 11 بندے زیادتی کر رہے ہیں اور ساتھ والے کمرے میں آواز تک نہیں جا رہی ؟ عجب نہیں لگے گا ؟ ایک لڑکی جو دو دن سے گھر سے غائب ہے۔ اور بننا بھی ماڈل چاہتی ہے تو کیا اس کے گھر والوں کو علم نہیں ہوگا کہ ہماری بیٹی اسی سلسلے میں کسی سے ملنے گئی ہے ؟۔۔اسی طرح ایک اور واقعہ کچھ عرصہ پہلے کہ لڑکی کا ایک کلاس فیلو ساتھ چکر تھا ۔۔لڑکے کے ساتھ چکر میں گھر والوں کو چکر دیتے دیتے ایسا چکرائ کہ پتہ چلا پریگنٹ ینعی حاملہ ہو گئ ۔۔حاملہ ہووی ۔۔دن بدن حالت بگڑی ۔۔وہی لڑکا جس کے ساتھ چکر تھا وہ ہسپتال میں لاوارث چھوڑ کر فرار ۔۔۔۔پھر خبر ملی لڑکی مر گئ ۔۔۔۔۔۔ایسے ہی بے شمار واقعات آئے روز ہماری نظروں سے گزرتے ہیں ۔کہیں لڑکے کے ساتھ گھر سے بھاگنے والی عثمان مرزا جیسے حیوانوں کے ہتھے چڑھ جاتی ہے تو کہیں گھر سے بھاگنے کے چکر میں اپنے ہی گاوں کے وڈیروں کی ضد پہ غیرت کے نام پہ موت کے گاٹ اتار دی جاتی ہے ۔۔سمجھ نہیں آتی ۔۔آج کی لڑکیوں نے خود ہی اپنی عزتوں کا تماشہ کیوں بنایا ہوا ہے ۔۔۔کہیں کوی ٹک ٹاک پہ چار لڑکوں کے ساتھ ناچ رہی ہے ۔۔تو کہیں کوی یوٹیوب انسٹا پر اپنی خوبصورتی کی نمائش لگا کر بیٹھی ہے ۔۔اور پھر چند لوگوں کے واحیات کمنٹس کو بھی ہنس ہنس کر جواب دے رہی ہوتی ہے ۔۔تو کہیں پیزہ برگر آئس کریم کھلانے کا وعدہ کرنے والے کے ساتھ ماں کو نیند کی گولیاں دے کر راتیں ہوٹلوں میں گزار رہی ہوتی ہے پہلے پہل سنا جاتا تھا کہ جسم فروشی کا دھندہ گرلز ہاسٹل اور یونیورسٹیوں میں بڑی خاموشی سے ہوتا ہے۔ لیکن میری معلومات کے مطابق اب یہ یونیورسٹی سے نکل کر کالج اور سیکنڈری سکولوں تک پہنچ چکا ہے۔۔۔

    اور کچھ کو لگتا ہے۔اس کے پیچھے باقاعدہ نیٹ ورک ہوتا۔ یہ شروع ہوتا ہے احساس محرومی سے اور مقابلے کے رجحان سے۔ یہ ٹیکنالوجی کا دور ہے ہر دوسری لڑکی کے پاس سمارٹ فون موجود ہے اور وہ سمارٹ فون کہاں سے آتا ہے یہ کوئی نہیں سمجھنا چاہے گا۔ گھر بیٹھے بیٹھے اس سمارٹ فون میں ایزی لوڈ کہاں کہاں سے آجاتا ہے یہ کوئی سمجھنا نہیں چاہے گا۔۔روز 50 روپے خرچہ لے جانے والی لڑکی کے پاس مہنگے موبائل، کپڑے، پرفیوم کہاں سے آگئے۔ یہ بھی ایک جسم فروشی ہے

    اب ہوتا کیا ہے۔ ہر سکول ، کالج اور یونیورسٹی میں امیر لوگوں کے بچے بھی تعلیم حاصل کرتے ہیں اور غریب لوگوں کے بھی۔ جب لڑکی اپنی ساتھ والی سیٹ پر بیٹھی لڑکی کے پاس مہنگا ترین موبائل دیکھتی ہے تو اسکا بھی دل کرتا ہے کہ یہی موبائل میرے پاس بھی ہو۔
    جب وہ ہر روز اپنی سہیلی کو نئے اور مہنگے کپڑے پہنے دیکھتی ہے تو اسکا بھی دل کرتا ہے کہ وہ بھی اسی طرح کے کپڑے پہنے۔ جب وہی لڑکی مہنگے کاسمیٹکس اور پرفیوم اپنی سہیلی کے چہرے پر تھوپے دیکھتی ہے تو اسکا بھی دل کرتا ہے کہ وہ بھی ان چیزوں کو استعمال کرے۔ جب وہ اپنی سہیلی کے بوائے فرینڈ کو اپنی سہیلی کے ساتھ روز یا ہر دوسرے دن میکدونلڈ میں برگر کھانے جاتا دیکھتی ہے تو اسکا بھی دل کرتا ہے کہ وہ بھی ہر روز کسی کے ساتھ برگر کھانے جائے۔

    کوئی اسکا بھی ایسے ہی نخرے اٹھانے والا دوست ہو۔ یہاں سے اپنی مرضی سے جسم فروشی کی سوچ کا بیج بونا شروع ہو جاتاہے۔ اور کمال منافقت یہ ہے کہ نہ لڑکی اسے جسم فروشی ماننے کو تیار ہوتی ہے نہ لڑکا سمجھتا ہے کہ وہ جسم خرید رہا ہے۔ بلکہ دونوں اسے پیار اور گرل فرینڈ بوائے فرینڈ کا نام دیتے ہیں۔ اب یہ مجھے بتانے کی شاید ضرورت نہیں کہ ایک ہی لڑکی یا لڑکے کے بوائے فرینڈ اور گرل فرینڈ اکثر بدلتے بھی رہتے ہیں۔ غریب لڑکی چاہے گی کہ اسکا بوائے فرینڈ گاڑی والا ہو آئے روز اسے مہنگے گفٹ دے ۔۔۔جو وہ اپنی امیر سہیلی کے مقابلے میں استعمال کر سکے ۔۔حسد ۔۔حسد ہر برائ کی جڑ ہے ۔۔۔حسد کی آگ میں جلنے والے لوگ پھر یہ نہیں دیکھتے کہ وہ حد کی بھی حد پار کررہے ہیں ۔۔۔وہ نہیں دیکھتے کہ گھر میں بوڑھے والدین ان کی فیسیں کیسے جمع کرتے ہیں ۔۔وہ یہ نہیں دیکھتے ۔۔کہ گھر میں بیٹھی جوان بہنیں شادی کی عمر کو ہے ۔۔۔۔وہ یہ نہیں دیکھتے کہ کل ان کا کیا کہیں ان کی بہنوں کے آگے نہ آجائے ۔۔وہ بس چلتے جاتے ہیں اندھا دھند ۔۔۔۔۔اور ٹھوکڑ لگنے پر بھی معافی مانگنے کی بجاے حرام موت لینا پسند کرتے ہیں ۔۔۔

    طوائف اگر اپنا جسم پیچ کے اپنے بچوں کیلئے روٹی خریدے تو وہ جسم فروشی ہوئی۔ اور ایک سٹوڈنٹ اگر آئے روز اپنا پارٹنر بدلے۔ روز پیسے لے۔ ایزی لوڈ مانگے۔ موبائل گفٹ لے ۔مہنگے قیمتی سوٹ لے ، پرفیوم لے تو یہ جسم فروشی نہیں۔ ایسا کیوں ؟ یہ دوہرا معیار صرف ہمارے معاشرے میں ہی کیوں؟
    میں یہاں مرد ذات کو ڈیفینڈ نہیں کر رہی صرف یہ سمجھانے کی کوشش کر رہی ہوں کہ حضور تالی دونوں ہاتھوں سے بجتی ہے…….
    خدارا لڑکیوں اپنی عزت کو سمجھو۔۔۔۔۔یہ دنیا محض فانی ہے ۔۔۔۔۔۔مہنگی اور برانڈڈ چیزوں سے نہیں عزت سے زندگی گزارو۔۔۔۔

    ۔