دنیا بھر کی طرح پاکستان میں بھی ہر سال 7 جون کو عالمی یومِ غذائی تحفظ منایا جاتا ہے۔ اس دن کو منانے کا مقصد عوام میں محفوظ خوراک کے حوالے سے شعور بیدار کرنا، بیماریوں سے بچاؤ کے طریقے اجاگر کرنا اور خوراک کے معیار کو بہتر بنانے کی اہمیت کو نمایاں کرنا ہے۔ موجودہ دور میں غذائی تحفظ ایک عالمی چیلنج بن چکا ہے کیونکہ غیر معیاری اور آلودہ خوراک نہ صرف انسانی صحت کے لیے خطرناک ہے بلکہ یہ قومی معیشت اور صحت کے نظام پر بھی گہرے اثرات مرتب کرتی ہے۔
عالمی یومِ غذائی تحفظ منانے کی ابتدا اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی قرارداد کے ذریعے ہوئی۔ دسمبر 2018 میں اقوام متحدہ نے پہلی مرتبہ 7 جون کو عالمی یومِ غذائی تحفظ کے طور پر منانے کا اعلان کیا جبکہ اس دن کو عملی طور پر پہلی بار 2019 میں منایا گیا۔ اس مہم کی قیادت عالمی ادارۂ صحت (WHO) اور اقوام متحدہ کے ادارہ برائے خوراک و زراعت (FAO) مشترکہ طور پر کرتے ہیں۔ اس دن کے قیام کا بنیادی مقصد دنیا بھر میں خوراک سے پیدا ہونے والی بیماریوں، ناقص غذائی نظام اور آلودہ خوراک کے خطرات کے بارے میں عالمی سطح پر شعور اجاگر کرنا تھا۔
تاریخ گواہ ہے کہ صنعتی ترقی، آبادی میں اضافہ اور خوراک کی بڑھتی ہوئی طلب کے ساتھ ملاوٹ اور غیر معیاری خوراک کے مسائل بھی بڑھتے گئے۔ مختلف ممالک میں آلودہ خوراک سے ہونے والی اموات اور وباؤں نے عالمی اداروں کو اس مسئلے پر سنجیدگی سے غور کرنے پر مجبور کیا۔ یہی وجہ ہے کہ عالمی سطح پر غذائی تحفظ کو انسانی صحت، معیشت اور پائیدار ترقی سے جوڑا گیا۔
عالمی ادارۂ صحت (WHO) کے مطابق دنیا میں ہر سال کروڑوں افراد آلودہ خوراک کے باعث مختلف بیماریوں میں مبتلا ہوتے ہیں جبکہ لاکھوں افراد اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔ پاکستان میں بھی صورتحال تشویشناک ہے جہاں ملاوٹ شدہ دودھ، ناقص گھی، غیر معیاری مصالحہ جات، مضر صحت مشروبات اور کیمیکل ملے پھل و سبزیاں عوامی صحت کے لیے خطرہ بن چکے ہیں۔ بازاروں، ہوٹلوں اور کھانے پینے کی اشیاء تیار کرنے والے کئی مراکز پر صفائی کے ناقص انتظامات بیماریوں کے پھیلاؤ کا سبب بنتے ہیں۔
غذائی ماہرین کے مطابق غیر محفوظ خوراک ہیضہ، ٹائیفائیڈ، ہیپاٹائٹس، فوڈ پوائزننگ اور معدے کی متعدد بیماریوں کا باعث بنتی ہے۔ سب سے زیادہ متاثر بچے ہوتے ہیں کیونکہ کم عمر بچوں کا مدافعتی نظام کمزور ہوتا ہے۔ دیہی علاقوں میں آگاہی کی کمی اور شہروں میں فاسٹ فوڈ کے بڑھتے رجحان نے اس مسئلے کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔
پاکستان میں پنجاب فوڈ اتھارٹی، سندھ فوڈ اتھارٹی اور دیگر ادارے خوراک کے معیار کو بہتر بنانے کے لیے کارروائیاں کرتے رہتے ہیں، مگر صرف حکومتی اقدامات کافی نہیں۔ عوام کو بھی اپنی ذمہ داری کا احساس کرنا ہوگا۔ گھروں میں صفائی، تازہ خوراک کا استعمال، صاف پانی، پھلوں اور سبزیوں کی اچھی طرح دھلائی، اور کھانے کو مناسب درجہ حرارت پر محفوظ رکھنا انتہائی ضروری ہے۔
یہ امر بھی قابلِ غور ہے کہ دیہی علاقوں میں کھانے پینے کی اشیاء کی تیاری اور ذخیرہ کرنے کے روایتی طریقے اکثر غیر سائنسی ہوتے ہیں۔ دودھ میں ملاوٹ، مضر صحت رنگوں کا استعمال اور ناقص تیل میں تیار شدہ اشیاء انسانی صحت کو خاموشی سے تباہ کر رہی ہیں۔ اس صورتحال میں میڈیا، تعلیمی اداروں، مذہبی و سماجی تنظیموں اور سول سوسائٹی کا کردار نہایت اہم ہو جاتا ہے تاکہ عوام تک درست معلومات پہنچائی جا سکیں۔بدقسمتی سے وطن عزیز میں اس صورتحال کا جائزہ لیا تو جاتا ہے مگر بنیادی وجوہات کو نہیں دیکھا جاتا کہ یہ کیوں اور کیسے ہورہا ہے سب اچھا ہے سرکاری اعداد وشمار میں وجہ کوئی بھی ہوسکتی ہے آپ سب جانتے ہیں ۔
عالمی یومِ غذائی تحفظ ہمیں یہ پیغام دیتا ہے کہ صحت مند معاشرے کی بنیاد محفوظ خوراک ہے۔ اگر ہم آج اپنی خوراک کے معیار پر توجہ نہیں دیں گے تو آنے والی نسلیں بیماریوں اور کمزور صحت کا شکار رہیں گی۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت سخت قوانین پر عملدرآمد یقینی بنائے، فوڈ انسپیکشن کے نظام کو مزید مؤثر بنایا جائے اور عوام میں شعور بیدار کرنے کے لیے مسلسل آگاہی مہم چلائی جائے۔جو عام آدمی تک پہچنے میں مددگار ثابت ہو ۔
محفوظ خوراک صرف ایک فرد کا نہیں بلکہ پورے معاشرے کا مسئلہ ہے۔ صحت مند پاکستان کے لیے ہمیں ملاوٹ، غیر معیاری خوراک اور صفائی کی ناقص صورتحال کے خلاف مشترکہ جدوجہد کرنا ہوگی تاکہ آنے والی نسلوں کو ایک محفوظ، صحت مند اور روشن مستقبل فراہم کیا جا سکے۔جو ہم سب کی ذمہداری ہے امید کا دامن تھامے رکھیں مگر کب تک
