Baaghi TV

Category: خواتین

  • برانڈڈ چیزوں کی خواہش .تحریر: حنا

    برانڈڈ چیزوں کی خواہش .تحریر: حنا

    ایک ڈیڑھ سال پہلے ایک نابالغ لڑکی کے ساتھ ایک بہت بڑے اور نامی گرامی ہوٹل میں 11 مردوں نے اجتماعی زیادتی کر ڈالی تھی ۔۔اس وقت مجھے بہت دکھ ہوا ۔۔۔ان گیارہ درندوں کو عبرت ناک موت دینے کو دل چاہ رہا تھا ۔۔۔۔لیکن اب بات میری سمجھ میں نہیں آئی تھی کہ ایک بہت بڑے ہوٹل میں وہ لوگ لڑکی کو بنا اسکی مرضی کے لے کر پہنچ کیسے گئے؟؟؟
    فرض کر لیتے ہیں کہ اسے ایک ہوٹل میں بلایا گیا تھا۔ یعنی وہ اپنی مرضی سے گئی تھی ۔۔۔۔

    کیا بنا مرضی کے کسی ہوٹل میں لے جائی جا سکتی ہے ؟؟اور وہ بھی ایسی صورت میں کہ ایک بندے نے روم بک کیا ہو ۔۔۔۔ایک بہت بڑے ہوٹل میں ایک لڑکی کے ساتھ 11 بندے زیادتی کر رہے ہیں اور ساتھ والے کمرے میں آواز تک نہیں جا رہی ؟ عجب نہیں لگے گا ؟ ایک لڑکی جو دو دن سے گھر سے غائب ہے۔ اور بننا بھی ماڈل چاہتی ہے تو کیا اس کے گھر والوں کو علم نہیں ہوگا کہ ہماری بیٹی اسی سلسلے میں کسی سے ملنے گئی ہے ؟۔۔اسی طرح ایک اور واقعہ کچھ عرصہ پہلے کہ لڑکی کا ایک کلاس فیلو ساتھ چکر تھا ۔۔لڑکے کے ساتھ چکر میں گھر والوں کو چکر دیتے دیتے ایسا چکرائ کہ پتہ چلا پریگنٹ ینعی حاملہ ہو گئ ۔۔حاملہ ہووی ۔۔دن بدن حالت بگڑی ۔۔وہی لڑکا جس کے ساتھ چکر تھا وہ ہسپتال میں لاوارث چھوڑ کر فرار ۔۔۔۔پھر خبر ملی لڑکی مر گئ ۔۔۔۔۔۔ایسے ہی بے شمار واقعات آئے روز ہماری نظروں سے گزرتے ہیں ۔کہیں لڑکے کے ساتھ گھر سے بھاگنے والی عثمان مرزا جیسے حیوانوں کے ہتھے چڑھ جاتی ہے تو کہیں گھر سے بھاگنے کے چکر میں اپنے ہی گاوں کے وڈیروں کی ضد پہ غیرت کے نام پہ موت کے گاٹ اتار دی جاتی ہے ۔۔سمجھ نہیں آتی ۔۔آج کی لڑکیوں نے خود ہی اپنی عزتوں کا تماشہ کیوں بنایا ہوا ہے ۔۔۔کہیں کوی ٹک ٹاک پہ چار لڑکوں کے ساتھ ناچ رہی ہے ۔۔تو کہیں کوی یوٹیوب انسٹا پر اپنی خوبصورتی کی نمائش لگا کر بیٹھی ہے ۔۔اور پھر چند لوگوں کے واحیات کمنٹس کو بھی ہنس ہنس کر جواب دے رہی ہوتی ہے ۔۔تو کہیں پیزہ برگر آئس کریم کھلانے کا وعدہ کرنے والے کے ساتھ ماں کو نیند کی گولیاں دے کر راتیں ہوٹلوں میں گزار رہی ہوتی ہے پہلے پہل سنا جاتا تھا کہ جسم فروشی کا دھندہ گرلز ہاسٹل اور یونیورسٹیوں میں بڑی خاموشی سے ہوتا ہے۔ لیکن میری معلومات کے مطابق اب یہ یونیورسٹی سے نکل کر کالج اور سیکنڈری سکولوں تک پہنچ چکا ہے۔۔۔

    اور کچھ کو لگتا ہے۔اس کے پیچھے باقاعدہ نیٹ ورک ہوتا۔ یہ شروع ہوتا ہے احساس محرومی سے اور مقابلے کے رجحان سے۔ یہ ٹیکنالوجی کا دور ہے ہر دوسری لڑکی کے پاس سمارٹ فون موجود ہے اور وہ سمارٹ فون کہاں سے آتا ہے یہ کوئی نہیں سمجھنا چاہے گا۔ گھر بیٹھے بیٹھے اس سمارٹ فون میں ایزی لوڈ کہاں کہاں سے آجاتا ہے یہ کوئی سمجھنا نہیں چاہے گا۔۔روز 50 روپے خرچہ لے جانے والی لڑکی کے پاس مہنگے موبائل، کپڑے، پرفیوم کہاں سے آگئے۔ یہ بھی ایک جسم فروشی ہے

    اب ہوتا کیا ہے۔ ہر سکول ، کالج اور یونیورسٹی میں امیر لوگوں کے بچے بھی تعلیم حاصل کرتے ہیں اور غریب لوگوں کے بھی۔ جب لڑکی اپنی ساتھ والی سیٹ پر بیٹھی لڑکی کے پاس مہنگا ترین موبائل دیکھتی ہے تو اسکا بھی دل کرتا ہے کہ یہی موبائل میرے پاس بھی ہو۔
    جب وہ ہر روز اپنی سہیلی کو نئے اور مہنگے کپڑے پہنے دیکھتی ہے تو اسکا بھی دل کرتا ہے کہ وہ بھی اسی طرح کے کپڑے پہنے۔ جب وہی لڑکی مہنگے کاسمیٹکس اور پرفیوم اپنی سہیلی کے چہرے پر تھوپے دیکھتی ہے تو اسکا بھی دل کرتا ہے کہ وہ بھی ان چیزوں کو استعمال کرے۔ جب وہ اپنی سہیلی کے بوائے فرینڈ کو اپنی سہیلی کے ساتھ روز یا ہر دوسرے دن میکدونلڈ میں برگر کھانے جاتا دیکھتی ہے تو اسکا بھی دل کرتا ہے کہ وہ بھی ہر روز کسی کے ساتھ برگر کھانے جائے۔

    کوئی اسکا بھی ایسے ہی نخرے اٹھانے والا دوست ہو۔ یہاں سے اپنی مرضی سے جسم فروشی کی سوچ کا بیج بونا شروع ہو جاتاہے۔ اور کمال منافقت یہ ہے کہ نہ لڑکی اسے جسم فروشی ماننے کو تیار ہوتی ہے نہ لڑکا سمجھتا ہے کہ وہ جسم خرید رہا ہے۔ بلکہ دونوں اسے پیار اور گرل فرینڈ بوائے فرینڈ کا نام دیتے ہیں۔ اب یہ مجھے بتانے کی شاید ضرورت نہیں کہ ایک ہی لڑکی یا لڑکے کے بوائے فرینڈ اور گرل فرینڈ اکثر بدلتے بھی رہتے ہیں۔ غریب لڑکی چاہے گی کہ اسکا بوائے فرینڈ گاڑی والا ہو آئے روز اسے مہنگے گفٹ دے ۔۔۔جو وہ اپنی امیر سہیلی کے مقابلے میں استعمال کر سکے ۔۔حسد ۔۔حسد ہر برائ کی جڑ ہے ۔۔۔حسد کی آگ میں جلنے والے لوگ پھر یہ نہیں دیکھتے کہ وہ حد کی بھی حد پار کررہے ہیں ۔۔۔وہ نہیں دیکھتے کہ گھر میں بوڑھے والدین ان کی فیسیں کیسے جمع کرتے ہیں ۔۔وہ یہ نہیں دیکھتے ۔۔کہ گھر میں بیٹھی جوان بہنیں شادی کی عمر کو ہے ۔۔۔۔وہ یہ نہیں دیکھتے کہ کل ان کا کیا کہیں ان کی بہنوں کے آگے نہ آجائے ۔۔وہ بس چلتے جاتے ہیں اندھا دھند ۔۔۔۔۔اور ٹھوکڑ لگنے پر بھی معافی مانگنے کی بجاے حرام موت لینا پسند کرتے ہیں ۔۔۔

    طوائف اگر اپنا جسم پیچ کے اپنے بچوں کیلئے روٹی خریدے تو وہ جسم فروشی ہوئی۔ اور ایک سٹوڈنٹ اگر آئے روز اپنا پارٹنر بدلے۔ روز پیسے لے۔ ایزی لوڈ مانگے۔ موبائل گفٹ لے ۔مہنگے قیمتی سوٹ لے ، پرفیوم لے تو یہ جسم فروشی نہیں۔ ایسا کیوں ؟ یہ دوہرا معیار صرف ہمارے معاشرے میں ہی کیوں؟
    میں یہاں مرد ذات کو ڈیفینڈ نہیں کر رہی صرف یہ سمجھانے کی کوشش کر رہی ہوں کہ حضور تالی دونوں ہاتھوں سے بجتی ہے…….
    خدارا لڑکیوں اپنی عزت کو سمجھو۔۔۔۔۔یہ دنیا محض فانی ہے ۔۔۔۔۔۔مہنگی اور برانڈڈ چیزوں سے نہیں عزت سے زندگی گزارو۔۔۔۔

    ۔

  • میری گپ میری مرضی اور سوشل میڈیا: تحریر عینی سحر

    میری گپ میری مرضی اور سوشل میڈیا: تحریر عینی سحر

    آجکل کے اس سوشل میڈیا کے دورمیں تقریبا” ہر کوئی سرگرم ہوئے بنا نہیں رہ سکتا _ نئے دور کے نئے تقاضے،ہم بھی اٹھتے بیٹھتے سوشل میڈیا پر جھانک کر دیکھ لیتے ہیں کے کیا ہورہا ہے _ یونہی ٹہلتے ہوۓ ایک ایسی گردش کرتی ٹویٹ نظر آئ جسمیں کسی صاحب نے ایک خوبصورت بچے کی تصویر پوسٹ کرتے ہوۓ لکھا کے انکے ہاں اللہ نے بیٹا دیا ہے کوئی اچھا سا نام تجویز کریں _ اب اس بچے کی معصومیت اور اس صاحب کی خوش قسمتی پر ہر کوئی خوشی سے بیتاب ری ٹویٹ کیساتھ پوسٹ کو پسند کررہا تھا یہی نہیں ٹویٹ کے نیچے بھی مبارکباد کے کمنٹس کیساتھ کچھ فراخ دل لوگوں نے مٹھائی کی تصویر بھی پوسٹ کرکے اس موصوف کی خوشی کو دوبالا کرنے میں کسر نہ چھوڑی _ ایسے میں میرا دل بھی اس بچے کو دیکھ کر پگھلا تو جھٹ سے لائیک دے کر مبارک باد دے دی _ ٹویٹ تھی کے تھمتی نہ تھی اور ٹویٹر پر خوب گردش کئے جارہی تھی

    لیکن جب ٹویٹر پر مزید چکر لگاۓ تو کرشمہ دیکھنے کو ملا کے وہی بچہ انہی کپڑوں میں تین چار اور لوگوں کے گھر بھی پیدا ہوا ہے اور وہ بھی اسی رفتار سے بیٹا ہونے کا اعلان کرکے مبارکبادیں اور لائیک ری ٹویٹ سمیٹ رہے ہیں _
    بات یہی رکتی تو صبر آجاتا لیکن فیس بک پر جھانکا تو اس بچے کو مزید چند لوگوں کی پوسٹ میں پیدا ہوکر مشہور ہوتے دیکھا اسکو اپنا بیٹا کہہ کر لایکس کمنٹس وہ لے رہے تھے جنہوں نے خود ابھی دسویں کلاس میں امتحان دینا تھا _ یہ ہی تو سوشل میڈیا کا لطف ہے
    یہاں ایک سے بڑھ کر ایک گپ مل سکتی ہے

    ابھی اس جھٹکے سے سنبھلے نہ تھے کے کسی دوشیزہ کی غمناک پوسٹ نے ٹویٹری آبادی کو پریشانی میں مبتلا کر رکھا تھا کے محترمہ نے اپنے ہاتھ کی فوٹو شئر کی جس پر ڈرپ لگی تھی کے وہ بیمار ہیں اور دعا کریں _ وللہ ٹویٹری شہزادے اسطرح پریشانی سے مرے جارہے تھے جیسے اسے کچھ ہوا تو وہ مر جائیں گے _ ایک سے بڑھ کر ایک بازو لمبی کرکرے دعا دے رہا تھا _ کچھ نے تو آگے بڑھ کر کمانڈ سنبھال لی اور اضافی ٹویٹ کرکرکے اعلان کرنے لگے کے فلاں کی طبیعت خراب ہے دعا کریں _ یہ وہ ہمدرد نونہال ہیں جنکی اپنی اماں جان بیمار ہوں تو انہیں پرواہ نہ ہو لیکن کسی متوقع حسینہ کیلئے یوں فرمانبردار بن کر دعائیں دیتے اور آسمان سے تارے توڑ لانے کے دعوے کرتے ہیں جیسے ان سے بڑا ہمدرد کوئی نہ ہو _ آخر کو یہ سوشل میڈیا کے ہیرو ہیں

    اب چونکے بقر عید کی آمد آمد ہے لہٰذا ایک دوشیزہ نے بکرے کیساتھ اپنی آدھی تصویر پوسٹ کرکے پوچھا بکرا کیسا ہے ؟بکرے کے نام پر سب اس دوشیزہ کی آدھی تصویر پر مرے جارہے تھے اور واہ واہ کرتے نہ تھکتے تھے ایسے میں ایک صاحب نے جھنجھلاتے ہوۓ کمنٹ کرکے پوچھا یہی بکرا اور یہ تصویر گزشتہ دو سال سے سوشل میڈیا پر کئی پوسٹوں میں گھمائ جارہی ہے آخر لوگ باز کیوں نہیں آتے ؟

    ایک صاحب نے فادر ڈے پر پوسٹ کرتے ہوۓ لکھا شکریہ ڈیڈی آپ نے مجھے سب کچھ دیا گھر میں پیسے کی چہل پہل بیرون ملک کی سیریں بنگلے ، بینک پلنس اور گھر میں دو تین گاڑیاں ہر وقت کھڑی رہتیں _ اصل میں اس پوسٹ میں شاعر کی مراد یہ تھی کے وہ تگڑی اسامی ہے اگر کوئی حسینہ متاثر ہوکر اس پر نظر کرم کر دے تو مہربانی ہوگی

    اللہ اللہ سوشل میڈیا پر جو لطیفےاور کامیڈی دیکھنے کو ملتی ہے اسکا بدل ڈراموں میں بھی نہیں _
    اس کامیڈی میں سیاستدان بھی حصہ ڈالتے ہیں جیسا کے نون لیگ کی نائب صدر مریم نواز نے اپنے والد کی فوٹو لندن سے اٹھا کر کشمیر کے پل پر لگا کر خوب شغل لگایا

    یہ اسی سوشل میڈیا کا کمال ہے یہاں ایک سے بڑھ کر ایک گپ پڑھنے کو ملے گی کیوں نہ ہو یہاں اکثر جوروش دیکھنے کو ملتی ہے وہ یہی ہے میری گپ میری مرضی

  • اخلاص بہت بڑی نعمت ہے. تحریر:ماریہ مغل

    اخلاص بہت بڑی نعمت ہے. تحریر:ماریہ مغل

    لکھنو بازار میں ایک غریب درزی کی دکان تھی جو ہر جنازے کے لۓ دکان بند کرتے تھے…
    لوگوں نے کہا کہ اس سے آپ کے کاروبار کا نقصان ہوگا،
    کہنے لگا کہ علماء سے سنا ہے کہ جو کسی مسلمان کے جنازے پر جاتا ھے کل اس کے جنازے پر لوگوں کا ہجوم ہوگا…
    میں غریب ہوں نہ زیادہ لوگ مجھے جانتے ہیں تو میرے جنازے پر کون آۓ گا…
    اس لیے ایک تو مسلمان کا حق سمجھ کر پڑھتا ہوں اور دوسرا یہ کہ شاید اس سے ہی اللہ پاک راضی ہو جائیں
    اللہ پاک کی شان دیکھیں کہ 1902ء میں مولانا عبدالحئ لکھنوی صاحب کا انتقال ہوا…

    ریڈیو پر بتلایا گیا، اخبارات میں جنازے کی خبر آگئی.. جنازے کے وقت لاکھوں کا مجمع تھا. پھر بھی بہت سے لوگ انکا جنازہ پڑھے سے محروم رہ گئے
    جب جنازہ گاہ میں ان کا جنازہ ختم ہوا تو اسی وقت جنازہ گاہ میں ایک دوسرا جنازہ داخل ہوا. اور اعلان ہوا کہ ایک اور عاجز مسلمان کا بھی جنازہ پڑھ کر جائیں…
    یہ دوسرا جنازہ اس درزی کا تھا… مولانا کے جنازے کے سب لوگ ، بڑے بڑے اللہ والے ، علماء کرام سب نے اس درزی کا جنازہ پڑھا اور پہلے جنازے سے جو لوگ رہ گئے تھے وہ بھی اس میں شامل ہوگئے ۔ اس غریب کا جنازہ تو مولانا کے جنازہ سے بھی بڑھ کر نکلا
    اللہ پاک نے اس درزی کی بات پوری کرکے اس کی لاج رکھی..۔
    اللّٰہ ﮬﻢ ﺳﺐ ﮐﯽ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﻣﯿں ﺁﺳﺎﻧﯿﺎﮞ ﻋﻄﺎ ﻓﺮﻣﺎﮰ ﺁﻣﯿﻦ💕
    @l_m_Mairi
    ماریہ مغل

  • محبت اور نکاح. تحریر: کنزہ صدیق

    محبت اور نکاح. تحریر: کنزہ صدیق

    محبت ایک بہترین تعلق ہے اور یہ تعلق جب نکاح جیسے پاک بندھن میں بندھ جاتا ہے تو یہ دنیا کا بہترین رشتہ کہلاتا ہے
    اللہ پاک نےاس رشتے بےشمار برکت رکھی ہے نکاح کے متعلق بہت سی احادیث وارد ہوئی ہیں جن میں ایک یہ بھی ہے
    حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
    تین طرح کے لوگ ہیں جنکی مدد اللہ پر حق اور واجب ہے
    1: اللہ کے راستے میں جہاد کرنے والا
    2:ایسا نکاح کرنے والا جو نکاح کے ذریعے پاکدامنی کی زندگی گزارنا چاہتا ہو
    3: وہ مکاتب جو مکاتبت کی رقم ادا کرکے آذاد ہوجانے کی کوشش کررہا ہو (سنن نسائی#3122
    اب بات آجاتی ہے کہ پسند کا نکاح اور بناء پوچھے بناء سمجھائے زبردستی نکاح۔۔
    ہمارے معاشرے میں یہ عجیب منطق ہے کہ اگر لڑکی اپنی پسند کا رشتہ بتاتی ہے تو وہ بےحیا یا بولڈ سمجھی جاتی ہے جبکہ بعض اوقات لڑکوں کے معاملے میں بھی کچھ اسی طرح ہوتا ہے والدین بچوں سے اس بات پہ خفا ہوجاتے ہیں کہ یہ زندگی کے بڑے فیصلے ہیں تو اس لیے یہ فیصلے بڑوں کو ہی کرنے چاہیے
    لیکن والدین کے لیے یہ سمجھنے کی بات ہے کہ ہمارا دین بھی اس بات کی اجازت دیتا ہے کہ اگر لڑکا یا لڑکی اپنی پسند کا اظہار کریں تو اس کی رائے کا احترام کیا جانا چاہیے
    اسی متعلق اس حدیث ہے جسکا مفہوم یہ ہے کہ بچوں کا رشتہ کرتے ہوئے انکی مرضی لازمی جان لینا چاہیے اگر وہ اپنی پسند کا اظہار کرئے تو اسے بےحیا نہ سمجھا جائے

    نکاح کے بعد اللہ پاک کی طرف سے میاں بیوی میں عجیب سی محبت پیدا ہوجاتی ہے یہ نکاح ہی کی برکت سے ہوتا ہے
    میاں بیوی کو چاہیے کہ وہ آپس کی اس محبت کو ہمیشہ قائم رکھیں جیسا کہ ہمارا دین محبت کا درس دیتا ہے
    حضور پاک اماں عائشہ سے بے تحاشہ محبت کرتے تھے
    آپ ﷺ کی حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے محبت کا عالم یہ تھا کہ آپ ﷺ ان کے پس خوردہ کو بھی پسند فرماتے تھے اور جہاں سے آپ رضی اللہ عنہا ہڈی سے گوشت کھاتیں سرکار ﷺ وہیں سے گوشت تناول فرمایا کرتے تھے۔ چنانچہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں : میں ہڈی سے دانتوں سے گوشت کھاتی تھی حالانکہ میں حائضہ ہوتی تھی اور وہ ہڈی حضور ﷺ کوپیش کردیتی تو آپ ﷺ اپنا دہن مبارک اسی جگہ رکھتے جس جگہ میں نے رکھا تھا اور میں (پیالے میں ) پانی پی کر حضور ﷺ کو پیالہ دیتی تو آ پ ﷺ اسی جگہ اپنا لب مبارک رکھتے جہاں سے میں نے پیا ہوتا
    اسطرح کا محبت بھرا انداز ہمیں گھریلو ناچاقیوں اور نفرتوں کے ستون کو ڈھانے اور ان سے چھٹکارا پانے کے دائمی اصول بتاتا ہے جن پر عمل کرکے زوجین اپنے درمیان نفرتوں اور کدورتوں کے بیج نکال کر محبت و الفت کے بیچ بوسکتے ہیں اور گھر کو امن کا گہوارہ بناسکتے ہیں۔
    اللہ حامی و ناصر ہو۔

  • پردے کی اہمیت.تحریر شمس الدین

    پردے کی اہمیت.تحریر شمس الدین

    اسلام میں پردے کے لحاظ سے عورتوں کے لیے پردے کا خاص حکم ہے. قرآن مجید میں پردے کے بارے میں آیتیں بھی نازل ہوئی ہیں….

    اللہ تعالیٰ قرآن میں فرماتا ہے،
    اور آپ مومن عورتوں كو كہہ ديجئے كہ وہ بھى اپنى نگاہيں نيچى ركھيں اور اپنى شرمگاہوں كى حفاظت كريں، اور اپنى زينت كو ظاہر نہ كريں، سوائے اسكے جو ظاہر ہے، اوراپنے گريبانوں پر اپنى اوڑھنياں ڈالے رہيں، اور اپنى آرائش كو كسى كے سامنے ظاہر نہ كريں، سوائے اپنے خاوندوں كے، يا اپنے والد كے، يا اپنے سسر كے، يا اپنے بيٹوں كے، يا اپنے خاوند كے بيٹوں كے، يا اپنے بھائيوں كے، يا اپنے بھتيجوں كے، يا اپنے بھانجوں كے، يا اپنے ميل جول كى عورتوں كے، يا غلاموں كے، يا ايسے نوكر چاكر مردوں كے جو شہوت والے نہ ہوں، يا ايسے بچوں كے جو عورتوں كے پردے كى باتوں سے مطلع نہيں، اور اس طرح زور زور سے پاؤں مار كر نہ چليں كہ انكى پوشيدہ زينت معلوم ہو جائے، اے مسلمانو! تم سب كے سب اللہ كى جانب توبہ كرو، تا كہ تم نجات پا جاؤ النور ( 31 ).

    اس طرح ایک اور آیت میں ہے،
    بڑى بوڑھى عورتيں جنہيں نكاح كى اميد ( اور خواہش ہى ) نہ رہى ہو وہ اگر اپنى چادر اتار ركھيں تو ان پر كوئى گناہ نہيں، بشرطيكہ وہ اپنا بناؤ سنگھار ظاہر كرنے والياں نہ ہوں، تاہم اگر ان سے بھى ا حتياط ركھيں تو ان كے ليے بہت بہتر اور افضل ہے، اور اللہ تعالى سنتا اور جانتا ہے النور ( 60 ).

    ایک اور آیت ہے،
    اے ايمان والو! جب تك تمہيں اجازت نہ دى جائے تم نبى كے گھروں ميں كھانے كے ليے نہ جايا كرو، ايسے وقت ميں كہ پكنے كا انتظار كرتے رہو، بلكہ جب تمہيں بلايا جائے تو جاؤ، اور جب كھا كر فارغ ہو چكو تو نكل كھڑے ہو، اور وہيں باتوں ميں مشغول نہ ہو جايا كرو، نبى كو تمہارى اس بات سے تكليف ہوتى ہے، تو وہ لحاظ كر جاتے ہيں، اور اللہ تعالى ( بيان ) حق ميں كسى كا لحاظ نہيں كرتا، جب تم نبى كى بيويوں سے كوئى چيز طلب كرو تو پردے كے پيچھے سے طلب كرو، ، تمہارے اور ان كے دلوں كے ليے كامل پاكيزگى يہى ہے، نہ تمہيں يہ جائز ہے كہ تم رسول اللہ ( صلى اللہ عليہ وسلم ) كو تكليف دو، اور نہ تمہيں يہ حلال ہے كہ آپ كے بعد كسى وقت بھى آپ كى بيويوں سے نكاح كرو، ( ياد ركھو ) اللہ كے نزديك يہ بہت بڑا گناہ ہے الاحزاب ( 53 ).
    قرآن پاک میں ایک اور جگہ حق تعالیٰ فرماتا ہے کہ ’’مسلمان عورتوں سے کہو کہ وہ بھی اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور اپنی عصمت میں فرق نہ آنے دیںاور اپنی زینت کو ظاہر نہ کریں سوائے اس کے کہ جو ظاہر ہے اور اپنے گریبانوں پر اپنی اوڑھنیاں ڈالے رکھیں اور اپنی آرائش کو کسی کے سامنے ظاہر نہ کریں سوائے اپنے خاوندوں کے یا اپنے والد یا اپنے خسر کے یا اپنے بہن، بھائیوں اور بچوں کے۔

    خواتین کو مستورات بھی کہا جاتا ہے اور مستور کا مطلب ہے چھپا ہوا، عورت کے پردہ کے حوالہ سے ایک حدیث مبارکہ میں آتا ہے کہ ’’حضرت عبداللہؓ سے روایت ہے کہ نبی کریمؐ نے فرمایا عورت پردہ میں رہنے کی چیز ہے کیوں کہ جب وہ باہر نکلتی ہے تو شیطان اسے بہکانے کے لئے موقع تلاش کرتا ہے‘‘ جامع ترمذی،جلد نمبر اول ، حدیث نمبر 1181۔ عورت کے پر دہ کو اس قدر اہمیت دی گئی ہے کہ اس کے لئے عبادت بھی پردہ کے بغیر اور بے پردہ جگہ پر کرنا منع فرمایا گیا ہے۔

  • مولوی کی بیٹیاں . تحریر: حمیرا نذیر

    مولوی کی بیٹیاں . تحریر: حمیرا نذیر

    بیٹی نے کہا بابا عید میں پانچ دن رہ گئے ہیں ہم نے کچھ بھی خریداری نہیں کی
    مولوی صاحب نے کہا اچھا میرا پتر !!!
    ابھی بہت دن ہیں خرید لیں گے چاند رات سے ایک دن قبل سب کچھ لے لیں گے۔ مولوی صاحب یہ بات کررہے تھے کہ آذان سنائی دی مولوی صاحب جو آنکھیں بیٹی کو جھوٹی تسلی دینے پر شرمندگی سے جھکائے ہوئے تھے انکو موقع مل گیا اور مسجد کی طرف چل دئے۔
    عید سے ایک دن قبل جب مولوی صاحب ہر طرف سے ناامید ہوگئے کیونکہ مانگنے سے عزت نفس جاتی ہے اور قرض لینا نہیں کیونکہ واپسی کی کوئی صورت ممکن ہی نہیں اور خود سے کسی کو توفیق نہیں ہوئی کیونکہ مولوی صاحب کے بچوں کے کونسے دل ہوتے ہیں جو مچلتے ہوں انکے کونسے احساسات ہوتے ہیں وہ کونسا فیلنگ رکھتے ہیں انہوں نے کونسا باہر نکلنا ہے۔
    جب کوئی انتظام نہ ہوا تو سوچا آج جتنی منطق اور استقراء قیاس پڑھا ہے سب کو بروئے کار لاکر بیٹی کو قائل کروں گا کہ بیٹا بڑی عید پر کوئی کپڑے نہیں پہنتا یہ تو قربانی کی عید ہے لیکن دھڑکا تھا کہ بیٹی بھی تو مولوی کی ہے یہ کہہ دیا کہ قربانی بھی تو آپ نہیں کررہے
    خیر سارا علم مستحضر کرکے گھر گیا تو بیٹیاں ہاتھوں میں پرچیاں لیکر منتظر تھیں کہ باباجان نے آج کا وعدہ کیا ہے تو ہمیں مطلوبہ چیزیں لادیں گے

    جیسے مولوی صاحب کھنگورا مارتے داخل ہوئے تو مولون سمجھ چکی تھی کہ بیٹوں کے دل ٹوٹنے والے ہیں تو وہ جلدی سے گئی پیاز لے آئی کہ پیاز کاٹنے کے بہانے آنسو بہا لے گی
    کیونکہ ماں تو ماں ہوتی ہے اسکے آنسو اولاد کے لئے تو پلکوں کی منڈیر پر ہی بسیرا کرتے ہیں لیکن وہ بیٹیوں کے سامنے شوہر کو اور باپ بیٹیوں کو ٹوٹتا نہ دیکھ سکے
    مولوی صاحب بیٹھے تو چھوٹی آنے لگی کہ پرچی تھماووں مولوی صاحب نظریں جھکائے جرابیں اتارنے لگے اور ٹوپی لپیٹ کے رکھی جو کہ علامت ہوتی ہے کہ ااسکے بعد باہر نہیں جانا کہ اچانک چھوٹی کو بڑی بیٹی بازو سے پکڑتی ہے اور اسے اشارے سے روکتی ہے اسکے ہاتھ سے پرچی لیکر اپنی پرچی میں رکھ کر چپکے سے چٹائی کے نیچے چھپاتی ہے یہ سب مولوی صاحب کن اکھیوں سے دیکھ رہے تھے لیکن نہ دیکھنے کی کمال فنکاری کررہے تھے مولون کے آنسو پیاز کے بہانے سیل رواں بنے ہوئے تھے مولوی صاحب کا سارا علم زیرو ہوگیا اسے لگا جیسے وہ سب سے زیادہ جاہل اجڈ اور گنوار ہے اس سے پہلے کہ مولوی صاحب کچھ کہتے تو بیٹی بولی بابا جان کل ہم نے نئے کپڑے نہیں لینے کیونکہ بڑی عید تو قربانی کی عید ہے اور کل آپ نے چاچو کے دو بیڑے ( بچھڑے ) بھی تو کرنے ہیں اور ہم نے وہاں آپکو بیڑے کرتے دیکھنا ہے تو سارا دن تو قربانی میں لگ جائیں گے ہم کپڑے کس وقت پہنیں گے؟

    چھوٹی عید کے پڑے ہوئے ہیں وہی پہن لیں گے وہ سارے دلائل جیسے کاپی پیسٹ کئے ہوں اس وقت دنیا کی سب سے زیادہ عالم فاضل اور سمجھدار بیٹی ہی لگی
    بیٹی کی یہ بات سن کر مولوی صاحب نے نظریں اٹھائی ایک نظر بیٹی کے چہرے پر ڈالی کچھ دیر کو گردن فخر سے تن گئی اپنی پگ کا شملہ اونچا بہت اونچا محسوس ہوا لیکن اگلے لمحے ہی بچیوں کی معصومانہ خواہشات کا یوں خود کشی کرنا اسکو توڑ گئی اسے اپنا آپ بے تحاشہ ناکام باپ جو عید پر بھی ضرورت کی خواہش نہ پوری کرسکا اس سے یہ برداشت نہ ہوا جلدی سے کمرے میں جاکر سونے کا کہہ کر بستر میں گھس گئے اور وہاں ہونٹ سی لیئے منہ کو بھینچا اور آنکھوں سے کہا تم آزاد ہو برس لو ورنہ غم کے اندر کے سونامی سے مر ہی جاو گئے ۔
    صبح اٹھ کر مولوی صاحب نماز کے لئے چلے گئے واپس آئے تو چھوٹی بیٹی نے دس بیس پچاس کے چند نوٹ پکڑے ہوئے تھے بولی بابا یہ پیسے ہیں آپ ایسے کریں کہ بھائی کو کپڑے لے دیں اس نے کل آپکے ساتھ مسجد جانا ہے اور وہ چھوٹا ہے گلی میں کھیلے گا تو سب کیا کہیں گے یہ ایک اور دھماکہ تھا

    لیکن بہن کا بھائی کے لئے پیار کیا ہوتا ہے سب سمجھا گیا۔
    ہمارے معاشرے میں اکثر مولوی حضرات کی زندگی اسی طرح کی کشمکش کی شکار ہے وہ شخص جو پورے محلے کو عید کی نماز پڑھاتا ہے خد اپنے اور اپنے بچوں کے لئے کپڑے بھی نہیں خرید سکتا۔ نہ ان لوگوں کی تنخواہ ہوری ہے نہ ہی آمدن کا زریعہ ایسے میں ہم لوگوں کو ہی ان کی مدد کرنی چاہیئے ہم 1500 روپے کا سوٹ 5000 روپے میں تو خرید لیتے ہیں مگر کسی غریب کی مدد نہ کرنے کے ہزاروں بہانے ڈھونڈتے ہیں۔ بڑے پلازہ میں جا کر دو کوڑی کی چیز ہزاروں روپوں میں چپ چاپ خرید لیتے ہیں لیکن اگر کوئی غریب 100، 50 مانگ لے تو فلا سفر بن کر اسے لیکچر دیتے ہیں۔ ایک دوسرے کی مدد سے ہی زندگی کا اصل مقصد حاصل کیا جا سکتا۔
    خدارا اپنی عید کی خوشیاں ان کے ساتھ ضرور شیئر کریں
    اللہ پاک آپ کی خیر فرمائے آمین یارب العلمین۔

  • سوشل میڈیا کی رشتے داریاں.تحریر:عامر سہیل

    سوشل میڈیا کی رشتے داریاں.تحریر:عامر سہیل

    عام زندگی کے علاوہ یہاں سوشل میڈیا پر بھی کئی بد کردار ، آوارہ اور عیاش فطرت لوگ صرف لڑکیاں پھنسانے اور انکی معصومیت سے فائدہ اٹھانے کیلئے آتے ہیں ، ان کا ایک خاص طریقہ کار ہوتا ہے ، جس پر عمل کر کے وہ لڑکی کو با آسانی شیشے میں اتار لیتے ہیں۔
    کبھی مذھب کا لبادہ اوڑھ کر خود کو پارسا ثابت کرنے کی کوشش کی جاتی ہے تو کبھی بہت میٹھا ، با اخلاق بن کر اعتماد جیتا جاتا ہے ، پھر انبکس شروع ہو جاتے ہیں ، فون نمبر مانگا جاتا ہے ، پھر تصاویر مانگی جاتی ہیں اور لڑکی کو یقین دلانے کیلئے الله اور رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) کی جھوٹی قسمیں تک کھائی جاتی ہیں کہ صرف میں ہی دیکھوں گا اور کسی کو نہیں دکھاؤں گا۔
    اب جو لڑکی بیوقوف ہوتی ہے یا اپنے حالات کی ستائی ہوتی ہے وہ ان باتوں میں آ جاتی ہے اور ان بے غیرتوں کو ہمدرد سمجھ کر اپنے حالات شئیر کر لیتی ہے اور اعتبار کر کے اپنی تباہی کا سامان کر لیتی ہے۔

    اور پھرجب وہ لڑکی مکمل طور پر ان کے بس میں آ جاتی ہے تو ملاقات پر اصرار کیا جاتا ہے ، ملنے سے انکار پر لڑکی کے گھر والوں کو بتانے کی دھمکیاں دے کر اس لڑکی کو باہر بلا کر اس کی عزت کا جنازہ نکال دیا جاتا ہے اور اس کی بھی ویڈیو اور تصاویر بنا لی جاتی ہیں جن کو مستقبل کی بلیک میلنگ کیلئے استعمال کیا جاتا ہے، یعنی ایک شریف لڑکی کو جسم فروشی کی اس دلدل میں دھکیل دیا جاتا ہے ، جس سے وہ چاہ کر بھی نہیں نکل سکتی ، لڑکی صرف اس ڈر کی وجہ سے کہ کہیں گھر والوں کو پتا نہ چل جائے ، بس تڑپتی ہے اور اپنی قسمت کو کوستی ہے کہ کس لمحے اس سے یہ غلطی ہوئی اور ہر لمحے موت کی دعا مانگتی ہے۔
    لہٰذا میری بہنوں سوشل میڈیا پر کسی شخص کا اعتبار نہ کریں جو آپ سے محبت کے نام پر گفتگو کرتا ہو یا مذھب کا سہارا لے کر آپ کے قریب ہونے کی کوشش کر رہا ہو ، یہ بھی ممکن ہے وہ آپ کے ساتھ اور بہت سی لڑکیوں کو بیوقوف بنا رہا ہو اسلئے خود بھی بچیں اور اپنی دوستوں کو بھی بچائیں!
    براہ مہربانی سوشل میڈیا پر لڑکوں سے رشتے داریاں نہ بنائیں ، نہ ہی ان کو اپنے فوٹو وغیرہ دکھائیں ،
    ضرورت کیا ہے آخر ، خود کو نمائش کیلئے پیش کرنے کی ؟؟؟
    کیا آپ کو ہونے والے ان نقصانات کا اندازہ ہے جو کل آپ کی آنے والی زندگی تک تباہ کرسکتے ہیں ؟؟؟
    اپنی تصاویر اپنی فیملی کے لئے رکھیں سوشل میڈیا پر ان تصاویر کا بنا اجازت کاپی کر کے غلط استعمال بھی ہو سکتا ہے اور آپ کو خبر تک نہیں ہوتی اور یہ چیز آپ کے لئے نقصان کا باعث بھی بن سکتی ہے !! ایسے کئی واقعات سامنے آئے ہیں جہاں لڑکیوں کی تصاویر یا ویڈیو بنائی گئی اور پھر انھیں بلیک میل کر کے غلط کام کرنے پر مجبور کیا گیا جس کے نتیجے میں کئی لڑکیوں نےخود کشی کر لی !.

    میری بہنو فرض کریں کہ
    اگر آپ ایسی ہی ایک لڑکی ہو جو ایسے کسی بے غیرت انسان کے ہتھے چڑھ گئی ہوں اور گھر والوں کے ڈر سے کسی کو بتا بھی نہیں سکتی کہ کیسے ان لوگوں یا حالات سے چھٹکارا پایا جائے ، تو میری بہنو ایک غلطی تو آپ سے ہوچکی ، جیسے بھی ہوئی مگر اب اس ڈر سے کہ گھر والے کیا کہیں گے ، آپ خاموش نہ رہیں پلیز ،اس سے پہلے کہ بہت دیر ہوجائے آپ اپنی امی ، بہن وغیرہ کو بتا کر ان سے مدد مانگیں ، ان کا غصہ وقتی ہوگا مگر ہوگا آپ ہی کی بھلائی میں ، اور آپ کو اس غلاظت سے نکلنے میں مدد دے گا اور آئندہ کیلئے ایک سبق بھی ۔ باقی معاف کرنے والی ذات اللہ پاک کی ہے وہ بہت مہربان اور معاف کرنے والا ہے !

    اب آخر میں !!!
    آوارہ اوباش لڑکوں اور مردوں کے لئے ایک پیغام !!!
    عورت مقدّس ہے اسکے تقدّس کو اپنے اعمال سے پامال مت کیجئے !
    یاد رکھیں!! کہ آپ آج جس طرح کسی اور کی بہن ، بیٹی کو ورغلا رہے ہو، اس کے ساتھ زنا کرنا چاھتے ہو کل کو یہی سب آپ کے گھر دہرایا جائے گا کیوں کہ دنیا مکافات عمل ہے ، کسی کی بیٹی کے تن سے چادر ہٹانے سے پہلے سوچنا کہ کل یہی کچھ آپ کی بہن بیٹی کے ساتھ بھی ہوسکتا ہی نہیں بلکہ لازمی ہوگا !
    آج اگر آپ کسی کی بچی کی زندگی خراب کرو گے تو کل آپ کی اپنی بیٹی بھی اسی مقام پر کھڑی ہوگی اور آپ کے پاس سوائے سر پیٹنے کے کوئی چارہ نہ ہوگا۔
    اگر آپ اپنے لئے ایک نیک بیوی اور نیک بیٹی کی کی آرزو رکھتے ہو تو دوسروں کی ماؤں ، بہنوں اور بیٹیوں کو بھی عزت دینا سیکھو ، کیونکہ ؛؛؛
    قران پاک میں ہے:
    الخَبيثٰتُ لِلخَبيثينَ وَالخَبيثونَ لِلخَبيثٰتِ ۖ وَالطَّيِّبٰتُ لِلطَّيِّبينَ وَالطَّيِّبونَ لِلطَّيِّبٰتِ ۚ ﴿٢٦﴾ سورة النور ۔
    (ترجمہ) ناپاک عورتیں ناپاک مردوں کے لئے ہیں اور ناپاک مرد ناپاک عورتوں کے لئے ہیں۔
    اور پاکیزہ عورتیں پاکیزہ مردوں کے لئے ہیں اور پاکیزہ مرد پاکیزہ عورتوں کے لیئے ہیں —

  • سادگی سے شادی زندگی میں آسانی.تحریر: شاہدہ بانو

    سادگی سے شادی زندگی میں آسانی.تحریر: شاہدہ بانو

    شادی دو انسانوں کے درمیان ایک پیار محبت کا ایک ایسا رشتہ ہے جس کو جوڑنے کے لیے نکاح جیسا پیارا عمل رکھا گیا ہے
    نکاح سنت انبیاء کرام ہے
    سنت کے مطابق شادی کرنے سے زندگی میں برکت آتی ہے
    نئے جوڑے نئے رشتے کے دل میں اطمنان اور پیار کا رشتہ بڑھتا ہے
    آج کل کے دور میں ہم لوگوں نے شادی کو اٹھا مشکل کر دیا کہ عام انسان کی پہنچ سے تو کہیں دور نکل چکی ہے شادی
    لڑکیاں جہیز نا ہونے کی وجہ سے گھروں میں بیٹھی بیٹھی بوڑھی ہو رہی ہیں
    جب کہ اسلام میں صرف نکاح اور حسب استطاعت ولیمہ پے بس
    نا جہیز کا تصور ہے
    نا اور کوئی رسم ہے
    صرف نکاح وہ بھی مسجد میں کریں تاکہ عام عوام تک نکاح کا پیغام پہنچ جائے
    اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اُس نکاح میں سب سے زیادہ برکت ہوتی ہے جس میں کم سے کم خرچ ہو
    إن اعظم النکاح برکة أیسرہ موٴنة
    (مسند احمد رقم: ۲۴۵۲۵) 

    شادی سادگی سے کی جائے جس جگہ رشتہ پسند آئے تو لڑکا یا لڑکی کا ولی اور سرپرست پیغامِ نکاح دیدے، جب منظور ہوجائے تو بلا کسی رسم ورواج کے کوئی دن مثلاًجمعہ کا روز مقرر کرلیا جائے، اس دن لڑکا اپنے والد اور ایک دو معزز افراد کے ساتھ لڑکی کے یہاں چلا جائے، وہاں کسی مسجد میں سب لوگ نماز ادا کریں، اور اس مسجد میں لڑکی کا ولی بھی لڑکی سے اجازت لے کر آجائے، بعد نماز تھوڑی دیر فریقین اور حاضرین مسجد میں بیٹھ جائیں ، پھر مسجد کا امام یا کوئی اہل فرد خطبہ پڑھ کر لڑکی کے ولی (یا وکیل) کی اجازت سے لڑکے کے سامنے ایجاب کرے، لڑکا قبول کرلے پھر مختصر دعا کرائے، بس نکاح ہوگیا، اس کے بعد لڑکی والے دلہن کو رخصت کرادیں، اگر اس موقع پر لڑکا اور اس کے ساتھ آنے والے دوچار افراد کو لڑکی والے کھانا کھلادیں تو اس میں بھی کوئی حرج نہیں۔ جب لڑکی رخصت ہوکر سسرال چلی آئے تو شبِ زفاف کے بعد لڑکا ولیمہ مسنون کردے، جس میں حسب حیثیت اعزہ واقارب نیز غرباء مساکین کو مدعو کرکے کھانا کھلادے۔

     آج کل شادی اور منگنی کے نام پر جو رسمیں کی جاتی ہیں، ان کا ترک ضروری ہے، نیز مروجہ بارات بھی واجب الترک ہے، شادی کی محفل میں تصویر کشی اور ویڈیو گرافی کی جو وباء پھیلی ہوئی ہے وہ تو قطعا ناجائز ہے، ان سے احتراز ضروری ہے۔

    آئیں سب سے پہلے اپنے گھروں سے ان غیر شرعی رسومات کا خاتمہ کریں پھر عام عوام تک آواز پہنچائیں

  • کہاں ملتا ہے انصاف : تحریر:ماشا نور

    کہاں ملتا ہے انصاف : تحریر:ماشا نور

    پولیس کا کام ملزم کو گرفتار کرنا اسکے خلاف ثبوت اکھٹا کرنا عدالت میں پیش کرنا ہوتا ہے جرم ثابت ہونا سزا دینا عدالت کا کام ہے مگر اس نظام میں جرم ثابت کیسے ہو ملزم گرفتاری سے قبل ضمانت لے لیتا ہے جو باآسانی مل جاتی ہے چھٹی والا دن ہو یا آدھی رات امیروں سیاستدانوں کے لیے عدالت کے دروازے آدھی راتوں تک کھلے ہیں، گرفتاری ہو بھی جاے تب کالے کوٹ والے کیس کو اتنا کھینچتے کے مدعی تنگ آکر مقدمہ واپس لے لیتا یا دنیا سے رخصت ہوجاتا، مشہور ماڈل ایان علی منی لانڈرنگ کیس میں ملزمہ کو گرفتار کیا گیا خوب پیشیاں ہوئی محترمہ جب پیشی پر تشریف لاتی تو معلوم ہوتا جیسے کسی بیوٹی پارلر کی اوپننگ پر تشریف لائی ہوں زبردست پروٹوکول دیا جاتا سیلفیاں بنوائی جاتی پولیس والے خوشی سے پھولے نا سماتے،

    ماڈل ایان علی 2015 میں اسلام آباد ائیرپورٹ سے دبئی پانچ لاکھ ڈالرز غیر قانونی طورپر لے جاتے ہوئے پکڑی گئیں تھیں، جس کے بعد انہیں تین ماہ جیل کی ہوا کھانی پڑی تھی، کیس کی سماعت کسٹم عدالت میں ہوئی اور عبوری چالان میں ملزمہ کو قصور وار قرار دیا گیا اور نام ای سی ایل میں ڈال دیا گیا بعد ازاں ایان علی نے لاہور ہائی کورٹ میں ضمانت کی درخواست دائر کی عدالت نے فیصلہ سنایا، بیرون ملک جانے کی اجازت کے بعد بیرون ملک روانہ ہوگئیں آج تک یہ کیس چل رہا ہے دوسری طرف ایان علی کو گرفتار کرنے والے کسٹم افسر اعجاز چوہدری کا قتل ہوا جو آج تک معمہ بنا ہوا ہے پولیس نے نامعلوم افراد کے خلاف مقدمہ درج کیا اعجاز چوہدری کی بیوہ نے کیس میں ایان علی کو شامل کرنے کی درخواست دی ، کیس آج تک لٹکا ہوا ہے انصاف نا ہوا نا ہی ایان علی کو سزا ہوئی، عدالتی نظام اتنا سست ناکارہ ہوچکا ہے جہاں غریبوں کو دو سنوائی پر سزا ہوجاتی وہی بڑے بڑے مگرمچھوں کو ضمانتیں باآسانی مل جاتی ہیں بہت سے مقدمے تو ایسے ہیں جہاں ملزم جیل میں دم توڑ جاتے انکی سنوائی ہوتی ہی نہیں بعد میں جب انکا نمبر آتا تب تک وہ مٹی تلے دفن ہوتے، شارہ خ جتوئی کیس بھی سب کے سامنے ہے کس طرح مجرم وکٹری کا نشان بناکر عدالت سے ضمانت لیے باہر آئے تھے،

    ایسا ایک انوکھا کیس جہاں ایک غیر ملکی نے دن دہاڑے دو معصوموں کو کچلا اور باآسانی پرائیوٹ جہاز سے اپنے وطن روانہ ہوااس کیس میں بھی کالے کوٹ والوں نے خوب کمال دکھایا دو جوان اولادوں کا خون کیسے کس طرح معاف کیا والدین نے سمجھنے والے سب سمجھتے ہیں

    یہاں بات نظام کو بدلنے انصاف دینے کی بھول ہی جائیں اگر آپ پیسے والے ہیں تو آپکو ضمانت آدھی رات کو بھی مل جاے گی ورنا سڑتے ہیں جیل میں یہی آپکا مقدر ہے نظام کو بدلنے کے دعوے کرنے والوں کے منہ پر طمانچہ ہے نواز شریف ملک سے فرار، مریم نواز کو بار بار ضمانت ملنا، زرداری کو ضمانت، اسحاق ڈار ملک سے فرار پھر یہ عدالتیں صرف غریبوں کو سزائیں دینے کے لیے بنائی گئیں ہیں یا ملزمان کو ملک سے فرار ہونے میں مدد کے لیے فیصلہ آپ خود کرسکتے ہیں ایک باشعور انسان کیا ان حالات میں انصاف کی امید رکھ سکتا ہے ؟ یہ ایک سوال آپکے لیے چھوڑے جارہی ہوں ۔۔۔۔۔۔۔
    تحریر ماشانور

  • مجھے زنا کی اجازت دے دیجیے . تحریر: حمیرا نذیر

    مجھے زنا کی اجازت دے دیجیے . تحریر: حمیرا نذیر

    مجھے زنا کی اجازت دے دیجیے . تحریر: حمیرا نذیر
    حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک نوجوان نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا یا رسول اللہ ! صلی اللہ علیہ وسلم مجھے زنا کرنے کی اجازت دے دیجئے لوگ اس کی طرف متوجہ ہو کر اسے ڈانٹنے لگے اور اسے پیچھے ہٹانے لگے، لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سے فرمایا میرے قریب آجاؤ، وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب جا کر بیٹھ گیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا کیا تم اپنی والدہ کے حق میں بدکاری کو پسند کرو گے؟ اس نے کہا اللہ کی قسم! کبھی نہیں، میں آپ پر قربان جاؤں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لوگ بھی اسے اپنی ماں کے لیے پسند نہیں کرتے، پھر پوچھا کیا تم اپنی بیٹی کے حق میں بدکاری کو پسند کرو گے؟ اس نے کہا اللہ کی قسم! کبھی نہیں، میں آپ پر قربان جاؤں،

    نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لوگ بھی اسے اپنی بیٹی کے لیے پسند نہیں کرتے، پھر پوچھا کیا تم اپنی بہن کے حق میں بدکاری کو پسند کرو گے؟ اس نے کہا اللہ کی قسم! کبھی نہیں، میں آپ پر قربان جاؤں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لوگ بھی اسے اپنی بہن کے لے پسند نہیں کرتے، پھر پوچھا کیا تم اپنی پھوپھی کے حق میں بدکاری کو پسند کرو گے؟ اس نے کہا اللہ کی قسم! کبھی نہیں، میں آپ پر قربان جاؤں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لوگ بھی اسے اپنی پھوپھی کے لیے پسند نہیں کرتے، پھر پوچھا کیا تم اپنی خالہ کے حق میں بدکاری کو پسند کرو گے؟ اس نے کہا کہ اللہ کی قسم کبھی نہیں، میں آپ پر قربان جاؤں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لوگ بھی اسے اپنی خالہ کے لیے پسند نہیں کرتے،

    پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا دست مبارک اس کے جسم پر رکھا اور دعاء کی کہ اے اللہ! اس کے گناہ معاف فرما، اس کے دل کو پاک فرما اور اس کی شرمگاہ کی حفاظت فرما، راوی کہتے ہیں کہ اس کے بعد اس نوجوان نے کبھی کسی کی طرف توجہ بھی نہیں کی۔
    مسند احمد جلد نہم:حدیث نمبر 2259​