Baaghi TV

Category: مذہب

  • مسجد عبد اللہ بن عباسؓ – طائف (سعودیہ )   تحریر :  محمد آصف شفیق

    مسجد عبد اللہ بن عباسؓ – طائف (سعودیہ ) تحریر : محمد آصف شفیق

    دوستو آج ہم آ پ سے طائف کی سیر کا احوال شئر کریں گے
    ہم چند دوستوں نے جدہ سے طائف کی سیر کا پروگرام بنایا جدہ سے طائف کم و بیش 170 کلومیٹر ہے اور کم و بیش دو گھنٹے کی ڈرائیو ہے ، طائف ایک پر فضا مقام ہے جہاں سیر و سیاحت کیلئے آنے والوں کیلئے دیگر سہولتوں کے علاوہ چئر لفٹ کی سہولت موجود ہے جس سے آپ پورے ایریا کو فضا سے دیکھ سکتے ہیں بل کھاتی سڑکیں پہاڑی راستہ اور مسلسل چڑھائی جس کی وجہ سے کافی وقت لگ جاتا ہے ، نئی نئی گاڑیاں مستقل چڑھائی کی وجہ سے اکثر ہیٹ اپ ہو جاتی ہیں جنہیں کبھی تو اٹھا کر لانا پڑجاتا ہے یا وہیں پر کوئی جگاڑ لگا کر واپس لایا جا سکتا ہے ،اگر گاڑی خراب ہو جائے تو یہاں راہ چلتے مسافر فواراً رک کر آپکی مدد کرتے ہیں جو کہ ایک اچھی بات ہے
    تو ہم بات کر رہے تھے طائف کی ، شہر طائف میں بہت سی قدیم مساجد ہیں جن میں سے ایک عظیم صحابی عبداللہ بن عباس ؓ کی مسجد ہے جو کہ طائف شہر کی مشہور مساجد میں سے ایک مسجد ہے ، یہ طائف شہر کے بالکل وسط میں واقع ہے ،اس مسجد کی تعمیر 592 ہجری میں ہوئی ، اس مسجد میں کم و بیش 3000 نمازیوں کی گنجائش موجود ہے ، مسجد میں اجتماعات عید کی نماز سیمینار ز اور لیکچرز کا انعقاد کیا جاتا ہے ، مسجد کی مختلف ادوار میں میں توسیع کی جاتی رہی محترم شاہ سعود رحمہ اللہ کے دور میں مسجد کی توسیع کی گئی اور اسے 15000 مربع میٹر تک وسیع کیا گیا
    مسجدکے بالکل ساتھ عبد اللہ بن عباسؓ لائبریری بھی موجود ہے جو اچھی بڑی لائبریری ہے چونکہ ہم نے اس کورونا کی وبا کے دوران طائف کا سفر کیا اس لئے انتظامیہ نے حفاظتی نقطہ نظر سے لائیبریری کو بند کیا ہوا ہے ہم امید کرتے ہیں ان شااللہ اپنے اگلے وزٹ پر لائیبریری کو اندر سے دیکھ سکیں گے اور اس میں موجود نوادرات کی زیارت بھی کر پائیں گے اور اسے آپ سب پڑھنے والوں سے شئر بھی کریں گے ان شاء اللہ
    مسجد اور لائبریری کے قریب ہی پارکنگ ایریا ہے جس میں وسیع و عریض کار پارکنگ کی سہولت موجود ہے ، ساتھ ہی خوبصورت گیٹ بھی بنایا گیا ہے جسے باب عبد اللہ بن عباسؓ کا نام دیا گیا ہے
    طائف میں ہی موجود مسجد علی ؓ کا احوال بھی انشاء اللہ جلد ہی اپنے اگلے بلاگ میں پیش کروں گا
    محمد آصف شفیق
    جدہ -سعودیہ

    @mmasief

  • سوچنے کا نہیں یہ رونے کا مقام ہے . تحریر: نویداختربھٹی

    سوچنے کا نہیں یہ رونے کا مقام ہے . تحریر: نویداختربھٹی

    آپ نے اکثرعلماء کو کہتے سنا ہوگا کہ جیسے جیسے انبیاء کرام آتے گئے پچھلوں کی شریعتیں منسوخ اور آنے والوں کی نافذ کی جاتی رہیں یہاں تک کہ یہ سلسلہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وآلیہِ وسلم پر آکر رک گیا۔
    دیکھنے میں بات سادہ سی معلوم ہوتی ہے کہ انبیاء آئے، انہوں نے حق سچ کی تبلیغ کی، اپنی شریعت دی اورچلے جاتے رہے لیکن سوال یہ ہے کہ کیا یہ بات واقعی اتنی ہی سادہ ہے جتنی بظاہر دیکھنے میں نظر آتی ہے؟
    اگر ہم تھوڑا غور فرمائیں تو یہ حقیقت عیاں ہوجائے گی کہ نبیوں اور رسولوں نے جو پہلا پیغام دیا وہ آگہی کا تھا کہ بندو اپنے رب کو پہچانو، تخلیق کائنات کے مالک کو پہچانو اوراسی کی بندگی کرو کیونکہ اسی میں تمہاری نجات ہے۔ آخرت کا دن طے ہے وہاں جا کر اپنے اعمال کا حساب دینا ہوگا اور اسی حساب سے تمہاری آخری منزل کا فیصلہ طے ہوگا اور یہ معاملہ حساب کے دن نمٹایا جائے گا۔ اللّٰہ کے رستے پر چلنے کو صراط مستقیم کہا گیا۔ اسی رستے پر چلنے میں ہر انسان کی نجات و بخشش ہے۔ یہ وہ احکامات تھے جو قریب ہر رسول و نبی لے کر آیا کرتا تھا۔
    ایک بات جو ہمیں علماء اکثر بتاتے آرہے ہیں کہ اگلے انبیاء کی شریعت پچھلوں سے تھوڑی مختلف ہوجاتی تھی لیکن یہ کبھی کسی عالم دین نے نہیں بتایا کہ ایسا کیوں ہوا کرتا تھا۔
    تھوڑا غور کرنے پر یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ جیسے جیسے انسانوں کی تعداد بڑھتی گئی، انسانی معاشرے پیچیدہ ہوتے گئے اور جرائم اورسماجی برائیاں بھی ساتھ ساتھ ہی بڑھتی گئیں۔ معاشرے چھوٹے ہوتے تھے تو ان کی سوچ اورسماجی برائیوں کا لیول بھی چھوٹا ہوا کرتا تھا۔ ہم اکثر پچھلے دور کو سادہ کہتے ہوئے پائے جاتے ہیں کہ پرانے لوگ بڑے شریف النفس اور اللّٰہ لوک ہوا کرتے تھے حالانکہ ایسا نہیں تھا بلکہ وہ بھی اپنے زمانے کے مطابق ہی ہوشیار و چالاک تھے لیکن چونکہ ان کے آس پاس کا ماحول محدود تھا اس لئے ان کے سوچنے کا انداز بھی محدود ہی ہوا کرتا تھا۔

    پھر اسی بات پر واپس آتے ہیں کہ ہر آنے والا نبی نئے شرعی احکامات کے ساتھ کیوں آیا کرتا تھا؟
    اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ جیسے جیسے انسانی تہذیب آگے بڑھی، انسانی دماغ کے سوچنے کی صلاحیت میں بھی اضافہ ہوتا گیا۔ اس کے اردگرد کا ماحول بدلا تو اس کی سوچ بھی بدل گئی۔ مثلاً ایک ہزار سال پہلے کا انسان اگر آج کی تہذیب میں آ نکلے تو وہ ڈر کے مارے اس دنیا سے پناہ مانگنے لگے۔ ممکن ہے بے چارہ کہیں کسی جگہ سڑک پار کرتے گاڑی کے نیچے آکر کچلا جائے۔ واقعہ معراج کی سائنسی توجیہ پیش کرنے والوں کو آج کے علماء برا بھلا کہتے نظر آئیں گے اور اس کی وجہ علماء کی ایک حد تک محدود اپروچ ہے اور وہ اس سے آگے سوچنے سے معذور ہیں۔ آئین سٹائن نے قریب 130 سال قبل ہی اس کی توجیہ پیش کر دی تھی کہ مادہ اور توانائی درحقیقت ایک ہی چیز ہیں اور ایک دوسرے میں بدلے جاسکتے ہیں۔ افسوس کہ مسلمان ‘براق’ کے لفظ سے بھی یہ بات نہیں سمجھ پایا اور اس کی وجہ مسلمان ممالک میں سائنسی سوچ کا فقدان ہے۔

    بات ختم کرتے ہوئے ایک سوال کے ساتھ ہی جواب دوں گا کہ ہمارے ہاں اکثر سادہ ترین مسلمان بھی یورپ اور امریکہ والوں کے نظام معاشرت کی تعریف کرتے ہوئے پائے جاتے ہیں اور یہ کہہ کر بات ختم کر دیتے ہیں کہ: غیر مسلموں نے ہمارے قرآن کی تعلیمات کو سمجھ کر سے اپنا لیا لیکن ہم اسے نا اپنا کر ذلیل و خوار ہو رہے ہیں۔ یہ وہ حتمی نظام ہے جو نبی آخر الزماں حضرت محمد صلی اللّٰہ علیہ وآلیہِ وسلم کے کر آئے اور انہوں نے اسے عملی شکل میں نافذ کرکے تاریخ کا حکم حصہ بنا دیا۔

    گرچہ یہ بات سادہ سی معلوم ہوتی ہے لیکن یہ بات جتنی سادہ معلوم پڑتی ہے یہ اتنی ہی پیچیدہ اور سازش سے بھرپور ہے۔
    ریاست مدینہ میں انصاف، امن، مساوات، سب شہریوں کیلئے وسائل کی برابر تقسیم، زکوٰۃ کا نظام ( ٹیکسوں کا نظام) بلا تفریق نافذ تھا، قانون کی بالادستی، شیر اور بکری کا ایک گھاٹ پر پانی پینا، حکمرانوں کا عادل ہونا اور ان کا آسان احتساب اور جہاد کا جاری رہنا وہ خصوصیات تھیں جنہوں نے ریاست مدینہ کو چند سال میں ہی دنیا کی سپر پاور بنا کر رکھ دیا تھا۔ اسی ریاست کے ماڈل کو فالو کرکے یورپ اور امریکہ کے عوام خوشحال اور پرامن معاشروں میں آئڈیل زندگیاں گذار رہے ہیں جبکہ ہمارا المیہ یہ ہے کہ موجودہ مسلمان عبادات میں فلاح ڈھونڈتا ہے اور چوری چکاری، ڈاکہ زنی، سود خوری، ذخیرہ اندوزی، مہنگائی، ناانصافی اور رشوت خوری کا خاتمہ صرف ریاست کی ذمہ داری سمجھتا ہے اور اسی وجہ سے دنیا بھر میں مسلمان کو تیسرے درجے کا شہری قرار دیا جاتا ہے اور اسلامی ممالک علمو حکمت کی دنیا سے کوسوں دور ہیں جبکہ ان کے دین کی بنیاد ہی "اقرا” تھی۔
    سوچنے کا نہیں یہ رونے کا مقام ہے ہمارے لئے.

    @NaveedBhattiMM
    ‎‎

  • اللہ نے انسان کے ہاتھ میں کوشش دی ہے . تحریر: مدثر

    اللہ نے انسان کے ہاتھ میں کوشش دی ہے . تحریر: مدثر

    اس چھوٹے سے جملے میں کامیاب قوموں کی ترقی کا راز پنہاں ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں ارشاد فرمایا کہ:
    ترجمہ: انسان کیلئے وہی کچھ ہے جس کیلیے وہ کوشش کرتا ہے۔
    علامہ محمد اقبال نے اس شعر کی ترجمانی اپنے کلام میں یوں ارشاد فرمایا کہ۔

    ہمت کرے انسان تو کیا ہو نہیں سکتا
    وہ کونسا عقدہ ہے جو وا ہو نہیں سکتا۔

    انسان کے بس میں کوشش ہے اس کوشش کا ثمر تو اللہ پاک کے ہاں موجود ہے۔ جتنا زیادہ کوئی کوشش کرے گا اُتنا زیادہ اسے اس چیز کا پھل ملے گا۔ کوئی بھی چیز بغیر کوشش کے انسان کو میسر نہیں ہو سکتی۔ دنیا میں کئی قومیں ہیں لیکن سب سے نمایاں،برتر اور ترقی یافتہ قومیں وہی ہیں جنہوں بہت زیادہ کوشش کی اور اپنے کام کو سرانجام دیا۔

    حدیثِ پاک ہے کہ :
    محنت کرنے والا اللہ کا دوست ہے۔ ہاتھ سے کام کرنے والا بھی اللہ کا دوست ہے۔ جو جتنی زیادہ جتن کرتا ہے اللہ پاک اسے اتنا زیادہ دیتا ہے۔
    دنیاوی مثال لے لیں اگر ایک طالب علم پورا سال پڑھتا نہیں اور پیپر بھی بغیر پڑھے دے آتا ہے تو کیا وہ اچھے نمبروں کی امید رکھ سکتا ہے؟ ہر گز نہیں!, کیوں؟ کیونکہ اس نے اچھے نمبر لینے کی کوشش ہی نہیں کی محنت ہی نہیں۔

    اچھے اوصاف میں سے سب سے بہترین وصف یہ ہے کہ آپ کتنے محنتی ہیں اور کسی چیز کو حاصل کرنے کیلیے کس جائز حد تک جا سکتے ہیں۔ محنت تو کامیاب انسانوں کا شیوہ ہے۔ محنت ہی انسان کو بناتی ہے اور محنت ہی انسان کو اوجِ ثریا کی بلندیوں پر لے جاتی ہے۔

    اقبال فرماتے ہیں:
    فرشتوں سے بہتر ہے انسان بننا
    مگر اس میں پڑتی ہے محنت زیادہ

    اللہ نے انسان کے ہاتھ میں فقط کوشش دی ہے اور ساتھ اس کا ثمر بھی بتا دیا ہے کہ میں تمہیں وہی دونگا جس کےلئے جتنی تم کوشش کرو گے۔ اس لیے ہمیں چاہیے کہ ہمہ تن گوش ہو کر اپنے ذہن میں مقصد لے کر اس کی تگ و دو میں لگ جائیں اور ہر ممکن حد تک کوشش کریں کیونکہ صلہ دینے والی ذات تو اللہ تعالیٰ ہی کی ہے.

    @MudasirWrittes

  • تحریر: مجاہد حسین ابھی کچھ لوگ باقی ہیں جہاں میں

    تحریر: مجاہد حسین ابھی کچھ لوگ باقی ہیں جہاں میں

    ہمارے معاشرے میں ہمیں طرح طرح کے لوگوں سے واسطہ پڑتا ہے۔ ہزاروں قسم کی فطرتیں دیکھنے میں آتی ہے۔ بہت سے لوگوں سے بہت کچھ سیکھنے کو ملتا یے۔ کبھی کبھی کوئی غیر ہمارے دلوں پر ایسا اثر اور نشان چھوڑ جاتا ہے جو کسی اپنے سے امید بھی نہیں کی جا سکتی۔
    کچھ ایسا ہی واقعہ آج ہمارے ساتھ پیش آیا۔
    آج سعودی عرب میں یوم العرفہ تھا۔ آج کو دن یہاں کے مقامی لوگوں کی اکثریت روزہ رکھتی ہے۔ یہاں بھی ہر طرح کے لوگوں سے واسطہ پڑتا ہے۔ آپ نے اکثر سعودی پلٹ پاکستانیوں کے منہ سے کفیلوں کی برائیاں سن رکھی ہونگی۔ اور یقیناً ان میں سے اکثریت کے بارے میں ہماری رائے بھی ایسی ہی ہے۔ لیکن آج ہوئے واقعے نے ہمیں یہ سکھا دیا کہ "ابھی کچھ لوگ باقی ہیں جہاں میں”
    اللہ نے نفلی روزہ رکھنے کی توفیق دی، سارا دن گھر والوں سے باتوں میں، نماز اور ذکر اور سو کے گزر گیا۔ شام ہوئی تو دوست نے کہا کہ آج ریسٹورنٹ سے کھانا کھا کے آتے ہیں۔ رہائش کے پاس ہی ایک ترک ریسٹورنٹ ہے۔ اکثر جانا ہوتا ہے وہاں پر۔ افطار کمرے میں کر کے جب ہم ریسٹورنٹ پہنچے تو وہاں پہلے سے ایک باریش سعودی کھانا نوش فرما رہا تھا۔ میں نے رسماً انہں سلام کہا، انہوں نے میری طرف دیکھا مسکرا کر وعلیکم السلام کہا، میں نے اپنی ٹوٹی پھوٹی عربی میں انہیں عید کی ایڈوانس مبارک بھی دے ڈالی، یہ سب دیکھ کر وہ مسکرائے اور کھانا کھانے میں مصروف ہوگئے۔
    اتنی دیر میں ہمارا آرڈر بھی آ گیا اور ہم نے بھی کھانا شروع کر دیا۔ تھوڑی دیر بعد ویٹر پیپسی لے کے ہمارے پاس آیا اور بولا، "یہ ان صاحب نے آپ کو دینے کے لئے کہا ہے” ہم نے قبول کی اور ان کا شکریہ ادا کر کے کھانا کھانے لگ گئے۔ انہوں نے اپنا کھانا ختم کیا اور کاؤنٹر پہ حساب کتاب کر کے پیسے دے دئیے۔ جاتے وقت مسکراتے ہوئے ہمیں "عید مبارک” بھی کہہ گئے۔
    ہم نے کھانے سے فارغ ہو کے، ہاتھ دھو کے جب بل دینا چاہا تو معلوم ہوا کہ اللہ کا وہ نیک بندہ ہمارے پیسے بھی دے گیا ہے۔ ہم حیرت بھری نگاہوں سے ایک دوسرے کو دیکھنے لگے کہ ایسا کیوں کیا؟
    آخر ایسا کیا تھا جس نے اس شخص کو متاثر کیا؟
    ہوٹل میں اور بھی لوگ تو موجود تھے (کئی تو سعودی بھی تھے) تو ہمارا بل ہی کیوں؟
    کیا ریسٹورنٹ میں آتے ہی ہمارا اسے سلام کرنا، اس سے حال پوچھنا، عید کی مبارک دینا اسے پسند آیا؟
    اللہ ہی بہتر جانتا ہے۔ لیکن ایک بات تو ہے۔ اخلاق آپ کے بڑے سے بڑے دشمن کو بھی دوست بنا دیتا ہے۔ آپ کے قتل کے درپے لوگ آپ کے خادم بھی بن جایا کرتے ہیں یہ چیزیں ہمیں اللہ کے رسول ﷺ کی سیرت سے ملتی ہیں۔
    خیر، وجہ چاہے کچھ بھی ہو، جب آپ کسی سے اخلاق سے پیش آتے ہیں تو آپ کا ایک مثبت اثر اس کے دل میں اتر جاتا ہے۔ حضرت ابودردہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا : "میزان میں حسن اخلاق سے بڑھ کر کوئی چیز وزنی نہیں” ایک اور مقام پہ حضرت عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا: بیشک مومن اپنے حسن اخلاق کی بدولت روزے رکھنے اور قیام کرنے والے کا درجہ پا لیتا ہے” اللہ سے دعا ہے کہ اللہ ہمیں حسن اخلاق سے نوازے۔ آمین
    @Being_Faani

  • تحریر : روشن دین دیامری :  موجودہ  دور میں ہم سیرتؐ سے کیا سبق حاصل کر سکتے ہیں

    تحریر : روشن دین دیامری : موجودہ دور میں ہم سیرتؐ سے کیا سبق حاصل کر سکتے ہیں

    حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ولادت پوری انسانیت کے لئے بہت بڑی نعمت ہے۔ اپؐ کی تعلیمات ہمارے لے ثقافت یا مذہب سے قطع نظر اس دنیا کی ہر قوم کے لئے معاشرتی ترقی اور خوشحالی کے مثال کے طور پر کام کرتی ہیں۔ اپؐ کی ولادت ہم سب کے لے باعث رحمت ہے ، یہ بہت اہم ہے کہ ہم اپؐ کے پیروکار ہونے کے ناطے ، ان کی پیش کردہ اسلامی تعلیمات کے تناظر میں اپنے موجودہ معاشرتی الجھنوں کا سنجیدگی سے تجزیہ کریں اور انسانیت کو ناانصافی اور جبر سے آزاد کرنے کے لئے اپؐ کے حکمت عملی پہ عمل کرے ۔ ہم اپؐ کے زندگی کے مختلف پہلوں کا تجزیہ کرکے جس میں اپؐ کی طرف سے اجتماعی بنیادوں پر شروع کی گئی جدوجہد کا طریقہ کار پہ عمل کر سکتے ہیں ، ہم استحصالی قوتوں کے ہاتھوں انسانیت کی مروجہ پریشانی اور بدحالی کو ختم کرنے کے لئے یقینی طور پر اپنے لائحہ عمل کو طے کرسکتے ہیں۔ حضور نبی اکرم (ص) کی زندگی سے متعلق پہلا اور اہم تصور یہ ہے کہ ان کی آمد کا واحد مقصد اس وقت کے ظالم نظام سرمایہ دارانہ طاقتوں کے ذریعہ مسلط انسانیت کو ظلم ، جبر اور استحصال سے آزاد کرنا تھا۔ بلا شبہ ، اپؐ اور جماعت صحابہؓ نے اس مشن کو کامیابی کے ساتھ انجام دیا اپنے دور کے استحصالی معاشی اور سیاسی نظام کو جڑ سے اکھاڑ پھینک کر ، معاشی انصاف ، معاشرتی مساوات ، اجتماعیت ، امن ، اور انسانیت پسندی کے اصولوں پر مبنی معاشرتی نظام کی بنیاد رکھی۔ اپؐ کی زندگی کا ہر پہلو اسلامی اصولوں پر زور دیتا ہے۔ مثال کے طور پر ، حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے الوداعی خطبہ میں ، انہوں نے کہا ، "لوگو ، بیشک آپ کا رب اور پالنے والا ایک ہے اور آپ کا آباؤ اجداد ایک ہے۔ آپ سب حضرت آدم علیہ السلام کے اولاد ہو اور آدم علیہ السلام مٹی سے بنے تھے۔ اللہ کے سامنے تم میں سب سے ممتاز وہ ہے جو سب سے زیادہ پرہیزگار ہے۔ کسی
    عربی کو کسی عجمی پر فضیلت نہیں ہے اور نہ ہی کسی عربی پر کسی عجمی کو فضیلت حاصل ہے نہ ہی کسی گورے کو سیاہ پر اور نہ ہی کسی سیاہ کو کسی گورے پر ، سوائے اس کے کہ جس کا تقویٰ ذیادہ ہو۔ قبل از اسلام میں ، خواتین کو انتہائی شرم کی علامت سمجھی جاتی تھی اور ان کے معاشرے میں کوئی قابل احترام حیثیت حاصل نہی تھی۔ ہمارے نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے معاشرتی مساوات پر مبنی نظام کے نفاذ کے ذریعہ ان سے باوقار اور خود مختار زندگی جینے کا حق دیا۔ اپؐ کے متعدد تعلیمات خواتین کی عزت اور معاشرے میں ان کے کردار پر زور دیتی ہیں۔
    مثال کے طور پر ، اپنے الوداعی خطبے میں ، حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی فرمایا ، "اپنی عورتوں کے ساتھ اچھا سلوک کرو کیونکہ یہ یہ ان کا حق ہے ۔اور وہ بہت سارے معاملات خود سنبھالنے سے قاصر ہیں۔ لہذا اللہ سے ڈرو اور ان کے بارے میں شعور رکھو ،اور ان کے جائر مطالبات پورے کرو جسے میں نے اپ کو کر کے دیکھایا ہے۔ ، آپ کا باہمی رشتہ مقدس ہے۔ اجتماعی اور ایمانداری کی بنیاد پر آنحضرتؐ کی زندگی کے مذکورہ بالا اصولوں کا تجزیہ کرکے ، ہم اپنے موجودہ معاشرتی بحران پر قابو پانے کے لئے حکمت عملی مرتب کرسکتے ہیں۔ سنت نبوی (ص) کا دوسرا پہلو اس بات پر زور دیتا ہے کہ اس کی باضابطہ جدوجہد ، معاشرے کے غلط لوگو ں کی نشاندہی کرکے ایک اچھا معاشرہ بنایا جاائے ۔اپؐ اور جماعت صحابہؓ نے حکمران طبقے کے استحصال ایجنڈوں کا مقابلہ کرنے کے لئے ایک اجتماعی حکمت عملی تیار کی۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کا گہرا تجزیہ یہ واضح کرتا ہے کہ ان کی پوری جدوجہد کا جو کہ دنیا بھر استحصال زدہ سیاسی ، معاشی اور معاشرتی نظام کو ختم کرنا تھا۔ اس وقت ، مکہ مکرمہ کے خود غرض حکمران طبقے نے اپنی قوم کو دھوکہ دہی سے غلام بنانے کے لئے ایک بے رحمانہ سیاسی نظام بنایا تھا۔ اور وحشیانہ اور غیر انسانی سلطنتں جیسے روم اور فارس کی وجہ سے بین الاقوامی سطح پر بھی یہی معاملہ تھا۔ مکہ مکرمہ کے اس مستند حکمران فرقے نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے انسانیت دوست مشن کی شدید مخالفت کی اور انہیں اور ان کے ساتھیوں کو سخت تکلیف پہنچائی۔ انہوں نے معاشرے کے کمزور اور لاچار لوگوں کو اپنی نمائندگی قبول کرنے اور اپنے مسلط کردہ آمرانہ نظام کی بالادستی کی مکمل پابندی کا مظاہرہ کرنے پر مجبور کیا۔ ان کا ماننا تھا کہ حضور (ص) عرب ممالک پر ذاتی شان و شوکت کی خواہش رکھتے ہیں۔لیکن اپؐ اور جماعت صحابہؓ نے مل کراس ظالمانہ نظام کو ختم کر دیا اور ایک عادلانہ معاشرہ قائم کیا۔ اللہ تعالی سے دے دعا ہے ہم اپؐ اور جماعت صحابہؓ کے طرز زندگی پہ عمل کر کے ایک انسانی معاشرہ ترتیب دیں۔امین

    @rohshan_Din

  • یوم عرفہ کا روزہ دوسالوں کے گناہوں کی معافی  ! تحریر:محمد آصف شفیق

    یوم عرفہ کا روزہ دوسالوں کے گناہوں کی معافی ! تحریر:محمد آصف شفیق

    یہود میں سے ایک شخص نے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کہا کہ اے امیرالمومنین اگر ہم پر یہ آیت نازل ہوتی کہاَلْيَوْمَ اَ كْمَلْتُ لَكُمْ دِيْنَكُمْ وَاَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِيْ وَرَضِيْتُ لَكُمُ الْاِسْلَامَ دِيْنًا ۔ آج میں نے تمہارے لئے دین کو مکمل کر دیا اور میں نے تو اپنی نعمت تم پر پوری کر دی اور میں نے تمہارے لئے دین اسلام پسند کیا تو ہم اس دن کو عید کا دن قرار دیتے تو حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ میں جانتا ہوں کہ کس دن یہ آیت نازل ہوئی ہے، یہ جمعہ کا دن یوم عرفہ میں نازل ہوئی ہے
    نو(۹)ذی الحجہ کو ’’یومِ عرفہ‘‘کہنے کی فقہاء نے تین وجوہات بیان کی ہیں
    ۱۔ حضرت ابراہیم کو آٹھ(۸) ذی الحجہ کی رات خواب میں نظر آیا کہ وہ اپنے بیٹے کوذبح کر رہے ہیں تو ان کو اس خواب کے اللہ تعالی کی طرف سے ہونے یا نہ ہونےمیں کچھ تردد ہوا،پھرنو(۹)ذی الحجہ کو دوبارہ یہی خواب نظرآیا تو ان کو یقین ہو گیا کہ یہ خواب اللہ تعالی کی طرف سےہی ہے چونکہ حضرت ابراہیم کویہ معرفت اور یقین نو(۹)ذی الحجہ کو حاصل ہوا تھا اسی وجہ سے نو(۹) ذی الحجہ کو ’’یومِ عرفہ‘‘ کہتے ہیں۔
    ۲۔ نو ذی الحجہ کو حضرت جبرائیلؑ نے حضرت ابراہیم ؑکوتمام مناسکِ حج سکھلائے تھے مناسکِ حج کی معرفت کی مناسبت سے نو(۹)ذی الحجہ کو ’’یومِ عرفہ‘‘ کہتے ہیں۔
    ۳۔ نو(۹) ذی الحجہ کو حج کرنے والے حضرات چونکہ میدانِ عرفات میں وقوف کیلئے جاتے ہیں،تو اس مناسبت سے نو(۹)ذی الحجہ کو ’’یومِ عرفہ بھی کہہ دیتے ہیں۔
    یوم عرفہ کے دن کی فضیلت ان احادیث مبارکہ میں کچھ یوں بیان ہوئی ہے
    حضرت ابوقتادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا مجھے اللہ تعالیٰ سے امید ہے کہ عرفہ کے دن کا روزہ رکھنے سے ایک سال پہلے اور ایک سال بعد کے گناہ معاف فرما دے گا۔(جامع ترمذی:جلد اول:حدیث نمبر 733 )
    حضرت جابر رضی اللہ عنہ راوی ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا عرفہ کے دن اللہ تعالیٰ آسمان دنیا پر نزول فرماتا ہے (یعنی رحمت اور احسان و کریم کے ساتھ قریب ہوتا ہے) اور پھر فرشتوں کے سامنے حاجیوں پر فخر کرتا ہے اور فرماتا ہے کہ ذرا میرے بندوں کی طرف تو دیکھو، یہ میرے پاس پراگندہ بال، گرد آلود اور لبیک و ذکر کے ساتھ آوزایں بلند کرتے ہوئے دور، دور سے آئے ہیں، میں تمہیں اس بات پر گواہ بناتا ہوں کہ میں نے انہیں بخش دیا، (یہ سن کر) فرشتے کہتے ہیں کہ پروردگار ان میں فلاں شخص وہ بھی ہے جس کی طرف گناہ کی نسبت کی جاتی ہے اور فلاں شخص اور فلاں عورت بھی ہے جو گنہ گار ہیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں نے انہیں بھی بخش دیا۔ پھر رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ۔ ایسا کوئی دن نہیں ہے جس میں یوم عرفہ کی برابر لوگوں کو آگ سے نجات و رستگاری کا پروانہ عطا کیا جاتا ہو۔ (شرح السنہ)( مشکوۃ شریف:جلد دوم:حدیث نمبر 1145 )
    حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے موقوفاً یا مرفوعاً مروی ہے کہ و شاہد و مشہود میں شاہد سے مراد یوم عرفہ ہے اور مشہود سے مراد قیامت کا دن ہے۔(مسند احمد:جلد چہارم:حدیث نمبر 811)

    حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ سورت فجر میں دس دنوں سے مراد ذی الحجہ کے پہلے دس دن ہیں وتر سے مراد یوم عرفہ ہے اور شفع سے مراد دس ذی الحجہ ہے۔(مسند احمد:جلد ششم:حدیث نمبر 391)
    حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ کسی شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یوم عرفہ (نو ذی الحجہ ) کے روزے کے متعلق پوچھا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ دو سال کا کفارہ بنتا ہے پھر کسی نے یوم عاشوراء کے روزے کے متعلق پوچھا تو فرمایا یہ ایک سال کا کفارہ بنتا ہے۔(مسند احمد:جلد نہم:حدیث نمبر 2553 )
    حضرت ابو قتادہ انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا یوم عرفہ کے روزے کا کیا حکم ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھے بارگاہ الٰہی سے امید ہے کہ اس سے گذشتہ اور آئندہ سال کے گناہوں کا کفارہ ہو جاتا ہے سائل نے یوم عاشوراء کے روزے کا حکم پوچھا تو فرمایا مجھے بارگاہ الٰہی سے امید ہے کہ اس سے گذشتہ سال کے گناہوں کا کفارہ ہو جاتا ہے۔(مسند احمد:جلد نہم:حدیث نمبر 2646)
    اللہ رب العالمین ہمیں عرفہ کے مبارک دن کی اہمیت کو سمجھنے اور اس دن اللہ تعالیٰ کی رضا و خوشنودی کیلئے اور اپنے گناہوں کی بخشش کے لئے روزہ رکھنے کی توفیق عطا فرمائیں
    آمین یا رب العالمین
    محمد آصف شفیق
    جدہ –سعودیہ
    @mmasief

  • ہندوستان، حالات حاضرہ کی روشنی میں قسط نمبر(2) . تحریر : تحریر: محمد صابرمسعود

    ہندوستان، حالات حاضرہ کی روشنی میں قسط نمبر(2) . تحریر : تحریر: محمد صابرمسعود

    اسی ظلم و بربریت، اکثریتی مذہب کی شدت پسندی اورحکومتی تانا شاہی کا نشانہ اترپردیش میں واقع دادری کے محمد اخلاق کوبنایا گیا۔ 2014 میں محمد اخلاق کو اسکے فریزرمیں گائے کا گوشت ہونے کا جھوٹا الزام لگا کر ایک ہجوم نے قتل کردیا تھا۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ فریزرتومحمد اخلاق کے گھر میں تھا تو ان شرپسند دشمنوں، آرایس ایس کے چڈھوں اوراکثریتی مذہب سے تعلق رکھنے والے غنڈوں کو اس بات کا کیسےعلم ہوا کہ موصوف کے فریزرمیں گائے کا گوشت موجود ہے؟ اس بات کا ان حضرات کے پاس کوئ جواب موجود نہیں ہے کیونکہ یہ ایک بے بنیاد الزام تھا لہذا معلوم ہوا کہ انکی خطا صرف اورصرف مسلمان ہونا تھی؟ اب اگلا سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا انکوانصاف ملا؟ قاتلوں کوانکے ظلم و قتل کی پاداش میں جیل بند کیا گیا ؟ اگرنہیں توکیا فقط اس وجہ سے کہ قاتل ہندو تھے؟ تمام سوالات کے جوابات کا انتظارکریں.

    اسی مآب لنچنگ کا نشانہ اخباری رپورٹ کے مطابق سنہ 2020/ ستمبر میں بریلی میں 32 سالہ مسلم نوجوان باسط علی کو انتہا پسندوں، غلیظ و ناپاک سوچ رکھنے والے غنڈوں کے ایک ہجوم نے چوری کے شک میں بری طرح زدوکوب کیا، ان پرلوہا چوری کرنے کا جھوٹا الزام عائد کرکے ہندو شدت پسندوں بالفاظ دیگر بی جے پی و آرایس ایس کے لیٹرنگ جیسے چڈھے پہننے والے غنڈوں نے کئی گھنٹے تک درخت سے باندھ کررکھا اورجم کراس کی پٹائی کی، اس واقعے کی اطلاع جب پولس کو ملی اورپولس موقع واردات پرپہنچی تو ہجوم نے باسط کو پولس کے حوالے کردیا، اس واقعے کا دل کو دہلا دینے و بے چین کردینے والا ویڈیو بھی سوشل میڈیا پروائرل ہوا، ویڈیو میں نظرآنے والا شخص باسط علی ہی ہے، ویڈیو میں یہ بھی دیکھا جاسکتاہے کہ اس کے دونوں ہاتھوں کودرخت سے باندھ دیا گیا ہے، زدوکوب کے درمیان وہ چیختے و چلاتے ہوئے مدد و نصرت کی فریاد کررہا ہے لیکن موقع پرموجود لوگ اسکو سنی ان سنی کرکے اس پر کوئی توجہ نہیں دے رہے ہیں بلکہ کئی لوگ تومسکراتے ہوئے ہونٹوں سے موتیاں بکھیرتے ہوئے بھی نظرآرہے ہیں اورآپس میں بات چیت کررہے ہیں.

    اس دوران کچھ لوگ مظلوم و بے قصورباسط علی کے پاس آئے ضرورمگروہ بھی صرف اپنی ریٹنگ بڑھانے کے لئے ویڈیو وتصاویرلیکر واپس لوٹ گئے، ایک رپورٹ کے مطابق پولس نے بتایا کہ پٹائی کرنے کے بعد کچھ لوگ باسط کو تھانہ لیکرآئے، یہاں وہ لوگ بھی پہنچے جن کے سامان چوری ہونے کےالزام میں اس کو زدوکوب کیا گیا تھا، پولس اسٹیشن میں ان لوگوں نے کہا کہ چونکہ ان کا سامان واپس مل گیاہے اورباسط ان کا پڑوسی ہے، لہذا وہ شکایت درج نہیں کرانا چاہتے، پولس اسٹیشن میں مبینہ سمجھوتے کے ایک گھنٹے بعد باسط نے چیختے و چلاتے ہوئے وہیں دم توڑ دیا اورزندگی کی جنگ ہارگیا، مقتول کی ماں نے میڈیا سے کہا تھا کہ جب مجھے معلوم ہوا کہ باسط کو کچھ لوگ پیٹ رہے ہیں، تومیں نے اپنے چھوٹے بیٹے کو اسے بچانے کےلئے کہا لیکن وہ اتنا ڈرگیا تھا کہ اس نے خود کو ایک کمرے میں بند کرلیا اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا انکو انصاف ملا ؟ اور کیا یہ الزام درست تھا ؟

    تمام جوابات کا انتظار کریں

    جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    @sabirmasood_

  • حضرت ابراہیم علیہ السلام کا صبر و تحمّل . ڈاکٹر حمزہ احمد صدیقی

    حضرت ابراہیم علیہ السلام کا صبر و تحمّل . ڈاکٹر حمزہ احمد صدیقی

    خالق کائنات ﷻنے اپنے بندوں کی ہدایت کیلئے کم وبیش ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیائے کرام علیہ السلام دنیا میں بھیجے ،جن کا سلسلہ حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر امام الانبیا حضرت محمد مصطفےٰ صلی اللہ علیہ وسلم تک جاری رہا ۔ان میں حضرت سیدنا ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام کو دوسرے انبیا پر کئی جہتوں سے ایک خاص قسم کی بزرگی اور عظمت حاصل ہے۔ حضرت سیدنا ابراہیم علیہ السلام کی زندگی ابتلاء و آزمائش کے دشوار گزار اور صبر آزما مراحل سے بھری ہوئی ہے۔ اُمت محمدیہ صلی اللہ علیہ و سلم کے لئے اس میں سرخروئی اور سربلندی کے لئے کئی راز پوشیدہ ہیں۔ زندگی کے ہر موڑ پر ایثار و قربانی کے انمول اور زرین باب حضرت ابراہیم علیہ السلام نے پیش کئے

    حضرت ابراہیم علیہ السلام نے فرزندانِ توحید کے لئے ایثار و قربانی کا بہترین نمونہ چھوڑا ہے۔ خواہ وہ تبلیغ کی راہ میں ملنے والی مشکلات ہوں یا توحید کی راہ میں نظرِ آتش ہونا، ہجرت کرنا ہو یا اپنے لاڈلے اور پیارے بیٹے کو اللہ کی راہ میں قربان کرنا، وہ اللہ پاک کے لئے ہر قسم کی قربانی کے لئے ہر دم تیار رہنے میں بنی نوع انسان کے لئے بہترین اسوہ موجود ہے۔صبر و استقلال اور دِین پر استقامت کے حوالے سے حضرت ابراہیم خلیل اللہؑ کی زندگی ایسے روشن چَراغ کی حیثیت رکھتی ہے، جس کی روشنی قیامت تک اپنی نُورانی کرنیں بکھیرتی رہے گی.اللہ تعالیٰﷻ نے قرآن پاک میں ان کا ذکر کثرت سے فرمایا اور مسلمانوں کوان کی زندگی اور قربانیوں سے سبق لینے کی تلقین فرمائی ہےتاکہ مسلمان ان کے نقش پا کو اپنا کر اپنی دنیا اورآخرت سنوار سکے

    قرآنِ کریم میں ارشادِ ربّانی ہے”اور جب ابراہیمؑ کے پروردگار نے چند باتوں میں اُن کی آزمائش کی، پھر اُنہوں نے اُسے پورا کیا تو اللہ نے اُن سے فرمایا کہ میں تمہیں لوگوں کے لیے پیشوا بنانے والا ہوں۔سُورۃالبقرہ

    حضرت سیدنا ابراہیم ؑکی زندگی میں آزمائشوں کا ایک سلسلہ رہا، جو صرف اور صرف آپؑ کی شان اور عظمت کے اظہار کیلئے تھا۔آپؑ کے عزم و استقلال پر ہزاروں مرتبہ بھی قربان جائیں تو کم ہے

    قارٸین اکرام!حضرت ابراہیم خلیل اللہؑ دینی حمیّت، ایمانی جذبے، صبر و استقلال اور اپنی جلالتِ قدر کے باعث ہر امتحان اور ہر آزمائش میں پورے اُترے آٸیے ان کے تین بڑے امتحانات کو ملاحظہ فرماٸیے۔۔۔

    اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم کا پہلا امتحان اس وقت لیا،جب انہیں بادشاہِ وقت نمرود کے حکم سے دہکتی ہُوئی آگ کی نذر کیا گیا، تو اُس وقت جس ایمانی جذبے اور تسلیم و رضا کا مظاہرہ اُنہوں نے فرمایا، وہ
    انسانی تاریخ میں اُن ہی کا امتیاز اور اُن ہی کا حصّہ ہے

    اسی اہم واقعہ کی عکاسی کرتے ہوۓ ایک شاعر کہتا ہے۔

    آج بھی ہو جو ابراہیم سا ایماں پیدا
    آگ کرسکتی ہے انداز گلستاں پیدا،

    آج بھی ہمارے لئے کفار و مشرکین کی طرف سے لگائی گئی مکر وفریب اور ظلم و جبر کی آگ گلستاں میں تبدیل ہو سکتی ہے، آج بھی اپنے ایمان کی پختگی سے ہم ان کے جھوٹے غرور کو ملیا میٹ کر سکتے ہیں، لیکن بشرطیکہ ہمیں اپنے سینوں میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کی طرح ایمان کے چراغ کو روشن کرنا ہوگا، توکل علی اللہ کا اتم مصداق بننا ہوگا، اپنے قلوب سے ہر ایک کا خوف نکال کر اسے محض خوف خدا سے آباد کرنا ہوگا ،تب جاکر وقت کا نمرود بھی ہمارے ایمان کے سامنے سرنگوں اور گھٹنے ٹیکتا ہوا نظر آۓ گا۔

    اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم کا دوسرا امتحان اس وقت لیا ،جب انہوں نے اپنی زوجہ حضرت ہاجرہ اور چہیتے واکلوتے بیٹے حضرت اسماعیل کو حرم کی ویران وبیابان سرزمین پر چھوڑ آؤ۔ اس وقت دور دور تک مکہ میں کوئی آبادی نہ تھی۔ ایسی اجاڑ جگہ اپنے اہل خانہ کو چھوڑ کر واپس آجانا جبکہ وہاں نہ کوئی انسان تھا اور نہ ہی دانہ پانی کا نام ونشان، حضرت ہاجرہ ان دنوں حضرت اسماعیل کو دودھ پلاتی تھیں ،اپنے شیر خوار بچے اور بیوی کو ایسی جگہ چھوڑ آنا سخت ترین امتحان تھا۔ اس امتحان کا مقصد جہاں اپنے محبوب بندے کی آزمائش کرنی تھی، وہاں دوسری طرف کعبہ شریف کی تعمیر اور مکہ مکرمہ کو آباد کرنا بھی مقصود تھا غرض یہ کہ حضرت ہاجرہ اپنے بیٹے اسماعیل علیہ السلام کو دودھ پلاتی رہیں مشکیزہ کا پانی اور کھجوریں ختم ہوگئیں یہا ں تک کہ حضرت ہاجرہ رضی اللہ عنہا بھوکی پیاسی ہوگئیں جس کے سبب دودھ بننا بھی ختم ہوگیا اور آپ کے ساتھ ساتھ بچہ بھی بھوک وپیاس سے بلک اٹھا۔ بچے کی تڑپ اور پیاس آپ سے دیکھی نہ گئی۔ اس بے قراری کے عالم میں دوڑ کر قریب کی پہاڑی صفا پر چڑھیں کہ شاید کہیں پانی نظر آجائے یا کوئی انسان ہی نظر آجائے جو اُن کی مدد کرسکے لیکن وہاں کچھ نظر نہ آیا تو اُتر کر دوڑتی ہوئی مروہ کی پہاڑی پر چڑھیں کہ گوہر مقصود نظر آجائے مگر یہاں بھی کوئی نظر نہ آیا۔ اسی بے قراری، تڑپ اور پریشانی میں آپ نے صفا ومروہ کے سات چکر لگائے۔جب آپ بالکل تھک گئیں اور پانی ملنے کی کوئی صورت بھی نظر نہیں آرہی تھی ۔ حضرت اسماعیل بھی پیاس سے سخت مضطر تھے، آپ نے ایڑی زمین پر پٹخنا شروع کردیا تب اللہ کے فضل سے حضرت اسماعیل کا معجزہ ظہور میں آیا۔ جہاں آپ ایڑی ماررہے تھے، اللہ نے وہاں سے پانی کا ایک چشمہ جاری فرمادیا۔ جب حضرت ہاجرہ نے اس منظر کو دیکھا تو مارے خوشی کے پانی سے کہنے لگیں زم زم یعنی رک جا رک جا۔ جب بی بی ہاجرہ رضی اللہ عنہا نے پانی پیا تو آپ کا دودھ جاری ہوگیا۔ اس وقت ایک فرشتہ ظاہر ہوا اور اس نے آپ سے کہا کہاس بات سے خوف نہ کرو کہ تم ضائع ہوجاؤگی بے شک یہاں بیت اللہ ہے اس کی تعمیر یہ بچہ اور اس کے والد کریں گے ۔بے شک اللہ تعالیٰ اپنے مقربین کے اجر کو ضائع نہیں کرتا۔

    اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم کا تیسرا امتحان اس وقت لیا،جب حضرت ابراہیم علیہ السلام نے دین حق کی خاطر ہجرت کی اور اپنے رب سے ایک نیک اولاد کی دعا مانگی تو اللہ تعالیٰ نے ان کی دعا قبول فرماتے ہوئے ایک بردبار وحلیم بیٹا عطا فرمایالیکن جب حضرت اسماعیل علیہ السلام چلنے پھرنے کی عمر کو پہنچے تو اللہ تعالیٰ کو حضرت ابراہیم علیہ السلام کی آزمائش اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کا صبر وحلم اور بردباری واضح کرنا مقصود ہوا، چنانچہ ابراہیم علیہ السلام نے ۷؍ذی الحجہ کی رات خواب دیکھا کہ کوئی کہنے والا کہہ رہا ہے بے شک اللہ تعالیٰ تمہیں بیٹا ذبح کرنے کا حکم دیتا ہے۔ آپ علیہ السلام صبح تفکر وتردد میں مبتلا رہے کہ کیا یہ اللہ تعالیٰ کا حکم ہے یا فقط خواب و خیال تو نہیں ، آٹھ تاریخ کا دن گزر جانے پر رات پھر خواب دیکھا۔ صبح یقین کرلیا کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ حکم ہے۔ اس کے بعد آنے والی رات کو پھر خواب دیکھنے پر صبح اس پر عمل کرنے کا مصمم ارادہ کرلیا۔ اسی لئے ۱۰؍ ذی الحجہ کو یوم النحر (ذبح کا دن ) کہا جاتا ہے ۔ آپ نے اس خواب کا ذکر حضرت اسماعیل سے کیا تو حضرت اسماعیل علیہ السلام نے صبر کا مظاہرہ کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ کے حکم کے آگے سر تسلیم خم کردیا اور اتنی بڑی آزمائش کا بردباری اور خندہ پیشانی کے ساتھ سامنا کرنے کیلئے خود کو پیش کردیا۔یہاں چونکہ مطلوب ومقصود حضرت اسماعیل علیہ السلام کی قربانی نہیں تھی بلکہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی آزمائش مقصود تھی، اسلئے جب انہوں نے حضرت اسماعیل کے حلقوم پر چھری رکھی اور اسے چلانے کی کوشش کی تو اللہ تعالیٰ نے حضرت جبرئیل امیں کے ساتھ جنت سے ایک دنبہ بھیجا جسے آپ نے حضرت اسماعیل کی جگہ لٹا دیا اور حضرت اسماعیل کو اس مقام سے ہٹا لیا۔ اس طرح اللہ تعالیٰ نے اسماعیل علیہ السلام کو قربان ہونے سے بچا لیا لیکن جانور کی قربانی کی شکل میں اللہ تعالیٰ نے صبح قیامت تک کیلئے قربانی کے عمل کو جاری فرمادیا ہے جو ہمیں جد الانبیا حضرت ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام اور ان کی قربانیوں اور آزمائشوں کی یاد دلاتی ہے

    ان تینوں واقعات سے ہمیں یاد بسق ملتا ہے کہ ہم بلا چون وچرا حکم الہی کے آگے سرتسلیم خم کردیں،بدون اشکال و اعتراض فرامینِ رب کو بجالانے والے بن جائیں!

    اللہ پاکﷻ آپ کا اور آپکے عزیز و اقارب کا حامی و ناصر ہوآمین!

  • حضرت عمرؓ .تحریر مدثر محمود

    حضرت عمرؓ .تحریر مدثر محمود

    مرادِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ تاریخِ اسلام کی وہ نامور شخصیت ہیں جو جرأت و بہادری کی وجہ سے قبولِ اسلام سے قبل ہی شہرت کے حامل تھے۔ امام ترمذی نے بیان کیا ہے کہ آپ رضی اللہ عنہ کی اسی جرأت کی وجہ سے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بحضورِ الہٰ التجاء کی: اے اللہ! عمر بن خطاب اور عمرو بن ہشام (ابوجہل) میں سے اپنے پسندیدہ بندے کے ذریعے اسلام کو غلبہ اور عزت عطا فرما۔ اللہ رب العزت نے اپنے محبوب کی دعا قبول کرتے ہوئے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے ذریعہ اسلام کو عزت دی۔ آپ رضی اللہ عنہ کے قبولِ اسلام سے قبل مسلمان مشرکینِ قریش سے چھپ کر عبادات کیا کرتے تھے لیکن جب آپ رضی اللہ عنہ نے اسلام قبول کیا، تو آپ رضی اللہ عنہ نے اعلان کیا کہ آج سے مسلمان عبادات چھپ کر نہیں بلکہ علی الاعلان کیا کریں گے۔ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ:

    ’’بے شک سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا قبولِ اسلام ہمارے لیے فتح تھی۔ خدا کی قسم ہم بیت اللہ میں نماز پڑھنے کی استطاعت نہیں رکھتے تھے، مگر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی وجہ سے ہم نے مشرکین کا مقابلہ کیا اور خانہ کعبہ میں نمازیں پڑھنا شروع کیں۔‘‘

    (المعجم الکبیر للطبرانی، رقم: 8820)

    اُس دن سے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا لقب فاروق رکھ دیا گیا۔ یعنی حق و باطل میں فرق کرنے والا-

  • جذبہِ ایثار، تحریر:بشارت محمود رانا

    جذبہِ ایثار، تحریر:بشارت محمود رانا

    ہر سال ۱۰ ذوالحج کو تمام دنیا کے مسلمان حضرت ابراہیم (ع) کی اللہ تعالی کے حکم پہ عمل کرتے ہوئے اپنے بیٹے حضرت اسماعیل (ع) کی اُس عظیم قربانی کی سُنت پہ عمل کرتے ہوئے جانوروں کو اللہ کی راہ میں قربان کرتے ہیں۔

    ہزاروں سال پہلے پیش آنے والا یہ واقعہ اللہ تعالی نے ہمیں قرآنِ مجید میں ہو بہو بیان کر کے ہم مسلمانوں تک پہنچایا ہے۔ تاکہ ہم بھی اِس سے سبق سیکھ سکیں۔

    جِس طرح حضرت ابراہیم (ع) نے اپنے اکلوتے بیٹے جو کہ انہیں اور حضرت حاجرہ (ع) کو اللہ تعالی نے تب عطا کیا جب کہ یہ دونوں بڑھاپے کی عمر کو پہنچ چکے تھے۔ تو عُمر کے اس آخری حصے میں اللہ تعالی کی طرف سے ملی ہوئی اس اولاد کو اللہ تعالی کے حکم کے مطابق جب حضرت ابراہیم (ع) کو اللہ کی راہ میں قربان کرنے کا حکم ملا، تو حضرت ابراہیم (ع) نے تب نہ تو کوئی حیلا اور نہ کوئی بہانہ گھڑنے کی کوشش کی اور نہ ہی اس بارے میں کسی قسم کی اللہ تعالی سے کوئی شکایت کی۔

    اور دوسری جانب حضرت اسماعیل (ع) جو تب تک ایک چھوٹے سے بچے تھے، انھوں نے بھی اللہ تعالی کی طرف سے آنے والے اس حکم کو سن کے لمحہ بھر کے لئے بھی نہ ڈرے، نہ ہچکچائے اور نہ کسی قسم کی کمزوری دکھائی۔

    اور یہاں تک کہ کبھی حضرت ابراہیم (ع) کو اور کبھی اُن کے بیٹے حضرت اسماعیل (ع) کو بار بار شیطان مردود بھی آ کے ورغلاتا و پھسلاتا رہا کہ کہیں کسی طرح کوئی کمزوری دِکھا کے اللہ تعالی کے حکم کی نافرمانی کر سکیں، لیکن وہ مردود ناکام ہی رہا۔

    پھر جب حضرت ابراہیم (ع) اللہ تعالی کے اس حکم کے سامنے سر تسلیمِ خم کرتے ہوئے اپنے بیٹے حضرت اسماعیل (ع) کو قربان کرنے کے دوران چھری کو چلا رہے تھے، تب پھر اللہ تعالی نے چھری کو کاٹنے سے منع فرما دیا اور حضرت ابراہیم (ع) کی اس عظیم قربانی کو قبول کرتے ہوئے ایک دُنبہ بھیجا اور حضرت ابراہیم (ع) کو اس دُنبے کو ذبح کرنے کا حکم دیا۔

    اسی عظیم قربانی کے بدلے میں حضرت ابراہیم کو اللہ تعالی کی طرف سے خلیل اللہ (جس کے معنی اللہ کا دوست کے ہیں) کا لقب دیا گیا اور اُن کے بیٹے حضرت اسماعیل (ع) کو اللہ تعالی کی طرف سے ذبیح اللہ (جس کے معنی ﷲ کی راہ میں قربان ہونے والا کے ہیں) کا لقب دیا گیا۔

    تو اس عظیم اور بے مثال قربانی کو سنت کے طور پر نبھاتے ہوئے تمام دنیا کے مسلمان۱۰ ذوالحج کو عید الاضحی کے موقع پر جسے عید ایثار یا پھر قربانی کی عید بھی کہا جاتا ہے، اس پہ تمام صاحبِ استطاعت لوگ جانوروں کو اللہ کی راہ میں قربان کر کے مناتے ہیں

    اور اس قربانی کے گوشت کو ہم اللہ تعالی اور اپنے پیارے نبی و رسول جناب محمد رسول اللہ ﷺ کی طرف سے دیے گئے احکامات کے مطابق اپنے عزیز و اقارب، رشتے داروں، محلے داروں، اپنے ارد گرد موجود غریب و غرباء اور اُن لوگوں میں بانٹتے ہیں جو قربانی کرنے کی استطاعت نہیں رکھتے ہیں۔

    اگر دیکھا جائے تو اس قربانی کے دن سے ہمیں بہت کچھ سیکھنے کو ملتا ہے، جیساکہ اللہ تعالی کے احکامات کو ہمیں ہر صورت ماننا چاہیے اور شیطان مردود کے ہاتھوں کھلونا نہیں بننا چاہیے، کیونکہ اللہ تعالی نے ہمیں جن کاموں کے کرنے کا حکم دیا ہے یا جن سے منع فرمایا ہے اُن میں بہت سی حکمتیں پوشیدہ ہوتی ہیں۔

    اور دوسرا یہ کہ شیطان مردود جو کہ انسان کا کُھلا دشمن ہے، وہ طرح طرح کے طریقوں سے ہمیں ورغلا اور پِھسلا کر گناہوں کی طرف دھکیلنے اور اللہ تعالی کے احکامات سے رو گردانی کروانے کی کوششوں میں لگا رہتا ہے۔ اس بات کو ہمیشہ یاد رکھیں کہ ہمیں کبھی بھی اُس شیطان مردود کے بہکاوے میں نہیں آنا چاہیے اور اللہ تعالی کے احکامات کو اپنی اپنی زندگیوں میں لازم و ملزوم سمجھ کر شامل کرنا چاہیے

    اور تیسرا یہ کہ ہمیں نہ صرف اس عید ایثار کے موقعے پہ ہمارے ارد گرد موجود غریب و غربا، محلہ داروں، رشتہ داروں اور اُن لوگوں کو جو سفید پوش ہیں، کبھی نہیں بھولنا چاہیے اور اپنی استطاعت میں رہتے ہوئے ان کی ہر قسم کی مدد کو تیار رہنا چاہیے جس سے ایک بہترین اور ہمدرد معاشرہ بھی قائم ہو سکتا ہے جو ایک دوسرے کا ہر اچھے و برے وقت میں خیال رکھتا ہو۔

    اور اب آخر میں! میں یہ کہوں گا کہ اللہ تعالی ہم سب مسلمانوں کو اس عید ایثار کی عظیم قربانی سے سبق سیکھنے، اس پہ عمل کرنے اور اس کی برکات کو سمیٹنے کی توفیق عطا فرمائیں۔ آمین

    واخر دعونا أن الحمدلله رب العالمين

    دُعاؤں میں یاد رکھیے گا۔ شکریہ