کیا بیٹی کبھی رحمت بھی تھی ؟ جی ہاں! لیکن اسکو سمجھنے کیلئے ہمیں 1500سال قبل عرب کی بدلتی تقدیر کے سنہرے ابواب کا مطالعہ کرنا ہوگا۔جب جہالت و فسادات پر مبنی تہذیب و روایات کی گرد نے معاشرے کو بری طرح اٹ دیا تھا۔عرب وعجم کے مسیحا نے اس معاشرے کی گرد کو صاف کرتے ہوئے، معاشرے کے اہم جز،نوع انسانی کا فخر و سرمایہ،نازک مزاج،گراز طبیعت اور نرم طینت کو اعزاز سے نوازتے ہوئے فرمایا:جس نے دو لڑکیوں کو ان کے بالغ ہونے تک پالا،قیامت کے دن میں اور وہ ( آپ صلیٰ اللہ علیہ وسلم نے اپنی دو انگلیوں کو ملا کر اشارہ کرتے ہوئے بتایا) ان دو انگلیوں کی طرح اکھٹے ہونگے۔
درحقیقت یہ اشارہ بیٹی کے سر تا پا رحمت ہونے سے کنایہ تھا ۔جس کی پرورش پر اپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے قربت کی نوید سنائی۔بالآخر بیٹی نے نمونہ رحمت پیش کیا۔جب اپ صلی اللہُ علیہ وسلم کے پائے مبارک میں کافروں کے بچھائے ہوئے کانٹے چبھ جاتے تو اپنی ننھی انگلیوں سے کانٹے چنتی جاتی اور سسکیاں بھرتی جاتی۔
یہ بھی ہوتا جب کفر کے غرور میں مبتلا کفار مکہ اپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے سر مبارک پر آلودگی پھینکتے۔اپ صلیٰ اللہ علیہ وسلم گھر واپس تشریف لاتے یہ اپنے ننھے ہاتھوں سے اسے صاف کرتی ۔پقنی سے سر مبارک دھوتی اور روتی جاتی۔
آج بھی اگر دیکھا جائے ،بیٹی کو جس قدر محبت والد، والدہ اور بہن بھائیوں سے ہوتی ہے بیٹے کو نہیں ہوتی۔دوسری طرف تاریخ اسلام سے قبل کی روایات(جن کو عورت کو خاص کر بحثیت بیٹی، پاپ سمجھا جاتا تھا) اور عصر حاضر میں یگانگت کا ناسور آئے دن کینسر کی صورت اختیار کرتا جارہا ہے ۔جسے گرد ونواح کے ماحول میں ہم بخوبی دیکھ سکتے ہیں کہ دعاؤں اور التجاؤں میں نرینہ اولاد کو اس قدر فوقیت دی جانے لگی ہے کی شاید بیٹی اولاد کے مفہوم سے خارج ہے ۔
بیٹے کی پیدائش پر اگے بڑھ بڑھ کر مبارک باد دی اور لی جاتی جاتی ہے۔شادیانے بجائے جاتے ہیں ۔جبکہ بیٹی کی پیدائش پر سوگ کا منظر دکھائی دیتا ہے ۔اسکی ایک وجہ شاید ہماری غیروں سے مستعار لی ہوئی وہ روایات ہیں جن پر عمل کرنا ہم مزہبی فریضہ سمجھتے ہیں ۔پھر اسے پورا کرنے میں درست ونادرست،جائز وناجائز اور حلال حرام کی پرواہ کئے بغیر،اپنی وسعت سے زیادہ کوشش خرچ کرتے ہیں ۔اسی لئے بیٹی کو بیاہ کر رخصت کرنا بہت بڑے محاذ کو سر کرنے سے کم نہیں رہا ۔
ابتداء سے انتہا تک، رسوم اور ان پر ہونے والے اخراجات کی لمبی فہرست ہے۔منگنی ہو یا مہندی، نکاح ہو یا ولیمہ،ہر مرحلے سے گزرنا کسی پل صراط سے کم نہیں ۔پھر بیٹی کی شادی اور بھی دشوار ہے کیونکہ اج بیٹی کو بیاہنے پر جس قدر خرچ ہوتا ہے ۔اس سے تین بیٹوں کے وسائل مہیا ہو سکتے ہیں ۔
جب ایسا ہی ہے اور اسے ہم نے معاشرے، تعلق داروں اور رسم ورواج سے مرعوب ہو کر اپنی زندگی کا اہم جز بنا رکھا ہے ،تب بیٹی کا رحمت یا زحمت ہونا ظاہر ہے ۔ہمیں اس پر سنجیدگی سے سوچتے ہوئے ،ان واہموں کو بالائے طاق رکھتے ہوئے کہ ”رشتہ دار کیا کہیں گے ،عزیز کیا کہیں گے اور لوگ کیا کہیں گے ”،ایسے مواقع سے ان رواجوں کو نکالنا ہوگا جنہوں نے معاشرے میں جینا دو بھر کردیا ہے ۔اگر ایسا ممکن ہو جائے تو اس تذبذب،تزلزل،اضطراب اور بے چینی کو قرار آ جائے گا جو معاشرے میں پھیل ہے
اور
بیٹی کھوئی ہوئی متاع پھر سے پا لے گی ۔
@NZ760
Category: خواتین
-

بیٹی رحمت یا زحمت تحریر: نزاکت شاہ
-

عورت اور ہمارا معاشرہ تحریر : امیرحمزہ کمبوہ
ہمارے معاشرے میں عمومی طور پر ایسا ہی ہوتا ہے کہ جب بہو بیاہ کر گھر میں آتی ہے تو اس سے بیٹا پیدا ہونے کی امیدیں لگا لی جاتی ہیں ، اگر بیٹا پیدا نہ ہو اور بیٹی کے بعد پھر بیٹی پیدا ہو جائے تو جب تک بیٹا پیدا نہ ہو تب تک خاندان میں اضافہ جاری رکھنے کا سوچا جاتا ہے چاہے اس کوشش میں پہلے سے موجود بیٹیوں کی صحیح تربیت ، صحت اور خوراک کو نظر انداز ہی کیوں نہ کرنا پڑے
اور اس بات کا الزام بھی ہمیشہ عورت کو ہی ٹھہرایا جاتا ہے کہ تیسری بیٹی کے بعد چوتھی بیٹی پیدا کیوں ہوئی ہے ، لیکن شاید کبھی کسی کے دل میں یہ خواہش پیدا ہوئی ہو کے تیسرے بیٹے کے بعد چلو چوتھی بیٹی ہی پیدا ہو جاتی
ہمارے معاشرے میں آنے والے بچے کی جنس چاہے مرد ہو یا عورت لیکن اس عمل میں ہمیشہ عورت کو ہی کٹہرے میں کھڑا کیا جاتا ہے جس عورت کے ہاں خدانخواستہ زیادہ بیٹیاں پیدا ہوجائیں تو اس کے سسرال والے بھی اسے حقارت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور یہاں پر قابل ذکر بات یہ ہے کہ اس کے ساتھ برا سلوک کیا جاتا ہے اور یہ سب کرنے والی بھی ایک عورت یعنی کے اس کی ساس ہی ہوتی ہے
لیکن اگر عورت کے بھائی اور ماں باپ کا سایہ سر پر ہوگا اور وہ خیال کرنے والے ہوئے تو عورت کا قادر سسرال میں قدرے مضبوط ہوگا ، لیکن اگر اسی عورت کے ہاں بیٹے پیدا ہوجائیں تو اس کی بطور بیوی اور بہو کی حثیت مضبوط ہوگی اور اس سے گھر میں بطور خوشیاں لانے والی عورت کا تصور کیا جائے گا
اللہ پاک سورہ شوری میں ارشاد فرماتے ہیں
ترجمہ: اللہ جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے، جس کو چاہتا ہے بیٹیاں دیتا ہے اور جس کو چاہتا ہے بیٹے دیتا ہے۔اور جس کو چاہتا ہے بیٹے اور بیٹیاں دونوں دیتا ہے۔اگر اس ارشاد باری کو مدنظر رکھا جائے تو آج کی عورت سمجھنے سے قاصر ہے کہ اولاد کی جنس کا ذمہ دار ہمیشہ عورت کو ہی کیوں ٹھہرایا جاتا ہے !
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ارشاد باری کا مفہوم ہے کہ
جس نے اپنی دو بیٹیوں کو پالا پرورش کی اور ان کا نکاح کر دیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو انگلیوں کا اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ وہ جنت میں میرے ساتھ ایسے ہوگا جیسے یہ دو انگلیاں آپس میں جڑی ہوئی ہیںاس لیے ہمیشہ بیٹی کی پیدائش پر مجرم عورت کو ٹھہرانا بالکل بھی درست نہیں ہے
Twitter handle @AHK_313
-

عورت کی میں کیا ہوتی تحریر : کاوش لطیف
آج ایک دوست سے بات ہو رہی تھی۔ طنزو مزاح سے بھرپور گفتگو تھی بڑا مزا آرہا تھا ۔ یوں ہی باتوں باتوں میں اس نے کہا کہ عورت کو اپنی "میں ” ختم کرنی چاہئے ۔ بلکہ ہمارے معاشرے میں عورت کی میں کی کوئی اہمیت نہیں ۔ تب سے میں بیچارا اس سوچ میں پڑ گیا کہ عورت کی میں کیا ہوتی ہے ۔۔۔شروعات کی ایک ماں سے ۔سوچا وہ عورت جو گھر سنبھالتی ہے اس میں بھی ہو گی یہ "میں ” کی بیماری ۔ ارے بھائی ہونی بھی چاہئے آخر وہ اس گھر کی باورچی ہوتی ہے اسی گھر کی دھوبن ہوتی ہے ۔اسی گھر کی خاکروب ہوتی ہے ۔اور اسی گھر میں وہ ایک چوکیدار بھی ہوتی ہے ۔۔۔اتنا سب کے باوجود بھی اس میں ” میں ” نظر نہیں آئی ۔۔پھر تھک ہار کے اپنے دوست کی بات سچ ثابت کرنے کیلئے ایک بہن کا رخ کیا وہ جو بلاغت میں قدم رکھنے سے پہلے گھر کی زمہ داری سنبھال لیتی ہے ۔۔پھر بھی یہ سنتی ہوئی جوان ہوتی ہے اور ایک دن یہ سنتے ہوئے بیاہ دی جاتی ہے کہ یہ پرائی امانت ہے ۔۔پھر نظر پڑی ایک بیٹی پہ کہ کہیں اس میں بھی ہو گی "میں ” وہ بھی بیچاری ہی نظر آئی مجھے معاشرہ جو کہ مرد کے بنائے ہوئے اصولوں پہ چلتا ہے کتنا آسانی سے عورتوں کی ” میں ” کو کچل رہا تھا ۔غرض یہ کہ مجھے ہر طرف ظلم و ستم نظر آنے لگے ۔۔
عورت چاہئے ماں ہو بہن ہو یا بیٹی ہو دراصل اس میں ” میں ” نہیں ہوتی بلکہ وہ انہیں مردوں کو عزت دار بنانے کامیاب بنانے کیلئے چھوٹی چھوٹی خوشیوں کو پاؤں کے نیچے روندتی آتی ہے ۔۔۔الغرض وہ ایک مرد کو کامیاب کرنے کیلئے سب کچھ داؤ پہ لگا دیتی ہے ۔
اور پھر یہی مرد ہوتے ہیں جو ایک عورت کو ہر جگہ گرانے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتا ۔۔۔۔میں اسے یہی سمجھانا چاہتا تھا کہ واقع ایک عورت کی ” میں ” کی کوئی اہمیت نہیں ۔۔۔۔۔
مگر جب ایک عورت اپنی "میں ” میں جیتی ہے نا تو وہ فاطمہ جناح ہوتی ہیں وہ عرفہ کریم بنتی ہے ۔۔پہاڑوں کو پیروں کے نیچے روندتی ہوئی ثمینہ بیگ بنتی ہے ۔۔ایشاء کی تیز رفتار نسیم حمید بنتی ہے ۔۔۔۔اور فضاؤں کا سینہ چیرتی مریم مختیار بنتی ہے۔۔ ۔اور دنیا کو پیچھے چھوڑتی زرا نعیم بنتی ہے ۔ اپنی ” میں ” میں جیتی عورت ” اماں جی برگر پوائنٹ ” تو چلا لیتی ہے۔یہی عورت ہوتی ہے جو اپنی خودی میں رہ کر تندور پہ روٹیاں پکا کر فروٹ فروش بن کر وین ڈرائیور بن کر بچوں کا پیٹ پال لیتی ہے لیکن خودی نہیں بیچتی ۔۔یہ عورت کی ” میں ” ہوتی ہے اور مرد کو بھی اسی ” میں ” سے نفرت ہوتی ہے ۔۔۔
میں دوست کو بتانا چاہتا تھا کہ وہ عورتیں جن کی ” میں ” نہیں ہوتی وہ صرف عورت مارچ ہی کرتی ہیں ۔نا تو وہ باورچی ہوتی ہیں ںا تو وہ دھوبن ہوتی ہیں نا تو فضاؤں میں منڈلاتی ہیں نا تو وہ پہاڑوں کو روندتی ہیں ۔وہ صرف بیستر کی زینت ہوتی ہیں وہ بھی رات کی تاریکی میں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔@k__Latif
-

بیٹیوں کی تعلیم اور تربیت .تحریر ارم رائے
بیٹیاں جو گھر کی رونق ہیں۔ بیٹیاں جو کھلتی کلیاں ہیں۔ بیٹیاں جو مسکرائیں تو لگتا ہے کہ کائنات مسکرا رہی ہے۔ بیٹیاں جن کے بغیر گھر بے رونق ہیں۔ بیٹیاں جنکے بغیر والدین کی زندگی تو بے رونق ہے ہی انکے جنازے تک بے رونق۔ بیٹیاں جو والدین کی خدمت میں سب سے اگے۔ بیٹیاں جنکے بغیر کائنات کا وجود بے رونق۔ بیٹیاں جنہیں عزت اسلام نے دی۔ بیٹیاں جو آپ صلی الله عليه والہ وسلم کے جگر کا ٹکڑا۔ دین اسلام نے بیٹوں کے برابر بیٹیوں کی تعلیم و تربیت پر زور دیا لیکن کیا ہم اس پر عمل کررہے ہیں؟ آج کی بچی کل کی ماں کیا ہم اسے انے والے وقت کے لیے تیار کررہے ہیں؟ کیا مستقبل کی زمہ دار کو انے والے وقت کے لیے تیار کررہے ہیں؟ لاڈ محبت پیار اپنی جگہ کیا انہیں مستقبل کی زمہ داریوں کے بارے میں بتا رہے ہیں؟ کیا تعلیم دے رہے ہیں تو ساتھ تربیت کررہے ہیں؟ بدقسمتی سے تعلیم سے مراد ہم سکول کالج یونیورسٹی کی تعلیم لیتے ہیں ہم بی ایس ایم ایس ایم اے ایم فل پی ایچ ڈی کو تعلیم سمجھتے ہیں حالانکہ یہ تعلیم نہیں ہے یہ تو ہمارے فیس ادا کرنے کے سرٹیفکیٹس ہیں۔ ڈگری ایک کاغذ ہے کہ ہم کسی ادارے میں اتنے سال رہے۔ تعلیم تو وہ ہے جس کا مظاہرہ ہمارے الفاظ ہمارے کردار ہمارے رویے سے ظاہر ہوتا ہے۔ ہمارے عمل سے ظاہر ہوتا ہے۔ ہم ہر کسی کو اپنا تعلیمی کارڈ نہیں دیکھا سکتے ہم نے اپنے رویے سے بتانا ہے کہ ہم تعلیم یافتہ ہیں۔ کہیں ایک فنی بات پڑھی تھی کہ "آنے والی نسل کے تو بیڑے ہی غرق ہیں کیونکہ انکے بڑے بزرگ ہم ہیں” دیکھا جائے تو یہ بات مذاق نہیں بلکہ بہت بڑا المیہ ہے ہم اس پر توجہ کیوں نہیں کررہے؟ ہم سمجھ رہے ہیں کہ بچے کو مہنگے سکول میں داخل کروا دیا اور اسکی ہر چیز پوری کررہے ہیں ہر خواہش پوری کررہے ہیں تو مطلب ہم تربیت کررہے ہیں یہ تربیت نہیں ہے تربیت ماؤں کا اپنا رویہ ہے وہ جو کچھ کریں گی بچی وہی دہرائےگی۔ تو کیا اسکی تیاری ہے؟
گھر میں سارا دن رشتوں کے خلاف ایک دوسرے کو کیا ہوا ہے بچے جو دیکھ رہے وہ سیکھ رہے ہیں اور مستقبل میں اسی ہر عمل کریں گے۔ مہنگی تعلیم کے ساتھ بچیوں کو وقت دیں انکی ایکٹویٹیز پر نظر رکھیں اس کی دوستوں کا سرکل دیکھیں اچھا برا ساتھ ساتھ بتائیں۔ کہیں غلطی پر ہے بچی تو منع کریں پیار سے سمجھائیں۔ میں حیران ہوتی ہوں جب بچیوں کو ایسے الفاظ استعمال کرتے دیکھتی ہوں جو غیر معمولی نہیںہوتے لیکن بچیوں کو پتہ ہی نہیں کہ وہ استعمال کرنے ہیں یا نہیں۔ لباس کے نام پر فیشن کے نام پر بچیوں کو ننگا مت کریں انکو بتائیں کہ زندگی گزارنے کے لیے کیا کیا ضروری ہے۔ حلال حرام کی تمیز سکھائیں۔ فیشن اور ماڈرنزم مادر پدر ازادی کو نہیں کہتے ہیں بلکہ وسعت قلب اور وسعت زین کو کہتے ہیں۔ میں نے بہت بڑے کالجز میں دیکھا ہے کہ انکا بڑا ہاتھ بچیوں کے بگاڑنے میں آپ سوچ رہے ہونگے کہ کیسے؟ وہ ایسے کہ پرائیویٹ ادارے ہوں یا گورنمنٹ کے بچیوں کو بری بات پے بھی منع نہیں کیا جاسکتا۔
اساتذہ بچیوں کے رحم و کرم پر ہیں خاص طور ہر خواتین اساتذہ۔ مرد اساتذہ بھرتی کر کے بھی بچیوں کے دماغ کے ساتھ کچے جذبات کے ساتھ کھلواڑ کیا جارہا ہے۔ ایف ایس سی کی بچیوں کے ساتھ تو کھلواڑ ہوہی رہا ہے۔حیرانگی ان پرائیویٹ اداروں کی یونیورسٹی کلاسز پر ہے جن پے بچیاں ادھی سے زیادہ دوسرے اور تیسرے سمیسٹر تک شادی کر لیتی ہیں وہ بھی نہیں جانتیں کہ کیا بات کرنی ہے کیسے بیٹھنا ہے کیسے چلنا ہے کیسے پہننا ہے۔ یہ مت سمجھیں کہ کالجز یا یونیورسٹی میں سوئپر ہے شاپ کیپر ہے گارڈ ہے آپ سٹیٹس کو چھوڑیں اسکی زہنیت نہیں بدل سکتے اس لیے اپنے اندر تبدیلی لائیں۔ اپنے آپ کو سمجھیں۔ راستے میں پڑی پلیٹ کو پاؤں سے سائڈ پر کرنا یا بوتل پی کر وہیں پھینک دینا ریپر پھینک دینا یا جوس کا خالی ڈبہ ڈسٹ بن کے بجائے کہیں بھی رکھ دینا فیشن نہیں ہے۔ ماڈرنزم نہیں ہے۔اور نا ہی یہ طریقہ اپکو امیر یا لاڈلا بناتا ہے یہ بدتہذیبی میں اتا ہے۔ آپ لاڈلے نہیں لوگوں کی نظر میں بدتہذیب کہلاتے ہیں اور بحثیت مسلم بھی ہم پر یہ زمہ داری عائد ہوتی ہے کہ ہم صفائی کا خیال رکھیں کیونکہ یہ "نصف ایمان” ہے اس لیے اپنی بچیوں کی تربیت خود کریں اداروں میں صرف ڈگری دی جارہی ہے اپکی دی ہوئی فیسوں کی رسید دی جارہی ہے تربیت نہیں کی جارہی۔ یہ بچیاں آنے والے وقت میں گھر کیسے سمبھالیں گی؟ بچے کیسے پالیں گی؟ بچوں کی تربیت کیسے کریں گی۔ خدارا والدین توجہ دیں اس پر۔
جزاک الله
@irumrae -

شوہر کے گھر سے اب تمہارا جنازہ ہی آئے تحریر : قراۃالعین
شادی کے وقت یہ درد ناک جملہ ” شوہر کے گھر سے اب تمہارا جنازہ ہی آئے” کتنی بیٹیوں کی ڈولی اٹھتے ساتھ ہی ان کے سر سے شفقت کا ہاتھ اٹھا کر انہیں یتیم ہونے کا احساس دلا دیتا ہے
جیسے اس کو نئے رشتے میں نہیں باندھا جارہا بیچا جارہا ہے جس کے جینے مرنے رونے سے اب ہمارا کوئی تعلق نہیں جو ہے سسرال شوہر کے رحم و کرم پر ہے جب ہی 10 سالوں شوہر سسرال کے ظلم برداشت کرکے4 بچوں کی ماں عینی بالآخر زندگی سے آزاد کردی گئیاس بدبخت کے 4 بچوں کی ماں اس قابل تھی کہ اسے بے گناہ قتل کردیا جاتا اس کے والدین بہن بھائیوں نے اسے سپورٹ کیا ہوتا تو آج اس کا جنازہ اٹھنے کے بجائے آج اس کے بچے ممتا سے محروم نہ ہوتے کیوں ہم اپنی بچیوں کو شادی کے بعد ایسے چھوڑ دیتے جیسے ان کو نئے رشتے میں نہیں بیچا جارہا ہے جس میں اس کے ساتھ کچھ برا ہو وہ برداشت کرے اسکو سپورٹ نہیں کیا جائے گا کیا اسلام نے عورت کو خلع کا حق نہیں دیا ہم نے کیوں خلع کو اس قدر مشکل بنا دیا کیوں کہ ہماری بچیاں ہم پر بوجھ بن جائیں گی خدارا ان کی شادی کروائیں نہ کراوئیں پر انہیں اچھی تعلیم ضرور دلوائے معاشرے میں رہنا اسکا مقابلہ کرنا ضرور سیکھائیں پھر نہ تو اسکی شادی آپ پر بوجھ ہوگی نہ اس کی مظلوم زندگی ۔
@qurat_Writters
-

اسلام میں عورت کا مقام۔۔ تحریر : انوشہ امتیاز
الحمدللہ بفضلہ تعالیٰ ہم مسلمان گھرانے میں پیدا ہونے والی بچیاں ہیں اور ہمارا مذہب اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے، جو پوری انسانی زندگی کے مسائل کا احاطہ کئے ہوئے ہے۔ یہ وہ الہامی مذہب ہے جس نے عورت کو ماں، بہن اور بیٹی کی حثیت سے شرف بخشا ہے۔۔
ہمارے مذہب سے پہلے عورتوں کو کم تر مخلوق تصور کیا جاتا تھا اور ان کے وجود سے انکار کیا جاتا رہا اور انکے ساتھ جانوروں سے بھی بد تر سلوک روا رکھا گیا۔۔
تاریخ شاہد ہے کہ عورتوں کے ساتھ بہیمانہ رویہ رکھا گیا، ظلم و شقاوت کے پہاڑ ان پہ ڈھائے گئے۔ قبل از اسلام عورت کو پلید اور نجس سمجھنے کے ساتھ ساتھ خاندان بھر کے لیئے رسوائی سمجھا جاتا رہا،اور اگر کسی کے گھر بیٹی پیدا ہو جاتی تو اس کو زندہ درگور کرنے سے بھی گریز نہ کیا جاتا۔۔ باپ اس کی پیدائش ہے لوگوں سے منہ چھپاتا پھرتا اور ماں لوگوں کے طعنوں اور خاوند کے خوف سے سہمی رہتی۔۔
صد افسوس کہ اکثر آج بھی بیٹی کی پیدائش پہ سسرال والوں کے منہ لٹک جاتے ہیں اور اگر کسی عورت کے گھر بیٹیاں ہی پیدا ہوں تو اس کا جینا دوبھر کر دیا جاتا ہے۔
جبکہ بیٹے کی پیدائش پر خوشیاں منائی جاتی ہیں۔۔
حالانکہ اسلام نے تو لڑکی/بیٹی کو رحمت قرار دیا ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم کا ارشاد ہے کہ
” جس گھر میں بیٹی نہ ہو وہ گھر خدا کی رحمت و برکت سے خالی ہوتا ہے۔”
جب اسلام کا سورج طلوع ہوا تو اس نے مروجہ نظریات کے بر عکس عورت جو بلند مقام عطا کیا۔ اسلام نے اگر عورت کو مرد کے برابر رتبہ نہ دیا تو وہ مرد سے کم بھی نہیں ۔۔
اس کے حقوق کو تسلیم کیا گیا ہے ، خاندان میں عورت کو ماں، بہن، بیٹی کا درجہ دیا گیا ہے۔
عورت اگر ماں کے روپ میں ہے تو جنت اسکے پیروں کے نیچے رکھی گئی ہے،
اگر شریک حیات ہے تو اسکی رضا اور حق مہر کی نے اس کی برتری پر مہر لگا دی ہے، اسلام نے مرد اور عورت کے درمیان کوئی فرق نہیں رکھا، اس جو معاشرتی اور قانونی طور پر تحفظ دیا ہے ۔۔اسلام نے یونان اور مغرب کے ان نظریات کو رد کر دیا ہے جس میں عورت کی حیثیت ایک باندی اور تسکین حاصل کرنے کے ذریعے سے زیادہ نہیں تھی۔۔
یہ فخر صرف اور صرف مذہب اسلام کو ہے اس نے عورت کو اس کے اصل مقام سے نوازا ہے اور ہمارے سامنے کئی عظیم عورتوں کی زندہ مثالیں ہیں جن میں خاتون جنت فاطمتہ الزہرا ہیں جو خواتین عالم کے لئیے عملی نمونہ ہیں۔ جو بہترین بیٹی، بہترین بیوی ، اور بہترین ماں ہیں ۔۔۔
ہمارے سامنے حضرت زینب کی روشن مثال ہے ، جنہوں نے یزید جیسے ظالم کے آگے کلمہ حق بلند کیا، باطل کو جھٹلایا اور حق کو زندہ رکھا۔۔
اسلام میں اگر عورت پیغمبر نہیں ہیں تو پیغمبروں کو جنم دیتی رہی ہیں ، عورتوں کو نسل انسانی کے فروغ کا ذریعہ بنا کے ہمیشہ کے لئیے عزت وتکریم بخش دی گئی۔۔
انسانی معاشرے کی تکمیل میں عورت کا اہم رول ہے اس لئے تو نپولین نے کہا تھا ،
تم مجھے اچھی مائیں دو میں تمہیں اچھا معاشرہ دوں گا ۔۔
آج ہم عورتوں کو مل کر اپنا محاسبہ کرنا ہو گا اور دیکھنا ہو گا کہ ہم اسلامی اصولوں پر عمل پیرا ہیں یا کھوکھلے ماڈرن ازم کا شکار ہیں، اگر ہیں تو کیوں۔۔؟؟
سلامت رہے تو سے مادر پاکباز
تیرا عزم محکم ترا سوز و ساز
تو ہی مشکلوں میں رہی کارساز
بجا تم پہ ہے اہل ملت کو ناز۔۔۔Twitter account
@e_m_ee_ -

قرآن سے بے سہارہ عورت کی حفاظت : تحریر احسان اللہ خان
یہ ایک مہاجر عورت کی داستان ہے۔ جو جالندھر کے ایک معزز خاندان سے تعلق رکھتی تھی۔ یہ داستان غم خود اس کی زبانی ملاحظہ کیجئے۔
میں تو اس بات پر یقین رکھتی ہوں جو خدا نے اپنی کتاب میں فرمائی ہے کہ خدا جس کو چاہے عزت دے اور جس کو چاہے ذلت دے وہ بہت ہی کریم و رحیم ذات ہے۔ پھر وہ ایک دم اپنے بچپن کی طرف لوٹی اور کہنے لگی کہ بچپن میں ہمیں قرآن کریم کی تعلیم بہت سختی سے دی جاتی تھی۔ اگر کوئی کسی بہانے کی وجہ سے قرآن پڑھنے نہ جاتا تو پہلے بزرگ اس کو سمجھاتے پھر اسے نئے طریقوں سے سزا دی جاتی حتیٰ کہ وہ بڑی خوشی سے قرآن پاک پڑھنے چلا جاتا۔
اسی طرح میں نے بھی ایک دفعہ سر درد کا بہانا بنایا۔ سزا تو نہیں ملی تھی لیکن سمجھو مجھے ایک دم سمجھ آگئی کہ قرآن پاک پڑھے بغیر گزارا نہیں۔ چنانچہ میں نے قرآن پاک حفظ کرنا شروع کیا۔ اور اس وقت نئے کپڑے نہیں پہنے لیکن دھلے ہوئے پہنے تھے جب تک قرآن پاک حفظ کرلیا۔
زندگی کے دن گزر رہے تھے کہ اچانک ملک تقسیم ہوگیا اور ہم پاکستان آرہے تھے کہ راستے میں غنڈوں اور ڈاکوؤں نے ہمارے قافلے پر حملہ کردیا پھر کیا ہوا اس کے بعد اس کی آواز مدہم پڑھ گئی اور دو ننھے ننھے اشک انسو سے گر پڑے۔ میرے گھر کے تمام افراد شہید ہوگئے اور میں بے ہوش ہوگئی۔ ہوش آنے پر میں نے اپنے آپ کو ایک نرم اور پر سکون بستر پر پڑا پایا۔ یہ ایک خوبصورت کمرہ تھا جس میں کچھ عریاں فوٹو تھیں اور بعض تصویروں پر گرنتھ پڑھتے ہوئے دکھایا گیا تھا۔ مجھے معلوم ہوا کہ یہ سکھوں کا گھر ہے اچانک زور سے دروازہ کھلا۔ اور ایک نواجوان سکھ اور ایک بوڑھی عورت کمرے میں داخل ہوئے۔ اور آتے ہی اس نوجوان نے اس عورت سے کہا ”ماں یہ ہے تیری بہو کیا تجھے پسند ہے؟ “ وہ۔عورت ہنس کر بولی ہاں پسند ہے۔ پھر وہ باہر چلی گئی اس کے بعد اس نوجوان نے الماری سے شراب کی بوتلیں نکالیں پھر وہ بے تحاشہ پینے لگا۔ اس کے بعد وہ بے ہوش ہوگیا۔ اس کے بعد میری آنکھوں سے نیند غائب ہوگئی۔ اور میں وہاں سے بھاگنے کی تیاری کرنے لگی۔ رات کے تقریباً دو بجے تھے میں چارپائی سے اتر کوئی چیز تلاش کرنے لگی۔ اچانک مجھے ایک چمکتی ہوئی چیز دکھائی دی یہ ایک کرپان تھی جو اس بے ہوش سکھ کی چارپائی کی نیچے پڑی ہوئی تھی۔ میں نے جلدی سے کرپان اٹھائی اور اس کا سر تن سے جدکردیا۔ معمولی سی چیخ سنائی دی اور بے تحاشہ باہر کو بھاگی۔ راسے کی مشکلات سے بچنے کے بعد دن تقریباً دو بجے واہگہ بارڈر کی سرحد پر ہلالی پرچم کو دیکھ کر میں بے ہوش ہوگئی۔ اس کے بعد کیا ہوا میں اپنے مسلمان بھائیوں کے درمیان رہنے لگی۔المختصر اسی محافظ (قرآن) نے میری زندگی بچائی۔ جو اسی وقت یہی قرآن میرے بغل میں تھا۔IhsanMarwat_786
-

عنوان:پاکستان میں ریپ کے بڑھتے واقعات قصوروار کون؟ تحریر:ملک حسن وزیر
ہمارے ہاں جب بھی ریپ کا کوئی واقع پیش آئے، تو معاشرے کا ایک طبقہ مختلف نقاط، جیسے کہ عورت کا لباس،عورت کی آزادی،عورت کی تعلیم وغیرہ کو بنیاد بنا کر عورت کو ہو موردالزام ٹھہرا دیتا ہے۔یعنی مظلوم کو ہی ظلم کی وجہ بنا دیا جاتا ہے۔
مجھے اس سے اختلاف ہے۔ دو حرفی بات یہ ہے کہ ریپ کی وجہ صرف اور صرف ریپ کرنے والا مرد ہے۔
اس معاشرے میں برقع پوش خواتین کے ساتھ ریپ ہوئے، چھوٹی بچیاں اس ظلم کا نشانہ بنیں، درندوں نے چھوٹے لڑکوں کو بھی نہیں بخشا۔ ابھی کچھ روز پہلے ملتان میں ایک لڑکے کے ساتھ زیادتی کرنے کی کوشش کی کی تو جب اس لڑکے نے ریکیشن دیا تو اس کو گولی مار دی گئی۔ ابھی چند دن پہلے ایک چھوٹی بچی کے ساتھ زیادتی کرکے اس کو مار کے اس کے جسم کو آگ لگادی گئی۔ زینب کا واقعہ ہم سب کو یاد ہے۔ اس طرح کے سینکڑوں واقعات ہم سب نے سن رکھے ہیں۔
ان بچوں نے کون سی حد پار کی تھی؟ کیا اپنے ساتھ ریپ ہونے کی وجہ یہ بچے خود تھے؟ انکا لباس تھا؟ انکی مادر پدر آزادی تھی؟
مجرم ہمیشہ ریپ کرنے والا ہے نا کہ ریپ ہونے والا۔
اگر کوئی مرد بچوں کا ریپ کر رہا، بچیوں کا ریپ کر رہا ہے، خواتین کا ریپ کر رہا ہے تو مسئلہ اس ریپ کرنے والے مرد کے ساتھ ہےاور اسی کی ہمیں بطور معاشرہ روک تھام کرنی ہے۔
Twitter account @MH__586
-

طلاق تحریر: مدثر حسن
ہمارے معاشرے میں طلاق کی شرح بڑھتی جا رہی ہے جو کہ ایک پریشانی کا بحث ہے طلاق کا لفظ سن کر ہمیشہ ہماری سوچ لڑکی کے کریکٹر پر جاتی ہے کہ اس کی وجہ یہ لڑکی ہی ہوگی حلانکہ اکثر معمولات میں مرد کی ہی وجہ ہوتی ہے طلاق کا بوجھ اٹھانا ایک لڑکی کی زندگی میں اس سے بڑھ کر کوئی نہیں ہوسکتا وہ وزنی پتھر کا بوجھ اٹھا سکتی ہے لیکن اس کے لیے طلاق کا بوجھ اٹھانا بہت مشکل ہے مرد کے لیے طلاق کے صرف تین حرف ہیں لیکن یہ تین حرف لڑکی کی زندگی اجیرن کر دیتے ہیں!!!!!
طلاق کی وجوہات میں سے ایک وجہ یہ بھی ہےکہ گھر والوں کی مرضی ہوتی ہے ان کو زبردستی شادی کے بندھن میں بندھ دیتے ہیں لڑکے اور لڑکی کی دلچسپی جانے بغیر لڑکی بیچاری تو کمپرومائز کر جاتی ہے اپنی زندگی پر لیکن مرد ایسا نہیں کرتے وہ کچھ عرصہ بعد طلاق دے دیتے ہیں اور اپنا نیا جیون ساتھی تلاش کرتے ہیں جو ان کی پسند ہو اور وہ لڑکی طلاق کا ٹھپہ لیے اپنے ماں باپ کے گھر چلی جاتی ہے اور اپنی قسمت کو کوستی ہے
حلانکہ طلاق اللہ اور اللہ کے رسول ﷺ نے ناپسندیدہ عمل قرار دیا ہے اس لیے قرآن میں واضح بتایا ہے کہ جو عورت تمہیں پسند ہو ان سے نکاح کر لو تاکہ یہ طلاق کی نوبت نہ آئے والدین کو چاہیے شادی کرنے سے پہلے لڑکے اور لڑکی کی مرضی جان لیں تاکہ بعد میں ان کو یہ صدمہ برداشت نہ کرنا پڑے!!!!!!!
اسلام نے ہمیں چار شادیوں کا حکم دیا ہے اس میں طلاق یافتہ سے بیوہ سے شادی کرنا بھی شامل ہے طلاق یافتہ اور بیوہ سے شادی کرنا بھی سنت رسول ﷺ ہے کوشش کریں جس شادی کریں ان سے راشتہ طور نبھائیں تاکہ طلاق کی نوبت نہ آسکے ۔
طلاق کی وجہ سے والدین بیٹیوں کو بوجھ سمجھتے ہیں اور ان سے نفرت کرتے ہیں حالانکہ قصور بیٹے کا ہوتا ہے اگر بیٹے کی تربیت ٹھیک طریقے سے کی جائے تو
طلاق کی نوبت بھی نہ آئےاس لیے بہن ،بیٹی کے اچھے نصیب کی دعا کی جاتی ہے کہ اللہ ان کے لیے نصیب اچھے کرے اور آسانیاں فرمائے آمین !!!!!!
@MudasirWrittes
-

جہیز ایک لعنت ہے۔ تحریر: عمران خان رند بلوچ
"جہیز "عربی زبان کے لفظ جہاز کی بگڑی ہوئی صورت ہے۔ جس کے معنی ہیں "سازوسامان پہنچانا” اصطلاح میں اس سے مراد وہ سازوسامان ہے جو والدین شادی بیاہ کے موقع پر اپنی بیٹی کو نقدی،کپڑوں،زیور یا سامان خانہ داری کی صورت میں دیتے ہیں۔برصغیر پاک و ہند کی تاریخ کا جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ ہمارے ہاں جہیز کی موجودہ رسم ہندو معاشرے کی پیداوار ہے ۔
مسلمانوں اور ہندوؤں کے آزادانہ میل جول کا عرصہ تقریباً ایک ہزار سال کا ہے۔ اس طویل عرصے کے دوران ” تخم تاثیر صحبت اثر” کے مصداق مسلمانوں اور ہندوؤں نے ایک دوسرے کو بہت متاثر کیا اور ہندو معاشرے کی بہت سی بری رسومات مسلمانوں نے اپنالیں۔ اس لیے علامہ اقبال نے خوب کہا کہ
حقیقت خرافات میں کھو گئی
یہ امت روایات میں کھو گئ
اگر اسلامی تعلیمات کو پرکھا جائے تو ہم دیکھتے ہیں کہ ہمارے پیارے نبی ﷺ نے اپنی بیٹی حضرت فاطمہ رضی اللّٰہ عنہا کو ان کے نکاح کے موقع پر بہت معمولی سامان بطورِ جہیز دیاتھا۔ اس سلسلے میں یہ بات بھی قابل غور ہے کہ حضرت علی رضی اللّٰہ عنہ حضرت فاطمہ رضی اللّٰہ عنہا کےساتھ رشتہ ازواج میں منسلک ہونے سے قبل حضور صلی اللّٰہ علیہ وآلہِ وسلم کے ساتھ ہی رہتے تھے اور ان کا اپنا کوئی گھر نہ تھا۔شادی کے بعد جب انھوں نے اپنا گھر بنایا تو اس میں گھریلو سامان کی ضرورت فطری امر تھا۔ لہذا اگر حضور نے اپنی بیٹی کو جہیز دیا تو اس سنت کا اطلاق انھی حالات میں ہوگا جن حالات میں حضور نے اپنی بیٹی کو یہ سامان دیا۔
اس سے ثابت ہوا کہ لڑکی کا گھر بسانے کے لیے اسے ضروری ساز و سامان مہیا کرناسنت کے عین مطابق ہے مگر اس سلسلے میں حد سے تجاوز کرنا محض رسم پرستی اور اسراف ہے۔ اسی اسراف سے بعد ازاں بہت سے مسائل پیدا ہوتے ہیں ۔
حضور ﷺ نے فرمایا:
"اسراف کرنے والا شیطان کا بھائی ہے”.
ہمارے ہاں آج کل یہ رسم بد اس قدر پھیل چکی ہے کہ ایک غریب شخص جو اپنا اور اپنے اہلِ خانہ کا پیٹ بمشکل پالتا ہے۔ بیٹی پیدا ہوتے ہی یہ فکر اس کے دامن گیر ہو جاتی ہے کہ خواہ جہیز کے لیے قرض ہی کیوں نہ لینا پڑے مگر بیٹی کی شادی کے موقع پر ساکھ قائم رہے اور برادری میں ناک رہ جائے۔ خود بھلے فاقوں کا سامنا کرنا پڑے ۔مگر بچی کا جہیز تو شان دار ہونا چاہیے۔
اے ہوا!تو میرے دامن کو اڑا نہ اس طرح
پیٹ پر باندھے ہوئے کوئی پتھر نہ دیکھ لے
خصوصاً قیام پاکستان کے بعد تو یہ رسم اس قدر بڑھ گئی ہے کہ زیادہ سے زیادہ جہیز دینے کے لیے لوگ ہرطرح کے غیر قانونی اور ناجائز ذرائع مثلاً چوری،رشوت،سمگلنگ وغیرہ کو بھی استعمال میں لانے لگے ہیں۔ اس طرح امراء کی دیکھا دیکھی زیاده جہیز دینے کی دوڑ میں غریب اپنی غربت کی چکی میں میں پس کر رہ جاتے ہیں۔
صورت حال یہ ہے کہ بہت سے غریب گھرانوں کی شریف زادیاں شادی کی عمر ہونے کے باوجود تمام عمر گھر میں گھل گھل کر گزارنے پر مجبور ہیں کیوں کہ ان کے والدین لڑکے والوں کے حسب منشا جہیز دینے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔
گویا یہ ایک ایسی رسم ہے کہ جس نے بہت سی بیٹیوں اور بہنوں کی زندگیاں برباد کر ڈالی ہیں ۔
اگر ہمارے ہاں ہوس زر کا یہی رحجان رہا تو وہ وقت دور نہیں کہ جب غیرت مند غریب لوگ اپنی بیٹیوں کو پیدا ہوتے ہی قتل کر ڈالیں گے۔ یا پھر خود
اپنے آپ کو موت کے گھاٹ اتار دیں گے اس سلسلے میں یہ بات بھی قابل غور ہے کہ والدین کی جائیداد میں عورت کا ایک مقررہ حصہ ہوتا ہے ، جو اس کا شرعی حق ہے۔اب وہ والدین پر منحصر ہے کہ وہ یہ حصہ اس لڑکی کو شادی سے پہلے سے ہی دیتے ہیں، شادی کے موقع پر جہیز کی صورت میں دیتے ہیں یاشادی کے بعد دیتے ہیں۔ اس سلسلے میں شریعت کے اعتبار سے بھی ان پر کوئی قید نہیں ہے۔ آج کل حکومت نے جہیز کی لعنت کو ختم کرنے کے لیے قانون تو بنا دیا ہے مگر قوانین کا فائدہ تبھی ہوتا ہے، جب ان پر عمل ہو اور عمل بھی تب ہی ہوتا ہے، جب انسان سچے دل سے اسے قبول کر لے۔ لہذا ضروری ہے کہ پہلے افراد کی سوچ تبدیل کی جائے تا کہ وہ یہ مان لیں کہ جہیز واقعتاً ایک معاشرتی روگ ہے۔ پھر اس کے بعد ضروری ہے کہ سب لوگ اس لعنت کے خاتمے کے لیے اپنی تمام تر کوششیں بروئے کار لاکر اس کی بیخ کنی کر ڈالیں۔ اس سلسلے میں اہل ثروت اور باقی لوگوں کو پہل کرنی چاہیے۔ اگر یہ لوگ شادی بیاہ میں سادگی اختیار کریں تو کوئی وجہ نہیں کہ غربا بھی ان کی پیروی نہ کریں۔ آج کل بہت سے علماء اس برائی کو ختم کرنے کی کوشش کررہے ہیں ۔ یہ اپنی لڑکیوں کی شادی بیاہ سادگی سے مسجد میں کرتے ہیں اور معمولی سامان کے ساتھ وہاں سے رخصت کر دیتے ہیں۔اگر نوجوان لڑکے بھی اس مسئلے کی نوعیت کو سمجھیں تو انھیںں چاہیے کہ وہ جہیز لینے ہی سے انکار کر دیں ۔ خواہ لڑکی والے کتنا زور کیوں نہ دیں۔
ہمارے پیارے نبی نے اپنی بیٹی کو بہت سا جہیز اس لیے نہیں دیا کہ ان کی امت کا غریب سے غریب فرد بھی معمولی جہیز دینے کے باوجود اپنے آپ کو عزت دار سمجھے۔ ہمیں چاہیے کہ اسلام کے سنہری اصولوں پرعمل کریں اور اس برائی سے چھٹکارا حاصل کرنے کی پوری سعی کریں۔اگر سب لوگ مل کر کوشش کریں تو جلد یا بدیر اس رسمِ بد کا خاتمہ ہو جائے گا۔
twitter.com/@ibaloch007