Baaghi TV

Category: مذہب

  • دعا ایک عظیم نعمت   تحریر: اسد ملک 

    دعا ایک عظیم نعمت  تحریر: اسد ملک 

    انسان کو اللہ تعالی نے اشرف المخلوقات بنایا ہے اور اسے یہ شرف حاصل ہے کہ وہ دعا کے ذریعے اللہ سے دنیا کی کوئی بھی چیز حاصل مانگ سکتا۔ اللہ تعالی کی بے شمار نعمتوں میں سے ایک عظیم نعمت دعا ہے اور خاص عبادت بھی گردانی جاتی ہے۔ انسان کو چاہیے کہ پورے دل اور اخلاص کے ساتھ اللہ سے دعا مانگے۔انسان کا مانگنا اللہ کو ویسے بھی بہت پسند ہے وہ خود چاہتا ہے کہ انسان صرف اسی سے مانگے کیوں کہ دینے والی ذات بھی صرف اللہ ہی کی ہے۔ اللہ سے مانگ کر کبھی بھی شرمندگی یا ندامت نہیں ہوتی ، جو بھی مانگا جاتا ہے وہ بندے اور اس کے رب کے درمیان ہی رہتا ہے ۔

    اللہ تعالی سے جب بھی مانگا جائے تو اس پہ پورے یقین اور توکل سے مانگنا چاہیے۔ مومن صرف اللہ ہی پر توکل کرتا ہے کیوں کہ قرآن میں بھی اللہ فرماتا ہے ، "وعلی ربّھم یتوکلون” (اور وہ اپنے رب پر بھروسہ کرتے ہیں)۔ بحثیت مومن اس بات پہ یقین ہونا کہ کائنات میں ایک پتہ بھی اللہ کی مرضی کے بنا نہیں ہل سکتا اور کوئی بھی اپنی مرضی سے کوئی کام نہیں کر سکتا ، سب اللہ ہی کی رضا سے ہوتا ہے لہذا وہ صرف اسی پہ یقین اور بھروسہ کرتا ہے۔ اور اس کامل بھروسے کی وجہ سے اس کے اندر کی امید کبھی مدھم نہیں پڑتی اور نہ ہی انسان کبھی کسی خوف کا شکار ہوتا۔ بے شک اللہ پہ توکل اور یقین رکھنے والوں کو آزمایا جاتا ہے مگر امید کا جو دامن اس وقت مومن کے ہاتھ میں ہوتا ہے وہ ہزار مشکلات کے باوجود بھی اس کے قدم ڈگمگانے نہیں دیتا ، نہ اس میں کسی قسم کی کوئی اکڑ ہوتی ہے نہ اسے کوئی چیز اللہ کے علاوہ کسی کے آگے جھکنے پہ مجبور کر سکتی ہے کیوں کہ وہ جانتا ہے جو بھی ہوتا ہے وہ اللہ کی مرضی اور رضا سے ہوتا ہے اور ایسا ہو ہی نہیں سکتا کہ ستر ماوں سے زیادہ محبت کرنے والا اس کے لیے کچھ برا کرے گا اسی لئے وہ ہر حال میں بہت مطمئن ہو کر وہ زندگی بسر کرتا ۔

    اللہ سے یقین کے ساتھ مانگنا چاہیے۔ دعا کرتے ہوئے انسان کو اس کی قبولیت کا یقین ہونا چاہیے کیوں کہ مایوس دل سے نکلی دعا اللہ کو پسند نہیں لہذا دعا اس یقین سے مانگنی چاہیے کہ دینے والی ذات صرف اللہ ہی کی ہے، وہ ہر شہ پہ قادر ہے اور وہ "کن فیکون” کا مالک ہے اسی لیے اس سے نا ممکن کو بھی مانگتے ہوئے ہچکچانا نہیں چاہیے اللہ عزوجل کے لیے کچھ بھی نا ممکن نہیں۔اور جب یقینِ کامل کے ساتھ اللہ تعالیٰ سے دعا کی جاتی ہے تو وہ کریم اس بات کو پسند نہیں فرماتا کہ کوئی بندہ اس کے سامنے ہاتھ پھیلا دے تو وہ اس کے دونوں ہاتھوں کو خالی اور ناکام و نامراد واپس کر دے۔

    انسان زندگی میں ہر چیز حتی کہ اپنے مسائل اور خواہشات میں بھی اللہ تعالی کے حکم کا محتاج ہے ۔ دراصل انسا ن بہت بے بس اور لاچار ہے اور جب انسان کو یہ چیز محسوس ہوتی ہے تو وہ دعاوں کا سہارا لے کے اللہ کے آگے گرگراتا ہے اور اللہ کی قدرت پہ کامل یقین کے ساتھ اپنے تمام معملات اس کے سپرد کر دیتا ہے ، اس مقام پر انسان اپنی محرومی اللہ کے ہاں پیش کر دیتا ہے اور اس کی مدد کا طالب ہو جاتا ہے۔ مگر دعا قبول نہ ہونے کی صورت میں ناشکری اور نا امیدی اللہ کی ناراضی مول لینے کی مترادف ہے ۔ اللہ سے مانگنا ضرور چاہیے اور مکمل یقین کے سا تھ مانگنا چاہیے مگر ضد نہیں کرنی چاہیے کیوں کہ یہ اللہ جانتا ہے کہ انسان کے حق میں کیا بہتر ہے اور کچھ دعائیں انسان کے لیے نقصان کا باعث بھی بن جاتی ہیں۔ ایمان اور کامل یقین کا تقاضا دعا کی قبولیت سے ہر گز مشروط نہیں ہونا چاہیے بلکہ اس پہ ہونا چاہیے کہ جو بھی ہوگا وہ میرے لیے بہتر ہی ہوگا کیوں کہ میں نے اپنا معاملہ اس ذات کے سپرد کیا ہے جو تمام کائنات کا مالک ہے اور اپنی مخلوق سے بے انتہا محبت کرتا ہے اسی لیے دعا جیسی عظیم نعمت سے اپنے بندوں کو نوازا ہے۔

    @asad_malik333

    https://twitter.com/asad_malik333?s=09

  • میرے آقاﷺ کی عبادت  تحریر:تعریف اللہ عفی عنه

    میرے آقاﷺ کی عبادت تحریر:تعریف اللہ عفی عنه

    ‏(

    میرے اور آپ کے آقاﷺ مغفور تھے،مرحوم تھے،مقدس تھے مطہر تھے،مقرب ومحبوب تھے،محفوظ تھے،معصوم تھےآپ جنتی تھے بلکہ آپﷺ کو دنیا ہی میں بتادیا گیا تھا کہ بے شمار گہنگاروں کو آپ کیوجہ سے جنت میں ٹھکانہ ملے گا،آپ کو مقام محمود عطا کیا جائے گا،آپ حطاکاروں کی سفارش کریں گے،قیامت کے دن لوگ پیاسے ہونگے اور اپ اپنی امت کو حوض کوثر سے جام بھر بھر کر پلائیں گے۰

    لیکن ان تمام بشارتوں کے باوجود آپ بے انتہاعبادت فرماتے تھے۰

    آپﷺ کا قلب مبارک اور آپ کی زبان مبارک ہر لمحہ اللہ کی یاد میں مصروف رہے تھے مگر اپ صرف قلبی اور لسانی عبادت پر اکتفا نہیں فرماتے تھے بلکہ جسمانی عبادات بھی کرتے تھے۰

    ہمارے دور کے جعلی درویش اور بناسپتی پیر تو کہتے ہیں کہ جناب ہم دل ہی دل میں عبادت کرلیتے ہیں۰

    گویا یہ بدبخت روٹیاں منہ سے کھاتے ہیں ،قورمہ منہ سے کھاتے ہیں،بریانی کا ستیاناس منہ سے کرتے ہیں،تکے اور کباب کی ایسی تیسی منہ سے کرتے ہیں،حلیم اورکچھڑے کو منہ ہی سے واصل شکم کرتے ہیں،دودھ منہ سے پیتے ہیں،شربت منہ سے پیتے ہیں۰

    لیکن عبادت دل ہی سے کرتے ہیں۰ارے لنڈے کی مخلوق!اگر عبادت دل سے ہوسکتی ہے تو کیا کھانا پینا دل سے نہیں ہوسکتا؟

    ذرا کھانا پینا دل سے تو کرو سہی،دیکھنا چند ہی دنوں میں پیٹ کاسائز کتنا کم ہوجاتا ہے اور یہ پھیلی ہوئی توند کیسے نیچے أتی ہے۰

    اچھا ہے حضرت سمارٹ ہوجائیں گی۰

    یہ تو لنڈے کے مال کا حال ہے مگر وہ جو پیروں کا پیر تھا وہ جو مرشد حق تھا وہ جو نبیوں کا امام تھا وہ جو خاتم النبیین تھا اس کی عبادت کا یہ حال تھا کہ اتنی عبادت فرماتے کہ دیکھنے والوں کو ترس آنے لگتا ۰

    تہجد کی نماز کی فرضیت عام مسلمانوں سے فوت ہوگئ تھی مگر اپﷺ عمر بھر تہجد ادا فرماتے رہے اور اس طرح ادا فرماتے کہ حضرت عائشہ رض عرض کرتیں اللہ تعالی نے تو اپ کو معاف فرمادیا ہے پھرأپ اتنی تکلیف کیوں اٹھاتے ہیں آپ فرماتے”افلا اکون عبدا شکورا”کیا میں اللہ کا شکر گذار بندہ نہ بنوں؟

    نبوت کے آغاز ہی سے آپ نماز پڑھتے تھے ،کفار کی موجودگی میں عین حرم میں جاکر سب کے سامنے نماز پڑھتے تھے،کئ دفعہ نمازکی حالت میں دشمنوں نے آپ پر حملہ کیا مگر پھر بھی أپ نماز سے باز نہ آئے۰

    حدیہ کہ جنگ کی حالت میں بھی نمازنہ چھوڑتے سامنے خونخوار دشمن ہوتا،تیر اور خنجر چل رہے ہوتے،لوگوں کو جان کے لالے پڑھے ہوتے ادھر آپﷺ اللہ کے حضور سجدے میں جھکے ہوتے تھے۰

    تمام عمر میں اپ کی کوئی نماز اپنے وقت سے نہیں ہٹی اور نہ دو وقتوں کے علاوہ کھبی اپ کی کوئی نماز قضا ہوئی ،ایک تو غزوہ خندق میں کافروں نے اپ کو عصر کی نماز کا موقع نہیں دیا اور دوسری دفعہ یہ ہوا کہ ایک ۔ غزوہ کی سفر میں رات بھر چل کر صبح تمام لوگ سوگئے اورکسی کی انکھ نہ کھلی تو اپ نماز قضہ ادا کی۰

     اس بھی بڑھ دیکھئے کہ مرض الموت میں شدت کا بخار تھا۰تکلیف بہت زیادہ تھی لیکن اس حالت میں بھی نماز تو نماز آپ نے جماعت کو ترک کرنا بھی گوارا نہیں کیا او دو صحابیوں کے سہارے اس حالت میں مسجد تشریف لائے کہ قدم مبارک زمیں پر گھسٹ رہے تھے۰

    یہ تو اپ کی نماز کا حالت تھا۰روزوں کا حال بھی نماز سے مختلف نہ تھا اپ بکثڑت سے روزے رکھے تھے،کوئی ہفتہ اور کوئی مہینہ روزوں سے خالی نہیں جاتا تھا ۰حضرت عائشہ رض کہتی ہے”جب اپ روزے رکھنے پر اتے تو معلوم ہوتا تھا کہ اب کھبی افطار نہیں کریں گے”۰

    اپ مسلمانوں کو دن بھر سے زیادہ روزہ رکھنے سے منع فرماتے تھے مگر خود اپ کا یہ حال تھا کہ کبھی کبھی بغیر کچھ کھائے پئے مسلسل دودو دن اور تین تین دن روزے رکھتے تھے۰

    بعض صحابہ نے بھی دودو دن رکھنا چاہا تو اپ نے فرمایا :(تم میں سے کون میرے مانند ہے،مجھ کو تو میرا اقا کھلاتا پلاتا ہے)۰

    رمضان کے علاوہ اپ کا شعبان بھی پورے کا پورے روزوں میں گزرتا تھا،ہر مہینے ایام بیض کے روزے رکھتے تھے۰

    ہر ہفتے پیر اور جمعرات کا روزہ رکھتے،

    عاشورا محرم اور شوال کے چھ روزے رکھتے تھے۰

    روزوں کے علاوہ زکوۃ اورخیرات میں بھی پیش پیش تھے۰

    حضرت ابن عباس رض کہتے ہیں کہ اپ تمام لوگوں سے زیادہ سخی تھے ۰حضرت جابر رض فرماتے ہیں کبھی ایسا نہیں ہوا کہ نبی کریمﷺ سے کسی چیز کا سوال کیا گیا ہو اور اپ نے لا(نہیں)فرمایا ہو۰

    حضرت ابوھریرہ رض کہتے ہیں کہ نبی اکرمﷺ نے عام اعلان فرما رکھا تھا۰جو مسلمان قرضہ چھوڑ کر مرے گا میں اسے ادا کروں گا اور جو مسلمان وراثت چھوڑ کر مرےگا اسے اس کے وارث سنبھالیں گے۰

    اپ جانتے ہیں کہ عبادت تین قسم کی ہے۰

    لسانی عبادت،مالی عبادت اور بدنی عبادت ۰یہ تینوں قسم کی عبادت حضور اکرمﷺ کی سیرت میں ہمیں اپنے کمال پر دکھائی دیتی ہے۰اللہ تعالی ہمیں اپنے آقاﷺ کی اتباع نصیب فرمائے۰

    وما علینا الا البلاغ

    ‎@Tareef1234

  • دعا کی فضیلت تحریر: فرح بیگم

    دعا کی فضیلت تحریر: فرح بیگم


    دعا عربی زبان سے نکلا ہے ۔جس کے مغی "تو التجا یا تو پکار ” کے ہیں ۔ لیکن مزہبی lعتبار سی اس سے مراد اللّه سی التجا کرنا ہے ،یا مانگنا ہے ۔
    اللّه تعالیٰ قرآن پاک میں فرماتے ہیں کہ :
    "میں اپنے بندوں سے بے حد قریب ہوں اور انکی ہر پکار سننے کو تیار ہوں ۔”
    اللّه تعالیٰ سے اس کے فضل کی دعا مانگتے رہو وہ ہار بات کا علم رکھتے ہیں ۔اللّه تعالیٰ کو اخلاص کے ساتھ پکارو ۔ وہ تمہاری پکار کا جواب بھی اخلاص سے دیں گے ۔آپنے رب سے گڑگڑاتے رہو اور ان سے چیکے چپکے دعا مانگواللہ تعالیٰ سے رحمت کی امید رکھتے رہو یقیناً اللّه تعالیٰ اپنی رحمت سے ہر ایک کو نوازتا ہے ۔جب دعا مانگو تو اللہ تعالیٰ کو ان کے نام سی پکارو ۔ اللہ تعالیٰ کو یا تو اللّه کہ کر یا رحمن کہ کر پکارو ۔ اللہ تعالیٰ سے اپنے روزگار کی دعا مانگتے رہو اسکی عبادت کرتے رہو اللہ تعالیٰ تمہارے رزق کو بڑھا دے گا ۔اللہ تعالیٰ سے فریاد کرتے رہو مسلم ہو یا غیر مسلم ان کے سامنے مانگنے سے مت شرماؤ اپنے رب کی تعریف کرتے رہو اسکی عبادت کرتے رہو بیشک کافر برا مانیں تم دعا مانگنا نہ روکو ۔ اللہ تعالیٰ زندہ ہیں اور وہی لا شریک ہے ، تواللہ تعالیٰ سے مناگتے رہو ۔دعا عین عبادت ہے ۔حضرت محمّد نے فرمایا :
    "جو اللہ تعالیٰ سے مانگنا چھوڑ دیتا ہے ،اللہ تعالیٰ اس سے ناراض ہو جاتا ہے ”
    اللہ تعالیٰ کو دعا سے زیادہ کوئی عزیز نہیں ۔اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں "اے آدم کے بیٹے ، جب تک تو مجھ سے دعا کرتا رہے گا ،مجھ سے امید رکھے گا میں تجھے معاف کر دوں گا بیشک تم سی کچھ بھی سر زد ہو ۔ اگر تمھارے گناہ آسمان تک بھی ہو اور زمین جتنے گہرے ہوں میں تمھارے سارے گناہ مٹا دوں گا ۔اگر تم مجھ سی بخشش مانگو گے تو میں تمھے بخش دونگا ۔اللہ تعالیٰ کہتے ہیں اگر تمہارے گناہوں سے پوری زمین بھر جائے لیکن تمھارے دامن میں میرے ساتھ شرک کا داغ نہ ہو تو میں تمھارے سب گناہ اتنی تیزی سے ختم کرونگا جیسے تم لے کر اوگے ۔
    حضرت محمّد ص فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے ، "اے میرے بندوں تم سب بھوکے ہو سوۓ اس کے جسے میں نے کھانا كهاليا ، تم بس مجھ سے ہی کھانا مانگو میں تمھیں کھیلونگا ،اے میرے بندوں میں تم سب ننگے ہو سوۓ اس کے جسے میں پہہنوں، تو تم مجھ سے ہی لباس طلب کرو میں تمھیں لباس دوں گا ۔ اے میرے بندوں تم مجھ سی سوال کرو میں تمہارے تمام سوالوں کا جواب دونگا ۔” میں تمھارے خزانے بھر دونگا تم مجھ سی مانگو ۔ میں تمھارے سارے راستے کھول دونگا تم میری طرف آ کر تو دیکھو ۔ میں اپنے بندے کے مطابق ہی اس سی معاملہ کرتا ہوں ۔اللہ کھتا ہے جب میرا بندا مجھے پکارتا ہے تو میں اسکے ساتھ ہوتا ہوں ۔اگر میرا بندا مجھے اپنی نفس میں یاد کرے میں اسکو اپنی نفس میں یاد کرتا ہوں۔ اگر میرا بندا مجھے کسی مجلس میں یاد کرے میں بھی اسکو اچھی مجلس میں یاد کرتا ہوں۔ اگر میرا بندا میری طرف ایک ہاتھ بڑھاتا ہے تو میں اسکی طرف دو ہاتھ بڑھاتا ہوں ۔اگر وہ میری طرف چل کر آتا ہے تو میں اسکی طرف دوڑ کر آتا ہوں ۔
    دعا سے انسان کی تقدیر بدل جاتی ہے ۔حضرت محمّد ص نے فرمایا "تقدیر الہی کو دعا کے سوا کوئی چیز بدل نہیں سکتی ۔ اور نیکی کے سوا کوئی چیز عمر نہیں بڑھا سکتی ۔اس لیے دعا کرتے رہا کرو کیوں کہ دعا ہر انسان مرد اور عورت پر فرض ہے ۔ اور ہر نماز کے بعد دعا مانگنا لازم اور ضروری ہے ۔

    Twitter ID: ‎@iam_farha

  • طب نبویﷺدعاؤں اور دواؤں سے علاج تحریر:تعریف اللہ عفی عنه

    طب نبویﷺدعاؤں اور دواؤں سے علاج تحریر:تعریف اللہ عفی عنه

    نبی کریمﷺ کاجسموں کا علاج تین طرح کا تھا۰ایک طبعی دواؤں سے جنہیں اجزائے جماداتی وحیوانی سے تعبیر کیا جاتا ہے،دوسرا روحانی اورالہی دعاؤں سے جو کچھ ادعیہ،اذکار اور آیات قرآنیہ میں ہے،اور تیسرا ادویہ کامرکب ہے جو ان دونوں قسموں سے مرکب ہے یعنی داوؤں سے بھی اور دعاؤں سے بھی۰

    دعاؤں سے علاج: قرآن شریف سے بڑھ کر کوئی شے اعم وانفع اور اعظم ثناء نازل نہیں ہوئی جیسا کہ ارشاد باری تعالی ہے:

    ترجمہ:”اور ہم نے قرآن سے وہ نازل فرمایا جو مسلمانوں کیلئے شفاء ورحمت ہے۰”(سورۃ بنی اسرائیل:آیت۸۱)۰

    اب رہا امراض جسمانیہ کیلئے قرآن کریم کا شفا ہونا تو اس وجہ سے ہے کہ اس کی تلاوت کیذریعے برکتیں حاصل کرنا بہت سے امراض وعلاج میں نافع ہے نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا کہ کسی شحص کو شفاء قرآن پڑھ کر بھی نہ ہو تو اسے حق تعالی کبھی شفاء نہ دے گا۰

    حدیث میں ہے کہ فاتحۃ الکتاب ہر مرض کی دوا ہے۰

    حضرت علی المرتضی رض کی حدیث میں ہے جو ابن ماجہ میں مرفوعا مروی ہے”خیرالدواءالقرآن”(بہترین علاج قرآن ہے)۰

    بدنظری کا علاج:نبی کریمﷺ اس کا علاج معوذتین سے فرماتے۰یعنی ان آیات سے جن میں شرور سے استعاذہ ہے جیسے معوذتین سورۃفاتحہ آیۃ الکرسی وغیرہ علماء کہتے ہیں کہ سب سے اہم واعظم دعا وشفاء سورۃ الفاتحہ ایۃ الکرسی اور معوذتین کا پڑھنا ہے۰

    لا حولا ولا قوۃ کاعمل:حضرت ابن عباس رض سے مروی ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا جسے غم وافکار گھیرلیں اسے چاہئے کہ لاحولاولاقوۃالاباللہ بکثرت سے پڑھا کرے علماء فرماتے ہیں کہ اس کلمہ کے عمل سے بڑھ کر کوئی چیز مددگار نہیں ہے۰

    درد سر کی دعا:حمیدی بروایت یونس بن یعقوب عبداللہ سے درد سر کی دعا نقل کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ درد سر میں اپنے اس ارشاد سے تعوذ فرماتے تھے:”بسم اللہ الکبیر واعوذباللہ العظیم من کل عرق نعار ومن شر حدالنار”

    ترجمہ:”حدا کے نام کیساتھ جو بڑا ہے اور میں پناہ چاہتا ہوں اللہ بزرگ کی ہررگ اچھلنے والے کی اور اگ کی گرمی کے نقصان سے۰” 

    ہر درد وبلاء کی دعا: حضرت ابان ابن عثمان اپنے والد عثمان رض سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے نبی کریمﷺ سے سنا ہے کہ جو کوئی تین مرتبہ شام کے وقت:بسم اللہ الذی لا یضر مع اسمه شیء فی الارض ولا فی السماء وھو السمیع العلیم”تو شام تک اس کو کوئی شے ناگہانی بلا مصیبت نہ پہنچے گی۰(مدارج النبوۃ)۰

    دنت کے درد کی دعا:بیہقی عبداللہ بن رواحہ سے نقل کرتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہﷺ سے درد دنت کی شکایت کی۰تو حضورﷺ نے اپنا دست مبارک ان کے رخسار پر جس میں درد تھا رکھ کر سات مرتبہ پڑھا:اللھم اذھب عنه ما یجد وفحشه بدعوۃ نبیک المسکین المبارک عندک”دست اٹھانے سے پہلے اللہ نے ان کے درد کو رفع فرمالیا۰(مدراج النبوۃ)۰

    حرام چیز میں شفاء نہیں:سنن میں مروی ہے کہ نبی کریمﷺ سے شراب کو دوا میں ڈالنے کے متعلق دریافت کیا گیا تو اپنے فرمایا مرض ہے علاج نہیں۰(زادالمعاد)

    نیز نبی کریمﷺ سے منقول ہے کہ جس نے شراب سے علاج کیا اسے اللہ شفاء نہ دے۰(زادالمعاد)۰

    شہد ک تاثیر:حضرت ابو ھریرہ رض فرماتے ہیں کہ نبی کریمﷺ نے فرمایا جو شحص ہر مہینہ تین دفعہ صبح کے وقت چاٹ لے وہ کسی بڑی مصیبت وبلا میں مبتلا نہیں ہوتا۰(ابن ماجہ،مشکوۃ)۰

    قرآن وشہد میں شفا:حضرت عبداللہ بن مسعود رض فرماتےہیں کہ نبی کریمﷺ نے فرمایا:کہ دو شھاء دینے والی چیزوں کو اپنے اوپر لازم کرلو (یعنی اس کا استعمال ضرور کیاکرو)ایک شہد دوسرا قرآنشریف(یعنی أیات قرآن)۰(ابن ماجہ ،بیہقی،مشکوۃ)۰

    کلونجی کی تاثیر:حضرت ابوھریرہ رض فرماتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا کہ کلونجی سے ہر بیماری کی شفاء ہے مگر موت کی نہیں۰(بخاری،مسلم،مشکوۃ)۰

    روغن زیتون:حضرت زید بن ارقم رض فرماتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے ذات الجنب کی بیماری میں روغن زیتون اور ورس (ایک بونی)کی تعریف کی۰(ترمذ,مشکوۃ)۰

    دوا میں حرام چیز کی ممانعت:حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے کہ تم دوا سے بیماری کا علاج کرو لیکن حرام چیز سے اس بیماری کا علاج نہیں کرو۰(ابوداؤد، مشکوۃشریف)۰

    مرگی:نبی کریمﷺ اکثر اوقات آفت زدہ کے کان میں یہ آیت پڑھا کرتے تھے: (افحسبتم انما خلقنکم عبثا وانکم الینا لا ترجعون)اور آیت الکرسی سے بھی اسکا علاج کیا کرتے تھے اور آفت زدہ کو بھی اسکا ورد رکھنے کا حکم دیا کرتے تھے اور معوذتین پڑھنے کو بھی فرمایا کرتی تھے۰(زادالمعاد)۰

    ‎@Tareef1234

  • اسلام اور انسان .تحریر:صائمہ رحمان

    اسلام اور انسان .تحریر:صائمہ رحمان

    اسلام انسان دوستی اور عظمت ِ انسانیت کا درس دیتا ہے اسلام ہمیں نفرت اور قتل و غارت نہیں بلکے امن، سلامتی اور محبت کا درس دیتا ہے۔ اسلام انسانیت کی کامیابی کا ضامن ہے اللہ تعالیٰ نے انسان کو اشرف المخلوقات بنایا، اسے غیرمعمولی ظاہری اور معنوی خوبیوں سے آراستہ کیا اسلام ایک دینِ کامل اور مکمل دستورِحیات ہے، اسلام میں انسانی زندگی سے متعلق تعلیمات وہدایات موجود ہیں اسلام نے انسانی تاریخ میں غیرمعمولی انقلاب برپا کیا، اسلامی تاریخ اس کی گواہ ہے۔ تمام انسان ،خواہ وہ دنیا کے کسی بھی گوشے میں رہتے ہوں، کسی بھی مذہب کو ماننے والے ہوں مگر سب اللہ کے بندے ہیں
    اللہ کے رسول نے تمام انسانیت کو مخاطب کرتے ہوئے ارشادفرمایا:
    ’’اے لوگو!بلاشبہ تمہارارب ایک ہے اورتم سب کا باپ بھی ایک ہے،جان لوکہ کسی عربی کوکسی عجمی پراورنہ ہی کسی عجمی کوکسی عربی پر،نہ کسی گورے کوکسی کالے پر اورنہ کسی کالے کو کسی گورے پرکوئی فضیلت اوربرتری حاصل ہے ،سوائے تقویٰ کے۔ ‘‘
    سب انسان ایک مٹی سے بنے ہیں ہم انسانوں میں فرق ہم دنیا والوں نے بیدا کررکھا ہے حضرت آدم علیہ السلام کی اولاد ہیں ،کسی بھی گورے کو کالے پر کالے کو گورے پر کوئی فوقیت حاصل نہیں ،غریب کو امیر یا امیر کو غریب پر ،کسی رنگ ،نسل ،قوم،علاقے کی وجہ سے کوئی فوقیت نہیں ۔سب انسان برابر ہیں اللہ کی نظر میں برابر ہیں ۔ذات قبیلے رنگ روپ نسل سب کوایک دوسرے کی پہچان کو بنائے گیا ہے ابتر بتر کے لئے نہیں بنایا گیا ۔

    اسلام انسان کو کچھ حقوق بھی دیے ہیں اسلام ہر انسان کو زندہ رہنے کا حق دیتا ہے اسلام بلاتفریق ِ رنگ و نسل و مسلک و مذہب، ہر شخص کو زندہ رہنے کا حق دیتا ہے۔ انسانی جان کے احترام کو اسلام نے فرض قرار دیا ہے ہر انسان کو جینے کا حق ہے اسلام یہ تعلیم دیتا ہے کہ معاشرے میں ہر شخص کی جان، مال اور آبرو کا تحفظ ہر انسان کا حق ہے بلاتفریق بنیادی حق ہے۔ اسلام نے عزتِ نفس کو بھی اہمیت دی ہے اور ایسی گفتگو کو بھی منا کیا گیا ہے جس سے کسی کی بے عزتی کا پہلو نکلتا ہو۔ اسلامیہ تعلیم بھی دیتا ہے کہ عورت بہرحال محترم ہے، خواہ وہ اپنی قوم کی ہو، یا دشمن قوم کی ہماری ہم مذہب ہو یا کسی غیرمذہب سے تعلق رکھتی ہو، یا لامذہب ہو۔عورت کی عصمت کے احترام کا یہ تصور اسلام کے سوا کہیں نہیں پایا جاتا۔ بدقسمتی سے معاشرے نے عزت کا پیمانہ معاشی حیثیت کو بنا رکھا ہے اسلام ہمیں شخصی ومذہبی آزادی کا حق بھی دیتا ہے دین اسلام میں زبردستی کا پہلو موجود نہیں ہے

    اسلام احترامِ انسانیت اور امن و سلامتی کا علم بردار ہے۔انسان دوستی اور احترام انسانیت دین اسلام کا امتیاز اور بنیادی شعار ہے ،جس کے بغیر احترام انسانیت اور امن و سلامتی کا تصور بھی محال ہے۔ فتنا فساد تب ہوتا ہے جب انسان جب اپنی اس حیثیت کو بھول جاتا ہے یااحساس برتری میں مبتلا ہوجاتا ہے تو فتنہ وفسادپر آمادہ ہوجاتا ہے۔ پھرحسد، تکبر، غیبت ، چوری ،چغلی، قتل و غارتگری، بدکاری و بداخلاقی جیسی بیماریوں کا شکار ہونے لگتا ہے۔اس صورت میں ایسے لوگوں کی اصلاح و تربیت کی ضرورت ہوتی ہے آج انسان اپنی عظمت کھو چکا ہے ، غلط جگہ پر اپنی عزت کو تلاش کر رہا ہے، دنیا کے عارضی عیش وآرام کو اپنی زندگی کا مقصد بنا لیا ہے جسیے ساری عمر اس دنیا میں رہنا ہے آج کا انسان یہ بھول چکا ہے ایک دن اللہ کے سامنے پیش بھی ہونا ہے اور ہر چیز کا جواب دینا ہے اس کو بس دنیا کے کاموں سے مطلب رہے گیا ہے ۔ پوری طرح اپنی ذاتی خواہشِ نفس کا غلام بن چکا ہے انسانی جان کا کوئی احترام باقی نہیں رہ گیا اپنے مطلب کے لئے کچھ مقصد کے خاطر یک دوسرے کی جانوں کے در پر ہے۔انسان کے وہ سارے اخلاقی اقدار کھو چکا ہے۔ فضیلت انسان کی تخلیق اس کائنا ت میں جتنی بھی اشیاء اللہ رب العزت نے پیدا کیں ’کُنْ‘’فَیَکُوْنُ‘ کے پس منظر میں نظر آتیں ہیں جبکہ حضرت انسان کو اللہ رب العزت نے اپنے ہاتھ سے تخلیق کیا جیسا کہ قرآن مجید اور احادیث اس بات پر دلالت کرتیں ہیں ، اللہ رب العزت کا اپنے ہاتھوں کسی کا تخلیق کرنا اس کی اہمیت اور انفرادیت کو واضح کرتاہے کائنات کو تخلیق کرنے کے مفہوم پر نظر ڈالی جائے تو تسخیرِ کائنات کا مقصد ایک یہ کہ کائنات کی ہر چیز انسان کی خادم ہے اور انسان مخدوم ہے، زمین، سمندر،پانی، ہوائیں،پہاڑ، چاند،سورج، ستارے یہی موٹی موٹی اشیاء کائنات گنی جاسکتی ہیں۔ ان کے انسان کا خادم ہونے کا ثبوت یہ ہے کہ اگر ان میں سے ایک چیز بھی نہ ہو تو انسان زندہ نہیں رہ سکتا مگر انسان کے بغیر ان چیزوں کا کچھ نہیں بگڑتا۔

    اس کا دوسرا مفہوم یہ ہے کہ زمین میں جتنی بھی اشیاء موجود ہیں۔ خواہ وہ جمادات ہوں، نباتات ہوں یا حیوانات ہو ں، اللہ نے انسان کو اتنی عقل عطا فرمادی ہے کہ وہ ان میں سے جس کو چاہے استعمال کر چکا ہےاور اس سے حسب ضرورت فائدہ اٹھا سکتاہے۔ رہیں وہ چیزیں جن کا تعلق زمین سے نہیں مثلاً : سورج، چاند ،ستارے وغیرہ تو ان کے لیے اللہ تعالیٰ نے ایسے قوانین بنادیئے ہیں اور انسان کو ایسے نظم وضبط سے جکڑ رکھا ہے کہ انسان ان سے فائدے اٹھا سکتاہے اور اپنے معمولات زندگی اور کاروبار وغیرہ ٹھیک طرح سے سرانجام دے سکتاہے۔

    email saima.arynews@gmail.com
    Twitter Account: https://twitter.com/saimarahman6

  • تذکیہ نفس اور حقیقی کامیابی   تحریر: احسان الحق

    تذکیہ نفس اور حقیقی کامیابی تحریر: احسان الحق

    سورہ الشمس میں اللہ رب العالمین نے گیارہ قسمیں کھانے کے بعد فرمایا کہ وہ شخص کامیاب ہو گیا جس نے اپنے نفس کا تذکیہ کر لیا. اللہ تعالیٰ کے نزدیک حقیقی کامیابی کی تعریف ہماری تعریف سے مختلف ہے. اللہ تعالیٰ نے کامیابی کی تعریف بھی بتا دی اور کامیابی حاصل کرنے کے 3 اصول بھی واضح طور پر سمجھا دیئے ہیں. ہمارے خیال میں دنیا کی ترقی ہی کامیابی ہے. دنیا میں کامیابی دنیاوی لحاظ سے تو ٹھیک ہے کیونکہ دنیا میں سہولیات سے فائدہ اٹھانا درست ہے مگر حقیقی کامیابی اللہ تعالیٰ کے نزدیک یہ ہے کہ جو شخص دنیا میں رہتے ہوئے اعمال صالحہ کرتے کرتے فوت ہوا، اللہ تعالیٰ نے اس کو جہنم سے نجات دی اور اسکو جنت میں داخل کر دیا، ایسا شخص حقیقی کامیاب ہے.

    اللہ تعالیٰ نے حقیقی کامیابی حاصل کرنے کے قرآن مجید میں تین اصول ارشاد فرمائے ہیں. پہلا اصول "تذکیہ نفس” مطلب نفس کو پاک کرنا. حقیقی کامیابی کا پہلا ضابطہ اور اصول یہ کہ جس انسان نے اپنے نفس کا تذکیہ اور محاسبہ کرتے ہوئے اپنے نفس کو پاک اور طاہر بنا لیا اور خود کو گناہوں سے بچا لیا، وہ شخص کامیاب ہے.

    "تذکیہ” کا لغوی معنی ہے کہ پاکیزگی اور طہارت حاصل کرنا اور دوسرا مطلب زکوٰة سے ملتا ہے جس کا مطلب پاک کرنا اور "بڑھانا” ہے. جیسے زکوٰة دینے سے آپ کا مال پاک ہوتا ہے اور دوسرا اس مال میں برکت حاصل ہوتی ہے، گویا تذکیہ نفس کا مطلب ہوا کہ اپنے باطن اور نفس کو گناہوں سے پاک کرنا، معافی طلب کرتے ہوئے گناہوں سے چھٹکارا حاصل کرنا اور اپنی نیکیوں اور اجروثواب میں اضافہ کرنا. ایسے شخص کو اللہ تعالیٰ جہنم سے نجات دے دیتے ہیں اور جنت میں داخل فرما دیتے ہیں. جس شخص کو جہنم کی آگ سے بچا لیا جائے اور اس کو جنت کا داخلہ مل جائے وہی شخص کامیاب ہے. اللہ رب العزت جس شخص کے بارے میں فیصلہ فرما دیں کہ اس شخص کو جہنم سے بچا کر جنت میں داخل کرنا ہے، وہی شخص حقیقی فلاح اور کامیابی پانے والا ہے.

    صحیح بخاری کی حدیث کے مطابق نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فتنوں کے بارے میں ارشاد فرمایا. آپ رسولﷺ نے فرمایا کہ میری ساری امت کی تمام عافیت، بہتری، فلاح اور برتری پہلے دور میں ہے مطلب "ابتدائی خلفائے راشدین کا دور”. بعد کا دور بدعات اور فتنوں کا دور ہے. آپ لوگ ایسے ایسے کام دیکھیں گے جو آپ کے وہم وگمان میں بھی نہیں ہونگے. لوگ عبادت سمجھتے ہوئے ان فتنوں اور بدعات کو قبول کر لیں گے. آپ لوگ اپنے علم کی بنیاد پر سوچیں گے کہ یہ کام نہ قرآن مجید میں ہے اور نہ ہی صحیح احادیث میں، پھر بھی لوگ اس کام کو نیکی اور باعث اجروثواب سمجھ کر کر رہے ہونگے. اس وقت فتنوں کے دور میں، جس شخص کی خواہش ہو کہ اس کو جنت میں داخلہ مل جائے اور جہنم سے چھٹکارا حاصل ہو جائے تو اس بندے کو جب موت آئے تو عقیدہ توحید اور عقیدہ سنت پر موت آئے مطلب آخر تک عین اسلام پر ڈٹا رہے، آخرت پر اس کا پورا یقین ہو، اعمال صالحہ کرتے ہوئے اس کو موت آ لے تو ایسا شخص حقیقی کامیاب ہے. نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ارشاد عالیشان کا مطلب ہے پرفتن دور میں ہر شخص اپنے آپ کو فتنوں سے دور رکھے اور صحیح اسلام پر ڈٹا رہے.

    .

    قرآن مجید میں بیان کردہ کامیابی کے 3 اصولوں میں پہلا اصول "تذکیہ نفس” ہے. نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حدیث کے مطابق جب بندہ گناہ کرتا ہے تو اس کے دل پر ایک سیاہ دھبہ لگا دیا جاتا ہے اور جتنا بڑا گناہ اتنا بڑا اور گہرا دھبہ ہوتا ہے. گناہ کرنے سے انسان کا نفس اور باطن مجروح اور سیاہ ہو جاتا ہے اور تذکیہ نفس یا نفس کی پاکیزگی سے اس گناہ کی سیاہی اور گندگی صاف ہوتی ہے. گناہ کی سب سے بھیانک سزا یہ ہے کہ بندہ یکے بعد دیگرے گناہ کرتا جاتا ہے. گناہ سرزد ہونے کے فوراً بعد انسان کو توبہ اور تذکیہ نفس کر لینا چاہئے ورنہ ایک کے بعد دوسرا، اور دوسرے کے بعد تیسرے گناہ کا مرتکب ہو جاتا ہے.

    انسان کے مسلسل گناہوں کی وجہ سے اس کے دل پر سیاہ دھبے لگتے جاتے ہیں اور اللہ تعالیٰ اس کے دل پر مہر لگا دیتے ہیں. کسی انسان کی زندگی میں ایک ایسا مرحلہ آ سکتا ہے جب اللہ تعالیٰ اس بندے کے اور اس بندے کے درمیان حائل ہو جاتا ہے. جب اللہ تعالیٰ کسی بندے اور اس کے دل کے درمیان حائل ہو جائیں تو پھر کوئی بھی اس بندے کو نیکی کی طرف جانے کے لئے تیار نہیں کر سکتا ہے.

    رسولﷺ کے ارشاد کے مطابق "اگر آسمان کے سارے فرشتے آ جائیں، زمین میں مدفن تمام مردوں کو زندہ کر دیا جائے، دنیا میں موجود ہر چیز کو اللہ رب العالمین کی طرف سے زبان دے دی جائے، ریت کے تمام ذرات اور پتوں سمیت ہر چیز کو بولنے کی طاقت دے دی جائے اور وہ سب مل کر اس مہر زدہ بندے کو نیکی کی طرف نہیں بلا سکتے.

    انسان کو اپنا محاسبہ کرنا چاہئے اس سے پہلے کہ اس کا یوم محشر حساب ہو، انسان اپنے ضمیر کا معائنہ و محاسبہ کرتے ہوئے تذکیہ نفس کرے اور تمام گناہوں سے توبہ تائب ہو کر اللہ تعالیٰ کی رحمت سے مستفید ہو اور حقیقی کامیابی کی سند لے.

    صحیح بخاری کی حدیث میں ہے کہ ایک بار رسولﷺ تشریف لاتے ہیں اور صحابہ کرامؓ سامنے بیٹھے تھے اور آپ رسولﷺ نے ایک سوال کیا کہ "آپ میں سے کوئی اپنے گھر جائے اور کسی اجنبی کو اپنے گھر میں بیٹھا ہوا دیکھے تو اس کا ردعمل کیا ہوگا؟”

    حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہہ فوراً بولے کہ میں تلوار کی دھار سے اس آدمی کا سر اس کے ڈھڑ سے جدا کر دونگا. جواب سن کر نبی کریم ﷺ فرمانے لگے کہ سعد کی غیرت کو دیکھو، اس کو بالکل گوارا نہیں کہ کوئی غیر بندہ اس کے گھر میں داخل ہو. اسی طرح اللہ رب العزت کو بھی یہ بات پسند نہیں کہ میرا بندہ میرے علاوہ کسی کی عبادت کرے یا مدد طلب کرے. رسولﷺ مزید ارشاد فرماتے ہیں کہ "میں سب سے بڑا باغیرت اور باحیا ہوں اور اللہ مجھ سے بڑے باحیا اور باغیرت ہیں”. اللہ تعالیٰ کی صفات میں ایک صفت غیرت بھی ہے مگر اللہ تعالیٰ کی غیرت مخلوق کی غیرت سے مختلف ہے. اللہ تعالیٰ کی کوئی بھی صفت مخلوق کی صفات کے مشابہ نہیں ہے.

    جناب رسولﷺ فرماتے ہیں کہ میری پوری امت معافی کی مستحق ہے مگر وہ لوگ مستحق نہیں جو کھلے عام گناہ کرتے ہیں یا تنہائی میں گناہ کرنے کے بعد خود لوگوں کو بتاتے پھرتے ہیں اور فخریہ انداز میں اپنا کارنامہ پیش کرتے ہوئے لوگوں کو بتاتے ہیں کہ فلاں کام (گناہ) میں نے کیا. بندے نے تنہائی میں گناہ کیا اور اللہ تعالیٰ نے اس گناہ پر پردہ ڈال کر اس بندے کو شرمندگی سے بچا لیا مگر اس بدبخت نے لوگوں میں خود ہی اپنا گناہ بیان کر دیا. یہ دونوں قسم کے بندے بخشش کے لائق نہیں.

    نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں کہ میری امت کے کچھ لوگ آخرت کے دن تہامہ پہاڑ کے برابر نیکیاں لائیں گے لیکن ان تمام نیکیوں کا ان کو ذرہ برابر بھی فائدہ نہیں ہوگا. یہ وہ لوگ ہیں جو تنہائی میں گناہ کرتے ہیں اور محفل میں بڑے متقی اور پرہیزگار ہیں.

    "ایک مومن بندہ شیطان کو تھکا دیتا ہے ایسے جیسے تم لوگ مسلسل سفر کرنے کے بعد تھک جاتے ہو”. اس ارشادِ نبویؐ کا مطلب یہ ہے مومن بندہ اللہ تعالیٰ کا ذکر کرتا ہے اور اس ذکر الٰہی کے ہر ورد یا کلمے پر شیطان کی پیٹھ پر کوڑا لگتا ہے. حضرت سفیان ثوری کا قول ہے کہ سب سے زیادہ جس ذکر سے شیطان کی کمر ٹوٹتی ہے وہ "لا اله الا الله” ہے. اللہ تعالیٰ ہم سب مسلمانوں کو حقیقی کامیابی عطا فرمائیں اور تذکیہ نفس کی توفیق دیں.

    @mian_ihsaa

  • علاماتِ قیامت تحریر: محمد اسعد لعل

    علاماتِ قیامت تحریر: محمد اسعد لعل

    قرآنِ مجید میں قیامت کی ایک علامت بتائی گئی ہے، وہ علامت یأجوج و مأجوج کا خروج ہے۔ ہمارے ہاں یأجوج و مأجوج کے بہت سے قصے مشہور ہو گئے ہیں۔ عام طور پر لوگ سمجھتے ہیں کہ یہ کوئی آسمانی مخلوق ہے۔ قرآن نے بہت وضاحت کے ساتھ اس کے بارے میں بتا دیا ہے کہ ” یہاں تک کہ یأجوج و مأجوج کھول دیے جائیں گے، اور وہ ہر گھاٹی سے آپ کو لپکتے ہوئے نظر آئیں گے، جیسے کوئی گروہ پِل پڑتا ہے۔” پھر اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے قیامت کا جو وعدہ کر رکھا ہے اس کا ظہور ہو جائے گا۔

    ایک سوال یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ علاماتِ قیامت کو بیان کرنے کی ضرورت ہی کیوں پیش آ گئی؟

    انبیاء نے بتا دیا کہ قیامت آئے گی، لیکن اس کے بارے میں کبھی یہ نہیں بتایا گیا کہ یہ کب برپا ہو گی۔ قیامت کا وقت کسی نبی نے نہیں بتایا، اور وقت بتانا بھی نہیں چاہیے۔ اگر قیامت کا وقت معین کر دیا جائے تو پھر امتحان ختم ہو جائے گا۔ امتحان کے لیے جس طرح ضروری ہے کہ موت کا وقت نہ بتایا جائے اسی طرح قیامت کا وقت بھی نہیں بتایا گیا۔سوائے اللہ کے کسی کو معلوم نہیں ہے کہ قیامت کب برپا ہو گی۔

    قیامت درحقیقت موت ہی ہے۔ ایک وہ موت ہے جو انفرادی طور پر انسانوں پر طاری ہو رہی ہے۔ ایک موت وہ ہے جو گویا پوری کی پوری انسانیت پر طاری ہو جانی ہے۔ اسی کو قیامت سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ قیامت کے بارے میں وقت تو نہیں بتایا گیا پر خبر ضرور دی گئی ہے۔ اس کے بارے میں منادی کی گئی ہے، لوگوں کو خبردار کیا گیا ہے کہ اس کی تیاری کرو۔

    اس کی علامت بتانے کی ضرورت کیوں پیش آئی۔۔۔ اس کی بڑی سادہ سی وجہ ہے۔ قیامت کی جب منادی کی جا رہی ہے تو منادی کرنے والے کون ہیں۔۔۔اللہ کے پیغمبر۔ انبیاء کرام جس طرح کسی چیز کے علمی اور عقلی دلائل دیتے ہیں بالکل اسی طریقے سے بعض اوقات حسی دلائل بھی پیش کر دیتے ہیں۔ یعنی مقصد یہ ہوتا ہے کہ جو لوگ علمی اور عقلی دلائل سے متنبہ نہیں ہو رہے وہ ان چیزوں کو دیکھ کر متنبہ ہو جائیں۔ بعض انبیاء کو اپنے معجزات بھی دکھانے پڑے۔ وہ معجزات ان کی صداقت کی دلیل کے طور پر پیش کیے جاتے ہیں۔ مثال کے طور پر حضرت موسیٰ ؑ کے دونوں بڑے معجزے” یدبیضاء” اور "عصا” کے بارے میں قرآن مجید میں ہے کہ "یہ تمہارے پروردگار کی طرف سے دو دلائل تھے”۔

    معجزہ کیا ہے؟۔۔۔کسی شخص کے ساتھ خدا کی معیت کا ظہور ہی معجزہ ہے۔ ایک لحاظ سے یہ بتایا جاتا ہے کہ خدا ان کے ساتھ ہے۔ اسی طرح سے انبیاء کرام کچھ پیشین گوئیاں کرتے ہیں، وہ پیشین گوئیاں بھی اصل میں ان کی صداقت کے دلائل ہیں۔ مثال کے طور پر غلبہ روم کی پیشین گوئی کی گئی تھی، جب کِسری (خسرو) نے آپﷺ کا خط پھاڑ دیا تو آپ ﷺ نے اس موقع پر فرمایا کہ اس نے اپنی سلطنت کے ٹکڑے کر دیے۔ بہت سی پیشین گوئیاں ہیں جو اللہ کے پیغمبر نے کی تھیں، اسی طریقے سے وہ بعد میں آنے والے زمانوں کی پیشین گوئیاں کرتے ہیں۔ جس وقت ان پیشین گوئیوں کا ظہور ہوتا ہے تو پیغمبر کی عدم موجودگی میں بھی پیغمبر کی طرف توجہ کا ذریعہ بن جاتی ہیں، گویا صداقت کی ایک اور دلیل پیدا ہو جاتی ہے۔

    یہ درحقیقت وہ دلائل ہیں جن کو قرآن مجید نے  آپ ﷺ کی موجودگی میں بیان کیا تھا کہ،”ہم ان کو اپنی نشانیاں دکھائیں گے” یہ نشانیاں خود آپﷺ کے سامنے بھی دکھائی گئیں اور جب آپﷺ کی نبوت قیامت تک ہے تو ظاہر ہے یہ نشانیاں قیامت تک نمودار ہوتی رہیں گی۔

    اسی طرح آپﷺ نے قرب قیامت کے بارے میں بھی کچھ نشانیاں بیان کی ہیں اور قرآن مجید نے بھی اس بارے میں بیان کیا ہے۔ قرآن مجید میں ایک نشانی ہی بیان کی گئی ہے، اور وہ نشانی یأجوج و مأجوج کا خروج ہے۔ یأجوج و مأجوج کے بارے میں یہ جان لینا چاہیے کہ یہ جو اس وقت دنیا ہے  یعنی دنیا کا ایک دور وہ ہے جو حضرت آدمؑ کے بعد شروع ہوا اور اُس کا خاتمہ حضرت نوحؑ پر ہوا۔ اس کے بعد حضرت نوحؑ کا دور شروع ہوا۔ ساڑھے نو سو سال کی غیر معمولی زندگی انہوں نے بسر کی، اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے ان کی قوم پر عذاب کا فیصلہ کیا۔ وہ لوگ جو حضرت نوحؑ پر ایمان لائے تھے ان کے لیے حکم دیا گیا کہ ایک کشتی میں سوار کر لیا جائے۔ تو یہ وہ لوگ تھے جنہوں نے نجات پائی۔ ان میں سے ان کے تین بیٹے ہیں (حام، سام اور یافث) جن کی اولادیں پروان چڑھیں۔ 

    آپ اگر دیکھیں تو پہلے مرحلے میں حام کی اولاد ہے جو دنیا میں اقتدار تک پہنچی، یہ زیادہ تر افریقہ میں آباد رہے۔ ان کی بڑی بڑی سلطنتیں وہیں وجود میں آئیں۔اس کے بعد سام کی اولاد کو اقتدار حاصل ہونا شروع ہوا، یہ جو قدیم عرب کے بادشاہ تھے یہ دراصل سامی بادشاہ تھے۔ تیسرے بیٹے یافث کی اولاد وسطی ایشیا میں جا کر آباد ہوئی۔ یافث کے پھر دس ،بارہ بیٹوں کا نام آتا ہے۔ یافث کی اولاد میں سے یأجوج و مأجوج کو غیر معمولی فروغ حاصل ہوا۔ یہ یأجوج و مأجوج کوئی آسمانی مخلوق نہیں ہے بلکہ حضرت نوحؑ کے پوتے ہیں۔

    یأجوج و مأجوج نے وسطی ایشیا سے اپنی زندگی کی ابتدا کی اور پھر یہیں سے ہجرت کر کے امریکہ، یورپ اور آسٹریلیا پہنچے۔ جب دنیا ختم ہونے کے قریب آئے گی تو یہ دنیا کے پھاٹکوں پر قبضہ کر چکے ہوں گے۔ آج اگر آپ دنیا کے نقشے کو اُٹھا کر دیکھیں تو یوں معلوم ہوتا ہے جیسے ایک دائرے میں یأجوج و مأجوج کا اقتدار ہے، اور درمیان میں حام اور سام  کی نسلیں آباد ہیں۔ چنانچہ اس وقت یأجوج و مأجوج اقتدار میں ہیں اور اب آہستہ آہستہ یہ وقت آئے گا کہ جب یہ ہر گھاٹی سے لپکیں گے اور یہاں تک کہ سمندروں کا سارا پانی پی جائیں گے، اور اس کے بعد قیامت برپا ہو گی۔

    @iamAsadLal

    twitter.com/iamAsadLal

  • ماہ صفر المظفر کی بدشگونی اور توھمات  تحریر: تیمور خان

    ماہ صفر المظفر کی بدشگونی اور توھمات تحریر: تیمور خان

    صفر المظفر کا مہینہ شروع ہو چکا ہے اور اس مہینے کے حوالے سے میں آج چند گذارشات تحریر کر رہا ہوں، اور وہ گذارشات یہ ہیں، کہ جہالت کی وجہ سے عام طور پر اس مہینے کو منحوس مہینا کہا جاتا ہے، اور کم علمی کی وجہ سے جہالت کی وجہ سے اس مہینے کے ساتھ بہت سارے شکوک اور تھمات وابستہ کیے جاتے ہیں ، اس لئے ضروری ہے کہ شعریت اسلامیہ کی روشنی میں یہ دیکھا جائے کہ ماہ صفر المظفر کے متعلق جو شکوک اور جہالت والی باتیں ہیں ان کی کیا حقیقت ہے،

    یاد رکھیں انسان پہ جو بھی مصیبت آتی ہے تکالیف اور بیماریاں آتی ہے اس کے آنے کی بنیادی طور پر دو وجوہات ہیں، اللہ تعالیٰ نے پانچویں پارہ کے سورۃ نساء میں واضح طور پہ فرمایا۔ ٫٫ اے لوگوں تم میں سے جس پر بھی دنیا میں جو بلائی اور خیر ملتی ہے تو وہ اللہ کی طرف سے ہوتی ہے، اور تمہیں دنیا میں جو تکلیفات مشکلات اور مصیبتیں ملتی ہے تو تمہارے اپنے کئے ہوئے شامت اعمال کی وجہ سے ملتی ہیں؛؛

    تو پہلی بنیادی وجہ انسان کو دنیا میں جو تکلیف اور اذیت ملتی ہیں وہ انسان کے اپنے اعمال ہوا کرتے ہیں حالانکہ اللہ تمہارے گناہ اور تکسیرات کو معاف بھی کر دیتا ہے،اور  دوسری بنیادی وجہ انسان پہ جو مصیبتیں اور تکالیف آتی ہے تو وہ اللہ کی طرف سے ایک آزمائشی کے طور پر آتی ہے، ان میں گناہوں کا کوئی اثر نہیں ہوتا اور اللہ یہ چاہتا ہے کہ میرے اس بندے کے دراجات بلند ہوں اور جب اللہ اپنے بندے کو اپنا قرب دینا چاہتا ہے اپنا نزدیک بنانا چاہتا ہے، تو پھر بندے پہ اللہ اپنے امتحانات مقرر کر دیتا ہے، اور جب ان تکالیف اور امتحانات کے باوجود بندہ صبر سے کام لیتا ہے اور اللہ سے محبت کرتا ہے اللہ سے لو لگائی رکھتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس بندے کے درجات بلند کرتا ہے۔ 

    اسی کے متعلق اللہ تبارک وتعالٰی نے دوسرے پارہ میں ارشاد فرمایا٫٫ اے لوگوں ہم تمہیں آزمائیں گے ضرور آزمائیں گے ڈر کی وجہ سے، اس ڈر کی وجہ سے تمہیں آزمائیں گے، کبھی تمہیں بھوکا رکھیں وہ تمہاری آزمائش ہوگی، تمہارے مالوں میں ہم کمی کر دینگے ، تمہاری جانوں کا بھی ہم امتحان لینگے، اور کبھی کبھی میووں کے ذریعے تمہاری آزمائش لیں گے، اولاد چین کے تمہارا امتحان لیں گے، لیکن اللہ نے فرمایا اے میرے حبیب ان تکالیف میں جو صبر کرنے والے ہیں آپ ان کو خوشخبری دے دیجیے۔

    یہی وجہ ہے انبیاء کرام جو کے تمام انسانوں میں سب سے افضل اور اشرف جماعت ہیں ان پہ سب سے زیادہ تکلیفات اور مصیبتیں آئیں سرکارِ دوعالم ﷺ نے فرمایا جتنی تکلیفات اور مصیبتیں انبیاء اور سرکارِ دوعالم ﷺ فرماتے ہیں مجھ پہ آئیں اتنی آج تک کسی بھی نبی پہ  نہیں آئیں، تو جو اللہ کا جتنا ہی زیادہ مقرب ہوگا اس کی مشکلات بھی اتنی ہی زیادہ ہونگی لیکن فرق صرف اتنا ہے کہ جب عام انسان پہ مشکلات اور مصیبتیں آتی ہیں تو وہ شور مچائے گا وہ اللہ سے شکوہ کرے گا، لیکن جب اللہ کا نیک بندہ ہوگا اس کے ظاہری چہرے سے بھی کبھی پتہ نہیں چلے گا کہ یہ تکلیف میں ہے وہ صبر اور تحمل سے کام لے گا، اسی لئے اللہ فرماتا ہے کہ انہیں لوگوں پہ اللہ کی رحمت پھر اترتی ہے۔

    تو اسی لئے میں نے شروع میں تحریر کیا کہ صفر المظفر کا مہینہ ہے لوگ جہالت کی وجہ سے منحوس کا لقب دیتے ہیں زمانہ جاہلیت میں جب بھی صفر المظفر کا مہینہ آتا لوگ تجارت کے لئے نہیں جاتے تھے لوگ سوچتے تھے اگر تجارت کے لئے جاؤں گا تو مجھے تجارت میں نقصان ملے گا، لوگ اس مہینے میں شادیاں روک لیتے تھے ان کا کہنا تھا یہ شادی ناکام ہو جائے گی یہاں تک کہ اس مہینے میں کوئی بھی فیصلہ جس میں انسان اپنے کامیابی کی طرف جاتے تھے وہ اس مہینے میں وہ فیصلے نہیں کرتے تھے، لیکن جب اسلام آیا تو اسلام نے اسے قسم کے شکوک تھمات کو ختم کر دیا اسلام نے کہا یہ سب توھمات ہیں، اسلام نے کہا سارے مہینے اللہ کہ محرم الحرام بھی اللہ کا مہینہ ہے صفر المظفر بھی اللہ کا مہینہ ہے ذی الحجہ تک جتنے بھی قمری مہینے ہیں یہ سب اللہ کے مہینے ہیں کوئی بھی نحوست کی بات نہیں بلکہ اسلام نے لفظ نحوست کو ختم کیا۔ ، جب اسلام نے کسی چیز میں کمی نہیں چوڑی تو پھر توھم کس بات کا، جب تم اللہ پہ توکل کرو گے کوئی وسوسہ تمہیں نقصان نہیں پہنچا سکتا توھم کے بت سرکارِ دوعالم ﷺ نے دفنا دیے ہیں

    اسی لئے سرکارِ دوعالم ﷺ نے فرمایا بخآری مسلم شریف کی حدیث ہے، آپ نے فرمایا چار چیزیں جن کو عرب نے منحوس قرار دیا وہ کہتے تھے بیماری خود بخود ایک انسان سے دوسرے کو لگتی ہیں اسلام نے اس کو ختم کر دیا یہ توھم والی بات ہے ایک بیماری اللہ تعالیٰ کے ارادے کے بغیر دوسرے انسان کو کبھی بھی نہیں لگتی محدیثین فرماتے ہیں بلکہ اللہ کا ارادہ اس میں شامل ہوتا ہے، حضور نے فرمایا بدفغالی اسلام میں نہیں٫ مثال کے طور پر میں راستے میں جا رہا تھا کالی بلی میرے سامنے سے گزر گئی اس لئے میں بیمار ہوا؛ فلاں میرے ماتھے پہ لگا صبحِ صبح،، البتہ نیک فعا لی  ہے، مثال کے طور پر آج میرا دن بہت اچھا گزرا کیوں کہ میں نے اپنی ماں کے چہرے کی زیارت کی۔ حضور نے فرمایا علو میں بھی کوئی نحوسیت نہیں، ٫٫علو ایک پرندہ ہے؛؛ جس کو عرب والے نحوس پرندہ کہتے تھے، جب کوئی راستہ پہ جاتا تو اگر راستے میں اس کو علو کی آواز آتی یا اسکا نظر علو پر لگتا تو وہ واپس آتے تھے، اور سرکارِ دوعالم ﷺ نے فرمایا کہ صفر المظفر میں بھی کوئی نحوسیت نہیں ، کیونکہ زمانہ جاہلیت میں صفر المظفر کو نحوس مہینہ کہا جاتا تھا خصوصاً صفر المظفر کے پہلے 13 دنوں کو منحوس کہا جاتا ہے یہ رسم ہمارے معاشرے میں ہندستان سے آئی ہے چونکہ ہم متحدہ ہندوستان میں تھے پہلے ہمارے بڑے اکٹھے رہتے تھے سکوں اور ہندوؤں کے ساتھ کیونکہ یہ ان کے ہی توھمات  تھے اور یہی توھمات زمانہ جاہلیت میں عرب کے بھی تھے اور ہمارے برصغیر میں صفر المظفر کے پہلے 13 دنوں کو تیرہ تیزی بھی کہتے ہیں، تیرہ تیزی کا مطلب کی اس مہینے کے پہلے تیرہ دن سخت ہوتے ہیں،، تو سرکارِ دوعالم ﷺ نے فرمایا کہ ان باتوں کا کوئی بھی اصل نہیں ہے یہ جھوٹ اور جہالت والی باتیں ہیں سارے دن اللہ کے ہیں اور اللہ کی رحمتیں اترتی ہیں اسی لئے علماء نے کہا کہ صفر کے نام کے ساتھ  المظفر کا نام بھی لگا دیا کرو آپ نے اکثر دیکھا بھی ہوگا، المظفر کا مطلب کامیابی،، تو صفر المظفر یعنی وہ مہینہ جس میں انسان کو کامیابیاں ملتی ہیں، یہ المظفر کا لفظ ساتھ میں اس لئے لگایا گیا تاکہ لوگوں کے دلوں سے وہ توھمات اور بد شگونیاں نکل جائیں۔ اس لئے اس مہینے میں اس قسم کی باتیں کرنا یہ جہالت والی باتیں اس قسم کی باتوں کا اسلام میں کوئی حقیقت نہیں۔ صفر المظفر کے پورے مہینے میں اکثر لوگ پورا مہینہ یا صفر کے آخری بدھ کو کیر پکھاتے ہیں یا کوئی خیرات کرتے ہیں، اگر یہ اپنے بڑوں کے ایصالِ ثواب کے لئے کرتے ہیں اور اس کے لئے کوئی دن بھی مقرر نہیں یعنی پورے مہینے میں ہر وقت کرے پھر جائز ہے اور اگر نہیں صرف اس کے لئے خاص دن یعنی بدھ رکھا گیا ہو تو پھر ناجائز ہے اگرچہ ہمیں اس کا اصلاح کرنا چاہیے کہ آپ جو بھی خیرات دے رہے ہو وہ اللہ کی رضا اور بڑوں کے ایصالِ سواب کے لئے اگر وہ بدھ ہو گا جمعرات تو پھر جائز ہے۔ بعض غیر مستند کتب او رسالوں میں ہمیں دیکھنے کو ملتا ہے کہ اس آخری بدھ والے دن ہم چوری یا خیرات اس لئے کرتے ہیں کہ یہ بیبیوں نے کی تھی اور خاص کر حضرت فاطمہ خاتون جنت کے متعلق اس قسم کی روایات بیان کی جاتی ہے یاد رکھیں یہ روایت غلط ہے اس کی بھی کوئی اصل نہیں۔٫٫ اور روایت یہ پیش کی جاتی ہے کہ صفر کا جو آخری بدھ تھا سرکارِ دوعالم ﷺ چونکہ اس بدھ سے پہلے بیمار تھے اور اس آخری بدھ کو آپ کی تبعیت زرہ سی ٹھیک ہوئی تھی اور آپ گھر سے باہر تشریف لائے تھے، تو اس خوشی میں خاتون جنت حضرت فاطمتہ الزہرہ نے کچھ خیرات کیا تھا، تو یاد رکھیں صدقہ اور خیرات بلکل جائز ہے لیکن اس روایت کو مد نظر رکھتے ہوئے اس قسم کی بنیاد پر یہ بلکل ناجائز ہے، ہمارے برصغیر پاک و ہند میں جتنے بھی بڑے بڑے علماء ہیں انھوں نے اس روایت سے یکسر انکار کیا ہے یہاں تک کہ مستند کتابوں میں بھی اس کا کوئی اصل نہیں بلکہ شاہ عبدالحق محدث دہلوی رحمۃ اللّٰہ نے اپنے تصانیف میں اس بات کی وضاحت کی ہے کہ آخری بدھ تھا صفر المظفر کا اس میں سرکارِ دوعالم ﷺ کی بیماری اور بھی زیادہ ہو گئی تھی، بعض لوگ لا علمی کی وجہ سے کہ آپ کی بیماری شائد کم ہوئی تھی تو اس لئے اگر کوئی  اس نیت سے کہ آخری بدھ والے دن  صدقہ یا خیرات کرتا ہے تو یہ ناجائز ہے باقی اگر کوئی اچھے نیت سے محرم سے لے کر ذی الحجہ تک اور صفر المظفر کے پورے مہینے خیرات کرتا ہے اس کو منع نہیں کرنا چاہیے یہ جائز ہے اللہ تعالیٰ ہمیں سمجھنے کے توفیق عطا فرمائے آمین۔

    @ImTaimurKhan

  • طب، رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں کون کون سے ادویہ کا ذکر قرآن وحدیث میں آیا تحریر اکرام اللہ نسیم

    قرآن مجید اللہ پاک کی آخری نازل شدہ آسمانی کتاب ہے جو نبی کریم صَلَّی اللہ علیہ وسلم پر تیس سال کے عرصے میں نازل ہوئی اللہ پاک نے ہر مسلمان کو قرآن مجید کو پڑھنے اور اسکو سمجھنے کے لئے بھیجا تاکہ اسکو سمجھ کر صحیح معنوں میں دین اسلام پر چلنے کا سلیقہ آئے

     اسکے ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں طبی ادویات کا ذکر کیا تاکہ انسان بیماری کی صورت میں ان ادویات سے فائدہ   اٹھا سکے

    اللہ پاک نے قرآن مجید میں  انجیر ، زیتون ، کافور، کھجور، دودھ ،انار ، مچھلی ، یاقوت، مرجان، شہد، پیاز مٹی ریشم سونا چاندی ترنجبین  زنجبیل مونگا موتی الحدید پرندوں کا گوشت بیر ریحان جانوروں کا گوشت مختلف پھلوں میوں اور بارش کے پانی کا بھی ذکر کیا 

    طب نبوی صلی اللہ علیہ وسلم سے مراد وہ تمام ادویہ اغذیہ بقاء صحت کی تدابیر اور وہ چیزیں جو قرآن وحدیث سے ثابت ہو

    حدیث میں ان ادویہ کا ذکر ہے کھمبی سناء شہد سویا تلبینہ قسط زیتون مہندی سرمہ اونٹنی کا دودھ کافور زعفران تربوز گھی بیر ریحان کستوری  ریشم لوبان ثرید آب بارش  زم زم چقندر کاسنی  کا ذکر ہے اسکے علاوہ بھی دیگر اشیاء کا ذکر ہے 

    عطائی معالج کے بارے میں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس شخص نے علاج کیا حالانکہ اس سے علاج معالجے کا کچھ علم نہ تھا  اس حال میں زمہ داری اس معالج پر آئے گی  اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس شخص نے طب کا علم نہ ہونے کے باوجود معالجے کی زمہ داری لی تو وہ ہر طرح کے نقصان کا ذمہ دار ہوگا 

    حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بخار کے بیمار کے لئے جو کا دلیا بنانے کا حکم دیتے اور وہ مریض کو کھلایا جاتا  

    حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کھمبی کا پانی آنکھوں کے لئے شفاء بخش ہے اور تلبینہ دل کے بیمار کے لئے تسکین بخش ہے اور یہ غم کو زائل کرتاہے بہی کے بارے میں فرمایا کہ یہ دل کو مضبوط کرتی ہے روح کو نشاط بخشتی ہے اور سینے کی گھٹن کو دور کرتی ہے

    آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کلونجی میں ہر بیماری کے لئے شفاء ہے سماء اور شہد کے بارے میں حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ان دونوں کو استعمال کرو اسمیں سوائے موت کہ ہر بیماری کی شفاء ہے 

    اسہال کی شکایت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نے ایک شخص کو شہد تین بار پینے کا کہا تین مرتبہ پینے کے بعد اسکو شفاء مل گئی

    زم زم کے بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس میں ہر بیماری کی شفاء ہے 

    زیتون کے بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اسمیں 72بیماریوں کی شفاء ہے

    ہر انار کے اندر جنت کے پانی کا ایک قطر ہے 

    آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ سرمہ میں بہترین سرمہ اثمد ہے یہ بینائی کو روشن کرتا ہے اور بال اگاتا ہے

    آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہارے لیے کاسنی موجود ہے کیونکہ کوئی ایسا دن نہیں گزرتا  کہ جب جنت کے پانی کے قطرے اس پر نہ گرتے ہوںکاسنی کھاؤ مگر اسے جھاڑو متکاسنی بچھو کے کاٹے پر لگانا مفید ہے اور آنکھ میں ڈالنا موتیا کو فایدہ دیتا ہے

    ٹویٹر اکاؤنٹ ہینڈل  ‎@realikramnaseem

  • حضرت معاویہ رض تابعین کی نظر میں تحریر:تعریف اللہ عفی عنہ

    حضرت معاویہ رض تابعین کی نظر میں تحریر:تعریف اللہ عفی عنہ

    ‏(بسم اللہ الرحمن الرحیم)

    تابعین کرام میں اپ کی کیا حیثیت تھی؟اس کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ حضرت عمر بن عبدالعزیز نے اپنے دور خلافت میں  کسی کو کوڑوں سے نہیں مارا ،مگر ایک شخص جس نے حضرت معاویہ رض پر زبان درازی کی تھی،اس کے متعلق انہوں نے حکم دیا کہ اسے کوڑے لگائے جائیں۰

    (ابن عبدالبر:الاستیعاب تحت الاصابہ ج:۳ ص:۱۳۵)

    حافظ ابن کثیر نے بیان کیا ہے کہ حضرت عبداللہ ابن مبارک جہ مشہور تابعین میں سے ہیں ،ان سے کسی نے حضرت معاویہ کے بارے میں پوچھا تو حضرت ابن المبارک جواب میں کہنے لگے:بھلا میں اس شخص کے بارےمیں کیا کہوں؟جس نے سرکاردوعالم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھی ہو اور جب سرکار صلی اللہ علیہ وسلم نے سمع اللہ لمن حمدہ کہا تو انہوں نے جواب میں ربنا لک الحمد کہا ہو۰

    (ابن کثیر :البدایہ والنہایہ ج۸ ص:۱۳۹)

    انہی عبداللہ ابن المبارک سے ایک مرتبہ کسی نے سوال کیا کہ :یہ بتلائے کہ حضرت معاویہ اور حضرت عمربن عبدالعزیز میں سے کون افضل ہے؟سوال کرنے والے نے ایک جانب اس صحابی کو رکھا جس پرطرح طرح کے اعتراضات کئے گئے تھے ،اور دوسری طرف اس جلیل القدر تابعی کو جس کی جلالت شان پر تمام امت کا  اتفاق ہے،یہ سوال سن کرعبداللہ ابن مبارک غصے میں اگئے اور فرمایا”تم ان دونوں کی اپس میں نسبت.  پوچھتےہو،خدا کی قسم! وہ مٹی جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے  ہمراہ جہاد کرتے ہوئےحضرت معاویہ کی ناک کے سوراخ میں چلی گئی،وہ حضرت عمر بن عبدالوزیز سے افضل ہے ”

    (حوالامذکورہ بالا)۰

    اسی قسم کا سوال حضرت معافی بن عمران رض سے کیا گیا تو وہ بھی غضب ناک  ہوگئے اور فرمایا :بھلا ایک تابعی کسی صحابی کے برابر ہوسکتا ہے؟حضرت معاویہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی ہیں ،ان کی بہن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے عقد میں تھیں،انہوں نے وحی خداوندی کی کتابت کی اور حفاظت کی،بھلا ان کے مقام کو کوئی تابعی کیسے پہنچ سکتا ہے؟

    اور پھر یہ حدیث پڑھ کر سنائی کہ حضورﷺ  نے فرمایا جس نے میرے اصحاب اور رشتہ داروں کو برا بھلا کہا اس پر اللہ کی لعنت ہو۰

    (ابن کثیر:البدایہ والنہایہ ج:۸ ص:۱۳۹)

    مشہور تابعی حضرت احنف بن قیس اہل عرب میں بہت حلیم اور بردبار مشہور ہیں ،ایک مرتبہ ان سے پوچھا گیا کہ:بردبار کون ہے ؟اپ یا معاویہ ؟اپ نے فرمایا :بخدا میں نے تم سے بڑا جاہل کوئی نہیں دیکھا ،حضرت معاویہ قدرت رکھتے ہوئے حلم اور بردباری سے کام لیتے ہیں اور میں قدرت نہ رکھتے ہوئے بردباری کرتا ہوں ،لہذا میں ان سے کیسے بڑھ سکتاہوں ؟یا ان کے  برابر کیسے ہوسکتا ہے؟

    چنانچہ ایک شیعہ مورخ امیر علی لکھتے ہیں:-

    مجموعی طور پر حضرت معاویہ کی حکومت اندرون ملک بڑی خوشحال اور پرامن تھی اور خارجہ پالیسی کے لحاظ سےبڑی کامیاب تھی۰

    (بحوالہ "حضرت معاویہ "مولفہ:حکیم محمود احمد ظفر سیالکوٹی۰)

    یہاں پر اسکی ایک حوش طبوعی کی واقعہ لکھتا ہوں ،ایک بار ایک شخص اپ رض کے پاس ایا اور کہنے لگا میں ایک مکان بنا رہا ہوں ،اپ میری مدد کردیجئے اور بارہ ہزار درخت عطا کردیجئے۰

    اپ رض نےپوچھا:کہاں گھر ہے؟

    کہنے لگا:بصرہ میں !

    اپ رض نے پوچھا "لمبائی چوڑائی کتنی ہے؟”

    کہنے لگا :دو فرسخ لمبائی ہے اور دو فرسخ چوڑائی ۰:

    اپ رض نے مزاخا فرمایا :-

    :-یہ مت کہو کہ میرا گھر بصرہ میں ہے،بلکہ یوں کہو کہ بصرہ میرے گھر میں ہے۰

    (حافظ ابن کثیر :البدایہ والنہایہ ج:۸ ص:۱۴۱۰)۰

    الغرض صحابہ کرام رضی اللہ عنھم اجمعین بہت بڑے مقام والے ہیں ۰ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی تعریفات احادیث میں ائی صحابہ کرام اجمین نے ان کی تعریفات کئے ہیں اور بڑے بڑے اکابرین امت نے ان کی تعریفات کئے ہیں انشاء اللہ ابھی علمائے حق ان کی تعریفات کرتے اور قیامت کی صبح تک کریگی 

    صحابہ تو وہ لوگ ہے جس اللہ راضی ہے اور وہ اللہ سے راضی ہے اللہ تعالی ہم کو صحابہ کرام اجمعین کی محبت عوطا فرمائے اور ان کی گستاخی سے اللہ تعالیہم سب کو محفوظ فرمائے۰امین ثم امین۰

    ‎@Tareef1234