Baaghi TV

Category: خواتین

  • ‏جھوٹ بولنا کتنا بڑا گناہ ؟تحریر یاسمین ارشد

    ‏جھوٹ بولنا کتنا بڑا گناہ ؟تحریر یاسمین ارشد

    خود اعتمادی کی زبردست کمی کا شکار رھنا ہر وقت محسوس ھوتی ھوئی دل کی بے سکونی جھوٹ کے نتیجے پہ ملنے والی قدرت کی طرف سے خود کار سسٹم کے تحت روحانی جسمانی ذہنی بیماریاں اگر جھوٹ پکڑا جائے تو دوسروں کا ہمیشہ کیلئے آپکی ذات پر سے اعتبار ختم ہو جاتا ہے جھوٹ بولنے والا ہمیشہ کم ظرفی کا شکار رھتا ھے کیونکہ اسکی سوچ مثبت سوچ سوچنے کی اہلیت سے خالی ھو جاتی ھے جھوٹ بولنے والے کی سوچ ایک کے بعد دوسرا فراڈ کرنے کا موقع ڈھونڈتی ھے یعنی ایسا انسان چاہ کر بھی کسی کے ساتھ بھی مخلص نہیں بن سکتا جھوٹ آپ سے اپکے مخلص سچے محبت کرنے والے دوستوں رشتوں کو چھین لیتا ھے کیونکہ مخلص لوگ جب آپکے لفظوں اور عمل میں جھوٹ اور دغا بازی دیکھتے ہیں تو نفرت کرنے لگتے ہیں کیونکہ انکا مان ٹوٹ جاتا ھے جھوٹ کی عادت بڑھتی بڑھتی ہر صورت منافقت تک پہنچ جاتی ھے یعنی یہ چھوٹی سی معصوم سی عادت سمجھی جانے والی گندی عادت بڑے بڑے گناہوں کو مقناطیس کی طاقت کے برابر اپنی طرف کھینچتی ھے سائنس کے پجاری بھی ذرا کان کھولیں سائنسی مشین کے مطابق جھوٹ ایسے ہارمونز اور کیمیکل جنریٹ کرتا ھے جو کینسر ، موٹاپے ، ڈپریشن ، مستقبل کا خوف ، نشے کی عادت ، جوا کھیلنے کی عادت ، بدکرداری ، اپنے روز مرہ کے کسی بھی کام میں پوری توجہ کا فقدان ، ماضی کے غم میں مستقل رھنے والے پیٹرن بنا دیتا ھے ایسا اس لئے ھوتا ھے کہ جب ہم جھوٹ بولتے ہیں اس وقت ہمارے نیورانز مطلب ذہنی مشینری قدرتی طریقہ کار سے ہٹ کر غلط رستے پر سوار ھو جاتی ھے جبکہ انسانی ذہن اور جسم قدرتی خودکار بنیادوں پہ چلنے والی مشین ھے

    قدرت نے دماغی سسٹم کی سیٹنگ اپنے معیار پہ رکھی ھے لیکن جب انسان اس معیاری سسٹم کو اپنے بے حودہ معیار پہ سیٹ کرتا ھے اس وقت نیورانز کی آمد و رفت میں اچانک ایکسیڈنٹ ھونا شروع ھو جاتے ہیں آگے آپ خود سمجھدار ہیں سسٹم کے اشاروں پہ چلنے والی ٹریفک پرسکون چلتی رھتی ھے جبکہ اپنی مرضی سے چلنے والی اشارہ توڑنے والی بے ہنگم گاڑیوں کی ٹکر کس انداز میں ھو سکتی ھے جسم کا کتنا نقصان ھو سکتا ھے اسکا اندازہ اپ لگا سکتے ہیں یقینا آپ جان چکے کہ گھر بیٹھے روحانی ، جسمانی اور ذہنی صحت کا اتنا بڑا نقصان کوئی جاہل گوار ہی کرے گا لیکن یقینا آپکی ذات اور جہالت میں زمین آسمان کا فاصلہ موجود ھے یہ میں جانتی ھوں جھوٹ چھوٹی موٹی بیماری نہیں ھے جھوٹ وہاں ملتا ھے جہاں انسان اندر سے کمزور ھو اپنے خیالات ، احساسات ، جزبات اپنی خوشیوں اپنے دکھوں کو بیان کرنے کی ہمت نہ رکھتا ھو ڈرا ھوا ھو جھوٹا انسان جھوٹ کی مدد سے رشتہ تو بنا لیتا ھے مگر اسے نبھانے کی اہلیت نہیں رکھتا کیونکہ جھوٹ اپنے ساتھ 10 اخلاقی بیماریاں بھی اسی سوچ میں پیدا کر دیتا ھے جو کسی رشتے کو مسمار کرنے کیلئے کافی ھوتی ہیں

    چنانچہ قرآن کریم میں ایک جگہ ہےکہ”تم بت پرستی کی گندگی اورجھوٹی بات کہنے سے بچو”(حج)اور رسول اکرم ﷺ نے ایک حدیث میں ارشاد فرمایا کہ’تین چیزیں منافق کی نشانیوں میں سے ہے، جب بات کرے توجھوٹ بولے،کسی سے کوئی وعدہ کرے تو اسکی خلاف ورزی کرے،اورامانت میں خیانت کرے'(بخاری)اور ایک دوسری روایت میں ہے کہ اگرچہ وہ روزہ رکھے،نماز پڑھے اور لوگ اسکو مسلمان سمجھیں مگر پھر بھی وہ منافق ہے،غور کرنے کی بات ہے کہ جھوٹے لوگوں کے لئے کتنی سخت وعیدیں آئی ہوئی ہیں،کیا ہمارا کوئی بھی کام آج جھوٹ سے خالی ہوتا ہے؟ہرگھنٹہ اور ہر منٹ بلکہ ہرہر سکنڈ پر آج لوگ جھوٹ بول رہے ہیں،پھر کیا اس جھوٹ میں ہم شامل نہیں؟کیا ہمیں اسکا محاسبہ نہیں کرناچاہئے؟ایک اور حدیث میں آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ’اگر کوئی مذاق کے طور پر بھی جھوٹ بولے تو اس پر اللہ کی لعنت ہے”ایک اور حدیث میں ہے کہ’ایسے جھوٹ بولنے والوں کے لئے ہلاکت ہے جو لوگوں کو ہنسانےکے لئے جھوٹ بولتا ہے،اسکے لئے ہلاکت ہے اسکے لئے تباہی ہے'(ترمذی)ان احادیث کی روشنی میں ہمیں غور کرنا چاہئے کہ کیا ہماری مجلسیں، محفلیں،ہوٹلیں، بازار،دکان اور ہمارے گھر وغیرہ اس سے محفوظ ہیں؟نہیں تو آخر اسکی وجہ کیا ہے؟جھوٹ بولنا بہت بڑاگناہ ہے مگر دو متحارب فریقوں یا دو لوگوں کےدرمیان مصالحت کرا دینا اور اسکے لئے محض صلح جوئی، فتنہ و فساد کے خاتمے کی نیت سے کچھ جھوٹی باتیں کہہ دینا جائز ہے اور اسکی اجازت دی گئی ہے،ایسا شخص جھوٹا اور گناہ گار نہیں کہلائے گا،مگر یہ ضروری ہے کہ وہ باتیں خیرو بھلائی کی ہی ہوں،جو ایک دوسرے کی طرف منسوب کرکے پہنچائی جائیں،ان میں فسق وشرک نہ ہو،بخاری کی حدیث میں ہے”وہ آدمی جھوٹا نہیں جو لوگوں کے درمیان صلح کراتا ہے پھر خیر کی باتیں پہنچاتا ہے یا اچھی باتیں کہتا ہے”اور مسلم شریف کی ایک حدیث میں ہے کہ صرف تین مواقع ایسے ہیں جہاں جھوٹ بولنے کی اجازت دی گئ ہے،ایک شوہر بیوی میں اختلاف کو دورکرنے کے لئے،دوسرے مسلمانوں میں باہمی تعلقات کی اصلاح کے لئے اور تیسرا میدان جنگ میں،

    علماء نے لکھا ہے کہ ان کے علاوہ اور کسی جگہ یاکسی مو قع پر کذب بیانی اورجھوٹ بولنا ہرگز درست نہیں،لیکن ہاں مجبوری کی حالت اس سے مستثنی ہے،اگر انسان کو مجبور کردیا جائے اور اسے اپنی جان کا خدشہ لاحق ہو تو ایسی صورت میں جھوٹ بولکر جان بچانے کی رخصت دی گئی ہے،اس صورت میں وہ گنہگار نہیں ہوگا،جھوٹ ایسی منحوس چیز ہے کہ اسکے بولنے والے کے پاس سے فرشتے بھی دور ہٹ جاتےہیں،ایک حدیث میں ہے کہ”جب بندہ جھوٹ بولتاہے تو فرشتے اسکی بدبو کی وجہ سے ایک میل دور چلے جاتےہیں”(ترمذی)ایک مرتبہ رسول اکرم ﷺ سے پوچھا گیا،کیا مومن بزدل ہوسکتا ہے؟آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا ہاں،پھرسوال کیا گیا کیا مومن بخیل ہوسکتا ہے؟فرمایا ہاں،پھر پوچھا گیا کیامومن جھوٹا ہوسکتا ہے؟آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا نہیں،دیکھا آپ نے اس حدیث میں مسلمان بزدل بھی ہوسکتا ہے،بخیل بھی ہوسکتا ہے لیکن جھوٹا نہیں ہوسکتا،ہمارا حال یہ ہے کہ کوئی بھی کام ہمارے پاس جھوٹ کے بغیر نہیں ہوتا،پھر ہمارے حالات کیسے درست ہوں؟ایک دوسری حدیث میں آپ نے صراحت کے ساتھ فرمایا کہ’تم جھوٹ سے بچو کیونکہ جھوٹ گناہ کی طرف لےجاتا ہے اورگناہ جہنم کی طرف لےجاتا ہے،آدمی ہمیشہ جھوٹ بولتا ہے اورجھوٹ کے پھیرنے میں رہتا ہے یہاں تک کہ اللہ تعالی کے نزدیک کذاب لکھ دیاجاتا ہے،دراصل جھوٹ ایسی بری صفت ہے جو کسی مسلمان کے شایان شان نہیں،ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم جھوٹ بولنے سے احتیاط کریں اورہمیشہ سچ بات کہنے کی عادت ڈالیں،اپنے بچوں کے دلوں میں جھوٹ سے نفرت پیدا کریں،سچائی کی اہمیت اورمحبت اپنے بچوں کے دلوں میں ڈالیں اور یہ بتائیں کہ سچائی ہمیشہ نجات دلاتی ہے اور جھوٹ انسان کو ہلاک وبرباد کر دیتا ہے،بلکہ ایک حدیث میں ہےکہ آپ ﷺ نے فرمایا’جو شخص جھوٹ بولنا چھوڑ دے،اگرچہ وہ باطل ہے تواللہ تعالی اسکے لئے جنت کے صحن میں گھر تعمیر فرمائیں گے'(ترمذی)لہذاٰ کوشش کریں کہ ہم ہرجگہ سچی بات کریں اورسچ کواپنی زندگی میں داخل کریں،تب ہی ایک صالح اورپاکیزہ معاشرہ وجود میں آسکتا ہے جو وقت کی بھی اہم ضرورت اور انسانی تقاضا بھی ہے اللہ تعالیٰ ہم سبکو جھوٹ سے بچائے اورہمیشہ سچ بولنے، سچی بات کہنے کی توفیق عطا فرمائے آمین بھائیو اور بہنو یاد رکھنا ایک سچ سو سکھ لاتا ھے جبکہ ایک جھوٹ آپکی ذات میں ہزار کھوٹ پیدا کرتا چلا جاتا ھے کیا فائدہ جھوٹ کا ، ، ، اور ، ، ، جھوٹے کے ساتھ کا ۔۔۔

    تحریر یاسمین ارشد
    twitter.com/IamYasminArshad
    @IamYasminArshad

  • ریڑھ کی ہڈی میں موجود ڈسک سے جڑے مسائل .تحریر: حسن قدرت

    ریڑھ کی ہڈی میں موجود ڈسک سے جڑے مسائل .تحریر: حسن قدرت

    ڈسک کیا ہے اور کیسے بنتی ہے؟ ریڑھ کی ہڈی میں چھوٹے چھوٹے جوڑ موجود ہوتے ہیں جنہیں ہم ورٹیبری کہتے ہیں کچھ جوڑ آپس میں جڑے ہیں کچھ میں اور کچھ میں سپیس ہے جنکے درمیان ایک لچکیلا مادہ ہوتا ہے جسے ہم ڈسک کہتے ہیں ہماری ریڑھ کی ہڈی کے ٹوٹل33 جوڑ ہیں جن میں 23 انٹرورٹیبرل ڈسک موجود ہیں جتنا انسان صحت مند ہوگا اس میں ڈسک اتنی زیادہ ہوگی اور اسی تناسب سے اسکی لمبائی ہوگی

    ڈسک کے اجزاء: ڈسک میں بنیادی طور پر کولیجن ہوتا ہے اور پروٹیوگلائیکینز (جو پانی کو اپنی طرف اٹریکٹ کرتے ہیں) یہی وجہ ہے کہ ایک صحت مند ڈسک کے نیوکلیس میں 90 فیصد پانی موجود ہوتا ہے

    ڈسک کیسے کام کرتی ہے : ڈسک ہمارے جوڑوں کو رگڑ سے بچاتی ہے ڈسک پانی جذب کرتی ہے اور فاسد مادے خارج کرتی ہے یعنی یہ ایک پراسس ہے جس میں انجذاب اور اخراج ایک ساتھ ایک ہی وقت میں ہوتا ہے یعنی پانی کا انجذاب اور فاسد مادوں کا اخراج اور اگر ایسا نہیں ہوتا ، ڈسک کو صحیح مقدار میں پانی نہیں ملتا تو ڈسک الٹا کام کرنے لگتی ہے یعنی پانی کو خارج کر کے فاسد مادے اکھٹے کرنے لگتی ہے

    ڈسک کیسے متاثر ہوتی ہے:ہماری روزمرہ کی سرگرمیوں کے دوران ڈسک بہت زیادہ کمپرس ہو جاتی ہے جب اس پہ دباؤ پڑتا ہے تو یہ پانی خارج کرتی ہے اور پوٹاشیئم اور سوڈیم کو جذب کرتی ہے (فاسد مادے) جسکی وجہ سے بیلنس خراب ہوتا ہے اور پانی کی کمی کی وجہ سے یہ کم ہو جاتی ہے ( اگر وقت پہ اسکا تدارک نہ کیا جائے تو یہ سپائنل کروز کو متاثر کرتی ہے جس سے پوسچر خطرناک حد تک خراب ہوجاتا ہے )

    وجوہات: اسکی وجوہات عمر کا بڑھنا ،پراپر نیوٹریشن کا نہ ہونا ،ڈایابٹیز،سموکنگ،اوورلوڈنگ،کوئی ماضی کی ڈسک انجری یا ایسا کام جس سے ڈسک بہت زیادہ موبائل ہو یا وائبریٹ ہو ہوسکتی ہیں (اگر آپ کو ڈسک کا کوئی مسئلہ ہے تو کوشش کریں کہ ایسا کام نہ کریں جس سے ڈسک پہ زور آئے یا شاک لگے)

    صبح اٹھ کر ریڑھ کی ہڈی کے سارے جوڑوں میں درد کیوں محسوس ہوتا ہے؟ ایک نارمل بندہ جب صبح اٹھتا ہے تو سپائن کی جو ہائٹ ہے سارا دن وہی رہتی ہے مگر وہ بندہ جسکی ڈسک کا مسئلہ ہے اس میں سپائن کی ہائٹ سارا دن گزرنے کے بعد 2 سینٹی میٹر تک کم ہو جاتی ہے اور عموماً صبح اٹھنے کے 30 منٹ بعد ہی ریڑھ کی ہڈی میں سے 54 فیصد پانی خارج ہو جاتا ہے اسلیے بہت ممکن ہے کہ اسے اٹھتے ساتھ ہی ریڑھ کی ہڈی میں تکلیف ہو جسکی وجہ یہ ہے اٹھتے ساتھ ہی پانی کا اخراج ڈسک سے شروع ہو جاتا ہے یہی وجہ ہے کہ ڈسک انجری کے چانسز صبح کے وقت زیادہ ہوتے ہیں

    جب ہم رات کو ریلکس ہو کر سوتے ہیں ،ڈسک سے پریشر ختم ہوتا ہے وہ پانی کو جلدی سے جذب کرتی ہے اسلیے جب ہم رات کو نیند سے اٹھ کر پانی پیتے ہیں تو اس سے ڈسک کی لمبائی بڑھتی ہے (ڈسک ایک لچکیلا مادہ ہے جو جوڑوں کو آپس میں رگڑ سے بچاتا ہے )

    ڈسک کی صحت اور علاج:ڈسک کی صحت کے ضروری ہے کہ آپ اپنی خوراک کا خیال رکھیں پراپر جوسز لیں (کوشش کریں گھر پہ بنائیں)،فروٹس،کچی سبزیاں، دودھ کی مناسب مقدار اور ایسی غذائیں جن میں آئرن شامل ہو زیادہ پانی پئیں اسکا علاج مخصوص پوسچرل پوزیشنز سے کیا جاتا ہے جوگنگ سے بھی اور رننگ سے بھی اسکے ساتھ مخصوص ورزش بتائی جاتی ہے جس سے یہ مسئلہ حل ہو سکتا ہے کسی اچھے فزیو تھراپسٹ کو اپنی مکمل ہسڑی دیں اور پھر ان سے مشورہ کریں

    @HusnHere

  • "ہمارے معاشرے میں خواتین کا کردار” تحریر:اقصیٰ احمد خان

    "ہمارے معاشرے میں خواتین کا کردار” تحریر:اقصیٰ احمد خان

    عورت معاشرے کی بنیادی اکائی ہے کائنات کی رنگارنگی اور تنوع میں عورت کا کلیدی کردار ہےاسی اہمیت کے پیش نظر قرآن نے جا بجا عورت کی عظمت اور اہمیت کو اجاگر کیا ہےاور عورت کے وجود کو معاشرے کی تشکیل ،تعمیر اور بقا کا ضامن قرار دیا ہے عورت کی اہمیت کسی لحاظ سے بھی مرد سے کم نہیں۔ ایک مرد علم حاصل کر کے زیادہ سے زیادہ اپنے گھر کے لیے فائدہ دے سکتا ہے جبکہ عورت کی تعلیم کے اثرات گھر اور گھرانے سے بڑھ کر شہر اور معاشرے تک پھیل جاتے ہیں ۔ایک بہترین عورت ہی انسانی تہذیب و تمدن کی بنیاد رکھ سکتی ہے۔جب عورت اپنی ذات کی اصلاح کرے اور اسلامی تعلیمات سے آگاہی حاصل کرے تو معاشرے کو ترقی سے ہمکنار کرسکتی ہے۔

    باوقار اور اثر انگیز خاندا ن کی تشکیل اور تعمیر میں عورت مختلف روپ میں مثبت کردار ادا کر تی ہے۔

    عورت اجتماعی اور معاشرتی ترقی میں فقید المثال کارنامہ انجام دے سکتی ہے

    اسلام نے واقعی عورتوں کو بہت حقوق دیے ہیں۔ عورت کو بہترین مقام دیا ہے۔ عورت کے لئے جو حقوق اسلام نے دیے ہیں اور جو شرائط اسلام نے بتائی ہے وہ وقت کے ساتھ تبدیل نہیں ہوسکتیں۔ عورت کو اختیار ہے کہ وہ اپنے آپ کو معاشرے کی تعمیر میں استعمال کرے لیکن حدود کے ساتھ۔۔۔عورت کا ایک حق یہ بھی ہے کہ وہ اپنے مرد کے ساتھ معاشی طور پر بوجھ اٹھاسکتی ہے۔ لیکن ہمارے آج کے مولویوں نے اور مرد حضرات نے اپنی انا کو اونچا رکھنے کے لئے اسلام کو ہتھیار بناکر بدنام کیا ہوا ہے ۔ ایجوکیشن اور ہیلتھ دو شعبے ایسے ہیں جو مسلمان عورت کے لئے موزوں ترین ہیں۔ کیوں کہ اللہ تعالیٰ نے مرد سے عورت کی تخلیق ذرا مختلف بنائی ہے۔ ان دو شعبوں میں مسلم عورتوں کا کردار مسلمہ ہے۔ مسلم سماج میں عورتیں بہتر کردار ادا کررہی ہیں، تاہم ابھی بھی کافی رکاوٹیں ہیں جن کی وجہ سے قومی تشکیل میں ان کا کردار کم ہے۔ عورتوں کو ابھی بھی سیکنڈ گریڈ شہری سمجھا جاتا ہے۔ لیکن گزشتہ ایک عشرے میں کافی تبدیلیاں آئی ہیں۔
    آج اگر ہم اپنی خواتین کو دیکھتے ہیں تو وہ نہ صرف گھر میں بلکہ خاندان میں اپنے آپ سے منسلک ہر رشتے کو بڑی خوبصورتی سے نبھا رہی ہیں اور زندگی کے ہر شعبے میں خواہ وہ سیاسی ، ادبی ، کاروباری ، صحت ، تعلیم ، کھیل جیسا کوئی بھی شعبہ ہو، ہماری خواتین نہ صرف اپنا بلکہ اپنے ملک کا بھی نام روشن کررہی ہیں۔

    تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ کوئی بھی معاشرہ اس وقت تک ترقی نہیں کرسکتا جب تک معاشرے کی خواتین کی شمولیت نہ ہو۔ اس لئے کہا جاتا ہے کہ ہرکامیاب مرد کے پیچھے ایک عور ت کا ہاتھ ضرور ہوتا ہے اسی طرح ہر کامیاب معاشرے کے پیچھے خواتین کی محنت اور کردار ضرور ہوتا ہے۔

    آج پاکستان کی خواتین میدانوں میں، فضاﺅں میںاور خلاﺅں میں ہر جگہ کامیابی کے جھنڈے گاڑتی پھر رہی ہیں۔ بے شک یہ ان خاندانوں کی خواتین ہیں جہاں انہیں عزت دی گئی، جن کو انسان تسلیم کیا گیا۔ چاہے ان کا تعلق پسماندہ ماحول سے ہو یا شہر کے گھٹن زدہ ماحول سے ، انہیں جینے کا پورا پورا حق دیا گیا۔ ماں باپ نے انہیں اعتماد اور شعور دیا، اس لئے وہ کسی پر بوجھ نہیں،وہ طاقتور ہیں۔ اس لئے وہ توانا سوچ کی مالک بھی ہیں۔ اس لحاظ سے پاکستان کی خواتین خوش قسمت ہیں ۔یہ دیکھنے میں آتا ہے کہ وہی معاشرہ مضبوط ہوتا ہے جس معاشرے کی عورت مضبوط ہوتی ہے۔

    اقصیٰ احمد خان
    کراچی
    @ShinyAqsa

  • ریپ کا لباس سے تعلق ؟ تحریر: درخشاں رمضان

    ریپ کا لباس سے تعلق ؟ تحریر: درخشاں رمضان

    سوشل میڈیا پر لوگ ہر قسم کے تبصرے کرتے ہیں جن میں سے کچھ یہ کہہ رہے ہوتے کہ عورت کا لباس کا یا اکیلے نکلنے کا ریپ سے تعلق نہیں جب کہ دوسری طرف کچھ لوگ اس کو ریپ کی وجہ بتاتے ہیں

    تمام باتوں پر اگر بغور جائزہ لیا جائے تو معاشرے میں زیادتی کا تعلق عورت کے لباس سے ہو یا نہ ہو لیکن یہ intentional relation invitation ضرور ہے یہ راستہ ہم نے خود ہی چنا ہے ایک مثال سے سمجھاتی ہوں

    اگر آپ کے سر میں درد ہو اور ڈاکٹر آپ کو دوائی دے اور آپ ڈاکٹر کو کہیں کہ نہیں میں اپنی بیماری خود ڈھونڈ کر دوا استعمال کروں گاآپ ایسا کرلیتےہیں لیکن آرام آنے کی بجائے سر درد مزید بڑھ جاتا ہے تو اس میں آپ کس کو قصور وار ٹھہرائیں گے خود کو یا ڈاکٹر کو

    اسی طرح اللہ نے ہمیں قرآن دیا ایک بہترین نظام دیا ہمیں شرعی سزاوں کا بتایا اور کہا اسے فالو کرو نافذ کرو کامیاب رہو گئے لیکن کیا ہم نے وہ راستہ اپنایا؟ وہ نظام نافذ کیا؟
    فحاشی اور بے حیائی بڑھتی جارہی ہے عورتوں کو اپنی عزت کا احساس نہیں ماں باپ اولاد سے بے خبر ہیں وقت پر شادیاں نہیں کرتے یہ سب کہیں نہ کہیں وجہ ہے زیادتی کی

    آپؐ نے کتنی قربانیاں دیں کتنےصحابہ کرام شہید ہوئے انہوں نے نظام قائم کیالیکن ہم کیا اس نظام قائم کر پائے ہم اپنے ہاتھوں سے معاشرے کو جہنم بنا رہے ہیں

    ملک میں قانون نام کی کوئی چیز نہیں مجرم گرفتار ہوجائیں تو کچھ دن بعد باہر ہوتے ہیں قانون عدالتی نظام کمزور ہونے کی وجہ سے مجرم میں خوف ختم ہوگیا ہے طاقتور مافیا پشت پناہی کرتا ہے اور یہی مافیا اللہ کا نظام قائم کرنے میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے اسلامی سزاوں کے نفاظ کی مخالفت یورپ کی خوشنودی ہے

    آپ ایک منٹ کے زرا سوچیں زناکار زمین میں آدھا دھنسا ہوا اور ہر طرف سے پتھر ہی پتھر برس رہے ہوں کوئی پتھر سر پر لگے اور کوئی آنکھ پر یہ سوچ کر ہی ہمیں خوف آنے لگتا
    تو اگر یہ سزا نافذ کر دی جائے اور ایک بار کسی کو دے دی جائے سرعام تو کیا لوگوں کی روح نہیں کانپیں گی کسی بھی لڑکی کا ریپ تو کیا آنکھیں اٹھانے سے بھی اجتناب کریں گے یہ واحد حل ہے لڑکیوں کے تحفظ کا جو کہ ریاست دے سکتی ہے اس کے علاوہ حجاب کو لڑکی کے لیے لازمی قرار دیا جائے نکاح کو آسان بنایا جائے فحاشی سے بھرپور ڈراموں اور فلموں پر پابندی لگا دی جائے

    والدین اپنے بچوں کی جسمانی تربیت کے ساتھ ذہنی تربیت کریں تو ہی اس سے نجات پائی جاسکتی ہےجب تک ہم شریعت پر عمل نہیں کریں گے شریعت کے مطابق سزائیں نافذ نہیں کریں گے اللہ کا نظام نہیں لائیں گے ہم زلیل ہوتے رہیں گے

    اللہ پاک سب کی عزتوں کی حفاظت فرمائے

    آمین

    ‎@DarakhshanR786

  • برانڈڈ چیزوں کی خواہش .تحریر: حنا

    برانڈڈ چیزوں کی خواہش .تحریر: حنا

    ایک ڈیڑھ سال پہلے ایک نابالغ لڑکی کے ساتھ ایک بہت بڑے اور نامی گرامی ہوٹل میں 11 مردوں نے اجتماعی زیادتی کر ڈالی تھی ۔۔اس وقت مجھے بہت دکھ ہوا ۔۔۔ان گیارہ درندوں کو عبرت ناک موت دینے کو دل چاہ رہا تھا ۔۔۔۔لیکن اب بات میری سمجھ میں نہیں آئی تھی کہ ایک بہت بڑے ہوٹل میں وہ لوگ لڑکی کو بنا اسکی مرضی کے لے کر پہنچ کیسے گئے؟؟؟
    فرض کر لیتے ہیں کہ اسے ایک ہوٹل میں بلایا گیا تھا۔ یعنی وہ اپنی مرضی سے گئی تھی ۔۔۔۔

    کیا بنا مرضی کے کسی ہوٹل میں لے جائی جا سکتی ہے ؟؟اور وہ بھی ایسی صورت میں کہ ایک بندے نے روم بک کیا ہو ۔۔۔۔ایک بہت بڑے ہوٹل میں ایک لڑکی کے ساتھ 11 بندے زیادتی کر رہے ہیں اور ساتھ والے کمرے میں آواز تک نہیں جا رہی ؟ عجب نہیں لگے گا ؟ ایک لڑکی جو دو دن سے گھر سے غائب ہے۔ اور بننا بھی ماڈل چاہتی ہے تو کیا اس کے گھر والوں کو علم نہیں ہوگا کہ ہماری بیٹی اسی سلسلے میں کسی سے ملنے گئی ہے ؟۔۔اسی طرح ایک اور واقعہ کچھ عرصہ پہلے کہ لڑکی کا ایک کلاس فیلو ساتھ چکر تھا ۔۔لڑکے کے ساتھ چکر میں گھر والوں کو چکر دیتے دیتے ایسا چکرائ کہ پتہ چلا پریگنٹ ینعی حاملہ ہو گئ ۔۔حاملہ ہووی ۔۔دن بدن حالت بگڑی ۔۔وہی لڑکا جس کے ساتھ چکر تھا وہ ہسپتال میں لاوارث چھوڑ کر فرار ۔۔۔۔پھر خبر ملی لڑکی مر گئ ۔۔۔۔۔۔ایسے ہی بے شمار واقعات آئے روز ہماری نظروں سے گزرتے ہیں ۔کہیں لڑکے کے ساتھ گھر سے بھاگنے والی عثمان مرزا جیسے حیوانوں کے ہتھے چڑھ جاتی ہے تو کہیں گھر سے بھاگنے کے چکر میں اپنے ہی گاوں کے وڈیروں کی ضد پہ غیرت کے نام پہ موت کے گاٹ اتار دی جاتی ہے ۔۔سمجھ نہیں آتی ۔۔آج کی لڑکیوں نے خود ہی اپنی عزتوں کا تماشہ کیوں بنایا ہوا ہے ۔۔۔کہیں کوی ٹک ٹاک پہ چار لڑکوں کے ساتھ ناچ رہی ہے ۔۔تو کہیں کوی یوٹیوب انسٹا پر اپنی خوبصورتی کی نمائش لگا کر بیٹھی ہے ۔۔اور پھر چند لوگوں کے واحیات کمنٹس کو بھی ہنس ہنس کر جواب دے رہی ہوتی ہے ۔۔تو کہیں پیزہ برگر آئس کریم کھلانے کا وعدہ کرنے والے کے ساتھ ماں کو نیند کی گولیاں دے کر راتیں ہوٹلوں میں گزار رہی ہوتی ہے پہلے پہل سنا جاتا تھا کہ جسم فروشی کا دھندہ گرلز ہاسٹل اور یونیورسٹیوں میں بڑی خاموشی سے ہوتا ہے۔ لیکن میری معلومات کے مطابق اب یہ یونیورسٹی سے نکل کر کالج اور سیکنڈری سکولوں تک پہنچ چکا ہے۔۔۔

    اور کچھ کو لگتا ہے۔اس کے پیچھے باقاعدہ نیٹ ورک ہوتا۔ یہ شروع ہوتا ہے احساس محرومی سے اور مقابلے کے رجحان سے۔ یہ ٹیکنالوجی کا دور ہے ہر دوسری لڑکی کے پاس سمارٹ فون موجود ہے اور وہ سمارٹ فون کہاں سے آتا ہے یہ کوئی نہیں سمجھنا چاہے گا۔ گھر بیٹھے بیٹھے اس سمارٹ فون میں ایزی لوڈ کہاں کہاں سے آجاتا ہے یہ کوئی سمجھنا نہیں چاہے گا۔۔روز 50 روپے خرچہ لے جانے والی لڑکی کے پاس مہنگے موبائل، کپڑے، پرفیوم کہاں سے آگئے۔ یہ بھی ایک جسم فروشی ہے

    اب ہوتا کیا ہے۔ ہر سکول ، کالج اور یونیورسٹی میں امیر لوگوں کے بچے بھی تعلیم حاصل کرتے ہیں اور غریب لوگوں کے بھی۔ جب لڑکی اپنی ساتھ والی سیٹ پر بیٹھی لڑکی کے پاس مہنگا ترین موبائل دیکھتی ہے تو اسکا بھی دل کرتا ہے کہ یہی موبائل میرے پاس بھی ہو۔
    جب وہ ہر روز اپنی سہیلی کو نئے اور مہنگے کپڑے پہنے دیکھتی ہے تو اسکا بھی دل کرتا ہے کہ وہ بھی اسی طرح کے کپڑے پہنے۔ جب وہی لڑکی مہنگے کاسمیٹکس اور پرفیوم اپنی سہیلی کے چہرے پر تھوپے دیکھتی ہے تو اسکا بھی دل کرتا ہے کہ وہ بھی ان چیزوں کو استعمال کرے۔ جب وہ اپنی سہیلی کے بوائے فرینڈ کو اپنی سہیلی کے ساتھ روز یا ہر دوسرے دن میکدونلڈ میں برگر کھانے جاتا دیکھتی ہے تو اسکا بھی دل کرتا ہے کہ وہ بھی ہر روز کسی کے ساتھ برگر کھانے جائے۔

    کوئی اسکا بھی ایسے ہی نخرے اٹھانے والا دوست ہو۔ یہاں سے اپنی مرضی سے جسم فروشی کی سوچ کا بیج بونا شروع ہو جاتاہے۔ اور کمال منافقت یہ ہے کہ نہ لڑکی اسے جسم فروشی ماننے کو تیار ہوتی ہے نہ لڑکا سمجھتا ہے کہ وہ جسم خرید رہا ہے۔ بلکہ دونوں اسے پیار اور گرل فرینڈ بوائے فرینڈ کا نام دیتے ہیں۔ اب یہ مجھے بتانے کی شاید ضرورت نہیں کہ ایک ہی لڑکی یا لڑکے کے بوائے فرینڈ اور گرل فرینڈ اکثر بدلتے بھی رہتے ہیں۔ غریب لڑکی چاہے گی کہ اسکا بوائے فرینڈ گاڑی والا ہو آئے روز اسے مہنگے گفٹ دے ۔۔۔جو وہ اپنی امیر سہیلی کے مقابلے میں استعمال کر سکے ۔۔حسد ۔۔حسد ہر برائ کی جڑ ہے ۔۔۔حسد کی آگ میں جلنے والے لوگ پھر یہ نہیں دیکھتے کہ وہ حد کی بھی حد پار کررہے ہیں ۔۔۔وہ نہیں دیکھتے کہ گھر میں بوڑھے والدین ان کی فیسیں کیسے جمع کرتے ہیں ۔۔وہ یہ نہیں دیکھتے ۔۔کہ گھر میں بیٹھی جوان بہنیں شادی کی عمر کو ہے ۔۔۔۔وہ یہ نہیں دیکھتے کہ کل ان کا کیا کہیں ان کی بہنوں کے آگے نہ آجائے ۔۔وہ بس چلتے جاتے ہیں اندھا دھند ۔۔۔۔۔اور ٹھوکڑ لگنے پر بھی معافی مانگنے کی بجاے حرام موت لینا پسند کرتے ہیں ۔۔۔

    طوائف اگر اپنا جسم پیچ کے اپنے بچوں کیلئے روٹی خریدے تو وہ جسم فروشی ہوئی۔ اور ایک سٹوڈنٹ اگر آئے روز اپنا پارٹنر بدلے۔ روز پیسے لے۔ ایزی لوڈ مانگے۔ موبائل گفٹ لے ۔مہنگے قیمتی سوٹ لے ، پرفیوم لے تو یہ جسم فروشی نہیں۔ ایسا کیوں ؟ یہ دوہرا معیار صرف ہمارے معاشرے میں ہی کیوں؟
    میں یہاں مرد ذات کو ڈیفینڈ نہیں کر رہی صرف یہ سمجھانے کی کوشش کر رہی ہوں کہ حضور تالی دونوں ہاتھوں سے بجتی ہے…….
    خدارا لڑکیوں اپنی عزت کو سمجھو۔۔۔۔۔یہ دنیا محض فانی ہے ۔۔۔۔۔۔مہنگی اور برانڈڈ چیزوں سے نہیں عزت سے زندگی گزارو۔۔۔۔

    ۔

  • میری گپ میری مرضی اور سوشل میڈیا: تحریر عینی سحر

    میری گپ میری مرضی اور سوشل میڈیا: تحریر عینی سحر

    آجکل کے اس سوشل میڈیا کے دورمیں تقریبا” ہر کوئی سرگرم ہوئے بنا نہیں رہ سکتا _ نئے دور کے نئے تقاضے،ہم بھی اٹھتے بیٹھتے سوشل میڈیا پر جھانک کر دیکھ لیتے ہیں کے کیا ہورہا ہے _ یونہی ٹہلتے ہوۓ ایک ایسی گردش کرتی ٹویٹ نظر آئ جسمیں کسی صاحب نے ایک خوبصورت بچے کی تصویر پوسٹ کرتے ہوۓ لکھا کے انکے ہاں اللہ نے بیٹا دیا ہے کوئی اچھا سا نام تجویز کریں _ اب اس بچے کی معصومیت اور اس صاحب کی خوش قسمتی پر ہر کوئی خوشی سے بیتاب ری ٹویٹ کیساتھ پوسٹ کو پسند کررہا تھا یہی نہیں ٹویٹ کے نیچے بھی مبارکباد کے کمنٹس کیساتھ کچھ فراخ دل لوگوں نے مٹھائی کی تصویر بھی پوسٹ کرکے اس موصوف کی خوشی کو دوبالا کرنے میں کسر نہ چھوڑی _ ایسے میں میرا دل بھی اس بچے کو دیکھ کر پگھلا تو جھٹ سے لائیک دے کر مبارک باد دے دی _ ٹویٹ تھی کے تھمتی نہ تھی اور ٹویٹر پر خوب گردش کئے جارہی تھی

    لیکن جب ٹویٹر پر مزید چکر لگاۓ تو کرشمہ دیکھنے کو ملا کے وہی بچہ انہی کپڑوں میں تین چار اور لوگوں کے گھر بھی پیدا ہوا ہے اور وہ بھی اسی رفتار سے بیٹا ہونے کا اعلان کرکے مبارکبادیں اور لائیک ری ٹویٹ سمیٹ رہے ہیں _
    بات یہی رکتی تو صبر آجاتا لیکن فیس بک پر جھانکا تو اس بچے کو مزید چند لوگوں کی پوسٹ میں پیدا ہوکر مشہور ہوتے دیکھا اسکو اپنا بیٹا کہہ کر لایکس کمنٹس وہ لے رہے تھے جنہوں نے خود ابھی دسویں کلاس میں امتحان دینا تھا _ یہ ہی تو سوشل میڈیا کا لطف ہے
    یہاں ایک سے بڑھ کر ایک گپ مل سکتی ہے

    ابھی اس جھٹکے سے سنبھلے نہ تھے کے کسی دوشیزہ کی غمناک پوسٹ نے ٹویٹری آبادی کو پریشانی میں مبتلا کر رکھا تھا کے محترمہ نے اپنے ہاتھ کی فوٹو شئر کی جس پر ڈرپ لگی تھی کے وہ بیمار ہیں اور دعا کریں _ وللہ ٹویٹری شہزادے اسطرح پریشانی سے مرے جارہے تھے جیسے اسے کچھ ہوا تو وہ مر جائیں گے _ ایک سے بڑھ کر ایک بازو لمبی کرکرے دعا دے رہا تھا _ کچھ نے تو آگے بڑھ کر کمانڈ سنبھال لی اور اضافی ٹویٹ کرکرکے اعلان کرنے لگے کے فلاں کی طبیعت خراب ہے دعا کریں _ یہ وہ ہمدرد نونہال ہیں جنکی اپنی اماں جان بیمار ہوں تو انہیں پرواہ نہ ہو لیکن کسی متوقع حسینہ کیلئے یوں فرمانبردار بن کر دعائیں دیتے اور آسمان سے تارے توڑ لانے کے دعوے کرتے ہیں جیسے ان سے بڑا ہمدرد کوئی نہ ہو _ آخر کو یہ سوشل میڈیا کے ہیرو ہیں

    اب چونکے بقر عید کی آمد آمد ہے لہٰذا ایک دوشیزہ نے بکرے کیساتھ اپنی آدھی تصویر پوسٹ کرکے پوچھا بکرا کیسا ہے ؟بکرے کے نام پر سب اس دوشیزہ کی آدھی تصویر پر مرے جارہے تھے اور واہ واہ کرتے نہ تھکتے تھے ایسے میں ایک صاحب نے جھنجھلاتے ہوۓ کمنٹ کرکے پوچھا یہی بکرا اور یہ تصویر گزشتہ دو سال سے سوشل میڈیا پر کئی پوسٹوں میں گھمائ جارہی ہے آخر لوگ باز کیوں نہیں آتے ؟

    ایک صاحب نے فادر ڈے پر پوسٹ کرتے ہوۓ لکھا شکریہ ڈیڈی آپ نے مجھے سب کچھ دیا گھر میں پیسے کی چہل پہل بیرون ملک کی سیریں بنگلے ، بینک پلنس اور گھر میں دو تین گاڑیاں ہر وقت کھڑی رہتیں _ اصل میں اس پوسٹ میں شاعر کی مراد یہ تھی کے وہ تگڑی اسامی ہے اگر کوئی حسینہ متاثر ہوکر اس پر نظر کرم کر دے تو مہربانی ہوگی

    اللہ اللہ سوشل میڈیا پر جو لطیفےاور کامیڈی دیکھنے کو ملتی ہے اسکا بدل ڈراموں میں بھی نہیں _
    اس کامیڈی میں سیاستدان بھی حصہ ڈالتے ہیں جیسا کے نون لیگ کی نائب صدر مریم نواز نے اپنے والد کی فوٹو لندن سے اٹھا کر کشمیر کے پل پر لگا کر خوب شغل لگایا

    یہ اسی سوشل میڈیا کا کمال ہے یہاں ایک سے بڑھ کر ایک گپ پڑھنے کو ملے گی کیوں نہ ہو یہاں اکثر جوروش دیکھنے کو ملتی ہے وہ یہی ہے میری گپ میری مرضی

  • اخلاص بہت بڑی نعمت ہے. تحریر:ماریہ مغل

    اخلاص بہت بڑی نعمت ہے. تحریر:ماریہ مغل

    لکھنو بازار میں ایک غریب درزی کی دکان تھی جو ہر جنازے کے لۓ دکان بند کرتے تھے…
    لوگوں نے کہا کہ اس سے آپ کے کاروبار کا نقصان ہوگا،
    کہنے لگا کہ علماء سے سنا ہے کہ جو کسی مسلمان کے جنازے پر جاتا ھے کل اس کے جنازے پر لوگوں کا ہجوم ہوگا…
    میں غریب ہوں نہ زیادہ لوگ مجھے جانتے ہیں تو میرے جنازے پر کون آۓ گا…
    اس لیے ایک تو مسلمان کا حق سمجھ کر پڑھتا ہوں اور دوسرا یہ کہ شاید اس سے ہی اللہ پاک راضی ہو جائیں
    اللہ پاک کی شان دیکھیں کہ 1902ء میں مولانا عبدالحئ لکھنوی صاحب کا انتقال ہوا…

    ریڈیو پر بتلایا گیا، اخبارات میں جنازے کی خبر آگئی.. جنازے کے وقت لاکھوں کا مجمع تھا. پھر بھی بہت سے لوگ انکا جنازہ پڑھے سے محروم رہ گئے
    جب جنازہ گاہ میں ان کا جنازہ ختم ہوا تو اسی وقت جنازہ گاہ میں ایک دوسرا جنازہ داخل ہوا. اور اعلان ہوا کہ ایک اور عاجز مسلمان کا بھی جنازہ پڑھ کر جائیں…
    یہ دوسرا جنازہ اس درزی کا تھا… مولانا کے جنازے کے سب لوگ ، بڑے بڑے اللہ والے ، علماء کرام سب نے اس درزی کا جنازہ پڑھا اور پہلے جنازے سے جو لوگ رہ گئے تھے وہ بھی اس میں شامل ہوگئے ۔ اس غریب کا جنازہ تو مولانا کے جنازہ سے بھی بڑھ کر نکلا
    اللہ پاک نے اس درزی کی بات پوری کرکے اس کی لاج رکھی..۔
    اللّٰہ ﮬﻢ ﺳﺐ ﮐﯽ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﻣﯿں ﺁﺳﺎﻧﯿﺎﮞ ﻋﻄﺎ ﻓﺮﻣﺎﮰ ﺁﻣﯿﻦ💕
    @l_m_Mairi
    ماریہ مغل

  • محبت اور نکاح. تحریر: کنزہ صدیق

    محبت اور نکاح. تحریر: کنزہ صدیق

    محبت ایک بہترین تعلق ہے اور یہ تعلق جب نکاح جیسے پاک بندھن میں بندھ جاتا ہے تو یہ دنیا کا بہترین رشتہ کہلاتا ہے
    اللہ پاک نےاس رشتے بےشمار برکت رکھی ہے نکاح کے متعلق بہت سی احادیث وارد ہوئی ہیں جن میں ایک یہ بھی ہے
    حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
    تین طرح کے لوگ ہیں جنکی مدد اللہ پر حق اور واجب ہے
    1: اللہ کے راستے میں جہاد کرنے والا
    2:ایسا نکاح کرنے والا جو نکاح کے ذریعے پاکدامنی کی زندگی گزارنا چاہتا ہو
    3: وہ مکاتب جو مکاتبت کی رقم ادا کرکے آذاد ہوجانے کی کوشش کررہا ہو (سنن نسائی#3122
    اب بات آجاتی ہے کہ پسند کا نکاح اور بناء پوچھے بناء سمجھائے زبردستی نکاح۔۔
    ہمارے معاشرے میں یہ عجیب منطق ہے کہ اگر لڑکی اپنی پسند کا رشتہ بتاتی ہے تو وہ بےحیا یا بولڈ سمجھی جاتی ہے جبکہ بعض اوقات لڑکوں کے معاملے میں بھی کچھ اسی طرح ہوتا ہے والدین بچوں سے اس بات پہ خفا ہوجاتے ہیں کہ یہ زندگی کے بڑے فیصلے ہیں تو اس لیے یہ فیصلے بڑوں کو ہی کرنے چاہیے
    لیکن والدین کے لیے یہ سمجھنے کی بات ہے کہ ہمارا دین بھی اس بات کی اجازت دیتا ہے کہ اگر لڑکا یا لڑکی اپنی پسند کا اظہار کریں تو اس کی رائے کا احترام کیا جانا چاہیے
    اسی متعلق اس حدیث ہے جسکا مفہوم یہ ہے کہ بچوں کا رشتہ کرتے ہوئے انکی مرضی لازمی جان لینا چاہیے اگر وہ اپنی پسند کا اظہار کرئے تو اسے بےحیا نہ سمجھا جائے

    نکاح کے بعد اللہ پاک کی طرف سے میاں بیوی میں عجیب سی محبت پیدا ہوجاتی ہے یہ نکاح ہی کی برکت سے ہوتا ہے
    میاں بیوی کو چاہیے کہ وہ آپس کی اس محبت کو ہمیشہ قائم رکھیں جیسا کہ ہمارا دین محبت کا درس دیتا ہے
    حضور پاک اماں عائشہ سے بے تحاشہ محبت کرتے تھے
    آپ ﷺ کی حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے محبت کا عالم یہ تھا کہ آپ ﷺ ان کے پس خوردہ کو بھی پسند فرماتے تھے اور جہاں سے آپ رضی اللہ عنہا ہڈی سے گوشت کھاتیں سرکار ﷺ وہیں سے گوشت تناول فرمایا کرتے تھے۔ چنانچہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں : میں ہڈی سے دانتوں سے گوشت کھاتی تھی حالانکہ میں حائضہ ہوتی تھی اور وہ ہڈی حضور ﷺ کوپیش کردیتی تو آپ ﷺ اپنا دہن مبارک اسی جگہ رکھتے جس جگہ میں نے رکھا تھا اور میں (پیالے میں ) پانی پی کر حضور ﷺ کو پیالہ دیتی تو آ پ ﷺ اسی جگہ اپنا لب مبارک رکھتے جہاں سے میں نے پیا ہوتا
    اسطرح کا محبت بھرا انداز ہمیں گھریلو ناچاقیوں اور نفرتوں کے ستون کو ڈھانے اور ان سے چھٹکارا پانے کے دائمی اصول بتاتا ہے جن پر عمل کرکے زوجین اپنے درمیان نفرتوں اور کدورتوں کے بیج نکال کر محبت و الفت کے بیچ بوسکتے ہیں اور گھر کو امن کا گہوارہ بناسکتے ہیں۔
    اللہ حامی و ناصر ہو۔

  • پردے کی اہمیت.تحریر شمس الدین

    پردے کی اہمیت.تحریر شمس الدین

    اسلام میں پردے کے لحاظ سے عورتوں کے لیے پردے کا خاص حکم ہے. قرآن مجید میں پردے کے بارے میں آیتیں بھی نازل ہوئی ہیں….

    اللہ تعالیٰ قرآن میں فرماتا ہے،
    اور آپ مومن عورتوں كو كہہ ديجئے كہ وہ بھى اپنى نگاہيں نيچى ركھيں اور اپنى شرمگاہوں كى حفاظت كريں، اور اپنى زينت كو ظاہر نہ كريں، سوائے اسكے جو ظاہر ہے، اوراپنے گريبانوں پر اپنى اوڑھنياں ڈالے رہيں، اور اپنى آرائش كو كسى كے سامنے ظاہر نہ كريں، سوائے اپنے خاوندوں كے، يا اپنے والد كے، يا اپنے سسر كے، يا اپنے بيٹوں كے، يا اپنے خاوند كے بيٹوں كے، يا اپنے بھائيوں كے، يا اپنے بھتيجوں كے، يا اپنے بھانجوں كے، يا اپنے ميل جول كى عورتوں كے، يا غلاموں كے، يا ايسے نوكر چاكر مردوں كے جو شہوت والے نہ ہوں، يا ايسے بچوں كے جو عورتوں كے پردے كى باتوں سے مطلع نہيں، اور اس طرح زور زور سے پاؤں مار كر نہ چليں كہ انكى پوشيدہ زينت معلوم ہو جائے، اے مسلمانو! تم سب كے سب اللہ كى جانب توبہ كرو، تا كہ تم نجات پا جاؤ النور ( 31 ).

    اس طرح ایک اور آیت میں ہے،
    بڑى بوڑھى عورتيں جنہيں نكاح كى اميد ( اور خواہش ہى ) نہ رہى ہو وہ اگر اپنى چادر اتار ركھيں تو ان پر كوئى گناہ نہيں، بشرطيكہ وہ اپنا بناؤ سنگھار ظاہر كرنے والياں نہ ہوں، تاہم اگر ان سے بھى ا حتياط ركھيں تو ان كے ليے بہت بہتر اور افضل ہے، اور اللہ تعالى سنتا اور جانتا ہے النور ( 60 ).

    ایک اور آیت ہے،
    اے ايمان والو! جب تك تمہيں اجازت نہ دى جائے تم نبى كے گھروں ميں كھانے كے ليے نہ جايا كرو، ايسے وقت ميں كہ پكنے كا انتظار كرتے رہو، بلكہ جب تمہيں بلايا جائے تو جاؤ، اور جب كھا كر فارغ ہو چكو تو نكل كھڑے ہو، اور وہيں باتوں ميں مشغول نہ ہو جايا كرو، نبى كو تمہارى اس بات سے تكليف ہوتى ہے، تو وہ لحاظ كر جاتے ہيں، اور اللہ تعالى ( بيان ) حق ميں كسى كا لحاظ نہيں كرتا، جب تم نبى كى بيويوں سے كوئى چيز طلب كرو تو پردے كے پيچھے سے طلب كرو، ، تمہارے اور ان كے دلوں كے ليے كامل پاكيزگى يہى ہے، نہ تمہيں يہ جائز ہے كہ تم رسول اللہ ( صلى اللہ عليہ وسلم ) كو تكليف دو، اور نہ تمہيں يہ حلال ہے كہ آپ كے بعد كسى وقت بھى آپ كى بيويوں سے نكاح كرو، ( ياد ركھو ) اللہ كے نزديك يہ بہت بڑا گناہ ہے الاحزاب ( 53 ).
    قرآن پاک میں ایک اور جگہ حق تعالیٰ فرماتا ہے کہ ’’مسلمان عورتوں سے کہو کہ وہ بھی اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور اپنی عصمت میں فرق نہ آنے دیںاور اپنی زینت کو ظاہر نہ کریں سوائے اس کے کہ جو ظاہر ہے اور اپنے گریبانوں پر اپنی اوڑھنیاں ڈالے رکھیں اور اپنی آرائش کو کسی کے سامنے ظاہر نہ کریں سوائے اپنے خاوندوں کے یا اپنے والد یا اپنے خسر کے یا اپنے بہن، بھائیوں اور بچوں کے۔

    خواتین کو مستورات بھی کہا جاتا ہے اور مستور کا مطلب ہے چھپا ہوا، عورت کے پردہ کے حوالہ سے ایک حدیث مبارکہ میں آتا ہے کہ ’’حضرت عبداللہؓ سے روایت ہے کہ نبی کریمؐ نے فرمایا عورت پردہ میں رہنے کی چیز ہے کیوں کہ جب وہ باہر نکلتی ہے تو شیطان اسے بہکانے کے لئے موقع تلاش کرتا ہے‘‘ جامع ترمذی،جلد نمبر اول ، حدیث نمبر 1181۔ عورت کے پر دہ کو اس قدر اہمیت دی گئی ہے کہ اس کے لئے عبادت بھی پردہ کے بغیر اور بے پردہ جگہ پر کرنا منع فرمایا گیا ہے۔

  • مولوی کی بیٹیاں . تحریر: حمیرا نذیر

    مولوی کی بیٹیاں . تحریر: حمیرا نذیر

    بیٹی نے کہا بابا عید میں پانچ دن رہ گئے ہیں ہم نے کچھ بھی خریداری نہیں کی
    مولوی صاحب نے کہا اچھا میرا پتر !!!
    ابھی بہت دن ہیں خرید لیں گے چاند رات سے ایک دن قبل سب کچھ لے لیں گے۔ مولوی صاحب یہ بات کررہے تھے کہ آذان سنائی دی مولوی صاحب جو آنکھیں بیٹی کو جھوٹی تسلی دینے پر شرمندگی سے جھکائے ہوئے تھے انکو موقع مل گیا اور مسجد کی طرف چل دئے۔
    عید سے ایک دن قبل جب مولوی صاحب ہر طرف سے ناامید ہوگئے کیونکہ مانگنے سے عزت نفس جاتی ہے اور قرض لینا نہیں کیونکہ واپسی کی کوئی صورت ممکن ہی نہیں اور خود سے کسی کو توفیق نہیں ہوئی کیونکہ مولوی صاحب کے بچوں کے کونسے دل ہوتے ہیں جو مچلتے ہوں انکے کونسے احساسات ہوتے ہیں وہ کونسا فیلنگ رکھتے ہیں انہوں نے کونسا باہر نکلنا ہے۔
    جب کوئی انتظام نہ ہوا تو سوچا آج جتنی منطق اور استقراء قیاس پڑھا ہے سب کو بروئے کار لاکر بیٹی کو قائل کروں گا کہ بیٹا بڑی عید پر کوئی کپڑے نہیں پہنتا یہ تو قربانی کی عید ہے لیکن دھڑکا تھا کہ بیٹی بھی تو مولوی کی ہے یہ کہہ دیا کہ قربانی بھی تو آپ نہیں کررہے
    خیر سارا علم مستحضر کرکے گھر گیا تو بیٹیاں ہاتھوں میں پرچیاں لیکر منتظر تھیں کہ باباجان نے آج کا وعدہ کیا ہے تو ہمیں مطلوبہ چیزیں لادیں گے

    جیسے مولوی صاحب کھنگورا مارتے داخل ہوئے تو مولون سمجھ چکی تھی کہ بیٹوں کے دل ٹوٹنے والے ہیں تو وہ جلدی سے گئی پیاز لے آئی کہ پیاز کاٹنے کے بہانے آنسو بہا لے گی
    کیونکہ ماں تو ماں ہوتی ہے اسکے آنسو اولاد کے لئے تو پلکوں کی منڈیر پر ہی بسیرا کرتے ہیں لیکن وہ بیٹیوں کے سامنے شوہر کو اور باپ بیٹیوں کو ٹوٹتا نہ دیکھ سکے
    مولوی صاحب بیٹھے تو چھوٹی آنے لگی کہ پرچی تھماووں مولوی صاحب نظریں جھکائے جرابیں اتارنے لگے اور ٹوپی لپیٹ کے رکھی جو کہ علامت ہوتی ہے کہ ااسکے بعد باہر نہیں جانا کہ اچانک چھوٹی کو بڑی بیٹی بازو سے پکڑتی ہے اور اسے اشارے سے روکتی ہے اسکے ہاتھ سے پرچی لیکر اپنی پرچی میں رکھ کر چپکے سے چٹائی کے نیچے چھپاتی ہے یہ سب مولوی صاحب کن اکھیوں سے دیکھ رہے تھے لیکن نہ دیکھنے کی کمال فنکاری کررہے تھے مولون کے آنسو پیاز کے بہانے سیل رواں بنے ہوئے تھے مولوی صاحب کا سارا علم زیرو ہوگیا اسے لگا جیسے وہ سب سے زیادہ جاہل اجڈ اور گنوار ہے اس سے پہلے کہ مولوی صاحب کچھ کہتے تو بیٹی بولی بابا جان کل ہم نے نئے کپڑے نہیں لینے کیونکہ بڑی عید تو قربانی کی عید ہے اور کل آپ نے چاچو کے دو بیڑے ( بچھڑے ) بھی تو کرنے ہیں اور ہم نے وہاں آپکو بیڑے کرتے دیکھنا ہے تو سارا دن تو قربانی میں لگ جائیں گے ہم کپڑے کس وقت پہنیں گے؟

    چھوٹی عید کے پڑے ہوئے ہیں وہی پہن لیں گے وہ سارے دلائل جیسے کاپی پیسٹ کئے ہوں اس وقت دنیا کی سب سے زیادہ عالم فاضل اور سمجھدار بیٹی ہی لگی
    بیٹی کی یہ بات سن کر مولوی صاحب نے نظریں اٹھائی ایک نظر بیٹی کے چہرے پر ڈالی کچھ دیر کو گردن فخر سے تن گئی اپنی پگ کا شملہ اونچا بہت اونچا محسوس ہوا لیکن اگلے لمحے ہی بچیوں کی معصومانہ خواہشات کا یوں خود کشی کرنا اسکو توڑ گئی اسے اپنا آپ بے تحاشہ ناکام باپ جو عید پر بھی ضرورت کی خواہش نہ پوری کرسکا اس سے یہ برداشت نہ ہوا جلدی سے کمرے میں جاکر سونے کا کہہ کر بستر میں گھس گئے اور وہاں ہونٹ سی لیئے منہ کو بھینچا اور آنکھوں سے کہا تم آزاد ہو برس لو ورنہ غم کے اندر کے سونامی سے مر ہی جاو گئے ۔
    صبح اٹھ کر مولوی صاحب نماز کے لئے چلے گئے واپس آئے تو چھوٹی بیٹی نے دس بیس پچاس کے چند نوٹ پکڑے ہوئے تھے بولی بابا یہ پیسے ہیں آپ ایسے کریں کہ بھائی کو کپڑے لے دیں اس نے کل آپکے ساتھ مسجد جانا ہے اور وہ چھوٹا ہے گلی میں کھیلے گا تو سب کیا کہیں گے یہ ایک اور دھماکہ تھا

    لیکن بہن کا بھائی کے لئے پیار کیا ہوتا ہے سب سمجھا گیا۔
    ہمارے معاشرے میں اکثر مولوی حضرات کی زندگی اسی طرح کی کشمکش کی شکار ہے وہ شخص جو پورے محلے کو عید کی نماز پڑھاتا ہے خد اپنے اور اپنے بچوں کے لئے کپڑے بھی نہیں خرید سکتا۔ نہ ان لوگوں کی تنخواہ ہوری ہے نہ ہی آمدن کا زریعہ ایسے میں ہم لوگوں کو ہی ان کی مدد کرنی چاہیئے ہم 1500 روپے کا سوٹ 5000 روپے میں تو خرید لیتے ہیں مگر کسی غریب کی مدد نہ کرنے کے ہزاروں بہانے ڈھونڈتے ہیں۔ بڑے پلازہ میں جا کر دو کوڑی کی چیز ہزاروں روپوں میں چپ چاپ خرید لیتے ہیں لیکن اگر کوئی غریب 100، 50 مانگ لے تو فلا سفر بن کر اسے لیکچر دیتے ہیں۔ ایک دوسرے کی مدد سے ہی زندگی کا اصل مقصد حاصل کیا جا سکتا۔
    خدارا اپنی عید کی خوشیاں ان کے ساتھ ضرور شیئر کریں
    اللہ پاک آپ کی خیر فرمائے آمین یارب العلمین۔