Baaghi TV

Category: خواتین

  • بچوں کی تربیت کے اصول .تحریر: ماشانور

    بچوں کی تربیت کے اصول .تحریر: ماشانور

    بچوں کو صحیح تربیت دی جائے تو اس کا مطلب ہے کہ ایک اچھے اور مضبوط معاشرے کے لیے ایک صحیح بنیاد ڈال دی گئی ہے ترقی یافتہ دور میں جہاں آج انگلیوں کی مدد سے گھنٹوں کا کام منٹوں میں موبائل کمپوٹر پر ہوجاتا ہے وہی بہت سے رشتوں میں دوری کی وجہ یہ ٹیکنالوجی بھی ایک اہم ایشو ہے والدین بچوں پر وہ توجہ نہیں دے پارہے جو ماضی میں دی جاتی تھی اسکول سے ملنے والا کام ماں باپ خود چیک کرتے تھے آج کوچنگ پر پیسہ لگایا جارہا بہتر سے بہتر تعلیم کے لیے بڑے بڑے نامی گرامی کوچنگ سینٹرز میں بچوں کو ڈالا جاتا ہے

    والدین کی زمہ داری ہے بچوں کی تربیت بہت سے گھروں میں لڑائی جھگڑے بچوں کے زہن پر برا اثر چھوڑتے ہیں بچے وہی سیکھتے جھوٹ بولنا باتیں چھپانا ڈر کی وجہ سے کہ والد ماریں گے بچوں پر ہاتھ اٹھانا سب سے بڑی غلطی ہے اگربچے غلطی کرتے ہیں تو انھیں نصیحت اور آرام سے سمجھائیں اُسے تنہائی میں ڈانٹا جائے اور اس کام کی برائی بتائی جائے اور آئندہ ایسا نہ کرنے کو کہا جائے۔ پھر بھی اگر باز نہ آئے تو تھوڑی پٹائی بھی کی جاسکتی ہے۔اگر انھیں بات بات پر سب کے سامنے ڈانٹا مارا جاے تو بچے والدین سے دور ہوجاتے یا وہ نفساتی مسائل کا شکار ہوجاتے بچوں کو پیار محبت سے سمجھانا ضروری ہے انکی تربیت کا پہلا حصہ یہی ہے کے انکے ساتھ محبت سے پیش آیا جاےماحول کا بچوں پر اثر ہوتا ہے، ممکن ہے کہ غلط ماحول کی وجہ سے بچہ کوئی غلطی کربیٹھے، تو اس صورت حال کو بھی مد نظر رکھنا چاہیے کہ بچے سے غلطی کس سبب سے ہوئی؟

    اسی اعتبار سے اسے سمجھایا جائے بچے نرم گیلی مٹی کی طرح ہوتے ہیں ہم ان سے جس طرح پیش آئیں گے ان کی شکل ویسی ہی بن جائے گی۔بچہ اگر کوئی اچھا کام کرے تو اس کی حوصلہ افزائی کریں اس کی تعریف سب کے سامنے کھل کر کریں تاکہ بچے میں اعتماد پیدا ہو وہ اتنا ہی ہر کام میں آگے آگے رہیں گے زندگی میں کامیابی حاصل کرنے کے لیے بچوں میں ذمہ داری کا احساس پیدا کرنا والدین کا کام ہے ہمیں والدین کی حیثیت سے کچھ قاعدے بنانے اور حدود مقرر کرنی ہونگی تاکہ اس پر عمل کرکے ہم اپنے بچوں کی تربیت اچھی کرکے انکو معاشرے میں بہتر انسان بناسکیں۔

  • جہیز ، عدالت کا نیا حکم اور ہمارا معاشرہ .تحریر:عینی سحر

    جہیز ، عدالت کا نیا حکم اور ہمارا معاشرہ .تحریر:عینی سحر

    بچپن سے سنتے چلے آرہے ہیں جہیز ایک لعنت ہے لیکن اس لعنت سے چھٹکارا کسی بھی دور میں نہیں پایا جاسکا _ معاشرے میں جڑ پکڑ جانے والے اس رواج میں طبقہ ہاۓ زندگی کے ہر طبقے کو جکڑ رکھا ہے _ خواہ امیر لوگوں کا طبقہ ہو متوسط یا غریب ہر کوئی اپنی حیثت سے اس رواج کو زندہ رکھے ہوئے ہے _ امیروں کو شادی کے موقع پر جہیز کی صورت میں اپنی دولت کی نمائش کرنے اور دوسروں پر دولت کے بل بوتے پر دھاک بٹھانے کا ایک موقع مل جاتا ہے جس میں وہ کروڑوں کے گھر سے لیکر گاڑیوں سونے چاندی کے جہیز کے تحائف سے خوب نمائش کر پاتے ہیں _ عام طور پر ہمارے معاشرے میں اس نمائش کا اثر یہ ہوتا ہے کے اکثر لوگ مرعوب ہو جاتے ہیں اور یہ خواہش رکھتے ہیں کے خود بھی کچھ ایسا کرسکیں _

    دوسری جانب امیروں میں یہ دوڑ زور پکڑتی ہے اگر فلاں اتنا کرسکتا ہے تو میں اس سے بھی بڑھ کر دکھاؤں گا _ یہی دکھانے کی دوڑ معاشرے میں موجود متوسط اور غریب طبقے کو پیچھے چھوڑتے ہوۓ مزید بے بس بناتی ہے _ جہیز کا بوجھ ہر شخص نہیں اٹھا پاتا اور کچھ لوگ دوسروں کی دیکھا دیکھی جب بیٹے کا رشتہ طے کرتے ہیں تو ہونے والی بہو کے گھرانےسے بھی ایسی ہی توقع رکھتے ہیں _ کچھ لگی لپٹی باتوں سے اظہار کر دیتے ہیں تو کچھ کھل کر مطالبے کرتے ہیں اس احساس کے بغیر کے لڑکی کے والدین خواہ ان مطالبوں کو پورا کرسکیں یا نہیں

    جہیز کے اسی زور پکڑتے مطالبوں نے بہت سی جوان بچیوں کی شادیوں کو تاخیر میں ڈال رکھا ہے _ لڑکی کے والدین کیلئے محض جہیز کا بندوبست کرنا ہی نہیں شادی کا کھانے اور ہونے والی رسموں کا بھی خرچ اٹھانا ہوتا ہے جو کے مہنگائی کے اس دور میں کافی دشوار ہے _

    اتنی جدوجہد اور محنت کے بعد بھی جب غریب آدمی بیٹی کی شادی کا فریضہ ادا کر دیتا ہے تو پھر بھی اسکی بیٹی کو سسرال میں کم جہیز لانے کے طعنے اور کوسنے سننا پڑتے ہیں _ یہ ہمارا معاشرتی المیہ ہے _ کیوں کے کچھ لوگوں کی لالچی ذہنیت کسی کی بیٹی کی زندگی اجیرن بنا سکتی ہے _

    اگر جہیز دیکر بھی والدین اپنی بیٹیوں کی خوشیوں کی ضمانت حاصل کر سکیں تو بھی کافی ہوتا لیکن اسکے باوجود جہیز کے نامہ پر والدین کو لوٹنے کا سلسلہ جاری ہے _ افسوسناک پہلو یہ ہے کے کئی خواتین کی شادی کے بعد علیحدگی اور طلاق کے بعد انکے جہیز پر سسرال کا قبضہ رہتا ہے_ جو کے حقیقت میں ان خواتین کا حق ہے جو انھیں واپس دے دیا جانا چاہئیے _

    ایسی صورتحال میں چند خواتین نے عدالت سے مدد کیلئے رجوع کیا جب انھیں طلاق دے دی گئی تو جہیز واپس نہیں کیا جارہا _ مختلف مقدمات میں جہیز میں خریدے جانے والے سامان کی رسیدیں بھی عدالت میں پیش کی گئیں لیکن سسرال والے ان چیزوں کی موجودگی سے انکاری رہے اور نہ ہی انکو واپس کرنے کو تیار تھے _

    ٹوٹتے گھر کی بربادی ہی کافی نہ ہو بلکے اوپر سے دیا جانے والا جہیز بھی سسرال والے اینٹھ لیں تو یہ مظلوم پر مزید ظلم ہے _

    ایسے میں کئی مقدمات میں یہ شکایت عدالت تک پہنچائی گئی کے عدالتی حکم کے باوجود جہیز کا کافی سامان واپس نہیں کیا گیا _ مشکل یہ ہے کے جہیز کے اس سامان کو دیا جانا ثابت کرنا مشکل ہوتا ہے _

    ایسے بڑھتے ہوۓ واقعات نے عدالت کو اس مسلے کے حل کرنے کیلئے اقدام کرنے پر مجبور کردیا ہے _ لاہور ہائی کورٹ نے پنجاب حکومت کو اب حکم دیا ہے کے وہ نکاح ناموں میں اضافی خانوں کا اندراج کرے جہاں جہیز کی تفصیل درج کی جاسکے _ ایسے میں ہر چیز نکاح نامے میں لکھ دی جاۓ کے جہیز کے نام پر کیا دیا گیا_ نکاح ایک باہمی معاہدہ ہے اور اس پر جہیز کی تفصیل کا اندراج خواتین کو مستقبل میں تحفظ دے گا کے خدا نخواستہ اگر

    انکی شادی ناکام ہوتی ہے تو انکو دئیے جانے والے جہیز کا اندراج اس بات کو یقینی بناۓ گا کے سسرال کو وہ درج اشیاء واپس دینا ہونگیں _ لہٰذا یہ سب تحریری شکل میں محفوظ ہوگا _ ایسی صورت میں سسرال والے انکار یا جہیز کی واپسی میں حیل وحجت نہیں کرسکیں گے

    لاہور عدالت کے اس فیصلے سے نجی مقدمات کو تیزی سے نبھٹانے اور حقدار کو اسکا حق واپس دلانے میں مدد ملے گی _

    ہم میں سے ہر ایک کو جہیز کی اس لعنت کو ختم کرنے میں کردار ادا کرنا چاہئیے تاکے جہیز کے نام پر جوان لڑکیاں شادی کے انتظار میں بوڑھی نہ ہوں اور بیٹیوں کے والدین پر کسی قسم کا بوجھ نہ ڈالا جاۓ _

    ہمارے سامنے نبی پاک ﷺ کی ہے جنہوں نے اپنی پیاری بیٹی حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہہ کو چند ایک ضروری استعمال کی چیزوں کے سوا دنیاوی سامان نہ دیا بلکے اپنی بیٹی کو بہترین تربیت علم اور اخلاق سے مزین کیا _ یہی وہ بہترین تحفہ ہے جو والدین اپنی اولاد کو دے سکتے ہیں _

    بیٹیوں کی دی جانے والے تعلیم ، ہنر ، تربیت اور اخلاق ہی وہ دولت ہے جو تمام عمر انکے ساتھ رہے گی جبکے جہیز کے نام پر ملنے والا مال و اسباب ناپائیدار ہے جو ہمیشہ ساتھ نہیں رہ سکتا _

  • ‏فیشن زدہ حجاب جس میں پردے کو پردے کی ضرورت :تحریر معین ملک

    ‏فیشن زدہ حجاب جس میں پردے کو پردے کی ضرورت :تحریر معین ملک

    ‏ آج کل کی نوجوان نسل نے پردے کو کیا بنا لیا ھے ، میری سمجھ میں نہیں آتا یہ پردے کی کونسی شکل ھے ؟
    ‏ابھی پچھلے دنوں کی بات ھے ایک کلینک میں جانا ہوا، کافی رش تھا تو نمبر لیکر ایک طرف بیٹھ کر اپنی باری کا انتظار کرنے لگا ،،،،،،

    ‏اتنے میں تین نوجوان لڑکیاں بھی کلینک میں داخل ہوئیں، خوبصورت میکسی نما عبایا پہنے ہوئے ،بالکل چست آستینیں، گلے اور آستینوں پر بہت خوبصورت کام بنا ہوا ،،،،
    ‏سر پہ بڑی خوبصورتی اور نفاست سے چھوٹا سا اسکارف لپیٹا ہوا۔ سر پہ بائیں طرف اسکارف کے اوپر ایک نگینوں سے مزین پن لگائی ہوئی ۔۔۔

    ‏اسکارف اتنا چھوٹا کہ بمشکل چہرے سے تھوڑا سا نیچے گلے تک آرہا تھا ۔
    ‏اتنا بھی نہیں تھا کہ سینے کو تو ڈھانپ لے۔ عبایا ایسا کہ جسم کے سب نشیب وفراز کو واضح کررہا تھا، اسکارف صرف خوبصورتی کے لئے پہنا گیا جس میں چہرہ بھی کھلا ہوا تھا ۔
    ‏آنکھیں گویا نین کٹارے،،، سرمہ ،کاجل، لائنر اور ہونٹوں پر لپ اسٹک،،،،،،

    ‏دل میں درد کی ایک لہر سی اٹھی، پردے کے نام پر ایسی بے حیائی،،،؟
    ‏ایسے پردے کو تو خود پردے کی ضرورت ھے………….. !!!

    ‏اور کچھ خواتین جو تھوڑا سا چہرے کو ڈھانپنے کا اہتمام کر بھی لیتی ہیں مگر سینے انکے بھی کھلے ہوئے ہوتے ہیں،،، برقعے ایک سے بڑھ کر ایک اسٹائلش،،،، نت نئے ڈیزائن، کڑھائی، کٹ ورک، موتی ،نگینے ، رنگوں سے بھرپور،،،،،
    ‏پردے اور حجاب کے نام پر کیسے کیسے فیشن متعارف کرائے جارہے ہیں کہ وہ بجائے عورت کو ڈھانپنے کے مزید عیاں کر رہے ہیں ۔ نا دیکھنے والا بھی دیکھنے پر مجبور ہوجائے۔
    ‏ہر ایک نظر کو دعوت نظارہ دیتے ہوئے حجاب
    ‏ہماری خواتین نے برقعے اور حجاب کو بھی فیشن کے طور پر اپنالیا،،،،،
    ‏حسن اور خوبصورتی کے مقابلے،،،،،،
    ‏ایک دوسرے سے آگے نکل جانے کی دوڑ،،،،
    ‏سب میں نمایاں نظر آنے کا جذبہ،،،،،
    ‏فیشن کا حد سے بڑھتا شوق،،،،
    ‏افسوس صد افسوس،،،،

    ‏میری قابلِ احترام بہنو!!! یہ کس راستے پر چل پڑی ہو،، یہ وہ راستہ ھے جسے شیطان نے ہماری نظروں میں مزین کر کے دکھا دیا ھے،،،

    ‏ذرا سوچیں تو سہی کیا یہ وہی پردہ ھے قرآن نے جس کا حکم دیا ھے؟؟؟

    ‏يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ قُلْ لِأَزْوَاجِكَ وَبَنَاتِكَ وَنِسَاءِ الْمُؤْمِنِينَ يُدْنِينَ عَلَيْهِنَّ مِنْ جَلَابِيبِهِنَّ ۚ ذَٰلِكَ أَدْنَىٰ أَنْ يُعْرَفْنَ فَلَا يُؤْذَيْنَ ۗ وَكَانَ اللَّهُ غَفُورًا رَحِيمًا.
    ‏سورۃ الأحزاب. 59
    ‏اے نبی! اپنی بیویوں، اپنی بیٹیوں اور مومنوں کی عورتوں سے کہ دیجیے کہ وہ اپنی چادروں کے پلو اپنے اوپر لٹکا لیا کریں. اس طرح زیادہ توقع ہے کہ وہ پہچان لی جائیں اور انہیں ستایا نہ جائے اور اللہ تعالٰی معاف کرنے والا، رحم کرنے والا ہے.

    ‏قرآن جس پردے کا حکم دیتا ھے وہ تو مومن عورتوں کی زیب و زینت کو چھپانے کے واسطے ھے، تاکہ پہچان لی جائیں کہ یہ شریف باحیا عورتیں ہیں، ان پر کوئی میلی نظر نہ ڈالے،،،،
    ‏مگر آجکل جو کچھ پردے اور حجاب کے نام پر ہمارے سماج میں ہورہا ھے اگر اسے نہ روکا گیا تو پردہ خود ایک مذاق بن کر رہ جائے گا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    ‏برقع پہننے کا مطلب کیا ھے، اسکارف پہننے کا مطلب کیا ھے ۔۔۔ کیا دوسروں کی توجہ خواہ مخواہ اپنی طرف مبذول کرانا ،،،، ؟
    ‏جس طرح کے عبایا اور اسکارف ہم نے استعمال کرنا شروع کردیئے ہیں، کیا یہ واقعی پردے کے تقاضوں کو پورا کر رہے ہیں، یا ہم نے حجاب کے نام پر ایک اور زیب و زینت اختیار کر لی ھے،،،؟
    ‏اس طرح کے حجاب کا آخر مقصد کیا ھے؟ ہم کس کو خوش کررہے ہیں؟ کس کو متاثر کرنا چاہتے ہیں؟
    ‏ذرا اپنے دلوں کو ٹٹولیں تو سہی،
    ‏کیا یہ پردہ ہم اللہ کو خوش کرنے کے لئے کر رہے ہیں؟
    ‏کیا یہ پردہ ہمارے ایمان کے تقاضوں کو پورا کررہا ھے؟
    ‏پردہ تو عورت کو عزت اور عظمت عطا کرتا ھے، اسے دوسروں کی نظر میں باعزت بناتا ھے، اسے لوگوں میں معزز اور محترم ظاہر کرتا ھے ۔
    ‏اسے نامحرم مردوں کی حریص نظروں سے بچاتا ھے ۔ پردہ عورت کی حفاظت کرتا ھے ۔۔۔۔۔ !!!
    ‏لیکن جو پردہ آج ہم کررہے ہیں کیا وہ ان سارے تقاضوں کو پورا کررہا ھے؟؟؟

    ‏میری مودبانہ اور دردمندانہ درخواست ھے، اپنی مسلمان بہنوں سے، اپنے معاشرے سے، کہ خدارا پردے کو پردہ ہی رہنے دیں، اسے اپنی خواہشات اور فیشن کی بھینٹ نہ چڑھائیں ،،،،،
    ‏اپنے اسلامی وقار کو قائم رکھیں، سادگی کو اپنائیں، سادگی ایمان کا حصہ ھے، ر
    ‏فیشن سے عزت نہیں ملتی، اللہ عزت دیتا ھے، اپنی نیتوں کو ٹھیک کرلیں، ڈھیلے ڈھالے اور سادہ حجاب اور برقعے استعمال کریں، اللہ کی رضا و خوشنودی کو پیش نظر رکھیں، اللہ کا حکم پورا کرنے کے لئے پردہ کریں، دین کے احکامات کا تمسخر نہ اڑائیں،،،،،!!!

  • بچپن کی شرارت قسط 4۔۔۔ تحریر: طلعت سلام

    بچپن کی شرارت قسط 4۔۔۔ تحریر: طلعت سلام

    آپ سب بھی حیران ھونگے کے طلعت کتنی ساری شرارتی تھی، ہر دوسرے دن ایک نئی شرارت کے ساتھ سامنے آجاتی ہے۔
    بچپن کی یادیں ایک خزانے سے کم نہیں اور میرا خیال ہے کے میرے ساتھ اپ سب کی زندگی میں بھی بچپن کی حسین یادیں لازمی ھونگی۔
    اکثر میں جب اکیلی ھوتی اور کچھ کرنے کو نہیں ھوتا تو میں پرانی تصویریں نکال کے دیکھتی ہوں۔ اور یقین جانیں پرانی تصویریں دیکھنے سے ساری پرانی یادیں تازہ ھو جاتی ہیں اور جسم میں ایک نئی انرجی بھر جاتی ہے۔
    اپ کو بھی مشورہ ہے اگر کبھی گھر میں اکیلے بور ھورہے ھوں تو اپنی پرانی تصویریں دیکھا کریں۔ آپکے ھونٹوں پر مسکراہٹ آجائے گی۔
    اچھا جی اب چلتے ہیں ایک بہت ہی بیوقوفانہ قسم کی بچپن کی شرارت تو نہیں کہوں گی کیونکہ اس وقت میں نویں کلاس میں تھی۔ ھم لوگ ہر گرمی کی چھٹیوں میں پاکستان جایا کرتے تھے۔ اپنی دوسری قسط میں بتا چکی ھوں کے ھم لوگ ابوظہبی میں رہتے تھے۔
    جی جناب تو گرمیوں کی چھٹیاں ھم پاکستان میں گزارتے تھے۔ وہاں ھمارے ابو کے ایک دوست کی فیملی تھی وہ بھی دبئی سے ہر سال ھمارے آگے پیچھے ہی پاکستان جایا کرتی تھی۔ انکے 3 بچے تھے۔ ان میں سے دو مجھ سے بڑے تھے۔ وہ دو بہن بھائی اور ھم 3 بہنیں ھم پانچوں کی بہت بنتی تھی۔
    ایک دن ھم نے پروگرام بنایا کے سب مل کے کولڈ کافی پینے جاتے ہیں۔ کیونکہ کراچی میں گرمیاں بہت زیادہ تھیں۔
    ھم تینوں بہنیں چھوٹی تھیں اسلیے ڈرائیو نہیں کرتی تھیں۔ عمران جو کے ابو کے دوست کا بیٹا تھا وہ ڈرائیو کرتا تھا۔ تو ھم پانچوں اٹھے اور تیار ھو کے امی سے پیسے لیے اور یونیورسٹی روڈ پر اس وقت ایک ریسٹورنٹ ھوتا تھا عثمانیہ اس میں پہنچ گئے۔ کہاں پہلے میں ایک اکیلی شرارتی اور کہاں شرارتی بچوں کا ٹولہ ایک ساتھ۔
    ھم سب نے اندر جا کے کولڈ کافی آرڈر کی اور پینے لگے۔ ہنسی مذاق کے دوران میری چھوٹی بہن کے گلاس الٹ گیا۔ افففففف اسکے بعد تو پوچھیں مت مجھے شرارت سوجھی اور جھوٹ موٹ بہن کو ڈانٹنے لگی کے یہ کیا کر دیا۔ اتنا بڑا نقصان پورے دس روپے کی کافی تھی۔ اور تم نے الٹ دی۔ اور اسکے بعد اپنا اسٹرا اٹھایا اور ٹیبل پر گری کافی کو اسٹرا سے پینے کی ایکٹنگ کرنے لگی😂😂😂 میری بہنیں اور دوست سب زور زور سے ہنسنے لگے۔ ھماری ہنسی کی وجہ سے نہ صرف سارے لوگ ساتھ ویٹر بھی پریشان ھو کے آگیا۔ اور سارے آس پاس بیٹے لوگ مجھے ناکام کوشش کرتے دیکھکے ہنسنے لگے۔ ویٹر کہنے لگا کے میں دوسرا گلاس لادیتا ھوں۔ اور میں بجائے کہتی کے لے آو دوسرا گلاس۔

    میں نے اسے اونچی اونچی آواز میں لیکچر دینا شروع کردیا۔ کھانا گرنے پر گناہ ھوتا اور پیسے الگ ضائع ھوتے۔ میرے ابو بہت محنت سے کامتے ہیں اور اس نے گرا دیا۔۔۔ بلا بلا بلا😂😂😂
    اور میرے بک بک کی وجہ سے نہ صرف میری بہنیں دوست بلکہ قریب کی ٹیبل پر بیٹھے سارے لوگوں کی ہنسی رکنا مشکل ھوگئی۔ اس بیچارے ویٹر کو اتنا لیکچر دیا کے اسے کچھ سمجھ نہیں آیا بیچارہ پریشان ھوتا رہا۔ اور بھاگ کے فری میں دوسری کافی لے آیا۔ اس عمر میں بات بے بات ہنسی بہت آتی ہے۔ اور یہی ھم سب کے ساتھ ھو رھا تھا۔
    آج بھی جب اس واقعے کو سوچتی ہوں تو ہنسی روکنا مشکل ھو جاتی ہے۔ کیونکہ جس طرح میں نان اسٹاپ بولے جا رہی تھی اور بیچارہ ویٹر حیران ھو کے مجھے خاموشی سے دیکھ رھا تھا۔۔
    ویسے دل میں تو سوچ رہا ھو گا کے یہ کیا چیز ہے۔ پر مجھے کسی کی کوئی پروا نہیں تھی۔ اس دن میں نے اپنی شرارتوں سے سب کو اتنا ہنسایا کے مت پوچھیں۔ ویٹر تک کی ہنسی نہیں رک رہی تھی۔ ویسے جب ھم جانے لگے تو میں نے ویٹر کو اسپیشل ٹپ دی صرف مجھے برداشت کرنے کی وجہ سے۔ اور ویٹر زیادہ ٹپ ملنے پر اتنا خوش ھوا کے ھماری ساری بدتمیزوں والی شرارت بھول گیا۔
    اور میرا کافی شکریہ ادا کیا۔
    ویسے جو حرکت میں نے کی وہ آپ لوگ نہیں کرنا۔ آجکل ماحول مختلف ہے۔ کیا پتہ جوتے ہی پڑجائیں😂

  • “جب تم میں حیا باقی نہ رہے تو جو چاہے کرو”  تحریر:اقصٰی  یونس

    “جب تم میں حیا باقی نہ رہے تو جو چاہے کرو” تحریر:اقصٰی یونس

    ڈرامے اور فلیمیں اپنے معاشرے کی عکاسی اور اپنے کلچر کو فروغ دینے کیلئے بنائی جاتی ہیں مگر افسوس صد افسوس کہ جو کچھ آج کل ہمارے ڈراموں اور فلموں میں دکھایا جا رہا ہے وہ کسی طور ہمارے معاشرے کی عکاسی نہیں کرتا ۔ چینلز ریٹنگ کی دوڑ میں مغربی معاشرے اندھا دھند تقلید کیے جارہے ہیں اور اس تقلید میں وہ شاید یہ بھی بھول چکے کہ وہ ایک اسلامی ریاست کا حصہ ہیں ۔

    پاکستان ایک ایسا ملک ہے جس کی بنیاد ہے لاالہ الا اللہ پہ رکھی گئی مگر آج مغربی پراپیگندہ اپنی جڑیں اتنی مضبوطی سے پاکستان کے میڈیا میں گاڑ چکا ہے کہ اس کا کوئی حل شاید ہی ممکن ہو۔

    ایک وقت تھا جب پاکستان ٹیلی ویژن پہ بہت اچھا اور معیاری مواد دکھایا جاتا تھا ۔ نیوز اینکرز سر پہ سلیقے سے دوپٹہ جمائے نظر آتی تھی اور ڈراموں کے ذریعے انتہائی اہم اور نازک موضوعات کو زیر بحث لایا جاتا تھا ‎ٹیلی و یژن کبھی کسی زمانے  میں گھر بھر کی تفریح کیساتھ دنیا سے جوڑنے کا سبب تھا۔

    ‎اب مغرب کی اندھی تقلید  سے معاشرے کے بگاڑ وبربادی کا سبب بن گیا ہے۔ بے راہ روی  بے حیائی کے فروغ میں ٹی وی کا بہت بڑا کردار  ہے۔ جیسے جیسے چینلز کی تعداد میں اضافہ ہوا بے حیائی بڑھتی گئی۔ہمارے حکمران  چونکہ دین بیزار  ہیں اس لئے   میڈیا کا کوئی قبلہ کوئی  قانون نہیں۔ سو شتر بے مہار کی مانند  جس نے   جو چاہا دکھایا ۔ ننگ پن فحاشی کے وہ مناظر  دکھائے جانے لگے جنہیں  تنہائی  میں دیکھتے ہوئے  بھی شرم آجائے۔
    ‎ اینکرو کمپیئر کا دوپٹہ جو سر  سے نہ ہٹتا تھا گزرتے وقت کیساتھ   دوپٹہ ہی نہیں حیا بھی کہیں گم ہوگئی۔ اس وقت چند اسلامی چینلز  کے سوا  ہر ٹی وی  چینل  پر عریانی اور فحاشی کو ایسے فروغ دیا جارہا ہے "جیسے یہ کوئی لازمی زمینداری ہو”

    ہر ڈرامے میں بس طلاق اور افیئرز جیسے موضوعات زیر بحث لائے جاتے ہیں تو کہیں حاملہ عورت کا ڈی این اے ٹیسٹ ایک سنگین مسئلہ دکھایا جاتا ہے۔ جہاں کسی کو امیر دکھانا ہوں نیم برہنہ لباس پہنا دیا جاتا ہے۔ اور غربت دکھانے کو سر پہ دوپٹہ آوڑھا دیا جاتا ہے۔پہلے دوپٹہ غائب ہوا اب آہستہ آہستہ کپڑے بھی سکڑ کر مزید چھوٹے ہوتے جا رہے ہیں ۔ یہاں تک بھی بات قابل برداشت نہ تھا۔ مگر سونے پہ سہاگہ یہ ایوارڈ شو جو صرف بے حیائی کا بازار ہیں ۔ گزشتہ روز “ ہم سٹائل لکس ایوارڈ “ کی کچھ تصاویر دیکھنے کا اتفاق ہوا ان تصاویر کو دیکھ کر میں قلم اٹھائے بغیر نہ رہ سکی۔

    ان تصاویر میں دوپٹہ تو خیر نظر آنا کسی بنجر جگہ پر آم کے درخت دیکھنے کے مترادف تھا لیکن ان تصاویر سے صاف ظاہر تھا کہ ہم مغربی میڈیا سے کتنے متاثر اور اور اسکے کتنے دلدادہ ہیں ۔ خوبصورت نہیں بلکہ ماڈرن نظر آنے کی دوڑ میں ماڈلز اور اداکارہ خود کو نیم برہنہ کرنے پہ بھی راضی اور یہ مناظر کیمرے کی آنکھ میں قید ہو کر ساری دنیا تک پہنچے ہوں گے ۔

    رہی بات ریٹنگ کی دوڑ کی تو کون کہتا ہے کہ پاکستانی اچھے ڈراموں کی بجائے ساس بہو کی لڑائی اور بے حیائی کا تڑکا لگاتے ڈرامے دیکھنا چاہتے ہیں اگر ایسا ہوتا تو ارطغرل جیسا ڈرامہ جو اسلامی تاریخ کی عکاسی کرتا ہے ریٹنگ کے سارے ریکارڈ نہ توڑتا۔

    لباس جسم کو ڈھانپنے کا ذریعہ ہے ۔ مگر اب لباس کی تراش خراش جسمانی نشیب و فراز کو ظاہر کرنے کے لئے کی جاتی ہے اور اسے ترقی، ماڈرن ازم، جدید دور کی ضرورت اور روشن خیالی کا نام دیا گیا ہے۔ آج کے نوجوان فلم،ٹی وی ڈرامے، اشتہارات، اخبارات میں فلمی ستاروں کی تصاویر دیکھ کر ان کے جیسا بننے کا سوچتے ہیں۔ اب ہماری نئی نسل کی اکثریت کے رول ماڈل انڈین فلموں کے ہیرو‘ ہیروئن ہوتے ہیں اور ان کا خیال ہوتا ہے کہ اگر وہ بیہودہ لباس نہ پہنیں تو وہ ترقی یافتہ‘ روشن خیال نہ کہلائیں گے بلکہ ان کا شمار اولڈ کلاس میں ہو گا۔

    سوال یہ ہے کہ پیمرا اور ریگولیشن اتھارٹیز کیا بھانگ پی کر سو رہے ہیں ۔ پیمرا فقط ایک نوٹس دے کر سمجھتا ہے کہ اپنی ساری زمینداری سے سبکدوش ہوگیا۔ صرف پیمرا ہی کیوں قومی اسمبلی میں بیٹھے ہر شخص کو صرف کرسی کی بھوک کا لالچ ہے ان کی بلا سے کلچر ، ثقافت اور اخلاقیات جائے بھاڑ میں ۔ یہ زمینداری تو ہر شہری کی بھی ہے کہ وہ اس پہ آواز آٹھائے ۔ مگر اس مسئلے سے شاید نہ تو پیمرا کو غرض ہے نہ ہی کسی ریاستی ادارے کو ۔ کیونکہ یہ مسئلہ ان کے مفادات اور حرس سے کہیں پیچھے رہ گیا اور وہ کرسی کی دوڑ میں ریاست مدینہ کے دعویدار اپنی ساری زمینداریاں بھول بیٹھے ہیں ۔

    پیمرا کو چاہیے ٹیلی ویژن پہ نشر ہونے والے مواد کو مکمل طور پہ مانیٹر کیا جائے ۔ اور ہر وہ مواد جو بے حیائی کو فروغ دے اسے مکمل طور پہ بین کرکے متعلقہ چینل کو بھاری جرمانہ کیا جائے ۔ تاکہ آئیندہ کوئی ایسا پروجیکٹ کرے ہی نہ جس سے ہماری ثقافت اور کلچر کو نقصان پہنچے۔اور ایسے ڈراموں کو فروغ دیا جائے جو حقیقی معنوں میں ہمارے معاشرے ،ہمارے کلچر اور ثقافت کی عکاسی کرے۔

    وہ حیا جو کل تلک تھی مشرقی چہرے کا نُور
    لے اُڑی اُس نِکہتِ گُل کو یہ تہذیبِ فرنگ

    <Writer Aqsa Younas


     Aqsa Younas

    Aqsa Younas is a Freelance Journalist Content Writer, Blogger/Columnist and Social Media Activist. He is associated with various leading digital media sites in Pakistan and writes columns on political, international as well as social issues. To find out more about her work on her Twitter account

      

     


    https://twitter.com/AqsaRana890

  • بچوں کی تربیت میں والدین کا کردار.تحریر : ریحانہ جدون

    بچوں کی تربیت میں والدین کا کردار.تحریر : ریحانہ جدون

    بچوں کی تربیت بڑا کٹھن کام ہے کیونکہ آج کے اس دور میں بچے کی تربیت کے ساتھ ساتھ آپکو اپنی تربیت بھی کرنا پڑے گی, آ پکو اپنی عادات بھی درست کرنا پڑیں گی کیونکہ بچہ آ پ سے ہی سیکھتا ہے, آ پ ہی کی نقل کرتا ہے, ہر بات میں ویسا ہی ردعمل ظاہر کرنے کی کوشش کرتا ہے جیسا آ پ کرتے ہیں جیسا دیکھے گا ویسا کریگا اور جیسا سنے گا ویسا بولے گا. اپنا بچہ کس کو پیارا نہیں ہوتا… یہ ہمارے پیار کی شدت کا ہی ایک پہلو ہے کہ ہم اسکی ضرورت سے زیادہ دیکھ بھال اور نگرانی کرتے ہیں اور فکر رہتی ہے کہ اسکو کسی قسم کا نقصان نہ پہنچے اور ہر کوئی چاہتا ہے کہ اسکا بچہ ذہنی و جذباتی لحاظ سے بھی صحت مند ہو, اُسکا کردار اُسکی عادات اچھی ہوں اور بڑا ہوکر ایک مہذب اور کامیاب انسان بنے.

    ہماری اسی شدت آرزو کی وجہ سے ہم بچے کو متوازن بنانے کی کوشش میں خود متوازن نہیں رہتے اور کئی دفعہ ہم منفی رویہ اختیار کرجاتے ہیں, جیسا کہ عموماً ہم کرتے ہیں,, یہ نہ کرو, وہ نہ کرو, تم کوئی کام نہیں کرتے, یہ کیوں کِیا, یہ کیا کردیا, وغیرہ وغیرہ

    اب زرا غور کریں تو اس میں صرف دو جُز نظر آئیں گے ایک نفی اور دوسرا حکم کا…
    اور یہ دونوں اجزاء تعمیر کے نہیں بلکہ تخریب کے ہیں اور تربیت کے لئے سخت مضر.

    بیشک آپکا مقصد نیک ہے اور آپ اپنے بچے کو اچھا انسان بنانا چاہتے ہیں مگر یہ طریقہ درست نہیں کیونکہ اگر آ پ تعمیر چاہتے ہیں تو آپکا انداز بھی تعمیری ہونا چاہیے .بچہ ایک مستقل شخصیت رکھتا ہے اور اسکی شخصیت کو سمجھنے کی کوشش کرنا ہوگی. بچے کو مناسب آزادی دیں کہ وہ اپنی اصلی شخصیت ظاہر کرسکے. آپکی ڈانٹ ڈپٹ آپکا منفی رویہ بچے کی شخصیت کو دبا دے گا. کوشش کریں کہ اپنی شخصیت بچے پر مسلط نہ کریں.

    بات چیت اور رویے میں غصے, اکتاہٹ اور کھردرے پن کا ثبوت نہ دیں. اگر بچے کے کسی کام یا بات سے آپکو غصہ آ رہا ہوتو کوشش کریں اُس وقت بچے سے بات نہ کریں, اپنے غصے پر قابو پانے کے بعد بات کریں, صبر و ضبط کا ثبوت نہ دیں گے تو بچوں میں تحمل کہاں سے آئے گا؟اُن کو پیار سے سمجھائیں اور آپکا لہجہ ایسا ہونا چاہیے کہ بچہ اسکو غور سے سُنے اور سمجھے. جہاں تک ممکن ہو انکے کھیل کود میں دخل نہ دیں کیونکہ بچوں کا کھیل بھی انکے کام کا حصہ ہوتا ہے اور کھیل سے وہ کام کرنا سیکھتے بھی ہیں. بچوں کے ساتھ دوستانہ رہنمائی کا انداز اختیار کریں, منفی کی بجائے مثبت رویہ اپنائیں. اسطرح ایک مثبت ذہن تیار ہوگا.

    کئی والدین بچوں کے ساتھ سخت رویہ اپناتے ہیں اور نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ جب بچہ کوئی غلطی کردیتا ہے تو والدین کے خوف سے والدین سے بات چھپانے لگتا ہے, بچے کے ساتھ آپکا دوستانہ رویہ ہوگا تو بچہ ہر بات آ پ سے شیئر کریگا. بچہ جب اسکول یا مدرسے سے واپس آ ئے تو دوستانہ رویے سے پوچھیں آج میرےبچے نے کیا کیا پڑھا آج کیا کیا کِیا… اور دیکھنا وہ شوق سے آپکو بتائے گا ہم نے آج یہ پڑھا, آج یہ کھیل کھیلا وغیرہ

    کہنا یہ ہے کہ بچے کی اپنی شخصیت کو ابھرنے کا موقع دیں. آپ اپنی شخصیت کو زبردستی اس پر نہ مسلط کریں. بچے کو کسی جائز کام اور ضروری بات سے محض اس لئے نہ روکیں کہ وہ آپکے مزاج کے خلاف ہے یا آپ کے مشاغل میں فرق آتا ہے. دیکھیں ایک حیوان بھی اپنے بچوں کو بھوکا نہیں چھوڑتا کسی نہ کسی طرح انکا پیٹ بھر دیتا ہے, مگر صرف انسان ہی ہے جو اپنی اولاد کو اگر کچھ قیمتی دے سکتا ہے ہے تو وہ ہے بہترین تربیت… آ پکی یہی بہترین تربیت انسان کی بہترین خدمت بھی ہے اس طرح آپکا بچہ ایک بہترین اور مہذب انسان بنے گا انشاءاللہ

  • ندا ڈار اعزاز پانے کے قریب

    ندا ڈار اعزاز پانے کے قریب

    ندا ڈار ٹی ٹونٹی انٹرنیشنل کرکٹ میں 100 وکٹوں کا سنگ میل عبور کرنے کے قریب ہے، پاکستان اور ویسٹ انڈیز کے مابین 3 ٹی ٹونٹی انٹرنیشنل میچز پر مشتمل سیریز کا آغاز 30 جون سے ہوگا، سر ویون رچرڈز اسٹیڈیم میں کھیلے جانے والے ان میچز میں شائقین کرکٹ کی توجہ کا مرکز ندا ڈار ہوں گی، جنہیں ٹی ٹونٹی انٹرنیشنل کرکٹ میں 100 وکٹیں مکمل کرنے کے لیے صرف ایک وکٹ درکار ہے، گجرانوالہ سے تعلق رکھنے والی 34 سالہ کرکٹر پہلی پاکستانی اور دنیا کی پانچویں خاتون کرکٹر ہوں گی جو یہ اعزاز کریں گی، اس سے قبل ویسٹ انڈیز کی انیسہ محمد (120)، آسٹریلیا کی ایلیسا پیری (115)، جنوبی افریقہ کی شبنم اسماعیل (110) اور انگلینڈ کی آنیا شرب سول (102)، ہی یہ سنگ میل عبور کرسکی ہیں، ٹی ٹونٹی کرکٹ میں پاکستان کی سب سے کامیاب باؤلر ندا ڈار اب تک 18.35 رنز فی وکٹ کے اعتبار سے 99 وکٹیں حاصل کرچکی ہیں، ندا ڈار مینز یا ویمنز دونوں قسم کی کرکٹ میں یہ اعزاز حاصل کرنے والی پہلی پاکستانی کرکٹر ہوں گی.
    ندا ڈار کا کہنا ہے کہ کرکٹ ایک دلچسپ کھیل ہے، جو آپ کو اچھے اور برے دونوں طرح کی دن دکھاتا ہے، مگر اس سے وابستگی کبھی ختم نہیں ہوتی ہے، انہوں نے کہا کہ یقیناََ 100 ٹی ٹونٹی انٹرنیشنل وکٹوں کاسنگ میل عبور کرنا ان کے لیے خوشی کا باعث ہوگا تاہم اگر اس روز میچ میں ان کی پرفارمنس سے قومی خواتین کرکٹ ٹیم کو فائدہ ہوگا تو یہ خوشی دوبالا ہوجائے گی، ایک سینئر کھلاڑی اور آلراؤنڈر کی حیثیت سے اپنی ذمہ دایاں بخوبی جانتی ہیں اور کوشش کروں گی کہ اپنی کارکردگی کے ذریعے پاکستان کی فتوحات میں اضافہ کرسکوں.
    ندا ڈار نے آئی سی سی ویمنز ٹی ٹونٹی ورلڈکپ 2010 میں سری لنکا کے خلاف میچ سے اپنے کیرئیر کا آغاز کیا تھا، گو کہ اس سنسنی خیز میچ میں سری لنکا نے ایک رن سے کامیابی حاصل کی تھی تاہم ندا ڈار نے اس میچ میں محض 10 رنز کے عوض 2 وکٹیں حاصل کی تھیں، آلراؤنڈر اپنے ٹی ٹونٹی کرکٹ کیرئیر میں 1152 رنز بناچکی ہیں، وہ ٹی ٹونٹی انٹرنیشنل کرکٹ میں سب سے زیادہ رنز بنانے والی پاکستان کی تیسری بہترین بیٹسمین بھی ہیں، اب تک پاکستان کے لیے 105 ٹی ٹونٹی انٹرنیشنل میچز کھیل چکی ہیں، ان 110 میں سے 43 میچز میں پاکستان نے کامیابی حاصل کی ہے، انہوں نے ان 43 میچز میں 52 وکٹیں حاصل کیں ہیں.

  • کنٹریکٹ خواتین کھلاڑیوں کا اعلان کردیا گیا

    کنٹریکٹ خواتین کھلاڑیوں کا اعلان کردیا گیا

    پاکستان کرکٹ بورڈ نے اعلیٰ کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والی خواتین کھلاڑیوں کی حوصلہ افزائی کے لیے سینٹرل کنٹریکٹ برائے سیزن 22-2021 کا اعلان کردیا گیا ہے، سینٹرل کنٹریکٹ کی فہرست میں 12 خواتین کرکٹرزکو شامل کیا گیا ہے، تمام کٹیگریز کے ماہوار وظیفے میں 10 فیصد اضافہ کیا گیا ہے، جویریہ خان اور بسمہ معروف اے کٹیگری میں برقرار ہیں، ندا ڈار کی بی کٹیگری میں ترقی کی گئ ہے، پی سی بی ویمنز کرکٹر آف دی ایئر 2020 فاطمہ ثناء کو کٹیگری سی میں جگہ مل گئی ہے، کائنات امتیاز نشرہ سندھو، انعم امین، فاطمہ ثنا، کائنات امتیاز، ناہیدہ خان، عمیمہ سہیل اور سدرہ نوازبھی کٹیگری سی کا حصہ بن گئی ہے، فاطمہ ثناء کے علاوہ گزشتہ سال ایمرجنگ کنٹریکٹ حاصل کرنے والی تمام کرکٹرز رواں سال بھی ایمرجنگ کٹیگری میں شامل ہیں، رواں سال 12 خواتین کرکٹرز کو کنٹریکٹ سے نوازا گیا ہے، گزشتہ سال یہ تعداد 9 تھی، ان تمام کھلاڑیوں کے لیے اعلان کردہ کنٹریکٹ یکم جولائی سے لاگو ہوں گے، ان 12 کھلاڑیوں کو سینٹرل کنٹریکٹ کی اے، بی اور سی کیٹگریز میں تقسیم کیا گیا ہے، اس کے علاوہ ایمرجنگ کنٹریکٹ کی لسٹ میں بھی 8 کھلاڑی شامل ہیں،ایمرجنگ ویمنز کنٹریکٹ برائے سیزن 22-2021 میں عائشہ نسیم، کائنات حفیظ، منیبہ علی صدیقی، نجیہہ علوی،رامین شمیم، صباء نذیر ،سعدیہ اقبال اور سیدہ عروب شاہ شامل ہیں، انٹرنیشنل اور ڈومیسٹک کرکٹ میں گزشتہ ایک سالہ کارکردگی کو مدنظر رکھتے ہوئے ان تمام کھلاڑیوں کو کنٹریکٹ دئیے گئے ہیں، اس سلسلے میں آئندہ ڈومیسٹک کرکٹ اور مستقبل میں قومی خواتین کرکٹ ٹیم کی مصروفیات کو بھی پیش نظر رکھا گیا ہے، قومی خواتین کرکٹ کودورہ ویسٹ انڈیز کے بعد اب 2 ٹی ٹونٹی اور 3 ون ڈے انٹرنیشنل میچز کے لیے اکتوبر میں انگلینڈ کی میزبانی کرنی ہے، قومی خواتین کرکٹ ٹیم کو دسمبر میں آئی سی سی ویمنز ورلڈکپ کوالیفائر میں شرکت کرنی ہے، آئندہ سال پاکستان کو آئی سی سی ویمنز کرکٹ ورلڈکپ اور کامن ویلتھ گیمز میں بھی شرکت کرنی ہے، قومی خواتین کرکٹ ٹیم نے جنوری 2021 میں جنوبی افریقہ کا دورہ کیا تھا، جہاں سےاسکواڈ زمبابوے روانہ ہوا تھا تاہم کورونا وائرس کی عالمی وباء کے باعث وہ دورہ مکمل نہ کیا جاسکا تھا،علاوہ ازیں، سیزن 21-2020 میں پی سی بی نے قومی سہ فریقی ٹی ٹونٹی ویمنز چیمپئن شپ کا بھی انعقاد کیا تھا، جنوبی افریقہ کے خلاف تین ون ڈے انٹرنیشنل میچز کی سیریز میں دو نصف سنچریاں اسکور کرنے والی واحد کرکٹر ندا ڈار کو سینٹرل کنٹریکٹ کی کٹیگری سی سے بی میں ترقی دی گئی ہے، وہ جنوبی افریقہ کے خلاف ون ڈے انٹرنیشنل سیریز میں سب سے زیادہ رنز بنانے والی دوسری کھلاڑی تھیں،
    گذشتہ سال پی سی بی ویمنز ایمرجنگ کرکٹر آف دی ایئر کا ایوارڈ جیتنے والی فاطمہ ثنا ءکو سی کٹیگری میں ترقی مل گئی ہے، وہ اس سے قبل ایمرجنگ کٹیگری کا حصہ تھیں، 19 سالہ کرکٹر نے ڈومیسٹک ٹی ٹونٹی ٹورنامنٹ میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتےہوئے تین میچوں میں چار وکٹیں حاصل کی تھیں، اس دوران انہوں نے تین اننگز میں ناقابل شکست رہتے ہوئے 95 رنز بھی بنائے تھے، اس ٹورنامنٹ کی بہترین کھلاڑی قرار پانے والی کائنات امتیاز کو بھی موجودہ کنٹریکٹ کی سی کٹیگری میں شامل کیا گیا ہے۔ انہوں نے ٹورنامنٹ کی چار اننگز میں 111 رنز بنانے کے ساتھ ساتھ تین کھلاڑیوں کو بھی پویلین کی راہ دکھائی تھی، نشرہ سندھو کو بھی کٹیگری سی کا کنٹریکٹ پیش کیا گیا ہے، انہوں نےڈیانا بیگ (9 وکٹیں ) کے بعد گزشتہ سیزن میں پاکستان کی جانب سے ون ڈے انٹرنیشنل میں سب سے زیادہ (6 وکٹیں) حاصل کی تھیں، جنوبی افریقہ میں پاکستان کی قیادت کرنے والی جویریہ خان ویسٹ انڈیز کے خلاف 30 جون سے شروع ہونے والی سیریز میں بھی قومی خواتین کرکٹ ٹیم کی کپتانی کریں گی، تین ٹی ٹونٹی اور پانچ ون ڈےانٹرنیشنل میچز میں قومی ٹیم کی قیادت کرنے والی جویریہ خان کو سینٹرل کنٹریکٹ کی ٹاپ(اے) کیٹیگری میں برقرار رکھا گیا ہے، ان کے ساتھ بسمہ معروف بھی اسی کٹیگری کا حصہ ہیں، فاطمہ ثناء کے علاوہ گزشتہ سال ایمرجنگ کنٹریکٹ حاصل کرنے والی تمام کھلاڑیوں کو اس کٹیگری میں برقرار رکھا گیا ہے، اُدھر وکٹ کیپر سدرہ نواز کی کٹیگری بی سے سی میں تنزلی ہوگئی ہے.
    چیئرآف نیشنل ویمنز سلیکشن کمیٹی عروج ممتاز کا کہنا ہے کہ وہ سیزن 22-2021 کے لیے ویمنز کنٹریکٹ پانے والی تمام کھلاڑیوں کو مبارکباد پیش کرنا چاہتی ہیں، رواں سال 12 کھلاڑیوں کو سینٹرل کنٹریکٹ دیا گیا ہے، گزشتہ سال یہ تعداد 9 تھی، عمدہ کارکردگی کی بدولت فاطمہ ثناء کو ایمرجنگ سے ترقی دے کر سی کٹیگری میں شامل کرلیا گیا ہے، تاہم ایمرجنگ کٹیگری میں شامل باقی آٹھوں کھلاڑیوں کو رواں سال بھی ایمرجنگ کنٹریکٹ دیا گیا ہے، وہ عمدہ کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والی کھلاڑیوں کو سنٹرل کنٹریکٹ دے کر ان کی حوصلہ افزائی کرنا چاہتی ہیں۔ عروج ممتاز کا کہنا ہے کہ کوویڈ 19 کی وجہ سے گزشتہ سال دنیا کے لیے ایک چیلنج تھا مگر پی سی بی نےاس دوران بھی خواتین کرکٹرز کے لیے انٹرنیشنل اور ڈومیسٹک کرکٹ کا اہتمام کیے رکھا ہے، ندا ڈار نے جنوبی افریقہ میں متاثر کن کارکردگی کا مظاہرہ کیا، جس کے باعث انہیں سی سے بی کٹیگری میں ترقی دی گئی ہے، وہ پرامید ہیں کہ ندا ڈار ایک سینئر ممبر کی حیثیت سے یہ ذمہ داری نبھاتی رہیں گی اور اپنی کارکردگی کے ذریعے پاکستان کو میچز جتوانے کی کوشش کرتی رہیں گی، وہ کائنات امتیاز اور نشرہ سندھو کو بھی مبارکباد پیش کرنا چاہتی ہیں کہ جو بین الاقوامی اور ڈومیسٹک دونوں طرز کی کرکٹ میں اپنی کارکردگی سے سلیکٹرز کو متاثر کرنے میں کامیاب رہی ہیں، جہاں ہم نے چند کھلاڑیوں کی حوصلہ افزائی کے لیے انہیں سینٹرل کنٹریکٹ میں ترقی دی ہے تو وہیں ہم نے غیرتسلی بخش کارکردگی کا مظاہرہ کرنے پر سدرہ نوازکی کٹیگری بی سے سی میں تنزلی کردی ہے،
    سلیکشن کمیٹی چھ ماہ بعد کنٹریکٹ کی اس فہرست کا دوبارہ جائزہ لے گی اور اگر ضرورت پڑی تو اس پر نظرثانی بھی کی جائے گی تاہم ہمیں یقین ہے کہ یہ تمام کھلاڑی ہمارے اعتماد پر پورا اتریں گی.

  • خواتین۔۔۔ ذہنی اور جذباتی زیادتی، تحریر: طلعت کاشف سلام

    خواتین۔۔۔ ذہنی اور جذباتی زیادتی، تحریر: طلعت کاشف سلام

    اکثر دیکھا گیا ہے کے جب کسی کے ساتھ زیادتی ہوتی ہے تو انہیں پتہ ہی نہیں چلتا کے ان کے ساتھ زیادتی ہوئی یے۔

    کیونکہ وہ سمجھ ہی نہیں پاتی کے دوسرے آپ کے ساتھ زیادتی کر رہے ہیں۔ ذیادتی کس کس طرح کی ہوتی ہے اس پر ان کا دماغ جاتا ہی نہیں۔
    ذیادتی کا مطلب یہ نہیں کے کسی کی عزت ہی لوٹی جائے تو وہ ذیادتی کہلاتی ہے۔

    زیادتی بہت طرح سے ہوتی ہے۔ اور یہ ھماری زمداری ہے کے ھم اپنے بچوں کو سمجھائیں کے ذیادتی کے اصل معنی کیا ہیں۔

    بہت سے لوگوں کو اندازہ ہی نہیں کے کونسا سلوک یا انداز اچھا ہے اور کون سا انداز غنڈاگردی یا نامناسب ہے اور تہذیب کے دائرے میں نہیں آتا۔

    کیونکہ ہمارا معاشرہ ایسا ہے کے اپنے ہی گھر میں بعض لڑکیوں کو کھل کے سانس تک لینے کی اجازت نہیں ہوتی۔ اگر وہ کسی رشتہ دار کی شکایت کرتی ہے، کے اس نے مجھے غلط انداز میں چھوا، تو بجائے اس پر یقین کرنے کے یا تو ھم اسے چپ کروا دیتے ہیں یا ڈانٹ دیتے ہیں۔ یاد رکھیں ھماری آج کی خاموشی ھمارے بچوں کو ساری زندگی کے لیے احساس محرومی میں ڈال سکتی ہے۔

    ایسی بچی کل جب شادی ھو کے خاوند کے گھر جائے گی تو اسے خود کے ساتھ ہونے والی ذیادتی کا اندازہ ہی نہیں ھو پائے گا۔ کیونکہ وہ اپنے ہی گھر سے ایک ذھنی تناو والے انداز میں پروان چڑھی۔

    کیا ایسی عورت جو خود اپنے گھر میں جہاں اسے ذرا ذرا سی بات پر لڑکی ھونے کا طعنہ دیا گیا ھو۔ یا جس پر ھم نے کبھی یقین نہ کیا ھو یا اسکی شکایت پر کان نہ دھرا ھو، وہ اپنے بچوں کی صحیح انداز میں پرورش کر پائے گی؟؟؟
    نہیں کبھی نہیں۔۔۔
    کیونکہ اس کا ذہن اب ایک ہی انداز پر چلنے کا عادی ھو چکا ہے۔
    نہ وہ ایک اچھی ماں ثابت ھو گی اور نہ اچھی بیوی، کیونکہ اس کی خود کی سوچنے سمجھنے کی صلاحیت ختم ہو چکی ہے۔ وہ عادی ہو چکی ہے کے دوسرے اس کو انگلی پکڑ کر چلائیں۔ وہ عادی ہو چکی ہے کے لوگ اس پر اعتماد نہیں کرتے۔۔۔
    کبھی سوچا ہے کے کس قسم کے لڑکے ایسی لڑکی کی گود سے نکل کر مرد بنیں گے؟ وہ اپنے بچوں کو بھی اپنے جیسا ایک کمزور اور بزدل انداز میں پروان چڑھائے گی۔ اسی طرح بیٹی بھی ماں کی طرح اپنے سسرال میں سب زیادتیاں برداشت کرتی رہے گی۔

    جب ھم اپنے بچوں کو اپنے گھر میں ایک بھرپور زندگی جینے نہیں دے سکتے تو سمجھ لیں ھم نے اپنی آنے والی کئی نسلوں کا اعتماد ختم کردیا، انہیں اچھے برے کی تمیز نہیں دی۔ اپنے حق کے لیے آواز اٹھانا نہیں سکھائی۔

    ماں باپ کا فرض ہے کے اپنے بچوں سے کھل کے بات کی جائے انہیں زمانے میں چلنا، اٹھنا بیٹھا، اچھے برے، صحیح غلط اور ذہنی اور جسمانی زیادتی کے بارے میں سیکھایا جائے۔

    پرورش گھر سے شروع ھوتی ہے۔ بچوں میں اتنا شعور ھونا چاہیے کے غلط انداز اور اچھے انداز سے ہاتھ لگانے کا فرق سمجھ سکیں۔
    بچوں کو اتنا اعتماد دیں کے اگر کبھی انکے ساتھ گھر سے باہر کوئی زیادتی ہوئی ہے، تو اسے سمجھ سکیں اور اس پر آواز بلند کر سکیں، نہ کے شرما کے چپ ہوجائیں۔ خاموشی ہر بات کا علاج نہیں ہوتی۔ خاموش رہنے سے ھم معاشرے میں مزید غنڈاگردی کو عام کریں۔

    ھمارے بچے ھمارا سرمایہ ہیں۔ آئیں عہد کریں کے اپنے گھر سے شروعات کرتے ہیں۔ اپنی بچوں کو اتنا مظبوط بناتے ہیں کے وہ اپنے بچوں کی سہی پرورش کر سکیں، انہیں اعتماد دے سکے۔

    تحریر۔
    طلعت کاشف سلام
    @AlwaysTalat

  • حضرت محمدﷺ کا تجویز کردہ عمل حجامہ ، متعدد خطرناک بیماریوں کا علاج

    حضرت محمدﷺ کا تجویز کردہ عمل حجامہ ، متعدد خطرناک بیماریوں کا علاج

    بیماریاں پہلےقدیم زمانے میں بھی ہوا کرتی تھیں مگر اُس وقت اُن کی سمجھ بوجھ اور علاج کا شعور نہیں تھا، آ ج کل جہاں سائنس نے بے حد ترقی کر لی ہے وہیں صدیوں سے استعمال کیے جانے والا طریقہ حجامہ ’ کپنگ تھیراپی‘ نہ صرف آج بھی اپنی اہمیت اور افادیت رکھتا ہے بلکہ اب حجامہ بھی نئی جدت کے ساتھ کیا جاتا ہے حجامہ صدیوں سے استعمال کیے جانے والا سستا اور اسلامی تعلیمات سے تصدیق شدہ علاج ہے-

    حجامہ کیا ہے؟

    حجامہ دنیا میں تیزی سے مقبول ہوتا ہوا اسلامی طریقہ علاج ہے جسے مغربی ممالک اور غیر اسلامی ممالک میں cupping therapyکے نام سے جانا جاتا ہے دراصل حجامہ عربی زبان کے لفظ حجم سے نکلا ہے‘‘ جس کے معنی کھینچنا/چوسنا ہے۔

    اِس عمل میں مختلف حصوں کی کھال سے تھوڑا سا خون نکالا جاتا ہے۔ انسانی صحت کا دار و مدار جسمانی خون پر ہے اگر خون صحیح ہے تو انسان صحت مند ہے ورنہ مختلف بیماریوں کا شکار ہو جاتا ہے۔ بیماریاں اس فاسد خون کے ساتھ نکل جاتی ہیں۔

    حجامہ اسلامی تعلیمات سے تصدیق شدہ:

    حجامہ ایک قدیم علاج ہے اور ہمارے پیارے نبی حضرت محمدﷺ اور ملائکہ کا تجویز کردہ ہے اِس قدیم طریقہ علاج میں جسم کے 143 مقامات سے فاسد خون نکال کر مختلف بیماریوں کا علاج کیا جاتا ہے۔حضرت محمدﷺ نے حجامہ لگانے کو افضل عمل قرار دیا ہے۔

    حجامہ اور جدید میڈیکل سائنس:

    جدید میڈیکل سائنس اب تیزی سے حجامہ کی جانب متوجہ ہو رہی ہے۔ مغربی سائنس دان اور تحقیقاتی ادارے حجامہ پر مسلسل تحقیق میں مصروف ہیں،حجامہ سے علاج کا طریقہ 3000 سال قبل مسیح سے بھی پرانا ہےاس طریقہ علاج کا ذکر Ebers Papyrus(ریبس پائرس) نامی طبی کتاب میں بھی ہےجو 1550 قبل مسیح کی مشہور طبی کتاب ہے۔

    سائنس دان اس امر پر بھی حیران ہیں کہ ہزاروں سال قبل انسان نے میڈیکل کی اِس قدر پیچیدہ گتھی کس طرح سلجھائی تھی۔ اس کتاب کے علاوہ ماہرین آثار قدیمہ نے چائنیز تہذیب کی ایک قدیم کتاب بھی دریافت کر لی ہے۔

    اس کتاب کے مطابق چین میں حجامہ طریقہ علاج تین ہزار سال قبل مسیح سے رائج ہے۔ گریس کے مطابق تہذیب میں ہیپوکریٹس کے دریافت شدہ آثار میں ایسے کاغذات بھی دریافت ہوئے ہیں جو چار سو سال قبل مسیح میں تحریر کیے گئے تھے اور ان میں حجامہ طریقہ کار چار بنیادی نکات پیش کیے گئے تھے ان ہی چار نکات کو حضرت محمدﷺنے بہتر قرار دیا تھا۔ مشہور سائنس دان نے بھی اسی وجہ سے حجامہ کے بیان کردہ چار نکاتی فارمولے پر تحقیق کو آگے بڑھایا۔

    جدید سائنس میں حجامہ پر کی جانے والی تحقیق کے مطابق حجامہ کروانے سے جسم میں خون کی روانی بہتر ہوتی ہے، جمنے والا فاسد خون خارج ہو جاتا ہے، جسم سے زہریلا مواد نکل جاتا ہے-

    نہ صرف جدید سائنس بھی اس کی افادیت کی ناصرف قائل ہو گئی ہے بلکہ اب تو مغربی ممالک سے تعلق رکھنے والے افراد اور معروف شخصیات بھی جسم کو ڈیٹاکس کرنے کے لیے حجامہ کرواتے ہیں۔

    حجامہ متعدد بیماریوں کا علاج:

    حجامہ سے بلڈ پریشر، ٹینشن، جوڑوں کا درد، پٹھوں کا درد، کمر کا درد، ہڈیوں کا درد، سر کا درد (درد شقیقہ) مائیگرین، یرقان، دمہ، قبض، بواسیر، فالج، موٹاپا، کولیسٹرول، مرگی، گنجاپن، الرجی، عرق النساء وغیرہ اور اس کے علاوہ 70 سے زائد روحانی وجسمانی دونوں بیماریوں کا علاج کیا جاتا ہے۔

    یہ خون صاف کرتاہے اور حرام مغز کو فعال کرتا ہے، شریانوں پر اچھا اثر ہوتا ہے، پٹھوں کا اکڑاؤ ختم کرتا ہے، دمہ اور پھیپھڑوں کے امراض اور انجائنا کے لیے مفید ہے، آنکھوں کی بیماریوں کو بھی ختم کرتاہے، رحم کی بیماری ماہواری کے بند ہو جانے کی تکالیف اور ترتیب سے آنے کے لیے مفید ہے، گٹھیا عرق النساء اور نقرس کے درد کو ختم کرتا ہے، فشار خون میں آرام دیتا ہے، زہر خورانی میں مفید ہے، مواد بھرے زخموں کے لیے فائدہ مند ہےالرجی جسم کے کسی حصے میں درد کو فوری ختم کرتا ہے۔

    کچھ لوگوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس طرح انسان جادو کے اثر سے بھی نکل جاتا ہے۔سب سے بڑھ کر مسنون طریقہ علاج ہونے کی وجہ سے اہل ایمان کو ایک روحانی سکون ملتا ہے۔

    حجامہ کیسے کیا جاتا ہے؟

    حجامہ سے قبل مطلوبہ جسم کے حصے پر زیتون یا کلونجی کا تیل لگا دیا جاتا ہے جس سے جلد پرسکون رہتی ہے پھر جسم کے مختلف مقامات پر ہلکی ہلکی خراشیں لگا کر مخصوص قسم کے ٹرانسپیرنٹ کپ لگا دئیے جاتے ہیں۔

     خراش لگی ہوئی جگہوں سے خون کی بوندیں نکل کر کپ میں جمع ہوتی ہیں جنہیں پھینک دیا جاتا ہے۔ اور مریض خود کو ہلکا پھلکا اور تر و تازہ محسوس کرنے لگتا ہے ساتھ ہی اس کا مرض بھی دور ہوجاتا ہے۔

    بہت سے افراد جو کہ کسی مرض کا شکار نہیں ہیں محض جسم کو ہلکا پھلکا بنانے اور تر و تازگی حاصل کرنے کے لئے بھی ہر ماہ حجامہ کرواتے ہیں ۔ویسے بھی مہینے میں ایک دفعہ حجامہ کروانا عین سنت ہے۔یہ سارا عمل دس سے پندرہ منٹ میں مکمل ہوجاتا ہے اور خراشیں لگانے کے دوران کوئی تکلیف بھی نہیں ہوتی ایسے میں جسم گندے خون سے پاک ہو جاتا ہے اور انسان موجودہ شکایت سمیت متعدد بیماریوں سے بچ جاتا ہے۔

    عام طور پر لوگ سمجھتے ہیں کہ یہ ایک تکلیف دہ عمل ہوگا جبکہ حقیقت میں ایسا بالکل نہیں ہے حجامہ عام طور پر پشت پر کیا جاتا ہے اور مریض کو اس وقت حیرت ہوتی ہے جب اسے پتا چلتا ہے کہ یہ عمل مکمل ہو چکا ہے اور اسے کوئی تکلیف بھی نہیں ہوئی ۔

    چونکہ حجامہ ایک مکمل طریقہ علاج ہے اس لئے اس میں کسی طرح کی سخت پرہیز نہیں کرنی پڑتی جو کہ عام طور پر ایلو پیتھک ، ہومیو پیتھک ،یونانی یا دیگر علاج کے طریقوں میں کی جاتی ہیں۔ تاہم مکمل علاج کے لئے مریض کو سختی سے طب نبوی ﷺ میں دی گئی ہدایت کی پابندی کرنی چائیے۔

    حجامہ کے نتائج فوراً ہی ظاہر ہونا شروع ہوجاتے ہیں۔عام طور پر اگر کسی کو کوئی بیماری نہیں ہے اور وہ سنت نبوی ﷺ کے طور پر حجامہ کرواتا ہے تو حجامہ چند منٹوں میں ہی وہ خود کو ہلکا پھلکا محسوس کرنے لگتا ہے۔

    ہر صحت مند انسان کو مہینے میں ایک بار سنت کے طور پر گدی پر حجامہ ضرور کروانا چاہئیے جس سے 72 ایسی بیماریوں سے بچا جا سکتا ہے جن کا عام طور پر انسان کو خود بھی علم نہیں ہوتا۔

    خیال رہے کہ نیم حکیموں کی طرح حجامہ کے بھی جگہ جگہ کلینک کھولے گئے ہیں، حجامہ لگوانے کے لیے مستند اور تجربہ کارتھراپسٹ کا انتخاب ضروری ہے کیوں کہ ناتجربہ کار شخص صحیح حجامہ نہیں لگا سکتا جس وجہ سے علاج نہیں ہو پاتا اور مریض مایوس ہو جاتا ہے۔

    حجامہ کے کوئی سائیڈ ایفیکٹس نہیں ہیں بلکہ کسی ایک مقام پر حجامہ کرنے سے دیگر بہت سے فوائد بھی حاصل ہوتے ہیں حتیٰ کہ شوگر کے مریضوں کے زخم بھی 24 گھنٹوں میں بھر جاتے ہیں-