Baaghi TV

Category: مذہب

  • قصہ سلیمان علیہ السلام تحریر:شاندانہ فریدون

    قصہ سلیمان علیہ السلام تحریر:شاندانہ فریدون

    "اے چیونٹیو ! اپنے اپنے بلوں میں داخل ہو جاو ! ایسا نہ ہو کہ سلیمان علیہ السلام کا لشکر تمہیں روند ڈالے۔ اور ان کو خبر تک نہ ہو” ایک ننھی چیونٹی نے اپنی ساتھیوں سے کہا یہ مدھم آواز خضرت سلیمان علیہ السلام نے سنی اور مسکرا دئیے اور اللہ کا شکر ادا کیا حضرت سلیمان علیہ السلام اپنے عظیم الشان لشکر کے ساتھ وہاں سے گزر رہے تھے اللہ تعالٰی نے انہیں نہایت وسیع و عریض سلطنت کا بادشاہ بنایا تھا اور نہ صرف انسانوں بلکہ جانوروں، پرندوں، جنات اور ہوا تک کو ان کا تابع کر دیا تھا ۔ اللہ نے انہیں اتنی عظیم سلطنت بخشنے کے ساتھ اور حکمت اور غیر معمولی قوت فیصلہ بھی عطا فرمائی تھی
    حضرت سلیمان علیہ السلام ،حضرت داؤد علیہ السلام کے بیٹے تھے اور 992 قبل مسیح میں پیدا ہوئے (قبل مسیح کا مطلب ہے حضرت عیسٰی علیہ السلام کی پیدائش سے 992 سال پہلے) وہ حضرت داؤد علیہ السلام کے بعد تحت پر بیٹھے ۔ شروع کے تین سال مشکلات کے تھے۔جس میں مختلف معرکے پیش آئے ۔ بالآخر آپ نے سب مخالفین پر قابو پایا اور ایک نہایت مستحکم اور وسیع حکومت قائم کی۔ حضرت سلیمان علیہ السلام کو تعمیرات کا بہت شوق تھا ۔انھوں نے ہیکل سلیمانی اور بہت سے نئے شہر تعمیر کروائے
    ایک دن حضرت سلیمان علیہ السلام کا دربار لگا ہوا تھا۔ سوائے ہد ہد کے سب حاضر تھے۔ ” ہد ہد کہاں ہے؟” حضرت سلیمان علیہ السلام نے ناراضگی سے دریافت فرمایا، "وہ آکر غیر حاضری کی کوئی معقول وجہ بیان کرے ورنہ اسے سخت سزا دوں گا” کچھ ہی دیر میں ہد ہد آگیا ۔ اور اس نے یوں گفتگو شروع کی۔ "میں ابھی بھی ملک یمن سے آرہا ہوں ۔ وہاں میں نے ایک قوم دیکھی جو بہت خوشحال ہے۔ اس کی حکمران ایک عورت ہے۔ یہ قوم گمراہ اور مشرک ہے۔ کیونکہ وہ اللہ کو چھوڑ کر سورج کو سجدہ کرتے ہیں”
    حضرت سلیمان علیہ السلام نے یہ حال سن کر ہد ہد کے ذریعے وہاں کی ملکہ کو خط بھیجا۔ اس خط کا آغاز بسم اللہ الرحمٰن الرحیم سے کیا گیا تھا۔ اور اس میں ملکہ اور اس کی قوم کو سیدھے راستے پہ آنے کی دعوت دی گئی تھی ۔ یمن کی ملکہ کا نام ” بلقیس” تھا اور اس ملک میں جو قوم آباد تھی۔ وہ "سبا” کہلاتی تھی ۔ ملکہ کو جب یہ خط ملا تو اس نے اپنے درباریوں سے اس خط کے بارے میں رائے طلب کی۔ سب نے ایک زبان ہوکر یہی مشورہ دیا کہ ہمیں اس بادشاہ سے جنگ کرنی چاہیے۔ ہم سب بہادر بھی ہیں۔ اور ہمارے پاس بہت سا سامان جنگ بھی ہے
    ملکہ ذہین اور دانا تھی۔ وہ حضرت سلیمان علیہ السلام کی عظیم سلطنت کے بارے میں پہلے سن چکی تھی۔ اس نے اپنے درباریوں کو سمجھایا کہ جلدی کرنا درست نہیں۔ جنگ کوئی بھی جیت سکتا ہے۔ اور جو جیت جاتا ہے وہ بستیوں کو تباہ اور عزت دار لوگوں کو ذلیل کر دیتا ہے۔ میری رائے یہ ہے کہ حضرت سلیمان علیہ السلام کو کچھ تحائف بھیجے جائیں۔ ہو سکتا ہے کہ بات یہیں ختم ہو جائے
    یوں ایک وفد پیش قیمت تحائف لے کر حضرت سلیمان علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوا۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا” اللہ تعالٰی نے دین و دنیا کی جو نعمتیں مجھے عطا فرمائی ہیں وہ تمہارے تحائف سے بہت بہتر ہے۔ مجھے ان کی ضرورت نہیں، تم ان کو واپس لے جاو۔ اور اپنی ملکہ سے کہہ دینا کہ اس نے شرک اور گمراہی کا راستہ نہ چھوڑا اور اللہ کا دین قبول نہ کیا تو ہم ایسے لشکروں سے حملہ کریں گے جن کے مقابلے کی تم میں طاقت نہ ہو گی”
    ملکہ سمجھ گئی کہ یہ معاملہ دنیاوی مال و دولت کی حرص کا نہیں ہے۔ چنانچہ وہ حضرت سلیمان علیہ السلام سے ملنے کیلئے خود روانہ ہو گئی۔ جب وہ پروشم کے قریب پہنچی تو حضرت سلیمان علیہ السلام نے سوچا کہ اس کو اپنے پیغمبر ہونے کی نشانی دکھائی جائے تاکہ اس کو سچائی قبول کرنے میں آسانی ہو۔ آپ علیہ السلام نے دربار کے حاضرین سے پوچھا کہ کوئی ہے جو ملکہ کے یہاں پہنچے سے پہلے اس کا تحت یہاں لے آئے۔ ایک جن نے کہا کہ وہ دربار برخاست ہونے سے پہلے تحت لے آئے گا۔ ایک شخص نے، جو کتاب کا علم رکھتا تھا، کہا کہ میں پلک جھپکنے میں تحت یہاں لا سکتا ہوں۔ اور اگلے لمحے تحت وہاں موجود تھا۔ حضرت سلیمان علیہ السلام نے دیکھ کر اللہ کا شکر ادا کیا۔ اور اپنے درباریوں سے فرمایا کہ اس میں تھوڑی تبدیلی کر دو تاکہ ہم آزمائیں کہ ملکہ کتنی ذہین ہے۔ جب ملکہ پہنچی تو اپنا تحت دیکھ کر کہنے لگی۔” یہ تو میرا تحت معلوم ہوتا ہے۔ میں آپ کی عظمت پہلے ہی پہچان گئی تھی۔ ہم نے آپ کی اطاعت قبول کر لی ہے”
    ملکہ نے ظاہری اور دنیاوی اعتبار سے تو اطاعت قبول کر لی تھی۔ لیکن اس کی سوچ میں ابھی گہرائی پیدا نہ ہوئی تھی۔ حضرت سلیمان علیہ السلام نے اس کو سمجھانے کے لیے ایک اور طریقہ اختیار کر لیا۔ ان کے محل کا فرش شیشے کا تھا۔ جس کے نیچے نہر بہہ رہی تھی
    اوپر سے دیکھنے پر شیشہ نظر آتا تھا۔ صرف پانی ہی بہتا نظر آتا تھا۔حضرت سلیمان علیہ السلام ملکہ کو اپنے محل لے گئے۔ ملکہ نے نیچے دیکھا تو اس نے فورا اپنے پائنچے اٹھا لیے۔ وہ سمجھی کہ نیچے پانی بہہ رہا ہے۔ کہیں میرے کپڑے بھیگ نہ جائیں۔ حضرت سلیمان علیہ السلام نے فرمایا۔” تم دھوکے میں ہو یہ پانی نہیں شیشہ ہے”۔ ملکہ نے ان کی اس جملے پر غور کیا۔ تو اس کا ذہین روشن ہو گیا۔ وہ سمجھ گئی کہ سورج کو سجدہ کرنا بھی ایک دھوکہ ہے۔ وہ ہستی ہی سجدے کے لائق ہے ۔ جس نے اس سورج اور تمام کائنات کو بنایا ہے۔ اور یوں وہ ایمان لے آئی۔
    حضرت سلیمان علیہ السلام اکتالیس سال حکومت کرنے کے بعد 924 قبل مسیح میں وفات پاگئے۔ وفات کا واقعہ بھی بہت عجیب ہے۔ آپ علیہ السلام نے جنوں کو ایک نیا شہر تعمیر کرنے کے کام پر مامور کیا تھا۔ یہ کام ابھی نامکمل تھا ۔ کہ حضرت سلیمان علیہ السلام کا آخری وقت آگیا۔ آپ علیہ السلام اپنے عصا کا سہارا لیے ہوئے تھے۔ اور اسی حالت میں آپ علیہ السلام کی وفات ہو گئی۔ سب سمجھتے رہے کہ آپ علیہ السلام کام کی نگرانی فرما رہے ہیں ۔عصا میں آہستہ آہستہ گھن لگ رہا تھا۔ایک دن عصا گھن کی وجہ سے ٹوٹ گیا۔ تب جنوں اور تمام مخلوقات کو معلوم ہوا کہ آپ علیہ السلام کا انتقال ہو گیا ہے۔

    @Shandana_Twitts

  • حضرت عمر فاروق رض تحریر:  محمد طلحہ رفاقت

    حضرت عمر فاروق رض تحریر: محمد طلحہ رفاقت

    خلیفہ دوم امیر المومنین حضرت عمر فاروق رض عنہا کمال رعب و جلال اور دبدبہ رکھنے والے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے خاص صحابی تھے
    تاریخ نے ہزاروں جرنیل اور بڑے بڑے سپہ سالار پیدا کیے لیکن دنیا جہاں کے فاتحین، دنیا جہاں ہے سپہ سالار حضرت عمر فاروق رض کے سامنے طِفلِ مکتب لگتے ہیں

    انکا شمار خلفاء راشدین اور عشرہ مبشرہ میں سے ہوتا ہے آپ خلفاء راشدین میں سے دوسرے نمبر پر ہیں
    حضرت عمر فاروق رض وہ صحابی ہیں جنہیں نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے اپنی خاص دعاؤں میں گڑ گڑا کر اللہ رب العزت سے مانگا اور اللہ پاک نے اپنے پیارے حبیب نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی دعا کو قبول کرتے ہوئے حضرت عمر فاروق رض کی صورت میں ہیرا صحابی میسر کیا
    حضرت عمر فاروق رض واہ واحد صحابی ہیں جن کو آتا دیکھ کر شیطان مردود اپنا راستہ تبدیل کرلیتا تھا
    مسلمان تو یقیناً حضرت عمر فاروق رض کی شخصیت سے بے حد متاثر ہیں جبکہ بیسوں غیر مسلم حضرت عمر فاروق رض کی شخصیت سے بھی متاثر ہیں جب حضرت عمر فاروق نے اسلام قبول کیا اسلام کو ترقی کی جانب جو پروان ملی وہ تاریخ کے اوراق میں سنہری حروفوں میں درج ہے

    حضرت عمر فاروق رض نے اپنے دورِ حکومت میں اسلام کو پوری دنیا کے کونے کونے میں پہنچا کر اپنی سر توڑ کوشش کی اور کوششیں بجا لاتی ہوئی مقصد میں کامیابی ملی آج انہی کی ہی مرہونِ منت ہمارے پاس اسلام کی صورت میں خوبصورت ترین دین ہے
    یقیناً حضرت عمر فاروق رض اور ہزاروں صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی قربانیوں کی بدولت ہمارے پاس خوبصورت ترین دین میسر ہوا

    ایک عالم دین نے کیا خوب کہا کہ حضرت عمر فاروق رض عطاء اے خداوندی ہیں جب نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے اللہ ربّ العزت سے حیران کن طور پر یہ دعا مانگی کہ اے اللّٰهُ عمرو بن ہشام یا پھر حضرت عمر بن خطاب میں سے کسی ایک کو اسلام کی زینت بنا تو اللہ ربّ العزت نے عمر فاروق رض کی صورت میں دین اسلام کو رونق بخشی

    شہادت کے وقت آپ رض کی عمر تریسٹھ برس تھی حضرت صہیب رض نے آپ رض کی نماز جنازہ پڑھائی روضہ نبوی میں حضرت ابو بکر صدیق رض کے پہلو میں آپ کی قبر مبارک بنائی گئی۔ رض

    خادمِ نورالہدی بے شک ہیں وہ تنویر پھول
    نکہتِ باغ نبوت حضرت فاروق ہیں

    @Talha0fficial1

  • حضرت خالد بن ولید تحریر : سیف اللہ عمران

    حضرت خالد بن ولید تحریر : سیف اللہ عمران

    حضور کے عظیم ساتھی حضرت خالد بن ولید ایک عظیم جرنیل اور ایک عظیم فاتح تھے۔
    میدان جنگ میں آپ کی مہارت حیران کن تھی۔ اپ کی کنیت ابو سلیمان اور ابو ولیدہ تھی اور آپ کا لقب سیف اللہ تھا (اللہ کی تلوار)
    اپ کا نسب ساتویں پشت میں حضرت ابوبکر صدیق سے ملتا ہے عباس کی والدہ لباب الکبرا کی بہن تھیں۔
    آپ کے والد ، قریش کے سرداروں میں سے تھے اور مکہ کے امیر ترین افراد میں سے تھے۔
    حضرت خالد بن ولید شروع سے ہی ایک بہادر ، محنتی اور سخت آدمی تھے۔ آپ نے یہ آرام چھوڑ دیا اور اپنے ہاتھوں سے محنت کے بل بوتے پر کام کیا۔
    جب اسلام کا ظہور ہوا تو آپ قریش قبیلے کے لوگوں میں سے تھے جنہوں نے پیغمبر اسلام اور اہل اسلام کی سخت مخالفت کی تھی۔
    آپ حدیبیہ کے امن تک اہل اسلام کے خلاف کفار کی طرف سے لڑی جانے والی تمام جنگوں میں بھی شریک تھے۔
    جنگ احد میں آپ مکہ کے قریشی گھڑسواروں کی قیادت کر رہے تھے۔ جب اپ نے پہاڑی راستے میں ایک اہم مقام چھوڑا اور پیچھے سے ائے اور لشکر اسلام پر حملہ کیا ، جس نے جنگ کا رخ موڑ دیا۔
    حضور کے فوجی نظم و ضبط اور سوچ سے آپ اس قدر متاثر ہوئے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے محبت اور پیار ان کے دل میں ا گئی جس نے بعد میں ان کے لیے اسلام کے جھنڈے تلے آنا آسان بنا دیا۔
    حضرت الولید نے اپنے بھائی کو اسلام کی دعوت دی۔
    آپ کے بھائی نے کہا کہ وہ اپنے ساتھیوں سے مشورہ کریں گے تو انھوں نے اپنے ایک ساتھی حضرت عثمان بن طلحہ سے مشورہ کیا اور دونوں حق کی تلاش میں مکہ سے مدینہ روانہ ہوئے۔
    حضرت عمر بن العاص اور حبشیہ کے نجاشی شاہ سے اسلام کی صداقت پر یقین کرنے کے بعد ، وہ راستے میں حضرت خالد اور حضرت عثمان سے ملے اور اپ تینوں اپنے پیروکاروں کے ساتھ مل کر خدمت مصطفیٰ پہنچے۔
    جب مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ تینوں کو دیکھا تو وہ بہت خوش ہوئے اور اپنے ساتھیوں سے کہا: اہل مکہ نے اپنے جگر آپ پر پھینکے ہیں۔
    حضرت خالد بن ولید نے پہلے ان سے اور پھر دوسروں سے بیعت کی۔ اور تینوں اسلام کی عظیم فوج میں شامل ہو گئے۔
    اسلام قبول کرنے کے بعد ، حضرت خالد بن ولید نے نبوت کے زمانے ، حق اور حضرت عمر فاروق دور میں مختلف لڑائیوں میں لشکر اسلام کی قیادت کی۔
    آپ نے جمادی الاولیا ہجری میں موطا کی جنگ میں بھی حصہ لیا تین دیگر جرنیلوں حضرت زید بن حارثہ ، حضرت عبداللہ بن رواحہ اور حضرت جعفر طیار کی شہادت کے بعد انہوں نے لشکر اسلام کی قیادت سنبھالی۔
    آپ کہتے تھے کہ ایک جنگ میں میرے ہاتھ سے نو تلواریں ٹوٹ گئیں اور آخر میں صرف ایک یمنی تلوار باقی رہ گئی۔
    حضرت ابوبکر صدیق کے زمانے میں اندرونی اور بیرونی محاذوں پر حضرت خالد بن ولید کی عظیم خدمات اسلامی تاریخ کا ایک سنہری باب ہیں۔
    حضرت ابوبکر صدیق نے مرتدین کے خلاف لشکر روانہ کیا اور ایک لشکر کی قیادت آپ کے حوالے کی۔
    اپ نے مسلمان کو جھوٹوں کے خلاف لڑنے کے لیے بھیجا۔ ایک سخت لڑائی کے بعد ، مسلمہ مارا گیا اور اس کے لوگ اسلام کے دائرے میں داخل ہوئے۔
    اس کے بعد حضرت ابوبکر صدیق نے رومیوں کے خلاف شام اور عراق میں فوجیں بھیجیں لیکن حضرت خالد بن ولید کا رخ نے ایرانیوں کی طرف کیا ۔
    پہلی لڑائی ایرانی افواج اور مجاہدین اسلامیہ کے درمیان البلات میں حضرت خالد بن ولید کی قیادت میں لڑی گئی جس میں رب کائنات نے لشکر اسلام کو فتح عطا کی۔
    حضرت خالد بن ولید ایک سال اور دو ماہ تک عراق میں رہے اور 15 جنگیں لڑیں ، ان میں سے سب جیتے ، پھر یہاں سے انہیں یرموک پہنچنے کا حکم دیا گیا۔
    حضرت خالد بن ولید مارشل آرٹس می رول ماڈل ان کے عظیم کارنامے اب بھی تاریخ کے انمٹ نقوش میں دیکھے جا سکتے ہیں۔
    ان کی وفات 5 ہجری میں ہوئی جب وہ ساٹھ برس کے تھے۔ بعض روایات کے مطابق ان کی وفات حمص میں ہوئی اور بعض کے مطابق مدینہ منورہ میں۔
    اپنی موت کے وقت ، آپ نے کہا: "میں نے تقریبا تین سو لڑائیاں لڑی ہیں۔ میں اپنے جسم کے ہر حصے میں تلوار ، نیزہ اور تیر سے زخمی ہوا ہوں لیکن میں شہادت سے محروم رہا ہوں اور میں آج بستر پر مر رہا ہوں۔ اللہ تعالی بزدلوں کو امن نہ دے۔ ”
    آپ نے وصیت کی تھی کہ میرے بازو اور گھوڑے کو اللہ تعالی کی راہ میں جہاد کے لیے وقف کیا جائے اور اپ کے تمام اثاثے ایک غلام ، گھوڑا تھا۔
    حضرت خالد بن ولید کو اللہ کے رسول سے بے پناہ محبت تھی۔
    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کے بارے میں فرمایا: "خالد کو نقصان نہ پہنچاؤ کیونکہ وہ اللہ تعالی کی تلواروں میں سے ایک تلوار ہے جو اس نے کفار کے خلاف کھینچی ہے۔ ”

    @Patriot_Mani

  • پاکستان میں دہشت گردی تحریر: سید عمیر شیرازی

    پاکستان میں دہشت گردی تحریر: سید عمیر شیرازی

    دہشت گردی افراد، گروہوں اور گورنمنٹ کے خلاف سیاسی یا دوسرے مقاصد کے حصول کیلئے طاقت اور دھمکیوں کا استعمال ہے دہشتگردی کشت و خون کا کھیل ہے جس میں دھماکوں اور قتل و غارت کے ذریعے معاشرے میں خوف و ہراس پھیلایا جاتا ہے اور عوام کو خوفزدہ کیا جاتا ہے دہشت گردی میں جدید سے جدید اسلحہ استعمال کیا جاتا ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ جانی اور مالی نقصان اور ملک میں بھیانک صورت حال پیدا ہو جائے۔
    موجودہ دور میں دہشت گردی اور دھماکے کے ایک منظم عمل بن چکے ہیں آج کل دنیا میں کوئی ملک بھی ایسا نہیں جہاں دہشت گرد تنظیمیں نہ ہوں،
    ایشیائی ممالک میں ان تنظیموں کی بھرمار ہے ہمارے ملک میں بھی ان تنظیموں کا سلسلہ بہت وسیع ہے دنیا کے مختلف دہشت گرد تنظیمیں "را”
    کے جی بی، سی آئی اے اور موساد ہیں۔
    پاکستان تو ان کا خاص نشانہ ہے اپریل انیس سو اٹھاسی میں ان تنظیموں نے اسلام آباد اور راولپنڈی میں راکٹ برسائے جن سے سیکڑوں افراد ہلاک اور سینکڑوں زخمی ہوئے،لاکھوں روپے کی املاک کا نقصان ہوا عمارتیں زمین بوس ہو گئی سڑکوں پر چلتی ہوئی گاڑیوں پر مزائل گرنے سے بے شمار لوگ ہلاک اور زخمی ہوئے اور اجڑی کیمپ کے نام سے مشہور فوجی ڈپو میں دھماکے ہوئے جن سے ڈپو میں موجود اسلحہ برباد ہوگیا۔۔۔
    دہشت گرد تنظیمیں بڑی مضبوط اور طاقتور ہوتی ہیں بعض اوقات ان تنظیموں کو غیرملکی حکومتیں بھی امداد فراہم کرتی ہیں انہیں خطیر رقم اور جدید ترین اسلحہ دیتی ہیں بعض اوقات دہشتگرد ڈاکو اور جرائم پیشہ لوگوں کے روپ میں اپنے ذاتی مقاصد کے حصول کے لئے بھی دھماکے اور دہشت گردی کرتے ہیں،
    دہشتگردی کا مقصد عوام کو حکومت کے خلاف بھڑکانا ہوتا ہے تاکہ ملک میں حکومت کے خلاف احتجاجی مظاہرے ہوں پاکستان میں تو یہ لعنت وسیع پیمانے پر پھیلی ہوئی ہے یہاں تو آئے دن دہشتگردی اور دھماکے کے واقعات ہوتے رہتے ہیں جن میں ہمارا نا قابل تلافی نقصان ہوتا رہتا ہے اس دہشت گرد نے تو وزیر اعظم لیاقت علی خان سے لے کر صدر ضیاءالحق تک اور دوسرے ایک کئی علماء،وکلاء،ججوں اور سیاستدانوں کو بھی نہ چھوڑا۔
    قومی اور بین الاقوامی سطح پر دہشت گردوں کا ایک جال پھیلا ہوا ہے جن کو کام ہوائی جہازوں کو ہائی جیک کرنا اور اہم ا امیر شخصیات کو اغوا کرنا ہے اس قسم کے دہشتگرد تاوان کے طور پر بھاری رقوم کا مطالبہ کرتے ہیں اگر یہ تعاون ادا نہ کیا جائے تو یہ اغوا کیے ہوئے افراد کو قتل کر دیتے ہیں،
    دہشت گردی کو بہت ہی محتاط انداز میں چیک کرنا چاہیے حکومت کا فرض ہے کہ ملک میں غیر قانونی طور پر رہنے والے غیر ملکی لوگوں کو بزور طاقت پر ملک چھوڑنے پر مجبور کرے دہشت گردی کے سلسلے میں حکومت کا یہ بھی فرض ہے کہ ملک میں آئے ہوئے مہاجرین کو ان کے کیمپوں میں میں محصور رکھیں تاکہ وہ ملک میں کسی قسم کی گڑ بڑ نہ کر سکیں،
    نیز حکومت کے پاس ایسی پوشیدہ سروس ہونی چاہیے جو ہر قسم کے دہشت گردوں کی سرگرمیوں کا جائزہ لیتی رہے علاوہ ازیں حکومت کو پولیس، فوج، رینجرز اور دیگر رضاکار تنظیموں کا تعاون حاصل کرنے کے لئے بھی عمدہ قسم کے اقدامات کرنے چاہیے۔
    اب پہلے سے کہی گناہ زیادہ پاکستان کی انٹیلی جنٹس الرٹ ہیں کوئی میلی آنکھ سے پاکستان کی طرف دیکھ بھی نہیں سکتا اور اگر کوئی ایسی جرات کر بھی لے تو اسکا خمیازہ بھگتنا پڑتا ہے
    پاکستان میں الحمد اللہ دہشت گردی تقریبا ختم ہو چکی ہے اس امن کے حصول کیلئے ہر ادارے نے اپنا نمایاں کردار ادا کیا،
    اللّه پاک اس ملک خداداد کی حفاظت فرمائے تا قیامت اور ملک میں اندرونی اور بیرونی دشمن عناصر قوتوں کو تباہ و برباد کریں۔

    @SyedUmair95

  • ‏انسان کی عظمت سے متعلق قرآنی تعلیمات   تحریر: محمد بلال

    ‏انسان کی عظمت سے متعلق قرآنی تعلیمات تحریر: محمد بلال

    قرآن انسانوں کی عظمت پر بہت زور دیتا ہے چاہے ان کی جنس یا نسل ہو یا حیثیت۔قرآن پاک میں فرمانِ مبارکہ ہے کہ: ”ہم نے آدم کی اولاد کو عزت دی ہے، انہیں خشکی اور سمندر میں نقل و حمل کی سہولت دی ہے، انہیں اچھی اور پاک چیزوں کی فراہمی کے لیے دی ہے، اور ان کو ہماری تخلیق کے ایک بڑے حصے کے اوپر خاص احسانات سے نوازا ہے۔” (قرآن 17:70) وقار حقوق اور فرائض پر مشتمل ہے۔اس کا مطلب یہ ہے کہ تمام انسان ایک خالق کے ذریعہ برابر بنائے گئے ہیں، اور کوئی بھی اپنی پیدائش یا خاندان یا قبیلے کی بنیاد پر دوسرے سے برتر نہیں ہے۔ یہ صرف الہی ہے جو صرف یہ فیصلہ کرنے والا ہے کہ دوسرے کے وقار کو قبول کرتے ہوئے اس کی باوقار حیثیت پر کس نے عمل کیا۔وقار کا یہ بھی مطلب ہے کہ انسان کو زندگی کا حق ہے، مذہب کی آزادی کا حق، طرز زندگی کی آزادی کا حق، مزدوری کا حق، تحفظ کا حق اور خاندان کا حق محفوظ ہے.قرآن پاک میں اس چیز کی ممانعت کی گئی ہے کہ لوگ دوسروں کو ان کے رنگ، جنس یا مذہب کی وجہ سے ان حقوق سے محروم رکھیں۔ قرآن پاک ایک پر دوسرے کو ترجیح نہیں دیتا۔قرآن کریم یہ نہیں کہتا کہ صرف مسلمان یا جو خدا پر ایمان رکھتے ہیں وہ عزت یا حقوق کے مستحق ہیں جو وقار سے وابستہ ہیں۔ یہ ایک وسیع اصطلاح میں بات کرتا ہے اور اعلان کرتا ہے کہ کسی کو یہ حق نہیں ہے کہ وہ انسانوں کو ان کے وقار سے انکار کرے جو خدا کا دیا ہوا حق ہے۔کچھ عرصہ پہلے، دنیا کو اس قرآنی پیغام کی صداقت کو سمجھنے میں دشواری تھی۔ لوگوں کو ان کی نسل یا جنس یا حیثیت کی بنیاد پر امتیازی سلوک کیا گیا اور مذہبی اسکالر اور سیاسی ماہرین ان امتیازی سلوک کا جواز فراہم کر رہے تھے۔وقار کے اس انکار کا ایک کلاسک معاملہ ہندوستان میں پایا جا سکتا ہے جہاں مذہبی صحیفے کے مطابق لوگوں کے ایک گروہ کو ایک خاص سماجی گروہ میں ان کی پیدائش کی وجہ سے کم ذات یا اچھوت کے طور پر درجہ بندی کیا گیا تھا۔اگرچہ، بھارت نے اس پر پابندی عائد کر دی ہے کہ اس کے آئین میں اور قانونی طور پر اس طرح کا امتیازی سلوک قابل سزا ہے، پھر بھی یہ ملک میں بڑے پیمانے پر رائج ہے۔ آج دنیا میں کوئی بھی نسل، مذہب، جنس وغیرہ کی بنیاد پر علیحدگی اور امتیازی سلوک کی دلیل نہیں دے سکتا۔دنیا نے انسانیت کے وقار کے قرآنی پیغام کو سمجھنا اور اس پر عمل کرنا شروع کر دیا ہے۔یہ پیغام آج کے دور جدید میں پہلے سے کہیں زیادہ ذیرِبحث ہے، قطع نظر اس کے کہ مسلمان اس پر عمل کریں یا نہ کریں کیونکہ یہ یقینی طور پر تمام عقیدے کے لوگوں کو سب کے انسانی وقار کے دفاع میں ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے ہونے کی ترغیب دیتا ہے۔ تیسرا قرآنی پیغام جو بڑے پیمانے پر انسانیت سے متعلق ہے، اس کا قدرتی وسائل کی آفاقی پر زور ہے۔ زمین، سمندر، آسمان کا پانی اور ہوا سب کے فائدے کے لیے ہیں۔ کوئی بھی ان کے خصوصی استعمال کے لیے ان کی اجارہ داری نہیں کر سکتا۔ کوئی بھی ان وسائل تک ان کی رسائی کو دوسروں کو دیے گئے حقوق سے انکار کرنے کے لیے استعمال نہیں کر سکتا۔اس طرح قرآن کہتا ہے، ”وہی ہے جس نے تمہارے لئے بنایا جو کچھ زمین میں ہے۔ پھر آسمان کی طرف استوا (قصد) فرمایا تو ٹھیک سات آسمان بنائے وہ سب کچھ جانتا ہے” (قرآن 2:29) مندجہ بالا مختصر مطالعہ سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ ہمیں بطور مسلمان ہر انسان کے ساتھ حسنِ اخلاق سے پیش آنا چاہیے
    ‎@Bilal_1947

  • عبادت _ الہی کے تقاضے  تحریر : انجینیئر مدثر حسین

    عبادت _ الہی کے تقاضے تحریر : انجینیئر مدثر حسین

    انسان اللہ کریم کی بنائی ہوئی ایک اعلی تخلیق ہے.
    پھر اچھے برے کا شعور دیا. اللہ کریم نے خود قرآن مجید میں ارشاد فرمایا. کہ ہم نے انسان کو بڑی خوبصورت شکل میں پیدا کیا.
    پھر اسی انسان کو اللہ نے فرشتوں پر فضیلت عطا کی. انسان کو علم سکھایا اور فرشتوں سے سجدہ کروایا.
    یہ سب کیوں کیا گیا؟
    قرآن کریم میں اللہ کریم نے
    ارشاد فرمایا.
    اور میں نے جن اور انسان اسی لئے پیدا کیے ہیں کہ وہ میری عبادت کریں۔سورۃ الذاریات، آیت56.
    اگر رب کریم کی عطائیں اور نعمتیں شمار کی جائیں تو معلوم ہوتا ہے کہ انسان کا وجود انگنت عجوبوں کو سمیٹ کر بنایا گیا ہے. منہ کہ اندر رکھی زبان کی ہی بات کی جائے تو گرم اور ٹھنڈک کا احساس لیے یہ زبان مختلف زائقوں کی الگ الگ پہچان رکھتی ہے. اگر حرکت کرے تو الفاظ کا تسلسل اسے دوسرے انسانوں سے گفتگو کا شرف بھی بخشتی ہے. جب پیٹ کی بھوک مٹانی ہو یہی زبان دانتوں کی مشینری میں گاہے بگاہے خوراک فیڈ کرتی اور اسے پیسنے میں مدد کرتی دکھائی دیتی ہے. حیرت کی بات ہے صرف ایک گوشت کا ٹکڑا ہے اتنی صلاحیتوں سے بھرپور میرے رب کے عطا کیے ہوے کسی عجوبے سے کم نہیں. انسان کا ہر عضو اس طرح کے بے مثال عجوبوں کا مجموعہ ہے.
    اس سب کی شکر گزاری کے لیے اللہ رب العزت مختلف ادوار میں انبیاء کرام علیہم السلام کے زریعے مختلف تحائف _عبادت عطا کیے تو اس امت کو نماز جیسا تحفہ عطا فرمایا.
    ارشادات نبوی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس تحفہ کی اہمیت میں اور اضافہ فرمایا.
    جیسا کہ
    1. نماز آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھوں کی ٹھنڈک ہے.
    2. جس نے جان بوجھ کر نماز چھوڑی اس نے کفر کیا
    3. مومن اور کافر میں فرق نماز کا چھوڑ دینا ہے
    4. نماز مومن کی معراج ہے.
    معراج ایک ایسی خصوصیت ہے جس میں رب سے ملاقات کا شرف کا شرف انسان کو ملتا ہے. کیسی شان کریمی رب العالمین کی اور تربیت رسول ختم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم نے جس طرح اس تحفہ کا حق ادا کر کے دکھایا لا جواب ہے. جس سر کو اونچا رکھنے کے لیے انسان زمانے میں ایڑی چوٹی کا زور لگاتے دکھتا ہے رب کریم کے سامنے زمین پر رکھ کہ اسکی بڑائی بیان کرتا ہے. یہ حسن عبادت یقیناً اللہ کی شکر گزاری کے لیے دئیے کسی تحفے سے کم نہیں.
    معراج کو معراج کے درجے تک لیجانا انسان کا کام ہے. کم از کم یہ احساس ضرور دل میں ہو کہ رب کریم کے سامنے کھڑا ہوں. دنیا کے صاحب کے سامنے اچھے کپڑوں اعلی جوتے نایاب خوشبو کا استعمال کرنے والے اس رب کریم جو کہ اس صاحب کا بھی رب ہے جو اس بھی رزق اور عزت دیتا ہے کے سامنے جاتے وقت کم از کم اسی طرح کا اہتمام کیا کریں. بارگاہ رب العالمین ہے مزاق تو نہیں. یہ احساس تو کم از کم ہو کہ میں دو جہان کے رب کے سامنے کھڑا ہوں. اس سے اعلی درجہ ہے اس چیز کا احساس کہ جس کے لیے فرشتوں کی صفیں رکوع و سجود میں مشغول وہ میری نماز کو بھی دیکھ رہا ہے. جیسے جیسے انسان رب کریم کے پاس ہوتا چلا جاتا ہے رب العالمین اس پر عنایتیں بڑھاتا چلا جاتا ہے.
    اس سے اعلیٰ مقام ہے انسان جو بول رہا ہو جس چیز کی گواہی زبان دے دل بھی اس کی شہادت دے رہا ہو. زبان بولے
    الحمد للہ رب العالمین تو دل رب العالمین کی اس رب ہونے کی شان کو پورے وثوق سے تسلیم کرتا دکھائی دے. دل اتنا موم ہو جاے جیسے روئی کا گالہ. روح رب کے سامنے اقرار بندگی کرنے لگے. جسم رب کی اس شان کے اقرار میں طائب نظر آے.
    سوچئے ابھی تو یہ احساس ہے کہ میرا رب مجھے دیکھ رہا اور سن رہا ہے. اور میرا جسم روح زبان دل سب اسی کی بندگی میں لگ گئے. بتائیں دنیا تو کہیں دور رہ گئ. یہ تب ہی ہوگا جب آپ پہلی منزل سر کریں گے کہ میں رب کے سامنے کھڑا ہوں. جس کے سامنے حشر میں کھڑا ہونا ہے. جس نے سارا کاشانہ_جہاں چلا رکھا ہے.
    اس سے آگے معراج کی کامل منزل شروع ہوتی ہے. جس میں یہ احساس ہوتا ہے. میں رب سے ملاقات میں ہوں میرے منہ سے الفاظ نکلتے ہی رب العالمین کے سامنے عاجزی پیش کر رہے ہیں. فاصلے بلکل ختم. بات آمنے سامنے تک آ پہنچی. احساس کی انتہا ہے. بندہ رب العالمین سے محو گفتگو سامنے حاضر ہے عبادت کا عالم کہ دنیا چھوڑ آیا کہیں دور اس کے خیالات ختم بس وہ اور رب العالمین کے سامنے عاجز جسم عاجز روح تعبیدار دل لیے رکوع میں سُبْحَانَ رَبِّیَ الْعَظِیْمِ کی سدا بلند کرتے جھک جاتا ہے. تو دل گواہی دے پاک ہے میرا پروردگار عظمت والا. سَمِعَ اللّٰہُ لِمَنْ حَمِدَہْ پکارتا ہے. دل تلملا اٹھے میرے اللہ تعالیٰ نے اس بندے کی بات سن لی جس نے اس کی تعریف کی. زبان اور دل کا یہ تال میل دنیا اور اس میں موجود ہر چیز سے زیادہ سکون روح کو مہیا کر جاتا ہے. پھر جب دنیا کی ساری عزتیں سٹیٹس رتبے بھول کر سر رب کے سامنے لا رکھتا ہے اور اپنے رب کو پکارتے ہوے کہتا ہے. سُبْحَانَ رَبِّیَ الاَعْلٰی پاک ہے میرا رب جو بلند ترہے. تو دنیا اس کے سامنے زیر ہو جاتی اور ہر جگہ ایک کی ہستی کا ساتھ دکھتا ہے. پھر جب دل اس پر شہادت کی ضرب ثبت کرتا ہے تو روح اپنی حقیقی مٹھاس کو حاصل کرتی بندے کو اپنا من ہلکا لگنے لگتا ہے. پھر تشہد میں رب سے مکالمے کا سلسلہ اس کے نکھار کو بڑھاتا چلا جاتا ہے. دل میں کیے اعمال کی ندامت آنکھوں سے بہتا آئندہ فرمانبرداری کا عزم. رب العالمین کے سامنے اسی کو کل عالم کا مختار سچے دل سے ثابت کرنے کے بعد جب تشہد میں انسان اب رب کے سامنے بخشش مانگتا ہے. میرا رب بڑا کریم ہے بخشش بھی دیتا ہے پھر سے آنے کی توفیق بھی دیتا ہے اور یہ احساس بھی کہ تو جس کے سامنے بیٹھ گیا ہو نا مراد نہیں لوٹاتا. بہتر نہ ہو بہتر کر کے دیتا ہے. بہنو بھائیو عبادت _ الہی کا تقاضہ سمجھیے اپنی عبادت کو کامل بنائیے. اللہ رب العزت نے اپنے نبی کریم خاتم النبیںن محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو سامنے بٹھا کر معراج کرائی یہ وہی احساس آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی امت کو دیا ہے. آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سر کی آنکھوں سے ظاہری بدن سے معراج کرایا گیا یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان نبوت ہے. امت کو وہی مکالمہ تحفہ میں دیا گیا جو معراج النبی صلی اللہ علیہ وسلم میں رب العالمین جلالہ اور رحمت اللعالمین صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان ہوا. عبادت کے تقاضوں کو سمجھیے. عبادت کو کامل بنائیے. رب العالمین سے تعلق ایسا بنائیے کہ کل بروز قیامت جب ملاقات ہو رب کے سامنے کھڑے کئے جائیں تو شوق دیدار سے آنکھ چھلکے. آج اس رب العالمین کی دید ہو گی جسکے سامنے ہونے کا احساس لیے رکوع و سجود سے روح کو سکون دیتے رہے.

    @EngrMuddsairH

  • ہمارے نبی ﷺ کائنات کے قائد ورہنما   تحریر  : راجہ ارشد

    ہمارے نبی ﷺ کائنات کے قائد ورہنما تحریر : راجہ ارشد

    اللہ تعالٰی نے کائنات میں جتنی مخلوق پیدا کی ہے ان میں سب سے بہترین تخلیق ہمارے نبیﷺ ہیں۔ اللہ تعالٰی نے سب سے پہلے آپﷺ کا نور پیدا کیا اسی لیے آپﷺ کو نور اول بھی کہا جاتا ہے۔جس طرح اللہ تعالٰی رب العالمین ہے اسی طرح ہمارے نبی رحمت للعالمین ہیں۔یعنی تمام مخلوقات کے لیے رحمت اور محبت لے کر آنے والے۔

    قائد اور رہنما کے معنی ہیں سیدھا راستہ دکھانے اور ہدایت کی طرف بلانے والا چونکہ آپ ﷺ تمام نبیوں سے افضل ہیں اس لیے آپﷺ کائنات کے قائد ورہنما بھی ہیں۔اور کوئی مخلوق بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رحمت سے محروم نہیں۔

    قارئین جانتے ہیں کہ پچھلے مذاہب کی تعلیمات خاص زمانے کے لیے تھیں مگر آپ ﷺ کی تعلیمات ان کے مقابلے میں زیادہ مکمل ہیں اور قیامت تک ہر آنے والے دور میں ان پر عمل کرنا انسان کے لیے بہت آسان ہے اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہی وہ واحد پیغمبر ہیں جن کی قیادت ورہنمائی کی پوری انسانیت محتاج ہے۔ زندگی کا کوئی گوشہ ایسا نہیں جس کے لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے رہنمائی اور ہدایت نہ ملتی ہو۔اس رہنمائی میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رحمت اور شفقت اس حد تک شامل تھی کہ توحید کا پیغام پھیلانے میں جس قدر زیادہ زہنی اور جسمانی ازیتیں اٹھانی پڑیں وہ آپ ﷺ نے بڑے صبر اور حوصلے سے برداشت کیں اور کبھی کسی کو بد دعا نہ دی۔پیارے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا۔ مجھے بد دعا دینے کے لیے نہیں بھیجا گیا۔

    @RajaArshad56

  • عورت مارچ اور چند حقائق تحریر  : راجہ حشام صادق

    عورت مارچ اور چند حقائق تحریر : راجہ حشام صادق

    دین اسلام نے چودہ سو سال پہلے ہی عورت کو اس کے حقوق دے دیئے ہیں آج کل کے یہ عورت مارچ جن حقوق کے لیے گھروں سے نکل رہی ہیں وہ دین اسلام کے نہ تو بنیادی حقوق ہیں نہ ہی اسلام نے عورت کو اتنی آزادی کی اجازت دی ہے۔ باپ بھائی بیٹے اور شوہر کی صورت میں قابل عزت رشتے عورت کے محافظ اور طاقت ہوتے ہیں

    سب سے پہلے تو ہم جس ملک میں رہتے ہیں یہ ملک ہمارے بڑوں نے بڑی قربانیاں دے کر حاصل کیا تھا اور ملک پاکستان کا مطلب کیا لا الہ الا اللہ اس بنیاد پے بنا تھا یہ ملک

    ہم سب جس معاشرے کا حصہ ہیں یہاں کی خواتین باحیا ہیں الحمدللہ دین اسلام کے بتائے گئے اصولوں پر زندگی گزارتی ہیں ۔ عورت مارچ کو سڑکوں پر نکلنے اور حقوق کے لیے احتجاج کرنے کا موقع مل رہا ہے تو کہیں نہ کہیں ہمارے قانون کا بھی ہاتھ ہے۔

    بہت سارے ایسے واقعات ہوئے ہیں جس سے عورت یہ سمجھتی ہے کہ وہ غیر محفوظ ہے۔وہ شاید سمجھتی ہے کہ یہاں دوندا صفت انسان بستے ہیں اور جنگل کا قانون ہے یہاں۔
    بہت سے ایسے واقعات جس میں معصوم بچیوں کا ریپ کیا گیا ہے یا پھر دفاتر اور مختلف ایسی جگہیں جہاں مرد و خواتین ایک ساتھ کام کرتے ہیں جنسی طور پر ہراساں کیا جاتا ہے یہی وجہ ہے کہ عورت پھر بغاوت کرنے پے اتر آتی ہے کچھ نام نہاد دین کے ٹھیکیدار تو بچوں کے ساتھ بھی جنسی زیادتی کرتے پائے گئے سکولز اور یونورسٹیز میں بھی کسی کی عزت محفوظ نہیں رہتی

    قارئین اس عورت مارچ کے حوالے سے ہمارا غم و غصہ اپنی جگہ لیکن اس کے کچھ اور پہلو بھی ہیں۔
    جنگل کا قانون تو ٹھیک ہے مگر کہیں نہ کہیں مرد حضرات بھی اس جرم میں برابر کے شریک ہیں
    معاشرے میں بسنے والے مردوں کا منفی رویہ بھی سامنے رکھنا چاہیئے جہاں ایک طوائف کو بدکردار کہا جاتا ہے۔ اور اسے پورے معاشرے میں کوئی عزت نہیں دی جاتی لیکن اس کے پاس جاتا کون ہے اس معاشرے کے باعزت کہلانے والے افراد اور پھر ان کی اونچی شان اور عزت میں کوئی کمی نہیں ہوتی۔

    کیا اس معاشرے میں بغاوت کی ذمہ دار صرف عورت ہے؟
    ایک جنگل کا قانون اور دوسرے وہ مرد بھی برابر کے مجرم ہیں جو عورت کے حقوق پر ڈاکا ڈالتے ہیں
    اور ان کو غلط راستے پر چلنے کے لیے مجبور کرتے ہیں کوئی بھی عورت باغی پیدا نہیں ہوتی بلکہ معاشرے میں بسنے والے لوگوں کے رویے اور بنائے گئے حالات اسے مجبور کر دیتے ہیں اس مارچ پے تنقید کرنا اور اسے روکنا ہمارا فرض ہے۔

    ہمیں بھی یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ یہ معاشرہ صرف مردوں کا نہیں اس میں جو حقوق دین اسلام نے عورت کو دیئے ہیں اس پر عملدرآمد کرنا ہماری ذمہ داری ہے اور قانون کے رکھوالوں سے بھی گزارش ہے کہ یہ لا قانونیت کا دبہ اپنے اوپر سے اتار پھینکیئے اور مدینہ جیسی ریاست کو بنیاد بنا کر اس ماڈل کی ریاست بنانے کے بارئے قانون بنائے

    اللہ پاک ہم سب کا حامی ناصر ہو

    @No1Hasham

  • فاروقی عدل وقت کی ضرورت تحریر: صائمہ ستار

    فاروقی عدل وقت کی ضرورت تحریر: صائمہ ستار


    جب سے یہ دنیا بنی جرائم ہمیشہ سے ہیں.یہ دنیا خطا کہ پُتلے "انسانوں "کی ہے. حق و باطل, اچھائ و برائ کی یہ جنگ رہتی دنیا تک جاری رہنے والی ہے.یہ تو کبھی نہیں ہو سکتا ہے کہ سب فرشتہ صفت ہو جائیں کوئ گنہگار نہ بچے اور یہ دنیا جنت کا منظر پیش کرے.جہاں بہت سے اچھے لوگ ہیں جنکی وجہ سے انسانیت زندہ ہے وہیں کچھ لوگ انسانیت کے نام پر شرمناک دھبہ ہیں. اس دنیا میں اچھائ کی برتری اور بدی و جرائم کی سرکوبی کے لیے خالقِ کائنات نے دین ِاسلام میں واضح شرعی سزائیں مقرر فرمائ ہیں تا کہ نظام ِعدل سر بلند رہے اور دنیامیں اچھائ کو برائ پر فوقیت رہے. .نبیِ آخر الزماںﷺ کے مبارک دور سے خلفائے راشدین اور جب تک اسلام سپر پاور رہا,مسلمانوں کا دورِ عروج رہا یہ صرف تب تک تھا جب تک امتِ مسلمہ نے اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھامے رکھا.اور دنیاوی و دینی تعلیم ہو,میدانِ سیاست ہو یا نظامِ عدل ہر جگہ احکامِ الہی کو مدِ نظر رکھا جاتا رہا.سخت شرعی سزاؤوں کا نفاظ رہا.حکمران اپنے آپ کو رعایا کے جان و مال کا امیں سمجھتے رہے.وقت کا سفر جاری رہا مسلمانوں نے عروج سے زوال کی سیڑھی پر قدم رکھا حاکم سے محکوم ہوئے.. بظاہر اسلامی ممالک رہے مگر جدید دنیا کے تقاضوں اور مغرب کی اندھی تقلید میں اسلامی نظام اور قوانین کو کہیں پسِ پشت ڈال دیا گیا.اسلامی سزائیں مغرب کے کہنے پر "انسانیت "کے نام پر ختم کر دی گئیں. یہاں سے انسانیت کے شرمناک دور کا آغاز ہوا ہر آنے والے وقت میں جرائم, نا انصافی کی شرح پہلے سے بڑھتی گئی.غرباء اور بے بس لوگوں کی عزت دو کوڑی سے بھی کم خون پانی سے سستا ہوتا گیا. نظامِ عدل, انصاف,قوانین صرف نام کے رہ گئے.عدالتیں اور فوری انصاف صرف اشرفیہ جاگیرداورں,سیاست دانوں , بیوروکریسی اور طاقتور لوگوں کا حق بن گیا.کیس اپنی مرضی کی عدالت میں لگوا کر,مرضی کا مصنف خرید لینا اور فیصلہ بھی مرضی کا یہ عام سی باتیں بن کہ رہ گئی ہیں. شاہ زیب قتل کیس سے زین قتل کیس اور سانحہ ماڈل ٹاؤن سے سانحہ یتیم خانہ چوک لاہور تک ہزاروں مثالیں ہیں. غریبوں کے لیے فوری انصاف حاضر ہے جب کہ غرباء میں اگر مقتول قتل ہوتا ہے تو لواحقین کی وکلاء کی مہنگی فیسوں اور عدالتوں کے چکروں میں زندگی تمام ہوتی ہے اکثر ایسا بھی ہوتا کہ ملزم پابندِ سلاسل وفات پا جائے بعد میں عدالت میں بے گناہی ثابت ہو. ایسی مثالیں بھی ہیں نوجوانی میں بے گناہ لوگ اس اندھے نظام کی بھینٹ چڑھتے ہیں اور بالوں میں سفیدی آنے پر انہیں باعزت رہائ کا پروانہ ملتا ہے ان رسمی لفظوں کے ساتھ کہ نظامِ عدل آپکی ساری زندگی ضائع کر دنیے پر معزرت خواہ ہے.یہ معزرت ہے یا بدترین مذاق؟ہزاورں بے گناہ زینب /ماہم / نور مقدم ہوس کے پجاریوں کی بھینٹ چڑھتی ہیں 100 میں سے ایک کو سزا ملتی ہےاور باقی چند سال سرکاری مہمان پر جیل میں رہتے اور رہائ پاتے ہیں.مجرم طاقت ور ہو تو ایف آی آر تک درج نہیں ہوتی. آج اپنے نظامِ عدل سے ذرا سی واقفیت رکھنے والا شخص آسانی سے نور مقدم کیس کا مستقبل بتا سکتا. ملزم کو ذہنی مریض ثابت کیا جائے گا ,ڈی این اے رپورٹ تبدیل ہوگی یا تھراپی ورکرز میں سے کسی کو قربانی کا بکرا بنا دیا جائے یا انکے بیانات بدلوا لیے جائیں گے.یہ ہے ملک کا جوڈیشنل سسٹم.مقتول لاشوں کو کندھوں پر رکھ کے پھرتے ہیں, بے گناہ کے آنسو انکے گریبانوں پر گرتے ہیں پتھر دل نظامِ عدل کے علمبرداروں کے کان پر جوں تک نہیں رینگتی.

    کچھ سرعام ،کچھ پسِ دیوار بکتے ہیں !
    اس شہر میں ضمیر بکتے ہیں!
    یہاں تہزیب بکتی ہے !
    یہاں فرمان بکتے ہیں!
    ذرا تم "دام ” تو بدلو یہاں ایمان بکتے ہیں

    کیا یہ اسلامی جمہوریہ پاکستان ہے؟کیا ہم مسلمان ہیں اس اسلام کے پیروکار ہیں جسکے رہنما سیدنا محمدﷺ کا عدل یہ تھا کہ فرمایا میری جان سے عزیز بیٹی فاطمہ رضی اللہ عنہ بھی چوری کریں تو انکے بھی ہاتھ کاٹنے کا حکم دوں. ہمارے اسلاف /ہمارے رہنما وہی عمرِ فاروق رضی اللہ عنہ نہیں کہ گلیوں میں گشت فرما رہے تھے بوڑھی عورت ملی نا جانتے ہوئے کہ یہی تو امیرَالمومنین عمر رضی اللہ عنہ ہیں شکوہ شکائیت کرنے لگی کہ عمر میرے حال کی خبر نہیں رکھتا.آپ نے کہا اماں جی عمر کو اتنی بڑی سلطنت میں آپکے مسائل کا علم کیسے ہوگا؟اگر آپ خود نہیں بتائیں گی.. بوڑھی عورت نے تاریخی جواب دی کہا کہ عمر کو چاہیے اتنی ہی زمیں پر حکمرانی کرے اور اتنے ہی لوگوں کا خلیفیہ بنے جنکی خبر رکھ سکے.آپ کا دل ہِل کے رہ گیا اور فوراً خبر گیری کی مہم تیز تر کردی.عدل کیسے قائم ہوتا منصف/ حکمران کیسے ہوتے ہیں تو کوئ عمرِ فاروق کو دیکھے فرماتے "قوم کا سچا حکمران قوم کا خادم ہوتا ہے”.راتوں کو اُٹھ اُٹھ کر پہرا دیتے.خوفِ خدا اور اقتدار کی جواب دہی کا ڈر اسقدر کہ فرماتے اگر دریائے فرات کے کنارے عمر کی خلافت میں ایک کتا بھی پیاسا مر گیا تو عمر بارگاہِ الہی میں جواب دہ ہو گا. اس ایک بات سے وطنِ عزیز کے بوسیدہ نظامِ عدل کی تمام تر وجہ سمجھ آجاتی ہے کہ عمرِ فاروق کتے کی جان کو بھی سراسرا صرف اور صرف اپنی ذمہ داری قرار دیں اور اسلامی جمہوریہ پاکستان کے حکمران ہر روز سینکڑوں انسانی جانوں کے ضیاع پر محظ رسمی, مذمتی تقاریر اور کبھی نظام کو موردِ الزام ٹھہرا کہ فارغ ہو جائیں. نظام حکمران نے درست کرنا ہے بروزِ قیامت ہرنگہبان/حکمران سے سے ہی رعایا کے حقوق کی جواب دہی ہو گی.”فاروقی عدل ” وقت کی ضرورت ہے. حکمرانوں کو سمجھنا ہوگا کہ حکمرانی کا مطلب عوام کی خدمت اور منصفانہ نظام کا قیام ہے.اقتدار کو مسندِ عیاشی سمھجنے اور دن رات صرف سیاسی مخالفین پر کیچڑ اچھالنے کی بجائے اصل ذمہ داری کی کی طرف آنا ہو گا جو کہ جو کہ رعایا کے جان و مال کا تحفظ اور منصفانہ معشرے کا قیام ہے.یہی پاکستان کی معاشی ترقی اور ہر میدان میں عروج کا راز ہو گا کیونکہ معاشرے عدل پر پھلتے پھولتے اور سپر پاور بنتے ہیں.جس وطن میں مظلوموں, بے بسوں کی آہیں ہوں.طاقتور کے لیے معافی اور بے بس اور چھوٹے لوگوں کے لیے سزا ہو. وہاں لاکھ کوئ ایک کے بعد ایک نام نہاد بہترین حکمران بدلے.. معاشی ترقی کے لیے بہترین سے بہترین پالسیز /منصوبے بنیں عدل سے روگردانی کرنے والے معاشروں کا مقدرصرف تباہی ہے.آج بھی نظامِ مصطفیﷺ کی روشنی میں مکمل اسلامی سزاوؤں کا نفاذ ہو,حکمران حضرت عمرِ فاروق رضی اللہ عنہ کے نقشِ قدم پر چلیں تو یہ معاشرہ جنگل بننے سے بچ جائے.اور عجب نہیں کہ دنیا فاروقی عدل اور امتِ مسلمہ کی کھوئ ہوئ شان و شوکت ایک بار پھر دیکھے.
    ‎@SMA___23‎

  • ازدواجی خاندانی نظام  تحریر: فروا نذیر

    ازدواجی خاندانی نظام تحریر: فروا نذیر

    آج کل ہم جس معاشرے میں زندگی گزار رہے ہیں وہاں سسرال کا نام لیتے ہیc لڑکیاں عجیب سا رد عمل دیتی ہیں
    سب لڑکیاں تو نہیں لیکن کچھ لڑکیاں ایسا کرتی ہیں۔۔۔

    سوچنے کی بات ہے ایسا کیوں ہوتا ہے۔۔۔؟؟؟

    اللہ پاک نے ہر انسان کو نکاح کا حکم دیا ہے اور فرمایا ہے؛
    کہ نکاح ہر بالغ مرد و عورت پر فرض ہے
    نکاح کرنا ہمارے پیارے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ والٰہ وسلم کی سنت ہے نکاح اس لیے لیا جاتا ہے تاکہ انسان اپنی نسل کو پروان چڑھا سکیں
    اور بد امنی سے بھی بچنے کے یہ بہترین طریقہ ہے کہ جس کو تم پسند کرتے ہو جائز اور پاکیزہ رشتے میں اپنا لو اللہ تم پر اپنا کرم کریں گا…
    لیکن لوگوں نے نکاح کو بھی ایک فیشن سا بنا لیا ہے نکاح تو ہوگیا

    لیکن کچھ لڑکیوں نے سسرال کے بارے میں اتنے غلط نظریات رکھے ہوئے ہیں کہ شادی کے بعد وہ پرسکون نہیں رہتی اور کہتی پھرتی ہیں کہ سسرال ایسا ہے یا ویسا یے..
    تو یہ بات غلط ہوتی ہے سسرال بھی ایل گھر ہی ہوتا ہے لیکن اس معاشرے میں رہتے ہوئے لوگ غلط سوچ کو رکھنا شروع ہوگئے ہیں مانا کی کچھ ساس یا سسر سخت ہوتے ہیں۔۔

    لیکن کیا آپ اس بات کو مانتے کہ کچھ ماں باپ بھی تو سخت ہوتے ہیں لیکن وہ تو برے نہیں ہوتے بس سسرال ہی برا ہوتا ہے جب بہو اچھا سلوک نہیں کرے گی تو ساس کسطرح اچھا سلوک کریں گی…
    آج کل لڑکیوں کو بس اتنی سی بات سمجھ میں نہیں آتی کہ سسرال میں رہتے ہوئے سبکو خوش کرنے کیلیے تھوڑا سا کمپرومائز (Compromise)کرنا پڑتا ہے تاکہ مسائل سے بچا جا سکیں..
    لیکن لڑکیاں اس بات پر آتی نہیں وہ اپنی انا کو سامنے لے آتی ہیں اور پھر کیا ہوتا ہے جھگڑے تعلق خراب اور یا پھر علیحدگی….
    لڑکیوں کو ایک اتنی سی بات سمجھ نہیں آتی کہ سسرال بھی تو گھر ہی ہوتا ہے وہاں کوئی دوسری دنیا کے لوگ تو نہیں ہوتے
    جیسے اپنے گھر میں ماں باپ بہن بھائی بھابھی ہوتے اسی طرح سسرال میں بھی شوہر کے ماں باپ بہن بھائی بھابھی ہوتے
    جہاں بس آپکو یہ کرنا ہوتا آپکو ان کے ساتھ اچھا سلوک اور عزت..
    کیونکہ آپکی عزت بھی اس وقت ہو گی جب خود دوسروں کو عزت دوں گے…
    جیسے کہا جاتا ہے: *جیسا کرو گے ویسا پاؤ گے* اگر اچھا سلوک کرو گے تو اچھا سسرال پاؤ گے اور برا کرو گے تو برا پاؤ گے…
    لیکن آجکل اخلاقیات کی بہت کمی ہوتی جارہی ہے جیسے جیسے انسان تعلیم حاصل کررہا ہے اس میں انسانیت عقل و شعور ختم ہورہا ہے کچھ لوگوں میں …
    تو یہ سب بہت غلط ہورہا ہے کیونکہ اللہ نے ہر انسان کو اسکا مقام اور عزت دیا ہے اب اسکو استعمال کیسے کرنا ہے وہ بھی بتایا گیا ہے..
    لیکن استعمال نہیں کرتے لوگ یہی تو معاشرے کاسب سے بڑا فعال ہے.. اور پھرقصور وار سسرال کو ٹھہرادیا جاتا ہے ..
    میں یہ بات سب پر نہیں بس کچھ پر کر رہی ہو تاکہ کوئی اپنے اوپر نہ لے اور ایک بار اپنی زندگی کا جائز لیں…
    یقین مانیں سسرال کو اگر اپنا گھر ساس سسر کو والدین اور باقیوں کو بہن بھائیوں کی طرح سمجھے گے۔۔۔تو آپکو کوئی مشکل نہیں ہوگی اور جہاں مشکل ہو گی وہاں آپکا اللہ ہمیشہ ساتھ ہے…
    میرا اس تحریر کو لکھنے کا یہی مقصد ہے کہ آجکل لوگ گمراہی کی طرف جا رہے ہیں
    سسرال کو کچھ سمجھتے نہیں اور فورا ہی الگ گھر کرلیتے ہیں۔۔۔ لیکن ذرا سوچے کیا ان ماں باپ کو مان نہیں ہوتا جنہوں نے اتنی محنت اور محبت سے بیٹے کو قابل انسان بنایاہوتا ہے….
    تو سب اس بات پر غوروفکر کریں کہ آپ کیا کررہے ہیں کہاں کھڑے ہیں اور آپکو کیا کرنا چاہیے..
    میری تو یہی رائے ہے سسرال کو اپنا گھر سمجھ کر رہےاور ویسا ہی رویہ اختیار کریں
    جیسا اپنے ماں باپ کے گھر ہوتا تو آپ پرسکون زندگی گزارو گے…
    میری اللہ پاک سے دعا ہے کہ اللہ پاک مجھ سمیت ہر انسان کو بھلائی عطا فرمائے
    اور سیدھے راستے پر چلائے اور ہمیشہ اللہ پاک سب کا حامی و ناصر ہو
    آمین ثمہ آمین

    تحریر: فروا نذیر
    Twitter : @InvisibleFari_