Baaghi TV

Category: مذہب

  • مسجد قباء ۔ مدینہ منورہ تحریر: محمد آصف شفیق

    مسجد قباء ۔ مدینہ منورہ تحریر: محمد آصف شفیق

    مسجد قبا ء اسلام کی اولین مسجد جس کی بنیاد نبی کریم ﷺ نے اپنے دست مبارک سے رکھی سب سے پہلا پتھر نبی کریم ﷺ نے اپنے دست مبارک سے رکھا اور اس کے بعد ایک ایک پتھر حضرت ابوبکر ؓ اور حضرت عمر ؓ نے رکھا ، آپ ﷺ نے اور آپ ﷺ کے صحابہ ؓ نے بڑھ چڑھ کر مسجد کی تعمیر میں حصہ لیا ،یہ مسجد کلثوم بن ہدم کی زمین پر قائم کی گئی
    ہمارے پیارے نبی ﷺ مکہ مکرمہ سے ہجرت کر کے مدینہ منورہ تشریف لائے تو مدینہ منورہ میں داخل ہونے سے پہلے جہاں اہل مدینہ نے آپ ﷺ کا استقبال کیا اور آپ ﷺ نے آرام فرمایا وہ جگہ قباء تھی اور اسی جگہ مسجد قباء کی تعمیر ہوئی قباء محلے میں ہونے کی وجہ سے مسجد کو مسجد قباء کا نام دیا گیا ہے ،مسجد قباء 8 تا 11 ربیع الاول 1 ھجری میں تعمیر کی گئی
    مسجد قباء مدینہ منورہ کے جنوب میں کم و بیش 5 کلومیٹر پر ہے شروع شروع میں مسلمان بیت المقدس کی طرف منہ کر کے نماز پڑھتے تھے ، جب تحویل کعبہ کا حکم آیا تو نبی کریم ﷺ بنفس نفیس قباء تشریف لائے اور قبلہ کا تعین فرمایا ،مسجد قباء کے ساتھ ہی ایک کنواں ہے جو کہ ابو ایوب انصاری ؓ کے نام سے مشہور ہے ، اس مسجد کا ذکر قرآن کریم میں سورۃ التوبہ کی آیت نمبر 108 میں کچھ ایسے آیا ہے
    لَمَسْجِدٌ اُسِّسَ عَلَي التَّقْوٰى مِنْ اَوَّلِ يَوْمٍ اَحَقُّ اَنْ تَقُوْمَ فِيْهِ ۭ فِيْهِ رِجَالٌ يُّحِبُّوْنَ اَنْ يَّتَطَهَّرُوْا ۭوَاللّٰهُ يُحِبُّ الْمُطَّهِّرِيْنَ ١٠٨؁
    جو مسجد اوّل روز سے تقویٰ پر قائم کی گئی تھی وہی اس کے لیے زیادہ موزوں ہے کہ تم اس میں (عبادت کے لیے) کھڑے ہو ، اس میں ایسے لوگ ہیں جو پاک رہنا پسند کرتے ہیں اور اللہ کو پاکیزگی اختیار کرنے والے ہی پسند ہیں ۔(108سورۃ التوبہ )
    مسجد قباء کے حوالے سے چند احادیث مبارکہ
    حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قباء سواری پر اور پیدل بھی جاتے تھے۔صحیح مسلم:جلد دوم:حدیث نمبر 898
    حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہر ہفتہ قباء تشریف لاتے تھے اور فرماتے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہر ہفتہ قباء تشریف لے جاتے تھے۔صحیح مسلم:جلد دوم:حدیث نمبر 902

    اہل قبا ء کی شان میں نازل ہونے والی آیت

    حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ یہ آیت فیہ رِجَال یُّحِبُّونَ اَن یَّتَطَھّرُوا وَاللہ یُحِبُ المُطَّھِّرِین (یہاں کے لوگ ایسے ہیں جو خوب طہارت حاصل کرنے کو محبوب رکھتے ہیں اور اللہ تعالیٰ بھی خوب پاک صاف رہنے والوں کو پسند فرماتے ہیں اہل قباء کے بارے نازل ہوئی ہے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا بیان ہے کہ قباء کے لوگ (ڈھیلوں سے استنجے کے بعد) پانی سے طہارت حاصل کیا کرتے تھے اور اسی بنا پر یہ آیت ان کی شان میں نازل ہوئی۔سنن ابوداؤد:جلد اول:حدیث نمبر 44

    حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسجد قباء میں کبھی پیدل تشریف لاتے اور کبھی سوار ہو کر ابن نمیر نے یہ اضافہ کیا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وہاں آ کر دو رکعت نماز پڑھتے تھے۔سنن ابوداؤد:جلد دوم:حدیث نمبر 275

    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا مسجد قباء میں نماز پڑھنا اس طرح ہے جیسے کسی نے عمرہ ادا کیا۔جامع ترمذی:جلد اول:حدیث نمبر 311

    حضرت اسید بن ظہیر جو نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابی بیان فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا مسجد قباء میں (پڑھی گئی) ایک نماز (ثواب میں) عمرہ کے برابر ہے ۔سنن ابن ماجہ:جلد اول:حدیث نمبر 1411حضرت سہل بن حنیف بیان فرماتے ہیں کہ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو اپنے گھر خوب پاکی حاصل کرے پھر مسجد قباء آ کر نماز پڑھے اس کو عمرہ کے برابر اجر ملے گا ۔سنن ابن ماجہ:جلد اول:حدیث نمبر 1412
    عمرہ اور حج کیلئے آنے والے ہوں یا محنت مزدوری کیلئے موجود افراد جو بھی مدینہ منورہ پہنچتا ہے اسکی دلی خواہش ہوتی ہے کہ مسجد قباء میں حاضر ہو اور دورکعت نماز ادا کرکے عمرہ کا ثواب حاصل کرے ، مجھے بھی الحمد اللہ گزشتہ 17 سالوں میں بکثرت یہ سعادت حاصل رہی جب تک ریا ض مقیم رہا تو واپسی پر مسجد قباء بچوں سمیت نماز ادا کرنے پہنچا کرتا تھا اب جبکہ اللہ رب العالمین نے اپنے فضل و کرم سے رزق کا بندہ بست جدہ میں کردیا ہے تو اب ہر دفعہ مدینہ منورہ پہنچتے ہی پہلے مسجد قباء پہنچتے ہیں عیدوں کا موقع ہو تو گاڑی وہیں پارک کرکے مسجد نبوی ﷺ جاتے ہیں اور روضہ رسول ﷺ پر حاضری دیتے ہیں جتنا ممکن ہو وہاں رکتے ہیں اور پھر بوجھل دل کے ساتھ وہاں سے واپس آجاتے ہیں جو سکون مسجد نبوی ﷺ میں پہنچ کر ملتا ہے وہ ناقابل بیان ہے ،
    اللہ رب العالمین سے دعا ہے کہ آپ سب مسلمان بہن بھائیوں کو جلد ان دونوں مساجد میں حاضر ہونے اور عبادت کرنے کی توفیق عطا فرمائیں ۔ آمین یا رب العامین

    جدہ –سعودیہ
    @mmasief

  • اسلام اور جانوروں کے حقوق . تحریر: محمد اختر

    اسلام اور جانوروں کے حقوق . تحریر: محمد اختر

    تمام جاندار، انسان، پرندے، جانور، کیڑے وغیرہ قابل غور اور احترام کے لائق ہیں۔ اسلام ہمیشہ جانوروں کو خدا کی مخلوق کا ایک خاص حصہ سمجھتا ہے۔ انسانیت اپنے پاس جو بھی ہے اس کے لئے ذمہ دار ہے، ان جانوروں سمیت جن کے حقوق کا احترام کرنا ضروری ہے۔ قرآن مجید، حدیث، اور اسلامی تہذیب کی تاریخ جانوروں کے لئے مہربانی، رحمت، اور ہمدردی کی بہت سی مثالیں پیش کرتی ہے۔اسلامی اصولوں کے مطابق، تخلیق کے تنظیمی ڈھانچے میں جانوروں کا اپنا ایک مقام ہے اور انسان ان کی صحت اور خوراک کے ذمہ دار ہیں۔اسلام مسلمانوں کو جانوروں سے ہمدردی کا سلوک کرنے اور ان کے ساتھ بد سلوکی ناکرنے کی تاکید کرتا ہے۔ قرآن مجید کا بیان ہے کہ تمام مخلوق خدا کی حمد کرتی ہے، یہاں تک کہ اگر اس تعریف کا اظہار انسانی زبان میں نہیں کیا جاتا ہے۔ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اکثر اپنے صحابہ کو سختی سے منع فرماتے تھے جو جانوروں سے بدتمیزی کرتے تھے، اورآپ رحم اورہمدردی کے بارے میں ان سے گفتگو کرتے تھے۔

    قرآن پاک اور جانوروں کی فلاح و بہبود
    قرآن پاک متعدد مثالوں اور ہدایتوں پر مشتمل ہے کہ مسلمان جانوروں کے ساتھ کس طرح سلوک کریں۔ قرآن مجید بیان کرتا ہے کہ جانور اجتماعی گروہ کی شکل میں ہیں، بالکل اسی طرح:”ایسا کوئی جانور نہیں جو زمین پر رہتا ہے، اور نہ ہی کوئی جانور جو اس کے پروں پر اڑتا ہے، بلکہ وہ آپ کی طرح کی اجتماعی گروہ کی شکل میں ہیں۔ ہم نے کتاب سے کچھ بھی نہیں ہٹایا ہے اور وہ سب آخر کار اپنے رب کے پاس جمع ہوجائیں گے۔ (قرآن 6::38)قرآن مجید جانوروں اور تمام زندہ چیزوں کو، مسلمان ہونے کی حیثیت سے مزید بیان کرتا ہے – اس معنی میں کہ وہ اس طرح زندگی گذارتے ہیں جس طرح اللہ نے انہیں جینے کے لئے پیدا کیا ہے، اور فطری دنیا میں اللہ کے قوانین کی تعمیل کرتے ہیں۔”کیا تم نے نہیں دیکھا کہ وہ اللہ ہی ہے جس کی تعریف آسمانوں اور زمین میں موجود تمام مخلوقات کرتے ہیں، اور پرندے (ہوا کے) پر پھیلے ہوئے ہیں ہر ایک اپنی اپنی (نماز) کیحمدوثناء جانتے ہیں، اور اللہ ان کے سب کاموں کو خوب جانتا ہے۔ (قرآن 24:41)”اور زمین کو، اس نے اس تمام جانداروں کے لئے ذمہ دار کیا ہے” (قرآن 55:10)۔جانور بڑی روحانی اور جسمانی دنیا کے جذبات اور روابط کے ساتھ زندہ مخلوق ہیں۔ ہمیں ان کی زندگیوں کو قابل قدر اور قابل احترام سمجھنا چاہئے۔یہ آیات ہمارے لئے یاد دہانی کا کام کرتی ہیں کہ جنگلی حیات، انسانوں کی طرح مقصد کے ساتھ تخلیق ہوتے ہیں۔ ان کے احساسات ہیں اور وہ روحانی دنیا کا حصہ ہیں۔ انھیں بھی زندگیمیں تکلیف سے تحفظ کا حق ہے۔

    حدیث اورجانوروں کی حقوق
    حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کو جانوروں اور پرندوں کے ساتھ شفقت اور ہمدردی کا مظاہرہ کرنے کی تاکید کی، اور جانوروں کے ساتھ بار بار ظلم سے منع کیا۔ ”جو کوئی چڑیا تک بھی رحم کرتا ہے، اللہ قیامت کے دن اس پر مہربان ہوگا۔”کسی جانور کے ساتھ ایک نیک کام انسان کے ساتھ کیے جانے والے اچھے عمل کی طرح ہے، جب کہ جانوروں پر ظلم و بربریت کا ارتکاب انسان پر ظلم جتنا برا ہے۔انسانوں کو اللہ تعالٰی نے زمین کے نگہبانی اورنہگداشت کے لئے پیدا کیا ہے۔ ضرورت کے بغیر قتل کرنا – جو تفریح کے لئے مار رہا ہے وہ جائز نہیں ہے۔

    نوٹ:
    آخر ہیں مندرجہ بالا مطالعہ کے بعد ہمیں اپنے آپ کو سنجیدگی سے پوچھنے کی ضرورت ہے – کیا ہم حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلمپیغمبر کے واضح احکامات کے باوجود جانوروں کے حقوق کی پاسداری کررہے ہیں؟ نہ صرف ایسے موضوعات پر ہونے والی بحث میں، بلکہ مجموعی طور پر جانوروں اور ماحولیات کے تحفظ اور تحفظ میں ہمارا کردار کیا ہونا چاہئے؟ کیا ہم جنگلی حیات سے محروم ہیں؟ ہم جس ملک میں رہتے ہیں اس ملک کے قوانین اسلامی اصولوں کی پاسداری کیسے کرتے ہیں؟اور آخر میں یہ سوچنے کی ضروت ہے کہ ہمیں جن مثائل کا سامنا ہے اس کا حل تلاش کرنے میں اسلام ہماری مدد کیسے کرتا ہے؟ان سب سوالوں کے جواب ہمیں اس وقت ہی ملیں گے جب ہم اسلامی تعلیمات کا اس کی اصل روح سے مطالعہ کریں گے۔

    @MAkhter_

  • اللہ کی رضا .  تحریر :‌ محمد خبیب فرہاد

    اللہ کی رضا .  تحریر :‌ محمد خبیب فرہاد

    معاشرے میں برداشت کا ہونا بہت ضروری ہے،  جس سے زندگی تو آسان ہوتی ہی ہے  انسان کی،  اسکے ساتھ ہی امن کوبھی فوقیت ملتی ہے انتہا پسندی اور لڑائی جھگڑوں پر۔ اخلاق میں بہتری لانے کی ضرورت ہے ہمیں،  پہلے خد کو ٹھیک کرنا ہے پھر دوسروں کو،  پہلے اپنی نصیحت خد پر تجربہ کرنی ہے پھر دوسروں کو بتلانی ہے معاشرے کی بنیاد ہی ایک دوسرے کی فکر و محبت،  بھائی چارے اور برداشت کرنے میں ہے ایک دوسرے کے کام آئیں ہمیشہ دوسروں کا بھلا سوچیں پڑوسیوں کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آئیں ۔ اپنے نیک مقاصد کی کامیابی کے حصول کےلئے  پوری جان کے ساتھ بھرپور محنت کریں ،  جب تک کہ آپ اپنی منزل مقصود تک پہنچ نہیں جاتے ۔ کوشش کبھی مت چھوڑیئے،  منزل ملے یا ناں ملے ! اگر ، مگر اور کاش زندگی تباہ کر دیتی ہے انسان کی ۔

    اللہ تعالی کی رضا میں راضی رہنا ہی کامیابی ہے ، جو ملا نہیں اس پر مایوس ہونے کے بجائے صبر اور وتحمل کام لیا جائے ۔ یہ دنیا آپکو نہیں سمجھ سکتی سوائے اللہ تعالی کے، اللہ ہی ہے جو اپنے بندے/ بندی کو کبھی بھی مشکل حالات میں تنہا نہیں چھوڑتا ! اللہ کوئی نہ کوئی وسیلہ ضرور بنادے دیتا ہے انسان کی مشکلات کودور فرمانے کا۔

    اللہ تعالی کی قربت چاہتے ہو تو اللہ کی خوب عبادت کرو اللہ کا کلام قرآن پاک سمجھ کر پڑھو ذکر الہی زیادہ سے زیادہ کرو ، اپنے دکھ درد میں اللہ کو یاد کرو ، دعائیں کرو رو رو کر اللہ کے آگے جھکو۔ تہجد کی نماز میں قربت الہی حاصل کی جاسکتی ہے، تب اللہ اپنے بندے/بندی سے فرماتا ہے مانگ جو مانگنا ہے میں تجھے دوں ۔

    موت اور زندگی دینے والا میرا اللہ ہی ہے، موت کا فرشتہ ایک گھر کے دن میں پانچ چکر لگاتا ہے، لیکن فرشتہ جان اپنی مرضی سے نہیں نکال سکتا، موت کا فرشتہ تو حکم الہی پر ہی اپنا کام سر انجام دیتے ہیں ۔ معاشرہ میں عظیم کامیابی کے حصول کے لیے اللہ کی رضا میں راضی بہت ضروری ہے ۔

    ایک دفعہ ایک بادشاہ اپنے گھوڑے پر سوار اپنی کسی منزل کی طرف تیزی سے جارہا تھا تو اک درویش نے بادشاہ کو راستے میں روکا اور کہا کہ گھوڑے سے نیچے اترو، میں نے تم سے کچھ بات کرنی ہے تو بادشاہ نے کہا جو بات ہے میرے کان میں بتا دو مجھے بہت جلدی ہے ، تو بادشاہ کےبار بار
    کان میں بات بتانے کے اسرار پر ، درویش نے بادشاہ کے کان میں صرف اتنا کہا ہے کہ میں موت کا فرشتہ ہوں اور تیری جان نکالنے آیا ہوں ۔

    یہ سنتے ہی کہ بادشاہ کو سکتا جاری ہوگیا، روئے پیٹے کہ مجھے میرے بیوی بچوں سے تو مل لینے دو ۔ تب درویش نما موت کے فرشتے نے کہا ہم تو اللہ کےحکم کے پابند ہیں، میں تمہیں تمہارے بیوی بچوں سے نہیں ملنے دوں گا۔ تمہاری جان ابھی اسی وقت نکالنے کا حکم مجھے اللہ تعالی نے دے دیا ہے ۔

    شیخ سعدی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ:
    اس سے تو خاموشی بہتر ہے ، کہ کسی کو دل کی بات کہہ کر پھر اس سے کہا جائے کہ کسی سے نہ کہنا ۔ میرا اک دوست مجھ کہتا کہ میرا دل نماز میں نہیں لگتا تو میں کیا کروں کہ میرا دل نماز میں لگ جائے؟

    تومیں نے جواباً اپنے دوست سے کہا کہ:

    جب تم نماز شروع کرو تو زمین کی طرف دیکھو !
    کہ مرنے کے بعد ہمیں زمین میں جانا ہے ۔

    جب رکوع میں جاؤ تو اپنے پاؤں کی طرف دیکھو!
    اس لئے کہ انسان کی جان پاؤں سے نکلتی ہے ۔

    جب سجدہ کرو تو اپنے ناک کیسمت میں دیکھو!
    مرنے کے بعد قبر میں انسان کی سب سے پہلے ناک ختم ہوتی ہے۔

    اور جب تشہد کی حالت بیٹھو تو اپنی خالی جھولی کی طرف دیکھو!

    خالی جھولی دنیا میں آئے اور ہمیں خالی جھولی ہی لوٹنا ہے ۔

    اللہ تعالی ہم سب کو اللہ تعالی کی رضا میں راضی رہنے کی توفیق عطافرمائیں۔

    آمین ثم آمین یا رب العالمین

    @khubaibmkf

  • اسلام اور پاکستان کا تعلق؟  تحریر: فرح بیگم

    اسلام اور پاکستان کا تعلق؟ تحریر: فرح بیگم

    ہم صدیوں سے سنتے آرہے ہیں کہ پاکستان اسلام کے نام پر بنا. لیکن بدقسمتی سے اس وقت ملک پاکستان میں کوئ قانون اسلام کے مطابق نہیں چل رہا .یہی وجہ ہے کہ ہم روز بروز پستی کی طرف جا رہے ہیں.ہم پاکستان کے حق میں بولتے وقت ایک بہت اچھا منطق سامنے لے کے آتے ہیں.کہ پاکستان ہماری ماں ہے اور اسی وجہ سے ہم اس سے محبت کرتے ہیں.یہ میں گواہی کیساتھ کہ سکتا ہوں جب یہ ماں اپنے بچوں کے لئے پانی پیدا کرنا چھوڑ دے گی اور جانوروں کے لئے گھاس پیدا کرنا چھوڑ دے گی تو سب یہ لوگ اپنے ماں کا بھی ساتھ چھوڑ دیں گے.دنیا میں اس وقت پاکستان سے بھی زیادہ خوب صورت ممالک موجود ہیں جہاں انسان کو زندگی کی تمام تر سہولتیں میسئر ہیں اور وہاں پر انسانوں کے ساتھ ساتھ جانوروں کو بھی حقوق ملتے ہیں. تو کیوں نہ میں وہاں جا کر رہائش اختیار کر لوں جہاں پر میری زندگی اچھی طرح سے گزرے.
    پاکستان سے محبت اور عشق کرنے کی وجہ کچھ اور ہے.پاکستان سے محبت اسلام کی وجہ سے ہے.
    جب دنیا کے نقشے میں نئے ممالک وجود میں آرہے تھے تو کوئ اس وقت کہ رہا تھا کہ ہم مصری ہیں اور صدیوں سے یہاں رہ رہے ہیں اس لئے ہمیں یہاں رہنے دو.اُس وقت کوئ یہ کہتا ہوا نظر آرہا تھا کہ ہمارے پاس سے دریائے فرات گزرتا ہے اس لئے ہمیں علیحدہ ملک دے دو.پاکستان کو حاصل کرنے وقت صرف ایک ہی نعرہ تھا پاکستان کا مطلب کیا لا اللہ الا اللہ.
    اس وقت 189گھر ہیں لیکن پاکستان وہ واحد ملک ہے جس کو مسجد کی حیثیت حاصل ہے.پاکستان نور ہے اور نور کو کبھی زوال نہیں. لیکن آج کل ہم دیکھ رہے ہیں کہ ہم زوال کی طرف جا رہے ہیں اس کی چند وجوہات ہیں.آپ پاکستان کی شاہراؤں پر نکل کر دیکھیں تو آپ کو مذہبی نعرے لکھے ہوئے نظر آئیں گے اور ان پر لکھا ہو گا حرمت رسول پر جان بھی قربان ہے.رسول اکرم کی عزت ہم سب پر فرض ہے.لیکن افسوس کیساتھ ہم اُن کے کہے ہوئے باتوں پر عمل نہیں کر رہے.حضرت محمد کی زندگی ہمارے لئے ایک عملی نمونہ ہیں.
    دوسری بات ہم نے آج کل قرآن پاک کو صرف گھروں میں سجانے کے لئے رکھا ہوا ہے اس کو سمجھنے کی کوئ کوشش نہیں کرتا. دنیا بھر کے جتنے بھی مسائل ہیں ان کا حل ضرور آپ کو قرآن مجید میں ملے گا.آج کل ہم صرف نام کے مسلمان بن کر رہ گئے ہیں.نماز پڑھنے کے بعد دودھ میں ملاوٹ کرنے کو کوئ بُرا کام نہیں سمجھتا. جھوٹ بولنا اور دوسروں کا حق مارنا ہمارا وطیرہ بن کر رہ گیا ہے. ہم اپنی ناکامیوں کا قصوروار امریکہ کو ٹھہراتے ہیں.ان ناکامیوں کے ذمے دار ہم خود ہیں. چند سالوں پہلے امریکہ کا کوئ وجود نہیں تھا پوری دنیا میں لوگ برطانیہ کو سپرپاور سمجھتے تھے.لیکن اس سے پہلے مسلمانوں نے بھی دنیا پر راج کیا تھا. ہمارا اکثر خدا سے یہی شکوہ رہتا ہے کہ اللہ تعالی کافروں پر بہت مہربان ہے. یہی باتیں علامہ اقبال نے بھی شاعرانہ انداز میں یوں بیان کہیں تھیں.
    رحمتیں ہیں تیری اغیار کے کاشانوں پر
    برق گرتی ہے تو بےچارے مسلمانوں پر
    اس وقت پوری دنیا میں مسلمانوں کا خون بہہ رہا ہے. کوئ مسلم امہ میں ایسی طاقت نہیں ہے جو یہودیوں کا مقابلہ کرے. کیا اللہ پاک عاجز ہیں کہ ان یہودیوں پر اپنا عذاب نازل نہیں کر رہا.دراصل بات یہ ہے کہ ہم لوگ شرک میں مبتلا ہو گئے ہیں. ہم ایس ایچ او سے ڈرتے ہیں,ہم وزیراعلی سے ڈرتے ہیں اور ہم امریکہ سے ڈرتے ہیں.لیکن اللہ کے سوا کسی سے اور سے ڈرنا شرک کہلاتا ہے.جو اللہ کا بندا اللہ کے دین کے آگے سر جھکاتا ہے.وہ اللہ کا نمائندہ ہوتا ہے. اور وہ بندا جو اس نیک راہ سے ہٹ جائے تو وہ کافر سے بھی بد تر ہو جاتاہے.ہم دودھ میں ملاوٹ کرتے وقت فوڈ اتھارٹی سے تو ڈرتے ہیں لیکن اللہ سے نہیں ڈرتے .حالانکہ اللہ تعالی سارے جہانوں کا مالک ہے اور وہ ہر چیز دیکھ رہا ہے.
    انشااللہ ایک دن پھر مسلمان عروج پر ہو نگے اور ملک پاکستان جس کی بنیادیں اسلام کے نام پر کھڑی کی گئیں .ایک دن ضرور یہاں سورج نئ افق کے ساتھ طلوع ہو گا.اس وقت ہم مسلمان سائنس کے میدان میں بہت پیچھے رہ گئے ہیں.کوئ بھی نئ چیز تعمیر کروانی ہو تو بیرونی ممالک سے انجینئر منگواتے ہیں.
    اللہ کو پا مردی مومن پہ بھروسہ
    ابلیس کو یورپ کی مشینوں کا سہارا
    ہم اس وقت دنیا کا صرف جنگی حوالے سے مقابلے کرنے کی تیاری کر رہے ہیں.لیکن ہمیں اس چیز کا اندازہ نہیں ہورہا کہ ہم تعلیمی حوالے سے اپنے نوجوانوں کا مستقبل داؤ پر لگا رہے ہیں.ہمارے ملک کا تعلیمی سلیبس انگریزوں کے مشورے سے تیار ہوتا ہے.اور اس سے بڑی افسوسناک بات ہم اپنی قومی زبان کو چھوڑ کر انگریزی زبان کو فروغ دینے کی کوشش کر رہے ہیں.پوری دنیا کی پانچ ہزاز سالہ تاریخ اٹھا کر دیکھ لیں .کسی ممالک نے دوسروں کی زبان اختیار کرنے کے بعد کوئ ترقی نہیں کی. دنیا میں کئ ممالک ایسے ہیں جہاں پی ایچ ڈی اپنی زبان میں کروایا جاتا ہے.
    تعلیمی نظام کے ساتھ ساتھ مسلم امہ کو بھی ایک پلیٹ فارم پر اکھٹا کرنا چاہیے.پاکستان کا تب تک ترقی کرنا مشکل لگ رہا ہے جب تک یہاں اسلامی قانون نافذ نہ کیا جائے.یہ ملک اسلام کے نام پر حاصل کیا تھا اور اس ملک کو چلانے کا بھی سب سے بہتر حل یہاں پر اسلامی قانون کا نفاز ہے.

    Twitter Id: @Iam_Farha

  • جنگی قیدی اور اسلام  تحریر : اے ار کے

    جنگی قیدی اور اسلام تحریر : اے ار کے

    دو متحارب قوتوں کے درمیان جنگ
    ( عین لڑائی کے دوران یا لڑائی کے احتمال کے وقت ) گرفتار ہونے والا شخص جنگی قیدی کہلاتا ہے۔
    تاریخ کے اوراق سے پتہ چلتا ہے کہ اسلام سے پہلے قدیم جاہلیت کے دور میں جنگی قیدیوں کے حقوق کا کوئی تصور ہی نہیں تھا۔
    جنگی قیدیوں کے حقوق کاغذ پر بھی تسلیم نہیں کئے جاتے تھے۔
    جنگی قیدیوں کو یا تو قتل کر دیا جاتا تھا یا ایسا غلام بنا لیا جاتا تھا کہ مالک کو ان کے زندگی اور موت کا مختیار بنا دیا جاتا۔
    اسلام کا ابرِ رحمت برسا تو انسان کی احیثیت یک دم بدل گئی اور محسنِ انسانیت جناب رسول اللہ ﷺ نےانسانی سماج پر احسانِ عظیم فرمایا۔
    فتح مکہ کے موقع پر فوج میں اعلان کروایا کہ کسی مجروح پر حملہ نا کیا جائے کسی بھاگنے والے کا پیچھا نا کیا جائے کسی قیدی کو قتل نا کیا جائے۔
    بلکہ سب کیلیے عام معافی کا اعلان کیا۔
    بے شک ۔۔۔۔۔!!!
    اسلام سے زنگی خوبصورت ہوجاتی ہے۔
    ظہور اسلام کے بعد جن مصائب و تکلیفات کا سامنا صحابہ کرام نے کیا اج بھی ان مصائب تکلیفوں کا سامنا صالحین کر رہے ہیں۔
    اج بھی میر صادق میر جعفر جیسے دین کے غدار لوگ مسلمانوں کے صفوں میں پائے جاتے ہیں۔
    نام نہاد مہذب مغربی اقوام کا وطیرہ یہی رہا ہے کہ مسلم اکثریتی ملکوں میں زمامِ اقتدار ان لوگوں کو سونپی جاتی ہے جو مغرب پرست ہو اور مسلمانوں کے خون سے مغرب کی پیاس بجھانے میں مغرب کی تقلید کرتی ہو۔امریکہ بہادر کوافغانستان میں عبرتناک شکست کے بعد جیسے ہی افغانستان سے
    راہ فرار ملی اسٹوڈنٹس ( طالبان )یک بعد دیگرے ولایتوں (صوبوں) کو برق رفتاری سے فتح کرنے لگ گئے ہیں اور انکی پیش قدمی تاحال جاری ہے۔
    اسٹوڈنٹس نے جنگ کے پینتھرے یکسرتبدیل کئے ہیں اورشروعاتی لڑائی وہاں سے شروع کی(شمالی افغانستان قندوز شبرغان فاریاب وغیرہ) جہاں سن 2000 ء سے پہلے ان کو شدید مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا اور شمالی اتحاد کی ملیشیاء ("گلم جلم ملیشیا“ اسے ”بوری لپیٹ ملیشیا“ بھی کہا جاتا تھا، کیونکہ یہ لوگ دشمن کو قالین وغیرہ میں لپیٹ کر ہلاک کرتے تھے)ان کا ہر حملہ پسپا کرتی۔ اج الحمد اللہ وہاں کی فضاء "اللہ اکبر ” کےفلک شگاف نعروں سے گونج رہی ہے۔
    طالبان کے پیش قدمی کے ساتھ ہی ذہن میں دشت لیلی کی المناک داستان اور غدار جنرل رشید دوستم گردش کرنے لگ جاتے ہیں۔
    دسمبر 2001 ﻗﻨﺪﻭﺯ ﮐﮯ ﻣﻘﺎﻡ ﭘﺮ محاصرہ طاﻟﺒﺎﻥ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺟﻨﺮﻝ ﺭﺷﯿﺪ ﺩﻭﺳﺘﻢ ﻧﮯ وعدہ کیا تها کہ تم لوگ ہتھیار ڈال دو ﻣﯿﮟ نے ﺍﻣﺮﯾﮑﮧ ﺳﮯ مذاکرات ﮐﺮلئیے
    ﻣﯿﮟ ﺍٓﭖ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﻮ بحفاظت نکالونگا،
    کہیں دنوں سے محاصرہ ،بھوک پیاس سے نڈھال، اور اسلحہ کی شدید کمی کے باعث ،
    مجاہدین نے فیصلہ کیا کہ لڑائی میں ان کا ہی زیادہ نقصان ہونا تھا اس صورتحال میں یہ انکا بہترین فیصلہ تھا۔کیونکہ اس معاہدے کا ضامن بہر حال ایک مسلمان تھا
    جنہوں نے قران پر ہاتھ رکھ کر انکو یقین دلایا تھا کہ میں بحفاظت سب کو قندوز سے شبرغان تک پہنچاہونگا۔ یوں مجاہدین نے
    ہتھیار ڈال دئیے۔
    دوستم نے گنجائش سے زیادہ طالبان کوکنٹینروں میں ڈال کے قندوز سے شبرغان روانہ کیا ۔
    جب ان بند کنٹینروں میں ان مظلوموں کا دم۔گھٹنے لگا تو زور زور سے کنٹینر پیٹناشروع
    کر دئیے۔
    عالمی امن کے مہذب اور نام نہاد ٹھیکداروں نے کنٹینر کھولنے کے بجائے ان چلتی کنٹینروں پر فائرنگ کا حکم دے دیا۔
    ایک جرمن رپورٹر کے مطابق کہ میری گاڑی اس کنٹینروں کے قافلے کے پیچھے جا رہی تھی اور اب پورے روڈ پر خون ہی خون بہہ رہا تھا۔
    طالبان کی بڑی تعداد کو کنٹینروں میں ہی
    شہید کر دیا گیا اور جو بچ گئے یا زخمی تھے انکے ہاتھ پاؤں باندھ کر جنرل دوستم ( جو اجکل فیلڈ مارشل ہیں) نے دشت لیلی میں زندہ دفن کر دئیے ۔
    امریکی حکومت کی فریڈم آف انفارمیشن ایکٹ کی دستاویزات اور اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ اینٹیلیجنس رپورٹ ،جو 2002 میں ڈی کلاسیفائیڈ کی گئی تھی، کے مطابق دشت لیلی میں شہید ہونے والوں کی تعداد 1500 سے 2000 کے درمیان تھی جبکہ طالبان کے مطابق اس سانحہ میں شہید ہونے والے مجاھدین کی تعداد 10 ہزار سے زیادہ ہے۔
    یاد رہےافغانستان کے سب سے بڑا فوجی
    اعزاز( مارشل جنرل ) پانے والا جنرل دوستم روسی اتحاد کے افغانستان پر قبضے کےبعد روس کی حمایت میں بھی جنگ لڑی اور
    بعد ازاں شمالی اتحاد کے پرچم تلے امریکہ کا ساتھ دے کر طالبان کی حکومت ختم کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔

    ٹویٹر ہینڈل: @chalakiyan

  • مسلم طلبہ کے لئے اسلامی تعلیم کتنی اہم ہے  تحریر: زاہد کبدانی

    مسلم طلبہ کے لئے اسلامی تعلیم کتنی اہم ہے تحریر: زاہد کبدانی

    تعلیم کے دائرہ کار میں ، اسکولی طلباء کے لئے اسلامی تعلیم بہت ضروری ہے ، یہاں تک کہ چھوٹے بچوں کو بھی اسکول کی دنیا میں داخلے سے قبل اسلامی تعلیم دینے کی ضرورت ہے تاکہ جب بچے دنیا کی تعلیم میں داخل ہوں تو وہ اس کی عادت ڈالیں اور وہ صرف اسے روزمرہ کی زندگی میں شامل کرنے اور اس پر عمل درآمد کرنے کی ضرورت ہے۔ موجودہ دور میں طلباء کے لئے اسلامی تعلیم کی بہت زیادہ ضرورت ہے ، کیوں کہ اس جدید دور کے ساتھ طلباء میں بہت سے منفی اثرات پائے جاتے ہیں ، مثال کے طور پر ، ابتدائی اسکول کے بچے جنہوں نے طلباء میں اسلام کو اکسایا اور اس کے بعد اچھی سمت سگریٹ پی۔ طلباء جدید دور کے منفی اثرات سے بچیں گے۔ اسلام زندگی کا ایک طریقہ ہے ، اگر ہم میں اور ہماری زندگیوں میں کوئی مذہب نہیں ہے تو پھر زندگی بے چین ہو جائے گی ، اور ہم پریشانی محسوس کریں گے کیونکہ کوئی ہدایت نامہ موجود نہیں ہے ، دین میں ہر چیز کا اہتمام قرآن اور احادیث میں کیا گیا ہے ، جس سے شروع ہوتا ہے۔ دل کا ارادہ ، عبادت ، سلوک ، تعلیم ، خرید و فروخت یا معیشت ، معاشرتی۔ جیسا کہ آیت نمبر 255 میں بیان کیا گیا ہے ،

    سور بقرہ۔ طلباء کو اسلامی تعلیم کے فوائد میں متعدد چیزیں شامل ہیں:

    پہلے ، بچوں کے روحانی معاملات میں ، اگر بچوں نے ٹی کے دی ڈپو سے اسلامی تعلیم حاصل کی ہے ، تو وہ اپنی روزمرہ کی زندگی میں اسلام کا اطلاق کرسکیں گے ، مثال کے طور پر باجماعت نماز پڑھنا ، والدین یا اساتذہ سے مصافحہ کرنا ، یقینا درخواست دینے میں ، طالب علم واقعتاً ماحول سے مدد اور تعاون کی ضرورت ہے ، خاندانی ماحول بنیادی چیز ہے جو والدین ہیں ، والدین کو لازمی ہے کہ وہ بچوں کو روزمرہ کی زندگی میں عمل درآمد کرنے کے لئے ہدایت کریں اور ان کی مدد کریں ، اس کے بعد طلباء کو اسلامی دینی تعلیم کے بارے میں اسکول میں جو کچھ ملتا ہے ، اس کے بعد والدین کو بھی اپنے بچوں کے تعلقات کی نگرانی کرنی ہوتی ہے ، کیونکہ یہ بہت ضروری ہے کہ طالب علم کے مستقبل کا تعین کرنا ضروری ہے ، اس کی روحانی گہرائی جتنی زیادہ ہوگی وہ جدید دور میں ہونے والے نقصان سے بچ جائے گا ، کیونکہ وہ پہلے ہی جانتے ہیں کہ یہ اچھا ہے یا برا۔
    دوسرا ، سلوک یا اخلاقیات کے لحاظ سے ، اسلامی دینی تعلیم حاصل کرنے سے ان کے اخلاق بہتر ہوں گے ، مثال کے طور پر والدین اور اساتذہ کا فرمانبردار ، شائستہ ، سب کے ساتھ شائستہ ، ایک دوسرے کی مدد کرنے میں مدد کرنا ، اس موقع پر ، طلباء کو آزمائے جانے کی ضرورت ہے والدین اور اساتذہ کے طرز عمل یا اخلاق سے ، اسلامی مذہب اور اچھے اخلاقی سلوک کے علم کے ساتھ ، طلباء کو اپنی روزمرہ کی زندگی میں اس کا اطلاق کرنے کی ترغیب دی جائے گی۔ سیکولہ ایس ڈی ٹربائک دی ڈپوک طلباء کو اسلامی تعلیم مہیا کررہے ہیں اور خاندانی ماحول ، والدین ، ​​تعلقات ، اساتذہ کی مدد سے ، جو اس کے بعد زندگی میں لاگو ہوتے ہیں ، مسلم نوجوانوں کی نسلوں کو ان منفی اثرات اور اخلاقی نقصان سے بچانے میں مدد فراہم کریں گے جو طلباء کو جدید معاشرے میں دوچار کرچکے ہیں۔

  • اس عید پر ہم نے کس چیز کی قربانی دی؟ . تحریر : محمد اسامہ

    اس عید پر ہم نے کس چیز کی قربانی دی؟ . تحریر : محمد اسامہ

    ہر سال کی طرح اس سال بھی عید الاضحٰی مذہبی جوش و جذبہ سے منائی گئی ہے. دنبہ، چھترا، بکرا، بیل اور اونٹ قربان کیے گئے ہیں. یہ تو واضح ہے کہ اللّٰه کو نہ ان کا خون چاہیے اور نہ ہی گوشت، وہ صرف تقویٰ دیکھتا ہے.

    ہمیں اپنے آپ پر غور و فکر کرنا چاہیے کہ جانور قربان کرنے کے ساتھ ہم نے اپنی ذات میں سے کن چیزوں کی قربانی دی ہے.
    کیا ہم نے اپنے برے اخلاق کی قربانی دی؟
    کیا ہم نے انا پرستی کی قربانی دی؟
    کیا ہم نے ناراضگی کو ختم کرنے کی قربانی دی؟
    ان سوالوں کے جوابات ضرور سوچیں.

    اصل میں قربانی کا مقصد ہی یہی ہے کہ اپنے ضمیر کی خرافات کو قربان کردیا جائے.

    qurbani

    @its_usamaislam

  • امام مسجد کی عزت    تحریر: وقاس محمد

    امام مسجد کی عزت تحریر: وقاس محمد

    والدین سے پوچھ کہ آپ کی خواہش کیا ہے کہ آپ کا بچہ بڑا ہو کر کیا بنے، تو جواب ہو گا… ڈاکٹر ،انجینئر، جج، وکیل، ٹیچر، بزنس مین وغیرہ وغیرہ پر 1 بھی ایسا نہیں ہو گا جو چاہتا ہو کہ اس کا بچہ مولوی بنے اسی طرح بچوں سے پوچھیں کہ وہ کیا بننا چاہتے ہیں تو انکا جواب بھی آپکو یہی ملے گا کہ وہ فوجی، ٹیچر، پائیلٹ، ڈاکٹر، انجینئر وغیرہ بننا چاہتے ہیں
    جو بچہ ہمارا کسی کمی یا معذوری کا شکار ہو اسکو ہم مدرسہ مولوی بننے بھیج دیتے ہیں سچ میں اگر آپ دیکھیں گے تو آپ کو ایسے بچے ہی ملیں گے مدارس میں

    ایسا اس لئے ہے کہ ہم بس برائے نام امام مسجد یا مولوی کی عزت کرتے ہیں اصل میں ہمارے معاشرے میں مولوی صاحب کی کوئی عزت نہیں ہم آٹھ دس ہزار تنخواہ پر امام مسجد رکھتے ہیں اور کبھی شادی بیاہ یا فوتگی کے موقع پر انہیں پانچ سو ہزار دیکر بڑا احسان کرتے ہیں اور مذید دیکھیں کہ خطبہ نماز جمعہ یا عید کے موقع پر آپکو نظر آئے گا کہ مولوی صاحب کی طرف سے باقاعدہ سب کے سامنے چادر پھیلا کر چندہ مانگتے نظر آئیں گے
    ایک وقت ہوتا تھا جب مولوی صاحب یا امام صاحب جس محفل میں ہوتے تھے انہیں سب سے اہم جگہ پر بٹھایا جاتا تھا اور انکی حیثیت مہمانِ خصوصی جیسی ہوتی تھی جبکہ اب مولوی صاحب آپکو ایک کونے میں بیٹھے نظر آئیں گے بلکہ ہم کہہ دیتے ہیں کہ حافظ صاحب کو الگ جگہ بٹھاو وہ ختم درود پڑھیں اور دعا کر کے چلتے بنیں…

    آخر کیا ہے اسکی وجہ…
    میری نظر میں اسکی دو وجوہات ہیں
    پہلی تو یہ کہ اسلام میں مولوی جیسا کوئی عہدہ ہے ہی نہیں یہ ہماری کمزوری ہے کہ امامت کرانا، نکاح پڑھانا، جنازہ پڑھانے جیسے کام جو ہر مسلمان کو آنے چاہیئے ہم نے اپنی کمزوری کے بدلہ ایک بندہ مولوی یا امام مسجد کی زمہ داری لگا دی ہے
    دوسری سب سے اہم اور بڑی وجہ علماء اکرام اور آئمہ اکرام خود ہیں اسکی وجہ یہ ہے کہ اگر آپ بڑے بڑے علماء اور مشائخ انکی زندگی کا جائزہ لیں تو وہ خود بھی کام کرتے تھے اور اپنا روزگار ہوتا تھا ان کا، مدارس یا خان گناہوں کی زیر نگرانی کھیتی باڑی ہوتی تھی وہ بجائے خود ہاتھ پھیلانے کے کمزوروں اور مصیبت زدوں کی داد رسی کرتے تھے مسلم اور غیر مسلم ان سے متاثر ہو کر اسلام کی طرف راغب ہوتے تھے جبکہ اب ہمارے علماء، مولوی، آئمہ آپکو چندہ مانگتے نظر آتے ہیں

    تو کیسے ہو گی مولوی/امام مسجد کی عزت؟ کون بنانا چاہے گا اپنے بچے کو مولوی یا امام مسجد؟ کون ایسے چندوں پر رہنے والا مولوی یا امام مسجد بننا چاہے گا؟؟

    باتیں میری سخت ہیں ہو سکتا آپ کو پسند ناں آئیں لیکن یہی حقیقت ہے ہم اس سے جتنا بھی منہ پھیر لیں
    @WailaHu

  • تعمیر بیت اللہ ،زم زم،  ابراہیم ؑ کی دعا تحریر: محمد آصف شفیق

    تعمیر بیت اللہ ،زم زم، ابراہیم ؑ کی دعا تحریر: محمد آصف شفیق

    جیسے ہی حج کا دن ختم ہوا عمرہ کی ادائیگی کیلئے اجازت نامہ حاصل کیا تو بے ساختہ اس ماں کا خیال آگیا جس کی اپنے بچے کی پیاس بجھانے کیلئے بے صبری سے صفا اور مروہ کے چکر لگانے کی ادا اس رب کریم کو ایسی پسند آئی کہ اس گھر (بیت اللہ )کو آنے والوں یعنی عمرہ ادا کرنے والوں کیلئے عمرہ کا حصہ بنا دیا جو تا قیامت جاری رہے گا عمرہ مکمل ہی سعی کرنے سے ہوتا ہے صفا اور مروہ کے درمیان 7 چکر مکمل کرنے کا نام سعی ہے
    بیت اللہ کی تعمیر آب زم زم کی روانی اور ام اسماعیل ؑ حضرت حاجرہؑ کی محبت کے حوالے سے حدیث مبارکہ ہے کہ عبداللہ بن محمد ابوعامر عبدالملک بن عمرو ابراہیم نافع کثیر بن کثیر سعید بن جبیر ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ جب ابراہیمؑ اور ان کی بیوی کے درمیان شکر رنجی ہوگئی تو اسماعیلؑ اور ان کی والدہ کو لے کر نکلے اور ان کے پاس ایک مشکیزہ میں پانی تھا پس اسماعیل ؑکی والدہ اس کا پانی پیتی رہیں اور ان کا دودھ اپنے بچہ کے لئے جوش مار رہا تھا حتیٰ کہ وہ مکہ پہنچ گئیں ابراہیمؑ نے انہیں ایک درخت کے نیچے بٹھا دیا پھر ابراہیمؑ اپنے گھر والوں کی طرف لوٹ چلے تو اسماعیلؑ کی والدہ ان کے پیچھے دوڑیں حتی کہ جب وہ مقام کدا میں پہنچے تو اسماعیلؑ کی والدہ انہیں پیچھے سے آواز دی کہ اے ابراہیمؑ! ہمیں کس کے سہارے چھوڑا ہے؟ ابراہیم ؑنے کہا کہ اللہ تعالیٰ کے اسماعیلؑ کی والدہ نے کہا میں اللہ (کی نگرانی) پر رضا مند ہوں ابن عباس رضی اللہ عنہ نے کہا پھر وہ واپس چلی گئیں اور اپنے مشکیزہ کا پانی پیتی رہیں اور ان کا دودھ اپنے بچہ کے لئے ٹپک رہا تھا حتیٰ کہ پانی ختم ہو گیا تو اسماعیل علیہ السلام کی والدہ نے کہا کہ کاش میں جا کر (ادھر ادھر) دیکھتی شاید مجھے کوئی دکھائی دے جاتا ابن عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ وہ گئیں اور کوہ صفا پر چڑھ گئیں اور انہوں نے ادھر ادھر دیکھا خوب دیکھا کہ کوئی شخص نظر آ جائے لیکن کوئی شخص نظر نہیں آیا پھر جب وہ نشیب میں پہنچیں تو دوڑنے لگیں اور کوہ مروہ پر آ گئیں اسی طرح انہوں نے چند چکر لگائے پھر کہنے لگیں کاش میں جا کر اپنے بچہ کو دیکھوں کہ کیا حال ہے جا کر دیکھا تو اسماعیلؑ کو اپنی سابقہ حالت میں پایا گویا ان کی جان نکل رہی ہے پھر ان کے دل کو قرار نہ آیا تو کہنے لگیں کہ کاش میں جا کر (ادھر ادھر) دیکھوں شاید کوئی مل جائے چنانچہ وہ چلی گئیں اور کوہ صفا پر چڑھ گئیں (ادھر ادھر) دیکھا اور خوب دیکھا مگر کوئی نظر نہ آیا حتیٰ کہ ایسے ہی انہوں نے پورے سات چکر لگائے پھر کہنے لگیں کاش میں جا کر اپنے بچہ کو دیکھوں کہ کس حال میں ہے تو یکایک ایک آواز آئی تو کہنے لگیں فریاد رسی کر اگر تیرے پاس بھلائی ہے تو اچانک جبرائیل علیہ السلام علیہ السلام کو دیکھا ابن عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ پھر جبرائیل علیہ السلام نے اپنی ایڑی زمین پر ماری یا زمین کو اپنی ایڑی سے دبایا ابن عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ (فورا) پانی پھوٹ پڑا اسماعیل علیہ السلام کی والدہ متحیر ہو گئیں اور گڑھا کھودنے لگیں ابن عباس رضی اللہ عنہ نے کہا کہ ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اگر وہ اسے اس کے حال پر چھوڑ دیتیں تو پانی زیادہ ہوجاتا ابن عباس نے کہا کہ وہ یہ پانی پیتیں اور ان کے دودھ کی دھاریں ان کے بچہ کے لئے بہتی رہتیں۔ ابن عباس نے کہا کچھ لوگ قبیلہ جرہم کے وسط وادی سے گزرے تو انہوں نے پرندے دیکھے تو انہیں تعجب ہونے لگا اور کہنے لگے کہ یہ پرندے تو صرف پانی پر ہوتے ہیں سو انہوں نے اپنا ایک آدمی بھیجا اس نے جا کر دیکھا تو وہاں پانی پایا اس نے آ کر سب لوگوں کو بتایالہذا وہ لوگ حضرت اسماعیل علیہ السلام کی والدہ کے پاس آئے اور کہنے لگے اے اسماعیل علیہ السلام کی والدہ کیا تم ہمیں اجازت دیتی ہو کہ ہم تمہارے ساتھ قیام کریں؟ ان کا بچہ (اسماعیلؑ) جب بالغ ہوا تو اسی قبیلہ کی ایک عورت سے نکاح ہو گیا ابن عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ پھر ابراہیم علیہ السلام کے دل میں آیا اور انہوں نے اپنی بیوی سے کہا میں اپنے چھوڑے ہوؤں کے حال سے واقف ہونا چاہتا ہوں ابن عباس کہتے ہیں ابراہیمؑ آئے اور آ کر سلام کیا پھر پوچھا اسماعیل علیہ السلام کہاں ہیں؟ اسماعیل علیہ السلام کی بیوی نے کہا وہ شکار کے لیے گئے ہیں ۔ ابراہیمؑ نے کہا جب وہ آجائیں تو ان سے کہنا کہ اپنے دروازہ کی چوکھٹ تبدیل کر دو جب وہ آئے اور ان کی بیوی نے انہیں (سب واقعہ بتایا) اسماعیلؑ نے کہا کہ چوکھٹ سے مراد تم ہو لہذا تم اپنے گھر بیٹھو ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما کہتے ہیں کہ پھر ابراہیم ؑکے دل میں آیا تو انہوں نے اپنی بیوی سے کہا کہ میں اپنے چھوڑے ہوؤں کے حال سے واقف ہونا چاہتا ہوں ابن عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ابراہیمؑ آئے اور پوچھا کہ اسماعیل ؑکہاں ہیں؟ ان کی بیوی نے کہا شکار کو گئے ہیں اور آپ ٹھہرتے کیوں نہیں؟ کہ کچھ کھائیں پئیں ابراہیمؑ نے کہا تم کیا کھاتے اور پیتے ہو؟ انہوں نے کہا ہمارا کھانا گوشت اور پینا پانی ہے ابراہیمؑ نے دعا کی کہ اے اللہ ان کے کھانے پینے میں برکت عطا فرما ابن عباس نے کہا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ (مکہ میں کھانے پینے میں) حضرت ابراہیمؑ کی دعا کی وجہ سے برکت ہے ابن عباس نے کہا پھر (چند روز بعد) ابراہیم ؑکے دل میں آیا اور انہوں نے اپنی بیوی سے کہا کہ میں اپنے چھوڑے ہوؤں کو دیکھنا چاہتا ہوں وہ آئے تو اسماعیلؑ کو زمزم کے پیچھے اپنے تیروں کو درست کرتے ہوئے پایا پس ابراہیمؑ نے کہا کہ اے اسمعیلؑ! اللہ تعالیٰ نے مجھے حکم دیا ہے کہ اس کا ایک گھر بناؤں اسماعیلؑ نے کہا پھر اللہ کے حکم کی تکمیل کیجئے ابراہیم ؑنے کہا کہ اس نے یہ بھی حکم دیا ہے کہ تم اس کام میں میری مدد کرو اسماعیل ؑنے کہا میں حاضر ہوں یا جو بھی فرمایا ابن عباس رضی اللہ عنہ نے کہا پھر دونوں کھڑے ہو گئے ابراہیم علیہ السلام تعمیر کرتے تھے اور اسماعیل ؑانہیں پتھر دیتے تھے اور دونوں کہہ رہے تھے کہ اے ہمارے پروردگار ہم سے (یہ کام) قبول فرما بیشک تو سننے جاننے والا ہے حتیٰ کہ دیواریں اتنی بلند ہو گئیں کہ ابراہیم اپنے بڑھاپے کی وجہ سے پتھر اٹھانے سے عاجز ہو گئے سو وہ مقام (ابراہیم) کے پتھر پر کھڑے ہو گئے اسماعیل انہیں پتھر دینے لگے اور کہتے تھے (رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا إِنَّکَ أَنْتَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ) ۔صحیح بخاری:جلد دوم:حدیث نمبر 623
    اے رب کریم سب مسلمانوں کیلئے اپنے گھر کے دروازے کھول دے اس وبا سے نجات دے ۔ آمین یارب العالمین

    جدہ –سعودیہ
    @mmasief

  • فتنوں کا دور    تحریر : رمیصہ عروج

    فتنوں کا دور تحریر : رمیصہ عروج

    رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا”نیک اعمال کر لو اس سے پہلے کہ فتنہ رات کے اندھیرے کی طرح پھیل جائے. اس دور میں انسان صبح کافر اور شام کو مومن ہوگا یا صبح مومن اور شام کو کافر ہوگا .وہ شخص تھوڑے سے فائدے کے لئے اپنے دین کو بیچ دے گا۔”(صحیح مسلم) اللہ کے نبی نے فرمایا کہ ایک ایسا دور آنے والا ہے جس میں فتنہ رات کے اندھیرے کی طرح پھیل جائے گا۔رات کے اندھیرے کی طرح پھیل جانے سے مراد ہے کہ حق واضح نہ ہو گا۔رات کے آندھیرے میں راستے گم ہو جاتے ہیں،دکھتے نہیں۔سا
    منے آنا والا راہ گزر بھی نہیں دکھتا،صحیح اور غلط کی پہچان نہیں ہوتی۔رات کی تاریکی میں چھپ کر گناہ کیے جاتے ہیں کیونکہ انسان کو یہ خوف نہیں ہوتا کہ لوگوں میں سے کوئ مجھے دیکھ رہا ہے۔وہ یہ بھول جاتا ہے کہ عرش عظیم کا رب اسے دیکھ رہا ہے،فرشتے اس کا عمل تو کیا ہر لمحہ قلم بند کر رہے ہیں۔رات کے اندھیرے سے مراد ہے کہ حق کو پہچاننا مشکل ہو جاۓگا،حق پر ثابت قدم رہنا مشکل ہو جاۓ گا ۔انسان کا ایمان اور خیالات بہت ڈگمگائیں گے۔انسان کی شہوات اور خواہشات تو روزازل سے ہیں ہی،شبہات میں اضافہ ہو جاۓگا۔اگر غور کیا جاۓ تو آج فتنہ ہمارے ہاتھ میں ہے،فون کی ایک کلک پر یو ٹیوب پہ سب کھل کر انسان کے سامنے آجاتا ہے،انسان نہیں جانتا کہ اب نظروں کے سامنے سچ ہے یا جھوٹ۔فیس بک پر اسلام یا مسلمانوں کے خلاف مواد مل سکتا ہے۔عیسائیوں نے اپنے دین کی تبلیغ کے لیے بہت سی ویب سائٹس بنا رکھی ہیں۔دنیا میں سب سے زیادہ تبلیغ مذہب عیسائیت کی ہورہی ہے۔چشم زدن میں بہت سا ایسا مواد انسان کی نظر سے وقتاً فوقتاً گزر جاتا ہے جو اسے حق کی پہچان میں شبہات کا شکار کر جاتا ہے۔اسی طرح ا نسان اگر صبح کو مومن ہے تو رات تک اس کی نظروں سے ایسا مواد گزرگیا جس نے نور ایمان کم کر دیا اور شبہات اس حد تک بڑھا دیے کہ انسان شام تک کافر ہو گیا۔اعاذن اللہ منھم۔اب سوال یہ کے کہ حق کی پہچان کیسے کی جاۓ؟یا صحیح علم کیسے حاصل کیا جاۓ؟ سب سے پہلے تو ہم اللہ سے دعا کریں گے کہ "اے اللہ! ہمیں سیدھے راستے کی ھدایت فرمائیے۔”اور پھر ایسے ہی صحیح علم کی پہچان کریں گے جیسے ہم بہت سے ڈاکٹرز میں سے صحیح ڈاکٹر کا انتخاب کرتے ہیں۔ہم خود تو ڈاکٹر نہیں ہیں مگر صحیح ڈاکٹر کو ڈھونڈ لیتے ہیں۔اسی طرح ہم خود تو عالم نہیں مگر ہم تحقیق سے صحیح علم کی تفتیش کر سکتے ہیں۔اللہ نے ہمیں اتنا شعور دیا ہے کہ ہم جدوجہد کر کے صحیح اور غلط کی شناخت کر سکیں۔ہمیں بس کوشش کر کے تحقیق کرنی ہے اور جب ہم کوشش کریں گے تو اللہ ضرور ہمیں سیدھے راستے کی ھدایت فرما دیں گے۔اللہ نے فرمایا تم میری طرف ایک قدم آؤ ،میں تمہاری طرف دس قدم آؤں گا۔اللہ نے پہلا قدم انسان کو دے کر اسے اختیار دے دیا کیونکہ ہر انسان اللہ کی طرف قدم بڑھانے کے قابل نہیں ہوتا ،وہ کو ئ کوئ ہی ہوتا ہے جو اللہ کی راہ میں قدم بڑھائے اور پھر ثابت قدم رہے۔اللہ کا راستہ ایسا ہے جیسے ڈھلوان ہو اور انسان اونچائی کی طرف چڑھ رہا ہو،ہر قدم سوچ سمجھ کر ،جما کر رکھنا ہے۔ایک کمزور قدم انسان کو تین چار قدم پیچھے دھکیل دیتا ہے۔یہ وہ راستہ ہے جس میں انسان کو ہر قدم پھونک پھونک کر رکھنا ہے۔
    حدیث کا اگلا حصہ ہے کہ انسان تھوڑے سے فائدے کے لیے اپنے دین کو بیچ دے گا۔ہم دیکھ سکتے ہیں کہ دنیا کی بھاگ دوڑ میں،اچھے نمبروں کے پیچھے ،اچھے عہدوں کے پیچھے ہماری نمازیں رہ جاتی ہیں۔جب انسان کی نماز ہی رہ گئ تو کیا فائدہ کہ اس نے جتنی بھی شاندار کامیابی حاصل کی۔یہ ہے دنیا کے حقیر سے فائدے کے لیے اپنے دین کو بیچ دینا،گھاٹے کا سودا کرنا۔دنیا کی زندگی تو انسان کے تصور سے بھی زیادہ چھوٹی ہے۔اگر ہم تھوڑے سے فائدے کے لیے دین کو بیچ رہے ہیں تو پھر شکایتیں کیسی کہ ہم مشکلات میں گھرے ہوئے ہیں۔بہت سی مشکلات انسان پر صرف اور صرف مکافات عمل کا نتیجہ ہوتی ہیں۔ہمیں خود کا جائزہ لینا ہے کہ کہیں ہم ایسے نہ ہو جائیں کہ دنیا کے حقیر اور معمولی سے فائدے کے لیے آخرت کو پس پشت ڈال دیں۔اس لیے حقیقت کو پہچاننے کی کوشش کریں۔بے مقصد چیزوں میں وقت ضائع نہ کریں ،انھیں اپنی زندگی سے نکال دیں۔ان چیزوں کو اپنی زندگی سے نکال دیں جو آپ میں دنیا کا حرص و لالچ پیدا کر رہی ہیں۔دنیا کی حرص تو وہ ہے جو کبھی ختم نہیں ہونے والی،اس لیے اپنی زندگی سے اس کو نکال دیں۔ اس دور میں ہر قدم ہمیں پھونک پھونک کر رکھنا ہے اگر ہم اللہ کے بننا چاہتے ہیں تو،اگر ہم جنت حاصل کرنے کی خواہش رکھتے ہیں تو۔جنت اتنی ارزاں نہیں ہے ،بہت قیمتی ہے اور قیمتی چیزیں آسانی سے نہیں ملا کرتیں،ان کو حاصل کرنے کے لیے جدوجہد کرنی پڑتی ہے۔