Baaghi TV

Category: مذہب

  • عبادات مساوات  تحریر: آمنہ خان

    عبادات مساوات تحریر: آمنہ خان

    اسلام دینِ کامل ہے جو مساوات کا درس دیتا ہے۔ اسی دین کے بدولت امت مسلمہ ایک لڑی میں پروئی ہوئی ہے۔ عبادت انسان میں نظم وضبط پیدا کرتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انسانوں کو اسی لیے پیدا کیا کہ وہ اس کی عبادت کریں۔ عبادات کی ادائیگی سے انسان کو بہترین معمول زندگی میسر آتا ہے۔

    اللہ پاک سورة الزایات میں فرماتے ہیں کہ؛

    وَ مَا خَلَقۡتُ الۡجِنَّ وَ الۡاِنۡسَ اِلَّا لِیَعۡبُدُوۡنِ
    ترجمہ؛ میں نے جنات اور انسانوں کو محض اس لئے پیدا کیا ہے کہ وہ صرف میری عبادت کریں ۔

    عبادات قرب الہی کا ذریعہ بنتیں ہیں۔ یہ انسان میں احساس پیدا کرتیں ہیں۔ اللہ پاک کی رحمتیں، دین کی تعلیمات تمام انسانوں کے لئے برابر ہیں۔ بلکہ ایک مسلمان دوسرے مسلمان کا بھائی ہے اور فضیلت کی بنیاد محض ” تقویٰ” ہے۔

    خطبہ حجتہ الوداع کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں کہ؛

    یَا أَیُّہَا النَّاسُ! اَلَا إِنَّ رَبَّکُمْ وَاحِدٌ، وَإِنَّ أَبَاکُمْ وَاحِدٌ، أَلَا لَا فَضْلَ لِعَرَبِیٍّ عَلٰی أَعْجَمِیٍّ وَلَا لَاَعْجَمِیٍِّ عَلٰی عَرَبِیٍّ، وَلَا لِأَحْمَرَ عَلٰی أَسْوَدَ، وَلَا لِأَسْوَدَ عَلٰی أَحْمَرَ إِلَّا بِالتَّقْوٰی
    ترجمہ؛ لوگو! تمہارا رب ایک ہے اور تمہارا باپ بھی ایک ہے، آگاہ ہو جاؤ! کسی عربی کو کسی عجمی پر، کسی عجمی کو کسی عربی پر، کسی سرخ رنگ والے کو کالے رنگ والے پر اور کسی سیاہ رنگ والے کو سرخ رنگ والے پر کوئی فضیلت و برتری حاصل نہیں، مگر تقویٰ کے ساتھ۔

    تقویٰ ایک باطنی کیفیت کا نام ہے، جسے اللہ کے سوا کوئی نہیں جان سکتا۔
    تمام انسان ظاہری لحاظ سے یعنی رنگ، نسل، علم، حکمت کے اعتبار سے برابر ہیں۔ فضیلت کا معیار تقویُ ہے جس کا علم صرف اللہ کے پاس ہے۔
    اسلام نام ہی مساوات کا ہے جہاں سب برابر ہیں آپس میں بھائی بھائی ہیں۔
    مختلف عبادات بھی ہمیں مساوات کا درس دیتیں ہیں۔
    مثال کے طور پر نماز جو کہ ہم مسلمانوں پر دن میں پانچ مرتبہ فرض ہے۔ نماز اسلامی مساوات کی واضح مثال ہے۔ جس میں تمام مسلمان بیک وقت ایک ہی صف میں کھڑے ہو کر خالقِ حقیقی کو سجدہ ریز ہوتے ہیں۔
    مالدار ہو یا فقیر اللہ کے گھر میں سب برابر ہیں۔ شاعر نے بھی کیا خوب انداز میں اس مساوی کیفیت کو بیان کیا ہے۔

    ایک ہی صف میں کھڑے ہو گئے محمود و ایاز
    نہ کوئی بندہ رہا اور نہ کوئی بندہ نواز

    اس کے ساتھ زکوٰۃ بھی اتحاد و مساوات کا درس دیتی ہے۔ سارا سال امیر ترین طبقہ پیسے کماتا ہے، مال زخیرہ کرتا ہے اور رمضان المبارک کے مقدس مہینے میں زکوٰۃ ادا کرتا ہے۔
    زکوٰۃ کی ادائیگی سے غریب لوگ بھی عید کی خوشیوں میں شریک ہو جاتے ہیں۔
    زکوٰۃ کے نظام سے مال و دولت چند لوگوں کی میراث بننے کی بجائے، معاشرے میں گردش کرتی رہتی ہے اور غریب طبقے تک پہنچ جاتی ہے۔
    غریبوں کا عید کی خوشیوں پہ اتنا ہی حق ہے جتنا امیروں کا۔ عیدالفطر پر زکوٰۃ کی ادائیگی اور عید الاضحی پر قربانی کے گوشت کی تقسیم ہمیں اسلامی مساوات کا سبق دیتیں ہیں ۔اور یہی عبادات دوسروں کے لیے ہمارے احساسات جگا دیتیں ہیں۔

    حج دینِ اسلام کا اہم ترین رکن ہے اور ہر صاحبِ استطاعت مسلمان پر زندگی میں ایک بار ادا کرنا فرض ہے۔
    حج اسلامی مساوات کی سب سے بڑی دلیل ہے۔ پوری دنیا سے تعلق رکھنے والے مسلمان مخصوص ایام میں مخصوص جگہ اکٹھے ہوتے ہیں۔ رنگ و نسل کی تفریق سے بالاتر ایک اللہ کے گھر کا طواف کرتے ہیں۔
    اسلام، صرف اسلام ہی ہے جس نے ان انجانے مسلمانوں کو ایک دوسرے کا رفیق بنا دیا۔
    حج کے موقع پر لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ کی پکار مسلمانوں کے مساوات اور بھائی چارے کی ایسی مثال ہے جو دنیا میں کہیں نظر نہیں آتی۔

    اگرچہ روزہ ایک باطنی عبادت کا نام ہے جس کا گواہ صرف اللہ ہے۔ لیکن پھر بھی روزہ دوسروں کے ساتھ احسن سلوک کی راہ ہموار کرتا ہے۔
    روزہ ایک ایسی عبادت ہے جو صرف اللہ کے لیے ہے اور اللہ ہی اس کا اجر دے گا لیکن یہ دل میں دوسروں کے لیے احساس ہمدردی پیدا کرتا ہے۔ جب انسان سارا دن بھوک پیاس ترک کرتا ہے تو اسے اپنے غریب بھائیوں کی محرومیوں کا احساس ہوتا ہے۔ اس طرح انسان روزہ بھی لوگوں میں مساوات کی روح پھونکتا ہے۔
    ہمیں اللہ پاک نے ان قبائل، اور قوموں میں اسی لیے تقسیم کیا تاکہ ہم پہچانے جائیں۔

    سورة الحجرات میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ

    یٰۤاَیُّہَا النَّاسُ اِنَّا خَلَقۡنٰکُمۡ مِّنۡ ذَکَرٍ وَّ اُنۡثٰی وَ جَعَلۡنٰکُمۡ شُعُوۡبًا وَّ قَبَآئِلَ لِتَعَارَفُوۡا ؕ
    ترجمہ؛ اے لوگو! ہم نے تم سب کو ایک ( ہی ) مرد و عورت سے پیدا کیا ہے اور اس لئے کہ تم آپس میں ایک دوسرے کو پہچانو کنبے قبیلے بنا دیئے ہیں۔

    اللہ ہمیں دین کے حقیقی معنی سمجھنے کی توفیق دے۔ آمین

    ‎@AmnaKhanPK

  • ابن عربی اور نظریہ وحدت الوجود۔۔  تحریر: آصف شاہ خان

    ابن عربی اور نظریہ وحدت الوجود۔۔ تحریر: آصف شاہ خان

    ہم میں سے بہت کم لوگوں کو علم ہے کہ ابن عربی اور لفظ وحدت الوجود کا آپس میں کوئی تعلق نہیں۔ ابن عربی کے کسی بھی تصنیف میں ہمیں وحدت الوجود کا لفظ نہیں ملتا ہے۔شیخ الاکبر ابن عربی کے تصور وجود باری تعالیٰ کیلئے پہلی بار لفظ وحدت الوجود ابن عربی نے نہیں بلکہ ابن تیمیہ رحیم اللہ نے استعمال کیا ہے۔ مشہور محدث ابن تیمیہ نے شیخ الاکبر ابن عربی کے تصور وجود باری تعالیٰ پر تنقید کے طور پر اس کو وحدت الوجود کا نام دیا تھا اور ابن عربی پر فتویٰ لگایا تھا۔
    شیخ الاکبر ابن عربی نے اپنی کتاب "فتوحات مکیہ” میں خدا تعالیٰ کے وجود کے بارے میں ایک تصور پیش کیا ہے ، اس تصور کو ہم اگر آسان الفاظ میں بیان کرنا چاہے اس کی یہ شکل ہمارے سامنے آتی ہے کہ ایک حقیقی وجود ہے اور وہ ہے اللّٰہ تعالیٰ کا۔۔۔
    وجود باری تعالیٰ فلسفے کا ایک مسلہ ہے لہذا ہم ابن عربی کے اس فلسفے کو اصولوں کے مطابق بحث کرنے کی کوشش کریں گے۔ ابن عربی کے تصور وجود باری تعالیٰ کو ہم غور سے دیکھیں تو اس کے مختلف معنوی پہلؤں نظر آتے ہیں۔ اس کا ایک پہلو بڑا مشہور ہوگیا ہے وہ یہ پہلو ہے جس کو لیتے ہوئے ابن تیمیہ نے ابن عربی پر تنقید کی ہے اور اس کو جواز بناتے ہوئے ابن عربی پر فتویٰ لگایا یے۔ یہ معنوی پہلو آج کل بہت عام بھی ہے زیادہ تر صوفیاء، ادباء اور علماء ابن عربی کے تصور وجود باری تعالیٰ سے یہ مطلب لیتے ہیں اور اس کو وحدت الوجود سے ہی یاد کرتے ہیں- وحدت الوجود کے ابن تیمیہ کا بیان کردہ پہلو یہ ہے کہ ابن عربی کی اس بات کا کہ ایک حقیقی وجود ہے اور وہ ہے اللّٰہ تعالیٰ اس سے مراد ہے کہ سب مخلوقات اور سب چیزیں اللّٰہ کے وجود کا حصہ ہیں یعنی سب واحد چیز ہے اور اس سے مراد لیتے ہوئے ابن تیمیہ نے اس کو وحدت الوجود کا نام دیا جس کا مطلب ہے کہ سب ایک ہی وجود ہے۔ اگر ہم اس پہلو کو دیکھ لے تو یہ پہلو نظریہ حلول کے طرح نظر آتا ہے یا یوں سمجھئے کہ یہ نظریہ حلول کی ایک شکل ہے۔ اور نظریہ حلول کو اگر غور سے پڑھ لیا جائے تو قرآن اور حدیث کی تعلیمات کا مکمل مخالف نظر آتے ہیں اور تقریباً تمام ائمہ، فقہاء اور علماء اس بات پر متفق ہیں کہ نظریہ حلول ایک کفریہ نظریہ ہے۔ لیکن جہاں تک بات ابن عربی کے تصور وجود باری تعالیٰ ہے اس کے اور بھی پہلوؤں ہیں اور ان پہلوؤں میں ایک زیادہ ٹھیک نظر آتا ہے اگر ہم اس کو فلسفے کے اصولوں کے مطابق دیکھ لے۔ ابن تیمیہ کے علم اور اس کی نیت پہ ہم کسی قسم کا شک تو دور کے بات سوچ بھی نہیں سکتے ہیں کہ اس کی نیت خراب یا علم میں کمی تھی لیکن ہاں ہم فلسفے کے مسئلے میں ان کے سوچ سے اختلاف کرسکتے ہیں۔ یہاں اختلاف سے مراد یہ نہیں کہ ابن تیمیہ کی بات غلط ہے لیکن یہاں اختلاف سے مراد یہ ہے کہ وجود باری تعالیٰ فلسفے کا مسلہ ہے اور فلسفے کے مسئلے میں اس نے جس معنوی پہلو کا انتخاب کیا ہے وہ تو اپنی جگہ ٹھیک ہے لیکن ابن عربی کا اس تصور سے یہ مطلب نہیں تھا کہ سب ایک وجود ہے۔ اس بات کو ٹھیک ثابت کرنے کیلئے ہمارے پاس کچھ دلائل ہیں جس کو لے کر فلسفے اور عقلی طریقوں سے ہم ثابت کرسکتے ہیں۔
    سب سے پہلی بات ابن تیمیہ نے ابن عربی کے وفات کے بعد یہ فتویٰ دیا تھا تو لہذا ہم کہہ سکتے ہیں کہ ابن عربی نے اس بات کی نہ تصدیق کی ہے اور نہ اس کے انکار کے آثار ہیں کیونکہ اس وقت وہ زندہ ہی نہیں تھے۔ اور دوسری بات اس نظریے کے وہ پہلو زیادہ ٹھیک نظر آتا ہے وہ پہلو یہ ہے کہ ابن عربی کے تصور وجود باری تعالیٰ میں ایک حقیقی وجود سے مراد یہ نہیں ہے کہ ہم سب اللّٰہ کے وجود کا حصہ ہیں بلکہ اس کا مطلب ہے کہ اللّٰہ کے علاؤہ ساری چیزیں فانی ہیں صرف ایک اللّٰہ کا وجود ہے جو حقیقی ہے اور نہ ختم ہونے والا ہے۔ اس کے سوا تمام اشیاء کی کوئی حیثیت ہی نہیں اور جب اس کے کوئی حثیت نہیں حقیقت نہیں تو پھر اس کا زکر ہم کیوں کرے اس لئے ابن عربی یہ لکھتا ہے کہ ایک ہی وجود ہے اور وہ ہے اللّٰہ تعالیٰ کا باقی سب کوئی حیثیت ہی نہیں رکھتے ہیں ۔ اس پہلو کو ہم اگر عقلی دلائل سے وضاحت کرنا چاہئے اور فلسفے کے اصولوں کے مطابق بحث کرنا چاہئے تو کچھ یوں ہم کہہ سکتے ہیں کہ ہمیں معلوم ہے کہ تصوف محبت کا اعلیٰ درجہ ہے جس میں انسان کی محبت کسی چیز یا انسان سے بڑھ کر اللّٰہ کے لافانی وجود سے ہوجاتی ہے اور پھر اس کی سب پسند نا پسند اللّٰہ کے رضا کیلئے ہی ہو جاتی ہے اس کے اندر تکبر اور غرور ختم ہو جاتا ہے اس کے اندر یہ بات ختم ہو جاتی ہے کہ میں اتنا بڑا آدمی ہوں یا ایسا آدمی ہوں وغیرہ اور اس میں وہ اتنا مگن ہو جاتاہے کہ اس کو اپنی کوئی پرواہ نہیں رہتی ہے۔ اس کو اپنا وجود تو نظر آتا ہے لیکن اپنے فانی ہونے کے یقین کی وجہ سے اس کو اس کی کوئی حیثیت معلوم نہیں ہوتی ہے اور اس وجہ سے وہ یہ سوچتا ہے کہ جب کوئی حیثیت نہیں تو زکر کس لئے کروں۔ اس تصوف کے تصور کو اگر ہم ابن عربی کے نظریے کے ساتھ موازنہ کریں تو ہم اس نتیجہ پر پہنچتے ہیں کہ ابن عربی کے تصور وجود باری تعالیٰ بھی ہمیں یہی بات فلسفے میں سمجھاتی ہے کہ حقیقی لافانی وجود اللّٰہ کا ہے باقی سب فانی ہیں۔ اس بات کو شرعی اصولوں سے بھی دیکھیں تو اسلامی تعلیمات کے مطابق ہے۔ اور ہم کہہ سکتے ہیں کہ ابن عربی کے تصور وجود باری تعالیٰ سے مراد یہ تھا کہ باقی وجودیں ہیں لیکن اس کے کو حیثیت نہیں کوئی حقیقت اور لافانیت نہیں لہذا اس کے ہونے یا نہ ہونے کے اقرار کا کیا فائدہ اس لیے اس وجود کا زکر کیا جائے جو حقیقت ہے ۔
    یہ مضمون میری زاتی تجزیے اور فکر پر ہے لہذا میں غلط ہوسکتا ہوں آپ لوگ میری سوچ سے اختلاف کرسکتے ہیں۔

    __________________
    تحریر: آصف شاہ خان

    @Ibnepakistan1

  • بدگمانی ایک زہر ہے  تحریر: معین وجاہت

    بدگمانی ایک زہر ہے تحریر: معین وجاہت

    ‎تبلیغ جماعت والے گشت کررہے تھے کہ ایک صاحب کو گھر میں داخل ہوتے ہوٸے دیکھا تبلیغی جماعت والے بھی اس کے پیچھے گٸے اور دروازہ کھٹکھٹایا تو ایک بچہ باہر آیا تبلیغی جماعت کے امیر صاحب نے کہا کہ فلاں صاحب گھر پر ہے جو اب ہمارے سامنے گزرگئے بچے نے کہا میں دیکھتا ہوں بچہ گھر گیا اور واپس آکر کہا وہ گھر پر نہیں ہے،امیر صاحب کو اندازہ ہوا کہ اب تو سب کو بدگمانی ہوگی تو کہا کہ دیکھو پیچھے بھی دروازہ ہے شاید وہ گھر آیا ہو اپنی ضرورت پورا کرکے پھر کسی کام کے لیے گیا ہو۔
    ‎تو غور کریں تبلیغی جماعت کے امیر صاحب نے کتنا اچھا گمان کیا۔ہمیں بھی چاہیے کہ ہر کسی پر اچھا گمان کرنا چاہیے۔آج کل بہت سے لوگ دوسروں کے بارے میں بدگمانی کا شکار ہوجاتے ہیں۔
    ‎کسی بات کی تحقیق کٸے بغیر کسی شخص کے بارے میں کوٸی برا خیال قاٸم کرلینا کہ اس نے شاید ایسا کیا ہوگا یہ بدگمانی ہے۔اپنی طرف سے کسی شخص کے بارے میں کوٸی خیال گھڑلینا ،یا معمولی سی بات کسی کے اندر نظر آٸی اور اس پر اپنی طرف سے ہواٸی قلعے تعمیر کرلینا اور اوراس کے بارے میں بدگمانی میں متبلا ہونا گناہ ہے۔جب تک کسی کے بارے میں کوٸی بات دلاٸل کے ساتھ آنکھوں سے مشاہدہ کرکے ثابت نہ ہوجاٸے تو اس وقت تک ہمیں کسی کے کےبارے میں کوٸی برا گمان نہیں کرنا چاہیے۔
    ‎معاملات میں بھی ہم بغیر تحقیق کے لوگوں پر بدگمانی کرتے ہیں۔کوٸی ہمارا فون نہ اٹھاٸے تو ہمیں یہ گمان نہیں کرنا چاہیے کہ وہ اپنے آپ کو بہت بڑا سمجھتا ہے اس لیے اب ہمارا فون بھی نہیں اٹھاتا،ہوسکتا ہے وہ کسی کام میں مصروف ہو اس میں بہت احتمالات ہوسکتے ہیں۔اسی طرح اگر کسی کے پاس آپ نے دیکھا کہ بہت ذیادہ روپے پیسے ہیں تو یہ گمان نہیں کرنا چاہیے کہ حرام کا پیسہ ہے،حرام خوری کرتا ہے تو یہ بدگمانی ہے۔
    ‎اور یہ ایک ایسا زہر ہے جب آدمی اس میں مبتلا ہوجاتا ہے تو اسے ہر آدمی چور،بےایمان،بدفطرت اور بدکردار دکھاٸی دینے لگتا ہے۔
    ‎عربی کا مقولہ ہے:
    ‎سوء الظن مرض یقتل کل شیی جمیل
    ‎”یہ بدگمانی ایسا گناہ ہے جو ہر چیز کے نکھار کو ختم کردیتا ہے“
    ‎ابن ابی الدنیا کی کی کتاب ”حسن ظن باللہ“میں آیات اور احادیث کے 150 نصوص پیش کٸے گٸے ہیں جن کا خلاصہ یہ ہے کہ لوگوں پر نیک گمان رکھیں اور بدگمانی سے بچیں۔
    ‎اس لیے ہمیں بدگمانی سے بچنا چاہیے۔بزرگوں کا فرمان ہے کہ بدگمانی ایک ایسا گناہ ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ آپ کسی پر براٸی کا الزام لگاٸے ہیں اور یہ براٸی کا الزام قیامت کے دن ثابت کرنا ہوگا۔لہذا بدگمانی سے پہلے ہمیں یہ سوچ لینا چاہیے کہ یہ بدگمانی مجھے قیامت کے دن ثابت کرنی ہوگی۔یہ بدگمانی بیشک کسی رشتہ دار کے بارے میں ہو،یا عام انسان کے بارے میں ہو،یا کسی عالم کے بارے میں ہو۔
    ‎اور یاد رکھنا چاہیے بدگمانی ایک ابتداء ہے جس کی انتہاء غیبت اور بہتان پر ہوتی ہے۔
    ‎اللہ تعالی ہمیں بدگمانی سے بچنے کی توفیق عطا فرماٸیں۔

  • صحابہ کرامؓ کا مقام و مرتبہ  تحریر: چوہدری یاسف نذیر

    صحابہ کرامؓ کا مقام و مرتبہ تحریر: چوہدری یاسف نذیر

    صحابی کا مقام اور مرتبہ جاننے سے پہلے انکی تعریف کا جاننا ضروری ہے ۔۔تو صحابی ہر اس شخص کو کہا جائے گا جس نے ایمان کی حالت میں خاتم النّبیین محمد صلى الله عليه وسلم سے ملاقات کی ہو اور اسی ایمان کے ساتھ وفات پائی ہو۔۔یہ بات ہمیں یاد رکھنی چاہیے کہ صحابہ کرام سے محبت وعقیدت کے بغیر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سچی محبت نہیں ہوسکتی اور صحابہ کرام کی پیروی کئے بغیر آنحضور صلى الله عليه وسلم کی پیروی کا تصور محال ہے۔

    ‎اب ہم صحابہ کے مقام کو قرآن پاک کی روشنی میں دیکھ لیتے ہیں کہ قرآن پاک صحابہ کے مقام کے بارے میں کیا کہتا ہے۔۔ ( آیت نمبر 1 )
    ‎اِنَّ الذِیْنَ یَغُضُّوْنَ اَصْواتَہم عِندَ رَسُولِ اللّٰہِ اُولٰئِکَ الَّذِیْنَ اِمْتَحَنَ اللّٰہُ قُلُوبَہُم لِلتَّقْویٰ لَہُم مَغْفِرةٌ وَاَجْرٌ عَظِیْمٌ. (سورہ الحجرات:۳)
    ‎ترجمہ: بیشک جو لوگ اپنی آوازوں کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پست رکھتے ہیں یہ وہ لوگ ہیں جن کے قلوب کو اللہ تعالیٰ نے تقویٰ کیلئے خالص کردیا ہے ان لوگوں کیلئے مغفرت اوراجر عظیم ہے۔۔۔اس آیت میں صحابہ کے بارے میں فرمایا گیا ہے کہ وہ متقی ہیں اور انکے بہت بڑا اجر ہے
    ‎( آیت نمبر 2 ) مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِ وَالَّذِیْنَ مَعَہ اَشِدَّاءُ عَلَی الکُفَّارِ رُحَمَاءُ بَیْنَہُمْ تَراہُمْ رُکَّعًا سُجَّدًا یَبْتَغُوْنَ فَضْلاً مِنَ اللّٰہِ وَرِضْواناً سِیْمَاہُم فِی وُجُوْہِہِمْ مِنْ اَثَرِ السُّجُوْدِ (سورہ فتح:۲۹)
    ‎ترجمہ: محمد اللہ کے رسول ہیں اور جو لوگ ان کے ساتھ ہیں وہ کافروں کے مقابلہ میں تیز ہیں اور آپس میں مہربان ہیں اے مخاطب تو ان کو دیکھے گا کہ کبھی رکوع کررہے ہیں کبھی سجدہ کررہے ہیں اور اللہ کے فضل اور رضامندی کی جستجو میں لگے ہوئے ہیں ان کی (عبدیت) کے آثار سجدوں کی تاثیر سے ان کے چہروں پر نمایاں ہیں۔۔۔اس ایت میں صحابہ رضی اللہ عنھم کی بہت سی باتوں میں حق تعالی خود تعریف کر رہے ہیں اور جسکی اللہ تعالی خود تعریف کریں انکا مقام کیسا ہو گا آپ اور میں سمجھ سکتے ہیں

    ‎اب ہم صحابہ کا مقام احادیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کی روشنی میں دیکھ لیتے ہیں
    ‎( حدیث نمبر 1 ) حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے :’’إِنَّ اللّٰہَ نَظَرَ فِیْ قُلُوْبِ الْعِبَادِ فَوَجَدَ قَلْبَ مُحَمَّدٍ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ خَیْرَ قُلُوْبِ الْعِبَادِ، فَاصْطَفَاہُ لِنَفْسِہٖ، فَابْتَعَثَہٗ بِرِسَالَتِہٖ ، ثُمَّ نَظَرَ فِیْ قُلُوْبِ الْعِبَادِ بَعْدَ قَلْبِ مُحَمَّدٍ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَوَجَدَ قُلُوْبَ أَصْحَابِہٖ خَیْرَقُلُوْبِ الْعِبَادِ، فَجَعَلَہُمْ وُزَرَائَ نَبِیِّہٖ یُقَاتِلُوْنَ عَلٰی دِیْنِہٖ ، فَمَا رَأٰی الْمُسْلِمُوْنَ حَسَنًا فَہُوَ عِنْدَ اللّٰہِ حَسَنٌ وَمَا رَأَوْا سَیِّئًا فَہُوَ عِنْدَ اللّٰہِ سَيِّئٌ۔‘‘ (مسند احمد،۳۴۶۸)
    ‎ترجمہ ’’اللہ تعالیٰ نے اپنے سب بندوں کے دلوں پر نظر ڈالی تو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے قلب کو ان سب قلوب میں بہتر پایا، ان کو اپنی رسالت کے لیے مقرر کردیا، پھر قلب محمد کے بعد دوسرے قلوب پر نظر فرمائی تو اصحابِ محمد کے قلوب کو دوسرے سب بندوں کے قلوب سے بہتر پایا، ان کو اپنے نبی (صلی اللہ علیہ وسلم) کی صحبت اور دین کی نصرت کے لیے پسند کرلیا
    ‎( حدیث نمبر 2 ) اَللّٰہَ اَللّٰہَ فِيْ أَصْحَابِيْ ، لَاتَتَّخِذُوْہُمْ غَرَضًا مِنْ بَعْدِيْ، فَمَنْ أَحَبَّہُمْ فَبِحُبِّيْ أَحَبَّہُمْ وَمَنْ أَبْغَضَہُمْ فَبِبُغْضِيْ أَبْغَضَہُمْ ، وَمَنْ أٰذَاہُمْ فَقَدْ أٰذَانِيْ وَمَنْ أٰذَانِيْ فَقَدْ أٰذَی اللّٰہَ، وَمَنْ أٰذَی اللّٰہَ فَیُوْشِکُ أَنْ یَّأْخُذَہٗ۔‘‘(ترمذی، ج:۲، ص:۲۲۵) ترجمہ ’’اللہ سے ڈرو، اللہ سے ڈرو میرے صحابہؓ کے معاملے میں، میرے بعد ان کو (طعن وتشنیع کا) نشانہ نہ بناؤ، کیونکہ جس شخص نے ان سے محبت کی تو میری محبت کے ساتھ ان سے محبت کی، اور جس نے ان سے بغض رکھا تو میرے بغض کے ساتھ ان سے بغض رکھا، اور جس نے ان کو ایذاء پہنچائی اس نے مجھے ایذاء پہنچائی، اور جس نے مجھے ایذاء دی اس نے اللہ تعالیٰ کو ایذاء پہنچائی، اور جو اللہ کو ایذاء پہنچانا چاہتا ہے تو قریب ہے کہ اللہ اس کو عذاب میں پکڑلے گا۔ ان ایات قرآنیہ اور احادیث نبویؐ کی روشنی میں تمام صحابہ کا مقام واضح ہو گیا کہ انکا مقام اللہ اور انکے رسول کے ہاں کتنا بلند و بالا ہے۔۔۔اللہ تعالی تمام مسلمانوں کو انکے نقش قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے، آمین

    Chaudhry Yasif Nazir

    Chaudhry Yasif Nazir is digital media journalist, Columnist and Writer who writes for baaghitv.com . He raises social and political issues through his articles, for more info visit his twitter account

    Follow @IamYasif

  • آج کا نوجوان اور اسلامی تعلیم  تحریر :  ندرت حامد

    آج کا نوجوان اور اسلامی تعلیم تحریر : ندرت حامد

    تعلیم کے معنی شعور اور آگاہی کے ہیں اور اسی شعور اور آگاہی کو اگلی نسلوں میں منتقل کرنے کا نام ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ ابن خلدون نے تعلیم کو انسان کے فطری غذ ا قرار دیا ۔جس طرح جسم کو تندرست و توانا رکھنے کے لیے غذا بہت ضروری ہے اسی طرح دماغ کو ترو تازہ رکھنے کے لئے تعلیم بہت ضروری ہے ۔ لیکن وہ تعلیم جو انسان کو تروتازہ رکھے بحیثیت مسلمان ہمارے لئے اسلامی تعلیمات لازم و ملزوم ہے ۔ اسلامی تعلیم سے معاشرے میں برائیاں ختم ہوتی ہیں اور معاشرہ ایک طرح کے توازن میں رہتا ہے ۔ امام غزالی نے اسلامی تعلیم کی تعریف کچھ یوں کی ہے نفس انسانی کو مہلت عادت اور بری خصلتوں سے بچانا اور اسے عمدہ اخلاق سے مزین کر کے سعادت کی راہ میں ڈال دینے کا نام اس تعلیم ہے ۔پوری دنیا اور عالمی اسلام میں تعلیم کو بہت اہمیت حاصل ہے ۔ تعلیم محض معلومات کی ترسیل کا نام نہیں ۔بلکہ معلومات حقائق اور افکار و نظریات کے ساتھ ساتھ تہذیب اخلاقیات اور نفس کی تربیت کرنا بھی شامل ہے۔
    مگر آج چند کتب کو رٹنے کا نام تعلیم ہے۔ موجودہ دور میں تہذیب و اخلاقیات صفر ہیں۔ تعلیم کی آڑ میں فحاشی پھیلائی جارہی ہے تعلیمی اداروں میں یونیفارم کے نام پر عریانی اور فنکشنز کے نام پر اچھی بھلی معصوم عزت دار لڑکیوں کو پرفارمرز یعنی ٹھمکے لگانے والی طوائفیں بنایا جا رہا ہے۔
    گلا تو گھونٹ دیا اہل مدرسہ نے تیرا
    کہاں سے آئے گی صدا لا الہ الا اللہ
    آج کی نوجوان نسل اسلامی تعلیم سے کوسوں دور ہے مغرب کا ایجنڈا ان کا ایجنڈا ہے تھوڑی سی محنت کے بعد موساد نے ہمارے نوجوانوں کو اس قدر زلیل ورسوا کیا جس کی انتہا نہیں۔ ماں باپ کو بس نوکریاں چاہیے اور بچوں کو وقت گزاری کیلئے مشاغل ہر بندہ اپنی اساس بھول چکا ہے ۔ فیشن کے پیچھے لاکھوں لگا دینے والےپھٹے جوتوں سے ملک فتح کرنے والوں کے سکون سے نا آشنا ہیں ۔ قارئین ہمارا فرض ہے اپنی نسلوں کو سدھارنا ہے اور یہ اتنا ہی ضروری ہے جتنا کہ سانس لینا۔
    @N_Hkhan

  • حقیقی اسلام اور غیر مسلم کے ذہنی خاکوں کی تعمیر کی وجوہات۔ تحریر بشارت حسین

    دنیا میں اسلام وہ واحد مذہب ہے جس کی تعلیمات میں سراسر ہدایت ، انسان اور انسانیت کا تحفظ حتی کہ جانوروں کے حقوق کا بھی خیال رکھا گیا ہے۔
    دنیا کی نوے سے پچانوے فیصد لوگوں کے ذہن میں اسلام کی وہ تصویر وہ نقشہ موجود ہے جو کہ وہ اپنے قریب رہنے والے مسلمانوں کے طور طریقوں کو دیکھ کر بنایا ہے۔
    حالانکہ اسلام کسی شخص کے ذاتی کردار کا نام نہیں اور نہ مسلمانوں کی ابادی، انکے طور طریقے اور رسم و رواج کا نام اسلام ہے۔
    اسلام تو اللہ کا عطا کردہ نظام زندگی ہے جو کہ اللہ نے اپنے رسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم پہ نازل کیا اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے قول و فعل سے اس کو دنیا میں متعارف کروایا۔
    اسلام انسان اور انسانیت کی بقاء کا دوسرا نام ہے۔ اسلامی تعلیمات انسانیت قدر عزت اور تحفظ کو یقینی بنانے پہ زور دیتی ہیں۔ اسلام میں کسی چھوٹے بڑے ، امیر غریب ، کالے اور سفید کا کوئی تصور نہیں اور نہ کسی کالے کو سفید پر ، امیر کو غریب پر عجمی کو عربی پر اور نہ کسی بڑے کو چھوٹے پر کوئی فوقیت و برتری حاصل ہے۔
    اسلام میں سب مسلمان ایک جیسے ہیں سب کے حقوق برابر ہیں کسی کیلئے کوئی امتیازی قوانین کا کوئی تصور اور گنجائش نہیں۔
    اسلام نہ تو کسی دوسرے مذہب کا دشمن ہے اور کسی بھی مذہب کے لوگوں کو ان کی مذہبی عبادات سے روکتا ہے۔ تاریخ ایسی مثالوں سے بھری پڑی ہے۔ مسلمانوں جب بھی کسی ملک و قوم پہ حکمرانی کی تو وہاں دوسرے مذاہب کے لوگوں کا پورا پورا خیال رکھا گیا وہاں انسانیت کو عزت دی گئی بغیر کسی امتیازی فرق کے مسلم اور غیر مسلم کو ایک نظام کے تابع کیا گیا ظالم اور مظلوم کو ہر نسلی و مذہبی امتیاز سے بالا تر ہو کر انصاف فراہم کیا گیا۔
    اسلام صرف ایک خدا کی عبادت کا حکم دیتا ہے جس نے کل کائنات کو پیدا کی جس نے تمام مخلوقات کو انکے رزق کے بندوبست کے ساتھ پیدا کیا۔ اسلام میں اس کی ہی عبادت کی جاتی ہے۔
    یعنی اسلام میں داخل ہونے کیلئے اللہ کی وحدانیت اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ کا رسول ماننا ضروری ہے جس کا اقرار ان الفاظ یعنی کلمہ طیبہ کا پڑھ کر کیا جاتا ہے۔
    لا إله الا الله محمد رسول الله.
    جس کے معنی ہیں
    اللہ۔کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں۔
    جو شخص اسلام کو قبول کر لیتا ہے اس کو مسلمان کہا جاتا ہے۔ ایک مسلمان کی زندگی گزارنے کا طریقہ اللہ نے اپنی کتاب قرآن کریم اور اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کے ذریعے وضع فرما دیا۔
    دنیا میں سب مزہبوں سے زیادہ فوقیت اسلام کو اپنی تعلیمات کی وجہ سے حاصل ہے۔
    اسلام کے اندر ہر انسان کی عزت نفس وقار اور تحفظ کو یقینی بنایا گیا۔ جانوروں کو حقوق دیے گئے ایک دوسرے کی مدد کا درس دیا گیا۔ اسلام میں کسی کو کسی سے زیادتی یا ظلم کرنے کی کوئی گنجائش نہیں اب وہ چاہے مسلمان مسلمان پہ کرے یا مسلمان کسی دوسرے انسان پہ کرے یا جانور پہ کرے۔

    اسلام کے بارے میں دنیا کے غلط تاثرات
    دنیا کے تقریبا ہر ملک میں مسلمان بڑی تعداد میں آباد ہیں۔ ہر ملک ہر جگہ کے اپنے رسم و رواج ہیں۔ جب لوگ جہاں مسلمانوں کو دیکھتے ہیں انکے رسم و رواج ، رہن سہن انکے بودوباش تو جو خاکہ انکے ذہن میں بنتا ہے وہی وہ اسلام کے متعلق قائم کر لیتے ہیں کہ یہی اسلام اور اسکی تعلیمات ہیں۔
    حالانکہ اسلام کسی قوم کے رس و رواج یا ذاتی زندگی اور سوچ کا نام نہیں۔
    اگر وہاں کے مسلمانوں کا رہن سہن اچھا ہے کردار واقعی اسلام کے اصولوں کے عین مطابق ہے تو وہاں کے رہنے والے لوگ ان سے متاثر ہوتے ہیں سراہتے ہیں اور اسلام کے بارے میں ایک اچھی سوچ رکھتے ہیں اور عموما یہ دیکھا جاتا ہے کہ وہاں کے لوگ اپنے مذاہب ترک کر کے اسلام کو دل سے قبول کر لیتے ہیں۔
    اب جہاں مسلمانوں کے قول و فعل میں تضاد ہو انکی زندگی اسلامی تعلیمات کے منافی ہوں وہاں کے لوگ اپنے ذہن میں اس کو اسلام مانتے ہیں اور اسلام سے متنفر ہو جاتے ہیں۔
    حالانکہ یہ انکا ذاتی کردار ہے۔ اسلام جھوٹ ، چوری ، دھوکہ فراڈ ، فتنہ اور فسادات سے منع کرتا ہے۔
    اسلام ہر اس کام سے منع کرتا ہے جس سے کسی دوسرے انسان یا حیوان کو تکلیف پہنچے اب اگر کوئی شخص اس طرح کے کاموں میں ملوث ہے تو یہ اسلام نہیں بلکہ اس کا ذاتی کردار ہے۔
    آئیے ہم اسلام کو بدنام کرنے کی بجائے وہ کام کریں جو کہ بحیثیت مسلمان ہمیں کرنے چاہئیں تاکہ غیرمسلم اسلام کے بارے میں کوئی غلط تاثر نہ لیں انکے سامنے اسلام کا اصل منظر پیش کرنے میں اپنا کردار ادا کریں۔
    اسلام کی اصل تبلیغ ایک مسلمان کی زندگی اس کا قول اور فعل ہے۔

    https://twitter.com/Live_with_honor?s=09

  • ہر حال میں خیر ہی خیر صرف مومن کا حصہ ہے  تحریر: ملک منیب محمود

    ہر حال میں خیر ہی خیر صرف مومن کا حصہ ہے تحریر: ملک منیب محمود

    بیماری دکھ مصیبت نقصان پریشانی میں سب ہی مبتلا ہوتے ہیں کوئی ایک شخص بھی اس زمین کے سینے پر ایسا نہیں ہے جو یہ دعوی کر سکے کہ میں مصائب و آلام سے یقینی طور پر محفوظ ہوں گردش ایام کا وارسا پر ہوتا ہے آج اگر آپ کا کاروبار ٹھپ ہوگیا ہے تو کل کسی اور کا نمبر ہے آج اگر آپ کو زخم لگا ہے تو آپ کیوں بھول رہے ہیں کل کوئی اور زخم کھا چکا ہے اور آنے والا کل نہ معلوم کس کے لیے اور کیا لانے والا ہے مصائب و آلام پریشانیاں اور الجھنوں سے سبھی کو پیش آتی ہیں غریب کو بھی اور امیر کو بھی بادشاہ وقت کو بھی اور فقیر کو بھی مومن اور اس والے کو بھی خدا کے منکر اور فاسق کو بھی گردش لیل و نہار کی چکی میں آج ایک پکچر آیا ہے تو کل کسی اور کی باری ہے۔
    "یہ زمانے کے نشیب و فراز ہیں جنہیں ہم لوگوں کے درمیان گردش دیتے رہتے ہیں” (آل عمران 3:140)
    آپ کا شدید مالی نقصان ہو گیا ہے اس کے معاشی ذرائع مسدود ہو گیے ہیں وہ بستر مرگ پر لیٹا صحت کے لئے ترس رہا ہے۔ یہ بیوی بچوں کے مسائل سے پریشان ہیں۔وہ ایک نہ کہانی مصیبت میں مبتلا ہے۔اس پر ایک عجیب ہی آفت ٹوٹ پڑتی ہے۔انہیں مناظر کا نام دنیوی زندگی ہے پھر یہ آفتیں اور مصیبتیں خدا کے باغیوں پر بھی آتی اور خدا کے پرستاروں پر بھی اور قدرتی بات ہے کہ آفات و آلام سے سب ہی متاثر ہوتے ہیں خدا پرست بھی متاثر ہوتے ہیں اور خدا بیزار بھی دکھ کا احساس سب کو ہوتا ہے درد کی ٹیسیں سب کے سینے میں اٹھتی ہی تکلیف میں ان کی زبان سے نکلتی ہے۔

    آپ آنے والی مصیبت سے پریشان نے مسکراتا چہرہ مغموم میں دل غمزدہ ہے طبیعت تھکی ہوئی ہے اور آپ کے شب و روز نشاط و ولولہ کی رونق سے خالی ہیں یہ ایک فطری بات ہے آپ کو ہرگز ملامت نہیں کی جا سکتی آپ کو ملامت کرنے والا انسان کی فطرت سے ناواقفی چوٹ لگے اور تکلیف نہ ہو زخم پہنچے اور دکھ نہ ہو خوف ہو اور دل نہ لرزے کیسے ممکن ہے؟

    البتہ دو باتیں ضرور پیش نظر رکھے بلکہ ان کو جذب کیجئے آپ دل میں سکون کی ٹھنڈک محسوس کریں گے اور غم غلط ہو گا اور آپ کو اپنی مصیبت ہلکی معلوم ہونے لگے گی پہلی بات تو یہ کہ مصیبت تکلیف الجھن پریشانی وقت اور ہنگامی چیزیں ہیں ان کی مدت بہت تھوڑی ہوتی ہے آپ ہی سوچئے اگر آج آپ پر کوئی مصیبت آئی ہے تو آپ عمر عزیز کے کتنے سال آرام وراحت میں گزار چکے ہیں چاند سال کے راحت و آسائش کے مقابلے میں چند گھنٹے اور چند دنوں کی تکلیف و مصیبت کی کیا اہمیت صبح و شام کی چند گردشوں میں دکھ کے یہ دن بھی گزر جائیں گے اور پھر ذہن پر زور دے کر ہی یاد کریں گے تو یاد آئے گا کہ ہم کبھی اس مصیبت سے دوچار ہوئے تھے اور پھر آپ کو خدا کے کلام کا یہ فقرہ بھی یاد ہو جائے گا کہ ہر دکھ کے ساتھ راحت ہے اور ہر تنگی کے ساتھ خوشحالی ہے اور خدا نے بندے کے دل میں یہ حقیقت جمانے کے لیے یہ فقرہ دو بار دہرایا ہے
    "یہ حقیقت ہے کہ تنگی کے ساتھ فراخی بھی ہے بے شک تنگی کے ساتھ فراخی ہے۔”( الم نشرح)
    اور یہ بھی اطمینان بخش عقیقۃ ہے کہ خدا نے ہر چیز کی مدت اور مقدار دے کر دیے کسی کے بس میں نہیں جو اس سے کمی بیشی کر سکے مصیبتوں اپنا وقت پورا کرکے ہی دور ہوگی اور ضرور ہوگی ۔

    طول غم حیات سے گھبرا نہ اے جگر
    ایسی بھی کوئی رات ہے جس کی سحر نہ ہو۔

    Written by” Malik Muneeb mehmood”

  • چار گناہ اور چار گناہ گار.  تحریر: احسان الحق

    چار گناہ اور چار گناہ گار. تحریر: احسان الحق

    اللہ تعالیٰ نے اسلام میں وسعت، آسانی اور نرمی رکھی ہے. یہی وجہ ہے کہ اسلام بہترین اور آسان ترین دین اور مذہب ہے. نیکی کی نیت کرنے پر ثواب مل جاتا ہے جبکہ گناہ کی نیت کرنے پر گناہ نہیں لکھا جاتا. یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے بہت بڑی رحمت اور دین اسلام میں وسعت اور حسن کا ثبوت ہے.
    یہاں چار مختلف قسم کے گناہ یا گناہ گاروں کے متعلق بات کرتے ہیں.

    گناہ گار کی پہلی قسم ہے کہ بندہ گناہ کرنے کا پکا ارادہ کر لے کہ میں کل یا فلاں دن کو یہ کام کروں گا مگر وہ گناہ کرنا بھول جائے تو ایسے گناہ پر یا ایسے گناہگار پر کوئی گرفت نہ ہوگی. گناہ کرنے کے ارادے پر کوئی گناہ نہیں. مگر اس کے برعکس اگر بندہ نیکی کی نیت کرے اور بھول جائے تو اس کو ثواب ملے گا.

    ایسا گناہ گار جو گناہ کرنے کا مصمم ارادہ کر لے مگر کسی مجبوری، کمزوری، ضعف یا معذوری کی وجہ سے گناہ نہ کر پائے تو اس کو گناہ ہو گا. اس بندے کے اعمال نامے میں اس جرم کا گناہ لکھ دیا جائے گا. نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد عالی شان ہے کہ "جب دو مسلمان تلوار لیکر ایک دوسرے کو قتل کرنے کی نیت سے نکلتے ہیں تو قاتل اور مقتول دونوں جہنمی ہیں” اصحابِ رسولﷺ نے عرض کیا کہ یارسولﷺ قاتل تو جہنم میں جائے مگر مقتول کیوں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ مقتول اپنی کمزوری کی وجہ سے اس کو قتل نہیں کر پایا وگرنہ یہ بھی دوسرے کو قتل کرنے کے ارادے سے آیا تھا.

    اس حوالے سے تیسرا گناہ گار وہ ہے جو گناہ کرنے کا ارادہ کر لے مگر عین وقت پر اخلاص دل سے اور اللہ تعالیٰ کے خوف سے اس گناہ سے دستبردار ہو جائے تو ایسے بندے کے لئے اللہ تعالیٰ کی طرف سے اجر عظیم ہے. جیسا کہ صحیح بخاری میں بنی اسرائیل کا مشہور واقعہ ہے جس میں ایک غار کا دروازہ بہت بڑی چٹان سے بند ہو جاتا ہے اور تین لوگ اندر محصور ہو جاتے ہیں. ان تین محصورین میں سے ایک ایسا بندہ بھی تھا جو 120 دینار کے بدلے بدفعلی والا کام عین وقت پر اللہ تعالیٰ کے خوف سے ترک کر دیتا ہے. وہ اپنے اس نیکی والے کام کا واسطہ دے کر اللہ تعالیٰ سے دعا مانگتا ہے تو غار کے دروازے سے پتھر ہٹ جاتا ہے. اسی طرح مسند احمد میں کفل نامی بندے کا واقعہ بھی تفصیل سے موجود ہے جس کے دروازے پر اللہ تعالیٰ لکھ دیتے ہیں کہ آج رات کفل کے سارے گناہ معاف کر دیئے گئے ہیں. 60 یا 70 دینار کے بدلے کفل کسی مجبور عورت کے ساتھ بدفعلی کرنے سے چند لمحے پہلے اللہ تعالیٰ کے خوف کی وجہ سے برائی سے دستبردار ہو جاتے ہیں اور اسی رات کفل کا انتقال ہو جاتا ہے.

    چوتھا گناہ گار ایسا گناہ گار ہے جو اپنے ارادے کے مطابق گناہ کر گزرتا ہے تو اس کے نامہ اعمال میں ایک گناہ لکھ دیا جاتا ہے. یہ بھی اللہ تعالیٰ کی خاص رحمت ہے کہ ایک گناہ کے بدلے ایک گناہ جبکہ ایک نیکی کے بدلے 10 نیکیاں ملتی ہیں. خلوص نیت کے مطابق ان نیکیوں میں 70 گنا سے 700 گنا تک اضافہ ہو سکتا ہے یا اس سے بھی زیادہ جتنا اللہ تعالیٰ چاہیں.

    @mian_ihsaan

  • ذکر الہٰی  تحریر: محمد بلال انجم کمبوہ

    ذکر الہٰی تحریر: محمد بلال انجم کمبوہ

    ذکر کے معنی یاد کرنا کے ہوتے ہیں اور ذکر الہٰی سے مراد رب کائنات اللہ تعالیٰ کو یاد کرنا ہیں۔
    ذکر الہٰی سب عبادتوں کا مجموعہ ہے اور ذکر الہٰی میں دلوں کا سکون ہے۔

    *قرآن مجید میں ارشاد:*

    *”آگاہ ہو جاؤ کہ اللہ کے ذکر میں دلوں کا اطمینان ہے۔”* (سورت الرعد 28)

    آج کل کے دور میں ہر کوئی بے سکونی کا شکار ہے، ٹینشن کا شکار تو اس کا واحد حل خدا تعالیٰ کا ذکر ہے۔

    *آقائے دو جہاں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:*

    *”اللہ تعالیٰ کا ذکر دلوں کی شفاء ہے.”*

    انسان دنیاوی جتنی بھی باتیں کرے وہ خدا کے ذکر سے اچھی نہیں ہوتیں، انسان دنیاوی جتنی بھی محافل میں شرکت کرے وہ ذکر الہٰی کی محفل سے افضل نہیں ہوتیں۔ ہمارا دنیا میں آنے کا مقصد خدا کو یاد کرنا تھا اور وہ ہم بھول گئے ہیں۔
    ذکر الہٰی کی بہت سی قسمیں ہیں،جیسا کہ نماز، قرآن مجید کی تلاوت، تسبیحات وغیرہ۔
    جملہ امراض نفسانی و روحانی سے شفا ذکر الہٰی ہے۔
    انسان کی ہلاکت کے لیے بہت سی بلائیں منہ کھولے کھڑی ہیں، اللہ تعالیٰ کا ذکر اس کی روک ہے۔
    اللہ کا ذکر سب بیماریوں کی شفاء اور خدا تعالیٰ کے ساتھ دوستی اور محبت کا ذریعہ ہے۔
    آج ہر گھر میں پریشانی، لڑائی، جھگڑے، فسادات ہیں اس کی وجہ سے خدائے واحد کے پیغام سے دوری۔۔۔
    اس کی وجہ ذکر الہٰی سے دوری۔۔۔
    ہم لوگ دکانوں، سینماؤں، مارکیٹوں میں گھنٹوں صرف کر دیتے ہیں مگر خدا کو یاد نہیں کرتے۔۔۔
    ہم یہ تو راگ الاپتے ہیں کہ کاروبار میں برکت نہیں، گھر میں پریشانی ہے، رات کو نیند نہیں آتی، ارے بھائی یہ سوچ تونے خدا کو بھی یاد کیا ہے، جب ہم اللہ تعالیٰ کو یاد کریں گے تو وہ خدا ہماری پریشانیوں کو دور کر دے گا اور ہمارے لیے بہتری کے فیصلے فرما دے گا۔۔۔
    انسان جس سے محبت کرتا ہے اسے دن میں کئی مرتبہ یاد کرتا ہے اور خدا سے محبت کا تقاضا ہے کہ اس کا ذکر کیا جائے۔۔۔۔
    ہم اس نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی امت ہیں جو ہر وقت خدا کی یاد میں مستغرق رہتے تھے اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین بھی ہر وقت خدا کی یاد میں مصروف رہتے تھے۔ وہ اپنے کام بھی کرتے اور خدا کو یاد بھی کرتے اور ہم لوگ دنیاوی کاموں میں مصروف ہوچکے ہیں اور خدا کو بھول چکے ہیں۔۔
    دنیا کی ہر چیز اللہ کا ذکر کرتی ہے، چرند، پرند، درند حتی کہ مٹی کے ذرات بھی خدا کا ذکر کرتے ہیں اور ہماری زبانیں غیبت، چغلی کرنے میں مشغول ہوتی ہیں اسی وجہ سے پریشانیوں کا شکار ہیں۔
    اے مسلمان!!
    اے میری جان!!
    اپنے دنیاوی کاموں کو کرنے کے ساتھ ساتھ خدا کو بھی یاد رکھ یہ تیرے لیے اصل سرمایہ ہے جو کہ تیری ہمیشہ کی زندگی کے لیے ضروری ہے، تو خدا کو یاد کر کے تو دیکھ اس کے دنیاوی فوائد بھی اور آخرت میں بھی۔۔۔
    خدا کو کسی مطلب کے لیے یاد نہ کر خدا کو صرف اس کی رضا کے لیے یاد کر۔۔۔۔۔

    *رہوں ہر وقت تیری یاد میں مستغرق*
    *میرے لب پہ ہر پل یہی دعا ہے*
    *(بلال انجم)*

  • مقدسہ مقامات  کی زیارت  مسجد البیعہ تحریر: محمد آصف شفیق

    مقدسہ مقامات کی زیارت مسجد البیعہ تحریر: محمد آصف شفیق

    مستقل جدہ فروری 2020 میں شفٹ ہوا ، آتے ہیں کورونا لاک ڈاون شروع ہوگیا ، بہت شدید لاک ڈاون میں ہی رمضان المبارک بھی آیا اور زندگی میں پہلی بار نماز تراویح گھر میں ادا کی ایک کمرے کے ساتھی ایک میں اور ایک پڑوسی ٹوٹل تین افراد ہی جاننے والے تھے بلڈنگ میں تو تینوں مل کر نمازیں اور تراویح گھر میں ادا کرتے رہے اور نماز عید بھی گھر میں ادا کی ، ہر اذان میں کہا جاتا کہ نماز گھروں میں ادا کریں وقت پر اذان ہوتی مگر کوئی یارا نہ تھا گھر میں نماز ادا کرنے کے علاوہ فیملی بھی پاکستان میں تھی شہر بھی نیا اور اوپر سے لاک ڈاون نہ کوئی جاننے والا نہ کوئی بات کرنے والا ایک عجیب نفسیاتی مریضوں جیسی کیفینت بن گئی تھی آفس سے گھر اور پھر گھر آکر بندہو جانا کئی دن تو 24 گھنٹے کے لاک ڈاون میں گزرے ، اسی دوران ایک شہر سے دوسرے شہر جانے پر بھی پابندی لگا دی گئی ، کچھ عرصہ بعد نرمی شروع ہوئی تو ایک شہر سے دوسرے شہر جایا جا سکتا تھا مگر حرم میں جانے کی اجازت نہیں تھی جدہ سے مکہ جایا جاسکتا تھا
    دوستوں کے ساتھ مکہ جانے کا پروگرام بن گیا اس بار ہماری منزل منیٰ میں جمرہ عقبہ کے قریب موجود "مسجد البیعہ "تھی سیکیورٹی کی وجہ سے تقریباً تمام راستے بند تھے گاڑی تھوڑی دور پارک کی اور سکیورٹی پر معمور افراد سے مسجد تک پیدل جانے اور جلد واپس آجانے کے وعدے پر اجازت لی جو کچھ پس و پیش کے بعد مل گئی اور ساتھ ماسک لگا کر رکھنے اور دوستوں کے درمیان سماجی فاصلہ برکرار رکھنے کی یاددہانی بھی کروادی گئی جو سب نے سر ہلاکر قبول کرلی
    مسجد البیعہ جمرہ عقبہ (بڑے شیطان ) سے صرف تین سو میٹر کی دوری پر ہے چار دیواری موجود ہے مگر بغیر چھت کے مسجد ہے اور سائیڈ کی دیواروں میں کچھ قدیم تحریریں جو کہ پتھروں پر لکھی ہیں موجود ہیں
    مسجد کے ساتھ ساتھ درجنوں ٹوٹیاں پانی پینے کیلئے لگی ہیں چونکہ حج کے دوران بہت رش ہوتا ہے اس لئے حاجیوں کی سہولت کیلئے پانی کا مستقل انتظام کیا گیا ہے لاک ڈاون کی وجہ سے آج ہمارے علاوہ یہاں کوئی بندہ بشر موجود نہیں تھا مگر جب پانی چیک کیا تو الحمد اللہ پانی آرہا تھا مگر شدید گرم اسی گرم پانی سے وضو کیا اور بسم اللہ پڑھ کر مسجد میں داخل ہوئے ، مسلمانوں نے مسجد البیعہ کے محراب کو بھی نہیں بخشا اپنے مزاج کے عین مطابق کچھ نہ کچھ تحریر کر گئے جو کہ بالکل بھی مناسب بات نہیں
    جب نبی کریم ﷺ کو دین اسلام کی دعوت اعلانیہ پیش کرنے کا حکم آیا تو نبی کریم ﷺ نے حج کیلئے آنے والے افراد اورقبائلی سرداروں کو اپنی دعوت پیش کرنی شروع کی ، بعثت کے دسویں سال آپ ﷺکی ملاقات مدینہ منورہ سے آئے ہوئے 6افراد سے جمرہ عقبہ کے قریب جبل ثبیر کی گھاٹی میں ہوئی اور انہوں نے آپ ﷺ کی دعوت پر لبیک کہا اور واپس مدینہ منورہ پہنچ کر اوس اور خزرج کے قبائل تک دین حق کی دعوت پہنچائی ، نبوت کے 12 ویں سال 12 افراد حج پر آئے اور آپ ﷺ سے جمرہ عقبہ کے قریب بالکل اسی مقام پر ملاقات کی اور بیعت کی اور یہ بیعت ” بیعت عقبہ اولی ٰ ” کہلاتی ہے اسی جگہ پر یہ مسجد موجود سے جسے مسجد البیعہ کہا جاتا ہے
    نبوت کے 13 ویں سال مدینہ منورہ سے 75 خواتین اور مرد آئے انہوں نے ہر حال میں نبی کریم ﷺ کا ساتھ دینے اچھائی کی تلقین اور برائی سے روکنے پر آپ ﷺ کی بیعت کی یہ ہی وہ جگہ ہے جہاں سال ہا سال سے جنگ و جدل میں مصروف دونوں قبائل اوس اور خزرج نے اپنی صدیوں پرانی دشمنی کو خیر باد کہا اور صلح اور امن کا معاہدہ کیا اس معاہدے میں اوس و خزرج کے علاوہ مدینہ میں بسنے والے یہود بھی شامل تھے یہ دوسری بیعت تھی ، دوسری بیعت ہی اصل میں اس عظیم الشان اسلامی فلاحی ریاست کے قیام کا پیش خیمہ ثابت ہے اس بیعت کے کچھ عرصہ بعد نبی کریم ﷺ نے مدینہ منورہ ہجرت فرمائی اور پہنچتے ہی سب سے پہلے جو کام کیا گیا وہ مسجد قباء کی تعمیر تھی جس کا ذکر گزشتہ تحریر میں تفصیل سے آچکا ہے
    ہم اللہ رب العالمین سے دعا کرتے ہیں کہ ہمیں نبی کریم ﷺ کی سب سنتوں پر عمل کرنے والا سچا مسلمان بنا دے ، آمین یا رب العالمین

    جدہ – سعودیہ
    @mmasief