Baaghi TV

Category: مذہب

  • اسلام اور سیاست  تحریر: رانا محمد جنید

    اسلام اور سیاست تحریر: رانا محمد جنید

    یہ ایک بہت اہم سوال ہے اور پچھلی بہت سی دہائیوں سے چلتا آ رہا ہے،
    کیا اسلام سیاست کی اجازت دیتا ہے،کیا اسلام میں سیاست کا کوئی کردار ہے۔؟
    یقیناً یہ سوال آپ بھی بہت دفعہ سن چکے ہوں گے،
    اور یہ کے جوابات بھی بہت الگ الگ قسم کے ہوتے ہیں
    کچھ لوگ کہتے ہیں اسلام کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں۔
    اسلام صرف اور صرف عبادات کا ہی نام ہے۔
    پر کیا یہ حقیقت ہے اسلام اور سیاست جدا جدا ہیں۔۔۔۔؟
    اور یہ بھی سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ سوال پیدا کب ہوا۔
    کیوں لوگوں کو ایسا بولنا پڑا کے اسلام اور سیاست جدا جدا ہیں
    اگر ہزاروں سال پیچھے جا کے دیکھا جائے اور اسلام کی تاریخ کے اوراق پلٹے جائیں تو ہمیں یہ پڑھنے کو ملے گا اللہ پاک جب بنی اسرائیل کی طرف کوئی نبی بنا کے بھیجتا تھا تو اسے نبی کے ساتھ ساتھ حاکم بھی بنا کے بھیجا جاتا تھا
    جب ایک نبی وفات پا جاتا تھا تو دوسرا نبی اس کی جگہ پر آ جایا کرتا تھا
    نبی کریم خاتم النبیین محمدﷺ نے ارشاد مبارک فرمائے:

    ‏بنی اسرائیل کی سیاست خود ان کے انبیاء کرام کیا کرتے تھے۔ جب کسی نبی کی وفات ہو جاتی تھی تو اللہ تعالیٰ کسی دوسرے نبی کو ان کا خلیفہ بنا دیتا تھا لیکن میرے بعد کوئی نبی نہیں
    (صحیح بخاری باب الانبیاء ذکر بنی اسرائیل حدیث 3455)

    نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی نبی نہیں آئیے گا اس لیے صحابہ کرام امت کے رہنمائی کے لیے خلیفہ بن کے آئیے
    اور خلیفہ وہ ہی بنا کرتا تھا جو جتنا زیادہ متقی اور پرہیز گار ہوتا تھا
    خلافت کے بعد ملوکیت شروع ہوئی جو کے اسلام کے ساتھ ساتھ چلتی آئی
    اور پھر اس کے بعد بادشاہت کا سلسلہ شروع ہوا اور مسلمان بہت سارے حصوں میں تقسیم ہو گئے
    اس کی وجہ دین دشمنوں کو دین اسلام کا ڈر تھا کے اگر مسلمان متحد رہے اور اسلام کی رسی کو مضبوطی سے پکڑے رکھا تو ان کو روکنا ممکن نہیں۔
    اس لیے یہود و نصارٰی نے مسلمانوں کو آپس کے اختلاف میں ڈال کے سرحدوں میں تقسیم کر دیا
    اور مسلمان حکمرانوں اور نوجوان نسل میں یہ بات زہر کی طرح شامل کر دی کی اسلام اور سیاست جدا ہیں۔
    جب تک کوئی پرہیز گار شخص حاکم نہیں بنے کا تب تک دین دشمنوں کو اسلام کے کوئی خطرہ ہی نہیں
    اور یہ ہی وجہ ہے کہ بڑے بڑے علماء اکرام کو حکومتی معاملات سے الگ کر دیا گیا
    چاہے وہ بادشاہت نا نظام ہو یا جمہوری نظام

    علامہ محمد اقبال نے کیا خود کہا تھا

    جلال پادشاہی ہو کہ جمہوری تماشا ہو
    جدا ہو دیں سیاست سے تو رہ جاتی ہے چنگیزی

    اگر ہم اسلام اور سیاست کو ایک دوسرے سے جدا کریں گے تو ہمارے پاس انگریزوں کا ظالمانہ نظام جمہوریت کی شکل میں ملے گا جو مسلمانوں کو ایک دوسرے سے جدا کرنے کا سب سے بڑا ذریعہ ہے
    آج کا ہر مسلمان حکمران اسلام کی خدمت کو چھوڑ کر اپنے ملک اور اپنی سرحد کی فکر میں ہے، اور اپنے ہی مسلمان بھائیوں کے گلے کاٹنے میں لگے ہوئے ہیں
    اگر مسلمان حاکم مل بیٹھ کر اپنے معمولات کو اسلام کی رو سے حل کریں کی کوشش کریں تو ممکن ہے مسلمان ایک بار پھر سے متحد ہو سکتے ہیں اور اپنی کھوئی ہوئی ساکھ واپس پا سکتے ہیں
    پر اس کے لیے سب کو اسلام کے بارے سمجھنے اور جاننے کی کوشش کرنا لازم ہے
    ایران کے سپریم لیڈر امام خمینی صاحب نے کیا خوب کہا ہے

    ”ہمارا دین عین سیاست اور ہماری سیاست عین دین ہے“

    ہمارا اسلام ہمیں سیاست کے بہترین اصول فراہم کرتا ہے
    اور اسلام ہی وہ واحد مذہب ہے جو انسانی زندگی کے تمام پہلوؤں کا احاطہ کرتا ہے

  • غیبت سے بچیں     تحریر: صفدر حسین

    غیبت سے بچیں تحریر: صفدر حسین

    گناہ درحقیقت دنیا اور آخرت میں تمام مصائب برائیوں اور عذاب کا سبب بن سکتے ہیں۔ اور تمام گناہوں میں سے بدترین وہ ہیں جو انسانیت کے لیے نقصان دہ ہیں۔ غیبت اور بہتان دونوں گناہ اللہ نے حرام کیے ہیں کیونکہ یہ لوگوں میں دشمنی برائی اور اختلاف کو جنم دیتے ہیں اور تباہی کا باعث بنتے ہیں۔ ایک ہی گھر کے لوگوں اور پڑوسیوں اور رشتہ داروں کے درمیان دشمنی کا سبب بنتے ہیں۔ وہ نیکیوں میں کمی اور برائیوں میں اضافہ کر سکتے ہیں اور بے عزتی اور بدنامی کا باعث بن سکتے ہیں۔
    غیبت کرنا شرم اور رسوائی کا کام ہے۔ ان کا مرتکب دوسروں کی نظروں میں ناپسندیدہ ہو جاتا ہے ۔ اللہ ان کاموں سے منع کرتا ہے ، جیسا کہ اللہ تعالیٰ قرآن پاک میں کہتا ہے غیبت سب سے ناپاک اور حقیر چیزوں میں سے ہے ۔پھر بھی انسانوں میں سب سے زیادہ پھیلا ہوا ہے اس طرح کہ کوئی بھی اس سے آزاد نہیں ہے سوائے چند لوگوں کے۔
    غیبت کرنے کا مطلب ہے کسی شخص کے بارے میں کچھ بتانا (اس کی غیر موجودگی میں) جس کے بارے میں ذکر کرنے سے وہ نفرت کرتا ہے چاہے وہ اس کے جسم ، اس کی مذہبی خصوصیات ، اس کے دنیاوی معاملات ، اس کے جسم ، اس کے کردار کے بارے میں ہو۔ اس کی دولت ، اس کا بچہ ، اس کا باپ ، اس کی بیوی ، اس کا چلنے کا انداز اور اس کی مسکراہٹ۔ یہ ایک ہی ہے چاہے آپ اس کے بارے میں الفاظ کے ساتھ ، تحریروں کے ذریعے ذکر کریں ، یا آپ اپنی آنکھوں ، ہاتھ یا سر سے اس کی طرف اشارہ کریں۔
    جہاں تک اس کی مذہبی خوبیوں کا تعلق ہے ، یہ تب ہوتا ہے جب کوئی کہتا ہیے وہ گنہگار ہے ، وہ چور ہے ، وہ غدار ہے ، وہ ظالم ہے،وہ نماز نہیں پڑھتا ، "وہ اتنی جلدی دعا کرتا ہے وہ اپنے والدین کے ساتھ اچھا سلوک نہیں کرتا وہ زکوٰۃ مناسب طریقے سے ادا نہیں کرتا ۔
    جہاں تک دنیاوی معاملات کا تعلق ہے تب یہ ہوتا ہے جب آپ کہتے ہیں اس کا اخلاق خراب ہے، وہ یہ نہیں سوچتا کہ کسی کا اس پر حق ہے،وہ بہت زیادہ بات کرتا ہے وغیرہ۔
    اللہ پاک قرآن پاک میں فرماتا ہے: ” اے ایمان والو! بہت بدگمانیوں سے بچو یقین مانو کہ بعض بدگمانیاں گناه ہیں۔ اور بھید نہ ٹٹوﻻ کرو اور نہ تم میں سے کوئی کسی کی غیبت کرے۔ کیا تم میں سے کوئی بھی اپنے مرده بھائی کا گوشت کھانا پسند کرتا ہے؟ تم کو اس سے گھن آئے گی، اور اللہ سے ڈرتے رہو، بیشک اللہ توبہ قبول کرنے واﻻ مہربان ہے "(قرآن 49:12) اس آیت میں اللہ تعالیٰ غیبت کرنے سے سختی سے منع کرتا ہے اور وہ غیبت کرنے والے کا موازنہ اس شخص سے کرتا ہے جو اپنے مردہ بھائی کا گوشت کھاتا ہے۔ اگر وہ اپنے بھائی کا گوشت کھانے سے نفرت کرتا ہے تو اسے چاہئے کہ غیبت کرنے سے گریز کرے
    حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: کیا تم جانتے ہو کہ غیبت کس کو کہتے ہیں؟ صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: اللہ اور اس کے رسول ہی زیادہ جانتے ہیں۔ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا اپنے مسلمان بھائی کی غیر موجودگی میں اس کے بارے میں ایسی بات کہنا جو اسے ناگوار گزرے (بس یہی غیبت ہے) کسی نے عرض کیا: اگر میں اپنے بھائی کی کوئی ایسی برائی ذکر کروں جو واقعتا اس میں ہو (تو کیا یہ بھی غیبت ہے)؟ آپﷺ نے ارشاد فرمایا اگر وہ برائی جو تم بیان کررہے ہو اس میں موجود ہے تو تم نے اس کی غیبت کی اور اگر وہ برائی (جو تم بیان کررہے ہو) اس میں موجود ہی نہ ہو تو پھر تم نے اس پر بہتان باندھا۔

    (سنن ابی داوُد، جلد سوئم کتاب الادب :4874) (مسلم)

    @itx_safder

  • ابوجہل کا قتل  تحریر: محمد معوّذ

    ابوجہل کا قتل تحریر: محمد معوّذ

    ابوجہل ایک ایسے گروہ میں تھا جنہوں نے اس کے گرد اپنی تلواروں اور نیزوں کی باڑھ قائم کر رکھی تھی ۔ ادھر مسلمانوں کی صف میں حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ جن کے اردگرد دو انصاری نوجوان تھے ، جن کی موجودگی سے وہ مطمئن نہ تھے کہ اتنے میں ایک نے اپنے ساتھی سے چھپا کر ان سے کہا : چچا جان ! مجھے ابوجہل تو دکھلا دیجے ۔“
    انہوں نے کہا : ” اسے کیا کرو گے ؟
    اس نے کہا : مجھے بتایا گیا ہے کہ وہ رسول اللّٰه صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو گالی دیتا ہے ۔ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اگر میں نے اس کو دیکھ لیا تو میرا وجود اس کے وجود سے جدا نہ ہو گا یہاں تک کہ ہم میں سے جس کی موت پہلے ہے وہ مر جائے۔
    اتنے میں دوسرے نے بھی یہی بات کہی ۔ اس کے بعد جب6 صفیں پھٹ گئیں تو عبدالرحمان بن عوف رضی اللہ عنہ نے دیکھا کہ ابوجہل چکر کاٹ رہا ہے ، انہوں نے دونوں جوانوں کو اسے دکھلا دیا ۔ دونوں جھپٹ پڑے اور تلوار مار کر قتل کردیا ۔ ایک نے پنڈلی پر ضرب لگائی اور اس کا پاؤں یوں اڑ گیا جیسے موسل کی مار پڑنے پر گٹھلی اڑ جاتی ہے ۔ دوسرے نے بری طرح زخمی کردیا اور اس حال میں چھوڑا کہ صرف سانس آجارہی تھی ۔ اس کے بعد دونوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے ۔ دونوں کا دعویٰ تھا کہ میں نے قتل کیا ہے ۔ یہ دونوں عفراء کے صاحبزادے معاذ اور معوّذ رضی اللہ عنہ تھے ۔ معوذ رضی اللہ عنہ تو اسی غزوے میں شہید ہو گئے البتہ معاذ رضی اللہ عنہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے دور خلافت تک باقی رہے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں کو ابوجہل کا سامان دیا۔
    معرکہ ختم ہو گیا لوگ ابوجہل کی تلاش میں نکلے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ انہوں نے اسے پا لیا ابھی اس کی سانس آ جا رہی تھی انہوں نے اس کی گردن پر پاؤں رکھا سر کاٹنے کے لئے داڑھی پکڑی اور فرمایا
    اللہ کے دشمن آخر اللہ نے تجھے رسوا کیا نا اس نے کہا
    مجھے کاہے کو رسوا کیا؟
    کیا جس شخص کو تم لوگوں نے قتل کیا ہے اس سے اوپر بھی کوئی آدمی ہے پھر بولا کاش مجھے کسانوں کی بجائے کسی اور نے قتل کیا ہوتا۔
    اس کے بعد کہنے لگا مجھے بتاؤ آج فتح کس کی ہوئی؟
    حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی۔
    ابوجہل نے کہا: او بکری کے چرواہے تو بڑی مشکل جگہ پر چڑھ گیا
    اس کے بعد حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے اس کا سر کاٹ لیا اور خدمت نبوی میں حاضر کیا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا
    تمام حمد اللہ کے لئے ہے جس نے اپنا وعدہ سچ کر دکھایا اپنے بندے کی مدد فرمائی اور تنہا سارے گروہوں کو شکست دے دی ۔
    پھر فرمایا: یہ اس امت کا فرعون ہے۔

    @muhammadmoawaz_

  • بے لگام سوشل میڈیا  تحریر: محمد آصف شفیق

    بے لگام سوشل میڈیا تحریر: محمد آصف شفیق

    جب سے سوشل میڈیا عام ہوا ہے نہ کوئی ضابطہ اخلاق ہے نہ کوئی اخلاقیات کا تصور الا ماشااللہ کوئی چند افراد آپ کو مل جائیں ، جہاں تک سوشل میڈیا ٹیموں کا تعلق ہے اس میں بھی باجماعت ٹرولنگ کرنا بے ہودہ قسم کے ہیش ٹیگز چلا کر با جماعت لوگوں کو برے برے القابات سے نوازنا اور پھر اس پر اترانا ،
    اگر آپ صرف ٹویٹر کو ہی لے لیں میں نے اگست 2009 میں ٹویٹر پر اکاونٹ بنایا ، اور اس بات کو یقینی بنایا کہ کوئی ایسی تحریر یا ٹویٹ نہ کیا جائے جس سے کسی کا دل دکھے ہمیشہ کوشش کی کہ اپنی بات تمیز کے دائرے میں رہتے ہوئے کی جائے گالی کا جواب بھی بھلائی سے دیا ، الحمد اللہ سوشل میڈیا ٹیمیوں کے کئی پرو ایکٹیو افراد ایڈ ہیں ایک دوسرے کو فالو بھی کیا ہوا ہے اور اکثر اوقات کوشش ہوتی ہے اگر کوئی اچھا ہیش ٹیگ ہو تو اس میں اپنا حصہ ڈال دوں
    دوسری سیاسی اور دینی جماعتوں کی طرح جماعت اسلامی کی بھی اپنی سوشل میڈیا ٹیم ہے اور میں الحمد للہ کافی عرصہ سے اس سوشل میڈیا ٹیم کا حصہ ہوں محترم شمس الدین امجد بھائی اس ٹیم کو لیڈ کرتے ہیں ، ہر فرد کیلئے رہنمائی اور تربیت کا خاص اہتمام کیا جاتا ہے گاہے بگاہے اون لائن بھی اور منصورہ لاہور میں بھی تربیتی نشستیں رکھی جاتی ہیں آجکل بھی تین روزہ مرکزی میڈیا ورکشاپ جاری تھی جو کہ آج ہی اختتام پزیر ہوئی جس میں امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سرا ج الحق نے شرکاء سے خطاب کیا
    امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق ہوں یا قاضی حسین احمد ؒ یا سید منور حسن ؒ سب نے اپنے سوشل میڈیا ورکرز کو ہمیشہ اعلیٰ اخلاق کا مظاہرہ کرنے کی تلقین کی ہے اور اس بات کی گواہی آپ کے کٹر دشمن بھی دیں گے کہ جماعت اسلامی کی سوشل میڈیا ٹیم ایک منظم اور باوقار ٹویپرز پر مشتمل ٹیم ہے جو ہمیشہ اخلاقیات کی پابندی کرتی ہے اپنے مخالفین کو بھی جواب اخلاق کے دائرے میں رہتے ہوئے دیتی ہے
    آج کچھ بہترین افراد کے ٹویٹر سے گالیوں کے ٹویٹ دیکھ کر بہت افسوس ہوا ہمیں ، فالورز زیادہ ہو یا کم اکاونٹ ویری فائی ہو یا نہ ہو مگر ہم اپنا نامہ اعمال اپنے ہاتھوں سے لکھ رہے ہیں بحثیت مسلمان ہمیں علم ہونا چاہئے کہ گالیا ں نکالنا کیسا ہے ، تہمت لگانا کیسا ہے ، الزامات لگانا کیسا ہے ، چھوٹ بولنا کیسا ہے ، کچھ خدا کا خوف ہی نہیں ہے موت یاد ہی نہیں مرنا نہیں ہے کیا ؟نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ مسلمان کو گالی دینا فسق ہے اور اس سے لڑنا کفر ہے۔صحیح بخاری:جلد اول:حدیث نمبر 47
    رسالت مآب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ جس میں مندرجہ ذیل چار عادتیں ہوگی وہ پکا منافق ہوگا جب گفتگو کرے تو جھوٹ کہے جب وعدہ کرے تو پیمان شکنی کرے جب کوئی معاہدہ کرے تو معاہدہ کی خلاف ورزی کرتے ہوئے غداری کرے اور جب جھگڑا کرے تو گالیاں بکنے لگے اور جب کسی میں مندرجہ بالا خصلتوں میں سے کوئی بھی خصلت ہوگی تو اس میں ایک نشانی منافقت کی ہے تاوقتیکہ وہ اس عادت کو ترک نہ کر دے۔
    صحیح بخاری:جلد دوم:حدیث نمبر 439
    عبداللہ بن عمرو رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا کہ سب سے بڑا گناہ یہ ہے کہ کوئی شخص اپنے والدین پر لعنت کرے، کسی نے عرض کیا یا رسول اللہ! آدمی اپنے ماں باپ پر کس طرح لعنت کرسکتا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ ایک آدمی دوسرے کے باپ کو گالی دے تو وہ اس کے ماں اور باپ کو گالی دے گا۔صحیح بخاری:جلد سوم:حدیث نمبر 933
    عبداللہ بن عمرو بن عاص سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ بڑے گناہ یہ ہیں کہ کوئی آدمی اپنے ماں باپ کو گالی دے صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم نے عرض کیا اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کیا کوئی آدمی اپنے والدین کو گالی دے سکتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہاں کوئی آدمی کسی کے باپ کو گالی دیتا ہے تو اپنے باپ کو گالی دیتا ہے اور کوئی کسی کی ماں کو گالی دیتا ہے تو وہ اپنی کی ماں کو گالی دیتا ہے۔
    صحیح مسلم:جلد اول:حدیث نمبر 264
    حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تم جانتے ہو کہ مفلس کون ہے صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم نے عرض کیا ہم میں مفلس وہ آدمی ہے کہ جس کے پاس مال اسباب نہ ہو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قیامت کے دن میری امت کا مفلس وہ آدمی ہوگا کہ جو نماز روزے زکوة و غیرہ سب کچھ لے کر آئے گا لیکن اس آدمی نے دنیا میں کسی کو گالی دی ہوگی اور کسی پر تہمت لگائی ہوگی اور کسی کا مال کھایا ہوگا اور کسی کا خون بہایا ہوگا اور کسی کو مارا ہوگا تو ان سب لوگوں کو اس آدمی کی نیکیاں دے دی جائیں گی اور اگر اس کی نیکیاں ان کے حقوق کی ادائیگی سے پہلے ہی ختم ہو گئیں تو ان لوگوں کے گناہ اس آدمی پر ڈال دئے جائیں گے پھر اس آدمی کو جہنم میں ڈال دیا جائے گا۔
    صحیح مسلم:جلد سوم:حدیث نمبر 2078
    اللہ رب العالمین سے دعا ہے وہ ہمیں آخرت کی رسوائی سے بچائیں اورہمیں اپنے دین کو سمجھنے کی توفیق عطا فرمائیں اور اپنے دین پر چلنے والا بنائیں ۔ آمین یا رب العالمین

    جدہ –سعودیہ
    @mmasief

  • ‏اسلام میں جانوروں کے حقوق  تحریر: جہانتاب احمد صدیقی

    ‏اسلام میں جانوروں کے حقوق تحریر: جہانتاب احمد صدیقی

    اسلام دین کامل ہے، دین اسلام کا پیغام امن و آشتی اور محبت کا پیغام ہے، اور رحمتِ کریمی صرف انسانوں تک محدود نہیں، ہر ذی روح تک محیط ہے۔ رب لعالمین کے فیوض و برکات نے جہاں عالمِ انسانیت کو سیراب کیا، وہیں بے زبان جانوروں کو بھی اپنی رحمتِ بے کراں سے مالامال کیا۔ دورِجاہلیت میں اہلِ عرب جانوروں کے ساتھ بدسلوکی کرتے تھے۔ رحمت العالمین ﷺ کے آنے کے بعد گویا ان بے زبان جانوروں کو بھی جائے اماں ملی۔

    دین اسلام نے جانوروں کے حقوق متعیّن کرکے رہتی دنیا تک انہیں عزت و تحفظ دیا ہے کیونکہ اسلام سلامتی کا مذہب ہے اوریہ سلامتی کا مژدہ صرف انسانوں کیلئے نہیں بلکہ جانوروں کیلئے بھی ہے، آپ ﷺ نے بارہا تلقین فرمائی کہ جانوروں کی ساتھ بدسلوکی کا برتاﺅ مت کرو اور ان سے وحشیانہ سلوک کرنے والوں کو جہنم کے عذاب کی وعید سنائی اور انسانی ضمیر جھنجوڑنے والے سخت الفاظ استعمال فرمائے چنانچہ حضرت امام بخاریؒ نے روایت ہے جس کا مفہوم کچھ یوں ہے کہ آپﷺ نے فرمایا ، ایک عورت کو اس لیے عذاب دیا گیا کہ وہ بلی کو باندھ کر رکھتی تھی نہ کھلاتی نہ پلاتی اور نہ اس کو چھوڑ دیتی کہ چر چگ کر کھائےمسلم

    قرآن پاک کی دو سو آیات ایسی ہیں جن میں جانوروں کے بارے میں بیان کیا گیا ہے۔ اللہ ﷻ نے قرآن مجید میں 35 جانوروں کا ذکر فرمایا ہے اور ان کے نام بھی موجود ہیں۔ اسی طرح قرآن پاک کی چند سورتیں بھی جانوروں کے نام پر ہیں۔ مثلا سورت بقرہ ،سورت فیل اور سورت عنکبوت وغیرہ

    ہمارا دین اسلام ہمیں جانوروں کے ساتھ صلہ رحمی اور حسن سلوک کا حکم دیتاہے۔ قران پاک میں جانوروں کے اہمیت وخصوصیت اور ان کے منافع کا پتہ چلتا ہے اور آپﷺ نے قدم بقدم جانوروں کے ساتھ احسن سلوک کاحکم دیا ہے ، نہ صرف گھریلو اور پالتو جانوروں، بلکہ غیر پالتو جانوروں کے ساتھ بھی ہمدردی کی تاکید کی ہے ، جنگلی جانوروں کو بھی کم مار میں مارنے کا حکم دیا ہے اور مذبوحہ جانوروں کے ساتھ بھی وحشیانہ سلوک سے منع کیا ہے اور جانوروں پر بوجھ کم لادنے کا حکم دیا اور دوران سفر ان کے چارہ پانی کی تاکید کی ہے، جانوروں پہ زیادہ بوجھ لادنے اور زیادہ افراد کے سوار ہونے سے منع کیا ،جانوروں کے آرام و آسائش کا خیال رکھنا کی تاکید کی، جانوروں کے منہ پر مارنے ،جانوروں کے باہم لڑاٸی کروانے کی ممانعت فرمائی اور ایسا کرنے والے کو ملعون قرار دیا ۔

    مکرمی!! ہم میں سے بعض احباب جانوروں کے ساتھ بہت وحشیانہ سلوک کرتے ہیں اور یہ باور کراتے ہیں کہ جانوروں کے کوٸی حقوق نہیں ہے انکے کوٸی جذبات احساسات نہیں ہے، جبکہ نزول اسلام
    کے بعد جہاں انسانوں کے حقوق و فرائض بیان کیے گٸے ہیں وہی جانوروں کے ساتھ صلہ رحمی ، محبت ہمدردی اور انکے حقوق بیان فرماٸیے گٸے اور بتایا گیا انہیں ہماری طرح درد ہوتا ہے، انکے بھی احساسات اور جذبات ہے جس کی ہمیں قدر کرنی چاہیے

    آخر میں بس اتنا عرض کرنا چاہوں گا کہ ہمیں سنجیدگی سے اپنے آپ سے پوچھنے کی ضرورت ہے کیا مسلم کمیونٹی اللہ اور پیغمبر ﷺ کے واضح احکامات کے باوجود جانوروں کے حقوق کی پاسداری کر رہی ہے ؟

    اللہ ہمیں جانوروں کے صلہ رحمی کے ساتھ پیش آنے کی اور انکے حقوق پورے کرنے کی توفيق عطا فرماٸے ،آمین!

  • وبا سے متاثر علاقوں میں آمدورفت کے بارے میں پیغمبر کا طریقہ  تحریر: وسیم

    وبا سے متاثر علاقوں میں آمدورفت کے بارے میں پیغمبر کا طریقہ تحریر: وسیم

    پیغمبر خدا نے امت کو ایسے علاقے میں جہاں یہ بیماری پہلے سے موجود ہو، داخل ہونے سے روک دیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جہاں بیماری پھیل گئی ہو،وہاں سے دوسرے ایسے علاقے میں جہاں بیماری نہ ہو بھاگ کر جانے سے بھی روکا تاکہ غیر متاثر علاقے متاثر نہ ہو۔ خدا پاک نے جو رہنمائی کی ہے اس بارے میں انسان کو اس کا پورا لحاظ رکھنا چاہیے۔ایسی جگہوں سے دور رہنا،ایسی فضا اور آب وہوا سے بچنا چاہیے جہاں اس قسم کی موذی بلاؤں کا زور ہو
    اور یہ بات کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے علاقوں سے جہاں یہ وبا پھوٹ گئی ہو اس سے بھی نکل بھاگنے کو منع فرمایا ہے۔ اس کی غالباََ دو وجوہات ہیں
    پہلی وجہ ہے انسان کا ان مشکلات میں پھنسے ہوئے لوگوں کے ساتھ رہ کر اللہ سے تعلق کی مظبوطی کو ظاہر کرنا، خدا پر بھروسہ کرنا، خدا کے فیصلے پر مستقل مزاجی سے قائم رہنا، اور تقدیر کے نوشتے پر راضی رہنا۔
    دوسری وجہ وہ ہے جسے تمام ماہرین طب نے یکساں بیان کیا اور سراہا ہے۔ وہ یہ کہ ہر وہ شخص جو وبا سے بچنا چاہتا،اس کو لازم ہے کہ اپنے بدن سے رطوبت فضلیہ کو نکال ڈالنے کی کوشش کرے اور غذا کی مقدار کم کر دے، اس لیے کہ ایسے موقع پر جب وبا کا زور ہے جو رطوبات بھی پیدا ہونگی وہ رطوبت فضلیہ میں تبدیل ہو جائیگی، اس لیے کم سے کم غذا استعمال کرے کہ ضرورت سے زیادہ رطوبت پیدا نہ ہونے پائے لیکن ریاضت و حمام کی اجازت نہیں، اس سے اس زمانے میں سختی سے پرہیز کریں، اس لیے کہ انسانی جسم میں ہر وقت فضولیات ردیہ کسی نہ کسی مقدار میں موجود رہتی ہے جن کا آدمی کو اندازہ نہیں ہوتا، اگر وہ ریاضت یا حمام کر لیتا ہے، تو اس سے یہ فضولیات ابھر جاتے ہیں اور پھر ابھار کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ کیموس جید کے ساتھ مل جاتے ہیں جس کی وجہ سے بڑی سے بڑی بیماری پیدا ہوجاتی ہے۔
    اور وبا کے پھوٹنے کے وقت وبا کے مقام سے نکلنا اور دور دراز علاقوں کا سفر کرنا سنگین قسم کی حرکت کا متقاضی ہے جو اصول مذکورہ کی روشنی میں سخت ضرر رساں ہوگا ۔ اس سے وبا کے پھیلنے کا بھی اندیشہ ہے، اس لیے سفر نہ کرنا ہی بہتر ہے اور مقام وبا سے غیر متاثر مقامات کو جانا مضر خلائق ہوگا۔ اس روشنی میں اطباء کے کلام کی بھی تائید ہوگئی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طبی حکمت اور بالغ تدبیر پر بھی روشنی پڑگئ۔

    جن مقامات پر وبا پھوٹ چکی ہو وہاں داخلے پر پابندی میں چند حکمتیں اور مصالح:
    1: پریشان کن اسباب سے دوری اور اذیت ناک صورت حال سے پرہیز۔
    2:جس عافیت سے معاش اور معاد دونوں کا گہرا رابطہ ہے، اسے اختیار کرنا۔
    3:ایسی فضا میں سانس لینے سے بچاؤ جس میں عفونت گھر کر گئی ہو اور جس کا ماحول فاسد ہو چکا ہے۔
    4: جو لوگ اس مرض کا شکار ہیں ان کی قربت سے روک، ان کے آس پاس پھرنے سے پرہیز تاکہ ان کے ساتھ رہنے کی وجہ سے ان تندرست لوگوں کو بھی اس مرض کے پاپڑ نہ بیلنے پڑے۔

  • تقدیر اور انسان   تحریر : شاہ زیب

    تقدیر اور انسان تحریر : شاہ زیب

    اللہ سبحان تعالٰی نے زمین اور آسمان پیدا کرنے سے پچاس ہزار سال قبل قل کائنات کی مخلوق کی تقدیریں لکھ دی تھی

    بیشک اللہ سبحان تعالٰی نے انسان کی تقدیر لکھ کر ہی انسان کو پیدا فرمایا تھا لیکن تقدیر بدلی جاتی ہیں یہ میرا ماننا ہے کیونکہ اللہ سبحان اللہ 70 ماؤں سے زیادہ پیار کرنے والے ہیں تو کسی بھی ماں کا دل نہیں کرتا اس کا پیارا محتاجی یا برائی والی زندگی بسر کریں

    تقدیر کی اقسام میں سے ایک قسم تقدیر قدریہ یعنی قدرت کی طرف سے کیا گیا عمل لیکن یہاں واضح کرنا چاہتا ہوں اگر قدرت کی طرف سے کیا گیا عمل ہے تو پھر حساب انسان کیوں دے گا۔

    شاعر مشرق علامہ اقبال کا ایک قول ہے

    خودی کو کر بلند اتنا کہ
    خدا پوچھے بتا تیری رضا کیا ہے

    یعنی انسان اپنی تقدیر بدل سکتا ہے اور وہ اسطرح کے اللہ سبحان تعالٰی کی بتائی ہوئی راہ اختیار کرے پوائینٹ کیونکہ انسان اشرف المخلوقات ہے اچھے اور برے کی تمیز رکھتا ہے اس لیے حساب لیا جائے گا

    اللہ سبحان تعالٰی نے ہر انسان کی تقدیر لکھ دینے کے باوجود انسان کو اشرف المخلوقات بنا کر اختیار دیا ہوا ہے وہ کونسی راہ اختیار کرتا ہے اگر کوئی شخص لاکھ کوشش کے باوجود بھی کامیاب نہیں ہوتا تو تقدیر میں لکھا بول کر گھر نہیں بیٹھ جائے کرے بلکہ دعائیں اور نیک عمل جاری رکھیں

    اللہ سبحان تعالٰی تقدیر بدل دے گا کیونکہ نیک عمل کرنے والوں کو اللہ مایوس نہیں کرتا۔اللہ سبحان تعالٰی نے زمین اور آسمان پیدا کرنے سے پچاس ہزار سال قبل قل کائنات کی مخلوق کی تقدیریں لکھ دی تھی

    بیشک اللہ سبحان تعالٰی نے انسان کی تقدیر لکھ کر ہی انسان کو پیدا فرمایا تھا لیکن تقدیر بدلی جاتی ہیں یہ میرا ماننا ہے کیونکہ اللہ سبحان اللہ 70 ماؤں سے زیادہ پیار کرنے والے ہیں تو کسی بھی ماں کا دل نہیں کرتا اس کا پیارا محتاجی یا برائی والی زندگی بسر کریں

    تقدیر کی اقسام میں سے ایک قسم تقدیر قدریہ یعنی قدرت کی طرف سے کیا گیا عمل لیکن یہاں واضح کرنا چاہتا ہوں اگر قدرت کی طرف سے کیا گیا عمل ہے تو پھر حساب انسان کیوں دے گا۔

    شاعر مشرق علامہ اقبال کا ایک قول ہے

    خودی کو کر بلند اتنا کہ
    خدا پوچھے بتا تیری رضا کیا ہے

    یعنی انسان اپنی تقدیر بدل سکتا ہے اور وہ اسطرح کے اللہ سبحان تعالٰی کی بتائی ہوئی راہ اختیار کرے پوائینٹ کیونکہ انسان اشرف المخلوقات ہے اچھے اور برے کی تمیز رکھتا ہے اس لیے حساب لیا جائے گا

    اللہ سبحان تعالٰی نے ہر انسان کی تقدیر لکھ دینے کے باوجود انسان کو اشرف المخلوقات بنا کر اختیار دیا ہوا ہے وہ کونسی راہ اختیار کرتا ہے اگر کوئی شخص لاکھ کوشش کے باوجود بھی کامیاب نہیں ہوتا تو تقدیر میں لکھا بول کر گھر نہیں بیٹھ جائے کرے بلکہ دعائیں اور نیک عمل جاری رکھیں

    اللہ سبحان تعالٰی تقدیر بدل دے گا کیونکہ نیک عمل کرنے والوں کو اللہ مایوس نہیں کرتا۔

  • عبادات مساوات  تحریر: آمنہ خان

    عبادات مساوات تحریر: آمنہ خان

    اسلام دینِ کامل ہے جو مساوات کا درس دیتا ہے۔ اسی دین کے بدولت امت مسلمہ ایک لڑی میں پروئی ہوئی ہے۔ عبادت انسان میں نظم وضبط پیدا کرتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انسانوں کو اسی لیے پیدا کیا کہ وہ اس کی عبادت کریں۔ عبادات کی ادائیگی سے انسان کو بہترین معمول زندگی میسر آتا ہے۔

    اللہ پاک سورة الزایات میں فرماتے ہیں کہ؛

    وَ مَا خَلَقۡتُ الۡجِنَّ وَ الۡاِنۡسَ اِلَّا لِیَعۡبُدُوۡنِ
    ترجمہ؛ میں نے جنات اور انسانوں کو محض اس لئے پیدا کیا ہے کہ وہ صرف میری عبادت کریں ۔

    عبادات قرب الہی کا ذریعہ بنتیں ہیں۔ یہ انسان میں احساس پیدا کرتیں ہیں۔ اللہ پاک کی رحمتیں، دین کی تعلیمات تمام انسانوں کے لئے برابر ہیں۔ بلکہ ایک مسلمان دوسرے مسلمان کا بھائی ہے اور فضیلت کی بنیاد محض ” تقویٰ” ہے۔

    خطبہ حجتہ الوداع کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں کہ؛

    یَا أَیُّہَا النَّاسُ! اَلَا إِنَّ رَبَّکُمْ وَاحِدٌ، وَإِنَّ أَبَاکُمْ وَاحِدٌ، أَلَا لَا فَضْلَ لِعَرَبِیٍّ عَلٰی أَعْجَمِیٍّ وَلَا لَاَعْجَمِیٍِّ عَلٰی عَرَبِیٍّ، وَلَا لِأَحْمَرَ عَلٰی أَسْوَدَ، وَلَا لِأَسْوَدَ عَلٰی أَحْمَرَ إِلَّا بِالتَّقْوٰی
    ترجمہ؛ لوگو! تمہارا رب ایک ہے اور تمہارا باپ بھی ایک ہے، آگاہ ہو جاؤ! کسی عربی کو کسی عجمی پر، کسی عجمی کو کسی عربی پر، کسی سرخ رنگ والے کو کالے رنگ والے پر اور کسی سیاہ رنگ والے کو سرخ رنگ والے پر کوئی فضیلت و برتری حاصل نہیں، مگر تقویٰ کے ساتھ۔

    تقویٰ ایک باطنی کیفیت کا نام ہے، جسے اللہ کے سوا کوئی نہیں جان سکتا۔
    تمام انسان ظاہری لحاظ سے یعنی رنگ، نسل، علم، حکمت کے اعتبار سے برابر ہیں۔ فضیلت کا معیار تقویُ ہے جس کا علم صرف اللہ کے پاس ہے۔
    اسلام نام ہی مساوات کا ہے جہاں سب برابر ہیں آپس میں بھائی بھائی ہیں۔
    مختلف عبادات بھی ہمیں مساوات کا درس دیتیں ہیں۔
    مثال کے طور پر نماز جو کہ ہم مسلمانوں پر دن میں پانچ مرتبہ فرض ہے۔ نماز اسلامی مساوات کی واضح مثال ہے۔ جس میں تمام مسلمان بیک وقت ایک ہی صف میں کھڑے ہو کر خالقِ حقیقی کو سجدہ ریز ہوتے ہیں۔
    مالدار ہو یا فقیر اللہ کے گھر میں سب برابر ہیں۔ شاعر نے بھی کیا خوب انداز میں اس مساوی کیفیت کو بیان کیا ہے۔

    ایک ہی صف میں کھڑے ہو گئے محمود و ایاز
    نہ کوئی بندہ رہا اور نہ کوئی بندہ نواز

    اس کے ساتھ زکوٰۃ بھی اتحاد و مساوات کا درس دیتی ہے۔ سارا سال امیر ترین طبقہ پیسے کماتا ہے، مال زخیرہ کرتا ہے اور رمضان المبارک کے مقدس مہینے میں زکوٰۃ ادا کرتا ہے۔
    زکوٰۃ کی ادائیگی سے غریب لوگ بھی عید کی خوشیوں میں شریک ہو جاتے ہیں۔
    زکوٰۃ کے نظام سے مال و دولت چند لوگوں کی میراث بننے کی بجائے، معاشرے میں گردش کرتی رہتی ہے اور غریب طبقے تک پہنچ جاتی ہے۔
    غریبوں کا عید کی خوشیوں پہ اتنا ہی حق ہے جتنا امیروں کا۔ عیدالفطر پر زکوٰۃ کی ادائیگی اور عید الاضحی پر قربانی کے گوشت کی تقسیم ہمیں اسلامی مساوات کا سبق دیتیں ہیں ۔اور یہی عبادات دوسروں کے لیے ہمارے احساسات جگا دیتیں ہیں۔

    حج دینِ اسلام کا اہم ترین رکن ہے اور ہر صاحبِ استطاعت مسلمان پر زندگی میں ایک بار ادا کرنا فرض ہے۔
    حج اسلامی مساوات کی سب سے بڑی دلیل ہے۔ پوری دنیا سے تعلق رکھنے والے مسلمان مخصوص ایام میں مخصوص جگہ اکٹھے ہوتے ہیں۔ رنگ و نسل کی تفریق سے بالاتر ایک اللہ کے گھر کا طواف کرتے ہیں۔
    اسلام، صرف اسلام ہی ہے جس نے ان انجانے مسلمانوں کو ایک دوسرے کا رفیق بنا دیا۔
    حج کے موقع پر لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ کی پکار مسلمانوں کے مساوات اور بھائی چارے کی ایسی مثال ہے جو دنیا میں کہیں نظر نہیں آتی۔

    اگرچہ روزہ ایک باطنی عبادت کا نام ہے جس کا گواہ صرف اللہ ہے۔ لیکن پھر بھی روزہ دوسروں کے ساتھ احسن سلوک کی راہ ہموار کرتا ہے۔
    روزہ ایک ایسی عبادت ہے جو صرف اللہ کے لیے ہے اور اللہ ہی اس کا اجر دے گا لیکن یہ دل میں دوسروں کے لیے احساس ہمدردی پیدا کرتا ہے۔ جب انسان سارا دن بھوک پیاس ترک کرتا ہے تو اسے اپنے غریب بھائیوں کی محرومیوں کا احساس ہوتا ہے۔ اس طرح انسان روزہ بھی لوگوں میں مساوات کی روح پھونکتا ہے۔
    ہمیں اللہ پاک نے ان قبائل، اور قوموں میں اسی لیے تقسیم کیا تاکہ ہم پہچانے جائیں۔

    سورة الحجرات میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ

    یٰۤاَیُّہَا النَّاسُ اِنَّا خَلَقۡنٰکُمۡ مِّنۡ ذَکَرٍ وَّ اُنۡثٰی وَ جَعَلۡنٰکُمۡ شُعُوۡبًا وَّ قَبَآئِلَ لِتَعَارَفُوۡا ؕ
    ترجمہ؛ اے لوگو! ہم نے تم سب کو ایک ( ہی ) مرد و عورت سے پیدا کیا ہے اور اس لئے کہ تم آپس میں ایک دوسرے کو پہچانو کنبے قبیلے بنا دیئے ہیں۔

    اللہ ہمیں دین کے حقیقی معنی سمجھنے کی توفیق دے۔ آمین

    ‎@AmnaKhanPK

  • ابن عربی اور نظریہ وحدت الوجود۔۔  تحریر: آصف شاہ خان

    ابن عربی اور نظریہ وحدت الوجود۔۔ تحریر: آصف شاہ خان

    ہم میں سے بہت کم لوگوں کو علم ہے کہ ابن عربی اور لفظ وحدت الوجود کا آپس میں کوئی تعلق نہیں۔ ابن عربی کے کسی بھی تصنیف میں ہمیں وحدت الوجود کا لفظ نہیں ملتا ہے۔شیخ الاکبر ابن عربی کے تصور وجود باری تعالیٰ کیلئے پہلی بار لفظ وحدت الوجود ابن عربی نے نہیں بلکہ ابن تیمیہ رحیم اللہ نے استعمال کیا ہے۔ مشہور محدث ابن تیمیہ نے شیخ الاکبر ابن عربی کے تصور وجود باری تعالیٰ پر تنقید کے طور پر اس کو وحدت الوجود کا نام دیا تھا اور ابن عربی پر فتویٰ لگایا تھا۔
    شیخ الاکبر ابن عربی نے اپنی کتاب "فتوحات مکیہ” میں خدا تعالیٰ کے وجود کے بارے میں ایک تصور پیش کیا ہے ، اس تصور کو ہم اگر آسان الفاظ میں بیان کرنا چاہے اس کی یہ شکل ہمارے سامنے آتی ہے کہ ایک حقیقی وجود ہے اور وہ ہے اللّٰہ تعالیٰ کا۔۔۔
    وجود باری تعالیٰ فلسفے کا ایک مسلہ ہے لہذا ہم ابن عربی کے اس فلسفے کو اصولوں کے مطابق بحث کرنے کی کوشش کریں گے۔ ابن عربی کے تصور وجود باری تعالیٰ کو ہم غور سے دیکھیں تو اس کے مختلف معنوی پہلؤں نظر آتے ہیں۔ اس کا ایک پہلو بڑا مشہور ہوگیا ہے وہ یہ پہلو ہے جس کو لیتے ہوئے ابن تیمیہ نے ابن عربی پر تنقید کی ہے اور اس کو جواز بناتے ہوئے ابن عربی پر فتویٰ لگایا یے۔ یہ معنوی پہلو آج کل بہت عام بھی ہے زیادہ تر صوفیاء، ادباء اور علماء ابن عربی کے تصور وجود باری تعالیٰ سے یہ مطلب لیتے ہیں اور اس کو وحدت الوجود سے ہی یاد کرتے ہیں- وحدت الوجود کے ابن تیمیہ کا بیان کردہ پہلو یہ ہے کہ ابن عربی کی اس بات کا کہ ایک حقیقی وجود ہے اور وہ ہے اللّٰہ تعالیٰ اس سے مراد ہے کہ سب مخلوقات اور سب چیزیں اللّٰہ کے وجود کا حصہ ہیں یعنی سب واحد چیز ہے اور اس سے مراد لیتے ہوئے ابن تیمیہ نے اس کو وحدت الوجود کا نام دیا جس کا مطلب ہے کہ سب ایک ہی وجود ہے۔ اگر ہم اس پہلو کو دیکھ لے تو یہ پہلو نظریہ حلول کے طرح نظر آتا ہے یا یوں سمجھئے کہ یہ نظریہ حلول کی ایک شکل ہے۔ اور نظریہ حلول کو اگر غور سے پڑھ لیا جائے تو قرآن اور حدیث کی تعلیمات کا مکمل مخالف نظر آتے ہیں اور تقریباً تمام ائمہ، فقہاء اور علماء اس بات پر متفق ہیں کہ نظریہ حلول ایک کفریہ نظریہ ہے۔ لیکن جہاں تک بات ابن عربی کے تصور وجود باری تعالیٰ ہے اس کے اور بھی پہلوؤں ہیں اور ان پہلوؤں میں ایک زیادہ ٹھیک نظر آتا ہے اگر ہم اس کو فلسفے کے اصولوں کے مطابق دیکھ لے۔ ابن تیمیہ کے علم اور اس کی نیت پہ ہم کسی قسم کا شک تو دور کے بات سوچ بھی نہیں سکتے ہیں کہ اس کی نیت خراب یا علم میں کمی تھی لیکن ہاں ہم فلسفے کے مسئلے میں ان کے سوچ سے اختلاف کرسکتے ہیں۔ یہاں اختلاف سے مراد یہ نہیں کہ ابن تیمیہ کی بات غلط ہے لیکن یہاں اختلاف سے مراد یہ ہے کہ وجود باری تعالیٰ فلسفے کا مسلہ ہے اور فلسفے کے مسئلے میں اس نے جس معنوی پہلو کا انتخاب کیا ہے وہ تو اپنی جگہ ٹھیک ہے لیکن ابن عربی کا اس تصور سے یہ مطلب نہیں تھا کہ سب ایک وجود ہے۔ اس بات کو ٹھیک ثابت کرنے کیلئے ہمارے پاس کچھ دلائل ہیں جس کو لے کر فلسفے اور عقلی طریقوں سے ہم ثابت کرسکتے ہیں۔
    سب سے پہلی بات ابن تیمیہ نے ابن عربی کے وفات کے بعد یہ فتویٰ دیا تھا تو لہذا ہم کہہ سکتے ہیں کہ ابن عربی نے اس بات کی نہ تصدیق کی ہے اور نہ اس کے انکار کے آثار ہیں کیونکہ اس وقت وہ زندہ ہی نہیں تھے۔ اور دوسری بات اس نظریے کے وہ پہلو زیادہ ٹھیک نظر آتا ہے وہ پہلو یہ ہے کہ ابن عربی کے تصور وجود باری تعالیٰ میں ایک حقیقی وجود سے مراد یہ نہیں ہے کہ ہم سب اللّٰہ کے وجود کا حصہ ہیں بلکہ اس کا مطلب ہے کہ اللّٰہ کے علاؤہ ساری چیزیں فانی ہیں صرف ایک اللّٰہ کا وجود ہے جو حقیقی ہے اور نہ ختم ہونے والا ہے۔ اس کے سوا تمام اشیاء کی کوئی حیثیت ہی نہیں اور جب اس کے کوئی حثیت نہیں حقیقت نہیں تو پھر اس کا زکر ہم کیوں کرے اس لئے ابن عربی یہ لکھتا ہے کہ ایک ہی وجود ہے اور وہ ہے اللّٰہ تعالیٰ کا باقی سب کوئی حیثیت ہی نہیں رکھتے ہیں ۔ اس پہلو کو ہم اگر عقلی دلائل سے وضاحت کرنا چاہئے اور فلسفے کے اصولوں کے مطابق بحث کرنا چاہئے تو کچھ یوں ہم کہہ سکتے ہیں کہ ہمیں معلوم ہے کہ تصوف محبت کا اعلیٰ درجہ ہے جس میں انسان کی محبت کسی چیز یا انسان سے بڑھ کر اللّٰہ کے لافانی وجود سے ہوجاتی ہے اور پھر اس کی سب پسند نا پسند اللّٰہ کے رضا کیلئے ہی ہو جاتی ہے اس کے اندر تکبر اور غرور ختم ہو جاتا ہے اس کے اندر یہ بات ختم ہو جاتی ہے کہ میں اتنا بڑا آدمی ہوں یا ایسا آدمی ہوں وغیرہ اور اس میں وہ اتنا مگن ہو جاتاہے کہ اس کو اپنی کوئی پرواہ نہیں رہتی ہے۔ اس کو اپنا وجود تو نظر آتا ہے لیکن اپنے فانی ہونے کے یقین کی وجہ سے اس کو اس کی کوئی حیثیت معلوم نہیں ہوتی ہے اور اس وجہ سے وہ یہ سوچتا ہے کہ جب کوئی حیثیت نہیں تو زکر کس لئے کروں۔ اس تصوف کے تصور کو اگر ہم ابن عربی کے نظریے کے ساتھ موازنہ کریں تو ہم اس نتیجہ پر پہنچتے ہیں کہ ابن عربی کے تصور وجود باری تعالیٰ بھی ہمیں یہی بات فلسفے میں سمجھاتی ہے کہ حقیقی لافانی وجود اللّٰہ کا ہے باقی سب فانی ہیں۔ اس بات کو شرعی اصولوں سے بھی دیکھیں تو اسلامی تعلیمات کے مطابق ہے۔ اور ہم کہہ سکتے ہیں کہ ابن عربی کے تصور وجود باری تعالیٰ سے مراد یہ تھا کہ باقی وجودیں ہیں لیکن اس کے کو حیثیت نہیں کوئی حقیقت اور لافانیت نہیں لہذا اس کے ہونے یا نہ ہونے کے اقرار کا کیا فائدہ اس لیے اس وجود کا زکر کیا جائے جو حقیقت ہے ۔
    یہ مضمون میری زاتی تجزیے اور فکر پر ہے لہذا میں غلط ہوسکتا ہوں آپ لوگ میری سوچ سے اختلاف کرسکتے ہیں۔

    __________________
    تحریر: آصف شاہ خان

    @Ibnepakistan1

  • بدگمانی ایک زہر ہے  تحریر: معین وجاہت

    بدگمانی ایک زہر ہے تحریر: معین وجاہت

    ‎تبلیغ جماعت والے گشت کررہے تھے کہ ایک صاحب کو گھر میں داخل ہوتے ہوٸے دیکھا تبلیغی جماعت والے بھی اس کے پیچھے گٸے اور دروازہ کھٹکھٹایا تو ایک بچہ باہر آیا تبلیغی جماعت کے امیر صاحب نے کہا کہ فلاں صاحب گھر پر ہے جو اب ہمارے سامنے گزرگئے بچے نے کہا میں دیکھتا ہوں بچہ گھر گیا اور واپس آکر کہا وہ گھر پر نہیں ہے،امیر صاحب کو اندازہ ہوا کہ اب تو سب کو بدگمانی ہوگی تو کہا کہ دیکھو پیچھے بھی دروازہ ہے شاید وہ گھر آیا ہو اپنی ضرورت پورا کرکے پھر کسی کام کے لیے گیا ہو۔
    ‎تو غور کریں تبلیغی جماعت کے امیر صاحب نے کتنا اچھا گمان کیا۔ہمیں بھی چاہیے کہ ہر کسی پر اچھا گمان کرنا چاہیے۔آج کل بہت سے لوگ دوسروں کے بارے میں بدگمانی کا شکار ہوجاتے ہیں۔
    ‎کسی بات کی تحقیق کٸے بغیر کسی شخص کے بارے میں کوٸی برا خیال قاٸم کرلینا کہ اس نے شاید ایسا کیا ہوگا یہ بدگمانی ہے۔اپنی طرف سے کسی شخص کے بارے میں کوٸی خیال گھڑلینا ،یا معمولی سی بات کسی کے اندر نظر آٸی اور اس پر اپنی طرف سے ہواٸی قلعے تعمیر کرلینا اور اوراس کے بارے میں بدگمانی میں متبلا ہونا گناہ ہے۔جب تک کسی کے بارے میں کوٸی بات دلاٸل کے ساتھ آنکھوں سے مشاہدہ کرکے ثابت نہ ہوجاٸے تو اس وقت تک ہمیں کسی کے کےبارے میں کوٸی برا گمان نہیں کرنا چاہیے۔
    ‎معاملات میں بھی ہم بغیر تحقیق کے لوگوں پر بدگمانی کرتے ہیں۔کوٸی ہمارا فون نہ اٹھاٸے تو ہمیں یہ گمان نہیں کرنا چاہیے کہ وہ اپنے آپ کو بہت بڑا سمجھتا ہے اس لیے اب ہمارا فون بھی نہیں اٹھاتا،ہوسکتا ہے وہ کسی کام میں مصروف ہو اس میں بہت احتمالات ہوسکتے ہیں۔اسی طرح اگر کسی کے پاس آپ نے دیکھا کہ بہت ذیادہ روپے پیسے ہیں تو یہ گمان نہیں کرنا چاہیے کہ حرام کا پیسہ ہے،حرام خوری کرتا ہے تو یہ بدگمانی ہے۔
    ‎اور یہ ایک ایسا زہر ہے جب آدمی اس میں مبتلا ہوجاتا ہے تو اسے ہر آدمی چور،بےایمان،بدفطرت اور بدکردار دکھاٸی دینے لگتا ہے۔
    ‎عربی کا مقولہ ہے:
    ‎سوء الظن مرض یقتل کل شیی جمیل
    ‎”یہ بدگمانی ایسا گناہ ہے جو ہر چیز کے نکھار کو ختم کردیتا ہے“
    ‎ابن ابی الدنیا کی کی کتاب ”حسن ظن باللہ“میں آیات اور احادیث کے 150 نصوص پیش کٸے گٸے ہیں جن کا خلاصہ یہ ہے کہ لوگوں پر نیک گمان رکھیں اور بدگمانی سے بچیں۔
    ‎اس لیے ہمیں بدگمانی سے بچنا چاہیے۔بزرگوں کا فرمان ہے کہ بدگمانی ایک ایسا گناہ ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ آپ کسی پر براٸی کا الزام لگاٸے ہیں اور یہ براٸی کا الزام قیامت کے دن ثابت کرنا ہوگا۔لہذا بدگمانی سے پہلے ہمیں یہ سوچ لینا چاہیے کہ یہ بدگمانی مجھے قیامت کے دن ثابت کرنی ہوگی۔یہ بدگمانی بیشک کسی رشتہ دار کے بارے میں ہو،یا عام انسان کے بارے میں ہو،یا کسی عالم کے بارے میں ہو۔
    ‎اور یاد رکھنا چاہیے بدگمانی ایک ابتداء ہے جس کی انتہاء غیبت اور بہتان پر ہوتی ہے۔
    ‎اللہ تعالی ہمیں بدگمانی سے بچنے کی توفیق عطا فرماٸیں۔