Baaghi TV

Category: خواتین

  • گریڈ20 کے افسر کو محبت میں ماتحت لیڈی آفیسر کے جوتے اتارنا مہنگاپڑگیا،رنگ رلیوں کی تصاویر وائرل

    گریڈ20 کے افسر کو محبت میں ماتحت لیڈی آفیسر کے جوتے اتارنا مہنگاپڑگیا،رنگ رلیوں کی تصاویر وائرل

    پُرانی بات ہے الیکشن میں لغاری صاحبان کو اپنے مخالف لغاری کی ایک ویڈیو مل گئی جس میں لغاری صاحب ایک 15/16 سال کی لڑکی کے ساتھ انتہائی بے دردی سے سیکس کر رہے تھے لغاری صاحبان نے اس ویڈیو کو اپنے مخالف لغاری اُمیدوار کے خلاف استعمال کرنے کا فیصلہ کیا اُن دنوں VCR ہوا کرتے تھے وہ ویڈیو حلقہ کے تمام ہوٹلوں پر چلوئی گئی امید یہ تھی کہ ایسی غیر اخلاقی حرکت پر مخالف امید وار جس کی یہ ویڈیو تھی وہ ہار جائے گا مگر اُس وقت لغاری صاحبان کی حیرت کی انتہا نہ رہی جب وہ لغاری مخالف اُمیدوار بھاری اکثریت سے الیکشن جیت گیا لوگوں نے اُسے اس لیے ووٹ دیا کہ "ہمارا سردار جوان مرد ہے اور اوپر ہے ”

    کل سے ایک گریڈ 20 کے DIG پی ایس پی پولیس آفسر کی گریڈ 18 کی DMG افسر کے ساتھ سر سے پاوں تک چومنے والی تصاویر سوشل میڈیا کے گروپس میں وائرل ہیں DMG گروپ کی یہ خاتون گریڈ 18 کے ایف آئی اے آفسر کی بیوی ہیں ابھی چیرمین نیب اور جج ارشد ملک کی ویڈیوز اور اسکینڈل کی دھول نہی چھٹی تھی کہ یہ تصاویر سامنے آگئیں

    ایک تصویر میں psp آفسر DMG. آفسر کا مُنہ چوم رہے ہیں جبکہ دوسری تصویر میں DMG آفسر psp گریڈ 20 سے اپنا جوتا اُتروا رہی ہیں اور گریڈ 20 کے آفسر کے چہرے پر عجیب سے عشقیہ تاثرات ہیں اور وہ خاتون کے پاوں کو پکڑ کر واری واری جارہے ہیں

    دوران ملازمت اور اُس کے بعد بھی میں نے دیکھا کہ اگر کسی ماتحت پولیس ملازم سے کوئی غیر اخلاقی حرکت سرزد ہو جائے تو قانون یا عوام بعد میں فیصلہ کرتے ہیں پہلے افسران ملازم کو عبرت کا نشان بنا دیتے ہیں

    مُلتان میں ایک رینکر SP لیڈی وارڈن کو دل دے بیٹھے اور ٹیلی فون پر اظہار محبت فرمایا جس کی انہیں فوری سزا ملی اور CPO کلوز کردیا گیا اسی طرح فیصل آباد کا سونیا کیس جس میں ایک رینکر Sp ملازمت چھوڑنے پر مجبور ہوگیا کبیر والا کے ایک انسپکٹر کو بھی ایک لڑکی سے ٹیلیفون پر عشقیہ باتیں کرنے ہر مقدمات کا سامنا ہے

    پولیس ڈیپارٹمنٹ میں PSP افسران کو عام معافی ہے اگر ایک افسر سے کوئی غلطی ہو بھی جائے تو باقی سب افسران ان کو بچانے کے کیے میدان میں آجاتے ہیں ان میں سے بُہت سے افسران کی عشق کی داستانیں مشہور ہیں جو ماتحت ملازمین نے اپنے سینے میں چھپائی ہوتی ہیں ان کے گن مین ڈرائیور اور ذاتی سٹاف ان کے کرتوتوں سے واقف ہوتا ہے مگر مجبور ہوتے ہیں کسی کو اس لیے نہیں بتا پاتے کہ ان کے قلم کی ایک جُنبش سے ان بے چاروں کی روٹی روزی ختم ہو جاتی ہے

    اب بھی یہی ہوا ہے ڈی آئی جی صاحب اپنے حمایتی افسران کی مدد سے کُچھ تصاویرمیڈیا پر لے کر آئے ہیں جن میں اب وہ خاتون افسر کسی اور شخص کے ساتھ بلکُل اُسی انداز میں موجود ہیں ان تصاویر میں صاف لگ رہا ہے کہ فوٹو شاپ پر بنائی گئی ہیں شاید فوٹو شاپ پر بنائی گئی ہو سکتا ہے کہ ان تصاویر سے DIG صاحب کی جان بچ جائے اب تک اُن خاتون افسر یا اُن کے شوہر کی طرف سے کوئی تردید موصول نہیں ہوئی نہ ہی انہوں نے فوٹو شاپ پر اپنے چہرہ پر کسی اور لڑکی کا چہرہ لگوایا ہے

    ڈی آئی جی صاحب تو لازمی بچ ہی جائیں گے کیونکہ آئی جی صاحب کے لاڈلے ہیں اور ویسے بھی اس طرح کی حرکت کونسا بڑا جُرم ہے مرد تو ایسا کرتے رہتے ہیں مگر دُکھ تو اُس خاتون کا ہے جس سے عہدوپیماں کیے گئے ہوں گے مرنے جینے کی قسمیں کھائی گئی ہوں گی اب اس خاتون کے ساتھ کسی اور کی تصویر فوٹو شاپ پر بنوا کر DIG نے مردانگی کا ثبوت نہیں دیا گیا

    اگر یہ بات مان بھی لی جائے کہ DIG صاحب کی تصاویر نہیں ہیں مگر اپنی تصاویر میں وہ کس کو پیار کر رہے ہیں ؟DIG پوری رینج کا کمانڈر ہوتا ہے اس تمام تصاویر اور وقوعہ کی انکوائیری ہونی چاہیے اور قصور وار سامنے آنا چاہیے ورنہ ایسے غیر ذمدار اور غیر اخلاقی حرکتیں کرنے والے آفسر کو پولس کے ملازمین کی کمانڈ کا کوئی حق نہیں آئی جی صاحب اگر یہ نہیں کر سکتے تو آج تک جتنے پولیس ملازمین اور عوام والناس کو غیر اخلاقی حرکات پر اگر سزائیں دی گئی ہیں تو فوری معاف کردی جائے

    ان تمام تصاویر کو دیکھ کر میں تو اس نتیجہ پو پُنہچا ہوں کہ یہ صرف عشق ومحبت کی داستان نہیں بلکہ دو اداروں پولیس گروپ اور ڈسٹرکٹ ایڈمنسٹریشن گروپ کے درمیان اختلافات کا شاخسانہ بھی ہو سکتا ہے اگر DMG کی افسر نے پولیس گروپ کے افسر کو اپنے پاوں میں بیٹھایا ہوا ہے تو پولیس گروپ کے افسر نے بھی اُسے چومتے ہوہے فاتحانہ مسکراہٹ سے اپنی فتح کا اعلان کیا ہے اب فتح کس گروپ کی ہوئی ہے یا ہونی ہے اور کس کا بابا اوپر ہونا ہے یہ تو آنے والا وقت بتائے گا

    گریڈ 22 کے افسر کی محبت کا برا انجام —-از—عزیز خان ایڈوکیٹ ہائیکورٹ لاہور

  • کلونجی میں موت کے سوا ہر مرض کا علاج ہے ،تحریر؛ حبیب الرحمن

    کلونجی میں موت کے سوا ہر مرض کا علاج ہے ،تحریر؛ حبیب الرحمن

    کلونجی میں موت کے سوا ہر مرض کا علاج ہے ، حبیب الرحمن

    قدیم اطباء کلونجی اور اس کے بیجوں کے بھی استعمال سے خوب واقف تھے۔ وہ کلونجی کے بیج کو معدے اور پیٹ کے امراض مثلاً ریاح، گیس کا ہونا، آنتوں کا درد، نسیان، رعشہ، دماغی کمزوری، فالج اور افزائش دودھ کے لیے استعمال کراتے تھے۔

    کلونجی ایک قسم کی گھاس کا بیج ہے۔ اس کا پودا سونف سے مشابہ، خود رو اور تقریباً سَوا فٹ بلند ہوتا ہے۔کلونجی کی فصل حاصل کرنے کے لئے اس کی باقاعدہ کاشت کی جاتی ہے۔ اس کے پھول زردی مائل، بیجوں کا رنگ سیاہ اور شکل پیاز کے بیجوں سے ملتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بعض لوگ انہیں پیاز کا بیج سمجھتے ہیں۔ اصلی کلونجی کی پہچان یہ ہے کہ اگر اسے سفید کاغذ میں لپیٹ کر رکھیں تو اس پر چکنائی کے داغ لگ جاتے ہیں۔ ہر شاخ کے اوپر سیاہ دانے دار بیج ہوتے ہیں۔ اسی بیج کے حصول کے لئے بھارت، بنگلہ دیش، ترکی، وغیرہ میں اس کی کاشت کی جاتی ہے۔ کلونجی کے ان بیجوں کی خصوصی مہک ہوتی ہے۔ اسے ادویات کے علاوہ کھانے اور اچار وغیرہ میں بھی استعمال کیا جاتا ہے۔

    شعبہ طب میں اسے مصفی دوائی کے طور پر بھی استعمال کیا جاتا ہے۔کلونجی کے بیجوں میں فاسفورس، فولاد، اور کاربو ہائڈریٹ کے مرکبات شامل ہوتے ہیں۔ کلونجی کی کیمیاوی تجزیے سے معلوم ہو ا اس میں پیلے رنگ کا مادہ کیروٹین پایا جاتا ہے جو جگر میں پہنچ کر وٹامن اے میں تبدیل ہو جاتا ہے۔ان کے علاوہ بھی بہت سے ایسے مرکبات کلونجی میں پائے جاتے ہیں ، جو نظام انہظام کے لیے مفید ہیں۔ یہ بولی امرض کو دور کرتا ہے۔یہ جسم کی قوت مدافعت میں اضافہ کرنے کے علاوہ ہر قسم کے امراض کے علاج میں معاون ہے۔ کلونجی کے تیل میں ساٹھ فیصد لینو لیٹک ترشہ (Linoletic Acid) اور تقریباً ۲۱ فیصد Lipase کیمیاوی مادہ پایا جاتا ہے۔ یہ گرم درجہ حرارت میں جسم کو ٹھنڈا رکھنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔کلونجی میں پائے جانے والے خصوصی مادے Saponin Vlatile Oil اورNigelline پائے جاتے ہیں جو مختلف بولی امراض میں کارگر ہوتے ہیں۔ اسی لئے نبی کریمﷺ نے فرمایا کہ کلونجی کو اپنی غذا میں شامل کرو کہ یہ موت کے سوا تمام امراض کے علاج کی صلاحیت رکھتا ہے۔

    مختلف امراض میں کلونجی کے تیل کی استعمال کی ترکیب حسب ذیل ہے۔

    1.دمہ، کھانسی اور الرجی: ان امراض سے نجات کے لئے ایک کپ گرم پانی میں نصف چائے کا چمچہ کلونجی کا تیل ملا کر نہار منہ اور رات سونے سے قبل چالیس روز تک استعمال کریں۔ سرد اشیاء کھانے سے پرہیز کریں۔

    2.ذیابیطس (شوگر): ایک کپ قہوہ (کالی چائے)نصف چائے کا چمچہ کلونجی کا تیل ملا کر نہار منہ اور رات سونے سے قبل پی لیں۔ روغنی خوراک بالخصوص تلی ہوئی اشیا کھانے سے پرہیز کریں۔ اگر ذیابیطس کے لئے پہلے سے کوئی دوائی کھا رہے ہوں تو اسے جاری رکھیں۔ البتہ بیس روز بعد خون میں شوگر کا لیول چیک کروائیں۔ اگر معمول کے مطابق پائیں تو ادویہ کا استعمال بند کر کے اس نسخہ کو چالیس روز تک جاری رکھیں۔ مکمل شفا کے بعد نسخہ کا استعمال بند کر دیں۔

    3.دل کا دورہ: ایک کپ گرم پانی میں ایک چمچہ شہد، نصف چائے کا چمچہ کلونجی کا تیل ملا کر دن میں دو بار دس دن تک استعمال کریں۔ دس دن کے بعد مزید دس دن یومیہ ایک مرتبہ استعمال کریں۔

    4.پولیو اور لقوہ: ایک کپ گرم پانی میں ایک چمچہ شہد، نصف چمچہ کلونجی کا تیل ملا کر دن میں دو بار استعمال کریں۔ بچوں کو گرم پانی میں دو چمچے دودھ اور تین قطرے کلونجی کا تیل ملا کر دن میں تین مرتبہ پلائیں۔ علاج۴۰ دن تک جاری رکھیں۔

    5.جوڑوں کا درد: ایک چمچہ سرکہ، نصف چائے کا چمچہ کلونجی کا تیل اور دو چمچہ شہد ملا کر صبح نہار منہ اور رات کو سونے سے قبل استعمال کریں۔

    6.بد ہضمی، گیس، پیٹ کا درد: ایک چمچہ سرکہ میں نصف چائے کا چمچہ کلونجی کا تیل ملا کر دن میں دو بار پئیں۔ موٹاپا دور کر نے کے لئے بھی یہی نسخہ کا آمد ہے۔

    7.آنکھوں کے امراض: آنکھوں کا سرخ ہونا، پانی بہنا، کمزوری بصارت وغیرہ کی صورت میں ایک کپ گاجر کے عرق میں نصف چائے کا چمچہ کلونجی کا تیل ملا کر نہار منہ اور رات سونے سے قبل پئیں۔ یہ علاج چالیس روز تک جاری رکھیں ، اچار اور بینگن سے پرہیز کریں۔

    8. امراض مستورات (لیکوریا، پیٹ میں درد، کمر درد): دو گلاس پانی میں دس گرام پودینے کے پتے ابال لیں۔ پانی الگ کر کے اس میں نصف چائے کا چمچہ کلونجی کا تیل ملا کر نہار منہ اور رات سونے سے قبل پی لیں۔ علاج چالیس روز تک جاری رکھیں ، اچار، بیگن، انڈے اور مچھلی سے پرہیز کریں۔ اگر معمول سے زائد عرصہ تک ماہواری رُک جائے تو ایک کپ گرم پانی میں نصف چائے کا چمچہ کلونجی کا تیل اور دو چمچہ شہد ملا کر نہار منہ اور رات سونے سے قبل پی لیں۔ علاج ایک ماہ تک جاری رکھیں۔ آلو، بینگن سے پرہیز کریں۔

    9.یادداشت میں کمی: یاد داشت میں اضافہ کے لئے ایک کپ پانی میں دس گرام پودینے کے پتے ابال لیں۔ اس پانی میں نصف چائے کا چمچہ کلونجی کا تیل ملا کر دن میں دو بار پئیں۔ یہ علاج بیس روز تک جاری رکھیں۔

    10.درد گردہ: ۲۵۰ گرام کلونجی کے بیج کو پیس کر ایک کپ شہد میں اچھی طرح ملا لیں۔ دو چمچہ اس آمیزہ کو نصف پیالی پانی میں ملا کر اس میں نصف چائے کا چمچہ کلونجی کا تیل ملا کر دن میں ایک بار پئیں۔ علاج کو بیس روز تک جاری رکھیں۔

    11.عام جسمانی کمزوری:نصف چائے کا چمچہ کلونجی کا تیل میں ایک چمچہ شہد ملا کر دن میں ایک مرتبہ استعمال کرنے سے عام کمزوری اور اس کا باعث بننے والے دیگر امراض دور ہو جاتے ہیں۔

    12.دردِ سر: پیشانی اور کانوں کے قریب کلونجی تیل سے مالش کے علاوہ نصف چائے کا چمچہ کلونجی کا تیل دن میں دو بار پئیں۔

    13.بلند فشار خون: گرم چائے یا کافی میں نصف چائے کا چمچہ کلونجی کا تیل ڈال کر دن میں دو بار استعمال کریں۔ اسی کے ساتھ روزانہ دو جوے لہسن بھی استعمال کریں۔

    14.بالو ں کا گرنا: نیبو کے عرق سے سر کی اچھی طرح مالش کریں۔ ۱۵ منٹ کے بعد بالوں کو شیمپو سے دھو کر اچھی طرح خشک کریں۔ پھر پورے سر پر کلونجی کے تیل کی مالش کریں۔ ایک ہفتہ تک روزانہ کے علاج سے بالوں کا گرنا بند ہو جاتا ہے

    15.عام بخار: آدھے کپ پانی میں نصف چمچہ نیمبو کا عرق اور نصف چائے کا چمچہ کلونجی کا تیل ملا کر دن میں دو بار پئیں۔ بخار اترنے تک یہ نسخہ جاری رکھیں اور چاولوں سے پرہیز کریں۔

    16.گردے میں پتھری:ایک پیالی گرم پانی میں دو چمچہ شہد، نصف چائے کا چمچہ کلونجی کا تیل ملا کر دن میں دو بار صبح نہار منہ اور رات کو سونے سے قبل پئیں۔ ٹماٹر اور پالک اور لیمن سے پرہیز کریں۔

    17.کانوں میں درد، پیپ کا بہنا، سماعت میں کمی: کلونجی کے تیل کو گرم کر کے ٹھنڈا کر لیں۔ متاثرہ کان میں دو قطرے ڈالیں۔

    18.دانتوں کے امراض: دانتوں کی کمزوری، دانتوں سے خون نکلنے، ناگوار بو آنے یا مسوڑھوں کے سوج جانے کی صورت میں ایک پیالی دہی میں نصف چائے کا چمچہ کلونجی کا تیل ملا کر صبح نہار منہ اور رات سونے سے قبل کھا لیں۔

    19.کثرتِ احتلام: مردوں میں کثرت احتلام کی صورت میں ایک پیالی سیب کے جوس میں نصف چائے کا چمچہ کلونجی کا تیل ملا کر صبح نہار منہ اور رات سونے سے قبل پی لیں۔ علاج ۲۱ روز تک جاری رکھیں اور گرم مسالہ والے کھانوں سے پرہیز کریں

    20.خون کی کمی (انیمیا): پودینہ کے پتوں کی ایک شاخ کو پانی میں اُبال کر ایک پیالی جوس بنائیں۔ نصف چائے کا چمچہ کلونجی کا تیل ملا کر دن میں دو بار صبح نہار منہ اور رات سونے سے قبل پئیں۔ یہ نسخہ ۲۱ دن تک استعمال کریں۔

    21.یرقان (پیلیا): ایک پیالی دودھ میں نصف چائے کا چمچہ کلونجی کا تیل ملا کر دن میں دو بار صبح نہار منہ اور رات سونے سے قبل ایک ہفتہ تک پئیں۔

    22.کھانسی: ایک پیالی گرم پانی میں دو چمچے شہد اور نصف چائے کا چمچہ کلونجی کا تیل ملا کر دن میں دو بار صبح ناشتہ سے قبل اور رات کھانے کے بعد استعمال کریں۔ علاج دو ہفتہ تک جاری رکھیں ، ٹھنڈی چیزوں سے پرہیز کریں۔

    23.حملہ قلب (ہارٹ اٹیک): دل کے والو کی بندش، سانس لینے میں دقت، ٹھنڈا پسینہ اور دل پر دباؤ کی صورت میں ایک پیالی بکری کا دودھ میں نصف چائے کا چمچہ کلونجی کا تیل ملا کر دن میں دو بار صبح ناشتہ سے قبل اور رات سونے سے قبل استعمال کریں۔ یہ علاج ۲۱ دن تک جاری رکھیں۔

    24.زچگی: بچہ کی پیدائش کے بعد ذہنی کمزوری، تھکاوٹ اور اخراجِ خون جیسے امراض میں ایک پیالی کھیرے کے جوس میں نصف چائے کا چمچہ کلونجی کا تیل ملا کر دن میں دو بار صبح ناشتہ سے قبل اور رات سونے سے قبل استعمال کریں۔ یہ علاج ۴۰ دن تک جاری رکھیں۔

    25.پیٹ میں کیڑے: ایک چمچہ سرکہ میں نصف چائے کا چمچہ کلونجی کا تیل ملا کر دن میں تین بار صبح ناشتہ سے قبل، دوپہر اور رات میں استعمال کریں۔ یہ علاج ۱۰دن تک جاری رکھیں۔

    26.جوڑوں کا درد: ایک چمچہ سرکہ اور دو چمچہ شہد میں نصف چائے کا چمچہ کلونجی کا تیل ملا کر دن میں دو بار استعمال کریں۔ جوڑوں کی تِل کے تیل سے مالش بھی کریں۔ ۲۱ دن تک گیس آور خوراک سے پرہیز کریں۔

    27.جسمانی صحت: صحت کو برقرار رکھنے کے لئے ایک کلو گرام گندم کے آٹے میں نصف چائے کا چمچہ کلونجی کا تیل ملا کر روٹی بنائیں اور کھائیں۔ ان شاء اللہ صحت برقرار رہے گی۔

    28.چہرہ اور جلد کی شادابی کے لئے: دو بڑے چمچہ شہد، نصف چائے کا چمچہ کلونجی کا تیل اور نصف چائے کا چمچہ زیتون کا تیل اچھی طرح ملا کر صبح اور شام چہرہ پر ۴۰ دن تک لگائیں۔

    29.بواسیر: ایک چمچہ سرکہ اور نصف چائے کا چمچہ کلونجی کا تیل ملا کر بواسیر کی جگہ پر دن میں دو بار لگائیں۔

    30. ماہواری میں بے ترتیبی: ایک چمچہ شہد اور نصف چمچہ کلونجی کا تیل ملا کر صبح ناشتہ سے قبل اور رات میں دو ہفتہ تک پئیں۔

    31.بے خوابی: آرام دہ نیند کے لئے رات کھانے کے بعد نصف چائے کا چمچہ کلونجی کا تیل ایک چمچہ شہد میں ملا کر پئیں۔

    32.سستی : چست رہنے کیلئے روزانہ صبح ناشتہ سے قبل نصف چائے کا چمچہ کلونجی کا تیل دو چمچہ شہد کے ساتھ استعمال کریں۔

    33.شیرِ مادر: ماں کے دودھ میں اضافہ کے لئے ایک پیالی دودھ میں دو قطرے کلونجی تیل ڈال کر صبح ناشتہ سے قبل اور رات سونے پیشتر پئیں۔

    34.درد معدہ : ہر قسم کے درد معدہ کو رفع کرنے کے لئے میٹھے سنگترہ کے ایک گلاس جوس میں دو چمچہ شہد اور نصف چائے کا چمچہ کلونجی کا تیل ملا کر دن میں دو بار پئیں۔

    35.جوڑوں کے درد، کمر درد، گردن میں درد: دو عدد خشک انجیر کھا کر ایک پیالی دودھ میں چار قطرے کلونجی کا تیل ڈال کر پئیں اور اس کے بعد دو گھنٹہ تک کچھ نہ کھائیں۔ یہ علاج دو ماہ تک جاری رکھیں۔ آلو اور ٹماٹر سے پرہیز کریں۔

    36. رحم کے مسائل: بچہ دانی کے مختلف امراض میں نصف گڈی پودینہ کا عرق، ۲ چمچہ مصری کا سفوف میں نصف چائے کا چمچہ کلونجی کا تیل اچھی طرح ملا کر صبح ناشتہ سے قبل استعمال کریں۔ علاج ۴۰ دن تک جاری رکھیں۔

    37.دانتوں میں درد: سوتے وقت روئی کے پھاہے کو کلونجی کے تیل میں گیلا کر کے متاثرہ حصہ میں رکھ دیں۔

    38.کانوں کی تکالیف کے لئے: ایک چائے کے چمچہ کلونجی کے تیل کو ایک بڑے چمچ زیتون کے تیل میں ملا کر اچھی طرح گرم کر لیں۔ پھر ٹھنڈا کر کے سوتے وقت اس کے دو تین قطرے کانوں میں ڈال لیں۔ فوری افاقہ ہو گا۔

    39.جگر و معدہ کے امراض:دو سَو گرام شہد میں نصف چائے کا چمچہ کلونجی کا تیل اچھی طرح ملا کر اس آمیزہ کا نصف صبح ناشتہ سے قبل اور نصف شام میں استعمال کریں۔ ایک ماہ تک اس نسخہ کو استعمال کریں اور ترش اشیاء سے پرہیز کریں۔

    40.مٹاپا: نصف چائے کا چمچہ کلونجی کا تیل میں دو چمچہ شہد نیم گرم پانی میں حل کر کے دن میں دو بار پئیں چاول سے پرہیز کریں

    41.ہکلانا، تتلانا: نصف چائے کا چمچہ کلونجی کا تیل اور دو چمچے شہد اچھی طرح ملا کر اسے زبان کے اوپر دن میں دو بار رکھیں۔

    42.خشکی: دس گرام کلونجی کا تیل، تیس گرام زیتون کا تیل اور تیس گرام منہدی سفوف کو اچھی طرح ملا کر تھوڑا سا گرم کریں۔ ٹھنڈا ہونے پر اسے بالوں کی جڑوں میں لگائیں۔
    دیسی نسخہ جات،جنسی و جسمانی بیماریوں کا علاج جڑی بوٹیوں کے فوائد اور بہترین تحریروں کے لئے ہمارا پیج لاٗیک کیجئے.اپنے دوستوں کو بھی شیئر کریں… شکریہ

  • بچوں میں سیکھنے کے 12 مظاہر

    بچوں میں سیکھنے کے 12 مظاہر

    بچوں میں سیکھنے کے 12 مظاہر

    لاک ڈاون کی وجہ سے سکول بند ہیں بچے گھروں میں فارغ ہیں ان کی زندگی ضائع ہو رہی ہے جب تک سکول کھلیں گے والدین سمجھیں گے کہ بچوں کی زندگی کا ایک خاصا بڑا حصہ ضائع ہو گیا ہے کام نہیں آسکا چند درج ذیل نشانیاں FEEL EDUCATION کے ممبر (فاؤنڈیشن آف ایفیکٹیو ایجوکیشن اینڈ لرننگ) کے ممبر انجنئیر نوید قمر نے بتائی ہیں جو اگر والدین بچوں میں دیکھیں تو خوش ہوں بچے کچھ نہ کچھ سیکھ رہے ہیں لہذا اس میں پریشان ہونے کی قطا ضرورت نہیں
    https://www.youtube.com/watch?v=6iff1qh6fU4&feature=youtu.be
    اگر بچے میں مشاہدہ کرنے کا تجسس یا حس بہت تیز ہے وہ چیزوں میں گھستا ہے یا دیکھتا ہے جیسا کہ بچہ کبھی میز کے نیچے گھس جاتا ہے چیزوں کو دیکھتا ہے کیڑوں مکوڑوں کو پکڑتا ہے ان کا مشاہدہ کرتا ہے کسی بھی چیز کو کھول کر دیکھنے جانچنے یا مشاہدہ کرنے کی کریوٹسی موجود ہے تو اس کا مطلب ہے بچہ سیکھ رہا ہے وقت ضائع نہیں کر رہا

    بچہ اگر کسی کھیل میں انوالو ہے کھیل چاہے کسی بھی قسم کا ہو اکیلا کھیلے یا بچوں کے ساتھ بچے کا وقت اس میں ضائع کبھی بھی نہیں ہوتا بلکہ بچہ اس سے بہت کچھ سیکھتا ہے کھیل ہمیشہ تعلیمی ہوتا ہے اور بچے کے سیکھنے کا ایک اچھا خاصا بڑا حصے کا تعلق کھیل کے ساتھ ہوتا ہے اگر بچہ کھیل میں وقت گزار رہا ہے تو اس کا مطلب ہے کہ بچے کے سیکھنے کا عمل بہتر انداز میں چل رہا ہے

    بچے اگر آپس میں کچھ ڈسکس کر رہے ہیں ماضی کے واقعات یا قصے کہانیاں آپس میں سنا رہے ہیں یا مختلف آئیڈیاز آپس میں شئیر کر رہے ہیں تو اس کا مطلب ہے بچہ سیکھ رہا ہے کیونکہ باتوں کے ذریعے اچھا خاصا علم منتقل ہوتا ہے اور تعلیم کا ایک بڑا حصہ حاصل ہوتا ہے

    بچے اگر آپس میں یا والدین سے سوال کرتے ہیں تو اس کا مطلب ہے بچے کا ذہن ذرخیز ہے بچہ اگر دن میں دس بیس یا پچیس سوالات کرتے ہیں تو اس کا مطلب ہے بچہ سیکھ رہا ہے اور یہ اس کے سیکھنے کے عمل کا ایک بڑا حصہ ہے

    بچے اگر تصور میں کوئی کہانی گھڑ لیتے ہیں یا ڈرامہ بنا لیتے ہیں یا کریکٹر ایک دوسرے کو دے کر کہانی یا ڈرامہ بنا لیتے ہیں تو اس کے ذریعے ڈائیلاگز کرتے ہیں بچے کا تصوراتی دنیا میں جانا ایسی بات کرنا جو بظاہر ناممکن ہوتی ہے تو ان کا تصور میں جانا اس بات کی علامت ہے کہ بچے سیکھ رہے ہیں

    بچہ ہر کام اپنے طریقے سے یا ذرا ہٹ کر کرتا ہے تو بچے کی یہ انفرادیت اس بات کی علامت ہے کہ بچہ سیکھ رہا ہے اور یہ بچے کا سیکھنے کا اپنا ہی ایک طریقہ ہے

    اگر کوئی بچہ اپنے فیصلے خود کرتا ہے تو اپنے فیصلے خود لیتا ہے اس کے خود فیصلے لینے کے عمل کو مثبت لینا چاہیئے اس پر ناراض نہیں ہونا چاہیئے

    اگر کوئی بچہ ٹیم ورک کرتا ہے کسی بھی چیز میں اس کا ٹیم ورک اسکا لرننگ پروسیس ہے

    بچے ڈرائینگ بنائیں اسکیچ بنائیں کسی کاغذ یا بورڈ پر مختلف رنگوں سے اس طرح وہ اپنے خیالات کا اظہار لفظوں کے ذریعے کرناچاہ رہے ہوتے ہیں یہ بھی بچے کے سیکھنے کا عمل ہوتا ہے

    بچہ اگر گنگناتا ہے کسی بھی چیز کو سن کر آواز بناتا ہے آوازیں مکس کرتا ہے اور آوازوں کےساتھ ایک کمبی نیشن بنا کر ترنم پیدا کرنے کی کوشش کرتا ہے تو یہ بھی ایک بات کی علامت ہے کہ بچہ سیکھ رہا ہے

    بچہ اگر نئے نئے کام کرتا ہے تجربات کرتا ہے کچھ ایسی چیزیں کرتا ہے جو آپ نے پہلی مرتبہ دیکھی ہیں اس بات کی علامت ہے بچہ آپ کا کری ایٹیو ہے اور کچھ نئے کام اور نئے تجربات کے ساتھ وہ خود کو انوالو کرنا چاہ رہا ہے

    کچھ بچے تنہا رہنا پسند کرتے ہیں اکیلے بیٹھنا پسند کرتے ہیں تنہائی میں سوچ رہے ہوتے ہیں غوروفکر کر رہے ہوتے ہیں اس کا تنہائی میں سوچنا غوروفکر کرنا اس بات کی علامت ہے کہ بچہ سیکھ رہا ہے

    یہ وہ مظاہر ہیں جس سے والدین کو اندازہ ہونا چاہیے کہ بچے کا وقت ضائع نہیں ہو رہا ہے ان سب میں۔والدین کو چاہیے وہ بچوں کو روکیں ٹوکیں نہیں ان کا ساتھ دیں بچوں کو سہولت دیں بچوں کو ٹائم دیں جو چیزیں انہیں دستیاب ہیں انہیں مہیا کریں

    وہ 7 مصروفیات جن سے آپ بچوں کی صلاحیتوں میں بے پناہ اضافہ کرسکتے ہیں

    گھر میں کورونا وائرس ختم کرنے کے طریقے

  • حقوق نسواں کے جعلی دعوے داروں اور اصل افراد کے کردار!!! تحریر: غنی محمود قصوری

    حقوق نسواں کے جعلی دعوے داروں اور اصل افراد کے کردار!!! تحریر: غنی محمود قصوری

    8 مارچ کو عالمی یوم خواتین سے پہلے ہی پوری دنیا کیساتھ پاکستان بھی کرونا کی لپٹ میں تھا چائیے تو یہ تھا کہ دنیا بھر کی طرح احتیاط کی جاتی اور لوگوں کو اس سے بچاؤ کے متعلق آگاہی دی جاتی مگر ہوس و شہرت کے پجاری اس وقت بھی باز نا آئے اور پورے ملک میں ان نام نہاد خود ساختہ حقوق نسواں کے دعوے داروں نے سینکڑوں مجبور و بے سہارا غریب عورتوں کو پیسے کا لالچ دے کر اکھٹا کیا جو کہ بعد میں میڈیا پر وائرل بھی ہو گیا گندے بے ہودہ نعروں پر مبنی پوسٹرز اور پلے کارڈز پر ان کی طرف سے ریاست پاکستان و اسلام کے خلاف نعرے درج تھے اور دنیا کو یہ باور کروانے کی کوشش کی جا رہی تھی کہ معاذاللہ اسلام عورتوں کے حقوق کا غاصب ہے ویسے تو ان دین بے زاروں کے کئی نعرے ہیں مگر سب سے مشہور ان کا نعرہ میرا جسم میری مرضی ہے جس کے تحت یہ اللہ کی جاری کردہ حدوں کو پامال کرتے ہیں اور کر بھی رہے ہیں 8 مارچ یوم خواتین کو جب ملک کے ہر شہر سے خصوصاً کراچی کے فریئر ہال اور لاہور وہ اسلام آباد کے پریس کلبوں سے انہوں نے عورت مارچ کا آغاز کیا عین اس وقت پوری دنیا کرونا وائرس کی لپیٹ میں تھی کشمیر و فلسطین،شام و افغانستان اور ہندوستان کے مسلمان کے خون سے ہولی کھیلی جا رہی تھی جن میں بڑی تعداد عورتوں اور بچوں کی بھی ہے مگر افسوس کے ان لوگوں نے صرف اسلام و پاکستان کو بدنام کرنے کیلئے کوئی موقع ہاتھ سے جانے نا دیا حالانکہ اگر یہ نام نہاد حقوق نسواں کے اصل پشتی بان ہوتے تو کرونا سے متاثرہ عورتوں کی تکلیف کا ازالہ کرنے کی کوشش کرتے کشمیر میں محصور عورتوں کیلئے چیختے چلاتے ان کیلئے صدائیں بلند کرتے مگر ان کو تو صرف عورت کی آزادانہ بوس و کنار کی فکر ہے ان کو تو عورتوں کے بوائے فرینڈز کے روٹھ جانے کی فکر ہے اور ان کو صرف آزاد بے لگام معاشرے کے قیام کا ٹاسک ملا ہوا ہے
    یہ لوگ نا صرف دین اسلام سے بیزار ہیں بلکہ یہ لوگ تو انسانیت سے بھی بیزار ہیں اس ساری نام نہاد حقوق نسواں کی ٹیم کے کارکنان جیسا کہ ماروی سرمد،اداکارہ ریشم،منصور علی خان، ڈاکٹر عامر لیاقت حسین اور گستاخ احمد وقاص گورائیہ اور دیگر لوگ سب کے سب چیخ رہے تھے میرا جسم میری مرضی اور عورت پر ظلم بند کرو ان کو ان کے حقوق دو مگر اب کرونا سے متاثرہ عورتیں ان کی خاموشی پر حیران ہیں کہ تمہارے دعوے تو صرف بے شرمی اور بے حیائی پھیلانے تک ہی تھے اب ہم پوری دنیا و پاکستان کی کرونا سے متاثرہ عورتیں کسی سہارے کی منتظر ہیں کوئی ہمارا دکھ سمجھے کوئی ہمارے ساتھ بیٹھے ہمارے علاج کے حقوق کی صدائیں بلند کرے ہمارے لئے اعلی خوراک کا انتظام کرے تا کہ ہم اپنا جسمانی مدافعتی نظام طاقتور کرکے اس موذی مرض سے نجات حاصل کر سکیں مگر افسوس جعلی اور نام نہاد دعوے دار اب چپ کرکے مشکل کی اس گھڑی میں بیٹھ گئے ہیں اور ڈر رہے ہیں کہ ہمارے جسم کو ہماری مرضی کے خلاف کرونا وائرس نا چمٹ جائے ہمارا جسم ہماری مرضی کا دعوے دار ٹولہ جان چکا ہے کہ جسم بھی اللہ کا اور مرضی بھی اللہ کی مگر اللہ فاسق لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا
    ایسے لوگوں کو میرے رب نے اپنے فرمان میں منافق اور بدکردار کہا ہے اور یہ لوگ فسادی ہیں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں
    منافق مرد اور منافق عورتیں ایک دوسرے میں سے ہیں وہ برائی کا حکم دیتے ہیں اور بھلائی سے روکتے ہیں اور اپنے ہاتھ بند رکھتے ہیں ،وہ بھول گئے اللہ تعالیٰ کو ،تو اس نے بھی بھلا دیا یقیناً منافق ہی نافرمان ہیں سورہ التوبہ آیت 67
    حالانکہ اب عورتوں کو ان کے پہلے حق صحت کی اشد ضرورت ہے کیونکہ میرے رب کا فرمان ہے جس نے ایک جان بچائی گویا اس نے ساری انسانیت کو بچایا سورہ المائدہ آیت 32
    مگر ان کھوکھلے نعرے لگانے والوں کی کرتوت کھل کر سامنے آ گئی ہے یہ صرف عورتوں کو بوس کنار اور سیکس ایجوکیشن کی طرف لے جانا چاہتے ہیں مگر اس پاک دھرتی کے غم خوار بیٹے جو کہ اپنے نبی کریم اور اپنے رب کے فرامین کے مطابق عورتوں ،بچوں،بوڑھوں اور مریضوں کے حقوق سے واقف ہیں وہ غم خوار انسانیت کے مددگار بے سروسامانی کیساتھ بھی ان عورتوں بچوں اور مردوں کی صحت کے حقوق کیلئے ڈٹ گئے ہیں اور دن رات ایک کرکے اس موذی مرض سے متاثرہ مریض عورتوں کا علاج شروع کر دیا اور ثابت کر دیا کہ ہم اصل دعوے دار ہیں حقوق نسواں کے ہم مان ہیں ان ماؤں ،بہنوں اور بیٹیوں کا اور پھر پورا ملک ایک جان ہو گیا فوج و پولیس کے جوان ملک کی سلامتی و بقاء کی خاطر گلیوں چوراہوں میں آ گئے پیرا میڈیکل سٹاف ڈاکٹروں کے شانہ بشانہ جڑ گیا،صحافی لوگوں کو باخبر رکھنے کیلئے دن رات ایک کئے باہر آ گئے ریسکیو 1122 کے جوان بھی بغیر نیند کی پرواہ کئے جت گئے محکمہ ڈاک نے بزرگ پینشروں تنخواہ دار عورتوں کے حقوق کی خاطر اس لاک ڈاؤن میں ان کی رقوم ان تک پہنچانے ان کے گھروں کی دہلیز تک پہنچے محکمہ بجلی نے لوگوں کی پریشانی جانتے ہوئے دن رات ایک کرکے لاک ڈاؤن میں بیٹھی عورتوں اور بچوں کے لئے اپنی جان خطرے میں ڈال کا بجلی کی ترسیل کا کام بغیر رکاوٹ جاری رکھا سول گورنمنٹ کے اہلکاران و افسران نے ساری آسائشیں چھوڑیں اور قرنطینہ سنٹرز و ہسپتالوں میں زیر علاج عورتوں اور مریضوں کی ضروریات کیلئے دن رات ایک کرکے ان تک ہر چیز پہنچائی نیز پاکستان کا ہر محکمہ ہر پاکستانی تعصب اور گروہ بندی سے ہٹ کر ان عورتوں،بچوں بوڑھوں ،جوانوں اور مریضوں کے حقوق کی خاطر اپنی جان کی پرواہ کئے بنا کام کر رہا ہے مگر یہ نام نہاد حقوق نسواں کا جعلی ٹولہ کسی بل میں چوہے کی طرح چھپ کر بیٹھ گیا اور ڈر رہا ہے کہ ہمارے جسم کو ہماری مرضی کی سزا نا مل جائے مگر یہ لوگ جان جائیں اللہ کے ہاں دیر تو ہے مگر اندھیر نہیں تو اے ظالموں اپنے رب سے ڈر جاؤ اور لوٹ آؤ اپنے رب کی طرف

  • عسکری تحریک میں کشمیری خواتین کا لازوال کردار……. تحریر: یاسمین میر

    عسکری تحریک میں کشمیری خواتین کا لازوال کردار……. تحریر: یاسمین میر

    بھارت کو کشمیر میں خونی پنجے گاڑے ستر برس بیت گئے مگر سلام ہو ان بہادر ونڈر کشمیری مردوزن پر کہ نہتے ہو کر بھی دشمن کے دانت کٹھے کر رہے ہیں۔

    1989 سے آج تک لاکھوں جانوں کا نذرانہ دینے کے باوجود وطن کی آزادی کے لیے کشمیر ی اب بھی کٹ مرنے کو تیار ہیں۔ کشمیر کی مائیں اپنے بیٹوں میںبے جگری سے جینے اور شوق شہادت کا یہ جذبہ نسل درنسل منتقل کرتی چلی آرہی ہیں۔

    تحریک کے روز اول سے ہی کشمیری خواتین اپنے بیٹوں ‘ بھائیوں اور شوہروں کو وطن پر قربان کرنے کیلئے ہر لمحہ تیارر ہتی ہیں ۔ عملی طورپر دیکھیں تو عسکری تحریک میں کشمیری خواتین کا کردار نہیں ملتا لیکن کشمیر مومنٹ کے تیز ہونے کے بعد 1989 میں کشمیری خواتین نے تنظیم سازی کرنے لگیں تو ساتھ ہی حریت تحریکوں کے خواتین ونگ بھی بننا شروع ہو گئے۔

    اس وقت سے آسیہ اندرابی ’ دختران ملت،زمردہ حبیب تحریک خواتین، یاسمین راجہ مسلم خواتین مرکز، فریدہ بہن جی ماس مومنٹ جموں وکشمیر اور پروینہ آہنگر اے پی ڈی چلا رہی ہیں۔

    ان خواتین کے تنظیموں میں سینکڑوں خواتین ممبرز بھی موجود ہیں جو نہ صرف عام کشمیری کو آزادی کی اہمیت سے آگاہ کرتی ہیں۔ بلکہ 90 کے دہائی میں جب درندہ صفت بھارتی فوجیوں نے خواتین کی عزتیں پامال کرنا شروع کیں تو آسیہ اندرابی نے آگاہی مہم کے دوران خواتین کو اپنے پاس چاقو رکھنے اور دفاع کے طورپر اس کو استعمال کرنے کے طریقے بھی سیکھائے ۔

    یہی نہیں تحریک کے آغاز سے اب تک کشمیری خواتین مجاہدین کو پناہ دینے ان تک کھانا پہنچانے اور انہیں سیکورٹی فورسز سے بچانے میں بھی پیش پیش رہی ہیں۔ برہان وانی کی شہادت کے بعد تو ہم مقبوضہ کشمیر میں خواتین کے بڑے احتجاجی مظاہرے دیکھ رہے ہیں ۔

    لیکن پہلا آرگنائز احتجاجی مظاہرہ 1990 میں دختران ملت کی کال پر ہوا اور اس وقت خواتین نے مسجد میں جاکر نعرہ لگائے۔ اب وادی میں وہ دور لوٹ آیا ہے جب کشمیری خواتین کا اپنے رشتہ داروں کی تلاش اور کیسیز کی پیروی کے لیے دہلی کی عدالتوں اور تہاڑ جیل کے چکر لگانا معمول بن چکا ہے ۔

    پاکستانی قوم بھی کشمیری بھائیوں اور بہنوں سے بے خبر نہیں، تحریک آزادی کے ستر سالوں کے اعصاب شکن مراحل سے گزر کرگزشتہ دو سو دنوں میں آزادی کی جد جہد میں عورتوں کی بھرپور شمولیت آنے والی صبح نو کے لیے امید کا پیغام دے رہی ہے۔ جہدوجد آزادی میں خواتین کے سرگرم کردار اور زمینی حقائق کے متعلق دختران ملت کی چیئرپرسن آسیہ اندرابی کہتی ہیں کہ میں کئی بار جیل گئی انڈر گر اؤنڈ رہی حتی کہ حال ہی میں برہان وانی کی شہادت کے بعد تین مہینے کے لیے جیل میں رکھا گیا اور اس وقت بھی ہاؤس اریسٹ ہوں ۔

    مگر آخری دم تک کشمیر کی آزادی کے لیے جدوجہد میں خواتین کے سرگرم کردار اور زمینی حقائق کے متعلق دختران ملت کی چیئرپرسن آسیہ اندرابی کہتی ہیں کہ میں کئی بار جیل گئی انڈر گر اؤنڈ رہی حتی کہ حال ہی میں برہان وانی کی شہادت کے بعد تین مہینے کے لیے جیل میں رکھا گیا اور اس وقت بھی ہاؤس اریسٹ ہوں ۔ مگر آخری دم تک کشمیر کی آزادی کے لیے جدوجہد جاری رکھوں گی۔

    چوبیس سال سے میرے شوہر جیل میں ہیں۔ لاکھوں کشمیری خواتین ایسی ہیں جن کے شوہر کئی سالوں سے لاپتہ ہیں اور تاریخ میں پہلی بار کشمیری خواتین کے لیے (آدھی بیوہ )کی اصطلاح استعمال ہوئی ہے۔ مگر یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ بھارت کچھ بھی کر لے ہمارے اٹل ایمان کو شکست نہیں دے سکتا۔

    چیئرپرسن جموں کشمیر ماس موومنٹ فریدبہن جی کہتی ہیں کہ میرے بھائی بلال پر پاکستان سے وابستگی کا الزام لگا کر گرفتار کیا گیا بعدازاں دہلی دھماکوں کے بعد بھارتی فوجیوں نے نہ صرف مجھے گرفتار کیا بلکہ پانچ سال کے لیے تہاڑ جیل بھیج دیا اور 2001ء میں جیل سے رہا ہوئی تو بھارت کی جیلوں میں قید کشمیری قیدیوں کی قانونی مددکا بیڑہ اٹھایا۔ زمردہ حبیب تحریک خواتین کشمیر کی چیئرپرسن ہیں ۔

    وہ 1992ء سے آزادی کی تحریک میں متحرک ہیں اور اسی پاداش میں 5 سال کے لیے تہاڑ جیل بھی کاٹ چکی ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ مقبوضہ کشمیر کی خواتین کے قربانیاں گواہ ہیں کہ کشمیری عورت کو ڈرایا یا دھمکایا نہیں جاسکتا۔ مسلم خواتین مرکز کی چیئرپرسن یاسمین راجہ جو غلام نبی بٹ کی بیٹی ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ بچپن سے ہی پاکستان کی نغمے گاتی تھی۔

    ایک مرتبہ پاکستانی قومی ترانہ پڑھنے پر مجھے سکول سے نکال دیا گیا۔ مگر میری پاکستان کے ساتھ لگن کم نہیں ہوئی۔ اس دوران کئی بار جیل گئی ہوں اور رہا ہوئی ہوں۔ تحریک آزادی کشمیر کی ان چند نمایاں خواتین کے علاوہ دیگرکشمیری خواتین کا بھی آزادی کی جدوجہد میں کلیدی کردار رہا ہے۔

    اسلام اور آزادی کی اس شمع کو جلا رکھنے کے لیے برہان وانی کی شہادت کے بعد سے چلنے والی تیز ترین عوامی جدوجہدکو دبانے کے لیے بھارت کے ظلم وستم سے جہاں سو کشمیری شہید ہو ئے ان میںخواتین بھی شامل ہیں

    گزشتہ چھ ماہ میں یاسمین رحمان‘ سعیدہ بیگم ‘ نیلوفر‘ یاں اور فوزیہ صدیق سمیت کئی خواتین نے جام شہادت نوش کیا۔ وہیں خواتین کے پرامن ریلیوں ‘ جلسوں ‘ اور حتی کہ گھروں میں گرنے والے آنسووں گیس کے گولوں ‘ پیلٹ گن کے چھروں سے انشاء مقبول ‘ عرفی جان‘ شیروزہ میر‘ افراء جان‘ شیروزہ شکور کو آنکھوں کی روشنی سے ہاتھ دھونا پڑا۔

    یہی نہیں اس وقت ہزاروں کشمیری مائیں غربت کے باعث بچوں کی آنکھوں کا علاج نہیں کروا پا رہی ہیں ۔ جو پیلٹ گن کے چھرو ںسے متاثر ہوئے ہیں۔ ریاستی اخبار کی رپورٹ کے مطابق 9 جولائی 2016ء سے 31 دسمبر 2016ء تک 1008 نوجوان پیلٹ گنوں کا نشانہ بنے اور زخمی ہوئے ۔ ان میں سے سو سے زائد کے والدین نے غربت کے باعث ان کی آنکھوں کا علاج ادھورا چھوڑ دیا ۔

    اعدادو شمار کے آئینے میں دیکھیں تو کشمیر میڈیا سروسز کے مطابق 1989ء سے 31 دسمبر 2016 ء تک کشمیر میں بیوہ خواتین کی تعداد 22,835 ہے۔ جبکہ 10,825 خواتین کی اجتماعی عصمت دری کے واقعات پیش آچکے ہیں اور شہادتوں کے نتیجے میں 107,603بچے یتیم ہو چکے ہیں۔یہ شواہد اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ تحریک آزادی میں سرگرم کشمیری خواتین مالی پریشانی کے باوجودفلسطینی بہنوں کی طرح ہمت و حوصلہ کی مثال قائم کئے ہوئے ہیں۔

    کشمیر کی مظلوم عورتیں اسلام کے علمبردار خواب غفلت میں
    تحریر: یاسمین میر

  • ماروی سرمد، عورت مارچ اور عالمی اداروں کا وار–از–شعیب بھٹی

    ماروی سرمد، عورت مارچ اور عالمی اداروں کا وار–از–شعیب بھٹی

    شازیہ انور المعروف ماروی سرمد سیکولر ازم اور لبرلز کا پرچار کرنے والی این جی اوز کی سربراہ ہے۔ ہندوانہ لباس اور ماتھے پہ ہندوانہ نشان بندیا سجاۓ ماروی اسلام اور پاکستان کی اساس دو قومی نظریہ کی مخالف ہے۔
    ماروی سرمد بلوچستان اور فاٹا میں غیر ملکی ایجنسيوں کی فنڈنگ پہ این جی اوز چلاتی ہیں اور علیحدگی پسند عناصر کی حوصلہ افزاٸی کرتی ہے۔

    ماروی پاکستان کو سیکولر ریاست بنانے کا نعرہ لگاتی ہے۔ماروی اسلام، پاکستان، افواج پاکستان کی سخت ترین مخالف ہے۔مذہبی اقتدار سے عاری ماروی سرمد ہم جنس پرستی اور اسقاط حمل کی حامی اور اس کو قانونی حثیت دلوانے کے لیے کام کررہی ہے۔

    ماروی سرمد افغان ایجنسی NDS اور انڈین ایجنسی RAW کی فنڈنگ پہ فاٹا میں این جی اوز چلاتی تھی اور فاٹا آپریشن کے دوران ایف سی اور افواج پاکستان کی کردار کشی میں پیش پیش تھی۔
    اس بات کا اظہار فاٹا کے سابق سیکرٹری برگیڈٸیر (ر) محمود شاہ بھی کٸی بار کرچکے ہیں۔

    ماروی سرمد خواتین کی حقوق کے نام پہ کام کرنے والی عالمی تنظیم ساٶتھ فورم(South Asian Against Terrorism& for Human Rights ) کی رکن ہے جس کی تشکیل انڈین ایجنسی کے افراد نے کی ہے اور وہی اس کے ارکان ہیں۔

    اس تنظیم کا بنیادی مقصد اسلامی ممالک میں سیکولرازم اور لبرل ازم کو پروان چڑھانا ہے اس کے لیے یہ عالمی سطح پہ فنڈنگ کرتے ہیں۔ماروی سرمد کے ساتھ اس تنظیم کے رکن ارکان میں اسماعیل گلالٸی،صبا اسماعیل، گل بخاری انڈین ایجنسی کے لیے کام کرنے والی روبینہ شیخ،ڈاکٹر اپرانا پانڈے شامل ہیں۔ اس کے علاوہ مرد ارکان میں غدار حسین حقانی، ایمل خٹنک،عاصم یوسفزٸی،مبشر زیدی شامل ہیں۔

    یہ سب افراد لبرل ازم،سیکولر ازم کو بیرونی فنڈنگ پہ پاکستان میں لانچ کرتے ہیں اور یہ جانے پہچانے نام بیرونی آقاٶں کے اشاروں میں اسلام اور پاکستان کے خلاف سازشیں تشکیل دیتے ہیں۔پشتون تحفظ موومنٹ PTM کے نام سے پشتونوں کے خلاف سازش رچانے اور پاکستان میں نفرت کی آگ کو ہوا دینے والے یہ سارے لوگ غیر ملکی فنڈنگ پہ پلتے ہیں اور انکی ہی سازشوں کا حصہ بن کر اپنے ملک کی جڑوں کو کھوکھلا کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
    ممیو گیٹ سکینڈل میں ملوث غدار وطن حسین حقانی ہو یا خدا کے وجود کا انکاری مبشر زیدی ان سب کا کام غیر ملکی ایجنڈوں کو پرموٹ کرنا ہے۔

    چاہے وہ ایجنڈا پشتون اور پنجابی کے نام پہ لسانیت کا ہو یا فرقہ واریت اور لبرل ازم کا یہ ایک ساتھ نظر آٸیں گے۔ انکا مقصد قطعی طور پہ عورت یا مرد کے حقوق نہیں ہیں بلکہ مغربی تہذیب کو پاکستان میں پرموٹ کرنا انکی ثقافت کو انکی ہی فنڈنگ سے پھیلانا ہے۔ان کے تازہ اور ٹاپ ایجنڈوں میں اسقاط حمل اور ہم جنس پرستی کو فروغ دینا اور انکو قانونی حثیت دلوانا شامل ہے۔اس کے ساتھ اسلامی ممالک سے سزاۓ موت کے قانون کو ختم کروانا شامل ہے۔
    اس کام کے لیے ان کو مغربی ممالک ہر طریقہ سے مدد فراہم کررہے ہیں۔

    ایمنسٹی انٹرنیشنل جیسے عالمی ادارے کے وژن 2020 میں اسقاط حمل،ہم جنس پرستی شامل ہے۔یہ عالمی اداروں پہ مغربی چھاپ اور راج کو ظاہر کرتا ہے۔ ان وژن کو پورا کرنے کے لیے این جی اوز اور اداروں کو ٹارگٹ دیے جاتے ہیں اور ان ٹارگٹس کو پورا کرنے کے لیے مغربی ممالک فنانسرز کا کردار ادا کرتے ہیں یہ فنانسرز مختلف این جی اوز کے ذریعے اپنے مقاصد پورے کرتے ہیں۔

    ماروری سرمد پاکستان میں ان این جی اوز کی سربراہ ہے۔عالمی سطح پہ اس مہم کو LGBT کے پلیٹ فارم سے شروع کیا گیا ہے۔ LGBT کا مخفف یہ ہے۔L=Lasbian G=Gay B=Bisexual T=Transgender

    ان ٹارگٹس کو پورا کرنے کے لیے انکی پروموشن و تحفظ اور مالی و قانونی مدد کے لیے عالمی مہم شروع کی گٸی ہے۔ جس کے لیے ہر ملک میں سیمیناز منعقد کیے جارہے ہیں۔ پاکستان میں مغربی سفارتخانوں کے تعاون اور سرپرستی میں کٸی سال سے ہم جنس پرستی کے سیمینارز منعقد ہورہے ہیں۔

    پاکستان میں موجود ہم جنس پرست افراد مغربی ممالک میں رہاٸش اختیار کرچکے ہیں اور برطانیہ نے باقاعدہ انکو اپنے ملک کی شہرت دی ہے۔ آپ حیران ہوں گے کہ میرا جسم میری مرضی کوٸی خواتین کے حقوق کی آواز اٹھانے والا فورم نہیں بلکہ عالمی اداروں کے وژن کو پورا کرنے کا کام کررہا ہے۔ انکا مقصد اسقاط حمل، ہم جنس پرستی،سزاۓ موت قانون کو ختم کرنا،توہین مذہب اور توہین رسالت قانون کو ختم کروانا ہے۔

    اسلام بیزار اور اقتدار سے عاری ماروی سرمد عالمی اداروں کی ایجنٹ کے طور پہ پاکستان میں کام کررہی ہے اور پاکستان کے مقصد قیام سے بغض رکھنے والی ماروی سرمد اپنے پیچھے مغربی ممالک اور دشمن ملک کی فنڈنگ کی ایما پر پاکستان کو سیکولر ملک بنانے کا نعرہ لگاتی ہے انکی طاقت کو اپنی پشت پہ سوار کرنے والی اس بد مست ہتھنی ماروی سرمد کو اپنی آقاٶں کی خوشی کے لیے کچھ بھی کرنا پڑا تو کرے گی۔

    پاکستان قوم کو ایک ہوکر اپنی اسلامی اقتدار ، دو قومی نظریہ ، اپنی تہذیب و تمدن اور ثقافت کو عالمی سازشوں سے بچانا ہوگا۔اور غیر ملکی فنڈنگ پہ کام کرنے والے ان سانپوں کو کچلنا ہوگا۔

    ماروی سرمد، عورت مارچ اور عالمی اداروں کا وار

    تحریر:شعیب بھٹی

  • کیا واقعی پاکستان میں ہر عورت پر ظلم ہوتا ہے اور وہ خواتین کہ جن کے حق کے لیے آواز اٹھانا لازم ہے!!! تحریر:  محمد عبداللہ

    کیا واقعی پاکستان میں ہر عورت پر ظلم ہوتا ہے اور وہ خواتین کہ جن کے حق کے لیے آواز اٹھانا لازم ہے!!! تحریر: محمد عبداللہ

    گزشتہ روز ہم نے میرا جسم میری مرضی کے حوالے سے اور عورت مارچ کے حوالے نکتے پر بات کی تھی کہ یہ تحریکیں کیسے پروان چڑھتی ہیں اور کیسے ہم ان کی تشہیر اور مخالفت کرکے ان کو بین الاقوامی لیول کا ہیرو بنا دیتے ہیں اور پھر عالمی سطح پر ان کو شہ ملنا شروع ہوجاتی ہے جس کی واضح مثال راتوں رات عورچ مارچ کے نام سے تین ٹویٹر اکاؤنٹس کا ویریفائڈ ہوجانا اور بڑے تحرک میں آجانا اس کا کھلم کھلا ثبوت ہے.

    ہماری بات کا ہرگز بھی مقصد یہ نہیں ہے کہ ان بے ہودہ نعروں اور پوسٹرز کی ہمارے معاشرے میں اجازت ہونی چاہیے. خواتین سمیت جتنے بھی طبقات کا استحصال ہورہا ہے ان کے جائز حقوق سے ان کو محروم رکھا جارہا ہے وہ استحصال ختم ہونا چاہیے اور ان کے جائز حقوق ان کو ملنے چاہیں اور یہ صرف حکومت اور اداروں کے کرنے کے کام نہیں ہیں یہ میرا اور آپ کا کام بھی ہے کہ ہمارے گھروں میں بہنیں، بیٹیاں اور بیویاں موجود ہیں ہم ان کو ان کے جائز حق دیں، وراثت میں موجود ان کا حصہ ان کو ملنا چاہیے، ان کی پسند اور ناپسند کا خیال رکھا جانا چاہیے، ان کی تعلیم و تربیت کا مکمل انتظام و انصرام ہونا چاہیے. خواتین کو ونی کیے جانے اور تیزاب پھینکنے، ہراساں کیے جانے جیسے معاملات مردوں کی طرف سے ہی ہوتے ہیں ان پر توجہ دینی چاہیے اور ایسے واقعات کی سختی سے حوصلہ شکنی اور سخت سزاؤں کا سلسلہ ہونا چاہیے. زیادتی اور قتل کے واقعات پر سرے عام پھانسی کی سزاؤں کا اطلاق ہونا چاہیے.
    خواتین اگر آگے بڑھنا چاہتی ہیں اور معاشرے کی تعمیر و ترقی میں کوئی کردار ادا کرنا چاہتی ہیں تو سو بسم اللہ ان کو آگے بڑھنے دیں صحابیات اور حتیٰ ام المومنات رضی اللہ عنھم جنگوں تک میں مردوں کے ساتھ موجود ہوتی تھیں. ام المومنین عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنھا باقاعدہ درس حدیث دیتی تھیں حتیٰ کہ بہت سارے صحابہ کرام بھی ان سے احادیث اور مسائل معاملات دریافت کرنے آتے تھے.
    آپ بھی تعلیم حاصل کیجیئے درس و تدریس کام کیجیئے نسل نو کی تربیت کیجیے، ڈاکٹرز اور نرسز بن کر قوم کی خدمت کیجیے کہ ہماری قوم کو لاکھوں کی تعداد میں فی میل ڈاکٹرز کی اشد ضرورت ہے۔ اور اس طرح بیشمار کام ہیں آپ کیوں مرد کی برابری ہی پر زور دیتی ہیں حالانکہ عورت کے ہاتھ میں نسل نو کی تربیت کا ذمہ دے کر اس کی قابلیت کی ستائش کی گئی ہے۔
    ہمارا مذہب قطعاً بھی عورت کا استحصال نہیں کرتا اور نہ اس کی اجازت دیتا ہے، بیٹیوں کے ساتھ شفقت اور پرورش کرنے والا بندہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جنت میں ہوگا. بیوی کے ساتھ اچھا برتاؤ کرنے والے کو معاشرے کا بہترین فرد قرار دیا. ماں کے قدموں تلے جنت رکھ دی. بیٹیوں کو اللہ کی رحمت قرار دے دیا ، وراثت میں ان کا حصہ مقرر کردیا.

    لہذا اگر عورت پر ظلم ہورہا ہے تو اس کا قصوروار ہمارا سسٹم ہے ہم خود ہیں اور کسی حد تک خود عورت بھی ہے مذہب اسلام ہرگز بھی بھی نہیں ہے اور بڑی مزے کی بات ہے کہ اگر ہمارے اس معاشرے اور سسٹم میں اگر کچھ خواتین پر ظلم روا رکھا جاتا ہے اور ان کے حقوق سے ان کو محروم رکھا جاتا ہے تو اسی سسٹم میں آپ کو لیڈیز فرسٹ کا قانون بھی ملے گا.
    بلکہ آپ شہر کے کسی بھی سب سے مصروف پیٹرول پمپ پر چلے جائیں لمبی قطار ہوگی بائیکس کی پیٹرول ڈلوانے کے لیے اور اگر ایک بندہ پیچھے سے آکر قطار میں گھسنا چاہے گا تو سبھی اس سے لڑیں گے مگر اسی دوران ایک بندہ بائیک پر اپنے ساتھ کسی خاتون کو بٹھائے نمودار ہوتا ہے اور سب کو کراس کرکے بالکل مشین کے سامنے آن کھڑا ہوتا ہے تو کوئی اس پر اعتراض نہیں کرے گا اور پیٹرول ڈالنے والا ملازم بھی سب کو چھوڑ کر عورت کے ساتھ آنے والے مرد کو ترجیحاً پیٹرول ڈال کردے گا.
    اگر آپ خواتین کو ہمارے معاشرے میں ملنے والے پروٹوکول کو ملاحظہ فرمانا چاہتے ہیں تو کسی بھی پاپا کی پری کے نام سے سوشل میڈیا پر فی میل اکاؤنٹ بنائیے اور وہاں تھوڑی سی کھانسی کردیجیئے کتنے ہی ماہر ڈاکٹرز اور حکیم آپ کو آئن لائن مفت طبی مشوروں سے نوازیں گے اور کتنے ہی آپ کے انباکس میں تشریف لاکر آپ کی صحت کی بابت پریشان ہونگے.
    میں نے بہن بیٹی بیوی اور ماں جیسے مقدس رشتوں کے حوالے سے ملنے والی عزت، وقار، مان اور پروٹوکول کی بات نہیں کی بلکہ روز مرہ زندگی کے امور میں آپ کو سینکڑوں مثالیں ملیں گی کہ کس حد عورت کو توجہ اور احترام ملتا ہے.
    آپ نے خواتین کے حق میں آواز اٹھانی ہے تو شوق سے اٹھائیے سبھی احباب آپ کے ہمقدم بنیں گے عورت کو اس کے حقوق دلوائیے، کشمیر کی عورت کی آزادی کی بات کیجیئے کہ جو پچھلے چھ ماہ سے لاک ڈاؤن میں ہے، کسی شوہر غائب ہے تو کسی کا بیٹا شہید ہے، کسی کا بھائی انڈین آرمی کی قید میں ہے تو کسی کا باپ گمشدہ ہے، آسیہ اندرابی کی بات کیجیئے کہ جس کا شوہر پچیس سال سے قید میں ہے اور وہ خود پچھلے دس سالوں سے کبھی نظر بند کبھی قید کبھی کسی ظلم و ستم میں ہوتی ہیں.
    لیکن آپ ان سب سے صرف نظر کرکے فقط اپنے بےہودہ نعروں اور غلیظ پوسٹرز کی تشہیر کرکے عورت کا مزید استحصال کرنا ہے اور اس کو ان رشتوں سے باغی کرنا ہے تو یاد رکھیے کہ عورت ماں، بہن، بیٹی اور بیوی کے روپ میں ہی عورت ہے ان رشتوں کے بغیر وہ فقط گوشت ہے اور گوشت کے خریدار اور اس کو نوچنے والے گدھ ہرجگہ بکثرت پائے جاتے ہیں.
    اب یہاں پر کردار قانون نافذ کرنے والے اداروں اور پاکستان کی عدلیہ کا بنتا ہے ان بیہودہ نعروں اور پوسٹرز پر مبنی مارچ کو روکیں کیونکہ یہ بیہودہ نعرے اور پوسٹرز نہ صرف اسلام اقدار کے خلاف ہیں بلکہ آئین پاکستان کی رو سے بھی ان فحش نعروں اور پوسٹرز کی گنجائش نہیں ملتی، لیکن اگر عدلیہ اور دیگر ادارے ان مارچ اور نعروں کو ٹھیک سمجھتے ہیں تو وہ اپنی بیٹیوں،بہنوں سمیت ان پروگراموں میں شامل ہوں تاکہ قوم کو بھی کوئی جواز مل سکے.

  • معاشرے سے حیا کے انخلاء کی سازشیں—از–  صالح عبداللہ جتوئی

    معاشرے سے حیا کے انخلاء کی سازشیں—از– صالح عبداللہ جتوئی

    آج کل ایک ایسا طبقہ سرگرم ہو چکا ہے جو کہ عورت کے حقوق کے نام پہ عورتوں کو بے حیائی کی طرف راغب کرنے کے لیے کوشاں ہے اور اس کے لیے مختلف حربے اپناۓ جا رہے ہیں جن کا عورتوں کے حقوق سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

    آج وہی عورت جو میرا جسم میری مرضی کے نعرے لگا رہی ہے اس کو زمانہ جاہلیت میں زندہ درگور کر دیا جاتا تھا اور لڑکی کی پیدائش کو نحوست سمجھا جاتا تھا لیکن جس اسلام کو یہ پس پشت ڈال کر اپنے آپ کو فحاشی کی دلدل میں دھنسا رہی ہیں اسی اسلام نے عورت کو معاشرے میں بہترین مقام عطا فرمایا اور ان کو عزت و وقار سے مزین فرمایا۔

    کچھ دن پہلے ایک پروگرام میں ماروی سرمد نامی لبرل عورت کو ایک مولانا صاحب اور مصنف خلیل الرحمٰن قمر کو عورت مارچ کے حوالے سے گفتگو کے لیے مدعو کیا اور وہاں پہ بحث و تکرار میں تلخ الفاظ کا تبادلہ بھی ہوا اور خلیل الرحمٰن قمر کا لہجہ قدرے سخت ہو گیا لیکن ان کا مؤقف بالکل ٹھیک تھا کہ عورتوں کے حقوق کے لیے ہم بھی سڑکوں پہ نکلنے کے لیے تیار ہیں لیکن ہم یہ نعرہ کبھی بھی نہیں لگنے دیں گے کہ میرا جسم میری مرضی۔

    یہ نعرہ تو شرک اور گمراہی کی طرف بڑھتا ایک قدم ہے کیونکہ یہ جسم اللہ کی امانت ہے اب ہم پہ منحصر ہے کہ ہم اسے اللہ کے احکامات پہ عمل پیرا ہونے کو ترجیح دیتے ہیں یا پھر اپنی من مانی کرتے ہوۓ سرکشی کا رستہ اختیار کرتے ہیں اور فحاشی کو فروغ دیتے ہوۓ اللہ کو ناراض کرکے دونوں جہانوں کا سکون برباد کرتے ہیں۔

    دراصل اس مارچ کو تقویت دینے کے لیے ایسے ڈرامے رچاۓ جاتے ہیں اور یہ طبقہ ایک خاص ایجنڈے کے تحت کفار کے اشاروں پہ ناچ رہا ہے جس کا مقصد ملک پاکستان میں بے حیائی اور فحاشی کو عام کرنا ہے ایسی عورتوں کی نہ تو گھر میں کوئی عزت ہوتی ہے اور نہ ہی معاشرے میں انہیں کوئی اہمیت دیتا ہے۔

    خلیل الرحمٰن قمر صاحب نے کرخت لہجہ استعمال کرتے ہوۓ عورت مارچ کو ایجنڈے کو کاؤنٹر کرنے کی بجاۓ اسے مزید تقویت دے دی ہے اور وہی ہو رہا ہے جو اس طرح کی لبرل عورتیں چاہتی ہیں اور اب ان کی حمایت میں کئی نام نہاد نیم حکیم اینکر اور براۓ نام ملا حضرات کیڑوں مکوڑوں کی طرح بلوں سے نکل آۓ ہیں اور ان کا ساتھ دے رہے ہیں۔

    یہ اسلامی ملک کو لبرل ملک کا درجہ دینے کے لئے اور اپنے مذموم ایجنڈوں کے فروغ کے لیے ایسے نعروں کی تشہیر جاری و ساری ہے اور ان کا مقصد معاشرے کو بے راہ روی کا شکار کرنا ہے اور حقوق کے نام پہ ناچ گانا اور بے پردگی کو فروغ دینا ہے۔

    اسلام تو عورتوں کو کئی حقوق سے نوازتا ہے کبھی ماں کی صورت میں کبھی بیٹی کی صورت میں تو کبھی بہن کی صورت میں لیکن یہ کیسی عورتیں ہیں جو مردوں سے نفرت کرتی ہیں اور ان کو غلط ثابت کرنے پہ ہی تلی ہوئی ہیں اور شادی کی بجاۓ اکیلے رہنے کا درس دیتی ہیں اور نہ انہیں باپ کی شفقت نصیب ہوتی نہ بھائیوں کی محبت اور نہ ہی شوہر کا پیار نصیب ہوتا ہے کیونکہ اسلام نے عورت کی حدود مقرر کی ہیں جس میں رہتے ہوۓ اسے زندگی گزارنی چاہئے اگر وہ ان حدود کی پامالی کرے گی تو معاشرہ بے حیائی کی طرف راغب ہو گا اور گمراہی اس کا مقدر بن جاۓ گی اور یہی اس نعرے میرا جسم میری مرضی کا مصداق بھی ہے۔

    میرا جسم میری مرضی کی بجاۓ ہمیں میرا جسم میرے اللہ کی مرضی کا نعرہ لگانا چاہئے کیونکہ ہمیں بالکل بھی حق نہیں ہے کہ ہم اپنے جسم کو اللہ کی نافرمانی میں ڈھال کر اس کی ناراضگی کو اپنا مقدر بنائیں اور اس جسم کو آگ میں جھونک دیں۔

    یہ جسم اس رب نے بنایا ہے اور اسی کی مرضی ہی چلے گی تو ہمیں چاہئے کہ ایسے ایجنڈوں کا بائیکاٹ کریں اور ان کے خلاف کرخت لہجہ اپنانے کی بجاۓ نرم طریقے سے اپنے مؤقف اور دلائل کو مضبوط کیا جاۓ اور معاشرے میں اسلامی قوانین و تعلیمات کو فروغ دیا جاۓ تاکہ معاشرے سے ایسے ناسوروں کا خاتمہ ہو سکے۔

    اللہ اس ملک پاکستان اور اسلام کا حامی و ناصر ہو آمین ثمہ آمین۔
    پاکستان زندہ باد
    اسلام پائندہ باد

    معاشرے سے حیا کے انخلاء کی سازشیں

    صالح عبداللہ جتوئی

  • عورت مارچ اور ہمارا کردار تحریر:عبدالحفیظ چنیوٹی

    عورت مارچ اور ہمارا کردار تحریر:عبدالحفیظ چنیوٹی

    عورت مارچ کے حوالے سے اک پیج دیکھا فیس بک پر جس کو 21،152 لوگوں نے پسند کیا ہوا ہے، اور بھی پیج تھے اس حوالے سے، اب آتا ہوں اصل بات کی طرف، آخر کون لوگ ہیں اتنے بڑی تعداد میں ان پیجز کو پسند کرنے والے؟ ظاہر سی بات ہے ہم ہی وہ لوگ ہیں جو آگاہی رکھنے کیلئے ان پیجز کو پسند کرتے ہیں لیکن اصل میں ہم ان کے مددگار بن جاتے ہیں، جیسے کچھ عرصہ پہلے تک وقاص گورایہ کو کوئی نہیں جانتا تھا وہ اسلام و پاکستان اور اداروں کے خلاف ٹویٹ کرتا تو ہم سب جواب دینے کیلئے کود پڑتے اور اس کی حرکات پر نظر رکھنے کیلئے اس کو فالو کیا جن میں، میں بھی شامل رہا، آج دیکھ لیں کہ اس نے کتنے بندوں کو فالو کیا ہوا ہے اور اسے کتنے پاکستانیوں نے فالو کیا ہے، جس پر اس نے خود کو فاتح ففتھ جنریشن وار لکھا، اس کو فاتح بنانے میں ہمارا ہاتھ تھا۔
    اسی طرح چند لوگ اٹھے پی ٹی ایم کے نام پر جن کو کوئی بھی نہیں جانتا تھا ان کو بھی ہم نے ہی مشہور کیا، اب عورت مارچ والی اٹھی تو ان کو بھی ہم نے مشہور کردیا، اور عورت دشمن اور پاکستان دشمن پیپلزپارٹی کی رکن شیری رحمان نے ان چند آوارہ عورتوں کی حمایت میں اسمبلی میں بدتمیزی سے بات کی اور آخر بدمعاشی سے بات کی کہ یہ مارچ ہوگا۔
    پاکستان میں عورت ذات کی بہت عزت کی جاتی ہے، چند اکا دکا واقعات کو لے کر عورت پر تشدد اور انکے حقوق کا تماشہ کیا جاتا ہے، اور حقوق بھی وہ جو اک باعزت عورت کو قبول نا ہو اس پر شور مچایا جاتا ہے۔
    خود کی صلاحتیں ان پر ضائع نا کریں ہاں بوقت ضرورت ہلکی پھلکی کلاس لگا دیا کریں،
    ان کو مضبوط بنانے میں ہمارا ضرورت سے زیادہ بات کرنا تقویت دیتا ہے جو کہ ہمارے لئے، ہمارے معاشرے کیلئے نقصان بننے کا سبب بنتا ہے ہماری بے خبری اور حالات کی سنگینی کو سمجھے بناء۔

  • اب عورت ہو گی آزاد—از–ثنا صدیق

    اب عورت ہو گی آزاد—از–ثنا صدیق

    اس دنیا میں اللہ پاک نے انسان کی بقا اور تحفظ کے لیے مرد اور عورت کے نام سے دو جنسیں پیدا کیں اور ہر جنس کو دوسری جنس کی طلب کا تقاضا رکھا گیا حقیقت میں تو دونوں کی ذندگی ایک دوسرے کے بغیر نامکمل ہے اسی وجہ سے مرد کامل مرد ہوتے ہوئے بھی عورت سے بے نیاز نہیں ہے اور عورت بھی عورت کے لباس میں رہتے ہوئے مرد کے بغیر مطئمن ذندگی بسر نہیں کر سکتی مگر مغربی تہذیب نے جہاں اسلام کے ماننے والوں میں لا دینیت حرص اور مادہ پرستی پیدا کی ہیں وہی مغربی تہذیب نے مسلمان عورت کو اپنے جال میں ایسے پھسنایا کہ عورت کی آزادی کے نام پر اس کی عفت و عصمت بھی داو پر لگا دی

    تاریخ کا مطالعہ کرنے سے پتہ چلتا ہے کہ مغرب کی عورت کیوں آزادی مارچ کے لیے اٹھی اس کی کیا وجوہات تھیں پہلی دفعہ 1909 میں عورت کے آزادی مارچ کی ابتداء ہوئی 8 مارچ کو آزادی مارچ منانے کا فیصلہ 1913 کو ہوا1908 کو چند مخصوص عورتیں اپنے حق کے لیے آزادی مارچ کے لیے نکلی ان عورتوں پر کاوائی کرتے ہوئے ان کو گرفتار کیا گیا 1909 کو امریکن سوشلسٹ پارٹی نے آزادی مارچ کی قرار داد منظور کی 1910 کو پہلی بار عورت کی آزادی کا عالمی دن منایا گیا آزادی مارچ میں مغربی عورت اپنے معاشی معاشرتی اور سیاسی حقوق کے لیے اٹھی کیونکہ غیر مسلم عورت ہمشہ اپنے مرد کا شکار رہی ہے مرد نے اس صنف نازک کو جنگلی درندہ ہی سمجھا ہے گھر کے سامان اور جانوروں کے برابر عورتیں بیچی اور خریدی جانے لگی اسلام سے پہلے حالات میں عورت کو صرف نسل انسانی کی ترقی کا زریعہ سمجھا جاتا تھا اس کے علاوہ عورت ان کے لیے شرمندگی کا باعث تھی عرب کے علاوہ دوسرے مذاہب میں عورتوں کے ساتھ سلوک ڈاکٹر گستاولی بان کے زریعے پتہ چلتا ہے

    "یونانی عورتوں کو ہمشہ کم درجے کی مخلوق سمجھتے تھے اگر کسی عورت کا بچہ خلاف فطرت پیدا ہوتا تھا تو اسے مار ڈالتے تھے”
    "اسپارٹا میں اس بد نصیب عورت کو جس سے قومی سپاہی کے پیدا ہونے کی امید نہ ہوتی مارڈالتے تھے جس وقت کسی عورت کے بچہ پیدا ہوتا تو اسے فوائد کی غرض سے کسی دوسرے مرد کی نسل لینے کے لیے اس کے شوہر سے ادھار لے لیتے تھے”
    عہد قدیم میں واضح لکھا گیا کہ
    "جو کوئی خدا کا پیارا ہے وہ اپنے آپ کو عورت سے بچائے ہزار آدمیوں میں سے ایک پیارا پایا ہے لیکن تمام عالمی عورتوں میں ایک عورت بھی ایسی نہیں جو خدا کی پیاری ہو”

    روم میں
    مرد کی اپنی عورت پر جابرانہ حکومت تھی جس کا معاشرے میں کوئی حصہ نہیں تھا اور شوہر کو اس کی جان پر پورا حق حاصل تھا

    یہودیت میں عورت کامقام یہ ہے اگر دو بھائی ہوں ان میں سے ایک بے اولاد مر جائے تو اس کی بیوہ عورت کا نکاح کسی اور سے نہ کیا جائے اس کے شوہر کا بھائی اسے اپنی بیوی بنائے اسے بھاوج کا حق ادا کرے جب پہلوٹھا جو اس سے پیدا ہو تو اس کے بھائی کا نام شمار ہو گا تاکہ اس کا نام اسرائیل سے مٹ نہ جائے اگر وہ اس کا شوہر بننے سے انکار کر دے تو وہ عورت ججوں کے سامنے اپنے پاوں کی جوتی نکالے اور اس کے منہ پر تھوک دے اور کہے جو اپنے بھائی کا گھر نہیں بنائے گا یہی کیا جائے گا اور اسرائیل میں اس کا نام یہ رکھا جائے اس شخص کا گھر جس کا جوتا نکالا گیا

    ہندو کے نزدیک تقدیر طوفان موت جہنم زہر زہریلے سانپ کوئی ان میں سے اتنے خراب نہیں جتنی عورت ہے

    عیسائیوں کے نزدیک وہ شیطان کے آنے کا دروازہ ہے وہ شجر ممنوع کی طرف لے جانے والی خدا کے قانون کو توڑنے والی اور خدا کے تصور اور مرد کو غارت کرنے والی ہے

    کرائی سوسٹم کے نزدیک
    "ایک ناگزیر برائی ایک پیدائشی وسوسہ ایک مرغوب آفت ایک خانگی خطرہ ایک غارت گر دلربائی ایک آراستہ مصبیت ہے

    روسی مثل مشہور ہے
    "دس عورتوں میں ایک روح ہوتی ہے ”

    اسپینی مثل ہے
    "بری عورت سے بچنا چاہے اچھی عورت پر کبھی بھروسہ نہیں کرنا چاہے

    اطالیون کا قول ہے
    گھوڑا اچھا ہو یا برا اسے مار کی ضرورت ہوتی ہے عورت اچھی ہو یا بری اسے بھی مار کی ضرورت ہوتی ہے

    یہ تھے ھقوق عورت مغربی اور دوسرے مذاہب کے معاشروں میں مگر اسلام اسلام میں تو عورت کی شان و شوکت ہی بہت ہے اس کا ہر دن ہی آزادی کا دن ہے مسلمان عورت کی اہمت تو اس کے مذہب نے بہت پہلے بتا دی تھی
    ارشاد ربانی ہے
    یایھا الناس اتقو ربکم الذی خلقکم من نفس وحدة و خلق منھا زوجھا وبث منھما رجالا کثیرا ونساء
    اے لوگو اپنے رب سے ڑرو جس نے تم سب کو ایک جاندار سے پیدا کیا اور اس جاندار سے اس کا جوڑا پیدا کیا اور ان دونوں سے بہت سے مرد اور عورتیں پیھلائیں

    اس کا مطلب مرد اور عورت ایک ہی سرچسمہ ہیں انسانیت کی حد تک دونوں میں کمی بیشی نہیں ہے عورت کوئی الگ کم تر یا کوئی اور مخلوق نہیں ہے بلکہ وہ بھی انسان ہی ہے جیسا کہ مرد انسان ہیں پھر مرد کو اللہ پاک نے کوئی حق نہیں دیا کہ وہ عورت کو زلیل اور کم تر سمجھے اسلام نے جب عورت کے حقوق اور اس کی قدو منزلت کا تعین کر دیا ہے کہ یہ صرف مرد کی خدمت گزار نہیں بلکہ دنیا میں عروج اور قدرو منزلت بھی رکھتی ہیں تو پھر مسلمان عورت کو چاہے کہ وہ اسلامی حدود کی پابندی کریں اپنی عفت کی حفاظت کریں آزادی مارچ میں اپنی عظمت کا جنازہ مت نکالے

    اب عورت ہو گی آزاد
    ثناء صدیق