Baaghi TV

Category: مذہب

  • ناموس رسالت زندہ باد تحریر۔محمد نسیم

    ناموس رسالت زندہ باد تحریر۔محمد نسیم


    قارئین  میری تحری پڑھنے سے پہلے ایک بار دور پاک ﷺ  ضرور پڑھ لیں
    ناموس رسالت ہر صاحب ایمان کے دل میں بستی ہے گویا اسلام میں داخل ہونے کے لئیے ناموس رسالت ﷺ کا دل میں داخل ہونا شرطِ اول ہے اسی پر ایک شاعر نے کہا ہے
    محمدٗ کی محبت میں دین حق کی شرط اول ہے
    اسی میں ہو اگر خامی تو ایمان نامکمل ہے
    قارئین یہ عقیدہ اسلام سے ہی روزِ اول لازم و ملزوم ہے۔زمانہ عروج اسلام سے ہی ختم نبوت پر حملہ کرنے والے اور پیغمبرِ اسلام کی توہین کرنے والے کچھ لعین پیدا ہوتے رہتے ہیں اور سپوت اسلام ان کو ابتدائے اسلام سے ہی موت کے گھاٹ اتارتے رہے ہیں کیونکہ رسالتِ اسلام پر حملہ دراصل اسلام پر حملہ ہے اور اسلام کسی کو خود پر حملہ کرنے کی اجازت نہیں دیتا
    یہاں ایک بات انتہائی قابل غور ہے اور اس پر آجکل بہت بحث بھی ہوتی ہے چند نام نہاد دانشور جو مذہب اور اسکی تعلیمات سے بلکل ہی نا آشنا ہیں وہ توہین رسالت ﷺ اور اسلام کو اس وجہ سے سزا دینے کے حق میں نہیں ہوتے کیونکہ اسے وہ مذہبی رواداری سمجھتے ہیں اور بین المذاہب ہم آہنگی کے لئیے در گزر کرنا ضروری سمجھتے ہیں
    ان افراد کے لئیے چند قابل غور چیزیں سامنے رکھنا چاہتا ہوں اول تو یہ کہ مذہبی رواداری اس وقت عمل میں لائی جاتی ہے جب مذہب پر حملہ نہ کیا جائے بلکہ تمام مذاہب والے ایک دوسرے کے مذاہب کو عزت کی نظر سے دیکھیں اور ایک دوسرے کے مذہب کا احترام کریں دوم یہ کہ یہ قانون خود خدا کا بنایا ہوا ہے کہ جب جب اسلام کا نعرہ بلند ہوتا رہے گا سرورِ کائنات ﷺ کا ذکر اور نامِ نامی بلند ہوتا رہے گا تیسرا یہ کہ ختم نبوت پر پہرا خود نبیِ کائنات ﷺ اور ان کے اصحاب نے ہمیں سکھایا ہے
    اگر ہم تاریخ پر نظر ڈالیں تو ہمیں مسلمہ کذاب کا واقعہ سرِ فہرست ملتا ہے جب کہ مسلمانوں کی حالت اتنی مضبوط نہ تھی کہ ایک طاقتور دشمن سے جنگ چھیڑ سکیں لیکن ابوبکر صدیق نے پھر بھی مسلمہ کے خلاف جہاد کا اعلان کیا اور کئی سو حفاظ اور عالی رتبہ صحابی اس راہ حق میں جام شہادت نوش کرگیے
    اس وقت سے اب تک کئی بد بخت اس دنیا پر آئے جو نبوت کا جھوٹا دعٰوی کرتے یا ناموس رسالت ﷺ کی توہین کرتے ان کا حال بھی مسلمہ سے الگ نہ ہوا یا تو مسلمانوں نے خود زور سے ان بد بختوں کو جہنم واصل کیا اگر یہ کام ان کے ہاتھوں نہ ہوسکا تو رب جلال نے خود ناموس رسالت اور اسلام کا پہرہ دیا اور ان بدبختوں کا انجام دُنیا میں ہی برا کیا
    قارئین ربیع الاول کی آمد آمد ہے اور رب جلیل کا اپنے حبیب سے وعدہ ہے کہ "اے محبوب ہم نے آپکے لئیے آپکا ذکر بلند کردےا”
    آجکل ناموس رسالت ﷺ پر کئی جلسے اور جلوس آب و تاب سے ہورہے ہیں اور ہر جلسے میں اس امت کے غلام نبوی رب تعالٰی کی بارگاہ میں رو رو کر ختم نبوت پر حملہ کرنے والوں کے برے انجام کی التجا کرتے ہیں
    ان دنوں انہی دعاؤں کے نتیجے میں ایک لعین سویڈیش لارس ولکس جو کہ سویڈن میں نعوذ بااللہ رسالت معاب کے خاکے بنا کر توہین رسالت کرتا تھا ایک ٹریفک حادثے میں ہلاک ہوکر جہنم واصل ہوگیا ہے
    قائین یاد رہے کہ جب سے اس لعین نے توئین رسالت کی ہے تب سے پاکستان کے وزیراعظم عمران خان نے اقوام متحدہ سے لے کر دُنیا کے تمام ممالک کے سامنے اپنے پیارے آقائے دو جہاں حضرت محمد ﷺ کی ناموس پر پہرہ دیتے ہوئے بتایا ہے کہ ہم مسلمانوں کے دل ایسی حرکت کی وجہ سے دکھتے ہیں اور زخمی ہیں ایسے قوانین بنائیں جائیں کہ آئندہ کوئی ایسی حرکت کا سوچے بھی نہیں اور اسکے ساتھ ساتھ سویڈش حکومت کے ساتھ احتجاج بھی جاری رکھا ہوا تھا قارئین جب سے اس لعین نے خاکے شائع کئیے تب سے مجاہدین اسلام اس کو جہنم واصل کرنے کے درپے تھے لیکن سویڈن حکومت نے اسے سپیشل سیکورٹی دے رکھی اس لعین پر اس کے گھٹیا پروجیکٹ کے دوران بھی ایک مجاہد نے حملہ کیا لیکن اس کی جگہ ایک فلم ڈائریکٹر ہلاک ہوگیا تب سے یہ لعین پولیس کے ساتھ ان  کی گاڑیوں میں گھومتا اور خدا کرنی دیکھئیے انہی پولیس والوں کے ساتھ ساتھ یہ لعین بھی جہنم واصل ہوگیا ہے
    اگر سویڈن کے سامنے مسلمان ممالک کمزور ہیں تو میرا رب بہت بڑی طاقت والا ہے اور جس سرورکائنات کے لئیے یہ دُنیا بنا سکتا ہے وہ اپنے حبیب کی ناموس کا مذاق کبھی برداشت نہیں کرسکتا اور مسلمانوں کو ربیع الاول کا بہترین ٹحفہ اس کو جہنم واصل کرکے دیا ہے
    الله تعالٰی سے دعا ہے کہ ہمیں ناموس رسالت ﷺ پر پہرہ دینے والا بنائے اور ہم جب اس دُنیا سے چلیں تو ماموس رسالت ﷺ کا تاج سر پر سجائے بارگاہ پروردگار میں حاضر ہوں آمین
    رہے گا یوں ہی انکا چرچا رہے گا
    پڑے خاک ہوجائیں جل جانے والے
    ‎@Naseem_Khera

  • بنی اسرائیل  کی ابتداء کہاں سے ہوئی   تحریر اکرام اللہ نسیم

    بنی اسرائیل  کی ابتداء کہاں سے ہوئی تحریر اکرام اللہ نسیم

    بنی اسرائیل قوم کا تذکرہ اللہ رب العزت نے بہت مرتبہ قرآن مجید میں کیا

    انکا تذکرہ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے اس لئے کیا کہ یہی قوم فرعون کے سامنے اپنے دین پر قائم رہی اپنے دین سے نہیں ہٹیں

    بنی اسرائیل قوم کہاں سے شروع ہوئی  دراصل حضرت یعقوب علیہ السلام جو کہ حضرت یوسف علیہ السلام کے والد تھے اُن دوسرا نام اسرائیل تھا

    وہاں سے اس قوم کی ابتدا ہوئی

    حضرت یعقوب علیہ السلام کے 12 بیٹے تھے انکو بنی اسرائیل کہا جاتا تھا پہلے یہ لوگ کنعان میں آباد تھے پھر حضرت یوسف علیہ السلام کے واقعہ کے بعد مصر میں جابسے۔ اس طرح بنی اسرائیل مصر میں پھلے پھولے اور لاکھوں کی تعداد تک پہنچ گئے حضرت یوسف علیہ السلام کے زمانے کا بادشاہ جو  مصریان بن ولید جو حضرت یوسف علیہ السلام کے ہاتھوں مسلمان ہو گیا تھا جب انکا انتقال ہوا تو 

    مصر کے بادشاہت کے تخت پر آپ بیٹھ گئے

    اور مصر کا نظم و نسق سنبھالا جب آپکا انتقال ہوا

    آپ کے بعد بادشاہ قابوس نامی والی  مصر ہوا کفر اور ضلالت کے جو باب آپ نے بند کئے تھے وہ اس قابوس بادشاہ نے دوبارہ کھولے

    جب اولاد یعقوب علیہ السلام نے س طریقے کو قبول نہ کیا تو ان کو غیر ملکی کہہ کر غلام بنالیا اور انتہائی سخت کام لینے لگا جب اس بھی انتقال ہوا اس کا بھائی ولید بن مصعب والی مصر ہوا مصر کے بادشاہ کو فرعون کہتے ہیں یہ اس دوسرے فرعون سے بھی زیادہ ظالم تھا 

    اس نے بادشاہ کا تخت سنبھالتے ہوئے کہا 

    انا ربکم الاعلی  ترجمہ۔ میں تمہارا بڑا رب ہوں  

    یہ اس لحاظ سے بھی ظالم تھا کہ اس نے خدائی کا دعویٰ بھی کرڈالا 

    اور ساتھ یہ احکامات بھی جاری کئے کہ اعلی سے ادنی تک تمام رعایا مجھے سجدہ کرے

    چنانچہ ہامان نے سب سے پہلے اسے سجدہ کیا  پھر اور وزیروں اور مشیروں نے اسکو سجدہ کیا 

    اور جو لوگ دور دراز علاقوں میں رہتے تھے انکے لئے اپنے سونے کہ مجسمے  بنا کر بھیجے جن مجسموں کے نیچے ہاتھی کے دانت آبنوس اور چاندی کے تخت رکھے اور انکے آس پاس سنہری درخت کروائے چاندی سے پرندے تیار کئے درختوں کے شاخوں پر اس طرح سے نصب کئے تھے اور ہر جانور اسی ترتیب سے رکھی تھی کہ جس وقت بھی خادم تحت کو حرکت دیتا تھا تو انکے پیٹ سے آواز آتی تھی کہ اے مصر کے لوگو فرعون تمہارا خدا ہے اسکو سجدہ کرو یہ سن کر مورتی کے آگے سب قصبے والے سجدہ ریز ہو جاتے لیکن بنی اسرائیل اس سے باز نہ آئے فرعون نے بنی اسرائیل کے سرداروں کو بلایا اور تنبیہ کی اور کہا کہ تم مجھے سجدہ کیوں نہیں۔ کرتے ہو لیکن بنی اسرائیل کے سردار انکی دھمکی سے مرعوب نہ ہوئے اور یہ کہا کہ فرعون کا عذاب ہلکا ہے اور عذاب خداوندی ابدی ہے بہتر یہی ہے کہ فرعون کے عذاب پر صبر کرو اور اسکو سجدہ نہ کرو یہ بات تمام بنی اسرائیل نے منظور کرلی اور فرعون کو بھی باور کرایا کے ہم نے اپنے دین سے نہیں ہٹنا اللہ کے علاؤہ کوئی رب نہیں یہ سن کر فرعون کو غصہ آیا اور تانبے کی بڑی بڑی دیگیں منگوائی اور اسمیں زیتون کا تیل ڈالا اور پھر جو بھی فرعون کے رب ہونے سے انکار کرتا اسکو فرعون کھولتی ہوئی دیگیوں میں پھینکواتا یہاں تک کہ انبوہ کثیر کو اسی طریقے سے جلا ڈالا مگر بنی اسرائیل جو دین اسلام پر جان تو دے سکتی تھی مگر پیچھے نہیں ہٹ سکتی تھی بنی اسرائیل اپنے ایمان پر قائم و ثابت قدم رہے 

    @realikramnaseem

    ٹویٹر اکاؤنٹ ہینڈل

  • خضرؑ وموسیؑ   کا  واقعہ ! تحریر: محمدآصف شفیق

    خضرؑ وموسیؑ   کا  واقعہ ! تحریر: محمدآصف شفیق

    سورۃ کہف جس کی تلاوت ہم ہر جمعہ کو کرتے ہیں اسی سورۃ میں  حضرت خضرؑ اور حضرت موسیٰ  علیہ السلام کا واقعہ بھی ہے اس حوالے سے کچھ تفصیل اس حدیث مبارکہ میں بھی ہے آئیں آج اس پر غورو خوض  کرتے ہیں

      عبداللہ بن محمد السندی، سفیان، عمرو، سعید بن جبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے کہا کہ نوف بکالی کہتے ہیں کہ موسیٰ علیہ السلام جو خضر سے ہم نشین ہوئے تھے، بنی اسرائیل کے موسیٰ نہیں تھے، وہ کوئی دوسرے موسیٰ ہیں، تو ابن عباس نے کہا کہ (وہ) اللہ کا دشمن جھوٹ بولتا ہے، ہم سے ابی بن کعب نے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کی کہ موسیٰ علیہ السلام (ایک دن) بنی اسرائیل میں خطبہ پڑھنے کے لئے کھڑے ہوئے تو ان سے پوچھا گیا کہ سب سے زیادہ جاننے والا کون ہے؟ تو انہوں نے کہا کہ زیادہ جاننے والا میں ہوں، لہذا اللہ نے ان پر عتاب فرمایا کہ انہوں نے علم کو اللہ کے حوالے کیوں نہ کردیا، پھر اللہ نے ان کی طرف وحی بھیجی کہ میرے بندوں میں سے ایک بندہ مجمع البحرین میں ہے وہ تم سے زیادہ جاننے والا ہے، موسیٰ علیہ السلام کہنے لگے اے میرے پروردگار! میری ان سے کیسے ملاقات ہوگی؟ تو ان سے کہا گیا کہ مچھلی کو زنبیل میں رکھو اور مجمع البحرین کی طرف چل پڑو، جب اس مچھلی کو نہ پاؤ تو سمجھ لینا کہ وہ بندہ وہیں ہے، موسیٰ علیہ السلام چلے اور اپنے ہمراہ اپنے خادم یوشع بن نون علیہ السلام کو بھی لے لیا، اور ان دونوں نے ایک مچھلی زنبیل میں رکھ لی، یہاں تک کہ جب پتھر کے پاس پہنچے تو دونوں نے اپنے سر (اس پر) رکھ لئے اور سوگئے، مچھلی زنبیل سے نکل گئی اور دریا میں اس نے راستہ بنا لیا، بعد میں (مچھلی کے زندہ ہو جانے سے) موسیٰ اور ان کے خادم کو تعجب ہوا، پھر وہ دونوں باقی رات اور ایک دن چلتے رہے، جب صبح ہوئی تو موسیٰ علیہ السلام نے اپنے خادم سے کہا کہ ہمارا ناشتہ لاؤ بے شک ہم نے اپنے اس سفر سے تکلیف اٹھائی اور موسیٰ جب تک کہ اس جگہ سے آگے نہیں گئے، جس کا حکم دیا گیا تھا، اس وقت تک انہوں نے کچھ تکلیف محسوس نہیں کی، ان کے خادم نے دیکھا تو مچھلی غائب تھی، تب انہوں نے کہا کہ کیا آپ نے دیکھا جب ہم پتھر کے پاس بیٹھے تھے تو میں مچھلی کا واقعہ کہنا بھول گیا، موسیٰ نے کہا یہی وہ (مقام) ہے، جس کی تلاش کرتے تھے، پھر وہ دونوں اپنے قدموں پر لوٹ گئے، پس جب اس پتھر تک پہنچے تو کیا دیکھتے ہیں کہ ایک آدمی کپڑا اوڑھے ہوئے یا یہ کہا کہ اس نے کپڑا اوڑھ لیا تھا، بیٹھا ہوا ہے موسیٰ نے سلام کیا تو خضر علیہ السلام نے کہا اس مقام میں سلام کہاں ؟ موسیٰ علیہ السلام نے کہا میں (یہاں کا رہنے والا نہیں ہوں میں) موسی  علیہ السلام ٰہوں، خضر علیہ السلام نے کہا بنی اسرائیل کے موسیٰ؟، انہوں نے کہا ہاں، موسیٰ نے کہا کیا میں اس امید پر تمہارے ہمراہ رہوں کہ جو کچھ ہدایت تمہیں سکھائی گئی ہے، مجھے بھی سکھلا دو، انہوں نے کہا کہ میرے ساتھ رہ کر میری باتوں پر ہرگز صبر نہ کر سکو گے، اے موسیٰ! میں اللہ کے علم میں سے ایک ایسے علم پر (حاوی) ہوں کہ تم اسے نہیں جانتے وہ اللہ نے مجھے سکھایا ہے اور تم ایسے علم پر حاوی ہو جو اللہ نے تمہیں تلقین کیا ہے کہ میں اسے نہیں جانتا، موسیٰ  علیہ السلام  نے کہا انشاء اللہ! تم مجھے صبر کرنے والا پاؤ گے، اور میں کسی بات میں تمہاری  نافرمانی نہ کروں گا، پھر وہ دونوں دریا کے کنارے کنارے چلے ان کے پاس کوئی کشتی نہ تھی، اتنے میں ایک کشتی ان کے پاس (سے ہو کر) گذری، تو کشتی والوں سے انہوں نے کہا کہ ہمیں بٹھا لو، خضر علیہ السلام پہچان لئے گئے اور کشتی والوں نے انہیں بے اجرت بٹھا لیا پھر (اسی اثنا میں) ایک چڑیا آئی، اور کشتی کے کنارے پر بیٹھ گئی اور اس نے ایک چونچ یا دو چونچیں دریا میں ماریں، خضر علیہ السلام بولے کہ اے موسیٰ میرے علم اور تمہارے علم نے اللہ کے علم سے اس چڑیا کی چونچ کی بقدر بھی کم نہیں کیا ہے، پھر خضر علیہ السلام نے کشتی کے تختوں میں سے ایک تختہ کی طرف قصد کیا اور اسے اکھیڑ ڈالا، موسیٰ کہنے لگے، ان لوگوں نے ہم کو بے کرایہ (لئے ہوئے) بٹھا لیا اور تم نے ان کی کشتی کے ساتھ برائی کا) قصد کیا، اسے توڑ دیا، تاکہ اس کے لوگوں کو غرق کر دو، خضر علیہ السلام نے کہا کیا میں نے تم سے یہ نہیں کہا تھا کہ تم میرے ہمراہ رہ کر میری باتوں پر صبر نہ کر سکو گے، موسیٰ نے کہا جو میں بھول گیا، اس کا مواخدہ مجھ سے نہ کرو اور میرے کام میں مجھ پر تنگی نہ کرو، راوی کہتا ہے کہ پہلی بار موسیٰ سے بھول کر یہ بات اعتراض کی ہوگئی، پھر وہ دونوں کشتی سے اتر کر چلے، تو ایک لڑکا ملا جو اور لڑکوں کے ہمراہ کھیل رہا تھا، خضر علیہ السلام اس کا سر اوپر سے پکڑ لیا اور اپنے ہاتھ سے اس کو اکھیڑ ڈالا، موسیٰ نے کہا کہ ایک بے گناہ بچے کو بے وجہ قتل کردیا، خضر علیہ السلام نے کہا میں نے تم سے نہ کہا تھا کہ تم میرے ہمراہ رہ کر میری باتوں پر ہرگز صبر نہ کر سکو گے، پھر وہ دونوں چلے، یہاں تک کہ ایک گاؤں کے لوگوں کے پاس پہنچے، وہاں کے رہنے والوں سے انہوں نے کھانا مانگا، ان لوگوں نے ان کی مہمان نوازی کرنے سے انکار کر دیا، پھر وہاں ایک دیوار ایسی دیکھی جو گرنے کے قریب تھی، خضر نے اپنے ہاتھ سے اس کو سہارا دیا اور اس کو درست کردیا، موسیٰ نے ان سے کہا کہ اگر تم چاہتے تو اس پر کچھ اجرت لے لیتے، خضر بولے کہ (بس اب) یہی ہمارے اور تمہارے درمیان جدائی ہے، نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہاں تک بیان فرما کر ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ موسیٰ پر رحم کرے، ہم یہ چاہتے تھے کہ کاش موسیٰ صبر کرتے تو اللہ تعالیٰ ان کا (پورا) قصہ ہم سے بیان فرماتا۔ صحیح بخاری:جلد اول:حدیث نمبر 125           حدیث مرفوع      مکررات  16   متفق علیہ 11

    باقی واقعہ قرآن کریم  کی سورۃ الکھف میں کچھ اس طرح سے ہے 

    اس نے کہا :بس میرا تمہارا ساتھ ختم ہوا۔ اب میں تمہیں ان باتوں کی حقیقت بتاتا ہوں ، جن پر تم صبر نہ کر سکے۔ اس کشتی کا معاملہ یہ ہے کہ وہ چند غریب آدمیوں کی تھی جودریا میں محنت مزدوری کرتے تھے۔ میں نے چاہا کہ اسے عیب دار کر دوں کیونکہ آگے ایک ایسے بادشاہ کا علاقہ تھا جو ہر (بے عیب)کشتی کو زبردستی چھین لیتا تھا۔ رہا وہ لڑکا ، تو اس کے والدین مومن تھے ، ہمیں اندیشہ ہوا کہ یہ لڑکا اپنی سرکشی اور کفر سے ان کو تنگ کرے گا۔ اس لیے ہم نے چاہا کہ ان کا رب اس کے بدلے ان کو ایسی اولاد دے جو اخلاق میں بھی اس سے بہتر ہو اور جس سے صلہ ٔ رحمی بھی زیادہ متوقع ہو۔اور اس دیوار کا معاملہ یہ ہے کہ یہ دو یتیم لڑکوں کی ہے جو اس شہر میں رہتے ہیں اس دیوار کے نیچے ان بچوں کے لیے ایک خزانہ مد فون ہے اور ان کا باپ ایک نیک آدمی تھا۔ اس لیے تمہارے رب نے چاہا کہ یہ دونوں بچے بالغ ہوں اور اپنا خزانہ نکال لیں۔ یہ تمہارے رب کی رحمت کی بنا پر کیا گیا ہے ، میں نے کچھ اپنے اختیار سے نہیں کر دیا ہے۔ یہ ہے حقیقت اُن باتوں کی جن پر تم صبر نہ کر سکے۔(78-82سورت الکھف)

    @mmasief

  • ملک میں نفاذ اسلام کا موضوع  تحریر :جواد خان یوسفزئی

     ایک زمانے میں بہت زیر بحث رہتا تھا۔ آج کل اس طرف توجہ نہ ہونے کے برابر ہے۔ اسلام پسند جماعتیں ایک تو کافی غیر فعال ہیں دوسرے ان کی توجہ امور خارجہ پر زیادہ رہتی ہے۔ دیگر جماعتیں اسلام کی بات کرتی ہیں لیکن بغیر سوچے سمجھے۔ عام آدمی کے ذہن میں مملکتی سطح پر اسلام کا مطلب غیر مسلموں کی سازشوں کا مقابلہ کرنے آگے کچھ نہیں۔
    اسلام کا مقصد انسانی معاشرے کی ایک خاص نہج پر تعمیر ہے۔ معاشرے کی تعمیر کے لیے اخلاقی تعلیمات کے علاوہ قوانین کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔ اسلام کا بھی اپنا ایک مفصل قانونی نظام ہے جسے ملک کا نظام بنانا ہی نفاذ اسلام کی بنیاد ہے۔
    1977 اور 1985 کے دوران اسلامی قوانین کے نفاذ کی کچھ کوششیں ہوئیں۔ ان میں زکواۃ و عشر آرڈنینس کو چھوڑ کر باقی کچھ مخصوص جرائم کی سزاؤں کے بارے میں ہیں جنہیں حدود کہا جاتا ہے۔ قتل، زنا، بہتان تراشی اور چوری۔
    ظاہر ہے ان چار جرائم کے علاوہ بھی بے شمار جرائم معاشرے میں ہوتے ہیں جن کے بارے میں ہمارا قانونی نظام انگریزی قانون پر عمل کرتا ہے۔ اس کے علاوہ مندرجہ بالا نافذ شدہ قوانین سزائیں بھی بہت مخصوص حالات میں قابل نفاذ ہیں اور باقی حالات میں ان جرائم پر قانون تقریباً خاموش ہے۔
    یہ درست ہے کہ فقہ میں حدود کے علاوہ دیگر جرائم پر سزاؤں کی بھی گنجائش ہے اور انہیں اصطلاحی طور پر "تعزیرسیاسیہ” کہا جاتا ہے یعنی ایسی سزائیں جن کا تعین حکومت پر چھوڑ دیا گیا ہے۔ عام تاثر یہ ہے کہ ان کا تعین قاضی (عدالت) کی صوابدید ہے۔ لیکن پورے قانونی نظام کی تفصیلات کو عدالت کی صوبدید پر نہیں چھوڑا جاسکتا بلکہ تحریری قانون بہت ضروری ہوتا ہے۔ ایسا نہ ہو تو قانون کا مقصد ہی فوت ہوجائے گا کیونکہ قانون میں یکسانیت بنیادی چیز ہوتی ہے۔
    ایسا بھی نہیں کہ تعزیرات کو مکمل طور پر عدالت کی صوابدید پر چھوڑ دیا گیا ہو۔ فقہاء نے بہت سے جرائم کے لیے سزائیں تجویز کی ہیں، جن سے مدد لی جاسکتی ہے۔ ان کے علاوہ ایک مثال ترکی کی عثمانی سلطنت کی ہے جہاں "مجلۃ الاحکام العدلیہ” کے نام سے کچھ اسلامی قوانین کو مدون شکل میں پیش کیا گیا تھا۔ ہمارے ہندوستان میں عالمگیر بادشاہ کے زمانے میں فتاوےٰ کا ایک مجموعہ مدون ہوا تھا۔
    پاکستان میں اسلامی قوانین کو نافذ کرنے کے لیے سب سے پہلے ایک واحد قابل عمل مجموعہ ترتیب دینا ضروری ہے۔ ظاہر ہے پاکستان میں حنفیوں کی اکثریت ہے تو یہ کام حنفی فقہ کے اندر رہتے ہوئے کرنا پڑے گا۔ اس مجوعے میں ہر معاملے کے لیے ایک واحد قانون بتانا ہوگا جس کے مطابق عدالت نے فیصلہ دینا ہے۔ قران و حدیث نیز قیاس و اجماع کے دلائل اور ائمہ کے اختلاف نیز فتاویٰ کا ذکر کرنے کی ضرورت نہیں۔ یہ اکیڈیمک باتیں ہیں جن سے عدالت کو کوئی سروکار نہیں ہوچاہیے۔ اسے ایک حتمی قانونی دفعہ چاہیے ہوتا ہے جس پر وہ فیصلہ دے سکے۔
    تعزیرات کے علاوہ دیوانی قوانین کو بھی اسی طریقے سے مدون کیا جائے۔
    شخصی قوانین (personal laws) کے مجموعے ہر فقہی مکتب کے لیے الگ الگ مرتب کیے جاسکتے ہیں۔
    یہاں یہ مت کہیں کہ ہمارے پاس پہلے سے ہی قوانین موجود ہیں۔ قوانین کا موجود ہونا اور انہیں زمانے کی ضروریات کے مطابق ترتیب دے کر نافذ کرنا دو الگ باتیں ہیں۔ ایسا نہ ہوتا تو لوگ بہت پہلے آرام سے بیٹھ جاتے۔ ہر دور میں کتابیں لکھنے اور فتاوےٰ تحریر کرنے کی کوئی ضرورت نہ ہوتی۔
    آخری بات یہ کہ اس وقت کسی اجتہاد وغیرہ کی نہیں بلکہ پہلے سے موجود فقہی قوانین کو مدون کرنے کی ضرورت ہے۔
    ٹوئیٹر : Jawad_Yusufzai@
    ای میل : TheMJawadKhan@Gmail.com

  • عُمرِ فاروق ابنِ خطاب تصی اللّہ تعالیٰ کے دور کی اسلامی ریاست تحریر:محمد رضوان۔

    عُمرِ فاروق ابنِ خطاب تصی اللّہ تعالیٰ کے دور کی اسلامی ریاست تحریر:محمد رضوان۔

    آپ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اگر میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو عمر ہوتا 

    آپ رضی اللّہ تعالیٰ عنہ مراد نبی ہیں آپ رضی اللّہ تعالیٰ عنہ کو آپ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم نے دعا میں مانگا ہے 

    خلیفہ اور حکمرانوں کے کسی دور میں اسلامی ریاست اپنی مثالی شکل میں حاصل نہیں کی گئی ، جیسا کہ دوسرے خلیفہ عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ کے دور میں حاصل کیا گیا تھا۔ ، جس نے سالمیت اور مضبوطی ، رحم اور انصاف ، وقار اور عاجزی ، شدت اور سنیاست کو جوڑ دیا۔

    الفاروق رضی اللہ عنہ نے اپنی خلافت کے دس سالوں میں تاریخ کی سب سے طاقتور سلطنت قائم کرنے میں کامیابی حاصل کی ، لہذا اسلامی ریاست فارسی اور رومی سلطنتوں کے زوال کے بعد قائم ہوئی۔ فارس اور مشرق میں چین کی سرحدوں سے لے کر مغرب میں مصر اور افریقہ تک ، اور شمال میں بحیرہ کیسپین سے لے کر جنوب میں سوڈان اور یمن تک ، "عمر” رضی اللہ عنہ قابل تھے ان دو سلطنتوں کو ان عربوں کے ساتھ فتح کریں جو کہ کچھ عرصہ پہلے تک بدوین قبائل تھے ، ان کے درمیان اختلافات تھے اور معمولی وجوہات کی بنا پر جنگیں شروع ہوئیں ، قبائلی جنونیت سے متاثر ہو کر ، اور قبل از اسلام رسم و رواج اور فنا ہونے والے رسم و رواج سے اندھا ہو گیا۔ اس مذہب کی چھتری کے نیچے متحد ، جس نے اسے عقیدے کے بندھن اور بھائی چارے اور محبت کے بندھنوں سے جوڑ دیا ، اور تخیل سے بالاتر ہو کر جلال اور بہادری حاصل کی ، خدا نے اس کے لیے وہ کارنامہ تخلیق کیا جو اس کے راستے کی رہنمائی کرتا تھا ، اور اس کے بینر تک لے جاتا تھا اس نے دنیا پر غلبہ حاصل کیا ، اور دنیا کی ملکیت تھی۔

    عمر ابن الخطاب کی پیدائش اور پرورش

    عمر بن الخطاب بن نفیل بن عبدالعزیز بن رباح بن عبداللہ بن قرط بن رضی اللہ عنہ رضی اللہ عنہ مکہ میں پیدا ہوئے اور ان کی پرورش ہوئی اور ان کے والد الخطاب اپنی سختی کے لیے مشہور تھے۔ اور بے رحمی ، اور وہ ایک ذہین آدمی تھا ، اپنی قوم میں کھڑا ، بہادر اور جرات مندانہ تھا۔ ، اور "الخطاب” نے کئی عورتوں سے شادی کی ، اور ان کے بہت سے بیٹے تھے۔

    اور عمر رضی اللہ عنہ – اپنے بچپن میں – اس سے لطف اندوز ہوئے جو قریش سے ان کے بہت سے ساتھیوں نے نہیں کیا۔ انہوں نے پڑھنا لکھنا سیکھا اور تمام قریش میں صرف سترہ آدمی اس میں ماہر تھے۔

    اور جب عمر رضی اللہ عنہ بڑے ہوئے تو وہ اپنے والد کے اونٹوں کو چراتے تھے اور خود کو کسی نہ کسی کھیل میں لے جاتے تھے۔

    عمر رضی اللہ عنہ – اسلام سے پہلے "مکہ” کے دوسرے نوجوانوں کی طرح – تفریح ​​اور  مہنگے خوشبوں  کا عاشق تھا ، اور "عمر” نے مسلمانوں کے خلاف اپنی جنگ جاری رکھی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اس کی دشمنی حبشہ کی پہلی ہجرت تک جاری رکھی ، اور "عمر” نے اپنے لوگوں سے ان کی علیحدگی پر کچھ دکھ اور غم محسوس کرنا شروع کیا۔ وطن کے بعد جب انہوں نے اذیت اور زیادتی برداشت کی ، اور "محمد” سے چھٹکارا پانے کا اس کا عزم طے ہو گیا۔ قریش کی طرف لوٹنا اس اتحاد کو جو اس نئے مذہب سے ٹوٹ گیا تھا! چنانچہ اس نے اپنی تلوار چھین لی ، اور وہاں گیا جہاں محمد اور اس کے ساتھی دار العقم میں جمع ہوئے تھے ، اور جب وہ راستے میں تھے تو وہ بنی زہرہ کے ایک آدمی سے ملے اور کہا: عمر تم کہاں گئے تھے؟ اس نے کہا: میں محمد کو قتل کرنا چاہتا ہوں اس نے کہا: کیا تم اپنے گھر کے لوگوں کے پاس واپس جا کر ان کے معاملات قائم نہیں کرو گے؟اور اس نے اسے اپنی بہن "فاطمہ بنت الخطاب” اور اس کے شوہر "سعید بن زید بن عمر رضی اللہ عنہ” اور "عمر” کے جلدی جلدی ان کے گھر آنے کی اطلاع دی اور وہ "خباب بن العراط” رضی اللہ عنہ ان سے سورہ "طہ” کی تلاوت کر رہے تھے ، جب انہوں نے اس کی آواز سنی تو "خباب” اور "فاطمہ” نے اخبار چھپا لیا ، تو عمر پریشان ہو گئے سعید پر چھلانگ لگائی اور اسے مارا ، اور اس کی بہن کو تھپڑ مارا ، اس کا چہرہ لہو لہان ہو گیا۔ اس کے کپڑوں کے بنڈلوں اور تلوار کے ٹکڑوں کے بارے میں ، اور اس سے کہا: کیا تم ختم نہیں ہو گئے ہو ، عمر ، جب تک خدا تمہیں ذلت اور سزا سے نیچے نہیں لاتا ، الولید بن المغیرہ کو کیا ہوا؟ عمر نے کہا: اے خدا کے رسول ، میں تمہارے پاس خدا اور اس کے رسول پر ایمان لانے کے لیے آیا تھا اور جو خدا کی طرف سے آیا تھا ، اس لیے خدا کے رسول اور مسلمان بڑے ہوئے ، عمر نے کہا: اے خدا کے رسول ، کیا ہم سچ پر نہیں ہیں؟ اگر ہم مرتے ہیں اور اگر ہم زندہ رہتے ہیں؟ اس نے کہا: ہاں ، اس نے کہا:غائب کیوں؟ مسجد میں داخل ہونے تک مسلمان دو صفوں میں نکل گئے۔قریش نے جب انہیں دیکھا تو وہ ایک ڈپریشن میں مبتلا ہوگئیں جو کہ وہ نہیں کرتی تھیں اور یہ مشرکین کے خلاف مسلمانوں کی پہلی ظاہری شکل تھی ، چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خدا نے اسے اس دور سے "الفرق” کیا

    فاروق عمر نے کال کے چھٹے سال ذی الحجہ میں اسلام قبول کیا ، اور اس کی عمر چھبیس سال ہے ، اور اس نے تقریبا for چالیس مردوں کے بعد اسلام قبول کیا ، اور "عمر” نے اس جوش کے ساتھ اسلام میں داخل کیا وہ اس سے پہلے لڑ رہا تھا ، اس لیے وہ اپنے قریش کی تبدیلی کی خبر پھیلانا چاہتا تھا۔ یہاں تک کہ مسلمانوں نے مشرکین کے نقصان سے اپنے مذہب کے ساتھ بھاگتے ہوئے "مدینہ” کی طرف ہجرت شروع کر دی اور وہ چھپ کر اس کی طرف ہجرت کر رہے تھے۔ سات ، پھر مزار پر آئے اور دعا کی ، پھر اس نے مشرکین کے گروہ کو بلایا: "جو شخص اپنی ماں کو سوگوار کرنا چاہتا ہے یا اس کا بیٹا یتیم ہے یا اس کی بیوی بیوہ ہے تو وہ مجھے اس وادی کے پیچھے پھینک دے۔”

    مدینہ میں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے اور "عتبان بن مالک” کے درمیان بھائی چارہ بنایا اور کہا گیا: "معاذ بن افرا” اور اس میں اس کی زندگی کا ایک اور پہلو تھا جس سے وہ واقف نہیں تھا مکہ میں ، اور بہت سے پہلو اور نئے پہلو ظاہر ہونے لگے ، "عمر” کی شخصیت سے ، اور وہ "شہر” میں عوامی زندگی میں نمایاں کردار بن گئے۔

    عمر ابن الخطاب بہت زیادہ ایمان ، تجرید اور شفافیت کی وجہ سے ممتاز تھے ، اور وہ اسلام سے انتہائی حسد اور سچائی میں دلیری کے لیے مشہور تھے ، کیونکہ وہ عقل ، حکمت اور اچھی رائے کے حامل تھے۔ خدا ، اگر ہم نے ابراہیم کی جگہ کو نماز کی جگہ لیا: تو آیت نازل ہوئی (اور ابراہیم کی جگہ سے نماز کی جگہ لے لو) [البقر:: 125] ، اور اس نے کہا ، "اے اللہ کے رسول ، تمہارا عورتیں ان میں نیک اور بدکار دونوں داخل ہوں گی۔

    اور اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں سے کہا جو ان کے بارے میں حسد میں جمع تھیں: (شاید اس کا رب اگر اس نے تمہیں طلاق دے دی تو اس کی جگہ تم سے بہتر بیویاں لے لیں گے) [التحریم : 5] تو یہ نازل ہوا۔

    شاید ان حالات میں عمر کی رائے سے متفق ہو کر وحی کا نزول رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ کہنے پر مجبور کرتا ہے: "خدا نے عمر کی زبان اور دل کو سچ بنایا ہے۔”

    ابن عمر رضی اللہ عنہما کے بارے میں بیان کیا گیا: "لوگوں پر کوئی بات نازل نہیں ہوئی اور انہوں نے اس کے بارے میں کہا اور عمر ابن الخطاب نے اس کے بارے میں کہا ، لیکن قرآن اس طرح نازل ہوا جس طرح عمر ، خدا ہو۔ اس سے خوش ، کہا۔

    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا انتقال ہو گیا اور دوست "ابوبکر” نے مسلمانوں کی خلافت سنبھالی ، چنانچہ عمر ابن الخطاب ان کے وفادار وزیر اور مشیر تھے۔ ایک پردہ جو عظیم انسانی جذبات کے اس تمام بہاؤ کے پیچھے چھپا ہوا ہے جسے بہت سے لوگ ایک کمزوری سمجھتے ہیں جو مردوں ، خاص طور پر رہنماؤں اور رہنماؤں کے قابل نہیں ہے۔ دوست کی موت کے بعد مسلمان۔

    کمانڈر "عمر بن الخطاب” کی بیعت کا عہد ” ابوبکر الصدیق ” کی وفات کے اگلے دن مسلمانوں کا خلیفہ تھا [22 جمعہ الاخیرہ 13 ھ: 23 اگست 632 AD] .

    اور نئے خلیفہ نے پہلے لمحے سے ان کے سامنے آنے والی مشکلات اور چیلنجوں کا سامنا کرنا شروع کیا ، خاص طور پر لیونٹ میں مسلم افواج کی نازک جنگی پوزیشن۔جنہوں نے اسے دریائے فرات کے پل کو عبور کرنے کے خطرے سے خبردار کیا ، اور اسے مشورہ دیا کہ فارسیوں نے اسے عبور کیا کیونکہ دریا کے مغرب میں مسلم افواج کی پوزیشن بہتر ہے ، یہاں تک کہ اگر مسلمانوں نے فتح حاصل کی تو انہوں نے پل آسانی سے عبور کیا ، لیکن "ابو عبیدہ” نے ان کا جواب نہیں دیا ، جس کی وجہ سے مسلمانوں کو جنگ میں شکست ہوئی پل ، اور ابو عبیدہ اور چار ہزار مسلم فوج کی شہادت

    "پل کی لڑائی” میں مسلمانوں کو جو شکست ہوئی تھی اس کے بعد المثنا بن حارثہ نے شکست کے اثرات کو مٹانے کی کوشش میں مسلم فوج کے حوصلے بلند کرنے کی کوشش کی اور پھر اس نے فارسیوں کو اپنی طرف راغب کرنے کے لیے کام کیا۔ دریا کے مغرب کو عبور کیا ، اور انہیں دھوکہ دینے کے بعد انہیں پار کرنے کے لیے آگے بڑھانے میں کامیاب ہو گئے۔ انہوں نے مسلمانوں پر جتنی جلدی فتح حاصل کی ، اس لیے المتھانہ نے انہیں اپنی افواج سے حیران کر دیا ، اور الج کے کنارے پر ذلت آمیز شکست دی۔ دریائے بویب ، جس کے لیے اس جنگ کا نام لیا گیا۔

    اس فتح کی خبر مدینہ میں الفاروق تک پہنچی ، چنانچہ وہ فارسیوں سے لڑنے کے لیے خود ایک فوج کے سربراہ کے طور پر باہر جانا چاہتا تھا ، لیکن ساتھیوں نے اسے مشورہ دیا کہ وہ مسلمان رہنماؤں کے علاوہ کسی اور کو منتخب کرے فوج کی ، اور انہوں نے اسے "سعد بن ابی وقاص” نامزد کیا تو عمر نے اسے حکم دیا۔ لیوینٹ کی طرف جانے والی فوج پر ، جہاں اس نے "القادسیہ” میں ڈیرہ ڈالا۔

    سعد نے اپنے لوگوں کا ایک وفد فارسیوں کے بادشاہ بوروجرد III کے پاس بھیجا۔ اسے اسلام پیش کرنے کے لیے کہ وہ اپنی بادشاہی میں رہے اور اسے اس کے یا خراج یا جنگ کے درمیان انتخاب دے ، لیکن بادشاہ نے تکبر اور تکبر کے ساتھ وفد سے ملاقات کی اور جنگ کے سوا کسی چیز سے انکار کیا ، اس لیے دونوں ٹیموں کے درمیان جنگ ہوئی ، اور جنگ چار دن تک جاری رہی یہاں تک کہ اس کے نتیجے میں "القادسیہ” میں مسلمانوں کی فتح ہوئی ، اور فارسی فوج کو ایک شکست ناک شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ اسلامی تاریخ میں فیصلہ کن لڑائیاں ، جیسا کہ اس نے عربوں اور مسلمانوں کو صدیوں تک فارسیوں کے کنٹرول میں رہنے کے بعد "عراق” واپس کر دیا ، اور اس فتح نے مسلمانوں کے لیے مزید فتوحات کا راستہ کھول دیا۔

    خلیفہ دوئم کی عظمت بیان کرتے وقت کم کوتاہی ہو تو اللّہ تعالیٰ معاف فرمائے 

    Twitter @RizwanANA97

  • "تحفظِ ختمِ نبوت”  تحریر:صائمہ ستار

    "تحفظِ ختمِ نبوت”  تحریر:صائمہ ستار

    "خود میرے نبی نہ یہ بات بتا دی لا نبی بعدی

    سنے لے ہر زمانہ یہ نوائے ہادی لا نبی بعدی”

    عقیدہ ختمِ نبوت ہر امتی کو جان سے بھی پیارا ہے. یہ اسلام کا ایسا لازم رکن ہے جسکے بغیر مسلمان کا ایمان کبھی مکمل نہیں ہو سکتا.یہ ایک ایسا نکتہ ہے جس پر تمام مسالک اور فرقے متفق ہیں کہ سیدنا محمدﷺ کو آخری نبی نہ ماننے والا یقینی طور پر دائرہ اسلام سے خارج ہے. اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں واضح طور پر فرمایا ہے”محمد ﷺتمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں ہیں لیکن اللہ کے رسول ہیں اور نبیوں کا سلسلہ ختم کرنے والے ہیں ” اس آیت سے  علم ہوا کہ نبوت کا دروازہ ہمیشہ کیلیے بند ہوگیا ہے اور یہ وہ اعزاز ہے جو کسی نبی یا رسول کو عطا نہیں ہوا۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا”(لا نبی بعدی)”  میرے بعد کوئی نبی نہیں ہے. "قادیانی مرزا کافر کی نبوت پر جتنے دلائل پیش کرتے ہیں وہ سب نہ تو قرآن سے ثابت ہے اور نہ ہی احادیث سے بلکہ یہ سب تو ان کی من گھڑت باتیں ہیں. تحفظِ ختمِ نبوت پر زندگی فدا کر دینا زندگی کا بہترین استعمال ہے. اس کام کی فضیلت اسقدر ہے کہ علماء کا اتفاق ہے کہ جو شخص اس بات کاخواہش مند ہو کہ وہ سیدنا محمدﷺ کی ذاتی خدمت کرنا چاہے وہ ختمِ نبوت کے تحفظ کا کام کرے. 

    فتنہِ قادیانیت پہلی بار سیدنا ابو بکر صدیق کہ دورِ خلافت میں اٹھا. 1200 صحابہ اکرام نے جنگِ یمامہ میں اپنی جانیں قربان کر کہ فتنہِ قادیانیت کو مکمل طور پر مٹا ڈالا. آنے والے وقتوں میں اسطرح کے مرتد سر اٹھاتے رہے لیکن ہر دور میں اس فتنہ کی سرکوبی کرنے والا مردِ مجاہد میدان میں موجود رہا. قیامِ پاکستان کے بعد نئی سلطنت کو درپیش مسائل میں ایک فتنہِ قادیانیت سے نمٹنا بھی تھا. اسوقت تک پاکستان کے آئین کے مطابق قادیانی کافر نہیں تھے. وقت کے ساتھ ساتھ یہ فتنہ اپنی جڑیں وسیع کر رہا تھا جسے کاٹنا بہت ضروری ہو گیا تھا.اسی نازک صورتحال میں سپہ سالارِ تحریکِ ختمِ نبوت,فاتح قادیانیت علامہ شاہ احمد نورانی اٹھے. آپ نے زندگی کی آخری سانس تک ختمِ نبوت کے تحفظ کی جدوجہد کی. محراب و منبر سے لے کر سینٹ کے ایوانوں تک ہر میدان میں یہ مردِ مجاہد قادیانیت کی موت بن کر  سامنے آیا. آپ نے قادیانیوں کو کافر قرار دینے کی تحریک کا آغاز کیا. اس میں آپکے رفیقِ کار عبدالستار خان نیازی کی خدمات بھی قابلِ قدر ہیں.اس تحریک کے دوران دی جانے والی قربانیاں آبِ زرسے لکھنے کے لائق ہیں. پاکستان کا پہلا مارشل لاء اسی دوران نافذ ہوا جسے ختمِ نبوت کے محافظوں پر ہی آزمایا گیا. اور 10 ہزار کے قریب  نہتے بچے,بزرگ اور نوجوان محظ ختمِ نبوت کی پہریداری کے جرم میں شہید ہوئے.لاہور کی تاریخ کا یہ لہو رنگ دور تھا. سیکرٹری دفاع سکندر مرزا نے یہ فرعونی آرڈر جاری کر رکھا تھا کہ:”مجھے یہ نہ بتایا جائے کہ کوئی ہنگامہ ختم کر دیا گیا ہے، بلکہ مجھے یہ بتایا جائے کہ وہاں کتنی لاشیں گرائی گئی ہیں؟مجاہدین کا عزم اس قدر بلند تھا کہ بے انتہا ظلم و تشدد,گرفتاریاں اور گولیاں بھی اس جذبے کو سرد کرنے میں ناکام تھیں. ہزاروں مسلمانوں کو شہید کیا گیا. اور ہزاروں بے گناہوں کو شاہی قلعہ اور جیلوں میں ٹھونس کر بے رحم پولیس کیرحم وکرم پر چھوڑ دیا گیا.کرفیو کے باوجود جلوس نکلتے رہے,ڈنڈے گولیاں برستی رہیں.

    شہر میں شہدائے ختم نبوت کے پاک جسموں کے ڈھیر لگ گئے تھے جنہیں ٹرکوں میں لاد کر، چھانگا مانگا کے جنگل میں اجتماعی قبر کھود کر ڈالا جاتا اور پھر تیل چھڑک کر آگ لگا دی جاتی تھی، تاکہ شہیدانِ عشقِ رسالت  کا نام و نشاں مٹ جائے لیکن وہ بد بخت یہ نہیں جانتے تھے کہ تحفظِ ختم نبوت کے لیے آنے والی موت تو ابدی زندگی ہے. 

    . اس تحریک کے 3 مطالبات درج ذیل تھے.

    1۔ قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا جائے۔2۔قادیانیوں کو کلیدی عہدوں سے فارغ کیا جائے۔ 3۔قادیانی وزیرِ خارجہ سر ظفر اللہ خان کو بر طرف کیا جائے۔

    اگر چہ وقتی طور پر تحفظِ ختمِ نبوت کی تحریک کو ریاستی طاقت کا ناجائز استعمال کرتے دبا دیا گیا لیکن آنے والے وقتوں میں شہداء کا مبارک خون اور قربانیاں رنگ لائیں. اور تمام مطالبات ایک ایک کر کہ پورے ہو گئے.سر ظفر اللہ قادیانی رسوا ہوا.اور اقتدار کو ترستا مرا. قادیانی غیرمسلم قرار پائے.یوں یہ تحریک اپنے مقصد میں کامیاب ہوئ.قادیانی اپنی اس ہار کو بھولے نہیں اور آج بھی وہ دوبارہ یہ خواب دیکھتے ہیں کہ کسی دن وہ اس وطن میں انکو کافر قرار دینے والا قانون ختم کروانے میں کامیب ہو جائیں گے. لیکن سیدنا محمدﷺ کا جب تک آخری جانثار بھی زندہ ہم اس وطن میں یہ ممکن نہیں ہونے دیں گے انشاء اللہ. ہمارا فرض ہے کہ آنے والی نسلوں کو ختم نبوت کی اہمیت, فتنہ قادیانیت اور اسکی سرکوبی کے لیے دی جانے والی لازاول قربانیوں سے آگاہ کریں. بطوایک امتی اللہ تعالیٰ ہم سب کو زندگی کی آخری سانس تک عقیدہِ ختمِ نبوت اور ناموسِ رسالت کا وفادار رکھے اور اس سلسلے میں اپنا کردار ادا کرنے کی توفیق دے. آمین.

    "فتحِ بابِ نبوت پہ بے حد درود 

    ختمِ دورِ رسالت پہ لاکھوں سلام”

    ‎@just_S32

  • تم سبھی کچھ ہو، بتاؤ تو مسلمان بھی ہو؟ تحریر: خوشنود

    تم سبھی کچھ ہو، بتاؤ تو مسلمان بھی ہو؟ تحریر: خوشنود


    آج کا مسلمان مختلف قوموں، قبیلوں، خاندانوں، فرقوں، حسب نسب میں بٹ چکا ہے۔ اسلام، اسلام کی تعلیمات تو آج کے مسلمان میں بس رسمی سی رہ گئی ہیں۔ خود کے مسلمان ہونے پہ فخر تو کرتے ہیں لیکن عملی طور پر دیکھا جائے تو کھوکھلا سا ایمان، نہ ہونے کے برابر دینی تعلیمات کی پیروی۔ بس "نام نہاد مسلمان”۔ اکثریت کے لئے تو اسلام، مسلمان ہونا بس ایک رمضان کے مہینے تک محدود ہوگیا ہوا وہ بھی بس ایک چُٹکی کے برابر۔

    ” اسلام” نام تو ایک مذہب کا ہے لیکن آج کے مسلمان نے اصولِ دین و عقائدِ دین میں اختلافات پہ اپنی مختلف فرقوں، مسلکوں میں تقسیم کر لی ہے۔

    قرآن پاک میں ارشاد ہوتا ہے: 

    "تمہیں قوموں اور قبیلوں میں تقسیم کیا، تا کہ تم ایک دوسرے کو پہچان سکو”

    لیکن آج کا مسلمان تو اسلام میں اپنے اپنے عقیدے کو لیکر اپنے سگے بھائی سے اختلافات رکھے ہوئے اُسے بھی پہچاننے سے عاری ہے۔ 

    اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو فرض احکامات ہیں انکو پورا کرتے نہیں اور دیگر اصول و عقائد کی بحث میں کوئی سُنی بن گیا، کوئی سلفی، کوئی دیو بند اور کوئی شیعہ۔ مختلف مسالک و فرقے تو بن گئے لیکن عملی طور پر ایک مکمل مسلمان ہونا نہ رہا۔ 

    مذہب کی آڑ میں ایسے ایسے بیانات دیتے ہیں کہ نا جانے ایمان بھی قائم رہتا ہو گا کہ نہیں۔کلمہ طیبہ ک اقرار کرتے ہیں لیکن جس اللہ اور اُسکے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پہ ایمان کی زبان سے گواہی دیتے ہیں اُنہی کے نام پہ آپسی اختلافات میں ایک دوسرے کے دشمن بن گئے ہیں اپنا اپنا عقیدہ لیکر ایک دوسرے کو گالی گلوچ، توہمات، کافر تک کہہ دیتے ہیں، اسلام و ایمان کے ٹھیکیدار بنے ہوئے دوسروں کے دائرہ اسلام، دائرہ ایمان سے ہی خارج کر دیتے ہیں۔

    آج کا مسلمان تو بس دنیاوی زندگی، دنیاوی آسائشوں کو لیکر بس اِسی دنیا کی زندگی میں غرق ہو کے رہ گیا ہے۔ زیادہ سے زیادہ دولت و شہرت کے چکروں میں سبھی قرآنی تعلیمات، دینی احکامات کو بھلائے بیٹھا ہے۔ کوئی بھی مسلمان جس بھی فِیلڈ میں ہے اپنی اپنی فِیلڈ میں آگے سے آگے بڑھنے، دوسروں سے سبقت لے جانے کے لئے رشوت، جھوٹ، زیادتی، دھوکا، ظلم و ستم، نا انصافی نیز ہر قسم کا غلط، نا جائز حربہ استعمال کر رہا ہے۔ حق تلفی عام ہے۔ ایک دوسرے سے برتری لے جانے کے لئے دوسروں کے لئے اپنے دلوں میں بُغض، حسد، کینہ، نفرتیں پالے ہوئے ہے۔ دوسروں کو کمتر ثابت کرنے کے لئے کوئی بھی گھناؤنا قدم اٹھا لیتا ہے۔ آج کا مسلمان یہ بھولے بیٹھا ہے کہ کل کو روزِ محشر اللہ کے سامنے اپنے ہر ہر عمل کے لئے جوابدہ ہونا ہے۔ 

    اسلام تو امن کا دین ہے، آسانیوں کا پیغام دیتا ہے۔ آج کا مسلمان جو سب کچھ کر رہا ہے یہ تو اسلام کی تعلیمات نہیں ہیں۔ جو سب کچھ آج اسلامی معاشرے میں ہو رہا ہے اور اپنے اپنے عقیدوں کو لیکر مسلمان جو مختلف فرقوں میں بٹ چکے ہیں یہ تو اسلام نہیں ہے۔

    آج کے مسلمانوں کے لئے پیغام ہے پہلے اپنے مسلمان ہونے کے فرائض تو پورے کر لیں کلمہ طیبہ کا بس زبان سے اقرار نہیں، اپنے ہر عمل سے بھی اللہ اور اُسکے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ایمان کی مضبوطی دکھائیں۔اسلام میں جو حقوق اللہ اور حقوق العباد مقرر کئے گئے ہیں اُنکو پورا کریں۔ یہ”دنیا کی زندگی تو محض دھوکے کے سوا کچھ نہیں۔” 

    اصل زندگی تو آخرت کی زندگی ہے جو ہمیشہ رہنے والی ہو گی، فانی کے لئے دائمی کو تباہ و برباد نہیں کریں۔ اگلی ہمیشہ کی رہنے والی زندگی میں آسائشوں اور آسانیوں کے لئے یہ ختم ہو جانے والی زندگی کو ایک سچے مسلمان ہوتے ہوئے مکمل دائرہ اسلام میں داخل ہو کر اسلامی تعلیمات و احکامِ الہی کے مطابق گزاریں۔ 

    آخر میں اقبال کے شعر سے آج کے مسلمان سے سوال ہے۔۔۔۔

    یوں تو سید بھی ہو، مرزا بھی ہو، افغان بھی ہو 

    تم سبھی کچھ ہو، بتاؤ تو مسلمان بھی ہو؟؟؟

  • خلیفہ اول یار غار حضرت صدیق اکبر

    خلیفہ اول یار غار حضرت صدیق اکبر

    ‏خلیفہ اول حضرت ابوبکر صدیق یار غار بھی کہلاتے ہیں اور اول میں سے اسلام قبول کرنے والے اصحابِ کرام میں شامل ہیں اور آپ نے سب سے پہلے نبوت کا دعویٰ کرنے والے عبہلہ بن کعب معروف باسود العسنی ملعون  کو 511 میں خلیفہ اول حضرت ابوبکر صدیق رضی اللّہ تعالیٰ عنہ نے قتل کیا جو پہلا نبوت کا دعویٰ کرنے والے تھا دوسری بھی آپ رضی اللّہ تعالیٰ عنہ نے جس کا نام مسیلہ بن کبیر حبیب الکذاب تھا اسی سال یعنی 511 عیسوی میں کفر کا سر کچلا 
     ابوبکر الصدیق ، خدا کے رسول کے جانشین ، خدا ان پر سلامتی اور برکت نازل کرے ، ان کا نام عبداللہ ابن ابی قحافہ عثمان ابن عامر ابن عمرو ابن کعب ابن سعد ابن تیم ابن مرہ ابن کعب ابن ہے لوئے ابن غالب القرشی التمیمی ایک موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملتے ہیں۔
    النوی نے اپنی تہذیب میں اور جو ہم نے ذکر کیا ہے کہ ابوبکر الصدیق عبداللہ کا نام صحیح اور معروف ہے ، اور کہا گیا کہ اس کا نام عتیق ہے۔ ابن الزبیر ، اللیث ابن سعد اور ایک گروہ ، اور کہا گیا کہ اس کے نسب میں کچھ غلط نہیں ہے۔
    مصعب بن زبیر اور دیگر نے کہا:امت متفقہ طور پر اسے الصدیق کہنے پر راضی ہوگئی کیونکہ اس نے اللہ کے رسول believe پر ایمان لانے میں جلدی کی ، خدا اسے سلامت رکھے اور اسے سچا ہونا چاہیے۔ اسلام میں ، بشمول شب سفر کی رات کی کہانی ، اس کی ثابت قدمی اور اس میں کافروں کو اس کا جواب ، اور خدا کے رسول کے ساتھ اس کی ہجرت ، خدا اسے سلامت رکھے اور اسے سلامتی دے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے بچوں اور بچوں اور ان کے ساتھیوں کو غار اور باقی راستے میں چھوڑ دیا ، پھر بدر کے دن اور حدیبیہ کے دن ان کے الفاظ جب دوسروں کو مکہ میں داخل ہونے میں تاخیر کا شبہ تھا اور پھر جب وہ رو رہے تھے خدا کے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا کہ ایک بندہ جسے خدا نے دنیا اور آخرت کے درمیان منتخب کیا ، تو اس نے آخرت کا انتخاب کیا اور پھر اس کے استحکام کے دن خدا کے رسول نبی کی وفات کے دن ، خدا کی دعائیں اور سلامتی ہو ، لوگوں کو خطبہ دیا اور انہیں آباد کیا ، پھر وہ مسلمانوں کے فائدے کے لیے بیعت کے مسئلے میں اٹھا ، پھر اسامہ بن زید کی فوج کو شام بھیجنے میں اس کی دلچسپی اور ثابت قدمی اس میں اس کا عزم ، پھر اس کا ارتداد کے لوگوں سے لڑنے کا عروج اور صحابہ کے ساتھ اس کی بحث جب تک کہ وہ ثبوت کے ساتھ حج نہ کریں اور خدا نے ان کے سینے کو اس بات کے لیے سمجھایا جو اس نے اسے سچ سے سمجھایا ، جو کہ ارتداد کے لوگوں سے لڑ رہا ہے ، پھر اس نے لیوینٹس کو اس پر فتح حاصل کرنے اور انہیں سامان مہیا کرنے کے لیے تیار کیا ، پھر اس نے ایک اہم کام کے ساتھ اس پر مہر لگا دیاس کی بہترین خوبیاں اور اس کی سب سے اعلیٰ خوبی مسلمانوں پر اس کی جانشینی ہے ، عمر رضی اللہ عنہ اس سے راضی ہیں ، اس کی تشریح اور اس کی مرضی ، اور خدا نے اسے قوم کے سپرد کیا ہے ، لہذا خدا غالب اور اس کے بعد ان میں بہترین خلافت آئی اور عمر کے سامنے پیش ہوئے ، جو ان کے نیک اعمال میں سے ایک ہے اور ان کا ایک عمل اسلام کا پیش خیمہ ہے اور دین کی مضبوطی اور خدا کے اس وعدے پر یقین ہے کہ وہ اسے سب پر ظاہر کرے گا ایک دوست کی بے شمار خوبیاں ، راضی اور فضیلتیں ہیں۔ یہ ایک نووی کے الفاظ ہیں۔
    اور میں کہتا ہوں: میں صدیق کے ترجمے کو کچھ ہندسوں میں آسان بنانا چاہتا تھا ، اس میں اس کے ایک بڑے جملے کا ذکر کرنا جو میں نے اس کی حالت سے کیا تھا ، اور اسے ابواب میں ترتیب دیا تھا۔
    اس کے نام اور عنوان میں ایک باب۔
    اس کا حوالہ دیا گیا۔ ابن کثیر نے کہا: وہ اس بات پر متفق تھے کہ اس کا نام عبداللہ ابن عثمان تھا ، سوائے اس کے کہ ابن سعد نے ابن سیرین کے اختیار پر بیان کیا کہ اس کا نام عتیق ہے ، اور صحیح اس کا لقب ہے۔ حنبل ، ابن ما میں اور دیگر ، اور ابو نعیم الفضل ابن ذکین نے کہا: وہ اپنی بھلائی کے لیے ہے ، اور کہا گیا: اس کا نسب ، یعنی اس کی پاکیزگی ، اگر اس کے نسب میں کوئی خرابی نہیں ہے۔ ابوبکر کا نام اس نے کہا: عبداللہ۔ اس نے کہا کہ لوگ کہتے ہیں عتیق۔ اس نے کہا کہ ابو قحافہ کے تین بچے تھے جن کا نام اس نے عتیق ، معطیق اور معطیق رکھا۔ ابن مندہ اور ابن عساکر نے موسیٰ بن طلحہ سے روایت کی کہ کہا: میں نے ابو طلحہ سے کہا ، اس نے ابو طلحہ سے کہا: ابوبکر کا نام عتیق کیوں رکھا گیا؟ اس نے کہا: اس کی ماں اپنے بیٹے کے لیے نہیں رہ رہی تھی ، اور جب اس نے اسے جنم دیا تو اس نے گھر کو سلام کیا ، پھر اس نے کہا ، "اے خدا ، یہ موت سے پاک ہے ، اس لیے اس نے مجھے یہ دیا۔” الطبرانی نے ابن عباس کی روایت پر بیان کیا ، جنہوں نے کہا:اسے اپنے اچھے چہرے کی وجہ سے عتیق کہا جاتا تھا ، اور ابن عساکر نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ، اللہ نے اس سے راضی ہو ، جس نے ابوبکر کا نام بتایا ، جسے اس کے خاندان نے اس کا نام عبداللہ رکھا ، لیکن عتیق نے اسے پیچھے چھوڑ دیا اور ایک تلفظ میں ، لیکن نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ، اسے سلامت رکھیں ، اسے عتیق کہتے ہیں ، اس کے بارے میں خدا نے کہا ، خدا کی قسم ، میں ایک دن اپنے گھر میں ہوں اور خدا کے رسول ، خدا اسے برکت دے اور عطا کرے اسے سلامتی ، اور اس کے ساتھی صحن میں ہیں اور میرے اور ان کے درمیان پردہ ہے ، جب ابوبکر آتے ہیں۔ اسے ابوبکر کی طرف دیکھنے دو۔ "اور اس کا نام جو اس نے اپنے خاندان کے نام عبداللہ رکھا تھا ، اس لیے عتیق نام اس پر غالب آیا ، اور الترمذی اور الحکیم نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ، خدا اس سے راضی ہو ، کہ ابوبکر خدا کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس داخل ہوا اور کہا: اے ابوبکر ، تم خدا کی آگ سے آزاد ہو گئے ہو ، ابوبکر کا نام عبداللہ تھا ، لہذا خدا کے رسول ، خدا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو برکت دی اور اسے سلامتی دی ، اس سے کہا ، "تم خدا کی آگ سے آزاد ہو۔” اسے عتیق کہا جاتا تھا۔اے ابوبکر تم جہنم کی آگ سے پاک یعنی جنتی ہو   ۔اس دن سے اسے عتیق کہا جاتا تھا۔ البزار اور الطبرانی نے عبداللہ بن الزبیر کے اختیار پر راوی کا ایک اچھا سلسلہ نکالا جس نے کہا: ابوبکر کا نام عبداللہ تھا ، تو خدا کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس پر سلامتی کی ، اس سے کہا ، تم جنتی ہو  ،” اس لیے اسے عتیق کہا گیا۔اے ابوبکر تم جہنم سے پاک  ہو۔اس دن سے اسے عتیق کہا جاتا تھا۔ البزار اور الطبرانی نے عبداللہ بن الزبیر کے اختیار پر راوی کا ایک اچھا سلسلہ نکالا جس نے کہا: ابوبکر کا نام عبداللہ تھا ، تو خدا کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس پر سلامتی کی ، اس سے کہا ، "تم خدا کی آگ سے آزاد ہو ،” اس لیے اسے عتیق کہا گیا۔
    جہاں تک الصدیق کا تعلق ہے ، یہ کہا جاتا تھا کہ اسلام سے پہلے کے زمانے میں انہیں ان کی ایمانداری کی وجہ سے پکارا جاتا تھا۔ خدا کی دعائیں اور سلامتی اس پر ، جو وہ اسے بتا رہا تھا۔ ابن اسحاق نے الحسن البصری اور قتادہ کے اختیار پر کہا۔ خدا اس سے راضی ہو۔ اس نے کہا مشرک ابوبکر کے پاس آئے اور کہا۔ کیا آپ کا کوئی دوست ہے جو دعویٰ کرتا ہے کہ اسے آج رات اپنے ساتھ بیت المقدس لے جایا گیا؟ انہوں نے کہا ، "ہاں۔” اس نے کہا ، "اس نے ایمان لے لیا ہے۔ میں اس پر اس سے زیادہ یقین کرتا ہوں ، صبح آسمان کی خبروں کے ساتھ اور اس کی روح میں۔ اسی لیے الصدیق کو اس کی زنجیر کہا جاتا ہے۔ اچھا ہے ، اور یہ انس اور ابوہریرہ کی حدیث سے آیا ہے ، جسے ابن عساکر اور ام ہانی نے بیان کیا ہے۔ اسے الطبرانی نے روایت کیا ہے۔
    سعید بن منصور نے اپنی سنن میں کہا: ابو معشر نے ہمیں ابوہریرہ کے آزاد کردہ غلام ابوہریرہ کے اختیار پر بتایا ، اس نے کہا ، "جب اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم واپس آئے اس کے ساتھ میری پرواز کی رات ، وہ ذی طوا میں تھا ، اس نے کہا ، اے جبرائیل ، میری قوم مجھ پر یقین نہیں کرتی۔ ابو وہب ابوہریرہ کے اختیار پر
    الحاکم نے المستدرک میں النزال بن صبرا کے اختیار پر بیان کیا ، انہوں نے کہا: ہم نے علی سے کہا ، مومنوں کے کمانڈر ، ہمیں ابوبکر کی اتھارٹی پر بتائیں۔
    الدراقطنی اور الحاکم نے ابو یحییٰ کے حوالے سے بیان کیا ، جنہوں نے کہا: میں شمار نہیں کرتا کہ میں نے علی کو منبر پر کہتے ہوئے کتنا سنا: خدا نے ابوبکر کا نام اپنے نبی کی زبان پر رکھا ، ایک دوست۔
    الطبرانی نے اسے حکیم بن سعد کے حوالے سے ایک عمدہ ، مستند سلسلہ بیان کے ساتھ شامل کیا جس نے کہا: میں نے علی کو یہ کہتے ہوئے اور قسم کھاتے ہوئے سنا کہ خدا نے ابوبکر کا نام جنت سے صدیق نازل کیا۔
    اور ابی بکر کی والدہ جو اپنے والد کے چچا کی بیٹی تھی ، اس کا نام سلمیٰ بنت صخر بن عامر بن کعب تھا اور اسے ام الخیر کہا جاتا تھا۔ الزہری نے کہا کہ اسے ابن عساکر نے روایت کیا ہے۔
    اس کی پیدائش اور پیدائش کے بارے میں ایک باب
    وہ نبی کی پیدائش کے دو سال اور مہینے بعد پیدا ہوا ، خدا اسے سلامت رکھے اور اسے سلامتی دے ، کیونکہ اس کی وفات اس وقت ہوئی جب وہ تریسٹھ سال کا تھا۔
    ابن کثیر نے کہا: جو کچھ خلیفہ بن الخیات نے یزید بن العاصم کے حوالے سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابوبکر سے کہا: کیا میں بوڑھا ہوں ، یا آپ ہیں؟ اس نے کہا ، "تم بڑے ہو اور میں تم سے بڑا ہوں ، کیونکہ وہ بہت غریب مرسل ہے ، اور اس کے برعکس مشہور ہے ، لیکن یہ عباس کے اختیار میں سچ تھا۔”
    اس کی اصل مکہ میں تھی ، جہاں سے وہ صرف تجارت کے لیے نکلا تھا ، اور اس کے پاس اپنے لوگوں کے درمیان بہت زیادہ پیسہ تھا ، مکمل شرافت ، احسان اور ان کے ساتھ احسان ، جیسا کہ ابن الدغنا نے کہا: آپ رشتہ داری کو جوڑتے ہیں۔ ، حدیث پر یقین کریں ، غریب کمائیں ، سب برداشت کریں ، ہمیشہ کی آفات میں مدد کریں ، اور مہمان کو قبول کریں۔
    النووی نے کہا: وہ قبل از اسلام دور میں قریش کے سرداروں میں سے تھے ، اور جو لوگ ان سے مشورہ کرتے تھے ، ان سے محبت کرتے تھے اور ان کی خصوصیات کو جانتے تھے ، جب اسلام آیا تو اس نے اسے ہر چیز پر ترجیح دی اور اس میں داخل ہو گیا۔ زبیر بن بکر اور ابن عساکر نے معرف بن خاربود کے حوالے سے نکالا ، جنہوں نے کہا: ابوبکر الصدیق ، اللہ اس سے راضی ہوں ، قریش کے گیارہ کو بلایا گیا۔ انہیں اسلام سے پہلے کے دور کا اعزاز حاصل تھا۔ اسلام ، لہٰذا اس کے پاس خون کے پیسے اور جرمانے کا معاملہ تھا ، کیونکہ قریش کے پاس کوئی بادشاہ نہیں تھا کہ وہ اسے تمام معاملات واپس کر دے۔بلکہ ہر قبیلے میں اس کے سردار کے لیے ایک عام حکم تھا۔ بنو ہاشم میں پانی دینا اور سرپرستی دی گئی۔اس کا مطلب یہ ہے کہ کوئی بھی نہیں کھاتا یا پیتا ہے سوائے ان کے کھانے پینے کے ، اور یہ بنو عبد الدار الحجابہ ، بریگیڈ اور سیمینار میں تھا ، یعنی کوئی بھی ان کی اجازت کے بغیر گھر میں داخل نہیں ہوتا۔ ، اور اگر قریش نے جنگ کا جھنڈا تھام لیا تو بنو عبد الار نے ان کے لیے تھام لیا۔
    نوٹ عظمت صحابہ کرام رکھتے وقت کوئی الفاظ کی انجانے میں غلطی کوتاہی ہوتو  اللّہ تعالیٰ معاف فرمائے۔ 
    Twitter ‎@RizwanANA97

  • حضرت مولانا قاسم ناناتوی رحمہ اللہ کی حالات تحریر:تعریف اللہ

    حضرت مولانا قاسم ناناتوی رحمہ اللہ کی حالات تحریر:تعریف اللہ

    حضرت مولانا قاسم نانوتوی رح کا اصل نام حورشید حسن تھا۰اپ رح ۱۲۴۸ میں ضلع سہارنپور کے قصبے نانوتہ میں پیدا ہوئے۰اپ رح کے والد اسدعلی بن غلام شاہ رح نہایت پرہیزگار اور صوم وصلوۃ کے پابند تھے۰اپ رح بچپن ہی سے سعادت مند ،ذہین اور محنتی تھے۰ابتدائی تعلیم قصبہ دیوبند میں حاصل کی پھر ۱۲۶۰ میں مولانا مملوک علی رح کے ہمراہ دہلی تشریف لے گئے اور حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رح کے چھوٹے صاحبزادے حضرت مولانا شاہ عبدالغنی سے علوم حدیث کی تکمیل کی۰بعد ازاں اپ رح شیخ المشائخ حضرت مولانا حاجی امداداللہ مہاجر مکی رح سے بیعت کی اور تصوف وسلوک کی منازل طے کرتے ہوئے خلعت خلافت حاصل کی۰اس روحانی نسبت نے اپ رح کے باطنی جوہروں کو خوب نکھاردیا۰اپ رح خوش مزاج اور عمدہ اخلاق کے مالک تھے۰

    حد درجہ منکسرالمزاج ،شہرت سے گریزاں،ریاء سے کوسوں دور تھے۰علم وعمل،زاہد وتقوی کے پہاڑ تھے اور بڑے مناظر تھے۰باطل قوتوں سے متعدد مناظرے کیے اور ہمیشہ کامیاب رہے۰اپ رح اپنے اور کے ایک عظیم محدث اور سچے عاشق رسولرسولﷺ تھے۰اپ رح نے حاجی امداداللہ مہاجر مکی رح کی قیادت میں اپنے رفقائےکار مولانا رشید احمد گنگوہی ،مولانا محمد یعقوب نانوتوی رح مولانا شیخ محمد تھانوی رح اور حافظ ضامن شہید رح سے مل کر انگریزوں کے خلاف جہاد میں بھی حصہ لیا۰انجام کار اپ رح کے کئ ساتھی شہید ہوئے اور کئ گرفتار ہوگئے۰

    جنگ آزادی کی شکست کے بعد اپ رح نے احیائے دین کا کام دوسرے انداز میں شروع کیا اور دارلعلوم دیوبند کی بنیاد رکھی جہاں سے بے شمار تشنگان علم نے فیض پایا ۰دارالعلوم دیوبند کا قیام تاریخ کا ایک ایسا روشن باب ہے جو علم وعمل کی دنیا میں ہمیشہ جگماتا رہے گا۰اس دارالعلوم کے فضلاء میں حضرت شیخ الہند مولانا محمودالحسن رح،علامہ انورشاہ کشمیری رح،علامہ شبیر احمد عثمانی ،مولانا حسین احمد مدنی،مفتی عزیزالرحمن عثمانی ،مفتی محمد شفیع ،مولانا عبیداللہ سندھی،اور مولانا محمد ادریس کاندھلوی رحمتہ اللہ علیھم جیسی ہزاروں مشاہیر شخصیات نکلیں جنہوں نے ایک عالم کو اپنے فیض چے منور کیا ۰بالاخر علم وعمل کا یہ افتاب ۴ جمادی الاول ۱۲۹۷ بروز جمعرات ہمیشہ کیلئے غروب ہوگیا۰

    حضرت مولانا پیر ذوالفقار احمد صاحب نقشبندی حفظہ اللہ فرماتے ہیں کہ مجھے حضرت مولانا قاسم نانوتوی رح سے اتنی زیادہ محبت وعقیدت ہے کہ بہت زیادہ۰حالاں کہ دارالعلوم دیوبند کے دوسرے اکابرین سے بھی عقیدت ہے مگر حضرت نانوتوی رح کی طرف دل زیادہ کھنچتا ہے، ان کے ساتھ قدرتی محبت قلبی ہے جیسے صحابہ کرام رضی اللہ عنھم میں صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے ساتھ ائمہ اربعہ میں امام اعظم رح کے ساتھ اور مشائخ عظام میں سے حضرت نقشبندی بخاری رح کے ساتھ محبت بہت زیادہ ہے۰اسی طرح حضرت نانوتوی رح کیساتھ محبت بہت زیادہ ہے۰حتی کہ ان کا نام آجائے تو پتہ نہیں مجھے کیا ہوجاتا ہے۰میں اس وقت مسجد میں بیٹھا ہوں ،باوضو بیٹھا ہوں،منبر پر بیٹھا ہوں اگر میں قسم کھا کر کہوں کہ مجھے حضرت مولانا قاسم نانوتوی رح کیساتھ اپنے باپ سے بھی زیادہ محبت ہے تو میں حانث نہ بنوں گا۰

    ایک مرتبہ اپ رح قطب عالم حضرت گنگوہی رح کے ہمراہ حج کیلئےجارہے تھے۰قافلے میں کوئی حافظ نہ تھا۰رمضان المبارک کا مہینہ اگیا ۰اپ رح روزانہ ایک پارہ حفظ کرکے رات کو تراویح میں سنادیتے تھے ۰کسی کو پتہ بھی نہ چلا اور صرف ایک ماہ کی محتصر مدت میں پورا قران پاک حفظ بھی کرلیا۰

    استاد کا ادب:ادب کی کیفیت یہ تھی کہ مولانا ذوالفقار علی رح جب بیماری میں اپ کے پاس اتے تو اپ رح اٹھ کر بیٹھ جاتے تھے۰ایک مرتبہ مولوی صاحب نے دریافت کیا،حضرت !اپ ایسا کیوکرتے ہیں؟تو فرمایا،حضرت!اس لیے کہ اپ میرے استاد ہیں ۰انہوں نے کہا :میں کہاں استاد ہوں؟فرمایا ایک مرتبہ مولانا مملوک علی رح کسی کسی کام میں مصروف تھے تو اپ سے فرمایا تھاکہ ان کو ذرا کافیہ کا سبق پڑھادو  اس لیے اپ میرے استاذ ہوئے۰

    پیر کے ہم وطن ادمی کا احترام:تھانہ بھون کے ایک شحص کو اہل علم سے محبت تھی۰اس نے حضرت مولانا اشرف علی تھانوی رح کو بتایا کہ ایک دفعہ میں دیوبند میں مولانا قاسم نانوتوی رح کی مجلس میں حاضر ہوا۰مولانا نے فارغ ہوکر پوچھا ،کہاں سے ائے ہو؟میں نے کہا ،تھانہ بھون سے ایا ہوں ۰یہ سن کر گھبرا کر فرمایا کہ بے ادبی ہوئی،وہ میرے پیر کا وطن ہے۰اپ ائے اور میں بیٹھا رہا اپ مجھے معاف کیجئے۰

    شان مسکنت:ایک طالب علم نے حضرت نانوتوی رح کی دعوت کی ۰اپ رح نے فرمایا کہ ایک شرط پر منظور ہے کہ خود کچھ مت پکانا ،گھر میں جوءتمھاری روٹیاں مقرر ہیں وہی ہمیں بھی کھلا دینا۰اس نے منظور کرلیا۰یہ ہے شان مسکنت اور غربت وانکساری اور عاجزی  کہ اتنا بڑا شحص اور اس طرح اپنے کو مٹائے ہوئے تھا۰

    @Tareef1234

  • سیرت نبیﷺ تحریر:غلام نبی بلوچ

    سیرت نبیﷺ تحریر:غلام نبی بلوچ

    تحریر:غلام نبی بلوچ

    اللہ تعالیٰ نے اس دنیا میں حضرت آدم سے لے کر خاتم نبی حضرت محمدﷺ تک ایک لاکھ چوبیس ہزار پغمبر بھیجے۔ان پغمبروں میں زیادہ تر نبی تھے اور رسول قلیل تعداد میں۔نبی اور رسول میں بنیادی فرق یہ ہے نبی سابقہ شریعت کی پیروی کر کے لوگوں تک اللہ کا پیغام پہنچاتا جبکہ رسول صاحب شریعت یعنی ایک نئ شریعت لے کر لوگوں تک رب العالمین کا پیغام پہنچاتا۔ہر رسول کو نبی کہ سکتے ہیں لیکن ہر نبی کو رسول نہیں کہ سکتے۔حضرت محمد خاتم النبیینﷺ سے پہلے انبیاء اکثر وبیشتر اللہ کا پیغام مخصوص بستیوں اور قبیلوں میں پہنچاتے تھے اور بیک وقت ایک سے زائد انبیاء بھی ہوتے تھے۔لیکن اللہ کے محبوب حضرت محمدﷺ کو اللہ تعالیٰ نے تمام جہانوں کے لیے رحمت بنا کر بھیجا۔حضرت محمدﷺ چند بستیوں یا قبیلے کے لیے پغمبر بنا کر نہیں بھجے گۓ۔حضرت محمدﷺ پوری دنیا کے لیے پغمبر بنا کر بھیجے گۓ۔

    نبوت سے پہلے کی زندگی:

    حضرت محمدﷺ 20 اپریل 571 عیسوی کو مکہ مکرمہ میں پیدا ہوۓ۔آپﷺ کے والد کا نام عبداللہ اور والدہ ماجدہ کا نام بی بی آمنہ تھا۔آپ کے والد عبداللہ وفات پا چکے تھی آپ کی تربیت آپ کے دادا عبدالمطلب نے کی۔جب آپ چھ برس کی عمر کو پہنچے والدہ کا انتقال ہوا۔آٹھ برس کی عمر میں آپ کے دادا کا انتقال ہوا تو پرورش آپ کے چچا ابو طالب نے اپنے سپرد لیا۔آپ نے اپنے چچا کے ساتھ تجارت کی غرض سے دوسرے ملکوں کا سفر کیا جس میں بصرہ اور شام شامل ہیں۔حضرت محمدﷺ کی ایمانداری سے متاثر ہو کر حضرت خدیجہ نے آپ سے نکاح کر لیا۔حضرت خدیجہ ایک بیوہ خاتون تھی۔نکاح کے وقت حضرت خدیجہ کی عمر 40 سال اور آپﷺ25 برس کے تھے۔آپﷺ ہمیشہ سچ بولتے تھے اور امانت میں خیانت نہیں کرتے تھے اس لیے مکہ کے لوگوں نے آپ کو صادق اور امین کا لقب دیا۔

    نبوت کے بعد کی زندگی:

    جب آپﷺ چالیس سال کے ہوۓ تو اللہ نے آپ کو نبوت جیسے عظیم نعمت سے نوازا۔غار حرا میں آپ پر پہلی وحی مبارک نازل ہوئی۔آپﷺ کی نبوت پر سب سے پہلے حضرت خدیجہ،حضرت ابوبکر صدیق،حضرت علی،حضرت زید بن حارث،حضرت عثمان بن عفان،سعد بن ابی وقاص، طلحہ بن عبیداللہ، عبدالرحمٰن بن عوف، ابو عبیدہ بن جراح اور زبیربن العوام ایمان لاۓ۔آپﷺ نےاسلام کی تبلیغ شروع کی تو مکہ کے لوگ آپﷺ کے دشمن ہوگۓ۔دشمنی کی انتہا یہاں تک تھی کہ مکہ کے لوگ آپﷺ کےقتل کےمنصوبے بنانے لگے۔مسلمانوں پر ظلم و تشدد کیا جاتا۔اس وجہ سے کچھ صحابہ حبشہ کی طرف ہجرت کر گۓ۔أپﷺ نے بھی حضرت ابوبکر کے ساتھ مدینہ کی طرف ہجرت کی۔مدینہ پہنچنے سے پہلےآپﷺ نے قبا کےمقام پر قیام کیا اور مسجد قبا کی بنیاد رکھی۔اس کے بعد آپﷺ مدینہ پہنچے اور مہاجرین و انصار میں رشتہ مواخات قائم کر دیا۔ آپﷺ کی قیادت میں ہونے والے غزوات میں غزوہ بدر،غزوہ احد،غزوہ خندق,غزوہ خیبر اور غزوہ حنین نمایاں ہیں -آپﷺ کی قیادت میں مسلمانوں نے نہ صرف کفار مکہ کو شکست دے کر 8 ہجری میں مکہ فتح کر لیا بلکہ اس پہلے اور بعد میں دیگر قبائل کو اپنا فرمانبردار بنایا۔آپﷺ نے 10 ہجری میں حج بیت اللہ ادا کیا جسے حجتہ الوداع کہتے ہیں۔آپﷺ 63 برس کی عمر میں وفات پاگۓ۔آپﷺ کو اسی حجرے میں سپردخاک کیا گیا جس میں آپﷺ کی وفات ہوئی تھی۔آپﷺ کا روضہ مسجد نبوی کے اندر واقع ہے۔

    آپﷺ کی چند ازواج مطہرات کے نام درج ذیل ہیں:

    حضرت خدیجہ بنت خویلد،حضرت سودہ،حضرت عائشہ بنت ابی بکر،حضرت حفضہ بنت عمر،حضرت زینب بنت خزیمہ،حضرت زینب بنت حجش،حضرت جویریہ بنت حارث،حضرت میمونہ بنت حارث،حضرت صفیہ۔

    آپﷺ کے بیٹوں کے نام درج ذیل ہیں:

    قاسم،عبداللہ اور ابراہیم۔

    آپﷺ کے بیٹیوں کے نام درج ذیل ہیں:بی بی فاطمہ،بی بی زینب، بی بی ام کلثوم اور بی بی رقیہ

    Twitter id: @GN_bloch