Baaghi TV

Category: خواتین

  • مرد اک جابر یا محافظ     تحریر :شاہ بانو

    مرد اک جابر یا محافظ تحریر :شاہ بانو

    مرد اک جابر یا محافظ
    تحریر شاہ بانو

    اس وقت یوں لگتا ہے دنیا میں عورتوں کو بڑا مقام دیا جا رہا ہے اور ہر طرف بس عورت کی چلتی ہے جہاں بھی عورت پہ ظلم ہو وہاں عورت کے حامی لوگ پہنچ جاتے ہیں اور پوری دنیا اس عورت کے ساتھ کھڑی ہو جاتی ہے ۔اب مرد کے لیے عورت پہ ظلم کرنا آسان نہیں رہا ۔

    اس سلسلے میں باقاعدہ women Day بھی منائا جاتا ہے اس دن عورت "کے لیے” بہت کچھ بولا جاتا یے اور اس کے لیے مزید کچھ کرنے کا عزم بھی کیا جاتا ہے مرد کی پابندیوں میں جکڑی عورت کو اس پنجرے سے نکلنے کی راہیں بتائی جاتی ہیں سلوگن دئیے جاتے ہیں۔ مثلا "اپنی روٹی خود پکا لو” "نوکری کرنا میرا حق ہے ” وغیرہ۔

    اب میں سوچ رہی تھی چلو عورت کو بھی سکون کا سانس نصیب ہوگا جب وہ مرد کے بچھائے گئے جال سے نکلے گی نورالعین کی شادی کو ابھی چار پانچ سال ہوئے تھے وہ شوہر کے ساتھ ہنسی خوشی رہ رہی تھی ۔لیکن اس کی دوست اسی نعرے کی دلدادہ ہو کر اسے بھی سمجھانے لگی اور سہانے خواب دکھانے لگی ۔

    پھر ایک دن اس نے سوچا میں بھی اس شکنجے سے نکلوں گی اور اپنے شوہر کا کام ،اس کے کپڑے دھونا ،اس کی روٹی بنانا ،اس کے چھوٹے موٹے سب کاموں سے جان چھڑوا کر آزاد زندگی بسر کروں گی اپنی خوشی سے زندگی بسر کرنے کے لیے جاب کروں گی ۔

    بالآخر اس نے ایک دن اپنا حق حاصل کر لیا اور شوہر کے کاموں سے ہاتھ اٹھا کر برقعے کو پٹخ مارا ،ماڈرن طرز کا لباس زیب تن کیا دوپٹے کو بس کندھے پہ لٹکائے خود بازار کے لیے نکلی ۔

    جونہی باہر نکلی چند لڑکے دیکھ کر مسکرانے لگے اور کوشش کرنے لگے کہ قریب سے چھو کر گزرنے کی ۔لیکن وہ پہلی بار نکلی تھی سو پریشان ہو گئی ادھر ادھر دیکھا کہ کسی کی اوٹ میں ہو جائے لیکن کس کی اوٹ میں ہوتی وہاں تو سب غیر تھے اور ہر کوئی اپنی مستی میں تھا ۔ اسے یاد آیا جب وہ شوہر کے ساتھ ہوتی تھی تو کوئی نہیں دیکھتا تھا اگر کوئی دیکھتا تھا تو وہ شوہر کی اوٹ میں ہو جاتی اور آوارہ لڑکے بھی شوہر کو دیکھ کر نو دو گیارہ ہو جاتے تھے ۔

    یہی نہیں جہاں رش ہوتا لوگ دیکھتے برقعہ والی عورت یے تو ہٹ کر راستہ دیتے بلکہ کہیں مثلا پٹرول ڈلوانے جاتے یا شاپ پہ تو لوگ اسے دیکھ کر ان کا کام پہلے کر دیتے اور آنکھوں میں عزت ہوتی تھی لیکن اب کیا کر سکتی تھی سووہ تیز تیز چلتی رکشے والے کو روک کر اس میں بیٹھ گئی ۔

    رکشے والا بھی جان بوجھ کر ذومعنی باتیں کرنے لگا وہ پریشان سی ہو گئی اب اسے یاد آیا جب وہ شوہر کے ساتھ ہوتی تھی تو
    یہ رکشے والے تو بات بھی نہیں کرتے تھے لیکن کیا کرتی ۔رکشے والا خوامخواہ گھماتا رہا اور وہ بڑی مشکل سے جان چھڑوا کر بازار
    گئی وہاں مزے سے شاپنگ کرنے کے تصور سے آئی تھی لیکن لیکن وہاں بھی اسی طرح کے مسائل کا سامنا تھا ۔

    بالآخر وہ گھر آ گئی ۔ اس نے دوست کو کال کر کے سب بتایا لیکن اس نے ہمت بندھائی کہ حقوق حاصل کرنے ہیں تو سب برداشت کرو۔
    سو شوہر کو میسج کیا کہ اب میں کوئی کام نہیں کروں گی کھانے کا بندوبست کرتے آنا رات کو وہ پریشان تھا لیکن مرتا کیا نہ کرتا آتے ہوئے کھانا کھا کر آیا تھا۔

    سارے کاموں سے جواب دے کر زارا دہی بھلے کھا کر سو گئی ۔اگلی صبح شوہر اٹھا چینج کیے اور بغیر ناشتے کے گھر سے نکل گیا۔
    وہ خوش تھی کہ اب تو سکون ہے کچن میں مسکراتے ہوئے ناشتہ کرنے گئی تو مسکراہٹ ایک دم غائب ہو گئی کیونکہ کچن میں کھانے کو کچھ نہ تھا حتی کہ راشن بھی ایک دم غائب ہو گیا ۔

    اس نے شوہر کو کال کی "راشن کہاں ہے ” جواب ملا جب تم میرے کر کام سے ہاتھ اٹھا چکی تو میری ذمہ داری بھی ختم مغرب میں مرد عورت کے نان نفقہ کا پابند نہیں بلکہ عورت اپنے روٹی پانی کا خود انتظام کرتی ہے اب وہ پریشانی میں نوکری ڈھونڈنے نکلی۔ لیکن ایک دم کہاں سے ملتی ۔دوست کو کال کی اس نے کہا میں بات کرتی ہوں حقوق نسواں والوں سے بس تم آ جاؤ میرے پاس ہی ۔وہ بوریا بستر سمیٹ کر اسی کے پاس چلی گئی ۔

    عورت کے حقوق کے علمبرداروں فوری طور پہ ایک جگہ سٹور میں اسے سیلز گرل کی جاب دلوادی ۔(ہاں بھئی کیوں پکائے وہ روٹی )۔
    وہاں پہ ہر آنے والے کو مسکرا کر دیکھنے اور کسٹمر کی ہر ڈیمانڈ کو پورا کرنے کی ہدایت ملی اس کی عجیب لگا لیکن پھر اسے لگا وہ آزاد ہونے جا رہی ہے کچھ تو مشکلات ہوں گی لیکن آزادی تو مل جائے گی ۔

    اب ہر آنے والے کسٹمر کو مسکرا کر دیکھتی چاہے کسی دن دل اداس اور پریشان ہی ہوتا ، مسکرانا فرض تھا اس نے محسوس کیا اکثر کسٹمر سودا پکڑتے ہوئے اس کے ہاتھ کو بھی جان بوجھ کر ٹچ کرتے ہیں۔اس کی اس نے شکایت کی تو ہدایت ملی کسٹمر کو ناراض نہیں کرنا یہ سب برداشت کریں۔

    اس سب کے ساتھ جب وہ رات کو تھکی ہاری گھر آتی تو اسے رات کو کھانا بنانا پڑتا ،صبح بھی اپنے لیے ناشتہ بنا کر جاب پہ جانا پڑتا تو اسے یاد آتا جب وہ شوہر کے شکنجے میں تھی تو ناشتہ بنا کر جب شوہر چلا جاتا تو وہ لیٹ جاتی تھی ۔

    گھر ہفتے بعد بیٹھنا نصیب ہوا تو خیال آیا کپڑے بھی دھونے ہیں چاہے اپنے ہی سہی ۔کپڑے دھوئے۔گھر کا کھانا کھائے کتنے دن گزر گئے وہ بھی بنایا۔ہفتے بھر کے لیے دیگر کام بھی نمٹائے۔اپنے کمرے کی صفائی بھی کی اسے یاد آیا کہ شوہر کے شکنجے میں تھی تو صفائی اور کپڑے تو کام والی ماسی سے کرواتی تھی ۔

    لیکن آج وہ تھک کر چکنا چور ہو کر لیٹ گئی اور ایسی نیند آئی اگلے دن لیٹ آنکھ کھلی اسے بخار تھا لیکن چھٹی نہیں کر سکتی تھی ، وہ بغیر ناشتہ کیے سٹور پہ پہنچی لیکن وہاں پہ بھی اسے سخت سننی پڑی لیکن اسی حالت میں مسکرا مسکرا کر کسٹمرز کو ویلکم کیا اور سب برداشت بھی کیا۔

    اسے یاد آیا جب وہ شوہر کے شکنجے میں بخار میں سارا دن بھی لیٹ کر گزار دیتی اور رات کو شوہر کو پتہ چلتا بخار کی وجہ سے اتھ نہیں پائی تو وہ الٹا پریشان ہو جاتا بغیر کھانا کھائے اسے ڈاکٹر کے پاس لے جاتا ،واپسی میں جوس، فروٹ اور کھانا بازار سے پیک کروا کر لے آتا۔گھر آتے ہی کھانا خود ڈال کر دیتا، میڈیسن کھلا کر سونے کا کہتا ۔

    صبح ناشتہ بھی بازار سے آتا اور جاب پہ جاتے ہوئے ہدایت ملتی کہ کام نہیں کرنا ۔آتے ہوئے کھانا لے آؤں گا ۔ خیر حقوق حاصل کرنے ہیں تو قربانی تو دینی ہی پڑے گی کچھ دن بعد اس کا پھر جاب پہ جانے کو دل نہ کیا اس نے چھٹی کر لی ۔لیکن اگلے دن جاب پہ گئی تو پتہ چلا کہ بلاوجہ چھٹی کرنے پہ اس کی آدھی تنخواہ کاٹ لی جائے گی ۔اس کی تو جان پہ بن گئی کیونکہ وہ تو قرض اٹھا کر مہینہ گزار رہی تھی
    اب کیا کرے گی ؟

    اسے مشورہ ملا پارٹ ٹائم جاب کر لو اچانک اس کا دماغ جیسے روشن ہو گیا اس کے ذہن میں آیا جب وہ مرد کے شکنجے میں تھی تو صرف شوہر کو مسکرا کر دیکھنے اور اس کی ہر ڈیمانڈ پوری کرنے کی پابند تھی ۔

    وہ صرف اسی کی روٹی بناتی تھی اور اسی کی خوشی درکار تھی اب کتنے مردوں کی خوشی درکار ہے دو ٹکوں کے لیے جو اس کا شوہر اسے گھر پہ لاکر دیتا تھا جن کے بدلے وہ دل کی خوشی سے سارا کام کرتی تھی اسے کہا گیا تمہارا مرد تمہاری مرضی سے تمہیں چھو سکتا ہے ،لیکن کسٹمر کے چھونے کو مائنڈ نہیں کرنا ۔

    شوہر کو جی چاہے تو مسکرا کر دیکھو جبکہ کسٹمر کو لازمی مسکرا کر دیکھوبرقعے میں تو کسی مرد کو نظر نہ پڑتی تھی لیکن اب سارا دن میک اپ کیے کھلے منہ پہ مردوں کی چبھتی ہوئی نظریں برداشت کرنی پڑتی تھیں ۔

    راستے میں آنے والے مردوں کے جملے ،چھونے کی کوشش، مسکراتے لبوں کے خاموش پیغام سب برداشت کرو بس شوہر کے شکنجے سے نکلویعنی اسے ایک محافظ چھت سے نکل کر ایک ایسے میدان میں پھینک دیا گیا تھا جہاں وہ ہر طرف مردوں کی ہوس بھری نظروں کی تسکین تھی۔

    یعنی شوہر کی تسکین بننا غلامی ہے اور کئی مردوں کی بننا آزادی؟یہ کیسی آزادی ہے یہ تو مردوں کی آزادی ہے اسے مردوں کے آگے چارہ بنا کر پھینکا گیا تو دوسری طرف اسے کولہو کا بیل بنا دیا گیا تھا شوہر کو جو ادائیں اور ناز دکھاتی تھی وہ کون دیکھتا؟اب تو بس رپورٹ کی سی زندگی تھی ۔

    اسے سمجھ آ گئی تھی یہ سب بہت بڑا دھوکہ ہے اس اسے حقوق کے نام پہ اس کے حقوق چھینے جاریے تھے اس کی چھت چھینی جارہی تھی۔اس کے سکون کے لمحات چھینے جاری تھے اسے پرانی زندگی یاد آئی تو کے بھائی ،اس کا باپ سب ہی لئے اپنے محافظ نظر آئے۔۔اسے کہیں کوئی رشتہ نہ لگا کہ اس کے لیے عذاب ہے جو وہ پابندیاں لگاتے تھے وہ دراصل اس کی حفاظت کے لئے تھیں۔

    اس کی آنکھیں کھل چکی تھیں وہ لوٹ آئی تھی اپنے گھر کے دروازے پہ پہنچی تو شوہر کو کھڑے پایا جو فون پہ ہنستے ہوئے بات کر رہا تھا اس پہ نظر پڑی تو سرسری دیکھ کر پھر بات کرنے لگا، وہ شرمندہ سی کھڑی تھی اس نے غور کیا تو پتہ چلا کوئی لڑکی یے ۔اسے جھٹکا سا لگا اس نے بے اختیار بڑھ کر سیل چھین لیا شوہر نے حیرت سے دیکھا اور پوچھا کیا مسئلہ ہے ؟

    کہنے لگی لڑکی سے بات کیوں کر رہے ہو ؟ شوہر نے مسکرا کر کہا کیا تمہیں عورت کے حقوق کا نہیں پتہ وہ جس مرد سے چاہے دل لگی کرے تو مرد بھی جو چاہے مرضی ہو وہ میں بھی ہو سکتا ہوں اور مغرب میں گرل فرینڈ کوئی ایشو نہیں تمہیں کیا مسئلہ ہے؟

    وہ ایک دم پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی ۔اور معافی مانگنے لگی اس کا شوہر سمجھ گیا کہ اس کی عقل ٹھکانے آ گئی ہے وہ اسے گھر کے اندر لے گیا وہاں اس نے اسے ساری داستان سنائی اور بتایا کہ اسے اصل کہانی سمجھ آ گئی ہے کہ یہ سب عورت کو عزت کے نام پہ ذلت اور حقوق کے نام پہ اسے سب کا چارہ بنانے کی سازش ہے ۔جبکہ اس کا شوہر بھائی ،باپ تو اس کے محافظ ہیں اور اسلام اسے چھپا کر اسے گندی اور غلیظ نظروں سے محفوظ کرتا ہے نہ کہ قید۔

    اس نے پھر سے برقعہ پہنا ،شوہر کا ہاتھ تھاما اور باہر نکلی ۔اس نے ادھر ادھر دیکھا ،کچھ لڑکے سامنے سے آ رہے تھے لیکن وہ اس کے پاس سے گزرے تو نہ کسی نے آنکھ اٹھا کر دیکھا نہ کسی نے ٹچ کی کوشش کی ،نہ جملہ کسا وہ مسکرادی اور اپنے ر ب کا شکر ادا کرنے لگی کہ وہ اپنے سائبان میں لوٹ آئی تھی جہاں وہ بےفکری کی نیند سوتی تھی ۔

  • 10 شادیاں کرنے والی خاتون گیارہویں دولہے کی تلاش میں

    10 شادیاں کرنے والی خاتون گیارہویں دولہے کی تلاش میں

    56 سالہ امریکی خاتون نے بہترین اور پرفیکٹ لائف پارٹنر کی تلاش میں 10 شادیاں کیں مگر زندگی کا ہم خیال اور لائف پارٹنر اب تک نہیں ملا جس پر خاتون گیارہویں دولہے کی تلاش میں ہیں اوراس کے لئے اپنے دسویں شوہر سے طلاق لینے کا سوچ رہی ہیں-

    باغی ٹی وی :بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق 56 سالہ کیسسی نامی خاتون نے پرفیکٹ لائف پارٹنر پانے کی کوشش میں 10 شادیاں کی ہیں تاہم اب تک انہیں ایسا شریک حیات نہیں مل سکا ہے جس کے بعد وہ گیارہویں شادی کی تیاری کر رہی ہیں کیونکہ دسویں شادی جس شخص سے کی وہ ان بھی خاتون کے خیالات اور مزاج سے مختلف ہے اب اپنے دسویں شوہر سے بھی طلاق لینے کے بارے میں سوچ رہی ہیں-

    شو کے میزبان نے سوال کرتے ہوئے کہا کہ اپنا پرفیکٹ پارٹنر تلاش کرنے کے لیے کتنی شادیاں کریں گی؟ اس کے جواب میں کیسسی کا کہنا تھا کہ انہیں نہیں معلوم کہ یہ تلاش کہاں جا کر ختم ہوگئی لیکن وہ تب تک شادیاں کرتی رہیں گی جب تک انہیں ان کے معیار کا پرفیکٹ لائف پارٹنر نہیں مل جاتا۔

    کیسسی نے انکشاف کیا کہ دوسری شادی جو صرف 7 سال چل سکی تھی وہ اس لیے ختم کی کیوں کہ شوہر نے ’ آئی لو یو‘ کہنا چھوڑ دیا تھا جب کہ اُن سے میرا ایک بیٹا بھی ہے۔ اسی طرح پہلی شادی بھی باہمی رضامندی سے 8 سال بعد ختم ہوگئی تھی۔خاتون کا مزید کہناتھا کہ انھوں نے ہر طرح کے مرد سے شادی کی۔

  • بہنوں بیٹیوں کا کھانے والے کبھی فلاح نا پائینگے !!! ازقلم غنی محمود قصوری

    بہنوں بیٹیوں کا کھانے والے کبھی فلاح نا پائینگے !!! ازقلم غنی محمود قصوری

    زمانہ جہالت میں لوگ اپنی بیٹیوں کو پیدا ہوتے ہی قتل کر دیتے تھے کیونکہ عورتوں کے بھی حقوق ہیں سو ان کے حقوق کو کھانے کی خاطر ان کو قتل کرنا معمول تھا پھر میرے اور آپ کے نبی رحمت صلی اللہ علیہ وسلم آئے اور اس فعل بد سے لوگوں کو روکا اور حقوق خواتین وضع کئے
    اسلام میں جہاں مردوں کے حقوق ہیں وہیں عورتوں کے بھی حقوق ہیں اور قرآن و حدیث نے ان حقوق کو کھول کھول کر بیان کیا ہے تاکہ ہر حقدار کو اس کا حق ملے مگر افسوس کہ آج ہمارے معاشرے میں زیادہ تر بہنوں ،بیٹیوں کا وراثتی شرعی حق کھانا ایک فیشن بن چکا ہے اور اس حق ماری کو بلکل بھی حرام نہیں سمجھا جاتا
    اگر کوئی عورت اپنا حق مانگے تو اسے سو طرح کے بہانے سنا کر طعنہ زنی کی جاتی ہے کبھی اس کی پرورش کی تو کبھی اسے تعلیم دلوانے کی کبھی اس کو اچھا کھلانے کی تو کبھی اس کی شادی پر آنے والے اخراجات کی غرض زیادہ تر عورتوں کو انکے اس جائز شرعی وراثتی حق سے محروم ہی رکھا جاتا ہے اگر کوئی بیچاری اپنا حق بھائی،باپ سے مانگ بیٹھے تو بمشکل ہی ادا کیا جاتا ہے بعض تو ایسے واقعات بھی رونما ہو چکے کہ بہنوں بیٹیوں کو جائیداد میں ان کا حق نا دینے کی خاطر پوری جائیداد بیٹوں کے نام کر دی جاتی ہے اور یوں چاہتے ہوئے بھی وہ بیچاری اپنا حق نہیں لے سکتیں
    واضع رہے جس طرح ایک لڑکے کی پرورش،تعلیم اور شادی والدین پر فرض ہے بلکل اسی طرح ایک لڑکی کی پرورش،تعلیم اور شادی بھی والدین پر بحیثیت واجب ہے اور یہ ان کا حق ہے
    کسی کا حق مارنا چوروں ڈاکوؤں کا کام ہے اور اس حق مارنے کے متعلق اللہ رب العزت فرماتے ہیں
    اے ایمان والوں تم ایک دوسرے کا مال آپس میں ناحق طریقے سے نا کھاؤ ،سوائے اس کے کہ تمہاری باہمی رضا مندی سے کوئی تجارت ہو، اور تم اپنی جانوں کو مت ہلاک کرو ،بیشک اللہ تم پر مہربان ہے ۔۔ النساء 29
    اس سورہ میں اللہ تعالی نے کسی کا بھی حق مارنے سے منع فرمایا اور کہا کہ ایسا کرنے والے اپنی جانوں پر ظلم کرینگے اور ایسے لوگوں کا ٹھکانہ جہنم ہوگا
    ایک اور جگہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں
    اے داؤد ہم نے تجھے زمین میں خلیفہ بنایا ہے لہذہ لوگوں کے درمیان حق کے ساتھ فیصلے کرو اور نفس کی خواہش کی پیروی نا کرو وہ تجھے اللہ کی راہ سے بھٹکا دے گی ،جو لوگ اللہ کی راہ سے بھٹک گئے ان کے لئے سخت عذاب ہے کیونکہ وہ آخرت کو بھول گئے ۔۔سورہ ص 26
    اس آیت مبارکہ میں اللہ تعالی اپنے نبی کو بڑے سخت الفاظ میں فرما رہے ہیں کہ تم زمین میں خلیفہ مقرر کئے گئے ہو سو اللہ کی راہ سے بھٹک کر اپنے نفس کی پیروی کے پیچھے لگ کر حق کے خلاف فیصلے نا کر بیٹھنا ورنہ ٹھکانہ جہنم ہو گا حالانکہ نبی جنت کے وارث اور معصوم الخطاء ہوتے ہیں مگر اللہ کا مقصد نبی کی مثال دے کر ہمیں سمجھانا ہے
    والدین اولاد کے خلیفہ ہیں انہیں چاہیے کہ وہ اپنی اولاد کے مابین حق کیساتھ وراثت کی تقسیم کریں جو اسلام نے بتا دی بصورت دیگر وہ جہنم کے حقدار ہونگے لہذہ وراثت تقسیم کرتے وقت عورتوں،بہنوں اور بیٹیوں کو بھی ان کا اسلام کی رو سے مقرر کردہ حق لازمی دینا چاہیے ہاں اگر کوئی بہن بیٹی اپنا حق نہیں لیتی تو اس کی مرضی اور آج ہے بھی ایسا زیادہ تر عورتیں اپنے بھائیوں بھتیجوں کو اپنا حق فی سبیل اللہ دے دیتی ہیں جو کہ ان کی اعلی ظرفی کی بہت بڑی پہچان ہے
    حقوق خواتین پر میرے شفیق نبی علیہ السلام نے بہت زور دیا
    اس پر ایک صحابی رسول فرماتے ہیں
    کہ میں نے پوچھا ،یارسول اللہ میں کس کے ساتھ نیک سلوک اور صلح رحمی کروں؟ آپ نے فرمایا اپنی ماں کے ساتھ،میں پھر پوچھا کس کے ساتھ؟ آپ نے فرمایا اپنی ماں کے ساتھ میں نے پھر پوچھا پھر کس کے ساتھ؟ آپ نے پھر فرمایا اپنی ماں کیساتھ میں نے پھر پوچھا پھر کس کے ساتھ؟ آپ نے فرمایا اپنے باپ کیساتھ میں پھر پوچھا کس کے ساتھ تو آپ نے فرمایا رشتہ داروں کے ساتھ پھر سب سے زیادہ قریبی رشتہ دار پھر اس کے بعد درجہ بدرجہ۔۔۔ ترمذی 1645
    اس حدیث میں صحابی رسول کے صلح رحمی کے متعلق پوچھنے پر تین بار ماں اور پھر اس کے بعد باپ اور پھر اس کے بعد قریبی رشتہ داروں اور پھر درجہ بدرجہ ان کے رشتہ داروں کے ساتھ صلح رحمی کا حکم دیا اس سے معلوم ہوا ہماری صلح رحمی، حق گوئی اور انصاف کے سب سے زیادہ حقدار ہمارے ماں باپ اور رشتہ دار ہیں تو جب مسئلہ وراثت میں تقسیم کا ہوگا تو پھر سب سے پہلے صلح رحمی اور انصاف کے حقدار ماں باپ کے بعد بہنیں اور بیٹیاں کیوں نا ہونگیں؟
    جہاں شرعیت نے بہنوں کا حق مارنا ممنوع قرار دیا ہے وہاں پاکستانی قانون نے بھی اس کی ممانعت کی ہے سپریم کورٹ آف پاکستان نے دو سال قبل والدہ کی طرف سے صرف بیٹوں کو ہی وراثت دینے پر اسے کالعدم قرار دے کر بیٹیوں کو بھی اس وراثت میں حصہ دینے کا حکم دیا اور کہا کے بیٹیوں کو ان کے شرعی وراثتی حق سے محروم نہیں رکھا جا سکتا ، بحوالہ 2080 _ scmr 2018
    بہنوں بیٹیوں کا حق مارنے والے اسلام کے بھی مجرم ہیں اور قانون پاکستان کے بھی ایسے بندے کی معاشرے میں کوئی عزت نہیں ہوتی اور وہ دنیا میں تو رسواء ہوتا ہی ہے روز قیامت بھی رسوا ہو گا کیونکہ اسلام میں کسی غیر کا حق مارنے کی اجازت نہیں تو پھر اپنی سگی بہنوں، بیٹیوں کا حق مارنے والوں کو کسطرح اجازت ہو گی؟
    لہذہ ماں باپ تقسیم ترکے کے وقت بیٹیوں کا حق ادا کرنا ہرگز نا بولیں اور بیٹوں کیساتھ بیٹیوں کا جائز حق بھی انہیں ادا کریں تاکہ ان کے جگر کا ٹکڑا جو اب کسی اور کے گھر کی زینت ہے وہ بھی اپنے شرعی حق کو لے کر عزت و سکون سے گزر بسر کرسکے
    یقین کریں آج جہیز جیسی لعنت کو ختم کرکے اس جائز شرعی حق کو ادا کرنے کی ضرورت ہے تبھی ہمارا معاشرہ ترقی کر سکے گا ورنہ بیٹیوں ،بہنوں کے حق مارنے سے ہم عذاب الٰہی کے حقدار تو ہیں اللہ کی رحمت کے ہرگز نہیں کیونکہ چور، ڈاکو حق مارنے والے اور غاصب کبھی فلاح نہیں پاتے
    اللہ تعالی ہمیں سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے آمین

  • بیمار بیٹے کو ملنے کیلئے بہادر ماں کا مسلسل پانچ دن موٹر سائیکل پر سفر

    بیمار بیٹے کو ملنے کیلئے بہادر ماں کا مسلسل پانچ دن موٹر سائیکل پر سفر

    بھارتی عورت سونیا داس اور اس کی دوست نے سکوٹر پر پانچ دن سفر کرکے 1،800 کلو میٹر کا فاصلہ طے کیا ہے-

    باغی ٹی وی : بھارتی 26 سالہ خاتون ، کورونا وائرس وبائی مرض کے دوران بے روزگار اور بے گھر ہوگئی ، اپنے بیٹے سے ملنے کے لئے جس کی طبیعت ٹھیک نہیں تھی ایک اسکوٹر پر مہاراشٹر سے جھارکھنڈ روانہ ہوئی-

    این ڈی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ٹائمز آف انڈیا نے بتایا کہ سونیا داس اور اس کی دوست صبیہ بانو نے سکوٹر پر 1،800 کلومیٹر کا فاصلہ طے کرنے کے لئے پانچ دن سڑک پر گزارے۔

    رپورٹ کے مطابق سونیا داس کو نوکری سے نکال دیا گیا تھا اور وہ کورونا وائرس لاک ڈاؤن کے دوران اپنے کنبے اور اپنے پانچ سالہ بیٹے کے ساتھ پریشان کُن حالات کا سمان کر رہی تھی۔ کرایہ کی ادائیگی میں ناکامی کی وجہ سے جب اسے ممبئی میں رہائش گاہ خالی کرنے پر مجبور کیا گیا تو ، وہ پونے میں اپنی دوست صبیہ بانو کے ساتھ چلی گئیں۔

    سونیا داس نے ہندوستان ٹائمز کو بتایا ، "میرے پاس کھانے کے لئے پیسے نہیں تھے کیونکہ نوکری سے فارغ کر دیا گیا تھا اور گھر کا کریہ ادا نہ کرنے کی وجہ سے گھر خالی کروالیا گیا تھا تو میں پونے میں اپنی دوست صبیہ کے پاس شفٹ ہوگئی تھی-

    سونیا داس نے بتایا کہ جب انہیں یہ خبر ملی کہ ان کا بیٹا بیمار ہوگیا ہے تو انہوں نے جھارکھنڈ حکومت سے ٹویٹر پر مدد کی کوشش کی لیکن انہیں کوئی جواب نہیں ملا۔ پونے اور جمشید پور کے مابین کوئی ٹرینیں نہیں ہیں ، اور وہ فلائٹ ٹکٹ خریدنے کی استطاعت نہیں رکھتی تھیں اسی لئے سونیا داس نے اپنے بیٹے سے ملنے کے لئے اسکوٹر پر سفر کرنے کا فیصلہ کیا-

    سونیا نے بتایا کہ "میں نے جھارکھنڈ کے وزیر اعلی ہیمنت سورین کو ٹویٹ کیا ، مہاراشٹرا اور جھارکھنڈ حکومتوں کی ہیلپ لائنوں پر مدد کی لیکن کوئی کام نہیں کررہا تھا۔ میں نے (اداکار) سونو سود سر کو بھی ٹویٹ کیا لیکن کوئی فائدہ نہیں ہوا۔ آخر میں ، میں نے اپنے طور پر جمشید پور واپس جانے کا فیصلہ کیا –

    دونوں دوستیں پیر کے روز پونے سے روانہ ہوئیں اور پانچ دن سکوٹرپر ممبئی کے راستے جمشید پور کا سفر کیا۔ اور جمعہ کی شام اسٹیل سٹی پہنچ گئیں۔

    جمشید پور پہنچنے کے بعد ، محترمہ داس اپنے خاندان کو کوویڈ 19 کی وجہ سے ایک فاصلے سے دیکھا اس سے پہلے سونیا اور اس کی دوست کو قرنطینہ مرکز منتقل کردیا گیا تھا۔

    ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ پولیس اروند کمار نے ٹائمز آف انڈیا کو بتایا کہ دونوں کا COVID-19 ٹیسٹ منفی آیا ہے اور اب انہیں گھر میں ہی قرنطین کرنے کو کہا گیا ہے۔ لواحقین کو 30 دن تک ڈرائی راشن بھی مہیا کیا گیا ہے۔

    سیاسی رہنماؤں کی جانب سے ہراساں کئے جانے پر بھارتی معروف اداکارہ کی خودکشی کی کوشش

  • قابل اعتراض مواد بنا کر کسی کو بلیک میل کرنا کون سے ایکٹ میں آتاہے اور اس کی سزا کتنی ہو گی ؟

    قابل اعتراض مواد بنا کر کسی کو بلیک میل کرنا کون سے ایکٹ میں آتاہے اور اس کی سزا کتنی ہو گی ؟

    آج کل آئی ٹی کے دور میں کسی کی تصاویر اور ویڈیوز حاصل کر کے اسے اپنے فائدے کے لئے غلط طریقوں سے استعمال کرنا عام ہو چکا ہے لوگ خواتین کی تصاویر کی ایڈیٹنگ کر کے انہیں بلیک میل اور ہراساں کرتے ہیں ان موضوعات پر اسسٹنٹ ڈائریکٹر سائبر کرائم ونگ چوہدری آصف اقبال چوہدری سوشل میڈیا پر اکثر بیشتر اپنی ویڈیو سوشل میڈیا پر شئیر کرتے ہیں جن میں وہ جرائم سے بچنے کی احتیاطی تدابیر کے بارے میں عوام کو خبردار کرتے نظر آتے ہیں

    باغی ٹی وی : سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹ پر اسسٹنٹ ڈائریکٹر سائبر کرائم ونگ چوہدری آصف اقبال چوہدری نے اپنی ٹویٹ میں بتایا کہ کسی کی قابل اعتراض تصاویر،ویڈیوز یا ان کا ایڈٹ کر کے قابل اعتراض بنانا اوران کوکسی تیسرےشخص کوبھیجنا یا سوشل میڈیا پر پبلش کرنا یا ایسے مواد کے زریعے کسی کو بلیک میل کرنا،سائبر کرائم ایکٹ کےسیکشن 21 میں آتا ہے جسکی سزا 5 سال قید اور 50 لاکھ روپے جرمانہ ہے اور یہ ناقابل ضمانت جرم ہے۔


    واضح رہے اس سے قبل بھی آسف اقبال چوہدری اپنی کئی ویڈیوز میں ایسے چالاک اور دھوکے باز لوگوں سے بچنے کی احتیاطی تدابیر کے بارے میں عوام کو خبردار کر چکے ہیں

    جرائم پیشہ افراد کس طرح خواتین کو اپنے جال میں پھنساتے ہیں ایسے لوگوں سے کیسے محفوظ رہا جا سکتا ہے؟

    آن لائن کمپنیاں پر کشش منافع کا لالچ دے کر لوگوں کو کیسے لُوٹتی ہیں؟

    اپنا وائے فائے پاسورڈ محفوظ رکھیں بصورت دیگر خطرناک مسائل کا سامنا ہو سکتا ہے

  • گریڈ20 کے افسر کو محبت میں ماتحت لیڈی آفیسر کے جوتے اتارنا مہنگاپڑگیا،رنگ رلیوں کی تصاویر وائرل

    گریڈ20 کے افسر کو محبت میں ماتحت لیڈی آفیسر کے جوتے اتارنا مہنگاپڑگیا،رنگ رلیوں کی تصاویر وائرل

    پُرانی بات ہے الیکشن میں لغاری صاحبان کو اپنے مخالف لغاری کی ایک ویڈیو مل گئی جس میں لغاری صاحب ایک 15/16 سال کی لڑکی کے ساتھ انتہائی بے دردی سے سیکس کر رہے تھے لغاری صاحبان نے اس ویڈیو کو اپنے مخالف لغاری اُمیدوار کے خلاف استعمال کرنے کا فیصلہ کیا اُن دنوں VCR ہوا کرتے تھے وہ ویڈیو حلقہ کے تمام ہوٹلوں پر چلوئی گئی امید یہ تھی کہ ایسی غیر اخلاقی حرکت پر مخالف امید وار جس کی یہ ویڈیو تھی وہ ہار جائے گا مگر اُس وقت لغاری صاحبان کی حیرت کی انتہا نہ رہی جب وہ لغاری مخالف اُمیدوار بھاری اکثریت سے الیکشن جیت گیا لوگوں نے اُسے اس لیے ووٹ دیا کہ "ہمارا سردار جوان مرد ہے اور اوپر ہے ”

    کل سے ایک گریڈ 20 کے DIG پی ایس پی پولیس آفسر کی گریڈ 18 کی DMG افسر کے ساتھ سر سے پاوں تک چومنے والی تصاویر سوشل میڈیا کے گروپس میں وائرل ہیں DMG گروپ کی یہ خاتون گریڈ 18 کے ایف آئی اے آفسر کی بیوی ہیں ابھی چیرمین نیب اور جج ارشد ملک کی ویڈیوز اور اسکینڈل کی دھول نہی چھٹی تھی کہ یہ تصاویر سامنے آگئیں

    ایک تصویر میں psp آفسر DMG. آفسر کا مُنہ چوم رہے ہیں جبکہ دوسری تصویر میں DMG آفسر psp گریڈ 20 سے اپنا جوتا اُتروا رہی ہیں اور گریڈ 20 کے آفسر کے چہرے پر عجیب سے عشقیہ تاثرات ہیں اور وہ خاتون کے پاوں کو پکڑ کر واری واری جارہے ہیں

    دوران ملازمت اور اُس کے بعد بھی میں نے دیکھا کہ اگر کسی ماتحت پولیس ملازم سے کوئی غیر اخلاقی حرکت سرزد ہو جائے تو قانون یا عوام بعد میں فیصلہ کرتے ہیں پہلے افسران ملازم کو عبرت کا نشان بنا دیتے ہیں

    مُلتان میں ایک رینکر SP لیڈی وارڈن کو دل دے بیٹھے اور ٹیلی فون پر اظہار محبت فرمایا جس کی انہیں فوری سزا ملی اور CPO کلوز کردیا گیا اسی طرح فیصل آباد کا سونیا کیس جس میں ایک رینکر Sp ملازمت چھوڑنے پر مجبور ہوگیا کبیر والا کے ایک انسپکٹر کو بھی ایک لڑکی سے ٹیلیفون پر عشقیہ باتیں کرنے ہر مقدمات کا سامنا ہے

    پولیس ڈیپارٹمنٹ میں PSP افسران کو عام معافی ہے اگر ایک افسر سے کوئی غلطی ہو بھی جائے تو باقی سب افسران ان کو بچانے کے کیے میدان میں آجاتے ہیں ان میں سے بُہت سے افسران کی عشق کی داستانیں مشہور ہیں جو ماتحت ملازمین نے اپنے سینے میں چھپائی ہوتی ہیں ان کے گن مین ڈرائیور اور ذاتی سٹاف ان کے کرتوتوں سے واقف ہوتا ہے مگر مجبور ہوتے ہیں کسی کو اس لیے نہیں بتا پاتے کہ ان کے قلم کی ایک جُنبش سے ان بے چاروں کی روٹی روزی ختم ہو جاتی ہے

    اب بھی یہی ہوا ہے ڈی آئی جی صاحب اپنے حمایتی افسران کی مدد سے کُچھ تصاویرمیڈیا پر لے کر آئے ہیں جن میں اب وہ خاتون افسر کسی اور شخص کے ساتھ بلکُل اُسی انداز میں موجود ہیں ان تصاویر میں صاف لگ رہا ہے کہ فوٹو شاپ پر بنائی گئی ہیں شاید فوٹو شاپ پر بنائی گئی ہو سکتا ہے کہ ان تصاویر سے DIG صاحب کی جان بچ جائے اب تک اُن خاتون افسر یا اُن کے شوہر کی طرف سے کوئی تردید موصول نہیں ہوئی نہ ہی انہوں نے فوٹو شاپ پر اپنے چہرہ پر کسی اور لڑکی کا چہرہ لگوایا ہے

    ڈی آئی جی صاحب تو لازمی بچ ہی جائیں گے کیونکہ آئی جی صاحب کے لاڈلے ہیں اور ویسے بھی اس طرح کی حرکت کونسا بڑا جُرم ہے مرد تو ایسا کرتے رہتے ہیں مگر دُکھ تو اُس خاتون کا ہے جس سے عہدوپیماں کیے گئے ہوں گے مرنے جینے کی قسمیں کھائی گئی ہوں گی اب اس خاتون کے ساتھ کسی اور کی تصویر فوٹو شاپ پر بنوا کر DIG نے مردانگی کا ثبوت نہیں دیا گیا

    اگر یہ بات مان بھی لی جائے کہ DIG صاحب کی تصاویر نہیں ہیں مگر اپنی تصاویر میں وہ کس کو پیار کر رہے ہیں ؟DIG پوری رینج کا کمانڈر ہوتا ہے اس تمام تصاویر اور وقوعہ کی انکوائیری ہونی چاہیے اور قصور وار سامنے آنا چاہیے ورنہ ایسے غیر ذمدار اور غیر اخلاقی حرکتیں کرنے والے آفسر کو پولس کے ملازمین کی کمانڈ کا کوئی حق نہیں آئی جی صاحب اگر یہ نہیں کر سکتے تو آج تک جتنے پولیس ملازمین اور عوام والناس کو غیر اخلاقی حرکات پر اگر سزائیں دی گئی ہیں تو فوری معاف کردی جائے

    ان تمام تصاویر کو دیکھ کر میں تو اس نتیجہ پو پُنہچا ہوں کہ یہ صرف عشق ومحبت کی داستان نہیں بلکہ دو اداروں پولیس گروپ اور ڈسٹرکٹ ایڈمنسٹریشن گروپ کے درمیان اختلافات کا شاخسانہ بھی ہو سکتا ہے اگر DMG کی افسر نے پولیس گروپ کے افسر کو اپنے پاوں میں بیٹھایا ہوا ہے تو پولیس گروپ کے افسر نے بھی اُسے چومتے ہوہے فاتحانہ مسکراہٹ سے اپنی فتح کا اعلان کیا ہے اب فتح کس گروپ کی ہوئی ہے یا ہونی ہے اور کس کا بابا اوپر ہونا ہے یہ تو آنے والا وقت بتائے گا

    گریڈ 22 کے افسر کی محبت کا برا انجام —-از—عزیز خان ایڈوکیٹ ہائیکورٹ لاہور

  • کلونجی میں موت کے سوا ہر مرض کا علاج ہے ،تحریر؛ حبیب الرحمن

    کلونجی میں موت کے سوا ہر مرض کا علاج ہے ،تحریر؛ حبیب الرحمن

    کلونجی میں موت کے سوا ہر مرض کا علاج ہے ، حبیب الرحمن

    قدیم اطباء کلونجی اور اس کے بیجوں کے بھی استعمال سے خوب واقف تھے۔ وہ کلونجی کے بیج کو معدے اور پیٹ کے امراض مثلاً ریاح، گیس کا ہونا، آنتوں کا درد، نسیان، رعشہ، دماغی کمزوری، فالج اور افزائش دودھ کے لیے استعمال کراتے تھے۔

    کلونجی ایک قسم کی گھاس کا بیج ہے۔ اس کا پودا سونف سے مشابہ، خود رو اور تقریباً سَوا فٹ بلند ہوتا ہے۔کلونجی کی فصل حاصل کرنے کے لئے اس کی باقاعدہ کاشت کی جاتی ہے۔ اس کے پھول زردی مائل، بیجوں کا رنگ سیاہ اور شکل پیاز کے بیجوں سے ملتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بعض لوگ انہیں پیاز کا بیج سمجھتے ہیں۔ اصلی کلونجی کی پہچان یہ ہے کہ اگر اسے سفید کاغذ میں لپیٹ کر رکھیں تو اس پر چکنائی کے داغ لگ جاتے ہیں۔ ہر شاخ کے اوپر سیاہ دانے دار بیج ہوتے ہیں۔ اسی بیج کے حصول کے لئے بھارت، بنگلہ دیش، ترکی، وغیرہ میں اس کی کاشت کی جاتی ہے۔ کلونجی کے ان بیجوں کی خصوصی مہک ہوتی ہے۔ اسے ادویات کے علاوہ کھانے اور اچار وغیرہ میں بھی استعمال کیا جاتا ہے۔

    شعبہ طب میں اسے مصفی دوائی کے طور پر بھی استعمال کیا جاتا ہے۔کلونجی کے بیجوں میں فاسفورس، فولاد، اور کاربو ہائڈریٹ کے مرکبات شامل ہوتے ہیں۔ کلونجی کی کیمیاوی تجزیے سے معلوم ہو ا اس میں پیلے رنگ کا مادہ کیروٹین پایا جاتا ہے جو جگر میں پہنچ کر وٹامن اے میں تبدیل ہو جاتا ہے۔ان کے علاوہ بھی بہت سے ایسے مرکبات کلونجی میں پائے جاتے ہیں ، جو نظام انہظام کے لیے مفید ہیں۔ یہ بولی امرض کو دور کرتا ہے۔یہ جسم کی قوت مدافعت میں اضافہ کرنے کے علاوہ ہر قسم کے امراض کے علاج میں معاون ہے۔ کلونجی کے تیل میں ساٹھ فیصد لینو لیٹک ترشہ (Linoletic Acid) اور تقریباً ۲۱ فیصد Lipase کیمیاوی مادہ پایا جاتا ہے۔ یہ گرم درجہ حرارت میں جسم کو ٹھنڈا رکھنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔کلونجی میں پائے جانے والے خصوصی مادے Saponin Vlatile Oil اورNigelline پائے جاتے ہیں جو مختلف بولی امراض میں کارگر ہوتے ہیں۔ اسی لئے نبی کریمﷺ نے فرمایا کہ کلونجی کو اپنی غذا میں شامل کرو کہ یہ موت کے سوا تمام امراض کے علاج کی صلاحیت رکھتا ہے۔

    مختلف امراض میں کلونجی کے تیل کی استعمال کی ترکیب حسب ذیل ہے۔

    1.دمہ، کھانسی اور الرجی: ان امراض سے نجات کے لئے ایک کپ گرم پانی میں نصف چائے کا چمچہ کلونجی کا تیل ملا کر نہار منہ اور رات سونے سے قبل چالیس روز تک استعمال کریں۔ سرد اشیاء کھانے سے پرہیز کریں۔

    2.ذیابیطس (شوگر): ایک کپ قہوہ (کالی چائے)نصف چائے کا چمچہ کلونجی کا تیل ملا کر نہار منہ اور رات سونے سے قبل پی لیں۔ روغنی خوراک بالخصوص تلی ہوئی اشیا کھانے سے پرہیز کریں۔ اگر ذیابیطس کے لئے پہلے سے کوئی دوائی کھا رہے ہوں تو اسے جاری رکھیں۔ البتہ بیس روز بعد خون میں شوگر کا لیول چیک کروائیں۔ اگر معمول کے مطابق پائیں تو ادویہ کا استعمال بند کر کے اس نسخہ کو چالیس روز تک جاری رکھیں۔ مکمل شفا کے بعد نسخہ کا استعمال بند کر دیں۔

    3.دل کا دورہ: ایک کپ گرم پانی میں ایک چمچہ شہد، نصف چائے کا چمچہ کلونجی کا تیل ملا کر دن میں دو بار دس دن تک استعمال کریں۔ دس دن کے بعد مزید دس دن یومیہ ایک مرتبہ استعمال کریں۔

    4.پولیو اور لقوہ: ایک کپ گرم پانی میں ایک چمچہ شہد، نصف چمچہ کلونجی کا تیل ملا کر دن میں دو بار استعمال کریں۔ بچوں کو گرم پانی میں دو چمچے دودھ اور تین قطرے کلونجی کا تیل ملا کر دن میں تین مرتبہ پلائیں۔ علاج۴۰ دن تک جاری رکھیں۔

    5.جوڑوں کا درد: ایک چمچہ سرکہ، نصف چائے کا چمچہ کلونجی کا تیل اور دو چمچہ شہد ملا کر صبح نہار منہ اور رات کو سونے سے قبل استعمال کریں۔

    6.بد ہضمی، گیس، پیٹ کا درد: ایک چمچہ سرکہ میں نصف چائے کا چمچہ کلونجی کا تیل ملا کر دن میں دو بار پئیں۔ موٹاپا دور کر نے کے لئے بھی یہی نسخہ کا آمد ہے۔

    7.آنکھوں کے امراض: آنکھوں کا سرخ ہونا، پانی بہنا، کمزوری بصارت وغیرہ کی صورت میں ایک کپ گاجر کے عرق میں نصف چائے کا چمچہ کلونجی کا تیل ملا کر نہار منہ اور رات سونے سے قبل پئیں۔ یہ علاج چالیس روز تک جاری رکھیں ، اچار اور بینگن سے پرہیز کریں۔

    8. امراض مستورات (لیکوریا، پیٹ میں درد، کمر درد): دو گلاس پانی میں دس گرام پودینے کے پتے ابال لیں۔ پانی الگ کر کے اس میں نصف چائے کا چمچہ کلونجی کا تیل ملا کر نہار منہ اور رات سونے سے قبل پی لیں۔ علاج چالیس روز تک جاری رکھیں ، اچار، بیگن، انڈے اور مچھلی سے پرہیز کریں۔ اگر معمول سے زائد عرصہ تک ماہواری رُک جائے تو ایک کپ گرم پانی میں نصف چائے کا چمچہ کلونجی کا تیل اور دو چمچہ شہد ملا کر نہار منہ اور رات سونے سے قبل پی لیں۔ علاج ایک ماہ تک جاری رکھیں۔ آلو، بینگن سے پرہیز کریں۔

    9.یادداشت میں کمی: یاد داشت میں اضافہ کے لئے ایک کپ پانی میں دس گرام پودینے کے پتے ابال لیں۔ اس پانی میں نصف چائے کا چمچہ کلونجی کا تیل ملا کر دن میں دو بار پئیں۔ یہ علاج بیس روز تک جاری رکھیں۔

    10.درد گردہ: ۲۵۰ گرام کلونجی کے بیج کو پیس کر ایک کپ شہد میں اچھی طرح ملا لیں۔ دو چمچہ اس آمیزہ کو نصف پیالی پانی میں ملا کر اس میں نصف چائے کا چمچہ کلونجی کا تیل ملا کر دن میں ایک بار پئیں۔ علاج کو بیس روز تک جاری رکھیں۔

    11.عام جسمانی کمزوری:نصف چائے کا چمچہ کلونجی کا تیل میں ایک چمچہ شہد ملا کر دن میں ایک مرتبہ استعمال کرنے سے عام کمزوری اور اس کا باعث بننے والے دیگر امراض دور ہو جاتے ہیں۔

    12.دردِ سر: پیشانی اور کانوں کے قریب کلونجی تیل سے مالش کے علاوہ نصف چائے کا چمچہ کلونجی کا تیل دن میں دو بار پئیں۔

    13.بلند فشار خون: گرم چائے یا کافی میں نصف چائے کا چمچہ کلونجی کا تیل ڈال کر دن میں دو بار استعمال کریں۔ اسی کے ساتھ روزانہ دو جوے لہسن بھی استعمال کریں۔

    14.بالو ں کا گرنا: نیبو کے عرق سے سر کی اچھی طرح مالش کریں۔ ۱۵ منٹ کے بعد بالوں کو شیمپو سے دھو کر اچھی طرح خشک کریں۔ پھر پورے سر پر کلونجی کے تیل کی مالش کریں۔ ایک ہفتہ تک روزانہ کے علاج سے بالوں کا گرنا بند ہو جاتا ہے

    15.عام بخار: آدھے کپ پانی میں نصف چمچہ نیمبو کا عرق اور نصف چائے کا چمچہ کلونجی کا تیل ملا کر دن میں دو بار پئیں۔ بخار اترنے تک یہ نسخہ جاری رکھیں اور چاولوں سے پرہیز کریں۔

    16.گردے میں پتھری:ایک پیالی گرم پانی میں دو چمچہ شہد، نصف چائے کا چمچہ کلونجی کا تیل ملا کر دن میں دو بار صبح نہار منہ اور رات کو سونے سے قبل پئیں۔ ٹماٹر اور پالک اور لیمن سے پرہیز کریں۔

    17.کانوں میں درد، پیپ کا بہنا، سماعت میں کمی: کلونجی کے تیل کو گرم کر کے ٹھنڈا کر لیں۔ متاثرہ کان میں دو قطرے ڈالیں۔

    18.دانتوں کے امراض: دانتوں کی کمزوری، دانتوں سے خون نکلنے، ناگوار بو آنے یا مسوڑھوں کے سوج جانے کی صورت میں ایک پیالی دہی میں نصف چائے کا چمچہ کلونجی کا تیل ملا کر صبح نہار منہ اور رات سونے سے قبل کھا لیں۔

    19.کثرتِ احتلام: مردوں میں کثرت احتلام کی صورت میں ایک پیالی سیب کے جوس میں نصف چائے کا چمچہ کلونجی کا تیل ملا کر صبح نہار منہ اور رات سونے سے قبل پی لیں۔ علاج ۲۱ روز تک جاری رکھیں اور گرم مسالہ والے کھانوں سے پرہیز کریں

    20.خون کی کمی (انیمیا): پودینہ کے پتوں کی ایک شاخ کو پانی میں اُبال کر ایک پیالی جوس بنائیں۔ نصف چائے کا چمچہ کلونجی کا تیل ملا کر دن میں دو بار صبح نہار منہ اور رات سونے سے قبل پئیں۔ یہ نسخہ ۲۱ دن تک استعمال کریں۔

    21.یرقان (پیلیا): ایک پیالی دودھ میں نصف چائے کا چمچہ کلونجی کا تیل ملا کر دن میں دو بار صبح نہار منہ اور رات سونے سے قبل ایک ہفتہ تک پئیں۔

    22.کھانسی: ایک پیالی گرم پانی میں دو چمچے شہد اور نصف چائے کا چمچہ کلونجی کا تیل ملا کر دن میں دو بار صبح ناشتہ سے قبل اور رات کھانے کے بعد استعمال کریں۔ علاج دو ہفتہ تک جاری رکھیں ، ٹھنڈی چیزوں سے پرہیز کریں۔

    23.حملہ قلب (ہارٹ اٹیک): دل کے والو کی بندش، سانس لینے میں دقت، ٹھنڈا پسینہ اور دل پر دباؤ کی صورت میں ایک پیالی بکری کا دودھ میں نصف چائے کا چمچہ کلونجی کا تیل ملا کر دن میں دو بار صبح ناشتہ سے قبل اور رات سونے سے قبل استعمال کریں۔ یہ علاج ۲۱ دن تک جاری رکھیں۔

    24.زچگی: بچہ کی پیدائش کے بعد ذہنی کمزوری، تھکاوٹ اور اخراجِ خون جیسے امراض میں ایک پیالی کھیرے کے جوس میں نصف چائے کا چمچہ کلونجی کا تیل ملا کر دن میں دو بار صبح ناشتہ سے قبل اور رات سونے سے قبل استعمال کریں۔ یہ علاج ۴۰ دن تک جاری رکھیں۔

    25.پیٹ میں کیڑے: ایک چمچہ سرکہ میں نصف چائے کا چمچہ کلونجی کا تیل ملا کر دن میں تین بار صبح ناشتہ سے قبل، دوپہر اور رات میں استعمال کریں۔ یہ علاج ۱۰دن تک جاری رکھیں۔

    26.جوڑوں کا درد: ایک چمچہ سرکہ اور دو چمچہ شہد میں نصف چائے کا چمچہ کلونجی کا تیل ملا کر دن میں دو بار استعمال کریں۔ جوڑوں کی تِل کے تیل سے مالش بھی کریں۔ ۲۱ دن تک گیس آور خوراک سے پرہیز کریں۔

    27.جسمانی صحت: صحت کو برقرار رکھنے کے لئے ایک کلو گرام گندم کے آٹے میں نصف چائے کا چمچہ کلونجی کا تیل ملا کر روٹی بنائیں اور کھائیں۔ ان شاء اللہ صحت برقرار رہے گی۔

    28.چہرہ اور جلد کی شادابی کے لئے: دو بڑے چمچہ شہد، نصف چائے کا چمچہ کلونجی کا تیل اور نصف چائے کا چمچہ زیتون کا تیل اچھی طرح ملا کر صبح اور شام چہرہ پر ۴۰ دن تک لگائیں۔

    29.بواسیر: ایک چمچہ سرکہ اور نصف چائے کا چمچہ کلونجی کا تیل ملا کر بواسیر کی جگہ پر دن میں دو بار لگائیں۔

    30. ماہواری میں بے ترتیبی: ایک چمچہ شہد اور نصف چمچہ کلونجی کا تیل ملا کر صبح ناشتہ سے قبل اور رات میں دو ہفتہ تک پئیں۔

    31.بے خوابی: آرام دہ نیند کے لئے رات کھانے کے بعد نصف چائے کا چمچہ کلونجی کا تیل ایک چمچہ شہد میں ملا کر پئیں۔

    32.سستی : چست رہنے کیلئے روزانہ صبح ناشتہ سے قبل نصف چائے کا چمچہ کلونجی کا تیل دو چمچہ شہد کے ساتھ استعمال کریں۔

    33.شیرِ مادر: ماں کے دودھ میں اضافہ کے لئے ایک پیالی دودھ میں دو قطرے کلونجی تیل ڈال کر صبح ناشتہ سے قبل اور رات سونے پیشتر پئیں۔

    34.درد معدہ : ہر قسم کے درد معدہ کو رفع کرنے کے لئے میٹھے سنگترہ کے ایک گلاس جوس میں دو چمچہ شہد اور نصف چائے کا چمچہ کلونجی کا تیل ملا کر دن میں دو بار پئیں۔

    35.جوڑوں کے درد، کمر درد، گردن میں درد: دو عدد خشک انجیر کھا کر ایک پیالی دودھ میں چار قطرے کلونجی کا تیل ڈال کر پئیں اور اس کے بعد دو گھنٹہ تک کچھ نہ کھائیں۔ یہ علاج دو ماہ تک جاری رکھیں۔ آلو اور ٹماٹر سے پرہیز کریں۔

    36. رحم کے مسائل: بچہ دانی کے مختلف امراض میں نصف گڈی پودینہ کا عرق، ۲ چمچہ مصری کا سفوف میں نصف چائے کا چمچہ کلونجی کا تیل اچھی طرح ملا کر صبح ناشتہ سے قبل استعمال کریں۔ علاج ۴۰ دن تک جاری رکھیں۔

    37.دانتوں میں درد: سوتے وقت روئی کے پھاہے کو کلونجی کے تیل میں گیلا کر کے متاثرہ حصہ میں رکھ دیں۔

    38.کانوں کی تکالیف کے لئے: ایک چائے کے چمچہ کلونجی کے تیل کو ایک بڑے چمچ زیتون کے تیل میں ملا کر اچھی طرح گرم کر لیں۔ پھر ٹھنڈا کر کے سوتے وقت اس کے دو تین قطرے کانوں میں ڈال لیں۔ فوری افاقہ ہو گا۔

    39.جگر و معدہ کے امراض:دو سَو گرام شہد میں نصف چائے کا چمچہ کلونجی کا تیل اچھی طرح ملا کر اس آمیزہ کا نصف صبح ناشتہ سے قبل اور نصف شام میں استعمال کریں۔ ایک ماہ تک اس نسخہ کو استعمال کریں اور ترش اشیاء سے پرہیز کریں۔

    40.مٹاپا: نصف چائے کا چمچہ کلونجی کا تیل میں دو چمچہ شہد نیم گرم پانی میں حل کر کے دن میں دو بار پئیں چاول سے پرہیز کریں

    41.ہکلانا، تتلانا: نصف چائے کا چمچہ کلونجی کا تیل اور دو چمچے شہد اچھی طرح ملا کر اسے زبان کے اوپر دن میں دو بار رکھیں۔

    42.خشکی: دس گرام کلونجی کا تیل، تیس گرام زیتون کا تیل اور تیس گرام منہدی سفوف کو اچھی طرح ملا کر تھوڑا سا گرم کریں۔ ٹھنڈا ہونے پر اسے بالوں کی جڑوں میں لگائیں۔
    دیسی نسخہ جات،جنسی و جسمانی بیماریوں کا علاج جڑی بوٹیوں کے فوائد اور بہترین تحریروں کے لئے ہمارا پیج لاٗیک کیجئے.اپنے دوستوں کو بھی شیئر کریں… شکریہ

  • بچوں میں سیکھنے کے 12 مظاہر

    بچوں میں سیکھنے کے 12 مظاہر

    بچوں میں سیکھنے کے 12 مظاہر

    لاک ڈاون کی وجہ سے سکول بند ہیں بچے گھروں میں فارغ ہیں ان کی زندگی ضائع ہو رہی ہے جب تک سکول کھلیں گے والدین سمجھیں گے کہ بچوں کی زندگی کا ایک خاصا بڑا حصہ ضائع ہو گیا ہے کام نہیں آسکا چند درج ذیل نشانیاں FEEL EDUCATION کے ممبر (فاؤنڈیشن آف ایفیکٹیو ایجوکیشن اینڈ لرننگ) کے ممبر انجنئیر نوید قمر نے بتائی ہیں جو اگر والدین بچوں میں دیکھیں تو خوش ہوں بچے کچھ نہ کچھ سیکھ رہے ہیں لہذا اس میں پریشان ہونے کی قطا ضرورت نہیں
    https://www.youtube.com/watch?v=6iff1qh6fU4&feature=youtu.be
    اگر بچے میں مشاہدہ کرنے کا تجسس یا حس بہت تیز ہے وہ چیزوں میں گھستا ہے یا دیکھتا ہے جیسا کہ بچہ کبھی میز کے نیچے گھس جاتا ہے چیزوں کو دیکھتا ہے کیڑوں مکوڑوں کو پکڑتا ہے ان کا مشاہدہ کرتا ہے کسی بھی چیز کو کھول کر دیکھنے جانچنے یا مشاہدہ کرنے کی کریوٹسی موجود ہے تو اس کا مطلب ہے بچہ سیکھ رہا ہے وقت ضائع نہیں کر رہا

    بچہ اگر کسی کھیل میں انوالو ہے کھیل چاہے کسی بھی قسم کا ہو اکیلا کھیلے یا بچوں کے ساتھ بچے کا وقت اس میں ضائع کبھی بھی نہیں ہوتا بلکہ بچہ اس سے بہت کچھ سیکھتا ہے کھیل ہمیشہ تعلیمی ہوتا ہے اور بچے کے سیکھنے کا ایک اچھا خاصا بڑا حصے کا تعلق کھیل کے ساتھ ہوتا ہے اگر بچہ کھیل میں وقت گزار رہا ہے تو اس کا مطلب ہے کہ بچے کے سیکھنے کا عمل بہتر انداز میں چل رہا ہے

    بچے اگر آپس میں کچھ ڈسکس کر رہے ہیں ماضی کے واقعات یا قصے کہانیاں آپس میں سنا رہے ہیں یا مختلف آئیڈیاز آپس میں شئیر کر رہے ہیں تو اس کا مطلب ہے بچہ سیکھ رہا ہے کیونکہ باتوں کے ذریعے اچھا خاصا علم منتقل ہوتا ہے اور تعلیم کا ایک بڑا حصہ حاصل ہوتا ہے

    بچے اگر آپس میں یا والدین سے سوال کرتے ہیں تو اس کا مطلب ہے بچے کا ذہن ذرخیز ہے بچہ اگر دن میں دس بیس یا پچیس سوالات کرتے ہیں تو اس کا مطلب ہے بچہ سیکھ رہا ہے اور یہ اس کے سیکھنے کے عمل کا ایک بڑا حصہ ہے

    بچے اگر تصور میں کوئی کہانی گھڑ لیتے ہیں یا ڈرامہ بنا لیتے ہیں یا کریکٹر ایک دوسرے کو دے کر کہانی یا ڈرامہ بنا لیتے ہیں تو اس کے ذریعے ڈائیلاگز کرتے ہیں بچے کا تصوراتی دنیا میں جانا ایسی بات کرنا جو بظاہر ناممکن ہوتی ہے تو ان کا تصور میں جانا اس بات کی علامت ہے کہ بچے سیکھ رہے ہیں

    بچہ ہر کام اپنے طریقے سے یا ذرا ہٹ کر کرتا ہے تو بچے کی یہ انفرادیت اس بات کی علامت ہے کہ بچہ سیکھ رہا ہے اور یہ بچے کا سیکھنے کا اپنا ہی ایک طریقہ ہے

    اگر کوئی بچہ اپنے فیصلے خود کرتا ہے تو اپنے فیصلے خود لیتا ہے اس کے خود فیصلے لینے کے عمل کو مثبت لینا چاہیئے اس پر ناراض نہیں ہونا چاہیئے

    اگر کوئی بچہ ٹیم ورک کرتا ہے کسی بھی چیز میں اس کا ٹیم ورک اسکا لرننگ پروسیس ہے

    بچے ڈرائینگ بنائیں اسکیچ بنائیں کسی کاغذ یا بورڈ پر مختلف رنگوں سے اس طرح وہ اپنے خیالات کا اظہار لفظوں کے ذریعے کرناچاہ رہے ہوتے ہیں یہ بھی بچے کے سیکھنے کا عمل ہوتا ہے

    بچہ اگر گنگناتا ہے کسی بھی چیز کو سن کر آواز بناتا ہے آوازیں مکس کرتا ہے اور آوازوں کےساتھ ایک کمبی نیشن بنا کر ترنم پیدا کرنے کی کوشش کرتا ہے تو یہ بھی ایک بات کی علامت ہے کہ بچہ سیکھ رہا ہے

    بچہ اگر نئے نئے کام کرتا ہے تجربات کرتا ہے کچھ ایسی چیزیں کرتا ہے جو آپ نے پہلی مرتبہ دیکھی ہیں اس بات کی علامت ہے بچہ آپ کا کری ایٹیو ہے اور کچھ نئے کام اور نئے تجربات کے ساتھ وہ خود کو انوالو کرنا چاہ رہا ہے

    کچھ بچے تنہا رہنا پسند کرتے ہیں اکیلے بیٹھنا پسند کرتے ہیں تنہائی میں سوچ رہے ہوتے ہیں غوروفکر کر رہے ہوتے ہیں اس کا تنہائی میں سوچنا غوروفکر کرنا اس بات کی علامت ہے کہ بچہ سیکھ رہا ہے

    یہ وہ مظاہر ہیں جس سے والدین کو اندازہ ہونا چاہیے کہ بچے کا وقت ضائع نہیں ہو رہا ہے ان سب میں۔والدین کو چاہیے وہ بچوں کو روکیں ٹوکیں نہیں ان کا ساتھ دیں بچوں کو سہولت دیں بچوں کو ٹائم دیں جو چیزیں انہیں دستیاب ہیں انہیں مہیا کریں

    وہ 7 مصروفیات جن سے آپ بچوں کی صلاحیتوں میں بے پناہ اضافہ کرسکتے ہیں

    گھر میں کورونا وائرس ختم کرنے کے طریقے

  • حقوق نسواں کے جعلی دعوے داروں اور اصل افراد کے کردار!!! تحریر: غنی محمود قصوری

    حقوق نسواں کے جعلی دعوے داروں اور اصل افراد کے کردار!!! تحریر: غنی محمود قصوری

    8 مارچ کو عالمی یوم خواتین سے پہلے ہی پوری دنیا کیساتھ پاکستان بھی کرونا کی لپٹ میں تھا چائیے تو یہ تھا کہ دنیا بھر کی طرح احتیاط کی جاتی اور لوگوں کو اس سے بچاؤ کے متعلق آگاہی دی جاتی مگر ہوس و شہرت کے پجاری اس وقت بھی باز نا آئے اور پورے ملک میں ان نام نہاد خود ساختہ حقوق نسواں کے دعوے داروں نے سینکڑوں مجبور و بے سہارا غریب عورتوں کو پیسے کا لالچ دے کر اکھٹا کیا جو کہ بعد میں میڈیا پر وائرل بھی ہو گیا گندے بے ہودہ نعروں پر مبنی پوسٹرز اور پلے کارڈز پر ان کی طرف سے ریاست پاکستان و اسلام کے خلاف نعرے درج تھے اور دنیا کو یہ باور کروانے کی کوشش کی جا رہی تھی کہ معاذاللہ اسلام عورتوں کے حقوق کا غاصب ہے ویسے تو ان دین بے زاروں کے کئی نعرے ہیں مگر سب سے مشہور ان کا نعرہ میرا جسم میری مرضی ہے جس کے تحت یہ اللہ کی جاری کردہ حدوں کو پامال کرتے ہیں اور کر بھی رہے ہیں 8 مارچ یوم خواتین کو جب ملک کے ہر شہر سے خصوصاً کراچی کے فریئر ہال اور لاہور وہ اسلام آباد کے پریس کلبوں سے انہوں نے عورت مارچ کا آغاز کیا عین اس وقت پوری دنیا کرونا وائرس کی لپیٹ میں تھی کشمیر و فلسطین،شام و افغانستان اور ہندوستان کے مسلمان کے خون سے ہولی کھیلی جا رہی تھی جن میں بڑی تعداد عورتوں اور بچوں کی بھی ہے مگر افسوس کے ان لوگوں نے صرف اسلام و پاکستان کو بدنام کرنے کیلئے کوئی موقع ہاتھ سے جانے نا دیا حالانکہ اگر یہ نام نہاد حقوق نسواں کے اصل پشتی بان ہوتے تو کرونا سے متاثرہ عورتوں کی تکلیف کا ازالہ کرنے کی کوشش کرتے کشمیر میں محصور عورتوں کیلئے چیختے چلاتے ان کیلئے صدائیں بلند کرتے مگر ان کو تو صرف عورت کی آزادانہ بوس و کنار کی فکر ہے ان کو تو عورتوں کے بوائے فرینڈز کے روٹھ جانے کی فکر ہے اور ان کو صرف آزاد بے لگام معاشرے کے قیام کا ٹاسک ملا ہوا ہے
    یہ لوگ نا صرف دین اسلام سے بیزار ہیں بلکہ یہ لوگ تو انسانیت سے بھی بیزار ہیں اس ساری نام نہاد حقوق نسواں کی ٹیم کے کارکنان جیسا کہ ماروی سرمد،اداکارہ ریشم،منصور علی خان، ڈاکٹر عامر لیاقت حسین اور گستاخ احمد وقاص گورائیہ اور دیگر لوگ سب کے سب چیخ رہے تھے میرا جسم میری مرضی اور عورت پر ظلم بند کرو ان کو ان کے حقوق دو مگر اب کرونا سے متاثرہ عورتیں ان کی خاموشی پر حیران ہیں کہ تمہارے دعوے تو صرف بے شرمی اور بے حیائی پھیلانے تک ہی تھے اب ہم پوری دنیا و پاکستان کی کرونا سے متاثرہ عورتیں کسی سہارے کی منتظر ہیں کوئی ہمارا دکھ سمجھے کوئی ہمارے ساتھ بیٹھے ہمارے علاج کے حقوق کی صدائیں بلند کرے ہمارے لئے اعلی خوراک کا انتظام کرے تا کہ ہم اپنا جسمانی مدافعتی نظام طاقتور کرکے اس موذی مرض سے نجات حاصل کر سکیں مگر افسوس جعلی اور نام نہاد دعوے دار اب چپ کرکے مشکل کی اس گھڑی میں بیٹھ گئے ہیں اور ڈر رہے ہیں کہ ہمارے جسم کو ہماری مرضی کے خلاف کرونا وائرس نا چمٹ جائے ہمارا جسم ہماری مرضی کا دعوے دار ٹولہ جان چکا ہے کہ جسم بھی اللہ کا اور مرضی بھی اللہ کی مگر اللہ فاسق لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا
    ایسے لوگوں کو میرے رب نے اپنے فرمان میں منافق اور بدکردار کہا ہے اور یہ لوگ فسادی ہیں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں
    منافق مرد اور منافق عورتیں ایک دوسرے میں سے ہیں وہ برائی کا حکم دیتے ہیں اور بھلائی سے روکتے ہیں اور اپنے ہاتھ بند رکھتے ہیں ،وہ بھول گئے اللہ تعالیٰ کو ،تو اس نے بھی بھلا دیا یقیناً منافق ہی نافرمان ہیں سورہ التوبہ آیت 67
    حالانکہ اب عورتوں کو ان کے پہلے حق صحت کی اشد ضرورت ہے کیونکہ میرے رب کا فرمان ہے جس نے ایک جان بچائی گویا اس نے ساری انسانیت کو بچایا سورہ المائدہ آیت 32
    مگر ان کھوکھلے نعرے لگانے والوں کی کرتوت کھل کر سامنے آ گئی ہے یہ صرف عورتوں کو بوس کنار اور سیکس ایجوکیشن کی طرف لے جانا چاہتے ہیں مگر اس پاک دھرتی کے غم خوار بیٹے جو کہ اپنے نبی کریم اور اپنے رب کے فرامین کے مطابق عورتوں ،بچوں،بوڑھوں اور مریضوں کے حقوق سے واقف ہیں وہ غم خوار انسانیت کے مددگار بے سروسامانی کیساتھ بھی ان عورتوں بچوں اور مردوں کی صحت کے حقوق کیلئے ڈٹ گئے ہیں اور دن رات ایک کرکے اس موذی مرض سے متاثرہ مریض عورتوں کا علاج شروع کر دیا اور ثابت کر دیا کہ ہم اصل دعوے دار ہیں حقوق نسواں کے ہم مان ہیں ان ماؤں ،بہنوں اور بیٹیوں کا اور پھر پورا ملک ایک جان ہو گیا فوج و پولیس کے جوان ملک کی سلامتی و بقاء کی خاطر گلیوں چوراہوں میں آ گئے پیرا میڈیکل سٹاف ڈاکٹروں کے شانہ بشانہ جڑ گیا،صحافی لوگوں کو باخبر رکھنے کیلئے دن رات ایک کئے باہر آ گئے ریسکیو 1122 کے جوان بھی بغیر نیند کی پرواہ کئے جت گئے محکمہ ڈاک نے بزرگ پینشروں تنخواہ دار عورتوں کے حقوق کی خاطر اس لاک ڈاؤن میں ان کی رقوم ان تک پہنچانے ان کے گھروں کی دہلیز تک پہنچے محکمہ بجلی نے لوگوں کی پریشانی جانتے ہوئے دن رات ایک کرکے لاک ڈاؤن میں بیٹھی عورتوں اور بچوں کے لئے اپنی جان خطرے میں ڈال کا بجلی کی ترسیل کا کام بغیر رکاوٹ جاری رکھا سول گورنمنٹ کے اہلکاران و افسران نے ساری آسائشیں چھوڑیں اور قرنطینہ سنٹرز و ہسپتالوں میں زیر علاج عورتوں اور مریضوں کی ضروریات کیلئے دن رات ایک کرکے ان تک ہر چیز پہنچائی نیز پاکستان کا ہر محکمہ ہر پاکستانی تعصب اور گروہ بندی سے ہٹ کر ان عورتوں،بچوں بوڑھوں ،جوانوں اور مریضوں کے حقوق کی خاطر اپنی جان کی پرواہ کئے بنا کام کر رہا ہے مگر یہ نام نہاد حقوق نسواں کا جعلی ٹولہ کسی بل میں چوہے کی طرح چھپ کر بیٹھ گیا اور ڈر رہا ہے کہ ہمارے جسم کو ہماری مرضی کی سزا نا مل جائے مگر یہ لوگ جان جائیں اللہ کے ہاں دیر تو ہے مگر اندھیر نہیں تو اے ظالموں اپنے رب سے ڈر جاؤ اور لوٹ آؤ اپنے رب کی طرف

  • عسکری تحریک میں کشمیری خواتین کا لازوال کردار……. تحریر: یاسمین میر

    عسکری تحریک میں کشمیری خواتین کا لازوال کردار……. تحریر: یاسمین میر

    بھارت کو کشمیر میں خونی پنجے گاڑے ستر برس بیت گئے مگر سلام ہو ان بہادر ونڈر کشمیری مردوزن پر کہ نہتے ہو کر بھی دشمن کے دانت کٹھے کر رہے ہیں۔

    1989 سے آج تک لاکھوں جانوں کا نذرانہ دینے کے باوجود وطن کی آزادی کے لیے کشمیر ی اب بھی کٹ مرنے کو تیار ہیں۔ کشمیر کی مائیں اپنے بیٹوں میںبے جگری سے جینے اور شوق شہادت کا یہ جذبہ نسل درنسل منتقل کرتی چلی آرہی ہیں۔

    تحریک کے روز اول سے ہی کشمیری خواتین اپنے بیٹوں ‘ بھائیوں اور شوہروں کو وطن پر قربان کرنے کیلئے ہر لمحہ تیارر ہتی ہیں ۔ عملی طورپر دیکھیں تو عسکری تحریک میں کشمیری خواتین کا کردار نہیں ملتا لیکن کشمیر مومنٹ کے تیز ہونے کے بعد 1989 میں کشمیری خواتین نے تنظیم سازی کرنے لگیں تو ساتھ ہی حریت تحریکوں کے خواتین ونگ بھی بننا شروع ہو گئے۔

    اس وقت سے آسیہ اندرابی ’ دختران ملت،زمردہ حبیب تحریک خواتین، یاسمین راجہ مسلم خواتین مرکز، فریدہ بہن جی ماس مومنٹ جموں وکشمیر اور پروینہ آہنگر اے پی ڈی چلا رہی ہیں۔

    ان خواتین کے تنظیموں میں سینکڑوں خواتین ممبرز بھی موجود ہیں جو نہ صرف عام کشمیری کو آزادی کی اہمیت سے آگاہ کرتی ہیں۔ بلکہ 90 کے دہائی میں جب درندہ صفت بھارتی فوجیوں نے خواتین کی عزتیں پامال کرنا شروع کیں تو آسیہ اندرابی نے آگاہی مہم کے دوران خواتین کو اپنے پاس چاقو رکھنے اور دفاع کے طورپر اس کو استعمال کرنے کے طریقے بھی سیکھائے ۔

    یہی نہیں تحریک کے آغاز سے اب تک کشمیری خواتین مجاہدین کو پناہ دینے ان تک کھانا پہنچانے اور انہیں سیکورٹی فورسز سے بچانے میں بھی پیش پیش رہی ہیں۔ برہان وانی کی شہادت کے بعد تو ہم مقبوضہ کشمیر میں خواتین کے بڑے احتجاجی مظاہرے دیکھ رہے ہیں ۔

    لیکن پہلا آرگنائز احتجاجی مظاہرہ 1990 میں دختران ملت کی کال پر ہوا اور اس وقت خواتین نے مسجد میں جاکر نعرہ لگائے۔ اب وادی میں وہ دور لوٹ آیا ہے جب کشمیری خواتین کا اپنے رشتہ داروں کی تلاش اور کیسیز کی پیروی کے لیے دہلی کی عدالتوں اور تہاڑ جیل کے چکر لگانا معمول بن چکا ہے ۔

    پاکستانی قوم بھی کشمیری بھائیوں اور بہنوں سے بے خبر نہیں، تحریک آزادی کے ستر سالوں کے اعصاب شکن مراحل سے گزر کرگزشتہ دو سو دنوں میں آزادی کی جد جہد میں عورتوں کی بھرپور شمولیت آنے والی صبح نو کے لیے امید کا پیغام دے رہی ہے۔ جہدوجد آزادی میں خواتین کے سرگرم کردار اور زمینی حقائق کے متعلق دختران ملت کی چیئرپرسن آسیہ اندرابی کہتی ہیں کہ میں کئی بار جیل گئی انڈر گر اؤنڈ رہی حتی کہ حال ہی میں برہان وانی کی شہادت کے بعد تین مہینے کے لیے جیل میں رکھا گیا اور اس وقت بھی ہاؤس اریسٹ ہوں ۔

    مگر آخری دم تک کشمیر کی آزادی کے لیے جدوجہد میں خواتین کے سرگرم کردار اور زمینی حقائق کے متعلق دختران ملت کی چیئرپرسن آسیہ اندرابی کہتی ہیں کہ میں کئی بار جیل گئی انڈر گر اؤنڈ رہی حتی کہ حال ہی میں برہان وانی کی شہادت کے بعد تین مہینے کے لیے جیل میں رکھا گیا اور اس وقت بھی ہاؤس اریسٹ ہوں ۔ مگر آخری دم تک کشمیر کی آزادی کے لیے جدوجہد جاری رکھوں گی۔

    چوبیس سال سے میرے شوہر جیل میں ہیں۔ لاکھوں کشمیری خواتین ایسی ہیں جن کے شوہر کئی سالوں سے لاپتہ ہیں اور تاریخ میں پہلی بار کشمیری خواتین کے لیے (آدھی بیوہ )کی اصطلاح استعمال ہوئی ہے۔ مگر یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ بھارت کچھ بھی کر لے ہمارے اٹل ایمان کو شکست نہیں دے سکتا۔

    چیئرپرسن جموں کشمیر ماس موومنٹ فریدبہن جی کہتی ہیں کہ میرے بھائی بلال پر پاکستان سے وابستگی کا الزام لگا کر گرفتار کیا گیا بعدازاں دہلی دھماکوں کے بعد بھارتی فوجیوں نے نہ صرف مجھے گرفتار کیا بلکہ پانچ سال کے لیے تہاڑ جیل بھیج دیا اور 2001ء میں جیل سے رہا ہوئی تو بھارت کی جیلوں میں قید کشمیری قیدیوں کی قانونی مددکا بیڑہ اٹھایا۔ زمردہ حبیب تحریک خواتین کشمیر کی چیئرپرسن ہیں ۔

    وہ 1992ء سے آزادی کی تحریک میں متحرک ہیں اور اسی پاداش میں 5 سال کے لیے تہاڑ جیل بھی کاٹ چکی ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ مقبوضہ کشمیر کی خواتین کے قربانیاں گواہ ہیں کہ کشمیری عورت کو ڈرایا یا دھمکایا نہیں جاسکتا۔ مسلم خواتین مرکز کی چیئرپرسن یاسمین راجہ جو غلام نبی بٹ کی بیٹی ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ بچپن سے ہی پاکستان کی نغمے گاتی تھی۔

    ایک مرتبہ پاکستانی قومی ترانہ پڑھنے پر مجھے سکول سے نکال دیا گیا۔ مگر میری پاکستان کے ساتھ لگن کم نہیں ہوئی۔ اس دوران کئی بار جیل گئی ہوں اور رہا ہوئی ہوں۔ تحریک آزادی کشمیر کی ان چند نمایاں خواتین کے علاوہ دیگرکشمیری خواتین کا بھی آزادی کی جدوجہد میں کلیدی کردار رہا ہے۔

    اسلام اور آزادی کی اس شمع کو جلا رکھنے کے لیے برہان وانی کی شہادت کے بعد سے چلنے والی تیز ترین عوامی جدوجہدکو دبانے کے لیے بھارت کے ظلم وستم سے جہاں سو کشمیری شہید ہو ئے ان میںخواتین بھی شامل ہیں

    گزشتہ چھ ماہ میں یاسمین رحمان‘ سعیدہ بیگم ‘ نیلوفر‘ یاں اور فوزیہ صدیق سمیت کئی خواتین نے جام شہادت نوش کیا۔ وہیں خواتین کے پرامن ریلیوں ‘ جلسوں ‘ اور حتی کہ گھروں میں گرنے والے آنسووں گیس کے گولوں ‘ پیلٹ گن کے چھروں سے انشاء مقبول ‘ عرفی جان‘ شیروزہ میر‘ افراء جان‘ شیروزہ شکور کو آنکھوں کی روشنی سے ہاتھ دھونا پڑا۔

    یہی نہیں اس وقت ہزاروں کشمیری مائیں غربت کے باعث بچوں کی آنکھوں کا علاج نہیں کروا پا رہی ہیں ۔ جو پیلٹ گن کے چھرو ںسے متاثر ہوئے ہیں۔ ریاستی اخبار کی رپورٹ کے مطابق 9 جولائی 2016ء سے 31 دسمبر 2016ء تک 1008 نوجوان پیلٹ گنوں کا نشانہ بنے اور زخمی ہوئے ۔ ان میں سے سو سے زائد کے والدین نے غربت کے باعث ان کی آنکھوں کا علاج ادھورا چھوڑ دیا ۔

    اعدادو شمار کے آئینے میں دیکھیں تو کشمیر میڈیا سروسز کے مطابق 1989ء سے 31 دسمبر 2016 ء تک کشمیر میں بیوہ خواتین کی تعداد 22,835 ہے۔ جبکہ 10,825 خواتین کی اجتماعی عصمت دری کے واقعات پیش آچکے ہیں اور شہادتوں کے نتیجے میں 107,603بچے یتیم ہو چکے ہیں۔یہ شواہد اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ تحریک آزادی میں سرگرم کشمیری خواتین مالی پریشانی کے باوجودفلسطینی بہنوں کی طرح ہمت و حوصلہ کی مثال قائم کئے ہوئے ہیں۔

    کشمیر کی مظلوم عورتیں اسلام کے علمبردار خواب غفلت میں
    تحریر: یاسمین میر