Baaghi TV

Category: مذہب

  • آپ ﷺ پر درود و سلام کیسے بھیجیں تحریر: محمد آصف شفیق

    آپ ﷺ پر درود و سلام کیسے بھیجیں تحریر: محمد آصف شفیق

    قرآن کریم میں ارشاد  باری تعالیٰ  ہے

    اِنَّ اللّٰهَ وَمَلٰۗىِٕكَتَهٗ يُصَلُّوْنَ عَلَي النَّبِيِّ ۭ يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا صَلُّوْا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوْا تَسْلِــيْمًا   56؀

    اللہ اور اس کے ملائکہ نبی ﷺ پر درود بھیجتے ہیں اے لوگو ! جو ایمان لائے ہو ، تم بھی ان پر درود و سلام بھیجو۔(سورۃ الاحزاب 56)

    صحابہ کرام ؓ  نے  نبی کریم ﷺسے پوچھا کہ اے نبی مہربان   ﷺہم  آپ  ﷺ پر درورد و سلام  کیسے بھیجیں  اسی حوالے سے آج  ہم  احادیث کی  روشنی میں جاننے کی کوشش کریں   گے

    حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص ایک بار مجھ پر درود بھیجے اللہ اس پر دس رحمتیں نازل کرے گا۔(صحیح مسلم:جلد اول:حدیث نمبر 907)

     

      عبداللہ بن یوسف مالک بن انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ عبداللہ بن ابوبکر بن محمد بن عمرو بن حزم ان کے والد عمرو بن سلیم زرقی حضرت ابوحمید ساعدی رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین نے عرض کیا یا رسول اللہ! ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر درود کیسے پڑھیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس طرح پڑھا کرو اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَأَزْوَاجِهِ وَذُرِّيَّتِهِ کَمَا صَلَّيْتَ عَلَی آلِ إِبْرَاهِيمَ وَبَارِکْ عَلَی مُحَمَّدٍ وَأَزْوَاجِهِ وَذُرِّيَّتِهِ کَمَا بَارَکْتَ عَلَی آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّکَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ۔(صحیح بخاری:جلد دوم:حدیث نمبر 627)

    قیس بن حفص موسیٰ بن اسماعیل عبدالواحد بن زیاد ابوقرہ مسلم بن سالم ہمدانی عبداللہ بن عیسیٰ عبدالرحمن بن ابی لیلی سے روایت کرتے ہیں عبدالرحمن کہتے ہیں کہ مجھ سے کعب بن عجرہ ملے تو فرمایا کیا میں تمہیں ایسا تحفہ نہ دوں جسے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا ہے میں نے عرض کیا ضرور دیجئے انہوں نے کہا ہم نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر یعنی اہل بیت پر ہم کس طرح درود پڑھیں؟ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں یہ تو بتا دیا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر کیسے درود پڑھیں (اب اہل بیت پر درود کا طریقہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم  بتا دیجئے) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس طرح پڑھو اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَعَلَی آلِ مُحَمَّدٍ کَمَا صَلَّيْتَ عَلَی إِبْرَاهِيمَ وَعَلَی آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّکَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ اللَّهُمَّ بَارِکْ عَلَی مُحَمَّدٍ وَعَلَی آلِ مُحَمَّدٍ کَمَا بَارَکْتَ عَلَی إِبْرَاهِيمَ وَعَلَی آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّکَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ۔(صحیح بخاری:جلد دوم:حدیث نمبر 628)

    حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ ہم نے عرض کیا یا رسول اللہ ہم آپ کو سلام کرنا تو جانتے ہیں لیکن آپ پر درود کس طرح بھیجیں، آپ نے فرمایا کہ اس طرح کہو۔ اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ عَبْدِکَ وَرَسُولِکَ کَمَا صَلَّيْتَ عَلَی إِبْرَاهِيمَ وَبَارِکْ عَلَی مُحَمَّدٍ وَعَلَی آلِ مُحَمَّدٍ کَمَا بَارَکْتَ عَلَی إِبْرَاهِيمَ وَآلِ إِبْرَاهِيمَ ۔

    صحیح بخاری:جلد سوم:حدیث نمبر 1308 

    حضرت عمرو بن سلیم زرقی ابوحمدی ساعدی رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ لوگوں نے عرض کیا یا رسول اللہ ہم کس طرح آپ پر درود بھیجیں، آپ نے فرمایا کہ اس طرح کہو، اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَأَزْوَاجِهِ وَذُرِّيَّتِهِ کَمَا صَلَّيْتَ عَلَی آلِ إِبْرَاهِيمَ وَبَارِکْ عَلَی مُحَمَّدٍ وَأَزْوَاجِهِ وَذُرِّيَّتِهِ کَمَا بَارَکْتَ عَلَی آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّکَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ  (صحیح بخاری:جلد سوم:حدیث نمبر 1310)

    یحیی بن یحیی تمیمی، مالک، نعیم بن عبد اللہ، محمد بن عبداللہ بن زید انصاری، عبداللہ بن زید، ابومسعود انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ ہم سعد بن عباد رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی مجلس میں تھے کہ ہمارے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بشیر بن سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہم کو اللہ تبارک وتعالی نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود بھیجنے کا حکم دیا ہے ہم آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر کیسے درود بھیجیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خاموش رہے یہاں تک ہم تمنا کرنے لگے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس طرح کا سوال نہ کیا جاتا پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تم (اَللَّهُمَّ صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَعَلَی آلِ مُحَمَّدٍ کَمَا صَلَّيْتَ عَلَی آلِ إِبْرَاهِيمَ وَبَارِکْ عَلَی مُحَمَّدٍ وَعَلَی آلِ مُحَمَّدٍ کَمَا بَارَکْتَ عَلَی آلِ إِبْرَاهِيمَ فِي الْعَالَمِينَ إِنَّکَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ) پڑھو اور سلام تم پہلے معلوم کر چکے ہو۔(صحیح مسلم:جلد اول:حدیث نمبر 902)

    محمد بن عبداللہ بن نمیر، روح، عبداللہ بن نافع، اسحاق بن ابراہیم، روح، مالک بن انس، عبداللہ بن ابی بکر، عمرو بن سلیم حضرت ابوحمید ساعدی سے روایت ہے کہ صحابہ کرام نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہم آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود کیسے بھیجیں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہو (اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَعَلَی أَزْوَاجِهِ وَذُرِّيَّتِهِ کَمَا صَلَّيْتَ عَلَی آلِ إِبْرَاهِيمَ وَبَارِکْ عَلَی مُحَمَّدٍ وَعَلَی أَزْوَاجِهِ وَذُرِّيَّتِهِ کَمَا بَارَکْتَ عَلَی آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّکَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ) اے اللہ درود بھیج محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ازواج اور اولاد پر جیسا کہ تو نے درود بھیجا آل ابراہیم پر اور برکت نازل فرما محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج واولاد پر جیسا کہ تو نے برکت نازل فرمائی آل ابراہیم پر بے شک تو تعریف کے لائق اور بزرگی والا ہے۔(صحیح مسلم:جلد اول:حدیث نمبر 906)

    حفص بن عمر، شعبہ، حکم بن ابی لیلی، حضرت کعب بن عجرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ ہم نے (یا لوگوں) نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آپ کا حکم ہے کہ ہم آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود و سلام پڑھیں سلام کا طریقہ تو ہمیں معلوم ہے لیکن درود کا طریقہ ہمیں معلوم نہیں ہے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا یوں پڑھا کرو اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ کَمَا صَلَّيْتَ عَلَی إِبْرَاهِيمَ وَبَارِکْ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ کَمَا بَارَکْتَ عَلَی آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّکَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ(سنن ابوداؤد:جلد اول:حدیث نمبر 973)

    حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جو ہم اہل بیت پر درود بھیجنے کا پورا پورا ثواب پانے کا خواہش مند ہو تو اس کو چاہیے کہ یوں کہا کرے

     اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَأَزْوَاجِهِ أُمَّهَاتِ الْمُؤْمِنِينَ وَذُرِّيَّتِهِ وَأَهْلِ بَيْتِهِ کَمَا صَلَّيْتَ عَلَی آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّکَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ

    (سنن ابوداؤد:جلد اول:حدیث نمبر 979)

    حضرت اوس بن اوس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا! تمہارے بہتر دنوں میں سے ایک جمعہ کا دن ہے اسی دن آدم علیہ السلام پیدا ہوئے اسی دن ان کا انتقال ہوا اسی دن صور پھونکا جائے گا اور اس دن سب لوگ بیہوش ہوں گے اس لیے اس دن مجھ پر کثرت سے درود بھیجا کرو کیونکہ تمہارا درود میرے سامنے پیش کیا جاتا ہے لوگوں نے عرض کیا یا رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! ہمارا درود آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر کس طرح پیش کیا جائے گا جب کہ (وفات کے بعد) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا جسم (اولوں کی طرح) گل کر مٹی ہوجائے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے انبیاء کے جسموں کو زمین پر حرام قرار دیدیا ہے (یعنی زمین باقی تمام لوگوں کی طرح انبیاء کے اجسام کو نہیں کھاتی اور وہ محفوظ رہتے ہیں۔

    سنن ابوداؤد:جلد اول:حدیث نمبر 1044

     

     

     

     

     

     

  • کالم نگاری کے 5 آسان طریقے۔ تحریر کنزہ صدیق

    قلم اور قلمکار کی اہمیت ہر دور میں مسلم رہی ہے قلم کی اہمیت کا اندازہ آپ اس بات سے لگا سکتے ہیں کہ اقبال کی قلم ہی مسلمانوں کا شعور جگانے کا سبب بنی اسی طرح قلم اور قلم کار کا رشتہ نہایت ہی گہرا ہے 

    کالم نگار معاشرے کی تصویرکو اپنے خیالات، نظریات اور فکر کے ذریعے قلم کی زبان عطا کر کے الفاظ کے روپ میں ڈھالتا ہے۔

    کالم نگاری کے شوقین نوجوانوں کے لیے چند نہایت آسان طریقے اور کچھ اصول میں بتانا چاہوں گی جن کی مدد سے کوئی بھی بڑی آسانی سے اپنے خیالات کو لفظوں میں بیان کرسکتا ہے 

    کالم لکھنے کا سب سے پہلا مرحلہ شروع ہوتا ہے ڈائری لکھنے سے۔۔

    جی ہاں آپ کے دماغ میں جب بھی کوئی اچھا سا ٹاپک آئے تو آپ فوراً ہی اسے محفوظ کر لیں ساتھ ساتھ اسی کے متعلق سوچنا بھی شروع کریں 

    بعض اوقات ایسا ہوتا ہے کہ ہمارے دماغ میں وہی ٹاپک آتا ہے جو ہمارے اردگرد ہورہا ہوتا ہے لہذا جب بھی آپ اپنے عنوان کے متعلق سوچیں تو زرا اردگرد کے ماحول پہ بھی نظرِ ثانی کریں

    روز ایک ورق لکھئیے دماغ میں خاکہ بنائیے یہ طریقہ آپکو اچھا لکھاری بننے میں مدد دے گا

    دوسرے طریقہ یہ ہے کہ آپ چھوٹی چھوٹی کہانیاں بنائیے ایسی کہانیاں جو موجودہ دور کی عکاسی کرسکیں، آپ سیاسی کہانیوں سے لے کر طنزومزاح سے بھرپور کہانیاں لکھنا شروع کریں آج کل نوجوانوں کو سیاست کا بڑا ہی شوق ہے اسی لیے ملک میں ہونے والے روز مرہ کے معاملات پہ بھی آپ لکھ سکتے ہیں 

    چلیں جی اب بڑھتے ہیں ہمارے تیسرے طریقے کی طرف جوکہ آپ کو ایک اچھا کالم نگار بننے میں مدد دے گا تیسرا طریقہ یہ کہ آپ کسی اچھے کالم نگار کو پڑھنا شروع کریں انکے الفاظ پہ غور کریں الفاظ کے چناو اور انکے معنی و مفہوم پہ غور کریں تاکہ آپ کو سیکھنے میں مدد ملے یاد رکھئیں جب بھی آپ کسی کتاب یا کالم کو پڑھتے ہیں تو آپکے دماغ میں بھی مختلف کردار ابھرتے ہیں جسکی وجہ سے آپکو مختلف آئیڈیاز مل جاتے ہیں 

    چوتھا طریقہ ہے مکالمہ،

    تحریر سکیھنے کا ایک طریقہ فرضی مکالمہ ہے جیسا کہ فرض کر لیجئے کہ دو دوست آپس میں مثبت بحث کر رہے ہیں جس میں ایک چھٹی کے دن کو گھر میں گزارنے پہ بہتر سمجھتا ہے تو دوسرا گھومنے پھرنے کو اہمیت دیتا ہے۔ دو متضاد نظریات یا خیالات کے درمیان موازنہ کرنے سے مزید خیالات جنم لیتے ہیں جسکی وجہ سے تحریر لکھنے مں آسانی ہوتی ہے 

    پانچواں طریقہ اور سب سے اہم یہ کہ مراسلہ اور مکتوب نگاری ہے آپ جو بھی لکھیں اس پہ بڑے غور کرنے کے بعد اسے جانچ لیں بات ہمیشہ مثبت اور مختصر کریں سمجھانے کے لیے الفاظ کا چناو آسان رکھیں تاکہ کسی بھی کلاس کے لوگوں کو پڑھنے اور سمجھنے میں آسانی ہو مختصر بامعنی الفاظ سے آپ کے کالم میں خوبصورتی آتی ہے اور اسی کے ساتھ ساتھ مزاح یا شاعری بھی شامل کیجئے تاکہ پڑھنے والے کو مزہ آئے بجائے اسکے کہ وہ بور ہوجائے ۔۔

    میں نے بھی کوشش کی کہ آپ کو سب سے آسان لفظوں میں سمجھا سکوں امید ہے کہ شروعات میں کالم لکھنے کے لیے آپکو ان طریقوں سے مدد ملے گی

    کالم نگاری کا دائرہ کار اور دائرہ عمل اس قدر پھیلا ہوا ہے کہ اسکی سماجی و سیاسی،تہذیبی،اخلاقی اور ہمہ گیر وسعت سے کون انکار کر سکتا ہے ۔اس کے اعتراف میں اکبر الہ آبادی کا کہنا ہے کہ 

    کھینچو نہ کمانوں کو نہ تلوار نکالو

    جب توپ مقابل ہو تو اخبار نکالو۔

    اللہ آپکا حامی و ناصر ہو۔

  • ہم اہل کفار کے خوف سے اللہ سے جنگ کررہے ہیں تحریر: میاں عبدالمتین

    ہم اہل کفار کے خوف سے اللہ سے جنگ کررہے ہیں تحریر: میاں عبدالمتین

    اللہ تعالی نے سود کو صرف حرام ہی قرار نھیں دیا بلکے اللہ اور اپنے محبوب رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اعلان جنگ قرار دیا ہے اور اسکے ساتھ ساتھ سود کھانے والوں کے لئے سخت ترین وعیدیں بھی بیان کی ہیں۔

    سود کیوجہ سے بظاہر تو مال و دولت میں اضافہ ہوتا نظر آتا ہے لیکن حقیقت میں وہ اضافہ بے برکتی اور نقصان کا باعث بنتا ہے اور انسان کیلئے کسی ناگہانی آفت کا باعث بنتا ہے۔

    اللہ تعالی نے سود سے دور رہنے کا حکم دیتے ہوئے فرمایا!

    ( سود قرآن کی روشنی میں )
    آیت نمبر 1..اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ اور جو لوگ سود کھاتے ہیں وہ کھڑے نھیں ہوں گے (قیامت میں قبروں سے) مگر جس طرح کھڑا ہوتا ہے ایسا شحص جس کو شیطان خبطی بنا دے لپٹ کر (یعنی مدہوش سا)یہ سزا اس لیے ہوگی کہ ان لوگوں نے کہا تھا کہ بیع بھی تو مثل سود کے ہے، حالانکہ اللہ تعالیٰ نے بیع کو حلال فرمایا ہے اور سود کو حرام کردیا ہے

    ایت نمبر 2..اللہ تعالیٰ سود کو مٹاتے ہیں اور صدقات کو بڑھاتے ہیں ۔۔
    ( سود احادیث کی روشنی میں )
    حدیث نمبر 1..حضرت ابوہریرہ (رضی اللہ عنہ) نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے روایت کرتے ہیں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا: سات ہلاک کرنے والی باتوں سے دور رہو۔ لوگوں نے پوچھا: یا رسول اللہ وہ کون سی باتیں ہیں؟ فرمایا: اللہ کے ساتھ شرک کرنا اور جادو کرنا اور اس جان کو ناحق مارنا جس کو اللہ تعالیٰ نے حرام کیا ہے اور سود کھانا اور یتیم کا مال کھانا اور جہاد سے فرار (یعنی بھاگنا) اور پاک دامن بھولی بھالی مومن عورتوں پر زنا کی تہمت لگانا۔”( بخاری)۔۔۔

    حدیث نمبر 2۔۔حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں، کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: جس شب مجھے (معراج میں) سیر کرائی گئی، میں ایک جماعت کے پاس سے گزرا جس کے پیٹ کمروں کے مانند تھے، ان میں بہت سے سانپ پیٹوں کے باہر سے دکھائی دے رہے تھے، میں نے کہا: جبرائیل! یہ کون لوگ ہیں؟ کہنے لگے کہ سود خور ہیں۔”( سنن ابن ماجہ)

    بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح رحمت اللہ علیہ نے سٹیٹ بینک آف پاکستان کا افتتاح کرتے ہوئے فرمایا تھا اسلامی جمہوریہ پاکستان میں بنکاری بھی شریعت کے مطابق سودی نظام سے پاک ہوگی مگر ان کی رحلت کے بعد پاکستان کفار کے بنائے سودی نظام کی دلدل میں اس طرح دھنستا چلا گیا کہ آج ہم کفار کے پھیلائے جال کی وجہ سے 97 بلین ڈالرز کے مقروض ہوچکے ہیں ہم اس سودی نظام کو اس خوف سے نہیں چھوڑ رہے کہ عالم کفار ہم پر معاشی پابندیاں عائد کردے گا گویہ ہمیں کفار کا تو خوف ہے لیکن اللہ کا خوف نہیں ہے سودی نظام کو اپنا کر ہم نے اللہ کے عذاب کو دعوت دے رہے ہیں اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم فرقان حمید میں سود کھانے والوں سے اعلانِ جنگ کیا ہے ہم سود خور اللہ سے حالتِ جنگ میں نہیں ہیں؟ بیشک اللہ اس پوری کائنات کا خالق و مالک ہے وہی بادشاہوں کا بادشاہ ہے اس سے کوئی مقابلہ نہیں کرسکتا سود خور خسارے میں ہیں اللہ ہمارے حکمرانوں کو قرآن و حدیث کے مطابق اسلامی جمہوریہ پاکستان کا نظام چلانے اور ہم عوام کو اس پر عمل پیرا ہونے کی توفیق عطا فرمائے آمین ثم آمین

    @MateenSpeaks

  • شاہ عبداللطیف بھٹائی- سندھی شاعر”  تحریر: حسیب احمد

    شاہ عبداللطیف بھٹائی- سندھی شاعر” تحریر: حسیب احمد

    شاہ عبداللطیف بھٹائی (سندھی زبان کے شاعر) برصغیر کے عظیم صوفی شاعر تھے۔

    آپ نے اپنی شاعری کے ذریعے اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیغام کو عام لوگوں۔

    شاہ عبداللطیف بھٹائی کی ولادت 1639 عیسوی۔ 1101 ہجری میں سندھ کے موجودہ ضلع مٹیاری کی تعلقہ ہالا میں ہوئی۔ آپ کے والد سید حبیب شاہ ہالا حویلی میں رہتے تھے۔ اور موصوف کا شمار اس علاقے کی برگزیدہ ہستیوں میں تھا۔

    شاہ صاحب کی پیدائش کے متعلق مشہور ہے کہ سید حبیب شاہ نے یکے بعد دیگرے تین شادیاں کیں لیکن اولاد سے محروم رہے۔ اپنے اپنی محرومی کا ذکر ایک درویش کامل سے کیا، جن کا اسم گرامی عبد اللطیف بتایا جاتا ہے۔ موصوف نے دعا کرتے ہوئے کہا کہ انشاءاللہ آپ کی مرادبر آئے گی۔ میری خواہش ہے آپ اپنے بیٹے کا نام میرے نام پر شاہ عبداللطیف رکھیں۔

    خدا نے چاہا تو وہ اپنی خصوصیات کے لحاظ سے یکتائے روزگار ہوگا۔

    سید حبیب شاہ کی پہلی بیوی سے ایک بچہ پیدا ہوا، درویش کی خواہش کے مطابق اس کا نام شاہ عبداللطیف رکھا گیا لیکن وہ بچپن میں ہی فوت ہوگیا۔ پھر اس ہی بیوی سے دوسرا لڑکا پیدا ہوا تو اس کا نام پھر شاہ عبداللطیف رکھا گیا، یہی لڑکا آگے چل کردرویش کی پیش گوئی کے مطابق واقعی یگانہ روزگار ہوا۔

    شاہ عبداللطیف بھٹائی کے آباو اجداد سادات کے ایک اہم خاندان سے تعلق رکھتے ہیں۔ آپ کا سلسلہ نسب حضرت علی رضی اللہ عنہ اور رسول خدا حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تک پہنچتا ہے۔ امیر تیمور کے زمانے میں ہرات کے ایک بزرگ سید میر علی بہت سی خوبیوں کے ملک تھے۔ اور آپ کا شمار اس علاقے کے معزز ترین افراد میں ہوتا ہے تھا۔ 1398 801-2ھ میں جب امیر تیمور ہرات آیا، تو سید صاحب نے اس کی اس کے ساتھیوں کی بڑی خاطر تواضع کی، ساتھ ہی بڑی رقم بطور نظرانہ پیش کی، تیمور اس حسن سلوک سے متاثر ہوا۔ سید صاحب اور ان کے دو بیٹوں کو میر ابوبکر اور حیدر شاہ کو مصاحبین خاص میں شامل کرکے ہندوستان لے کر آیا۔

    یہاں آنے کے بعد میر ابوبکر کو سندھ علاقے سیوہن کا حاکم مقرر کیا، اور سید میر علی اور حیدر شاہ کو اپنے ساتھ رکھا۔ بعد کو سید حیدر شاہ بھی اپنے والد بزرگوار اور تیمور کی اجازت سے گھومتے پھرتے مستقل طور پر سندھ میں اگئے۔ ہالا کے علاقے میں شاہ محمد زمیندار کے مہمان ہوئے۔ شاہ محمد نے آپ کی کچھ اس طرح خدمت کی کہ وقتی راہ درسم پر خلوص محبت میں بدل گئی۔ کچھ دنوں بعد اس نے اپنی لڑکی فاطمہ کی شادی آپ سے کردی، چونکہ آپ کی ماں کا نام بھی فاطمہ تھا۔ اس لیے شادی کے بعد اس نام کو سلطانہ سے بدل دیا گیا۔ سید حبیب شاہ قریب قریب تین تین سال تک ہالا میں رہے پھر اپنے والد کی وفات کی خبر سن کر ھرات ھئے جہاں تین چار تک رہنے کے بعد وفات پاگئے، کہتے ہیں جب سید صاحب ہرات روانہ ہوئے تو آپ کی اہلیہ حاملہ تھیں۔ انہوں نے چلتے چلتے یہ وصیت کی تھی کہ اگر میری عدم موجودگی میں بچہ پیدا ہوا تو لڑکا ہونے کی صورت میں اس کا نام میر علی اور لڑکی ہوئی تو فاطمہ رکھا جائے۔ چنانچہ لڑکا پیدا ہوا۔

    اور وصیت کے مطابق اس کا نام میر علی رکھا گیا۔ میر علی خاندان میں بڑے بڑے صاحب کمال بزرگ پیدا ہوئے، ان بزرگوں میں شاہ عبداللطیف بھٹائی کے علاوہ شاہ عبد الکریم بلڑی والے، سید ہاشم اور سید جلال خاص طور پر قابل ذکر ہے۔

    آپ نے سندھی شاعری سے لوگوں کی اصلاح کی، شاہ جو رسالو آپ ہی ایک عظیم کوشش ہے۔

    آپ (شاہ عبداللطیف بھٹائی) نے 1752ء میں 63سال کی عمر میں بھٹ شاہ میں اس جہاں فانی سے کوچ کرگئے۔

    حسیب احمد 

    @JaanbazHaseeb

  • انسانیت اور مسلمانیت   تحریر : امین 

    انسانیت اور مسلمانیت  تحریر : امین 

    خط جو میں نے لکھا انسانیت کے نام پر ڈاکیاں ہی مر گیا پتہ پوچھتے پوچھتے ۔

    ہروز سوشل میڈیا،پرنٹ میڈیا اور ڈیجیٹل میڈیا میں انسانیت سوزی کے ایسے ایسے واقعات اور شہ سرخیاں نظروں سے گزرتی ہیں کہ انسانیت شرمسار نظر آتی ہے ۔ 

    زاتی اناؤں،جھوٹی شخصیت کے تکبر میں گم ہم اپنے اصل اپنی پیدائش کے مقصد کو مکمل بھول چکے ہیں 

    کہ 

    درد دل کے واسطے پیدا کیا انسان کو 

    انسان انس سے ہے اور انس محبت ہے جس میں محبت ہی نہیں وہ انسان ہی نہیں 

    انگریزی کہاوت ہے کہ 

                                                 Do good Have good 

    اسکا یہ مطلب ہر گز نہیں کہ آپ کسی کے ساتھ نیک عمل کریں تو وہ ہی  شخص ہی آپ کے ساتھ بھلائ کرے  نہیں ایسا نہیں ہے جس طرح آپ نے انسانیت کے ناطے کسی کی مدد کی بلکل اسی طرح کہیں کسی موڑ پہ کوئ اجنبی آپ کے معاملے بھی ایسے ہی انسانیت دکھائے گا اور  اسکا مطلب یہ بھی  ہے کہ اگر ہم کسی کے ساتھ بھلائ کریں گے تو اللہ تعالی ہمارے ساتھ بھلائ کا معاملہ فرمائیں گے  

    ہم پہلے انسان ہے اور پھر مسلمان  اگر ایک شخص صرف مسلمان ہے اور اس میں انسانیت نہیں  تو یہ اسکے لۓ کافی نہیں وہ کامیاب نہیں ہے در حقیقت وہ مسلمان ہی نہیں ۔اسلام کو تمام مزاہب میں سے بہترین مزہب کا درجہ انسانیت کی بنیاد پہ ہی دیا گیا ہے 

    مذہب میں سے انسانیت اور خدمت نکال دی جاۓ تو صرف عبادت رہ جاتی ہے اور محض عبادت کیلۓ پروردگار کے پاس فرشتوں کی کوئ کمی نہیں تھی   

    میرے پیاروں اگر ایک انسان پانچ وقت کی نماز ادا کرتا ہے روزے رکھتا ہے حج ادا کرتا ہے اپنے چہرے پر داڑھی سجاتا ہے سفید کپڑے پہنتا ہے تہجد پڑھتا ہے دیگر نوافل ادا کرتا ہے حقوق اللہ تو پورا کرتا ہے لیکن 

    وہ انسان حقوق العباد میں کوتاہی کرتا ہے اس میں انسانیت نہیں ہے وہ حرام کھاتا ہے لوگوں کو تکلیف پہنچاتا ہے لوگوں کو تنگ کرتا ہے تو یقیناً یہ انسان خسارے میں ہے اسکی آخروی کامیابی ناکامی ہے 

     کیونکہ انسان تو ہر گھر میں پیدا ہوتے ہیں لیکن انسانیت کہی کہی پیدا ہوتی ہے  میرا مذہب انسانیت پسندی ہے جو کہ دنیا کے ہر مذہب کی بنیاد ہے۔

    دوسرے طرف ایک انسان جس میں انس ہے محبت ہے شفقت ہے ہم دردی ہے اخلاق ہے حرام نہیں کھاتا حقوق العباد تو پورا کرتا ہے لیکن یہ انسان محض انسانیت کی حد تک ہے روزے نہیں رکھتا نماز نہیں پڑھتا حلال کام نہیں کرتا حقوق اللہ پورا نہیں کرتا تو یہ انسان بھی خسارے میں ہے اسکی کامیابی ناممکن ہے

     طرف لاکھوں انسان بھی دیکھے اور لاکھوں مسلمان  بھی دیکھے لیکن ایسا بہت کم دیکھا جو انسان بھی ہو اور مسلمان بھی ہو ۔

    آج انسان چاند پر پہنچ گیا ،سمندر کی تہوں تک رسائ حاصل کر لی ،صدیوں کے سفر کو لمحوں میں سمیٹ لیا ،لیکن افسوس انسانیت تک نہ پہنچ پایا ۔وہ اونچائ یا  بلندی کس کام کی جس پر سوار ہو  کر انسان انسانیت کے میعار سے ہی گر جائے

    اے بادل اتنا برس کے نفرت ڈھل جائیں 

     انسانیت ترس گئ ہے محبت کے سیلاب کو  

    قربان جاؤں اس عظیم شخص اور عظیم انسان سے جسکی انسانیت اور مسلمانیت دیکھ کر غیر مذہب ایمان لے آتے  

    آپ میرے اپنے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی تاریخ تو پڑھے آپکو ایک ہی شخصیت میں انسان بھی نظر آئیگا اور مسلمان بھی ۔اور کتنے بد نصیب ہیں ہم کہ ہم اس نبی کے امتی ہیں لیکن انسانیت کے الف سے بھی واقفیت نہیں رکھتے 

    یہاں  اگر مسلمان ہے تو انسان نہیں اور گر  انسان ہے۔جب کہ اسلام بار بار کہتا ہے کہ دین و دنیا کی کامیابی تبھی ممکن ہے جب حقوق اللہ کے ساتھ حقوق العباد بھی پورے کیے جائے یعنی ثابت ہوا کہ مزہب اور انسانیت لازم و ملزم ہیں ،

     آج ہمارہ مقصد صرف دوسروں پہ طنز و تنقید کرنا رہ گیا ہے ،دوسروں کے رویوں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہم اپنے گریبان میں جھانکنا بھول جاتے ہیں ۔ خدارا دوسروں پہ فتوے لگانے کی بجائے اپنے اعمال کو سدھاریے ،صحیح اور غلط کا فیصلہ رب تعالی پر  چھوڑ دیں 

    آپ انسان ہیں انسانیت پر زور دیں۔ 

     کسی کو دنیا اور آخرت میں خوشحالی، کا میابی و کامرانی چاہئے تو مزہب اور انسانیت  دونوں چیزیں خود میں پیدا کرے اچھے مسلمان ہونے کے ساتھ اچھا انسان بھی بنے

     موجودہ دور کا سنگین المیہ ہے کہ سمجھانے والے نے سمجھا کر چھوڑا سمجھنے والے نے سمجھ کر چھوڑا 

    سنانے والے نے سنا کر چھوڑا سننے والے نے سن کر چھوڑا

     پڑھانے والے نے پڑھا کر چھوڑا پڑھنے والے نے پڑھ کر چھوڑا

    لکھنے والے نے لکھ کر چھوڑا ،عمل کرنے کے مقام تک کوئ نہیں آتا ۔بحیثیت مسلمان ،بحیثیت انسان ہمیں اس بات کو  سمجھنا ہے کہ کامیاب انسان بننے کیلیے 

    گفتار کے دور میں کردار کی ضرورت ہے ۔

    محض دلچسپی کے لۓ نہ پڑھے عمل کی کوشش ضرور کیجۓ گا۔

    Twitter Handle : @ameyynn

  • آج کا مسلمان ; تحریر فرازرؤف

    آج کا مسلمان ; تحریر فرازرؤف

    ہمیں اللہ تعالی کا شکر ادا کرنا چاہیے کہ اس نے ہمیں ایک مسلمان گھرانے میں پیدا کیا اور اس سے بڑھ کر اور کیا ہو سکتا ہے کہ ہم حضرت محمد ﷺ کے امتی ہیں۔

    لیکن بدقسمتی سے ہم امتی ہونے کا حق ادا کرنا بھول گئے، ہم اپنی زندگیوں کو آپ کے بتائے ہوئے احکامات پر چلانے کی بجائے ایسے کاموں میں ملوث ہو گئے جس کا انجام دوزخ کی آگ ہے۔

    افسوس کہ آج مسلمان مذہب سے دوری کے ساتھ اپنی تہذیب و ثقافت کو بھی بھول گئے ہیں۔ بے راہ روی کا شکار ہوگئے ہیں، جس کی وجہ سے ان میں اخلاقی زوال، بے حیائی، جھوٹ، چغل خوری، مکر و فریب، غرور و تکبر سرایت کرگئے ہیں۔

     اگر ایک نگاہ مسلمانوں کے موجودہ احوال پر ڈالی جائے، برما ہو یا شام، فلسطین ہو یا افغانستان، افریقہ یا امریکہ، عراق ہو یا یمن، ہر ملک اور دنیا کے ہر خطہ میں مسلم قوم تاریخ کے بدترین دور سے گزر رہی ہے۔ تمام اقوام عالم نے یک زبان ہو کر دہشت گردی کو اسلام اور مسلمانوں کے ساتھ جوڑدیا ہے، مسلمانوں کو شک کی نگاہ سے دیکھا جارہا ہے۔

    قرآن کریم میں اللہ تعالی مسلمانوں کے حوالے سے ارشاد فرماتا ہے: ” تم بہترین امت ہو "یعنی دنیا کی سب سے اچھی امت ہو ؛حالانکہ سب سے اچھی امت اسے کہتے جسے دنیا میں عز ت و احترام کی نگاہ سے دیکھا جائے، دوسری اقوام جسے اپنے لیے نمونہ بنائیں، اس کی تہذیب کو اپنایا جائے نیز وہ ایسی امت ہو کہ خوش حالی کی زندگی گزارے، تمام طرح کی دنیاوی پریشانیوں سے مامون ومحفوظ ہو۔ ان میں سے کوئی چیز بظاہر امت مسلمہ میں دیکھنے کو نہیں ملتی۔

    وہ کون سے اسباب ہیں جس کی وجہ سے آج مسلمانوں کی یہ حالت ہے، ہمیں جلد ہی ان عوامل کو تلاش کرنا ہو گا کہیں دیر نا ہو جائے۔ ان دنیاوی چیزوں کے پیچھے بھاگتے بھاگتے کہیں کسی دن موت کا بلاوا نہ آ جائے۔ بحیثیت مسلمان اور نبی کریم ﷺ کے امتی ہمیں ہر وقت اپنی آخرت کو سامنے رکھتے ہوئے زندگی گزارنی چاہیئے اور آخرت کے لئے اپنے آپ کو تیار رکھنا چاہیے۔

    مسلمانوں کی موجودہ پریشان حالی کے اسباب یہ ہیں کہ وہ لاشعوری اور غفلت کی زندگی گزار رہے ہیں، جب کہ انھیں اس ذمہ داری کے ساتھ دنیا میں بھیجا گیا ہے کہ وہ اس دنیا میں بسنے والے تمام افراد کے نفع و نقصان کی فکرکریں، مگر وہ اپنی ذاتی زندگی میں اس قدر مصروف ہوگئے ہیں کہ اپنی اس عظیم ذمہ داری کو بھول بیٹھے ہیں۔

    دوسرا سبب یہ ہے کہ مسلمان تعلیمی اور فنی میدان میں بہت پیچھے رہ گئے اور تعلیم کے بغیر کسی قوم کی کسی بھی میدان میں صحیح راہنمائی کرنا محض خواب وخیال ہے۔

    تیسرا سبب یہ ہے کہ دین سے ان کا رشتہ بہت کمزرو پڑچکا ہے، چنانچہ دینی تعلیمات ، اسلامی طرز زندگی اور اسلامی اخلاق ان کی زندگی سے ختم ہورہے ہیں۔

    چوتھا سبب یہ ہے کہ امت اللہ کی طرف رجوع کرنا بھول گئی ہے، جس کا بہترین راستہ نماز ہے، 

    نماز ہر طرح کی پریشانیوں، تکلیفوں، غموں، مصیبتوں، الجھنوں، بیماریوں اور حزن و ملال کے بادل چھانٹ دیتی ہے۔ جب کبھی حضور ﷺ کو کوئی اہم مسئلہ پیش ہوتا تو آپ اپنے رب کی بارگاہ میں نماز کی حالت میں رجوع کرتے، نماز کی ادا سے اپنے آنکھوں کو ٹھنڈک پہنچاتے اور نماز سے ہی اپنے تمام معاملات کو بہتر کرتے۔ کائنات میں صرف ایک ذات اللہ عزوجل کی ہے جو دل کو جمانے اور ڈھارس بندھانے والی ہے۔

     ہم لوگ آج ہر طرف سے نفسیاتی،جسمانی،دماغی، معاشرتی، پریشانیوں، الجھنوں میں پھنسے ہوتے ہیں لیکن اللہ کی طرف رجوع کرنے اور نبی کریم ﷺ کے بتائے ہوئے طریقہ سے صبر و سکون حاصل کرنے کے بجائے ہم مادی وسائل کا انتخاب کرتے ہیں، جب کہ سکون، اطمینان حاصل کرنے اور ان  تمام بیماریوں کے علاج کا ایک ہی ذریعہ، ایک ہی مداوا اور حل ہے اور وہ یہ ہے کہ اپنے خالق و مالک کے سامنے نماز کی حالت میں جھک جائے۔

    لہٰذا مسلمانوں کو ان چاروں اسباب میں غور کرنا چاہیے اور ان چاروں کی طرف سنجیدہ اقدامات کرنے چاہیے،ان انشاءاللہ کامیابی و کامرانی ان کا مقدر ہوگی اور زمین کی سربراہی اور دیگر اقوام کی قیادت و سیادت انھیں حاصل ہوگی، وہ ایک قائد امت بن کر دوبارہ ابھر سکیں گے اور پوری دنیا انھیں عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھے گی،  ارشاد باری تعالیٰ ہے:

     آیت 139: وَلاَ تَہِنُوْا وَلاَ تَحْزَنُوْا:  ”اور نہ کمزور پڑو اور نہ غم کھاؤ’ 

    وَاَنْتُمُ الْاَعْلَوْنَ اِنْ کُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ:  ”اور تم ہی سربلند رہو گے اگر تم مؤمن ہوئے۔”

    Author: Faraz Rauf

    Twitter ID: @farazrajpootpti

  • اعمال کا دارومدار نیتوں پر   تحریر: تیمور خان

    اعمال کا دارومدار نیتوں پر تحریر: تیمور خان

    تمام اعمال اور تمام عبادات بلکہ مسلمانوں کے تمام معاملات میں نیت اور اخلاص کو بہت بڑی اہمیت حاصل ہے، اور وہ اہم چیز قران کریم اور احادیث میں بھی بیان کی گئی ہے، جو  ایک مسلمان کے اخلاص کے ساتھ نیت اور ارادہ ہے، مسلمان کو یہ بتایا گیا ہے کہ یہ جب بھی کوئی کام کیا کرے گا، چاہیے وہ کام خالص عبادات میں سے ہو یا دنیاوی اغراض اور مقاصد کے لئے ہو، جس مقصد کے لئے جو کام کیا جائے اس میں مسلمان اپنی نیت کو خالص رکھے اگر وہ اپنی نیت کو خالص رکھے گا تو اس نیت کے اخلاص کی وجہ سے اس مسلمان کو دنیاوی اور اخروی بہت سارے ثمرات اور فوائد حاصل ہونگے، سرکارِ دوعالم ﷺ کو اللہ تبارک وتعالیٰ نے سورت انعام میں یہی ارشاد فرمایا٫٫ اے میرے حبیب  ﷺ آپ فرما دیجئے میری نماز اور میری قربانی اور میری ساری زندگی اور میری موت اللہ ہی کے لئے ہے، جو تمام جہانوں کا پالنے والا ہے اور اس کی شان یہ ہے کہ اس کا کوئی شریک نہیں اور آپ فرما دیجئے کہ مجھے اسی طرح اسی چیز کا حکم دیا گیا ہے کہ میں اپنے نیت کو خالص رکھوں یہاں تک کہ میری موت اور زندگی خالص اللہ کہ لئے ہو، اور میں سب سے پہلے اللہ کی اطاعت کرنے والا ہوں، قرآن کریم فرقان حمید میں بہت جگہ اللہ تبارک وتعالیٰ نے اپنے حبیب ﷺ کو ارشاد فرمایا کہ آپ یوں کہیے یا آپ یوں مجھ سے دعا منگیئے، کی اے میرے رب میرے علم میں اضافہ فرما، تو جس چیز کا حکم اللہ اپنے نبی کو دے اور مطالبہ یہ ہو کہ تم اللہ سے یہ چیز مانگو تو وہ چیز نہایت ہی اہمیت کہ حامل ہوتی ہے تو اس سے پتہ چلتا ہے کہ احلاص نیت جب انسان ایک کام کرتا ہے اپنی زندگی اللہ کے لئے گزراتا ہے اپنے معاملات اللہ کے لئے وہ سر انجام دیتا ہے یہاں تک اس کی موت بھی اللہ کے لئے ہوتی ہے تو یہ اتنی اہمیت کے حامل ہیں کہ اللہ نے اپنے حبیب ﷺ کو اس چیز کا ارشاد فرمایا،

    اسی لئے سرکارِ دوعالم ﷺ نے بھی اپنے احادیثِ طیبہ میں اس چیز کو بنیاد فرما کر ارشاد فرمایا اور یہاں تک محدیثین بھی اپنی کتابوں کے ابتدا میں لکتے  ہیں تاکہ کوئی بھی انسان دین سیکے اور دنیاوی معاملات کے لئے دین سے شعریت سے  رہنمائی حاصل کرے تاکہ اس کی نیت خالص ہو، ٫٫ حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا اعمال کی قبولیت کا دارومدار یہ نیتوں پر ہے، جس شخص کے نیت خالص ہوگی اس شخص کی عبادت اتنا ہی اللہ کی بارگاہ میں مقبول ہو گا قرآن کریم میں اللہ نے فرمایا کہ جو ایک نیکی کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے سات سو گنا تک اجر دیتا ہے،اور اللہ جیسے چاہتا ہے اسے اس سے بھی دگنا کر کے دیتا ہے اور کبھی کبھی اللہ یہ بھی فرماتا ہے کہ ایک نیکی کا اجر اللہ بے حساب بھی دیتا ہے، اب ان تمام احکامات اور آیاتوں کا دارومدار انسان کے نیتوں پر منحصر ہے، اگر ایک شخص نیکی کرتا ہے اگر نیکی دنیاوی معاملات یا اللہ کی رضامندی کے لئے ہو تو اس کا دس گنا اجر دے دیا جاتا ہے اب اس کا احلاص جتنا زیادہ ہوگا تو اس کے اخلاص کے مطابق اس کو اتنا ہی اجر ملے گا،

    تو اسی لئے نیت جو ہے یہ ایک مومن اور مسلمان کے تمام اعمال کا اصل ہے جب ہم گھر سے مسجد کے لئے نکلتے ہیں تو ہماری نیت یہ ہوتی ہے کہ ہم مسجد میں نماز کے لئے اللہ کو راضی کرنے کے لئے جاتے ہیں، اب یہ ارادہ کامل ہوتا اس نیت کا اجر بھی سو گنا ہوگا اگر اتفاقاً ایک انسان گھر سے مسجد کی طرف نکلا اور راستے میں یہ کسی کام کی طرف چلا گیا تو تب بھی اللہ اس کو پورا اجر دیگا کیوں کہ اس کی نیت مسجد جانے کا تھا، اسی لئے محدیثین فرماتے ہیں کہ جب بھی کسی کام کے نیت کریں تو اس نیت کے ساتھ اور بھی اچھے کام کے نیت کر لیا کریں اگر وہ کام ہوا بھی نہیں تو بھی اس کام کا اجر ملے گا، ایک مسجد جاتے ہوئے کئی نیک نیتیں جمع ہو سکتی ہیں اب ایک شخص گھر سے نکلتا ہے اور اسے کوئی ایسا کام نہیں ملا جس کی اس  نے نیت کی تھی  تب بھی اس کو پورا کا پورا ثواب جتنی بھی نیتیں اس نے کی تھی اسے ملے گا، اسی لئے سرکارِ دوعالم ﷺ نے فرمایا کہ اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے جو بھی عمل انسان کرتا ہے اس کی نیتوں کا دیکھا جائے گا، اب اللہ کے ہاں نیت معتبر ہے اللہ کے ہاں ظاہری کام معتبر نہیں ہے کیوں کہ اس نے تو نیت کی تھی کہ راستے میں اگر کوئی شخص آیا میں اسے سلام کروں گا راستے میں اسے کوئی شخص ملا ہی نہیں تو بھی اس کو اجر ملا، 

    اسی لئے ایک دوسرے حدیث میں سرکارِ دوعالم ﷺ نے فرمایا کہ مومن کی نیت اس کے عمل سے بہت بہتر  ہے اب ایک انسان نے تو عمل کی تھی کہ گھر سے مسجد کی طرف جاتے وقت میں راستے میں ہر اچھے اعمال کروں گا لیکن اس نے وہ اعمال کیے ہی نہیں اسکو موقع ہی نہیں ملا اب اس نے صرف نیت کی عمل اس نے کیا نہیں گویا کہ اس نے یہ تمام کام کر لیے حضور نے فرمایا یہ وہ چیز ہے کہ جس کی نیت کا بھی اس کو اجر مل جاتا ہے، 

    لیکن اس کے بر خلاف ایک شخص کام تو بڑے نیک کرتا ہے لیکن نیت اس کی خالص نہیں ہے نیت اللہ کی رضا نہیں ہے تو یاد رکھیں یہ نیک کام بھی اس کے منہ پہ مارا جائے گا، ایک شخص ہے وہ نماز اللہ کی رضا کے لئے پڑھتا ہے تو اس کو نماز پڑھنے کا اجر دیا جائے گا، لیکن ایک انسان نماز پڑھتا ہے اس کی نے نیت بھی کی لیکن وہ نماز اس لئے پڑھتا ہے کہ لوگ اس سے نمازی کہیں تو فرشتے نماز اس کے منہ پہ ماریں گے کہ اسے نماز کو اللہ کی کوئی ضرورت نہیں اسی طرح ہماری زندگی کے جتنے بھی نیک اعمال ہیں ان تمام کا دارومدار نیتوں پر ہے،

    احادیث مبارکہ میں آتا ہے قیامت کے دن ایک شہید کو اٹھایا جائے گا بخآری شریف کی حدیث ہے اس شہید کو اللہ تعالیٰ کہے گا اے بندے میں نے دنیا میں تجھے یہ نعمت دی تھی فلاں نعمت دی تھی وہ اقرار کرے گا ہاں میرے رب تو نے یہ سب کچھہ دی تھی اللہ پوچھے گا پھر تو نے ان نعمتوں کے بدلے میرے لئے کیا کیا، تو یہ شہید کہے گا اے میرے پروردگار میں نے تیرے دین کی سربلندی کے لئے اپنے جان کا نذرانہ پیش کیا، اللہ فرمائے گا نہیں نہیں تو نے اس لئے جان قربان نہیں کی کہ میرا دین سربلند ہو بلکہ تو نے اس لئے جان قربان کی کہ لوگ آپ کو بہادر اور شہید کہیں، جا تجھے دنیا میں تمغے بھی مل گئی تیری وا وا بھی ہو گئی، اے فرشتوں اس کو جہنم میں لے جاؤ، اب وہ شہید اس کی نیت خالص تھی اور اس کی نیت اللہ کی رضا تھی اس کے خون کے قطرے گرنے سے پہلے اللہ نے اس کے گناہ معاف کر دینے تھے اور اس کے روح نکلتے وقت اللہ کا دیدار اس کو نصیب ہونا تھا لیکن وہی شہید عمل تو وہی ہوا اس کے خون کے قطرے گرنے سے پہلے اللہ نے اس کے گناہ معاف کر دینے تھے اور اس کے روح نکلتے وقت اللہ کا دیدار اس کو نصیب ہونا تھا لیکن اس کے نیت میں فرق تھا تو الٹا وہ جہنم میں داخل ہوا،

    اسی لئے تحریر کرنے کا مقصد یہ ہے کہ مسلمان جو  بھی عمال کرے چاہے وہ دنیا کے لئے ہو  یا چاہے وہ  آخرت کے لئے ہو ہر عمل میں  اس کی نیت خالص ہونی چاہیے اسی لئے نیت اپنی خالص کر لیں ہم سب کو چاہئے کہ اپنی نیتیں خالص کر لیں عمل بے شک اپنے ضرورت کو پورا کرنے کے لئے کر رہے ہیں لیکن نیت وہ اللہ کی رضا ہو اور جب اللہ رضا ہوگا تو اس کے اجر ہمیں بے شمار ملیں گے اللہ تبارک وتعالیٰ ہم سب کو عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین۔

    @ImTaimurKhan

  • ہمارے پیارے نبی محمد ﷺ تحریر: محمد آصف شفیق

    ہمارے پیارے نبی محمد ﷺ تحریر: محمد آصف شفیق

    حضرت محمد ﷺ مکہ المکرمہ (حجاز) میں پیر کے دن عام الفیل والے سال ۹ یا ۱۲ ربیع الاول بمطابق ۲۰ اپریل ۵۷۱ عیسوی میں پیدا ہوئے۔
      آپ ﷺ کا تعلق قبیلہ قریش اور بنی ہاشم کے گھرانے سا تھا۔
     آپ ﷺکی والدہ ماجدہ کا نام آمنہ ہے جو وہب بن عبد مناف، زہرہ کے گھرانے سے تعلق رکھتی تھیں۔
     آپ ؐکے والد ماجد عبداللہ بن عبدالمطلب بن عبد مناف ، قریش کے گھرانے سے تعلق رکھتے تھے۔
     آپ ؐکی نانی کا نام برہ اور دادی کا نام فاطمہ تھا۔
    آپ ؐکے والد ماجد عبداللہ آپ کی پیدائش سے پہلے انتقال فرما گئے تھے۔
     
      آپ ؐنے سب سے پہلے اپنی والدہ ماجدہ کا دودھ پیا ، پھر اپنے چچا ابو لہب کی آزاد کردہ غلامہ ثویبہ کا اور پھر حضرت حلیمہ کامکہ کے لوگ اپنے بچوں کو گاوں دیہات بھیجتے تھے۔ اسی مقصد کے لیے آپؐ حضرت حلیمہ جن کا تعلق بنی سعد سے تھا اُن کے ساتھ چار سال تک رہے۔
      اسی دوران آپؐ کے شق صدر (دل کو کھولنے) کا پہلا واقعہ پیش آیا۔
      آپؐ اپنی والدہ ماجدہ کے ساتھ صرف دو سال رہے۔ جب آپؐ کی عمر چھ سال کی تھی آپؐ کی والدہ ماجدہ کا انتقال ہو گیا۔
      پھر آپؐ کے دادا عبدالمطلب نے آپؐ کی پرورش کا ذمہ لیا۔ دو سال بعد آپؐ کے دادا کا بھی انتقال ہو گیا جب آپؐ کی عمر صرف آٹھ سال تھی۔
      پھر آپؐ کے چچا ابو طالب نے آپؐ کی پرورش کی ذمہ داری اُٹھائی۔ بارہ سال کی عمر میں آپؐ اپنے چچا کے ساتھ ایک تجارتی سفر پر شام کی طرف گئے۔بصرہ کے مقام پر عیسائی پادری بحیرہ نے آپؐ کی نشانیاں دیکھ کر آپؐ کے آخری نبی ہونے کی پیشنگوئی دی اور آپؐ کے چچا ابو طالب سے کہا کہ ان کو واپس بھیج دیں ورنہ یہود ان کو قتل کر دیں گے۔
      پچیس سال کی عمر میں آپؐ نے ایک مرتبہ پھر شام کی طرف تجارتی سفر کیا لیکن اس مرتبہ آپؐ حضرت خدیجہؓ کا مال لے کر گئے۔ آپؐ کے ساتھ حضرت خدیجہؓ کا غلام میسرہ بھی تھا۔ اس سفر میں آپؐ کی ملاقات ایک اور عیسائی پادری نسطورہ سے ہوئی اور اُس نے بھی آپؐ کی نبوت کی پیشنگوئی دی۔
      آپؐ کے اخلاق کا علم پا کر حضرت خدیجہؓ نے آپؐ سے شادی کی خواہش ظاہر کی۔ جب آپؐ کا نکاح حضرت خدیجہؓ سے ہوا اُس وقت آپؐ کی عمر پچیس سال اور حضرت خدیجہ کی عمر چالیس سال تھی۔ یہ ازدواجی رشتہ پچیس سال اور دو ماہ تک قائم رہا۔ حضرت خدیجہؓ سے آپؐ کی چار بیٹیاں اور دو بیٹے پیدا ہوئے لیکن دونوں بیٹوں کو چھوٹی ہی عمر میں اللہ نے اپنے پاس بلا لیا۔
      ۳۵سال کی عمر میں آپؐ نے اپنی ذہانت و حکمت سے کعبہ کی تعمیر کے دوران پیدا شدہ تنازعہ کو ختم فرمایا۔ 
      چالیس سال کی عمر میں آپؐ کو غار حرا میں نبوت سے سرفراز کیا گیا۔
      حضرت خدیجہؓ کے رشتہ دار ورقہ بن نوفل نے آپؐ کی نبوت کی تصدیق کی۔
      عورتوں میں حضرت خدیجہؓ پہلی عورت تھیں اسلام قبول فرمانے والی، مردوں حضرت ابو بکر صدیق پہلے مرد تھے، غلاموں میں حضرت زیدؓ بن حارثہ پہلے غلام تھے اور بچوں میں حضرت علیؓ پہلے بچے تھے۔
      تین سال کے بعد آپؐ نے صفاء کی پہاڑی پر چڑھ کر اپنے خاندان والوں کو اسلام کی طرف دعوت دی-
      نبوت کے پانچویں سال آپؐ نے مسلمانوں کو حبشہ کی طرف ہجرت کی اجازت مرحمت فرمائی۔ یہ مسلمانوں کی پہلی ہجرت تھی جس میں کل۱۵یا ۱۶ افراد تھے، ۱۱ مرد اور ۴ یا ۵ عورتیں۔
      نبوت کے ساتویں سال حبشہ کی طرف مسلمانوں کی دوسری ہجرت ہوئی ۔ جس میں ۸۳ مرد اور ۱۸ عورتیں تھیں۔
      نبوت کے ساتویں سال مکہ کے کفار نے مسلمانوں سے قطعہ تعلق کر لیا ۔ آپؐ اور آپؐ کے ماننے والوں کو ایک گھاٹی میں محسور کر دیا۔ اس قطعہ تعلقی کا عرصہ تین سال تک رہا۔
      نبوت کے دسویں سال جب یہ قطعہ تعلقی کا سلسلہ ختم ہوا ، اسی سال حضرت خدیجہؓ اور آپ کے چچا ابو طالب کا انتقال ہوا۔
      نبوت کے دسویں سال ہی طائف کا واقعہ پیش آیا ۔ جس میں آپؐ کو تبلیغ اسلام کے سلسلے میں پتھر مارے گئے۔
      نبوت کے گیارہویں سال معراج کا واقعہ پیش آیا۔جس میں آپؐ مکۃ المکرمہ سے بیت المقدس گئے ، پھر وہاں سے ساتوں آسمانوں ، جنت و جہنم کا سفر کیا اور اللہ رب العزت سے ملاقات کی۔
      اس سفر کے بعد مدینہ کے قبیلہ خرج کے ۶ افراد نے آپؐ کے ہاتھ پر اسلام قبول فرمایا۔
      اس سے اگلے سال ۱۲ افراد نے مدینہ سے آ کر آپؐ کے ہاتھ پر اسلام قبول فرمایا۔ جن میں سے دس افراد قبیلہ خرج اور دو افراد قبیلہ اوس کے تھے۔
      اگلے سال حضرت مصعبؓ بن عمیر کی تبلیغ سے جن کو آپؐ نے مدینہ بھیجا تھا ۷۰ مرد اور دو عورتوں نے اسلام قبول کیا۔
      پھر آپ ﷺ نے مکہ  کے مسلمانوں کو مدینہ کی طرف ہجرت کی اجازت دی۔
      نبوت کے تیرہویں سال آپؐ نے حضرت ابو بکر صدیقؓ کے ساتھ مدینہ کی طرف ہجرت فرمائی۔ اس سفر کے دوران آپؐ تین دن غار ثور میں رہے۔
      مدینہ کی طرف جاتے ہوئے آپؐ نے قباء کے مقام پر ۱۴ دن قیام فرمایا اور وہاں اسلام کی پہلی مسجد تعمیر فرمائی۔ جس کا نام مسجد قباء ہے
      بروز جمعہ آپؐ قباء سے مدینہ کے لیے روانہ ہوئے۔ سفر کے دوران قبیلہ بنی سلیم میں آپؐ نے جمعہ کی نماز ادا فرمائی۔ آج اس مقام پر مسجد جمعہ ہے۔
      مدینہ پہنچ کر آپؐ کی اونٹنی حضرت ابو ایوب انصاریؓ کے گھر کے سامنے رکی ، جہاں آپؐ نے قیام فرمایا۔ اور اسی جگہ پر مسجد کے لیے زمین خریدکر مسجد تعمیر فرمائی ۔ جو آج مسجد نبویﷺ کہلاتی ہے۔

    @mmasief

  • جمعہ کی فضیلت : تحریر : فرح بیگم

    جمعہ کی فضیلت :

    حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "جمعہ کا دن سارے دنوں کا سردار ہے ، اور اللّه کے نزدیک سب سے بڑا دن ہے ۔” جمعہ کا دن اللّه کے نزدیک عید الفطر اور عید الاضحیٰ سی بھی بڑھ کر ہے ۔ جمعہ عربی زبان کا لفظ ہے جس کا مطلب "جمع ہونا ہے ”
    اس دن ہی حضرت آدم ع کی اولاد جمع کی جائے گی ،حضرت آدم ع اور حضرت حوا ع زمین پر اسی روز ہی ملے تھے ۔ اس دن میں ہی انکو وفات بھی دی اور اس دن قیامت بھی اے گی ۔ حدیث میں جمعہ کے کہی ناموں کا ذکر کیا گیا ہے ۔ جیسا کہ  سید الایام (دنوں کا سردار ) ، خیر الایام (بہترین دن ) ، افضل الایام  (فضیلت والا دن ) ، عید المومنین ( مومنوں کا دن) ۔ جمعہ ایک اسلامی اصطلاح ہے ۔ یہودیوں کے لیے  ہفتے کا دن عبادت کے لیے مقرر تھا کیوں کہ اس دن بنی اسرائیل کو فرعون سے نجات دی تھی ۔ عیسائیوں نے اپنے آپ کو یہودی سے الگ کرنے کے لیے اتوار کا دن خود با خود مقرر کیا تھا ۔اس بات کا حکم نہ حضرت عیسیٰ ع نے دیا نہ انکی کتاب نے ۔ اسلام نے اپنی ملت کو ہمیشہ ممتاز رکھا ہے اور جمعہ کے دن کا انتحاب کیا ہے عبادت کے لیے ۔ اس لیے جمعہ کو عید کا دن کہا جاتا ہے ۔

                           حضرت محمّد صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” اس دن تمہارے باپ آدم ع پیدا ہے ، اور اس دن ہی صور پھونکا جائے گا اور اس دن ہی لوگ قبروں سے اٹھاییں جائے گے ۔ اور اس دن ہی سب کی پکڑ ہوگی "۔ حضرت امام سے راویت ہے کہ انہوں نے فرمایا جمعہ کا مطلب لیلتہ القدر سے بھی زیادہ ہے ۔جمعہ کا دن سارے دنوں سے افضل ہے ۔ ہر مسلمان کو چاہیئے جمعہ کے دن لازمی غسل کرے ، اپنے سر کے بالوں کو اور جسم کو خوب صاف رکھے ، مسواک کرے ، ، عمدہ کپڑے پہنے ، ناخن کاٹے، خوشو بو لگائے وغیرہ ۔ ارشاد مبارک ہے جو شخص  جمعہ کے دن اچھے سی غسل کرے گا ،اپنے آپکو پاک صاف رکھے گا اور وقت پر مسجد جائے گا تو اس نے ایک اونٹ کی قربانی کی ، اور جو اس کے بعد دوسری ساعت میں گیا تو اس نے گاۓ کی قربانی دے اور جو تیسری ساعت میں گیا اس نے مینڈک کی قربانی دی اور جو چوتھی ساعت میں گیا اس نے ایک انڈے کا صدقہ دیا ۔ جب خطبہ دینے کے لیے خطیب نکلتا ہے تو فرشتے مسجد کا دروازہ چھوڑ دیتے ہیں ۔اور نماز پڑھنے کے لیے مسجد میں آ بیٹھتے ہیں ۔

                      حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے جمعہ کی فضیلت کو بیان کرتے ہوے فرمایا کہ اس میں ایک ایسی گڑھی ہے جس میں ایک مسلمان جو نماز کا پابند ہو اللّه سے جو بھی مانگتا ہے اللہ تعالیٰ اسکو عطاء کرتا ہے ۔ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا "جس مرد نے گھر میں جمعہ کی نماز ادا کی دل کرتا ہے میں اس کے گھر کو جلا دوں "۔
    آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب خطبہ دیتے تھے تو اپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھ مبارک لال ہو جاتی تھی ، آواز بلند ہو جاتی تھی ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم خطبے میں صحابہ کو اسلام کی تعلمیات دیتے تھے ۔حضرت جبر فرماتے ہیں کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز معتدل ہوتی تھی اور خطبہ بھی معتدل ہوتا تھا ۔ قرآن پاک کی تلاوت کرتے تھے اور پھر لوگوں کو نصیحت کرتے تھے ۔ جمعہ کے خطبہ کی آرام اور سکون سے سنانا چاہیئے ۔ تا کہ روحانی فائدہ ہو سکے ۔
                     جمعہ کے دن جو دعا مانگی جائے وہ ضرور پوری ہوتی ہے ۔ مسلمان پر فرض ہے کہ وہ جمعہ کی نماز لازمی ادا کرے اور لوگوں کو بھی اس کی ترگیب دے ۔

    Twitter id: @iam_farha

  • 12 ربیع الاول   تحریر : فرح بیگم

    12 ربیع الاول تحریر : فرح بیگم

    حضرت محمّد صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادات میں مختلف راۓ ہیں ۔ کوئی 8 ربیع الاول کا قول راجح کرتا ہے تو کوئی 12 ربیع الاول کا ۔ لیکن زیادہ مشہور 12 ربیع الاول ہے ۔ اسی طرح حضرت محمّد صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کی تاریخ میں بھی تضاد ہے بعض علمائے کرام کے مطابق آپ صلی اللہ علیہ وسلم پیر کے روز وفات پائے اور مہینہ بھی ربیع الاول کا تھا ۔البتہ تاریخ کی رائے پھر مختلف ہے ،پر زیادہ تر لوگوں کا کہنا ہے کہ 12 ربیع الاول کا دن تھا ۔

    زمانہ گواہ ہے کہ جب بھی 12 ربیع الاول کا چاند دیکھائی دیتا ہے دل میں عشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی محبّت کی لہر دوڑتی ہے ۔ ہمارا ایمان پر جوش اور یک دم تازہ ہو جاتا ہے ۔ 12 ربیع الاول کی آمد ہر سال تجدید عہد وفا سنت کا پیغام لے کر آتی ہے ۔ اس مہینے کا مطلب ہے کہ کوئی سنت کے خلاف کام نہ ہو ۔ حضرت محمّد صلی اللہ علیہ وسلم پوری دنیا کے لیے روشنی کا سر چشمہ ہیں ۔وہ پوری دنیا کے لیے رہنمائی کا ذریعہ ہیں ۔اور ہمیں فخر ہے کہ ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے امتی ہیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایسے ملت لے کر اے جو دن میں نور اور رات میں امن ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں وہ راہ دیکھائی جس پر چل کر ہم نہ صرف دنیا میں بلکہ آخرت میں بھی فلاح پا سکتے ہیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عیب کی باتیں بھی بتائی پر کھبی بخل سے کام نا لیا ۔

    جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم دنیا میں آپنے آمد کے مقصد کو پورا کر بیٹھے اور اسلام کو لوگوں تک پہنچا دیا تو اپنے خالق سے جا ملے۔ اور اس دین کو قیامت تک مکمل قرار دیا ۔ اب اس دین کے بعد کوئی دین نہیں اے گا اور حضرت محمّد صلی اللہ علیہ وسلم اللّه کے آخری نبی ہیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی نبی نہیں اے گا ۔ نہ ہی اس دین میں کسی زیادتی ، مکاری کی گنجائش ہے اور نہ کسی نقصان کی ۔ لوگ 12 ربیع الاول کو عبادت سمجھ کر مناتے ہیں ،جلوس نکالتے ہیں ،لوگ جلوسوں کا اہتمام کرتے ہیں ۔ گھروں میں محفل میلاد منعقد کی جاتی ہے ۔ یہ سب ایک عادت ہے دین سے اسکا کوئی تعلق نہیں ہے ۔لیکن برصغیر پاک و ہند میں اسکو ایک تہوار کے طور پر منایا جاتا ہے ۔ 12 ربیع الاول کا مہینہ آتا ہے تو محفل میلاد کا سما شروع ہو جاتا ہے اور کیوں نا ہو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادات کا دن ہے اور اس سے بڑی کوئی سعادت نہیں ہے ۔ 12 ربیع الاول کو تیسری عید سے تشبیہ دی جاتی ہے ۔

    12 ربیع الاول کی خوشی میں پورے ملک کے تمام شہروں کو ،گلیوں کو سجایا جاتا ہے ۔سارا منظر روح پرور ہوتا ہے ۔اس دن کو مولود نبی کے طور پر منایا جاتا ہے ۔ملک بھر میں قرآن پاک کی تلاوت اور نماز کے لیے بڑے اجتامت منعقد کیے جاتے ہیں ۔ لوگ ضرورت مندوں میں کھانا تقسیم کرتے ہیں ۔ لوگ خیرات دیتے ہیں ۔ غریبوں میں کپڑے اور کھلونے بانٹے جاتے ہیں ۔ باہر ملکوں میں مسلمان 12 ربیع الاول کو مسجد میں جمع ہوتے ہیں ، عبادت کا انتظام کیا جاتا ہے ۔ محفل میلاد منائی جاتی ہے ۔

    اس لیے ہمارا فرض ہے کہ ہم اس دن کو نہایت پر جوش ،احترام ، عقیدت اور ولولے کے ساتھ منائیں۔

    Twitter ID: @iam_farha