Baaghi TV

Category: خواتین

  • کہاں ملتا ہے انصاف : تحریر:ماشا نور

    کہاں ملتا ہے انصاف : تحریر:ماشا نور

    پولیس کا کام ملزم کو گرفتار کرنا اسکے خلاف ثبوت اکھٹا کرنا عدالت میں پیش کرنا ہوتا ہے جرم ثابت ہونا سزا دینا عدالت کا کام ہے مگر اس نظام میں جرم ثابت کیسے ہو ملزم گرفتاری سے قبل ضمانت لے لیتا ہے جو باآسانی مل جاتی ہے چھٹی والا دن ہو یا آدھی رات امیروں سیاستدانوں کے لیے عدالت کے دروازے آدھی راتوں تک کھلے ہیں، گرفتاری ہو بھی جاے تب کالے کوٹ والے کیس کو اتنا کھینچتے کے مدعی تنگ آکر مقدمہ واپس لے لیتا یا دنیا سے رخصت ہوجاتا، مشہور ماڈل ایان علی منی لانڈرنگ کیس میں ملزمہ کو گرفتار کیا گیا خوب پیشیاں ہوئی محترمہ جب پیشی پر تشریف لاتی تو معلوم ہوتا جیسے کسی بیوٹی پارلر کی اوپننگ پر تشریف لائی ہوں زبردست پروٹوکول دیا جاتا سیلفیاں بنوائی جاتی پولیس والے خوشی سے پھولے نا سماتے،

    ماڈل ایان علی 2015 میں اسلام آباد ائیرپورٹ سے دبئی پانچ لاکھ ڈالرز غیر قانونی طورپر لے جاتے ہوئے پکڑی گئیں تھیں، جس کے بعد انہیں تین ماہ جیل کی ہوا کھانی پڑی تھی، کیس کی سماعت کسٹم عدالت میں ہوئی اور عبوری چالان میں ملزمہ کو قصور وار قرار دیا گیا اور نام ای سی ایل میں ڈال دیا گیا بعد ازاں ایان علی نے لاہور ہائی کورٹ میں ضمانت کی درخواست دائر کی عدالت نے فیصلہ سنایا، بیرون ملک جانے کی اجازت کے بعد بیرون ملک روانہ ہوگئیں آج تک یہ کیس چل رہا ہے دوسری طرف ایان علی کو گرفتار کرنے والے کسٹم افسر اعجاز چوہدری کا قتل ہوا جو آج تک معمہ بنا ہوا ہے پولیس نے نامعلوم افراد کے خلاف مقدمہ درج کیا اعجاز چوہدری کی بیوہ نے کیس میں ایان علی کو شامل کرنے کی درخواست دی ، کیس آج تک لٹکا ہوا ہے انصاف نا ہوا نا ہی ایان علی کو سزا ہوئی، عدالتی نظام اتنا سست ناکارہ ہوچکا ہے جہاں غریبوں کو دو سنوائی پر سزا ہوجاتی وہی بڑے بڑے مگرمچھوں کو ضمانتیں باآسانی مل جاتی ہیں بہت سے مقدمے تو ایسے ہیں جہاں ملزم جیل میں دم توڑ جاتے انکی سنوائی ہوتی ہی نہیں بعد میں جب انکا نمبر آتا تب تک وہ مٹی تلے دفن ہوتے، شارہ خ جتوئی کیس بھی سب کے سامنے ہے کس طرح مجرم وکٹری کا نشان بناکر عدالت سے ضمانت لیے باہر آئے تھے،

    ایسا ایک انوکھا کیس جہاں ایک غیر ملکی نے دن دہاڑے دو معصوموں کو کچلا اور باآسانی پرائیوٹ جہاز سے اپنے وطن روانہ ہوااس کیس میں بھی کالے کوٹ والوں نے خوب کمال دکھایا دو جوان اولادوں کا خون کیسے کس طرح معاف کیا والدین نے سمجھنے والے سب سمجھتے ہیں

    یہاں بات نظام کو بدلنے انصاف دینے کی بھول ہی جائیں اگر آپ پیسے والے ہیں تو آپکو ضمانت آدھی رات کو بھی مل جاے گی ورنا سڑتے ہیں جیل میں یہی آپکا مقدر ہے نظام کو بدلنے کے دعوے کرنے والوں کے منہ پر طمانچہ ہے نواز شریف ملک سے فرار، مریم نواز کو بار بار ضمانت ملنا، زرداری کو ضمانت، اسحاق ڈار ملک سے فرار پھر یہ عدالتیں صرف غریبوں کو سزائیں دینے کے لیے بنائی گئیں ہیں یا ملزمان کو ملک سے فرار ہونے میں مدد کے لیے فیصلہ آپ خود کرسکتے ہیں ایک باشعور انسان کیا ان حالات میں انصاف کی امید رکھ سکتا ہے ؟ یہ ایک سوال آپکے لیے چھوڑے جارہی ہوں ۔۔۔۔۔۔۔
    تحریر ماشانور

  • مجھے زنا کی اجازت دے دیجیے . تحریر: حمیرا نذیر

    مجھے زنا کی اجازت دے دیجیے . تحریر: حمیرا نذیر

    مجھے زنا کی اجازت دے دیجیے . تحریر: حمیرا نذیر
    حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک نوجوان نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا یا رسول اللہ ! صلی اللہ علیہ وسلم مجھے زنا کرنے کی اجازت دے دیجئے لوگ اس کی طرف متوجہ ہو کر اسے ڈانٹنے لگے اور اسے پیچھے ہٹانے لگے، لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سے فرمایا میرے قریب آجاؤ، وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب جا کر بیٹھ گیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا کیا تم اپنی والدہ کے حق میں بدکاری کو پسند کرو گے؟ اس نے کہا اللہ کی قسم! کبھی نہیں، میں آپ پر قربان جاؤں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لوگ بھی اسے اپنی ماں کے لیے پسند نہیں کرتے، پھر پوچھا کیا تم اپنی بیٹی کے حق میں بدکاری کو پسند کرو گے؟ اس نے کہا اللہ کی قسم! کبھی نہیں، میں آپ پر قربان جاؤں،

    نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لوگ بھی اسے اپنی بیٹی کے لیے پسند نہیں کرتے، پھر پوچھا کیا تم اپنی بہن کے حق میں بدکاری کو پسند کرو گے؟ اس نے کہا اللہ کی قسم! کبھی نہیں، میں آپ پر قربان جاؤں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لوگ بھی اسے اپنی بہن کے لے پسند نہیں کرتے، پھر پوچھا کیا تم اپنی پھوپھی کے حق میں بدکاری کو پسند کرو گے؟ اس نے کہا اللہ کی قسم! کبھی نہیں، میں آپ پر قربان جاؤں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لوگ بھی اسے اپنی پھوپھی کے لیے پسند نہیں کرتے، پھر پوچھا کیا تم اپنی خالہ کے حق میں بدکاری کو پسند کرو گے؟ اس نے کہا کہ اللہ کی قسم کبھی نہیں، میں آپ پر قربان جاؤں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لوگ بھی اسے اپنی خالہ کے لیے پسند نہیں کرتے،

    پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا دست مبارک اس کے جسم پر رکھا اور دعاء کی کہ اے اللہ! اس کے گناہ معاف فرما، اس کے دل کو پاک فرما اور اس کی شرمگاہ کی حفاظت فرما، راوی کہتے ہیں کہ اس کے بعد اس نوجوان نے کبھی کسی کی طرف توجہ بھی نہیں کی۔
    مسند احمد جلد نہم:حدیث نمبر 2259​

  • حوا کی بیٹی .تحریر:فرح خان              

    حوا کی بیٹی .تحریر:فرح خان              

    "ایک بیٹی”                         
    بیٹی کا نام جب زباں پر آتا ہے،ایک میٹھا اور خوبصورت سا جذبہ احساس جاگ جاتا ہے۔ایسا لگتا ہے رحمتوں اور کرم کے دروازے کھول دیے گئے ہوں۔پر کئی بدنصیبوں کے ماتھے پہ پسینہ، شکن اور ٹھنڈی آہیں ہوتی ہیں۔

    "تعلیم و تربیت”                     
    وقت کا پہیہ چلتا جاتا ہے،خوش نصیب معصوم کلی جس کو والدین دنیا کے سرد گرم ہواؤں سے بچاتے، بہترین تربیت کے ساتھ اس کو مضبوط، پروقار شخصیت،بہترین تعلیم کے ساتھ پروان چڑھا رہے ہوں اپنی تربیت پہ بھروسہ کرتے اب پریکٹیکل لائف میں قدم رکھا رہے ہوتے ہیں اس امید پہ کہ انہوں نے پرورش کرتے ہوئے اچھا بیچ بویا ہے جو کبھی سوکھا درخت نہیں بنے گا۔

    "بابل کی دعائیں لیتی جا”               
    ایک مشکل دور جب اپنی بیٹی کو دل پر پتھر رکھ کر کسی اجنبی کے ساتھ رخصت کرنا،بیٹی کا بیاہ کرنا اور پھر ہر دم خوشیوں کی دعا کرنا،،،پر یہ کیا یہاں بھی کچھ کم طرف، بدترین کی تعداد ہے،،،،وہ جو رشتے کے وقت تو چاند سورج ملا دیتے ہیں،زمین آسمان ایک کر دیتے ہیں،پر بعد میں طنزیہ جملوں سے بابل سے اپنے گھر تک کے سفر کو پتھریلی راہ یا پل صراط بنا دیتے ہیں۔

    "سوالیہ نشان ”                      
    ستم ظریفی اور بدبختی کی انتہا تو ان آدم کے بیٹوں پر ہے جو اس شرم و حیا کے پیکر کو خاک بنا دیتے ہیں۔
    عورت کو اشتہارات کی زینت،خبر،بے لباس بنا دیا۔
    بطور رحمت اتارے جانے والی بیٹی بےحیا یا ہوس کا نشانہ کیوں ہے؟ جبکہ عورت کا وجود اس کی عزت تو اس ہیرے کے مانند ہونا چاہیے جو کوئلے کی کان میں بھی رہ کر اپنی قیمت اور روشنی نہیں کھوتا۔
    اس دور میں عورت ایک سوالیہ نشان کیوں بن کر رہ گئی ہے،،،،،اے "حوا کی بیٹی” تلاش کر خود کو اپنے اندر تلاش کر۔

  • بچوں کی تربیت کے اصول .تحریر: ماشانور

    بچوں کی تربیت کے اصول .تحریر: ماشانور

    بچوں کو صحیح تربیت دی جائے تو اس کا مطلب ہے کہ ایک اچھے اور مضبوط معاشرے کے لیے ایک صحیح بنیاد ڈال دی گئی ہے ترقی یافتہ دور میں جہاں آج انگلیوں کی مدد سے گھنٹوں کا کام منٹوں میں موبائل کمپوٹر پر ہوجاتا ہے وہی بہت سے رشتوں میں دوری کی وجہ یہ ٹیکنالوجی بھی ایک اہم ایشو ہے والدین بچوں پر وہ توجہ نہیں دے پارہے جو ماضی میں دی جاتی تھی اسکول سے ملنے والا کام ماں باپ خود چیک کرتے تھے آج کوچنگ پر پیسہ لگایا جارہا بہتر سے بہتر تعلیم کے لیے بڑے بڑے نامی گرامی کوچنگ سینٹرز میں بچوں کو ڈالا جاتا ہے

    والدین کی زمہ داری ہے بچوں کی تربیت بہت سے گھروں میں لڑائی جھگڑے بچوں کے زہن پر برا اثر چھوڑتے ہیں بچے وہی سیکھتے جھوٹ بولنا باتیں چھپانا ڈر کی وجہ سے کہ والد ماریں گے بچوں پر ہاتھ اٹھانا سب سے بڑی غلطی ہے اگربچے غلطی کرتے ہیں تو انھیں نصیحت اور آرام سے سمجھائیں اُسے تنہائی میں ڈانٹا جائے اور اس کام کی برائی بتائی جائے اور آئندہ ایسا نہ کرنے کو کہا جائے۔ پھر بھی اگر باز نہ آئے تو تھوڑی پٹائی بھی کی جاسکتی ہے۔اگر انھیں بات بات پر سب کے سامنے ڈانٹا مارا جاے تو بچے والدین سے دور ہوجاتے یا وہ نفساتی مسائل کا شکار ہوجاتے بچوں کو پیار محبت سے سمجھانا ضروری ہے انکی تربیت کا پہلا حصہ یہی ہے کے انکے ساتھ محبت سے پیش آیا جاےماحول کا بچوں پر اثر ہوتا ہے، ممکن ہے کہ غلط ماحول کی وجہ سے بچہ کوئی غلطی کربیٹھے، تو اس صورت حال کو بھی مد نظر رکھنا چاہیے کہ بچے سے غلطی کس سبب سے ہوئی؟

    اسی اعتبار سے اسے سمجھایا جائے بچے نرم گیلی مٹی کی طرح ہوتے ہیں ہم ان سے جس طرح پیش آئیں گے ان کی شکل ویسی ہی بن جائے گی۔بچہ اگر کوئی اچھا کام کرے تو اس کی حوصلہ افزائی کریں اس کی تعریف سب کے سامنے کھل کر کریں تاکہ بچے میں اعتماد پیدا ہو وہ اتنا ہی ہر کام میں آگے آگے رہیں گے زندگی میں کامیابی حاصل کرنے کے لیے بچوں میں ذمہ داری کا احساس پیدا کرنا والدین کا کام ہے ہمیں والدین کی حیثیت سے کچھ قاعدے بنانے اور حدود مقرر کرنی ہونگی تاکہ اس پر عمل کرکے ہم اپنے بچوں کی تربیت اچھی کرکے انکو معاشرے میں بہتر انسان بناسکیں۔

  • جہیز ، عدالت کا نیا حکم اور ہمارا معاشرہ .تحریر:عینی سحر

    جہیز ، عدالت کا نیا حکم اور ہمارا معاشرہ .تحریر:عینی سحر

    بچپن سے سنتے چلے آرہے ہیں جہیز ایک لعنت ہے لیکن اس لعنت سے چھٹکارا کسی بھی دور میں نہیں پایا جاسکا _ معاشرے میں جڑ پکڑ جانے والے اس رواج میں طبقہ ہاۓ زندگی کے ہر طبقے کو جکڑ رکھا ہے _ خواہ امیر لوگوں کا طبقہ ہو متوسط یا غریب ہر کوئی اپنی حیثت سے اس رواج کو زندہ رکھے ہوئے ہے _ امیروں کو شادی کے موقع پر جہیز کی صورت میں اپنی دولت کی نمائش کرنے اور دوسروں پر دولت کے بل بوتے پر دھاک بٹھانے کا ایک موقع مل جاتا ہے جس میں وہ کروڑوں کے گھر سے لیکر گاڑیوں سونے چاندی کے جہیز کے تحائف سے خوب نمائش کر پاتے ہیں _ عام طور پر ہمارے معاشرے میں اس نمائش کا اثر یہ ہوتا ہے کے اکثر لوگ مرعوب ہو جاتے ہیں اور یہ خواہش رکھتے ہیں کے خود بھی کچھ ایسا کرسکیں _

    دوسری جانب امیروں میں یہ دوڑ زور پکڑتی ہے اگر فلاں اتنا کرسکتا ہے تو میں اس سے بھی بڑھ کر دکھاؤں گا _ یہی دکھانے کی دوڑ معاشرے میں موجود متوسط اور غریب طبقے کو پیچھے چھوڑتے ہوۓ مزید بے بس بناتی ہے _ جہیز کا بوجھ ہر شخص نہیں اٹھا پاتا اور کچھ لوگ دوسروں کی دیکھا دیکھی جب بیٹے کا رشتہ طے کرتے ہیں تو ہونے والی بہو کے گھرانےسے بھی ایسی ہی توقع رکھتے ہیں _ کچھ لگی لپٹی باتوں سے اظہار کر دیتے ہیں تو کچھ کھل کر مطالبے کرتے ہیں اس احساس کے بغیر کے لڑکی کے والدین خواہ ان مطالبوں کو پورا کرسکیں یا نہیں

    جہیز کے اسی زور پکڑتے مطالبوں نے بہت سی جوان بچیوں کی شادیوں کو تاخیر میں ڈال رکھا ہے _ لڑکی کے والدین کیلئے محض جہیز کا بندوبست کرنا ہی نہیں شادی کا کھانے اور ہونے والی رسموں کا بھی خرچ اٹھانا ہوتا ہے جو کے مہنگائی کے اس دور میں کافی دشوار ہے _

    اتنی جدوجہد اور محنت کے بعد بھی جب غریب آدمی بیٹی کی شادی کا فریضہ ادا کر دیتا ہے تو پھر بھی اسکی بیٹی کو سسرال میں کم جہیز لانے کے طعنے اور کوسنے سننا پڑتے ہیں _ یہ ہمارا معاشرتی المیہ ہے _ کیوں کے کچھ لوگوں کی لالچی ذہنیت کسی کی بیٹی کی زندگی اجیرن بنا سکتی ہے _

    اگر جہیز دیکر بھی والدین اپنی بیٹیوں کی خوشیوں کی ضمانت حاصل کر سکیں تو بھی کافی ہوتا لیکن اسکے باوجود جہیز کے نامہ پر والدین کو لوٹنے کا سلسلہ جاری ہے _ افسوسناک پہلو یہ ہے کے کئی خواتین کی شادی کے بعد علیحدگی اور طلاق کے بعد انکے جہیز پر سسرال کا قبضہ رہتا ہے_ جو کے حقیقت میں ان خواتین کا حق ہے جو انھیں واپس دے دیا جانا چاہئیے _

    ایسی صورتحال میں چند خواتین نے عدالت سے مدد کیلئے رجوع کیا جب انھیں طلاق دے دی گئی تو جہیز واپس نہیں کیا جارہا _ مختلف مقدمات میں جہیز میں خریدے جانے والے سامان کی رسیدیں بھی عدالت میں پیش کی گئیں لیکن سسرال والے ان چیزوں کی موجودگی سے انکاری رہے اور نہ ہی انکو واپس کرنے کو تیار تھے _

    ٹوٹتے گھر کی بربادی ہی کافی نہ ہو بلکے اوپر سے دیا جانے والا جہیز بھی سسرال والے اینٹھ لیں تو یہ مظلوم پر مزید ظلم ہے _

    ایسے میں کئی مقدمات میں یہ شکایت عدالت تک پہنچائی گئی کے عدالتی حکم کے باوجود جہیز کا کافی سامان واپس نہیں کیا گیا _ مشکل یہ ہے کے جہیز کے اس سامان کو دیا جانا ثابت کرنا مشکل ہوتا ہے _

    ایسے بڑھتے ہوۓ واقعات نے عدالت کو اس مسلے کے حل کرنے کیلئے اقدام کرنے پر مجبور کردیا ہے _ لاہور ہائی کورٹ نے پنجاب حکومت کو اب حکم دیا ہے کے وہ نکاح ناموں میں اضافی خانوں کا اندراج کرے جہاں جہیز کی تفصیل درج کی جاسکے _ ایسے میں ہر چیز نکاح نامے میں لکھ دی جاۓ کے جہیز کے نام پر کیا دیا گیا_ نکاح ایک باہمی معاہدہ ہے اور اس پر جہیز کی تفصیل کا اندراج خواتین کو مستقبل میں تحفظ دے گا کے خدا نخواستہ اگر

    انکی شادی ناکام ہوتی ہے تو انکو دئیے جانے والے جہیز کا اندراج اس بات کو یقینی بناۓ گا کے سسرال کو وہ درج اشیاء واپس دینا ہونگیں _ لہٰذا یہ سب تحریری شکل میں محفوظ ہوگا _ ایسی صورت میں سسرال والے انکار یا جہیز کی واپسی میں حیل وحجت نہیں کرسکیں گے

    لاہور عدالت کے اس فیصلے سے نجی مقدمات کو تیزی سے نبھٹانے اور حقدار کو اسکا حق واپس دلانے میں مدد ملے گی _

    ہم میں سے ہر ایک کو جہیز کی اس لعنت کو ختم کرنے میں کردار ادا کرنا چاہئیے تاکے جہیز کے نام پر جوان لڑکیاں شادی کے انتظار میں بوڑھی نہ ہوں اور بیٹیوں کے والدین پر کسی قسم کا بوجھ نہ ڈالا جاۓ _

    ہمارے سامنے نبی پاک ﷺ کی ہے جنہوں نے اپنی پیاری بیٹی حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہہ کو چند ایک ضروری استعمال کی چیزوں کے سوا دنیاوی سامان نہ دیا بلکے اپنی بیٹی کو بہترین تربیت علم اور اخلاق سے مزین کیا _ یہی وہ بہترین تحفہ ہے جو والدین اپنی اولاد کو دے سکتے ہیں _

    بیٹیوں کی دی جانے والے تعلیم ، ہنر ، تربیت اور اخلاق ہی وہ دولت ہے جو تمام عمر انکے ساتھ رہے گی جبکے جہیز کے نام پر ملنے والا مال و اسباب ناپائیدار ہے جو ہمیشہ ساتھ نہیں رہ سکتا _

  • ‏فیشن زدہ حجاب جس میں پردے کو پردے کی ضرورت :تحریر معین ملک

    ‏فیشن زدہ حجاب جس میں پردے کو پردے کی ضرورت :تحریر معین ملک

    ‏ آج کل کی نوجوان نسل نے پردے کو کیا بنا لیا ھے ، میری سمجھ میں نہیں آتا یہ پردے کی کونسی شکل ھے ؟
    ‏ابھی پچھلے دنوں کی بات ھے ایک کلینک میں جانا ہوا، کافی رش تھا تو نمبر لیکر ایک طرف بیٹھ کر اپنی باری کا انتظار کرنے لگا ،،،،،،

    ‏اتنے میں تین نوجوان لڑکیاں بھی کلینک میں داخل ہوئیں، خوبصورت میکسی نما عبایا پہنے ہوئے ،بالکل چست آستینیں، گلے اور آستینوں پر بہت خوبصورت کام بنا ہوا ،،،،
    ‏سر پہ بڑی خوبصورتی اور نفاست سے چھوٹا سا اسکارف لپیٹا ہوا۔ سر پہ بائیں طرف اسکارف کے اوپر ایک نگینوں سے مزین پن لگائی ہوئی ۔۔۔

    ‏اسکارف اتنا چھوٹا کہ بمشکل چہرے سے تھوڑا سا نیچے گلے تک آرہا تھا ۔
    ‏اتنا بھی نہیں تھا کہ سینے کو تو ڈھانپ لے۔ عبایا ایسا کہ جسم کے سب نشیب وفراز کو واضح کررہا تھا، اسکارف صرف خوبصورتی کے لئے پہنا گیا جس میں چہرہ بھی کھلا ہوا تھا ۔
    ‏آنکھیں گویا نین کٹارے،،، سرمہ ،کاجل، لائنر اور ہونٹوں پر لپ اسٹک،،،،،،

    ‏دل میں درد کی ایک لہر سی اٹھی، پردے کے نام پر ایسی بے حیائی،،،؟
    ‏ایسے پردے کو تو خود پردے کی ضرورت ھے………….. !!!

    ‏اور کچھ خواتین جو تھوڑا سا چہرے کو ڈھانپنے کا اہتمام کر بھی لیتی ہیں مگر سینے انکے بھی کھلے ہوئے ہوتے ہیں،،، برقعے ایک سے بڑھ کر ایک اسٹائلش،،،، نت نئے ڈیزائن، کڑھائی، کٹ ورک، موتی ،نگینے ، رنگوں سے بھرپور،،،،،
    ‏پردے اور حجاب کے نام پر کیسے کیسے فیشن متعارف کرائے جارہے ہیں کہ وہ بجائے عورت کو ڈھانپنے کے مزید عیاں کر رہے ہیں ۔ نا دیکھنے والا بھی دیکھنے پر مجبور ہوجائے۔
    ‏ہر ایک نظر کو دعوت نظارہ دیتے ہوئے حجاب
    ‏ہماری خواتین نے برقعے اور حجاب کو بھی فیشن کے طور پر اپنالیا،،،،،
    ‏حسن اور خوبصورتی کے مقابلے،،،،،،
    ‏ایک دوسرے سے آگے نکل جانے کی دوڑ،،،،
    ‏سب میں نمایاں نظر آنے کا جذبہ،،،،،
    ‏فیشن کا حد سے بڑھتا شوق،،،،
    ‏افسوس صد افسوس،،،،

    ‏میری قابلِ احترام بہنو!!! یہ کس راستے پر چل پڑی ہو،، یہ وہ راستہ ھے جسے شیطان نے ہماری نظروں میں مزین کر کے دکھا دیا ھے،،،

    ‏ذرا سوچیں تو سہی کیا یہ وہی پردہ ھے قرآن نے جس کا حکم دیا ھے؟؟؟

    ‏يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ قُلْ لِأَزْوَاجِكَ وَبَنَاتِكَ وَنِسَاءِ الْمُؤْمِنِينَ يُدْنِينَ عَلَيْهِنَّ مِنْ جَلَابِيبِهِنَّ ۚ ذَٰلِكَ أَدْنَىٰ أَنْ يُعْرَفْنَ فَلَا يُؤْذَيْنَ ۗ وَكَانَ اللَّهُ غَفُورًا رَحِيمًا.
    ‏سورۃ الأحزاب. 59
    ‏اے نبی! اپنی بیویوں، اپنی بیٹیوں اور مومنوں کی عورتوں سے کہ دیجیے کہ وہ اپنی چادروں کے پلو اپنے اوپر لٹکا لیا کریں. اس طرح زیادہ توقع ہے کہ وہ پہچان لی جائیں اور انہیں ستایا نہ جائے اور اللہ تعالٰی معاف کرنے والا، رحم کرنے والا ہے.

    ‏قرآن جس پردے کا حکم دیتا ھے وہ تو مومن عورتوں کی زیب و زینت کو چھپانے کے واسطے ھے، تاکہ پہچان لی جائیں کہ یہ شریف باحیا عورتیں ہیں، ان پر کوئی میلی نظر نہ ڈالے،،،،
    ‏مگر آجکل جو کچھ پردے اور حجاب کے نام پر ہمارے سماج میں ہورہا ھے اگر اسے نہ روکا گیا تو پردہ خود ایک مذاق بن کر رہ جائے گا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    ‏برقع پہننے کا مطلب کیا ھے، اسکارف پہننے کا مطلب کیا ھے ۔۔۔ کیا دوسروں کی توجہ خواہ مخواہ اپنی طرف مبذول کرانا ،،،، ؟
    ‏جس طرح کے عبایا اور اسکارف ہم نے استعمال کرنا شروع کردیئے ہیں، کیا یہ واقعی پردے کے تقاضوں کو پورا کر رہے ہیں، یا ہم نے حجاب کے نام پر ایک اور زیب و زینت اختیار کر لی ھے،،،؟
    ‏اس طرح کے حجاب کا آخر مقصد کیا ھے؟ ہم کس کو خوش کررہے ہیں؟ کس کو متاثر کرنا چاہتے ہیں؟
    ‏ذرا اپنے دلوں کو ٹٹولیں تو سہی،
    ‏کیا یہ پردہ ہم اللہ کو خوش کرنے کے لئے کر رہے ہیں؟
    ‏کیا یہ پردہ ہمارے ایمان کے تقاضوں کو پورا کررہا ھے؟
    ‏پردہ تو عورت کو عزت اور عظمت عطا کرتا ھے، اسے دوسروں کی نظر میں باعزت بناتا ھے، اسے لوگوں میں معزز اور محترم ظاہر کرتا ھے ۔
    ‏اسے نامحرم مردوں کی حریص نظروں سے بچاتا ھے ۔ پردہ عورت کی حفاظت کرتا ھے ۔۔۔۔۔ !!!
    ‏لیکن جو پردہ آج ہم کررہے ہیں کیا وہ ان سارے تقاضوں کو پورا کررہا ھے؟؟؟

    ‏میری مودبانہ اور دردمندانہ درخواست ھے، اپنی مسلمان بہنوں سے، اپنے معاشرے سے، کہ خدارا پردے کو پردہ ہی رہنے دیں، اسے اپنی خواہشات اور فیشن کی بھینٹ نہ چڑھائیں ،،،،،
    ‏اپنے اسلامی وقار کو قائم رکھیں، سادگی کو اپنائیں، سادگی ایمان کا حصہ ھے، ر
    ‏فیشن سے عزت نہیں ملتی، اللہ عزت دیتا ھے، اپنی نیتوں کو ٹھیک کرلیں، ڈھیلے ڈھالے اور سادہ حجاب اور برقعے استعمال کریں، اللہ کی رضا و خوشنودی کو پیش نظر رکھیں، اللہ کا حکم پورا کرنے کے لئے پردہ کریں، دین کے احکامات کا تمسخر نہ اڑائیں،،،،،!!!

  • بچپن کی شرارت قسط 4۔۔۔ تحریر: طلعت سلام

    بچپن کی شرارت قسط 4۔۔۔ تحریر: طلعت سلام

    آپ سب بھی حیران ھونگے کے طلعت کتنی ساری شرارتی تھی، ہر دوسرے دن ایک نئی شرارت کے ساتھ سامنے آجاتی ہے۔
    بچپن کی یادیں ایک خزانے سے کم نہیں اور میرا خیال ہے کے میرے ساتھ اپ سب کی زندگی میں بھی بچپن کی حسین یادیں لازمی ھونگی۔
    اکثر میں جب اکیلی ھوتی اور کچھ کرنے کو نہیں ھوتا تو میں پرانی تصویریں نکال کے دیکھتی ہوں۔ اور یقین جانیں پرانی تصویریں دیکھنے سے ساری پرانی یادیں تازہ ھو جاتی ہیں اور جسم میں ایک نئی انرجی بھر جاتی ہے۔
    اپ کو بھی مشورہ ہے اگر کبھی گھر میں اکیلے بور ھورہے ھوں تو اپنی پرانی تصویریں دیکھا کریں۔ آپکے ھونٹوں پر مسکراہٹ آجائے گی۔
    اچھا جی اب چلتے ہیں ایک بہت ہی بیوقوفانہ قسم کی بچپن کی شرارت تو نہیں کہوں گی کیونکہ اس وقت میں نویں کلاس میں تھی۔ ھم لوگ ہر گرمی کی چھٹیوں میں پاکستان جایا کرتے تھے۔ اپنی دوسری قسط میں بتا چکی ھوں کے ھم لوگ ابوظہبی میں رہتے تھے۔
    جی جناب تو گرمیوں کی چھٹیاں ھم پاکستان میں گزارتے تھے۔ وہاں ھمارے ابو کے ایک دوست کی فیملی تھی وہ بھی دبئی سے ہر سال ھمارے آگے پیچھے ہی پاکستان جایا کرتی تھی۔ انکے 3 بچے تھے۔ ان میں سے دو مجھ سے بڑے تھے۔ وہ دو بہن بھائی اور ھم 3 بہنیں ھم پانچوں کی بہت بنتی تھی۔
    ایک دن ھم نے پروگرام بنایا کے سب مل کے کولڈ کافی پینے جاتے ہیں۔ کیونکہ کراچی میں گرمیاں بہت زیادہ تھیں۔
    ھم تینوں بہنیں چھوٹی تھیں اسلیے ڈرائیو نہیں کرتی تھیں۔ عمران جو کے ابو کے دوست کا بیٹا تھا وہ ڈرائیو کرتا تھا۔ تو ھم پانچوں اٹھے اور تیار ھو کے امی سے پیسے لیے اور یونیورسٹی روڈ پر اس وقت ایک ریسٹورنٹ ھوتا تھا عثمانیہ اس میں پہنچ گئے۔ کہاں پہلے میں ایک اکیلی شرارتی اور کہاں شرارتی بچوں کا ٹولہ ایک ساتھ۔
    ھم سب نے اندر جا کے کولڈ کافی آرڈر کی اور پینے لگے۔ ہنسی مذاق کے دوران میری چھوٹی بہن کے گلاس الٹ گیا۔ افففففف اسکے بعد تو پوچھیں مت مجھے شرارت سوجھی اور جھوٹ موٹ بہن کو ڈانٹنے لگی کے یہ کیا کر دیا۔ اتنا بڑا نقصان پورے دس روپے کی کافی تھی۔ اور تم نے الٹ دی۔ اور اسکے بعد اپنا اسٹرا اٹھایا اور ٹیبل پر گری کافی کو اسٹرا سے پینے کی ایکٹنگ کرنے لگی😂😂😂 میری بہنیں اور دوست سب زور زور سے ہنسنے لگے۔ ھماری ہنسی کی وجہ سے نہ صرف سارے لوگ ساتھ ویٹر بھی پریشان ھو کے آگیا۔ اور سارے آس پاس بیٹے لوگ مجھے ناکام کوشش کرتے دیکھکے ہنسنے لگے۔ ویٹر کہنے لگا کے میں دوسرا گلاس لادیتا ھوں۔ اور میں بجائے کہتی کے لے آو دوسرا گلاس۔

    میں نے اسے اونچی اونچی آواز میں لیکچر دینا شروع کردیا۔ کھانا گرنے پر گناہ ھوتا اور پیسے الگ ضائع ھوتے۔ میرے ابو بہت محنت سے کامتے ہیں اور اس نے گرا دیا۔۔۔ بلا بلا بلا😂😂😂
    اور میرے بک بک کی وجہ سے نہ صرف میری بہنیں دوست بلکہ قریب کی ٹیبل پر بیٹھے سارے لوگوں کی ہنسی رکنا مشکل ھوگئی۔ اس بیچارے ویٹر کو اتنا لیکچر دیا کے اسے کچھ سمجھ نہیں آیا بیچارہ پریشان ھوتا رہا۔ اور بھاگ کے فری میں دوسری کافی لے آیا۔ اس عمر میں بات بے بات ہنسی بہت آتی ہے۔ اور یہی ھم سب کے ساتھ ھو رھا تھا۔
    آج بھی جب اس واقعے کو سوچتی ہوں تو ہنسی روکنا مشکل ھو جاتی ہے۔ کیونکہ جس طرح میں نان اسٹاپ بولے جا رہی تھی اور بیچارہ ویٹر حیران ھو کے مجھے خاموشی سے دیکھ رھا تھا۔۔
    ویسے دل میں تو سوچ رہا ھو گا کے یہ کیا چیز ہے۔ پر مجھے کسی کی کوئی پروا نہیں تھی۔ اس دن میں نے اپنی شرارتوں سے سب کو اتنا ہنسایا کے مت پوچھیں۔ ویٹر تک کی ہنسی نہیں رک رہی تھی۔ ویسے جب ھم جانے لگے تو میں نے ویٹر کو اسپیشل ٹپ دی صرف مجھے برداشت کرنے کی وجہ سے۔ اور ویٹر زیادہ ٹپ ملنے پر اتنا خوش ھوا کے ھماری ساری بدتمیزوں والی شرارت بھول گیا۔
    اور میرا کافی شکریہ ادا کیا۔
    ویسے جو حرکت میں نے کی وہ آپ لوگ نہیں کرنا۔ آجکل ماحول مختلف ہے۔ کیا پتہ جوتے ہی پڑجائیں😂

  • “جب تم میں حیا باقی نہ رہے تو جو چاہے کرو”  تحریر:اقصٰی  یونس

    “جب تم میں حیا باقی نہ رہے تو جو چاہے کرو” تحریر:اقصٰی یونس

    ڈرامے اور فلیمیں اپنے معاشرے کی عکاسی اور اپنے کلچر کو فروغ دینے کیلئے بنائی جاتی ہیں مگر افسوس صد افسوس کہ جو کچھ آج کل ہمارے ڈراموں اور فلموں میں دکھایا جا رہا ہے وہ کسی طور ہمارے معاشرے کی عکاسی نہیں کرتا ۔ چینلز ریٹنگ کی دوڑ میں مغربی معاشرے اندھا دھند تقلید کیے جارہے ہیں اور اس تقلید میں وہ شاید یہ بھی بھول چکے کہ وہ ایک اسلامی ریاست کا حصہ ہیں ۔

    پاکستان ایک ایسا ملک ہے جس کی بنیاد ہے لاالہ الا اللہ پہ رکھی گئی مگر آج مغربی پراپیگندہ اپنی جڑیں اتنی مضبوطی سے پاکستان کے میڈیا میں گاڑ چکا ہے کہ اس کا کوئی حل شاید ہی ممکن ہو۔

    ایک وقت تھا جب پاکستان ٹیلی ویژن پہ بہت اچھا اور معیاری مواد دکھایا جاتا تھا ۔ نیوز اینکرز سر پہ سلیقے سے دوپٹہ جمائے نظر آتی تھی اور ڈراموں کے ذریعے انتہائی اہم اور نازک موضوعات کو زیر بحث لایا جاتا تھا ‎ٹیلی و یژن کبھی کسی زمانے  میں گھر بھر کی تفریح کیساتھ دنیا سے جوڑنے کا سبب تھا۔

    ‎اب مغرب کی اندھی تقلید  سے معاشرے کے بگاڑ وبربادی کا سبب بن گیا ہے۔ بے راہ روی  بے حیائی کے فروغ میں ٹی وی کا بہت بڑا کردار  ہے۔ جیسے جیسے چینلز کی تعداد میں اضافہ ہوا بے حیائی بڑھتی گئی۔ہمارے حکمران  چونکہ دین بیزار  ہیں اس لئے   میڈیا کا کوئی قبلہ کوئی  قانون نہیں۔ سو شتر بے مہار کی مانند  جس نے   جو چاہا دکھایا ۔ ننگ پن فحاشی کے وہ مناظر  دکھائے جانے لگے جنہیں  تنہائی  میں دیکھتے ہوئے  بھی شرم آجائے۔
    ‎ اینکرو کمپیئر کا دوپٹہ جو سر  سے نہ ہٹتا تھا گزرتے وقت کیساتھ   دوپٹہ ہی نہیں حیا بھی کہیں گم ہوگئی۔ اس وقت چند اسلامی چینلز  کے سوا  ہر ٹی وی  چینل  پر عریانی اور فحاشی کو ایسے فروغ دیا جارہا ہے "جیسے یہ کوئی لازمی زمینداری ہو”

    ہر ڈرامے میں بس طلاق اور افیئرز جیسے موضوعات زیر بحث لائے جاتے ہیں تو کہیں حاملہ عورت کا ڈی این اے ٹیسٹ ایک سنگین مسئلہ دکھایا جاتا ہے۔ جہاں کسی کو امیر دکھانا ہوں نیم برہنہ لباس پہنا دیا جاتا ہے۔ اور غربت دکھانے کو سر پہ دوپٹہ آوڑھا دیا جاتا ہے۔پہلے دوپٹہ غائب ہوا اب آہستہ آہستہ کپڑے بھی سکڑ کر مزید چھوٹے ہوتے جا رہے ہیں ۔ یہاں تک بھی بات قابل برداشت نہ تھا۔ مگر سونے پہ سہاگہ یہ ایوارڈ شو جو صرف بے حیائی کا بازار ہیں ۔ گزشتہ روز “ ہم سٹائل لکس ایوارڈ “ کی کچھ تصاویر دیکھنے کا اتفاق ہوا ان تصاویر کو دیکھ کر میں قلم اٹھائے بغیر نہ رہ سکی۔

    ان تصاویر میں دوپٹہ تو خیر نظر آنا کسی بنجر جگہ پر آم کے درخت دیکھنے کے مترادف تھا لیکن ان تصاویر سے صاف ظاہر تھا کہ ہم مغربی میڈیا سے کتنے متاثر اور اور اسکے کتنے دلدادہ ہیں ۔ خوبصورت نہیں بلکہ ماڈرن نظر آنے کی دوڑ میں ماڈلز اور اداکارہ خود کو نیم برہنہ کرنے پہ بھی راضی اور یہ مناظر کیمرے کی آنکھ میں قید ہو کر ساری دنیا تک پہنچے ہوں گے ۔

    رہی بات ریٹنگ کی دوڑ کی تو کون کہتا ہے کہ پاکستانی اچھے ڈراموں کی بجائے ساس بہو کی لڑائی اور بے حیائی کا تڑکا لگاتے ڈرامے دیکھنا چاہتے ہیں اگر ایسا ہوتا تو ارطغرل جیسا ڈرامہ جو اسلامی تاریخ کی عکاسی کرتا ہے ریٹنگ کے سارے ریکارڈ نہ توڑتا۔

    لباس جسم کو ڈھانپنے کا ذریعہ ہے ۔ مگر اب لباس کی تراش خراش جسمانی نشیب و فراز کو ظاہر کرنے کے لئے کی جاتی ہے اور اسے ترقی، ماڈرن ازم، جدید دور کی ضرورت اور روشن خیالی کا نام دیا گیا ہے۔ آج کے نوجوان فلم،ٹی وی ڈرامے، اشتہارات، اخبارات میں فلمی ستاروں کی تصاویر دیکھ کر ان کے جیسا بننے کا سوچتے ہیں۔ اب ہماری نئی نسل کی اکثریت کے رول ماڈل انڈین فلموں کے ہیرو‘ ہیروئن ہوتے ہیں اور ان کا خیال ہوتا ہے کہ اگر وہ بیہودہ لباس نہ پہنیں تو وہ ترقی یافتہ‘ روشن خیال نہ کہلائیں گے بلکہ ان کا شمار اولڈ کلاس میں ہو گا۔

    سوال یہ ہے کہ پیمرا اور ریگولیشن اتھارٹیز کیا بھانگ پی کر سو رہے ہیں ۔ پیمرا فقط ایک نوٹس دے کر سمجھتا ہے کہ اپنی ساری زمینداری سے سبکدوش ہوگیا۔ صرف پیمرا ہی کیوں قومی اسمبلی میں بیٹھے ہر شخص کو صرف کرسی کی بھوک کا لالچ ہے ان کی بلا سے کلچر ، ثقافت اور اخلاقیات جائے بھاڑ میں ۔ یہ زمینداری تو ہر شہری کی بھی ہے کہ وہ اس پہ آواز آٹھائے ۔ مگر اس مسئلے سے شاید نہ تو پیمرا کو غرض ہے نہ ہی کسی ریاستی ادارے کو ۔ کیونکہ یہ مسئلہ ان کے مفادات اور حرس سے کہیں پیچھے رہ گیا اور وہ کرسی کی دوڑ میں ریاست مدینہ کے دعویدار اپنی ساری زمینداریاں بھول بیٹھے ہیں ۔

    پیمرا کو چاہیے ٹیلی ویژن پہ نشر ہونے والے مواد کو مکمل طور پہ مانیٹر کیا جائے ۔ اور ہر وہ مواد جو بے حیائی کو فروغ دے اسے مکمل طور پہ بین کرکے متعلقہ چینل کو بھاری جرمانہ کیا جائے ۔ تاکہ آئیندہ کوئی ایسا پروجیکٹ کرے ہی نہ جس سے ہماری ثقافت اور کلچر کو نقصان پہنچے۔اور ایسے ڈراموں کو فروغ دیا جائے جو حقیقی معنوں میں ہمارے معاشرے ،ہمارے کلچر اور ثقافت کی عکاسی کرے۔

    وہ حیا جو کل تلک تھی مشرقی چہرے کا نُور
    لے اُڑی اُس نِکہتِ گُل کو یہ تہذیبِ فرنگ

    <Writer Aqsa Younas


     Aqsa Younas

    Aqsa Younas is a Freelance Journalist Content Writer, Blogger/Columnist and Social Media Activist. He is associated with various leading digital media sites in Pakistan and writes columns on political, international as well as social issues. To find out more about her work on her Twitter account

      

     


    https://twitter.com/AqsaRana890

  • بچوں کی تربیت میں والدین کا کردار.تحریر : ریحانہ جدون

    بچوں کی تربیت میں والدین کا کردار.تحریر : ریحانہ جدون

    بچوں کی تربیت بڑا کٹھن کام ہے کیونکہ آج کے اس دور میں بچے کی تربیت کے ساتھ ساتھ آپکو اپنی تربیت بھی کرنا پڑے گی, آ پکو اپنی عادات بھی درست کرنا پڑیں گی کیونکہ بچہ آ پ سے ہی سیکھتا ہے, آ پ ہی کی نقل کرتا ہے, ہر بات میں ویسا ہی ردعمل ظاہر کرنے کی کوشش کرتا ہے جیسا آ پ کرتے ہیں جیسا دیکھے گا ویسا کریگا اور جیسا سنے گا ویسا بولے گا. اپنا بچہ کس کو پیارا نہیں ہوتا… یہ ہمارے پیار کی شدت کا ہی ایک پہلو ہے کہ ہم اسکی ضرورت سے زیادہ دیکھ بھال اور نگرانی کرتے ہیں اور فکر رہتی ہے کہ اسکو کسی قسم کا نقصان نہ پہنچے اور ہر کوئی چاہتا ہے کہ اسکا بچہ ذہنی و جذباتی لحاظ سے بھی صحت مند ہو, اُسکا کردار اُسکی عادات اچھی ہوں اور بڑا ہوکر ایک مہذب اور کامیاب انسان بنے.

    ہماری اسی شدت آرزو کی وجہ سے ہم بچے کو متوازن بنانے کی کوشش میں خود متوازن نہیں رہتے اور کئی دفعہ ہم منفی رویہ اختیار کرجاتے ہیں, جیسا کہ عموماً ہم کرتے ہیں,, یہ نہ کرو, وہ نہ کرو, تم کوئی کام نہیں کرتے, یہ کیوں کِیا, یہ کیا کردیا, وغیرہ وغیرہ

    اب زرا غور کریں تو اس میں صرف دو جُز نظر آئیں گے ایک نفی اور دوسرا حکم کا…
    اور یہ دونوں اجزاء تعمیر کے نہیں بلکہ تخریب کے ہیں اور تربیت کے لئے سخت مضر.

    بیشک آپکا مقصد نیک ہے اور آپ اپنے بچے کو اچھا انسان بنانا چاہتے ہیں مگر یہ طریقہ درست نہیں کیونکہ اگر آ پ تعمیر چاہتے ہیں تو آپکا انداز بھی تعمیری ہونا چاہیے .بچہ ایک مستقل شخصیت رکھتا ہے اور اسکی شخصیت کو سمجھنے کی کوشش کرنا ہوگی. بچے کو مناسب آزادی دیں کہ وہ اپنی اصلی شخصیت ظاہر کرسکے. آپکی ڈانٹ ڈپٹ آپکا منفی رویہ بچے کی شخصیت کو دبا دے گا. کوشش کریں کہ اپنی شخصیت بچے پر مسلط نہ کریں.

    بات چیت اور رویے میں غصے, اکتاہٹ اور کھردرے پن کا ثبوت نہ دیں. اگر بچے کے کسی کام یا بات سے آپکو غصہ آ رہا ہوتو کوشش کریں اُس وقت بچے سے بات نہ کریں, اپنے غصے پر قابو پانے کے بعد بات کریں, صبر و ضبط کا ثبوت نہ دیں گے تو بچوں میں تحمل کہاں سے آئے گا؟اُن کو پیار سے سمجھائیں اور آپکا لہجہ ایسا ہونا چاہیے کہ بچہ اسکو غور سے سُنے اور سمجھے. جہاں تک ممکن ہو انکے کھیل کود میں دخل نہ دیں کیونکہ بچوں کا کھیل بھی انکے کام کا حصہ ہوتا ہے اور کھیل سے وہ کام کرنا سیکھتے بھی ہیں. بچوں کے ساتھ دوستانہ رہنمائی کا انداز اختیار کریں, منفی کی بجائے مثبت رویہ اپنائیں. اسطرح ایک مثبت ذہن تیار ہوگا.

    کئی والدین بچوں کے ساتھ سخت رویہ اپناتے ہیں اور نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ جب بچہ کوئی غلطی کردیتا ہے تو والدین کے خوف سے والدین سے بات چھپانے لگتا ہے, بچے کے ساتھ آپکا دوستانہ رویہ ہوگا تو بچہ ہر بات آ پ سے شیئر کریگا. بچہ جب اسکول یا مدرسے سے واپس آ ئے تو دوستانہ رویے سے پوچھیں آج میرےبچے نے کیا کیا پڑھا آج کیا کیا کِیا… اور دیکھنا وہ شوق سے آپکو بتائے گا ہم نے آج یہ پڑھا, آج یہ کھیل کھیلا وغیرہ

    کہنا یہ ہے کہ بچے کی اپنی شخصیت کو ابھرنے کا موقع دیں. آپ اپنی شخصیت کو زبردستی اس پر نہ مسلط کریں. بچے کو کسی جائز کام اور ضروری بات سے محض اس لئے نہ روکیں کہ وہ آپکے مزاج کے خلاف ہے یا آپ کے مشاغل میں فرق آتا ہے. دیکھیں ایک حیوان بھی اپنے بچوں کو بھوکا نہیں چھوڑتا کسی نہ کسی طرح انکا پیٹ بھر دیتا ہے, مگر صرف انسان ہی ہے جو اپنی اولاد کو اگر کچھ قیمتی دے سکتا ہے ہے تو وہ ہے بہترین تربیت… آ پکی یہی بہترین تربیت انسان کی بہترین خدمت بھی ہے اس طرح آپکا بچہ ایک بہترین اور مہذب انسان بنے گا انشاءاللہ

  • ندا ڈار اعزاز پانے کے قریب

    ندا ڈار اعزاز پانے کے قریب

    ندا ڈار ٹی ٹونٹی انٹرنیشنل کرکٹ میں 100 وکٹوں کا سنگ میل عبور کرنے کے قریب ہے، پاکستان اور ویسٹ انڈیز کے مابین 3 ٹی ٹونٹی انٹرنیشنل میچز پر مشتمل سیریز کا آغاز 30 جون سے ہوگا، سر ویون رچرڈز اسٹیڈیم میں کھیلے جانے والے ان میچز میں شائقین کرکٹ کی توجہ کا مرکز ندا ڈار ہوں گی، جنہیں ٹی ٹونٹی انٹرنیشنل کرکٹ میں 100 وکٹیں مکمل کرنے کے لیے صرف ایک وکٹ درکار ہے، گجرانوالہ سے تعلق رکھنے والی 34 سالہ کرکٹر پہلی پاکستانی اور دنیا کی پانچویں خاتون کرکٹر ہوں گی جو یہ اعزاز کریں گی، اس سے قبل ویسٹ انڈیز کی انیسہ محمد (120)، آسٹریلیا کی ایلیسا پیری (115)، جنوبی افریقہ کی شبنم اسماعیل (110) اور انگلینڈ کی آنیا شرب سول (102)، ہی یہ سنگ میل عبور کرسکی ہیں، ٹی ٹونٹی کرکٹ میں پاکستان کی سب سے کامیاب باؤلر ندا ڈار اب تک 18.35 رنز فی وکٹ کے اعتبار سے 99 وکٹیں حاصل کرچکی ہیں، ندا ڈار مینز یا ویمنز دونوں قسم کی کرکٹ میں یہ اعزاز حاصل کرنے والی پہلی پاکستانی کرکٹر ہوں گی.
    ندا ڈار کا کہنا ہے کہ کرکٹ ایک دلچسپ کھیل ہے، جو آپ کو اچھے اور برے دونوں طرح کی دن دکھاتا ہے، مگر اس سے وابستگی کبھی ختم نہیں ہوتی ہے، انہوں نے کہا کہ یقیناََ 100 ٹی ٹونٹی انٹرنیشنل وکٹوں کاسنگ میل عبور کرنا ان کے لیے خوشی کا باعث ہوگا تاہم اگر اس روز میچ میں ان کی پرفارمنس سے قومی خواتین کرکٹ ٹیم کو فائدہ ہوگا تو یہ خوشی دوبالا ہوجائے گی، ایک سینئر کھلاڑی اور آلراؤنڈر کی حیثیت سے اپنی ذمہ دایاں بخوبی جانتی ہیں اور کوشش کروں گی کہ اپنی کارکردگی کے ذریعے پاکستان کی فتوحات میں اضافہ کرسکوں.
    ندا ڈار نے آئی سی سی ویمنز ٹی ٹونٹی ورلڈکپ 2010 میں سری لنکا کے خلاف میچ سے اپنے کیرئیر کا آغاز کیا تھا، گو کہ اس سنسنی خیز میچ میں سری لنکا نے ایک رن سے کامیابی حاصل کی تھی تاہم ندا ڈار نے اس میچ میں محض 10 رنز کے عوض 2 وکٹیں حاصل کی تھیں، آلراؤنڈر اپنے ٹی ٹونٹی کرکٹ کیرئیر میں 1152 رنز بناچکی ہیں، وہ ٹی ٹونٹی انٹرنیشنل کرکٹ میں سب سے زیادہ رنز بنانے والی پاکستان کی تیسری بہترین بیٹسمین بھی ہیں، اب تک پاکستان کے لیے 105 ٹی ٹونٹی انٹرنیشنل میچز کھیل چکی ہیں، ان 110 میں سے 43 میچز میں پاکستان نے کامیابی حاصل کی ہے، انہوں نے ان 43 میچز میں 52 وکٹیں حاصل کیں ہیں.