Baaghi TV

Category: مذہب

  • عورت مارچ اور چند حقائق تحریر  : راجہ حشام صادق

    عورت مارچ اور چند حقائق تحریر : راجہ حشام صادق

    دین اسلام نے چودہ سو سال پہلے ہی عورت کو اس کے حقوق دے دیئے ہیں آج کل کے یہ عورت مارچ جن حقوق کے لیے گھروں سے نکل رہی ہیں وہ دین اسلام کے نہ تو بنیادی حقوق ہیں نہ ہی اسلام نے عورت کو اتنی آزادی کی اجازت دی ہے۔ باپ بھائی بیٹے اور شوہر کی صورت میں قابل عزت رشتے عورت کے محافظ اور طاقت ہوتے ہیں

    سب سے پہلے تو ہم جس ملک میں رہتے ہیں یہ ملک ہمارے بڑوں نے بڑی قربانیاں دے کر حاصل کیا تھا اور ملک پاکستان کا مطلب کیا لا الہ الا اللہ اس بنیاد پے بنا تھا یہ ملک

    ہم سب جس معاشرے کا حصہ ہیں یہاں کی خواتین باحیا ہیں الحمدللہ دین اسلام کے بتائے گئے اصولوں پر زندگی گزارتی ہیں ۔ عورت مارچ کو سڑکوں پر نکلنے اور حقوق کے لیے احتجاج کرنے کا موقع مل رہا ہے تو کہیں نہ کہیں ہمارے قانون کا بھی ہاتھ ہے۔

    بہت سارے ایسے واقعات ہوئے ہیں جس سے عورت یہ سمجھتی ہے کہ وہ غیر محفوظ ہے۔وہ شاید سمجھتی ہے کہ یہاں دوندا صفت انسان بستے ہیں اور جنگل کا قانون ہے یہاں۔
    بہت سے ایسے واقعات جس میں معصوم بچیوں کا ریپ کیا گیا ہے یا پھر دفاتر اور مختلف ایسی جگہیں جہاں مرد و خواتین ایک ساتھ کام کرتے ہیں جنسی طور پر ہراساں کیا جاتا ہے یہی وجہ ہے کہ عورت پھر بغاوت کرنے پے اتر آتی ہے کچھ نام نہاد دین کے ٹھیکیدار تو بچوں کے ساتھ بھی جنسی زیادتی کرتے پائے گئے سکولز اور یونورسٹیز میں بھی کسی کی عزت محفوظ نہیں رہتی

    قارئین اس عورت مارچ کے حوالے سے ہمارا غم و غصہ اپنی جگہ لیکن اس کے کچھ اور پہلو بھی ہیں۔
    جنگل کا قانون تو ٹھیک ہے مگر کہیں نہ کہیں مرد حضرات بھی اس جرم میں برابر کے شریک ہیں
    معاشرے میں بسنے والے مردوں کا منفی رویہ بھی سامنے رکھنا چاہیئے جہاں ایک طوائف کو بدکردار کہا جاتا ہے۔ اور اسے پورے معاشرے میں کوئی عزت نہیں دی جاتی لیکن اس کے پاس جاتا کون ہے اس معاشرے کے باعزت کہلانے والے افراد اور پھر ان کی اونچی شان اور عزت میں کوئی کمی نہیں ہوتی۔

    کیا اس معاشرے میں بغاوت کی ذمہ دار صرف عورت ہے؟
    ایک جنگل کا قانون اور دوسرے وہ مرد بھی برابر کے مجرم ہیں جو عورت کے حقوق پر ڈاکا ڈالتے ہیں
    اور ان کو غلط راستے پر چلنے کے لیے مجبور کرتے ہیں کوئی بھی عورت باغی پیدا نہیں ہوتی بلکہ معاشرے میں بسنے والے لوگوں کے رویے اور بنائے گئے حالات اسے مجبور کر دیتے ہیں اس مارچ پے تنقید کرنا اور اسے روکنا ہمارا فرض ہے۔

    ہمیں بھی یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ یہ معاشرہ صرف مردوں کا نہیں اس میں جو حقوق دین اسلام نے عورت کو دیئے ہیں اس پر عملدرآمد کرنا ہماری ذمہ داری ہے اور قانون کے رکھوالوں سے بھی گزارش ہے کہ یہ لا قانونیت کا دبہ اپنے اوپر سے اتار پھینکیئے اور مدینہ جیسی ریاست کو بنیاد بنا کر اس ماڈل کی ریاست بنانے کے بارئے قانون بنائے

    اللہ پاک ہم سب کا حامی ناصر ہو

    @No1Hasham

  • فاروقی عدل وقت کی ضرورت تحریر: صائمہ ستار

    فاروقی عدل وقت کی ضرورت تحریر: صائمہ ستار


    جب سے یہ دنیا بنی جرائم ہمیشہ سے ہیں.یہ دنیا خطا کہ پُتلے "انسانوں "کی ہے. حق و باطل, اچھائ و برائ کی یہ جنگ رہتی دنیا تک جاری رہنے والی ہے.یہ تو کبھی نہیں ہو سکتا ہے کہ سب فرشتہ صفت ہو جائیں کوئ گنہگار نہ بچے اور یہ دنیا جنت کا منظر پیش کرے.جہاں بہت سے اچھے لوگ ہیں جنکی وجہ سے انسانیت زندہ ہے وہیں کچھ لوگ انسانیت کے نام پر شرمناک دھبہ ہیں. اس دنیا میں اچھائ کی برتری اور بدی و جرائم کی سرکوبی کے لیے خالقِ کائنات نے دین ِاسلام میں واضح شرعی سزائیں مقرر فرمائ ہیں تا کہ نظام ِعدل سر بلند رہے اور دنیامیں اچھائ کو برائ پر فوقیت رہے. .نبیِ آخر الزماںﷺ کے مبارک دور سے خلفائے راشدین اور جب تک اسلام سپر پاور رہا,مسلمانوں کا دورِ عروج رہا یہ صرف تب تک تھا جب تک امتِ مسلمہ نے اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھامے رکھا.اور دنیاوی و دینی تعلیم ہو,میدانِ سیاست ہو یا نظامِ عدل ہر جگہ احکامِ الہی کو مدِ نظر رکھا جاتا رہا.سخت شرعی سزاؤوں کا نفاظ رہا.حکمران اپنے آپ کو رعایا کے جان و مال کا امیں سمجھتے رہے.وقت کا سفر جاری رہا مسلمانوں نے عروج سے زوال کی سیڑھی پر قدم رکھا حاکم سے محکوم ہوئے.. بظاہر اسلامی ممالک رہے مگر جدید دنیا کے تقاضوں اور مغرب کی اندھی تقلید میں اسلامی نظام اور قوانین کو کہیں پسِ پشت ڈال دیا گیا.اسلامی سزائیں مغرب کے کہنے پر "انسانیت "کے نام پر ختم کر دی گئیں. یہاں سے انسانیت کے شرمناک دور کا آغاز ہوا ہر آنے والے وقت میں جرائم, نا انصافی کی شرح پہلے سے بڑھتی گئی.غرباء اور بے بس لوگوں کی عزت دو کوڑی سے بھی کم خون پانی سے سستا ہوتا گیا. نظامِ عدل, انصاف,قوانین صرف نام کے رہ گئے.عدالتیں اور فوری انصاف صرف اشرفیہ جاگیرداورں,سیاست دانوں , بیوروکریسی اور طاقتور لوگوں کا حق بن گیا.کیس اپنی مرضی کی عدالت میں لگوا کر,مرضی کا مصنف خرید لینا اور فیصلہ بھی مرضی کا یہ عام سی باتیں بن کہ رہ گئی ہیں. شاہ زیب قتل کیس سے زین قتل کیس اور سانحہ ماڈل ٹاؤن سے سانحہ یتیم خانہ چوک لاہور تک ہزاروں مثالیں ہیں. غریبوں کے لیے فوری انصاف حاضر ہے جب کہ غرباء میں اگر مقتول قتل ہوتا ہے تو لواحقین کی وکلاء کی مہنگی فیسوں اور عدالتوں کے چکروں میں زندگی تمام ہوتی ہے اکثر ایسا بھی ہوتا کہ ملزم پابندِ سلاسل وفات پا جائے بعد میں عدالت میں بے گناہی ثابت ہو. ایسی مثالیں بھی ہیں نوجوانی میں بے گناہ لوگ اس اندھے نظام کی بھینٹ چڑھتے ہیں اور بالوں میں سفیدی آنے پر انہیں باعزت رہائ کا پروانہ ملتا ہے ان رسمی لفظوں کے ساتھ کہ نظامِ عدل آپکی ساری زندگی ضائع کر دنیے پر معزرت خواہ ہے.یہ معزرت ہے یا بدترین مذاق؟ہزاورں بے گناہ زینب /ماہم / نور مقدم ہوس کے پجاریوں کی بھینٹ چڑھتی ہیں 100 میں سے ایک کو سزا ملتی ہےاور باقی چند سال سرکاری مہمان پر جیل میں رہتے اور رہائ پاتے ہیں.مجرم طاقت ور ہو تو ایف آی آر تک درج نہیں ہوتی. آج اپنے نظامِ عدل سے ذرا سی واقفیت رکھنے والا شخص آسانی سے نور مقدم کیس کا مستقبل بتا سکتا. ملزم کو ذہنی مریض ثابت کیا جائے گا ,ڈی این اے رپورٹ تبدیل ہوگی یا تھراپی ورکرز میں سے کسی کو قربانی کا بکرا بنا دیا جائے یا انکے بیانات بدلوا لیے جائیں گے.یہ ہے ملک کا جوڈیشنل سسٹم.مقتول لاشوں کو کندھوں پر رکھ کے پھرتے ہیں, بے گناہ کے آنسو انکے گریبانوں پر گرتے ہیں پتھر دل نظامِ عدل کے علمبرداروں کے کان پر جوں تک نہیں رینگتی.

    کچھ سرعام ،کچھ پسِ دیوار بکتے ہیں !
    اس شہر میں ضمیر بکتے ہیں!
    یہاں تہزیب بکتی ہے !
    یہاں فرمان بکتے ہیں!
    ذرا تم "دام ” تو بدلو یہاں ایمان بکتے ہیں

    کیا یہ اسلامی جمہوریہ پاکستان ہے؟کیا ہم مسلمان ہیں اس اسلام کے پیروکار ہیں جسکے رہنما سیدنا محمدﷺ کا عدل یہ تھا کہ فرمایا میری جان سے عزیز بیٹی فاطمہ رضی اللہ عنہ بھی چوری کریں تو انکے بھی ہاتھ کاٹنے کا حکم دوں. ہمارے اسلاف /ہمارے رہنما وہی عمرِ فاروق رضی اللہ عنہ نہیں کہ گلیوں میں گشت فرما رہے تھے بوڑھی عورت ملی نا جانتے ہوئے کہ یہی تو امیرَالمومنین عمر رضی اللہ عنہ ہیں شکوہ شکائیت کرنے لگی کہ عمر میرے حال کی خبر نہیں رکھتا.آپ نے کہا اماں جی عمر کو اتنی بڑی سلطنت میں آپکے مسائل کا علم کیسے ہوگا؟اگر آپ خود نہیں بتائیں گی.. بوڑھی عورت نے تاریخی جواب دی کہا کہ عمر کو چاہیے اتنی ہی زمیں پر حکمرانی کرے اور اتنے ہی لوگوں کا خلیفیہ بنے جنکی خبر رکھ سکے.آپ کا دل ہِل کے رہ گیا اور فوراً خبر گیری کی مہم تیز تر کردی.عدل کیسے قائم ہوتا منصف/ حکمران کیسے ہوتے ہیں تو کوئ عمرِ فاروق کو دیکھے فرماتے "قوم کا سچا حکمران قوم کا خادم ہوتا ہے”.راتوں کو اُٹھ اُٹھ کر پہرا دیتے.خوفِ خدا اور اقتدار کی جواب دہی کا ڈر اسقدر کہ فرماتے اگر دریائے فرات کے کنارے عمر کی خلافت میں ایک کتا بھی پیاسا مر گیا تو عمر بارگاہِ الہی میں جواب دہ ہو گا. اس ایک بات سے وطنِ عزیز کے بوسیدہ نظامِ عدل کی تمام تر وجہ سمجھ آجاتی ہے کہ عمرِ فاروق کتے کی جان کو بھی سراسرا صرف اور صرف اپنی ذمہ داری قرار دیں اور اسلامی جمہوریہ پاکستان کے حکمران ہر روز سینکڑوں انسانی جانوں کے ضیاع پر محظ رسمی, مذمتی تقاریر اور کبھی نظام کو موردِ الزام ٹھہرا کہ فارغ ہو جائیں. نظام حکمران نے درست کرنا ہے بروزِ قیامت ہرنگہبان/حکمران سے سے ہی رعایا کے حقوق کی جواب دہی ہو گی.”فاروقی عدل ” وقت کی ضرورت ہے. حکمرانوں کو سمجھنا ہوگا کہ حکمرانی کا مطلب عوام کی خدمت اور منصفانہ نظام کا قیام ہے.اقتدار کو مسندِ عیاشی سمھجنے اور دن رات صرف سیاسی مخالفین پر کیچڑ اچھالنے کی بجائے اصل ذمہ داری کی کی طرف آنا ہو گا جو کہ جو کہ رعایا کے جان و مال کا تحفظ اور منصفانہ معشرے کا قیام ہے.یہی پاکستان کی معاشی ترقی اور ہر میدان میں عروج کا راز ہو گا کیونکہ معاشرے عدل پر پھلتے پھولتے اور سپر پاور بنتے ہیں.جس وطن میں مظلوموں, بے بسوں کی آہیں ہوں.طاقتور کے لیے معافی اور بے بس اور چھوٹے لوگوں کے لیے سزا ہو. وہاں لاکھ کوئ ایک کے بعد ایک نام نہاد بہترین حکمران بدلے.. معاشی ترقی کے لیے بہترین سے بہترین پالسیز /منصوبے بنیں عدل سے روگردانی کرنے والے معاشروں کا مقدرصرف تباہی ہے.آج بھی نظامِ مصطفیﷺ کی روشنی میں مکمل اسلامی سزاوؤں کا نفاذ ہو,حکمران حضرت عمرِ فاروق رضی اللہ عنہ کے نقشِ قدم پر چلیں تو یہ معاشرہ جنگل بننے سے بچ جائے.اور عجب نہیں کہ دنیا فاروقی عدل اور امتِ مسلمہ کی کھوئ ہوئ شان و شوکت ایک بار پھر دیکھے.
    ‎@SMA___23‎

  • ازدواجی خاندانی نظام  تحریر: فروا نذیر

    ازدواجی خاندانی نظام تحریر: فروا نذیر

    آج کل ہم جس معاشرے میں زندگی گزار رہے ہیں وہاں سسرال کا نام لیتے ہیc لڑکیاں عجیب سا رد عمل دیتی ہیں
    سب لڑکیاں تو نہیں لیکن کچھ لڑکیاں ایسا کرتی ہیں۔۔۔

    سوچنے کی بات ہے ایسا کیوں ہوتا ہے۔۔۔؟؟؟

    اللہ پاک نے ہر انسان کو نکاح کا حکم دیا ہے اور فرمایا ہے؛
    کہ نکاح ہر بالغ مرد و عورت پر فرض ہے
    نکاح کرنا ہمارے پیارے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ والٰہ وسلم کی سنت ہے نکاح اس لیے لیا جاتا ہے تاکہ انسان اپنی نسل کو پروان چڑھا سکیں
    اور بد امنی سے بھی بچنے کے یہ بہترین طریقہ ہے کہ جس کو تم پسند کرتے ہو جائز اور پاکیزہ رشتے میں اپنا لو اللہ تم پر اپنا کرم کریں گا…
    لیکن لوگوں نے نکاح کو بھی ایک فیشن سا بنا لیا ہے نکاح تو ہوگیا

    لیکن کچھ لڑکیوں نے سسرال کے بارے میں اتنے غلط نظریات رکھے ہوئے ہیں کہ شادی کے بعد وہ پرسکون نہیں رہتی اور کہتی پھرتی ہیں کہ سسرال ایسا ہے یا ویسا یے..
    تو یہ بات غلط ہوتی ہے سسرال بھی ایل گھر ہی ہوتا ہے لیکن اس معاشرے میں رہتے ہوئے لوگ غلط سوچ کو رکھنا شروع ہوگئے ہیں مانا کی کچھ ساس یا سسر سخت ہوتے ہیں۔۔

    لیکن کیا آپ اس بات کو مانتے کہ کچھ ماں باپ بھی تو سخت ہوتے ہیں لیکن وہ تو برے نہیں ہوتے بس سسرال ہی برا ہوتا ہے جب بہو اچھا سلوک نہیں کرے گی تو ساس کسطرح اچھا سلوک کریں گی…
    آج کل لڑکیوں کو بس اتنی سی بات سمجھ میں نہیں آتی کہ سسرال میں رہتے ہوئے سبکو خوش کرنے کیلیے تھوڑا سا کمپرومائز (Compromise)کرنا پڑتا ہے تاکہ مسائل سے بچا جا سکیں..
    لیکن لڑکیاں اس بات پر آتی نہیں وہ اپنی انا کو سامنے لے آتی ہیں اور پھر کیا ہوتا ہے جھگڑے تعلق خراب اور یا پھر علیحدگی….
    لڑکیوں کو ایک اتنی سی بات سمجھ نہیں آتی کہ سسرال بھی تو گھر ہی ہوتا ہے وہاں کوئی دوسری دنیا کے لوگ تو نہیں ہوتے
    جیسے اپنے گھر میں ماں باپ بہن بھائی بھابھی ہوتے اسی طرح سسرال میں بھی شوہر کے ماں باپ بہن بھائی بھابھی ہوتے
    جہاں بس آپکو یہ کرنا ہوتا آپکو ان کے ساتھ اچھا سلوک اور عزت..
    کیونکہ آپکی عزت بھی اس وقت ہو گی جب خود دوسروں کو عزت دوں گے…
    جیسے کہا جاتا ہے: *جیسا کرو گے ویسا پاؤ گے* اگر اچھا سلوک کرو گے تو اچھا سسرال پاؤ گے اور برا کرو گے تو برا پاؤ گے…
    لیکن آجکل اخلاقیات کی بہت کمی ہوتی جارہی ہے جیسے جیسے انسان تعلیم حاصل کررہا ہے اس میں انسانیت عقل و شعور ختم ہورہا ہے کچھ لوگوں میں …
    تو یہ سب بہت غلط ہورہا ہے کیونکہ اللہ نے ہر انسان کو اسکا مقام اور عزت دیا ہے اب اسکو استعمال کیسے کرنا ہے وہ بھی بتایا گیا ہے..
    لیکن استعمال نہیں کرتے لوگ یہی تو معاشرے کاسب سے بڑا فعال ہے.. اور پھرقصور وار سسرال کو ٹھہرادیا جاتا ہے ..
    میں یہ بات سب پر نہیں بس کچھ پر کر رہی ہو تاکہ کوئی اپنے اوپر نہ لے اور ایک بار اپنی زندگی کا جائز لیں…
    یقین مانیں سسرال کو اگر اپنا گھر ساس سسر کو والدین اور باقیوں کو بہن بھائیوں کی طرح سمجھے گے۔۔۔تو آپکو کوئی مشکل نہیں ہوگی اور جہاں مشکل ہو گی وہاں آپکا اللہ ہمیشہ ساتھ ہے…
    میرا اس تحریر کو لکھنے کا یہی مقصد ہے کہ آجکل لوگ گمراہی کی طرف جا رہے ہیں
    سسرال کو کچھ سمجھتے نہیں اور فورا ہی الگ گھر کرلیتے ہیں۔۔۔ لیکن ذرا سوچے کیا ان ماں باپ کو مان نہیں ہوتا جنہوں نے اتنی محنت اور محبت سے بیٹے کو قابل انسان بنایاہوتا ہے….
    تو سب اس بات پر غوروفکر کریں کہ آپ کیا کررہے ہیں کہاں کھڑے ہیں اور آپکو کیا کرنا چاہیے..
    میری تو یہی رائے ہے سسرال کو اپنا گھر سمجھ کر رہےاور ویسا ہی رویہ اختیار کریں
    جیسا اپنے ماں باپ کے گھر ہوتا تو آپ پرسکون زندگی گزارو گے…
    میری اللہ پاک سے دعا ہے کہ اللہ پاک مجھ سمیت ہر انسان کو بھلائی عطا فرمائے
    اور سیدھے راستے پر چلائے اور ہمیشہ اللہ پاک سب کا حامی و ناصر ہو
    آمین ثمہ آمین

    تحریر: فروا نذیر
    Twitter : @InvisibleFari_

  • اسلام اور سیاست  تحریر: رانا محمد جنید

    اسلام اور سیاست تحریر: رانا محمد جنید

    یہ ایک بہت اہم سوال ہے اور پچھلی بہت سی دہائیوں سے چلتا آ رہا ہے،
    کیا اسلام سیاست کی اجازت دیتا ہے،کیا اسلام میں سیاست کا کوئی کردار ہے۔؟
    یقیناً یہ سوال آپ بھی بہت دفعہ سن چکے ہوں گے،
    اور یہ کے جوابات بھی بہت الگ الگ قسم کے ہوتے ہیں
    کچھ لوگ کہتے ہیں اسلام کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں۔
    اسلام صرف اور صرف عبادات کا ہی نام ہے۔
    پر کیا یہ حقیقت ہے اسلام اور سیاست جدا جدا ہیں۔۔۔۔؟
    اور یہ بھی سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ سوال پیدا کب ہوا۔
    کیوں لوگوں کو ایسا بولنا پڑا کے اسلام اور سیاست جدا جدا ہیں
    اگر ہزاروں سال پیچھے جا کے دیکھا جائے اور اسلام کی تاریخ کے اوراق پلٹے جائیں تو ہمیں یہ پڑھنے کو ملے گا اللہ پاک جب بنی اسرائیل کی طرف کوئی نبی بنا کے بھیجتا تھا تو اسے نبی کے ساتھ ساتھ حاکم بھی بنا کے بھیجا جاتا تھا
    جب ایک نبی وفات پا جاتا تھا تو دوسرا نبی اس کی جگہ پر آ جایا کرتا تھا
    نبی کریم خاتم النبیین محمدﷺ نے ارشاد مبارک فرمائے:

    ‏بنی اسرائیل کی سیاست خود ان کے انبیاء کرام کیا کرتے تھے۔ جب کسی نبی کی وفات ہو جاتی تھی تو اللہ تعالیٰ کسی دوسرے نبی کو ان کا خلیفہ بنا دیتا تھا لیکن میرے بعد کوئی نبی نہیں
    (صحیح بخاری باب الانبیاء ذکر بنی اسرائیل حدیث 3455)

    نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی نبی نہیں آئیے گا اس لیے صحابہ کرام امت کے رہنمائی کے لیے خلیفہ بن کے آئیے
    اور خلیفہ وہ ہی بنا کرتا تھا جو جتنا زیادہ متقی اور پرہیز گار ہوتا تھا
    خلافت کے بعد ملوکیت شروع ہوئی جو کے اسلام کے ساتھ ساتھ چلتی آئی
    اور پھر اس کے بعد بادشاہت کا سلسلہ شروع ہوا اور مسلمان بہت سارے حصوں میں تقسیم ہو گئے
    اس کی وجہ دین دشمنوں کو دین اسلام کا ڈر تھا کے اگر مسلمان متحد رہے اور اسلام کی رسی کو مضبوطی سے پکڑے رکھا تو ان کو روکنا ممکن نہیں۔
    اس لیے یہود و نصارٰی نے مسلمانوں کو آپس کے اختلاف میں ڈال کے سرحدوں میں تقسیم کر دیا
    اور مسلمان حکمرانوں اور نوجوان نسل میں یہ بات زہر کی طرح شامل کر دی کی اسلام اور سیاست جدا ہیں۔
    جب تک کوئی پرہیز گار شخص حاکم نہیں بنے کا تب تک دین دشمنوں کو اسلام کے کوئی خطرہ ہی نہیں
    اور یہ ہی وجہ ہے کہ بڑے بڑے علماء اکرام کو حکومتی معاملات سے الگ کر دیا گیا
    چاہے وہ بادشاہت نا نظام ہو یا جمہوری نظام

    علامہ محمد اقبال نے کیا خود کہا تھا

    جلال پادشاہی ہو کہ جمہوری تماشا ہو
    جدا ہو دیں سیاست سے تو رہ جاتی ہے چنگیزی

    اگر ہم اسلام اور سیاست کو ایک دوسرے سے جدا کریں گے تو ہمارے پاس انگریزوں کا ظالمانہ نظام جمہوریت کی شکل میں ملے گا جو مسلمانوں کو ایک دوسرے سے جدا کرنے کا سب سے بڑا ذریعہ ہے
    آج کا ہر مسلمان حکمران اسلام کی خدمت کو چھوڑ کر اپنے ملک اور اپنی سرحد کی فکر میں ہے، اور اپنے ہی مسلمان بھائیوں کے گلے کاٹنے میں لگے ہوئے ہیں
    اگر مسلمان حاکم مل بیٹھ کر اپنے معمولات کو اسلام کی رو سے حل کریں کی کوشش کریں تو ممکن ہے مسلمان ایک بار پھر سے متحد ہو سکتے ہیں اور اپنی کھوئی ہوئی ساکھ واپس پا سکتے ہیں
    پر اس کے لیے سب کو اسلام کے بارے سمجھنے اور جاننے کی کوشش کرنا لازم ہے
    ایران کے سپریم لیڈر امام خمینی صاحب نے کیا خوب کہا ہے

    ”ہمارا دین عین سیاست اور ہماری سیاست عین دین ہے“

    ہمارا اسلام ہمیں سیاست کے بہترین اصول فراہم کرتا ہے
    اور اسلام ہی وہ واحد مذہب ہے جو انسانی زندگی کے تمام پہلوؤں کا احاطہ کرتا ہے

  • غیبت سے بچیں     تحریر: صفدر حسین

    غیبت سے بچیں تحریر: صفدر حسین

    گناہ درحقیقت دنیا اور آخرت میں تمام مصائب برائیوں اور عذاب کا سبب بن سکتے ہیں۔ اور تمام گناہوں میں سے بدترین وہ ہیں جو انسانیت کے لیے نقصان دہ ہیں۔ غیبت اور بہتان دونوں گناہ اللہ نے حرام کیے ہیں کیونکہ یہ لوگوں میں دشمنی برائی اور اختلاف کو جنم دیتے ہیں اور تباہی کا باعث بنتے ہیں۔ ایک ہی گھر کے لوگوں اور پڑوسیوں اور رشتہ داروں کے درمیان دشمنی کا سبب بنتے ہیں۔ وہ نیکیوں میں کمی اور برائیوں میں اضافہ کر سکتے ہیں اور بے عزتی اور بدنامی کا باعث بن سکتے ہیں۔
    غیبت کرنا شرم اور رسوائی کا کام ہے۔ ان کا مرتکب دوسروں کی نظروں میں ناپسندیدہ ہو جاتا ہے ۔ اللہ ان کاموں سے منع کرتا ہے ، جیسا کہ اللہ تعالیٰ قرآن پاک میں کہتا ہے غیبت سب سے ناپاک اور حقیر چیزوں میں سے ہے ۔پھر بھی انسانوں میں سب سے زیادہ پھیلا ہوا ہے اس طرح کہ کوئی بھی اس سے آزاد نہیں ہے سوائے چند لوگوں کے۔
    غیبت کرنے کا مطلب ہے کسی شخص کے بارے میں کچھ بتانا (اس کی غیر موجودگی میں) جس کے بارے میں ذکر کرنے سے وہ نفرت کرتا ہے چاہے وہ اس کے جسم ، اس کی مذہبی خصوصیات ، اس کے دنیاوی معاملات ، اس کے جسم ، اس کے کردار کے بارے میں ہو۔ اس کی دولت ، اس کا بچہ ، اس کا باپ ، اس کی بیوی ، اس کا چلنے کا انداز اور اس کی مسکراہٹ۔ یہ ایک ہی ہے چاہے آپ اس کے بارے میں الفاظ کے ساتھ ، تحریروں کے ذریعے ذکر کریں ، یا آپ اپنی آنکھوں ، ہاتھ یا سر سے اس کی طرف اشارہ کریں۔
    جہاں تک اس کی مذہبی خوبیوں کا تعلق ہے ، یہ تب ہوتا ہے جب کوئی کہتا ہیے وہ گنہگار ہے ، وہ چور ہے ، وہ غدار ہے ، وہ ظالم ہے،وہ نماز نہیں پڑھتا ، "وہ اتنی جلدی دعا کرتا ہے وہ اپنے والدین کے ساتھ اچھا سلوک نہیں کرتا وہ زکوٰۃ مناسب طریقے سے ادا نہیں کرتا ۔
    جہاں تک دنیاوی معاملات کا تعلق ہے تب یہ ہوتا ہے جب آپ کہتے ہیں اس کا اخلاق خراب ہے، وہ یہ نہیں سوچتا کہ کسی کا اس پر حق ہے،وہ بہت زیادہ بات کرتا ہے وغیرہ۔
    اللہ پاک قرآن پاک میں فرماتا ہے: ” اے ایمان والو! بہت بدگمانیوں سے بچو یقین مانو کہ بعض بدگمانیاں گناه ہیں۔ اور بھید نہ ٹٹوﻻ کرو اور نہ تم میں سے کوئی کسی کی غیبت کرے۔ کیا تم میں سے کوئی بھی اپنے مرده بھائی کا گوشت کھانا پسند کرتا ہے؟ تم کو اس سے گھن آئے گی، اور اللہ سے ڈرتے رہو، بیشک اللہ توبہ قبول کرنے واﻻ مہربان ہے "(قرآن 49:12) اس آیت میں اللہ تعالیٰ غیبت کرنے سے سختی سے منع کرتا ہے اور وہ غیبت کرنے والے کا موازنہ اس شخص سے کرتا ہے جو اپنے مردہ بھائی کا گوشت کھاتا ہے۔ اگر وہ اپنے بھائی کا گوشت کھانے سے نفرت کرتا ہے تو اسے چاہئے کہ غیبت کرنے سے گریز کرے
    حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: کیا تم جانتے ہو کہ غیبت کس کو کہتے ہیں؟ صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: اللہ اور اس کے رسول ہی زیادہ جانتے ہیں۔ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا اپنے مسلمان بھائی کی غیر موجودگی میں اس کے بارے میں ایسی بات کہنا جو اسے ناگوار گزرے (بس یہی غیبت ہے) کسی نے عرض کیا: اگر میں اپنے بھائی کی کوئی ایسی برائی ذکر کروں جو واقعتا اس میں ہو (تو کیا یہ بھی غیبت ہے)؟ آپﷺ نے ارشاد فرمایا اگر وہ برائی جو تم بیان کررہے ہو اس میں موجود ہے تو تم نے اس کی غیبت کی اور اگر وہ برائی (جو تم بیان کررہے ہو) اس میں موجود ہی نہ ہو تو پھر تم نے اس پر بہتان باندھا۔

    (سنن ابی داوُد، جلد سوئم کتاب الادب :4874) (مسلم)

    @itx_safder

  • ابوجہل کا قتل  تحریر: محمد معوّذ

    ابوجہل کا قتل تحریر: محمد معوّذ

    ابوجہل ایک ایسے گروہ میں تھا جنہوں نے اس کے گرد اپنی تلواروں اور نیزوں کی باڑھ قائم کر رکھی تھی ۔ ادھر مسلمانوں کی صف میں حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ جن کے اردگرد دو انصاری نوجوان تھے ، جن کی موجودگی سے وہ مطمئن نہ تھے کہ اتنے میں ایک نے اپنے ساتھی سے چھپا کر ان سے کہا : چچا جان ! مجھے ابوجہل تو دکھلا دیجے ۔“
    انہوں نے کہا : ” اسے کیا کرو گے ؟
    اس نے کہا : مجھے بتایا گیا ہے کہ وہ رسول اللّٰه صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو گالی دیتا ہے ۔ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اگر میں نے اس کو دیکھ لیا تو میرا وجود اس کے وجود سے جدا نہ ہو گا یہاں تک کہ ہم میں سے جس کی موت پہلے ہے وہ مر جائے۔
    اتنے میں دوسرے نے بھی یہی بات کہی ۔ اس کے بعد جب6 صفیں پھٹ گئیں تو عبدالرحمان بن عوف رضی اللہ عنہ نے دیکھا کہ ابوجہل چکر کاٹ رہا ہے ، انہوں نے دونوں جوانوں کو اسے دکھلا دیا ۔ دونوں جھپٹ پڑے اور تلوار مار کر قتل کردیا ۔ ایک نے پنڈلی پر ضرب لگائی اور اس کا پاؤں یوں اڑ گیا جیسے موسل کی مار پڑنے پر گٹھلی اڑ جاتی ہے ۔ دوسرے نے بری طرح زخمی کردیا اور اس حال میں چھوڑا کہ صرف سانس آجارہی تھی ۔ اس کے بعد دونوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے ۔ دونوں کا دعویٰ تھا کہ میں نے قتل کیا ہے ۔ یہ دونوں عفراء کے صاحبزادے معاذ اور معوّذ رضی اللہ عنہ تھے ۔ معوذ رضی اللہ عنہ تو اسی غزوے میں شہید ہو گئے البتہ معاذ رضی اللہ عنہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے دور خلافت تک باقی رہے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں کو ابوجہل کا سامان دیا۔
    معرکہ ختم ہو گیا لوگ ابوجہل کی تلاش میں نکلے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ انہوں نے اسے پا لیا ابھی اس کی سانس آ جا رہی تھی انہوں نے اس کی گردن پر پاؤں رکھا سر کاٹنے کے لئے داڑھی پکڑی اور فرمایا
    اللہ کے دشمن آخر اللہ نے تجھے رسوا کیا نا اس نے کہا
    مجھے کاہے کو رسوا کیا؟
    کیا جس شخص کو تم لوگوں نے قتل کیا ہے اس سے اوپر بھی کوئی آدمی ہے پھر بولا کاش مجھے کسانوں کی بجائے کسی اور نے قتل کیا ہوتا۔
    اس کے بعد کہنے لگا مجھے بتاؤ آج فتح کس کی ہوئی؟
    حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی۔
    ابوجہل نے کہا: او بکری کے چرواہے تو بڑی مشکل جگہ پر چڑھ گیا
    اس کے بعد حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے اس کا سر کاٹ لیا اور خدمت نبوی میں حاضر کیا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا
    تمام حمد اللہ کے لئے ہے جس نے اپنا وعدہ سچ کر دکھایا اپنے بندے کی مدد فرمائی اور تنہا سارے گروہوں کو شکست دے دی ۔
    پھر فرمایا: یہ اس امت کا فرعون ہے۔

    @muhammadmoawaz_

  • بے لگام سوشل میڈیا  تحریر: محمد آصف شفیق

    بے لگام سوشل میڈیا تحریر: محمد آصف شفیق

    جب سے سوشل میڈیا عام ہوا ہے نہ کوئی ضابطہ اخلاق ہے نہ کوئی اخلاقیات کا تصور الا ماشااللہ کوئی چند افراد آپ کو مل جائیں ، جہاں تک سوشل میڈیا ٹیموں کا تعلق ہے اس میں بھی باجماعت ٹرولنگ کرنا بے ہودہ قسم کے ہیش ٹیگز چلا کر با جماعت لوگوں کو برے برے القابات سے نوازنا اور پھر اس پر اترانا ،
    اگر آپ صرف ٹویٹر کو ہی لے لیں میں نے اگست 2009 میں ٹویٹر پر اکاونٹ بنایا ، اور اس بات کو یقینی بنایا کہ کوئی ایسی تحریر یا ٹویٹ نہ کیا جائے جس سے کسی کا دل دکھے ہمیشہ کوشش کی کہ اپنی بات تمیز کے دائرے میں رہتے ہوئے کی جائے گالی کا جواب بھی بھلائی سے دیا ، الحمد اللہ سوشل میڈیا ٹیمیوں کے کئی پرو ایکٹیو افراد ایڈ ہیں ایک دوسرے کو فالو بھی کیا ہوا ہے اور اکثر اوقات کوشش ہوتی ہے اگر کوئی اچھا ہیش ٹیگ ہو تو اس میں اپنا حصہ ڈال دوں
    دوسری سیاسی اور دینی جماعتوں کی طرح جماعت اسلامی کی بھی اپنی سوشل میڈیا ٹیم ہے اور میں الحمد للہ کافی عرصہ سے اس سوشل میڈیا ٹیم کا حصہ ہوں محترم شمس الدین امجد بھائی اس ٹیم کو لیڈ کرتے ہیں ، ہر فرد کیلئے رہنمائی اور تربیت کا خاص اہتمام کیا جاتا ہے گاہے بگاہے اون لائن بھی اور منصورہ لاہور میں بھی تربیتی نشستیں رکھی جاتی ہیں آجکل بھی تین روزہ مرکزی میڈیا ورکشاپ جاری تھی جو کہ آج ہی اختتام پزیر ہوئی جس میں امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سرا ج الحق نے شرکاء سے خطاب کیا
    امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق ہوں یا قاضی حسین احمد ؒ یا سید منور حسن ؒ سب نے اپنے سوشل میڈیا ورکرز کو ہمیشہ اعلیٰ اخلاق کا مظاہرہ کرنے کی تلقین کی ہے اور اس بات کی گواہی آپ کے کٹر دشمن بھی دیں گے کہ جماعت اسلامی کی سوشل میڈیا ٹیم ایک منظم اور باوقار ٹویپرز پر مشتمل ٹیم ہے جو ہمیشہ اخلاقیات کی پابندی کرتی ہے اپنے مخالفین کو بھی جواب اخلاق کے دائرے میں رہتے ہوئے دیتی ہے
    آج کچھ بہترین افراد کے ٹویٹر سے گالیوں کے ٹویٹ دیکھ کر بہت افسوس ہوا ہمیں ، فالورز زیادہ ہو یا کم اکاونٹ ویری فائی ہو یا نہ ہو مگر ہم اپنا نامہ اعمال اپنے ہاتھوں سے لکھ رہے ہیں بحثیت مسلمان ہمیں علم ہونا چاہئے کہ گالیا ں نکالنا کیسا ہے ، تہمت لگانا کیسا ہے ، الزامات لگانا کیسا ہے ، چھوٹ بولنا کیسا ہے ، کچھ خدا کا خوف ہی نہیں ہے موت یاد ہی نہیں مرنا نہیں ہے کیا ؟نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ مسلمان کو گالی دینا فسق ہے اور اس سے لڑنا کفر ہے۔صحیح بخاری:جلد اول:حدیث نمبر 47
    رسالت مآب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ جس میں مندرجہ ذیل چار عادتیں ہوگی وہ پکا منافق ہوگا جب گفتگو کرے تو جھوٹ کہے جب وعدہ کرے تو پیمان شکنی کرے جب کوئی معاہدہ کرے تو معاہدہ کی خلاف ورزی کرتے ہوئے غداری کرے اور جب جھگڑا کرے تو گالیاں بکنے لگے اور جب کسی میں مندرجہ بالا خصلتوں میں سے کوئی بھی خصلت ہوگی تو اس میں ایک نشانی منافقت کی ہے تاوقتیکہ وہ اس عادت کو ترک نہ کر دے۔
    صحیح بخاری:جلد دوم:حدیث نمبر 439
    عبداللہ بن عمرو رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا کہ سب سے بڑا گناہ یہ ہے کہ کوئی شخص اپنے والدین پر لعنت کرے، کسی نے عرض کیا یا رسول اللہ! آدمی اپنے ماں باپ پر کس طرح لعنت کرسکتا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ ایک آدمی دوسرے کے باپ کو گالی دے تو وہ اس کے ماں اور باپ کو گالی دے گا۔صحیح بخاری:جلد سوم:حدیث نمبر 933
    عبداللہ بن عمرو بن عاص سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ بڑے گناہ یہ ہیں کہ کوئی آدمی اپنے ماں باپ کو گالی دے صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم نے عرض کیا اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کیا کوئی آدمی اپنے والدین کو گالی دے سکتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہاں کوئی آدمی کسی کے باپ کو گالی دیتا ہے تو اپنے باپ کو گالی دیتا ہے اور کوئی کسی کی ماں کو گالی دیتا ہے تو وہ اپنی کی ماں کو گالی دیتا ہے۔
    صحیح مسلم:جلد اول:حدیث نمبر 264
    حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تم جانتے ہو کہ مفلس کون ہے صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم نے عرض کیا ہم میں مفلس وہ آدمی ہے کہ جس کے پاس مال اسباب نہ ہو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قیامت کے دن میری امت کا مفلس وہ آدمی ہوگا کہ جو نماز روزے زکوة و غیرہ سب کچھ لے کر آئے گا لیکن اس آدمی نے دنیا میں کسی کو گالی دی ہوگی اور کسی پر تہمت لگائی ہوگی اور کسی کا مال کھایا ہوگا اور کسی کا خون بہایا ہوگا اور کسی کو مارا ہوگا تو ان سب لوگوں کو اس آدمی کی نیکیاں دے دی جائیں گی اور اگر اس کی نیکیاں ان کے حقوق کی ادائیگی سے پہلے ہی ختم ہو گئیں تو ان لوگوں کے گناہ اس آدمی پر ڈال دئے جائیں گے پھر اس آدمی کو جہنم میں ڈال دیا جائے گا۔
    صحیح مسلم:جلد سوم:حدیث نمبر 2078
    اللہ رب العالمین سے دعا ہے وہ ہمیں آخرت کی رسوائی سے بچائیں اورہمیں اپنے دین کو سمجھنے کی توفیق عطا فرمائیں اور اپنے دین پر چلنے والا بنائیں ۔ آمین یا رب العالمین

    جدہ –سعودیہ
    @mmasief

  • ‏اسلام میں جانوروں کے حقوق  تحریر: جہانتاب احمد صدیقی

    ‏اسلام میں جانوروں کے حقوق تحریر: جہانتاب احمد صدیقی

    اسلام دین کامل ہے، دین اسلام کا پیغام امن و آشتی اور محبت کا پیغام ہے، اور رحمتِ کریمی صرف انسانوں تک محدود نہیں، ہر ذی روح تک محیط ہے۔ رب لعالمین کے فیوض و برکات نے جہاں عالمِ انسانیت کو سیراب کیا، وہیں بے زبان جانوروں کو بھی اپنی رحمتِ بے کراں سے مالامال کیا۔ دورِجاہلیت میں اہلِ عرب جانوروں کے ساتھ بدسلوکی کرتے تھے۔ رحمت العالمین ﷺ کے آنے کے بعد گویا ان بے زبان جانوروں کو بھی جائے اماں ملی۔

    دین اسلام نے جانوروں کے حقوق متعیّن کرکے رہتی دنیا تک انہیں عزت و تحفظ دیا ہے کیونکہ اسلام سلامتی کا مذہب ہے اوریہ سلامتی کا مژدہ صرف انسانوں کیلئے نہیں بلکہ جانوروں کیلئے بھی ہے، آپ ﷺ نے بارہا تلقین فرمائی کہ جانوروں کی ساتھ بدسلوکی کا برتاﺅ مت کرو اور ان سے وحشیانہ سلوک کرنے والوں کو جہنم کے عذاب کی وعید سنائی اور انسانی ضمیر جھنجوڑنے والے سخت الفاظ استعمال فرمائے چنانچہ حضرت امام بخاریؒ نے روایت ہے جس کا مفہوم کچھ یوں ہے کہ آپﷺ نے فرمایا ، ایک عورت کو اس لیے عذاب دیا گیا کہ وہ بلی کو باندھ کر رکھتی تھی نہ کھلاتی نہ پلاتی اور نہ اس کو چھوڑ دیتی کہ چر چگ کر کھائےمسلم

    قرآن پاک کی دو سو آیات ایسی ہیں جن میں جانوروں کے بارے میں بیان کیا گیا ہے۔ اللہ ﷻ نے قرآن مجید میں 35 جانوروں کا ذکر فرمایا ہے اور ان کے نام بھی موجود ہیں۔ اسی طرح قرآن پاک کی چند سورتیں بھی جانوروں کے نام پر ہیں۔ مثلا سورت بقرہ ،سورت فیل اور سورت عنکبوت وغیرہ

    ہمارا دین اسلام ہمیں جانوروں کے ساتھ صلہ رحمی اور حسن سلوک کا حکم دیتاہے۔ قران پاک میں جانوروں کے اہمیت وخصوصیت اور ان کے منافع کا پتہ چلتا ہے اور آپﷺ نے قدم بقدم جانوروں کے ساتھ احسن سلوک کاحکم دیا ہے ، نہ صرف گھریلو اور پالتو جانوروں، بلکہ غیر پالتو جانوروں کے ساتھ بھی ہمدردی کی تاکید کی ہے ، جنگلی جانوروں کو بھی کم مار میں مارنے کا حکم دیا ہے اور مذبوحہ جانوروں کے ساتھ بھی وحشیانہ سلوک سے منع کیا ہے اور جانوروں پر بوجھ کم لادنے کا حکم دیا اور دوران سفر ان کے چارہ پانی کی تاکید کی ہے، جانوروں پہ زیادہ بوجھ لادنے اور زیادہ افراد کے سوار ہونے سے منع کیا ،جانوروں کے آرام و آسائش کا خیال رکھنا کی تاکید کی، جانوروں کے منہ پر مارنے ،جانوروں کے باہم لڑاٸی کروانے کی ممانعت فرمائی اور ایسا کرنے والے کو ملعون قرار دیا ۔

    مکرمی!! ہم میں سے بعض احباب جانوروں کے ساتھ بہت وحشیانہ سلوک کرتے ہیں اور یہ باور کراتے ہیں کہ جانوروں کے کوٸی حقوق نہیں ہے انکے کوٸی جذبات احساسات نہیں ہے، جبکہ نزول اسلام
    کے بعد جہاں انسانوں کے حقوق و فرائض بیان کیے گٸے ہیں وہی جانوروں کے ساتھ صلہ رحمی ، محبت ہمدردی اور انکے حقوق بیان فرماٸیے گٸے اور بتایا گیا انہیں ہماری طرح درد ہوتا ہے، انکے بھی احساسات اور جذبات ہے جس کی ہمیں قدر کرنی چاہیے

    آخر میں بس اتنا عرض کرنا چاہوں گا کہ ہمیں سنجیدگی سے اپنے آپ سے پوچھنے کی ضرورت ہے کیا مسلم کمیونٹی اللہ اور پیغمبر ﷺ کے واضح احکامات کے باوجود جانوروں کے حقوق کی پاسداری کر رہی ہے ؟

    اللہ ہمیں جانوروں کے صلہ رحمی کے ساتھ پیش آنے کی اور انکے حقوق پورے کرنے کی توفيق عطا فرماٸے ،آمین!

  • وبا سے متاثر علاقوں میں آمدورفت کے بارے میں پیغمبر کا طریقہ  تحریر: وسیم

    وبا سے متاثر علاقوں میں آمدورفت کے بارے میں پیغمبر کا طریقہ تحریر: وسیم

    پیغمبر خدا نے امت کو ایسے علاقے میں جہاں یہ بیماری پہلے سے موجود ہو، داخل ہونے سے روک دیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جہاں بیماری پھیل گئی ہو،وہاں سے دوسرے ایسے علاقے میں جہاں بیماری نہ ہو بھاگ کر جانے سے بھی روکا تاکہ غیر متاثر علاقے متاثر نہ ہو۔ خدا پاک نے جو رہنمائی کی ہے اس بارے میں انسان کو اس کا پورا لحاظ رکھنا چاہیے۔ایسی جگہوں سے دور رہنا،ایسی فضا اور آب وہوا سے بچنا چاہیے جہاں اس قسم کی موذی بلاؤں کا زور ہو
    اور یہ بات کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے علاقوں سے جہاں یہ وبا پھوٹ گئی ہو اس سے بھی نکل بھاگنے کو منع فرمایا ہے۔ اس کی غالباََ دو وجوہات ہیں
    پہلی وجہ ہے انسان کا ان مشکلات میں پھنسے ہوئے لوگوں کے ساتھ رہ کر اللہ سے تعلق کی مظبوطی کو ظاہر کرنا، خدا پر بھروسہ کرنا، خدا کے فیصلے پر مستقل مزاجی سے قائم رہنا، اور تقدیر کے نوشتے پر راضی رہنا۔
    دوسری وجہ وہ ہے جسے تمام ماہرین طب نے یکساں بیان کیا اور سراہا ہے۔ وہ یہ کہ ہر وہ شخص جو وبا سے بچنا چاہتا،اس کو لازم ہے کہ اپنے بدن سے رطوبت فضلیہ کو نکال ڈالنے کی کوشش کرے اور غذا کی مقدار کم کر دے، اس لیے کہ ایسے موقع پر جب وبا کا زور ہے جو رطوبات بھی پیدا ہونگی وہ رطوبت فضلیہ میں تبدیل ہو جائیگی، اس لیے کم سے کم غذا استعمال کرے کہ ضرورت سے زیادہ رطوبت پیدا نہ ہونے پائے لیکن ریاضت و حمام کی اجازت نہیں، اس سے اس زمانے میں سختی سے پرہیز کریں، اس لیے کہ انسانی جسم میں ہر وقت فضولیات ردیہ کسی نہ کسی مقدار میں موجود رہتی ہے جن کا آدمی کو اندازہ نہیں ہوتا، اگر وہ ریاضت یا حمام کر لیتا ہے، تو اس سے یہ فضولیات ابھر جاتے ہیں اور پھر ابھار کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ کیموس جید کے ساتھ مل جاتے ہیں جس کی وجہ سے بڑی سے بڑی بیماری پیدا ہوجاتی ہے۔
    اور وبا کے پھوٹنے کے وقت وبا کے مقام سے نکلنا اور دور دراز علاقوں کا سفر کرنا سنگین قسم کی حرکت کا متقاضی ہے جو اصول مذکورہ کی روشنی میں سخت ضرر رساں ہوگا ۔ اس سے وبا کے پھیلنے کا بھی اندیشہ ہے، اس لیے سفر نہ کرنا ہی بہتر ہے اور مقام وبا سے غیر متاثر مقامات کو جانا مضر خلائق ہوگا۔ اس روشنی میں اطباء کے کلام کی بھی تائید ہوگئی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طبی حکمت اور بالغ تدبیر پر بھی روشنی پڑگئ۔

    جن مقامات پر وبا پھوٹ چکی ہو وہاں داخلے پر پابندی میں چند حکمتیں اور مصالح:
    1: پریشان کن اسباب سے دوری اور اذیت ناک صورت حال سے پرہیز۔
    2:جس عافیت سے معاش اور معاد دونوں کا گہرا رابطہ ہے، اسے اختیار کرنا۔
    3:ایسی فضا میں سانس لینے سے بچاؤ جس میں عفونت گھر کر گئی ہو اور جس کا ماحول فاسد ہو چکا ہے۔
    4: جو لوگ اس مرض کا شکار ہیں ان کی قربت سے روک، ان کے آس پاس پھرنے سے پرہیز تاکہ ان کے ساتھ رہنے کی وجہ سے ان تندرست لوگوں کو بھی اس مرض کے پاپڑ نہ بیلنے پڑے۔

  • تقدیر اور انسان   تحریر : شاہ زیب

    تقدیر اور انسان تحریر : شاہ زیب

    اللہ سبحان تعالٰی نے زمین اور آسمان پیدا کرنے سے پچاس ہزار سال قبل قل کائنات کی مخلوق کی تقدیریں لکھ دی تھی

    بیشک اللہ سبحان تعالٰی نے انسان کی تقدیر لکھ کر ہی انسان کو پیدا فرمایا تھا لیکن تقدیر بدلی جاتی ہیں یہ میرا ماننا ہے کیونکہ اللہ سبحان اللہ 70 ماؤں سے زیادہ پیار کرنے والے ہیں تو کسی بھی ماں کا دل نہیں کرتا اس کا پیارا محتاجی یا برائی والی زندگی بسر کریں

    تقدیر کی اقسام میں سے ایک قسم تقدیر قدریہ یعنی قدرت کی طرف سے کیا گیا عمل لیکن یہاں واضح کرنا چاہتا ہوں اگر قدرت کی طرف سے کیا گیا عمل ہے تو پھر حساب انسان کیوں دے گا۔

    شاعر مشرق علامہ اقبال کا ایک قول ہے

    خودی کو کر بلند اتنا کہ
    خدا پوچھے بتا تیری رضا کیا ہے

    یعنی انسان اپنی تقدیر بدل سکتا ہے اور وہ اسطرح کے اللہ سبحان تعالٰی کی بتائی ہوئی راہ اختیار کرے پوائینٹ کیونکہ انسان اشرف المخلوقات ہے اچھے اور برے کی تمیز رکھتا ہے اس لیے حساب لیا جائے گا

    اللہ سبحان تعالٰی نے ہر انسان کی تقدیر لکھ دینے کے باوجود انسان کو اشرف المخلوقات بنا کر اختیار دیا ہوا ہے وہ کونسی راہ اختیار کرتا ہے اگر کوئی شخص لاکھ کوشش کے باوجود بھی کامیاب نہیں ہوتا تو تقدیر میں لکھا بول کر گھر نہیں بیٹھ جائے کرے بلکہ دعائیں اور نیک عمل جاری رکھیں

    اللہ سبحان تعالٰی تقدیر بدل دے گا کیونکہ نیک عمل کرنے والوں کو اللہ مایوس نہیں کرتا۔اللہ سبحان تعالٰی نے زمین اور آسمان پیدا کرنے سے پچاس ہزار سال قبل قل کائنات کی مخلوق کی تقدیریں لکھ دی تھی

    بیشک اللہ سبحان تعالٰی نے انسان کی تقدیر لکھ کر ہی انسان کو پیدا فرمایا تھا لیکن تقدیر بدلی جاتی ہیں یہ میرا ماننا ہے کیونکہ اللہ سبحان اللہ 70 ماؤں سے زیادہ پیار کرنے والے ہیں تو کسی بھی ماں کا دل نہیں کرتا اس کا پیارا محتاجی یا برائی والی زندگی بسر کریں

    تقدیر کی اقسام میں سے ایک قسم تقدیر قدریہ یعنی قدرت کی طرف سے کیا گیا عمل لیکن یہاں واضح کرنا چاہتا ہوں اگر قدرت کی طرف سے کیا گیا عمل ہے تو پھر حساب انسان کیوں دے گا۔

    شاعر مشرق علامہ اقبال کا ایک قول ہے

    خودی کو کر بلند اتنا کہ
    خدا پوچھے بتا تیری رضا کیا ہے

    یعنی انسان اپنی تقدیر بدل سکتا ہے اور وہ اسطرح کے اللہ سبحان تعالٰی کی بتائی ہوئی راہ اختیار کرے پوائینٹ کیونکہ انسان اشرف المخلوقات ہے اچھے اور برے کی تمیز رکھتا ہے اس لیے حساب لیا جائے گا

    اللہ سبحان تعالٰی نے ہر انسان کی تقدیر لکھ دینے کے باوجود انسان کو اشرف المخلوقات بنا کر اختیار دیا ہوا ہے وہ کونسی راہ اختیار کرتا ہے اگر کوئی شخص لاکھ کوشش کے باوجود بھی کامیاب نہیں ہوتا تو تقدیر میں لکھا بول کر گھر نہیں بیٹھ جائے کرے بلکہ دعائیں اور نیک عمل جاری رکھیں

    اللہ سبحان تعالٰی تقدیر بدل دے گا کیونکہ نیک عمل کرنے والوں کو اللہ مایوس نہیں کرتا۔