Baaghi TV

یوم عاشورہ ؛ وہ دن جو انقلاب اور ظلم کے خلاف مزاحمت کا استعارہ بن گیا۔تحریر: اعجازالحق عثمانی

دس محرم الحرام، یعنی یوم عاشورہ، اسلامی تاریخ کا وہ دن ہے جو محض ایک تاریخ یا دن نہیں، یہ وہ دن ہے کہ جس کی اسلامی دنیا اور معرکہ حق و صداقت میں نظیر تک نہیں ملتی۔عاشورہ کا لفظ عربی زبان کے لفظ ’عشرہ‘ سے نکلا ہے، یعنی دس۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ اس دن کی اہمیت سانحہ کربلا سے بھی پہلے کی ہے۔ احادیث مبارکہ میں آتا ہے کہ یہ وہ دن ہے جب اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام کی توبہ قبول فرمائی، حضرت نوح علیہ السلام کی کشتی طوفان کے بعد کوہ جودی پر محفوظ اتری، حضرت ابراہیم علیہ السلام کو آتش نمرود سے نجات ملی، اور دریائے نیل سے حضرت موسیٰ علیہ السلام اور بنی اسرائیل کو فرعون کے ظلم سے رہائی نصیب ہوئی جبکہ فرعون اپنے لاؤ لشکر سمیت اسی دریا میں غرق ہو گیا۔ صحیح بخاری کی روایت کے مطابق نبی کریم ﷺ نے خود اس دن کا روزہ رکھا اور صحابہ کرامؓ کو بھی اس کی تلقین فرمائی۔ یہی نہیں، عربوں کے دور جاہلیت میں بھی قریش اس دن کو محترم سمجھتے اور روزہ رکھا کرتے تھے، اور یہود اسے اپنی عید کی طرح مناتے تھے۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ محرم کے روزے رکھ کر یہود کی مشابہت سے بچنے کے لیے نو یا گیارہ محرم کا روزہ بھی ساتھ ملا لیا جائے۔ یوں عاشورہ کا روزہ ایک سال کے گناہوں کا کفارہ بھی قرار پایا، اور احادیث میں اسے ایک عظیم اور بابرکت دن کہا گیا۔

اسی طرح شریعت اسلامیہ نے اس دن کے لیے ایک اور خوب صورت تعلیم بھی دی ہے، یعنی اپنے اہل و عیال کے ساتھ کھانے پینے میں فراخی اور وسعت کرنا۔ روایت میں آتا ہے کہ جو شخص یوم عاشورہ کے دن اپنے گھر والوں پر رزق میں کشادگی کرے، اللہ تعالی پورا سال اس کے رزق میں برکت ڈال دیتا ہے۔ یوں عاشورہ صرف غم اور سوگ کا دن نہیں رہتا، بلکہ اس میں عبادت، شکرگزاری، اور باہمی محبت کا رنگ بھی نمایاں نظر آتا ہے۔ یہی وہ دوہرا پہلو ہے جو اس دن کو منفرد بناتا ہے، ایک طرف کربلا کا غم، دوسری طرف اللہ کی نعمتوں پر سجد شکر۔

مگر تاریخ نے اس دن کو ایک ایسے سانحے سے جوڑ دیا جس نے اس کی معنویت کو ہمیشہ کے لیے بدل کر رکھ دیا۔ یہ سنہ اکسٹھ ہجری کی بات ہے۔ امیر شام حضرت امیر معاویہ کی وفات کے بعد ان کے بیٹے یزید نے اقتدار سنبھالا اور چاہا کہ سلطنت کے ہر گوشے سے اس کی بیعت لی جائے۔ مدینہ میں نواسۂ رسول،حضرت امام حسینؓ موجود تھے، جن کے بارے میں خود رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تھا کہ "حسینؓ مجھ سے ہے اور میں حسینؓ سے ہوں”- یزید کی حکمرانی، اس کے طرز عمل اور اس کی سیرت کو دیکھتے ہوئے امام عالی مقام حضرت امام حسین کے لیے اس کی بیعت کرنا ممکن نہ تھا۔ آپ نے انتہائی وضاحت سے فرمایا کہ مجھ جیسا تجھ جیسے کی بیعت نہیں کر سکتا۔یہ کوئی ذاتی اختلاف نہیں تھا، یہ اصول کی جنگ تھی، خلافت اور ملوکیت کے درمیان فرق کو واضح کرنے کا معاملہ تھا۔

کوفہ کے لوگوں نے حضرت امام حسین کو ہزاروں خطوط لکھے کہ وہ تشریف لائیں اور ان کی قیادت سنبھالیں۔ آپؓ نے اپنے چچا زاد بھائی حضرت مسلم بن عقیل کو حالات جانچنے کے لیے کوفہ بھیجا۔ ابتدا میں حالات سازگار نظر آئے، مگر جیسے ہی یزیدی گورنر ابن زیاد نے کوفہ پر گرفت مضبوط کی، وہی لوگ جو وفا کے دعوے دار تھے اب خوف کے سائے میں بکھر گئے تھے۔اور حضرت مسلم کو شہید کر دیا گیا۔ یہ خبر حضرات امام حسین کو راستے ہی میں مل گئی، مگر آپؓ نے سفر جاری رکھنے کا فیصلہ کیا، کیونکہ اب پیچھے ہٹنا، حق کی راہ سے پیچھے ہٹنے کے مترادف تھا۔ دو محرم کو حضرت امام حسین کا قافلہ کربلا کی سرزمین پر پہنچا اور قیام کےلیے خیمے لگائے گئے۔ یہیں سے بہادری قربانی اور غم کی ایک ایسی داستان شروع ہوئی جو رہتی دنیا تک انسانیت کے سینے پر کندہ رہے گی۔

سات محرم کو دریائے فرات پر یزیدی لشکر نے پہرہ بٹھا دیا اور امام اور انکے ساتھیوں پر پانی بند کر دیا گیا۔ تین دن تک، چھوٹے بچوں سمیت، پورا قافلہ پیاسا رہا۔ چھ ماہ کے حضرت علی اصغر کے لبوں کی پیاس، ننھی سکینہ کی بلکتی آنکھیں، اور بزرگوں کے خشک حلق، یہ سب اس امتحان اور داستان کا حصہ تھے جس میں اللہ تعالی نے صبر و استقامت کی ایسی مثال قائم کروائی جو تاریخ میں کہیں اور نہیں ملتی۔ دس محرم کا سورج طلوع ہوا تو میدان کربلا حق و باطل کے معرکے کا گواہ بنا۔ یزیدی لشکر کی کثیر تعداد کے سامنے امام حسین کے ساتھ 72 کے قریب جانثار تھے۔ بقول شاعر

؎کیا فوج تھی حسینؓ کی اس فوج کے نثار
ایک ایک آبروئے عرب فخرِ روزگار
جرار و دیں پناہ نمودار نامدار
لڑکوں میں سبزہ رنگ کوئی، کوئی گل عذار
فوجیں کوئی سماتی تھیں ان کی نگاہ میں
وہ سب پلے تھے بیشہءِ شیر الہٰ میں
جن میں آپ کے بھائی، بھتیجے، بھانجے اور جواں سال بیٹے حضرت علی اکبر بھی شامل تھے۔ ایک ایک کر کے سب نے جام شہادت نوش کیا۔اور سب سے آخر میں، عصر کی نماز کی حالت میں، سجدے میں امام عالی مقام، جگر گوشہ رسول حضرت امام حسین رضی اللہ کو بھی شہید کر دیا گیا۔اس کے بعد جو ہوا، وہ شاید لفظوں میں بیان کرنا ممکن نہیں۔ اہل بیت کی خواتین اور بچوں کو قیدی بنا کر کوفہ اور پھر دمشق لے جایا گیا۔ یزید شاید اسے اپنی فتح سمجھ رہا تھا، مگر وہ دراصل اس کی شکست کا آغاز کا دن تھا ۔ حضرت زینبؓ، امام حسینؓ کی بہن، نے یزید کے دربار میں جو خطبہ دیا، اس نے ظلم کے ایوانوں کو ہلا کر رکھ دیا۔
؎پہلے ہم مرد، خواتین کو کم جانتے تھے
رفعت قوم نسا، خطبہ زینب سے کھلی
کربلا کا خون رائیگاں نہیں گیا، بلکہ اس نے ایک ایسی روایت قائم کی جو آج چودہ سو سال بعد بھی زندہ ہے۔ شہادت حضرت امام حسین رضی اللہ دراصل یزیدیت کی شکست تھی، اور اسلام ہر کربلا کے بعد نئے سرے سے زندہ ہوتا ہے۔ بقول شاعر
؎قتل حسین اصل میں مرگ یزید ہے
اسلام زندہ ہوتا ہے ہر کربلا کے بعد

کربلا کسی ایک مسلک، کسی ایک فرقے یا کسی ایک خطے کی میراث نہیں۔ یہ ظلم کے خلاف ہر اس انسان کی آواز ہے جو حق کے ساتھ کھڑا ہونا چاہتا ہے۔اور یزید کسی شخص کا نام نہیں، ایک ایسی ذہنیت کا استعارہ ہے جو طاقت کے زور پر سچ کو دبانا چاہتا ہے، اور حسینؓ اس ضمیر کا نام ہے جو موت کو گلے لگا لیتا ہے مگر باطل کے سامنے سر نہیں جھکاتا۔ شاید یہی وجہ ہے کہ غیر مسلم مفکرین بھی کربلا کے فلسفے سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکے، اور دنیا بھر کے ادب میں امام حسین رضی اللہ کی قربانی کو انسانی تاریخ کے عظیم ترین اسباق میں شمار کیا جاتا رہا ہے۔نور احمد میرٹھی صاحب کی مرتب کردہ کتاب ’’بوستانِ عقیدت‘‘ میں ناتھ اعظمؔ جلال آبادی کے اشعار ملاحظہ کیجیے
؎اے کربلا ہے تیری زمین رشکِ کیمیا
تانبے کو خاک سے ہم زر بنائیں گے
اعظمؔ تُو اپنے شوق کو بے فائدہ نہ جان
فردوس میں یہ شعر تیرا گھر بنائیں گے

گرسرن لال ادیبؔ لکھنوی کے لکھے اشعار مندرجہ ذیل ہیں

؎لوحِ جہاں پہ نقش ہے عظمت حسین کی
حق کو شرف ملا ہے بدولت حسین کی
ہوئی ہے تازہ دل میں رسولِ خدا کی یاد
کہتے تھے لوگ دیکھ کے صورت حسین کی
تھا اعتقاد میرے بزرگوں کو بھی ادیبؔ
میراث میں ملی ہے محبت حسینؓ کی
حضرت امام حسین رضی اللہ اور کربلا کی داستان سے پتہ چلتا ہے کہ باطل کی فتح، چاہے وہ بظاہر کتنی ہی شاندار کیوں نہ دکھائی دے، تاریخ کے آئینے میں بالآخر شکست ہی ثابت ہوتی ہے، اور حق کی شکست، چاہے وہ کتنی ہی المناک کیوں نہ ہو، آخرکار فتح میں بدل جاتی ہے۔ یہی کربلا کا سب سے بڑا معجزہ ہے کہ وقت اسے مٹا نہیں سکا، بلکہ ہر گزرتے سال کے ساتھ اس کا پیغام مزید روشن ہوتا چلا گیا۔

More posts