نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا اس دنیا میں مبعوث ہونا ہمارے اوپر اللہ کا سب سے بڑا احسان ہے جس کا تذکرہ اللہ نے قران مجید میں بھی ان الفاظ کے ساتھ فرمایا ہے لقد من اللہ علی المومنین "لقد من الله على المؤمنين إذ بعث فيهم رسولا من أنفسهم يتلو عليهم آياته ويزكيهم ويعلمهم الكتاب والحكمة” اس بات پر جتنا بھی خوش ہوا جائے اتنا ہی کم ہے لیکن اس خوشی کے منانے میں آپے سے باہر نہ ہوا جائے.
جبکہ ہجری کیلنڈر کے مطابق آج کے دن نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا رخصت ہوجانا مدینہ میں قیامت ڈھا گیا تھا. ایک تابعی بیان کرتے ہیںمیں مدینہ پہنچا تو ہر طرف آہوں اور سسکیوں کا سماں تھا۔ میں نے پوچھا کیا ماجرا ہے؟ لوگ کہنے لگے : ”اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم رخصت ہو گئے ہیں!“
ہمیں بھی اسی بات کا غم کہ اپنے محبوب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا نہ دیدار ہوا نہ آپ کی آواز سن سکے، نہ آپ کے گھٹنوں سے گھٹنے ملا کر دین سیکھ سکے.نہ نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سالاری میں کفر پر چڑھائی کرسکے، نہ کسی سفر میں آپ کے ہمرکاب ہوپائے.
مسجد نبوی کے کچے صحن پر اپنے محبوب پیغمبر کے ہمراہ رب العالمین کے سامنے سربسجود نہ ہوسکے. بدر و احد میں حنین و احزاب میں، مکہ و تبوک میں آپ کے جانثار بن کر آپ کے دائیں بائیں آگے پیچھے نہ لڑ سکے، اپنی جان آپ پر نہ وار سکے. ابوبکر و عمر اور عثمان علی رضی اللہ عنھم اجمعین کے ساتھی نہ بن سکے.
لیکن ان تمام غموں کو جو بات دور کرتی ہے وہ یہ ہے کہ حوض کوثر پر آپ کے ہاتھوں سے جام پیئیں گے. روز محشر آپ کے جھنڈے تلے جنت میں جائیں گے. جنت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ملاقاتیں ہونگی.
جنت میں آپ کے سامنے دوزانو بیٹھ کر آپ سے ہجرت کے واقعات سنیں گے. بدر میں اللہ کی مدد کے احوال سنیں گے، احد میں آپ کی استقامت کی داستان سنیں گے. آپ سے آپ کی دعوتی زندگی کے انداز سنیں گے. آپ کا مسکرانا دیکھیں گے. آپ کی شفقت و محبت سے فیضیاب ہونگے. ان شاءاللہ
لیکن ان سعادتوں کو حاصل کرنے کے لیے اسوہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم اپنانا پڑے گا سجود و قیام کی کثرت سے جنت میں آپ کا ساتھ حاصل کرنا پڑے گا. بلکہ بقول شاعر
گر جنت میں جانے کا ارادہ ہو تمامی کا
گلے میں پہن لو کرتا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی غلامی کا
محمد عبداللہ
Category: مذہب

"بارہ ربیع الاول اور دل گناہگار کی آرزوئیں” محمد عبداللہ

میلاد النبی ﷺ اور ہماری خوشیاں تحریر: ظفر ڈار
جب دنیا کفر و ضلالت کے عمیق اندھیروں میں ڈوبی ہوئی تھی، معاشرتی پستی اپنی انتہا کو پہنچ چکی تھی، خانہ کعبہ میں بتوں کی پوجا کی جاتی تھی، بیٹیوں کو زندہ درگور کر دیا جاتا تھا اور لوگ معمولی باتوں پر ایک دوسرے سے دست و گریباں ہو جاتے تھے۔ الغرض ساری دنیا اخلاقی طور پر بے حالی کا شکار ہو چکی تھی۔ ایسے میں رحمت خداوندی جوش میں آئی اور ربیع الاول کے مہینے میں اس آفتاب کا ظہور ہوا جس نے دنیائے عرب تو کیا عالم آب و گل کو اپنی کرنوں سے منور کر دیا۔ خانہ کعبہ میں پڑے بت منہ کے بل گر پڑے، نوشیروان کے محل کے کنگرے سجدہ ریز ہو گئے اور کلیساؤں میں خوف کی گھنٹیاں بجنے لگیں۔ آمنہ بی بی کے گلشن میں بہار آ گئی اور حضرت محمد ﷺ اس دنیا میں تشریف لائے۔ آپ کا اس دنیا میں آنا اللہ تعالٰی کا انسانیت پر سب سے بڑا احسان ہے۔ آپ کو نہ صرف اس دنیا بلکہ پوری کائنات اور سارے جہانوں کے لئے رحمت بنا کر بھیجا گیا۔
آپ کی ولادت باسعادت کے ساتھ ہی لوگوں نے معجزات دیکھنے شروع کر دیے اور عیسائی اور یہودی عالموں نے پیشن گوئی کر دی کہ نبی آخرالزماں تشریف لا چکے ہیں۔ آپ خود یتیم پیدا ہوئے لیکن دنیا بھر کے یتیموں کے لیے سایہ رحمت بنے۔ 25 برس کی عمر میں حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا سے شادی کی جو عمر میں آپ سے بڑی تھیں۔ 40 برس کی عمر میں جب نبوت کے اعلان کا حکم ہوا تو لوگ آپ کی شرافت اور ایمانداری کے گن گاتے تھے اور صادق و امین کے نام سے جانتے تھے۔
اسلام کی دعوت دینا شروع کی تو عرب قبائل کے سرداروں اور امراء نے شدید مخالفت کی اور صرف چند لوگ ہی دائرہ اسلام میں داخل ہوئے۔ اسی شدید مخالفت کے باعث آپ ﷺ کو تکلیف پہنچانے اور جان سے مارنے کی کئی کوششیں ہوئیں جنہیں قدرت الہیہ نے ناکام کیا اور بالآخر آپ ﷺ کو مکہ سے مدینہ کی طرف ہجرت کرنے کا حکم ہوا۔
مدینہ شریف میں آپ نے پہلے مسجد قبا اور بعد ازاں مسجد نبوی کی بنیاد رکھی۔ آپ ﷺ بہترین اخلاق کے مالک ہیں اور آپ کی حیات ظاہری کا ہر پہلو بے مثال ہے۔ آپ شوہر ہیں تو ایسے کہ بیوی کے ساتھ گھر کے کام کاج میں ہاتھ بھی بٹاتے اور ازواج کے ساتھ حسن سلوک میں لا ثانی۔ آپ باپ ہیں تو اولاد کے ساتھ محبت کو نیا رخ دینے والے، صاحبزادی تشریف لاتیں تو کھڑے ہو کر استقبال کرتے اور اپنی چادر بچھا کے بٹھاتے۔ دوست ہیں تو ایسے کہ سب صحابی آپ کی خاطر اپنے اور اپنے ماں باپ کو فدا کرنے پر تیار رہتے۔ مہمان نواز ایسے کہ گھر میں جو دستیاب ہوتا، مہمان کے آگے رکھ دیتے۔ اللہ کی رضا میں راضی ہیں تو اس طرح کہ ساری کائنات کے مالک ہیں لیکن کچے گھر میں رہتے ہیں، نہ پہننے کا عالیشان لباس اور نہ کھانے کو پر تعیش کھانے۔ جو کی روٹی ، کھجور، شہد اور دودھ پر گزارا کرنے والے۔۔۔
غریبوں، یتیموں اور مساکین کی داد رسی میں کوئی مقابل نہیں۔ الغرض چونکہ آپ انسانیت کے لئے رحمت بن کر تشریف لائے اس لئے انسانی زندگی کے ہر پہلو کو ہمارے لئے مثال بنا دیا کہ ہم اسوہ حسنہ پر عمل کر کے کامیاب ہو جائیں۔
آپ ﷺ کی حیات مبارکہ ہمارے لئے عملی نمونہ ہے۔ راہ حق میں لوگوں سے پتھر کھائے، جسم اطہر لہو لہان ہو گیا، جبرائیل امین تشریف لائے اور عرض کی آپ حکم دیں تو طائف کے پہاڑوں کو آپس میں ٹکرا کر تباہ کر دیں لیکن آپ نے بدعا بھی نہیں دی اور فرمایا میرے رب نے مجھے رحمت بنا کے بھیجا۔
قیامت کے دن شفاعت کے والی ہیں لیکن اتنے عبادت گزار کہ اصحاب بھی وہاں تک نہ پہنچ سکیں، اور خوف خدا کا یہ عالم کہ تیز ہوا چلے تو بھی اللہ کے حضور سجدے میں گر جائیں اور رحم طلب کریں۔
گفتگو ایسی کہ ایک ایک لفظ واضح اور صاف تاکہ ہر کسی کو سمجھ میں آ جائے، عفو و درگزر کا یہ عالم کہ جس نے چچا کا کلیجہ چبا لیا تھا اس کو بھی معاف کر دیا۔
گویا انسانی زندگی کا کوئی پہلو ایسا نہیں جس میں ہمارے لئے راہنمائی نہ فرمائی ہو۔
اللہ رب العزت کے اتنے محبوب کہ اللہ اور اس کے فرشتے بھی درود بھیجتے ہیں اور وہ اپنے بندوں کو حکم دیتا ہے کہ میری نبی پر درود وسلام بھیجو۔ کہیں رب فرماتا ہے کہ میرے محبوب کی اطاعت کرو، میرے حبیب کے سامنے اونچی آواز میں گفتگو بھی نہ کرو کہیں ایسا نہ ہو تمہارے اعمال ضائع ہو جائیں اور تمہیں خبر بھی نہ ہو۔
ہم خوش قسمت ہیں کہ ہم اللہ کے پیارے محبوب ﷺ کے امتی ہیں جن کی شفاعت کے انبیاء بھی سوالی ہیں۔ ہمیں تو چاہئے تھا کہ ہم اپنی زندگیوں کو آپ ﷺ کے اسوہ حسنہ کے تابع کرتے لیکن بدقسمتی سے ہم نے ان تعلیمات کو یکسر بھلا دیا جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ہم سے اقوام عالم کی حاکمیت چھن گئی اور دنیا بھر میں رسوائی ہمارا مقدر بن گئی۔
ربیع الاول کے اس مہینے میں ہمیں حضور اکرم ﷺ کی سیرت طیبہ کو سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی ضرورت ہے۔ اور ان تمام اعمال و افعال سے بچنے کی ضرورت ہے جو اسوہ حسنہ کے منافی ہیں۔ ولادت کا جشن منائیں، خوشیاں منائیں لیکن ایسا کوئی کام نہ کریں جس سے سنت نبوی کا تقدس پامال ہوتا ہو۔
تحریر: ظفر ڈار
ظفریات
@Zafar Dar

تاریخِ عالم کے سب سے عظیم ہیرو محمدﷺ تحریر: نصرت پروین
تاریخِ عالم کی سب سے عظیم شخصیت کہ جن کے متعلق ربِ کائنات خود ثناء خواں ہیں:
وَ مَاۤ اَرۡسَلۡنٰکَ اِلَّا رَحۡمَۃً لِّلۡعٰلَمِیۡنَ
ترجمہ: اور ہم نے آپ کو تمام جہان والوں کے لئے رحمت بنا کر بھیجا ہے۔
وَ رَفَعۡنَا لَکَ ذِکۡرَکَ ؕ
ترجمہ: اورہم نے آپ کا ذکر بلند کر دیا۔
اِنَّاۤ اَعۡطَیۡنٰکَ الۡکَوۡثَرَ ؕ
ترجمہ: یقیناً ہم نے آپ کو کوثر دیا ہے۔
کہیں مزمل تو کہیں مدثر کہہ کر مخاطب کیا:
یٰۤاَیُّہَا الۡمُزَّمِّلُ ۙ
ترجمہ: اے کپڑے میں لپٹنے والے ۔
یٰۤاَیُّہَا الۡمُدَّثِّرُ ۙ
ترجمہ: اے کپڑا اوڑھنے والے ۔
لَقَدۡ کَانَ لَکُمۡ فِیۡ رَسُوۡلِ اللّٰہِ اُسۡوَۃٌ حَسَنَۃٌ لِّمَنۡ کَانَ یَرۡجُوا اللّٰہَ وَ الۡیَوۡمَ الۡاٰخِرَ وَ ذَکَرَ اللّٰہَ کَثِیۡرًا
ترجمہ: یقیناً تمہارے لئے رسول اللہ میں عمدہ نمونہ ہے، ہر اس شخص کے لئے جو اللہ تعالٰی کی اور قیامت کے دن کی توقع رکھتا ہے اور بکثرت اللہ تعالٰی کو یاد کرتا ہے ۔
(سورۃ الأحزاب:33)
اللہ رب العزت نے انسانیت پر سب سے بڑا احسان یہ کیا کہ جس شخصیت کو ہادی و مرشد بنا کر بھیجا وہ پوری کائنات کے سب سے اعلی ترین ہیرو ہیں۔ تاریخ عالم میں اگر کوئی ایسا ہیرو تلاش کیا جائے جس کی پوری سیرت ہر دور کے انسانوں کے لئے جامعیت، کاملیت اور پورے جمال و جلال کے ساتھ موجود ہو تو ہزار ہا برس کی تاریخ میں ایک ہی ہادی و مرشد ایسے ہیں ان کی مثل نہ تو پہلے کبھی وجود میں آئی اور نہ آئیندہ ایسے کاملیت اور جامعیت کے اوصاف کسی انسان میں ہوں گے۔
سرمایہ حیات ہے سیرت رسولﷺ کی
اسرارِ کائنات ہے سیرت رسولﷺکی
بنجر دلوں کو آپ نے سیراب کر دیا
اک چشمہ صفات ہے سیرت رسولﷺ کی
تاریخ کے سب سے بڑے انسان اور سب سے بڑے ہیرو محمدﷺ بحثیت ایک شفیق باپ، مہربان شوہر، عظیم بھائی، بہترین فرمانبردار بیٹے، معزز شہری، قاضی، تاجر، جرنیل، منتظم و مدبر معلم انسانیت، اپنی خانگی، معاشرتی، معاشی اور سیاسی زندگی میں عالمگیریت اور جامعیت کی بہترین مثال ہیں۔ آپﷺ کی ذات ہی میں وہ مکمل رہنمائی موجود ہے جس کا متلاشی ایک انسان اپنے تمام انفرادی اجتماعی معاشرتی مسائل کے حل، تمام تعلقات اور حقوق و فرائض کی ادائیگی کے لئے ہوتا ہے۔ تاریخ کے سب سے عظیم ہیرو محمد ﷺ ہی ایسے کامل ترین مصلح، رہنما اور پیشوا ہیں کہ جس کی مثال تاریخ میں نہیں ملتی۔ کیسے آپ نے کچھ ہی عرصے میں گمراہی اور تاریکی میں ڈوبے جاہل انسانوں کی اصلاح کی۔
وہ بت پرست اور مشرک قوم کیسے خدا پرست اور موحد بن گئی؟
وہ جو ذلت کی پستی میں گرچکے تھے کیسے سب کی نظروں میں معزز ہوگئے؟
وہ جو چوری کو معمولی سمجھتے تھے کیسے خود پاسباں بن گئے؟
وہ جاہل لوگ کیسے مشہور عالم بن گئے؟
وہ ظالم اور سنگدل قوم کیسے عادل اور رحم دل بن گئی؟
یہ محمد رسول اللہ ﷺ کی آمد ہی تھی کہ جس نے یوں انسانیت کی کایا پلٹ کے رکھ دی۔الطاف حسین حالی نے کیا خوب کہا!
اُتر کر حِرا سے سوئے قوم آیا
اور اِک نُسخہ کیمیا ساتھ لایا
مسِ خام کو جس نے کُندن بنایا
کھرَا اور کھوٹا الگ کر دکھایا
عرب، جس پر قَرنوں سے تھا جہل چھایا
پَلٹ دی بس اک آن میں اُس کی کایا
رہا ڈر نہ بیڑے کو موجِ بَلا کا
اِدھر سے اُدھر پِھر گیا رُخ ہَوا کا
یہ آپﷺ کی ذات ہی تھی کہ جس پر اللہ کا دین ترقی کی منازل طے کرتے ہوئے تکمیل کی آخری حد تک پہنچ گیا۔ اب قیامت تک کے لئے نہ کسی اور نبی کی گنجائش رہی نہ کسی اور دین کی۔
اللہ رب العزت فرماتے ہیں:
اَلۡیَوۡمَ اَکۡمَلۡتُ لَکُمۡ دِیۡنَکُمۡ وَ اَتۡمَمۡتُ عَلَیۡکُمۡ نِعۡمَتِیۡ وَ رَضِیۡتُ لَکُمُ الۡاِسۡلَامَ دِیۡنًا ؕ
ترجمہ: آج میں نے تمہارے لئے دین کو کامل کر دیا اور تم پر اپنا انعام بھرپور کر دیا اور تمہارے لئے اسلام کے دین ہونے پر رضامند ہوگیا۔
(سورۃ المائدہ: 3)
اللہ کے رسولﷺ ہمیشہ نرم برتاؤ کو پسند کرتے۔ آپﷺ سخاوت میں سب سے زیادہ سخی، جرات میں سب سے زیادہ قوی، بولنے میں صادق، لوگوں کی امانتوں کے معاملے میں امین اور زندگی کے ہر معاملے میں باریک بین، دور اندیش، نہایت شفیق ایسی حسین و جمیل شخصیت کے مالک تھے کہ:
حسنِ یوسف دیکھ کر کٹ گئی تھی انگلیاں
لاکھوں نے جانیں دی میرے نبیﷺ کے واسطےآپﷺ کی فہم و فراست کا عالم یہ تھا کہ کوئی شخص آپﷺ کو دھوکہ نہ دے سکتا تھا۔ آپ کی ذاتِ اقدس کی ایک انگلی اٹھی تو چاند کے دو ٹکرے کر دئیے۔ سراقہ کو بددعا دی تو اس کا گھوڑا زمین میں دھنس گیا اور پھر جب دعا دی تو وہی گھوڑا زمین سے واپس نکل آیا۔طائف کی بستی میں ظلم و ستم کے پہاڑ توڑے گئے مگر زبانِ مقدس سے بددعا تک نہ نکلی۔ رحمت و شفقت کا عالم یہ تھا کہ زید بن حارثہ آپ ﷺ کے ساتھ رہنے کے لئے اپنے والد کو چھوڑنے پر راضی ہو گئے۔ پانچ سال کے عبد اللہ بن عباس کا دل چاہتا تھا کہ میں دیکھوں رسول اللہﷺ رات کی نماز کیسے پڑھتے ہیں، کیسے وہ پانچ سال کا بچہ آدھی رات کو اٹھ کر آپﷺ کے ساتھ نماز ادا کرنے لگا۔ آپ کی رحمت و شفقت بھرےتعلم کے سائے میں حضرت عبد اللہ بن عباس جیسے مفسرِ قرآن تیار ہوئے۔ جرنیل کی حثیت سے ایسے سپہ سالار تیار کئے کہ دنیا انہیں خالد بن ولید کے نام سے جانتی ہے، سچائی کا ایسا درس دیا کہ صدیق اکبر بنا دیا، ایسا عدل سکھایا کہ فاروقِ اعظم بنا دیا، سخاوت کی ایسی تربیت کی کہ سیدنا عثمان بنا دیا، اور مکتبِ شجاعت میں علی شیرِ خدا بنا دیا۔
آپ ﷺکا چہرہ مبارک لامتناہی تھا۔ اتنا حسین دلکش نورانی چہرہ اور اتنی نرم طبیعت کے مالک کہ ثمامہ جیسے نڈر بہادر جرنیل کو بھی جب آپ نے رہائی دی، جاتے ہوئے اس نے آپﷺ کے چہرہ مبارک کی ایک جھلک دیکھی تو کہا اپنا بنا کر چھوڑ دیا”۔ آپﷺ لوگوں میں سب سے زیادہ خوبرو اور خوش خصال تھے۔ آپﷺ کی چشمِ مبارک بڑی اور بھنویں دراز تھیں۔ پیشانی مبارک کشادہ تھی۔ آپﷺ کے دانت روشن تر، آبدار اور کشادہ تھے۔ آپﷺ کبھی قہقہ لگا کر نہ ہنسے تھے۔ آپ ﷺکا کلام بے حد شیریں ہوتا۔ آپﷺ کے بال مبارک نرم تھے۔ آپ ﷺ جب چلتے تو ایسے جھک کر چلتے جیسے اوپر سے اتر رہے ہوں۔
حضرت کعب بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب رسول اللہ خوش ہوتے تو آپ کا چہرہ چمک جاتا اور رخِ انور ایسے لگتا جیسے کہ وہ چاند کا ٹکرا ہے اور ہم آپ کی خوشی پہچان لیتے تھے۔
(صحیح بخاری: 3556)بقول شاعر
اب میری نگاہوں میں جچتا نہیں کوئی
جیسے میرے سرکار ﷺ ویسا نہیں کوئی
تم سا تو حسین آنکھ نے دیکھا نہیں کوئی
یہ شان لطافت ہے کہ سایہ نہیں کوئی
آج کے انسان کو دیکھیں تو وہ پریشان، بےچین، منتشر، اور مضطرب سی کھوکھلی حالت میں مبتلا ہے۔ اس کی بہت سی وجوہات ہیں۔ لیکن سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ اللہ رب العزت نے محمدﷺ کو آخری رسول، تاریخ کا عظیم ہیرو اور کامل نمونہ بنا کر بھیجا اور انسانوں کو اپنے رسولﷺ کی پیروی کا حکم دیا ہے لیکن غفلت کے مارے انسانوں نے اپنی تاریخ کے سب سے بڑے ہیرو محمد ﷺ کی ویسے پیروی نہ کی جیسے اللہ نے حکم دیا۔ جس کے نتیجے میں شرک، بےحیائی، سنگدلی، خودغرضی، لالچ، خود پسندی، حرص و حوس اور ظلم انسانوں سے چمٹ گئے۔ ان سب امراض کا ایک ہی علاج ہے کہ ہم رسول ﷺ کی شخصیت کو عملی نمونہ بنا کر ایسے اعمال انجام دینے کے لئے کوشش کریں جس کے باعث کل قیامت کے دن آپ ﷺ کی شفاعت نصیب ہو جائے۔
جزاکم اللہ خیرا کثیرا
از قلم نصرت پروین
@Nusrat_writesایک بوند زندگی تحریر : سید وسیم
twitter / @S_paswal
وہ شخص سنسان صحرا میں پیاس کی شدت سے نڈھال بیٹھا کسی معجزے کا انتظار کر رہا تھا ۔ گرمیوں کی تیز دھوپ میں صحرا کے میدان میں پانی کی تلاش ۔ یہ تو ایسا ہی تھا کہ کسی مردے کو جگانا ۔
پانی قدرت کی ایک بہترین نعمت ہے جو فقط انسانوں کے لئے نہیں بلکہ جانوروں کے لئے بھی اتنی ہی اہمیت کی حامل ہے ۔ پانی کے بغیر زندگی کا تصور بھی ممکن نہیں ۔ کائنات کی تکمیل سے لے کر انسان کی تشکیل تک پانی ایک ایسا عنصر ہے جسکی اہمیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا ۔ لیکن جب بھی انسان کسی شے کا بے دریغ استعمال کرتا ہے تو قدرت کو یہ چیز پسند نہیں آتی ۔ اب غلط استعمال کی وجہ سے پانی کی قلت کے خطرات منڈلا رہے ہیں ۔
لفظ پانی دراصل سنسکرت سے ماخوذ ہے۔ انگریزی میں’ واٹر’، فارسی میں’ آب’ اور عربی میں’ ماء’ کہاجاتا ہے۔ ایک تحقیق کےمطابق زمین کا 70.9 حصہ پانی سے گھرا ہوا ہے۔ ارسطونے اس کائنات کو آگ ، مٹی ہوا اور پانی کا مجموعہ قراردیا ہے ۔کائنات کی تشکیل میں پانی کا اہم حصہ ہے ۔
پانی کا مسئلہ نیا نہیں یہ مسئلہ تو شروع سے چلا آ رہا ہے کبھی اسی پانی کے چشمے پھوٹے تو کبھی اس کے کنوؤیں غریبوں میں بانٹ دئیے گئے ۔ اسی طرح یہ مسئلہ پاک و ہند کا بھئ ہے ۔ فقط یہی نہیں یہ مسئلہ تو پوری دنیا کا ہے شاید ۔ کیونکہ دریائے نیل ترکی مصر اور دیگر ممالک میں مسائل کا سبب ہے ۔ یہ بات بھی ممکن ہے کہ تیسری جنگ عظیم کی وجہ پانی ہو۔ اس کے علاوہ زیر زمین پانی میں کمی زندگی کیلئے ایک خطرہ ہے ۔ پانی کی قلت اوراس سے متعلق اگاہی کیلئے ہر سال 22 مارچ کو منایا جاتا ہے اور اس مہم کا آغاز 1993 میں ہوا۔ 22 مارچ یوم آب کہلاتا ہے ۔ اور اس دن پانی کو بچانے اور اس کے تحفظ پہ آگاہی دی جاتی ہے تدریسی اداروں میں سیمینار اور ورک شاپس منعقد کی جاتی ہیں ۔
اسلامی نقطہ نظر سے انسان کی پیدائش کو پانی سے جوڑا گیا ۔ انسان کی تکمیل پانی اور مٹی سے ہوئی ۔ اللہ تعالی نے بیشتر مقامات پہ انسان کی پیدائش کو پانی کے ننھے قطرے سے جوڑا ۔ لیکن یہ پانی وہ نہیں جو ہمارے ادر گرد موجود ہے یہ وہ خاص قطرہ ہے جسے مادہ منویہ کہا جاتا ہے ۔ پھر انسان یہی غور کر لے کہ اس کی پیدائش کس چیز سے ہوئی۔ ایک اُچھلنے والے پانی سے اس کی پیدائش ہوئی جو پیٹھ اور سینے کی ہڈیوں کے درمیان سے نکلتاہے۔ ( الطارق 7,8)
”پھر اس کی نسل ایک حقیر پانی سے چلائی”
(السجدہ آیت نمبر 8)
صرف یہی نہیں قران کریم کی گیا رہ آیات ایسی ہیں جن میں لفظ ماء کو انسان کی پیدائش سے جوڑا گیا ۔ اسکے علاوہ دین میں وضو ایک ایسا عمل ہے جس کے لئے پانی بہت ضروری ہے مگر کیونکہ ہمارا دین ہمیں ہر معاملے میں میانہ روی کا درس دیتے ہوئے اسراف اور بخل سے بچنے کا حکم دیتا ہے اس لئے وضو کرتے ہوئے بھی پانی کو ضائع کرنے سے منع فرماتے ہوئے میانہ روی کا درس دیا ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی جہاں زندگی کے تمام پہلو پہ روشنی ڈالی وہی ہر معاملے میں درمیانی راستہ اختیار کرنے کا درس دیا ۔ اسلامی نقطہ نظر میں پانی کو طاہر یا امطہر کہا گیا اور اسے طہارت اور پاکیزگی سے جوڑا گیا ۔ پانی ایک ایسا عنصر ہے جس سے ہم پاکی حاصل کرتے ہیں ۔ یعنی ایسا پانی جو بے رنگ اور بدبو سے پاک ہو اسے پاک پانی کہا گیا اور اس سے طہارت کو جوڑا گیا ۔
آج ہمارے لئے ایک غوروفکر اور تشویش ناک کام یہ ہے کہ ہم ہر جگہ ہی اسراف کی زندہ مثال بنے بیٹھے ہیں ۔ آج گھر سے لے کر عبادت گاہ تک فیکٹری سے لے کر کارخانے تک ہر جگہ پانی کا ضیاء ہو رہا ہے ۔ پانی کا بے دریغ استعمال ہمیں اور ہماری زندگی کو ایک اور مقام پہ لے جائے گا ۔ یہ ایک ایسی بات ہے جس پہ بہت غوروفکر کی کی ضرورت ہے ۔ پانی کی اہمیت اجاگر کرنے کیلئے بہت سی کتابیں لکھی جا چکی جن میں پانی، ایک خنجر پانی میں، بہاؤ، اور پانی پر نشان وغیرہ شامل ہیں ۔ عالمی سطح پہ ماحولیات سے متعلق بہت کام ہورہا ہے جس میں گرین انیشیٹو اور گرین ڈپلومیسی بھی سر فہرست ہیں ۔ جس میں پانی کی آلودگی سے لے کر پانی کے ضیاء پہ آگاہی فراہم کی جاتی ہے ۔ عالمی سطح پہ ابھی مزید کام ہونے کی ضرورت ہے ابھی اس معاملے میں عالمی اداروں کو ساتھ ملُکر کام کرنے کی ضرورت ہے ۔ تدریس گاہوں میں اس پہ بہت زیادہ کام کرنے کی ضرورت ہے ۔ اداروں کو چاہیے کہ وہ طلبہ میں آگاہی پھیلائیں اس سلسلے میں تقاریب مرتب کی جائیں ۔ اور آگاہی مہم کی سب سے زیادہ ضرورت دیہی علاقوں میں ہے کیونکہ وہاں لوگ تعلیم یافتہ نہ ہونے کی وجہ سے ان چیزوں سے بے خبر ہیں ۔ پانی کا مسئلہ زندگی سے جڑا ہواہے۔ قرآن سے منسلک ہے ۔ حدیثوں میں اس کے متعلق احکامات ہیں ۔ کیوں کہ پانی وہ دھوری ہے جس کے ارد گرد ہماری زندگی کی چکی گھوم رہی ہے۔ تو آئیں ایک بوندہ زندگی کی اگلی نسل کیلئے بھی بچا کر رکھیں اور پانی جیسی نعمت کی قدر کریں ۔
کینسر جسم میں کیسے سرایت کرتا ہے تحریر محمّد اسحاق بیگ
کینسر جسم اور جسم کے خلیوں پر بنیادی ذہنی دباؤ کی صرف ایک جسمانی علامت ہے۔ لیکن ذہنی دباؤ جسم میں کینسر کا سبب کیسے بنتا ہے؟ اور ذہنی دباؤ صرف کچھ لوگوں میں کینسر کا سبب کیوں بنتا ہے ، جبکہ دوسروں میں نہیں؟
لوگوں کی اکثریت ، تناؤ اور انتہائی دباؤ یا تکلیف دہ واقعات یا تنازعات کا مقابلہ نسبتا آسانی کے ساتھ کیا جاتا ہے۔ اگرچہ اس بڑی بیماری کے لوگ تناؤ ، دباؤ والے واقعات ، صدمے اور تنازعات کے تباہ کن اثرات کو محسوس کرتے ہیں ، بشمول غم اور نقصان – دباؤ والے واقعات کو زندگی کے چیلنجوں ، زندگی کے اتار چڑھاؤ کے حصے کے طور پر دیکھا جاتا ہے ، اور وہ زیادہ تر متوقع اور مکمل طور پر غیر متوقع نہیں. یہ لوگ اپنی زندگی کے ساتھ تیزی سے آگے بڑھنے کی کوشش میں لگے رہتے ہیں۔
جو لوگ کینسر کے لیے حساس ہوتے ہیں ، وہ زندگی کے دباؤ اور صدمے کے لیے انتہائی کمزور ہوتے ہیں ، اور جب آپ کی زندگی اس راستے پر ڈال دیتی ہے تو اس کا مقابلہ کرنے سے قاصر محسوس کرتی ہے۔ یہ لوگ پرفیکشنسٹ ہوتے ہیں اور تنازعات ، دباؤ ، صدمے اور نقصان کے خوف میں رہتے ہیں اور ان کے ساتھ ہونے والے منفی واقعات سے شدید خوفزدہ رہتے ہیں ۔ اور جب کسی انتہائی دباؤ یا تکلیف دہ واقعے کا سامنا کرنا پڑتا ہے تو اس کی توقع نہیں کی جاتی ، جو ان کی زندگی کے دوران لامحالہ ہوتا ہے ، منفی رد عمل کا اظہار کرتے ہیں اور اس سے نمٹنے کے قابل نہیں ہوتے ہیں۔
وہ ناقابل تسخیر صدمے کا تجربہ کرتے ہیں اور تجربے سے شدید متاثر رہتے ہیں۔ انہیں اپنے اندرونی غم ، ان کے اندرونی درد ، ان کے اندرونی غصے یا ناراضگی کا اظہار کرنے میں دشواری کا سامنا کرنا پڑتا ہے ، اور حقیقی طور پر محسوس کرتے ہیں کہ ان کے اندر جو درد ہے اس سے باہر نکلنے کا کوئی راستہ نہیں ہوتا ۔ اور چونکہ ان کا ذہن یہ نہیں سمجھ سکتا کہ کیا ہوا ہے ، اور پریشانی کی حالت میں رہتا ہے ، یہ اندرونی تکلیف دہ احساسات مستقل طور پر برقرار رہتے ہیں ، تناؤ کے ہارمون کی سطح کو بڑھاتے ہیں ، میلاتون اور ایڈرینالین کی سطح کو کم کرتے ہیں ، جس کی وجہ سے جذباتی اضطراری مرکز کی آہستہ آہستہ خرابی ہوتی ہے۔
دماغ ، اور جسم میں کینسر کا آغاز۔
جب کسی بڑے صدمے کا سامنا کرنا پڑتا ہے تو ، کینسر کی تشخیص محسوس کرتا ہے اور تکلیف دہ تجربے کی یادداشت اور تجربے کے تکلیف دہ احساسات سے فرار ہونے سے قاصر ہوتا ہے ۔ سٹریس ہارمون کورٹیسول کی سطح بلند ہو جاتی ہے اور اوپری سطح پر رہتی ہے ، جو کہ مدافعتی نظام کو براہ راست دباتی ہے ، جس کا کام کینسر کے خلیوں کو تباہ کرنا ہے جو ہر انسان میں موجود ہیں۔ اعلی تناؤ کی سطح کا عام طور پر مطلب ہے کہ کوئی شخص اچھی طرح سو نہیں سکتا ، اور گہری نیند کے دوران کافی میلاتونن پیدا نہیں کر سکتا۔ میلاتون کینسر کے خلیوں کی نشوونما کو روکنے کا ذمہ دار ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ کینسر کے خلیے اب آپ کے جسم کے لیے آزاد ہیں۔ ایڈرینالین کی سطح بھی شروع میں آسمان کو چھوتی ہے ، لیکن پھر وقت کے ساتھ ساتھ خشک اور ختم ہو جاتی ہے۔ یہ خاص طور پر کینسر کی شخصیت کے لیے بری خبر ہے۔
ایڈرینالائن شوگر کو خلیوں سے دور لے جانے کا ذمہ دارہوتی ہے ۔ اور جب جسم کے خلیوں میں بہت زیادہ چینی ہوتی ہے تو جسم تیزابیت کا شکار ہو جاتا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ جسم کے عام خلیے کم آکسیجن کی وجہ سے صحیح سانس نہیں لے سکتے۔ کینسر کے خلیے کم آکسیجن کی حالت میں پروان چڑھتے ہیں ، جیسا کہ نوبل انعام یافتہ اوٹو واربرگ نے دکھایا۔ کینسر کے خلیے چینی کو زندہ رکھنے کے لیے بھی پروان چڑھتے ہیں۔ سیدھے الفاظ میں ، بہت زیادہ اندرونی دباؤ ایڈرینالین کی کمی کا سبب بنتا ہے ، جسم میں بہت زیادہ شوگر کا باعث بنتا ہے ، جس کے نتیجے میں کینسر کے خلیوں کے جسم میں پروان چڑھنے کے لئے بہترین ماحول ہوتا ہے۔
کینسر کی شخصیت کے لیے ، کینسر کی تشخیص ہونے کی خبر اور موت کا خوف اور غیر یقینی صورتحال ایک اور ناگزیر جھٹکے کی نمائندگی کرتی ہے ، جس سے تناؤ کے ہارمون کورٹیسول کی سطح میں ایک اور اضافہ ہوتا ہے ، اور میلاتون اور ایڈرینالین کی سطح میں مزید کمی آتی ہے۔ دماغ میں جذباتی اضطراری مرکز کی مزید خرابی بھی ہے جس کی وجہ سے متعلقہ عضو کے خلیات آہستہ آہستہ ٹوٹ جاتے ہیں اور کینسر کا شکار ہو جاتے ہیں۔
سیکھی ہوئی بے بسی کینسر کی شخصیت کا ایک کلیدی پہلو ہے جب ایک سمجھے جانے والے ناگزیر صدمے کا سامنا کرنا پڑتا ہے ، اور یہ کینسر کا ایک مضبوط عنصر ہے۔ محقق میڈیلون ویزنٹینر نے چوہوں کے تین گروہوں کو لیا ، ایک کو ہلکا سا فرار ہونے والا جھٹکا ، دوسرا گروپ کو ہلکا پھلکا جھٹکا ، اور تیسرا کوئی جھٹکا نہیں۔ اس کے بعد اس نے ہر چوہے کو کینسر کے خلیوں سے لگایا جس کے نتیجے میں عام طور پر 50 فیصد چوہے ٹیومر پیدا کرتے ہیں۔ اس کے نتائج حیران کن تھے۔
ایک مہینے کے اندر ، 50 the چوہوں نے بالکل حیران نہیں کیا تھا۔ یہ عام تناسب تھا جہاں تک چوہوں نے اسے بند کرنے کے لیے ایک بار دباکر جھٹکا حاصل کیا ، 70 فیصد نے ٹیومر کو مسترد کردیا۔ لیکن بے سہارا چوہوں میں سے صرف 27 فیصد ، چوہے جنہوں نے فرار ہونے والے صدمے کا سامنا کیا تھا ، نے ٹیومر کو مسترد کردیا۔ یہ مطالعہ ان لوگوں کو ظاہر کرتا ہے جو محسوس کرتے ہیں کہ ان کے صدمے / نقصان سے باہر نکلنے کا کوئی راستہ نہیں ہے ان کے جسم کے اندر بننے والے ٹیومر کو مسترد کرنے کے امکانات کم ہیں ، اس وجہ سے کہ دباؤ کی اعلی سطح مدافعتی نظام کو کمزور کرتی ہے۔ [سلیگمین ، 1998 ، صفحہ 170]
کینسر سیلولر لیول پر ہوتا ہے۔ اور کئی عوامل ایسے ہیں جو جسم کے خلیوں پر دباؤ پیدا کرتے ہیں ، جس کی وجہ سے وہ (1) ایڈرینالین کی کمی ، (2) شوگر کی زیادہ اور (3) کم آکسیجن کی ، جہاں وہ زیادہ تغیر پذیر ہوتے ہیں اور کینسر بن جاتے ہیں . ایڈرینالین کی کمی کی وجہ سے سیل میں شوگر کا مواد جتنا زیادہ ہوتا ہے ، اور آکسیجن کا مواد کم ہوتا ہے ، عام خلیوں کے تبدیل ہونے اور کینسر ہونے کا امکان زیادہ ہوتا ہے۔
بہت سارے عوامل ہیں جو ایک عام سیل کو ایڈرینالین کی کمی ، چینی میں زیادہ اور آکسیجن کی کمی میں حصہ ڈالتے ہیں۔ جسمانی دباؤ میں شامل ہیں (اور ان تک محدود نہیں) دبے ہوئے احساسات ، افسردگی ، تنہائی ، ناقص نیند ، جذباتی صدمہ ، بیرونی تنازعہ وغیرہ۔
کینسر میں مبتلا افراد کی اکثریت میں ، نفسیاتی اور جسمانی دباؤ دونوں کا ایک مجموعہ موجود ہے جس نے جسم کے خلیوں کو ایڈرینالین کی کمی ، چینی میں زیادہ اور آکسیجن کی کمی کا باعث بنا ہے ، جس کی وجہ سے وہ تبدیل ہو جاتے ہیں اور کینسر بن جاتے ہیں۔
@Ishaqbaig___
نوجوان نسل اسلام سے دور کیوں ہے تحریر: ملک ضماد
اللّٰہ رب العزت کا شکر ہے جس نے ہمیں ایک سچے دین سے نوازا،
کبھی اے نوجواں مسلم تدبر بھی کیا تو نے ۔۔
وہ کیا گردوں تھا تو جس کا ہے اک ٹوٹا ہوا تارا ۔۔
تجھے اس قوم نے پالا ہے آغوش محبت میں۔ ۔۔
کچل ڈالا تھا جس نے پاؤں میں تاج سردارا۔۔آج کا نوجوان دین سے دور کیوں ہے؟ پہلے تو یہ فیصلہ کرنا ہو گا کہ آج کا نوجوان دین سے خود دور ہوا یا اسے دین سے دور کیا گیا ، کیونکہ خود دور ہو جانے اور دور کر دینے میں بڑا فرق ہے ۔۔۔
کوئی فرد کسی گروہ یا کسی جماعت کو اپنے لئے پسند کرتا ہے تو اس گروہ ، جماعت کے لوگ اس فرد کےلئے رول ماڈل کا کام سر انجام دیتے ہیں۔ وہ انھیں لوگوں کی حرکات سے اثر لیتا ہے اور بالآخر ان لوگوں کی طرح ہی ہو کر رہ جاتا ہے ۔۔۔
دین اسلام کے خلاف سازش آج سے یا کچھ عرصہ قبل سے نہیں بلکہ اس سازش کا آغاز اس وقت ہوا تھا جب برصغیر میں فرقہ وارانہ کشیدگی کے دور کا آغاز مختلف مسالک کی دینی درسگاہوں اور تدریسی کے جدا گانہ قیام سے ہوا تھا ۔ یہ انتہائی افسوس ناک بات تھی اس دور میں مختلف مکاتب فکر کے جدا جدا مدارس وجود میں آ گئے ، ان درسگاہوں سے تعلیم پانے والے طالب علم ایک مخصوص ماحول میں تحصیل علم کے بعد جب باہر نکلے اور مسند علم و ارشاد پر فائز ہوئے تو ان کے دل و دماغ اسی مسلک کے سانچے میں ڈھلے ہوئے تھے اور انکے اعمال و کردار پر اس وابستگی کی گہری چھاپ نمایاں تھی ، علماء کی یہ کھیپ مساجد کے محراب و منبر سے دین کے بنیادی مسائل کو پس پشت ڈالتے ہوئے اپنے اپنے مسلک کا پرچار کرنے لگے ،
بقول اقبال ~
گلا تو گھونٹ دیا اہلِ مدرسہ نے تیرا ۔۔
کہاں سے آئے صدا لاالہ الااللہ ۔۔۔
اس طرح علماء ایک دوسرے کو تنقید و تنقیص کا نشانہ بنانے لگے، اور مسلکی رواداری کے برعکس انتہا پسندی جڑ پکڑ گئی۔۔
پھر فرقہ پرستی اور تفرقہ پروری کی آگ بھڑک اٹھی ، جس سے انتشار فتنہ و فساد اور نا اتفاقی نے جنم لیا اور وحدت ملی کے تصور کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا، نتیجتاً امت گروہوں اور دھڑوں میں بٹ گئی، اس سے اسلام کی اجتماعی حیثیت ضعف و انحطاط کی زد میں آ گئی ۔
دوسری طرف برطانوی استعمار نے برصغیر میں وارد ہو کر سب سے پہلا تخریبی کام یہ کیا کہ مسلمانوں کا وہ نظام تعلیم جو مدت سے یہاں رائج تھا اس نظام تعلیم کو تباہ کر دیا ایسا کرنے میں ان کے اپنے سامراجی عزائم کار فرما تھے ، عام تعلیم کو لا دینیت کے رنگ میں رنگ دینے سے مسلمانوں کی شاندار اقدار زوال پزیر ہو گئیں ۔۔
آج سے ڈیڑھ سو سال قبل تک مسلمانوں کے دینی اور دنیاوی تعلیم کے مدارس ایک ہی ہوتے تھے۔اور جدا گانہ نظام تعلیم کا کوئی تصور موجود نہ تھا ، ایک ہی درسگاہ سے طلبا کو سائنس ، ریاضی، فلسفہ، منطق ، حدیث و قرآن اور فقہی علوم پڑھائے جاتے تھے، گویا دینی اور عصری علوم و فنون ایک ہی نصاب کا حصہ تھے، انگریز کے شاطر دماغ نے اپنی ریشہ دوانیوں سے ملت اسلامیہ کی وحدت کو پارہ پارہ کرنے کے لیے سیکولر نظام تعلیم ملک بھر میں رائج کر دیا اقبال اس نظام کے بارے میں فرماتے ہیں ~
شکایت ہے مجھے یارب خداوندان مکتب سے۔۔
سبق شاہین بچوں کو دے رہا ہے خاکبازی کا۔۔۔
ایسے نظام تعلیم سے عالم اسلام میں کوئی رومی، رازی ، فارابی، جامی اور ابن رشد جیسا ہمہ جہت عالم، مفکر اور دانشور کیسے پیدا ہو سکتا تھا ؟ لہذا نوبت یہاں تک آ پہنچی کہ دینی اداروں سے فارغ التحصیل علماء مولوی تو بن گئے جن کا کام نکاح خوانی اور مردوں کی تجہیز و تکفین کے علاؤہ کچھ نہ تھا,
لیکن علمی دنیا پہ حکمرانی کے لئے سکالر نہ بن سکے ، ایک زمانہ تھا کہ مولوی کا لفظ آج کے پی ایچ ڈی اور علوم و فنون کے ماہر کے مترادف تصور کیا جاتا تھا۔۔
تاریخ میں ملا علی قاری کے پائے کے محدث اور عبد الرحمٰن جامی جیسے فقیہہ کا زکر بڑے احترام سے ملتا ہے جو اپنے زمانے میں ملا کہلایا کرتے تھے ، آج ملا کا لفظ تحقیر و نفرت کی علامت بن گیا ہے ۔۔
یہ عام مشاہدہ ہے کہ دینی مدرسوں کے فاضل علماء نورو بشر اور حاضر و ناظر جیسے موضوعات پر تو گھنٹوں تقریر کر سکتے ہیں لیکن ان سے اسلام کے معاشی نظام ، بین الاقوامی تعلقات، اقوام عالم کے ساتھ جنگ و صلح کے ضابطوں اسلامی تہزیب و ثقافت، سیاسی پالیسی ، اسلامی تعزیرات اور اسلامی معاشرت کے ضابطوں کے بارے میں اظہار خیال کرنے کو کہا جائے تو وہ پانچ منٹ سے زیادہ کسی موضوع پر نہیں بول سکتے ، یہی وجہ ہے کہ آج کی نوجوان نسل دینی علوم سے بے بہرہ اور فرقہ پرست علماء سے حد درجہ بے زار نظر آتی ہے ، کیونکہ ان کے نزدیک بقول اقبال ~
فرقہ بندی ہے کہیں، اور کہیں ذاتیں ہیں
کیا زمانے میں پنپنے کی یہی باتیں ہیں۔۔؟
آخر میں یہی کہوں گی کہ اگر ہمیں دین کے ساتھ سچی لگن ہے تو ہمیں اپنی انا کو بھول کر دین اسلام کے لئیے ایک ہونا ہو گا ، دین رہ گیا تو ہمارا مقام رہے گا ورنہ ہم نہ دنیا کے رہیں گے نہ عقبیٰ کے ۔۔
بقول اقبال ~
قو م مذہب سے ، مذہب جو نہیں تم بھی نہیں
جذب باہم جو نہیں محفلِ انجم بھی نہیں۔ ۔ایک اور مقام پر فرماتے ہیں ~
منفعت ایک ہے اس قوم کی نقصان بھی ایک
ایک ہی سب کا نبی دین بھی ایمان بھی ایک
حرم پاک بھی اللہ بھی قرآن بھی ایک
کچھ بڑی بات تھی ہوتے جو مسلمان بھی ایک
عشرہ شانِ رحمت اللعالمین ﷺ کے سلسلے میں فیصل آباد ویسٹ مینجمنٹ میں محفل میلاد کا انعقاد
عشرہ شانِ رحمت اللعالمین ﷺ تقریبات کے سلسلے میں فیصل آباد ویسٹ مینجمنٹ کمپنی کے زیر اہتمام محفل میلاد کا انعقاد ہوا۔محفل میلاد میں چیف ایگزیکٹیو آفیسر کاشف رضا اعوان، جی ایم آپریشن کرنل (ر) عماد اقبال گل،سینئر منیجر آپریشن محمد اعجاز بندیشہ اور دیگر افسران سمیت تمام ملازمین نے بھرپور شرکت کی۔محفل میلاد مصطفی ﷺ میں سرکار دو عالم حضرت محمد ﷺ کی شان اقدس میں ہدیہ نعت و سیرت طیبہ کے موضوع پر علماء و مشائخ حضرات نے تقاریر بھی کیں۔محفل میلاد کے آغاز پر تلاوت قرآن مجید قاری شہادت علی جبکہ نعت خواں میں مہران علی قادری،محمد طلحہ،پیر سید راشد حسین گیلانی،نقابت اشفاق زائر قادری اور خصوصی خطاب و دعائیہ کلمات قاری اظہر نے ادا کئے۔سی ای او ویسٹ مینجمنٹ کمپنی نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی تعریف و توصیف بیان کرنا بہت بڑا اعزاز اور انعام ہے۔انہوں نے کہا کہ انسان تو انسان فرشتے بھی حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجتے ہیں اور تا ابد بھیجتے رہیں گے۔اس موقع پر ملک وقوم کی ترقی وخوشحالی اور امن وسلامتی کی دعا بھی کی گئی۔

غسل کے احکام ومسائل تحریر حسینہ کھوسہ
غسل کا مطلب ہوتا ہے انسان کا اپنے پورے بدن پر ایک مخصوص طریقہ سے پانی بہانا۔ غسل کو واجب کرنے والی چیزیں چھ ہیں:
(۱) کسی مرد یا عورت کا احتلام ہو جانا مین می کا
قوت کے ساتھ شرم گاہ سے باہر آنا۔
(۲) میاں بیوی کا ہم بستری کرنا۔
(۳) کسی کافر کا اسلام
لے آنا۔
(۴) کسی مسلمان کا مر جانا۔ واضح رہے کہ راہ خدا میں شہید ہونے والے کے علاوہ ہر
میت کونسل دینا واجب ہے۔
(۵) عورت کا حیض (ماہواری) کے خون سے پاک ہونا۔ (6)عورت کا نفاس (بچہ جننے کے بعد نکلنے والا فاضل خون) کے خون سے پاک ہونا۔
غسل کرنے کے دو طریقہ ہیں : پسندیدہ ومحبوب طریقہ اور بقدر ضرورت جائز طریقہ۔
پہلے طریقہ غنسل کرنے سے غسل کامل و مکمل اور شریعت کی نگاہ میں محبوب ہوتا ہے جبکہ دوسرے
طریقہ سے غسل کرنے میں غسل کی ضرورت پوری ہوجاتی ہے۔ ویسے دونوں طر لیے جائز ہیں۔
پہلے طریقہ یعنی کامل و مکمل کرنے کا انداز یہ ہے
غسل کی نیت دل میں کی جائے اور بسم الله پڑھا جائے۔
دونوں ہاتھوں کو تین بار دھویا جائے اور شرمگاہ کو دھویا جائے۔
پھر پورا وضو کیا جائے جس طرح سے نماز کے لیے وضو کیا جاتا ہے۔
پھر تین بار سر پر پانی ڈالا جائے تا کہ بالوں کی جڑوں تک پانی پہنچ جائے۔
= پر پورے بدن پر پانی ڈالا جائے۔ پانی ڈالنے میں جسم کے دائیں حصہ پر پہلے ڈالا
جائے اس کے بعد بائیں حصہ پر پانی ڈالا جائے جسم کو ہاتھوں سے رگڑا جائے تا کہ کوئی جگہ
سوکھی نہ رہ جائے۔ اس مرحلہ میں صابون ، شیمپو وغیرہ کا استعمال کرنا بھی جائز ہے۔
غسل کا دوسرا بقدر ضرورت طریقہ یہ ہے کہ ایک ساتھ ہی پورے بدن پر پانی ڈال لیا
جائے۔ واضح رہے کہ اس طریقہ میں منہ اور ناک میں پانی ڈال کر انہیں صاف کرنا ضروری ہے۔
پہلے طریقہ میں وضو کرنے میں یہ دونوں چیز میں آ جاتی ہیں۔
ویسے تو انسان غسل کسی بھی وقت کرسکتا ہے۔ تاہم غسل جن موقعوں پر کرنا شریت
کی نگاہ میں مستحب ہے وہ یہ ہیں:
عید کی نماز کے لیے۔ اس میں عید الفطر اورعیدالانی دونوں شامل ہیں۔
جمعہ کی نماز کے لیے۔
= حج یا عمرہ کے لیے احرام باندھنے سے پہلے۔
= وہ عورت جسے کی بیماری کی وجہ سے خون آرہا ہو
، اس کے لیے شرعا پسندیدہ ہے کہ وہ
ہرنماز سے پہلے غسل کرے۔ اگرچہ واجب نہیں۔ بلکہ ہر نماز سے پہلے صرف وضواجب ہے۔
یہاں ذہن میں رہنا چاہیے کہ ان موقعوں پرنہانا محض مستحب ہے، فرض نہیں۔ لیکن اگر
کوئی ان مواقع پر نہاتا نہیں ہے تو وہ کسی گناہ کا ارتکاب نہیں کرتا۔
خواتین کے لیے غسل کے چند اہم مسائل درج ذیل ہیں:
1) عورت کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے جسم کے ہر حصہ کو جانچ لے کہ وہاں پانی پہنچا
کہ نہیں۔
اس میں بالوں کی جڑوں کو حلق کے نیچے، بغلوں میں، ناف کے نیچے گھنٹوں کے
موڑنے کی جگہوں کو بطور خاص دیکھ لینا چاہیے۔ اگر کوئی انگوٹی یا گھڑی پہن رکھی ہے تو نہاتے
ہوئے انہیں گھما اور ہلا لینا چاہیے تاکہ پانی ان کے نیچے تک پہنچ جائے ۔
۲) عورتوں کو غسل میں دو چیزوں کا خاص طور سے اہتمام کرنا چاہیے: ایک تو یہ کہ غسل مکمل کیا جائے یعنی جسم کی کھال کا کوئی حصہ ایا باقی نہ رہنے پائے جس تک پانی نہ پہنچا ہو۔
دوسری بات یہ کہ بلاوجہ پانی کا اسراف نہ کیا جائے۔ شریعت میں جس بات ک تعلیم دیتا ہے وہ یہ
ہے کہ غسل مکمل کیا جائے لیکن اس میں کم سے کم پانی استعمال کیا جائے۔ اللہ کے رسول کے
بارے میں حدیث گزر چکی ہے کہ آپ کا وضو ایک مد میں اور غسل ایک صاع کے برابر پانی
میں ہوجاتا تھا۔ یہ مد اور صاع دو پیمانے ہیں جن سے عربوں میں سیال اشیا کوناپا جاتا تھا۔ موجودہ
زمانے کی اصطلاح میں مد آدھی کلو کے برابر ہوتا ہے اور ایک صاع دوکلو کے برابر ہوتا ہے۔
۳) ناپاک عورت کے لیے اسی حالت میں سونا جائز ہے، تاہم افضل یہ ہے کہ سونے
سے پہلے وضو کر لیا جائے۔
4)اگر عورت کے بال گھنے ہیں یا چٹیا میں گندھے ہوئے ہیں تو اس کے لیے ضروری
نہیں ہے کہ انہیں کھول کر ہی نہائے ۔ جو چیز ضروری ہے وہ یہ کہ پانی کو بالوں کی جڑوں تک پہنچایا
جائے۔ اس میں بہتر ہے کہ پوری چٹیا کوایک بارفواره یائونٹی کے نیچے رکھ کر بھگولیا جائے اور پھر سر
پرہی اسے نچوڑ دیا جائے تا کہ سارے بالوں میں پانی پہنچ جائے

رحمت للعالمین صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم تحریر: خوشنود
جب سے یہ کائنات ظہور میں آئی ہے اللّٰہ تعالیٰ نے انسانوں کی ہدایت و رہنمائی، اپنے بندوں کی اصلاح اور انہیں سیدھی راہ پر چلانے کے لئے مختلف ادوار میں کم وبیش ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاء کرام کو بھیجا۔ نبوت کا جو سلسلہ حضرت آدم علیہ السلام سے شروع ہوا نبی آخر الزماں حضرت محمد صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم پر آکے ختم ہوا۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اللّٰہ عزوجل کے تمام انبیاء مرسلین رحمت تھے مگر رحمت للعالمین نہیں تھے۔ اُنکی نبوت اپنی قوم، اپنے دور اور اپنے زمانے تک محدود تھی جبکہ حضرت محمد صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کی رحمت و شفقت ہر عہد، ہر زمانے، ہر قوم اور تمام جہانوں کے لئے ہے۔ سرکارِ دو عالم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کو اللّٰہ تعالیٰ نے رحمت للعالمین بنا کر بھیجا۔ جہاں اللّٰہ تعالیٰ نے اپنا تعارف رب العالمین کروایا ہے وہاں حضرت محمد صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کو رحمت للعالمین کے لقب سے نوازا۔یہ لقب اور شرف ایسا ہے جو کسی اور کے لئے استعمال نہیں کیا گیا۔
قرآن پاک میں ارشاد ہوتا ہے:
وما ارسلنک الا رحمۃ للعالمین
"اور (اے پیغمبر) ہم نے آپ کو تمام جہانوں کے لئے رحمت بنا کر بھیجا ہے۔”
اِس آیتِ کریمہ پر توجہ کی جائے تو معلوم ہوتا ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو صرف عرب کے لئے رحمت بنا کر نہیں بھیجا گیا تھا۔ آپ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم صرف اُمتِ مسلمہ کے لئے رحمت نہیں، تمام نبیوں، رسولوں اور فرشتوں کے لئے بھی رحمت ہیں۔ آپ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم تمام چرند پرند، حیوانات و نباتات کے لئے بھی سراپا رحمت بن کر آئے۔ غرض عالم میں جتنی چیزیں ہیں سید المرسلین صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم سب کے لئے رحمت ہیں۔ اللّٰہ تعالیٰ جو تمام عالموں کا مالک و مختار ہے اُس نے اِن عالموں کے لئے رحمت کا اہتمام اپنے آخری نبی محمد مصطفیٰ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کی صورت میں کر دیا۔
چھٹی صدی عیسوی کا زمانہ جو بعثت نبوی صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم سے قبل کا زمانہ ہے اُس زمانے میں نہ صرف سر زمین عرب بلکہ پوری دنیا جہالت و گمراہی کا شکار تھی۔ پورا معاشرہ پستیوں کی گہری دلدل میں ڈوبا ہوا تھا۔ ذات پات کا ایسا خوفناک نظام رائج تھا کہ انسانیت پناہ مانگتی تھی۔
حیوان تو حیوان آپس میں انسانوں کے ساتھ بھی جانوروں سے بدتر سلوک کیا جاتا تھا۔ انسان انسان کا دشمن اور بھائی بھائی کے لہو کا پیاسا تھا۔ یتیموں کا مال ہڑپ کر لیا جاتا تھا اور بیٹیوں کو زندہ دفن کر دیا جاتا تھا۔ کفر و شرک، ظلم و بربریت، قتل و غارت، چوری، ڈاکہ زنی، شراب نوشی نیز ہر قسم کا گناہ عام تھا۔ ان سب حالات اور گھٹا ٹوپ اندھیرے کو دور کرنے کے لئے عرب کی سر زمین سے وہ آفتابِ ہدایت طلوع ہو جسکی چکا چوند کر دینے والی روشنی نے جہالت کی تمام تاریکیوں کو ختم کر دیا۔ آپ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم نے نہ صرف انسانوں بلکہ جانوروں کے ساتھ بھی حسنِ سلوک کی تلقین فرمائی۔ جس معاشرے میں غلام اور عورت کی کوئی عزت نہیں تھی آپ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم نے اُس معاشرے میں غلاموں کو بھی عزت دلوائی عورت کو بحیثیت ماں، بہن، بیٹی، بیوی ہر روپ میں بلند مقام بخشا۔ اللّٰہ تعالیٰ کے تمام احکامات کی صرف تبلیغ نہیں کی بلکہ اپنی زندگی میں عملی طور پہ کر کے بھی دکھایا۔ وہ معاشرہ جو اپنے افعال و اعمال اور اخلاق و کردار کے لحاظ سے حیوانوں سے بھی بدتر تھا آپ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کے دامن سے وابستہ ہو کر فرشتوں سے بھی افضل گردانا گیا۔ الغرض تاریخِ انسانی میں حضور اکرم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کی ذاتِ مبارکہ ایک ایسا اعلیٰ و ارفع مقام رکھتی ہے جسکی کوئی مثال نہیں۔
وہ دانائے سبل ختمُ الرسل مولائے کُل جس نے
غبارِ راہ کو بخشا فروغِ وادی سینا
نگاہِ عشق ومستی میں وہی اول، وہی آخر
وہی قرآں،وہی فرقان، وہی یٰسین، وہی طہٰ
آپ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم محسنِ انسانیت ہیں، انسان کامل ہیں اور ہر لحاظ سے قابلِ تقلید ہیں۔ آپ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کی زندگی قیامت تک کے انسانوں کے لئے بہترین نمونہ ہے۔ بطور مسلمان ہمیں ہر وقت اللّٰہ کریم کا شکر ادا کرتے رہنا چاہیے کہ اُس نے ہمیں آپ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کا اُمتی بنایا۔ جو شخص دنیا میں آپ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم پر ایمان لائے گا اور آپ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کی اطاعت و پیروی کرے گا اُسے دونوں جہانوں میں آپ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کی رحمت سے حصہ ملے گا۔ ہمارے ایمان کا تقاضا ہے کہ ہم سیرتِ نبوی صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کا مطالعہ کریں اور اپنی زندگی کے ہر پہلو میں نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کے اسوہ حسنہ پر عمل پیرا ہوں۔ آپ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کی سیرتِ طیبہ کو اپنے لئے مشعلِ راہ بنائیں تا کہ ہماری دنیا و آخرت دونوں سنور جائیں۔
@_Khushnood_

ماہ ربیع الاوّل اور ہمارا طرزِ عمل تحریر: قاری محمد صدیق الازھری
” ربیع ” عربی میں موسمِ بہار کو کہا جاتا ہے، اور اوّل کے معنی ہیں: پہلا، تو ربیع الاول کے معنی ہوئے: پہلا موسمِ بہار۔ اس مہینے میں سرورِ دو عالم حضور اقدس جناب محمد رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم اس دنیا میں تشریف لائے اور یہ مقام کسی اور مہینے کو حاصل نہیں، اسی لیے جب آپ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم سے پیر کےدن روزے کےبارے میں پوچھاگیا ،تو آپ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کی فضیلت کی ایک وجہ یہ بیان فرمائی کہ اس دن میں پیدا ہوا، جب پیر کے دن روزہ کو حضور صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کی ولادت کی وجہ سے فضیلت حاصل ہے، تو ماہِ ربیع الاوّل کوبھی آپ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کی ولادت کا مہینہ ہونے کی خاص حیثیت کے اعتبارسے سال بھر کے تمام مہینوں پر فضیلت وفوقیت حاصل ہے۔
محمد صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم بن عبد الله بن عبد المطلب بن ہاشم بن مناف بن قصی بن کلاب بن مرہ بن کعب بن لوی بن غالب بن فہر بن مالک بن نضر بن کنانہ بن خزیمہ بن مدرکہ بن الیاس بن مضر بن نزار بن معد بن عدنان بن ادو بن ہمیسع بن سلامان بن عوض بن بوض بن قموال بن ابی بن عوام بن ناشد بن حزا بن بلداس بن یدلاف بن طابخ بن جاحم بن ناحش بن ماخی بن عیفی بن عبقر بن عبید بن الدعا بن ہمدان بن سمب بن یژبی بن یحزن بن یلجن بن ارعوا بن عیضی بن ذیشان بن عیصر بن اقناد بن ایہام بن مقصر بن ناحث بن ضارح بن سمی بن مزی بن عوض بن عرام قیدار بن اسماعیل بن ابراہیم بن آذر بن ناحور بن سروج بن رعو بن فائج بن عابر بن ارفکشاد بن سام بن نوح بن لامک بن متوشائح بن اخنون بن یارو بن ملہل ایل بن قینان بن انوش بن شیث بن آدم علیہ السلام کی ساری زندگی ہم سب کے لیے بہترین نمونہ ہے۔ یہی وہ مقدس مہینہ ہے جس میں حضور اکرم صلی الله علیہ وآلہ وسلم کی ولادت باسعادت ہوئی اور اسی مہینے میں آپ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم اس دنیا سے رخصت ہوئے۔ الله تعالٰی نے قرآن مجید کی سورۃ الانبیاء میں ارشاد فرمایا کہ؛ "اے محمد صلی اللّٰہ علیہ وسلم! ہم نے آپ کو تمام جہانوں کے لیے رحمت بنا کر بھیجا ہے۔”
حضوراکرم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کا ذکر مبارک ایک اعلی ترین عبادت ہے، بلکہ روحِ ایمان ہے۔
آپ کی ولادت، آپ کا بچپن، آپ کا شباب، آپ کی بعثت، آپ کی دعوت ، آپ کا جہاد ،آپ کی عبادت ونماز، آپ کے اخلاق، آپ کی صورت وسیرت، آپ کازہدو تقوی، آپ کی صلح وجنگ ، خفگی و غصہ، رحمت و شفقت، تبسم و مسکراہٹ، آپ کا اٹھنابیٹھنا ، چلنا پھرنا، سونا جاگنا، الغرض آپ کی ایک ایک ادا اور ایک ایک حرکت و سکون امت کے لیے اسؤہ حسنہ اور اکسیر ہدایت ہے اور اس کا سیکھنا سکھانا، اس کا مذاکرہ کرنا اور دعوت دینا امت کا فرض ہے۔
نبی کریم صلی الله علیہ وآلہ وسلم کا ذکر مبارک انسان کی عظیم ترین سعادت ہے اور اس روئے زمین پر کسی بھی ہستی کا تذکرہ اتنا باعث اجر و ثواب اتنا باعث خیر و برکت نہیں ہوسکتا جتنا سرورِ کائنات حضرت محمد مصطفی صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کا تذکرہ ہوسکتا ہے۔ لیکن تذکرہ کے ساتھ ساتھ ان سیرتِ طیبہ کی محفلوں میں ہم نے بہت سی ایسی غلط باتیں شروع کردی ہیں جن کی وجہ سے ذکر مبارک کا صحیح فائدہ اور صحیح ثمر ہمیں حاصل نہیں ہورہا ہے۔ ان غلطیوں میں سے ایک غلطی یہ ہے کہ ہم نے سرکارِ دو عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ذکر مبارک صرف ایک مہینے یعنی ربیع الاوّل کے ساتھ خاص کردیا ہے اور ربیع الاوّل کے بھی صرف ایک دن اور ایک دن میں بھی صرف چند گھنٹے نبی کریم صلی الله علیہ وآلہ وسلم کا ذکر کرکے ہم یہ سمجھتے ہیں کہ ہم نے نبی کریم صلی الله علیہ وآلہ وسلم کاحق ادا کردیا ہے، یہ حضورِ اقدس صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کی سیرتِ طیبہ کے ساتھ اتنا بڑا ظلم ہے کہ اس سے بڑا ظلم سیرتِ طیبہ کے ساتھ کوئی اور نہیں ہوسکتا۔
اصل ربیع الاوّل اس کا ہے، جو رات دن ہر وقت حضور صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کو یاد رکھتا ہے، سال میں ایک مہینے کے لیے نہیں، ایک دن کے لیے نہیں، بارہ ربیع الاوّل کے لیے نہیں، جو اللہ کے نبی کی سنت پر زندہ رہتا ہے، ہر سانس میں سوچتاہے اور اہلِ علم سے پوچھتا ہے کہ یہ خوشی کیسے مناؤں؟ غمی کیسے ہو؟ اپنی زندگی اسلامی طرز عمل پر کیسے گزاروں؟ ساری سنتیں پوچھتاہے اور سنت پوچھ کر سنت کے مطابق خوشی اور غمی کی تقریبات کرتاہے،تو جس کی ہر سانس سرورِ عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی سنت پر فد ا ہو، اس کی ہر سانس حضور اکرم صلی الله علیہ وآلہ وسلم کی دین کی اشاعت کے لیے ہے۔ جو شخص آپ کی سنت پرعمل کررہاہے اس کا ہر دن خوشی کا دن ہے، کیونکہ آپ کے دنیا میں تشریف لانے کا مقصد یہی ہے کہ امت آپ کے نقشِ قدم کی اتباع کرے، کیونکہ؎
نقشِ قدم نبی کے ہیں جنت کے راستے
ﷲ سے ملاتے ہیں سنت کے راستے
Bio: The contributer Qari Muhammad Siddique Al- Azhari is a columnist and blogger. I have written many columns in newspapers and websites.
Twitter ID:
https://twitter.com/iamqarisiddique?s=09






