دنیا میں پاکستان واحد ملک ہے جو اسلام کے نام پر وجود میں آیا ،اس ملک کی بنیاد ہی کلمہ پر رکھی گئ ،یہی وجہ ہے کہ آج عالمی دنیا پاکستان پر تنقید کا کوئ بھی موقعہ ہاتھ سے جانے نہیں دیتی اور پاکستان پر تنقید کے ساتھ ساتھ پھر اسلام کو بھی لازمی حدف تنقید بنایا جاتا ہے
کبھی انڈیا میں کوئ واقعہ رونما ہوتو کوئ یہ نہیں کہتا کہ یہ کیسا ہندو مذہب ہے یا کسی دوسرے ملک میں کوئ واقعہ ہو تو اس واقعے کی بنیاد پر اس ملک کے مذہب کو تنقید کا نشانہ نہیں بنایا جاتا
لیکن منافقت دیکھیں پاکستان میں کوئ چھوٹا سا بھی واقعہ پیش آجائے اس کا تعلق ہمیشہ پاکستان اور اسلام سے ملانے کی کوشش کی جاتی ہے اور اس کام میں ہمارے کئ پاکستانی بھی عالمی دنیا کا ساتھ دیتے نظر آتے ہیں
اب حال ہی میں مینار پاکستان پر ہونے والے واقعہ پر وہ طوفان برپا کیا گیا جس سے پوری دنیا میں پاکستان کا منفی چہرہ سامنے آیا وطن کی بدنامی ہوئ اور دنیا نے خاص طور پر سیاحت کے لئے آنے والوں کے نزدیک پاکستان غیر محفوظ ملک بن گیا ہوگا
مینار پاکستان جیسے واقعات کی کوئ عقل شعور رکھنے والا بندہ حمایت نہیں کرسکتا اور اس واقعے کے بعد پوری پاکستانی قوم نے احتجاج بھی کیا حکومت نے بھی فوری طور ایکشن لیا سب کا ایک ہی مطالبہ تھا کہ اس واقعے میں ملوث تمام افرار کو سخت سے سخت سزا دی جائے
لیکن کچھ لوگوں نے اس واقعہ کو بہت بڑھا چڑھا کر پیش کیا جس سے دنیا میں ہماری بہت حد تک رسوائ ہوئ ،ہونا تو اس طرح چاہیے تھا کہ جب تک اس واقعے کی مکمل تحقیقات نا ہوجاتی حقیقت کیا تھی وہ سامنے نا آجاتی تب تک اس واقعے کو اتنا ذیادہ اچھالا نا جاتا کہ دنیا میں ہماری جگ ہنسائ ہوتی
حکومت اچھی طرح اس واقعے کی تحقیقات کررہی ہے اس میں جتنے لوگ ملوث نکلیں گے یقینن ان کو سزا بھی ہوگی لیکن خدانخواستہ اگر یہ واقعہ کوئ مشہوری کے لئے ڈرامے کے طور پر رچایا گیا ہو تو کیا پاکستان کی جتنی بدنامی ہوئ وہ عزت واپس آسکے گی؟ہم کس طرح دنیا کو سمجھائیں گے کہ یہ واقعہ کوئ ڈرامہ تھا اور اس واقعہ کی وجہ سے پاکستان کے ساتھ ساتھ اسلامی تعلیمات کا کتنا مذاق اڑایا گیا ،دنیا میں اسلام کو کس حد تک تنقید کا نشانہ بنایا گیا اس کا اندازہ کرنا بھی مشکل ہے
حالانکہ اگر مکمل اسلامی تعلیمات پر عملدرآمد ہوتا تو شائد وہ لڑکی اس طرح لوگوں کے ہجوم میں کبھی نا جاتی اور اگر چلی جاتی تو شائد وہ مرد اس کی طرف کسی گندی نگاہ سے دیکھنے کی ہمت تک نہیں کرتے ،اسلام نے جتنی عزت اور مقام عورت کی دی ہے اتنی کسی اور مذہب میں نہیں
جس طرح کسی بھی دھشتگرد کا تعلق کسی مذہب یا رنگ نسل سے نہیں اسی طرح ایسے کسی انفرادی عمل کا بھی ذمہ دار نا اسلام کو ٹھہرایا جاسکتا ہے اور نا ہی اس ملک پاکستان کو
اچھے برے لوگ ہر معاشرے میں ہوتے ہیں ہمیں چاہیے ہم مثبت تنقید کریں اور معاشرے کی بہتری کے لئے خود سے شروعات کریں تو یقینن ہر طرف بہتری آجانی ہے
اور خاص طور پر وہ افراد جن کی آواز دنیا بھر میں سنی جاتی ہے وہ ایسے چند واقعات پر مکمل تحقیقات کے بغیر کسی ایسی بات کرنے سے لازمی گریز کریں جس سے پاکستان اور اسلام پر کسی کو انگلی اٹھانے کا موقعہ ملے
اور بڑھ چڑھ کر ایسے اقدامات اٹھانے چاہئیں جس سے معاشرے کی اصلاح ہو اسلام کے حقیقی احکامات سے عوام کو آگاہ رکھیں کسی بھی برائ کو پاکستان یا اسلام سے جوڑنے کی بجائے اس برائ کے خلاف جو اسلامی احکامات ہیں وہ قوم کو بتائے جائیں تاکہ ہمارا معاشرہ بھی ایسی کسی گندگی سے پاک ہو اسلام کی سربلندی ہو اور پاکستان کے وقار میں بھی اضافہ ہو
اللہ پاک ہمیں مکمل اسلامی تعلیمات پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے تاکہ ہم اپنے ملک پاکستان کو مزید پرسکون اور محفوظ بناسکیں آمین
Category: مذہب

تنقید کریں لیکن اسلام اور پاکستان کے خلاف نہیں!!

قرآن کے ساتھ ہمارا سلوک تحریر: محمد معوّذ
برادرانِ اسلام ! دنیا میں اس وقت مسلمان ہی وہ خوش قسمت لوگ ہیں جن کے پاس اللّٰه تعالیٰ کا کلام بالکل محفوظ ، تمام تحریفات سے پاک ، ٹھیک ٹھیک انہی الفاظ میں موجود ہے جن الفاظ میں وہ اللّٰه کے رسولِ برحق پر اترا تھا ، اور دنیا میں اس وقت مسلمان ہی وہ بدقسمت لوگ ہیں جو اپنے پاس اللّٰه تعالیٰ کا کلام رکھتے ہیں اور پھر بھی اس کی برکتوں اور بے حدوحساب نعمتوں سے محروم ہیں ۔ قرآن ان کے پاس اس لیے بھیجا گیا تھا کہ اس کو پڑھیں سمجھیں ، اس کے مطابق عمل کریں ، اور اس کو لے کر اللّٰه تعالیٰ کی زمین پر اللّٰه کے قانون کی حکومت قائم کر دیں ۔ وہ ان کو عزت اور طاقت بخشنے آیا تھا ۔ وہ انھیں زمین پر اللّٰه کا اصلی خلیفہ بنانے آیا تھا ، اور تاریخ گواہ ہے کہ جب انھوں نے اس کی ہدایت کے مطابق عمل کیا تو اس نے ان کو دنیا کا امام اور پیشوا بنا کر بھی دکھا دیا ، مگر اب ان کے ہاں اس کا مصرف اس کے سوا کچھ نہیں رہا کہ گھر میں اس کو رکھ کر جن بھوت بھگائیں ، اس کی آیتوں کو لکھ کر گلے میں باندھیں اور گول کر پئیں اور ثواب کے لیے بے سمجھے بوجھے پڑھ لیا کریں ۔
اب یہ اس سے اپنی زندگی کے معاملات میں ہدایت نہیں مانگتے ۔ اس سے نہیں پوچھے کہ ہمارے عقائد کیا ہونے چاہیں ؟ ہمارے اعمال کیا ہونے چاہیں ؟ ہمارے اخلاق کیسے ہونے چاہیں ؟ ہم لین دین کس طرح کریں ؟ دوستی اور دشمنی میں کس قانون کی پابندی کریں ؟ اللّٰه کے بندوں کے اورخوداپنےنفس کے حقوق پر ہم کیا ہیں اور انھیں ہم کس طرح ادا کریں ؟ ہمارے لیے حق کیا ہے اور باطل کیا ؟ اطاعت میں کس کی کرنی چاہیے اور نافرمانی کس کی ؟ تعلق کس سے رکھنا چاہیے اور کس سے نہ رکھنا چاہیے ؟ ہمارا دوست کون ہے اور دشمن کون ؟ ہمارے لیے عزت اور فلاح اور نفع کس چیز میں ہے اور ذلت اور نامرادی اور نقصان کسی چیز میں؟ یہ ساری باتیں اب مسلمانوں نے قرآن سے پوچھنی چھوڑ دی ہیں ۔ اب یہ کافروں اور مشرکوں سے گمراہ اور خود غرض لوگوں سے اور نفس کے شیطان سے ان باتوں کو پوچھتے ہیں خود اپنےاور انھی کے کہے پر چلتے ہیں ۔ اس لیے خدا کو چھوڑ کر دوسروں کے حکم پر چلنے کا جو انجام ہونا چاہیے وہی ان کا ہوا اور اسی کو آج ہندستان میں چین اور جاوا میں فلسطین اور شام میں ، الجزائر اور مراکش میں ، ہر جگہ بری طرح بھگت رہے ہیں ۔ قرآن تو خیر کا سرچشمہ ہے۔ جتنی اور جیسی خیر تم اس سے مانگو گے یہ تمھیں دے گا۔ تم اس سے محض جن بھوت بھگانا اور کھانسی بخار کا علاج اور مقدمے کی کامیابی اور نوکری کا حصول اور ایسی ہی چھوٹی ، ذلیل و بے حقیقت چیز میں مانگتے ہو تو ہی تمھیں ملیں گی ۔ اگر دنیا کی بادشاہی اور روئے زمین کی حکومت مانگو گے تو وہ بھی ملے گی اور اگر عرش الہی کے قریب پہنچنا چاہو گے تو تمہیں وہاں بھی پہنچا دے گا ۔ یہ تمھارے اپنے ظرف کی بات ہے کہ سمندر سے پانی کی دو بوندیں مانگتے ہو ، ورنہ سمندر تو دریا بخشنے کے لیے بھی تیار ہے ۔
حضرات ! جو تم ظریفیاں ہمارے بھائی مسلمان اللّٰہ کی اس کتابِ پاک کے ساتھ کرتے ہیں وہ اس قدر مضحکه انگیز ہیں کہ اگر یہ خود کسی دوسرے معاملے میں کسی شخص کو ایسی حرکتیں کرتے دیکھیں تو اس کی ہنسی اڑائیں ، بلکہ اس کو پاگل قرار دیں ۔ بتایئے ! اگر کوئی شخص حکیم سے نسخہ لکھوا کر لائے اور اسے کپڑے میں لپیٹ کر گلے میں باندھ لے ، یا اسے پانی میں گھول کر پی جائے تو اسے آپ کیا کہیں گے؟ کیا آپ کو اس پر ہنسی نہ آئے گی ؟ اور آپ اسے بے وقوف نہ سمجھیں گے ؟ مگر سب سے بڑے حکیم نے آپ کے امراض کے لیے شفا اور رحمت کا جو بےنظیر نسخہ لکھ کر دیا ہے اس کے ساتھ آپ کی آنکھوں کے سامنے رات دن یہی سلوک ہورہا ہے اورکسی کو اس پر ہنسی نہیں آتی ۔ کوئی نہیں سوچتا کہ نخسہ گلے میں لٹکانے اور گھول کر پینے کی چیز نہیں ، بلکہ اس لیے ہوتا ہے کہ اس کی ہدایت کے مطابق دوا استعمال کی جائے ۔@muhammadmoawaz_

ففتھ جنریشن وار اور مینار پاکستان کا واقعہ تحریر-سید لعل حسین بُخاری
مینار پاکستان کے گریٹر اقبال پارک میں ایک ٹک ٹاکر لڑکی کے ساتھ ہجوم کی بد تمیزی سے ہم پر بطور معاشرہ کئی سوالات اُٹھ گئے ہیں۔
اس عائشہ نامی لڑکی اور نور مقدم کیس میں کئی مماثلات ہیں۔
دونوں لڑکیاں متنازعہ بیک گراونڈ کی تھیں۔
دونوں مشرقی اور اسلامی روایات کی پاسداری نہ کرنے والی آزاد خیال خواتین تھیں۔
نور مقدم تو دنیا سے چلی گئی،اُس پر زیادہ بات کرنا بھی ہماری روایات کے خلاف ہو گا۔
نور مقدم کیس میں ملوث درندے ،مجرم اور قاتل کو عبرتناک سزا کادیا جانا بہت ضروری ہے۔
جس وحشیانہ طریقے اور بر بریت سے اس خاتون کو قتل کر کے اسکا سر تن سے جدا کیا گیا۔
اسکی مہذب معاشروں تو کیا جنگل کی دنیا میں بھی کوئ مثال نہیں ملتی۔
مینار پاکستان والے کیس میں لڑکی کے متنازعہ کردار پر بہت سے سوالات اُٹھاۓ جا رہے ہیں۔
ایک تو یہ کہ وہ وہاں رش اور بھیڑ والے دن ٹک ٹاک وڈیو بنانے کیوں آئ؟
دوسرا یہ کہ اس نے بھارتی جھنڈا اُٹھا رکھا تھا،تاہم اس بات کی تصدیق پاکستان میں آزاد زرائع سے تو نہیں ہو سکی مگر ہمارے کچھ اندرونی دشمنوں کی وساطت سے بھارت تک جا پہچی ،
جسے بھارتی میڈیا نے مرچ مصالحہ لگا کر خوب اُچھالا۔
لڑکی پر تیسرا اعتراض یہ اُٹھایا جا رہا ہے کہ اس نے نامناسب لباس پہن رکھا تھا۔
لڑکی پر لگاۓ گئے اعتراضات پر متفق ہونے کے بعد بھی کیا ان لوگوں کے گھناؤنے کام کو معاف کیا جا سکتا ہے کہ جس طرح وہ ایک لڑکی پر جھپٹ پڑے۔
کیا ان کے پاس یہ اختیار تھا کہ وہ لڑکی کو لوٹ مار کا مال سمجھ کر اس پر کتوں کی طرح ٹوٹ پڑیں
انہیں اس بر بریت کی معافی کبھی بھی نہیں دی جا سکتی۔
کون کس طرح کا لباس پہنتا ہے۔کون کس طرح کا کام کرتا ہے۔
اس کو دیکھنا لوگوں کا کام نہیں تھا۔
اگر ان سب کو لڑکی کا وڈیو بنانا برا لگا تھا تو اسے لعن طعن کرتے۔
اسے اس جگہ سے دفع دور ہونے کا کہہ دیتے۔
مگر اُن کے لئے تو لڑکی کو دبوچنا ضروری تھا،جو انہوں نے کیا۔
اگر اس قسم کے فیصلوں کی اجازت لوگوں کو دے دی گئی تو معاشرے میں پھیلےجاہل لوگ عام آدمی کا جینا دشوار کر دیں گے۔
عورتوں کا گھروں سے نکلنا دشوار ہو جاۓ گا۔
اس واقعہ کو اقرار سید اور شامی نامی لڑکے نے سستی شہرت کے لئے استعمال کیا،جبکہ اقرار نے تو ہمیشہ کی طرح سارا ملبہ پاکستان پر بطور ملک ڈال دیا،
تاکہ بھارت جسے وہ پاکستان سے بہتر سمجھتا ہے،
خوش ہو اور بھارت خوش ہوا بھی۔
بھارت ہمارا ازلی دشمن ہے،وہ تو موقع کی تاک میں رہتا ہے۔
اور اسے ایسے مواقع اقرار جیسے بندے اور ڈان جیسے اخبار گاہے بگاہے فراہم کرتے رہتے ہیں۔
ہمیں ایسے واقعات کی روک تھام کے لئے ہر پہلو کو دیکھنا ہو گا۔ہمیں ہر زاویے سے پرکھنا ہو گا کہ کون کہاں پر غلط تھا۔
اسی واقعہ میں جس طرح ہجوم نے لڑکی کے ساتھ جانوروں جیسا سلوک کیا،اُسکی جان بھی جا سکتی تھی۔
آپ سوچیں کہ اگر اس واقعے میں خدانخواستہ اس لڑکی کی جان چلی جاتی تو کیا ہوتا؟
ایک تو یہ بہت بڑا انسانی المیہ ہوتا
دوسرا بین الاقوامی میڈیا اسے جس بری طرح ہمارے ملک کے خلاف استعمال کرتا،
وہ سوچنا بھی محال ہے-
ہم تو پہلے ہی اندرونی اور بیرونی دشمنوں کے نرغے میں ہیں۔
کوئ ایسا وقت نہیں،جب ہمارے خلاف سازشوں کے تانے بانے نہ بُنے جا رہے ہوں۔
ایسے میں ہم اس طرح کے بے مقصد واقعات کے متحمل کیسے ہو سکتے ہیں؟
اس واقعہ سے ہمیں یہ سبق بھی ملتا ہے کہ کسی بھی معاملے کی تہہ تک پہچے بغیر کوئ نتیجہ اخذ مت کریں۔
کڑی سے کڑی ملنے کا انتظار کریں تاکہ بعد میں اپنے لکھے گئے الفاظ اور کہی گئی بات پر شرمندگی نہ ہو۔
اس معاملے میں بھی ایسا ہی ہوا۔
شروع میں ہی کچھ لوگوں نے صرف ہجوم میں شامل ملزمان کو اپنا نشانہ بنایا۔بعد میں لڑکی کا کردار بھی کچھ مشکوک نظر آنے لگا،
جس سے یہ تاثر ملنے لگا کہ یہ سب کچھ ایک باقاعدہ منصوبہ بندی کا نتیجہ تھا،
جس کا مقصد شہرت اور فالوورز کا حصول تھا۔
آجکل فالوورز اور ریٹننگ کے حصول کے لئے بھی ایسےایسے ہتھکنڈے استعمال کئے جاتے ہیں کہ عقل دنگ رہ جاتی ہے۔
لہذا فیصلہ کرنے میں کبھی بھی جلد بازی نہ کریں۔اور جب بھی کوئ فیصلہ کریں تو اس میں یہ بات ضرور یاد رکھیں کہ ہم جانے انجانے میں کہیں پاکستان کے مفادات کو نقصان تو نہیں پہچا رہے؟
کہیں ہم کسی شازشی گھن چکر میں آکر کہیں کوئ اپنا نقصان تو نہیں کر رہے-
اس قسم کے واقعات ہمیں بعض دفعہ اتنا جذباتی کر دیتے ہیں کہ ہم بغیر سوچے سمجھے دشمنوں کے اس جال میں پھنس جاتے ہیں،
جسے ففتھ جنریشن وار کا نام دیا جاتا ہے۔
ہم نادانی میں اس ففتھ جنریشن وار کا مقابلہ کرنے کے بجاۓ اسی کا ایندھن بن جاتے ہیں،
جو ہمارے لئے بطور معاشرہ اور بطور ایک ملک کے سخت نقصان دہ ہوتا ہے۔
ہمیں اپنی کردار سازی کی ضرورت ہے۔معاشرے میں وہ چیزیں لیکر آئیں،جن کی اجازت دین اسلام بھی دیتا ہو۔ان چیزوں پر قانون سازی ہونی چاہیے،جو حکومت کی زمہ داری ہے۔لوگوں کو جج اور منصف کا حق نہیں دیا جا سکتا،ورنہ ہم جنگل کا معاشرہ بن جائیں گے،
لوگوں کو راہ راست پر لانے کے لئے معتدل رویہ اختیار کریں۔
جھپٹ نہ پڑیں،اپنے اندر کے شیطان کی تسکین کے لئے۔
پاکستان میں ہم اپنی اُن روایات کے باغی نہیں ہو سکتے،
جن میں گھر کے بڑے چھوٹوں کو نصیحت کرتے ہیں۔
جہاں باہر جانے کے لئےباپ ،بھائ اور خاوند کی اجازت درکار ہوتی ہے۔
جہاں شام کے بعد گھر کے نوجوانوں کو گھر سے باہر جانے سے روکا جاتا ہے۔
جہاں مائیں اور گھر کی بڑی بوڑھیاں ہر وقت اپنے بچوں کو سمجھاتی رہتی ہیں کہ یہ پہنو،اس طرح بیٹھو،اس طرح بات کرو۔
یہیں سے ہمیں وہ تربیت ملتی ہے،جو ہماری سوسائٹی کا خاصہ ہے۔انہیں طور طریقوں میں یہ خاصیت اور انفرادیت بھی ہوتی ہے،
جہاں والد کسی بھی وقت اپنے بچوں کے موبائیل دیکھ سکتا ہے کہ بچے کونسی ویب سائیٹ یا مواد دیکھ رہے ہیں ؟
ان چیزوں کے بڑے فائدے ہیں،مگر خونی لبرلز کے نزدیک یہ سب دقیانوسی سوچ اور آؤٹ آف فیشن چیزیں ہیں۔کسی بھی معاملے میں خونی لبرلز اور موم بتی مافیاز جیسے فتنوں کے جھانسے میں نہ آئیں،
کیونکہ ان لوگوں کو تو ہڈی ہی اسی مقصد کے لئے ڈالی جاتی ہے کہ کسی نہ کسی طرح اس معاشرے اور ہماری مذہبی درخشندہ روایات کو نقصان پہنچایا جاۓ۔
لوگوں کو خوبصورت مشرقی روایات اور بے مثال اسلامی اقدار سے دور کیا جا سکے۔
یہی ففتھ جنریشن وار ہے،جس کا مقابلہ ہم نے ایک اچھے مسلمان کے طور پہ
ایک اچھے پاکستانی کے طور پہ
اور سب سے بڑھ کر ایک اچھے انسان کے طور پر کرنا ہے۔
کیونکہ ایک اچھا انسان بنے بغیر ہم نہ تو اچھے پاکستانی بن سکتے ہیں اور نہ ہی اچھے مسلمان #تحریر-سید لعل حسین بُخاری
@lalbukhari
حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ ایک عظیم خلیفہ ! تحریر: ناصرہ فیصل
عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ سعودی عرب کے مقدس شہر مکہ مکرمہ میں پیدا ہوئے، آپ کا نام عمر بن خطاب، لقب ‘فاروق’ اور کنیت ‘ابو حفصہ’ تھی۔ آپ حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے خسر اور تاریخ اسلام کی اہم ترین شخصیات میں سے ایک ہیں۔ عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ عشرہ مبشرہ میں سے ہیں، ان کا شمار بہترین علما و زاہدین صحابہ میں ہوتا تھا عمر رضی اللہ عنہ مسلمانوں کے دوسرے خلیفہ اور پہلے مسلم لیڈر تھے جنہیں امیر المومنین کا خطاب دیا گیا۔ ہمارے پیارے نبی کریم حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وصال کے بعد ،آپ کے سب سے قریبی دوست ،حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو مسلمانوں کا پہلا خلیفہ چنا گیا اور انہوں نے تقریباً دو سال تک مسلمانوں کی رہنمائی فرمائی، جب ابوبکر صدیق کو اپنا آخری وقت قریب دکھائی دیا تو انہوں نے اپنے قریبی رفقاء کو اکٹھا کیا اور انہیں بتایا کہ انکا ساتھ اب ختم ہونے کو ہے اس لیے اب وہ اپنا اگلا خلیفہ اپنے درمیان سے کسی کو چن لیں۔ لیکن بہت سی بحث اور مشوروں کے بعد بھی جب کی فیصلہ نہیں کر سکے تو انہوں نے حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کو فیصلہ کرنے کا اختیار سونپا ۔آپ نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا انتخاب فرمایا۔۔
حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے آس پاس کے کچھ لوگوں نے اس پر تشویش کا اظہار کیا ک چونکہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ بہت ہی سخت مزاج اور غصیل شخصیت کے حامل ہیں تو لوگوں پر بہت سختی کریں گے۔ جسکے جواب میں
حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ اس وقت اُن سب میں سے بہترین انسان ہیں۔ حضرت عمر فاروق کو مسلمانوں کے دوسرے خلیفہ کے طور پر چن لیا گیا۔ آپ نے خلافت سنبھالتے ہی سب سے پہلے اپنے لوگوں سے خطاب کیا اور خود سے اپنی توقعات کے بارے میں وضاحت کی۔۔ آپ کو اپنی سخت گیر طبیعت کے بارے میں لوگوں کی تشویش سے آگاہی تھی اس لیے اپنے خطاب میں اسکے متعلق فرمایا:لوگو! گواہ رہی کے مجھے آپ لوگوں کے معاملات دیکھنے کے لیے چنا گیا ہے اس لیے میری سختی آپ لوگوں کے لیے اب کمزور پڑ گئی ہے۔ لیکن میری سختی اور کھردرا پن ابھی بھی حد سے تجاوز کرنے اور جبر کرنے والوں کے لیے قائم ہے۔ اور انکے رخسار مٹی میں ملاؤں گا ۔۔ نیک اور پرہیز گار لوگوں کی حفاظت کے لیے میں اپنے رخسار بھی مٹی میں ملا ڈالوں گا۔
ساتھ ہی ساتھ آپ نے لوگوں کو بتایا کہ وہ جو کچھ بھی کاشت کرتے ہیں یا جو بھی مال غنیمت انکا ہے اس میں سے کچھ بھی نہیں لیں گے ہاں مگر بس اتنا ہی جتنا کے اللہ کا حکم ہے۔ اور اس مال کو بھی وہ صرف اللہ کے حکم کے مطابق خرچ کریں گے۔ انہوں نے لوگوں کو بتایا کہ وہ انکی تنخواہیں بڑھائیں گے اور انکی سرحدوں کی حفاظت کریں گے. آپ نے وعدہ کیا کے وہ اپنی فوج کو غیر ضروری خطرے میں نہیں ڈالیں گے اور انکو زیادہ لمبے عرصے تک اپنے خاندانوں سے دور نہیں رکھیں گے۔ اور انکی غیر موجودگی میں ریاست انکے بیوی بچوں کی ذمےداری لیے گی۔ آپ یقین رکھتے تھے کے لیڈر کا کام اپنی ریاست کے لوگوں کی حفاظت کرنا ہے۔آپ اتنی بڑی ریاست کے حکمران ہونے کے باوجود ،اپنے ساتھ کوئی محافظ نہی رکھتے تھے۔ مدینہ کی گلیوں میں آپ ایک عام انسان کی طرح گھومتے پھرتے تھے، حتٰی کہ رات کے وقت بھی۔ بلکہ رات کے وقت وہ جان بوجھ کر گلیوں میں گھومتے اور مجبور لاچار لوگوں کی مدد فرماتے۔
آپ خود کو ایک معمولی انسان گردانتے لیکن تاریخ اور حقائق حمے یہی بتاتے ہیں کے آپ ایک عظیم الشان حکمران اور انسان تھے، آپ جسمانی اور روحانی دونوں لحاظ سے بہت مضبوط انسان تھے۔ آپ بہت سخی، نیکوکار اور عاجزی سے زندگی گزارنے والے انسان تھے۔ آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اسوہ حسنہ پر پوری طرح کاربند تھے۔ آپ حق اور باطل کی بخوبی پہچان کر سکتے تھے۔ آپ تکلیف محسوس کرتے تھے جب امت یا کوئی ایک فرد بھی کسی تکلیف میں ہوتا اور آپ خوش ہوتے تھے جب امت کو خوشحال اور مطمئن دیکھتے تھے۔ آپ چار خلفائے راشدین میں سے تھے۔ آج بھی آپ طاقت، انصاف، پیار اور رحم کرنے میں سب کے لیے ایک مثالی شخصیت ہیں۔آپ ایک باعظمت، انصاف پسند اور عادل حکمران مشہور ہیں۔
@NiniYmz
(حسینی شعور) دیتی رہے گی درس شہادت حسین قیامت تک : تحریر محمد جاوید
کربلا عراق کا ایک اہم شہر ہے۔ یہ وہ شہر ہے جہاں امام حسین رضی اللہ عنہ کو یزید نے شہید کیا جو عراق کا حکمران تھا۔ کر بلا کا وقعہ ایک اہم واقعہ ہے جو تاریخ میں ہمیشہ کے لیے یاد کیا جائے گا ۔
حق اور باطل کا معرکہ دنیا میں ہمیشہ بر پا رہا ہے اور آیندہ بھی برپا رہے گا ۔
موسی اور فرعون، ابراھیم اور نمرود محمد اور ابوجہل اور حسین اور یزید کے چراغ وشرر کی آویزش پیہم ہی نے انسانی تاریخ کی اکثر داستانوں کو دلچسپ اور زندہ جاوید بنایا ہے۔ جب تک دنیا قایم ہے حق وہ انصاف کی طرفداری اور ناانصافی و ظلم کی سر کوبی کے لئے ، نیک اور جرات مند روحیں پیدا ہوتی رہیں اور ایسے مصلحت اندیش اور بزدل لوگ بھی جنم لیتے رہیں گے جو دنیاوی مفادات کے لئے ذلت اور رسوائی کی زندگی بسر کرنے کے لیے تیار رہتے ہیں اور جن کی بدولت ان کے بازوؤں میں قوت اور ہاتھ میں تیغ آتی ہے ، بالا آخیر ان ہی پر چڑھ ڈورتے ہیں۔
عاشورہ کے روز امام حسین نے یزیدی فوجوں کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا تھا” کیا تمیں معلوم ہے کہ تم حسین بن علی اور اسلام کے بہترین اور مخلص ترین جانباز سپاہیوں کے خلاف تلواریں سونت رہے ہو ؟ یہ واہی تلواریں ہیں جو پیغمبر اسلام نے تمارے ہاتوں میں دی تھی. جو آگ ہم نے اپنے اور تمارے دشمن بهسم کرنے کے لئے جلائی تھی واہی آگ اب تم ہمیں جلانے اور تباہ کرنے کے لئے استعمال کرہے ہو۔”
امام عالی مقام نے ذلت اور رسوائی کی زندگی بسر کرنے کی بجائے جنگ کے راستے کا انتخاب کر لیا تھا اور یہ ان کا قطعی اور اٹل فیصلہ تھا انہوں نے فرمایا ” یہ بات کہ ہم ذلیل ہو نہ اللّه کو پسند نہ اس کے رسول کو اور نہ مومین کو۔ ہم نے جن ماؤں کے پاکیزہ گودوں میں پرورش پائی ہے ان کو یہ منظور نہیں کہ اپنے یا امت کیلے ذلت وہ خواری اور مایوسی وہ ناامیدی کا دروازہ کھولیں یہ بہادر جو میرے ساتھ ہیں یہ جواں مرد جو یہاں تک میرے ہمراہ آئے ہیں اور میرے ارد گرد صف آراء ہیں انکو بھی اپنی اور امت کی خواری منظور نہیں۔ یہ وہ لوگ نہیں جو ادنی ا درجے کے لوگوں کی اطاعت اور فرمانبرداری کی شہادت کو ترجیح دیں۔ ”
تاریخ نے شہادت حسین سے پہلے بھی شہادت حسین کے بعد بھی ہر دور میں یہی شہادت دی کہ سچائی اور صداقت کی راہ میں جان دینے والے بظاھر بظاھر شکست کھانے کے باوجود ہمیشہ ہمیشہ کے لئے انسانیت کی پیشانی کا جھومر بنتے ہیں اور نا انصافی اور باطل کا ساتھ دینے والے اور سیاست اور حکومت میں نفسیاتی خواہشات کی اطاعت وہ فرمابرداری کرنے والے وقتی کامرانیوں کے باوجود تاریخ کی نگاہ میں ادنی درجے کے لوگوں میں شمار ہوتے ہیں۔ یزید کو فتح حاصل ہوئی لیکن عزت وتوقیر امام حسین کو ملی۔ امام حسین کے نزدیک طاقت اور قوت حق نہیں حق بزات خود طاقت اور قوت ہے قوت حق کا اظہار امام حسین کے علاوہ تاریخ تاریخ اسلام اور بہت سی محترم شخصیتوں نے کیا ہے۔ یہ سلسلہ ہر دور میں جاری رہا لیکن حق کی وہ کونسی سطح ہے جیس کے لئے عظیم شخصیتں جان و مال کی قربانی دیتی آئی ہیں اور جیس کے حوالے سے امام حسین کے قیام اور تحریک نے اسلامی تاریخ کی اگلی پچھلی تمام مقدس تحریکوں میں مرکزی حثیت حاصل کر لی ہے ۔
جاری ۔۔۔۔۔
@I_MJawed
فلسطین! اسرائیلی جارحیت کا سلسلہ جاری تحریر : اقصٰی صدیق
فلسطین اسلامی ممالک کی فہرست میں ایک مسلمان ملک اور مسجد الاقصیٰ کا تعارف ہے۔ مسجد اقصی کو مسلمانوں کا قبلۂ اول مانا جاتا ہے۔مسجد اقصٰی مشرق میں یروشلم کی سب سے بڑی مسجد ہے۔ جس پر ان دنوں اسرائیل قابض ہے۔اسرائیل کا فلسطین پر قبضہ فلسطین کے تاریخی واقعات میں سر فہرست ہے۔
اسلامی ملک فلسطین کی سرحدیں لبنان، اردن، شام اور مصر سے ملتی ہیں۔
لبنان اور مصر کے درمیان واقع کا علاقہ فلسطین کے نام سے جانا جاتا ہے، جس کے آدھے حصّے پر اب اسرائیل کی حکومت ہے۔
کہا جاتا ہے کہ 1948ء سے پہلے یہ تمام علاقہ فلسطین کا حصہ تھا۔ 1948ء میں اسرائیل نے فلسطین پر قبضہ کر لیا اور یہ قبضہ تاحال جاری ہے۔
اس سے پہلے اس علاقے پر فرانسیسی اور انگریز حکومت کرتے رہے ہیں۔
اس ملک کا دار الحکومت بیت المقدس ہے۔جس پر 1967ء میں اسرائیل نے قبضہ کر لیا تھا۔
حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے دور میں مسلمانوں نے بیت المقدس فتح کیا، اور اس دوران حضرت عمر فاروق ؓ نے مسجد اقصٰی کی بنیاد رکھی۔خدا کی توحید اور وحدانیت پر ایمان کی تبلیغ کا آغاز پیغمبر حضرت ابراہیمؑ کی فلسطین میں آمد سے ہوا۔حضرت ابراہیمؑ کا مزار بھی سر زمین فلسطین پر ہے۔بیت المقدس کو اسرائیلی یروشلم بھی کہا جاتا ہے،
مسلمانوں کا قبلہ اول اسی جگہ واقع ہے۔ اور اس شہر کو مسلمان، یہودی ، اور مسیحی جو کہ مختلف مزاہب رکھتے ہیں، اس کو آج بھی مقدس مانتے ہیں۔فلسطین کو انبیاء کرام علیہم السلام کی سر زمین بھی کہا جاتا ہے، دین اسلام کی اشاعت کے سلسلے میں کئی انبیاء کرام حضرت یعقوب علیہ السلام، حضرت یوسف علیہ السلام، ،حضرت سلیمان، حضرت یحییٰ علیہ السلام، حضرت موسیٰ علیہ السلام، حضرت عیسیٰ علیہ السلام، حضرت داؤد علیہ السلام اور بہت سے دیگر پیغمبر اس مقدس سر ذمین سے گزرے ہیں ۔تاریخ سے پتہ چلتا ہے کہ فلسطین کی سرزمین پر مسلمان، عیسائی اور یہودی مقیم رہے ہیں۔
جبکہ آج کل اسرائیل اور مغربی کنارے میں یہودی اسرائیلی شناخت کرتے ہیں۔قابض ملک اسرائیل کے موجودہ عرب شہری اپنی شناخت اسرائیلی، فلسطینی یا عرب کے طور پر کرواتے ہیں۔
اکثریت آبادی مسلمان ہے، اور سرکاری زبان عربی ہے۔
اہم شہر غزہ، بیت لحم، الخلیل اور
ادیان اسلام ہیں۔فلسطین دنیا کے قدیم ترین ممالک میں سے ایک ہے۔اور اس کی آزادی کی جنگ اس کے وجود میں آتے ہی شروع ہو گئی تھی جو ابھی تک جاری ہے۔ دنیا کی ہرزبان کے ادب میں اس کی آزادی کی جدوجہد پر کئی کتابیں شائع ہو چکی ہیں۔
اور آج کل اسرائیلی جارحیت کے تحت یہ سرزمین اپنے اوپر ہونے والے ظلم و ستم کے باعث خبروں کی زینت بنی ہوئی ہے، اپنی آزادی کی جنگ کے دوران اس ملک میں کئی جنگیں، عوامی تحریکیں اور بڑے پیمانے پر شہریوں پر مظالم اور ان کے قتل عام ہوتے رہے ہیں۔ایک اندازے کے مطابق اسرائیلی ریاست کے قیام کے بعد ساڑھے 7 لاکھ فلسطینیوں کو اپنی آبائی سرزمین فلسطین سے نکال دیا گیا، اور مقامی لوگوں نے اپنی سرزمین چھوڑ کر قریبی ممالک مصر ، عراق، لبنان اور شام کی جانب رخ کیا۔ اور جو لوگ اس وقت رہ گئے تھے، وہ اسرائیلی ریاست کے تسلط میں ہیں، جن کے ساتھ آج تک اسرائیلی مظالم جاری ہیں۔
اسرائیلی دہشت گردی گزشتہ 73 سالوں سے جاری ہے، جس کا نتیجہ ہر بار معصوم جانوں کا ضیاع اور نقل مکانی کی صورت میں نمودار ہوتا ہے۔
رواں سال بھی اسرائیل فوج نے اس بار رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں ليلۃ القدر کے موقع پر مقبوضہ بیت المقدس (یروشلم) کے علاقے شیخ جراح سے فلسطینیوں کو زبردستی نکالا، اور پر تشدد حملے شروع کیے، ان حملوں کے دوران رواں برس 7 سے 18 مئی 2021 ء کی سہ پہر تک 34 خواتین اور 58 بچوں سمیت 201 افراد جاں کی بازی ہار گئے۔
اسرائیل کی یہ کاروائیاں کئی برسوں سے جاری ہیں، اور تمام امت مسلمہ اس پر خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔
ایک اندازے کے مطابق سال 2017 ء میں تقریباً 30 لاکھ کے قریب فلسطینی شہری بے آسرا اور گھروں کے بغیر زندگی گزارنے پر مجبور ہیں، کیوں کہ ان کے گھر اسرائیلی جارحیت کے دوران مسمار کر دئیے گئے ہیں، اور شہر میں آئے دن یہودی بستیوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔
پس سات دہائیوں سے مظالم کا سلسلہ جاری و ساری ہے۔
گذشتہ کئی روز سے فلسطینی اپنے گھروں تک محدود ہو کے رہ گئے تھے، کیونکہ باہر نکلنا بھی موت کا باعث بن سکتا تھا۔
اسرائیلی دہشت گردی کے نتیجے میں ایک مرتبہ پھر مشرق وسطیٰ مسلمانوں کے خون سے سرخ ہو چکی ہے۔خاص طور پر اسرائیلی افواج نے اس دوران معصوم بچوں کو نشانہ بنا کر مسلمانوں کی نسل کشی کی طرف قدم بڑھائے ہیں۔اس کے علاوہ غزہ شہر دہشت گردی کے دوران بمباری کے نتیجے میں بری طرح تباہ اور متاثر ہوا ہے۔تاہم گزشتہ دنوں اسرائیل کے ساتھ تازہ فلسطینی جھڑپیں شروع ہونے کے بعد سے حماس کے اسرائیلی جارحیت کے مد مقابل انتہائی منظم خودکش حملوں کے سلسلے کو بہت پذیرائی ملی ہے، اور تمام فلسطینیوں نے سکھ کا سانس لیا ہے، حماس اور اسرائیل اپنی اپنی آزادی کی جنگ لڑ رہے ہیں۔
دنیا میں حماس فلسطینیوں تک یہ پیغام پہنچانے میں کامیاب ہو چکا ہے کہ وہ کسی بھی قسم کی لڑائی کے لیے اور یروشلم، (مسجد اقصٰی) اور فلسطینی ریاست کے حقوق کے لیے قربانیاں دینے کے لیے ہمیشہ تیار ہے۔
حماس کی طرف سے دنیا کیلئے ایک چھوٹا سا پیغام ہے کہ اس کے خدا کی وحدانیت پر یقین رکھنے والے بہادر جنگجو ”آخری دم تک یروشلم کے لیے لڑتے رہیں گے”
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی اسرائیلی جارحیت کے خلاف امن و امان کی کارکردگی میں کوئی خاص پیش رفت نہیں ہوئی ہے،
اب وقت آگیا ہے کہ اسرائیلی جارحیت کے خلاف اور مسجد اقصیٰ کے تحفظ کی خاطر مسلمانوں کو اٹھ کھڑے ہونا ہے۔@_aqsasiddique

محرم الحرام کی قرآن اور احادیث کی روشنی میں فضیلت | تحریر احسان اللہ خان
اللہ تعالیٰ نے اپنی کامل قدرت سے بے شمار مخلوقات پیدا کیں اور ہر مخلوق میں کسی نہ کسی کو چن کر بااختیار بنا کراپنی تمام مخلوق پہ فوقیت دی جیساکہ فرشتوں میں سے چار فرشتے معتبر، انسانوں میں سے رسول بنائے جبکہ رسولوں میں سے جناب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو برتری عطاء فرمائی اور رحمت اللعالمین کے لقب سے نوازا، زمین سے مساجد کو اختیار دیاجبکہ مساجد میں بیت اللہ شریف کو رحمت الہیٰ کا مرکز قرار دیا۔
کلام میں سے قرآن شریف کو کلام الہیٰ کا لقب دے کر عزت بخشی ۔ایام میں جمعتہ المبارک کو مبارک دن قرار دیاجبکہ راتوں میں لیلتہ القدر کو چنا، اسی طرح مہینوں میں چار مہینوں کوخاص فوقیت دی جن میں محرم الحرام بھی شامل ہے یقینا محرم الحرام عظمت والا اور بابرکت مہینہ ہے اسلامی تقویم کا آغاز محرم الحرام سے ہوتا ہے جو کہ اسی فطری نظام کائنات کے تحت جیسا کہ خالق کائنات نے مقرر فرمایا ہے ۔ ان عدةالشہورعنداللہ اثنیٰ عشر شہرافی کتاب اللہ یوم خلق السمٰوات والارض منہااربعتہ حرم ذلک الدین(سورہ توبہ)ترجمعہ یقینا مہینوں کی تعداد تو اللہ تعالیٰ کے نزدیک بارہ ہے اللہ کی کتاب (لوح محفوظ )میں جس دن کہ پیدا کیا آسمانوں اور زمینوں کواور ان میں چار حرمت والے مہینے ہیں ہی سیدھا درست دین ہے۔
ان بارہ مہینوں کی ترتیب محرم سے شروع ہو کر ذی الحجہ پہ ختم ہوتی تھی اور چار مہینے محرم،رجب،ذیقعدہ، ذی الحجہ اشہر حرم تھے جن میں قتل و قتال جائز نہیں تھا ۔اہل عرب ان چار مہینوں کا لحاظ و پاس کرتے تھے حالانکہ ریگستان عرب کے بدووں اور بادیہ نشیں قبائل کی معیشت و زندگی کا دارومدار عام طور پر لوٹ مار پر تھا قافلوں اور مسافروں کو لوٹنا ان کا مشغلہ تھا بلکہ روزی روٹی کے حصول کیلئے ایک قبیلہ دوسرے قبیلے پہ حملہ آور ہوتا تھا اسی وجہ سے عرب کی زمین پر خون خرابہ قتل و قتال اور غارت گری کا ایک چلن تھا جو قبیلہ زیادہ جنگجو ہوتا اسکی عظمت و شوکت تسلیم کی جاتی تھی مگر یہ تمام خون خرابے لوٹ پاٹ اشہر حرم میں موقوف کر دئے جاتے تھے۔اسلام نے انکے عزت و احترام کو مزید بڑھایا ۔نیز ان مہینوں میں نیک اعمال اور اللہ کی اطاعت ثواب کے اعتبار سے کئی گنا بڑھ جاتی ہے اسی طرح ان میں برائیوں کا گناہ دوسرے دنوں کو برائیوں سے سخت ہے لہذاٰ ان مہینوں کی حرمت توڑنا جائز نہیں۔
اسی طرح حضرت عبداللہ بن عمر نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایام تشریق میں مقام منیٰ میں حجتہ الوداع کے موقعہ پر خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا ؛ .لوگو!زمانہ گھوم پھر کر آج پھر اسی نقطہ پہ آگیا ہے جیسا کہ اس دن تھا جبکہ اللہ نے زمین و آسمان کی تخلیق فرمائی تھی ۔سن لو،سال میں بارہ مہینے ہیں جن میں چار حرمت والے ہیں،وہ ہیں؛ذوالقعدہ،ذوالحجہ ۔محر م اور رجب ۔ حضرت قتادہ رحمہ اللہ نے فرمایاان مہینوں میں عمل صالحہ بہت ثواب رکھتا ہے اور ان مہینوں میں ظلم و زیادتی بہت بڑا گناہ ہے صحیح بخاری کتاب التفسیر میں حضرت ابوبکر سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا بے شک زمانہ گھوم کرپھر اسی نقطہ پر آگیا ہے جب اللہ تعالیٰ نے زمین وآسمان پیدا کئے تھے۔سال بارہ مہینے کا ہوتا ہے اس میں چار مہینے حرمت والے ہیں جس میں تین لگاتار ہیں ذی قعد،ذی الحجہ اور محرم ،چوتھا رجب جو جمادی الآخر اور شعبان کے درمیان ہوتا ہے ۔ انحرمت والے چار مہینوںمیں کسی قسم کی برائی اور فسق و فجور سے کلی طور پر اجتناب کرنا اور انکے احترام کو ملحوظ خاطر رکھنا ضروری ہے ۔ماہ محرم وہ مہینہ ہے جس میں دس تاریخ کورسول اللہ نے روزے کا دن قرار دیااور اسے سال بھر کیلئے کفارہ گناہ ٹھہرایا ہے۔
محرم کے روزے
حضرت ابو ہریرہ سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ، رمضان کے بعد سب سے افضل روزے ماہ محرم کے روزے ہیں ،جو اللہ کا مہینہ ہے اور فرض نمازوں کے بعد سب سے افضل نماز تہجد کی نماز ہے ۔ (صحیح مسلم ؛کتاب الصیام ،باب فضل صوم المحرم /مشکوة ص178)
عاشورہ محرم کا روزہ
حضرت حفصہ فرماتی ہیں کہ ،آپ ۖچار چیزیں نہ چھوڑا کرتے تھے ان میں سے ایک عاشورہ کا روزہ ہے ۔(سنن النسائی)
ابن عباس فرماتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم ۖ کو کسی دن کے روزے کا دوسرے عام دنوں کے روزوں پر افضل جاننے کا ارادہ کرتے ہوئے نہیں دیکھا جس طرح یوم عاشورہ اور ماہ رمضان کا اہتمام کرتے ہوئے دیکھا ہے ۔(بخاری، مسلم)
عاشورہ کے ساتھ ٩یا ١١ /محرم کا روزہ
بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ ،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہود کی مشابہت سے بچنے کیلئے اسکے ساتھ نویں محرم کا روزہ رکھنے کا ارادہ ظاہر فرمایا تھا ۔چنانچہ صحیح مسلم کی روایت ہے ،ابن عباس اس حدیث کے روای ہیں کہ ،، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عاشورہ کا روزہ رکھا اور لوگوں کو رکھنے کا حکم دیا تو لوگوں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! یہ تو ایسا دن ہے جسکی یہود ونصاریٰ بڑی تعظیم کرتے ہیںتو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ سن کر فرمایاکہ آئندہ سال انشاء اللہ ہم دس محرم کے ساتھ نو محرم کا روزہ بھی رکھیں گے ۔اگلا سال آنے سے قبل آپۖوفات پا گئے ۔(صحیح مسلم /مشکوة179)
ایک روایت میں ذکر ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ،، یہود دس محرم کا روزہ رکھتے ہیں تم ان کی مخالفت کرو اور اسکے ساتھ نو تاریخ کا روزہ بھی رکھو
ام المومنین حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ،، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عاشورہ کے روزے کا حکم فرماتے ہیں مگر جب رمضان فرض ہو گیا تو فرماتے تھے جو شخص چاہے روزہ رکھے جو چاہے افطار کرے ۔(صحیح بخاری)
اور مسند احمد کی ایک روایت میں ١١/محرم کا ذکر بھی ملتا ہے یعنی ٩محرم یا ١١ /محرم
ماہ محرم کی بدعات
ہم نے ماہ محرم میں بہت سے غلط رسم و رواج کو اپنا رکھا ہے اسے دکھ اور مصائب کا مہینہ قرار دے لیا ہے جس کے اظہار کیلئے سیاہ لباس پہننا شروع کر دیا ہے ۔رونا پیٹنا ،تعزیہ کا جلوس نکالنا اور مجالس عزا وغیرہ کا اہتمام کرنا یہ سب کچھ ثواب کا کام سمجھ کر حضرت حسین سے محبت کے اظہار کے طور پر کیا جاتا ہے حالانکہ یہ سب چیزیں نبی اکرم حضرت محمد ۖ کے فرمودات کے صریح خلاف ہیں ۔شیعہ حضرات کی دیکھادیکھی خود کو سنی کہلانے والے بھی بہت سی بدعات میں مبتلا ہو گئے ہیں مثال کے طور پہ اس ماہ میں شادی بیاہ کو بے برکتی اور مصائب وآلام کے دور کی ابتدا کا باعث سمجھ کر اس سے احتراز کیا جاتاہے حالانکہ محرم میں شادی کرنا کوئی گناہ یا برائی نہیں ۔سال کے کسی بھی مہینے میں شادی کرنا نہ ہی گناہ ہے ،نہ ہی عیب ہے کوئی مہینہ منحوس نہیں لہذامحرم میں بھی شادیاں کرنی چاہئے کیونکہ محرم میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا کا نکاح ہوا،سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ اورحضرت ام کلثوم رضی اللہ عنہا کا نکاح ہوا ،سیدنا علی المرتضیٰ اور سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کا نکاح مبارک ہوا۔لوگ اس ماہ میںاعمال مسنونہ کو چھوڑ کر بہت سی من گھڑت اور موضوع احادیث پر عمل کرتے ہیں
کیا ماہ محرم صرف غم کی یادگار ہے؟شہادت حسین رضی اللہ عنہ اگرچہ اسلامی تاریخ کا بہت بڑا سانحہ ہے لیکن یہ صرف ایک واقعہ نہیں جسکی یاد محرم سے وابستہ ہے بلکہ محرم میں کئی دیگر تاریخی واقعات بھی رونما ہوئے ہیں جن میں چند ایک افسوسناک ہیں تو کئی واقعات ایسے بھی ہیں جن پر خوش ہونا اور اللہ تبارک وتعالیٰ کا شکر بجا لانا لانا چاہئے جیسا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کی اقتدا میں عاشورے کے دن شکر کا روزہ رکھا کہ اللہ تعالیٰ نے اس دن موسیٰ علیہ السلام کو فرعون سے نجات دی تھی نیز اگر اتفاق سے شہادت حسین رضی اللہ عنہ کا المیہ بھی اسی ماہ میں واقع ہو گیا تو بعض دیگر جلیل القدرصحابہ کرام کی شہادت بھی تو اسی ماہ میں ہوئی ہے مثلاً سطوت اسلام کے عظیم علمبردار خلیفہ ثانی حضرت عمر بن خطاب اسی ماہ کی یکم تاریخ کو حالت نماز میں ابولوء لوء فیروز نامی ایک مجوسی غلام کے ہاتھوں شہید ہوئے ،اس لئے شہادت حسین کا دن منانے والوں کو انکا دن بھی منانا چاہئے،لیکن حقیقت یہ ہے کہ اگر اسلام اسی طرح دن منانے کی اجازت دے دے تو شاید سال کو کوئی ہی دن ایسا باقی رہ جائے جس میں کوئی تاریخی واقعہ یا عظیم سانحہ رونما نا ہوا ہو اور اس طرح مسلمان سارا سال انہی تقریبات اور سوگوارایام منانے اور ان کے انتظام میں لگے رہیں گے ۔ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، اہل بیت ،صحابہ کرام اور سلف صالحین پرایسی ایسی مشکل گھڑیاں آئیں کہ ان کے سننے سے کلیجہ منہ کو آتا ہے ۔کیا شہادت حمزہ ،شہادت عمر ،شہادت عثمان ذوالنورین،شہادت علی المرتضیٰ اور شہادت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کے لرزہ خیز واقعات سننے کی تاب کسی کو ہے ؟ تو بتائیے کس کس کا دن منایا جائے؟
اچھے یا برے دن منانے کی شرعی حیثیت
اسلام نے واقعات خیر و شر کو ایام کا معیار فضیلت قرار نہیں دیا بلکہ کسی مصیبت کی بنا پر زمانہ کی برائی کرنے سے منع فرمایا ہے اور قرآن مجید میں کفار کے اس فعل کی مذمت بیان کی ہے۔
ترجمعہ ؛ہمیں زمانہ کے خیرو شر سے ہلاکت پہنچتی ہے (سورہ الغاثیہ 24) اور حدیث میں ہے ؛ زمانہ کو گالی نہ دو کیونکہ برا بھلا اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ (بخاری ومسلم)
نوحہ اور ماتم۔۔۔۔بزرگان ملت کی تعلیم کے خلاف اور انکے مشن کی توہین ہے !
ہم دیکھتے ہیں یہ پاکباز ہستیاں کس طرح صبر واستقلال کا پہاڑ ثابت ہوئیں ۔انکے خلفااور ورثابھی ان کے نقش قدم پر چلے ۔نہ کسی نے آہ و فغاں کیا،نہ کسی نے انکی برسی منائینہ چہلم نہ روئے نہ پیٹے ،نہ کپڑے پھاڑے ،نہ ماتم کیااور نہ تعزیہ کا جلوس نکال کر گلی کوچوں کا دورہ کیا بلکہ یہ خرافات سات آٹھ سو سال بعدتیمور لنگ بادشاہ کے دور میں شروع ہوئیں لیکن یہ سب حرکتیں اور رسوم و رواج نہ صرف روح اسلام اور ان پاکباز ہستیوں کی تلقین و ارشاد کے خلاف ہیں بلکہ ان بزرگوں کی توہین اور غیر مسلموں کیلئے استہزا کا سامان ہیں۔اسلام تو ہمیں صبرو استقامت کا درس دیتا ہے اور (صبر کرنے والوں کو خوشخبری دے دو) کا مژدہ سناتا ہے ۔قرآن کریم میں ارشاد ہے کہ ؛ترجمہ ،، وہ لوگ جب ان کو کوئی مصیبت پہنچتی ہے تو کہتے ہیں ہم اللہ ہی کیلئے ہیں اور اسی کی طرف لوٹنے والے ہیں۔(سورہ البقرہ ١٥٦)
نوحہ اور ماتم کی مذمت زبان رسالت سے
نوحہ اور ماتم کی مذمت کے سلسلہ میں اگرچہ قرآن کریم کی کئی آیات اور احادیث نبوی سے استدلال کیا جا سکتا ہے بلکہ شیعہ حضرات کی معتبر کتابوں سے ان کی ممانعت ثابت کی جاسکتی ہے۔١۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ارشاد کا مفہوم ہے کہ؛جو شخص رخسار پیٹے ،کپڑے پھاڑے اور جاہلیت کا واویلا کرے ،وہ ہم میں سے نہیں ہے ۔(بخاری و مسلم)
٢۔ حضور صلی اللہ وآلہ وسلم کے ارشادگرامی کا مفہوم ہے کہ ؛ جو شخص سر منڈوائے ،بلند آواز سے روئے اور کپڑے پھاڑے ،میں اس سے بیزار ہوں ۔(بخاری و مسلم)
نہایت افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ ایسی من گھڑت بدعات ،محرم میں دور جاہلیت کی رسمیں زیادہ تر پاکستان میں ہیں یاشاید ہی کسی اور ملک میں ہوں ۔ متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب جیسے مسلم ممالک میں ایسا کچھ بھی نہیں اورنہ ہی کسی وطنی یا غیر وطنی کو ایسی بدعات پر عمل پیرا ہونے کی اجازت ہے حالانکہ یہی لوگ صحابہ کرام اور تابعین کی اولاد میں سے ہیں انکی مساجد نمازیوں سے آباد ہیں اگر دنیاوی لحاظ سے دیکھا جائے تو بھی یہ لوگ ہم سے بہت آگے ہیں ۔آخر کیوں؟ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے علماء اور حکومت وقت پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ ملک میں ایسی بدعات کرنے والوں کی حوصلہ شکنی کی جائے جن کا اسلام سے دور تک کوئی تعلق نہیں کیونکہ پاکستان کلمہ کے نام پہ حاصل کیا گیا خالصتاً اسلامی ملک ہے ۔اللہ تعالیٰ کے حضور دعاہے کہ تمام اہل اسلام کو کتاب و سنت پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور اتحاد و اتفاق سے زندگی بسر کرنے کی توفیق دے۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین
Twitter | @IhsanMarwat_786
https://twitter.com/IhsanMarwat_786
ایک عورت چار سو بھیڑیا تحریر:حنا سرور
جابر رضي الله تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی الله علیہ وسلم نے خطبۃ الوداع کے موقع پر فرمایا: ( تم عورتوں کے بارے میں الله تعالی سے ڈرو ، 14 اگست 1947 کا دن پاکستانیوں کے لیے خوشی کا دن ہوتا ہے.آزادی کا دن ۔کہ اس دن پاکستان آزاد ہوا تھا ۔۔ہمیشہ 14 اگست نہایت پرامن طریقے سے منائ جاتی ہے ۔۔اس بار کیا ہوا۔ایک عورت 14 اگست کو شام چار اور پانچ بجے کے درمیان اقبال پارک جاتی لے وہاں وڈیو بناتی ہے کہ وہاں پر موجود لوگ اس ٹک ٹاکر کہ گرد جمع ہو گے اکھٹے ہو جاتے ہیں اور اس کو ہراس کرنا شروع کر دیتے ہیں اور اس لڑکی کو جہاں ہاتھ لگتا ہے لگاتے ہے وڈیو وائرل ہوتی رہی ۔اس پر ایکشن لیا جاتا ہے ایف آئ آر کاٹی جاتی ہے اب ہو گی قانونی کاروائ۔
جب معاشرہ بے لگام ہو ۔تربیت کا فقدان ہو جہاں مفتی عزیز اور قوی جیسے کردار ۔اور وہ سکول ماسٹر حو سو بچوں سے زنا کر کہ بھی جیل میں سکون سے روٹی پانی کھا اور ٹی وی دیکھ رہا ہو ۔وہاں کی جنریشن قانون سے ڈریں گی یا مجرموں کے جرم سے شے پاے گی؟
جہاں قانون کے رکھوالے منصف حاکم وقت سب کے سب کبوتر کی طرح بلی کو دیکھ کر آنکھ بند کیے بیٹھے ہوں ۔۔وہاں جنریشن قانون سے ڈرے گی؟ جہاں قانون پر عمل تو ہو لیکن سوشل میڈیا پر وڈیو اور تصاویر وائرل کروانے کے بعد ۔۔جہاں انصاف لینا ہو تو خود کے ساتھ ہووی بغیرتیوں کو سوشل میڈیا پر وائرل کرنا پڑے ۔۔جہاں اپنے حق کے لیے لڑنا ہو تو چار پانچ ٹھڑکی مردوں کا ساتھ چاہیے جو تمھارے حق کے لیے بھرے بازار میں تمھیں پاک دامن کہ سکے ۔۔کیا وہاں کی نسل قانون سے ڈرے گی؟ جہاں عدالتوں میں بیٹھے جج اور تھانوں میں بیٹھے ایس ایچ او تھانیدار کو جسم بیچ کر انصاف لینا پڑے ۔کیا وہاں کی عوام قانون سے ڈرے گی ؟
اس لڑکی کی غلطی پتہ کیا تھی ۔کہ وہ ٹک ٹاکر ہے ۔کیا ٹک ٹاکر ہونا اتنا غلط ہے کہ چار سو بھیڑیہ تاک لگاے بیٹھا تھا ۔۔جب کہ یہ چار سو بھیڑیا خود بھی ٹک ٹاکر ہے ٹک ٹاک پر موجود ہے. ٹک ٹاکر کو اچھے سے پسند کرتا ہے۔اس ہجوم کا دوغلا پن تو دیکھو کہ یہ ہجوم میں شاید ہی کبھی پانچ وقت نماز بھی پڑھی ہو ۔شاید زندگی میں کبھی سچ بولا ہو ۔شاید کہ اپنی بہنوں کو کبھی پردہ کروایا ہو.اس ہجوم کی غیرت ایک اکیلی تنہا عورت کو دیکھ کر جاگی ۔۔کہ بس اسے چھوڑنا نہیں وہ ٹک ٹاکر ہے ۔۔یورپ جانے کے یہ سارے خواہش مند پاکستانیوں کو ایک پتے کی بات بتاتی ہوں کہ یورپ میں عورت ننگی الف ننگی بھی سڑک پر جارہی ہو ۔اس ننگی عورت کو تاک لگاے کوی دیکھتا ہے وہ بھی وہاں کے قانون کے مطابق ہراسمنٹ کہلاتی ہے.چاہے وہ عورت اپنی مرضی سے کہیں بھی کسی بھی مرد ساتھ جاے ۔۔۔لیکن کسی اجنبی کا اسے چھیڑنا تکنا ہراسمنٹ کہلاتا ہے ۔دوسری طرف میرے اسلامی جہموریہ پاکستان میں دین کے ٹھیکدار رات رات بھر لڑکیوں سے موبائل فون پر زنا کرتے تب ان کو غیرت نہیں آتی ۔ان کو دھمکیاں دے کر ان سے انھی کے گھر کا سامان چوری کرواتے ۔تب غیرت نہیں آتی ۔اپنے دوستوں سے ملنے کا کہتے. ورنہ وڈیو تصاویر لیک کر دوں گا ۔تب غیرت نہیں آتی ۔اس بھیڑیے نما ہجوم کی غیرت ایک اکیلی عورت پر جاگی ۔اس عورت پر جس کا ان سے کوی سروکار نہیں ۔۔ابے شیطان کے چیلوں تجھ پر فرض ہے پردہ کروانا اپنی ماں بیوی بیٹی بہن کو ۔۔صرف ان چار عورتوں کی زمہ داری ہے تیرے پر ۔پر توں گھر کے فرائض چھوڑ کر گلی کا آوارہ کتا بن کر اجنبی عورتوں نامحرم عورتوں پر لال ٹپکاے بیٹھا ہے. وہ ننگی بھی ہوتی تجھ پر تب بھی نامحرم تھی حرام تھی ۔۔ہر مرد کی اب روح کانپ رہی ہے ہر مرد اب آگ بگولہ ہے مینار پاکستان والے اس واقعے پر۔۔مرد اگر ایسے ہوتے ہیں تو وہ چار سو مرد کون تھے ۔۔پھر ان کی بات شروع ہوتی ہے گھر کہ مرد سے کہ مرد اگر برا ہے تو تمھارے گھر کا مرد بھی برا ہوگا تمھارے گھر مرد نہیں پھر ایسی باتیں سننے کو ملتی ہے ۔دل کرتا ان جنگلی بھیڑیوں کے منہ سے زبان نوچ لوں کہ تمھارے جیسے گلی کے آوارہ کتوں کے منہ سے ہمارے باپ بھائ کا زکر اچھا نہیں لگتا ۔مرد ایک عظیم چیز ہے اس کی سب سے بڑی مثال میرا باپ ہے. بھائ ہے تو تحفظ کا احساس ہے ۔۔۔تم اگر بھیڑیے نامرد ہو تو اس میں ہمارے باپ بھائ کا کیا قصور ۔۔جنھوں نے کبھی کسی عورت کی طرف آنکھ کر نہیں دیکھا ۔۔تمھیں بھیڑیا اور نامرد کہنا چاہیے تاکہ تم جیسے غلیظ کیڑوں کی وجہ سے ہمارے گھر کہ مرد بدنام نہ ہوں ۔۔
آخر میں بات کروں گی عورت کی.مزار قائد پر ان دنوں صرف مرد حضرات جاتے ہیں مطلب ان چھٹیوں میں وہاں صرف مرد حضرات کا رش ہوتا ہے وہ بھی مزدور طبقے کا عام تعطیلات میں مزار قائد مینار پاکستان بلکہ چڑیا گھر تک میں خواتین کے جانے والا نہیں ہوتا۔پھر کیوں شامت بلوانے پہنچ گئ وہ بھی لاہور۔وہاں تو یہ حال ہے کہ برقعے والی عورت تک کو بھی چھیڑتے ہیں عام لڑکی گزر رہی ہو کہ آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر نوچنے کی حوس سے دیکھنے لگ جاتے ۔ تو وہاں کی مقامی عورتیں کیسے اس بات سے انجان ہوں گی ۔یہ عورت ٹک ٹاک مووی بناتے خودی اس ہجوم میں گھس گئ ۔جہاں پورا لاہور اور آس پاس کے علاقے کے مکین جانتے کہ وہاں ان دنوں عورتوں کو نہیں جانا چاہیے ۔۔چاہے کوی ٹک ٹاکر ہو چاہے کوی مدارس میں پڑھاتی برقعہ پوش عالمہ ۔باقی یہاں اکثریت مرد حضرات موقع نہیں چھوڑتے ۔
15 اگست 2021 ،اسلام کی فتح مبارک تحریر۔۔۔ امِ فائز
طالبان پشتون کا لفظ ہے جس کے معنی طلبہ کے ہیں۔۔ ایمان و عزم کی یہ تاریخ بہت طویل یے۔۔
امریکہ کے افغانستان قبضے سے پہلے یہاں روس نے 1978 میں قبضہ جمانے کی کوشش کی۔ جسکے نتیجے میں 1979 میں افغانیوں نے اسکے خلاف علان جہاد کیا ۔ اس جہاد میں پاکستان کی آئی ایس آئی ، فوج اور پاکستانی عوام بھی شامل ہوئے۔ یہ جنگ 1990 میں ختم ہوئی اور روس بہت سے ٹکروں میں تقسیم ہوگیا۔ مجاہدین نے اپنا ملک صلیبی تسلط سے آزاد کروا لیا ۔ بل آخر 1995 میں باقاعدہ *ملا محمد عمر* نے اسلامی شریعت کا نفاذ کیا اور افغانستان کے امیر مقرر ہوئے۔ 5 سال یہاں اسلامی قانون کے تحت ملک چلایا گیا۔ عوام خوشحال ہوئی ۔ برائی و بےحیائی سے افغانیوں نے چھٹکارا حاصل کیا۔عدل و انصاف نے معاشرے کو خوبصورت بنانا شروع کیا۔مگر امریکہ کو اپنی سپر پاور بننے کے راستے میں افغانستان کانٹے کی طرح چھبنے لگا۔۔۔۔۔ چونکہ اللہ کا نظام ہی وہ واحد نظام تھا جو طاغوت کیلئے خطرہ ہو سکتا تھا۔ جبکہ امریکہ اسرائیل نیو ورلڈ آڈر کی تیاری کر رہے تھے ۔
افغانستان میں زبردستی گھسنے کیلئے انکو ایک جواز چاہیے تھا جو وہ دنیا کو پیش کر سکیں۔
2001 میں امریکہ نے 9 ستمبر کا جعلی ڈرامہ رچایا اور دنیا بھر میں مسلمانوں کو دہشتگرد دکھا کر پوری یورپی یونین، انڈیا اور ترکی کو شامل کیا ۔ نیٹو کے نام پر کم و بیش 30 ممالک کی اتحادی فوجیں اکٹھی کرکے افغانستان میں زبردستی اتار دیں اور کہا کہ افغانستان میں دنیا کے خطرناک ترین دہشت گرد ہیں جن سے ساری دنیا کے امن کو اور خاص کر امریکہ کی سالمیت کو خطرہ ہے۔۔۔ملا عمر اپنے طالبان کیساتھ غاروں میں پناہ گزین ہوئے اور گوریلا جنگ لڑنے کا فیصلہ کیا۔
پاکستان میں اس وقت مشرف دور تھا ۔ ریاستی پالیسی بدل گئی۔۔ پاکستان کے فضائی اڈے استعمال کرکے افغانستان پر ڈرون حملے کیے گئے۔ نیٹو کی سپلائی، اسلحہ پاکستان سے جاتا رہا۔
20 سال کی ایک طویل اور عصاب شکن جنگ کے بعد بل آخر 15 اگست 2021 کو افغان طالبان مکمل طور پر افغانستان کو امریکی تسلط سے چھڑانے میں کامیاب ہوئے۔
اس سے پہلے حال ہی میں پاکستان نے امریکہ کو اپنے فضائی اڈے مزید دینے سے انکار کر دیا۔ اس پر امریکہ بات چیت پر آگیا کہ طالبان کیساتھ جنگ بندی کرکے مفاہمت کا راستہ نکالا جائے ۔ جس میں اقتدار امریکہ کی کٹ پتلی حکومت اشرف غنی کے ہاتھ رہے ۔ طالبان کی طرف سے ہمیشہ ایک شرط رکھی گئی کہ افغانستان میں جمہوریت نہیں شریعت نافذ ہوگی تو وہ جنگ بندی کریں گے ورنہ نہیں۔ اس پر طاغوت کبھی سمجھوتا نہیں کر سکتا تھا۔ آخر کار دنیا کی بہترین ٹیکنالوجی، جدید جنگی ساز و سامان اور پورے طاغوت کی اجتماعی طاقت گھٹنے ٹیکنے پر مجبور ہوگئی اور انتہائی زلت و رسوائی کے عالم میں وہاں سے فرار ہوئی۔ 20 سالہ طویل جدوجہد اور لاکھوں شہدا کی قربانیاں دے کر افغان مجاہدین اللہ رسول کی مدد سے کامیاب ہوئے ۔۔۔
*واضح رھے کہ اس فتح کی پیشنگوٸی آج سے17سال قبل 2005 ٕسے پہلے کی گئی۔ جب شاہ احمد نورانی رحمہ اللہ کی زبانی یہ بات پتا چلی کہ ملا محمد عمر کو خواب میں سرکار دو عالم ﷺ کی زیارت نصیب ہوئی۔ ملا محمد عمر کے مطابق سرکار دو عالم ﷺ کی جانب سے انہیں ایمان کیساتھ ڈٹے رہنے کی ہدایت فرمائی گئی۔*
طالبان تعداد میں صرف 75 ہزار اور افغان آرمی ساڑے تین لاکھ ۔۔۔۔ مگر اللہ کا وعدہ پورا ہوا اور کم تعداد والے کثیر تعداد والوں پر اپنے ایمان اور توکل کی بنا پر غالب آگئے۔یہاں ایک اور طرف توجہ دلانی درکار ہے۔ ملا عبدالغنی جو اس وقت افغانستان کے صدر بن چکے ہیں، ماضی میں پاکستان کے سابق صدر جنرل پرویز مشرف کی بے وفائی کا شکار ہوئے۔ پرویز مشرف نے انکو گرفتار کرکے پاکستانی جیل میں ڈالا۔۔۔ آج دونوں کا انجام دنیا نے دیکھ لیا۔۔ طاغوت کی خاطر لڑنے والا زلت و رسوائی کی زندگی گزار رہا اور پاکستان کی زمین اس پر حرام ہوچکی یے۔ جبکہ دوسری طرح اللہ اور اسکے رسول ﷺ کے دین کی سربلندی کی خاطر صعوبتیں برداشت کرنے والا آج کس شان و شوکت کیساتھ اپنے ملک کا صدر بن گیا۔۔۔
ہم موجودہ پاکستان حکومت کو بھی تنبیہ کرنا چاہتے ہیں۔ ماضی کے حکمرانوں کی غلطیوں سے سبق حاصل کریں۔ تحریک لبیک پاکستان کے امیر سعد حسین رضوی پر ناجائز ظلم و جبر کرنا بند کریں۔۔ اور شریعت ِ محمدی کے نفاذ کے عمل کو وطنِ پاکستان میں یقینی بنائیں۔ ورنہ حق تو آیا ہی غالب ہونے کیلئے ہے۔ اسکی راہ میں جو بھی حائل ہوا۔ مولا علی کرم اللہ وجہہ کے فرمان کے مطابق حق اسکی کمر خود توڑ کر رکھ دیتا یے۔
*اللہ کو پامردیِ مومن پہ بھروسہ*
*ابلیس کو یورپ کی مشینوں کا سہارہ*
*عقل ہے تیری سپر ، عشق ہے شمشیر تیری*
*مرے درویش ! خلافت ہے جہاں گیر تری*
*ماسوا اللہ کے لیے آگ ہے تکبیر تری*
*تو مسلماں ہو تو تقدیر ہے تدبیر تری***
*@2convincing*
معراج ِ دین حُسین علیہ السلام تحریر : محمد شفیق
تمام تعریفیں اس ذات کے لیے جو وحدہٗ لاشریک ہے۔ جس کی ذات و صفات میں کوئی بھی شریک نہیں ہے۔ جو یکتا اور واحد ہے۔ جو اتنا خوبصورت ہے کہ کوئی آنکھ اس کی تجلی برداشت نہیں کر سکتی۔ سوائے اس کے جس آنکھ کو وہ چاہے۔
اور کروڑوں بار درود و سلام ہو محمد و آل محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پہ جو وجہ تخلیق کائنات ہیں۔
ہمارے نبی حضرت محمد مصطفٰی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہم تک اسلامی تعلیمات پہنچانے کے لئے بہت ساری تکلیف برداشت کیں۔ ایسی تکالیف جن کو سہنا ایک عام انسان کے بس سے باہر ہے لیکن وہ تو رحمت اللعالمین اور خدا کے محبوب ہیں۔اور یہ زبان ان کی تعریف کرنے سے قاصر اور یہ قلم لکھنے سے معذور ہے۔جب لوگوں نے پوچھا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ نے ہم تک اسلام پہنچانے کے لئے بہت ساری تکالیف برداشت کی ہیں بدلے میں آپ ہم سے کیا چاہتے ہیں کچھ ایسا بولیں کہ ہم اس کا کچھ نہ کچھ بدلہ اتار سکیں۔ تب قرآن مجید کی یہ آیت نازل ہوئی
قل لا أسألكم عليه أجرا إلا المودة في القربى
کہہ دو کہ میں اس کا تم سے صلہ نہیں مانگتا مگر (تم کو) قرابت (اہل بیت)کی مودت (تو چاہیئے)یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ مودت ہوتی کیا ہے۔۔۔؟
کسی کی عظمت کے اعتراف کی بنا پر اس سے اخلاص اور پیار، محبت، پرخلوص دوستی، مخلصانہ اور بے غرض محبت مودت کہلاتا ہے
اب یہ سوچنے کی بات ہے کہ ہم کس حد تک ان سے مودت کا حق ادا کر رہے ہیں
محرم حسینؑ سے منسوب نہیں ہے پورا اسلام ہی حسینؑ سے منسوب ہے لیکن چلو اس ایک مہینے میں ہی کچھ ان کی یاد سے دل کو آباد کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
محرم میں ہم امام حسینؑ کو کتنا سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں یہ میرا مجھ سمیت آپ سب سے سوال ہے
جواب آئے گا بالکل بھی نہیں۔۔۔۔آپ کی روز مرہ زندگی میں کتنی تبدیلی آئی ہے ؟
کیونکہ یہ دن خاص طور پر نواسہ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے منسوب ہیں۔ یہاں یہ چیز بھی قابل ذکر ہے کہ ان کی یاد میں صرف آنسو ہی بہادو تو اس سے یہ حق ادا ہوتا ؟ بلکہ حسینؑ کے فلسفے کو سمجھنے کی ضرورت ہے حسینؑ کی فکر کو حسینؑ کی سوچ کو اپنانے کی ضرورت ہے۔ جو کہ ہم کوشش بھی نہیں کرتے۔
حسینؑ کا فلسفہ انقلاب کسی خاص منطقہ اور زمانہ کے لئے خاص نہیں ہیں بلکہ رہتی دنیا تک لوگوں کے دلوں کو یاد خدا پیغمبران خدا کے پاکیزہ مکتب اور فکری واصولی اقتدار کو زندہ کیا۔ حقیقت میں آپ ہرقرن کے روشن ضمیر لوگوں کے رہنما اور رہبر کی حیثیت رکھتے ہیں۔
آپ کا منشور باطل خداؤں کی نفی اور ذات الہی کا اقرار ہے
امام حسین کا ہر باضمیر اور حریت پسند انسان کی گردن پر حق ہے کہ آپ کے مشن کو زندہ وتابندہ رکھا جائے اور یہ ہم تب ہی کرسکیں گے جب تک امام حسینؑ کو سمجھنے کی کوشش کریں گے۔بقول علامہ اقبال
کربلا کی ریت پر سویا ہوا ہے دیکھ لو
مسجدوں میں ڈھونڈتے ہو کون سے اسلام کواگر حسینؑ کو سمجھو گے تو تب ہی اپکی مسجد میں بھی اسلام ہو گا اپکی روح میں اپکی زندگی میں بھی اسلام ہوگا
فرمان مصطفی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہے کہ
” میرا حسینؑ کشتی نجات ہے۔۔۔! نوح کے سفینے کی مانند ہے چراغِ مصباح و ہدایت ہےایک اور جگہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ جس نے حسینؑ کو تکلیف دی اس نے مجھے تکلیف دی اور جس نے مجھے تکلیف دی اس نے خدا کو تکلیف دی۔ اور حسینؑ کو بھلا کے ہم رسولؐ کو تکلیف ہی تو دے رہے ہیں۔۔۔۔
کبھی رسولؐ کے کاندھے پر کبھی نوک سناں پر
حسینؑ آپ کو جب بھی دیکھا سربلند دیکھاحسین کو ماننے کے لئے مسلمان ہونا ضروری نہیں بلکہ انسان ہونا ضروری ہے حسین محسن انسانیت ہیں۔ جس نے اپنا سب کچھ لٹا کر صرف اسلام نہیں بلکہ انسانیت بچائی۔ ایک غیرت مند قوم کبھی اپنے محسن کو نہیں بھولتی۔
ہم سب کو اپنے اندر جھانکنے کی ضرورت ہے کہ ہم نے حسینؑ کے فلسفہ حیات کو کس حد تک یاد رکھا ہوا۔
یہ دن نواسہ رسولؐ سے خاص طور پر منسوب ہیں اسلیے شیعہ سنی سے بالاتر ہوکر سوچیے
اگر رسولؑ سے محبت ہے تو پھر حسین سے محبت کیوں نہیں حسینؑ کی یاد سے یہ دل غافل کیوں ہیں۔ اتنا یاد رکھنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ یہ دونوں میرے بیٹے حسنؑ اور حسینؑ جنت کے سردار ہیں اگر تمہارے دل میں ان کی محبت موجود نہیں ہے تو کس منہ سے جنت کی خواہش رکھتے ہو۔
کیونکہ کسی بھی علاقے کا جو سردار ہوتا ہے اس کی اجازت کے بغیر اس علاقے میں داخل نہیں ہوا جاسکتا تو سردار کو جانے بغیر اس کے علاقے کی حدود میں کیسے داخل ہو سکو گے۔ یہ سرداری کائنات رسول نےانکو سونپ دی ہے۔ تو ان کو راضی کیے بغیر ہم جنت کی خوشبو بھی نہیں سونگھ سکتے۔ جنت میں جانا تو دور کی بات ہےحسین کے ذکر سے روح کو سرور ملتا ہے
اس نام کو لکھنے سے قلم کو غرور ملتا ہے
اس کی تعریف میں کیا لکھوں گی شاہی
جس کو سوچنے سے ہی کوہ طور ملتا ہےبحثیت ایک باشعور انسان اور ایک مسلمان کی حیثیت سے اس مہینے میں فرقہ واریت پر اکسانے والے تمام لوگوں کی مذمت کی جائے۔ فرقہ واریت کی اسلام میں کوئی جگہ نہیں اور نہ ہی کوئی یہ اچھا اخلاقی عمل ہے ۔اہل بیت ہوں یا صحابہ اکرام سب ہی واجب الاحترام ہیں
ایک دوسرے کے عقائد کا احترام کریں اور دینی تعلیمات پر عمل کرنے کی کوشش کریں@Ik_fan01









