Baaghi TV

Category: خواتین

  • ماروی سرمد، عورت مارچ اور عالمی اداروں کا وار–از–شعیب بھٹی

    ماروی سرمد، عورت مارچ اور عالمی اداروں کا وار–از–شعیب بھٹی

    شازیہ انور المعروف ماروی سرمد سیکولر ازم اور لبرلز کا پرچار کرنے والی این جی اوز کی سربراہ ہے۔ ہندوانہ لباس اور ماتھے پہ ہندوانہ نشان بندیا سجاۓ ماروی اسلام اور پاکستان کی اساس دو قومی نظریہ کی مخالف ہے۔
    ماروی سرمد بلوچستان اور فاٹا میں غیر ملکی ایجنسيوں کی فنڈنگ پہ این جی اوز چلاتی ہیں اور علیحدگی پسند عناصر کی حوصلہ افزاٸی کرتی ہے۔

    ماروی پاکستان کو سیکولر ریاست بنانے کا نعرہ لگاتی ہے۔ماروی اسلام، پاکستان، افواج پاکستان کی سخت ترین مخالف ہے۔مذہبی اقتدار سے عاری ماروی سرمد ہم جنس پرستی اور اسقاط حمل کی حامی اور اس کو قانونی حثیت دلوانے کے لیے کام کررہی ہے۔

    ماروی سرمد افغان ایجنسی NDS اور انڈین ایجنسی RAW کی فنڈنگ پہ فاٹا میں این جی اوز چلاتی تھی اور فاٹا آپریشن کے دوران ایف سی اور افواج پاکستان کی کردار کشی میں پیش پیش تھی۔
    اس بات کا اظہار فاٹا کے سابق سیکرٹری برگیڈٸیر (ر) محمود شاہ بھی کٸی بار کرچکے ہیں۔

    ماروی سرمد خواتین کی حقوق کے نام پہ کام کرنے والی عالمی تنظیم ساٶتھ فورم(South Asian Against Terrorism& for Human Rights ) کی رکن ہے جس کی تشکیل انڈین ایجنسی کے افراد نے کی ہے اور وہی اس کے ارکان ہیں۔

    اس تنظیم کا بنیادی مقصد اسلامی ممالک میں سیکولرازم اور لبرل ازم کو پروان چڑھانا ہے اس کے لیے یہ عالمی سطح پہ فنڈنگ کرتے ہیں۔ماروی سرمد کے ساتھ اس تنظیم کے رکن ارکان میں اسماعیل گلالٸی،صبا اسماعیل، گل بخاری انڈین ایجنسی کے لیے کام کرنے والی روبینہ شیخ،ڈاکٹر اپرانا پانڈے شامل ہیں۔ اس کے علاوہ مرد ارکان میں غدار حسین حقانی، ایمل خٹنک،عاصم یوسفزٸی،مبشر زیدی شامل ہیں۔

    یہ سب افراد لبرل ازم،سیکولر ازم کو بیرونی فنڈنگ پہ پاکستان میں لانچ کرتے ہیں اور یہ جانے پہچانے نام بیرونی آقاٶں کے اشاروں میں اسلام اور پاکستان کے خلاف سازشیں تشکیل دیتے ہیں۔پشتون تحفظ موومنٹ PTM کے نام سے پشتونوں کے خلاف سازش رچانے اور پاکستان میں نفرت کی آگ کو ہوا دینے والے یہ سارے لوگ غیر ملکی فنڈنگ پہ پلتے ہیں اور انکی ہی سازشوں کا حصہ بن کر اپنے ملک کی جڑوں کو کھوکھلا کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
    ممیو گیٹ سکینڈل میں ملوث غدار وطن حسین حقانی ہو یا خدا کے وجود کا انکاری مبشر زیدی ان سب کا کام غیر ملکی ایجنڈوں کو پرموٹ کرنا ہے۔

    چاہے وہ ایجنڈا پشتون اور پنجابی کے نام پہ لسانیت کا ہو یا فرقہ واریت اور لبرل ازم کا یہ ایک ساتھ نظر آٸیں گے۔ انکا مقصد قطعی طور پہ عورت یا مرد کے حقوق نہیں ہیں بلکہ مغربی تہذیب کو پاکستان میں پرموٹ کرنا انکی ثقافت کو انکی ہی فنڈنگ سے پھیلانا ہے۔ان کے تازہ اور ٹاپ ایجنڈوں میں اسقاط حمل اور ہم جنس پرستی کو فروغ دینا اور انکو قانونی حثیت دلوانا شامل ہے۔اس کے ساتھ اسلامی ممالک سے سزاۓ موت کے قانون کو ختم کروانا شامل ہے۔
    اس کام کے لیے ان کو مغربی ممالک ہر طریقہ سے مدد فراہم کررہے ہیں۔

    ایمنسٹی انٹرنیشنل جیسے عالمی ادارے کے وژن 2020 میں اسقاط حمل،ہم جنس پرستی شامل ہے۔یہ عالمی اداروں پہ مغربی چھاپ اور راج کو ظاہر کرتا ہے۔ ان وژن کو پورا کرنے کے لیے این جی اوز اور اداروں کو ٹارگٹ دیے جاتے ہیں اور ان ٹارگٹس کو پورا کرنے کے لیے مغربی ممالک فنانسرز کا کردار ادا کرتے ہیں یہ فنانسرز مختلف این جی اوز کے ذریعے اپنے مقاصد پورے کرتے ہیں۔

    ماروری سرمد پاکستان میں ان این جی اوز کی سربراہ ہے۔عالمی سطح پہ اس مہم کو LGBT کے پلیٹ فارم سے شروع کیا گیا ہے۔ LGBT کا مخفف یہ ہے۔L=Lasbian G=Gay B=Bisexual T=Transgender

    ان ٹارگٹس کو پورا کرنے کے لیے انکی پروموشن و تحفظ اور مالی و قانونی مدد کے لیے عالمی مہم شروع کی گٸی ہے۔ جس کے لیے ہر ملک میں سیمیناز منعقد کیے جارہے ہیں۔ پاکستان میں مغربی سفارتخانوں کے تعاون اور سرپرستی میں کٸی سال سے ہم جنس پرستی کے سیمینارز منعقد ہورہے ہیں۔

    پاکستان میں موجود ہم جنس پرست افراد مغربی ممالک میں رہاٸش اختیار کرچکے ہیں اور برطانیہ نے باقاعدہ انکو اپنے ملک کی شہرت دی ہے۔ آپ حیران ہوں گے کہ میرا جسم میری مرضی کوٸی خواتین کے حقوق کی آواز اٹھانے والا فورم نہیں بلکہ عالمی اداروں کے وژن کو پورا کرنے کا کام کررہا ہے۔ انکا مقصد اسقاط حمل، ہم جنس پرستی،سزاۓ موت قانون کو ختم کرنا،توہین مذہب اور توہین رسالت قانون کو ختم کروانا ہے۔

    اسلام بیزار اور اقتدار سے عاری ماروی سرمد عالمی اداروں کی ایجنٹ کے طور پہ پاکستان میں کام کررہی ہے اور پاکستان کے مقصد قیام سے بغض رکھنے والی ماروی سرمد اپنے پیچھے مغربی ممالک اور دشمن ملک کی فنڈنگ کی ایما پر پاکستان کو سیکولر ملک بنانے کا نعرہ لگاتی ہے انکی طاقت کو اپنی پشت پہ سوار کرنے والی اس بد مست ہتھنی ماروی سرمد کو اپنی آقاٶں کی خوشی کے لیے کچھ بھی کرنا پڑا تو کرے گی۔

    پاکستان قوم کو ایک ہوکر اپنی اسلامی اقتدار ، دو قومی نظریہ ، اپنی تہذیب و تمدن اور ثقافت کو عالمی سازشوں سے بچانا ہوگا۔اور غیر ملکی فنڈنگ پہ کام کرنے والے ان سانپوں کو کچلنا ہوگا۔

    ماروی سرمد، عورت مارچ اور عالمی اداروں کا وار

    تحریر:شعیب بھٹی

  • کیا واقعی پاکستان میں ہر عورت پر ظلم ہوتا ہے اور وہ خواتین کہ جن کے حق کے لیے آواز اٹھانا لازم ہے!!! تحریر:  محمد عبداللہ

    کیا واقعی پاکستان میں ہر عورت پر ظلم ہوتا ہے اور وہ خواتین کہ جن کے حق کے لیے آواز اٹھانا لازم ہے!!! تحریر: محمد عبداللہ

    گزشتہ روز ہم نے میرا جسم میری مرضی کے حوالے سے اور عورت مارچ کے حوالے نکتے پر بات کی تھی کہ یہ تحریکیں کیسے پروان چڑھتی ہیں اور کیسے ہم ان کی تشہیر اور مخالفت کرکے ان کو بین الاقوامی لیول کا ہیرو بنا دیتے ہیں اور پھر عالمی سطح پر ان کو شہ ملنا شروع ہوجاتی ہے جس کی واضح مثال راتوں رات عورچ مارچ کے نام سے تین ٹویٹر اکاؤنٹس کا ویریفائڈ ہوجانا اور بڑے تحرک میں آجانا اس کا کھلم کھلا ثبوت ہے.

    ہماری بات کا ہرگز بھی مقصد یہ نہیں ہے کہ ان بے ہودہ نعروں اور پوسٹرز کی ہمارے معاشرے میں اجازت ہونی چاہیے. خواتین سمیت جتنے بھی طبقات کا استحصال ہورہا ہے ان کے جائز حقوق سے ان کو محروم رکھا جارہا ہے وہ استحصال ختم ہونا چاہیے اور ان کے جائز حقوق ان کو ملنے چاہیں اور یہ صرف حکومت اور اداروں کے کرنے کے کام نہیں ہیں یہ میرا اور آپ کا کام بھی ہے کہ ہمارے گھروں میں بہنیں، بیٹیاں اور بیویاں موجود ہیں ہم ان کو ان کے جائز حق دیں، وراثت میں موجود ان کا حصہ ان کو ملنا چاہیے، ان کی پسند اور ناپسند کا خیال رکھا جانا چاہیے، ان کی تعلیم و تربیت کا مکمل انتظام و انصرام ہونا چاہیے. خواتین کو ونی کیے جانے اور تیزاب پھینکنے، ہراساں کیے جانے جیسے معاملات مردوں کی طرف سے ہی ہوتے ہیں ان پر توجہ دینی چاہیے اور ایسے واقعات کی سختی سے حوصلہ شکنی اور سخت سزاؤں کا سلسلہ ہونا چاہیے. زیادتی اور قتل کے واقعات پر سرے عام پھانسی کی سزاؤں کا اطلاق ہونا چاہیے.
    خواتین اگر آگے بڑھنا چاہتی ہیں اور معاشرے کی تعمیر و ترقی میں کوئی کردار ادا کرنا چاہتی ہیں تو سو بسم اللہ ان کو آگے بڑھنے دیں صحابیات اور حتیٰ ام المومنات رضی اللہ عنھم جنگوں تک میں مردوں کے ساتھ موجود ہوتی تھیں. ام المومنین عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنھا باقاعدہ درس حدیث دیتی تھیں حتیٰ کہ بہت سارے صحابہ کرام بھی ان سے احادیث اور مسائل معاملات دریافت کرنے آتے تھے.
    آپ بھی تعلیم حاصل کیجیئے درس و تدریس کام کیجیئے نسل نو کی تربیت کیجیے، ڈاکٹرز اور نرسز بن کر قوم کی خدمت کیجیے کہ ہماری قوم کو لاکھوں کی تعداد میں فی میل ڈاکٹرز کی اشد ضرورت ہے۔ اور اس طرح بیشمار کام ہیں آپ کیوں مرد کی برابری ہی پر زور دیتی ہیں حالانکہ عورت کے ہاتھ میں نسل نو کی تربیت کا ذمہ دے کر اس کی قابلیت کی ستائش کی گئی ہے۔
    ہمارا مذہب قطعاً بھی عورت کا استحصال نہیں کرتا اور نہ اس کی اجازت دیتا ہے، بیٹیوں کے ساتھ شفقت اور پرورش کرنے والا بندہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جنت میں ہوگا. بیوی کے ساتھ اچھا برتاؤ کرنے والے کو معاشرے کا بہترین فرد قرار دیا. ماں کے قدموں تلے جنت رکھ دی. بیٹیوں کو اللہ کی رحمت قرار دے دیا ، وراثت میں ان کا حصہ مقرر کردیا.

    لہذا اگر عورت پر ظلم ہورہا ہے تو اس کا قصوروار ہمارا سسٹم ہے ہم خود ہیں اور کسی حد تک خود عورت بھی ہے مذہب اسلام ہرگز بھی بھی نہیں ہے اور بڑی مزے کی بات ہے کہ اگر ہمارے اس معاشرے اور سسٹم میں اگر کچھ خواتین پر ظلم روا رکھا جاتا ہے اور ان کے حقوق سے ان کو محروم رکھا جاتا ہے تو اسی سسٹم میں آپ کو لیڈیز فرسٹ کا قانون بھی ملے گا.
    بلکہ آپ شہر کے کسی بھی سب سے مصروف پیٹرول پمپ پر چلے جائیں لمبی قطار ہوگی بائیکس کی پیٹرول ڈلوانے کے لیے اور اگر ایک بندہ پیچھے سے آکر قطار میں گھسنا چاہے گا تو سبھی اس سے لڑیں گے مگر اسی دوران ایک بندہ بائیک پر اپنے ساتھ کسی خاتون کو بٹھائے نمودار ہوتا ہے اور سب کو کراس کرکے بالکل مشین کے سامنے آن کھڑا ہوتا ہے تو کوئی اس پر اعتراض نہیں کرے گا اور پیٹرول ڈالنے والا ملازم بھی سب کو چھوڑ کر عورت کے ساتھ آنے والے مرد کو ترجیحاً پیٹرول ڈال کردے گا.
    اگر آپ خواتین کو ہمارے معاشرے میں ملنے والے پروٹوکول کو ملاحظہ فرمانا چاہتے ہیں تو کسی بھی پاپا کی پری کے نام سے سوشل میڈیا پر فی میل اکاؤنٹ بنائیے اور وہاں تھوڑی سی کھانسی کردیجیئے کتنے ہی ماہر ڈاکٹرز اور حکیم آپ کو آئن لائن مفت طبی مشوروں سے نوازیں گے اور کتنے ہی آپ کے انباکس میں تشریف لاکر آپ کی صحت کی بابت پریشان ہونگے.
    میں نے بہن بیٹی بیوی اور ماں جیسے مقدس رشتوں کے حوالے سے ملنے والی عزت، وقار، مان اور پروٹوکول کی بات نہیں کی بلکہ روز مرہ زندگی کے امور میں آپ کو سینکڑوں مثالیں ملیں گی کہ کس حد عورت کو توجہ اور احترام ملتا ہے.
    آپ نے خواتین کے حق میں آواز اٹھانی ہے تو شوق سے اٹھائیے سبھی احباب آپ کے ہمقدم بنیں گے عورت کو اس کے حقوق دلوائیے، کشمیر کی عورت کی آزادی کی بات کیجیئے کہ جو پچھلے چھ ماہ سے لاک ڈاؤن میں ہے، کسی شوہر غائب ہے تو کسی کا بیٹا شہید ہے، کسی کا بھائی انڈین آرمی کی قید میں ہے تو کسی کا باپ گمشدہ ہے، آسیہ اندرابی کی بات کیجیئے کہ جس کا شوہر پچیس سال سے قید میں ہے اور وہ خود پچھلے دس سالوں سے کبھی نظر بند کبھی قید کبھی کسی ظلم و ستم میں ہوتی ہیں.
    لیکن آپ ان سب سے صرف نظر کرکے فقط اپنے بےہودہ نعروں اور غلیظ پوسٹرز کی تشہیر کرکے عورت کا مزید استحصال کرنا ہے اور اس کو ان رشتوں سے باغی کرنا ہے تو یاد رکھیے کہ عورت ماں، بہن، بیٹی اور بیوی کے روپ میں ہی عورت ہے ان رشتوں کے بغیر وہ فقط گوشت ہے اور گوشت کے خریدار اور اس کو نوچنے والے گدھ ہرجگہ بکثرت پائے جاتے ہیں.
    اب یہاں پر کردار قانون نافذ کرنے والے اداروں اور پاکستان کی عدلیہ کا بنتا ہے ان بیہودہ نعروں اور پوسٹرز پر مبنی مارچ کو روکیں کیونکہ یہ بیہودہ نعرے اور پوسٹرز نہ صرف اسلام اقدار کے خلاف ہیں بلکہ آئین پاکستان کی رو سے بھی ان فحش نعروں اور پوسٹرز کی گنجائش نہیں ملتی، لیکن اگر عدلیہ اور دیگر ادارے ان مارچ اور نعروں کو ٹھیک سمجھتے ہیں تو وہ اپنی بیٹیوں،بہنوں سمیت ان پروگراموں میں شامل ہوں تاکہ قوم کو بھی کوئی جواز مل سکے.

  • معاشرے سے حیا کے انخلاء کی سازشیں—از–  صالح عبداللہ جتوئی

    معاشرے سے حیا کے انخلاء کی سازشیں—از– صالح عبداللہ جتوئی

    آج کل ایک ایسا طبقہ سرگرم ہو چکا ہے جو کہ عورت کے حقوق کے نام پہ عورتوں کو بے حیائی کی طرف راغب کرنے کے لیے کوشاں ہے اور اس کے لیے مختلف حربے اپناۓ جا رہے ہیں جن کا عورتوں کے حقوق سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

    آج وہی عورت جو میرا جسم میری مرضی کے نعرے لگا رہی ہے اس کو زمانہ جاہلیت میں زندہ درگور کر دیا جاتا تھا اور لڑکی کی پیدائش کو نحوست سمجھا جاتا تھا لیکن جس اسلام کو یہ پس پشت ڈال کر اپنے آپ کو فحاشی کی دلدل میں دھنسا رہی ہیں اسی اسلام نے عورت کو معاشرے میں بہترین مقام عطا فرمایا اور ان کو عزت و وقار سے مزین فرمایا۔

    کچھ دن پہلے ایک پروگرام میں ماروی سرمد نامی لبرل عورت کو ایک مولانا صاحب اور مصنف خلیل الرحمٰن قمر کو عورت مارچ کے حوالے سے گفتگو کے لیے مدعو کیا اور وہاں پہ بحث و تکرار میں تلخ الفاظ کا تبادلہ بھی ہوا اور خلیل الرحمٰن قمر کا لہجہ قدرے سخت ہو گیا لیکن ان کا مؤقف بالکل ٹھیک تھا کہ عورتوں کے حقوق کے لیے ہم بھی سڑکوں پہ نکلنے کے لیے تیار ہیں لیکن ہم یہ نعرہ کبھی بھی نہیں لگنے دیں گے کہ میرا جسم میری مرضی۔

    یہ نعرہ تو شرک اور گمراہی کی طرف بڑھتا ایک قدم ہے کیونکہ یہ جسم اللہ کی امانت ہے اب ہم پہ منحصر ہے کہ ہم اسے اللہ کے احکامات پہ عمل پیرا ہونے کو ترجیح دیتے ہیں یا پھر اپنی من مانی کرتے ہوۓ سرکشی کا رستہ اختیار کرتے ہیں اور فحاشی کو فروغ دیتے ہوۓ اللہ کو ناراض کرکے دونوں جہانوں کا سکون برباد کرتے ہیں۔

    دراصل اس مارچ کو تقویت دینے کے لیے ایسے ڈرامے رچاۓ جاتے ہیں اور یہ طبقہ ایک خاص ایجنڈے کے تحت کفار کے اشاروں پہ ناچ رہا ہے جس کا مقصد ملک پاکستان میں بے حیائی اور فحاشی کو عام کرنا ہے ایسی عورتوں کی نہ تو گھر میں کوئی عزت ہوتی ہے اور نہ ہی معاشرے میں انہیں کوئی اہمیت دیتا ہے۔

    خلیل الرحمٰن قمر صاحب نے کرخت لہجہ استعمال کرتے ہوۓ عورت مارچ کو ایجنڈے کو کاؤنٹر کرنے کی بجاۓ اسے مزید تقویت دے دی ہے اور وہی ہو رہا ہے جو اس طرح کی لبرل عورتیں چاہتی ہیں اور اب ان کی حمایت میں کئی نام نہاد نیم حکیم اینکر اور براۓ نام ملا حضرات کیڑوں مکوڑوں کی طرح بلوں سے نکل آۓ ہیں اور ان کا ساتھ دے رہے ہیں۔

    یہ اسلامی ملک کو لبرل ملک کا درجہ دینے کے لئے اور اپنے مذموم ایجنڈوں کے فروغ کے لیے ایسے نعروں کی تشہیر جاری و ساری ہے اور ان کا مقصد معاشرے کو بے راہ روی کا شکار کرنا ہے اور حقوق کے نام پہ ناچ گانا اور بے پردگی کو فروغ دینا ہے۔

    اسلام تو عورتوں کو کئی حقوق سے نوازتا ہے کبھی ماں کی صورت میں کبھی بیٹی کی صورت میں تو کبھی بہن کی صورت میں لیکن یہ کیسی عورتیں ہیں جو مردوں سے نفرت کرتی ہیں اور ان کو غلط ثابت کرنے پہ ہی تلی ہوئی ہیں اور شادی کی بجاۓ اکیلے رہنے کا درس دیتی ہیں اور نہ انہیں باپ کی شفقت نصیب ہوتی نہ بھائیوں کی محبت اور نہ ہی شوہر کا پیار نصیب ہوتا ہے کیونکہ اسلام نے عورت کی حدود مقرر کی ہیں جس میں رہتے ہوۓ اسے زندگی گزارنی چاہئے اگر وہ ان حدود کی پامالی کرے گی تو معاشرہ بے حیائی کی طرف راغب ہو گا اور گمراہی اس کا مقدر بن جاۓ گی اور یہی اس نعرے میرا جسم میری مرضی کا مصداق بھی ہے۔

    میرا جسم میری مرضی کی بجاۓ ہمیں میرا جسم میرے اللہ کی مرضی کا نعرہ لگانا چاہئے کیونکہ ہمیں بالکل بھی حق نہیں ہے کہ ہم اپنے جسم کو اللہ کی نافرمانی میں ڈھال کر اس کی ناراضگی کو اپنا مقدر بنائیں اور اس جسم کو آگ میں جھونک دیں۔

    یہ جسم اس رب نے بنایا ہے اور اسی کی مرضی ہی چلے گی تو ہمیں چاہئے کہ ایسے ایجنڈوں کا بائیکاٹ کریں اور ان کے خلاف کرخت لہجہ اپنانے کی بجاۓ نرم طریقے سے اپنے مؤقف اور دلائل کو مضبوط کیا جاۓ اور معاشرے میں اسلامی قوانین و تعلیمات کو فروغ دیا جاۓ تاکہ معاشرے سے ایسے ناسوروں کا خاتمہ ہو سکے۔

    اللہ اس ملک پاکستان اور اسلام کا حامی و ناصر ہو آمین ثمہ آمین۔
    پاکستان زندہ باد
    اسلام پائندہ باد

    معاشرے سے حیا کے انخلاء کی سازشیں

    صالح عبداللہ جتوئی

  • عورت مارچ اور ہمارا کردار تحریر:عبدالحفیظ چنیوٹی

    عورت مارچ اور ہمارا کردار تحریر:عبدالحفیظ چنیوٹی

    عورت مارچ کے حوالے سے اک پیج دیکھا فیس بک پر جس کو 21،152 لوگوں نے پسند کیا ہوا ہے، اور بھی پیج تھے اس حوالے سے، اب آتا ہوں اصل بات کی طرف، آخر کون لوگ ہیں اتنے بڑی تعداد میں ان پیجز کو پسند کرنے والے؟ ظاہر سی بات ہے ہم ہی وہ لوگ ہیں جو آگاہی رکھنے کیلئے ان پیجز کو پسند کرتے ہیں لیکن اصل میں ہم ان کے مددگار بن جاتے ہیں، جیسے کچھ عرصہ پہلے تک وقاص گورایہ کو کوئی نہیں جانتا تھا وہ اسلام و پاکستان اور اداروں کے خلاف ٹویٹ کرتا تو ہم سب جواب دینے کیلئے کود پڑتے اور اس کی حرکات پر نظر رکھنے کیلئے اس کو فالو کیا جن میں، میں بھی شامل رہا، آج دیکھ لیں کہ اس نے کتنے بندوں کو فالو کیا ہوا ہے اور اسے کتنے پاکستانیوں نے فالو کیا ہے، جس پر اس نے خود کو فاتح ففتھ جنریشن وار لکھا، اس کو فاتح بنانے میں ہمارا ہاتھ تھا۔
    اسی طرح چند لوگ اٹھے پی ٹی ایم کے نام پر جن کو کوئی بھی نہیں جانتا تھا ان کو بھی ہم نے ہی مشہور کیا، اب عورت مارچ والی اٹھی تو ان کو بھی ہم نے مشہور کردیا، اور عورت دشمن اور پاکستان دشمن پیپلزپارٹی کی رکن شیری رحمان نے ان چند آوارہ عورتوں کی حمایت میں اسمبلی میں بدتمیزی سے بات کی اور آخر بدمعاشی سے بات کی کہ یہ مارچ ہوگا۔
    پاکستان میں عورت ذات کی بہت عزت کی جاتی ہے، چند اکا دکا واقعات کو لے کر عورت پر تشدد اور انکے حقوق کا تماشہ کیا جاتا ہے، اور حقوق بھی وہ جو اک باعزت عورت کو قبول نا ہو اس پر شور مچایا جاتا ہے۔
    خود کی صلاحتیں ان پر ضائع نا کریں ہاں بوقت ضرورت ہلکی پھلکی کلاس لگا دیا کریں،
    ان کو مضبوط بنانے میں ہمارا ضرورت سے زیادہ بات کرنا تقویت دیتا ہے جو کہ ہمارے لئے، ہمارے معاشرے کیلئے نقصان بننے کا سبب بنتا ہے ہماری بے خبری اور حالات کی سنگینی کو سمجھے بناء۔

  • اب عورت ہو گی آزاد—از–ثنا صدیق

    اب عورت ہو گی آزاد—از–ثنا صدیق

    اس دنیا میں اللہ پاک نے انسان کی بقا اور تحفظ کے لیے مرد اور عورت کے نام سے دو جنسیں پیدا کیں اور ہر جنس کو دوسری جنس کی طلب کا تقاضا رکھا گیا حقیقت میں تو دونوں کی ذندگی ایک دوسرے کے بغیر نامکمل ہے اسی وجہ سے مرد کامل مرد ہوتے ہوئے بھی عورت سے بے نیاز نہیں ہے اور عورت بھی عورت کے لباس میں رہتے ہوئے مرد کے بغیر مطئمن ذندگی بسر نہیں کر سکتی مگر مغربی تہذیب نے جہاں اسلام کے ماننے والوں میں لا دینیت حرص اور مادہ پرستی پیدا کی ہیں وہی مغربی تہذیب نے مسلمان عورت کو اپنے جال میں ایسے پھسنایا کہ عورت کی آزادی کے نام پر اس کی عفت و عصمت بھی داو پر لگا دی

    تاریخ کا مطالعہ کرنے سے پتہ چلتا ہے کہ مغرب کی عورت کیوں آزادی مارچ کے لیے اٹھی اس کی کیا وجوہات تھیں پہلی دفعہ 1909 میں عورت کے آزادی مارچ کی ابتداء ہوئی 8 مارچ کو آزادی مارچ منانے کا فیصلہ 1913 کو ہوا1908 کو چند مخصوص عورتیں اپنے حق کے لیے آزادی مارچ کے لیے نکلی ان عورتوں پر کاوائی کرتے ہوئے ان کو گرفتار کیا گیا 1909 کو امریکن سوشلسٹ پارٹی نے آزادی مارچ کی قرار داد منظور کی 1910 کو پہلی بار عورت کی آزادی کا عالمی دن منایا گیا آزادی مارچ میں مغربی عورت اپنے معاشی معاشرتی اور سیاسی حقوق کے لیے اٹھی کیونکہ غیر مسلم عورت ہمشہ اپنے مرد کا شکار رہی ہے مرد نے اس صنف نازک کو جنگلی درندہ ہی سمجھا ہے گھر کے سامان اور جانوروں کے برابر عورتیں بیچی اور خریدی جانے لگی اسلام سے پہلے حالات میں عورت کو صرف نسل انسانی کی ترقی کا زریعہ سمجھا جاتا تھا اس کے علاوہ عورت ان کے لیے شرمندگی کا باعث تھی عرب کے علاوہ دوسرے مذاہب میں عورتوں کے ساتھ سلوک ڈاکٹر گستاولی بان کے زریعے پتہ چلتا ہے

    "یونانی عورتوں کو ہمشہ کم درجے کی مخلوق سمجھتے تھے اگر کسی عورت کا بچہ خلاف فطرت پیدا ہوتا تھا تو اسے مار ڈالتے تھے”
    "اسپارٹا میں اس بد نصیب عورت کو جس سے قومی سپاہی کے پیدا ہونے کی امید نہ ہوتی مارڈالتے تھے جس وقت کسی عورت کے بچہ پیدا ہوتا تو اسے فوائد کی غرض سے کسی دوسرے مرد کی نسل لینے کے لیے اس کے شوہر سے ادھار لے لیتے تھے”
    عہد قدیم میں واضح لکھا گیا کہ
    "جو کوئی خدا کا پیارا ہے وہ اپنے آپ کو عورت سے بچائے ہزار آدمیوں میں سے ایک پیارا پایا ہے لیکن تمام عالمی عورتوں میں ایک عورت بھی ایسی نہیں جو خدا کی پیاری ہو”

    روم میں
    مرد کی اپنی عورت پر جابرانہ حکومت تھی جس کا معاشرے میں کوئی حصہ نہیں تھا اور شوہر کو اس کی جان پر پورا حق حاصل تھا

    یہودیت میں عورت کامقام یہ ہے اگر دو بھائی ہوں ان میں سے ایک بے اولاد مر جائے تو اس کی بیوہ عورت کا نکاح کسی اور سے نہ کیا جائے اس کے شوہر کا بھائی اسے اپنی بیوی بنائے اسے بھاوج کا حق ادا کرے جب پہلوٹھا جو اس سے پیدا ہو تو اس کے بھائی کا نام شمار ہو گا تاکہ اس کا نام اسرائیل سے مٹ نہ جائے اگر وہ اس کا شوہر بننے سے انکار کر دے تو وہ عورت ججوں کے سامنے اپنے پاوں کی جوتی نکالے اور اس کے منہ پر تھوک دے اور کہے جو اپنے بھائی کا گھر نہیں بنائے گا یہی کیا جائے گا اور اسرائیل میں اس کا نام یہ رکھا جائے اس شخص کا گھر جس کا جوتا نکالا گیا

    ہندو کے نزدیک تقدیر طوفان موت جہنم زہر زہریلے سانپ کوئی ان میں سے اتنے خراب نہیں جتنی عورت ہے

    عیسائیوں کے نزدیک وہ شیطان کے آنے کا دروازہ ہے وہ شجر ممنوع کی طرف لے جانے والی خدا کے قانون کو توڑنے والی اور خدا کے تصور اور مرد کو غارت کرنے والی ہے

    کرائی سوسٹم کے نزدیک
    "ایک ناگزیر برائی ایک پیدائشی وسوسہ ایک مرغوب آفت ایک خانگی خطرہ ایک غارت گر دلربائی ایک آراستہ مصبیت ہے

    روسی مثل مشہور ہے
    "دس عورتوں میں ایک روح ہوتی ہے ”

    اسپینی مثل ہے
    "بری عورت سے بچنا چاہے اچھی عورت پر کبھی بھروسہ نہیں کرنا چاہے

    اطالیون کا قول ہے
    گھوڑا اچھا ہو یا برا اسے مار کی ضرورت ہوتی ہے عورت اچھی ہو یا بری اسے بھی مار کی ضرورت ہوتی ہے

    یہ تھے ھقوق عورت مغربی اور دوسرے مذاہب کے معاشروں میں مگر اسلام اسلام میں تو عورت کی شان و شوکت ہی بہت ہے اس کا ہر دن ہی آزادی کا دن ہے مسلمان عورت کی اہمت تو اس کے مذہب نے بہت پہلے بتا دی تھی
    ارشاد ربانی ہے
    یایھا الناس اتقو ربکم الذی خلقکم من نفس وحدة و خلق منھا زوجھا وبث منھما رجالا کثیرا ونساء
    اے لوگو اپنے رب سے ڑرو جس نے تم سب کو ایک جاندار سے پیدا کیا اور اس جاندار سے اس کا جوڑا پیدا کیا اور ان دونوں سے بہت سے مرد اور عورتیں پیھلائیں

    اس کا مطلب مرد اور عورت ایک ہی سرچسمہ ہیں انسانیت کی حد تک دونوں میں کمی بیشی نہیں ہے عورت کوئی الگ کم تر یا کوئی اور مخلوق نہیں ہے بلکہ وہ بھی انسان ہی ہے جیسا کہ مرد انسان ہیں پھر مرد کو اللہ پاک نے کوئی حق نہیں دیا کہ وہ عورت کو زلیل اور کم تر سمجھے اسلام نے جب عورت کے حقوق اور اس کی قدو منزلت کا تعین کر دیا ہے کہ یہ صرف مرد کی خدمت گزار نہیں بلکہ دنیا میں عروج اور قدرو منزلت بھی رکھتی ہیں تو پھر مسلمان عورت کو چاہے کہ وہ اسلامی حدود کی پابندی کریں اپنی عفت کی حفاظت کریں آزادی مارچ میں اپنی عظمت کا جنازہ مت نکالے

    اب عورت ہو گی آزاد
    ثناء صدیق

  • عورت مارچ یا بے حیائی کو فروغ—از–ندا خان

    عورت مارچ یا بے حیائی کو فروغ—از–ندا خان

    لبرلزم کی دلدادہ اور مغربی نظام سے مغلوب خواتین 8 مارچ کو پاکستان میں عورت مارچ کرنے جا رہی ہے جس کا مقصد اپنے حق کی آزادی ہے جس کے لیے وہ سڑکوںپر نکل کر اپنے حق کے لیے آواز بلند کریں گی اور مردوں کو زلیل کیا جائے گا کیونکہان خواتین کے مطابق مردوں نے ہی ان کے حق سلب کیے ہوئے ہیں یہ خواتین کبھی

    لال لال کے نام پر اور کبھی سڑکوں پر پلے کارڈ اٹھائے نکلتی ہیں جن پر ” میرا جسم میری مرضی” کے نعرے درج ہوتے ہیں ان خواتین کو اس بات کا علم نہیں کہ جن حقوق کے لیے وہ سڑکوں پر نکلنے کی تیاری کر رہی ہیں وہ حقوق تو اللہ تعالیٰ نے چودہ سو سال پہلے نبی آخری الزمان صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ذریعے ہم تک پہنچا دیے ہیں اگر یہ عورتیں قرآن پاک کا مطالعہ کر لیتی تو ان کو اپنے حقوق کے لیے سڑکوں پر بنا چادر کے بھٹکنا نہ پڑتا قرآن پاک میں اللہ رب العزت نے پوری ایک سورت عورتوں کے حقوق کے لیے نازل فرمائی "سورت النساء ” قرآن پاک کو پڑھنے اور سمجھنے کے بعد میرا نہیں خیال کہ کوئی مسلمان عورت اپنے حقوق کے لیے سڑکوں پر نکلے

    قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں
    اور اپنے گھروں میں قرار سے رہو اور زمانہ جاہلیت کی طرح اپنے بناؤ سنگھار کا اظہار نہ کرو اور نماز کی ادائیگی کرو اور زکوٰۃ دو اور اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اطاعت کرو ” ( الاحزاب ٣٣)اس آیت سے ثابت ہوتا ہے کہ عورت کی عزت اور وقار گھروں میں ہی ہے ناکہ سر بازاربےحجاب ہوکر اپنے حقوق کی بات کریں اسلام سے قبل تو عورت کو وارثت میںحصہ دینے کا تصور بھی نہ تھا اسلام کے آنے کے بعد عورت کو وارثت میں سے حصے دینے کا حق بھی حاصل ہوا

    جب عورت کی عزت اور اس کی حفاظت چادر اور چاردیواری میں ہے تو عورت مارچ کرنے والی خواتین کونسی عزت اور تحفظ کے حق کے لیے گھروں سے باہر نکلنا چاہتی ہے ،آج یہود و ہندو مختلف ذرائع سے اسلامی شعائر کو مسلنے اور بدنام کرنے کی کوشش کر رہے ہیں ایک طرف ڈش اور انٹرنیٹ جیسے آلات کے ذریعے فحاشی اور بےحیائی کے پروگرام نشر کرکے نوجوانوں کے علاوہ مسلمان ماؤں، بہنوں اور بیٹیوں کے قلوب واذہان میں بےحجابی اور ذہنی آورگی پیوست کرکے اسلامی معاشرے کو تباہ کر رہے ہیں

    دوسری طرف روشن خیال، پڑھے لکھے مغربی تہذیب و تمدن سے مرعوب و متاثرہوکر یہود وہنود کی ذبان بول کر مسلمانوں کو گمراہ کر رہے ہیں یہی وجہ ہے کہ آج ہمارے سکولز، کالجز اور یونیورسٹیوں میں اسلامی تعلیمات کی بجائے جدید فیشن اور بےحیائی کا ماحول نظر آتا ہےبالخصوص عورت کے حقوق کے نام پر قائم یہودی تنظیمیں، انجمنیں، وغیرہ مسلم بیٹی کی حیا کو اتارنے میں سرفہرست ہیں

    اسلام سے قبل بھی عورت کو بری نگاہ سے دیکھا جاتا تھا اگر کسی کے گھر لڑکی پیدا ہوجانی تو وہ لوگوں سے منہ چھپاتا پھرتا تھا عورت کی ادنی درجے کی حیثیت تھی، اگر کسی کا خاوند فوت ہوجاتا تو اس عورت کو ایک سال تک گندے بدبو دار جھونپڑے،میں پڑا رہنے دیتے آج کے دور میں بھی ہندوستان میں عورت کی کوئی حیثیت نہیں،عورت کو پاؤں کی جوتی تصور کیا جاتا ہے اگر ہندو مذہب میں کوئی آدمی فوت ہوجاتا،تو اس کی بیوی کو بھی ستی کرکے جلا دیتے ہیں اسلام واحد مذہب ہے جس میں عورت کی اہمیت کو اجاگر کیا ہے،ہم سب کو مل کر عورت مارچ کے نام پر بے حیائی کو روکنا ہوگا، علماء کرام اس کے خلاف آواز اٹھائے اور حکمران وقت اور قاضی وقت تک اپنی آواز پہنچائےکہ وہ عورت مارچ کو روکنے پر اپنا کردار ادا کریں

    پاکستان جو اسلام کے نام پر حاصل کیا گیا تھا اسلامی مملکت خداداد پاکستان میں آئے روز لبرل خواتین اسلام کا مذاق اڑاتی نظر آتیں ہیں حکومتی عہدیدران پر جوں تک نہیں رینگتی جو حکومت مدینے کی ریاست جیسا نظام رائج کرنے کا نعرہ لگا کر آئی تھی وہ اب تک خاموش تماشائی کیوں بنی ہوئی ہے؟ حکومتی عہدیدران خدارا اس بے حیائی کو روکے اور ملک کو بے حیائی سے بچائے اللہ تعالیٰ مسلمان عورتوں کو باحیا اور باپردہ بنائے آمین یا ارحم الراحمين

    عورت مارچ یا بے حیائی کو فروغ
    بقلم :: ندا خان

  • کہیں ایسا نہ ہو”کواچلا ہنس کی چال "اپنی چال بھی بھول گیا” –از–فردوس جمال

    کہیں ایسا نہ ہو”کواچلا ہنس کی چال "اپنی چال بھی بھول گیا” –از–فردوس جمال

    میں اپنی سہیلی سے ملنے ان کے گھر گئی تھی میں ہمیشہ انکی ازدواجی زندگی پر رشک کرتی انہیں اپنے شوہر سے کوئی شکایت نہ تھی،ان کی تمام فرمائشیں شوہر پوری کرتا،حالانکہ گھر کے کاموں کے لئے ڈرائیور رکھا ہوا تھا لیکن پھر بھی گھر کی چھوٹی چھوٹی چیزیں بھی شوہر خود خرید لاتا،اس دن انکے گھر پکا کھانا مجھے بہت لذیذ لگا میں اس ڈش بنانے کی ترکیب لکھنا چاہتی تھی،

    میں نے کچن میں چائے بناتی سہیلی کو آواز دی کہ کاغذ قلم چاہئے انہوں نے کہا کہ ٹیبل کے ساتھ والی دراز کھولیں کاغذ و قلم وہیں پڑے ہیں،دراز میں رکھی ہوئی ایک کاپی میں نے نکال لی تاکہ کوئی خالی ورقہ نکال سکوں میں صفحات پلٹاتے میری نظر ایک فہرست پر پڑی جس میں گھریلو ضرورت کی اشیاء کے نام درج تھے،یہ فہرست بہت دلچسپ تھی وہ ہر ہفتے ضروری ترمیم کے بعد شوہر کے ہاتھ تھماتی تھی،فہرست کچھ یوں تھی.

    جان…. !

    تیرے دل کی طرح سفید پنیر
    تیرے جذبات کی طرح گرم مرچیں
    تیرے بوسے کی طرح میٹھی شہد
    تیرے لمس کی طرح ملائم صابن
    تیرے قربت جیسی خوشبو
    تیرے رخساروں کی طرح لال ٹماٹر
    تیرے مونچھوں کی طرح زعفران
    تیرے لہجے کی طرح چاکلیٹ

    میں فہرست پڑھ کر لوٹ پھوٹ کر ہنسی جا رہی تھی کہ میرے سہیلی چائے کے دو کیپ لیکر پہنچ گئی،میں نے انہیں فہرست دکھا دی وہ بھی ہنس پڑی اور کہنے لگی کہ
    "تم شوہر کے لئے عورت بن جاؤ وہ تمہارے لیے مرد بنے گا ”

    میں گھر لوٹ گئی بڑی عید کے دن قریب تھے،شاپنگ کا موقع تھا اور یہ نسخہ اپنے شوہر پر آزمانے کے لئے میں نے ایک لسٹ تیار کرکے شوہر کو تھما دی.
    جو کچھ اس طرح تھی.

    لہسن تیری خوشبو جیسی
    پیاز تیری ڈھکار جیسی
    بینگن تیری رنگت جیسے
    ٹماٹر تیری آنکھوں جیسے
    گوبھی تیرے بالوں کی طرح
    آلو تیرے ناک کی طرح
    کالی مرچیں تیرے غصے کی طرح
    کوکنگ آئل تیری بہتی ناک کی طرح
    عید قربانی کے لیے بکرا تیری طرح

    شوہر عید کے تیسرے دن گھر لوٹے تو ان کے ساتھ دی گئی فہرست میں سے کوئی سامان نہیں تھا ہاں البتہ ان کے ساتھ
    ایک نئی نویلی دلہن ضرور ہمراہ تھی.😓

    سہیلیوں کی دیکھا دیکھی شوہروں سے نت نئی فرمائشیں کرنے والی بیگمات کے لئے.😎

    عربی سے ترجمہ

    کہیں ایسا نہ ہو”کواچلا ہنس کی چال "اپنی چال بھی بھول گیا” –از–فردوس جمال

    بقلم فردوس جمال!!!

  • نکاح اور عہد وفا ! تحریر: غنی محمود قصوری

    اللہ رب العزت نے اس کائنات کو بنایا اور اس کو اپنے بندوں سے سجایا بندوں کی اصلاح اور تربیت کے لئے پیغمبر اور رسول بیجھے تاکہ ان کے بتلائے ہوئے طریقے پر چل کر عام انسان زندگی بسر کر سکیں روزی روٹی حاصل کرسکیں اور دیگر امور زندگی گزار سکیں
    یوں تو سارا سال ہی نکاح اور شادیوں کا سلسلہ چلتا رہتا ہے مگر نومبر سے جنوری تک ملک پاکستان میں شادیوں کا خاص سیزن ہوتا ہے
    نکاح ایک مقدس فریضہ ہے اور تمام انبیاء کرام کی بھی سنت ہے
    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ۔۔ نکاح میری سنت ہے
    یعنی یہ ایک فرض عین ہے نکاح کیلئے ہم نے طرح طرح کی شرطیں اور رسمیں خود سے بنا ڈالیں ہیں کہ جن کا دین اسلام سے کوئی تعلق نہیں اس خوشی کے موقع پر دوستوں رشتے داروں کو اکھٹا کیا جاتا ہے لڑکے والے بارات کیساتھ لڑکی کے گھر جاتے ہیں جنہیں کھانا لڑکی والے اپنی خوشی سے کھلاتے ہیں جبکہ لڑکے والے بعد میں ولیمہ پر دوست احباب اور رشتہ داروں کو کھانا کھلاتے ہیں مگر اس عظیم خوشی اور پاکیزہ عمل پر بھی ہم عہد شکنی کرنے سے باز نہیں آتے اکثر اوقات اس موقع پر ہم کھانے میں اور بارات کے مقرر کردہ وقت میں عہد شکنی کرتے ہیں حالانکہ شادی کارڈ پر لکھواتے ہیں کہ ،پابندی وقت کو ملحوظ خاطر رکھیں مگر اوروں کو نصیحت خود میاں فضیحت کے مترادف ہم بارات کے مقرر کردہ ٹائم پر بارات نہیں لیجاتے جس کی بدولت ساتھ جانے والے رشتہ داروں اور دوستوں کو کھانے میں دیر کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور ایسا تقریبا ایک رواج بن چکا ہے خاص کر ہمارے گاؤں دیہات میں جہاں میرج ہال نہیں ہوتے وہاں ایسا زیادہ ہوتا ہے چونکہ شادیوں کا سیزن ہوتا ہے اور ایک دن میں ایک میرج ہال کو دو سے تین تک شادیوں کا آرڈر ملا ہوتا ہے تو اسی لئے میرج ہال والے وقت کی پابندی لازمی کرواتے ہیں جو کہ بہت اچھی بات ہے مگر ہمیں یہ بھی سوچنا چائیے کہ ایک ایسا عمل کہ جس کا خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا اگر اس کی شروعات میں ہی ہم فضول رسم و رواج کرنے کیساتھ لوگوں کو گھنٹوں بھوکا رکھ کر عہد شکنی کرینگے تو اس نکاح میں برکت کیسے ہوگی کیونکہ صحیح بخاری میں نبی رحمت کی حدیث ہے کہ جس میں تین باتیں پائی جائیں وہ منافق ہے
    1 جب بات کرے تو جھوٹ بولے
    2 وعدہ کرے تو وعدہ خلافی کرے
    3 اگر اس کے پاس امانت رکھی جائے تو اس میں سے خیانت کرے
    تو آپ خود سوچیں جب شادی کارڈ والے سے بات کرکے خود ہم نے نکاح و ولیمہ کا ٹائم مقرر کرکے لکھوایا پھر جب ہم نے ہی ٹائم کی پابندی نا کی تو گویا ہم جھوٹ بولا اور اسی طرح عہد شکنی بھی کی
    جہاں پابندی وقت کی عہد شکنی شادی والے گھر سے شروع ہوتی ہے وہاں شادی میں شرکت کرنے والے بھی لیٹ پہنچ کر اس عہد شکنی کے مرتکب ہوتے ہیں لہذہ اس مقدس فرض میں فضول رسم و رواج کی عہد شکنی کیجئے اور پابندی وقت کے عہد کو بھی پورا کریں تاکہ ہم ایک زندہ قوم ہونے کا ثبوت دے سکیں اور زندہ قومیں اپنے اسلاف کی بتائی گئی باتوں سے عہد شکنی نہیں کرتیں

  • ہیومن رائٹس سنٹر فار ویمن ملتان میں 3 ماہ کے دوران 64کیس رپورٹ ہوئے

    ہیومن رائٹس سنٹر فار ویمن ملتان میں 3 ماہ کے دوران 64کیس رپورٹ ہوئے

    ملتان۔ (اے پی پی) شہید بے نظیر یھٹو ہیومن رائٹس سنٹر فار ویمن ملتان میں گزشتہ 3 ماہ کے دوران مختلف نوعیت کے تشدد کے 64کیس رپورٹ ہوئے جن میں زیادہ تر نان نفقے اور جہیز ریکوری کے معاملات ہیں۔ منیجر ہیومن رائٹس فار ویمن سمارا شیریں نے اے پی پی کوبتایا کہ گھریلو تشدد ہمارے معاشرے کا شیوہ بن چکا ہے اور محدود اور جارحیت پسند ذہنیت رکھنے کے لوگ سرعام تشدد کرنے میں کوئی عار محسوس نہیں کرتے، عورتوں پر ظلم وستم نہ صرف سماجی و قانونی لحاظ سے بلکہ مذہبی لحاظ سے بھی ایک غیرمہذب روش ہے۔ انہوں نے کہاکہ ہیومن رائٹس سنٹر خواتین پر تشدد کے خاتمے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔

  • عالمی یوم حجاب کشمیریوں کے نام : علی چاند

    عالمی یوم حجاب کشمیریوں کے نام : علی چاند

    آج پوری دنیا میں عالمی یوم حجاب منایا جا رہا ہے ۔ اس دن کے منانے کا مقصد یہ ہے کہ عورت کی عزت و عظمت کا حق اسے مکمل طور پر دیا جاٸے ۔ عورت کو محض ایک اشتہار نا سمجھا جاٸے بلکہ عورت جس کا نام ہی پردہ ہے اسے مکمل عزت س نوازا جاٸے اس کی آبرو کا خیال رکھا جاٸے ۔ عالمی یوم حجاب منانے کا مقصد یہی ہے کہ جن ممالک میں مسلمان عورتوں کے حجاب پر پابندی ہے وہاں عورت کو اس کے حجاب کا حق دیا جاٸے ۔ اور جو عورتیں پردے کو بوجھ سمجھتی ہیں ان میں یہ شعور اجاگر کیا جاٸے کہ حجاب ان پر کوٸی مصیبت نہیں بلکہ یہ اللہ کا حکم ہے اور عورت کو تحفظ فراہم کرنے کا بہترین ذریعہ ہے ۔

    پاکستانی خواتین نے یہ عالمی یوم حجاب کشمیری خواتین کے نام کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ یہ دن کشمیری خواتین کے نام کرنے کا مقصد یہ ہے کہ دنیا کی توجہ اس طرف دلاٸی جاٸے کہ انڈین آرمی کشمیری نے مظلوم خواتین کی عصمت دھری بند کرے اور کشمیری خواتین کے پردے کا خیال رکھا جاٸے اور ان کی عزتوں کو تحفظ فراہم کیا جاٸے ۔ یہ حقیقت ہے کہ دنیا کی ایک کم ظرف اور گھٹیا قوم جب دوسری کسی قوم پر قبضہ کرتی ہے تو پھر وہ دیگر لوٹ مار کے ساتھ ساتھ اس مقبوضہ قوم کی خواتین کی عزتیں لوٹنا قابل فخر کام سمجھتی ہیں ۔ ایسی کم ظرف قوموں میں سے ایک قوم بھارت بھی ہے ۔ جس نے زبردستی مسلمان کشمیریوں پر قبضہ کر کے وہاں کی مجبور و بے بس خواتین کو اپنی درندگی کا نشانہ بنا رکھا ہے ۔ عالمی یوم حجاب کو کشمیریوں کے نام کرنے کا مقصد یہی ہے کہ دنیا کشمیری خواتین کو تحفظ دینے کی کوشش کرے اور بھارت پر دباٶ ڈالے کے وہ کشمیری خواتین کی عزت و آبرو کا خیال رکھیں ۔

    اس دن کامقصد یہ بھی ہے کہ کشمیر کی جو بہادر خواتین پردے میں رہتے ہوٸے اپنی آزادی کا حق لینے کے لیے دشمن کے سامنے سینہ سپر ہیں انہیں ان کا حق دیا جاٸے ۔ کشمیر کی جو خواتین بھارتی کے ظلم و ستم کے خلاف آواز بلند کرنے میں پیش پیش ہیں ان میں ایک اہم نام محترمہ آسیہ اندرابی ہیں ۔

    اس کے علاوہ کشمیری خواتین چاہے ان کا تعلق سٹوڈینٹس سے ہو یا عام گھریلو خواتین سے وہ اپنے پردے میں رہتے ہوٸے بھارتی ظلم و ستم کا مقابلہ کر رہی ہیں ۔ پردے میں رہتے ہوٸے انڈین فوج کی گولی کا جواب پتھر سے دے رہی ہیں ۔ یہ دن کشمیری خواتین کے نام کرنے کا مقصد یہ بھی ہے کہ تمام مسلمان حکمرانوں کو جھنجھوڑا جا سکے کہ وہ اپنی مسلم بیٹیوں کے تحفظ کے لیے آگے بڑھیں اور ملی غیرت کا ثبوت دیں ۔
    اللہ پاک ہماری مسلمان بہنوں کے پردے سلامت رکھے ۔ آمین