Baaghi TV

Category: خواتین

  • رمضان میں پانی کی کمی سے بچنے کے لئے گھر میں تیار کئے جانے والے فرحت بخش مشروبات

    رمضان میں پانی کی کمی سے بچنے کے لئے گھر میں تیار کئے جانے والے فرحت بخش مشروبات

    رمضان میں روزہ رکھنے اور گرمی کی شدت کے سبب ڈی ہائیڈریشن کا خطرہ بڑھ جاتا ہے جسے روزہ افطار کے بعد پانی کی مطلوبہ یا زیادہ مقدار استعمال کر کے بچایا جا سکتا ہے۔

    باغی ٹی وی : ماہرین کے مطابق گرمیوں کے موسم میں عام روٹین سے ہٹ کر پانی پینے کا استعمال بڑھا دینا چاہیے تاکہ براہ راست دماغ پر اثر انداز ہونے والی شکایت ڈی ہائیڈریشن سے بچا جا سکے جبکہ رمضان کے دوران دن میں ایسا ممکن نہیں ہو پاتا۔

    تاہم افطار کے دوران یا بعد میں اگر سادہ پانی کے علاوہ گھر میں ہی تیار کیے جانے والے صحت اور فرحت بخش مشروبات کا استعمال کر لیا جائے تو پانی کی کمی دور ہونے کے ساتھ صحت پر بھی متعدد فوائد مرتب ہوتے ہیں اور افطار کے دوران تلی ہوئی مضر صحت غذاؤں کے استعمال کے اثرات بھی کم ہو جاتے ہیں۔

    رمضان کے دوران روزہ ہونے کے سبب دن میں پانی کا استعمال نہیں کیا جا سکتا مگر روزہ افطار کرنے کے بعد پانی کے زیادہ استعمال اور مختلف اقسام کے خوش ذائقہ، فرحت بخش مشروبات کے استعمال سے روزہ دار کی فوراً توانائی بحال ہو جاتی ہے، بھوک کا احسا س بھی کم ہوتا ہے جس کے نتیجے میں وزن میں صحت مندانہ طریقے سے کمی بھی آتی ہے ۔

    مندرجہ ذیل مشروبا ت کا استعمال رمضان کے دوران نہات مفید ثابت ہو سکتے ہیں:

    گنے کا رس:
    گنے کا جوس فوراً توانائی بحال کر کے تروتازہ اور فرحت بخش محسوس کرواتا ہے، تھکاوٹ دور کرتا ہے اور گردوں کی صحت کے نہایت مفید قرار دیا جاتا ہے۔

    لیموں پانی:
    لیموں پانی طبی ماہرین کی جانب سے ہر موسم میں تجویز کیا جاتا ہے، لیموں صحت، قوت مدافعت بہتر بنانے اور وٹامن سی کی بھر پور مقدار حاصل کرنے کا بہترین ذریعہ ہےلیموں پانی ناصرف ایک سستا ترین ڈیٹاکس واٹر ثابت ہوتا ہے بلکہ یہ گردوں کی صفائی کے لیے بھی بہترین مشروب قرار دیا جاتا ہے لیموں پانی کے استعمال سے وزن میں کمی آتی ہے، طبیعت کا بھاری پن دور ہوتا ہے اور غذا جَلد ہضم ہوتی ہے ۔

    گل قند کا استعمال:
    لال گلاب کے پھولوں سے تیار گل قند نا صرف گرمی کی شدت کم کرتی ہے بلکہ فرحت بخش احساس بھی جگاتی ہے، روزہ افطار کرنے کے بعد اگر میٹھے کے طو ر پر گل قند کا استعمال کر لیا جائے یا پھر اسے پانی یا دودھ میں شامل کر کے پی لیا جائے تو غذا جَلد ہضم ہو جاتی ہے اور بھاری پن بھی محسوس نہیں ہوتا ہے۔

    کھیرے کا ڈیٹاکس واٹر:
    رمضان ہر انسان کو جسم سے مضر صحت مادوں کو ڈیٹاکس کرنے کا بہترین موقع فراہم کرتا ہے، اس دوران جسم ’انٹرمٹینٹ فاسٹنگ‘ کی حالت میں ہوتا ہے، روزہ افطار کے بعد اگر غذا کے ساتھ کھیرے سے بنا ڈیٹاکس واٹر یا اسموتھی کا استعمال کر لیا جائے تو نظام ہاضمہ سمیت قوت مدافعت بھی بہتر کام کرنے لگتا ہے اور انسانی جسم سے مضر صحت مادوں کا صفایا ہو جاتا ہے ۔

    ناریل کا پانی:
    ناریل کا پانی صحت بخش مائع ہے، ناریل کا پانی بد ہضمی اور تیزابیت کا بہترین علاج ہے اور اس کے استعمال سے انسان خود کو ہلکا اور توانا محسوس کرتا ہے، ناریل کے پانی میں تخم بالنگا ملا کر بھی استعمال کیا جا سکتا ہے، ناریل کا پانی پیٹ پھولنے کی شکایت سے بھی بچاتا ہے۔

  • آرپی او ڈی جی خان کا مظفرگڑھ کا دورہ

    آرپی او ڈی جی خان کا مظفرگڑھ کا دورہ

    مظفرگڑھ۔آر پی او ڈی جی خان فیصل رانا نے مظفرگڑھ کا دورہ کیا ڈی پی او آفس میں پولیس کی چوق و چوبند دستے نے آر پی او کو سلامی دی آر پی او نے پولیس لائن میں آن لائن ڈرائیونگ سسٹم کا افتتاح کیا ڈی پی او مظفرگڑھ حسن اقبال آر پی او کے ہمرا تھے

    مظفرگڑھ۔ریجنل پولیس آفسیر فیصل رانا کے مظفرگڑھ ڈی پی او آفس پہنچنے پر ا حسن اقبال نے استقبال کیا ڈی پی او آفس میں پولیس کے چوق چوبند دستے نے آر پی او کو سلامی دی۔آر پی او نے ڈی پی او آفس میں شہدا کی فیملز سے ملاقات کی۔ڈی پی او آفس سے ریجنل پولیس آفیسر فیصل رانا پولیس لائن پہنچے جہاں پر آر پی او نے آن لائن ڈرائیونگ سسٹم کا افتتاح کیا اور میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا مظفرگڑھ میں ڈی پی او حسن اقبال کی قیادت میں پولیس مثالی پولیس بننے جارہی ہیں

  • شامی کباب بنانے کی ترکیب

    شامی کباب بنانے کی ترکیب

    شامی کباب

    وقت : 50سے 60منٹ
    تعداد: 18سے 20

    اجزائے ترکیبی(الف) مقدار
    بیف یا مٹن قیمہ ½کلو
    دال چنا (بھگوئی ہوئی) آدھا کپ
    پیاز (موٹا کٹا ہوا) آدھا کپ
    ادرک (موٹا کٹا ہوا) 1کھانے کا چمچ
    لہسن (موٹا کٹا ہو) 1کھانے کا چمچ
    نمک حسب ذائقہ
    ثابت لال مرچ 4سے 5عدد
    سوکھا دھنیا پاؤڈر آدھا کھانے کا چمچ

    اجزائے ترکیبی(ب) :
    آلو (ابلے اور پسے ہوئے) آدھا کپ
    تیل (تلنے کیلئے) آدھا کپ
    ادرک (باریک کٹا ہوا) 1چائے کا چمچ
    سبز مرچ (باریک کٹی ہوئی) 1چائے کا چمچ
    ہرا دھنیا (باریک کٹا ہوا) 2چائے کا چمچ
    SNP گرم مصالحہ پاؤڈر 1چائے کا چمچ

    سجاوٹ کے لئے :
    ٹماٹر (سلائس میں کٹے ہوئے) 8سے 10عدد
    تازہ سرخ اور سبز مرچیں 6سے 8ٹکڑے
    ہرا دھنیا ایک چھوٹ گٹھی

    طریقہ کار :
    ایک برتن میں حصہ الف کے اجزائے ترکیبی ڈال دیں تین کپ پانی ڈال کر اس وقت تک پکائیں جب تک قیمہ نرم ہو جائے پانی خشک ہوجائے اور مکسچر بالکل خشک کرلیں۔ اب اس آمیزے کو ٹھنڈا کرکے فوڈ پروسیسر میں پیس لیں۔ ایک بڑے پیالے میں یہ آمیزہ ڈالیں اور حصہ ب کے اجزائے ترکیبی ڈال دیں (تیل نہ ڈالیں) اچھی طرح مکس کرلیں۔ اب 30سے 40گرام کے کباب تیار کرلیں۔ اب آدھے گھنٹے کے لئے کبابوں کو فریج میں رکھ دیں۔ اب گولڈن براؤن ہونے تک تیل میں فرائی کریں۔ سجاوٹ کے لئے کبابوں کے ایک طرف کٹے ہوئے ٹماٹر، لال اور ہری کٹی ہوئی مرچیں اورکٹا ہوا دھنیا چھڑک دیں۔ اب پودینے اور دہی کی چٹنی کے ساتھ پیش کریں۔ آپ بیف کی جگہ مٹن اور چکن کا قیمہ بھی استعمال کرسکتے ہیں۔

  • کمسن طالبات سے جنسی سوالات جیسا اہم مسئلہ اجاگر کرنے پرہم باغی ٹی وی کے مشکور ہیں    ڈاکٹر مصباح احمد

    کمسن طالبات سے جنسی سوالات جیسا اہم مسئلہ اجاگر کرنے پرہم باغی ٹی وی کے مشکور ہیں ڈاکٹر مصباح احمد

    سینیٹر حافظ عبدالکریم کی بہو ڈاکٹر مصباح احمد نے سرکاری و غیر سرکاری سکولوں کے نصاب کا مسئلہ اجاگر کرنے پر باغی ٹی وی شکریہ ادا کیا ہے-

    باغی ٹی وی :سینیٹر حافظ عبدالکریم کی بہو ڈاکٹر مصباح احمد کا کہنا ہے کہ گورنمنٹ سکولز نے ایک بار پھر بہت مایوس کیا پہلے جہاد کی آیات نصاب سے نکالیں پھر ختم نبوت کے معاملے میں سستی اور غفلت کا مظاہرہ کیا پھر قادیانیوں کو نوازا جہلاء کو منصب تعلیم پر بٹھایا اسلامی ہیروز کے ہوتے ہوئے مسٹر چپس کا رٹا لگوایا شروع سے لے آخر تک مسلمان بچوں کی زبان پر اللہ اور اس کے رسول کا نام نہ آنے دیا الف انار تو پڑھایا الف اللہ یا اذان نہ دماغ میں بٹھایا-


    انہوں نے برہمی کاظہار کرتے ہوئے کہا کہ لیکن اب تو حد ہو گئی ہے آٹھ سالہ بچی کے سیکسوئل ریلیشن کا پوچھ کر کیا دماغ میں بٹھانا چاہتے ہیں اس کے دماغ میں کیا ڈالنا چاہتے ہیں دیکھ نہیں رہے آج کل ہمارے اسکولز کالجزیونیورسٹیز میں کیا کچھ ہو رہا ہےڈرگزرومان خودکشی بس تعلیم نہیں باقی سب کچھ ہے پرائیویٹ سکولز مافیا کے ڈسے لوگوں کی آخری امید سرکاری سکول ہی ہوتے ہیں ،مگر جب وہاں بھی گوروں کے سکولز کا نظام چلے تو بتائیے کہ مسلمان کہاں جائیں-

    ڈاکٹر مصباح احمد نے کہا کہ تعلیمی اداروں میں بڑھتی ہو بے حیائی طوفان بدتمیزی اور طلباء کی ناکامی کی اصل وجہ سرکاری نظام اور نا اہل انتظامیہ ہے علم کے نام پر سوائے علم کے باقی سب کچھ سکھایا جاتا ہے میوزک پیریڈ کے نام پر بچوں کو ڈسکو سکھایاس کے نام پر ننگا کر کے اوچھی حرکات سکھائی جاتیں ہیں کرایٹیویٹی کے نام پر کری یٹر سے ہی دور کیا جاتا ہے اسلام کا کون سوچے کا دین کا درد کون سمجھے گا ہم اپنے گھریلو مسائل ذاتی کاروبار جاب کی فکر سے ہی نکلتے جو دین اور تعلیم کا کچھ سوچیں –

    انہوں نے کہا کہ باقی بکاؤ میڈیا کا بھی کردار آپ کے سامنے ہے بھلا ہو باغی ٹی وی کا جس نے اس معاملے کو اجاگر کر کے ہمیں خبردار کیا-

    واضح رہے کہ حکومت پنجاب کی طرف سے سرکاری سکولوں کے بچوں اور بچیوں میں ایک پرفارما تقسیم کیا جارہا ہے جس میں کئی سوالات پوچھے جا رہے ہیں. جس میں ایک سوال یہ بھی ہے کہ کیا آپ کبھی جنسی سرگرمی میں ملوث رہے ہیں.اگرچہ اس پرفارما کی ہیڈنگ میں لکھا ہے کہ یہ طلبہ اور اساتذہ دونوں کے لیے ہے تاہم معصوم طلبہ جو کہ دس گیارہ سال کی بچے ہیں ان سے یہ سوال کیا جائے تو کیا اثرات مرتب ہوں .

    اس پرفارما میں بچوں کے متعلق کافی سوالات پوچھے جاتے ہیں جن میں بچوں کی صحت کے متعلق عنوان کے تحت میڈیکل ہسٹری کے سوالات ہیں. جس میں والدین کی سرجیکل ہسٹری ، میڈیکل ہسٹری ، بچے کا وزن کم ہونا یا زیادہ ہونے کے بارے میں سوالات ہیں.

    اسی طرح جنرل اوور آل فزیکل ایگزائمن کے تحت بچے کا قد ، وزن ، بلڈ پریشر اور دیگر سوالات ہیں. جنرل زہنی صحت کے بارے میں کئی سوالات ہیں جس میں سیلف کیئر یعنی خود اپنا کتنا خیال رکھتا ہے ، رپورٹ بلڈنگ ، صورت حال کو سمجھنا اور اپنے نگران کو اس بارے بتانے کی صلاحیت بارے سوالات ہیں.

    نفسیاتی ہسٹری کے تحت بھی کافی سوالات ہیں جس میں ، سگرٹ نوشی ، کسی طرف سے ہراساں کیے جانے کا واقعہ. چوری کی عادت ، سکول لیٹ آنا، بری صحبت، منشیات کا استعمال جنسی سرگرمی وغیر ہ شامل ہے .

    ریاست مدینہ کا نام اور کمسن طالبات سے جنسی سوالات، فرید پراچہ، ناصر اقبال پھٹ پڑے

    کیا آپکی آٹھ سالہ بیٹی جنسی تعلقات قائم کرتی ہے؟ پنجاب کے سرکاری سکولوں میں والدین سے سوال

  • میری مرضی ؟   تحریر :سفیر اقبال

    میری مرضی ؟ تحریر :سفیر اقبال

    میری_مرضی ؟

    جب دوائی پینے سے جسم پر نکلا ہوا پیپ دار پھوڑا ختم نہ ہو تو ڈاکٹر انجیکشن تجویز کرتے ہیں جو مریض کے لیے وقتی طور پر تکلیف دہ ہوتا ہے…لیکن ڈاکٹر مریض کے ری ایکشن سے ڈرے بغیر انجیکشن لگا ہی دیتا ہے. انجیکشن سے بھی پیپ ختم نہ ہو تو ڈاکٹر سرجری کر کے پھوڑا جسم سے نکال دیتا ہے…. ورنہ ہسپتال سے ڈسچارج کر کے اسے بڑے شہر کے بڑے ہسپتال میں لے جانے کا آرڈر جاری کرتا ہے…! یہ سارا کچھ ڈاکٹر کی قابلیت اور اس کے اختیارات پر انحصار کرتا ہے

    بس اتنی سی کہانی ہے جس کی بنیاد پر تین دن سے سوشل میڈیا پر کہرام مچا ہوا ہے…! خلیل الرحمٰن کے الفاظ…. لہجہ….. انداز… کوئی درست کہہ رہا ہے اور کوئی غلط. ان سب لوگوں کی اپنی اپنی سوچ اور فکر ہے جو جہاں بیٹھا ہے اسی انداز میں سوچ رہا ہے کہ نہیں ڈاکٹر کو انجیکشن نہیں لگانا چاہیے تھا پہلے میٹھی دوائی پلا کر دیکھ لیتا… ڈبل ڈوز دے دیتا غیرہ وغیرہ. اسے بڑے ہسپتال منتقل کر کے اسے کوریج نہ دیتا وغیرہ وغیرہ.

    سب جانتے ہیں کہ اسلام نے دعوت کے سارے طریقے بتائے ہیں… اخلاق کی حقیقت بھی سمجھائی ہے اور صحابہ کرام نے گالی کا جواب گالی میں بھی دیا ہے.(جس پر اللہ کے نبی نے خاموشی اختیار کی یا اس پر کسی قسم کے گناہ کا ذکر نہیں کیا . اور وہ واقعات تاریخ میں محفوظ ہیں )… لیکن اس کے باوجود کچھ احباب کا خیال ہے کہ یہ طریقہ مناسب نہیں تھا تو اس پر یہی کہا جا سکتا ہے کہ جس کا جتنا ایمان ہے وہ اپنے اسی لیول سے ری ایکشن دے گا. اور صحابہ کرام نے بھی مختلف مواقع پر مختلف صورتوں میں مختلف ری ایکشن دئیے-

    لیکن یہ سوچنا کہ نہیں بھائی اس طرح کرنے سے ان کی جارحیت یا مظلومیت میں اضافہ ہوتا ہے… ان کی کوریج بڑھتی ہے….. تو کتنا اچھا ہوتا اللہ کے نبی یا صحابہ کرام بھی ایسا کچھ سوچ لیتے. لیکن نہیں….! انہوں نے تو مسلم ریاستوں میں رہنے والوں سے جزیہ لے کر اور ذلیل انداز میں رہنے پر آمادہ کرنے کا حکم دیا… اللہ کے نبی نے بیت اللہ میں کھڑے ہو کر قنوت میں بددعائیں بھی کی… کچھ بدبختوں کو صحابہ کرام نے منہ پر… گالیوں کے جواب میں گالیاں بھی دیں اور کبھی نہیں سوچا کہ یہ مکہ مدینہ چھوڑ کر مظلوم بن کر ہمارے درد سر میں اضافہ کریں گے…. یا ہمارے ان اقدامات سے اس واقعہ کو کوریج ملے گی. اس لیے چپ رہنا یا ہر لمحہ پیار سے سمجھانا ہی بہتر ہے.

    یہ تو وہ باتیں تھی جب مسلم ریاست نہیں تھی.. جب مسلم ریاست بنی تو معاملہ اور شدت اختیار کر گیا. شرعی سزائیں قائم کر کے چوروں کے ہاتھ کاٹے گئے…. زانیوں کو سنگسار کیا گیا اور ایسے فتنوں کو کچلنے کے لیے وہ سب کیا گیا جو کرنا ضروری تھا… ان کی جارحیت مظلومیت کی کوریج کے بارے میں سوچے بغیر…. اور یہی طریقہ ہی عین اسلامی تھا الحمدللہ.

    اگر ذاتی حد تک بات کریں تو پاکستان میں رہنے والے ہر شہری کا اپنا اپنا ایمانی لیول ہے.. فرشتہ کوئی بھی نہیں….! ہم میں سے کچھ افراد اپنی بیٹیوں یا بہنوں کے ہاتھوں میں فور جی نیٹ ورک سے لیس موبائل پکڑا کر یہ سوچتے ہیں کہ ہم نے اپنی بیٹی یا بہن کو شریعت کے مطابق گھر کی چاردیواری میں رکھا ہوا ہے الحمد للہ… کچھ نوجوان اپنی بہنوں کو خود موٹر سائیکل پر بیٹھا کر کالج چھوڑنے جاتے ہیں اور اس کے بعد گھنٹوں گھنٹوں اپنی گرل فرینڈز کے ساتھ گپ شپ لگاتے ہوئے یہ سوچتے ہیں کہ میری بہن چونکہ میرے ساتھ آتی جاتی ہے اس لیے محفوط ہے.

    میں خود بچپن میں اپنی بہنوں کے ساتھ بیٹھ کر اس وقت کے "میرے پاس تم ہو” جیسے ڈرامے دیکھتا رہا اور خوش ہوتا رہا کہ الحمدللہ ہمارے گھر میں ڈش یا انڈین فلمیں نہیں چلتیں. (صرف بچپن نہیں ابھی بھی میں اتنا پارسا یا دودھ کا دھلا نہیں.) خلیل الرحمٰن صاحب انہی اسلام پسندوں کے ہاتھوں جو آج ان کی تعریفوں کے پل باندھ رہے ہیں "میرے پاس تم ہو ” جیسا ڈرامہ بنانے کی وجہ سے تنقید کا شکار ہوتے رہے .

    ساری صورتحال آپ کے سامنے ہے… اگر ہمت ہو تو اپنے گریبان میں جھانک کر خود بھی دیکھ لیں کہ آپ کون کون سی برائی کو وقت کی ضرورت یعنی اسلامی سمجھتے ہیں اور کون کون سے گناہ کو آپ غیر اسلامی یا غیر اخلاقی گردانتے ہیں . اندازہ ہوتا جائے گا کہ جس کو اللہ رب العزت نے جتنا ایمان، جتنا علم اور جتنا اختیار دے رکھا ہے وہ اس بے حیائی اور غیر اخلاقی اقدار پر اتنا ہی ری ایکٹ کر رہا ہے…. فرشتہ کوئی بھی نہیں…!

    اگر آج ہم خلیل صاحب کے بارے میں یہ سوچتے ہیں کہ وہ اس واقعے کو کوریج دے کر یا ان کے الفاظ سے ہونے والی "متاثرہ” کو مظلوم بنا کر ناچاہتے ہوئے بھی اس ایجنڈے کا شکار ہو رہے ہیں تو ہم اپنے بارے میں بھی سوچ لیں کہ ہم کہاں کہاں غیر اسلامی اقدار کا شکار ہیں اور اس کو کوریج دے رہے ہیں . خلیل صاحب کی ہمت ہے کہ وہ جس یقین پر جس مقام پر کھڑے ہیں اپنے طور پر برائی کو ختم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں بیشک ان کا مقام یا آن کا نظریہ مکمل طور پر اسلامی نہ ہو لیکن کوشش تو وہ اسلام کے لیے…. غیر اسلامی تہذیب کو مٹانے کی ہی کر رہے ہیں….!

    اگر آپ پاکستانی عدالتوں سے مایوس ہیں. اسلام کے لیے ریاستی اقدامات ناکافی لگتے ہیں تو کم از کم یہ تو سوچیں کہ کون کیا کر رہا ہے اور کس لیے کر رہا ہے تا کہ اپنے اردگرد رہنے والے لوگوں میں… سوشل میڈیا پر…. ہم اسلام کے لیے کام کرنے والے کے دست و بازو بن سکیں…! نا کہ اتنے بڑے طوفان بدتمیزی میں اٹھتی ہوئی ایک احتجاجی آواز کو بھی چپ کروانے میں لگ جائیں کہ کوریج بڑھنے کا خدشہ ہے…!

    تحریر :سفیر اقبال

    رنگِ سفیر

  • مرد اک جابر یا محافظ     تحریر :شاہ بانو

    مرد اک جابر یا محافظ تحریر :شاہ بانو

    مرد اک جابر یا محافظ
    تحریر شاہ بانو

    اس وقت یوں لگتا ہے دنیا میں عورتوں کو بڑا مقام دیا جا رہا ہے اور ہر طرف بس عورت کی چلتی ہے جہاں بھی عورت پہ ظلم ہو وہاں عورت کے حامی لوگ پہنچ جاتے ہیں اور پوری دنیا اس عورت کے ساتھ کھڑی ہو جاتی ہے ۔اب مرد کے لیے عورت پہ ظلم کرنا آسان نہیں رہا ۔

    اس سلسلے میں باقاعدہ women Day بھی منائا جاتا ہے اس دن عورت "کے لیے” بہت کچھ بولا جاتا یے اور اس کے لیے مزید کچھ کرنے کا عزم بھی کیا جاتا ہے مرد کی پابندیوں میں جکڑی عورت کو اس پنجرے سے نکلنے کی راہیں بتائی جاتی ہیں سلوگن دئیے جاتے ہیں۔ مثلا "اپنی روٹی خود پکا لو” "نوکری کرنا میرا حق ہے ” وغیرہ۔

    اب میں سوچ رہی تھی چلو عورت کو بھی سکون کا سانس نصیب ہوگا جب وہ مرد کے بچھائے گئے جال سے نکلے گی نورالعین کی شادی کو ابھی چار پانچ سال ہوئے تھے وہ شوہر کے ساتھ ہنسی خوشی رہ رہی تھی ۔لیکن اس کی دوست اسی نعرے کی دلدادہ ہو کر اسے بھی سمجھانے لگی اور سہانے خواب دکھانے لگی ۔

    پھر ایک دن اس نے سوچا میں بھی اس شکنجے سے نکلوں گی اور اپنے شوہر کا کام ،اس کے کپڑے دھونا ،اس کی روٹی بنانا ،اس کے چھوٹے موٹے سب کاموں سے جان چھڑوا کر آزاد زندگی بسر کروں گی اپنی خوشی سے زندگی بسر کرنے کے لیے جاب کروں گی ۔

    بالآخر اس نے ایک دن اپنا حق حاصل کر لیا اور شوہر کے کاموں سے ہاتھ اٹھا کر برقعے کو پٹخ مارا ،ماڈرن طرز کا لباس زیب تن کیا دوپٹے کو بس کندھے پہ لٹکائے خود بازار کے لیے نکلی ۔

    جونہی باہر نکلی چند لڑکے دیکھ کر مسکرانے لگے اور کوشش کرنے لگے کہ قریب سے چھو کر گزرنے کی ۔لیکن وہ پہلی بار نکلی تھی سو پریشان ہو گئی ادھر ادھر دیکھا کہ کسی کی اوٹ میں ہو جائے لیکن کس کی اوٹ میں ہوتی وہاں تو سب غیر تھے اور ہر کوئی اپنی مستی میں تھا ۔ اسے یاد آیا جب وہ شوہر کے ساتھ ہوتی تھی تو کوئی نہیں دیکھتا تھا اگر کوئی دیکھتا تھا تو وہ شوہر کی اوٹ میں ہو جاتی اور آوارہ لڑکے بھی شوہر کو دیکھ کر نو دو گیارہ ہو جاتے تھے ۔

    یہی نہیں جہاں رش ہوتا لوگ دیکھتے برقعہ والی عورت یے تو ہٹ کر راستہ دیتے بلکہ کہیں مثلا پٹرول ڈلوانے جاتے یا شاپ پہ تو لوگ اسے دیکھ کر ان کا کام پہلے کر دیتے اور آنکھوں میں عزت ہوتی تھی لیکن اب کیا کر سکتی تھی سووہ تیز تیز چلتی رکشے والے کو روک کر اس میں بیٹھ گئی ۔

    رکشے والا بھی جان بوجھ کر ذومعنی باتیں کرنے لگا وہ پریشان سی ہو گئی اب اسے یاد آیا جب وہ شوہر کے ساتھ ہوتی تھی تو
    یہ رکشے والے تو بات بھی نہیں کرتے تھے لیکن کیا کرتی ۔رکشے والا خوامخواہ گھماتا رہا اور وہ بڑی مشکل سے جان چھڑوا کر بازار
    گئی وہاں مزے سے شاپنگ کرنے کے تصور سے آئی تھی لیکن لیکن وہاں بھی اسی طرح کے مسائل کا سامنا تھا ۔

    بالآخر وہ گھر آ گئی ۔ اس نے دوست کو کال کر کے سب بتایا لیکن اس نے ہمت بندھائی کہ حقوق حاصل کرنے ہیں تو سب برداشت کرو۔
    سو شوہر کو میسج کیا کہ اب میں کوئی کام نہیں کروں گی کھانے کا بندوبست کرتے آنا رات کو وہ پریشان تھا لیکن مرتا کیا نہ کرتا آتے ہوئے کھانا کھا کر آیا تھا۔

    سارے کاموں سے جواب دے کر زارا دہی بھلے کھا کر سو گئی ۔اگلی صبح شوہر اٹھا چینج کیے اور بغیر ناشتے کے گھر سے نکل گیا۔
    وہ خوش تھی کہ اب تو سکون ہے کچن میں مسکراتے ہوئے ناشتہ کرنے گئی تو مسکراہٹ ایک دم غائب ہو گئی کیونکہ کچن میں کھانے کو کچھ نہ تھا حتی کہ راشن بھی ایک دم غائب ہو گیا ۔

    اس نے شوہر کو کال کی "راشن کہاں ہے ” جواب ملا جب تم میرے کر کام سے ہاتھ اٹھا چکی تو میری ذمہ داری بھی ختم مغرب میں مرد عورت کے نان نفقہ کا پابند نہیں بلکہ عورت اپنے روٹی پانی کا خود انتظام کرتی ہے اب وہ پریشانی میں نوکری ڈھونڈنے نکلی۔ لیکن ایک دم کہاں سے ملتی ۔دوست کو کال کی اس نے کہا میں بات کرتی ہوں حقوق نسواں والوں سے بس تم آ جاؤ میرے پاس ہی ۔وہ بوریا بستر سمیٹ کر اسی کے پاس چلی گئی ۔

    عورت کے حقوق کے علمبرداروں فوری طور پہ ایک جگہ سٹور میں اسے سیلز گرل کی جاب دلوادی ۔(ہاں بھئی کیوں پکائے وہ روٹی )۔
    وہاں پہ ہر آنے والے کو مسکرا کر دیکھنے اور کسٹمر کی ہر ڈیمانڈ کو پورا کرنے کی ہدایت ملی اس کی عجیب لگا لیکن پھر اسے لگا وہ آزاد ہونے جا رہی ہے کچھ تو مشکلات ہوں گی لیکن آزادی تو مل جائے گی ۔

    اب ہر آنے والے کسٹمر کو مسکرا کر دیکھتی چاہے کسی دن دل اداس اور پریشان ہی ہوتا ، مسکرانا فرض تھا اس نے محسوس کیا اکثر کسٹمر سودا پکڑتے ہوئے اس کے ہاتھ کو بھی جان بوجھ کر ٹچ کرتے ہیں۔اس کی اس نے شکایت کی تو ہدایت ملی کسٹمر کو ناراض نہیں کرنا یہ سب برداشت کریں۔

    اس سب کے ساتھ جب وہ رات کو تھکی ہاری گھر آتی تو اسے رات کو کھانا بنانا پڑتا ،صبح بھی اپنے لیے ناشتہ بنا کر جاب پہ جانا پڑتا تو اسے یاد آتا جب وہ شوہر کے شکنجے میں تھی تو ناشتہ بنا کر جب شوہر چلا جاتا تو وہ لیٹ جاتی تھی ۔

    گھر ہفتے بعد بیٹھنا نصیب ہوا تو خیال آیا کپڑے بھی دھونے ہیں چاہے اپنے ہی سہی ۔کپڑے دھوئے۔گھر کا کھانا کھائے کتنے دن گزر گئے وہ بھی بنایا۔ہفتے بھر کے لیے دیگر کام بھی نمٹائے۔اپنے کمرے کی صفائی بھی کی اسے یاد آیا کہ شوہر کے شکنجے میں تھی تو صفائی اور کپڑے تو کام والی ماسی سے کرواتی تھی ۔

    لیکن آج وہ تھک کر چکنا چور ہو کر لیٹ گئی اور ایسی نیند آئی اگلے دن لیٹ آنکھ کھلی اسے بخار تھا لیکن چھٹی نہیں کر سکتی تھی ، وہ بغیر ناشتہ کیے سٹور پہ پہنچی لیکن وہاں پہ بھی اسے سخت سننی پڑی لیکن اسی حالت میں مسکرا مسکرا کر کسٹمرز کو ویلکم کیا اور سب برداشت بھی کیا۔

    اسے یاد آیا جب وہ شوہر کے شکنجے میں بخار میں سارا دن بھی لیٹ کر گزار دیتی اور رات کو شوہر کو پتہ چلتا بخار کی وجہ سے اتھ نہیں پائی تو وہ الٹا پریشان ہو جاتا بغیر کھانا کھائے اسے ڈاکٹر کے پاس لے جاتا ،واپسی میں جوس، فروٹ اور کھانا بازار سے پیک کروا کر لے آتا۔گھر آتے ہی کھانا خود ڈال کر دیتا، میڈیسن کھلا کر سونے کا کہتا ۔

    صبح ناشتہ بھی بازار سے آتا اور جاب پہ جاتے ہوئے ہدایت ملتی کہ کام نہیں کرنا ۔آتے ہوئے کھانا لے آؤں گا ۔ خیر حقوق حاصل کرنے ہیں تو قربانی تو دینی ہی پڑے گی کچھ دن بعد اس کا پھر جاب پہ جانے کو دل نہ کیا اس نے چھٹی کر لی ۔لیکن اگلے دن جاب پہ گئی تو پتہ چلا کہ بلاوجہ چھٹی کرنے پہ اس کی آدھی تنخواہ کاٹ لی جائے گی ۔اس کی تو جان پہ بن گئی کیونکہ وہ تو قرض اٹھا کر مہینہ گزار رہی تھی
    اب کیا کرے گی ؟

    اسے مشورہ ملا پارٹ ٹائم جاب کر لو اچانک اس کا دماغ جیسے روشن ہو گیا اس کے ذہن میں آیا جب وہ مرد کے شکنجے میں تھی تو صرف شوہر کو مسکرا کر دیکھنے اور اس کی ہر ڈیمانڈ پوری کرنے کی پابند تھی ۔

    وہ صرف اسی کی روٹی بناتی تھی اور اسی کی خوشی درکار تھی اب کتنے مردوں کی خوشی درکار ہے دو ٹکوں کے لیے جو اس کا شوہر اسے گھر پہ لاکر دیتا تھا جن کے بدلے وہ دل کی خوشی سے سارا کام کرتی تھی اسے کہا گیا تمہارا مرد تمہاری مرضی سے تمہیں چھو سکتا ہے ،لیکن کسٹمر کے چھونے کو مائنڈ نہیں کرنا ۔

    شوہر کو جی چاہے تو مسکرا کر دیکھو جبکہ کسٹمر کو لازمی مسکرا کر دیکھوبرقعے میں تو کسی مرد کو نظر نہ پڑتی تھی لیکن اب سارا دن میک اپ کیے کھلے منہ پہ مردوں کی چبھتی ہوئی نظریں برداشت کرنی پڑتی تھیں ۔

    راستے میں آنے والے مردوں کے جملے ،چھونے کی کوشش، مسکراتے لبوں کے خاموش پیغام سب برداشت کرو بس شوہر کے شکنجے سے نکلویعنی اسے ایک محافظ چھت سے نکل کر ایک ایسے میدان میں پھینک دیا گیا تھا جہاں وہ ہر طرف مردوں کی ہوس بھری نظروں کی تسکین تھی۔

    یعنی شوہر کی تسکین بننا غلامی ہے اور کئی مردوں کی بننا آزادی؟یہ کیسی آزادی ہے یہ تو مردوں کی آزادی ہے اسے مردوں کے آگے چارہ بنا کر پھینکا گیا تو دوسری طرف اسے کولہو کا بیل بنا دیا گیا تھا شوہر کو جو ادائیں اور ناز دکھاتی تھی وہ کون دیکھتا؟اب تو بس رپورٹ کی سی زندگی تھی ۔

    اسے سمجھ آ گئی تھی یہ سب بہت بڑا دھوکہ ہے اس اسے حقوق کے نام پہ اس کے حقوق چھینے جاریے تھے اس کی چھت چھینی جارہی تھی۔اس کے سکون کے لمحات چھینے جاری تھے اسے پرانی زندگی یاد آئی تو کے بھائی ،اس کا باپ سب ہی لئے اپنے محافظ نظر آئے۔۔اسے کہیں کوئی رشتہ نہ لگا کہ اس کے لیے عذاب ہے جو وہ پابندیاں لگاتے تھے وہ دراصل اس کی حفاظت کے لئے تھیں۔

    اس کی آنکھیں کھل چکی تھیں وہ لوٹ آئی تھی اپنے گھر کے دروازے پہ پہنچی تو شوہر کو کھڑے پایا جو فون پہ ہنستے ہوئے بات کر رہا تھا اس پہ نظر پڑی تو سرسری دیکھ کر پھر بات کرنے لگا، وہ شرمندہ سی کھڑی تھی اس نے غور کیا تو پتہ چلا کوئی لڑکی یے ۔اسے جھٹکا سا لگا اس نے بے اختیار بڑھ کر سیل چھین لیا شوہر نے حیرت سے دیکھا اور پوچھا کیا مسئلہ ہے ؟

    کہنے لگی لڑکی سے بات کیوں کر رہے ہو ؟ شوہر نے مسکرا کر کہا کیا تمہیں عورت کے حقوق کا نہیں پتہ وہ جس مرد سے چاہے دل لگی کرے تو مرد بھی جو چاہے مرضی ہو وہ میں بھی ہو سکتا ہوں اور مغرب میں گرل فرینڈ کوئی ایشو نہیں تمہیں کیا مسئلہ ہے؟

    وہ ایک دم پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی ۔اور معافی مانگنے لگی اس کا شوہر سمجھ گیا کہ اس کی عقل ٹھکانے آ گئی ہے وہ اسے گھر کے اندر لے گیا وہاں اس نے اسے ساری داستان سنائی اور بتایا کہ اسے اصل کہانی سمجھ آ گئی ہے کہ یہ سب عورت کو عزت کے نام پہ ذلت اور حقوق کے نام پہ اسے سب کا چارہ بنانے کی سازش ہے ۔جبکہ اس کا شوہر بھائی ،باپ تو اس کے محافظ ہیں اور اسلام اسے چھپا کر اسے گندی اور غلیظ نظروں سے محفوظ کرتا ہے نہ کہ قید۔

    اس نے پھر سے برقعہ پہنا ،شوہر کا ہاتھ تھاما اور باہر نکلی ۔اس نے ادھر ادھر دیکھا ،کچھ لڑکے سامنے سے آ رہے تھے لیکن وہ اس کے پاس سے گزرے تو نہ کسی نے آنکھ اٹھا کر دیکھا نہ کسی نے ٹچ کی کوشش کی ،نہ جملہ کسا وہ مسکرادی اور اپنے ر ب کا شکر ادا کرنے لگی کہ وہ اپنے سائبان میں لوٹ آئی تھی جہاں وہ بےفکری کی نیند سوتی تھی ۔

  • 10 شادیاں کرنے والی خاتون گیارہویں دولہے کی تلاش میں

    10 شادیاں کرنے والی خاتون گیارہویں دولہے کی تلاش میں

    56 سالہ امریکی خاتون نے بہترین اور پرفیکٹ لائف پارٹنر کی تلاش میں 10 شادیاں کیں مگر زندگی کا ہم خیال اور لائف پارٹنر اب تک نہیں ملا جس پر خاتون گیارہویں دولہے کی تلاش میں ہیں اوراس کے لئے اپنے دسویں شوہر سے طلاق لینے کا سوچ رہی ہیں-

    باغی ٹی وی :بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق 56 سالہ کیسسی نامی خاتون نے پرفیکٹ لائف پارٹنر پانے کی کوشش میں 10 شادیاں کی ہیں تاہم اب تک انہیں ایسا شریک حیات نہیں مل سکا ہے جس کے بعد وہ گیارہویں شادی کی تیاری کر رہی ہیں کیونکہ دسویں شادی جس شخص سے کی وہ ان بھی خاتون کے خیالات اور مزاج سے مختلف ہے اب اپنے دسویں شوہر سے بھی طلاق لینے کے بارے میں سوچ رہی ہیں-

    شو کے میزبان نے سوال کرتے ہوئے کہا کہ اپنا پرفیکٹ پارٹنر تلاش کرنے کے لیے کتنی شادیاں کریں گی؟ اس کے جواب میں کیسسی کا کہنا تھا کہ انہیں نہیں معلوم کہ یہ تلاش کہاں جا کر ختم ہوگئی لیکن وہ تب تک شادیاں کرتی رہیں گی جب تک انہیں ان کے معیار کا پرفیکٹ لائف پارٹنر نہیں مل جاتا۔

    کیسسی نے انکشاف کیا کہ دوسری شادی جو صرف 7 سال چل سکی تھی وہ اس لیے ختم کی کیوں کہ شوہر نے ’ آئی لو یو‘ کہنا چھوڑ دیا تھا جب کہ اُن سے میرا ایک بیٹا بھی ہے۔ اسی طرح پہلی شادی بھی باہمی رضامندی سے 8 سال بعد ختم ہوگئی تھی۔خاتون کا مزید کہناتھا کہ انھوں نے ہر طرح کے مرد سے شادی کی۔

  • بہنوں بیٹیوں کا کھانے والے کبھی فلاح نا پائینگے !!! ازقلم غنی محمود قصوری

    بہنوں بیٹیوں کا کھانے والے کبھی فلاح نا پائینگے !!! ازقلم غنی محمود قصوری

    زمانہ جہالت میں لوگ اپنی بیٹیوں کو پیدا ہوتے ہی قتل کر دیتے تھے کیونکہ عورتوں کے بھی حقوق ہیں سو ان کے حقوق کو کھانے کی خاطر ان کو قتل کرنا معمول تھا پھر میرے اور آپ کے نبی رحمت صلی اللہ علیہ وسلم آئے اور اس فعل بد سے لوگوں کو روکا اور حقوق خواتین وضع کئے
    اسلام میں جہاں مردوں کے حقوق ہیں وہیں عورتوں کے بھی حقوق ہیں اور قرآن و حدیث نے ان حقوق کو کھول کھول کر بیان کیا ہے تاکہ ہر حقدار کو اس کا حق ملے مگر افسوس کہ آج ہمارے معاشرے میں زیادہ تر بہنوں ،بیٹیوں کا وراثتی شرعی حق کھانا ایک فیشن بن چکا ہے اور اس حق ماری کو بلکل بھی حرام نہیں سمجھا جاتا
    اگر کوئی عورت اپنا حق مانگے تو اسے سو طرح کے بہانے سنا کر طعنہ زنی کی جاتی ہے کبھی اس کی پرورش کی تو کبھی اسے تعلیم دلوانے کی کبھی اس کو اچھا کھلانے کی تو کبھی اس کی شادی پر آنے والے اخراجات کی غرض زیادہ تر عورتوں کو انکے اس جائز شرعی وراثتی حق سے محروم ہی رکھا جاتا ہے اگر کوئی بیچاری اپنا حق بھائی،باپ سے مانگ بیٹھے تو بمشکل ہی ادا کیا جاتا ہے بعض تو ایسے واقعات بھی رونما ہو چکے کہ بہنوں بیٹیوں کو جائیداد میں ان کا حق نا دینے کی خاطر پوری جائیداد بیٹوں کے نام کر دی جاتی ہے اور یوں چاہتے ہوئے بھی وہ بیچاری اپنا حق نہیں لے سکتیں
    واضع رہے جس طرح ایک لڑکے کی پرورش،تعلیم اور شادی والدین پر فرض ہے بلکل اسی طرح ایک لڑکی کی پرورش،تعلیم اور شادی بھی والدین پر بحیثیت واجب ہے اور یہ ان کا حق ہے
    کسی کا حق مارنا چوروں ڈاکوؤں کا کام ہے اور اس حق مارنے کے متعلق اللہ رب العزت فرماتے ہیں
    اے ایمان والوں تم ایک دوسرے کا مال آپس میں ناحق طریقے سے نا کھاؤ ،سوائے اس کے کہ تمہاری باہمی رضا مندی سے کوئی تجارت ہو، اور تم اپنی جانوں کو مت ہلاک کرو ،بیشک اللہ تم پر مہربان ہے ۔۔ النساء 29
    اس سورہ میں اللہ تعالی نے کسی کا بھی حق مارنے سے منع فرمایا اور کہا کہ ایسا کرنے والے اپنی جانوں پر ظلم کرینگے اور ایسے لوگوں کا ٹھکانہ جہنم ہوگا
    ایک اور جگہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں
    اے داؤد ہم نے تجھے زمین میں خلیفہ بنایا ہے لہذہ لوگوں کے درمیان حق کے ساتھ فیصلے کرو اور نفس کی خواہش کی پیروی نا کرو وہ تجھے اللہ کی راہ سے بھٹکا دے گی ،جو لوگ اللہ کی راہ سے بھٹک گئے ان کے لئے سخت عذاب ہے کیونکہ وہ آخرت کو بھول گئے ۔۔سورہ ص 26
    اس آیت مبارکہ میں اللہ تعالی اپنے نبی کو بڑے سخت الفاظ میں فرما رہے ہیں کہ تم زمین میں خلیفہ مقرر کئے گئے ہو سو اللہ کی راہ سے بھٹک کر اپنے نفس کی پیروی کے پیچھے لگ کر حق کے خلاف فیصلے نا کر بیٹھنا ورنہ ٹھکانہ جہنم ہو گا حالانکہ نبی جنت کے وارث اور معصوم الخطاء ہوتے ہیں مگر اللہ کا مقصد نبی کی مثال دے کر ہمیں سمجھانا ہے
    والدین اولاد کے خلیفہ ہیں انہیں چاہیے کہ وہ اپنی اولاد کے مابین حق کیساتھ وراثت کی تقسیم کریں جو اسلام نے بتا دی بصورت دیگر وہ جہنم کے حقدار ہونگے لہذہ وراثت تقسیم کرتے وقت عورتوں،بہنوں اور بیٹیوں کو بھی ان کا اسلام کی رو سے مقرر کردہ حق لازمی دینا چاہیے ہاں اگر کوئی بہن بیٹی اپنا حق نہیں لیتی تو اس کی مرضی اور آج ہے بھی ایسا زیادہ تر عورتیں اپنے بھائیوں بھتیجوں کو اپنا حق فی سبیل اللہ دے دیتی ہیں جو کہ ان کی اعلی ظرفی کی بہت بڑی پہچان ہے
    حقوق خواتین پر میرے شفیق نبی علیہ السلام نے بہت زور دیا
    اس پر ایک صحابی رسول فرماتے ہیں
    کہ میں نے پوچھا ،یارسول اللہ میں کس کے ساتھ نیک سلوک اور صلح رحمی کروں؟ آپ نے فرمایا اپنی ماں کے ساتھ،میں پھر پوچھا کس کے ساتھ؟ آپ نے فرمایا اپنی ماں کے ساتھ میں نے پھر پوچھا پھر کس کے ساتھ؟ آپ نے پھر فرمایا اپنی ماں کیساتھ میں نے پھر پوچھا پھر کس کے ساتھ؟ آپ نے فرمایا اپنے باپ کیساتھ میں پھر پوچھا کس کے ساتھ تو آپ نے فرمایا رشتہ داروں کے ساتھ پھر سب سے زیادہ قریبی رشتہ دار پھر اس کے بعد درجہ بدرجہ۔۔۔ ترمذی 1645
    اس حدیث میں صحابی رسول کے صلح رحمی کے متعلق پوچھنے پر تین بار ماں اور پھر اس کے بعد باپ اور پھر اس کے بعد قریبی رشتہ داروں اور پھر درجہ بدرجہ ان کے رشتہ داروں کے ساتھ صلح رحمی کا حکم دیا اس سے معلوم ہوا ہماری صلح رحمی، حق گوئی اور انصاف کے سب سے زیادہ حقدار ہمارے ماں باپ اور رشتہ دار ہیں تو جب مسئلہ وراثت میں تقسیم کا ہوگا تو پھر سب سے پہلے صلح رحمی اور انصاف کے حقدار ماں باپ کے بعد بہنیں اور بیٹیاں کیوں نا ہونگیں؟
    جہاں شرعیت نے بہنوں کا حق مارنا ممنوع قرار دیا ہے وہاں پاکستانی قانون نے بھی اس کی ممانعت کی ہے سپریم کورٹ آف پاکستان نے دو سال قبل والدہ کی طرف سے صرف بیٹوں کو ہی وراثت دینے پر اسے کالعدم قرار دے کر بیٹیوں کو بھی اس وراثت میں حصہ دینے کا حکم دیا اور کہا کے بیٹیوں کو ان کے شرعی وراثتی حق سے محروم نہیں رکھا جا سکتا ، بحوالہ 2080 _ scmr 2018
    بہنوں بیٹیوں کا حق مارنے والے اسلام کے بھی مجرم ہیں اور قانون پاکستان کے بھی ایسے بندے کی معاشرے میں کوئی عزت نہیں ہوتی اور وہ دنیا میں تو رسواء ہوتا ہی ہے روز قیامت بھی رسوا ہو گا کیونکہ اسلام میں کسی غیر کا حق مارنے کی اجازت نہیں تو پھر اپنی سگی بہنوں، بیٹیوں کا حق مارنے والوں کو کسطرح اجازت ہو گی؟
    لہذہ ماں باپ تقسیم ترکے کے وقت بیٹیوں کا حق ادا کرنا ہرگز نا بولیں اور بیٹوں کیساتھ بیٹیوں کا جائز حق بھی انہیں ادا کریں تاکہ ان کے جگر کا ٹکڑا جو اب کسی اور کے گھر کی زینت ہے وہ بھی اپنے شرعی حق کو لے کر عزت و سکون سے گزر بسر کرسکے
    یقین کریں آج جہیز جیسی لعنت کو ختم کرکے اس جائز شرعی حق کو ادا کرنے کی ضرورت ہے تبھی ہمارا معاشرہ ترقی کر سکے گا ورنہ بیٹیوں ،بہنوں کے حق مارنے سے ہم عذاب الٰہی کے حقدار تو ہیں اللہ کی رحمت کے ہرگز نہیں کیونکہ چور، ڈاکو حق مارنے والے اور غاصب کبھی فلاح نہیں پاتے
    اللہ تعالی ہمیں سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے آمین

  • بیمار بیٹے کو ملنے کیلئے بہادر ماں کا مسلسل پانچ دن موٹر سائیکل پر سفر

    بیمار بیٹے کو ملنے کیلئے بہادر ماں کا مسلسل پانچ دن موٹر سائیکل پر سفر

    بھارتی عورت سونیا داس اور اس کی دوست نے سکوٹر پر پانچ دن سفر کرکے 1،800 کلو میٹر کا فاصلہ طے کیا ہے-

    باغی ٹی وی : بھارتی 26 سالہ خاتون ، کورونا وائرس وبائی مرض کے دوران بے روزگار اور بے گھر ہوگئی ، اپنے بیٹے سے ملنے کے لئے جس کی طبیعت ٹھیک نہیں تھی ایک اسکوٹر پر مہاراشٹر سے جھارکھنڈ روانہ ہوئی-

    این ڈی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ٹائمز آف انڈیا نے بتایا کہ سونیا داس اور اس کی دوست صبیہ بانو نے سکوٹر پر 1،800 کلومیٹر کا فاصلہ طے کرنے کے لئے پانچ دن سڑک پر گزارے۔

    رپورٹ کے مطابق سونیا داس کو نوکری سے نکال دیا گیا تھا اور وہ کورونا وائرس لاک ڈاؤن کے دوران اپنے کنبے اور اپنے پانچ سالہ بیٹے کے ساتھ پریشان کُن حالات کا سمان کر رہی تھی۔ کرایہ کی ادائیگی میں ناکامی کی وجہ سے جب اسے ممبئی میں رہائش گاہ خالی کرنے پر مجبور کیا گیا تو ، وہ پونے میں اپنی دوست صبیہ بانو کے ساتھ چلی گئیں۔

    سونیا داس نے ہندوستان ٹائمز کو بتایا ، "میرے پاس کھانے کے لئے پیسے نہیں تھے کیونکہ نوکری سے فارغ کر دیا گیا تھا اور گھر کا کریہ ادا نہ کرنے کی وجہ سے گھر خالی کروالیا گیا تھا تو میں پونے میں اپنی دوست صبیہ کے پاس شفٹ ہوگئی تھی-

    سونیا داس نے بتایا کہ جب انہیں یہ خبر ملی کہ ان کا بیٹا بیمار ہوگیا ہے تو انہوں نے جھارکھنڈ حکومت سے ٹویٹر پر مدد کی کوشش کی لیکن انہیں کوئی جواب نہیں ملا۔ پونے اور جمشید پور کے مابین کوئی ٹرینیں نہیں ہیں ، اور وہ فلائٹ ٹکٹ خریدنے کی استطاعت نہیں رکھتی تھیں اسی لئے سونیا داس نے اپنے بیٹے سے ملنے کے لئے اسکوٹر پر سفر کرنے کا فیصلہ کیا-

    سونیا نے بتایا کہ "میں نے جھارکھنڈ کے وزیر اعلی ہیمنت سورین کو ٹویٹ کیا ، مہاراشٹرا اور جھارکھنڈ حکومتوں کی ہیلپ لائنوں پر مدد کی لیکن کوئی کام نہیں کررہا تھا۔ میں نے (اداکار) سونو سود سر کو بھی ٹویٹ کیا لیکن کوئی فائدہ نہیں ہوا۔ آخر میں ، میں نے اپنے طور پر جمشید پور واپس جانے کا فیصلہ کیا –

    دونوں دوستیں پیر کے روز پونے سے روانہ ہوئیں اور پانچ دن سکوٹرپر ممبئی کے راستے جمشید پور کا سفر کیا۔ اور جمعہ کی شام اسٹیل سٹی پہنچ گئیں۔

    جمشید پور پہنچنے کے بعد ، محترمہ داس اپنے خاندان کو کوویڈ 19 کی وجہ سے ایک فاصلے سے دیکھا اس سے پہلے سونیا اور اس کی دوست کو قرنطینہ مرکز منتقل کردیا گیا تھا۔

    ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ پولیس اروند کمار نے ٹائمز آف انڈیا کو بتایا کہ دونوں کا COVID-19 ٹیسٹ منفی آیا ہے اور اب انہیں گھر میں ہی قرنطین کرنے کو کہا گیا ہے۔ لواحقین کو 30 دن تک ڈرائی راشن بھی مہیا کیا گیا ہے۔

    سیاسی رہنماؤں کی جانب سے ہراساں کئے جانے پر بھارتی معروف اداکارہ کی خودکشی کی کوشش

  • قابل اعتراض مواد بنا کر کسی کو بلیک میل کرنا کون سے ایکٹ میں آتاہے اور اس کی سزا کتنی ہو گی ؟

    قابل اعتراض مواد بنا کر کسی کو بلیک میل کرنا کون سے ایکٹ میں آتاہے اور اس کی سزا کتنی ہو گی ؟

    آج کل آئی ٹی کے دور میں کسی کی تصاویر اور ویڈیوز حاصل کر کے اسے اپنے فائدے کے لئے غلط طریقوں سے استعمال کرنا عام ہو چکا ہے لوگ خواتین کی تصاویر کی ایڈیٹنگ کر کے انہیں بلیک میل اور ہراساں کرتے ہیں ان موضوعات پر اسسٹنٹ ڈائریکٹر سائبر کرائم ونگ چوہدری آصف اقبال چوہدری سوشل میڈیا پر اکثر بیشتر اپنی ویڈیو سوشل میڈیا پر شئیر کرتے ہیں جن میں وہ جرائم سے بچنے کی احتیاطی تدابیر کے بارے میں عوام کو خبردار کرتے نظر آتے ہیں

    باغی ٹی وی : سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹ پر اسسٹنٹ ڈائریکٹر سائبر کرائم ونگ چوہدری آصف اقبال چوہدری نے اپنی ٹویٹ میں بتایا کہ کسی کی قابل اعتراض تصاویر،ویڈیوز یا ان کا ایڈٹ کر کے قابل اعتراض بنانا اوران کوکسی تیسرےشخص کوبھیجنا یا سوشل میڈیا پر پبلش کرنا یا ایسے مواد کے زریعے کسی کو بلیک میل کرنا،سائبر کرائم ایکٹ کےسیکشن 21 میں آتا ہے جسکی سزا 5 سال قید اور 50 لاکھ روپے جرمانہ ہے اور یہ ناقابل ضمانت جرم ہے۔


    واضح رہے اس سے قبل بھی آسف اقبال چوہدری اپنی کئی ویڈیوز میں ایسے چالاک اور دھوکے باز لوگوں سے بچنے کی احتیاطی تدابیر کے بارے میں عوام کو خبردار کر چکے ہیں

    جرائم پیشہ افراد کس طرح خواتین کو اپنے جال میں پھنساتے ہیں ایسے لوگوں سے کیسے محفوظ رہا جا سکتا ہے؟

    آن لائن کمپنیاں پر کشش منافع کا لالچ دے کر لوگوں کو کیسے لُوٹتی ہیں؟

    اپنا وائے فائے پاسورڈ محفوظ رکھیں بصورت دیگر خطرناک مسائل کا سامنا ہو سکتا ہے