Baaghi TV

Category: مذہب

  • لَا تَقۡنَطُوۡا مِنۡ رَّحۡمَۃِ اللّٰہِ ؕ  تحریر: نصرت پروین

    لَا تَقۡنَطُوۡا مِنۡ رَّحۡمَۃِ اللّٰہِ ؕ تحریر: نصرت پروین

    "کبھی مایوس مت ہونا اندھیرا کتنا گہرا ہو”
    آج مایوسی چھوت کی بیماری کی طرح لوگوں کو اپنی لپیٹ میں لے رہی ہے۔ ہر کوئی اپنے غموں کے بوجھ لادے ہوئے مایوس نظر آتا ہے۔ کوئی رزق سے پریشان ہے، کوئی جسمانی بیماری میں مبتلا ہے، کوئی رشتوں کے غم لئے ہوئے ہے۔ کوئی عہدہ نہ ملنے پر پریشان ہے اوربعض دین کے راستے پر مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔ تو یاد رکھیں کہ ایمان والے تو زیادہ آزمائے جاتے ہیں اور پھر آزمائش کے بعد وہ دعائیں بھی قبول ہوتی نظر آتی ہیں۔ جنہیں ہم بھول چکے ہوتے ہیں۔ آپ کا محبت کرنے والا رب اپنی بے پناہ رحمت، فضل اور احسان آپ پر نچھاور کرتے ہوئے آپ سے مخاطب ہے۔ الله رحیم و کریم فرما رہے ہیں:

    لَا تَقۡنَطُوۡا مِنۡ رَّحۡمَۃِ اللّٰہِ ؕ
    ترجمہ: الله کی رحمت سے مایوس نہ ہوں۔
    تو مایوس نہ ہوں آپ نے اگر کچھ کھو دیا ہے تو الله رب العزت آپکو اس سے بہتر عطا کرے گا۔ اگر آپکو لگتا ہے کہ آپ بہت سے گناہوں کا بوجھ اٹھائے ہوئے ہیں تو الله کی رحمت آپکو دعوت دے رہی ہے کہ آئیں توبہ کر لیں وہ رحیم ہے وہ الله آپکو رسوا نہیں کرے گا۔
    آپ انبیا کی زندگیوں سے سیکھیں۔ انبیا نے ہر دور میں آزمائشوں کو جھیلا۔ لیکن کبھی مایوس نہیں ہوئے۔ انہوں نے ہمیشہ الله کی رحمت کو آواز دی اور الله تعالیٰ نے اپنی رحمت سے وہ تدابیر کی کہ عقل دنگ رہ جاتی ہے اور یقین پختہ ہو جاتا ہے۔ کہ الله کبھی بھی انسان کو رسوا نہیں کرتا۔
    سیدنا یونس علیہ السلام کو دیکھیں۔ جب وہ اندھیرے میں تھے۔ سمندر کے نیچے کا اندھیرا ، پھر مچھلی کے پیٹ کا اندھیرا اور پھر رات کا اندھیرا یہ سب اندھیرے جمع تھے۔ انہوں نے اندھیرے میں اپنے رب سے فریاد کی۔

    لَّاۤ اِلٰہَ اِلَّاۤ اَنۡتَ سُبۡحٰنَکَ ٭ۖ اِنِّیۡ کُنۡتُ مِنَ الظّٰلِمِیۡنَ ﴿۸۷﴾ۚ ۖ
    ترجمہ: الٰہی تیرے سوا کوئی معبود نہیں تو پاک ہے بیشک میں ظالموں میں ہوگیا۔
    (سورہ انبیاء: 87)
    الله تعالیٰ نے ان کی فریاد قبول کی اور مچھلی نے الله کے حکم سے آپ علیہ السلام کو اگل دیا۔ تو انسان بھی جب مشکل میں ہو تو رب العزت سے اسکی توحید بیان کر کے اپنی خطاؤں کا اقرار کر کے ایسے فریاد کرے۔ الله کی رحمت تو بے شمار ہے۔

    سیدنا ابو ھریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلہ الله علیہ وسلم نے فرمایا: جب الله نے مخلوق کو پیدا کیا تو اپنے پاس موجود اپنی کتاب میں لکھ دیا: میری رحمت میرے غصے پر غالب ہوگی۔
    (صحیح مسلم:6969)
    سیدنا انس بن مالک رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: الله تعالیٰ اپنے بندے کی توبہ پر تم میں سے جب کوئی بیدار ہونے پر سنسنان زمین میں اپنے گمشدہ اونٹ کو پالے اس سے بھی زیادہ خوش ہوتے ہیں۔
    (مسلم:6961)
    آپ سیدنا زکریا علیہ السلام کی زندگی سے سیکھیں۔ انہوں نے اپنے رب سے صالح اولاد کی دعا کی۔ اور الله رب العزت نے اس کے باوجود کہ انکی بیوی بانجھ تھی اور وہ خود بوڑھے تھے انہیں سیدنا یحییٰ علیہ السلام کی خوشخبری سنائی۔ آج کتنے ہی لوگ ہیں جو بے اولاد ہیں اور وہ مایوسی کی لپیٹ میں لوگوں سے گلے شکوے کرتے ہیں کہ الله اولاد نہیں دے رہا۔ تو یہاں الله رب العزت تسلی دے رہا ہے کہ جو رب اس طرح زکریا علیہ السلام کو اولاد جیسی نعمت سے نواز سکتا ہے وہ رحیم و کریم رب آپکو کیسے محروم کر سکتا ہے۔ اور سیدنا یعقوب علیہ السلام کو دیکھیں انہوں نے اپنے رب سے فریاد کی اور بہترین صبر کا مظاہرہ کیا اور الله نے کیسے انہیں سیدنا یوسف علیہ السلام سے ملایا۔سیدنا یعقوب علیہ السلام کی یہ فریاد آپ بھی اپنی زندگی میں شامل کر لیں لوگوں کو نہ بتائیں کہ میں بہت تکلیف میں ہوں اپنے رب کو پکاریں۔ اسی سے فریاد کریں۔

    قَالَ اِنَّمَاۤ اَشۡکُوۡا بَثِّیۡ وَ حُزۡنِیۡۤ اِلَی اللّٰہِ وَ اَعۡلَمُ مِنَ اللّٰہِ مَا لَا تَعۡلَمُوۡنَ ﴿۸۶﴾
    ترجمہ: انہوں نے کہا کہ میں تو اپنی پریشانیوں اور رنج کی فریاد اللہ ہی سے کر رہا ہوں مجھے اللہ کی طرف سے وہ باتیں معلوم ہیں جو تم نہیں جانتے ۔
    (سورہ یوسف: 86)
    آپ غور کریں کیسے الله سبحان و تعالیٰ نے سیدنا یوسف علیہ السلام کو ایک کنویں کے توسط سے بادشاہی عطا کی۔
    سیدنا نوح علیہ السلام کی ساڑھے نو سو سال تبلیغ کے باوجود جب ان کی قوم نے انہیں جھٹلایا ہوئے وہ بے بس ہو گئے تو اپنے رب کو اپنی بے بسی بتائی تو الله نے کیسے ان کی مدد کی اور نافرمانوں کو ہلاک کر دیا تو جب آپ بے بس ہوں تو آپ بھی اپنے رب کو بتائیں۔

    فَدَعَا رَبَّہٗۤ اَنِّیۡ مَغۡلُوۡبٌ فَانۡتَصِرۡ ﴿۱۰﴾
    ترجمہ:پس اس نے اپنے رب سے دعا کی کہ میں بے بس ہوں تو میری مدد کر ۔
    (سورہ القمر: 10)
    سیدنا ایوب علیہ السلام کی زندگی دیکھیں الله پاک نے ان سے کتنا سخت امتحان لیا جسم میں جذام پھوٹ پڑا۔ اولاد مال سب کچھ چلا گیا۔ شہر کے ایک ویران گوشے میں آپ نے سکونت اختیار کی۔
    یزید بن میسرہ فرماتے ہیں جب آپ کی آزمائش ہوئی تو اہل و عیال مر گئے۔ مال فنا ہوگیا۔ کوئی چیز ہاتھ تلے نہ رہی۔ آپ علیہ السلام الله کے ذکر میں اور بڑھ گئے اور کہنے لگے: اے تمام پالنے والوں کے پالنے والے تو نے مجھ پر بڑے احسان کئے۔ مال دیا اولاد دی۔ میرا دل بہت مشغول ہوگیا تھا۔ اب تونے سب کچھ لے لیا میرے دل کو ان فکروں سے پاک کر دیا۔ اب میرے دل میں اور تجھ میں کوئی حائل نہیں رہا۔
    (ابن ابی حاتم)

    وَ اَیُّوۡبَ اِذۡ نَادٰی رَبَّہٗۤ اَنِّیۡ مَسَّنِیَ الضُّرُّ وَ اَنۡتَ اَرۡحَمُ الرّٰحِمِیۡنَ﴿ ۸۳﴾ۚ ۖ
    ترجمہ: ایوب ( علیہ السلام ) کی اس حالت کو یاد کرو جبکہ اس نے اپنے پروردگار کو پکارا کہ مجھے یہ بیماری لگ گئی ہے اور تو رحم کرنے والوں سے زیادہ رحم کرنے والا ہے ۔
    (سورہ انبیاء:83)
    سیدنا ایوب علیہ السلام صبر کا پہاڑ اور ثابت قدمی کا بہترین نمونہ تھے۔ آپ نے الله سے رحمت کی دعا کی تو الله نے آپکو سب کچھ واپس لوٹا دیا۔
    آج اپنا جائزہ لیجیے۔ آپ کنتے فی صد مایوس ہیں؟ اپنی زندگی سے مایوسی کے پہاڑ کو نکال کر الله کی رحمت سے امید لگائیں۔ زندگی اگر آپ سے کوئی امتحان لے رہی ہے تو مایوس نہ ہوں انبیا کی زندگیوں کا مطالعہ کریں ان کا لائحہ عمل اپنائیں اور الله کی رحمت کے حصار کو محسوس کریں۔ اور پھر الله کی مدد ایسے آپ تک آئے گی کہ آپکو لگے گا معجزہ ہوگیا۔
    جزاکم الله خیراًکثیرا
    @Nusrat_writes

  • اللہ کی طرف سے آزمائش تحریر:حسیب احمد

    اللہ کی طرف سے آزمائش تحریر:حسیب احمد

    "اللہ کی طرف سے آزمائش”

    اللہ تعالٰی اپنے بندوں کو آزمائش میں ڈالتے ہیں کیوں کہ اللہ پاک دیکھنا چاہتے ہیں کہ اس کے بندے کتنا صبر و تحمل سے کام لیتے ہیں۔ کرونا بھی اللہ کی طرف سے آزمائش ہے اور اللہ چاہتا ہے انسان جیسے میں نے اشرف المخلوقات کا لقب دیا وہ کیسے میری اس آزمائش سے خود کو کامیاب کرتا ہے۔ اللہ نے ہمیں آزمائش میں بھی ڈالا تو ہمیں اس سے بچنے کا حال بھی دیا وہ ویکسین کی صورت میں۔

    اللہ کی طرف سے آزمائش کسی پر آسکتی ہے اس بار پوری دنیا پر آئی ہے تاکہ اللہ پاک کو بھی اندازہ ہوسکے کہ اس کی اشرف المخلوقات کس طرح اس آزمائش کا ڈٹ کر مقابلہ کرتی ہے اور یہ وقت سیاست کا نہیں ہے۔

    اللہ پاک ہمیں اس قابل سمجھتے ہیں اس لیے تو ہمیں ازما رہے ہیں کیوں کہ اللہ آزمائش کے لیے بھی اس بندے کا انتخاب کرتا ہے جس کو وہ اس کے قابل سمجھتا ہے۔ آزمائش تو ختم ہوجائے گی بس ہمیں اپنا اعتماد اللہ پر ہمیشہ برقرار رکھنا ہے۔

    آزمائش صرف کرونا کی صورت میں نہیں بلکہ پیسوں کی ضرورت کی صورت میں، نوکری کی صورت میں ہوتی ہیں اور اس سے اللہ دیکھتا ہے بندہ کوئی غلط راستے کا انتخاب تو نہیں کرتا۔ اگر بندے کا اللہ پر یقین ہوتا ہے تو چاہے دنیا کی کوئی بھی طاقت ہو اس بندے کا ایمان اور یقین نہیں بدل سکتا۔

    اللہ کے سامنے امیر غریب سب برابر ہیں اور وہ یہ نہیں دیکھتا ازماتے وقت کہ بندہ امیر ہے یا غریب۔ وہ ازماتا ہے اور اس وقت بندے کا امتحان ہوتا ہے کہ وہ کچھ ایسا نا کردے جس سے اللہ ناراض ہو اور بندے کو گناہ گار قرار دے دے۔

    اللہ کی آزمائش سے ڈریں نا اور اس کی آزمائش کا سامنا کرنا سیکھیں وہ اپنے بندے سے بہت پیار کرتا ہے۔ جتنا ایک ماں اپنے بچے سے کرتی ہے اس سے 70 گنا زیادہ پیار کرتا ہے۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے اللہ کے لیے اس کے بندے کیا مقام رکھتے ہیں۔

    اللہ سب کو اپنی آزمائش کا مقابلہ کرنے کی توفیق دے اور سب انسانوں کو کرونا جیسی آزمائش سے مقابلہ کرنے کی ہمت دے اور اس کو اتنا مضبوط بنائے کہ وہ کسی آزمائش سے ڈر کر پیچھے نا ہٹ جائے۔

    اللہ ہم سب کا حامی و ناصر ہو اور دنیا بھر کے سب انسانوں پر اپنا خاص کرم برقرار رکھے آمین

  • پتھروں کی حقیقت اور قرآن  تحریر: زبیر احمد

    پتھروں کی حقیقت اور قرآن تحریر: زبیر احمد

    کہتے ہیں تجسس کامیابی کی پہلی سیڑھی ہے، آج سے ہزاروں لاکھوں سال پہلے جب انسان زمین میں موجود اشیاء سے اپنا تعلق قائم کرنے میں کامیاب ہونے لگا تو اس کی نظر خوبصورت پتھروں پر پڑی۔کچھ لوگ ان پتھروں پر عقیدہ کی حد تک یقین کرنے لگے تو کچھ نے انہیں زیورات کے طور پہ استعمال کیا۔ یہ خوبصورت پتھروں زمانہ قدیم سے ہی بادشاہوں اور عام لوگوں میں کافی مقبول رہے ہیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ انگلیوں میں پہنے جانے والے ان پتھروں اور نگینوں کی افادیت کے بارے میں اسلام ہماری کیا رہنمائی کرتا ہے۔ کیا یہ پتھر تقدیر بدلنے اور نفع دینے کی طاقت رکھتے ہیں. کچھ لوگ ان پتھروں اور زیورات کے لئے استعمال ہونے والی مختلف دھاتوں کے بارے میں کچھ ایسی غیر حقیقی باتیں بھی مانتے ہیں کہ یہ پتھر انسانی جسم پر اچھے اثرات مرتب کرتے ہیں اور مختلف قسم کی بیماریاں ختم کرتے ہیں انسانی جسم میں فائدہ مند مواد بناتے ہیں۔ اگر واقعی ایسا ممکن ہوتا تو آج کے دور کی ترقی یافتہ میڈیکل اور میڈیسن سائنس طرح طرح کی جڑی بوٹیوں اور جسم کے اندر داخل کئے جانے والے مواد کی دوائیاں بنانے میں جان کھپانے کی بجائے ان پتھروں اور دھاتوں کے ذریعے علاج کرتے نظر آتے۔ قرآن مجید میں بھی کئی جگہ ان موتیوں کا ذکر محض زیبائش کے لئے استعمال ہوا ہے نہ کہ اس کے کوئی فوائد بیان کئے گئے ہیں۔ سورہ رحمان کی آیت نمبر 22 اور 58 کا ترجمہ ہے "وہ حوریں خوبصورت ایسی جیسے یاقوت اور مرجان ہوں” اور ان دونوں سمندروں سے موتی اور مونگے نکلتے ہیں” ایسے ہی سورہ واقعہ میں اللہ تعالٰی فرماتے ہیں کہ وہ حوریں چھپے ہوئے موتیوں کی طرح ہیں۔ نبیﷺ ہاتھ کی سیدھی انگلی میں عقیق پہنتے تھے لیکن وہ محض زیبائش کے لئے تھا۔ عقیق کو سنت نبویﷺ کی پیروی کے لئے تو پہنا جاسکتا ہے لیکن کسی نفع کے حصول کے لئے نہیں۔ ارشاد خداوندی یا حدیث کے مفہوم میں یہ کہیں نہیں لکھا کہ اس قسم کے پتھروں سے کوئی مالی نفع یا نقصان ہوتا ہے بلکہ یہ صرف زینت کے لئے استعمال ہوتے ہیں۔ قرآن مجید میں اللہ تعالٰی انسانوں کو کچھ یوں پیغام دیتے ہیں کہ سب کارساز اور کاتب تقدیر وہی ایک ذات ہے جو انسان کی شہ رگ سے بھی زیادہ قریب ہے اور انسان کو اتنا ہی ملتا یے جتنی اس نے کوشش کی ہوتی ہے۔
    اس سے واضح ہوتا ہے کہ ان پتھروں کے پہننے سے نہ رزق میں فائدہ ہوگا نہ ہی نقصان نہ ہی یہ کسی بیماری کا علاج ہیں۔
    اللہ ہمیں وہ عقائد اپنانے اور عمل کرنے کی ہمت اور توفیق دے جن پر اللہ راضی ہوتا ہے اور ہر شر اور گمراہی سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین
    (twitter @KharnalZ)

  • دین اسلام میں یتیوں کے حقوق تحریر: محمد آصف شفیق

    دین اسلام میں یتیوں کے حقوق تحریر: محمد آصف شفیق

    والدین زندہ ہوں تو وہ شجر سایہ دار ہوتے ہیں اللہ رب العالمین سب کے والدین کا سایہ ان کے سروں پر سلامت رکھیں اور یتیمی کا دکھ کسی کو نہ دیں آمین ، دین اسلام میں یتیم کی کفالت اور دیکھ بھال پر ا للہ رب العالمین نے اپنے بندوں کو نبی رحمت ﷺ کے زریعے سے بہت سی نصیحتیں کیں ہیں اور انعامات کا بھی وعدہ فرمایا ہے آج ہم کوشش کریں گے کہ یتیموں کے حقوق کے حوالے سے نبی کریم ﷺ کے احکامات کو سمجھنے کی کوشش کریں گے
    یتیم :اردو لغت میں تنہا رہ جانے والا یا ایسا شخص جس کی طرف سےغفلت برتی جائے کے معنی میں استعمال ہوتا ہے
    حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا مسلمانوں میں سب سے بھلاگھر وہ ہے جس میں یتیم ہو اور اس کے ساتھ اچھا برتاؤ کیا جاتا ہو اور مسلمانوں میں سب سے برا گھر وہ ہے جس میں یتیم ہو اور اس کے ساتھ بدسلوکی کی جاتی ہو۔سنن ابن ماجہ:جلد سوم:حدیث نمبر 559
    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں اور یتیم کی پرورش کرنے والا دونوں جنت میں اس طرح ہوں گے اور شہادت اور درمیان والی انگلی سے اشارہ فرمایا اور ان کے درمیان ذرا کشادگی رکھی۔صحیح بخاری:جلد سوم:حدیث نمبر 288

    حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سات ہلاک کرنے والی باتوں سے دور رہو۔ لوگوں نے پوچھا یا رسول اللہ وہ کونسی باتیں ہیں فرمایا اللہ کے ساتھ شرک کرنا اور جادو کرنا اور اس جان کا ناحق مارنا جس کو اللہ تعالیٰ نے حرام کیا ہے اور سود کھانا، اور یتیم کا مال کھانا، اور جہاد سے فرار یعنی بھاگنا اور پاک دامن بھولی بھالی مومن عورتوں پر زنا کی تہمت لگانا۔صحیح بخاری:جلد دوم:حدیث نمبر 42

    حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں آپ نے فرمایا کہ سات مہلک چیزوں سے بچو، لوگوں نے عرض کیا یا رسول اللہ وہ کیا چیزیں ہیں؟ آپ نے فرمایا کہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک کرنا اور جادو اور جس جان کو اللہ تعالیٰ نے حرام کیا ہے اس کا سوائے حق کے قتل کرنا اور سود کھانا، اور یتیم کا مال کھانا، اور جنگ کے دن پشت پھیر کر بھاگ جانا اور غافل، مومن، پاک دامن عورتوں پر زنا کی تہمت لگانا۔صحیح بخاری:جلد سوم:حدیث نمبر 1789

    حضرت ابوذر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اے ابوذر رضی اللہ تعالیٰ عنہ میں تجھے ضعیف ونا تو اں خیال کرتا ہوں اور میں تیرے لئے وہی پسند کرتا ہوں جو اپنے لئے پسند کرتا ہوں تم دو آدمیوں پر بھی حاکم نہ بننا اور نہ مال یتیم کا والی بننا۔صحیح مسلم:جلد سوم:حدیث نمبر 223

    حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کسی یتیم بچے کی کفالت کرنے والا اس کا کوئی قریبی رشتہ دار یا اس کے علاوہ اور جو کوئی بھی ہو اور وہ جنت میں اس طرح ہوں گے حضرت مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے شہادت کی اور درمیانی انگلی سے اشارہ کرکے بتایا۔صحیح مسلم:جلد سوم:حدیث نمبر 2968

    حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص سے روایت ہے کہ ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا میں فقیر ہوں میرے پاس کچھ نہیں ہے البتہ میرے پاس ایک یتیم بچہ ہے۔ آپ نے فرمایا تو اس کے مال میں سے کھا بغیر فضول خرچی کے اور بغیر ڈرے ہوئے اس کے بڑے ہوجانے سے اور بغیر پونجی بنانے کے اس کے مال سے۔سنن ابوداؤد:جلد دوم:حدیث نمبر 1105

    حضرت عمرو بن شعیب سے روایت ہے کہ وہ اپنے والد ماجد سے روایت کرتے ہیں کہ ایک شخص حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس نے عرض کیا کہ میں فقیر ہوں میرے واسطے کچھ بھی (مال وغیرہ) موجود نہیں ہے اور ایک یتیم بچے کا میں ولی بھی ہوں۔ آپ نے فرمایا تم اپنے یتیم کے مال میں سے کچھ کھا لیا کرو لیکن تم فضول خرچی نہ کرنا اور تم حد سے زیادہ نہ کھانا اور نہ تم دولت اکٹھا کرنا۔سنن نسائی:جلد دوم:حدیث نمبر 1609عون بن ابوجحیفہ اپنے والد سے نقل کرتے ہیں کہ ہمارے پاس نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا عامل زکوة آیا اور اس نے مالداروں سے زکوة وصول کرنے کے بعد ہمارے غریبوں میں تقسیم کر دی ایک میں یتیم بچہ تھا پس مجھے بھی اس میں سے ایک اونٹنی دی۔جامع ترمذی:جلد اول:حدیث نمبر 632

    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جو شخص مسلمانوں میں سے کسی یتیم کو اپنے کھانے پینے میں شامل کرے گا اللہ تعالیٰ بے شک وشبہ اسے جنت میں داخل فرمائے گا۔ مگر یہ کہ کوئی ایسا عمل کرے جس کی بخشش نہ ہو۔جامع ترمذی:جلد اول:حدیث نمبر 2001

    حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اے اللہ میں دو نا تو انوں کا حق (مال) حرام کرتا ہوں ایک یتیم اور دوسرے عورت ۔سنن ابن ماجہ:جلد سوم:حدیث نمبر 558

    حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا بدخلق شخص جنت میں نہ جائے گا۔ صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم نے عرض کیا اے اللہ کے رسول آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تو ہمیں بتایا ہے کہ اس امت میں پہلی امتوں سے زیادہ غلام اور یتیم ہوں گے ؟ (بہت ممکن ہے کہ بعض لوگ ان کے ساتھ بدخلقی کریں) فرمایا جی ہاں لیکن ان کا ایسے ہی خیال رکھو جیسے اپنی اولاد کا خیال رکھتے ہو اور انہیں وہی کھلاؤ جو خود کھاتے ہو۔ صحابہ نے عرض کیا ہمیں دنیا میں کونسی چیز فائدہ پہنچانے والی ہے ؟ فرمایا گھوڑا جسے تم باندھ رکھو اس پر سوار ہو کر اللہ کے راستہ میں لڑو تمہارا غلام تمہارے لئے کافی ہے اور جب وہ نماز پڑھے (مسلمان ہو جائے) تو وہ تمہارا بھائی ہے ۔سنن ابن ماجہ:جلد سوم:حدیث نمبر 571

    نبی کریم ﷺ جہاں یتیوں کے خیال رکھنے پر انعامات کا وعدہ کیا ہے وہیں ان کے ساتھ بدسلوکی اور نا جائز ان کے مال ودولت پر قبضہ کرلینے پر سخت ترین سزا کا مستحق بھی بتایا ہے
    جس گھر میں یتیم ہو اس سے اچھا سلوک کریں تو وہ سب سے اچھا گھر کہا گیا اور جس گھر میں یتیم ہو اس سے برا سلوک کیا جائے اسے برا ترین گھر کہا
    اللہ تعالیٰ ہمیں یتیموں سے اچھا برتاو کرنے اور سنت محمدی ﷺ پر عمل کرتے ہوئے نبی مہربان ﷺکا ساتھ نصیب فرمائیں

    @mmasief

  • کربلا،  وادی کرب و بلا . تحریر: سید غازی علی زیدی

    کربلا، وادی کرب و بلا . تحریر: سید غازی علی زیدی

    اہل بیت کے مقدس خوں سے رنگین، مکر و فریب سے اٹی، بے وفائی سے بھری، عشقِ حقیقی کے پروانوں کی اک داستان الم

    حق و صداقت
    صبر و استقامت
    فلسفہ شہادت
    حسین کی عظمت
    یزید نشان عبرت

    عراق، 61 ہجری، ماہ محرم الحرام، وادی کربلا کا المناک منظر: تپتا ریگستان, دہکتا آسمان، دشمن قہرمان، لیکن رب مہربان۔
    نواسہ رسول ﷺ، جگر گوشہ بتول ؓ کی شہادت، جب روشن سورج سیاہ ماتمی لباس پہن کر افق پر نمودار ہوا۔ تاریخ انسانی کی وہ خونیں شام جب امام عالی مقام ؓ اور اہل بیت کے مقدس لہو سے دریائے فرات آگ و خون کا دریا بنا۔
    اپنوں کی غداری اور سفر کی صعوبتیں سہنے کے باوجود، اس وادی پرخار میں اہل بیت کی آن و شان پوری تب و تاب کے ساتھ قائم دائم تھی۔ جرآت و شجاعت سے لبریز کیا بچے کیا بوڑھے، دین کی سربلندی جن کا مقصد حیات تھا، وہ کہاں ان مشکلات کو خاطر میں لاتے تھے۔ یہ حق کی اذان اور باطل کی پکار کا مقابلہ تھا۔ کوئی معمولی دنگل نہیں بلکہ وہ عظیم الشان معرکہ تھا جس نے تاقیامت حسینیت اور یزیدیت میں فرق واضح کردیا۔ چشم فلک نے نہ پہلے کبھی ایسا مقابلہ دیکھا نہ خاک ارض کبھی ایسے مقدس لہو سے تر ہوئی۔

    جو کربلا میں شاہِ شہیداں سے پھِر گئے
    کعبہ سے منحرف ہوئے قرآں سے پھِر گئے

    حق و باطل مدمقابل تھے، نواسہ رسولﷺ کا امتحان تھا اور وہ برگزیدہ ہستی کیا خوب کامیاب ہوئی کہ اس رسم حسینی کی بنیاد ڈال دی جو آج 1400 سال گزرنے کے باوجود بھی زندہ و جاوید ہے۔ ایک دین کیلئے کٹ کر بھی ہمیشہ کیلئے امر ہو گیا تو ایک فاتح ہو کر بھی روز محشر تک ملعون ٹھہرا۔ جنت کے جوانوں کا سردار روز حشر جب یزید کا گریبان پکڑے گا تو کیا یزید اور اس کے چیلوں کے پاس کوئی جائے پناہ ہوگی؟ کیا سرور کائنات ﷺکے اس فرمان عالیشان کے بعد بھی یزید کیلئے کوئی جائے پناہ ہو گی؟
    ’’جس نے ان دونوں (حسنؓ اور حسینؓ) سے محبت کی اس نے مجھ سے محبت کی اور جس نے ان دونوں سےدشمنی کی اس نے مجھ سے دشمنی کی‘‘۔ (متفق علیہ)

    یہ کوئی عام قصہ نہیں بلکہ جرآت و استقلال کی وہ لازوال داستان ہے جس نے تاریخ انسانی کو ایک نیا موڑ دیا۔ وہ ناقابلِ فراموش دن، جب سیدنا امام حسینؓ نے حق و انصاف اور سربلندی اسلام کیلئے سر مبارک کٹا تو دیا لیکن جھکایا نہیں۔ نظام خلافت کو ملوکیت و موروثیت میں بدلنے والوں کیخلاف علم جہاد بلند کیا اور اس دن اہل بیت کے مقدس لہو کے غسل نے اسلام کو نئے سرے سے جلا بخش کر ہمیشہ کیلئے رسم حسینی کی بنیاد ڈال دی۔ تاریخ شاہد ہے کہ جب بھی کبھی اسلام پر کفر و ظلمت کے سائے چھائے، تب امام عالی مقام ؓ کی تقلید ہی واحد راہ نجات ثابت ہوئی۔

    بیعت یزید کے انکار نے تاقیامت ظالم و جابر حکمران کے سامنے کلمہ حق بلند کرنے کی جرات مندانہ روایت قائم کر دی۔ امام عالی مقام ؓ نے اپنی عظیم و الشان شہادت کے زریعے، اللّٰہ کی حکمرانی اور اللّٰہ کے رسول ﷺ کے قانون کے نفاذ کا عالمگیری پیام اہل حق تک پہنچا دیا۔ وہ عظیم پیغام جس پر عمل پیرا ہونے میں ہی نہ صرف مسلمانوں بلکہ انسانیت کی نجات ہے۔

    مطلق العنان یزید کیخلاف للکار دراصل استعماریت و استکباریت کیخلاف علم بغاوت بلند کرنا تھا۔ آغوش نبوت میں پرورش پانے والے نواسہ رسولﷺ، جگر گوشہ بتول ؓ، فرزند حیدر کرار ؓ امام عالی مقام نے احیائے اسلام کی خاطر جو لازوال داستان شجاعت رقم کی وہ حریت پسندوں اور راہ عشق کے مسافروں کیلئے اعلیٰ ترین نمونہ ہے۔

    تاریخ کے ان سیاہ ترین دنوں کا تصور کرنا بھی ہم گنہگاروں کیلئے محال ہے کجا یہ کہ اس دردناک واقعہ کو احاطہ تحریر میں لانا۔ ہوس اقتدار کے مارے ہوئے خودساختہ جابر حاکم کے سامنے سینہ سپر باکردارنوجوانان اہل بیت و اطہار کی بے مثال دلیرانہ شہادت کا معاملہ ہو یا شیر خوار معصوم پھولوں کی پیاس سے تڑپ کا احوال، علم اسلام کی سربلندی کیلئے شجیح مردان حق کا عزم مصمم ہو یا خانوادہ رسول ﷺ کی عفت مآب بیبیوں کی فاسق و فاجر یزید کے دربار میں بآواز بلند للکار، ہر ہر سانحہ جلال حیدری کی یاد تازہ کرتا ہے۔ نہ کوئی ڈر و خوف، نہ جاہ و حشم کی چاہ، نہ اقتدار کا لالچ، نہ جانوں کی پروا؛ ایسی جرات، ایسی جوانمردی، ایسا استقلال سوائے اہل بیت کے کون بھلا دکھا سکتا تھا؟؟

    حقیقتِ ابدی ہے مقامِ شبیری
    بدلتے رہتے ہیں اندازِ کوفی و شامی

    آج حسینیت، مسلم و غیر مسلم کے فرق سے بالاتر، ہر مظلوم مگر عزم و ہمت کے پیکر کیلئے ایک عظیم درسگاہ کی حیثیت رکھتی ہے پھر چاہے وہ مطلق العنان بادشاہ ہو یا ظلم وبربریت کا نظام حکومت۔
    جہاں بھی کہیں کوئی ظالم اپنی حدود پھلانگتا ہے وہیں تاریخ کے دریچوں میں جلوہ گر خانوادہ رسولﷺ کی بے مثال قربانی، مظلومین کے لئے مشعل راہ کا کام دیتی ہے ۔

    قتلِ حسین اصل میں مرگِ یزید ہے
    اسلام زندہ ہوتا ہے ہر کربلا کے بعد

    واقعہ کربلا صرف قربانی کا درس نہیں دیتا بلکہ یہ تو عشق حقیقی میں اپنا سب کچھ تیاگ دینے والوں کی داستان مہر و وفا ہے جو تاقیامت ظلمت کے اندھیروں سے نبردآزما، راہ عشق کے مسافروں کیلئے روشن چراغ اور اہل بیت کی محبت سے سرشار ہم عاصیوں کیلئے توشہ آخرت ہے۔

    اے اہلِ بیتِ مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
    یہ نذرانہ گر قبول افتند زے عز و شرف

    @once_says

  • ‏عالم امید سے عالم ناامیدی کی طرف سفر  تحریر: عائشہ رسول

    ‏عالم امید سے عالم ناامیدی کی طرف سفر تحریر: عائشہ رسول

    کائنات کا یہ چھوٹا سا کرہ ارض جسے ہم دنیا کہتے ہیں ایسے کروڑہا کرےّ ہیں جن میں اللہ کی مخلوق ہے . دنیا جہاں میں بسنے والوں کو انسان کہتے ہیں۔
    خالق مطلق کا انسان پر سب سے عظیم احسان یہ ہے کہ اس نے زندگی اور موت کا راز پنہاں رکھاہے…قلوب انسانی اور قلوب حیوانی میں فرق صرف احساس ہے.. اگر انسان کو موت کے وقت کا یقین ہو جائے تو اس کی زندگی میں سے یکسوئی نکل جائے. یکسوئی وہ احساس ہے جس پر زندگی قائم ہے.

    انسان سمجھتا ہے مرجانے کے بعد اس کے سر سے گناہوں کا بوجھ اتر جائے گا. ہاں لیکن وہ بوجھ روح اٹھائے رکھے گی.
    دانائی ایسی میں ہے کی صراط مستقیم پر سے خیرو عافیت سے گزرنے کی تیاری کی جائے
    ہمیں سوچنا چاہیے کہ ہم کیا کر رہے ہیں اور ہمیں کیا کرنے کا حکم دیا گیا ہے.
    ہمارا زندگی اور موت پر کیا اختیار ہے. حثیت کیا ہے. منزل مقصود ہمیں معلوم ہونی چاہئے. عذابِ الٰہی اور اذیت قبر کی خبر ہونی چاہئے
    راہ غیر مستقیم پر چلنے والا انسان نہیں جانتا اور نہ جاننے کی کوششں کرتا ہے کہ اس کی ابتدا جراثیم حیات اور اسکی انتہا خوراک حشرات ہے. پہلے وہ اپنی ضروریات زمین سے حاصل کرتا ہے بعد میں اُسکا جسم زمین کی ضرورت بن جاتا ہے. پہلے وہ اسی مٹی سے پیدا ہوا مرنے کے بعد اُسی مٹی ملا دیا جائے گا
    اے غافل انسان ! تیرا سفر عالم امید سے عالم ناامیدی کی طرف ہے. خدا نے جو کچھ تجھے عطا کیا ہے اس پر تجھے اختیار بھی دیا گیا ہے مگر حدود کا تعین بھی کر دیا گیا ہے .اس حد سے آگے مت جاؤ جہاں وہ( اللہ) غضب ناک ہوجائے. اس کے غضب کو جو دعوت دیتا ہے وہ انہیں عبرت بنا دیتا ہے
    دنیا مقامِ الوداع ہے اور قبر ابدی اور آخری آرام گاہ….
    دنیا میں جو آئے ہیں وہ جانے کے لئے ہیں اور جو چلے گئے ہیں وہ کبھی لوٹ کر نہیں آئیں گے یہ ہی دنیا کا اصول ہے
    اللہ تبارک وتعالیٰ ہمیں اپنے اس دنیا میں آنے کے مقصد کو سمجھنے اور سچی توبہ اور آخرت کی تیاری کرنے کی توفیق دے
    آمین…

    Official Twitter Handle
    ‎@Ayesha__ra

  • انکار حدیث در اصل انکار دین ہے – محمد نعیم شہزاد

    انکار حدیث در اصل انکار دین ہے – محمد نعیم شہزاد

    انکار حدیث در اصل انکار دین ہے
    محمد نعیم شہزاد

    اسلام ایک الہامی مذہب ہے جس کی بنیاد پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے دعویٰ نبوت پر ہے۔ روایات کے مطابق نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم حق کی تلاش میں سرگرداں رہتے اور اپنا اکثر وقت غار حرا میں گزارتے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سچے خواب آنے کا سلسلہ شروع ہوا۔ آپ جو نیند میں بصورت خواب دیکھتے دن کی روشنی میں بعینہ واقع ہو جاتا۔ پھر ایک دن غار حرا میں جبرائیل علیہ السلام آئے اور وحی الٰہی کا آغاز ہوا۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نبوت کا اعلان کیا تو مشرکین مکہ آپ کے خلاف ہو گئے۔ سمجھنے کے لحاظ سے یہ ایک مرکزی نکتہ ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے دعویٰ نبوت اپنی زبان سے کیا جسے عرف کے مطابق حدیث کہا جائے گا۔ پیغمبر علیہ السلام نے ہی بتلایا کہ یوں مجھ پر وحی کا نزول ہوا اور مجھے نبوت سے سرفراز کیا گیا ہے اور یہ بات پیغمبر علیہ السلام نے ہمیں براہ راست نہیں بتلائی اور نہ ہمیں ایسا کوئی الہام ہوا اور نہ خواب آیا بلکہ اصحاب رسول رضوان اللہ علیہم اجمعین نے یہ بات بیان کی اور محدثین نے اس بات کو نقل کیا ہے۔ اسی بیان روایت اور اسناد حدیث پر دین کی بنیاد ہے۔ تو جو شخص بظاہر احادیث نبوی پر بے اعتباری اور شک کا اظہار کرتا ہے درحقیقت وہ دین کا انکار کرنے کی راہ تلاش کرتا ہے۔

    بالفرض ایسے معترضین کی بات کو مان بھی لیا جائے تو قرآن مجید کے کون سے معنی معتبر ہوں گے۔ زبان و ادب کا ہر طالب علم اس بات سے بخوبی واقف ہے کہ بہت سے الفاظ کثیر المعنی ہوتے ہیں جن کے کئی مطالب و مفاہیم نکلتے ہیں۔ کس عبارت میں کسی لفظ سے کیا مراد لی جائے گی اس کا فیصلہ کون کرے گا؟ اور اگر ہر شخص کو اپنا اپنا معنی و مطلب اخذ کرنے کی آزادی دے دی جائے تو دین ایک کھیل بن کر رہ جائے جو ان معترضین کا اصل ہدف ہے۔

    ایسے بے علم فقیہان سے چند بنیادی سوال کیے جا سکتے ہیں اور ان کے جوابات کا انتظار ہے۔ اس کے بعد ہی بات کچھ آگے بڑھ سکے گی۔

    حدیث کو چھوڑ قرآن کو کافی سمجھنے والوں سے چند بنیادی سوالات

    1. قرآن مجید الہامی کتاب ہے، کلام اللہ ہے اس کی کیا دلیل ہے؟
    2. قرآن مجید میں نازل کردہ احکام اللہ تعالیٰ ہی کی طرف سے نازل شدہ ہیں، اس کا کیا ثبوت ہے؟
    3. قرآن مجید میں ہے کہ کفار و مشرکین نے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم پر اعتراض کیا کہ یہ کلام آپ نے خود بنایا ہے اس کا رد؟
    4. قرآن مجید میں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے اوصاف بیان ہوئے ہیں کہ وہ کتاب و حکمت کی تعلیم دیتے ہیں۔ کتاب و حکمت سے کیا مراد ہے؟
    5. پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی بات کا اعتبار نہ کیا جائے تو قرآن مجید اور وحی الٰہی کو ماننے کی دلیل کیا ہو گی۔

    موسیٰ علیہ کی قوم بنی اسرائیل کا احوال اللہ تعالیٰ نے قرآن میں ذکر کیا ہے کہ وہ عجیب و غریب مطالبات کرتے تھے ۔ انھوں نے مطالبہ کر دیا کہ ہم اس وقت تک ایمان نہ لائیں گے جب تک اللہ کو اپنی آنکھوں نہ دیکھ لیں۔ کسی نے یہ مطالبہ کیا کہ آسمان پر ایک سیڑھی لگا دیجیے جس پر ہم چڑھ سکیں۔ اللہ تعالیٰ ہمارا خالق و مالک ہے اس کے احکام کی تعمیل کے لیے من پسند سوالات اور فرمائشیں کرنا ہمیں زیب نہیں دیتا۔ اور دین میں بے اصل اور بے عقل سوال کرنے والے دین نہیں سیکھتے بلکہ دین کا مذاق اڑاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ دین اسلام کے لیے ہمارے سینوں کو کھول دے اور ہمیں اپنے پسندیدہ بندوں میں شمار کر لے۔

  • تحریک لبیک بمقابلہ سرمایہ دارانہ نظام تحریر : وقاص رضوی جٹ

    تحریک لبیک بمقابلہ سرمایہ دارانہ نظام تحریر : وقاص رضوی جٹ

    تحریک لبیک پاکستان کاقیام 2017میں وجود میں آیا۔ اس تحریک کےقیام کےپیچھےجو وجہ کارفرما تھی وہ ممتاز قادری کی گرفتاری اور سزاۓموت تھی۔ حافظ خادم حسین رضوی نے ممتاز قادری کی رہاٸی کیلیے مذہبی تحریک لبیک یارسول ﷺ کی بنیاد رکھی۔ 2017میں ختم نبوت ﷺکےقانون میں تبدیلی کیخلاف فیض آباد میں تحریک لبیک یارسول اللہ ﷺنےدھرنادیا جسےتاریخ کامیاب دھرناماناجاتاہے۔ اس دھرنےکےبعد اس تحریک کےسیاسی ونگ کےقیام کی ضرورت محسوس کی گٸ اور تحریک لبیک پاکستان کوالیکشن کمیشن میں رجسٹر کروایاگیااور کرین کانشان الاٹ کیاگیا۔ TLPنے2018کےانتخابات میں شاندار کامیابی حاصل کی اور ملک کی چوتھی بڑی سیاسی جماعت بن کرابھری۔ اسکی شاندار کامیابی سے سب چونک اٹھے۔ اور بڑےبڑے مگرمچھ جو گزشتہ 73سالوں سےپاکستان کو نسل در نسل لوٹتےآرہےہیں انہیں اپنی طاقت خطرےمیں پڑتی نظر آٸی ۔غریب جوکٸ سالوں سے معاشی استحصال کاشکارہیں انکو کوٸی آپشن نہیں مل رہاتھا کیونکہ تمام قومی سطح کی سیاسی جماعتیں اشرافیہ کی نماٸندگی کرتی ہیں۔ تحریک لبیک کی بڑھتی ہوٸی مقبولیت سےبڑے بڑے دیاسی برج اور سرمایہ دار خوفزدہ ہیں۔آخر وہ کیاوجہ ہے جس کی وجہ سے بیورو کریسی سےلیکر تاجرمافیا تک اور کرپٹ سیاستدانوں سےلیکر بڑےبڑے میڈیا ہاٶسسز TLP سےخوفزدہ ہیں۔ ان میں سب سے اہم وجہ یہ ہےکہ TLPمتوسط اور غریب طبقےکی جماعت ہے جبکہ تمام بڑی سیاسی جماعتیں ٗ میڈیا ٗ بیوروکریسی ٗ سرمایہ دار ٗ بڑےبڑے عیش پرست گدی نشین سب اشرافیہ کی نماٸندگی کرتےہیں۔ اور پوری دنیاجانتی ہےکہ یہ اشرافیہ کس طرح پاکستان کےغریب اورمتوسط طبقےکاکٸ سالوں سےاستحصال کررہےہیں۔بس یوں سمجھ لیجیے کہ یہ تحریک لبیک بمقابلہ دیگر سیاسی جماعتیں نہیں بلکہ غریب بمقابلہ اشرافیہ کی جنگ ہے۔ اور اس جنگ میں وقتی طور پراشرافیہ جیتتی ہوٸی نظر آرہی ہےکیونکہ یہ پورےسسٹم پر قابض ہے۔مگر یہ ایک لاوا ہے جو پھٹنےوالاہے اور یہ لاوا تمام اشرافیہ اور سرمایہ داروں کو بہاکر لےجاۓگا۔کیونکہ اب غریب کو تحریک لبیک کی شکل میں ایک پلیٹ فارم مل چکاہے۔جلد یا بدیر غریب اور متوسط طبقےسے تعلق رکھنےوالٕےپاکستانیوں کو اس اشرافیہ اور سرمایہ دارانہ نظام سے چھٹکارا ملنےوالاہے۔

    @waqasRizviJutt

  • نماز تحریر : اعجاز حسین

    نماز تحریر : اعجاز حسین

    ہزاروں سوچیں الجھاتی ہیں مجھے
    اور ایک سجدہ سلجھا دیتا ہے سب

    اسلام کے ارکان میں سے ایک رکن نماز کی اداٸیگی ہے۔جو ہر مسلمان مرد اور عورت پر دن میں پانچ مرتبہ فرض کی گٸی ہے۔
    نماز فجر ،نماز ظہر،نماز عصر،نماز مغرب اور نماز عشإ۔
    جس طرح ہر عمارت کی بنیاد ہوتی ہے اور اس بنیاد کے بغیر کوٸی بھی عمارت قاٸم نہیں رہ سکتی اسی طرح نماز کو ”دین اسلام کا ستون“ قرار دیا گیا ہے۔
    نماز کامیابیوں کی کنجی ہے اور سجدہ دل و روح کا سکون ہے۔قیامت کے دن ہر انسان سے پہلا سوال نماز کی اداٸیگی کے متعلق ہو گا۔
    اگر کامیابی چاہتے ہو تو نمازی بن جاٶ،کیونکہ نماز کے بغیر کوٸی بھی کامیابی ممکن نہیں۔
    نماز گناہوں اور بے حیاٸی سے روکتی ہے ۔جیسے سورج کی شعاٸیں کتنی تیز ہوتی ہیں مگر معمولی سے بادل ان تیز شعاٶں کو روک دیتے ہیں اسی طرح گناہ کتنے ہی زیادہ طاقتور کیوں نہ ہوں نماز انہیں روک دیتی ہے۔
    نماز شیطان کی شکست اور مومن کی جیت ہے۔اور نماز فجر انسان کی شیطان کے خلاف دن کی پہلی فتح ہے۔
    یقین کریں کہ نمازِ فجر قاٸم کرنے سے انسان سارا دن رب تعالٰی کی رحمتوں کے ساۓ میں رہتا ہے۔جب ہم نماز محبت سمجھ کر ادا کریں گے تو اللہ تعالیٰ دوسری نماز کیلیے خود کھڑا کر دیگا۔
    جب اللہ تعالٰی ناراض ہوتا ہے تو وہ روٹی نہیں چھینتا بلکہ انسان سے سجدے کی توفیق چھین لیتا ہے۔
    اللہ کے لیے وقت نکالو اور وقت پر نماز ادا کرو اللہ تمہاری زندگی سے برا وقت نکال دیگا۔
    حضرت علیؓ نے فرمایا کہ” نماز کی فکر اپنے اوپر فرض کر لو خدا کی قسم دنیا کی فکر سے آزاد ہو جاٶ گے اور کامیابی تمہارے قدم چومے گی۔“
    نبی کریم ﷺ نے فرمایا” بندہ جب نماز پڑھ رہا ہوتا ہے تو اس کے سر پر نیکی کی بارش ہوتی رہتی ہے۔“
    حضرت علیؓ نے فرمایا” کہ نماز کے لیے سستی ایمان کی کمزوری کی علامت ہے۔“
    اس لیے مسلمان اور نماز میں سستی یہ دو باتیں کبھی جمع نہیں ہو سکتیں نماز جنت کی کنجی ہے۔
    ایک صحابیؓ نے حضورﷺ سے پوچھا ”ہمیں کیسے پتا چلے گا کہ ہماری نماز قبول ہو گٸی ہے،آپﷺ نے جواب دیا ،جب تمہارا اگلی نماز پڑھنے کا دل کرے۔“
    نماز انسان کو مٹی سے سونا بنا دیتی ہے۔نماز ایسے پڑھو جیسے تم سے زیادہ گنہگار کوٸی نہیں بےشک اللہ سے زیادہ مہربان کوٸی نہیں۔نماز اللہ تعالٰی سے ملاقات کا ایک بہترین ذریعہ ہے۔
    نماز وہ واحد حکم ہے جسے اللہ نے آسمان سے وحی کے ذریعے نہیں اتارا بلکہ اپنے محبوب حضرت مُحَمَّد ﷺ کو آسمان پہ بلا کر تحفے میں دیا۔
    حضرت علیؓ نے فرمایا ” اپنے بہترین وقت کو نماز میں وقف کرو کیونکہ تمہارے سب کام تمہاری ”نماز“ کے بعد ہی قبول ہونگے۔
    ایک اور جگہ حضرت علؓی نے فرمایا ”جب میرا جی چاہتا ہے کہ میں اپنے رب سے بات کروں تو میں نماز پڑھتا ہوں۔اور جب میرا جی کرتا ہے کہ میرا رب مجھ سے بات کرے تو میں قرآن کی تلاوت کرتا ہوں“۔
    سجدے کی خوبصورتی یہ ہے کہ ہم زمین پر سرگوشی کرتے ہیں اور وہ عرش پر سنی جاتی ہے۔ وضو سے شکل،قرآن سے عقل اور نماز سے نسل پاک ہوتی ہے۔
    ایک میڈیکل ریسرچ کہتی ہے کہ دل پورے جسم کو خون فراہم کرتا ہے لیکن دماغ ،دل کے اوپر ہونے کیوجہ سے خون پورے پریشر کے ساتھ دماغ تک نہیں پہنچتا ۔اور یہ کمی دماغ کی کمزوری اور ڈپریشن کیوجہ بنتی ہے ۔اگر انسان روز ایک بار بھی ایسی پوزیشن میں آۓ کہ اسکا دماغ اسکے دل سے نیچے ہو ۔جیسے مسلمان سجدہ کرتے ہیں تو خون صحیح طرح سے دماغ تک پہنچتا ہے اور دماغ کو طاقتور اور ترو تازہ رکھتا ہے۔
    نماز اور قرآن بعض دفعہ آپکے حالات تو نہیں بدلتے لیکن آپکو ان حالات میں اچھی طرح سے رہنا سکھا دیتے ہیں ۔آزماٸشیں صرف دین پر چلنے سے نہیں آتیں بلکہ جو آزماٸشیں لکھ دی جاتی ہیں۔نماز اور سجدہ ان سے نکلنے کا راستہ دکھاتے ہیں۔سجدے کی توفیق ملنا رب کی نعمتوں میں سے ایک بہترین نعمت ہے۔
    اگر نماز کے وقت طواف کعبہ رک سکتا ہے تو ہمارے کام اور کاروبار کیوں نہیں؟
    حضرت امام حسینؓ نے فرمایا کہ” مجھے جنت سے زیادہ عزیز نماز ہے کیونکہ جنت میری رضا ہے اور نماز میرے رب کی رضا ہے“۔

    پتا نہیں کیا جادو ہے سجدے میں
    جتنا جھکتا ہوں اتنا اوپر جاتا ہوں

    اللہ پاک ہم سب کو پانچ وقت کی نماز ادا کرنے کی توفیق عطا فرماۓ۔جب بچہ سات سال کا ہو جاۓ تو اس پر نماز فرض ہو جاتی ہے۔خود بھی نمازپڑھیں اور بچوں سے بھی پڑھاٸیں۔کیونکہ بچے وہ نہیں کرتے جو آپ انہیں کرنے کا بولتے ہیں بلکہ بچے ہماری نقل کرتے ہیں اور وہ کرتے ہیں جو اپنے بڑوں کو کرتا دیکھتے ہیں۔

    @Ra_jo5

  • "توکل اللہ تحریر:افشین ماوی

    "توکل اللہ تحریر:افشین ماوی

    اللہ پاک رحمن ہے رحیم ہے کریم ہے اللہ پاک کی ذات پہ بھروسہ پختہ یقین ہے امید اور یقین صرف رب کریم پہ سرخروع ہونے کی دلیل ہے ہر دعا کے اخر میں امین کہنا اپنی دعا کی قبولیت اور اللہ کی قدرت پہ بھروسہ اور پختہ یقین ہے اکثر لوگ دعا مانگنے کے بعد کہتے ہیں دعا قبول نہیں ہوتی دعا قبول ہوتی ہے بس کن فیکون پہ اور مقرر وقت پہ ہوتی ہے اللہ پاک کے فیصلوں پہ اگر ہم راضی ہوجائے تو ہر مشکل کی راہ نکل آتی ہے خود سے منسلک ایک حقیقت کا انکشاف کرنا چاہوں گی میرا ایک پودا کچھ قبل روز تیز بارش اور گرج چمک ہونے کی وجہ جل گیا بجلی اس پہ پڑنے سے وہ اوپر سے پوری طرح جل گیا نیچے سے کچھ تنا اور ایک پتہ بچا میری والدہ محترم نے اس پودے کو دوبارہ سے صیحح کرنے کے لیے اس میں کھاد ڈال دی اور اس امید پہ کہ اللہ اس پودے میں پر سے جان ڈال دے گا مجھے پہلے نہیں بتایا مگر کچھ دن بعد والدہ نے بتایا کہ ایسا واقعہ تمھارے پودے کیساتھ درپیش آیا اب تمھارا پودا پر سے صیحح ہوگیا ہے مجھے یہ سن کہ خوشی بھی تعجب بھی ہوا کیسے اس پودے کی پر سے زندگی رواں ہوگئ وہ رب کریم ہر شے پہ قدرت رکھتا ہے میں اکثر مایوس ہوجاتی ہوں مگر میرا بھروسہ ایمان ہے کہ اللہ کی ذات ہمیشہ میرے ساتھ ہے بس جینے کی وجہ مل جاتی ہے ہر مشکل میں اللہ کے سوا کسی بھی انسان کو ہمنوا نا پایا اسلیے اللہ پہ بےحد پختہ یقین نے ہر مشکل کو خود آساں فرمایا رب پاک کی ذات کی مدد پہ یقین اس کدھر ہے کہ خود سے بے خبر ہوسکتی ہوں پر رب پاک مجھ سے باخبر ہے اسکا یقین آخری سانس تک قائم و دائم رہے گا
    مجھ کو ملے نا ملے میرے ہونے کا نشاں
    وہ باخبر ہے مجھ سے جو ہے لامکاں
    نا کر سکوں میں خود کے فیصلوں پہ بھی یقین
    پر اس ذات پہ ہے پختہ یقین کہہ دو ہردعامیں امین !

    @ Hu__rt7