خاموش ہے تو دین کی پہچان علی ہے
گر بولے تو لگتا ہے قرآن علی ہے
شان علی المرتضی علیہ السلام کی عظمت و شان قطعی الثبوت ہے – حضرت علی ابن ابی طالب (ض) پیغمبر اسلام حضرت محمد صل اللہ علیہ والہ وسلم کے چچا زاد بھائی، داماد اور چوتھے خلیفہ راشد تھے – آپ کعبہ میں پیدا ہوے، اور اپنی بے مثال شجاعت اور علم کے باعث اسلامی تاریخ میں ایک بلند مقام رکھتے ہیں –
* شجرہ نسب ۔
حضرت علی کا تعلق قریش کے معزز قبیلے بنو ہاشم سے تھا، والد ابو طالب ( اصل نام عبد مناف) بنو ہاشم کے سردار اور کعبہ کے متولی تھے – اور والدہ فاطمہ بنت اسد،
* نسب نامہ ۔ علی ابن ابی طالب بن عبدالمطلب بن ہاشم بن عبد مناف بن قصی
* ابتدائی زندگی اور اسلام ۔
روایات کے مطابق آپ 13 رجب کو تقریباً (599ء یا 600ء) مکہ مکرمہ میں میں خانہ کعبہ کے اندر پیدا ہوے،
* تربیت۔
چونکہ آپکے والد مالی مشکلات کا شکار تھے، اس لیے آپکی پرورش خود نبی پاک صل اللہ علیہ والہ وسلم کے گھر ہوئی
* قبول اسلام ۔
آپ نے کم عمری میں ہی اسلام قبول کیا، اور سب پہلے اسلام قبول کرنے والے بچوں میں آپکا شمار ہوتا ہے ۔
فارسی زبان میں ایک شعر ہے ؎
علی اِمامِ مَنَ سْت و مَنَم غُلامِ علی
ہزار جانِ گَرامی فِدائے نامِ علی !
اس کا اُردو میں مطلب ہے:
” علی پاک میرے امام ہیں ، اور میں علی پاک کا غلام ہوں ۔
میری ایک نہیں ، ہزار قیمتی جانیں بھی نامِ علی پر فِدا ۔ "علی پاک کا امام ہونا ، اور میرا غلام ہونا ، کسی شرف سے کم نہیں ؛ یہ میرے لیے بہت بڑے اعزاز کی بات ہے ۔
یہاں اس کے دو مطلب لیے جاسکتے ہیں ۔
پہلا یہ کہ:
مولاعلی کی غلامی اتنی عظیم تھی کہ جب مجھے میسر آئی تو میری جان گرامی ( قیمتی اور بیش بہا ) ہوگئی ۔
اب میرا جی چاہتا ہے کہ ایسی قیمتی ایک جان نہیں ، ہزاروں جانیں بھی ہوں تو اس سرکار کے نام پر قربان کردوں ۔
دوسرا یہ کہ:
علی پاک کےنام پر ایک جان سے نہیں ، ہزار قیمتی جانوں سے قربان ۔۔۔۔ مجھے آپ کی غلامی کی صورت میں رب تعالیٰ نے کتنی بڑی دولت عطا فرمائی !!
علی اِمامِ مَنَ سْت و مَنَم غُلامِ علی
ہزار جانِ گَرامی فِدائے نامِ علی
حضرت علی المرتضی علیہ السلام وہ خوبصورت ہستی ہیں ۔کہہ انکی شان میں جتنا بھی لکھا جائے بہت کم ہے ۔حضرت علی رضی اللہ عنہ وہ انمول ہیرا جسکو شیر خدا کا لقب ملا ۔انکی جرآت بہادری شجاعت دلیری کی داستانیں کسی بھی مسلمان سے چھپی نہیں ہیں ۔رسول اللہ اور انکے گھرانے سے محبت و عشق رکھنے والے اس اہمیت بخوبی آگاہ ہیں ۔
یہ وہ شیر وہ جرآت مند ہستی ہے غدیر میں اللہ کے رسول (ص) نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کا ہاتھ بلند کر کے ارشاد فرمایا ۔
«مَنْ کُنْتُ مَوْلاهُ، فَهذا عَلِىٌّ مَوْلاهُ» ایک صحیح حدیث ہے جو پیارے نبی حضرت محمد ﷺ نے غدیر خم کے مقام پر حضرت علی بن ابی طالب کے بارے میں فرمائی تھی۔ اس کا مطلب ہے کہ "جس کا میں دوست، مددگار اور سردار ہوں، علی بھی اس کے دوست، مددگار اور سردار ہیں۔”
18 ذی الحج جس دن حضور نبی اکرم ﷺ نے حجۃ الوداع سے مدینہ طیّبہ واپسی کے دوران غدیرِ خُم کے مقام پر قیام فرمایا اور صحابہ کرام رضوان اللّٰہ تعالٰی علیہم اجمعین کے ھجوم میں سیّدنا علی المرتضیٰ کرم اللّٰہ تعالٰی وجہہ الکریم کا ھاتھ اُٹھا کر اعلان فرمایا ۔:۔
مَنْ کُنْتُ مَوْلَاهُ فَعَلِيٌّ مَوْلَاهُ.
’’جس کا میں مولا ھوں اُس کا علی مولا ھیں‘‘
یہ اعلانِ ولایتِ علی رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ تھا جس کا اطلاق قیامت تک جملہ اھلِ ایمان پر ھوتا ھے اور جس سے یہ امر قطعی طور پر ثابت ھوتا ھے کہ جو ولایتِ علی رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ کا منکر ھے وہ ولایتِ محمدیﷺ کا منکر ھے
اس مسئلہ پر بعض لوگ بوجہِ جہالت متردّد رھتے ھیں اور بعض لوگ بوجہِ عناد و تعصّب
یہ تردّد اور انکار اُمّت میں تفرقہ و انتشار میں اضافہ کا باعث بن رھا ھے ۔
ایک اور روائیت میں یہاں بیان کرنا چاہوں گی ۔
ایک دفعہ رسول اللہ (ص) مجلس میں بیٹھے تھے ۔اور دوسری طرف غلام علی ایک جنگل میں مصیبت میں پھنس گئے… ایک آدمی انکا سر قلم کرنے لگتا ہے تو انکی زبان بے اختیار اللہ اس کے رسول کی مدد کے لیے التجا ء جاری ہو جاتی… وہ ظالم جیسے ہی تلوار اٹھا کر گردن پر رکھتا ہے… اور تلوار چلا نے سے پہلے ہی کوئی نقاب پوش آتا ہے اور اس ظالم کا سر دھڑ سے الگ کر دیتا ہے… غلام علی یہ ماجرا دیکھ رہے اور حیران ہو رہے ہیں کہہ گھوڑے پر یہ نقاب پوش اس گھنے ویران جنگل میں اچانک کیسے میری مدد کو پہنچ گئے ۔۔۔
خیر وہ آدمی رسول اللہ (ص) کے پاس تشریف لے جاتا ہے اور سارا ماجرا بیان کرتا ہے ۔تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہہ اے اللہ کے بندے وہ شیر خدا حضرت علی المرتضی رضی اللہ تعالیٰ عنہ تھے ۔تو نے خود ہی تو مدد کے لیے اپنے رب کے آگے فریاد کی تھی ۔۔
اور آج بھی ہم اپنی ہر مشکل پریشانی محمد و آل محمد کے وسیلے سے ۔علی اولاد علی کے وسیلے سے اپنے رب سے تمام تر پریشانیوں اور مشکلات کا حل مانگتے ہیں ۔ یہ وہ اللہ کے پیارے ہیں ۔جن کے دور حکومت میں انسانیت، بھائی چارہ، بچوں پر شفقت، بزرگوں کا احترام تھا ۔کسی یتیم کا مال کھایا نہیں جاتا تھا ۔ حضرت علی اور حضرت عمر کے دور خلافت میں بیت المال سے غریبوں کی مدد ہوتی تھی… ایک وقت ایسا بھی آیا… مدد کرنے والے ہزاروں تھے ۔بیت المال کا خزانہ بھرا تھا مگر مدد لینے والا کوئی مستحق نہیں تھا ۔
رب تعالیٰ سے دعا ہے کہہ وہ ہم تمام امت مسلمہ کو اپنے رسول (ص) محمد و آل محمد اور علی المرتضی و الاد علی اور ان کے گھرانوں کے نقش قدم پر چلنے کی توفیق دے ۔اور روز قیامت انکا سایہ شفقت ہمیں نصیب ہو ۔ تاکہ ہم دیا و آخرت میں سرخرو ہو سکیں ۔
