Baaghi TV

Category: مذہب

  • اہلبیتؓ سے محبت تحریر:سید عمیر شیرازی 

    اہلبیتؓ سے محبت تحریر:سید عمیر شیرازی 

    حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا "اللہ تبارک و تعالی سے محبت کرو ان کی نعمتوں کی وجہ سے جو اس نے تمہیں عطا کیں اور مجھ سے اللہ تبارک وتعالی کی محبت کے سبب محبت کرو اور میرے اہل بیت سے میری محبت کی خاطر محبت کرو۔”

    (بحوالہ جامع ترمذی حدیث نمبر 3789)

    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل بیتؓ سے محبت کے بارے میں امت کو واضح پیغام دیا ہے کہ اہل بیتؓ سے محبت ہم مسلمانوں کے ایمان کا لازمی جزو ہے

    حضرت زید بن ارقم رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا میں تم میں دو چیزیں چھوڑے جا رہا ہوں میرے بعد جب تک تم انہیں پکڑے رہو گے کبھی گمراہ نہ ہوگے،ایک ان میں دوسری سے عظیم تر ہے وہ ایک تو اللّه کی کتاب ہے اور اللہ تعالی کی آسمان سے زمین کی طرف پھیلی ہوئی رسی ہے، اور دوسری میری اولاد میرے گھر والے ہیں اور وہ الگ الگ نہ ہوں گے یہاں تک کہ حوض کوثر پر وہ میرے پاس آپہنچں گے پس تم لوگ سوچ لو کہ تم میرے بعد ان سے کیا معاملہ کرتے ہو اور کیسے پیش آتے ہو۔

    (حوالہ حدیث کی کتاب ترمذی)

    اس حدیث مبارکہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کتاب اللہ یعنی قرآن مجید کی طرف اپنی امت کو توجہ دلائی ہے اور اپنے 

     اہل کے حقوق بھی یاد دلائے ہیں اور اہل بیت کی فضیلت و عظمت بیان فرمادی ہے کہ تم لوگ میری نسبت کے خیال سے ان کے حقوق کی ادائیگی میں جتنا زیادہ سرگرم رہو گے اور ان کی ہر طرح خبر گیری میں جتنا حصہ لوگے تو اتنا ہی تمہارے حق میں بہتر ہوگا اور تمھیں دنیا و آخرت میں خیر و عافیت نصیب ہوگی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان ایسے ہی ہے جیسے کوئی شفیق باپ دم رخصت پر اپنی اولاد کے بارے میں وصیحت کرتا ہے کہ یہ میں اپنی اولاد کو چھوڑ کر جا رہا ہوں تم ان کی دیکھ بھال کرنا اور ان کے حقوق و مفادات کا تحفظ کرنا،

    اور یہ دونوں الگ الگ نہیں ہوگی یعنی قیامت کے تمام مراحل پر ان دونوں یعنی کتاب اللہ اور اہل بیت صلی اللہ علیہ وسلم کا ساتھ رہے گا کہیں بھی یہ دونوں ایک دوسرے سے جدا نہیں ہوں گی یہاں تک کہ یہ دونوں مل کر میرے پاس حوض کوثر پر میرے پاس آئیں گی اور دنیا میں جس جس نے ان دونوں کے حقوق کو اچھی طرح ادا کیے ہوں گے اس اس کا نام لے کر میرے سامنے شکریہ کرے گی اور پھر میں بدلہ میں ان سب کے ساتھ نہایت اچھا سلوک اور احسان کروں گا اور اللہ تعالی بھی ان سب کو کامل جزا اور انعام عطا فرمائیں گے اور جن لوگوں نے دنیا میں ان دونوں کے حق تلافی کی ہوگی ان دونوں کے ساتھ کفران نعمت کیا ہوگا ان کے ساتھ اس کے برعکس معاملہ ہوگا۔

    پس تم سوچ لو یعنی میں نے ان دونوں کی حیثیت واہمیت تمہارے سامنے واضح کر دی ہے اب تمھیں خود احتساب کرنا ہے کہ ان دونوں یعنی کتاب اللہ اور میرے اہل بیت کے ساتھ تم کیا معاملہ کرتے ہو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کا ایک تقاضا ہے کہ اہل بیت سے محبت ہو جیسا کہ خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے اللہ کی محبت کے بنا پر مجھ سے محبت کرو اور میری محبت کی بنا پر میرے اہل بیت یعنی میرے گھرانے کے افراد سے محبت کرو (بحوالہ ترمذی) اور اہل بیت بھی وہ کہ جن کے متعلق اللہ تعالی صحیفہ آخر میں ان کی طہارت و پاکیزگی کا اس طرح اعلان فرماتا ہے:

    "اے پیغمبر کے گھر والو! اللہ تو بس یہی منظور ہے تم سے ہر طرح کی گندگی کو دور کردے اور تمہیں ایسا پاک صاف کردے جیسا کہ پاک صاف کرنے کا حق ہوتا ہے۔” (الاحزاب 33) 

    وہ اہل بیت جن کی فضیلت کعبے کا دروازہ تھام کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یوں فرمایا:

    دیکھو! میرے اہل بیت کی مثال تم میں کشتی نوح کی سی ہے جو اس میں سوار ہوا وہ بچ گیا اور جو شخص اس کشتی میں سوار ہونے سے رہ گیا وہ ہلاک ہوا (بحوالہ مسند احمد)

    اللہ پاک ہم سب مسلمانوں کو اس کشتی میں سوار فرما دے جو کہ ہماری فلاح و بقا کا ذریعہ ہے اور یا اللہ ہمیں ہلاکت سے محفوظ فرما دے اور اہلبیتؓ کی ہمارے دلوں میں صحیح عقیدت و احترام نصیب عطا فرمائے آمین۔

    @SyedUmair95

  • اللہ کے”شکر”کی کمی  تحریر عبدالعزیز صدیقی ایڈوکیٹ

    اللہ کے”شکر”کی کمی تحریر عبدالعزیز صدیقی ایڈوکیٹ

    میں نےجب پہلی کار خریدی تو آنکھوں میں آنسو آگئے بیگم پوچھنے لگیں کیا ہو گیا کیوں رو رہے ہیں۔میں نے جواب دیا کہ ابا جی کی یاد آگئ ساری عمرانہوں نے بس میں ہی سفر کیا اور آج وہ اس دنیا میں نہیں ہیں تو دل کرتا ہے کہ خوشی کے اس لمحے میں وہ میرے ساتھ میری نئ کار میں میرےبرابر میں بیٹھے ہوتے کاش میں ان کو ان کی زندگی میں ہی کچھ آسودگی دے سکتا۔۔۔
    دوستوں یہ ایک حقیقت ہے کہ ہمارے بزرگ رتبے اور مرتبے میں ہم سے کہیں آگے تھے۔۔۔ لیکن ان کی زندگی میں کوئ خاطر خواہ آسائشیں نہی تھیں۔۔ میرے والد مرحوم جب ہجرت کر کےپاکستان آئےتو کلیم آفس میں کلیدی عہدے پر فائز ہوئے لیکن جلد ہی رشوت زدہ ماحول دیکھتے ہوئے انہیں نوکری چھوڑنی پڑی اور بعدازاں وکالت شروع کر دی۔۔۔گو کہ والد مرحوم شہر کراچی کی جانی پہچانی پڑھی لکھی سیاسی اور سماجی شخصیت اور نامور وکیل تھے لیکن نا جانے کیوں انہیں پیسوں سے سے کوئ شغف نہ تھا بلکہ ایسا لگتا تھا وہ پیسے سے نفرت کرتے ہیں۔ کہتے تھے "پیسہ ہی تمام برائیوں کی جڑ ہے” بیٹا جی "گھر میں اتنے کمرے نہیں ہونے چاہئے کہ سب ایکدوسرے کی شکل کو ترسیں”۔۔ انہوں نے ہمیشہ اپنے آپ کو آسائشوں بھری زندگی سے دور رکھا مجھ سے اکثر کہتے تھے کہ بیٹا میں مرنے کے بعد کچھ چھوڑ کے ہی نہیں جاونگا کہ تم بہن بھائ آپس میں لڑو اور ایسا ہی ہوا۔۔۔ اللہ کا بہت شکر ہے اس موضوع پر آج تک ہم بہن بھائیوں میں کوئ اختلاف نہیں ہوا اور انکو گزرےاکیس برس ہو چکے ہم بہن بھائیوں کی محبت وہسے ہی قائم ہے جیسے پہلے تھی۔انکی زندگی میں ہی میری شادی ہوئ اورانہیں اللہ تعالی نے اتنی سعادت مند بہو دی جس نے انکی بیماری کے زمانے میں انکی اتنی خدمت کی جس کی مثال نہیں ملتی۔۔وہ بہت خوددار انسان تھے ہمیشہ اپنا کام خود کیا کرتے تھے۔۔ میں چونکہ چار بہنوں کا اکلوتا بھائ تھا اور بہنوں کے لاڈ کی وجہ سے کوئ کام نہیں کرتا تھا ۔۔۔اکثر مجھے ڈانٹتے ہوئے کہتے تھے کہ بیٹا دنیا کا گھٹیا ترین شخص وہ ہے جو اپنا کام دوسروں سے کرائے۔۔
    کیا وقت تھا نہ گاڑی نہ موٹر سائیکل لیکن سارے خاندان کی تقاریب میں بھی پیش پیش ہوتے تھے۔۔۔گھومتے پھرتے بھی تھے بلکہ جب مضافاتی علاقوں کے رشتہ داروں کے گھر جاتے تو رک بھی جاتے تھے، دوسرے دن واپسی ہوتی تھی۔۔ ایک اور بڑی دلچسپ بات تھی نہ کوئ موبائل اور نہ کوئ گوگل میپ لیکن کبھی ایسا نہیں ہوا کہ ہم نئ جگہ نہ پہنچ پائے ہوں اور ہم کہیں گئے ہوں اور ویاں تالا لگا ہو۔۔
    ویسے دوستوں غور کریں ۔۔ہم میں سے تقریبا نوے فیصد لوگ اپنے گزرے کل سے بہتر زندگی گزار رہے ہیں، میں خوداگر اپنا چائزہ لوں تو یہ بات غلط نہی ہوگی کہ میں اپنےوالد سے بہتر زندگی گزار رہا ہوں۔ آپ بھی کسی دن تحقیق کر لیں آپ کو ملک کے بھکاری بھی اپنے والدین سے بہتر زندگی گزارتے ملیں گے‘ ان کے والدین سارا شہر مانگ کر صرف دس بیس روپے گھر لاتے تھے جب کہ کراچی اور لاہور کے بھکاری آج چھ سات ہزار روپے روزانہ کماتے ہیں۔
    ہمارے گھر میں بچپن میں صرف پنکھے ہوتے تھے ائر کنڈیشن کاتو تصور بھی نہ تھا سارا بچپن چاچا برف والے سے برف خرید کر لاتے رہے ریفریجریٹر تو بہت بعد میں آیا۔۔۔ ریفریجریٹر آنے کے بعد فریزر میں برف زیادہ جمائ جاتی تھی کیونکہ ہمسائیوں کو بھی دی جاتی تھی۔۔۔۔ اچھا ایک بات اور تھی کہ ہمسایوں سے سالن مانگ لینا، شادی بیاہ کے لیے کپڑے اور جوتے ادھار لینا، پرانی کتابیں لے لینا معیوب نا تھا۔۔ہمارے تقریب اور گھرکے لیے جوتے اور کپڑے الگ رکھے ہوتے تھے۔۔۔دستر خوان پر دوسرا سالن عیاشی ہوتا تھا۔۔ سویٹ ڈش میں صرف زردہ اور شاہی ٹکڑے ہی بنتے تھے۔۔۔مرغی تو صرف بیماری کی حالت میں پکائی جاتی تھی وہ بھی لوکی ڈال کے اور بیمار بے چارے کوتو صرف اس کا شوربہ ہی مل پاتا تھا۔۔۔ہمارے پورے محلے میں ایک فون ہوتا تھا اور سب لوگوں نے اپنے رشتے داروں کو وہی نمبر دے رکھا تھا تھوڑی تھوڑی دیر بعد ان کا بچہ بلانے آتا رہتا تھا کہ آپ کا فون آیا ہے۔۔۔ہمارے گھر جب ٹیلی ویژن آیا تو اجتماعی طورپر دیکھا جاتا تھا اور محلے کہ "مستقل ناظرین” بچوں کے لئے ابا جی نے دری کا بھی اہتمام کروا دیا تھا۔۔۔ ہم سب کو نئے کپڑے اور نئے جوتے صرف عید پر ہی ملتے تھے۔۔۔مجھے یاد ہے کہ ابا جی نے ایک کباڑی سے پرانی تین پہئے والی سائیکل ٹھیک کروا کےدلادی تھی ہم اسے بھی روز چمکا کر بڑی حفاظت اور احتیاط سے رکھتے تھے۔۔پورے گھر میں ایک غسل خانہ اور ایک ہی ٹوائلٹ تھا اور اس کا دروازہ ہر وقت باہر سے بجتا رہتا تھا۔۔۔سردیوں میں پتیلے میں پانی گرم ہوتا تھا کوئ گیزر کا تصور نہیں تھا۔۔اسکول جاتے ہوئے باورچی خانے میں ہی بیٹھ کرامی جان کے ہاتھ کے دو کرکرے پراٹھےچائے سے کھاتے۔۔ کوئ مارجرین اور بریڈ نہیں تھی۔۔ کیا سادہ اور مطمئن خوش باش زندگی تھی ۔۔اب اتنی ترقی‘ اتنی خوش حالی اور رہن سہن میں اتنی تبدیلی کے باوجود ہم لوگ خوش کیوں نہیں ہیں؟
    صرف اور صرف "ناشکری”۔۔ ہم بحیثیت قوم ہی "ناشکرے” ہو چکے ہیں۔۔۔ انسان جب شکر چھوڑ دیتا ہے تو پھر یہ ” بے اطمنانی” میں مبتلا ہو جاتا ہے اورپھر یہ بیماری مریض کا وہی حشر کرتی ہے جو اس وقت ہم سب کا ہو رہا ہے۔
    یاد رکھیں ہم سب اپنے والدین اور اپنے بچپن سے بہتر زندگی گزار رہے ہیں‘ ہم پانچ سو روپے سے پچاس لاکھ اور کروڑ تک پہنچ چکے ہیں لیکن خوش پھر بھی نہیں ہیں۔۔ اپنے حال کا ماضی سے موازنہ کرتے جائیں اپنے آج کے اثاثے اور زندگی کی نعمتیں شمار کریں اور پھر اللہ کا شکر ادا کریں ۔۔۔بار بار کریں۔۔ یقین جانیں ہمارا” شکر” ہماری زندگی بدل کے رکھ دے گا نہیں تو ہم ایک ادھوری، غیر مطمئن اور تسکین سے محروم زندگی گزار کر دنیا سے رخصت ہو جائیں گے۔

    @Azizsiddiqui100

  • ‏شبِ قدر کی فضیلت  تحریر: محمد اسعد لعل

    ‏شبِ قدر کی فضیلت تحریر: محمد اسعد لعل

    شبِ قدر کے بارے میں فرمایا جاتا ہے کہ شبِ قدر کو رمضان کے آخری عشرے کی طاق راتوں میں تلاش کرو۔ قرآنِ مجید کی سورۃ القدر میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ یہ قرآن ایک غیر معمولی اور فیصلوں کی رات میں نازل کیا گیا۔ إِنَّا أَنْزَلْنَاهُ فِي لَيْلَةِ الْقَدْرِ (بے شک ہم نے اس (قرآن) کو شبِ قدر میں اتارا ہے۔)
    اللہ تعالیٰ کی آخری کتاب، وہ کتاب جس نے قیامت تک لوگوں کو خبردار کرنا ہے, جب نازل کرنے کا فیصلہ کیا گیا تو اللہ تعالیٰ کہتے ہیں کہ اس کے لیے میں نے رمضان کے مہینے کا انتخاب کیا۔ اور یہ رمضان کا مہینہ ہے جس میں وہ رات آئی، جس کو قرآنِ مجید نے "لیلۃالقدر”سے تعبیر کیا، ایک اور جگہ سورۃ الدخان میں” لَيْلَةٍ مُّبَارَكَةٍ”(برکت والی رات) سے تعبیر کیا۔ اور بتایا کہ تم اس کی عظمت کا اندازہ نہیں کرسکتے۔
    وَمَا أَدْرَاكَ مَا لَيْلَةُ الْقَدْرِ۔ لَيْلَةُ الْقَدْرِ خَيْرٌ مِنْ أَلْفِ شَهْرٍ
    یہ ہزار مہینے سے اللہ کے ہاں بہتر رات ہے، بلکہ مزید اللہ تعالیٰ نے اس کی تشریح کی ہے کہ اس میں ملائکہ اور روح الامین اترتے ہیں۔ اور جب یہ رات آتی ہے تو صبح تک سلامتی ہی سلامتی ہوتی ہے۔ یہ اس رات کی فضیلت ہے۔
    جس طریقے سے اس دنیا کے ساتھ معاملے کے لیے اللہ نے فرشتوں کو ذمہ داریاں دے رکھی ہیں بالکل اسی طرح کائنات کے بعض معاملات کے لیےخاص خاص دن بھی مقرر کر رکھے ہیں۔
    قرآنِ مجید کے نزول کے لیے یہ فیصلہ کیا گیا کہ یہ بھی اسی طرح کی ایک رات میں نازل ہو گا، یعنی وہ رات جو اللہ تعالیٰ نے بڑے بڑے فیصلوں کے لیے مقرر کر رکھی ہے جس میں فرشتے اور روح الامین وہ فیصلے لے کر زمین پر آتے ہیں، جس کو اللہ تعالیٰ سلامتی کی رات بنا دیتے ہیں۔
    حضرت محمدﷺ کو بعد میں یہ بتایا گیا کہ قرآن مجید رمضان میں نازل کیا گیا تھا۔ سورۃ القدر قرآن کی پہلی سورت نہیں ہے، یہ کافی بعد میں نازل ہوئی تھی۔ اس میں یہ بتایا گیا ہے کہ "ہم نے اس کو اُس فیصلوں والی رات میں نازل کیا تھا جو بڑی عظیم رات ہے۔”
    ظاہر ہے یہ جو اس رات کی غیر معمولی حیثیت بتائی گئی ہے تو آپﷺ کے دل میں بھی یہ چیز پیدا ہوئی کہ ایک بندہ مومن کی حیثیت سے میں یہ تلاش کروں کہ وہ رحمت، برکت اور فیصلوں کی رات کب آتی ہے۔ اللہ نے بتا دیا کہ وہ رات رمضان میں آئی تھی، یہ بھی بتا دیا کہ اس میں قرآن نازل ہوا تھا۔ چنانچہ آپﷺ پر قرآن مجید نازل ہوا، ظاہر ہے کچھ نہ کچھ تو یاد رہ جاتا ہے۔ ایک وہ وقت ہوتا ہے جب آپ کو متنبہ کر دیا جائے تو وہ چیز ہمیشہ کے لیے یاد رہتی ہے لیکن کچھ عرصے بعد کسی بات کے بارے میں بتایا جائے تو آدمی پلٹ کے پیچھے دیکھتا ہے اور یاد کرنے کی کوشش کرتا ہے کہ یہ کب کی بات ہے، تو اس کے بارے میں آپ ﷺ کو یہ خیال ہوا کہ غالباً رمضان کے آخری عشرے کی کوئی طاق رات تھی۔
    اگر آپ کو معلوم ہو کہ ایسی رات جس میں کائنات کے پروردگار کی عنایت ہو گی، جس میں فیصلے ہوتے ہیں، جس کی اتنی بڑی عظمت ہے تو ایک بندہ مومن کی حیثیت سے آپ اس رات کو تلاش کریں گے۔ تلاش کرنے کا مطلب ہے کہ آپ یہ کوشش کریں گے کہ جب وہ رات آئے، جب وہ رحمت کی گھڑی آئے تو آپ جاگ رہے ہوں، آپ خدا کو یاد کر رہے ہوں، آپ خدا کی عنایتوں کے طلب گار ہوں اور آپ اپنے گناہوں کی معافی مانگ رہے ہوں۔ یہ فطری خواہش ہے، چنانچہ آپﷺ کے دل میں بھی یہ پیدا ہوئی اور آپﷺ عام طور پر اس کا اہتمام کرتے تھے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ آپﷺ نے رمضان کے اس عشرے کو اپنے لیے اعتکاف کے لیے مقرر کیا۔
    یہ رات دعا کی قبولیت کی رات ہے، اپنے لئے، دوست و احباب کے لئے اور والدین کے لئے دعا مغفرت کرنی چاہیے، اس رات میں دعا میں مشغول ہونا سب سے بہتر ہے اور دعاؤں میں سب سے بہتر وہ دعا ہے جو حضرت عائشہؓ سے منقول ہے۔
    اَللّٰہُمَّ اِنَّکَ عَفُوٌّ کَرِیمٌ تُحِبُّ الْعَفْوَ فَاعْفُ عَنِّیْ
    اے اللہ! بے شک تو معاف فرمانے والا، کرم کرنے والا ہے، تو معاف کرنے کو پسند فرماتا ہے تو میرے گناہوں کو بھی معاف فرما دے۔
    https://t.co/mBQmJwgVeU‎
    ‎@iamAsadLal

  • اٹھ باندھ کمر کیا ڈرتا ہے پھر دیکھ خدا کیا کرتا ہے تحریر: عاصمہ قریشی

    ‏”
    جب آپ مصیبت کے چہرے میں ہمت کا مظاہرہ کرتے ہیں تو، آپ اپنی زندگی اور دوسروں کو تبدیل کرتے ہیں۔
    دنیا میں سب سے زیادہ اشتعال انگیز لوگ وہی ہیں جو اوسط کے لئے حل نہیں کریں گے اور مصیبت کے ذریعے کامیابی حاصل کی ہے. ہم سب سے زیادہ ان لوگوں کی طرف سے حوصلہ افزائی کر رہے ہیں جنہوں نے مشکل کا سامنا کیا ہے اور، کبھی حوصلہ نہیں چھوڑتے ہیں.

    قسمت بہت اچھی ہے، لیکن زندگی کے سب سے زیادہ مشکل کام ہے۔ بعض اوقات کشیدگی سے باہر کا واحد راستہ اس کے ذریعے ہے۔ زندگی میں چیلنجوں پر قابو پانے کے لئے جدوجہد کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ہمیں سبق سکھانے میں مدد کے لئے کئی بار جدوجہد ہوتی ہے۔ ہم یا تو اس سبق سے سیکھ سکتے ہیں یا اس سے انکار کرسکتے ہیں۔
    ایک ارتقائی نقطہ نظر سے انسانی ذہن کا بنیادی مقصد آپ کو محفوظ رکھنا ہے۔ کبھی کبھی یہ خود کو سبوتاژ کرنے کی طرف جاتا ہے کیونکہ آپ کے آرام کے زون میں رہنا اور خطرے سے بچنا آسان ہے۔ تاہم، بڑے بڑے کام کبھی ماداوکراٹی سے آتے ہیں۔ اوسط کے لئے حل کرنا چھوڑ دیں اور غیر معمولی کے لئے کوشش کریں۔
    ذیل میں وہ الفاظ ہیں جو میں نے طاقتور زندہ بچ جانے والوں سے متاثر ہوکر لکھے ہیں۔ ایک محرک اسپیکر کی حیثیت سے، میں بہت سے ایسے لوگوں سے ملتا ہوں جو بدقسمتی سے بچ گئے ہیں اور بھگت رہے ہیں۔ کشیدگی میں طاقت تلاش کرنے، خوف کو فتح کرنے اور اپنے خوابوں کو زندہ کرنے کے لئے ایک حوصلہ افزائی تقریر کے لئے مندرجہ ذیل نقطہ نظر ہے.
    حوصلہ افزائی تقریر ٹیمپلیٹ، کبھی بھی اپنے خوابوں کو ترک نہ کریں۔
    دلیری کے ساتھ آپ کے خواب کی سمت میں جاتے ہیں۔

    قد کھڑے ہیں اور دنیا کو دکھائیں جو آپ بنا رہے ہیں. جب دنیا آپ کو ہرا دیا، واپس دوبارہ حاصل کرنے کے لئے ایک وجہ تلاش کریں۔ کبھی کامیابی پر ہاریں۔
    کوشش کریں، کوشش کریں، کوشش کریں اور دوبارہ کوشش کریں۔ کامیابی کے اپنے دماغ کے خیالات کو کھانا کھلانا، ناکامی نہیں.
    یاد رکھیں، اگر آپ کو چھوڑ دو تو آپ ناکام ہوسکتے ہیں. جب بھی آپ ناکام ہوجاتے ہیں، آپ کامیابی کے ایک قدم قریب آجاتے ہیں۔
    آپ خوفزدہ نہیں ہیں۔ آپ باہمت ہیں۔ آپ کمزور نہیں ہیں۔ آپ طاقتور ہیں۔ آپ عام نہیں ہیں، آپ قابل ذکر ہیں.
    پیچھے نہ ہٹیں، ہار نہ مانیں۔
    جب آپ اپنی زندگی پر نظر آتے ہیں، تو افسوس نہیں ہے. اپنے آپ پر یقین کریں، اپنے مستقبل پر یقین کریں، آپ کو اپنا راستہ مل جائے گا۔

    آپ کے اندر ایک آگ جل رہا ہے جو بہت طاقتور ہے ؛ یہ روشن جلانے کے لئے انتظار کر رہا ہے. آپ بڑے بڑے کام کرنے کے لئے کیا مراد ہیں۔
    آپ کے خواب کے بعد خوفناک اور دلچسپ دونوں ہو سکتے ہیں۔
    ہمت کو خوف کا سامنا ہے۔ ناکامی کا خوف زیادہ تر لوگوں کو پیچھے رکھتا ہے۔ آپ زیادہ تر لوگ نہیں ہیں۔
    دوسروں کو اپنے منصوبوں کے بارے میں برقرار رکھیں اور قائل کریں، کیونکہ وہ حقیقی ہیں۔ کوئی بھی ایسا نہیں کر سکتا لیکن آپ. ہمارے خوابوں کی راہ میں کوئی نہیں ملے گا۔

    زیادہ تر لوگ واضح مالک ہیں; آپ ایسی چیز بنا رہے ہیں جو پہلے نہیں تھا. یہ جلی ہے، یہ خوبصورت ہے اور یہ آپ ہے۔
    اسے اپنی پوری کوشش کرو، اور آپ کے خواب زندگی میں آئیں گے۔ کامیابی آپ کا ہے۔
    آپ کے خواب کے لئے جانا۔ یہ آپ کی باری ہے۔

    ٹویٹر اکاؤنٹ:
    ‎@AQsmt2

  • مدینہ کی ریاست کی چاہت۔ تحریر ہما عظیم

    مدینہ کی ریاست کی چاہت۔ تحریر ہما عظیم


    مدینہ کی ریاست۔۔۔نام لیتے ساتھ ہی ایک احترام ایک سرور سا اترتا ہے دل میں۔۔پاک ریاست پاک لوگ۔۔۔پاک زندگیاں۔۔۔
    ہمارا نعرہ مدینہ کی ریاست ہماری چاہت مدینہ کی ریاست۔۔۔ہماری مانگ آج ہی پوری ہو ۔۔۔کیسے ہو۔۔۔کیسے ہو۔۔۔
    ہم کتنے قابل ہیں اس ریاست کے۔۔مدینہ کی ریاست مدینے ولوں نے بناٸی اپنی پاک بازی سے۔اپنی سچاٸی سے اپنے پیٹ پر پتھر باندھ کر بھوکے رہ کر فاقے کر کے بنا کسی کو الزام لگاۓ اپنےبل بوتے پر اپنی سود، ذخیرہ اندوزی، جھوٹ، نفا ق سے پاک تجار ت ایک دوسرے کادرد محسوس کر کے۔۔ صبح خالی پیٹ گھر سے نکلنا شان کو واپسی پر کچھ کھانے کو نہ ملنے پرایک کجھور پانی کے ساتھ کھا کر صبر شکر کر کے سونا ۔۔۔اللہ پر توکل۔۔ نہ گالی نہ گلوچ۔۔اخلاق اتنے کہ کوٸی پتھر مار دے تو دعا دینا۔۔۔
    ہم مانگ رہے مدینہ کی ریاست
    کون ہیں ہم
    دسترخوان پہ پیٹ بھر کھانا ہے مگر ایکسٹرا بریانی کی چاہت ہے نہیں کھا سکتے گنجاٸش نہیں دو حکومت کو گالیاں اسی دکھ میں باہر نکلے کسی سے منہ ماری ہو گٸی دو اسے ماں بہن کی گالیاں۔۔۔
    کام پہ گۓ۔۔سو جھوٹ سو چالبازیاں منافقت سے بھری خوشامدوں کے بعد گھر واپسی تھکے ہوۓ آۓ ہیں بیوی بچوں پہ غصہ۔۔ماں سے بدتمیزی ۔۔۔
    پھر ا س سب کے بعد جب اپنے کرتوتوں سے رزق میں کمی حالات خراب ہوں تو اپنے سے اونچوں سے حسد شروع۔۔۔
    معاشرتی طور پر اتنا بگاڑ پیدا کر رکھا ہے۔۔
    ٹک ٹاک پہ منہ بنا بنا کے ایک آنکھ بند کر کر کے ویڈیوز دیکھتے ہیں۔۔استغفار کرتے جاتے ہیں آنکھوں کا زنا ہاتھوں کا زنا باتوں زنا کرتے جاتے ہیں
    جہاں زلیخا دیکھی یوسف کو بھول کر اس کی اداٶں پر مرمٹنے کو تیار ہو جاتے ہیں
    نہ عورت فاطمہ ؓ جیسی بننے کو تیار ہیں
    نہ مرد یوسف بننے پر راضی ہے
    اور تو اور یہ عالم ہے
    ہمارے ہاں عورت برقع میں ہو نظروں سے پھاڑنے کی کوشش کرتے ہیں

    کیا ہم بنا پاٸیں گے ریاست مدینہ۔۔۔
    ہم سے ایک دن تیل کے بغیر شوربے والی ہانڈی نہ کھاٸی جاۓ۔۔مبادا کہ پیٹ پہ پتھر باندھنا
    ہم اپنے آگے کسی کی بات برداشت نہیں کرتے مبادا کہ پتھر کھا کہ دعا دینا
    ہم بغیر جھوٹ کے اپنا مال نہیں بیچ سکتے
    زخیرہ اندوزی کے بغیر ہم اپنے عید تہوار پر سسستاسامان نہیں بیچ سکتے
    ہم کیسے بنا پاٸیں گے ریاست مدینہ
    مدینہ کی ریاست میں حکم ربی اترتا تھا سب گردن جھکا کر لبیک کہتے تھے۔۔
    آج ہم مدینے کی ریاست میں چودہ سو سال پہلے اترے حکم ربی میں حجتیں کرتے ہیں دلیلیں گھڑتے ہیں۔پتلی گلی سے نکلنے کی کوشش کرتے ہیں۔۔

    دسروں کو حکم ربی سنا کرخود فادغ ہو جاتے ہیں
    کون ہیں ہم۔۔۔
    کیا چاہتے ہیں ہم
    مدینے کے اسلام میں اور ہمارے آج کے اسلام میں ہم نے وہ فرق ڈال دیا ہے۔کہ آج مدینے والے پلٹیں تو ہمیں کسی اور نٸے مذہب پہ پاٸیں
    خدارا پہلے خود کو اس قابل بناٸیں کہ
    آپ کے ارگرد خود آپ کو مدینے کا حساس ہو
    پہلے اپنے اندر احساس پیدا کریں
    مدینہ میں پہلے حکم جاری ہوۓ تھے۔۔سزاٸیں بعد میں اتری تھیں۔حکم ماننے والوں نے سزاٸیں اترنے کا انتظار نہیں کیا تھا۔۔سزاٸیں تو نافرمانوں کے لٸیے اتری تیں۔۔تم فرمابردار کیوں نہیں بنتے۔۔؟
    کیوں نافرمان ہو کر انتظار کرتے ہو کہ سزاوٶ ں کی بات ہو پھر ہی سدھرو گے۔۔معاشرہ بناٶ تم بناٶ
    مدینہ بناٶ تم بناٶ۔۔۔خود کو پہلے سے فرمانبردار بناٶ
    لبیک کہو۔۔
    کسی کو کہنے روکنے ٹوکنے سے کچھ نہیں ہوگا
    پہلے اپنا دل مدینہ بناٶ
    مدینہ پاک لوگوں کے رہنے کی جگہ ہے
    پہلے پاک ہو جاٶ
    پہلے پاک ہو جاٶ
    تحریر ہما عظیم
    ‎@DimpleGirl_PTi

  • لشکرِ سلیمانی ،، دنیا کا عجیب و غریب لشکر اور ہدہد کی غیر حاضری  تحریر اکرام اللہ نسیم

    لشکرِ سلیمانی ،، دنیا کا عجیب و غریب لشکر اور ہدہد کی غیر حاضری تحریر اکرام اللہ نسیم

    تاریخ بتاتی ہے کہ دور قدیم میں لشکر سلیمانی جیسا لشکر اللہ رب عزت نے کسی کو عطا نہیں کیا تھا اس تاریخی لشکر سے اللہ رب عزت نے حضرت سلیمان علیہ السلام کو مالا مال کیا دور جدید میں لشکر سلیمانی جیسے لشکر کا تصور ہی انسان کرسکتا ہے رہتی د نیا تک لشکرسلیمانی جیسا شاندار اور منظم لشکر کوئی نہیں بنا سکتا کیونکہ اللہ رب العزت نے یہ صفت حضرت سلیمان علیہ السلام کو عطا کی تھی کہ وہ پرندوں کی بولی بولتے تھے جنات اسکے ماتحت تھے پرندے بھی اسکے ماتحت بلکہ ساری مخلوق اسکے ماتحت تھی
    لشکرِ سلیمانی یعنی حضرت سلیمان علیہ السلام کا لشکر تین قسم کے اجناس پر مشتمل تھا
    انسانوں کا ،، پرندوں کا ،،جنّون کا ،، اسکا ذکر قرآن مجید میں ان الفاظ سے ہوا ہے قال اللہ تعالیٰ فی القرآن المجید { وَحُشِرَ لِسُلَيْمَان جُنُوده مِنْ الْجِنّ وَالْإِنْس وَالطَّيْر فَهُمْ يُوزَعُونَ } ترجمہ : اور سلیمان کے لئے اسکے لشکر جنات من سے اور انسانوں میں سے اور پرندوں میں سے جمع کئے گئے اور وہ مرتب کرنے کی غرض سے روکے جاتے تھے
    حضرت سلیمان علیہ السلام جب سفر کرتے تو آپ علیہ السلام کے لشکر سلیمانی میں انسان جنات اور پرندے شامل ہوتے تھے
    سفر کے روانگی سے قبل لشکر سلیمانی کو ترتیب و تنظیم کے لئے روکا جاتا تھا کیونکہ یہ حضرت سلیمان علیہ السلام کے لشکر سلیمانی کا اہم اصول تھا نظم و ضبط اکا انتہائی خیال رکھا جاتا تھا روانگی میں اس چیز کا بھی خصوصی خیال کیا جاتا تھا کہ آگے صف والے پیچھے نہ رہ جائیں اور پیچھے صف والے آگے نہ رہ جائیں اسی طرح میمنہ اور میسرہ کا اختلاط نہ ہو یعنی دائیں جانب والے بائیں جانب نہ نکل جائیں اسی طرح بائیں جانب والے دائیں جانب نہ نکل جائیں
    جیسا کہ دور جدید میں تمام منظم ممالک کے حکومت کے افواج چلنا پھرنا ٹہرنا دائیں جانب مڑنا بائیں جانب مڑنا جو انکے قواعد و ضوابط کے مطابق ہو ویسا کرنا چونکہ دور جدید میں صرف انسانوں کی منظم و مربوط فوجیں ہوتی ہے
    حضرت سلیمان علیہ السلام کی لشکر سلیمانی اسی وجہ سے سے عجیب و غریب تھی کہ وہ تین قسم کے افواج پر مشتمل تھی پرندوں کی الگ فوج جنات کی الگ فوج اور انسانوں کی الگ فوج
    پھر ان میں سے ہر فوج کی اپنی الگ الگ زمہ داریاں ہوتی تھی
    جیسا کہ پرندوں میں ایک پرندہ نامی ہدہد ہے یہ حضرت سلیمان علیہ السلام کی فوج میں مہندس کا کام کرتا تھا یہ بتلاتا تھا کہ پانی کہاں ہے اور کہاں نہیں ، زمین کے اندر کا پانی ااسے اسطرح دکھائی دیتا تھا جیسے زمین کے اوپر درخت پھل پھول پہاڑ پرندے اور دیگر اشیاء جب حضرت سلیمان علیہ السلام کسی جنگل میں ہوتے تو ہدہد کو بلاتے وہ حاضر ہوتا حضرت سلیمان علیہ السلام اس سے پوچھتے کہ پانی کہاں کہاں ہے ہدہد جگہوں کی نشان دہی کرتا
    حضرت سلیمان علیہ السلام جنات کی ڈیوٹی لگاتے اسی جگہ کنواں کھود لیا جاتا
    ایک دن حضرت سلیمان علیہ السلام جنگل میں تھے پرندوں کی تفتیش ہوئی تاکہ پانی کی تلاش کا حکم کیا جائے ، اتفاق سے ہدہد غیر حاضر تھا اس پر حضرت سلیمان علیہ السلام نے فرمایا آج ہدہد نظر نہیں آرہا کیا پرندوں میں چھپ گیا ہے یا حقیقتاً غیر حاضر ہے
    جیسا کہ قرآن مجید میں ہے
    وَ تَفَقَّدَ الطَّیْرَ فَقَالَ مَا لِیَ لَاۤ اَرَى الْهُدْهُدَ ﳲ اَمْ كَانَ مِنَ الْغَآىٕبِیْنَ لَاُعَذِّبَنَّهٗ عَذَابًا شَدِیْدًا اَوْ لَاۡاَذْبَحَنَّهٗۤ اَوْ لَیَاْتِیَنِّیْ بِسُلْطٰنٍ مُّبِیْنٍ
    ترجمہ:
    اور سلیمان نے پرندوں کا جائزہ لیا توفرمایا:مجھے کیا ہوا کہ میں ہد ہد کو نہیں دیکھ رہا یا وہ واقعی غیر حاضروں میں سے ہے۔ میں ضرور ضروراسے سخت سزا دوں گایا اسے ذبح کردوں گا یا وہ میرے رو برو کوئی معقول دلیل پیش کرے
    حضرت سلیمان علیہ السلام نے فرمایا اگر کو معقول دلیل پیش کی تو خیر ورنہ اسکو میں سخت سزا دونگا اتنے میں ہدہد آگیا دیگر پرندوں نے ہدہد سے کہا آج آپکی خیر نہیں بادشاہ سلامت نے تیری سزا کا عہد کرچکے ہیں ہدہد نے کہا بادشاہ سلامت کے الفاظ کیا تھے انہوں نے بیان کئے ہدہد خوش ہوا اور کہا میں بچ جاؤں گا
    چنانچہ ہدہد حضرت سلیمان علیہ السلام کے دربار میں حاضر ہوا کہنے لگا کہ اے اللہ کے بنی میں آپ کے پاس ایسی خبر لیکر آیا ہوں جو آپکے پاس نہیں۔ میں سبا سے آرہا ہوں اور پختہ یقینی خبر لایا ہوں اسکی بادشاہی کرتے ہوئے میں نے ایک عورت کو پایا اس کے وزیر اور مشیر تین سو بار 312 شخص ہیں چھ سو عورتیں اسکی خدمت میں ہر وقت کمربستہ رہتی ہے اور وہ سب لوگ آفتاب پرست ہیں اس ملکہ کا نام بلقیس بنت شراحیل ہے ہدہد کی خبر سنتے ہی حضرت سلیمان نے تحقیقات شروع کی
    تحقیقات پوری ہونے کے بعد ہدہد کو معاف کیا کیونکہ ہدہد نے حضرت سلیمان علیہ السلام کو سب سچ بتایا تھا

  • کیا واقعی پردہ دل کا ہوتا ہے؟؟

    کیا واقعی پردہ دل کا ہوتا ہے؟؟

    چھوٹے ہوتے ہوئے بزرگوں سے یہی کہانیاں سنتے آئے ہیں کہ ہمارے دور میں ہم عورتیں اور مرد بڑے بڑے ہو کر بھی اکٹھے کھیلتے ہوتے تھے، کسی کے ذہن میں بے حیائی کا نام تک نہیں آتا تھا۔ وہ اچھے وقت ہوا کرتے تھے، آنکھوں کا نہیں دل کا پردہ ہوتا تھا۔ زنا اور زیادتی کے وقعات نہ ہونے کے برابر ہوتے تھے وغیرہ وغیرہ۔ مگر آج کل کی جنریشن پتا نہیں کیا کھا کے پیدا ہوئی ہے کہ سنبھالی ہی نہیں جا رہی۔ کوئی شرم و حیا نہیں رہ گئی کوئی ادب اور سلیقہ نہیں ہے۔
    یہ وہ باتیں ہیں جو آج بھی پرانے بابے بزرگ ہمیں فخر سے سناتے ہیں لیکن وہ تیزی سے بدلتی ہوئی دنیا کی سچائی کو سمجھنے کے لئے بالکل تیار نہیں۔ انہیں اس بات کا علم نہیں کہ ان کے زمانے میں گھر کے سربراہ کا اتنا دبدبہ ہوا کرتا تھا کہ اس کی موجودگی میں اس کے خوف سے کوئی اونچی آواز میں بات نہیں کر سکتا تھا۔ اس کا فیصلہ حکم آخر تصور ہوتا تھا جس کے خلاف نہیں جایا جا سکتا تھا۔ اس وقت گھر گھر میں یہ ٹی وی اور ٹک ٹاک، انسٹاگرام، سنیپ چیٹ اور یوٹیوب جیسے فتنے نہیں آئے تھے۔ بیٹیاں کتابوں کے اندر اپنے آشناؤں کی تصاویر نہیں چھپایا کرتی تھیں۔ کتاب کے اندر جاسوسی اور رومانی ناول نہیں رکھ کے پڑھے جاتے تھے۔ مرد و زن کا اختلاط نہیں ہوا کرتا تھا۔ گھر کے مرد بازار سے ساری شاپنگز کر کے لے آتے تھے اور وہ سارا سامان خواتین کا پسندیدہ ہوا کرتا تھا۔ خواتین بلا وجہ گھر سے باہر نکلا عیب سمجھا کرتی تھیں۔ مردوں کی غیر موجودگی میں دروازے پہ ہونے والی دستک کا جواب تک نہیں دیا جاتا تھا۔ اور سب سے بہترین عمل جو اس وقت کیا جاتا تھا وہ یہ تھا کہ بلوغت کی عمر کو پہنچتے ہیں بچوں کی شادیاں کر دی جاتی تھیں۔
    موجودہ دور اس دور سے بالکل مختلف ہے۔ بچوں کو سکولوں میں بھی یہی پڑھایا جانے لگا ہے کہ آپ مادر پدر آزاد ہیں، آپ کا استاد آپ کو ڈانٹے تو پولیس میں رپورٹ کر کے اسے گرفتار کروا دیں۔ اگر باپ اصلاح کے لئے ڈانٹ دے تو اسے بھی اندر کروا دیں۔ مرد و زن کا اختلاط روشن خیالی تصور ہونے لگا ہے۔ موبائل فون نہ خرید کر دینے پہ نوجوان اولادیں والدین کو خود کشی کی دھمکیاں دینے لگی ہیں پھر بچے بچیاں موبائلوں پہ کیا کر رہے ہیں والدین کو پوچھنے تک کا اختیار نہیں۔ اعلی تعلیم کے لئے یونیورسٹیوں میں پڑھنے کے لئے آنے والے بچے کیمپسز میں ایک دوسرے کو پروپوز کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ ہاسٹلز میں گناہ ہوتے پائے جاتے ہیں۔ گناہ اس حد تک معاشرے میں سرائیت کر چکا ہے کہ معیوب بھی نہیں سمجھا جا رہا۔
    بات یہاں تک بڑھ گئی ہے کہ مسلمان کے گھر میں پیدا ہونے والی اولادیں قرآن و حدیث کو، جو ان کے لئے اور ہم سب کے لئے مشعل راہ اور زندگی گزارنے کا طریقہ ہے، اپنی آزادی کا دشمن تصور کر کے اس سے دور ہوتے جا رہے ہیں۔ جب انہیں قرآن کی کوئی آیت سنائی جاتی ہے تو کہتے ہیں کہ یہ تو پتھر کے زمانے کے لوگوں کی باتیں، ہم اکیسویں صدی میں جی رہے ہیں تو اس کے مطابق چلیں گے۔ ذرا سوچیئے! جب اللہ کے پیارے نبی ﷺ مشرکین مکہ کو قرآن سناتے تھے تو کیا وہ بھی یہی بات نہیں کہتے تھے کہ یہ قرآن تو صرف پرانے لوگوں کی کہانیاں ہیں؟
    اس سب سے بڑھ کر جو لوگ کہتے ہیں پردہ دل کا ہونا چاہیئے تو کیا وہ یہ بتانا پسند کریں گے کہ کیا ان کے دل ازواج مطہرات اور صحابیات ؓ سے زیادہ پاک تھے؟ پھر اللہ نے کیوں نبی ﷺ کو حکم دیا کہ اپنی بیویوں، بیٹیوں اور مومنین کرام کی بیویوں کو پردہ کروایا جائے؟ کیوں صحابیات کو اونچی آواز میں قرآن پاک کی تلاوت کی جازت بھی نہیں دی گئی؟ کیوں کہا گیا کہ جب مرد اور عورت کہیں اکیلے ہوتے ہیں تو تیسرا ان کے درمیان شیطان ہوتا ہے؟ کیوں کہا کہ قیامت کے قریب آنے والے فتنوں میں سب سے خطرناک فتنہ عورتوں کا فتنہ ہے؟
    اگر پردہ صرف دل کا ہی ہے تو ایک نابینا صحابی (ابن ام مکتوم ؓ ) کے آنے پر نبی ﷺ نے وہاں بیٹھی خواتین کو پردہ کرنے کا حکم کیوں دیا؟
    راستوں پہ بیٹھنے والے صحابہ کرام ؓ کو آنکھیں نیچی رکھنے کا حکم کیوں دیا گیا۔

    اس ساری بحث کا مدعا یہ ہے کہ یا تو آپ خود کو مسلمان کہلواتے ہوئے قرآن و سنت پہ بنا کسی شد و مد کے عمل کریں یا پھر مسلمان ہونے کا دعوٰی چھوڑ کر جو دل میں آتا ہے کرتے پھریں۔

    @Being_Faani

  • اللہ جسے ہدایت دے  تحریر: نصرت پروین

    اللہ جسے ہدایت دے تحریر: نصرت پروین

    ویسے تو یہ دنیا انسان کی بہت سی مادی ضرورتوں پر مشتمل ہے۔ لیکن سب سے اہم ترین ضرورت جس میں دنیا آخرت کی کامیابی پوشیدہ ہے وہ ہدایت ہے۔ ہدایت سے مراد رہنمائی کرنا، سیدھا رستہ دکھانا، نفع مندی کا راستہ، انبیا کا راستہ جس کی منزل جنت ہے۔ وہ راستہ جس پر اللہ نے اپنے تمام انعام یافتہ بندوں کو چلایا۔ وہ سب اللہ کی نظر میں محبوب تھے۔ اللہ نے ان پر انعام کیا انہیں ہدایت سے نوازا۔ ان میں سارے انبیا حضرت آدم علیہ السلام، حضرت ابراہیم علیہ السلام ، حضرت نوح علیہ السلام ، حضرت ہود علیہ السلام ، حضرت لوط علیہ السلام ، حضرت موسی علیہ السلام ، حضرت عیسی علیہ السلام ، اور بھی سارے انبیا شامل ہیں وہ بھی جن کا تذکرہ قرآن میں نہیں ملتا۔ وہ سب کے سب اللہ کی طرف سے ہدایت یافتہ تھے۔ انہوں نے اللہ کی راہ میں کوششیں کی، دکھ رنج اور تکلیفیں سہی، انہوں نے ہجرتیں کی، اپنا گھر بار سب الل کے لئے لگا دیا، انہیں اپنے علاقوں میں نہیں رہنے دیا انہوں نے ہدایت کے سفر میں تمام تکلیفیں صبر اور اللہ کی مدد سے برداشت کی اور پھر اللہ نے ان پر انعام کیا انہیں استقامت دی انہیں جنت کی خوشخبری دی۔ یقیناً ان سب کی زندگیاں ہمارے لئے مشعلِ راہ ہیں۔ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر اللہ نہ ہوتا تو ہم ہدایت نہ پاتے نہ ہم صدقہ کرتے، نہ ہم نمازیں پڑھتے۔ بےشک وہ اللہ ہی اول و آخر ہے۔ اس کی طرف سے ہم آئے ہیں اور اسی کی طرف لوٹنا ہے۔ وہ ہی تو ہے جس نے زندگی جیسی دولت بخشی، وہی تو ہر چیز کا اصل اور ہمیشگی والا ہے۔ باقی سب تو فنا ہے۔ ہدایت بھی اللہ ہی کے ہاتھ میں ہے وہ جسے چاہے ہدایت دے اور جسے چاہے گمراہ کر دے۔ انسان کے ذمے کوشش کرنا ہے۔ ہدایت اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ جیسا کہ اللہ نے قرآن میں فرمایا:
    لَیۡسَ عَلَیۡکَ ہُدٰىہُمۡ وَ لٰکِنَّ اللّٰہَ یَہۡدِیۡ مَنۡ یَّشَآءُ ؕ وَ مَا تُنۡفِقُوۡا مِنۡ خَیۡرٍ فَلِاَنۡفُسِکُمۡ ؕ وَ مَا تُنۡفِقُوۡنَ اِلَّا ابۡتِغَآءَ وَجۡہِ اللّٰہِ ؕ وَ مَا تُنۡفِقُوۡا مِنۡ خَیۡرٍ یُّوَفَّ اِلَیۡکُمۡ وَ اَنۡتُمۡ لَا تُظۡلَمُوۡنَ ﴿۲۷۲﴾
    ترجمہ: انہیں ہدایت پر لاکھڑا کرنا تیرے ذمّہ نہیں بلکہ ہدایت اللہ تعالٰی دیتا ہے جسے چاہتا ہے۔ سورۃ البقرہ:272
    اِنۡ تَحۡرِصۡ عَلٰی ہُدٰىہُمۡ فَاِنَّ اللّٰہَ لَا یَہۡدِیۡ مَنۡ یُّضِلُّ وَ مَا لَہُمۡ مِّنۡ نّٰصِرِیۡنَ ﴿۳۷﴾
    ترجمہ: گو آپ ان کی ہدایت کے خواہشمند رہے ہیں لیکن اللہ تعالٰی اسے ہدایت نہیں دیتا جسے گمراہ کردے اور نہ ان کا کوئی مددگار ہوتا ہے۔
    سورۃ النحل:37
    اللہ کے تمام انعام یافتہ، ہدایت یافتہ بندوں نے بھی ایک ہدایت یافتہ سوسائٹی کے لئے کوششیں کی۔ انہوں نے ہمیشہ دوسروں کے لئے کوششیں کی۔ انہوں نے کبھی انفرادی طور پر زندگی بسر نہیں کی ہمیشہ انسانیت کی اصلاح کے لئے کوشش کی لیکن اللہ نے جسے چاہا ہدایت دی جسے چاہا گمراہ کردیا۔ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے چچا کی ہدایت کے لئے بہت کوشش کی۔ ابو طالب کا آخری وقت تھا اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ان سے کہہ رہے تھے آپ کلمہ پڑھ لیں میں اللہ سے آپ کی سفارش کروں گا لیکن اردگرد بیٹھے ہوئے لوگوں نے کہا عبدالمطلب کا دین چھوڑ دو گے اپنے باپ دادا کا دین۔ تو ابو طالب نے کلمہ نہیں پڑھا اور اپنے اسی دین پر رہے حتی کہ دنیا سے چلے گئے۔ اسی حضرت لوط علیہ السلام اور حضرت نوح علیہ السلام کی ازواج وہ کافر ہی رہی۔ حالانکہ نبی کی ازواج تھیں۔ اس طرح اللہ نے انہیں ہدایت نہیں دی۔ حالانکہ نبیوں نے ان کے لئے کوششیں کی لیکن اللہ جسے چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے جسے چاہتا ہے گمراہ کرتا ہے۔ اسی طرح اللہ نے انہیں بھی ہدایت دی جو لوگ گمراہ تھے۔ اور وہ جوق در جوق اسلام میں داخل ہوئے۔ ہدایت دو چیزوں سے ملتی ہے۔
    1۔ قرآن و سنت کا علم حاصل کرنے سے
    2۔ اور ہھر اس پر قائم رہنے سے
    یہ ہی ہدایت ہے۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے لا الہ الا اللہ کہا اور اس پر قائم رہا وہ جنت میں داخل ہوا۔
    امام ابو تیمیہ رقمطراز ہیں:
    1۔ ‏جب انسان پروردگار کے سامنے اپنی محتاجی ظاہر کرے اور اس سے دعا کرتا رہے اور اس کے ساتھ ساتھ کلام اللّٰہ، احادیثِ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آثار صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کا مسلسل مطالعہ کرتا رہے تو اس کے لیے ہدایت کا راستا کھل جائے گا۔
    2۔ سچا مسلمان جب الله تعالی كی عبادت اس كی شریعت كے مطابق كرتا ہے تو الله تعالی جلد ہی اس پر ہدایت كے انوار كھول دیتا ہے۔3۔ اسلام میں صحابہ کرام ہر ایک علم ، نیکی، ہدایت اور رحمت کی اصل بنیاد ہیں۔
    4۔ ہدايت كا راستہ علم كے بغير نہيں مل سكتا اور اس پر ثابت قدمى صبر كے بغير ممكن نہيں۔
    ‏امام ابن قیم رحمہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
    کسی دوسرے کو راہ دکھلانا,علم کی بات بتانا,خیرخواہی کرنا,خود پرہدایت کادروازہ کھولنا ھے۔کیونکہ جزاء ھمیشہ عمل کے مطابق ھوتی ھے۔پس جو کسی دوسرے کو علم اور ہدایت کی راہ دکھلاتا ھےالله اسے علم اور ہدایت سے نوازتا ھے_
    رسالته الى أحد اخوانه ١٠
    انسان کی ذمہ داری ہے کہ معاشرتی طور پر ہدایت کے لئے کوشش کرے۔ دین کا علم حاصل کرے اور اللہ سے اس پر استقامت کے لئے مدد مانگے۔ خود ثابت قدم رہنا اور پھر دوسروں لے لئے کوشش کرنا بہت اہم اور لازمی ذمہ داری ہے جو ترک نہیں کی جا سکتی۔
    اور جب انسان کوشش کرتا ہے تو اللہ ہدایت دیتا ہے، اللہ دل بدل دیتا ہے، گمراہ لوگ بھی بدل جاتے ہیں، آپ دیکھیں انبیا کے دور میں کیسے انقلاب آیا تھا۔ کیسے لوگوں نے اللہ کی مدد سے ہدایت کا سفر چنا۔ آپ بھی کوشش کریں اللہ آپ کو رسوا نہیں کرے گا۔
    لیکن اگر انسان کوشش ہی نہ کرے اللہ کا دین ہی نہ سیکھے اور کہے کہ میرے نصیب میں گمراہی لکھ دی گئی ہے تو یہ گھاٹے کا سودا ہے۔
    آیا تھا کیا کرنے اور کیا کر گیا؟
    دیکھیں سب نگہبان ہیں اور سب سے اپنی رعیت کے بارے میں پوچھا جائے گا تو اللہ کے دین کو چھوڑ کر اگر آپ نگہبانی کریں گے تو کیا فلاح پائیں گے۔ میں ایسی ماؤں کو جانتی ہوں جنہوں نے اپنے بچوں کی خوب نگہبانی کی انہیں خوب وقت دیا لیکن انہیں دین نہیں سکھایا یقین کریں میں نے ان بچوں کو بے راہ روی کی راہوں میں پایا۔ تو اللہ کے دین کا علم حاصل کرنا اس پر عمل کرنا یہ ہی ہدایت ہے اور اسے آگے پہنچانے کے لئے کوشاں رہنا یہ ہماری ذمہ داری ہے۔ تو آئیے ذمہ داری کو خوب پورا کیجیے اور فلاح پائیے۔
    اقبال نے کیا خوب کہا تھا:
    یارب دلِ مسلم کو وہ زندہ تمنا دے۔
    جو قلب کو گرما دے جو روح کو تڑپا دے۔
    جزاکم اللہ خیراً کثیرا
    @Nusrat_writes

  • نبی رحمت ﷺ  پر وحی کا  نزول حصہ  سوم  تحریر محمد آصف شفیق

    نبی رحمت ﷺ پر وحی کا نزول حصہ سوم تحریر محمد آصف شفیق

    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی کا نزول کس طرح شروع ہوا، اللہ تعالیٰ کا قول کہ ہم نے تم پر وحی بھیجی جس طرح حضرت نوح علیہ السلام اور ان کے بعد پیغمبروں پر وحی بھیجی اور اسی طرح ہم احادیث کی روشنی میں جاننے کوشش کرتے ہیں
    حضرت حسن حطان بن عبداللہ حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر جب وحی نازل ہوتی تو اس کی وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر سختی ہوتی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم چہرہ اقدس کا رنگ بدل جاتا۔ صحیح مسلم:جلد سوم:حدیث نمبر 1559
    حضرت ابواسامہ ہشام سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر سردی کے دنوں میں وحی نازل ہوتی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشانی مبارک پر پسینہ بہنے لگ جاتا تھا۔ صحیح مسلم:جلد سوم:حدیث نمبر 1557

    حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر جب وحی نازل ہوتی تھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنا سر مبارک جھکا لیتے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ بھی اپنے سروں کو جھکا لیتے اور جب وحی ختم ہو جاتی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنا سر مبارک اٹھا لیتے تھے۔ صحیح مسلم:جلد سوم:حدیث نمبر 1560

    حضرت یوسف بن عبداللہ بن سلام اپنے والد حضرت عبداللہ بن سلام سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب گفتگو فرمانے کے لیے بیٹھتے تو دوران گفتگو اکثر آسمان کی طرف نظر اٹھاتے رہتے تھے۔(کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ہر وقت وحیِ الٰہی کا انتظار رہا کرتا تھا) ۔ سنن ابوداؤد:جلد سوم:حدیث نمبر 1433

    حضرت ابن شہاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ مجھے حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے خبر دی ہے کہ اللہ عزوجل نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات سے پہلے لگاتار وحی نازل فرمائی یہاں تک کہ جس دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی اس دن تو بہت ہی زیادہ مرتبہ وحی نازل ہوئی۔
    صحیح مسلم:جلد سوم:حدیث نمبر 3023حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر جب وحی نازل کی جاتی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس وجہ سے مشکل محسوس کرتے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا چہرہ اقدس متغیر ہو جاتا راوی کہتے ہیں کہ ایک دن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر وحی نازل کی گئی تو اسی طرح کی کیفیت ہو گئی۔ پس جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے وہ کیفیت ختم ہوگئی تو آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے فرمایا مجھ سے حاصل تحقیق عورتوں کے لیے اللہ نے راستہ نکالا ہے۔ شادی شدہ مرد شادی شدہ عورت سے زنا کرے یا کنوارا مرد کنواری عورت سے زنا کرے تو (اس کی حد) سو کوڑے ہیں اور پتھروں کے ساتھ سنگسار کرنا بھی اور کنوارے مرد کو سو کوڑے مارے جائیں پھر ایک سال کے لیے ملک بدر کردیا جائے۔صحیح مسلم:جلد دوم:حدیث نمبر 1923

    حضرت جندب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ ایک دفعہ جبرائیل علیہ السلام کو(وحی لانے میں ) تاخیر ہوگئی (کچھ عرسہ کے لیے وحی منقطع ہوگئی) تو مشرکین نے کہا محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کو چھوڑ دیا گیا تو اللہ رب العزت نے یہ آیات نازل فرمائیں: وَالضُّحٰى Ǻ۝ۙ وَالَّيْلِ اِذَا سَـجٰى Ą۝ۙ مَا وَدَّعَكَ رَبُّكَ وَمَا قَلٰى Ǽ۝ۭ "چاشت کے وقت کی قسم اور رات کے وقت کی قسم جب وہ پھیل جائے، آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) کو آپ کے پروردگار نے نہ چھوڑا اور نہ ناراض ہوا ہے”۔صحیح مسلم:جلد سوم:حدیث نمبر 159

    حضرت ابوکریب ابواسامہ ابن بشر ہشام محمد بن بشر سیدہ عائشہ رضی اللہ سے روایت ہے کہ حارث بن ہشام نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی کیسے آتی ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھ پر وحی کبھی تو گھنٹی کی جھنکار کی طرح آتی ہے اور وہ کیفیت مجھ پر بہت سخت ہوتی ہے پھر وہ کیفیت موقوف ہو جاتی ہے اور میں اس وحی کو محفوظ کر چکا ہوتا ہوں اور کبھی تو ایک فرشتہ انسانی شکل میں آتا ہے اور جو وہ کہتا ہے میں اسے یاد کر لیتا ہوں۔ صحیح مسلم:جلد سوم:حدیث نمبر 1558

    حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ حارث بن حشام نے حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے دریافت کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر وحی کس طریقہ سے نازل ہوتی ہے؟ حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کبھی تو وحی اس طریقہ سے نازل ہوتی ہے جس طریقہ سے کسی گھنٹی کی جھنکار ہوتی ہے جو کہ میرے اوپر سخت گزرتی ہے پھر وہ موقوف ہوجاتی ہے۔ جس وقت اس کو یاد کرتا ہوں اور کبھی فرشتہ ایک انسان کی صورت بن کر میرے پاس آتا ہے اور وہ فرشتہ مجھ سے گفتگو کرتا ہے میں اس حکم الہی کو یاد کر لیتا ہوں حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ میں نے دیکھا کہ جس وقت سخت ترین موسم سرما میں حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر وحی نازل ہوتی تھی پھر وہ وحی آنا بند ہوجاتی تھی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پیشانی سے پسینہ نکلنے لگتا وحی کی سختی کی وجہ سے اس کے زور سے۔ سنن نسائی:جلد اول:حدیث نمبر 939
    اللہ رب العالمین سے دعا ہے کہ ہمیں دین اسلام کی سمجھ عطا فرمائیں ، نبی مہربان ﷺ کے فرامین کو سمجھنے اور اس پر عمل کرنے والا بنائیں ، آمین

    @mmasief

  • تربیت_ امت بزبان پیارے نبی حضرت محمدمصطفیٰﷺ  تحریر : انجنیئیر مدثر حسین

    تربیت_ امت بزبان پیارے نبی حضرت محمدمصطفیٰﷺ تحریر : انجنیئیر مدثر حسین

    حضور صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس میں حیا نہیں اس میں ایمان نہیں۔
    حیا کیا ہے کوئی بھی گناہ یا نا پسندیدہ کام یا بات کرنے کے خیال سے قبل دل میں جو شرم اور بے چینی پیدا ہوتی ہے اسے حیا کہتے ہیں۔ اور حیا ہی گناہوں اور برائیوں کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ثابت ہوتی ہے۔ جس شخص میں جتنی زیادہ حیا ہوگی۔ اتنا ہی وہ اپنے رب سے تعلق میں مضبوط ہو گا اور گناہوں سے محفوظ رہے گا اور ہمارے پیارے نبی خاتم النبیںن حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں حیا کی صفت نمایاں تھی ہمیں آج سمجھنے کی ضرورت ہے۔

    حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بچپن ہی سے اتنے احساس پسند تھے کہ آپ ﷺ کی ایک ملازمہ فرماتی ہیں کہ آپ ﷺ کبھی گھر میں کھانا مانگ کر نہ کھاتے۔ جو بھی ملتا کھا لیتے اس پر اعتراض نہ کرتے نہ ہی کھانے میں نقص نکالتے تھے یہ درس ہمارے لیے مشعل راہ ہیں۔
    بے حیائی کا تعلق گناہ کا زکر کرنے سے بھی ہے ہمارے پیارے رسول پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے کوئی خطا کار اپنے گناہ بتا کر معافی بھی مانگتا تو آپ ﷺ شرم سے گردن جھکا لیتے تھے۔ آپﷺ نے گناہ میں گواہ بنانے سے سخت منع فرمایا.

    اچھے اخلاق کی بنیاد ادب پر ہوتی ہے اور ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اعلی ترین اخلاق میں بھرپور ادب نظر آتا ہے۔ حالانکہ آپ ﷺ نے اپنے والد محترم کو نہیں دیکھا تھا اور والدہ کے ساتھ بھی بچپن کا بہت کم حصہ گزار سکے مگر آپ ﷺ نے والدین کے آداب و احترام پر بڑا زور دیا ہے۔ اپنی رضاعی حضرت والدہ حلیمہ سعدیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا بہت احترام فرماتے۔ میری ماں میری ماں کہہ کر کھڑے ہو جاتے اور اپنی چادر ان کے لیے بچھا دیتے ۔بوڑھوں بزرگوں کا احترام فرماتے ہمیں بھی یہ سمجھنا چاہیے اور اپنے نبیﷺ کے نقش قدم پر چلنا چاہیے۔
    مشہور کہاوت ہے کہ بے ادب بے مراد با ادب با مراد۔
    ادب ایک ایسی خوبی ہے جو خدمت اور احساس جیسی اعلی عادات بھی سکھاتی ہے۔کیونکہ جو بے ادب ہو گا وہ بھلا کسی کی کیا احساس کرے گا؟
    خدمت خلق اللہ تعالٰی کا یہ پسندیدہ عمل ہے۔ جس ستمے تکبر کا عنصر ختم ہوتا اور احساس کو فروغ ملتا ہے اور ہمارے پیارے نبی خاتم النبیںن صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں یہ صفت نمایاں تھی۔ آپ ﷺ اپنے پرائے مسلم اور کافر غرض ہر کسی کا چھوٹے سے چھوٹا کام بھی رب العالمین کی رضا کے لیے کر دیا کرتے تھے۔ آپ ﷺ محتاجوں بیواوں یتیموں اور مسکینوں کی خدمت کے لیے ہمیشہ تیار رہتے اور ترغیب دیتے تھے۔ آج اس عمل کی اشد ضرورت ہے.

    ہمارے پیارے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صفائی کو نصف ایمان قرار دیا ہے. پاکیزگی کے عمل پر زور دیا اور فرمایا اللہ خوبصورت ہے اور خوبصورتی کو پسند فرماتا ہے۔ اس سے مراد من کی خوبصورتی ہے اعمال کی پاکیزگی کی ناکہ رنگت کی. کیونکہ اللہ کریم پسندیدہ بندوں میں حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی شامل ہیں جس سے رنگ کے امتیاز کی نفی کی گئی ہے. آپﷺ نے خاص طور پر جگہ جگہ تھوکنے کو سخت نا پسند فرمایا ہے۔
    ایک بار دیوار پر تھوک کے دھبوں کو کھرج کھرج کر خود صاف فرمایا۔ ایک مرتبہ ایک صحابی نماز کی امامت کر رہے تھے ۔انہوں نے حالت نماز میں تھوک دیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ یہ منع فرما دیا اور کہا شخص نماز نہ پڑھائے۔ پوچھنے پر حضور صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ تم نے اللہ اور اس کے رسول کو اذیت دی ہے۔ دوسری جگہ فرمایا کہ پیشاب کے چھینٹوں سے بچو کہ قبر میں عام طور پر اسی گناہ کے باعث عذاب الہی ہوتا ہے۔ کتنی خوبصورتی سے امت کو پاکیزگی کا درس دیا گیا ہے آپ ﷺ کے بے شماد مزید فرامین موجود ہیں. جن سے مقصد زندگی اور اصول زندگی کو بخوبی سمجھا جا سکتا ہے

    اللہ کریم ہمیں صحیح معنوں میں اصول زندگی سمجھنے اور ان پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔آمین

    @EngrMuddsairH