Baaghi TV

Category: مذہب

  • خواتین کو جنسی ہراساں کیوں کیا جاتا ہے؟

    خواتین کو جنسی ہراساں کیوں کیا جاتا ہے؟

    خواتین کو جنسی ہراساں کیوں کیا جاتا ہے۔
    معاملہ اتنا سادہ نہیں ہے۔
    اگر آپ کہتے ہیں کہ لباس کی وجہ سے ہوتا ہے تو برقعہ پہننے والی خواتین اور چھوٹی بچیوں کا کیا قصور ہے۔
    یہاں تک کہ جانوروں تک کو نہیں بخشتے
    اگر آپ کہتے ہیں کہ گھر سے باہر نکلنے کی وجہ سے ہوا تو کتنے کیسز ہیں جن میں گھر میں گھس کر ریپ کردیا گیا۔
    اگر آپ کہتے ہیں کہ اس لیے کیونکہ یہاں اپنی جنسی فرسٹریشن نکالنے کے مواقع میسر نہیں ہیں، یہاں قحبہ خانے نہیں ہیں تو عرض ہے کہ جن ملکوں میں قحبہ خانوں کی کثرت ہے اور اویلیبلٹی کا بھی کوئی مسئلہ نہیں ہے تو وہاں ریپ کیسز کی شرح اس قدر زیادہ کیوں ہے۔
    امریکہ میں ایک لاکھ سے زیادہ ریپ کیسز ہیں ۔ یاد رہے کہ یہ ریپ کیسز ہیں، زنا باالرضا پر وہاں کوئی پکڑ یا قدغن نہیں ہے۔ 18 سال سے زائد عمر کا لڑکا یا لڑکی جیسے چاہے تعلقات قائم کرسکتے ہیں۔ اس پر حکومت کی طرف سے کوئی پابندی نہیں ہے۔
    مزید اگر یہ بھی دیکھنا ہے کہ امریکہ میں ایک عورت کتنی محفوظ ہے تو یوٹیوب پر ویڈیوز موجود ہیں کہ نیویارک شہر میں کسی خاتون کو کس طرح چھیڑ ا جاتا ہے۔ a woman is cat called more than hundred times in a day, while she was walking through NYC.
    لیکن ایک بات یاد رکھیں کہ دنیا کے ساتھ موازنہ کرکے کہنا کہ ہمارے ہاں تو یہ مسئلہ اس قدر نہیں ہے۔ یہ سراسر چشم پوشی ہے۔ ہمارے ہاں یہ مسئلہ ہے۔ یہ کہہ سکتے ہیں کہ رپورٹ کم ہوتا ہے۔ اکثریت ایسا کوئی بھی واقع رپورٹ ہی نہیں کرواتی۔ اس لیے دنیا کے حقائق دینے کا مقصد ہر گز یہ نہیں کہ نا م نہاد تقدیس مشرق کے حدی خوان بنے پھریں جو اب بہت خال ہی کہیں اپنا وجود رکھتی ہے۔
    لیکن اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ پھر اگر یہ سب کچھ کے باوجود بھی خواتین محفوظ نہیں ہیں تو کیسے محفوظ ہوں گی۔
    لیکن اس کو سمجھنے سے پہلے ہم یہ جان لیں کہ پوری دنیا میں مرد خواتین کو اس بری نظر سے ہی کیوں دیکھتے ہیں تو معاملہ اس قدر سادہ نہیں ہے۔ صرف چست یا تنگ کپڑے پہننا ایک فیکٹر ہوسکتا ہے مگر یہ وجہ نہیں ہے۔
    وجوہات بہت ساری ہیں جو مل کر اس قدر دماغ کو خراب کردیتی ہیں کہ محرم رشتوں تک کا احترام بھی انسان بھول جاتا ہے۔
    سب سے پہلے اور سب سے بڑی وجہ میڈیا انڈسٹری ہے۔ میڈیا سے مراد فلم اور فیشن اور میڈیا کے تمام شعبے ہیں ۔ آپ اپنی میڈیا انڈسٹری کو دیکھیں ، کیا یہاں عورت کو بیچا نہیں گیا، اور پھر یکمشت نہیں بیچا گیا ، بلکہ اب تو ناز الگ بکے اور انداز الگ، جسم بھی ٹکڑے ٹکڑے کرکے بیچا گیا۔
    میں دنیا کی بات نہیں کرتا ، ہمارے اپنے ملک کو دیکھ لیں، چہرہ ایسا کہ ہر کوئی دیکھتا رہ جائے،
    نظر اٹھے اور مڑ نا پائے،
    آپ جہاں نظریں وہاں۔۔۔۔
    تو یہ ساری ٹیگ لائن جو دن رات ہمیں ٹی وی اشتہارات کی صورت دکھائی گئی تھیں کیا ان کا مقصد عورت کی عزت کرنا سھنا تھا یا حوا کی اس بیٹی کو ایک پراڈکٹ بنا کر بیچنا تھا۔
    پھر فلم انڈسٹری دیکھ لیں، دنیا بھر میں آڈلٹ سینز کے بغیر فلم نہیں بنتی، نیٹ فلکس کی شرائط میں شامل ہے کہ فلم میں ایسے سینز ہونا ضروری ہیں۔ سنسر بورڈ جیسے ڈھکوسلے تو صرف ہمارے ہوں ہیں۔ ڈھکوسلے اس لیے کہہ رہا ہوں کہ ان سے جو کچھ پاس ہوجاتا وہ سب بھی جنسی جذبات کو بھڑکانے کے لیے ہی استعمال ہوتا تھا۔
    اب ہر طرف میڈیا میں ، بل بورڈز پر عورت کی بھرمار، یہاں تک کہ مردانہ ریزر بھی عورت ہی بیچے، یہ سب دیکھ کر جنسی فرسٹریشن اپنی انتہا کو پہنچتی ہے۔
    پھر یہاں ایک دوسری وجہ کا آغاز کرتا ہوں ۔
    کتنے لوگ ہیں جو شادیاں دیر سے کرتے ہیں۔ ضرورت انہیں بہت پہلے ہوتی ہے۔ بجا کہ شادی صرف اسی ایک ضرورت کا نام نہیں ہے لیکن یہ بھی ایک ضرورت ہے۔ جب جائز طریقے سے یہ ضرورت پوری نہیں ہوتی تو پھر ایک انسان کب تک صبر کرسکتا ہے۔ میں نے ایسے لوگ دیکھے ہیں جو پارسائی کا یہ بوجھ سہتے ذہنی مریض ہوجاتے ہیں۔ اور رہ گیا ہمارا مذہبی طبقہ تو معذرت کے ساتھ یہ مسئلہ ان کی ترجیحات میں شامل ہی نہیں ہے۔مجے پتہ ہے کہ یہ جملہ بول کر میں بہت سی توپوں کا رخ اپنی طرف کررہا ہوں مگر حقیقت ایسی ہی ہے۔ ماسوائے چند ایک لوگوں کو چھوڑ کر یہی بھیڑ چال ہے۔
    اس سب کے بعد دماغ تو سن ہوجاتا ہے کہ پھر حل کیا ہے۔
    سن لیں جس طرح وجہ ایک نہیں ہے اسی طرح حل بھی ایک نہیں ہے۔ بلکہ ایک جامع لائحہ عمل کی ضرورت ہے۔ میرے جیسا بندہ چند گزارشات تو کر سکتا ہے مگر اس معاملے کو ہنگامی بنیاوں پر حل کرنے کی ضرورت ہے۔ ارباب اختیار و ارباب حل و عقد کو ایک مربوط لائحہ عمل بنانا چاہیے۔ بیٹوں اور بیٹیوں دونوں کی تربیت انتہائی ضروری ہے۔ جلد شادیوں کو رواج دیں۔ اور آگہی ضرور ہونی چاہیے۔ ہمارے قوانین جو ابھی تک برطانیہ نے بنائے تھے ، وہی چل رہے ہیں ۔ یہ قوانین رعایا کے لیے تھے۔ ان قوانین کو ترمیم کرنے کی ضرورت ہے۔ شہریوں کے لیے قانون سازی کرنی چاہیے۔ قصہ مختصر حل بھی بہت ہوسکتے ہیں، بس اس کے لیے سنجیدہ ہونے کی ضرورت ہے تاکہ ہماری بہنیں اور بیٹیاں محفوظ رہ سکیں۔ ورنہ خوف کی فضا میں دم گھٹ جاتے ہیں۔ اور معاشرے مردہ ہوجاتے ہیں۔
    حنظلہ عماد
    @hanzla_ammad

  • شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد رفیق اثری رحمہ اللہ علیہ (1937ء تا 2021ء) تحریر: احسان الحق

    27 ستمبر کو استاد العلماء، محدث العصر، شیخ الحدیث، حضرت مولانا محمد رفیق اثری رحمہ اللہ علیہ کے انتقال کی دلخراش اور افسوسناک خبر سنی. آپ کی وفات کا سن کر گہرا دلی صدمہ پہنچا. آپ ان چند لوگوں میں سے ایک تھے جن سے مجھے ملنے کی دلی حسرت تھی اور آپ کے انتقال کے ساتھ یہ حسرت، حسرت ہی رہ گئی. آپ سے ملنے سے پہلے آپ خالق حقیقی سے جا ملے.

    انا للہ واناالیہ راجعون.

    شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد رفیق اثری رحمہ اللہ علیہ 1937ء میں رشیداں والی میں پیدا ہوئے. تقریباً 1850ء میں مولانا عبدالعزیز رحمہ اللہ علیہ کو 1763 سے 1947 تک قائم رہنے والی ریاست پٹیالہ کی طرف سے کچھ رقبہ ملا. آپ عبدالعزیز رحمہ اللہ علیہ نے اس رقبے پر مسجد اور اپنا گھر بنایا، جہاں آپ کے سارے لڑکے آباد ہوئے. اس علاقے میں یہ اولین آبادکاری میں سے ایک تھی. مولانا عبدالعزیز رحمہ اللہ علیہ نے اپنے نام کی مناسبت سے اس جگہ کا نام "عزیز آباد” رکھا. بعد میں کسی وجہ سے اس جگہ کا نام رشیداں والی پڑ گیا اور آج بھی سرکاری کوائف میں اس جگہ نام رشیداں والی ہے. بھارتی پنجاب میں پٹیالہ کے اسی عزیز آباد یا رشیداں والی میں آپ مولانا اثری رحمہ اللہ علیہ پیدا ہوئے. مولانا اثری رحمہ اللہ کی پیدائش سے 87 برس قبل یہ گاؤں آباد ہوا، 1937 میں عزیزآباد کی آبادی دو سو گھرانوں تک پہنچ چکی تھی.

    مولانا محمد رفیق اثری رحمہ اللہ علیہ کے خاندان میں اسلام قبول کرنے والے پہلے آدمی کا نام طیب تھا. مولانا کا شجرہ نسب کچھ اس طرح سے ہے.

    محمد رفیق بن قائم دین بن علی شیر بن فریدو بن طیب.

    آپ کے والد صاحب نے آپکا نام محمد رفیق رکھا. زمانہ طالب علمی میں آپ نے محمد رفیق کے ساتھ اثری کا اضافہ خود کیا. مولانا رحمہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ میرے دادا مرحوم اسی گاؤں "رشیداں والی” میں ہجرت کرکے آئے اور یہیں آباد ہو گئے. 

    شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد رفیق اثری رحمہ اللہ علیہ کے والد محترم پرچون کی دوکان چلاتے تھے. آپ تین بھائی تھے اور آپ سب سے چھوٹے تھے. سب سے بڑے بھائی رحمت اللہ تھے جو ساتویں جماعت تک پڑھے پھر گھریلوں مسائل کی وجہ سے آگے نہ پڑھ سکے اور ان کی شادی بھی کر دی گئی، یہی بڑے بھائی والد صاحب کے ساتھ دوکان پر بھی بیٹھا کرتے تھے. درمیانے بھائی کا نام سلیم تھا.

    برصغیر کی تقسیم کے وقت عزیز آباد میں محض ایک گھر کے علاوہ باقی ساری آبادی مسلمان تھی. تقسیم کے وقت عزیز آباد بھارت کے حصے میں آ گیا اور بھارتی فوج نے زبردستی مسلمانوں سے یہ علاقہ خالی کرواتے ہوئے ساری مسلمان آبادی کو پاکستان ہجرت کرنے پر مجبور کر دیا. تقسیم برصغیر اور ہجرت کے وقت مولانا رحمہ اللہ علیہ کی عمر محض دس سال سے گیارہ سال کے درمیان تھی. آپ اپنے والد محترم اور بھائیوں سمیت خاندان کے ساتھ گنڈا سنگھ بارڈر سے پاکستان میں داخل ہو گئے اور بذریعہ ریل گاڑی لودھراں پہنچے. آپ کے خاندان کو ڈیرہ غازی خان جانے کو کہا گیا. آپ کا خاندان لودھراں سے ملتان آیا اور یہیں رک گیا، کیوں کہ کسی نے بتایا تھا کہ ڈیرہ غازی خان پہاڑی اور بنجر علاقہ ہے. اسی لئے آپ کے والد صاحب نے ڈیرہ غازی خان نہ جانے کا فیصلہ فرمایا. ملتان میں ایک ماہ قیام کے بعد آپ کے والد صاحب کو پتہ چلا کہ جلال پور میں رشیداں والی کے کچھ خاندان آباد ہو چکے ہیں. آپ کے والد صاحب نے جلال پور جانے کا پروگرام بنایا، محض یہ دیکھنے کے لئے کہ جلال پور میں رشیداں والی کے لوگ آباد ہیں یا نہیں. جلال پور جا کر معلوم ہوا کہ واقعی رشیداں والی کے کافی لوگ رہائش پذیر ہیں. آپ کے والد صاحب قائم دین نے جلال پور میں مستقل سکونت اختیار کرنے کا فیصلہ فرمایا.

    مولانا عبدالعزیز رحمہ اللہ علیہ کی تبلیغ اور تعلیم سے پورا رشیداں والی اہل حدیث تھا. دارالحدیث رحمانیہ رشیداں والی سے ناظرہ قرآن مجید مکمل کیا اور جب آپ ہجرت کرکے پاکستان آئے تو 29واں اور 30واں پاراں پڑھ رہے تھے یا پڑھ چکے تھے. ابتدائی ایک ماہ آپ دیوبندی مدرسہ میں مولانا نور محمد صاحب سے پڑھتے رہے. بعد میں معلوم کرنے پر آپ کو اہل حدیث مدرسے کا پتہ چلا تو آپ وہاں چلے گئے. آپ نے مولانا حافظ خوشی محمد صاحب سے قرآن مجید مکمل کیا.

    لودھراں کے قریب براتی والا کے نام سے ایک جگہ ہے۔ وہاں جلالپور مدرسہ کے فارغ التحصیل مولانا عبدالرحمان صاحب رحمۃ اللہ علیہ تھے. انہوں نے پرائیویٹ سکول بنایا تھا. انکی ترغیب سے محلے اور خاندان کے تقریباً پندرہ لڑکے ان کے پاس چلے گئے. ان لڑکوں میں مولانا اثری رحمہ اللہ علیہ بھی تھے. یہ ان دنوں کی بات ہے جب کشمیر محاذ کھل چکا تھا اور طلبا کو جہاد کی تربیت دی جاتی تھی. آپ نے مولانا عبدالرحمن سے پرائمری تک سکول کی تعلیم، خوشخطی، فارسی کی ابتدائی تعلیم اور جہاد کی تربیت لی. یاد رہے کہ مولانا اثری رحمہ اللہ علیہ خوش خط تھے. اس لیے شیخ محترم محدث جلال پوری سلطان محمود رحمہ اللہ علیہ اثری صاحب سے فتاویٰ جات لکھوایا کرتے تھے. مولانا عطاء اللہ حنیف بھوجیانی رحمہ اللہ علیہ بھی اثری صاحب سے وقتاً فوقتاً مضامین لکھواتے رہتے تھے.

    ایک بار مولانا محمد اسحاق بھٹی رحمہ اللہ علیہ کے سامنے اثری صاحب کا ذکر ہوا تو بھٹی رحمہ اللہ علیہ فرمانے لگے کہ "وہی محمد رفیق جس کی لکھائی بہت اچھی ہے؟”

    مولانا عبیداللہ صاحب رحمہ اللہ علیہ اور مولانا ادریس صاحب رحمہ اللہ علیہ دار الحدیث رحمانیہ رشیداں والی کے فضلاء تھے جن کی محنت سے رشیداں والی گاؤں کے لوگوں نے مسلک اہل حدیث قبول کیا. مولانا اثری رحمہ اللہ علیہ کے والد صاحب ان دونوں سے بہت متاثر تھے. اسی وجہ سے آپ کے والد محترم نے خواہش کا اظہار کیا کہ کیوں نہ میری اولاد میں سے بھی کوئی عالم اسلام پیدا ہو چنانچہ مولانا اثری رحمہ اللہ علیہ کو اپنے بھائی کے ساتھ جلال پور مدرسہ میں داخل کروا دیا گیا.

    1956 میں آپ فارغ التحصیل ہوئے اور 1954 سے 1956 کی چھٹیوں میں لاہور جا کر جامعہ تقویتہ الاسلام میں مولانا محمد شریف رحمہ اللہ علیہ سے منطق اور فلسفہ کی تعلیم حاصل کرتے رہے. مولانا محمد عبداللہ امجد چھتوی رحمہ اللہ علیہ آپ کے کلاس فیلو ہیں.

    مولانا شریف سے مراد مولانا شریف اللہ خان سواتی ہیں. شریف اللہ خان سواتی رحمہ اللہ علیہ جامعہ سلفیہ میں پڑھاتے تھے اور چھٹی کے دنوں میں مولانا داؤد غزنوی رحمۃ اللہ علیہ کے حکم پر تقویۃ الاسلام میں شمس بازغۃ، سلم العلوم، ھدایۃ الحکمۃ اور منطق و فلسفہ کی دیگر کتب پڑھاتے تھے. مولانا محمد رفیق اثری رحمہ اللہ علیہ نے مذکورہ بالا کتب کی تعلیم مولانا سلطان محمود محدث جلالپوری رحمۃ اللہ علیہ سے مکمل کی تھی مگر مولانا شریف اللہ خان صاحب سے دوبارہ پڑھیں.

    ایک بار لیبیا سے شیخ عمر صاحب ملتان میں حافظ عبدالمنعم صاحب کے پاس آئے. شیخ صاحب نے کہا کہ مجھے ان پندرہ روایات کی تخریج مطلوب ہے، مجھے کسی عالم کے بارے میں بتاؤ جو یہ کام کرسکے. حافظ عبدالمنعم نے شیخ عمر کو شیخ الحدیث مولانا محمد رفیق اثری رحمہ اللہ علیہ کے پاس بھیج دیا. اثری رحمہ اللہ علیہ نے ان کا کام کردیا اور باتوں باتوں میں کہا کہ مؤطا پر زیادہ کام مغربی علماء نے کیا ہے جو لیبیا اور مراکش وغیرہ میں آباد ہیں. اثری رحمہ اللہ علیہ نے فرمایا کہ "میں نے بھی مؤطا پر کام کیا ہے، میں چاہتا ہوں کہ مجھے کسی مغربی عالم سے سند حاصل ہو.” شیخ نے اثری رحمہ اللہ علیہ کی بات ذہن میں رکھی اور تیونس کے شیخ محمد شاذلی صاحب سے بات کی. شیخ شاذلی نے اثری صاحب کو خط لکھا کہ آپ نے مغربی عالم سے سند کی خواہش کی ہے، میں آپ کو سند دیتا ہوں اور السبت الصغیر کے نام سے آٹھ صفحات میں اپنی سند بھیج دی جو سفیان بن عیینہ رحمہ اللہ تک المسلسل بالاولویۃ ہے. یہ سند پاکستان میں صرف مولانا اثری رحمہ اللہ علیہ کے پاس ہی ہے.

    ایک بار آپ مولانا اثری رحمہ اللہ علیہ اپنے اساتذہ کا ذکر فرما رہے تھے اور بتایا کہ حافظ غلام نبی صاحب، حافظ نور محمد صاحب، حافظ خوشی محمد صاحب، مولانا عبدالرحمان صاحب، مولانا شریف اللہ سواتی صاحب اور مولانا سلطان محمود محدث جلالپوری صاحب رحمۃ اللہ علیہم. مولانا عبدالحمید صاحب، مولانا عبدالقادر بہاولپوری صاحب، مولانا عبدالرحیم عارف صاحب، مولانا محمد قاسم شاہ صاحب، مولانا عبدالقادر مہند صاحب، مولانا عبداللہ مظفر گڑھی صاحب اور  مولانا عطاء اللہ حنیف بھوجیانی رحمۃ اللہ علیھم میرے اساتذہ میں شامل ہیں.

    اولاد میں مولانا رفیق اثری رحمہ اللہ علیہ کے سات بیٹے اور پانچ بیٹیاں ہیں. آپ کے پوتے دنیاوی تعلیم کے ساتھ ساتھ قرآن مجید اور حدیث کی تعلیم بھی حاصل کر رہے ہیں. مولانا اثری رحمہ اللہ علیہ کے نصف درجن نواسے اور پوتے حافظ ہیں. آپ کی باوفا اور باشعار بیوی کا انتقال آپکی حیاتی میں ہو گیا تھا. مولانا محمد رفیق اثری صاحب کی تصانیف کی تعداد 2 درجن سے بھی زیادہ ہے، اس کے علاوہ آپ کافی عربی کتب کا اردو میں ترجمہ بھی کر چکے ہیں. موطا اور مشکوٰۃ کے حواشی لکھے، اسی طرح الفیۃ الحدیث کے حواشی ہیں. مولانا رحمہ اللہ علیہ نے کئی تراجم بھی کیے ہیں. ایک عرب عالِم الشيخ عبدالله بن عبيد کی کتاب هداية الناسك کا مناسک الحج کے نام سے ترجمہ کیا. رؤیت ھلال کے بارے ایک کتاب کا ترجمہ کیا ہے. اسی طرح شرح خطبہ حجۃ الوداع اور بھی کئی چھوٹے بڑے رسالوں کا اردو ترجمہ کر چکے ہیں. مختلف رسائل کی تعدا بہت زیادہ ہے جن آپکا اردو ترجمہ کر چکے ہیں. قاضی ثناء اللہ پانی پتی رحمہ اللہ علیہ کی شیعہ کے بارے ایک  السیف المسلول نامی کتاب ہے، یہ کتاب صرف ایک بار ہی دہلی سے چھپی تھی. اس کتاب کی اصل مطبوع نہیں ملی جس کی وجہ سے کافی غلطیاں تھیں، مولانا اثری رحمہ اللہ علیہ نے ان تمام غلطیوں کو درست کرتے ہوئے اس کتاب کا اردو میں ترجمہ کیا.

    غالباً 1947 کے اواخر یا 1948 کی شروعات میں مولانا محمد رفیق اثری رحمہ اللہ علیہ نے دارالحدیث محمدیہ جلال پور میں داخلہ لیا. 1956 میں فارغ التحصیل ہوئے اور محدث جلالپوری سلطان محمود رحمہ اللہ علیہ کے حکم پر 1956 سے ہی ادارے میں تدریسی فرائض سرانجام دینا شروع کیے. 2021 میں آخری سانس لینے تک آپ اسی ادارے کے ساتھ منسلک رہے. 1948 سے 1956 تک شعبہ تعلیم کے 8 سے 9 سال اور 1956 سے 2021 تک شعبہ تدریس کے تقریباً 65 سال، علالت اور آخری سانس لینے تک 84 سالہ زندگی کے مجموعی طور پر تقریباً 73 سال دارالحدیث محمدیہ جلال پور کو دئیے.

    آپ طویل عرصے سے علیل تھے. آخری چند روز آپ کی علالت میں شدت آ گئی اور آپ سول ہسپتال میں ڈاکٹروں کی زیرنگرانی انتہائی نگہداشت میں تھے. جہاں آپ نے 27 ستمبر کو اپنی زندگی کی آخری سانس لی اور خالق حقیقی سے جا ملے.

    اللہ سبحانہ وتعالیٰ مولانا اثری رحمہ اللہ علیہ کے درجات بلند فرمائیں، اگلے تمام معاملات اور مراحل آسان ترین فرمائیں اور جنت الفردوس میں اعلیٰ ترین مقام عطا فرمائیں.

    آمین، ثم آمین.

     سبحانک اللھم وبحمدک اشھد ان لا اله الا انت استغفرک و اتوب الیک.

    @mian_ihsaan

  • سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم تحریر ثمینہ اخلاق

    سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم۔ 

    ‏حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات تمام کمالات کا مجموعہ ہے۔انسانوں میں سے کوئی بھی ہو اور کسی حال میں بھی ہو، اُس کی زندگی کے لیے نمونہ اور اس کے کردار واعمال کی درستی واصلاح کے لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حیاتِ مبارکہ میں مکمل رہنمائی موجود ہے

    آپ ﷺ ۱۲ ربیع الاول کو دنیا میں تشریف لائے۔ اللّٰہ کے فضل سے ربیع الاول کا مہینہ پھر سے ہمیں نصیب ہوا ہمیں چاہیے کہ زیادہ سے زیادہ سیرتِ سرورِ کائنات صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بارے میں جانے اور اس مہینے کی مناسبت سے میلاد النبی کا اہتمام کرے اور درودپاک کا ورد کریں۔ 

    ایک مسلمان کی حیثیت سے سیرتُ النبی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا مطالعہ ہمارے لیے بہت ضروری ہے۔نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وآلہٖ وسلم کی سیرتِ مبارکہ ہی ایک ایسی سیرت ہے جس میں زندگی کے ہر شعبے کے متعلق رہنمائی ملتی ہے۔ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وآلہٖ وسلم کی سیرت میں آپ ﷺ کے اخلاقِ حسنہ کے بارے میں بہت کچھ ملتا ہے جیسے خُلقِ عظیم، صبر وتحمل،اخلاص وتقویٰ،عدل واحسان،حُسنِ معاشرت،اندازِگفتگو اور گھریلو زندگی۔ 

    ہماری خوش نصیبی ہے کہ آپ ﷺ کی زندگی کا کوئی پہلو بھی ہماری پہنچ سے دور نہیں ہے۔ ہمیں حضورِ اکرم صلی اللّٰہ علیہ وآلہٖ وسلم کے اخلاق حسنہ کی روشنی میں زندگی گزارنی چاہیئے۔ہم رسول ﷺ کے اسوہ حسنہ کی روشنی میں صبر کی خوبیاں اپنائیں اور ہر قسم کی جسمانی ومالی آزمائشوں پر صبر کریں تا کہ اللہ تعالیٰ کی رضا اور زندگی کے ہر میدان میں کامیابی حاصل کر سکیں۔ ہم مکمل اخلاص وتقویٰ کے ساتھ اللّٰہ تعالیٰ کا خوف دل میں رکھتے ہوئے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اطاعت کریں اور نبی ﷺ کے بتائے ہوئے راستے کو اپنائیں۔یہی راہِ نجات ہے۔ 

    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عدل و احسان کی بڑی فضیلت بیان کئ ہے۔ آپﷺ سب سے زیادہ عدل اور احسان فرمانے والے تھے۔ اللّٰہ تعالیٰ عدل اور احسان کرنے والے سے محبت کرتا ہے۔

      ہمیں اپنی روزمرہ زندگی میں عدل و احسان سے کام لینا چاہیے، تا کہ اللہ تعالیٰ اور اس کا رسول ﷺ ہم سے خوش ہو جائیں اور ہمارا معاشرہ امن کا گہوارہ بن جائے۔

        غرض یہ کہ رسول ﷺ نے تمام زندگی اپنے ہاتھ اور زبان مبارک سے کسی کو نقصان نہیں پہنچایا بلکہ آپ ﷺ نے معاشرے کے تمام افراد کو حسن معاشرت کی ترغیب دلائی اور اس کا طریقہ بھی سکھایا۔ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ترجمہ (جو شخص اللہ تعالیٰ اور آخرت پر یقین رکھتا ہو تو وہ اچھی بات کہے ورنہ خاموش رہے۔)

           ہمیں چاہیے کہ اسوہ رسول اپنا کر ہم اپنے معاشرے میں اخوت،محبت اور رواداری کو پروان چڑھائیں۔

              رسول ﷺ کے خلق عظیم کا ایک نہایت اہم پہلو آپ ﷺ کا شیریں بیان اور حکیمانہ اندازِ گفتگو ہے۔ اللّٰہ تعالیٰ نے قیامت تک آپ ﷺ کی ذات مبارکہ کو اسوہ حسنہ بنایا ہے۔ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایسی گفتگو سے منع فرمایا جس سے لوگوں کی دل آزاری ہو اپنی زبان کی حفاظت کرنے والے شخص کو آپ ﷺ نے جنت کی ضمانت دی ہے۔ ہمیں چاہیے کہ اسوہ رسول ﷺ کی روشنی میں ہمیشہ اچھی بات کریں۔ بامقصد اور مفید گفتگو کریں۔فصول اور برے کلمات سے بچیں تا کہ ہماری گفتگو کے ذریعے آپس میں میل جول بڑھے اور معاشرے میں خوشگوار تعلقات فروغ پائیں۔

              رسول اللہ ﷺ کی گھریلو زندگی ساری اُمت مسلمہ کے لیے مشعل راہ ہے۔ غمی، خوشی،تنگدستی،خوشحالی،غرض تمام حالتوں میں آپ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کی زندگی بہترین نمونہ ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حیاتِ مبارکہ دنیا بھر کے مسلمانوں کے لیے زندگی کے ہر میدانوں میں قابلِ عمل ہے۔آپ ﷺ کی سیرتِ مبارکہ کو اللہ تعالیٰ نے بھی مسلمانوں کے لیے بہترین نمونہ اقرار دیا ہے۔ اس لیے ہمیں چاہیے کہ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلّم کی سیرتِ طیبہ پر عمل کریں تا کہ دنیا و آخرت میں فلاح پا سکیں

     تحریر: ثمینہ اخلاق

     @SmPTI31

     

  • گوجرانوالہ میں عشرہ شان رحمت اللعالمین مذہبی جوش وجذبے سے منانے کا اعلان

    گوجرانوالہ میں عشرہ شان رحمت اللعالمین مذہبی جوش وجذبے سے منانے کا اعلان

    گوجرانوالہ میں عشرہ شان رحمت اللعالمین مذہبی جوش وجذبے سے منانے کا اعلان

    گوجرانوالہ: گوجرانوالہ ضلعی انتظامیہ کی جانب سے عشرہ شان رحمت اللعالمینﷺ” مذہبی جوش وجذبے سے منانے کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔
    تفصیلات کے مطابق وزیراعلی پنجاب سردارعثمان بزدارکی ہدایات کی روشنی میں گوجرانوالہ میں یکم ربیع الاول سے 12ربیع الاول” عشرہ شان رحمت اللعالمینﷺ” دینی ومذہبی جو ش وخروش اور شایان شان طریقےسے منایاجائے گا۔
    ڈپٹی کمشنر گوجرانوالہ دانش افضال نے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر کہا کہ عشرہ شان رحمت اللعالمین صلی اللہ علیہ وسلم کے سلسلہ میں پہلی مرکزی شان رحمت اللعامین صلی اللہ علیہ وسلم کانفرنس اتوارکے روز ڈویژنل پبلک سکول میں ہوگی۔
    اس کے علاوہ سکول ایجوکیشن، ہائرایجو کیشن، محکمہ اوقاف ومذہبی امور، محکمہ صحت، آرٹس کونسل، بلدیاتی ادارے ودیگرمحکمے محافل نعت، محفل حسن قرات، نعتیہ مشاعرے اورتقریری مقابلوں کا انعقاد کریں گے۔

  • اگر کوئی پوچھے کہ میلاد منانا کہاں لکھا ہے تُو اس سے کہو ہماری قسمت میں  تحریر محمد کاشف وارثی

    اگر کوئی پوچھے کہ میلاد منانا کہاں لکھا ہے تُو اس سے کہو ہماری قسمت میں تحریر محمد کاشف وارثی

    ہماری استاد فرماتے ہیں 

    کے اگر ساری ذندگی اس بات پر شکر ادا کرتے رہیں کے اپ سرکار صلی اللہ علیہ وسلم   دنیا میں تشریف لائے اور ہماری نجات بنے تو بھی کم ہے میں دیکھتا ہوں جدید انسان نے اس میں بھی کمی کر دی نہ درود نہ دعا میں سمجھتا ہوں اس وقت بہت عقیدت سے منانا چاہیے سرکار صلی اللہ علیہ وسلم کا میلاد مبارک تاکہ جو ناپاک لوگ اپ کے خاکے بنانے کا سوچتے ہیں ان کو لگ پتہ جائے کے مسلم اج بھی سب سے ذیادہ محبت اپنے اخری نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کرتے ہیں اور ہر وقت مر مٹنے کے لیے تیار ہیں 

    جو بھی مانگا وہ ملا ان کے کرم کے صدقے 

    ذندگی جتنی بھی باقی ہے ان کے قدموں میں گزر جائے دعا کرتے ہیں 

    ایک نعت کا شعر 

    ملتی نہ اگر بھیک خضور اپ کے در سے 

    اس ٹھاٹ سے منگتوں کے گزارے نیں ہوتے 

    یہ ناز یہ انداز ہمارے نیں ہوتے 

    جھولی میں اگر ٹکرے تمارے نیں ہوتے 

    اپ سب کو یاد ہوگا کے جب میلاد کا مہنہ اتا تو ہر طرف روشنیاں ہوتی 

    بارہ ربیع اول کی تیاریاں ہوتی تھیں اب دیکھنے میں اتا ہے کے لوگ ازادی کا مہنہ اور باقی ایونٹ تو بڑے جوش سے مناتے ہیں مگر اس طرف بس محفل میں چلا گیا اور نعتن سن لیں بس فرض ادا ہوگیا 

    مجھے لگتا ہے نوجوانوں میں اس بات کو دوبارہ ذندہ کرنا ہوگا 

    مجھے یاد ہے جب ہم جھوٹے تھے تو ہمارے بڑے ہمیں ساتھ لے کے جاتے میلاد شریف کے جلوس میں مگر اب وہ چیزیں کم دیکھائی دیتی ہیں 

    جہاں تک بات مجھے سمجھ لگتی ہے کے اب لوگ اپنے بچوں کی دنیاوی تعلم کے لیے تو ٹیوشن اور اچھے سکول دیکھتے اور ساتھ ساتھ چیک بھی کرتے ہیں کے بچہ سہی جا رہا کے نیں مگر دینی تعلم کی طرف توجہ کم ہے میں پڑی لکھی ماوں سے کہنا چاہتا ہوں پلز خدا رہ اس طرف بھی تھوڑی توجہ کریں  خدا کی قسم ہماری مائیں اتنی پڑی نیں تھیں مگر سپارہ پڑنے لازمی بھجتی تھیں نعتیں سنتی تھی خاص کر کے جمعہ والے دن ہم مسجد جاتے اور اماں گھر میں نعت سنتی جب جمعہ پڑ کے اتے تو گھر سے انعام ملتا اور وہ شوق اج بھی سلامت ہے کریم اللہ یہ شوق سلامت رکھے 

    اپنے گھروں کو سجائیں بچوں کو سمجھائیں کے اگر ہم اپنی چھوٹی چھوٹی خوشیاں اتنی اچھی منائیں تو اس بڑی اور پاک خوشی کو بھی اعلی انداز میں منائیں 

    میں کسی مذہبی بعث میں نیں پڑنا چاہتا بس اتنا کہنا چاہتا ہوں کے سب مل کے سرکار کی امد پر درود شریف کی محفلیں سجائیں نعتیں پڑیں جس طرح اج کل کے فتنے نکل رہے ہیں ہم کو ہر طرح سے اپنی نسلوں کو یہ عشق کی روشنی دے کر جانی چاہیے ورنہ خدا نہ کرے جس طرح اجکل نوجوان دین سے دوری رکھے ہوئے ہے یہ لوگ نعت گوئی اور درود شریف کی محفل سے دور نہ ہو جاہیں 

    ایک نعت میں ہے

    بے دام ہی بیک جاوں میں بازار نبی میں 

    اس شان کے سودے میں خسارے نیں ہوتے 

    اے رب ذولجال ہمیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا سچا عشق عطا فرمائے کریم اللہ ہماری انے والی نسلوں کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے عشق کی لذت عطا فرمائے 

    وسلام

  • اللہ خالق و مالک کی پہچان تحریر : ذیشان رشید راشدی

    اللہ خالق و مالک کی پہچان تحریر : ذیشان رشید راشدی

    اللہ تعالیٰ واحدہ لا شریک ذات ہے جس کا کوئی شریک نہیں ۔ اللہ تعالٰی ازل سے ہے  ابد تک رہے گا۔ اس نے اس کائنات کو تخلیق کیا ۔ اس میں زمین کا فرش بچھایا ، پہاڑوں کی میخیں لگائیں اور آسمان کی نیلی چھت بنائی ۔ چرند پرند ، مویشی ، انسان ، جنات اور ایسی مخلوقات کی خلقت فرمائی جن کے بارے میں ہم نہیں جانتے ۔ کائنات کی تمام مخلوقات اس کی عبادت کرتی ہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے انسانوں اور جنات  کو پیدا کیا تو ان کی پیدائش کا مقصد اپنی عبادت کو ٹھہرایا ۔ اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے آخری نبی خاتم النبیین حضرت محمد ﷺ کے سینہ اطہر پر نازل ہونے والی آخری اور حتمی  کتاب قرآن مجید میں ارشاد فرماتے ہیں  

    وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنْسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ

    اور میں نے جنوں اور انسانوں کو پیدا نہیں کیا مگر اس لیے کہ وہ میری عبادت کریں۔

    الذاريات : 56

    اسی طرح اللہ تبارک و تعالیٰ نے قرآنِ مجید فرقانِ حمید میں اور بھی بہت سے مقامات پر اپنی عبادت کا حکم دیا ہے جن میں سے چند ایک آیات یہاں درج کی جاتی ہیں 

    يَا أَيُّهَا النَّاسُ اعْبُدُوا رَبَّكُمُ الَّذِي خَلَقَكُمْ وَالَّذِينَ مِنْ قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ

    اے لوگو! اپنے رب کی عبادت کرو جس نے تمھیں پیدا کیا اور ان لوگوں کو بھی جو تم سے پہلے تھے، تاکہ تم بچ جاؤ۔

    البقرة : 21

    يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُلُوا مِنْ طَيِّبَاتِ مَا رَزَقْنَاكُمْ وَاشْكُرُوا لِلَّهِ إِنْ كُنْتُمْ إِيَّاهُ تَعْبُدُونَ

    اے لوگو جو ایمان لائے ہو! ان پاکیزہ چیزوں میں سے کھاؤ جو ہم نے تمھیں عطا فرمائی ہیں اور اللہ کا شکر کرو، اگر تم صرف اس کی عبادت کرتے ہو۔

    البقرة : 172

    وَاعْبُدُوا اللَّهَ وَلَا تُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا وَبِالْوَالِدَيْنِ إِحْسَانًا وَبِذِي الْقُرْبَى وَالْيَتَامَى وَالْمَسَاكِينِ وَالْجَارِ ذِي الْقُرْبَى وَالْجَارِ الْجُنُبِ وَالصَّاحِبِ بِالْجَنْبِ وَابْنِ السَّبِيلِ وَمَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ إِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ مَنْ كَانَ مُخْتَالًا فَخُورًا

    اور اللہ کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ بناؤ اور ماں باپ کے ساتھ اچھا سلوک کرو اور قرابت والے کے ساتھ اور یتیموں اور مسکینوں اور قرابت والے ہمسائے اور اجنبی ہمسائے اور پہلو کے ساتھی اور مسافر (کے ساتھ) اور (ان کے ساتھ بھی) جن کے مالک تمھارے دائیں ہاتھ بنے ہیں، یقینا اللہ ایسے شخص سے محبت نہیں کرتا جو اکڑنے والا، شیخی مارنے والا ہو۔

    النساء : 36

    قُلْ إِنِّي نُهِيتُ أَنْ أَعْبُدَ الَّذِينَ تَدْعُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ قُلْ لَا أَتَّبِعُ أَهْوَاءَكُمْ قَدْ ضَلَلْتُ إِذًا وَمَا أَنَا مِنَ الْمُهْتَدِينَ

    کہہ دے بے شک مجھے منع کیا گیا ہے کہ میں ان کی عبادت کروں جنھیں تم اللہ کے سوا پکارتے ہو، کہہ دے میں تمھاری خواہشوں کے پیچھے نہیں چلتا، یقینا میں اس وقت گمراہ ہوگیا اور میں ہدایت پانے والوں میں سے نہیں ہوں۔

    الأنعام : 56

    إِنَّ الَّذِينَ عِنْدَ رَبِّكَ لَا يَسْتَكْبِرُونَ عَنْ عِبَادَتِهِ وَيُسَبِّحُونَهُ وَلَهُ يَسْجُدُونَ

    بے شک جو لوگ تیرے رب کے پاس ہیں، وہ اس کی عبادت سے تکبر نہیں کرتے اور اس کی تسبیح کرتے ہیں اور اسی کو سجدہ کرتے ہیں۔

    الأعراف : 206

    زمین اور آسمان کی تخلیق کے بارے میں خالق کائنات نے فرمایا 

    إِنَّ رَبَّكُمُ اللَّهُ الَّذِي خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ فِي سِتَّةِ أَيَّامٍ ثُمَّ اسْتَوَى عَلَى الْعَرْشِ يُدَبِّرُ الْأَمْرَ مَا مِنْ شَفِيعٍ إِلَّا مِنْ بَعْدِ إِذْنِهِ ذَلِكُمُ اللَّهُ رَبُّكُمْ فَاعْبُدُوهُ أَفَلَا تَذَكَّرُونَ

    بے شک تمھارا رب اللہ ہی ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو چھ دنوں میں پیدا کیا، پھر وہ عرش پر بلند ہوا۔ ہر کام کی تدبیر کرتا ہے۔ کوئی سفارش کرنے والا نہیں مگر اس کی اجازت کے بعد، وہی اللہ تمھارا رب ہے، سو اس کی عبادت کرو۔ تو کیا تم نصیحت حاصل نہیں کرتے۔

    يونس : 3

    اللہ خالق و مالک نے انسان کو دو راستے دکھائے اور ان کا انجام بھی بتایا ۔ اللہ نے بتایا کہ اگر نیکی کے راستے پر چلو گے تو تمہارے لیے اللہ کے ہاں جنتیں ہیں جہاں لازوال نعمتیں ہوں گی۔ اور اگر برائی کے راستے پر گامزن ہو جاؤ گے تو تمہارے لیے دوزخ کا دردناک عذاب تیار کیا گیا ہے ۔ 

    ارشاد باری تعالیٰ ہے 

    وَالَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ أُولَئِكَ أَصْحَابُ الْجَنَّةِ هُمْ فِيهَا خَالِدُونَ

    اور جو لوگ ایمان لائے اور انھوں نے نیک اعمال کیے وہی جنت والے ہیں، وہ اس میں ہمیشہ رہنے والے ہیں۔

    البقرة : 82

    جنت میں داخلہ اور جہنم سے نجات کو اللہ تعالیٰ نے حقیقی کامیابی قرار دیا ہے 

    اللہ رب العالمین نے ارشاد فرمایا 

    كُلُّ نَفْسٍ ذَائِقَةُ الْمَوْتِ وَإِنَّمَا تُوَفَّوْنَ أُجُورَكُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَمَنْ زُحْزِحَ عَنِ النَّارِ وَأُدْخِلَ الْجَنَّةَ فَقَدْ فَازَ وَمَا الْحَيَاةُ الدُّنْيَا إِلَّا مَتَاعُ الْغُرُورِ

    ہر جان موت کو چکھنے والی ہے اور تمھیں تمھارے اجر قیامت کے دن ہی پورے دیے جائیں گے، پھر جو شخص آگ سے دور کر دیا گیا اور جنت میں داخل کر دیا گیا تو یقینا وہ کامیاب ہوگیا اور دنیا کی زندگی تو دھوکے کے سامان کے سوا کچھ نہیں۔

    آل عمران : 185

    وہ لوگ جو اللہ تبارک و تعالیٰ کے احکامات کو نہیں مانتے اس سے اعراض کرتے ہیں ان کے لیے اللہ تبارک و تعالیٰ نے جہنم کا درناک عذاب تیار کیا ہوا ہے 

    اللہ مالک کائنات نے قرآنِ حکیم فرقانِ حمید میں ارشاد فرمایا 

    قُلْ لِلَّذِينَ كَفَرُوا سَتُغْلَبُونَ وَتُحْشَرُونَ إِلَى جَهَنَّمَ وَبِئْسَ الْمِهَادُ

    ان لوگوں سے کہہ دے جنھوں نے کفر کیا کہ تم جلد ہی مغلوب کیے جاؤ گے اور جہنم کی طرف اکٹھے کیے جاؤ گے اور وہ برا ٹھکانا ہے۔

    آل عمران : 12

    اللہ تعالٰی کی معرفت کا حاصل کرنا ایک انسان خصوصاً مسلمان کے لیے لازم ہے ۔ اگر کائنات اور اس کی وسعتوں ، چرند پرند ، جانوروں اور انسانوں کو تفکر اور تدبر سے دیکھا جائے تو خالق اور مالک کی پہچان ہوجاتی ہے کہ کوئی تو ذات ہے جس نے یہ سب کچھ پیدا کیا اور وہ ذات اللہ وحدہ لا شریک ذات ہے‍ ۔ اللہ کی حمد و ثناء لکھنے کے لیے اگر سارے سمندروں کو سیاہی بنادیا جائے اور تمام درختوں کی قلمیں بنادی جائیں تو پھر بھی اس پروردگار کی تعریفیں اور حمد و ثناء ختم نہیں ہوتی ۔ 

    اس بات کو اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں اس طرح بیان فرمایا ہے 

    قُلْ لَوْ كَانَ الْبَحْرُ مِدَادًا لِكَلِمَاتِ رَبِّي لَنَفِدَ الْبَحْرُ قَبْلَ أَنْ تَنْفَدَ كَلِمَاتُ رَبِّي وَلَوْ جِئْنَا بِمِثْلِهِ مَدَدًا

    کہہ دے اگر سمندر میرے رب کی باتوں کے لیے سیاہی بن جائے تو یقینا سمندر ختم ہوجائے گا اس سے پہلے کہ میرے رب کی باتیں ختم ہوں، اگرچہ ہم اس کے برابر اور سیاہی لے آئیں۔

    الكهف : 109

    وَلَوْ أَنَّمَا فِي الْأَرْضِ مِنْ شَجَرَةٍ أَقْلَامٌ وَالْبَحْرُ يَمُدُّهُ مِنْ بَعْدِهِ سَبْعَةُ أَبْحُرٍ مَا نَفِدَتْ كَلِمَاتُ اللَّهِ إِنَّ اللَّهَ عَزِيزٌ حَكِيمٌ

    اور اگر ایسا ہو کہ زمین میں جو بھی درخت ہیں قلمیں ہوں اور سمندر اس کی سیاہی ہو، جس کے بعد سات سمندر اور ہوں تو بھی اللہ کی باتیں ختم نہ ہوں گی، یقینا اللہ سب پر غالب، کمال حکمت والاہے۔

    لقمان : 27

    ( ترجمہ از تفسیر القرآن الکریم حافظ عبدالسلام بن محمد حفظہ اللہ تعالیٰ )

  • سودی نظام اور ہماری معیشت ( حصہ اول )۔۔۔ تحریر : اقصی یونس

    وہ شخص کندھے جھکائے آنکھوں میں ندامت کے آنسو لئے زمیں میں نظریں گاڑھے بیٹھا تھا ۔ اور اسے لگ رہا تھا کہ شاید کبھی یہ نظریں اٹھ نہ پائیں گی ۔ کیونکہ اس نے اللہ سے جنگ کی تھی ۔ اس نے اپنی زندگی کے قیمتی سال ، اپنی صلاحیتیں ، اپنی توانائی ایک ایسے مغربی نظام پہ خرچ کی تھی ۔ جسکی اسکے مذہب میں کوئی جگہ نہ تھی مگر اسے واپسی کا کوئی راستہ بھی نظر نہ آ رہا تھا ۔ اور مسلسل اس کی زبان پہ یہی الفاظ تھے ۔ کہ میں نے سود والا رزق چن کر اللہ کی حد توڑ دی ۔ وہ رو رہا تھا وہ اعتراف جو اسکا ضمیر کئی سال سے کر رہا تھا آج پہلی بار وہ یہ اعتراف کسی انسان کے سامنے دہرا رہا تھا۔ اور اسے محسوس ہورہا تھا کہ یہ اعتراف اسے اندر ہی اندر کوڑے مار مار کر شاید نگل جائے گا ۔ یہ ضمیر کا کوڑا ہر اس شخص کو ضرور ایک دن لگتا ہے جو بالواسطہ یا بلاواسطہ سود کے کاروبار سے منسک ہے۔

    مغربی مالیاتی نظام یہودیوں نے قائم کیا ۔ اور مالیاتی نظام نے دنیا کی معشیت کو آکٹوپس کی طرح جکڑ لیا ہے ۔ اب اگر کوئی اس جکڑ سے نکلنا بھی چاہے تو یہ کام اتنا آسان نہیں۔ کیونکہ دنیا میں مغربی مالیاتی نظام کے بانی یہودی ہیں ۔ اور وہ اس نظام کو موثر اور کامیاب بنانے میں قابل رشک حد تک کامیاب ہیں ۔ یہ وہی سود ہے جو بنی اسرائیل کے زوال اور ذلت کا سبب بنا ۔ لیکن وہی یہود آج بھی اس سے نہ صرف چپکے بیٹھے ہیں بلکہ اسے مسلمانوں کے اندر تک اس طرح پھیلا چکے ہیں ۔ کہ اب یہ سودی نظام ہمارے خون میں ویسے ہی دوڑ رہا ہے جیسے غذا ۔ اور یہ سود اب مسلمانوں کے خمیرمیں اتنا رچ بس گیا ہے ۔ کہ امت مسلمہ اس کو صحیح اور جائز قرار دینے کیلئے دلائل پیش کرتی ہے ۔ اور یہ وہ اُمّتِ محمدی تھی جن کے لیے قبلہ بدلا گیا تھا اور جنہیں بنی اسرائیل سے امامت لے کر دی گئی تھی۔

    بظاہر ہم ایک آزاد ریاست ہیں ۔ مگر جن ممالک سے ہم قرضے لے رہے ہیں وہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ مقروض ممالک کو قرضے دے کر اپنی مرضی کی پالیسیاں بنائی جا سکتی ہیں جن سے غریب غریب تر اور امیر امیر تر ہوگا ۔ جن کا تما م تر منافع قرضے دینے والوں کو پہنچے گا ۔گزشتہ 73 برس میں لیا گیا کھربوں ڈالرز کا قرضہ کہاں جاتا رہا یہ بات ہمارے علم میں نہیں ۔ نواز شریف کے دور حکومت میں عوام کے لئے منجمند گیارہ ارب ڈالر کا کچھ پتا نہ چل سکا ۔ موجودہ حکومت کے احتساب کے وعوؤں کے بعد اب ہر عمل ہی مشکوک ٹھہرا ۔

    موجودہ حکومت بھی اداروں سے زیادہ غیر ملکی قوتوں کے دباؤ کا شکار نظر آتی ہے ۔ اگر حالات یونہی رہے تو ممکن ہے کہ احتساب کا پورا نظام اپنے اختتام کو پہنچے ۔ یہ قرضے جو بظاہر عوام کی فلاح و بہبود کیلئے لئے گئے ۔ یہی قرضے اب عوام کے گلے کا پھندہ بن چکے ۔ اب انہی قرضوں کا سود سمیت واپسی کا مطالبہ کیا جارہا ہے بلکہ پورے کے پورے نظام کو وہ لوگ ان قرضوں کے عوض خریدنا چاہتے ہیں ۔ گیس بجلی اور آٹے کے نرخ آئی ایم ایف طے کر رہی ہے ۔ آئی ایم ایف کے حکم کے مطابق غریبوں پہ مہنگائی کا ایسا بوجھ ڈالا جا رہا ہے کہ انکے لئے زندگی جیسی نعمت کو تنگ کر دیا گیا ہے۔ نہ صرف یہ بلکہ کرنسی کی قیمت سے لے کر ذرائع اور وسائل کی تقسیم تک اور پاکستان کی ریڑھ کی ہڈی کی حثیت رکھنے والی ایٹمی صلاحیت پہ بھی آئی ایم ایف اپنی نظریں گاڑھے بیٹھا ہے ۔

    صرف یہی نہیں ان قرضوں کو جواز بنا کر ہماری شاہ رگ کشمیر تک کے معاملے میں ہمیں پسپائی پہ مجبور کیا جا رہا ہے ۔ اور ہر معاملے میں یہ قرضے جن سے میٹرو اور اورنجن لائن کا تحفہ تو عوام کو مل گیا مگر ہمارے ہاتھ باندھ دئیے گئے ۔ اور انہی قرضوں کو آئی ایم ایف اب ایک ہتھیار کے طور پہ استعمال کر رہا ہے ۔ جبکہ یہاں بھی کچھ اقتصادی دانشوروں کا کہنا ہے کہ اگر ہم نے قرضے دینے سے انکار کیا تو ہمیں ڈیفالٹ قرار دے کر دنیا میں تنہا کر دیا جائے گا، برآمدات نہیں ہوں گی، ایل سی (Letter of credit) نہیں کھلے گا۔ یہ دانشور بھی مغرب کی پیداوار ہیں ۔ لیکن میرے نزدیک یہ مفروضہ ہی غلط ہے۔ جب ہم اپنے ہمسائے ممالک پہ غور کریں جن میں چین ، اففانستان ایران اور دیگر اسلامی ممالک شامل ہیں ۔ برامدات اور تجارت کا سلسلہ ان ممالک سے جاری رکھا جا سکتا ہے جن پر کوئی قدغن نہیں لگائی جا سکتی۔ اس طرح ایک تجارتی بلاک وجود میں آ سکتا ہے۔ ہمارا سب سے زیادہ خرچ تیل پر ہوتا ہے جس کے بدلے ہم تیل پیدا کرنے والے ممالک کو چاول، گندم اور کپاس برآمد کر سکتے ہیں۔ دوسری طرف لاطینی امریکا کے سولہ ملک خود کو ڈیفالٹ قرار دے چکے ہیں جس کے بعد ان کی معیشت میں بہتری کے آثار پیدا ہوئے۔ جہاں تک تنہائی کا معاملہ ہے تو چین اور روس نے سیاسی طور پر تنہا ہو کر ہی ترقی کی۔ ہمارے اقتصادی ماہرین یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ ہماری معیشت سنبھل رہی ہے، میری نظر میں یہ سفید جھوٹ ہے۔ عوام معاشی بدحالی اور بیروزگاری کے ہاتھوں خودکشی کر رہے ہیں، مہنگائی ناقابل برداشت ہو چکی ہے، بجلی، پٹرول اور گیس کی قیمتیں بار بار بڑھائی جا رہی ہیں، یہ کیسی معاشی ترقی ہے؟اور ہمارے وزیراعظم کام سے زیادہ دکھاوے پہ زور دے رہے ہیں جس کی منہ بولتی مثال تبدیلی سرکار کے تین سال مکمل ہونے پہ کی جانے والی تقریب تھی

    جاری……..

  • گزشتہ جمعہ یوم استغفار تھا تحریر عثمان

    گزشتہ جمعہ یوم استغفار تھا تحریر عثمان

    میری لاہوری قیام گاہ سے خاصی دور جلسہ گاہ ہے جہاں اس وقت ایک بڑے یا بہت بڑے جلسے کی تیاریاں جاری ہیں ۔ جب آپ یہ سطریں  زہر مار کر رہے ہوں گے تو یہ چھوٹابڑا یا بہت بڑا جلسہ ہو چکا ہو گا، اس کے بارے میں کسی پیش گوئی کی ضرورت نہیں ۔ شاہی قلعے اور شاہی مسجد کے نزدیک ترین پڑوس میں مینار پاکستان اور اس کا سبزہ زار واقع ہے ۔ یہ جگہ اس شہر کی سیاسی جلسہ گاہ نہیں ۔ اس شہر کی تاریخی جلسہ گاہ اور سیاسی علامت باغ بیرون موچی دروازہ ہے۔  لیکن پرانی سیاست والا موچی دروازہ اب عہد حاضر کی حاضری کی وسعت کو سمیٹ نہیں سکتا۔ آج کے سامعین جلسہ کو نظریات اور سیاسی مقام و مرتبہ سے کہیں زیادہ مال و دولت کی فراوانی دکھائی جاتی ہے۔ جس کی بہتر نمائش مینار پاکستان میں ہوتی ہے۔ جلسہ عام جدید سیاستدانوں کا ہو یا جبہ ود ستار والوں کا، سب کے انداز خسروانہ ہی ہوتے ہیں ۔ موچی دروازے کا ڈیڑھ دو سو روپے خرچ والا پبلک جلسہ آج کروڑوں بلکہ ان سے بھی زیادہ کے خرچ سے منعقد ہو تا ہے ۔اس سیاسی انقلاب کا ایک خوفناک نتیجہ یہ نکلا ہے کہ ایسے بڑے بڑے جلسے کر نے والے ان کا خرچہ سیاست سے وصول کرتے ہیں۔ اور ہم سب کھلی آنکھوں سے یہ سب کچھ دیکھتے ہیں لیکن پھر کیا کر تے ہیں، اسے مت پوچھئے۔ ہماری حالت دیکھئے کہ اب کوئی ایسا گہر اکنواں بھی باقی نہیں رہا جس میں ہمارے زوال کا گوشوارہ گرتے گرتے گم ہو جاۓ ۔ ہمارے اس ملک کی سرحد میں ابھی تک کیوں باقی ہیں اور ہمارے مٹانے والے کن سوچوں میں پڑے ہیں معلوم نہیں۔ لیکن عمرانی حکیموں اور قوموں کے حالات سے تعارف رکھنے والوں نے ایک خیال یہ ظاہر کیا ہے کہ فی الحال ہمارے آقا ہمیں زندہ تو رکھنا چاہتے ہیں مگر بہت کمزور ،کسی ایٹمی قسم کے نخرے اور نخوت کے بغیر ۔ معلوم ہوا کہ پیپلز پارٹی اور جناب آصف زرداری کی پانچ برس کی حکومت نے ان کا بہت سارا کام نپٹا دیا ہے اور اس ملک کے معاشرے میں کر پشن کا زہر گھول کر اسے بے جان کر دیا ہے ۔اب میں دفاع کے قابل نہیں رہا۔ ادھر بھارت نے عام لام بندی کا پروگرام شروع کر دیا ہے۔ جس میں ہر بھارتی کو فوجی تربیت دی جائے گی اور اس کی فوج میں بھرتی بھی ہو گی، اسرائیل کی طرح۔ 

     میں نے اپنی ذاتی اور قوم کی حالت دیکھ کر دل کو جو پریشانی لگا لی  تھی۔  اس سے گھبرا کر میں ایک روحانی رہنما کی خدمت میں حاضر ہوا۔ ان کا خیال تھا کہ ”ایک وہ زمانہ تھا جب قومیں بنے اور بگڑنے میں برسوں لگادیتی تھیں یعنی وہ بننے اور پھر مٹنے میں بھی کئی برس اور نسلیں لگا دیتی تھیں۔ لیکن اب زمانہ بہت تیز ہو چکا ہے۔ برسوں کے کام مہینوں میں ہو رہے ہیں۔ ضمیر کو مطمئن رکھنے کے لئے جو ہو سکتا ہے وہ کرتے رہیں۔ قلبی اطمینان کی حالت میں ان حالات سے گزر جائیں۔ ہم نے خود یہ ثابت کیا ہے کہ ہم ایک جدید ریاست چلانے کے اہل نہیں ہیں۔ نہ ہمارے اندر اس کاجذ بہ ہے نہ ہماری نیت درست ہے اور نہ ہی سمجھ بوجھ۔ ہمارے بانی اور قائد کی جیب میں کھوٹے سکے تھے اور ہمارے سابقہ حکمرانوں کے ایک مستند دانشور نے فیصلہ دیا تھا کہ ہم ابھی آزادی کے اہل نہیں ہیں ۔ ہندو ہم سے کچھ بہتر ثابت ہوۓ جو زوال

    نہیں استقلال کی طرف بڑھ رہے ہیں”۔ ہماری ایک مذہبی جماعت کے سربراہ سید منور حسن نے حالات سے گھبرا کر قوم سے استغفار کی اپیل کی ۔ گزشتہ جمعہ کو قوم نے اللہ تعالی سے اپنے گناہوں کی معافی مانگی۔ یہ ایک بڑا ہی مشکل کام ہے ، پہلے گناہ کا اعتراف کر نا پڑ تا ہے اور پھر اس کی معافی اور یہ سارا عمل خاموشی کے ساتھ بندے اور اس کے آقا کے درمیان رہتا ہے ۔ استغفار کا مطلب ہے پہلے کسی کو اپنا آقا تسلیم کر نا پھر اس سے معافی مانگنا۔ یہ ایک بڑاہی نیک انسانی عمل ہے جو کسی کسی کے

    نصیب میں ہو تا ہے۔ ایک برقی پیغام ملا جس نے استغفار کا ایک انتہائی مؤثر واقعہ بیان کیا ہے۔ میں آپ کو اس میں شریک کر تاہوں۔ حضرت امام احمد بن حنبل کو سفر میں رات آگئی تو وہ قریبی گاؤں کی مسجد میں رات بسر کرنے چلے گئے اور صحن میں لیٹ گئے۔ چوکیدار آیا اور اس نے انہیں مسجد سے باہر نکال دیا۔ وہ مسجد سے باہر ایک جگہ پر لیٹ گئے تو وہی چوکیدار پھر آیا اور ان کو پاؤں اور ٹانگ سے پکڑ کر گھسیٹتا ہوا دور لے جاکر پھینک دیا۔ اس وقت ایک صاحب آئے اور انہیں گھر لے گئے ۔ وہ کچھ پڑھتے رہے ۔ امام نے پوچھا کیا پڑھ رہے ہیں ؟ اس نے جواب میں کہا استغفار کرتا رہتا ہوں۔ اس کا فائدہ کیا ہو تا ہے ، امام کے اس سوال کے جواب میں اس نے کہا کہ میری ہر دعا قبول ہوتی ہے البتہ میری ایک دعا ابھی تک قبول نہیں ہوئی اور وہ ہے امام احمد بن حنبل سے ملاقات، جس کی مجھے شدید خواہش ہے۔اس کے جواب میں امام نے کہا کہ قدرت اسے تو زمین پر گھسیٹ کر تمہارے پاس لے آئی ہے۔ 

    @candiusman

  • اولیا کرام کی اسلام کے لئے خدمات… تحریر جام محمد ماجد..

    اولیا کرام کی اسلام کے لئے خدمات… تحریر جام محمد ماجد..

    اللّه کریم رحمن و رحیم جو تمام جہانوں کا پالنے والا ہے جس نے ساری کائنات بنائی اور اس میں سے انسان کو اعلی مقام دے کر اشرف المخلوقات بنا کر پوری کائنات میں دیگر تمام مخلوقات میں فضیلت عطا فرمائی حضرت آدم علہیہ السلام کو تخلیق فرما کر ابو البشر بنایا اور اللّه پاک نے تمام فرشتوں کو انھیں سجدہ کرنے کو کہا تمام فرشتوں نے حکم کی تعمیل کی سواے ابلیس نے پس وہ مردود ہوا اور حکم ماننے سے انکار کیا تو ذلیل و خوار اور رسوا ہوا اور اسی طرح سے اس دن سے لے کر بہکانا شروع کیا اور آج تک بہکاتا آیا ہے تو اللّه تعالیٰ نے انسانوں کو راہ راست پے لانے کے لئے انبیا کرام کو کو نازل کیا جنہوں نے بھٹکے ہووں کو راہ راست پے لیا اور اللّه کی وحدانیت اور اللّه کے دین کی تعلیم دی اسی طرح سے یہ سلسلہ چلتہا یہاں تک کے ہمارے پیارے نبی پاک نبی آخر زماں حضرت محمد صلی اللّه علیہ وسلم تشریف لاے جو کے اللّه کے آخری رسول اور نبی ہیں آپ صلی اللّه علیہ وسلم کے بعد نبوت کا سلسلم ہو گیا ہے آپ صلی اللّه علیہ وسلم کی تعلیمات کو رہتی دنیا تک انسانیت کی فلاح و بہبود کا ذریعہ قرار دیا گیا حضور پاک صلی اللّه علیہ وسلم کے وصال کے بعد صحابہ کرام رضی اللّه عنہ نے حضور نبی کریم صلی اللّه علیہ وسلم کے دین حق کی تبلیغ کی اور اسلام کو پھیلایا ان کے بعد دین اسلام کی تبلیغ کو اللّه کے نیک کامل بندوں نے سنبھالا اور لوگوں کو اللّه تعالیٰ اور حضور نبی کریم صلی اللّه علیہ وسلم کے دین کی پہچان کرائی جس سے یہ نیک لوگ اولیا اللّه کے منصب پر فیض ہوے اور انہیں نیک بندوں کے بارے میں اللّه تعالیٰ نے قرآن مجید فرقان حمید میں ارشاد فرمایا کے انھیں نہ کسی بات کا خوف ہو گا نہ ہی کسی چیز کا ڈر ہو گا
    اللّه کریم کے یہ نیک صالح بندے اپنی عادت و اطوار میں حضور نبی کریم صلی اللّه علیہ وسلم کی سنت پر عمل کرتے ہیں اور سنتوں پر سختی سے کاربند ہوتے ہیں برصغیر پاک و ہند میں انہی نیک صالح اولیا اللّه کی وجہ سے اللّه پاک نے اسلام کو طاقت بخشی جس کی وجہ سے یہاں اسلام غالب آیا کیوں کے اولیا اللّه کی آمد فتح سندھ کے ساتھ ہی شورع ہو گئی تھی اور نیک لوگوں کی محبت سے لوگ جوق در جوق دین اسلام کی طرف کھنچے چلے آے کیوں کے اس سے پہلے برصغیر اندھیروں بتوں کی پوجا اور کفر سے ڈوبا ہوا تھا بعد میں اسلام کی روشنی سے مالامال ہو گیا اور یہ سب اللّه کے نیک بندوں کی محبت سے پھیلای گئی تبلیغ کا نتیجہ ہے اور اس طرح اللّه کے کامل اور صالح لوگوں کے فیض سے ہر سو روشنی پھیل گئی اور برصغیر پاک و ہند اسلام کا مرکز بن گیا .
    اللّه پاک ہمیں سہی معنوں میں اسلام پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرماے اور پاکستان کو رہتی دنیا تک اسلام و امن کا گہوارہ بناے آمین…
    پاکستان زندہ باد

    ٹویٹر ہینڈل @Majidjampti

  • محسنِ انسانیت بحثیت معلّمِ انسانیت صلی اللہ علیہ وسلم  (عالمی یومِ اساتذہ کی مناسبت سے)   تحریر: عرفان صادق

    محسنِ انسانیت بحثیت معلّمِ انسانیت صلی اللہ علیہ وسلم (عالمی یومِ اساتذہ کی مناسبت سے) تحریر: عرفان صادق

    رسولِ کائنات صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا شمار دنیا کی ان چیدہ چیدہ اثرانگیز ہستیوں میں ہوتا ہے جنہوں نے دنیا کو کئی اہم معاملات میں نئے اسالیب اور جہات سے متعارف کروایا ۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم وہ کامل شخصیت تھے جنہوں نے نا صرف اپنی کمال تربیت بلکہ اپنے کردار سے بھی ایسی جماعت تیار کی جن میں انسانیت کا وجودِ کامل نظر آتا ہے۔ حضرتِ انسان نے اپنی تخلیق سے لے کر رسول معظم صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد تک ہر ایک ذات میں کوئی نہ کوئی کمی، کوتاہی یا غلطی پائی لیکن آمنہ رضی اللہ تعالی عنھا کے بطنِ اطہر سے پیدا ہونے والے لعل نے انسانیت کے لیے ایسا نادر نمونہ پیش کیا جو ہر قسم کی ھفوات سے مبرّا تھا۔ بے شمار خصائصِ جمیلہ و اوصاف حمیدہ کے مرکّب رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بطور معلّم اور مدرّس بے مثل کردار پیش کیا۔
    آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات سے زیادہ متاثر کن معلّم آپ کا اخلاق تھا۔ذیل میں ہم ان چند اصولِ تدریس کا ذکر کریں گے جو حیاتِ رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے ماخوذ ہیں ۔
    پہلے شاگردوں میں حصولِ علم کا شوق و جستجو پیدا کرنا پھر علم منتقل کرنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا تدریسی طریقہ تھا ۔ کئی مواقع پر صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہ کو مخاطب کرکے پہلے ان میں حصول علم کا اشتیاق پیدا کرتے پھر انتقال فرماتے ہیں مثلا: الا اخبرکم؟ (کیا میں تمہیں خبر نہ دوں ) ، الا ادلکم۔؟(کیا تمہیں ایسی چیز کی رہنمائی نہ کروں) ، اتدرون ما الغیبۃ؟ (کیا تم جانتے ہو غیبت کیا ہے )
    اور ایسے کئی الفاظ جو انسان کو چوکنا کر دینے کو کافی ہوتے تھے۔
    نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم موقعہ کی مناسبت اور طالب علم کی کیفیت دیکھ کر تعلیم دیتے مثلا ایک ہی سوال” اسلام میں سب سے افضل عمل کونسا ہے ؟” مختلف صحابہ کرام رضی اللہ تعالی نے مختلف اوقات میں پوچھا تو ہر ایک کو ان کے ذاتی معاملات اور موقعہ کی مناسب دیکھ کر مختلف جواب دیا ۔
    آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے طلباء کے ساتھ نرمی اور شفقت کا معاملہ کرتے اور بے جا مارپیٹ اور زود و کوب کرنے سے اجتناب کرنا بھی تعلیمِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا ہی خاصہ تھا۔
    حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ جنہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بطور خادم و طالب علم دس سال گزارے وہ بیان کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آج تک کبھی مجھے مارنا تو دور کی بات غصہ تک نہ ہوئے حتی کہ مجھے یہ تک نہ کہا کہ تم نے یہ کام کیوں کیا یہ کام کیوں نہ کیا۔؟ سبحان اللہ العظیم ۔
    آپ صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کرام کو سمجھانے کے لیے کچھ کر کے پیش کرتے ہیں یا کرواتے ۔جسے ہم آج کے جدید دور میں (Activity Based Learning) کا نام دیتے ہیں جس سے موضوع کا فہم اور ادراک صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہ کے قلوب و اذہان میں ازبر ہو جاتا ۔مثلا ایک دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے عصا سے زمین پر ایک سیدھا خط کھینچا اور کہا یہ میرا سیدھا راستہ ہے جو اس پر چلا وہ کامیاب ہوگیا ۔ اور پھر اس خط کے گرد کئی خطوط کھینچے اور کہا یہ گمراہی کے راستے ہیں۔
    اس کے علاوہ رسول معظم صلی اللہ علیہ وسلم ہر میسر آنے والے موقعے میں تعلیم کے پہلو کو اُجاگر کر کے اسے اپنے طلبہ تک پہنچاتے۔ آپنے پاس بغرضِ علم آنے والے طلباء کا خیر مقدم کرتے گفتگو کرتے ہوئے طلباء کو اپنے قریب بٹھاتے اور پھر ان کی طرف اتنی توجہ کرتے ہیں کہ سامعین بھی ہمہ تن گوش ہو جاتے اور کلام کا ایسا انداز اختیار کرتے کہ سننے والے دم سادھ کر بیٹھتے اور ایک ایک بات بعینہ انہی الفاظ کے ساتھ ازبر کر لیتے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی زبان سے نکال دیتےاحادیث کے بے شمار مجموعے اس بات کی کامل دلیل ہیں۔یعنی نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم Communication Skills) میں کمال مہارت رکھتے ۔
    شاگردوں سے محبت کے اظہار کے لئے کبھی ان کو مختصر نام یا کبھی کنیت سے پکارتے تھے ۔جیسے ایک دن ایک صحابی کو بلیوں سے کھیلتے دیکھا تو ابوہریرہ کہہ دیا اور پھر وہ تاابد راوی حدیث ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ بن کر رہ گئے ۔
    ایسے ہی حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کو مٹی سے کھیلتے دیکھا تو ابوتراب کہہ دیا ۔
    محسن انسانیت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جیسے اپنے طلباء کے لیے تعلیم و تربیت کا بندوبست کرتے ایسے اپنے طلباء کے لئے دعائیں بھی خوب کرتے ۔مثال کے طور پر ایک دن عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہ کا قرآن مجید سے محبت کا عالم دیکھا تو ان کے لئے دعا کی کہ "اللھم علمہ القرآن”
    اے اللہ ان کو قرآن کا عالم بنا دے ۔ایسی دعا کی کہ چودہ سو سال گزر جانے کے باوجود آج بھی ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہ تفسیرِ قرآن کے ماخذ شمار کیے جاتے ہیں ۔
    رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب طلباء سے بات کرتے ہیں تو ان کی گفتگو میں ٹھہراؤ ہوتا اور اپنی بات کو خوب وضاحت کے ساتھ بیان فرماتے ہیں اور حسبِ ضرورت اپنی بات کا اعادہ بھی فرما دیتے ۔ایسے ہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے طلباء کو تعلیم دیتے ہوئے ہاتھوں سے مناسب اشارے یعنی باڈی لینگویج کا بھرپور استعمال کرتے ۔ مثلا ایک دن فرمایا میں اور یتیم کی کفالت کرنے والا جنت میں ایسے ہوں گے اور ساتھ ہی اپنی شہادت والی اوردرمیانی انگشت مبارک کوملا کر ہوا میں لہرایا۔
    معلّمِ انسانیت صلی اللہ علیہ وسلم اپنے طلباء کے فہمِ کامل کے لئے مثالوں کا استعمال کرتے ہیں مثلا ایک دفعہ فرمانے لگے کہ اللہ کو گناہ گار کا توبہ کرنا اس قدر خوشگوار لگتا ہے جیسے کسی بھوکے صحرائی مسافر کو اپنے گمشدہ زادِراہ مل جائے۔
    آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مناسب اور علم طلب سوال سے خوش ہوتے اور بےکار اور باعثِ مشقت سوال پر ناپسندیدگی کا اظہار کرتے اور کسی سوال کا جواب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس نہ ہوتا تو بجائے اپنی طرف سے جواب دینے یا اٹکل پنجو لگانے کے خاموش ہو جاتے اور وحیِ الٰہی کا انتظار فرماتے ۔ کسی قابلِ شرم مسئلہ پر تفہیم مقصود ہوتی تو اس سے ہرگز صرف نظر نہ کرتے لیکن ایسی باتوں کو اشارہ کنایہ کی زبان میں ایسے سمجھاتے کہ انتقالِ علم بھی ہو جاتا اور شرم و حیا کا دامن بھی سلامت رہتا۔
    ایسے ہی آقائے دو جہاں صلی اللہ علیہ وسلم طلبہ کسی کے عمل کو آسان بنانے کے لئے پہلے اجمالاً بیان کرتے پھر مکمل تفصیل کے ساتھ مکمل جزئیات کو سمجھاتے اگر کہیں مناسب سمجھتے ہیں کہ تھوڑے کلام سے یہ بات مکمل سمجھ آ جائے گی تو اس پر اکتفا کرتے۔ ایسی احادیث جن میں تھوڑے کلام میں گہری بات کہہ دی جائے ان کو جوامع الکلم کہا جاتا ہے مثلا "لا ضرر ولا ضرار” "اسلام میں نہ خود کو نقصان پہنچانا جائز ہے نہ کسی دوسرے کو "۔
    الغرض رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بطور استاد ایک کامل ترین معلّم تھے جن کے مکتب سے نکلنے والے طلباء عرب و عجم کے ایسے حکمران بنے کہ وہ عوام کے اجسام کے ساتھ ساتھ ان کے قلوب و اذہان کے بھی حکمران ہوتے تھے۔