Baaghi TV

Category: مذہب

  • مندر پر حملے کی اصل کہانی  تحریر: محمد اسعد لعل

    مندر پر حملے کی اصل کہانی تحریر: محمد اسعد لعل

    گزشتہ دنوں پاکستان کے شہر رحیم یار خان کے علاقے بھونگ شریف میں ایک واقعہ پیش آیا۔کچھ لوگوں پر مشتعمل ایک گروہ مندر پر حملہ آور ہوتا ہے۔مندر میں توڑ پھوڑ کی گئی، آگ لگائی گئی اور مورتیوں کو بھی نقصان پہنچایا گیا۔اس واقعہ کا نوٹس فوری طور پر وزیراعظم عمران خان اور سپریم کوٹ آف پاکستان نے لیا۔ ملک میں عدم برداشت کا بڑھ جانا اور اسطرح کے واقعات قابل تشویش ہیں۔
    مندر پر حملہ آخر کیوں کیا گیا؟اس کے پیچھے اصل کہانی کیا ہے؟اس کے بارے میں دو الگ الگ مواقف سامنے آئے ہیں ۔ایک موقف "ایف آی آر”میں درج ہے جبکہ دوسرا موقف ہندو کمیونٹی کا ہے۔
    ” ایف آی آر ” بھونگ شریف میں ایک مسجد کے نائب امام نے درج کروائی تھی۔” ایف آی آر ” میں نائب امام کا کہنا ہے کہ مسجد سے منسلک ایک مدرسہ ہے میں اس مدرسے سے درس نظامی کا کورس بھی کر رہا ہوں اور مسجد کا نائب امام بھی ہوں۔24 جولائی 2021 کو باوقت صبح دس بجے میں نے مدرسہ کی لائبریری میں ایک لڑکے کو دیکھا۔جو کہ مدرسہ میں لائبریری کی قالین پر پیشاب کر رہا تھا۔لڑکا لائبریری کی ٹوٹی ہوئی کھڑکی سے اندر داخل ہوا تھا ، میں نے اسے پکڑنے کی کوشش کی مگر وہ بھاگ گیا۔میرے شور کرنے پر کچھ لوگ جمع بھی ہو گئے۔میں باقی گواہان کے ساتھ اسے پکڑنے کے لیے نکلا لیکن اس کا پتہ نہیں چلا، مایوس ہو کر آیا ہوں تحریری درخواست دے رہا ہو اس پر کاروائی کی جائے۔
    پولیس نے اس لڑکے کو گرفتار کر لیا۔ چونکہ اس لڑکے کی عمر 8 سے 10 سال تھی اس لیے اسے ضمانت پر رہا کر دیا گیا۔
    جب کہ دوسرا موقف جو کہ ہندو کمیونٹی کا ہے اس میں ہندوؤں کا یہ کہنا ہے کہ ایک چھوٹا بچہ جس کی عمر 8 سال ہے اور اس کا نام بھویش کمار ہے وہ مسجد سے منسلک مدرسہ کی لائبریری میں ٹوٹی ہوئی کھڑکی سے داخل ہو گیا پھر جب مسجد کے نائب امام حافظ ابراہیم صاحب نے بچے کو دیکھا تو اس پر غصہ ہوئے کہ یہاں پر کیوں آئے ہو تو اس کے ردِعمل میں خوف کی وجہ سے بچے کا پیشاب نکل گیا۔
    یہ تو تھے دو الگ الگ مواقف۔ بھونگ شریف میں ہندو بڑی تعداد میں رہتے ہیں اور ہندو دو طبقات میں تقسیم ہیں۔ایک طبقہ ہندو راجپوت کا ہے جو کہ سونے کا کاروبار کرتے ہیں جب کہ دوسرا طبقہ غریب ہندوؤں کا ہے۔یہ بچہ غریب کمیونٹی کے ہندو میں سے تھا ۔
    اس علاقے میں آج سے پہلے کبھی ایسا نہیں ہوا کہ ہندو مسلمانوں میں کبھی لڑائی ہوئی ہو۔ا س علاقے کاایک تاجرعبدالرازاق نے سوشل میڈیا پر پوسٹ کی کہ "آج کے بعد جو ہندو مسلمانوں کے برتنوں میں کھا تا پیتا دیکھا گیا اس کا ذمہ دار وہ خود ہو گا۔خاص کر بھونگ شریف میں” ہندوؤں اور مقامی لوگوں نے اس کے خلاف تھانہ میں درخواست دی کہ یہ علاقے میں بدامنی پھیلا رہا ہے اس کے بعد پولیس نے اس تاجر کو گرفتار کر لیا۔ پیپلز پارٹی کے ایک "ایم پی اے” جو رحیم یار خاں کے علاقے بھونگ شریف کے موجودہ "ایم پی اے” ہیں، انہوں نے اُس تاجر کو سفارش کر کے چھوڑوا لیا۔
    اس تاجر کے چھوٹنے کے بعد لوگوں کی ایک بہت زیادہ تعداد بھونگ شریف میں داخل ہوجاتی ہے۔جن لوگوں نے مندر پر حملہ کیا وہ بھونگ کے علاقے کے رہنے والے نہیں ہیں ۔ حملہ کرنے والے لوگ رحیم یار خان کے ساتھ کچے کے علاقے سے آئے تھے۔یہ ابھی تک پتہ نہ چل سکا کہ آخر انہیں کون اور کیا کہہ کر لیا تھا۔مندرپر توڑپھوڑ کرنے کے بعد اس گروہ کے لوگ کسی بات پہ آپس میں بھی لڑ پڑے اور پھر جا کر ہائی وے کوتین گھنٹے تک بلاک رکھا۔
    ان گھنٹوں میں جب وہ بھونگ شریف آ رہے تھے پولیس نہیں آئی،جب مندر توڑا پولیس نہیں آئی،جب وہ آپس میں لڑ رہے تھے پولیس نہیں آئی اور جب انہوں نے ہائی وے کو تین گھنٹوں تک بلاک کیے رکھا تب بھی پولیس نہیں آئی۔پولیس ان کو نہیں روک سکی۔ جب بات کُھل کر سامنے آئی تو وزیراعظم عمران خان نے اس کا نوٹس لیا۔ چیف جسٹس نے اس واقعہ کا ازخود نوٹس لے لیا، ملک بھر کے لوگوں نے اس واقعہ کی مزاحمت کی اور کہا کہ اقلیتوں کو تحفظ دیا جائے۔
    اب بھارت اس واقعہ کا فائدہ اُٹھا رہا ہے۔ بھارت کی منسٹری آف ایکسٹرنل کے سپوکس پرسن نے ٹویٹ کیا ہے”خبریں آ رہی ہیں کہ ایک پرتشدد ہجوم نےپاکستان کے علاقے رحیم یار خان میں مندر پر حملہ کیا اور بتوں کو توڑ کر آگ لگا دی ہےاور اَس پاس کے ہندو کمیونٹی کو بھی نقصان پہنچایا ہے۔
    جب کہ ایسا نہیں ہوا وہ ایک مندر ہی ہے جہاں پر یہ سارا نقصان ہوا ہے۔ظاہر ہے انڈیا اس سے فائدہ اُٹھائے گا،اور یہ وہی انڈیا ہے جہاں 500 مساجد اور مسلمانوں کی عبادت گاہوں کو انڈیا کےعلاقے گجرات میں تباہ کر دیا گیااور ان کی گورنمنٹ اس سب میں شامل ہے۔بھارت پہلے اس کا جواب دے کہ انہوں نے مسلمانوں کے ساتھ کیا کیا ، اقلیتوں کے ساتھ کیا کیا، انہوں نے عیسائیوں ،مسلمانوں اور سکھوں کے ساتھ کیاکیا۔دنیا میں اگر اقلیتوں کے لیے سب سے بُری جگہ ہے تووہ بھارت ہے۔
    کچھ لوگ افلاطون بھی بنے ہوئے ہیں کہ توڑ دینے چاہیے مندر،ہندوؤں کو نکال دینا چاہیے تو ان لوگوں کومیں بتانا چاہوں گا کہ ہمارا مذہب اس بارے میں کیا کہتا ہے۔ہمارے نبی محمدﷺ کے اس بارے میں کیا احکامات ہیں ۔
    ایک ہدیث ہے جو مختلف صحابہ کرام سے روایت ہے ، آپ ﷺ نے اہل نجران سے ایک معاہدہ کیا تھا اور اس میں ایک تحریری فرمان جاری کیا تھا۔
    (فرمان کا ترجمہ) ۔۔۔
    "اللہ تعالیٰ اور اُس کے رسول محمدﷺ ، اہلِ نجران اور ان کے حلیفوں کےلیے اُن کے خون،ان کی جانوں،ان کے مذہب ،ان کی زمینوں ، ان کے اموال، ان کے راہبوں اور پادریوں، ان کے موجودہ اور غیر موجودہ افراد،ان کے مویشیوں اور قافلوں اور اُن کے استھان (مذہبی ٹھکانے) وغیرہ کے ضامن اور ذمہ دار ہیں۔ جس دین پر وہ ہیں اس سے ان کو نہ پھیرا جائے گا۔ان کے حقوق اور اُن کی عبادت گاہوں کے حقوق میں کوئی تبدیلی نہ کی جائے گی۔نہ کسی پادری کو،نہ کسی راہب کو ،نہ کسی سردار کو اور نہ کسی عبادت گاہ کے خادم کو، خواہ اس کا عہدہ معمولی ہو یا بڑا ، اس سے نہیں ہٹایا جائے گا۔ اور ان کو کوئی خوف و خطرنہ ہوگا۔”
    اس فرمان کے بعد میری،آپ کی ،ملک کی یا کسی بھی مسلمان کی کیا اوقات ہے کہ وہ غیر مسلمانوں کی عبادت گاہوں کے ساتھ ایسا سلوک کریں۔
    اقلیتوں کے جان و مال کے علاوہ اُن کی مذہبی آزادی بھی ریاستِ پاکستان اور اسلامی ریاست کی ذمہ داری ہے۔اس واقعہ پر ہر ذی شعور پاکستانی اور مسلمان کو اس واقعہ پر دکھ ہوناچاہیے، یہ بہت غلط ہوا ہے۔اسلام میں اس کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔حملہ آوروں نے یہ کر کے اسلام کی کوئی خدمت نہیں کی ہے،اس کی تفتیش ہونی چاہیے اور جو بھی اس میں ملوث تھا ہر ایک کو سزا ملنی چاہیے۔

    twitter.com/iamAsadLal

  • بڑے خواب دیکھنا   تحریر: زاہد کبدانی

    بڑے خواب دیکھنا تحریر: زاہد کبدانی

    یہ اکثر کہا جاتا ہے کہ "اگر آپ کے خواب آپ کو خوفزدہ نہیں کرتے ہیں ، تو وہ اتنے بڑے نہیں ہیں”۔ تو کیا آپ کے خواب کافی بڑے ہیں؟ کیا وہ آپ کو ڈراتے ہیں؟ بڑے خواب دیکھنے میں کیا ضرورت ہے؟ یہ کچھ سوالات ہیں جو اکثر آپ کے ذہن میں آتے ہیں۔ ان سوالات کا جواب 1 حقیقت میں ہے کہ بڑے خواب دیکھنے میں صرف ایک سیکنڈ کا وقت لگتا ہے۔ خواب صرف وہ اقساط نہیں ہیں جو آپ کے سر میں کھیلتے ہیں جب آپ سوتے ہیں۔ خوابوں کو انسان کا جذبہ سمجھا جا سکتا ہے جو اسے بڑے سے بڑے کام کرنے کی ترغیب دیتا ہے۔ ہمارے درمیان پہلے ہی بہت سی مشہور اور ممتاز شخصیات موجود ہیں جنہوں نے اپنی زندگی میں اپنی محنت اور لگن سے کامیابی کی منزل حاصل کی ہے۔ کسی کو نہ صرف بڑے خواب دیکھنے کی کوشش کرنی چاہیے بلکہ اس خواب کو سچ کرنے کے لیے اپنی پوری کوشش کرنی چاہیے۔
    بڑے خواب دیکھنے میں ایک بہتر زندگی کے وژن کو مضبوطی سے تھامنا شامل ہے ، ایک کامیابی اور کثرت میں سے ایک۔ وہاں پہنچتے وقت ایک مشکل کام ہوسکتا ہے۔ کسی کو بہت سی ناکامیوں اور ناکامیوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ کوئی بھی جس نے ایک بڑا مقصد حاصل کیا ہے وہ جانتا ہے کہ مذکورہ بیان کس طرح درست ہے۔ تاہم ، زندگی میں اگر کوئی کامیاب ہونا چاہتا ہے تو اسے اپنے آپ کو کامیاب لوگوں کے ساتھ جوڑنا چاہیے۔ یہ ہمیشہ اچھا ہوتا ہے کہ کبھی خوابوں سے نہ ہٹیں جب کوئی واقعی اس پر یقین نہ کرے۔ یہ یقینی بنانا اچھا ہے کہ آپ کے کچھ خواب ہیں۔ اور جب آپ خوابوں پر یقین رکھتے ہیں تو آپ اسے پورا کرنے کے لیے ضروری کارروائی کرتے ہیں۔

    کامیاب لوگ بڑے خواب دیکھتے ہیں ، چاہے مقصد انتہائی ناممکن اور حاصل کرنا مشکل معلوم ہو۔ مہاتما گاندھی کو اس کی ایک بہترین مثال کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ یہ ان کی محنت اور مضبوط عزم کے ذریعے ہے کہ وہ ایک کامیاب قومی لیڈر بنے۔ ایسے وقت بھی آئے جب کوئی اس پر یقین نہیں کرتا تھا۔ پھر بھی ، اس نے ہمت اور اعتماد نہیں کھویا جو اس نے اپنے آپ میں تھا اور اس سے بھی زیادہ محنت جاری رکھی اور کبھی ہمت نہیں ہاری۔
    کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ اگر آپ نے اکثر اور بڑے خواب دیکھے تو کیا ہوگا؟ یہ آپ کے خوف کا سامنا کرنے کے بارے میں ہے۔ ہاں ، خواب دیکھنا خوفناک ہوسکتا ہے ، خاص طور پر اگر آپ کے آس پاس کے لوگ آپ کو خواب دیکھنے ، حیثیت کو چیلنج کرنے اور قوانین کو توڑنے کی مذمت کرتے ہیں۔
    مستقبل ان لوگوں کا ہے جو اپنے خوابوں میں خوبصورتی دیکھتے ہیں۔ ہم سب کے خواب ہیں جو درست ہیں ، اور ہمیں بڑے خواب دیکھنے کے لیے زندگی کے بارے میں مثبت ہونے کی ضرورت ہے۔ کچھ خواب دیکھنے کے بعد ، اس کے بعد آپ ضروری اقدامات کریں گے جو اس طرح کے خوابوں کی کامیابی کو متاثر کرے گا۔ تو بڑے خواب دیکھیں اور اپنی زندگی بغیر کسی حد کے گزاریں۔ لہذا ، اس مضمون کو سمیٹنے کے لیے ، میں آپ کو ایک اقتباس دیتا ہوں جو بڑے خواب دیکھنے کی اہمیت کا اظہار کرتا ہے۔

    @Z_Kubdani

  • پاکستان میں غیرمسلموں کے حقوق  تحریر: آصف گوہر

    پاکستان میں غیرمسلموں کے حقوق تحریر: آصف گوہر

    عمر رضی اللہ عنہ نے ( وفات سے تھوڑی دیر پہلے ) فرمایا کہ میں اپنے بعد آنے والے خلیفہ کو اس کی وصیت کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا ( ذمیوں سے ) جو عہد ہے اس کو وہ پورا کرے اور یہ کہ ان کی حمایت میں ان کے دشمنوں سے جنگ کرے اور ان کی طاقت سے زیادہ کوئی بوجھ ان پر نہ ڈالا جائے۔
    صحیح بخاری 3052۔
    قائد اعظم رحمہ اللہ کا فرمان ہے کہ
    ” آپ آزاد ہیں۔ آپ آزاد ہیں اپنے مندروں میں جانے کے لیے۔ آپ آزاد ہیں اپنی مسجدوں میں جانے کے لیے اور ریاست پاکستان میں اپنی کسی بھی عبادت گاہ میں جانے کے لیے۔ آپ کا تعلق کسی بھی مذہب ذات یا نسل سے ہو۔ ریاست کا اس سے کوئی لینا دینا نہیں”
    اسلامی ریاست میں رہنے والے غیر مسلموں کو ذمی کہا جاتا ہے یعنی غیر مسلموں کے حقوق کا تحفظ اسلامی ریاست کی ذمہ داری ہے۔اسلام غیرمسلموں کے جان و مال اور مذہبی آزادی کا محافظ ہے۔ پاکستان کی بات کریں تو اقلیتوں کے حقوق بانی پاکستان نے بڑے واشگاف الفاط میں بیان کئے ہیں اسی لئے ہمارے ہاں کی اقلیتیں دنیا کے دیگر ممالک سے کہیں زیادہ محفوظ اور مطمئن ہیں یہاں پر تعلیمی اداروں ہستالوں پولیس دفاع اور دیگر تمام شعبہ ہائے زندگی میں اقلیتی افراد اعلی عہدوں پر گرانقدر خدمات سرانجام دے رہے ہیں ۔سرکاری ملازمتوں میں اقلیتوں نوجوان اپنے مخصوص کوٹہ کے علاوہ اوپن میرٹ پر بھی اپلائی کرسکتے ہیں ۔تعلیمی اداروں میں اسلامیات کا مضمون پڑھنے یا نہ پڑھنے کی مکمل آزادی ہے کہ اقلیتی طلباء اسلامیات کی بجائے اپنی مرضی سے اخلاقیات کا مضمون پڑھ سکتے ہیں۔
    پاکستانی شہری ہونے کے ناطے اقلیتی برادری کے افراد اپنی مرضی سے جو چاہیں کاروبار اور تجارت کرسکتے ہیں کوئی روک ٹوک نہیں ۔ پاکستان میں بھارت کی طرح کسی منظم یا بےقابو گروہ کو اقلیتی افراد پر تشدد کرنے کی اجازت یا جرآت نہیں ۔
    چند انفرادی واقعات جو کہ آٹے میں نمک کے برابر بھی نہیں جوکہ اقلیتوں کے ساتھ زیادتی کے ماضی میں ہوئے ہیں ان پر فوری قانون حرکت میں آتا ہے اور ملوث افراد کو کیفر کردار تک پہنچایا جاتا ہے۔
    دو روز پہلے رحیم یار خان کے علاقے بھونگ میں ہندو برادری کی عبادت گاہ پر مقامی لوگوں کے حملہ کا دلخراش واقعہ پیش جیسے ہی واقع کی خبر بریک ہوئی فوری وزیر اعلی پنجاب عثمان بزدار نے پولیس اور رینجرز کو بلاتفریق کاروائی کی ہدایت کی اور ڈی پی او سے رپورٹ طلب کی ڈی پی او خود جائے حادثہ پر پہنچے چند گھنٹوں میں ایف آئی آر درج کر دی گئ اور اگلی ہی صبح مندر کی بحالی اور تزئین و آرائش کا کام شروع کردیا گیا۔ وزیر اعلی پنجاب عثمان بزدار کا کہنا تھا کہ اقلیتوں کے جان و مال کی ذمہ داری حکومت پر ہے کسی کو نہیں چھوڑا جائے گا ۔
    وزیر اعظم عمران خان نے بھی واقعہ کا نوٹس لیتے ہوئے واقعہ کی شدید الفاظ میں مذمت کی اور آئی جی پنجاب پولیس کو ذمہ داروں کو فوری گرفتار کرنے کا حکم دیا ۔
    یہ واقعہ سنگین اور دلخراش جتنی مذمت کی جائے کم ہے لیکن اس کو پاکستان کے خلاف کئ طرح سے استعمال کیا جاتا ہے اہل عناد کو پروپیگنڈے کا موقع ملتا ہے کہ پاکستان میں اقلیتوں پر مظالم ہو رہے ہیں اقلیتں یہاں پر غیر محفوظ ہیں اور ساتھ ہی مسلمانوں اور اسلام کو نشانہ تنقید بنایا جاتا ہے۔
    چھوٹے واقعات کو بڑا رنگ دیا جاتا ہے امریکی محکمہ خارجہ اور انسانی حقوق بھی کود پڑتا ہے اور پاکستان کے امیج کو خراب کرنے کی خوب کوشش کی جاتی ہے ۔
    لیکن یہ بھی روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ یہاں پر اقلیتیں خوشحال اور اپنی مذہبی رسومات عبادت میں مکمل آزاد ہیں ہرسال بھارت اور پوری دنیا سے سکھ اور ہندو برادری کے افراد ہزاروں کی تعداد میں اپنی مذہبی رسومات ادا کرنے آتے ہیں اور پوری آزادی کے ساتھ پاکستان میں ہرجگہ آتے جاتے ہیں اور پاکستانی عوام بھی ان کی بھرپور آو بھگت اور عزت افزائی کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑتے۔ جس سے پاکستان کے خلاف پروپیگینڈے کرنے والوں کو منہ کی کھانی پڑتی ہے اور یہ ہمیشہ کی طرح ناکام اور نامراد رہتے ہیں اور انشاءاللہ رہیں گے۔ @Educarepak

  • یوم جمعہ کی فضیلت، اہمیت اور آداب.  تحریر: احسان الحق

    یوم جمعہ کی فضیلت، اہمیت اور آداب. تحریر: احسان الحق

    یوم جمعہ افضل الایام اور سید الایام ہے. جمعہ کا دن تمام ایام کا سردار اور تمام ایام سے افضل دن ہے. جمعہ کی نماز ہم پر فرض ہے. اللہ تعالیٰ نے سورہ جمعہ کی آیت نمبر 62 میں فرمایا "اے لوگو جو ایمان لائے ہو جب جمعہ کی اذان ہو جائے تو اللہ تعالیٰ کے ذکر کی طرف دوڑو اور اپنی تجارت بند کر دو”. اذان سننے کے بعد کاروبار جاری رکھنا حرام ہے. نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ لوگ جمعہ ترک کرنے سے بعض آ جائیں ورنہ بغیر عذر کے جمعہ ترک کرنے والوں کے دلوں پر اللہ تعالیٰ مہر لگا دیں گے اور پھر وہ غافلوں میں سے ہو جائیں گے.

    یوم جمعہ کی بہت بڑی فضیلت ہے. یوم جمعہ کو اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام کو پیدا فرمایا. جمعہ کے دن حضرت آدم علیہ السلام کو جنت میں داخل فرمایا. اسی دن یعنی جمعہ کے دن ہی آپ آدم علیہ السلام کو دنیا میں بھیجا گیا. جمعہ کے دن ہی قیامت قائم ہوگی.

    جمعہ کے آداب اور سنتوں کے متعلق احادیث میں تفصیل موجود ہے. جمعہ کے دن ہر مسلمان پر غسل کرنا واجب ہے. جمعہ کے دن تمام مسلمانوں کو غسل کا خاص اہتمام کرنا چاہئے. ناخن تراشنے چاہیئں. دستیاب کپڑوں میں سے سب سے عمدہ لباس کا انتخاب کرنا چاہئے. تیل اور خوشبو اگر دستیاب ہو تو ان کا استعمال کرنا چاہئے. جو شخص جمعہ کے دن غسل جنابت کرتا ہے اور چل کر پہلی فرصت میں مسجد میں پہنچتا ایسے شخص کے لئے اونٹ کی قربانی کا اجر ہے. دوسرے وقت میں جانے والے کے لئے ایک گائے، تیسری گھڑی میں جانے والے کے لئے سینگ والے مینڈھے کی قربانی کا اجر ملے گا. چوتھے نمبر پر جانے والے کے لئے ایک مرغی کی قربانی کا ثواب ہے اور سب سے آخر میں جانے والے کے لئے ایک مرغی کے انڈے برابر ثواب ہے. خطبہ جمعہ شروع ہوتے ہی فرشتے رجسٹر بند کر کے خطبہ سننا شروع کر دیتے ہیں.

    مسجد میں داخل ہونے کے بعد جتنی اللہ تعالیٰ کی طرف سے توفیق ہو اتنی نوافل پڑھ لیں. خطبہ شروع ہونے کے بعد 2 رکعات نفل لازمی ادا کرنی چاہیئں. لوگوں کی گردنوں کو نہیں پھلانگنا چاہئے ہاں اگر آگے جگہ خالی ہو تو پھر پہلے اگلی صفوں میں بیٹھنا مناسب ہے. نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ جو بندہ خلوص نیت، خاموشی اور توجہ سے خطبہ جمعہ سنتا ہے تو اس جمعہ سے آئندہ جمعہ تک کے درمیان ہفتے بھر کے سارے گناہ معاف ہو جاتے ہیں بشرطیکہ کوئی کبیرہ گناہ نہ ہو. ارشاد نبویؐ ہے کہ خطبہ شروع ہونے کے بعد اگر کسی نے کسی دوسرے بندے کو گفتگو کرنے سے منع کرنے کے لئے صرف اتنا کہا کہ خاموش ہو جاؤ تو یہ بھی لغو بات ہے اور لغو بات کرنے والے کا جمعہ نہیں.

    جمعہ کے روز کرنے والے کاموں میں سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود بھیجنے والا انتہائی اہم اور افضل کام ہے کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ جمعہ کے دن مجھ پر کثرت سے درود بھیجا کرو. آپ لوگوں کے درود مجھ تک پہنچائے جاتے ہیں اور قیامت کے دن میں ان لوگوں کی شفاعت کروں گا جو کثرت سے درود بھیجتے ہیں. جمعہ کے دن سورہ کہف کی تلاوت کرنے کا بھی اہتمام کرنا چاہئے. جو بندہ سورہ کہف کی تلاوت کرتا ہے تو ایک جمعہ سے دوسرے جمعہ تک اس کے لئے ایک نور چمکتا رہتا ہے. اللہ سبحانہ وتعالیٰ جمعہ کے لئے آنے والے شخص کے ہر ایک قدم کے بدلے ایک سال کی تہجد اور ایک سال کے روزوں کے برابر ثواب عطا فرماتے ہیں.

    @mian_ihsaan

  • قرآن مجید تحریر  : راجہ ارشد

    قرآن مجید تحریر : راجہ ارشد

    قارئین آج کا موضوع خاص بچوں کے لیے ہے قرآن مجید
    تو بچوں اللہ تعالٰی نے چار رسول بھیجے جو اللہ تعالٰی کی کتابیں لائے۔ جس میں تورات حضرت موسی علیہ السلام ، زبور حضرت داؤد علیہ السلام اور انجیل حضرت عیسی علیہ السلام پر نازل ہوئی۔ہمارا ایمان ہے کہ یہ سب اللہ تعالٰی کی کتابیں ہیں۔ چوتھی اور آخری کتاب قران مجید جو حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر نازل کی گئی اس کے احکامات پر قیامت تک عمل ہو گا۔

    حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اعلی اخلاق کا کامل نمونہ ہیں۔ اخلاق کے معنی ہیں عادات۔ یہ آچھی بھی ہوتی ہیں اور بری بھی ، جسے کہ سچ بولنا آچھے اور جھوٹ بولنا برے اخلاق میں شامل ہے۔ جب بھی کسی کا ذکر کیا جاتا ہے تو وہ دراصل اس کے اخلاق کا ذکر ہوتا ہے۔ بہت سے آچھے لوگوں سے مل کر معاشرہ اور قوم مضبوط ہوتے ہیں۔ اسی طرح خراب اخلاق والے لوگوں سے معاشرہ اور قومیں فنا ہوتی ہیں۔

    پیارے بچو۔ پچھلی کتابیں ایک تو خاص زمانے کے لوگوں کے لیے تھیں ، دوسرے ان کے ماننے والوں نے جو احکامات اپنی مرضی کے خلاف سمجھے ان کو بدل ڈالا ، جس کی وجہ سے اب یہ کتابیں اپنی اصلی حالت میں موجود نہیں ہیں۔

    قرآن مجید کو مکمل ضابطہ حیات کہا جاتا ہے۔ ضابطہ حیات کا مطلب ہے زندگی کے بارے میں ایسے احکامات جو سادہ ، آسان ، سچے اور مکمل ہوں۔ زندگی کا کوئی معاملہ ایسا نہیں جس کے بارے میں حکم قرآن مجید میں موجود نہ ہو۔ یہ عربی زبان میں 27 رمضان کی شب قدر میں نازل ہونا شروع ہوا اور تقریبا 23 سال کی مدت میں مکمل ہوا۔ اس کی فضیلت کا سب سے بڑا ثبوت یہ ہے کہ اس میں آج تک کسی قسم کی بھی تبدیلی نہیں ہو سکی اور نہ ہو سکے گی۔ یہ قیامت تک اپنی اصلی حالت میں قائم رہے گا کیونکہ اللہ تعالٰی فرمایا ہے

    بے شک یہ ذکر ہم نے نازل کیا ہے اور ہم ہی اس کی حفاظت کرنے والے ہیں۔
    سورہ الحجر۔آیت نمبر 9

    قرآن مجید کا ادب و احترام ہم سب پر لازم ہے یعنی اس کو سمجھنا اور اس پر غور کرنا اس کا ادب ہے۔قرآن مجید میں انسان اور کائنات کی تخلیق کے بارئے میں بیان کیا گیا ہے۔ قرآن مجید کا ایک معجزہ یہ بھی ہے کہ ہزاروں لاکھوں لوگوں نے اسے حفظ کر رکھا ہے۔اور آئندہ بھی حفظ قرآن کا یہ سلسلہ جاری رہے گا ۔ ان شاء اللہ

    اللہ پاک پڑھ کر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائیں آمین۔

    @RajaArshad56

  • ایک اور مندر توڑ کر ہم سرخرو ہو گئے تحریر:سمیع اللہ خان

    ایک اور مندر توڑ کر ہم سرخرو ہو گئے تحریر:سمیع اللہ خان

    سکول کی کتابوں میں ہمیں پڑھایا گیا ہے کہ سلطان محمود غزنوی بطور مسلمان ہمارے ہیرو ہیں۔ ان کتابوں میں سلطان محمود غزنوی کو ہیرو کے طور پر پیش کرنے کی سب سے بڑی وجہ سومنات کے بت کو توڑنا ہے۔ یہ کیوں کر ہوتا ہے کہ ہماری ہیروز کو ہیرو پیش کرنے کیلئے جنگی فتوحات، توڑ پوڑ وغیرہ جیسے افعال کا سہارا لینا پڑتا ہے۔ ذہن میں کبھی کبھی یہ سوال ابھرتا ہے کہ ہمارے ہیروز کی فراست، دریا دلی، علم، محبت، بھائی چارہ اور قربانیوں کو نصاب کا حصہ کیوں نہیں بنایا جاتا، کیونکہ کچے ذہنوں پہ یہ کہانیاں گہرے نقوش چھوڑ جاتی ہیں اور یہی کچے ذہن پھر بعد میں معاشرے کے اہم ارکان کے طور پر سامنے آتے ہیں۔
    آج صوبہ پنجاب کے شہر رحیم یار خان میں ایک ہندو مندر کے اندر توڑ پھوڑ، جلاؤ گھیراؤ کا ایک واقعہ سامنے آیا ہے۔ اس واقعے کی تفصیل کچھ اس طرح سے ہے کہ کچھ روز قبل ایک آٹھ سالہ بچے نے رحیم یار خان کے ایک مقامی مدرسہ کے قالین پر ’پیشاب‘ چھوڑا۔ جس کے بعد وہاں کے مقامی افراد نے اس 8 سالہ غیر مسلم بچے پر توہین مذہب یا مدرسے کی توہین کا الزام لگایا اور اس پر ایف آئی آر درج کروائی۔ بچہ جب کہ نابالغ تھا اور کم عمر بھی تھا اس وجہ سے بچے کی ضمانت ہوگئی۔
    بچے کی ضمانت کے بعد جہاں اس غیر مسلم 8 سالہ بچے پر پرچہ کٹانے والوں کو کوئی اور چیز نہیں سوجھی تو انہوں نے علاقے کے دیگر افراد کو اشتعال دیلاکر رحیم یارخان کے علاقے بھونگ شریف میں واقع ہے ایک ہندو مندر جس کا نام ’گنیش مندر‘ ہے کہ اندر گھس کر توڑ پھوڑ شروع کی۔ اس دوران پولیس کی کم نفری کی وجہ سے وہ ان مشتعل افراد کو قابو نہ کر سکے اور انہیں رینجرز کی خدمات حاصل کرنا پڑی۔ رینجرز نے وقوعہ پر پہنچ کر مندر سے مشتعل افراد کو نکالا اور کچھ کو گرفتار کیا۔ کچھ اسی نوعیت کا ایک واقعہ کچھ عرصہ قبل خیبر پختونخوا کے جنوبی ضلع کرک میں بھی پیش آیا تھا۔
    ایسے مواقع پر اور دیگر افراد کو اشتعال دیلانے والے اشخاص کے علم میں یہ بات خوب ہوتی ہے کہ وہ یہ غلط کر رہے ہیں مگر کیونکہ وہ خود اکیلے ایسا کوئی عمل نہیں کر سکتے اس لیے دیگر افراد کو اشتعال دیلاتے ہیں، پھر انہیں مشتعل ہجوم کا سہارا لے کر یا ان کو ڈھال بنا کر اپنی مذموم مقاصد حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ان افراد کا مشتعل ہجوم کا ڈھال بنا کر ایسے مقاصد حاصل کرنے کی وجہ یہ ہے کہ ان کو پتہ ہے کے پردے واحد اگر کوئی ایسا کام کرتا ہے تو وہ پکڑا بھی جاتا ہے اور انہیں سزا بھی ملتی ہے مگر ایک ہجوم کو پکڑنا، کنٹرول کرنا، سزاء دینا انتہائی مشکل کام ہے۔ کچھ اسی طرح کے نتائج ضلع کرک میں ہونے والے ایک مندر پر حملے کے سامنے آئے ہیں، کرک میں مندر پر ہونے والے حملے کہ ملزمان کو یا تو عدالت نے رہا کیا یا پھر ہندو برادری پر دباؤ ڈال کر ان سے کیس واپس کروایا گیا۔ یہ بھی ذہن نشین کر لیں کہ کرک مندر واقعے میں سرکاری افسران جو معطل ہوئے تھے وہ بھی تقریبا سارے بحال ہو چکے ہیں۔
    کرک یا رحیم یار خان جیسے واقعات کے بارے میں سنتا ہوں تو خیال آتا ہے کی وہ مولوی جو مدرسوں، مساجد وغیرہ میں بچوں کو جنسی زیادتی کا نشانہ بناتے ہیں اور پھر ان سے ’کتاب اللّٰہ‘ تربیت لیتے ہیں کہ باہر جاکر میرا یہ کارنامہ کسی کو نہیں بتاؤ گے، ان افراد کے خلاف کبھی یہ دین کے ٹھیکیدار اور یہ خود کو سچے مسلمان ثابت کرنے والے افراد کیوں نہیں نکلتے؟
    یہ جو رحیم یار خان میں ’گنیش مندر‘ کو توڑ کر جو سچے اور ایماندار مسلمان سرخرو ہو چکے ہیں، ان کا اصل مسئلہ ذہن سازی ہے۔ ان کو یہ تو بتایا جاتا ہے کہ کعبہ میں بتوں کو توڑا گیا تھا، سومنات مندر میں محمود غزنوی نے بتوں کو توڑا تھا مگر ان کو یہ نہیں بتایا جاتا کہ سومنات مندر ہو یا کعبہ ہو وہاں بتوں کو توڑنے کی کیا وجوہات تھیں۔ ایک وجہ یہ بھی ہے کہ ہمارے تاریخ کو دو قدم آگے جا کر اور ہمارے جنگجو ہیروز کو اپنی اوقات سے بڑھ کر ’تیس مار خان‘ پیش کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ یہ یاد رکھا جائے کہ اچھے الفاظ میں صرف جوڑنے والوں کو لکھا اور یاد کیا جاتا ہے جبکہ توڑنے والوں کو منفی نظروں سے دیکھا جاتا ہے۔

  • عورت کا مقام تحریر:شعیب خان

    عورت کا مقام تحریر:شعیب خان

    وجود زن سے ہے تصویر کائنات میں رنگ
    اسی کے سازسے ہے زندگی کا سوزِدروں

    دین اسلام کی آمد عورت کے لیے غلامی، ذلت و رسواٸی اور ظلم و استحصال کے بندھنوں سے آزادی و نجات کا پیغام تھی۔ دین اسلام نے ان تمام قبیح رسوم کا خاتمہ کردیا ،جو عورت کے انسانی وقار کو بری طرح سے متاثر کرتا اور عورت کو وہ حقوق و فرائض عطا کیے جس سے وہ معاشرے میں اس عزت و احترام کی مستحق قرار پائی جس کے مستحق صرف مرد حضرات ہوا کرتے تھے ۔

    اسلام سے قبل عورتوں کو زندہ زمین میں گڑھ دیا جاتا تھا رسول اللہ ﷺ کے آنے اس عورت ذات اس رسم و رواج سے نجات ملی ،اللہ نے تخلیق کے درجے میں بھی عورت اور مرد کو برابر رکھا ہے۔ اور اسی طرح ﷲ کے اجر کے استحقاق میں مرد و عورت دونوں برابر حقدار ہیں ۔

    قرآن کریم اور احادیث میں عورتوں کے بارے میں جو کچھ بیان فرمایا گیا ہے کہ عورت لطیف اور رحمت ہے. اسکے ساتھ لطف و کرم اور مہربانی کی جائے، احسن سلوک کیا جائے اسکے ساتھ ساتھ اس کے ظریف اور نازک وجود کی تعریف کی گئی ہے

    قرآن مجید میں اللہﷻ کا ارشاد ہے:

    اے ایمان والو! یہ بات تمہارے لئے حلال نہیں ہے کہ تم زبردستی عورتوں کے مالک بن بیٹھو، اور ان کو اس غرض سے مقید مت کرو کہ تم نے جو کچھ ان کو دیا اس کا کچھ حصہ لے اڑو، الا یہ کہ وہ کھلی بے حیائی کا ارتکاب کریں۔ اور ان کے ساتھ بھلے انداز میں زندگی بسر کرو، اور اگر تم انہیں پسند نہ کرتے ہو تو عین ممکن ہے کہ تم کسی چیز کو ناپسند کرتے ہو اور اللہ نے اس میں بہت کچھ بھلائی رکھ دی ہو ،سورت النساء

    دین اسلام کی وجہ سے عورت کو وہ حقوق و فراٸض بھی ملے جو زمانہ جہالیت میں نہیں ملا کرتے تھے اسلام نے تو عورت کے لئے تربیت اور نفقہ کے حق کا ضامن مرد کو بنا کہ اسے روٹی، کپڑا، مکان، تعلیم اور علاج کی سہولت سے سرفراز فرمایا۔اسلام نے عورت کو چاروں روپوں میں اسکے حقوق و فرائض دٸیے ہیں جو جہالیت کے زمانے میں دینا بھی معیوب سمجھا جاتا تھا ۔

    آپﷺ نے عورت کو بحیثیت ماں سب سے زیادہ حسنِ سلوک کا مستحق قرار دیا، عورت کو بحيثيت بہن وراثت کا حقدار ٹھہرایا ، اسی طرح عورت بطور بیٹی کو نہ صرف احترام و عزت کا مقام عطا کیا بلکہ اس کی تربیت و تعلیم اور احسن طریقے پرورش کرنے پر جنت کا ضامن بنایا۔ عورت کو بطور بیوی اپنے شوہر کا لباس بنایا ہمارا نبی اکرمﷺ نے بیوی سے حسنِ سلوک کی تلقین فرمائی اسکے نان و نفقہ کا حقدار مرد کو بنایا

    آج کی عورت ہی دین اسلام کے بقاء اور تحفظ کو بقائے دوام عطاء کر سکتی ہے۔ آج کی عورت کو قرون اول کی عورت کی طرح اسلامی زندگی اور اسلامی معاشرے کا ایسا نمونہ پیش کرنا ہوگا جسے نئی نسل کو دنیا و آخرت دونوں جہانوں میں سرخروئی حاصل ہو۔ اور اگر آج کی عورت کو یہ کوشش بارآور ہو جائے تو وہ نہ صرف ملک و قوم کی بہت بڑی خدمت انجام سرانجام دےگی بلکہ دین اسلام کی بھی خدمت انجام دے گی کیونکہ
    دین اسلام نے عورت کو معاشرے میں نہ صرف باعزت مقام و مرتبہ عطا کیا بلکہ اس کے حقوق و فرائض بھی متعین کردیئے جن کی بدولت عورت معاشرے میں پرسکون زندگی بسر کر سکتی ہے!!

    اللہ آپکا حامی و ناصر ہو ، آمین

    ‎@aapkashobi

  • ‏اللّٰه تعالیٰ کا تقرب کیسے حاصل ہوتا ہے  تحریر: محمد معوّذ

    ‏اللّٰه تعالیٰ کا تقرب کیسے حاصل ہوتا ہے تحریر: محمد معوّذ

    عقل و دانش کا امتحان آپ میں سے بعض لوگ تو ایسے سیدھے سادھے ہوتے ہیں جو ہر کس و ناکس کو دوست بنا لیتے ہیں ، اور کبھی دوست بناتے وقت آدمی کو پرکھتے نہیں کہ وہ واقعہ میں دوست بنانے کے قابل بھی ہے یا نہیں ۔ ایسے لوگ دوستی میں اکثر دھوکا کھا جاتے ہیں اور بعد میں ان کو بڑی مایوسیوں کا سامنا ہوتا ہے ۔ لیکن جوعقل مند لوگ ہیں وہ جن لوگوں سے ملتے ہیں ان کو خوب پرکھ کر ہرطریقے سے جانچ پڑتال کر کے دیکھتے ہیں ، پھر جو کوئی ان میں سے سچا مخلص ، وفادار آدمی ملتا ہے صرف اسی کو دوست بناتے ہیں ، اور بے کار آدمیوں کو چھوڑ دیا کرتے ہیں ۔
    اللّه تعالی سب سے بڑھ کرحیم ودانا ہے ۔ اس سے یہ امید کیسے کی جاسکتی ہے کہ وہ ہر کس و ناکس کواپنا دوست بنا لے گا ، اپنی پارٹی میں شامل کر لے گا اور اپنے دربار میں عزت اور قربت کی جگہ دے گا ۔ جب انسانوں کی دانائی و عقل مندی کا تقاضا یہ ہے کہ وہ بغیر جانے اور پرکھنے کسی کو دوست نہیں بناتے تو اللّٰه ، جو ساری دانائیوں اور حکمتوں کا سرچشمہ ہے ، ناتمکن ہے کہ وہ جانچنے اور پرکھنے کے بغیر ہر ایک کو اپنی دوستی کا مرتبہ بخش دے ۔ یہ کروڑوں انسان جو زمین پر پھیلے ہوئے ہیں ، جن میں ہر قسم کے آدمی پائے جاتے ہیں ،
    اچھے اور برے ، سب کے سب اس قابل نہیں ہو سکتے کہ اللّٰه کی اس پارٹی میں ، اس حزب اللّٰه میں شامل کر لیے جائیں جیسے اللّٰه تعالیٰ دنیا میں اپنی خلافت کا مرتبہ اور آخرت میں تقرب کا مقام عطا کرنا چاہتا ہے ۔ اللّٰہ تعالیٰ نے کمال درجہ حکمت کے ساتھ چند امتحان ، چند آزمائشیں ، چند معیار جانچنے اور پرکھنے کے لیے مقرر کر دیے ہیں کہ انسانوں میں سے جو کوئی ان پر پورا اترے ، وہ تو اللّٰه کی پارٹی میں آجائے اور جو ان پر پورا نہ اترے خود بخود اس پارٹی سے الگ ہو کر رہ جائے ، اور وہ خود بھی جان لے کہ میں اس پارٹی میں شامل ہونے کے قابل نہیں ہوں ۔
    یہ معیار کیا ہیں ؟ اللّٰه تعالیٰ چونکہ حکیم و دانا ہے اس لیے سب سے پہلا امتحان وہ آدمی کی حکمت و دانائی کا ہی لیتا ہے ۔ یہ دیکھتا ہے کہ اس میں سمجھ بوجھ بھی ہے یا نہیں ؟ نرا احمق تونہیں ہے ؟ اس لیے کہ جاہل اور بے وقوف کبھی دانا و حکیم کا دوست نہیں بن سکتا ۔ جو شخص اللّٰه کی نشانیوں کو دیکھ کر پہچان لے کہ وہی میرا مالک اور خالق ہے ، اس کے سوا کوئی معبود،کوئی پروردگار، کوئی دعائیں سننے والا اور مدد کرنے والانہیں ہے ، اور جوشخص اللّٰه کے کلام کو سن کر جان لے کہ یہ میرے مالک ہی کا کلام ہے کسی اور کا کلام نہیں ہوسکتا ، اور جوشخص سچے نبی اور جھوٹے مدعیوں کی زندگی ، ان کے اخلاق ، ان کے معاملات ، ان کی تعلیمات ، ان کے کارناموں کے فرق کو ٹھیک ٹھیک سمجھے اور پہچان جاۓ کہ نبوت کا دعوی کرنے والوں میں سے فلاں ذات پاک تو حقیقت میں خدا کی طرف سے ہدایت بخشنے کے لیے آئی ہے ، اور فلاں دجّال ہے ، دھوکا دینے والا ہے ۔ ایسا شخص دانائی کے امتحان میں پاس ہو جاتا ہے ، اور اس کو انسانوں کی بھیڑ بھاڑ سے الگ کر کے اللّٰه تعالیٰ اپنے پارٹی کے منتخب امیدواروں میں شامل کر لیتا ہے ، باقی لوگ جو پہلے ہی امتحان میں فیل ہوجاتے ہیں ان کو چھوڑ دیا جاتا ہے کہ جدھر چاہیں بھٹکتے پھریں ۔

    ‎@muhammadmoawaz_

  • مظلوم کی فریاد تحریر : بشارت حسین

    مظلوم کی فریاد تحریر : بشارت حسین

    کہا جاتا ہے کہ مظلوم کے دل سے نکلی آہ عرش کو ہلا دیتی ہے۔
    ظالم سماج ہر چہرہ دکھی ہے انسان ہی انسان کا دشمن بنا پھرتا ہے۔ دولت مند کی گردن غروروتکبر سے اکڑی ہوئی ہے سر اٹھا کر ایسے چلتے جیسے زمین پہ ہر شے انکی ماتحت ہے۔
    کہیں گاوں کا وڈیرہ سسٹم غریب کے گلے کی ہڈی بنا ہوا ہے تو کہیں پولیس کے بھیس میں چھپی کالی بھیڑیں انسانیت سے عاری کمزور طبقے کیلئے درد سر بنی ہوئی ہیں۔
    کسی کو کوئی خوف خدا نہیں کسی کو یہ یاد نہیں کہ اللہ دیکھ رہا ہے انکے مظالم کو۔ مظلوم کی فریاد کو مظلوم کے دل سے نکلے تیر کو جو کہ محو سفر ہے کب ظالم اور اسکی خوشیوں کے درمیان حائل ہو جائے معلوم نہیں۔
    سب کچھ بھولا ہوا ہے ہر سبق انسانیت کا بھولے ہوئے ہیں کچھ بھی نہیں یاد۔
    محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا دیا ہوا انسانیت کا درس ہمارے پلے نہیں پڑا اس کو محض انکی زندگی کی خوبصورتی اور اعلی اخلاق کی تعریف تک محدود کر دیا۔
    اب کہاں جائیں وہ مظلوم؟
    کس سے اپنی فریاد کریں؟ کس کو اپنی آپ بیتی سنائیں؟ کس کو بتائیں کہ انکی بھوک کو کس طرح انکی کمزوری بنا کر ان سے نیچ کام کروائے گئے؟
    کہاں ہے وہ عدالتی نظام جس میں مظلوم کی دادرسی کی جاتی تھی۔ جہاں مظلوم کو انصاف ملتا تھا ظالم کو سزائیں دی جاتی تھیں۔ لوگ عبرت پکڑتے تھے ظالم ظلم کرنے سے ڈرتا تھا۔ اب معاشرے میں یہ خوف کہاں؟ اب تو آزادی ہے کچھ بھی کر لو سب بازار میں خرید و فروخت کی طرح بک رہا ہے انصاف بک جاتا ہے گواہ بک جاتے لوگوں کی خوشیاں، غم سب کی بولی لگ جاتی کوئی پوچھنے والا نہیں۔
    طاقتور اور دولت مند کو انصاف بھی ملتا ہے چھوٹیں بھی مل جاتی انکے قرضے بھی معاف ہو جاتے ہیں
    لیکن
    غریب کو کیا ملتا ہے تھانے کچہریوں کے چکر ؟
    پولیس کی جھڑکیں عدالتوں کے چکر لمبی تاریخیں اور آخر میں جب سب بک جاتا ہے تو عدم ثبوت کی بنا پر مجرم بری اور مظلوم کی عزت نیلام ہو جاتی ہے۔
    آخر ایسا کیوں اور کب تک؟
    والدین اپنی بچی کیلئے اچھا رشتہ تلاش کرتے ہیں بڑی چھان بین کے بعد رشتے طے ہوتے ہیں خوشیاں منائی جاتی ہیں مٹھائیاں تقسیم کی جاتی ہیں۔ جہیز کیلئے اپنی ساری جمع پونجی خرچ کر دی جاتی ہے بچی کو خوش دیکھنے کیلئے آنے والا وقت اس کا اچھا گزرے ہر چیز لائی جاتی ہے پیسے کم پڑ جائیں تو قرض لیا جاتا ہے حتی کہ کچھ اپنا قیمتی سرمایا مکان تک گروی رکھ دیا جاتا ہے بیچ دیا جاتا ہے۔
    لیکن جب شادی ہو جاتی ہے تو وہ لڑکی سسرال میں ایسے جاتی ہے جیسے کسی خطرناک جیل میں کوئی خطرناک قیدی پہنچ گیا ہو اسکی زندگی کو عذاب بنا دیا جاتا ہے خاموشی سے ظلم سہتی ہے والدین کو بھی پتا نہیں چلتا کہ بچی کو کس جانور سے باندھا ہے انھوں نے۔
    آنے والا کل اچھا ہو گا اس امید سے وہ اپنے دن گزارتی ہے رو لیتی ہے چھپ کر صبر کر لیتی ہے لیکن جب یہ ظلم بڑھ جاتا ہے اس کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو جاتا ہے تو آخر دل سے ایک آہ ایک تیر نکلتا ہے پھر اس قید خانے کا ہر باسی ہر ظالم اپنے انجام کی طرف جاتا ہے۔
    طاقتور طاقت کے نشے سے چور اپنے ظلم کی داستانیں رقم کر رہا۔
    سیاستدانوں کی اپنی بدمعاشیاں ہیں آخر مظلوم کہاں جائے پھر کس سے انصاف مانگے؟
    ظلم کا دورانیہ لمبا ہو سکتا ہے لیکن ہمیشہ قائم نہیں رہ سکتا۔ ظالم کو اللہ کی طرف سے چھوٹ نہیں ہو سکتی رسی ڈھیلی ہو سکتی ہے لیکن وہ دیکھتا ہے اور جب وقت آ جاتا ہے تو کھینچ لی جاتی ہے رسی پھر سب کچھ ڈھیر ہو جاتا ۔
    کمزور اور طاقتور سب کو اللہ نے پیدا کیا اس نے یہ سب انسان کی آزمائش کیلئے رکھا کون کس طرف چلتا ہے کون اپنی طاقت کا جائز استعمال کرتا ہے اور کون ناجائز استعمال کرتا ہے۔
    آخر طاقت ختم ہو جاتی ہے جب محتاج کر دیا جاتا ہے پھر سب سمجھ آ جاتی ہے لیں وقت گزر چکا ہوتا۔
    دولت، طاقت اور عہدے سب عارضی ہیں دائمی کچھ نہیں ہمیشہ رہنے والی ذات اللہ کی ہے انصاف اس کے ہاں نہیں بکتا نہ سفارشیں کام آتی ہیں نہ خاندانی برتریاں
    وہاں انصاف ہوتا ہے مظلوم کی اپنی جاتی ہے ظالم پکڑ میں آ جاتا ہے پھر سب یاد کروایا جاتا ہے جو بھولا ہوتا ہے۔
    اولاد جب نافرمان ہو جاتی ہے جوانی میں آ کر وہ اپنے خون کی گرمی کی وجہ سے یہ بھول جاتے ہیں کہ انکے والدین کا جسم کا خون انکی زندگی بناتے بناتے ٹھنڈا ہوا ہے جب والدین کو کہتے ہیں کہ تم نے ہمارے لیے کیا کیا تو پھر
    والدین کے دل پہ کیا گزرتی ہے کیسے وہ سنبھالتے ہیں خود کو؟
    برداشت کرتے ہیں وہ بچے کے اس ظلم کو بھی کہ کہیں ہماری آہ نہ لگ جائے لیکن جب برداشت ختم ہو جاتی ہے اور ظلم بڑھ جاتا ہے بات بات پہ ان کو طعنے ملتے ہیں رسوا کیا جاتا ہے تو آخر انکے حصے میں بھی یہ عذاب لکھ دیا جاتا ہے وہ بھی اپنے کیے کو بھگتنا شروع ہو جاتے ہیں
    کیوں کہ اب انکی زندگی میں والدین کی آہ کا تیر لگ چکا ہوتا ہے انکی خوشیوں میں ایک زہر آلودہ آہ شامل پو جاتی ہے۔
    زندگی انکیلئے بوجھل ہو جاتی ہے خوشیاں روٹھ جاتی ہیں
    پھر سمجھ آتی ہے لیکن دیر ہو جاتی ہے بہت دور ہو جاتا ہے سب کچھ بہت دور۔
    اللہ نے اگر دولت دے دی طاقت دے دی عہدہ دے دیا تو یہ سب اللہ کا انعام ہے اس کا شکر ادا کرو۔
    اس کا اصل شکر یہ ہے کہ اس کو اسکی مخلوق کی بھلائی کیلئے استعمال کرو
    نہ کہ مخلوق کو بتاو کہ میں ہی سب کچھ ہوں۔
    نہیں ایسا نہیں سب کچھ اللہ کا ہے اس نے جس کو دیا آزمانے کیلئے دیا وہ لے بھی سکتا کسی اور کو بھی دے سکتا ہے
    بس جب تمہیں دیا تو پھر یاد رکھنا کہ وہ لوگوں کی آہوں کا سبب نہ ہو بلکہ دعاوں کا سبب
    Live_with_honor @

  • گناہوں پر آٹھ گواہ  تحریر: مدثر حسن

    گناہوں پر آٹھ گواہ تحریر: مدثر حسن

    آپ کو پتہ قیامت کے دن ہر انسان کے گناہوں پر آٹھ گواہ پیش ہوں گے۔ آٹھ گواہ انسان کے خلاف گواہی دے گئیں اور کہے گئیں کہ اس نے فلاں فلاں گناہ کیا ہے۔۔۔۔۔

    پہلا گواہ: جس جگہ بندے نے گناہ کیا ہو گا،وہ جگہ وہ زمین کا ٹکرا قیامت کے دن اس کے خلاف گواہی دے گا۔۔!!سورۃ الزلزال آیت نمبر(5،6)

    وہ زمین کا ٹکڑا یہ گواہی دے گا اے اللہ پاک یہ بندہ مجھ پر اکڑ کر چلتا تھا غرور اور تکبر کیساتھ اپنی گردن اونچی کر کے مہرے اوپر چلتا تھا حالانکہ تکبر تو اللہ پاک کی چادر ہے باقی مخلوق میں اگر ذرا برابر بھی تکبر ا گیا تو ارشاد ہے کہ اسکو جنت کی خوشبو تک نصیب نہیں ہوگی۔ اس کے علاوہ انسان زمین کے جس جس حصے پر گناہ کرتا ہے وہی حصہ قیامت والے دن بولے گا کہ الہیٰ اس نے میرے اوپر گناہ کیے ۔ ہر زمین کا حصہ بولے گا گواہی دے گا چاہے آپ نے نیکی کی ہو اس خطے کے اوپر یا برائی۔۔۔

    دوسرا گواہ: وہ دن بھی گواہی دے گا جس دن بندے نے گناہ کیا ہو گا۔(سورۃالبروج آیت نمبر 3)

    اس کے علاوہ انسان کا وہ دن جس دن اس نے برائی کی جس دن اس نے کسی مظلوم کے ساتھ زیادتی کی کسی یتیم کا حق کھایا انسانیت کی تضحیک کی وہ دن بھی گواہی دے کہ مولا اس نے اس دن گناہ کیے تھے۔ اور اس نے اس دن مقررہ وقت پر اچھائی کی تھی۔۔۔

    تیسرا گواہ: قیامت کے دن ان کی زبان بھی ان کے خلاف گواہی دے گی ۔(سورۃ النور آیت نمبر 24)

    انسان کی اپنی زبان بھی اس دن گواہی دے گی وہ بول پڑے گی کہ آیا کہ یہ ساری زندگی گالیاں بکتا رہا یا نیکی پھیلاتا رہا۔ اگر زبان گواہی دے گی کہ اس نے تیری اور تیرے محبوب کی تعریف کرتا رہا ساری زندگی تو پھر تو جنت نصیب ہو جائے گی اور بخشش بھی ہو جائے اگر اس نے بول دیا کہ یہ تمام عمر گالیاں اور فضول باتیں کرتا رہا تو اس کے لیے پھر عذاب ہوگا۔۔

    چوتھا گواہ: انسان کے جسم کے باقی اعضاء ہاتھ پاؤں یہ بھی گواہی دیں گے ان کے خلاف ۔(سورۃ یٰسین آیت نمبر 25)

    انسان کا ہر کر اعضا اس دن بول پڑے گا کہ آیا اس نے اچھائی کی جا برائی۔ آج جو انسان چوری کرتا ہے یا ہاتھ سے جو بھی گناہ کرتا ہے وہ ہاتھ اس دن بول پڑی گے اور گواہی دینگے۔ اگر انہیں ہاتھوں کیساتھ آسانیاں بانٹیں ہونگی خدا کی مخلوق میں تو بخشش ہو جائے گی وگرنہ عذاب تو بھگتنا پڑے گا۔۔۔

    پانچواں گواہ: دو فرشتے جو تم پر نگران مقرر ہیں ،لکھنے والے ہیں جو کچھ تم کرتے ہو وہ جانتے ہیں وہ بھی گواہی دے گئیں تمہارے خلاف ۔(سورۃ الانفطار آیت نمبر12)

    اللہ تعالیٰ نے ہمارے کاندھے کے اوپر دو فرشتوں کی ڈیوٹی مقرر رکھی ہے ایک فرشتہ اچھائی والا ہے دوسرا برائی والا ہے۔ اچھائی والا فرشتہ اچھائی نوٹ کرتا ہے اور برائی والا برائی۔ جب قیامت کا دن ہوگا میدان حشر لگا ہوگا تو یہ کاندھے پہ بیٹھے دو فرشتے اس دن انسان کا نامہ اعمال جو انہوں نے اسکی زندگی میں لکھا ہوگا پیش کر دینگے۔۔۔ اور سزا و جزا کا فیصلہ اسکی بنیاد پر کیا جائیگا۔۔

    چھٹا گواہ: وہ نامہ اعمال جو فرشتے لکھ رہے ہیں تو زبان بھی گواہی دے گی اور نامہ اعمال بھی دیکھائے جائیں گے قیامت کے دن ۔(سورۃ الکہف :آیت نمبر 49)

    ساتواں گواہ: آپ ﷺ بھی گواہ ہوں گے، اللہ رب العزت آپ ﷺ سے بھی گواہی مانگیں گے اور اس وقت رسول ﷺ بھی گواہی دیں گئیں۔(سورۃ النساء آیت نمبر 41)

    اس دن ہم خود بھی بول پڑینگے کیونکہ اس دن اللہ کی مرضی ہی ہوگی بس وہ حکم دے گا اور ہم بولنا شروع کرینگے اس کے علاوہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات جو کہ ہماری جانوں سے بھی زیادہ قریب ہیں اور سب کچھ جانتے ہیں وہ بھی گواہی دینگے۔ اگر ہم نے عمل انکی زندگی پر کیا ہوگا تو آپ شفاعت بھی فرمائینگے اور اللہ پاک سے بخشش کی دعا بھی کریںگے۔۔

    آٹھواں گواہ: اللہ رب العزت قرآن میں فرماتے ہیں،جو تم گناہ کرتے ہو،ہم قیامت کے دن اس پر گواہ ہوں گے اور سب سے بڑھ کر اللہ گواہی دے گا اور کہے گا تم نے یہ گناہ کیا ہے ۔(سورۃ یونس آیت نمبر 61)

    ہمارے گناہوں پر اللہ خود گواہ ہوگا (اللہ اللہ) کیا عالم ہوگا، کبھی سوچا ہے آپ نے کیا جواب دیں گے اس وقت اللہ اور اس کے رسول ﷺ کو

    یا اللہ ہمارے صغیرہ کبیرہ گناہوں کو بخش دے اور ہمیں نیک اعمال کرنے کی توفیق عطافرما آمين

    ‎@MudasirWrittes