Baaghi TV

Category: مذہب

  • سیدنا علی المرتضی کرم اللہ وجہہ الکریم تحریر۔ مزمل مسعود دیو

    سیدنا علی المرتضی کرم اللہ وجہہ الکریم تحریر۔ مزمل مسعود دیو

    شاہِ مرداں، شیرِ یزداں قوتِ پروردگار
    لَا فَتٰي اِلَّا عَلِي لَا سَيْفَ اِلَّا ذُوالْفِقَار

    حضرت علی علی بن ابی طالب بن عبد المطلب بن ہاشم بن عبد مناف بن قصی بن کلاب مکّۃ المکرَّمہ میں پیدا ہوئے۔ آپکی والِدۂ ماجدہ حضرت فاطِمہ بنتِ اَسَد رضی اللہ عنہا نے آپکا نام’’حیدر ‘‘رکھا ، والد ابی طالب نے آپکا کا نام’’علی‘‘ رکھا ۔ حُضورِ پُرنور ، شافِعِ یومُ النُّشُور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ نے آپ کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم کو ’’ اَسَدُ اللہ ‘‘ کے لقب سے نوازا ، اس کے علاوہ ’’مُرتَضٰی ،کَرّار ، شیرِ خدا آپکے اَلقابات ہیں ۔ آپ نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کے چچا زاد بھائی ہیں ۔

    حضرت سیدنا علی المرتضیٰ علیہ السلام کا علمی مقام و مرتبہ اور فقہی صلاحیت تمام اولین و آخرین میں ممتاز و منفرد تھی۔ قدرت نے انہیں اس قدر اعلیٰ صلاحیتوں سے نوازا تھا کہ جو مسائل دوسرے حضرات کے نزدیک پیچیدہ سمجھے جاتے تھے، انہی مسائل کو وہ آسانی سے حل کردیتے تھے۔ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین ایسے وقت سے پناہ مانگتے تھے کہ جب کوئی مشکل مسئلہ پیش آجائے اور اس کے حل کے لیے حضرت علی علیہ السلام موجود نہ ہوں۔

    حضرت سعد بن ساعدیؓ سے روایت ہے کہ رسول کریم ﷺ نے غزہ خیبر کے دن فرمایا۔قلعہ خیبر کو فتح کرنے کے لیے میں اس شخص کو پرچم دے کر بھیجوں گا جو اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے محبت کرتا ہے، اللہ تعالیٰ کبھی اس کو شرمندہ نہیں فرمائے گا۔‘‘
    اس پرچم کو حاصل کرنے کے لیے لوگ للچانے لگے، لیکن حضور اقدس صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: علی کہاں ہے؟ پھر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں بلایا حالانکہ وہ آشوب چشم میں مبتلا تھے، تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کی آنکھوں میں اپنا لعاب دہن لگایا اور تین دفعہ پرچم لہراکر انہیں سپرد فرمایا (بالآخر انہوں نے خیبر فتح کرلیا)۔ بخاری و مسلم

    شیرِ شمشِیر زَن شاہِ خیبر شِکَن
    پَر تَوِ دستِ قدرت پہ لاکھوں سلام

    حضرت ام سلمہؓ سے روایت ہے کہ رسول اکرم ﷺ نے فرمایا۔
    “علی ؓسے منافق محبت نہیں رکھتا اور مومن علیؓ سے بغض نہیں رکھتا” احمد و ترمذی!
    حضرت ام سلمہؓ سے مروی ہے کہ رسول اکرم ﷺ نے فرمایا۔
    “جس شخص نے نسب و نسل کے اعتبار سے علی کو برا کہا،اس نے حقیقت میں مجھے برا کہا” احمد!

    سیدنا سعد ابن ابی وقاص فرماتے ہیں کہ
    جب آیت،ترجمہ”’ہم اپنی اولاد لے آئیں اور تم اپنی اولاد لے آؤ(آل عمران،۱۶)نازل ہوئی تو رسول اللہ ﷺ نے علی،فاطمہ،حسن حسین رضی اللہ عنہم کو بلایا،اور فرمایا۔
    “اے اللہ! یہ میرے اہل بیت ہیں”مسلم
    نبی اکرم ﷺنے چادر کے نیچے علی،فاطمہ،حسن حسین کو داخل کرکے فرمایا۔
    “اللہ صرف یہ چاہتا ہے کہ اے اہل بیت تم سے نجاست دور کر دے اور تمہیں خوب پاک و صاف کردے” مسلم۔

    آپ کو کوفہ کی ایک مسجد میں دوران نماز شہید کیا گیا۔

  • خاتون جنت حضرت فاطمہ الزہراء سلام اللہ علیہا.تحریر: مزمل مسعود دیو

    خاتون جنت حضرت فاطمہ الزہراء سلام اللہ علیہا.تحریر: مزمل مسعود دیو

    خاتون جنت حضرت فاطمہ الزہراء سلام اللہ علیہا.تحریر: مزمل مسعود دیو

    سیدہ طیبہ طاہرہ عابدہ .یعنی خاتون جنت پہ لاکھوں سلام

    اس نیلے آسمان کے نیچے اور زمین کے اس سینے پر محسن انسانیت کو سب سے عزیز ترین اگر کوئی شخصیت تھی تو وہ آپ کی لخت جگر حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا تھیں۔آپ نے اپنی اس جگرگوشہ کوجنت میں عورتوں کی سردار قرار دیا۔ایک روایت کے مطابق آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حضرت فاطمۃ الزہراء سلام اللہ علیہا کی خوشبو سونگھ کرفرماتے کہ ان میں سے مجھے بہشت کی خوشبوآتی ہے کیونکہ یہ اس میوۂ جنت سے پیداہوئی ہیں جو شب معراج جبرائیل نے مجھے کھلایاتھا۔

    حضرت فاطمۃ الزہراء سلام اللہ علیہا کی پیدائش مبارکہ بعثت نبوی کے پانچویں سال ہوئی۔یہ صبح صادق کاوقت تھا،جمعۃ المبارک کادن اور21ربیع الثانی کی متبرک تاریخ تھی۔آپ خاص قریش،آل بنی ہاشم،بنی عبدالمطلب اور اہل بیت نبوی میں سے تھیں۔امت مسلمہ کے ہاں آپکی عقیدت کسی بھی اور خاتون سے کہیں زیادہ ہے ۔ آپکی پہچان صرف آپکی ذات مبارکہ یا آپکاحسب و نسب ہی نہیں بلکہ آپکی آل و اولاد اورآپکی نسل بھی عالم انسانیت میں قابل فخروقابل ستائش ہے۔

    سیدہ فاطمہ کے مشہور القابات ’’زہرا‘‘اور’’سیدۃ النساء العالمین‘‘ہیں اس لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آپکو دنیا و جنت کی خواتین کی سردارقراردیاتھا۔آپکی مشہور کنیت ’’ام الائمہ‘‘ہے ، آپکے 2 فرزندان حضرت امام حسن علیہ السلام اورحضرت امام حسین علیہ السلام کے باعث آپکو’’ام السبطین‘‘اور’’ام الحسنین‘‘بھی کہاجاتاہے۔آپ کو خاتون جنت،الطاہرہ،السیدہ وغیرہ سے بھی یاد کیاجاتاہے۔

    آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت علی کو بلاکر فرمایا:مجھے اللہ تعالیٰ نے حکم دیاہے کہ فاطمہ بنت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شادی آپ سے کروں ۔یکم ذوالحجہ 2 ہجری کو 500درہم حق مہر کے عوض یہ نکاح عمل میں آیا۔

    جب بھی بیمارہوتیں تو حضرت علی علیہ السلام کچھ لانے کاپوچھتے توفرماتیں: میرے والد محترم  نے مجھے منع کیا ہے کہ میں آپ سے کچھ مانگوں۔اگر کوئی صبر وقناعت کی زندہ تصویرکودیکھنا چاہے تو آپکی زندگی کامطالعہ کرے۔

    فاقوں پر فاقے گزرجاتے تھے لیکن آلِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اس گھرانے کی چوکھٹ سے کوئی سوالی خالی نہ جاتاتھا۔یہ وہ گھرانا ہے جس پر درودپڑھے بغیرمسلمانوں کی نماز ہی مکمل نہیں ہوتی ۔صبرواستقامت کا پہاڑ یہ خاتونِ جنت وصال نبوی کے کچھ ہی ماہ بعد 3 جمادی الثانی 11 ہجری کو اس دارفانی سے کوچ فرماگئیں۔ ان ہستیوں سے تعلق و عقیدت ایمان کی نشانی ہے۔
    آؤ در زہراء پر پھیلائے ہوئے دامن
    ہے نسل کریموں کی لجپال گھرانہ ہے

  • "کوشش انسان کرتا ہے کامیابی اللّہ دیتا ہے” تحریر: ابر نساں

    "کوشش انسان کرتا ہے کامیابی اللّہ دیتا ہے” تحریر: ابر نساں

    "انسان صدف کے اس موتی کی مانند ہے”
    جس کی کوشش محنت لگن مل کر اسکو مکمل انسان بناتی ہے اسی طرح…
    بارش کی ایک بوند جب سیپ پہ پڑتی ہے تو موتی بن کر ابھرتی ہے
    کہتے ہیں نا زندگی ہمیشہ سے حسین نہیں ہوتی
    مسلسل جدو جہد اسکو حسین تر بنا دیتی ہے .
    بے شک کوشش خواہش کا دوسرا نام ہے اس پر چل کر وہ جیسے کو تیسا
    نا ممکن کو ممکن بنا دیتا ہے..

    بلکل اسی طرح زندگانی ہے صدَف، قطرۂ نیساں ہے خودی
    وہ صدَف کیا کہ جو قطرے کو گُہر کر نہ سکے.

    اللہ تعالی نے فرمایا ۔۔
    "کہ میں ایک مخفی خزانہ تھا تو میں نے چاہا کہ پہچانا جاوں تو میں نے مخلوق کو پیدا کیا”

    پہچانے گا نہیں جب تک تو خود کو اے انسان..
    تب تک اُس سیبپ کی کوئی حیثیت نہیں جو اس قطرے کو موتی نہ بنا سکے

    قطرے سے موتی بننے تک کے اس خوبصورت سفر کو لگن، محنت اور جستجو کے ساتھ ساتھ اخلاق، محبت، پیار، ایثار ، شکر گزاری کے ساتھ گزارئیے تاکہ آنے والوں کے لئے مثل موتی چمکتے دمکتے رہیں

  • ‏ہماری پہچان اخلاق حسنہ . تحریر، ڈاکٹر حمزہ احمد صدیقی

    ‏ہماری پہچان اخلاق حسنہ . تحریر، ڈاکٹر حمزہ احمد صدیقی

    ‏ہماری پہچان اخلاق حسنہ . تحریر، ڈاکٹر حمزہ احمد صدیقی

    اخلاق ’’خلق‘‘ کی جمع ہے، جس کے معنیٰ خصلت، عادت اور طبیعت کے ہیں۔ اصطلاح میں اخلاق سے مراد وہ خصائل و عادات ہیں جو انسان سے روز مرہ اور مسلسل سرزد ہوتے رہتے ہیں اور یہی عادات و خصائل رفتہ رفتہ انسانی طبیعت کا جزو بن کر رہ جاتے ہیں اور اخلاق انسانی رویے کا نام ہے، دنیا کا کوئی ایک مذہب ایسا نہیں جو اخلاقی قدروں کی تعلیم نہ دیتا ہو۔

    اسلام ایک عالم گیر مذہب ہے اور تمام بنی نوع انسان کی فلاح اور کامرانی کا علم بردار ہےاور اسلام میں اخلاق سے مراد وہ "اخلاق حسنہ "ہیں جو بنی نوع انسان کی فلاح اور اصلاح کے لیے انسانیت کو عطا کیے گئے۔

    قرآن حکیم میں بیشتر مقامات پر اخلاق کا درس دیا گیا ہے جو اس قدر حکیمانہ اور فلسفیانہ ہے جو دنیا کے کسی مذہبی کتاب میں نہیں ملتا۔

    ’’اور جب تم کو کوئی دعا دے تو تم اس سے بہتر لفظوں سے دعا دوبے شک خدا ہر چیز کا حساب لینے والا ہے۔‘‘ (سورہ النساء آیت 86)

    دنیا میں انسان کی اولین حیثیت ایک فرد کی سی ہے اور افراد کے مجموعے سے معاشرہ تکمیل پاتا ہے۔ اگر دنیا میں موجود تمام انسان اپنی اصلاح کرلیں، یعنی اسلامی تعلیمات کے عین مطابق اپنی زندگیوں کو ڈھال لیں تو وہ معاشرہ یقیناً درست اور صالح کہلائے گا،یا یوں کہہ لیجیے کہ ایک مثالی اسلامی معاشرہ کہلائے گا

    شریعت اسلامیہ کا مطالعہ کریں تو پتہ چلتا ہے کہ اخلاق نفس کی وہ حالات ِ راسخہ ہیں جن سے اچھے یا برے افعال صادر ہوں بغیر کسی غورو فکر کے۔اسلام کی اخلاقی تعلیمات اعلیٰ ترین ہیں۔اعلیٰ اخلاق کے بغیر انسان نا مکمل ہے،جس طرح پھول رنگ و بو کے بغیر بے کار ہے ، اسی طرح انسان بغیر اخلاق کے بت کے سوا کچھ نہیں۔ اسلیے اچھائی یا برائی کی وہ عادت جو انسان کے اندرراسخ ہو چکی ہو اور قصط و بلا صادر ہوتے رہتے ہوں، یا یوں کہہ لیں کہ آدمی کی طبیعت میں جو بات بیٹھ چکی ہو بلا تکلف اس کا صدور ہوتا ہو وہ اخلاق ہے۔

    نرم دم گفتگو، گرم دم جستجو
    رزم ہو یا بزم ہو پاک دل و پاکباز

    جو خوش خلق ہو اس سے خوش خلقی صادر ہوگی۔ ایسے ہی جو بدخلق ہوگا اس سے بدخلقی صادر ہو گی۔ مگر یہ کہ اسے اخلاق حسنہ کے اظہار کے لیے تکلیف اٹھانی پڑے تب اچھی بات کہہ سکے۔
    حضرت آدم ؑ سے لے حضور نبی کریمﷺ تک جتنے بھی نبی اور پیغمبر تشریف لائے، جتنے بھی پیشوا، ہادی اور مبلغ ہوئے، وہ سب اخلاقیات کی تبلیغ کرتے رہے ہیں مگر اخلاق کا جو ہمہ گیر درس اسلام نے دیاہے دیگر مذاہب اس سے خالی ہیں۔انسانی زندگی کے ہر شعبے میں اخلاقی قدروں کی کارفرمائی نظر آتی ہے

    حدیث مبارکہ میں اخلاق حسنہ کا ذکر کچھ ان الفاظ میں آیا ہے کہ قیامت کے دن مومن کے میزان میں سب سے بھاری جو چیز رکھی جائے گی وہ خلق حسنہ ہے

    کچھ اخلاق ایسے ہیں جو میزان میں بھاری ہوتے ہیں اور بہت سارے برے اخلاق ایسے ہیں جونیکیوں کاثواب بھی دوسروں کو دلوادیں گے ۔سچائی اور دیانتداری ،عدل وانصاف ، تواضع انکساری ،غصے پر قابوپانا،لوگوں کو معاف کرنا،دل کوکینہ اور بغض سے پاک رکھنا اور زبان کو بری باتوں سے روکنا ضروری ہے۔ ہمارے کردار اوراخلاق میں وہ مقناطیسیت اور شیرینی ہونا چاہیے کہ لوگ شہد کی مکھیوں کی طرح ہمارے گرد جمع ہوجائیں

    اخلاقی قدروں سے عاری شخص صحیح معنوں میں انسان ہی نہیں ہے، یہ نہ ہو تو دنیا کا پر امن رہنا نا ممکن ہے، بد اخلاقی ہر سماجی برائی کی جڑ ہے، اسی سے گھروں کا سکون برباد ہوتاہے ، اور اس کی بدترین شکل قوموں کو لے ڈوبتی ہے ۔بدترین اخلاق کے باعث قوم حضرت لوطؑ او رقوم حضرت نوح ؑ کو عذاب الہٰی سہنا پڑا، آج ان کا نام و نشان باقی نہیں ۔ اخلاق انسانیت کی روح ہے۔  

    اخلاقیات ہی انسان کو جانوروں سے الگ کرتی ہیں ۔اگر اخلاق اچھے نہیں تو انسان اور جانور میں کوئی فرق نہیں ۔ اخلاق کے بغیر انسانوں کی جماعت انسان نہیں بلکہ حیوانوں کا ریوڑ کہلائے گی یہ ہمارے لیے اخلاق کی تربیت کا سب سے اعلیٰ نمونہ ہے اگر ہمارا معاشرہ اس پر عمل کرے تو معاشرہ سے تمام اخلاقی خرابیاں خود بخود ختم ہو سکتی ہیں اور معاشرہ امن، اخوت، بھائی چارہ کا گہوارہ بن سکتا ہے

     ابو داؤد کی  روایت میں ارشاد ِ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہے کہ مومن اپنے اچھے اخلاق کی وجہ سے قائم و اللیل اور صائم النہار کا درجہ پا جاتا ہے (ابو داؤد)

    اگر کوئی تمہیں گالی دیتا ہے اور تم اس کے جواب میں اسے دعا دو گالی کا جواب گالی سے نہ دیں اگر کوئی تمہیں برا کہتا ہے اور تم اسے اچھا کہتے ہو تو ایک دن وہ تمہیں اچھا کہنے لگ جائے گا۔اگر کوئی تم سے زیادتی کرتا ہے اور تم اسے معاف کر دیتے ہو تو اس کے دل میں تمہاری قدر اور خلوص بڑھے گا۔ اگر کوئی تمہارے حقوق تلف کرنے کا موجد بنتا ہے تو تم اس کے حقوق کے محافظ بن جاؤ تو یقیناًایک دن ضرور اسے بھی شرم آئے ہی جائے گی اور اس طرح معاشرہ خود بخود سدھرتا چلا جائے گا۔

     آپﷺ نے اخلاق حسنہ کے لئے اتنی دعائیں اور اتنی تاکید اس لئے فرمائی ہے کہ انسان اخلاق ہی سے بڑا بنتا ہے اور عمدہ سیرت سب سے بڑی سفارش ہوتی ہے اور انسان کی پہچان بھی اخلاق سے ہوتی ہے۔

    اللہ رب العزت ہم سب کو اپنے پیارے نبی خاتم النبیین ﷺجیسے اخلاق اپنانے کی توفیق عطا فرمائے اور آپ کی جملہ تعلیمات پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین ثم آمین

    خدمت خلق اور ہمارا کردار تحریر: ڈاکٹر حمزہ احمد صدیقی

  • ’جنت کے پتھر‘ کی جدید ترین تکنیک کے ذریعے بنائی گئی تصاویر پہلی مرتبہ منظر عام پر

    ’جنت کے پتھر‘ کی جدید ترین تکنیک کے ذریعے بنائی گئی تصاویر پہلی مرتبہ منظر عام پر

    خانہ کعبہ کے جنوب مشرقی حصے پر موجود مقدس پتھر حجراسود کی فوٹوگرافی کی جدید ترین تکنیک کے ذریعے بنائی گئی تصاویر پہلی مرتبہ منظر عام پر لائی گئی ہیں-

    باغی ٹی وی : غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق سعودی عرب میں موجود مسلمانوں کی دو مقدس مساجد مسجد النبوی اور مسجد الحرام کے امور کی نگرانی کرنے والے ادارے رئاسة شؤون الحرمين کے ٹوئٹر اور انسٹاگرام اکاؤنٹس سے ایسی تصاویر شیئر کی گئی ہیں جنھیں اب تک حجراسود کی انتہائی باریک بینی سے بنائی گئی تصاویر میں شمار کیا جا رہا ہے۔


    رئاسة شؤون الحرمين کے مطابق ’فوکس سٹیک پینورما‘ نامی فوٹوگرافی تکنیک کے ذریعے بنائی گئی ان تصاویر کی سات گھنٹے تک عکس بندی کی گئی اور ان تصاویر کو اکٹھا کرنے میں تقریباً 50 گھنٹوں کا وقت لگا ہے۔

    اس ٹیکنالوجی کے ذریعے مختلف تصاویر کو جوڑ کر ایک انتہائی مستند تصویر بنائی جاتی ہے جس کی کوالٹی بہترین ہوتی ہے اور اس کے ذریعے تصویر کی باریکیوں پر بھی بخوبی نظر ڈالی جا سکتی ہے۔


    اس تکنیک کے حوالے سے مزید معلومات فراہم کرتے ہوئے اس ٹوئٹر اکاؤنٹ کے ذریعے بتایا گیا کہ یہ تصویر بنانے میں سات گھنٹے صرف ہوئے۔ اس دوران 1050 فاکس سٹاک پینوراما بنائے گئے اور بالآخر 50 گھنٹوں کی پراسیسنگ کے بعد جو تصویر سامنے آئی وہ 49 ہزار میگا پکسلز پر مشتمل تھی۔

    اس پتھر کی وضع انڈے جیسی ہے جس میں کالے اور سرخ رنگ کا خوبصورت امتزاج ہے۔ اس کا قطر تقریباً 30 سینٹی میٹر ہے اور یہ خانہ کعبہ کے جنوب مشرقی کونے پر دیوار کے ساتھ رکھا ہے۔


    ان تصاویر کے سوشل میڈیا پر شیئر ہوتے ہی اکثر صارفین اس پتھر کی خوبصورتی کے حوالے سے تبصرے کیے تو کسی نے کہا کہ اللہ کا شکر ہے کہ اب میں حجر اسود کو سپر ریزولوشن میں دیکھ سکتا ہوں۔

    مسلمانوں کے لئے حجر اسود کی تاریخی اہمیت:

    مسلمانوں کے لیے حجر اسود کی تاریخی اہمیت ہے اور عمرے اور حج کی غرض سے خانہ کعبہ کا طواف کرنے والوں کے لیے اس پتھر کا چومنا لازمی ہے لیکن بھیڑ کی وجہ سے ہاتھ کے اشارے سے بھی چوما جا سکتا ہے۔


    زائرین حج اسے چومنے کے لیے ایسے اوقات کا انتخاب کرتے جب طواف میں بھیڑ کم ہو تاکہ ان کے حج کے ارکان پورے ہوں۔


    اس پتھر سے جڑی تاریخ دراصل مذہب اسلام سے بھی زیادہ قدیم ہے روایات کے مطابق حضرت ابراہیم علیہ السلام اور ان کے صاحبزادے حضرت اسماعیل علیہ السلام ساتھ مل کر خانہ کعبہ کی تعمیر کر رہے تھے اور انھیں تعمیر مکمل کرنے کے لیے ایک پتھر کی ضرورت تھی تو اس وقت یہ پتھر جنت سے اتارا گیا تھا –


    پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو نبوت دینے جانے سے قبل خانہ کعبہ کی مرمت کے وقت حجر اسود کو اس کی جگہ پر رکھنے کے لیے قبائل میں اختلاف ہو گیا تھا اور سب چاہتے تھے کہ یہ شرف انھیں حاصل ہو، چنانچہ یہ فیصلہ کیا گیا کہ کل جو پہلا شخص خانہ کعبہ کی جانب آئے گا وہی فیصلہ کرے گا-


    اس دن سب سے پہلے وہاں تشریف لانے والی شخصیت حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تھی اور انھوں نے اپنے ہاتھ سے پتھر اٹھا کر اپنی چادر پر رکھی اور تمام قبائل سے کہا کہ وہ چادر کے کونوں کو پکڑ کر اسے اپنے ہاتھوں مبارک سے مطلوبہ جگہ پر رکھ دیا اور تمام قبائل اس فیصلے سے خوش ہو گئے –

  • مظلوم مسلمانوں سے یکجہتی – عمران محمدی

    مظلوم مسلمانوں سے یکجہتی – عمران محمدی

    مظلوم مسلمانوں سے یکجہتی

    بقلم
    عمران محمدی
    عفا اللہ عنہ

    مظلوم مسلمانوں سے یکجہتی کا حکمِ الہی

    اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں
    يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الْقِصَاصُ فِي الْقَتْلَى
    اے لوگو جو ایمان لائے ہو! تم پر مقتولوں میں بدلہ لینا لکھ دیا گیا ہے
    البقرة : 178

    اور فرمایا
    وَمَا لَكُمْ لَا تُقَاتِلُونَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَالْمُسْتَضْعَفِينَ مِنَ الرِّجَالِ وَالنِّسَاءِ وَالْوِلْدَانِ الَّذِينَ يَقُولُونَ رَبَّنَا أَخْرِجْنَا مِنْ هَذِهِ الْقَرْيَةِ الظَّالِمِ أَهْلُهَا وَاجْعَلْ لَنَا مِنْ لَدُنْكَ وَلِيًّا وَاجْعَلْ لَنَا مِنْ لَدُنْكَ نَصِيرًا
    اور تمھیں کیا ہے کہ تم اللہ کے راستے میں اور ان بے بس مردوں اور عورتوں اور بچوں کی خاطر نہیں لڑتے جو کہتے ہیں کہ اے ہمارے رب! ہمیں اس بستی سے نکال لے جس کے رہنے والے ظالم ہیں اور ہمارے لیے اپنے پاس سے کوئی حمایتی بنا دے اور ہمارے لیے اپنے پاس سے کوئی مدد گار بنا۔
    النساء : 75

    جب کوئی مظلوم پکارے تو اس کی پکار پر لبیک کہا جائے

    اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں
    وَإِنِ اسْتَنْصَرُوكُمْ فِي الدِّينِ فَعَلَيْكُمُ النَّصْرُ
    اور اگر وہ دین کے بارے میں تم سے مدد مانگیں تو تم پر مدد کرنا لازم ہے
    الأنفال : 72

    نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
    حَقُّ الْمُسْلِمِ عَلَى الْمُسْلِمِ سِتٌّ
    مسلمان کے دوسرے مسلمان پر چھ حق ہیں
    (ان میں سے ایک ایک یہ ہے کہ)
    وَإِذَا دَعَاكَ فَأَجِبْهُ
    اور جب وہ تمہیں پکارے تو اس کی پکار پر لبیک کہو

    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مظلوم کی مدد کرنے کا حکم دیا

    حضرت براء بن عازب رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ
    أَمَرَنَا بِعِيَادَةِ الْمَرِيضِ
    وَاتِّبَاعِ الْجَنَازَةِ
    وَتَشْمِيتِ الْعَاطِسِ
    وَإِبْرَارِ الْقَسَمِ أَوْ الْمُقْسِمِ
    وَنَصْرِ الْمَظْلُومِ
    وَإِجَابَةِ الدَّاعِي
    وَإِفْشَاءِ السَّلَامِ
    (مسلم ،كِتَابُ اللِّبَاسِ وَالزِّينَةِ،بَابُ تَحْرِيمِ اسْتِعْمَالِ إِنَاءِ الذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ عَلَى الرِّجَالِ وَالنِّسَاءِ، وَخَاتَمِ الذَّهَبِ وَالْحَرِيرِ عَلَى الرَّجُلِ، وَإِبَاحَتِهِ لِلنِّسَاءِ، وَإِبَاحَةِ الْعَلَمِ وَنَحْوِهِ لِلرَّجُلِ مَا لَمْ يَزِدْ عَلَى أَرْبَعِ أَصَابِعَ،5388)
    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مریض کی عیادت کرنے
    جنازے کے ساتھ شریک ہو نے
    چھنیک کا جواب دینے
    (اپنی) قسم یا قسم دینے والے (کی قسم پو ری کرنے
    مظلوم کی مددکرنے
    اور دعوت قبول کرنے کا حکم دیا

    انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
    انْصُرْ أَخَاكَ ظَالِمًا أَوْ مَظْلُومًا قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ هَذَا نَنْصُرُهُ مَظْلُومًا فَكَيْفَ نَنْصُرُهُ ظَالِمًا قَالَ تَأْخُذُ فَوْقَ يَدَيْهِ
    (بخاري ،كِتَابُ المَظَالِمِ وَالغَصْبِ،بَابٌ: أَعِنْ أَخَاكَ ظَالِمًا أَوْ مَظْلُومًا،2444)

    اپنے بھائی کی مدد کرو خواہ وہ ظالم ہو یا مظلوم۔ صحابہ نے عرض کیا، یا رسول اللہ ! ہم مظلوم کی تو مدد کرسکتے ہیں۔ لیکن ظالم کی مدد کس طرح کریں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ظلم سے اس کا ہاتھ پکڑ لو۔ ( یہی اس کی مدد ہے )

    تمام مومن آپس میں بھائی بھائی ہیں

    اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں
    إِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ إِخْوَةٌ فَأَصْلِحُوا بَيْنَ أَخَوَيْكُمْ وَاتَّقُوا اللَّهَ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُونَ
    مومن تو بھائی ہی ہیں، پس اپنے دو بھائیوں کے درمیان صلح کراؤ اور اللہ سے ڈرو، تاکہ تم پر رحم کیا جائے۔
    الحجرات : 10

    عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
    الْمُسْلِمُ أَخُو الْمُسْلِمِ
    (بخاري ،كِتَابُ المَظَالِمِ وَالغَصْبِ بَابٌ: لاَ يَظْلِمُ المُسْلِمُ المُسْلِمَ وَلاَ يُسْلِمُهُ،2442)

    ایک مسلمان دوسرے مسلمان کا بھائی ہے

    مسلمان، اپنے مظلوم بھائیوں کو بے یارو مددگار نہ چھوڑیں

    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
    [ اَلْمُسْلِمُ أَخُو الْمُسْلِمِ لَا يَظْلِمُهُ، وَلاَ يُسْلِمُهُ ]
    [ بخاري، المظالم، باب لا یظلم المسلم المسلم ولایسلمہ : ۲۴۴۲، عن ابن عمر رضی اللہ عنھما ]
    ’’مسلمان مسلمان کا بھائی ہے، نہ اس پر ظلم کرتا ہے اور نہ اسے بے یار و مددگار چھوڑتا ہے۔‘‘

    دوسرے مسلمان کی حفاظت حفاظت اپنے جسم کی طرح کریں

    نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ بیان کرتے تھے کہ رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
    «تَرَى المُؤْمِنِينَ فِي تَرَاحُمِهِمْ وَتَوَادِّهِمْ وَتَعَاطُفِهِمْ، كَمَثَلِ الجَسَدِ، إِذَا اشْتَكَى عُضْوًا تَدَاعَى لَهُ سَائِرُ جَسَدِهِ بِالسَّهَرِ وَالحُمَّى»
    (بخاري ،كِتَابُ الأَدَبِ،بَابُ رَحْمَةِ النَّاسِ وَالبَهَائِمِ،6011)

    تم مومنوں کو آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ رحمت ومحبت کا معاملہ کرنے اورایک دوسرے کے ساتھ لطف ونرم خوئی میں ایک جسم جیسا پاؤگے کہ جب اس کا کوئی ٹکڑا بھی تکلیف میں ہوتا ہے ، تو سارا جسم تکلیف میں ہوتا ہے ۔ ایسی کہ نینداڑ جاتی ہے اور جسم بخار میں مبتلا ہو جاتا ہے ۔

    مسلمانوں کی یہی شان ہونی چاہیئے مگر آج یہ چیز بالکل نایاب ہے۔
    نہیں دستیاب اب دو ایسے مسلماں
    کہ ہو ایک کو دیکھ کر ایک شاداں

    مومن وہ ہے جو دوسرے مومن کو مضبوط کرے

    ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
    «إِنَّ المُؤْمِنَ لِلْمُؤْمِنِ كَالْبُنْيَانِ يَشُدُّ بَعْضُهُ بَعْضًا» وَشَبَّكَ أَصَابِعَه
    (بخاري ،كِتَابُ الصَّلاَةِ،بَابُ تَشْبِيكِ الأَصَابِعِ فِي المَسْجِدِ وَغَيْرِهِ،481)

    ایک مومن دوسرے مومن کے لیے عمارت کی طرح ہے کہ اس کا ایک حصہ دوسرے حصہ کو قوت پہنچاتا ہے۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ہاتھ کی انگلیوں کو دوسرے ہاتھ کی انگلیوں میں داخل کیا

    مسلمان بھائی کی تکلیف دور کرنے کا اجرو ثواب

    عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
    الْمُسْلِمُ أَخُو الْمُسْلِمِ لَا يَظْلِمُهُ وَلَا يُسْلِمُهُ وَمَنْ كَانَ فِي حَاجَةِ أَخِيهِ كَانَ اللَّهُ فِي حَاجَتِهِ وَمَنْ فَرَّجَ عَنْ مُسْلِمٍ كُرْبَةً فَرَّجَ اللَّهُ عَنْهُ كُرْبَةً مِنْ كُرُبَاتِ يَوْمِ الْقِيَامَةِ وَمَنْ سَتَرَ مُسْلِمًا سَتَرَهُ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ
    (بخاري ،كِتَابُ المَظَالِمِ وَالغَصْبِ بَابٌ: لاَ يَظْلِمُ المُسْلِمُ المُسْلِمَ وَلاَ يُسْلِمُهُ،2442)

    ایک مسلمان دوسرے مسلمان کا بھائی ہے، پس اس پر ظلم نہ کرے اور نہ ظلم ہونے دے۔ جو شخص اپنے بھائی کی ضرورت پوری کرے، اللہ تعالیٰ اس کی ضرورت پوری کرے گا۔ جو شخص کسی مسلمان کی ایک مصیبت کو دور کرے، اللہ تعالیٰ اس کی قیامت کی مصیبتوں میں سے ایک بڑی مصیبت کو دور فرمائے گا۔ اور جو شخص کسی مسلمان کے عیب کو چھپائے اللہ تعالیٰ قیامت میں اسے کے عیب چھپائے گا

    موسی علیہ السلام کا ایک مظلوم قوم ایک مظلوم شخص اور دو عورتوں سے اظہار یکجہتی

    موسی علیہ السلام کی سیرت میں ظالم کے خلاف مظلوم کی مدد کا معاشرتی پہلو بخوبی نظر آتا ہے
    قبطی اور بنی اسرائیلی کے درمیان لڑائی ہوتے دیکھی تو کمزور اسرائیلی کی مدد کے لیے آگے بڑھے
    شائد کسی کے دل میں اعتراض پیدا ہو کہ اسرائیلی چونکہ موسی کی قوم سے تھا اس لیے مدد کرنا ضروری سمجھا
    لیکن ہم عرض کرتے ہیں کہ انبیاء کا کردار قومیت کی بجائے انسانیت کے گرد گھومتا ہے ورنہ مدین کی دو کمزور عورتیں نہ تو قوم موسی سے تعلق رکھتی تھیں اور نہ ہی دیگر چرواہوں کے مقابلے میں ان کی کوئی حیثیت تھی مگر کلیم اللہ کو دیکھیں کہ بھوکا، تھکا، پردیسی مسافر، بے لوث ہوکر جانوروں کو پانی پلانے کی خاطر کنویں سے بھاری ڈول کھینچ لاتا ہے

    فرعون اور اس کے حواریوں کے سامنے پوری شدومد کے ساتھ اپنی قوم کا مقدمہ بھی لڑ رہے تھے
    موسیٰ علیہ السلام نے فرعون کے دربار میں (فَأَرْسِلْ مَعَنَا بَنِي إِسْرَائِيلَ وَلَا تُعَذِّبْهُمْ
    تو بنی اسرائیل کو ہمارے ساتھ بھیج دے اور انھیں عذاب نہ دے
    طه : 47)
    کہہ کر نہ صرف یہ کہ قوم کی آزادی کی جنگ لڑی بلکہ *وَلَا تُعَذِّبْهُمْ* کا جملہ بول کر فرعونیوں کے ظالمانہ چہرے کو بے نقاب بھی کیا

    اگر ایک طرف
    قوم کی زبوں حالی دیکھتے ہوئے انھیں اللہ تعالیٰ سے مدد مانگنے اور صبر کرنے کی تلقین فرماتے رہتے تھے

    قَالَ مُوۡسٰى لِقَوۡمِهِ اسۡتَعِيۡنُوۡا بِاللّٰهِ وَاصۡبِرُوۡا‌
    موسیٰ نے اپنی قوم سے کہا اللہ سے مدد مانگو اور صبر کرو
    دوسری طرف
    فرعونی مظالم کے سامنے سیسہ پلائی دیوار بن کر کھڑے ہیں

    خضر علیہ السلام کا دو مسکینوں اور دو یتیموں سے اظہارِ یکجہتی

    خضر علیہ السلام اللہ کے نبی تھے
    معاشرے سے ربط، حالات پر نظر، عوام کے خیر خواہ اور ماحول سے ایسے باخبر کہ سمندر کی باتیں ملاحوں سے زیادہ معلوم تھیں
    کشتی پر سوار ہوئے تو یہ جانتے ہوئے کہ دوسری جانب کا حاکم غاصب ہے، کشتی میں سوراخ کر دیا تاکہ مساکین کا روزگار متاثر نہ ہو

    ایک بستی میں مقیم ہوئے تو باوجود اس کے کہ انہوں نے مانگے سے بھی کھانہ پانی تک نہیں دیا
    بھوکے بھی تھے پیاسے بھی تھے
    پردیسی بھی تھے اجنبی بھی تھے
    تھکے بھی تھے
    مگر حالت یہ تھی کہ مانند مزدور تعمیرِ دیوار میں مصروف ہوگئے فقط اس لیے کہ اُس کے نیچے یتیم بچوں کا خزانہ چھپا ہوا تھا

    نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور مظلوموں کی مدد

    میرے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم
    بھوکوں کے لیے تگ ودو کرتے تھے کمزوروں کی مدد کرتے تھے یتیموں کا خیال رکھتے تھے مسکینوں پر دست شفقت رکھتے تھے

    آپ نے اعلان کر رکھا تھا اگر کوئی شخص فوت ہو جائے اور اس کے ذمہ قرض ہو تو اس قرضے کی ادائیگی میں خود کروں گا لیکن اگر کوئی فوت ہو جائے اور ورثے میں جائیداد مال و متاع چھوڑ جائے تو میں اس سے کچھ بھی نہیں لوں گا

    نہ صرف یہ کہ نبوت کے بعد بلکہ نبوت کی زندگی سے پہلے بھی آپ کی یہی کیفیت تھی مکہ مکرمہ میں منعقد ہونے والے معروف معاہدے (حلف الفضول) سے کون ناواقف ہے

    میرے نبی مکہ مکرمہ میں چوری، ڈاکے، رہزنی اور بدامنی کے تدارک کے لیے سرگرداں نظر آتے ہیں
    نصرالمظلوم کے لیے کوشاں ہیں مکے کے ایک ایک سردار کے پاس جاکر ملاقاتیں کرتے ہیں اور آمادہ کرتے ہیں کہ مظلوم کی مدد کی جائے اور ظالم کو روکا جائے سب کو ایک حویلی میں اکٹھا کرتے ہیں مختلف معاہدوں پر دستخط لیتے ہیں تاریخ آج بھی اس معاہدے کو حلف الفضول کے نام سے یاد کرتی ہے
    قربان جاؤں کیسے بے لوث لیڈر تھے معاہدے کے اصل روحِ رواں خود تھے لیکن معاہدے کے نام کی جو تختی بنی، سجی،اور لکھی گئی وہ (حلف الفضول) یعنی سرداروں کے نام کی تھی تاکہ اور کچھ نہیں تو نام کی خاطر ہی میرے ساتھ وابستہ رہیں اور اسی بہانے یہ معاہدہ قائم و دائم رہے

    اماں خدیجہ رضی اللہ عنہ نے انہی اوصاف کی گواہی میں فرمایا تھا
    إِنَّكَ لَتَصِلُ الرَّحِمَ
    وَتَحْمِلُ الكَلَّ
    وَتَكْسِبُ المَعْدُومَ
    وَتَقْرِي الضَّيْفَ
    وَتُعِينُ عَلَى نَوَائِبِ الحَقِّ
    (بخاری ،كِتَابُ بَدْءِ الوَحْيِ،3)
    آپ اخلاق فاضلہ کے مالک ہیں، آپ کنبہ پرور ہیں، بے کسوں کا بوجھ اپنے سر پر رکھ لیتے ہیں، مفلسوں کے لیے آپ کماتے ہیں، مہمان نوازی میں آپ بے مثال ہیں اور مشکل وقت میں آپ امر حق کا ساتھ دیتے ہیں۔

    مولانا حالی کے بقول
    مصیبت میں غیروں کے کام آنے والا
    وہ اپنے پرائے کا غم کھانے والا
    فقیروں کا ملجا غریبوں کا ماویٰ
    یتیموں کا والی غلاموں کا مولا

    *مظلوم کو حوصلہ دینا اور حوصلے والی بات کہنا بھی اس کی مدد ہے*

    حضرت عمار بن یاسرؓ بنو مخزوم کے غلام تھے۔ انہوں نے اور ان کے والدین نے اسلام قبول کیا تو ان پر قیامت ٹوٹ پڑی۔ مشرکین ، جن میں ابوجہل پیش پیش تھا۔ سخت دھوپ کے وقت پتھریلی زمین پرلے جاکر اس کی تپش سے سزا دیتے۔ ایک بار انہیں اسی طرح سزادی جارہی تھی کہ نبیﷺ کا گزر ہوا۔ آپ نے فرمایا : آل یاسر ! صبر کرنا۔ تمہارا ٹھکانہ جنت ہے
    (ابن ہشام ۱/۳۱۹ ، ۳۲۰ ، طبقات ابن سعد ۳/۲۴۸ بحوالہ الرحیق المختوم )

    *مظلوم مسلمانوں کے ساتھ دعاؤں میں یکجہتی*

    مدینہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان ”مستضعفين“ کے حق میں نام لے کر دعا فرمایا کرتے تھے جو مکہ مکرمہ میں کفار کی قید میں رہ رہے تھے :
    [ اَللّٰهُمَّ اَنْجِ الْوَلِيْدَ بْنَ الْوَلِيْدِ وَ سَلَمَةَ بْنَ هِشَامٍ وَ عَيَّاشَ بْنَ أَبِيْ رَبِيْعَةَ وَالْمُسْتَضْعَفِيْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِيْنَ ]
    ’’یا اللہ! ولید بن ولید، سلمہ بن ہشام، عیاش بن ابی ربیعہ اور (مکہ میں گھرے ہوئے) دوسرے بے بس مسلمانوں کو رہائی دلا۔‘‘
    [ بخاری، الأذان، باب یھوی بالتکبیر حین یسجد : ۸۰۴، عن أبی ھریرۃ رضی اللہ عنہ ]

    *عثمان رضی اللہ عنہ سے صحابہ کی یکجہتی*

    سن 6 ہجری ذی قعدہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عثمانؓ کو قریش کے پاس سفیر بن کر جانے کا حکم دیا
    حضرت عثمانؓ اپنی سفارت کی مہم پوری کر چکے تھے ، لیکن قریش نے انہیں اپنے پاس روک لیا۔ غالباً وہ چاہتے تھے کہ پیش آمدہ صورتِ حال پر باہم مشورہ کر کے کوئی قطعی فیصلہ کرلیں اور حضرت عثمانؓ کو ان کے لائے ہوئے پیغام کا جواب دے کر واپس کریں، مگر حضرت عثمانؓ کے دیر تک رُکے رہنے کی وجہ سے مسلمانوں میں یہ افواہ پھیل گئی کہ انہیں قتل کردیا گیا ہے۔ جب رسول اللہﷺ کو اس کی اطلاع ہوئی تو آپ نے فرمایا: ہم اس جگہ سے ٹل نہیں سکتے یہاں تک کہ لوگوں سے معرکہ آرائی کرلیں۔ پھر آپ نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو بیعت کی دعوت دی۔ صحابہ کرام ٹوٹ پڑے۔ اور اس پر بیعت کی کہ میدان جنگ چھوڑ کر بھاگ نہیں سکتے۔ ایک جماعت نے موت پر بیعت کی۔ یعنی مر جائیں گے مگر میدان ِ جنگ نہ چھوڑیں گے

    *عثمان رضی اللہ عنہ سے یکجہتی کرنے والے ان سب لوگوں سے اللہ تعالیٰ راضی ہو گئے*

    فرمایا
    لَقَدْ رَضِيَ اللَّهُ عَنِ الْمُؤْمِنِينَ إِذْ يُبَايِعُونَكَ تَحْتَ الشَّجَرَةِ فَعَلِمَ مَا فِي قُلُوبِهِمْ فَأَنْزَلَ السَّكِينَةَ عَلَيْهِمْ وَأَثَابَهُمْ فَتْحًا قَرِيبًا
    بلاشبہ یقینا اللہ ایمان والوں سے راضی ہوگیا، جب وہ اس درخت کے نیچے تجھ سے بیعت کر رہے تھے، تو اس نے جان لیا جو ان کے دلوں میں تھا، پس ان پر سکینت نازل کر دی اور انھیں بدلے میں ایک قریب فتح عطا فرمائی۔
    الفتح : 18

    اور ایسی رضا حاصل ہوئی کہ ان سب پر جہنم حرام قرار دے دی گئی

    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
    [ لَا يَدْخُلُ النَّارَ، إِنْ شَاءَ اللّٰهُ مِنْ أَصْحَابِ الشَّجَرَةِ أَحَدٌ الَّذِيْنَ بَايَعُوْا تَحْتَهَا ]
    [ مسلم، فضائل الصحابۃ، باب من فضائل أصحاب الشجرۃ… : ۲۴۹۶ ]
    ’’ان شاء اللہ اس درخت والوں میں سے کوئی بھی آگ میں داخل نہیں ہو گا جنھوں نے اس کے نیچے بیعت کی۔‘‘

    *قبیلہ بنو خزاعہ سے مسلمانوں کی یکجہتی*

    مکہ مکرمہ میں دو قبیلے بنو بکر اور بنو خزاعہ آباد تھے
    دونوں قبیلوں میں دورِ جاہلیت سے عداوت اور کشاکش چلی آرہی تھی
    چنانچہ شعبان ۸ ھ میں بنو بکر نے بنو خزاعہ پر رات کی تاریکی میں حملہ کردیا۔ اس وقت بنو خزاعہ وتیر نامی ایک چشمے پر خیمہ زن تھے۔ ان کے متعدد افراد مارے گئے۔ کچھ جھڑپ اور لڑائی بھی ہوئی۔ ادھر قریش نے اس حملے میں ہتھیاروں سے بنو بکر کی مدد کی۔ بلکہ ان کے کچھ آدمی بھی رات کی تاریکی کا فائدہ اٹھا کر لڑائی میں شریک ہوئے۔ بہرحال حملہ آوروں نے بنوخزاعہ کو کھدیڑ کر حرم تک پہنچادیا۔
    بنو خزاعہ کے ایک آدمی عَمرو بن سالم خزاعی نے وہاں سے نکل کر فوراً مدینہ کا رُخ کیا اور رسول اللہﷺ کی خدمت میں پہنچ کر سامنے کھڑا ہوگیا۔ اس وقت آپ مسجد نبوی میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے درمیان تشریف فرماتھے۔ عمرو بن سالم نے چند اشعار کہے جن کا خلاصہ یہ ہے کہ :
    آپ پُر زور مدد کیجیے اور اللہ کے بندوں کو پکاریے ، وہ مدد کو آئیں
    جن میں اللہ کے رسول ہوں ہتھیار پوش ، اور چڑھے ہوئے چودھویں کے چاند کی طرح گورے اور خوبصورت
    آپ ایک ایسے لشکرِ جرار کے اندر تشریف لائیں جو جھاگ بھرے سمندر کی طرح تلاطم خیز ہو یقینا قریش نے آپ کے عہد کی خلاف ورزی کی ہے اور آپ کا پُختہ پیمان توڑدیا ہے۔
    انہوں نے وتیر پر رات میں حملہ کیا اور ہمیں رکوع وسجود کی حالت میں قتل کیا
    یہ سن کر رسول اللہﷺ نے فرمایا :
    اے عَمرو بن سالم ! تیری مدد کی گئی۔ اس کے بعد آسمان میں بادل کا ایک ٹکڑا دکھائی پڑا۔ آپ نے فرمایا: یہ بادل بنو کعب کی مدد کی بشارت سے دمک رہا ہے
    پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین کو جنگ کی تیاری کا حکم دیا اور آگے چل کر مظلوموں کی یہی حمایت فتح مکہ کا باعث بنی

    *ایک چھوٹی بچی پر ظلم اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا رد عمل*

    حضرت انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا
    أَنَّ يَهُودِيًّا قَتَلَ جَارِيَةً عَلَى أَوْضَاحٍ لَهَا فَقَتَلَهَا بِحَجَرٍ فَجِيءَ بِهَا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبِهَا رَمَقٌ فَقَالَ أَقَتَلَكِ فُلَانٌ فَأَشَارَتْ بِرَأْسِهَا أَنْ لَا ثُمَّ قَالَ الثَّانِيَةَ فَأَشَارَتْ بِرَأْسِهَا أَنْ لَا ثُمَّ سَأَلَهَا الثَّالِثَةَ فَأَشَارَتْ بِرَأْسِهَا أَنْ نَعَمْ فَقَتَلَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِحَجَرَيْنِ
    (بخاري، كِتَابُ الدِّيَاتِ، بابُ مَنْ أَقَادَ بِالحَجَرِ،6879)

    کہ ایک یہودی نے ایک لڑکی کو اس کے چاندی کے زیور کے لالچ میں مارڈالا تھا۔ اس نے لڑکی کو پتھر سے مارا پھر لڑکی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لائی گئی تو اس کے جسم میں جان باقی تھی۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کیا تمہیں فلاں نے مارا ہے؟ اس نے سر کے اشارہ سے انکار کیا۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے دوبارہ پوچھا، کیا تمہیں فلاں نے مارا ہے؟ اس مرتبہ بھی اس نے سر کے اشارے سے انکار کیا۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جب تیسری مرتبہ پوچھا تو اس نے سر کے اشارہ سے اقرار کیا۔ چنانچہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یہودی کو دوپتھروں میں کچل کر قتل کردیا۔

    *یہود کی طرف سے ایک مسلمان عورت کی بے عزتی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا اس کی مدد کو جانا*

    ابن ہشام نے ابوعون سے روایت کی ہے کہ ایک عرب عورت بنوقینقاع کے بازار میں کچھ سامان لے کر آئی اور بیچ کر (کسی ضرورت کے لیے)ایک سنار کے پاس ، جو یہودی تھا، بیٹھ گئی۔ یہودیوں نے اس کا چہرہ کھلوانا چاہا مگر اس نے انکار کر دیا۔ اس پر اس سنار نے چپکے سے اس کے کپڑے کا نچلا کنارا ایک طرف باندھ دیا اور اسے کچھ خبر نہ ہوئی۔ جب وہ اٹھی تو اس سے بے پردہ ہوگئی تو یہودیوں نے قہقہہ لگایا۔
    اس پر اس عورت نے چیخ پکار مچائی جسے سن کر ایک مسلمان نے اس سنار پر حملہ کیا اور اسے مارڈالا۔ جوابا یہودیوں نے اس مسلمان پر حملہ کرکے اسے مارڈالا۔ اس کے بعد بھی مسلمان کے گھروالوں نے شور مچایا اور یہود کے خلاف مسلمانوں سے فریاد کی۔ نتیجہ یہ ہوا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حک نے بنی قینقاع کے یہودیوں گھیرا کیا اور مظلوموں کا بدلہ لیا گیا
    (ابن ہشام 2/ 47 ، 48)
    بحوالہ الرحیق المختوم ص327

    *مظلوم بلال رضی اللہ عنہ سے ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی یکجہتی*

    حضرت بلالؓ امیہ بن خلف جحمی کے غلام تھے۔ امیہ ان کی گردن میں رسی ڈال کر لڑکوں کے حوالے کردیتا اور وہ انہیں مکہ کے پہاڑوں میں گھماتے اور کھینچتے پھرتے۔ یہاں تک کہ گردن پر رسی کا نشان پڑ جاتا۔ پھر بھی أحد أحدکہتے رہتے۔ خود بھی انہیں باندھ کر ڈنڈے مارتا ، اور چلچلاتی دھوپ میں جبراً بٹھائے رکھتا۔ کھانا پانی بھی نہ دیتا
    بلکہ بھوکا پیاسا رکھتا اور ان سب سے بڑھ کر یہ ظلم کرتا کہ جب دوپہر کی گرمی شباب پر ہوتی تو مکہ کے پتھریلے کنکروں پر لٹا کر سینے پر بھاری پتھر رکھوا دیتا۔ پھر کہتا : واللہ! تو اسی طرح پڑارہے گا یہا ں تک کہ مر جائے یا محمد کے ساتھ کفر کرے اور لات وعزیٰ کی پوجا کرے۔ حضرت بلالؓ اس حالت میں بھی کہتے : أحد ،أحد اور فرماتے : اگر مجھے کوئی ایسا کلمہ معلوم ہوتا جو تمہیں اس سے بھی زیادہ ناگوار ہوتا تو میں اسے کہتا۔ ایک روز یہی کاروائی جاری تھی کہ حضرت ابوبکرؓ کا گزر ہوا۔ انہوں نے حضرت بلالؓ کو ایک کالے غلام کے بدلے اور کہا جاتا ہے کہ دوسو درہم (۷۳۵ گرام چاندی) یا دوسو اسی درہم (ایک کلو سے زائد چاندی ) کے بدلے خرید کر آزاد کر دیا
    (ابن ہشام ۱/۳۱۷، ۳۱۸بحوالہ الرحیق المختوم)

    *ایک مسلمان کے ہاتھ اور پاؤں توڑے گئے تو امیرالمومنین عمر رضی اللہ عنہ کا فیصلہ*

    عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ جب ان کے ہاتھ پاؤں خیبر والو ں نے توڑ ڈالے تو عمر رضی اللہ عنہ خطبہ دینے کے لئے کھڑے ہوئے‘ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب خیبر کے یہ ودیوں سے ان کی جائداد کا معاملہ کیا تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ جب تک اللہ تعالیٰ تمہیں قائم رکھے ہم بھی قائم رکھیں گے اور عبداللہ بن عمر وہاں اپنے اموال کے سلسلے میں گئے تو رات میں ان کے ساتھ مار پیٹ کا معاملہ کیا گیا جس سے ان کے پاؤں ٹو ٹ گئے ۔ خیبر میں ان کے سوا اور کوئی ہمارا دشمن نہیں ‘ وہی ہمارے دشمن ہیں اور انہیں پر ہمیں شبہ ہے اس لئے میں انہیں جلا وطن کر دینا ہی مناسب جانتا ہوں ۔
    جب عمر رضی اللہ عنہ نے اس کا پختہ ارادہ کر لیا تو بنوابی حقیق ( ایک یہ ودی خاندان ) کاایک شخص تھا ’ آیا اور کہا یا امیرالمومنین کیا آپ ہمیں جلاوطن کردیں گے حالانکہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں یہاں باقی رکھا تھا اور ہم سے جائیداد کا ایک معاملہ بھی کیا تھا اور اس کی ہمیں خیبر میں رہنے دینے کی شرط بھی آپ نے لگائی تھی ۔ عمر رضی اللہ عنہ نے اس پر فرمایا کیا تم یہ سمجھتے ہو کہ میں رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان بھول گیا ہوں ۔ جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا تھا کہ تمھارا کیا حال ہوگا جب تم خیبر سے نکالے جاؤ گے اور تمھارے اونٹ تمہیں راتوں رات لئے پھریں گے ۔ اس نے کہا یہ ابو قاسم ( حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک مذاق تھا ۔ عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا خدا کے دشمن ! تم نے جھوٹی بات کہی ۔ چنانچہ عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں شہر بدر کردیا اور ان کے پھلوں کی کچھ نقد قیمت’ کچھ مال اور اونٹ اور دوسرے سامان یعنی کجاوے اور رسیوں کی صورت میں ادا کردی

    *محمد بن قاسم اور مظلوم مسلمانوں کی پکار*

    ولید بن عبدالملک کے زمانے میں راجہ داہر کے ڈاکوؤں نے مسلمانوں کے بحری جہاز لوٹ لیے۔ بچے اور عورتیں قیدی بنالیے۔ ایک مسلم خاتون کی زبان سے نکلا:
    ”ہائے حجاج! تیری اسلامی غیرت کہاں گئی؟“
    بس پھر کیا تھا؟ حجاج نے لشکر پہ لشکر بھیجے۔ تیسرے لشکر کا سالار اپنے نوعمر بھتیجے اور داماد محمد بن قاسم کو بنایا۔ اسے تقویٰ اختیار کرنے، نمازوں کی پابندی اور بلاوجہ کسی پر ظلم نہ کرنے کا حکم دے کر داہر اور اس کے رسہ گیروں کو سبق سکھانے بھیج دیا۔ ابن قاسم آیا اور اس نے کراچی سے ملتان تک کے علاقے کو اسلامی ملک بناکر رکھ دیا۔
    اور ڈاکوؤں کو پکڑ کر مظلوم لوگوں کی خوب داد رسی کی

    *معتصم باللہ اور ایک عورت کی مدد*

    عموریہ کا ایک بڑا قلعہ تھا۔ رومی عیسائی حکومت کے زیر اثر مسلمان بھی رہتے تھے۔ کسی مسلمان عورت کو کسی بات پر ایک عیسائی نے تھپڑ ماردیا اور کہا: ”کرلے جو کرنا ہے۔“ مسلمان عورت کے منہ سے نکلا: ”ہائے معتصم!“ عباسی بادشاہ کا نام معتصم تھا۔ عیسائی نے کہا: ”واہ! کہاں تو اور کہاں تیرا بادشاہ معتصم۔ ہماری حکومت ہے۔ ہم جو چاہیں کریں۔“ یہی بات ہوا کے کندھوں پر سوار بغداد میں عباسی خلیفہ تک پہنچی۔ ہوا ہی کے ہاتھ معتصم نے جواب بھیجا: ”میری بہن! فکر مت کر، میں ابھی پہنچا۔“ چند ہی دنوں میں مسلم افواج اپنے خلیفہ کی ہدایت پر عموریہ فتح کرچکی تھیں۔ مسلمان بہن کی تلاش کی گئی۔ اسے بادشاہ کا پیغام دیا گیا۔ وہ شکر اور فخر کے ملے جلے جذبات کے ساتھ حاضر ہوئی۔ دوسری طرف اس کے سامنے عیسائی زیادتی کرنے والا پابجولاں سر جھکائے کھڑا تھا۔ اس مغرور نصرانی نے مسلم سپاہ اور عموریہ کے عام لوگوں کے سامنے معافی مانگی۔ معتصم باللہ نے کہا: ”میری بہن! اپنا بدلے لے۔ تیرا بھائی، تیرا امیر، تیری ہی خاطر، تیری غیرت کا بدلہ لینے آیا ہے۔“ مسلم خاتون نے سربلند ہوکر امیر المومنین کا شکریہ ادا کیا۔ پھر ایک زہرناک نگاہ سے نصرانی کو دیکھا اور کہا: ”میں تجھ سے تھپڑ کا بدلہ تھپڑ مارکر لے سکتی ہوں۔ تو نے دیکھا لیا کہ میرا امیر مسلم غیرت سے خالی نہیں اور لے میں تجھے صرف اللہ کی رضا کے لیے معاف کرتی ہوں۔ آیندہ تمہارا کوئی غیرت سے عاری فرد ایسی جرات نہ کرے۔“

    *اے امت مسلمہ❗کشمیر اور دیگر علاقوں میں مظلوم مسلمانوں کی مدد کے لیے اٹھو*

    اٹھو تم کو شہیدوں کا لہو آواز دیتا ہے
    خدا بھی اہل ہمت کو پر پرواز دیتا ہے

    اٹھو کشمیر کے سرو و سمن آواز دیتے ہیں
    تمہیں افغان کے کوہ و دمن آواز دیتے ہیں
    لہو میں تیرتے گھر و صحن آواز دیتے ہیں
    فلسطینوں کے لاشے بے کفن آواز دیتے ہیں
    اٹھو تم کو شہیدوں کا لہو آواز دیتا ہے

    وہ دیکھو وادیِ کشمیر میں گلزار جلتے ہیں
    تڑپتے ہیں کہیں گُل پیرہن گھر بار جلتے ہیں
    ارم آباد کے وہ زعفرانِ زار جلتے ہیں
    وہ اپنی جنتِ ارضی کے سب آثار جلتے ہیں
    جِدھر اُٹھی نظر خونی الاؤ جلتے دیکھے ہیں
    کہاں چشم فلک نے ایسے گھاؤ جلتے دیکھے ہیں
    اٹھو تم کو شہیدوں کا لہو آواز دیتا ہے

    بگوشے گوش سے نالے سنو معصوم بچوں کے
    ڈرے سہمے ہوئے چہرے کہیں مغموم بچوں کے
    جھپٹ کر ماؤں سے چھیدے گئے حلقوم بچوں کے
    اٹھا کر ماؤں نے پھر بھی لیے منہ چوم بچوں کے
    مرتب ہو رہی ہے جہدِ اسلامی کی تحریریں
    لہو دے کر بدلتی ہیں سدا قوموں کی تقدیریں
    اٹھو تم کو شہیدوں کا لہو آواز دیتا ہے

    وہاں افغانیوں کے خون سے بہتے ہوئے دھارے
    اُبلتا ہے لہو سینوں سے یا چشموں کے فوارے
    کسی کے ہیں جگر گوشے کسی کے ہیں جگر پارے
    وہاں ماؤں نے وارے کیسے کیسے آنکھ کے تارے
    میرے الفاظ کیا ہر شعر کا مضمون جلتا ہے
    میں جس دم سوچنے لگتا ہوں میرا خون جلتا ہے
    اٹھو تم کو شہیدوں کا لہو آواز دیتا ہے

    کچل ڈالو ہر اک فتنہ ستم کا، سربریت کا
    اٹھو اور توڑ ڈالو ہاتھ ہر اہلِ اذیت کا
    اگر کچھ حریت کا جوش ہے جذبہ حمیت کا
    رہے رب کی زمیں پر کیوں یہ غلبہ آمریت کا
    اٹھو تم دین فطرت کی حقیقت کا حوالہ ہو
    تمہارے نام سے اسلام کا پھر بول بالا ہو
    اٹھو تم کو شہیدوں کا لہو آواز دیتا ہے

    جہاد فی سبیل اللہ ہے بس تیار ہو جاؤ
    اگر پہلے نہ تھے تیار اب تیار ہو جاؤ
    جو سچ پوچھو تو ہے یہ حکمِ رب تیار ہو جاؤ
    نہ اب پہنچو گے تو پہنچو گے کب؟ تیار ہو جاؤ
    اٹھو آگے بڑھو کفار نے پھر تم کو للکارا!
    تمہاری ٹھوکروں میں تھا کبھی تاج سرِ دارا
    اٹھو تم کو شہیدوں کا لہو آواز دیتا ہے

  • شدت پسندی کے سدباب میں منبر و محراب ،ریاست اور عوام کا کردار از طہ منیب

    شدت پسندی کے سدباب میں منبر و محراب ،ریاست اور عوام کا کردار از طہ منیب

    شدت پسندی سب سے بڑا مسئلہ ہے، شدت پسندی کا سبب جہالت ہے۔ جہالت کا خاتمہ علم سے ممکن ہے۔ علم کا منبع قرآن و حدیث ہیں۔ ڈیجیٹل میڈیا کے اس دور میں بھی مسجد کا منبر و محراب سب سے موثر پلیٹ فارم ہے ۔ اس پلیٹ فارم کے درست استعمال سے معاشرے میں تعمیر و ترقی اور امن و امان کا قیام ممکن ہے ۔ شدت پسندی کے خاتمہ کیلئے سب سے پہلے علماء آگے بڑھیں اور اپنے اپنے مسالک میں موجود شدت پسندی پر مبنی کفر وتکفیر کے فتوے بانٹنے والے علماء کا بائکاٹ کرکے انہیں تنہا کریں اسکے بعد ریاست منبر و محراب کے تعاون سے ایسے شدت پسندوں کے خلاف ریاستی رٹ کو بحال کرے اور آخر میں عامتہ الناس اجتماعی شعور کا ثبوت دیتے ہوئے شدت پسندوں کی حوصلہ شکنی کرے۔

    یاد رہے ذاتی رنجشوں کی بنیاد پر گستاخی کے فتوے اور اسکی بنیاد پر ایک مسلمان کا خون جو کعبتہ اللہ کی حرمت سے بڑا ہے کسی صورت خیر کا باعث نہیں ہوگا۔ خوشاب واقعہ ابتدا ہے ، اگر سب نے اپنا کردار ادا نا کیا تو فتنہ و فساد اور فرقہ واریت کا خوفناک باب کھلنے کا خدشہ ہے۔اللہ تعالیٰ ہمیں قرآن و حدیث کا درست فہم اور اور معمولی فروعی معاملات کو پس پشت ڈال کر اتحاد و اتفاق کی فضا قائم کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین

  • گستاخانہ خاکوں کی روک تھام کیسے ممکن ہے   بقلم  عبدالرحمان محمدی

    گستاخانہ خاکوں کی روک تھام کیسے ممکن ہے بقلم عبدالرحمان محمدی

    گستاخانہ خاکوں کی روک تھام کیسے ممکن ہے

    بقلم
    عبدالرحمان محمدی

    اِنَّ الَّذِيۡنَ يُؤۡذُوۡنَ اللّٰهَ وَرَسُوۡلَهٗ لَعَنَهُمُ اللّٰهُ فِى الدُّنۡيَا وَالۡاٰخِرَةِ وَاَعَدَّ لَهُمۡ عَذَابًا مُّهِيۡنًا
    بیشک وہ لوگ جو اللہ اور اس کے رسول کو تکلیف پہنچاتے ہیں اللہ نے ان پر دنیا اور آخرت میں لعنت کی اور ان کے لیے ذلیل کرنے والا عذاب تیار کیا۔
    الأحزاب – آیت 57

    نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کی ذات مبارکہ امت مسلمہ کے دلوں کی دھڑکن ہے اور آپ سے محبت رکھنا ایمان کا جزو لازم ہے آپ کی ذات مبارکہ پر ہونے والے ہر حملہ کو روکنا امت مسلمہ کے ایک ایک فرد کی اہم ترین ذمہ داری ہے خواہ اس کے لیے تن من دھن کی بازی لگانا پڑے

    نہ جب تک کٹ مروں رسول اللہ کی حرمت پر
    خدا شاہد ہے ،کامل مرا ایماں ہو نہیں سکتا

    حرمت رسول کی پہرے داری کے لیے چند اھم امور مد نظر رکھنا ضروری ہیں

    نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کو دنیا کی ہر چیز سے عزیز سمجھا جائے حتی کہ اپنی جان سے بھی بڑھ کر آپ سے محبت کی جائے

    حضرت انس رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کرتے ہیں
    آپ نے فرمایا
    لَا يُؤْمِنُ أَحَدُكُمْ حَتَّى أَكُونَ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِنْ وَالِدِهِ وَوَلَدِهِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ
    (بخاري ،كِتَابُ الإِيمَانِ،بَابٌ: حُبُّ الرَّسُولِ ﷺ مِنَ الإِيمَانِ15)
    کوئی شخص اس وقت تک مومن نہیں ہوسکتا جب تک میں اسے اس کے والدین اور تمام لوگوں سے بڑھ کر محبوب نہ ہو جاؤں…

    محمد کی محبت دین حق کی شرط اول ہے
    جو ہو اس میں خامی تو سب کچھ نا مکمل ہے

    نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کی ذات مبارکہ کا ہر فورم پر دفاع کیا جائے

    جب کبھی اور جہاں کہیں بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کی حرمت و ناموس پر کیچڑ اچھالنے یا حملہ کرنے کی کوشش ہو فی الفور ایک لمحہ بھی ضائع کیے بغیر اسی جگہ آپ کا دفاع کیا جائے

    ایک مثال

    صلح حدیبیہ کے موقع پر عروہ رضی اللہ عنہ نے (اس وقت تک وہ مسلمان نہیں ہوئے تھے اور کفار کے نمائندے بن کر آئے تھے) کہا ۔ اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم !

    اگر ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر غالب ہوئے تو میں خدا کی قسم تمہارے ساتھیوں کا منہ دیکھتا ہوں اس وقت یہ سب لوگ بھاگ جائیں گے اور آپ کو تنہا چھوڑ دیں گے ۔
    تو اسی لمحے ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے ترکی بہ ترکی جواب دیا
    امْصُصْ بِبَظْرِ اللَّاتِ أَنَحْنُ نَفِرُّ عَنْهُ وَنَدَعُهُ
    (بخاري ،كِتَابُ الشُّرُوطِ،بَابُ الشُّرُوطِ فِي الجِهَادِ وَالمُصَالَحَةِ مَعَ أَهْلِ الحَرْبِ وَكِتَابَةِ الشُّرُوطِ،2732)

    جاؤ جا کر لات کی شرمگاہ چوسو کیا ہم اپنے نبی کو یونہی چھوڑ کر بھاگ جائیں گے

    عروہ نے پوچھا کون صاحب ہیں ؟ لوگوں نے بتایا کہ ابو بکر رضی اللہ عنہ ہیں ۔ عروہ نے کہا اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اگر تمھارا مجھ پر ایک احسان نہ ہوتاجس کا اب تک میں بدلہ نہیں دے سکا ہوں تو تمہیں ضرور جواب دیتا ۔

    دوسری مثال

    وہ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے گفتگوکرنے لگے اور گفتگو کرتے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی داڑھی مبارک پکڑ لیا کرتے تھے ۔ مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کھڑے تھے‘ تلوارلٹکائے ہوئے اور سر پر خود پہنے ۔
    فَكُلَّمَا أَهْوَى عُرْوَةُ بِيَدِهِ إِلَى لِحْيَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضَرَبَ يَدَهُ بِنَعْلِ السَّيْفِ وَقَالَ لَهُ أَخِّرْ يَدَكَ عَنْ لِحْيَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ… (بخاری كِتَابُ الشُّرُوطِ، بَابُ الشُّرُوطِ فِي الجِهَادِ وَالمُصَالَحَةِ مَعَ أَهْلِ الحَرْبِ وَكِتَابَةِ الشُّرُوطِ،2732)
    عروہ جب بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی داڑھی مبارک کی طرف اپنا ہاتھ لے جاتے تو مغیرہ رضی اللہ عنہ تلوار کی نوک کو ان کے ہاتھ پر مارتے اور ان سے کہتے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی داڑھی سے اپنا ہاتھ الگ رکھ ۔

    کفار کے سامنے محبت رسول کا خوب اظہار کیجئے

    کفار کے سامنے محبت رسول اور حرمت رسول صلی اللہ علیہ و سلم کے معاملے میں ذرہ برابر بھی لچک اور کمپرومائز کا رویہ مت اپنایا جائے تاکہ انہیں یہ میسج پہنچے کہ مسلمان قوم کسی بھی چیز پر سمجھوتہ کر سکتی ہے مگر حرمت رسول پر بلکل کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا

    اس کی ایک مثال صلح حدیبیہ کے اسی واقعہ میں موجود ہے جب قریش کے نمائندے عروہ رضی اللہ عنہ گھور گھور کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب کی نقل و حرکت دیکھتے رہے ۔
    اس نے دیکھا کہ اگر کبھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بلغم بھی تھوکا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب نے اپنے ہاتھوں پر اسے لے لیا اور اسے اپنے چہرہ اور بدن پر مل لیا ۔ کسی کام کا اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا تو اس کی بجا آوری میں ایک دوسرے پر لوگ سبقت لے جانے کی کوشش کرتے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم وضو کرنے لگے تو ایسا معلوم ہوا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے وضو کے پانی پر لڑائی ہوجائے گی ( یعنی ہر شخص اس پانی کو لینے کی کوشش کرتا تھا ) جب آپ گفتگو کرنے لگے تو سب پر خاموشی چھاجاتی ۔ آپ کی تعظیم کا یہ حال تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھی نظر بھر کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ بھی نہیں سکتے تھے ۔

    عروہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم سے صحابہ کی یوں والہانہ محبت دیکھی تو بہت مرعوب ہو کر واپس پلٹا اور اپنی قوم کے حوصلے پست کرتے ہوئے کہا کہ میں نے ایسی محبت کہیں نہیں دیکھی
    أَيْ قَوْمِ وَاللَّهِ لَقَدْ وَفَدْتُ عَلَى الْمُلُوكِ وَوَفَدْتُ عَلَى قَيْصَرَ وَكِسْرَىوَالنَّجَاشِيِّ وَاللَّهِ إِنْ رَأَيْتُ مَلِكًا قَطُّ يُعَظِّمُهُ أَصْحَابُهُ مَا يُعَظِّمُ أَصْحَابُ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُحَمَّدًا
    (بخاری كِتَابُ الشُّرُوطِ
    بَابُ الشُّرُوطِ فِي الجِهَادِ وَالمُصَالَحَةِ مَعَ أَهْلِ الحَرْبِ وَكِتَابَةِ الشُّرُوط،2732)
    اے میری قوم کے لوگو ! قسم اللہ کی ‘ میں بادشاہوں کے دربار میں بھی وفد لے کر گیاہوں‘ قیصروکسریٰ اور نجاشی سب کے دربار میں لیکن اللہ کی قسم میں نے کبھی نہیں دیکھا کہ کسی بادشاہ کے ساتھ اس کی اس درجہ تعظیم کرتے ہوں جتنی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب آپ کی تعظیم کرتے ہیں ۔ قسم اللہ کی اگر محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے بلغم بھی تھوک دیا تو ان کے اصحاب نے اسے اپنے ہاتھوں میں لے لیا اور اسے اپنے چہرہ اور بدن پر مل لیا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اگر کوئی حکم دیا تو ہر شخص نے اسے بجا لانے میں ایک دوسرے پر سبقت کی کوشش کی ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اگر وضو کیا تو ایسا معلوم ہوتا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے وضو پر لڑائی ہوجائے گی ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب گفتگو شروع کی تو ہر طرف خاموشی چھا گئی ۔ ان کے دلوں میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعظیم کا یہ عالم تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو نظر بھر کر بھی نہیں دیکھ سکتے ۔

    دوسری مثال
    خبیب رضی اللہ عنہ کو جب سولی چڑھاتے وقت ابو سفیان نے کہا کہ اگر آج آپ کی جگہ محمد صلی اللہ علیہ و سلم کو سولی دی جائے اور آپ بچ جائیں تو آپ کو کیسا لگے گا تو انہوں نے فوراً اپنے جذبات کا اظہار کیا کہ میں تو یہ بھی نہیں پسند کرتا کہ میری جان کے بدلے ان کے پاؤں میں کانٹا چھبے اور انہیں تکلیف ہو
    الرحیق المختوم 397

    نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کی عادات وسنن سے محبت کی جائے

    جس سے کفار کو یہ میسج جائے گا کہ جانثاران محمد حرمت رسول کی پامالی کبھی برداشت نہیں کر سکتے

    اگر ہم خود آپ کی سنتوں کو تضحیک کا نشانہ بنائیں گے تو غیروں سے شکوہ کس بات کا

    نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کی جن سنتوں سے کفار کو چڑ یا خوف ہو وہ بڑھ چڑھ کر اپنائی جائیں
    مثال کے طور پر
    داڑھی سے کفار چڑتے ہیں
    برقعہ اور پردہ سے سیخ پا ہوتے ہیں
    زنا سے خوش اور شادیوں سے غصہ میں آتے ہیں
    لہذا
    داڑھی رکھی جائے، اپنی عورتوں کو پردہ کروایا جائے، ایک سے زائد شادیوں کا کلچر اپنایا جائے

    جیسا کہ مدینہ کے یہود آمین بالجہر اور سلام سے چڑتے تھے تو آپ نے ان پر خصوصی توجہ مرکوز کی

    جب امت سنت رسول ﷺ کو اپنائے گی تب ہی امت رسول اللہ ﷺ کی محبت کا حق ادا کرے گی ۔ یہی امت کی قوت ہے اور اسی سے دشمن کو نقصان پہنچایا جا سکتا ہے

    لیکن افسوس ہے کہ آج مسلمانوں کی اکثریت کو خود ہی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا (داڑھی والا) چہرہ پسند نہیں ہے تو پھر کفار سے نالاں ہونے کی کیا ضرورت ہے

    سیرت النبی کا پیغام دنیا میں ہر طرح کے وسائل سے پھیلایا جائے

    اہانت کرنے والوں کا مقصد ذاتِ نبوی سے لوگوں کو بیزار کرنا ہے تاکہ اسلام کی بڑھتی مقبولیت کے آگے بند باندھا جاسکے، لیکن آپ کی سیرت اورپیغام کی اشاعت ان کے مذموم ارادوں کو خاک میں ملادے گی۔

    قلم وقرطاس کے ذریعے سرور کونین کی سیرت کے سنہرے نقوش دور دور تک پہنچائے جائیں مثلاً بینرز ، سٹیکرز، پوسٹر، مضامین، خطوط، ای میل، میڈیا کو فون وغیرہ، غرض ہر ذریعہ کو استعمال میں لایا جائے۔ اس ابلاغی مہم کا نتیجہ یہ نکلے گا کہ عالم کفر کو لینے کے دینے پڑ جائیں گے اور وہ جارحانہ انداز کی بجائے دفاعی پوزیشن میں چلے جائیں گے

    حافظ قمر حسن حفظہ اللہ تعالی لکھتے ہیں
    "اس سلسلے میں اہم ترین اقدام یہ ہے کہ تراجم کے ذریعے سے فرانسیسی زبان میں زیادہ سے زیادہ اسلامی لٹریچر فراہم کیا جائے۔ حکومتوں اور اداروں کی سطح پر مترجمین کی ٹیمیں تیار کی جائیں جو بالخصوص ان مغربی زبانوں میں حدیث و سیرت کی کتابوں کا ترجمہ کریں جن میں اسلامی لٹریچر نہ ہونے کے برابر ہے۔
    ان میں فرانسیسی،جرمن،اطالوی،روسی اور ہسپانوی زبانیں غیر معمولی اہمیت کی حامل ہیں۔ ان زبانوں میں کم سے کم قرآن مجید، صحاح ستہ،تفسیر ابن کثیر اور سیرت ابن ہشام وغیرہ کا ترجمہ کیا جانا ضروری ہے۔
    تراجم کا یہ سلسلہ اہل مغرب کے لیے پیغمبر اسلام کے مقام و مرتبہ سے آگاہی کا ایک مؤثر ذریعہ ثابت ہو گا”۔

    گستاخانہ خاکوں کے مد مقابل، سیرت النبی کے موضوع پر انٹرنیشنل سطح پر تحریری و تقریری مقابلہ جات رکھے جائیں

    ان مقابلہ جات میں غیر مسلم سکالرز کو بھی شرکت کی دعوت دی جائے اول نمبروں پر آنے والے پوزیشن ہولڈرز کو قیمتی ورلڈ کپ سے نوازا جائے اور اس کے لیے نوبل پرائز کی بجائے محمدی یا اسلامک پرائز کی اصطلاح متعارف کروائی جائے اور یہ مقابلے اتنے زور و شور اور دھوم دھام سے ہوں کہ گستاخانہ خاکوں کی آواز ان کے نیچے ہی دب کر رہ جائے

    اور پھر پہلے نمبروں پر آنے والی کتب کا خوب چرچا کیا جائے
    جیسا کہ( الرحیق المختوم )اشاعتِ سیرت النبی کا ایک اہم ذریعہ بن چکی ہے

    علماء کرام اپنے خطبات، مواعظ اور دروس وغیرہ میں حرمت رسول سے متعلق آگاہی مہم جاری کریں

    علماء ورثۃ الأنبياء ہیں اور وارث کی زیادہ ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اپنےمورث کا دفاع کرے علماء کرام ہی اس وراثت کے داعی، امین اور محافظ ہیں۔ یہی وہ لوگ ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے دین میں فقاہت کی بصیرت سے نوازکر اُمت کے منتخب شدہ افراد ہونے کی سند ِتصدیق عطا کی ہے، انہیں پر بطورِ خاص اُمت ِمسلمہ کے نمائندے اور وراثت ِ رسول کے امین ہونے کے ناطے یہ فرض عائد ہوتا ہے کہ ایسے المناک مراحل پر ملت ِاسلامیہ میں احساس وشعور بیدار کرنے میں کوئی کمی نہ روا رکھیں تاکہ اُمت من حیث المجموع اپنے فرائض کو بجا لانے پر کمربستہ ہوجائے

    جیسے شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ تعالٰی نے اپنے دور کے عوام الناس کو اپنی مایہ ناز کتاب( الصارم المسلول علی شاتم الرسول )کے ذریعے اس مہم سے آگاہ کیا تھا

    ایسے مواقع پر خطابات و مواعظ سے کچھ نہ بھی بن پڑا تو دین سے دور ہوتی نسل تک اپ کا پیغام ہی پہنچ جائے گا۔ کچھ بعید نہیں کہ اللہ پاک ان مواعظ ہی کو خیر کا دروازہ بنا دیں

    سوشل میڈیا پر مہم

    سوشل میڈیا پر حرمت رسول اور دفاع ناموس رسالت کی زبردست مہم جاری کی جائے سیرت النبی صلی اللہ علیہ و سلم کے موضوع پر تحاریر، تقاریر، پوسٹس اور اپنے جذبات کا اظہار اس قدر شدت سے کیا جائے کہ گستاخانہ خاکے نیچے ہی دب جائیں

    سوشل میڈیا ہم میں سے اکثریت کی رسائی میں ہے تو کیا ہم ایک طاقت بن کر ان گستاخانہ خاکوں کے چھپنے سے پہلے کچھ ایسا نہیں کر سکتے کہ جس سے یہ شیطانی حرکت روکی جا سکے؟ ۔

    اگر قیامت کے روز سوال ہوا کہ ’’جب سوشل میڈیا پر اللہ کے حبیب حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بارے میں کھُلے عام انتہائی غلیظ باتیں ہو رہی تھیں تو تم نے اس معاملے میں کیا کردار ادا کیا‘‘؟۔ تب جواب کیا یہ ہوگا کہ ’’اُس وقت فیس بک پر سو لفظی کہانیاں لکھی جا رہی تھیں ، اشعار پوسٹ کیے جا رہے تھے سیاست پر بات ہو رہی تھی ، الیکشن زیرِ بحث تھے یا یہ کہ اس معاملے میں صرف حکومت ، الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا کو کردار ادا کرنا چاہیے تھا جو انہوں نے نہیں کیا‘‘۔

    جہاد بالقلم کا حصہ بنیں، اس شیطانی مہم کے خلاف اپنی آواز بلند کریں۔ یہ ہی وقت ہے کہ جب سوشل میڈیا کو صرف تفریح اور وقت گزاری کے لیے استعمال کرنے کے بجائے اپنی آخرت سنواری کے لیے استعمال کیا جائے کیونکہ ہم تو آج ہیں کل شاید نہ بھی رہیں لیکن کسے معلوم کہ گستاخانہ خاکوں کے مقابلے کو رکوانے کی ہماری یہ چھوٹی سی کوشش ، ہمارے یہ چند الفاظ ہی ہمارے لیے توشہ آخرت بن جائیں

    اپنے جماعتی امراء، قائدین اور محبوب لیڈرز سے بڑھ کر رسول اللہ کا درد محسوس کیا جائے

    حرمت رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کا درد ایسے محسوس کیا جائے جیسے اپنی جماعت کے امیر کا درد محسوس کیا جاتا ہے

    اگر ہمارے جماعتی اکابرین پر کوئی حرف گیری کرے تو ہم مناظرے مباہلے اور دست و پا ہونے تک کے تمام مراحل اتفاقی مشاورت کے ساتھ خوش اسلوبی سے طے کر لیتے ہیں۔عزیزان گرامی یہ تو ایمان کا حصہ ہے۔ اگر یہ امر اس سے اہم نہ ہوا تو ہم کل رب کو کیا جواب دیں گے جو حجرے سے باہر پکارنے کی بھی ممانعت نازل کرنے والا ہے

    جس طرح ن لیگ والے نواز شریف کے خلاف
    پی ٹی آئی والے عمران خان کے خلاف
    جے یو آئی والے مولانا فضل الرحمن کے خلاف
    اور ہر جماعت کے کارکنان اپنے اپنے امراء کے خلاف
    کوئی بات سننے کو تیار نہیں اور کبھی سن لیں تو فوراً سیخ پا ہو جاتے ہیں
    لیکن
    آخر کیا وجہ ہے کہ اسی طرح کے جذبات ساری کائنات سے زیادہ عزیز ذات گرامی جناب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے متعلق نہیں ہوتے❓

    امت مسلمہ متحد و یک جان ہو

    گستاخانہ خاکے روکنے اور ان کے خلاف مؤثر آواز پیدا کرنے کے لیے ضروری ہے کہ امت مسلمہ باہمی اتفاق و اتحاد پیدا کرے جب تک ہم اندرونی اختلافات و انتشارات کا شکار رہیں گے تب تک ہم کفار کو ان حرکتوں سے باز نہیں رکھ سکتے

    جب عبداللہ بن ابی رئیس المنافقين نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی شان میں
    ( ليخرجن الأعز منها الأذل )کہہ کر گستاخی کی اور انصار و مہاجرین کو باہم دست و گریباں کرنے کی کوشش کی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے اپنی امت کو متحد رکھنے کے لیے کہا اس( باہم لڑائی )کو چھوڑ دو یہ بدبودار ہے

    پھر آپ نے خلاف معمول وقت میں کوچ کا حکم دیا، صبح سے شام، شام سے صبح اور صبح سے دوپہر تک مسلسل چلتے رہے، جب لوگوں کو خوب تکلیف ہونے لگی تو آپ نے پڑاؤ ڈالا، لوگ زمین پر جسم رکھتے ہی سو گئے، آپ کا مقصد بھی یہی تھا کہ اگر انہیں سکون سے بیٹھ کر گپ لڑانے کا موقع مل گیا تو باہمی جھگڑے کی آگ پھر سے بھڑک اٹھے گی جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ گستاخ رسول عبداللہ بن ابی اپنے ناپاک منصوبے میں خوب ناکام رہا

    اتحاد کے بغیر اسلام کا رعب غیرمسلموں پر طاری نہیں ہوسکتا۔ جس طرح غیر مسلم، پورا یورپ اور مغربی میڈیا یک جہتی سے گستاخوں کی حمایت پر کمربستہ ہیں اس مسئلہ کا مداوا اس وقت تک نہیں ہو سکتا جب تک مسلمانوں میں باہمی مؤاخات کو پروان نہ چڑھایا جائے۔

    اسی سلسلے میں او آئی سی، اسلامی سربراہی کانفرنس کے فوری ہنگامی اجلاس منعقد کیے جائیں اور متحد ہو کر گستاخوں پر پریشر ڈالا جائے

    گستاخوں کی سرکوبی کے لیے حکومت وقت سے مطالبہ کیا جائے

    ملک بھر میں پرزور مگر پرامن تحریک چلا کر اپنی حکومت کو اپنے درد اور جذبات سے آگاہ کریں، علماء و مشائخ اور سرکردہ لوگوں کے وفود بنا کر وزیراعظم سے ملاقات کی جائے اور انہیں اس معاملے میں ٹھوس اقدامات کرنے کے لیے آمادہ کیا جائے

    جیسا کہ صحابی رسول سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ نے جب عبداللہ بن ابی کی زبان سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی گستاخی کے جملے سنے تو فوراً اپنے چچا کو پوری بات کہہ سنائی اور ان کے چچا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کو اطلاع دی اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم سے کہا کہ عباد بن بشر سے کہیے کہ عبداللہ بن ابی کو قتل کردیں پھر اللہ تعالٰی نے زید کی تصدیق میں قرآن کی آیات نازل کیں…
    بخاری

    تاریخ اسلام میں ایسے دسیوں واقعات موجود ہیں کہ جب لوگوں نے آ آ کر حاکم وقت کو مختلف گستاخوں سے متعلق آگاہ کیا اور پھر ان گستاخوں کو لگام ڈالی گئی

    مسلم حکمران دفاع حرمت رسول کو اپنے بنیادی فرائض اور اولین ترجیحات میں شامل کریں

    جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے عہد مبارک میں جب آپ کی اہانت کی جاتی تو آپ اپنے صحابہؓ سے بذات خود یہ مطالبہ کیا کرتے کہ ’’کون ہے جو میرے اس دشمن کا جواب دے…؟

    یہ مطالبہ ایک بار آپﷺنے کعب بن اشرف کے بارے میں کیا کہ کون ہے جو کعب کو قتل کرے کیونکہ وہ اللہ اور اسکے رسول کو تکلیف پہنچاتا ہے
    مَنْ لِکَعْبِ بْنِ الأَشْرَفِ فَإِنَّہُ قَدْ آذٰی اﷲَ وَرَسُولَہُ؟ فَقَامَ مُحَمَّدُ بن مسلمة فقال: یا رسول اﷲ أتُحِبُّ أَنْ أَقْتُلَہٗ۔ قَالَ: نَعَمْ
    (صحیح مسلم:۴۶۴۰)
    آپ نے فرمایا کعب بن اشرف کو کون قتل کرے گا گا کیونکہ اس نے اللہ اور اس کے رسول کو تکلیف پہنچائی ہے
    محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور فرمایا اے اللہ کے رسول کیا آپ پسند کرتے ہیں کہ میں اسے قتل کروں
    تو آپ نے فرمایا(ہاں)

    ابن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ جنگ خیبر میں ایک دشمن نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو گالی دی
    تو آپ نے فرمایا کہ میرے دشمن سے کون نمٹے گا؟
    اس پر زبیر آگے بڑھے، اسے للکارا اور پھر اسے قتل کر دیا۔
    (مصنف عبد الرزاق، ۹۷۰۴)

    الغرض دورِ نبویؐ میں نبی اکرمﷺ خود صحابہ کرام کو متوجہ کیا کرتے اور صحابہؓ نے آپ کی پکار کے نتیجے میں ان گستاخانِ رسالت کو کیفر کردار تک پہنچایا

    آج بھی عمران خان، شاہ سلمان اور طیب اردگان کی طرف اعلان ہونا چاہئے کہ( کون ہے جو ان گستاخانہ کارٹونز کے ذمہ داران) کو قتل کرے کیونکہ انہوں نے اللہ اور اس کے رسول کو تکلیف پہنچائی ہے

    مسلم نوجوان گستاخوں کی سرکوبی کے لیے اپنے آپ کو مسلم حکمران کے سامنے پیش کریں

    جیسا کہ عبداللہ بن ابی کے بیٹے سیدنا عبداللہ نے اپنے آپ کو نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کے سامنے پیش کیا تھا کہ اگر آپ مجھے حکم دیں تو میں اپنے باپ کو قتل کرنے کے لیے تیار ہوں کیونکہ اس نے آپ کی گستاخی کی ہے
    رحیق 451

    اسی طرح زبیر رضی اللہ عنہ نے اپنے آپ کو پیش کیا تھا
    فَقَالَ: مَنْ یَّکْفِینِي عَدُوِّي؟
    نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھے میرے دشمن کے مقابلے میں کون کافی ہوگا
    فَقَالَ الزُّبَیرُ: أَنَا
    زبیر رضی اللہ عنہ نے فرمایا (میں)
    (مصنف عبد الرزاق : رقم۹۴۷۷)

    اسی طرح خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے اپنے آپ کو پیش کیا تھا
    نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
    مَنْ یَّکْفِینِي عَدُوِّي؟
    فَخَرَجَ إِلَیْہَا خالد بن الولید فَقَتَلَہا (ایضاً: رقم۹۷۰۵)

    جب بھی کفار کی طرف سے توہین رسالت اور گستاخانہ خاکوں کا اعلان ہو تو مصلحت اور بزدلی کی چادر اوڑھنے کی بجائے اعلان کا جواب بھرپور اعلان سے دیا جائے

    ایک موقع پر آپ نے حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ سے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی طرف سے آپ کی ہجو کرنے والوں کو جواب دو
    یا حَسَّان أجِبْ عن رَّسُوْل اﷲ،اللّٰہم أیِّدْہ بروح القدس
    (صحیح مسلم:۴۵۳)
    احسان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے جواب دے (اور پھر دعا کی) اے اللہ روح القدس کے ذریعے حسان کی مدد فرما

    اسی طرح غزوہ احد کے موقع پر ابوسفیان رضی اللہ عنہ نے جب( یہ گمان کرتے ہوئے کہ محمد صلی اللہ علیہ و سلم قتل کر دیے گئے ہیں)کہا تھا کہ محمد سے جان چھوٹ گئی تو فوراً عمر رضی اللہ عنہ نے کرارا جواب دے کر انہیں خاموش کروایا تھا
    رحیق 378

    آج بھی مسلم حکمرانوں اور عہدیداروں کی طرف سے بھرپور جوابی بیانات ریکارڈ ہونے چاہئیں

    جہاد فی سبیل اللہ، گستاخوں کو نکیل ڈالنے کے لئے بہترین اور بہت زیادہ کارگر نسخہ جہاد فی سبیل اللہ ہے جس سے آئمۃ الکفر کی گردنوں سے سریا نکلتا اور ان کا پتہ پانی ہوتا ہے

    اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں
    وَاِنۡ نَّكَثُوۡۤا اَيۡمَانَهُمۡ مِّنۡۢ بَعۡدِ عَهۡدِهِمۡ وَطَعَنُوۡا فِىۡ دِيۡـنِكُمۡ فَقَاتِلُوۡۤا اَٮِٕمَّةَ الۡـكُفۡرِ‌ۙ اِنَّهُمۡ لَاۤ اَيۡمَانَ لَهُمۡ لَعَلَّهُمۡ يَنۡتَهُوۡنَ
    اور اگر وہ اپنے عہد کے بعد اپنی قسمیں توڑ دیں اور تمہارے دین میں طعن کریں تو کفر کے پیشواؤں سے جنگ کرو۔ بیشک یہ لوگ، ان کی کوئی قسمیں نہیں ہیں، تاکہ وہ باز آجائیں۔التوبة – آیت 12

    اور فرمایا
    اَلَا تُقَاتِلُوۡنَ قَوۡمًا نَّكَثُوۡۤا اَيۡمَانَهُمۡ وَهَمُّوۡا بِاِخۡرَاجِ الرَّسُوۡلِ وَهُمۡ بَدَءُوۡكُمۡ اَوَّلَ مَرَّةٍ‌ ؕ اَتَخۡشَوۡنَهُمۡ‌ ۚ فَاللّٰهُ اَحَقُّ اَنۡ تَخۡشَوۡهُ اِنۡ كُنۡتُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ
    کیا تم ان لوگوں سے نہ لڑو گے جنھوں نے اپنی قسمیں توڑ دیں اور رسول کو نکالنے کا ارادہ کیا اور انھوں نے ہی پہلی بار تم سے ابتدا کی ؟ کیا تم ان سے ڈرتے ہو ؟ تو اللہ زیادہ حق دار ہے کہ اس سے ڈرو، اگر تم مومن ہو۔ التوبة – آیت

    معاذ اور معوذ رضی اللہ عنہ نے جہاد کے میدان میں گستاخ رسول ابوجہل کو قتل کیا تھا

    گستاخوں کی سرکوبی کے لیے مجاہدین کے دستے تشکیل دیے جائیں

    گستاخوں کی نازک رگ اور کمزورپوائنٹس کو استعمال کیا جائے

    پاکستان حکومت اعلان کرے کہ پاکستان سے افغانستان جانے والی نیٹو سپلائی بند کر دی جائے گی

    افغانستان میں حرمت رسول آپریشن کے نام پر امریکیوں اور یورپین فوجیوں کے خلاف کاروائیاں تیز تر کردی جائیں

    پھر دیکھنا ان شاء اللہ أن لوگوں کو جلد نانی یاد آجائے گی اور کبھی بھی ایسی حرکتیں کرنے کا نہیں سوچیں گے

    مصنوعات اور معاشی بائیکاٹ کیا جائے

    یورپی ممالک بالخصوص فرانس کی مصنوعات کاکلی بائیکاٹ کرنا۔ ایسی چیزوں کی فہرستیں تلاشِ بسیار کے بعد شائع کی جائیں اور اقتصادی میدان میں بھی اپنا شدید احتجاج سامنے لایا جائے

    جیسا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے بنو نضیر کے درخت کاٹ کر انہیں معاشی طور پر ذلیل و خوار کیا تھا
    مَا قَطَعۡتُمۡ مِّنۡ لِّيۡنَةٍ اَوۡ تَرَكۡتُمُوۡهَا قَآٮِٕمَةً عَلٰٓى اُصُوۡلِهَا فَبِاِذۡنِ اللّٰهِ وَلِيُخۡزِىَ الۡفٰسِقِيۡنَ
    جو بھی کھجور کا درخت تم نے کاٹا، یا اسے اس کی جڑوں پر کھڑا چھوڑا تو وہ اللہ کی اجازت سے تھا اور تاکہ وہ نافرمانوں کو ذلیل کرے۔
    الحشر – آیت 5

    رسول اکرمؐ نے ہجرت کے بعد قریش کے تجارتی قافلہ کو روکنے کا فیصلہ کیا تھا

    اسی طرح آپ نے خیبر اور طائف کے قلعوں کا محاصرہ کیا تھا

    انصار کے سردار حضرت سعد بن معاذ نے مکہ والوں سے کہا تھا کہ اگر تم نے مجھ سے تعرض کیا تو میرا قبیلہ تمہارے تجارتی قافلوں کا شام کی طرف آنا جانا بند کر دے گا۔

    بنو حنیفہ قبیلے کے سردار ثمامہ بن اثالؓ نے اپنے علاقہ کے لوگوں کو مکہ مکرمہ پر گندم فروخت کرنے سے روک دیا تو قریش کے بعض سرداروں نے آنحضرتؐ کو ’’صلہ رحمی‘‘ کا واسطہ دے کر یہ پابندیاں ختم کرانے کے لیے کہا چنانچہ حضورؐ کی ہدایت پر یہ پابندیاں ختم کر دی گئیں۔

    حضرت ابوبصیرؓ اور ان کے ساتھیوں نے قریش کا تجارتی راستہ غیر محفوظ کر دیا، جس سے مجبور ہو کر قریش نے معاہدہ حدیبیہ واپس لے کر یہ ’’ناکہ‘‘ ختم کروایا۔

    ’’معاشی جنگ‘‘ کے یہ مختلف پہلو بھی جہاد کا حصہ ہیں اور سنت نبویؐ ہیں، اس لیے دنیا بھر کے مسلمانوں سے اپیل ہے کہ وہ اسی جذبہ کے ساتھ فرانس بلکہ پورے یورپ کا معاشی بائیکاٹ کریں

    پاکستان اور دیگر اسلامی ممالک میں موجود عیسائی کمیونٹی کو استعمال کیا جائے

    اس کی ایک صورت تو یہ ہو سکتی ہے کہ ان لوگوں کے ذریعے یورپی و امریکی حکمرانوں تک پیغام ارسال کیے جائیں کہ ہم لوگ جب مسلم ممالک میں بلا خوف و خطر رہ رہے ہیں تو تمہیں بھی مسلمانوں کے جذبات کا خیال رکھتے ہوئے ایسی حرکات سے باز رہنا چاہئے

    دوسری صورت یہ کہ مسلم حکمران ان لوگوں کو بطور ہتھیار استعمال کریں
    جیسا کہ قسطنطنیہ کی دیوار کے قریب مدفون صحابی رسول سیدنا ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ کی قبر اور نعش کی بے حرمتی کے متعلق جب عیسائیوں نے پروگرام بنایا تو مسلمانوں کے امیر یزید رحمہ اللہ نے عیسائیوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ( اگر کوئی گستاخی تمہاری طرف سے روا رکھی گئی تویادرکھو اسلام کی وسیع الحدود حکومت میں کہیں ناقوس نہ بچ سکے گا)

    عیسائی ملکوں میں موجود أحبار و رھبان، قسیسین و عوام کو استعمال کیا جائے

    سب عیسائی متشدد اور اسلام سے سخت متنفر نہیں ہیں، عیسائیوں میں اچھی اور سلجھی طبیعت کے بہت سے احبار و رھبان اور عوام پائے جاتے ہیں

    جیسا کہ قرآن میں اللہ تعالٰی نے فرمایا ہے
    وَلَـتَجِدَنَّ اَ قۡرَبَهُمۡ مَّوَدَّةً لِّـلَّذِيۡنَ اٰمَنُوا الَّذِيۡنَ قَالُوۡۤا اِنَّا نَصٰرٰى‌ ؕ ذٰ لِكَ بِاَنَّ مِنۡهُمۡ قِسِّيۡسِيۡنَ وَرُهۡبَانًا وَّاَنَّهُمۡ لَا يَسۡتَكۡبِرُوۡنَ‏
    اور یقینا تو ان لوگوں کے لیے جو ایمان لائے ہیں، ان میں سے دوستی میں سب سے قریب ان کو پائے گا جنھوں نے کہا بیشک ہم نصاریٰ ہیں۔ یہ اس لیے کہ بیشک ان میں علماء اور راہب ہیں اور اس لیے کہ بیشک وہ تکبر نہیں کرتے۔
    المائدة – آیت 82

    لہذا اس طرح کے عیسائی عوام و علماء کی خدمات لیتے ہوئے ان کے ذریعے ایسے عناصر کی روک تھام کے لئے اقدامات کئے جا سکتے ہیں

    جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے مکہ والوں کے خلاف مکہ کے اندر سے ہی مطعم بن عدی سے تعاون لیا تھا

    اسی طرح آپ نے حبشہ کے عیسائی بادشاہ نجاشی سے تعاون لیا تھا

  • فرانس کی گستاخیوں کی وجوہات کیا ہیں؟؟؟  از قلم غنی محمود قصوری

    فرانس کی گستاخیوں کی وجوہات کیا ہیں؟؟؟ از قلم غنی محمود قصوری

    کفار ازل سے ہی مسلمانوں کے دشمن ہیں یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے اسی لئے نبی کریم نے فرما دیا کہ
    الکفر ملت واحدہ
    یعنی کفر ایک جماعت ہے
    مذہب اسلام اس وقت دنیا کا دوسرا بڑا مذہب ہے اور اس کی موجودہ آبادی دنیا کی کل آبادی کا 23 فیصد ہے اور کرہ ارض پر اس وقت 57 اسلامی ممالک ہیں جن کے پاس اپنی فوجیں،معدنی ذخائر اور بیش بہاء نعمتیں ہیں مگر پھر بھی آج مسلمان ہی پستی کی جانب جا رہے ہیں
    کافر جب بھی مسلمانوں کے خلاف کوئی کام کرتے ہیں یک جان اور اپنے اپنے مذاہب سے بالاتر ہو کر کرتے ہیں
    نائن الیون کی بعد اور خصوصی اس وقت دنیا میں سب سے تیزی سے پھیلنے والا مذہب اسلام ہی ہے جس سے کافر کافی پریشان ہیں اور آئے روز مذہب اسلام کے خلاف غلیظ حرکتیں کرتے رہتے ہیں
    دین اسلام میں اللہ کے بعد مقام پیغمبر امن حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا ہے اور ہر ادنیٰ سے ادنیٰ مسلمان کو بھی پیغمبر امن محمد کریم کی ناموس اپنی جان سے زیادہ قیمتی ہے مسلمان اپنا جانی مالی نقصان تو برداشت کر لیتا ہے مگر توہین رسالت کبھی برداشت نہیں کرتا کیونکہ شان رسالت کی خاطر جان دینا اور جان لینا مسلمان کے ایمان کا حصہ ہے
    کافی عرصے سے عالم کفر اور خصوصی فرانس پیغمبرِ اسلام حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین کرتا چلا آ رہا ہے جس میں فرانس کا رسالہ چارلی ہیبڈو پیش پیش ہے اس رسالے کے دفتر پر کئی بار مسلمانوں نے حملہ کیا ایک بار ایک ایسے ہی حملے میں درجن سے زائد افراد ہلاک ہو گئے تھے
    فرانس نے ایک بار پھر سرکاری طور پر پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین کی ہے جس کا سارا ذمہ دار فرانسیسی صدر کیمرون ہے جس نے چند ماہ قبل کہا تھا کہ میں چارلی ایبڈو کو آزادی اظہار رائے سے نہیں روک سکتا اب اسی فرانسیسی صدر کی شہہ پر پہلے گستاخانہ خاکے شائع کئے گئے پھر ان کو سرعام عمارتوں پر لگایا گیا حالانکہ یہ بدبخت کافر یہ بات بھول گئے کہ جس طرح سے جنگوں میں محمد کریم اور ان کے اصحاب و تابعین و تبع تابعین نے فتوحات کیں اگر وہ بھی کفار کے ساتھ انہی کے جیسا سلوک کرتے تو آج روء زمین پر ایک بھی کافر زندہ نا ہوتا مگر یہ مشرک احسان فراموش لوگ بھول گئے کس طرح ان کو دوران جنگ عام معافیاں ملیں حالانکہ اس سے قبل جنگی قیدیوں،عورتوں،بچوں اور بوڑھوں کو مار دیا جاتا تھا مگر میرے شفیق نبی نے ایسا کرنا ممنوع قرار دیا ان کفار کو بھی پوری آزادی سے جینے کا موقع دیا
    کافر بار بار توہین رسالت کرکے آج کے مسلمانوں کے ایمان کی حرارت جانچتا ہے کیونکہ وہ شان مصطفیٰ کا مقام جانتا ہے مگر یہاں سوچنے کی بات یہ ہے کہ اس کو ایسے جرآت ہو کیسے رہی ہے؟ تو اس کے لئے میں قرآن کی ایک آیت رقم کرتا ہوں
    اے نبی ۔کفار و منافقین سے جہاد کرو اور ان پر سختی کرو اور ان کا ٹھکانہ جہنم ہے اور وہ بہت برا ٹھکانہ ہے۔۔ التوبہ 83
    دیکھا جائے تو آج ہم عام مسلمان اور مسلمان حکمران اس فرمان باری تعالیٰ کے منکر ہو کر ذلیل و رسواء ہو رہے ہیں کیونکہ ان کفار کو اللہ ہم سے زیادہ جانتا ہے اسی لئے اللہ نے ان کفار کے خلاف جہاد کرکے ان کو مغلوب رکھنے کا حکم دیا تھا تاکہ ناموس رسالت کیساتھ عام مسلمان کی عزت بھی محفوظ رہے سو اس شاطر ظالم کافر دشمن نے ناموس رسالت پر حملہ کرنے کیلئے ہمارے دلوں سے سب سے پہلے جہاد کی رغبت نکالی اور اس جہاد کو بدنام کرنے کیلئے ہم میں سے ہی کچھ فسادیوں کو کھڑا کرکے جہاد جیسے مقدس فریضے کو بدنام کروانے کی کوشش کی جس سے وہ ہمارے اندر ہی فساد کروانے میں کامیاب بھی ہو چکے ہیں
    مذید ہمارے حکمرانوں کو دباؤ میں لا کر ان منہج نبوی والی جہادی جماعتوں کو ختم کروایا جن سے کفار کی جان جاتی اور ان کی جگہ انہی خارجیوں فسادیوں کو فنڈنگ کی تاکہ جہاد رکا رہے مسلمان آپس میں ہی دست و گریباں رہے اور یہ بدبخت حکمرانوں کو دباؤ میں رکھ کر گستاخیاں کرتے رہے ان کے منصوبے کی واضع مثال وہ خارجی جماعتی ہیں جو اپنے مسلمانوں پر تو ہتھیار اٹھاتی ہیں مگر ان کفار کو بعد میں دیکھنے کا بہانہ بنا کر نظر انداز کرتی ہیں اور دوسری جانب ہمارے غلام ذہن حکمران ہیں جن کو ڈالر و پاؤنڈ کے نشے میں مبتلا کرکے ان کفار نے قابو کیا ہوا ہے جو اپنی عزت نفس کی خاطر تو اپنے مخالفین سے جنگ تک کر لیتے ہیں مگر ناموس رسالت کیلئے سرکاری طور پر شاتم رسول شحض کے قتل کرنے کا اعلان تک کرنے سے گھبراتے ہیں اب تو یہ صورتحال ہے کہ ہمارے حکمران اس ناپاک جسارت کہ جس کی سزا شرع اللہ میں قتل ہے ، پر محض معافی پر ہی اکتفاء کرتے نظر آ رہے ہیں اور کافر معافی مانگنے سے بھی انکاری ہے
    آج دنیا کی بہترین افواج میں سے بہترین فوجیں مسلمانوں کے پاس ہیں نیز ایٹم بم تک ہمارے پاس ہے مگر وہن میں مبتلا عوام و حکمران حکمت کا راگ الپا کر خود کو اور عوام کو دھوکہ دینے کی کوشش کر رہے ہیں
    یقین کیجئے جس دن ہم نے سیرت نبوی کے مطابق زندگیاں بسر کرنا شروع کر دیں ہمارا کھانا ،پینا ،اٹھنا ،بیٹھنا اور ہتھیار اٹھانا سنت محمدی کے تابع ہو گیا اسی دن کافر ڈر کے مارے ہمارے غلام ہو جائینگے مگر اس کے لئے ہمیں خود کو سنت رسول اور حکم ربی کے تابع کرنے کی ضرورت ہے
    آج فرانس کی گستاخیوں پر دل خون کے آنسو رو رہا ہے مگر کیا مجال کہ کسی مسلمان حکمران نے سرکاری طور پر زبانی کلامی ہی اسے مذہب کے خلاف جنگ کا نام دیا ہو یقین کریں جس دن کسی ایک بھی مسلمان حکمران نے توہین رسالت کو دنیا اور اسلام کے لئے خطرہ قرار دے کر فوجوں کو صرف حکم دے دیا کہ شاتم رسول سے جنگ کیلئے تیار ہو جاؤ اسی دن کافر توہین رسالت چھوڑ دے گا اور ناموس رسالت مذید بلند ہو جائے گی مگر آج ہم دنیاوی زندگی میں رنگے زبانی کلامی باتیں بھی کرنے سے گئے ان سے جنگ تو دور کی بات ہم ان کی مصنوعات کا بائیکاٹ کرنے سے گھبرا رہے ہیں حالانکہ ان کے برانڈز کے متبادل ہمارے اپنے ذاتی برانڈز موجود ہیں مگر ہمیں چسکا لگ چکا ہے کفار کی اشیاء کھانے پینے اور پہننے کا
    حکمران تو پتہ نہیں کب جاگے گے ہمارا تو فوری فرض ہے کہ ہم فرانس کی تمام اشیاء کا بائیکاٹ کریں ہماری زبانیں ہماری قلمیں فرانس کے خلاف علم بغاوت بلند کریں تاکہ حکمران جاگ جائیں اور آقا نامدار پیغمبر اسلام پیغمبر امن جناب محمد کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ناموس رسالت پر آنچ نا آنے پائے سو قارئین آج سے تہیہ کر لیں ہم اپنے حصے کا کام آج سے ہی شروع کرتے ہیں ان کی مصنوعات کا بائیکاٹ کرکے اپنا قلم اپنی زبان اپنی تقریر اپنی تحریر ان کی مخالفت میں کرکے باقی ان شاءاللہ کل بھی عشق رسول کے داعیوں نے ان کی گردنیں کاٹیں تھیں اور آج بھی کاٹیں گے ان شاءاللہ
    تو جلدی کیجئے تاکہ کل روز محشر جام کوثر پینے کے لئے بتلا سکیں کہ اے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہم نے آپ کی ناموس کی خاطر ان لعنتی کفار سے نفرت کی تھی
    باقی ان حکمرانوں میں میرا رب غیرت عطا فرمائے تاکہ اسلام کا بول بالا رہے اور یہ کفار کی غلامی کی بجائے آقا صلی اللہ علیہ وسلم کی غلامی میں آ کر اسلام کو دوام بخشیں

  • نیشنل ایکشن پلان اور ناموس صحابہ رضی اللہ عنھم اجمعین !!! تحریر: محمد عبداللہ

    نیشنل ایکشن پلان اور ناموس صحابہ رضی اللہ عنھم اجمعین !!! تحریر: محمد عبداللہ

    ہر سال پاکستان میں ذی الحجہ کے آخری دن، محرم مکمل اور صفر کے کچھ دن کچھ لوگوں کو بالکل آزادی دی جاتی ہے کہ وہ صحابہ کرام اور امہات المومنین رضی اللہ عنھم اجمعین کے بارے میں زبانیں دراز کریں اور وطن عزیز میں امن و سکون کو تہہ و بالا کرنے میں اپنا کردار ادا کرسکیں. عام دنوں میں چھوٹی چھوٹی بات پر مذہبی جماعتوں اور ان کے ذمہ داران پر عرصہ حیات تنگ کرنے والا "نیشنل ایکشن پلان” ان دنوں میں بھنگ پی کر سو جاتا ہے. اہل تشیع علماء کے مطابق جس کا اظہار انہوں نے کھلے عام کیا کہ اہل تشیع جماعتوں کی طرف سے اسلام آباد میں بکواس کرنے والے ذاکر "آصف” پابندی تھی تو اس کو کس نے آزادی دی بولنے کی، کس نے اس کے ساتھ ملاقاتیں کرکے اس کو جرات دی کہ وہ انبیاء کرام کے بعد کائنات کی مقدس ترین ہستیوں پر زبان طعن دراز کرے. کیا نیشنل ایکشن پلان اس کے سہولت کاروں کا تعین کرکے ان کو ویسے ہی نشان عبرت بنائے گا ؟ جیسے مذہبی جماعتوں اور ان کی قیادتوں کا نشان عبرت بنایا گیا.
    اس کے بعد کراچی میں ایک جلوس کے دوران پھر سے یہی عمل دہرایا گیا جس کو ایک نجی ٹی وی چینل نے براہ راست دکھایا لیکن "نیشنل ایکشن پلان” اسلام آباد کے کسی کلب میں سویا رہا. ان واقعات پر اہل السنہ والجماعة کی جماعتیں سیخ پا ہوئیں اور ردعمل کے طور پر کراچی اور اسلام آباد سمیت ملک کے سبھی چھوٹے بڑے شہروں میں مظاہرے کیے اور حکومت وقت سے مطالبہ کیا کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنھم اجمعین کا دفاع کیا جائے اور ان پر تبراء پر قانونی پابندی ہونی چاہیے لیکن تاحال کوئی ایکشن یا قانون سازی کا دور دور تک امکان نہیں ہے. جبکہ اسلام آباد میں ہونے والے مظاہرے سے واپس لوٹنے والوں پر مری کے مقام پر شرپسند عناصر جو مبینہ طور پر صحابہ کرام کی گستاخیوں پر آمادہ رہتے ہیں کی طرف سے حملہ کیا گیا جس پر "نیشنل ایکشن پلان” تاحال گہری نیند میں ہے.
    میں سمجھتا ہوں اس میں جہاں ملکی ادارے ذمہ دار ہیں وہیں پر اہل السنہ والجماعة کی تمام جماعتیں بھی ذمہ دار ہیں جو سواد اعظم ہونے کے باجود ملکی کی اسمبلیوں سے صحابہ کرام کی ناموس کے تحفظ کے بل پاس کروا سکیں.
    ملکی اداروں اور ذمہ داران کو بھی سوچنا چاہیے کہ صحابہ کرام کی ناموس پر حملے یہ وہ دروازہ ہے جو اگر بند نہ کیا گیا تو ملک میں امن و امان اک خواب بن جائے گا جس کا متحمل ہمارا ملک نہیں ہوسکتا کہ بڑے قربانیوں کے بعد ہم اس قابل ہوئے ہیں کہ ہمارے شہروں میں سکون ہے معمول کی سرگرمیاں جاری ہیں ایسے میں اسلام ہم تک پہنچانے والوں صحابہ کرام پر ہی سوالات اٹھا دینا ملک کو فرقہ واریت کی شدید آگ میں دھکیلے گا.
    محمد عبداللہ