Baaghi TV

Category: مذہب

  • مولانا محمد اسماعیل سلفی رحمۃ اللہ علیہ  کی اسلام کے لئے خدمات  بقلم:عبدالرحمن ثاقب سکھر

    مولانا محمد اسماعیل سلفی رحمۃ اللہ علیہ کی اسلام کے لئے خدمات بقلم:عبدالرحمن ثاقب سکھر

    کتاب ” #حجیت_حدیث”

    بقلم:- #عبدالرحمن ثاقب سکھر

    مولانا محمد اسماعیل سلفی رحمۃ اللہ علیہ مرکزی جمعیت اہل حدیث پاکستان کے ناظم اعلی بعد ازاں امیر منتخب ہوئے۔ اللہ تعالٰی نے آپ کو بڑی صلاحیتوں سے نوازا تھا۔ آپ بیک وقت منتظم، مدرس، کہنہ مشق صحافی، بےمثال ادیب، مناظر، مصنف اور بلند پایہ خطیب اور عظیم قائد تھے۔
    آپ نے مدرسہ نذیریہ میں شیخ الحدیث مولانا عبد الجبار عمر پوری،مدرسہ غزنویہ امرتسر میں مولانا عبد الغفار غزنوی، مولانا عبد الرحیم غزنوی، قیام امرتسر میں ہی مولانا مفتی محمد حسن ( دیوبندی) بانی جامعہ اشرفیہ لاہور اور سیالکوٹ میں مولائے میر مفسر قرآن علامہ محمد ابرہیم میرسیالکوٹی سے علمی اکتساب کیا۔ فراغت کے بعد آپ نے گوجرانولہ کو اپنا مرکز بنایا اور گوجرانولہ کی جامع مسجد اہل حدیث میں مدرسہ محمدیہ کی بنیاد رکھی۔
    آپ کی علمی شخصیت کو دیکھتے ہوئے مفتی اعظم سعودی عرب شیخ عبد العزیز بن باز رحمہ اللہ نے آپ کو جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ میں پڑھانے کے لیے بلوا بھیجا لیکن آپ نے گوجرانولہ میں رہ کر پاکستان میں خدمت دین کو ترجیح دی۔
    مولانا محمد اسماعیل سلفی رحمۃ اللہ علیہ پانچ وقت نمازیں بھی پڑھاتے، تدریس بھی کرتے، تبلیغی و تنظیمی اسفار بھی جاری رہتے، آپ نے کثیرالاشتغال زندگی گذاری۔ سب کاموں کے باوجود قلم و قرطاس سے ناطہ جوڑے رکھا۔ آپ نے بہت زیادہ تو نہیں لکھا لیکن جو لکھا وہ خوب لکھا۔ آپ کی تحریر میں روانی، سلاست بیانی، الفاظ کا چناؤ اور ان کا برمحل استعمال اور شیفتگی بدرجہ اتم موجود ہوتی تھی۔ آپ کو اردو زبان وادب، اور انشا پردازی کے ساتھ ساتھ عربی زبان اور اس کے لب و لہجہ کے اس کی لطافتوں اور نزاکتوں پر بھی عبور کامل حاصل تھا۔
    مولانا سلفی صاحب کا قرآن مجید کے بعد پسندیدہ موضوع حدیث،حجیت حدیث، تدوین حدیث اور محدثین کے کارنامے تھا۔ال پاکستان اہل حدیث کانفرنس کے موقع پر آپ کی عموماً گفتگو حجیت حدیث، مقام حدیث، مسلک اہل حدیث، تاریخ اہل حدیث اور خدمات اہل حدیث کے موضوع پر ہوا کرتی تھی۔
    برصغیر میں فتنہ انکار حدیث نے اسلام کا لبادہ اوڑھ کر مقام رسالت اور احادیث مبارکہ سے راج فرار کی کوشش کی۔ انہیں دراصل دشمنان اسلام مستشرقین کی سرپرستی حاصل رہی ہے۔ یہ گروہ تحقیق و جستجو کے نام پر مقام رسالت، حفاظت حدیث، تدوین حدیث اور محدثین عظام کی کوششوں کے بارے شکوک وشبہات پیدا کرکے اسلام کا تشخص ختم کرنے پر درپے ہے۔ عبداللہ چکڑالوی سے لےکر جاوید غامدی تک کی یہی کوشش اور چاہت رہی ہے کہ کسی نہ کسی طرح سے اسلام کا حلیہ بگاڑ دیا جائے۔لیکن عاملین بالحدیث کی جماعت نے ہمیشہ سے ان کے ارادوں کو خاک میں ملا دیا ہے۔ اور عملی میدان میں تحریری و تقریری ان کا علمی محاسبہ کیا اور جواب دیاہے۔ اس میں بہت سے علماء اہل حدیث کی کوششیں شامل ہیں۔
    زیرنظر کتاب ” حجیت حدیث” مولانا محمد اسماعیل سلفی صاحب کی ہے جس میں چار رسائل موجود ہیں۔ جس حدیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت و اہمیت، تشریعی حیثیت، حدیث کی حجت، درایت حدیث کے ساتھ ساتھ منکرین حدیث، مولانا مودودی، مولانا امین احسن اصلاحی وغیرہ کے شبہات اور اعتراضات کا بڑے عمدہ اور دلنشین انداز میں جواب دیا گیا ہے۔ اپنے موضوع پر ایک عمدہ کتاب ہے جو طنز و تشنیع سے ہٹ کر خالص علمی انداز میں لکھی ہے۔ مولانا سلفی صاحب کی کتب فرقہ واریت کے حبس میں ہوا کا تازہ جھونکا کی حیثیت رکھتی ہیں۔ جن میں آپ کا محدثانہ رنگ نظر آتا ہے۔ حدیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے شغف رکھنے والے اور جس کے دل میں حدیث کے بارے معمولی سا بھی شائبہ ہو وہ ضرور اس کا مطالعہ کرے۔ مبتدی طلباء سے لے کر علماء کرام اور عام بندوں کے لیے یکساں مفید ہے۔
    اللہ تعالیٰ جزائے خیر عطا فرمائے محترم جناب حافظ شاہد محمود صاحب حفظہ اللہ کو جنہوں نے مولانا اسماعیل سلفی صاحب کے علاوہ نواب جاہ والا حضرت نواب صدیق حسن خان قنوجی رحمت اللہ علیہ و دیگر علماء کی کتابوں کو پردہ عدم سے نکال کر ایک نئے انداز اور جدید تقاضوں کے مطابق منظر عام پر لائے ہیں اور ہم جیسے طلبہ ان سے مستفید ہورہے ہیں۔

  • کیا حقوق اللہ اور حقوقِ العباد کے علاوہ بھی حساب ہو گا   از قلم : غنی محمود قصوری

    کیا حقوق اللہ اور حقوقِ العباد کے علاوہ بھی حساب ہو گا از قلم : غنی محمود قصوری

    اللہ رب العزت نے یہ دنیا بنائی اور اس دنیا میں مختلف مذاہب، مکتبہ فکر،رنگ،نسل اور عقائد کے لوگ بسائے
    ہر کسی کا طرز زندگی اس کے عقائد کے مطابق ہے
    ہم الحمدللہ مسلمان ہیں اور ہمارا ایک اللہ اور ایک آخری نبی محمّد صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان ہے اسی لئے ہم زندگی گزارنے کیلئے قدم قدم پر قرآن وسنت کے محتاج ہیں اور اسی میں ہماری نجات بھی ہے
    یقیناً ہمیں علم ہے کہ اللہ تعالی کی عطا کردہ نعمتوں اور اس کی طرف سے جاری کردہ احکامات کا حساب قیامت کے دن دینا ہوگا جن میں حقوق اللہ میں نماز،روزہ،جہاد،اولاد،حج اور حقوق العباد میں صدقہ خیرات،صلح رحمی، بول چال میں عاجزی اور مخلوق الہیٰ سے پیار کرنا وغیرہ شامل ہیں مگر اس کے علاوہ بھی ایک ایسی بھی چیز ہے جس کا حساب اللہ نے لینا ہے اور ہم اسے برباد کئے جا رہے ہیں وہ ہے ہماری صحت و جوانی کیونکہ اللہ تعالیٰ قرآن مجید فرقان حمید میں فرماتے ہیں
    اور ہم کسی نہ کسی طرح تمہاری آزمائش ضرور کریں گے ، دشمن کے ڈر سے ، بھوک پیاس سے ، مال و جان اور پھلوں کی کمی سے اور ان صبر کرنے والوں کو خوشخبری دے دیجئے ۔ البقرہ 155
    اس سورہ میں اللہ تعالی نے مسلمانوں کو آزمانے کا وعدہ کیا ہے اور جہاں مال سے آزمانے کا بتایا گیا ہے وہیں جان سے بھی آزمانے کا بتایا گیا ہے مال سے آزمانا راہ خدا میں خرچ کرنا،غریبوں یتیموں کی مدد وغیرہ جبکہ جان سے آزمانے کا مطلب رب کے دین کی خاطر راہ جہاد پر نکلنا اپنی جان پر شرع اللہ نافذ کرکے لوگوں کو اس پر عمل پیرا کروانا ہے اور دین کی خاطر دیگر تکالیف اپنی جان پر جھیلنا بھی جان سے آزمانے کا نام ہے اور صبر کرنے والوں کیلئے خوشخبری سے مراد جنت ہے
    یعنی جہاں اللہ تعالی نے بندے کے مال کا حساب لینا ہے وہاں اس کی جان کا بھی حساب ہوگا اور جان ہوتی ہی تندرستی سے ہے اسی لئے تندرستی کے متعلق بھی جواب دہ ہونا پڑے گا اس جوانی اور تندرستی کا اللہ تعالی حساب بھی لے گا
    ہماری اسی جان و جوانی کا خیال رکھتے ہوئے اللہ تعالی نے شراب حرام کی تاکہ ہماری صحت اچھی رہے اور جب صحت اچھی ہو گی تب ہی ہم حقوق اللہ اور حقوق العباد ادا کر سکینگے ورنہ بستر پر لیٹ کر حقوق العباد تو بہت کم ادا ہو سکینگے مگر حقوق العباد کا ادا ہونا ناممکن سا ہو جاتا ہے
    اسی لئے جناب محمد کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہر نشہ آور چیز خمر (شراب کی قسم) ہے اور خمر حرام ہے اب آپ جدید میڈیکل سائنس کا مطالعہ کریں وہ بھی بتائے گی کہ شراب کا نشہ انسان کو ذہنی و جسمانی بیمار کرتا ہے اور جوان بندے کو بہت جلد موت کے قریب لیجاتا ہے اور ہر نشہ آور چیز کو خمر اس لئے کہا گیا ہے کہ ایسی چیزیں شراب سے ملتی جلتی ہیں جیسے گھٹکا،پان،سپاری وغیرہ یہ سب چیزیں آج بطور فیشن استعمال ہو رہی ہیں جس سے جگر کا کینسر،امراض معدہ،دل کی بیماریاں اور ذہنی بیماریاں جنم لے رہی ہیں جس کے مریض حقوق اللہ اور حقوق العباد ادا کرنے سے قاصر ہو جاتے ہیں
    تو جو بندہ ان چیزوں کا عادی ہو چکا ہے اسے چاہئیے اوپر بیان کئے گئے فرمان رب تعالی فرمان محمد کریم کا مطالعہ کرے اور سمجھ جائے کہ ہم سے حقوق اللہ اور حقوق العباد کی طرح ہماری جوانی و صحت کا بھی اللہ تعالی خوب حساب لے گا لہذہ اپنی صحت کا خیال رکھیں چاہیے وہ نشہ آور چیزوں کے استعمال کے علاوہ چیزوں جیسے کولڈ ڈرنکس،بازاری کھانوں کی بکثرت عادت سے ہماری صحت بگڑ رہی ہو تو ہمیں فوری ان کو ترک کرکے اپنی صحت کا لیول اپ کرنا ہوگا کیونکہ اللہ تعالی نے ہمیں عطا کی گئی ہر نعمت کا حساب لینا ہے اور وہ اللہ ہمیں آزمائے گا صحت دے کر اور بیماری دے کر وہ ہمیں آزمائے گا دولت دے کر اور دولت لے کر بھی کیونکہ وہ ہمارا صبر کا لیول چیک کرے گا جو صبر کرکے ناجائز خواہشات کے پیچھے نا چلا وہ کامیاب ہوگا اور جو ناجائز خواہشات کے تابع ہو گیا وہ ناکام ہوگا دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی اللہ رب العزت ہم سب کو فرمان مصطفیٰ اور فرمان الہٰی کے تابع رہ کر زندگی بسر کرنے کی توفیق عطاء فرمائے آمین

  • کرونا وائرس آخر ہمیں کیا سمجھانے آیا؟  تحریر:غنی محمود قصوری

    کرونا وائرس آخر ہمیں کیا سمجھانے آیا؟ تحریر:غنی محمود قصوری

    اللہ تعالی نے انسان کو اپنی عبادت کیلئے بنایا اور اس کیساتھ دوسروں کی مدد اور دوسروں کیلئے آسانیاں پیدا کرنے کا بھی بڑی سختی سے حکم دیا ہے
    اس دور میں ہر انسان ایک دوسرے سے جڑا ہوا ہے اور یہ دنیا ایک گلوبل ویلج بنی ہوئی ہے
    اللہ تعالی نے قرآن مجید کو پچھلی قوموں کی مثالیں دے کر ہمارے لئے سمجھنے کو آسان بنایا ہے
    پچھلی قومیں جب اپنے انبیاء کی بتائی گئی باتوں پر سر کشی کرتیں تو فوری ان پر کوئی نا کوئی عذاب نازل ہو جاتا اور وہ قومیں تباہ و برباد ہو جاتی تھیں ہر پچھلی قوم کے اندر کوئی ایک آدھ جرم ہوتا تھا جس کی بدولت ان پر کبھی پتھروں کی برسات،کبھی آسمان سے آگ،کبھی سیلاب کبھی قحط سالی اور کبھی وبائی امراض کی شکل میں عذاب آتے رہتے تھے
    ہم اللہ کے آخری نبی کی آخری امت ہیں اور ہمارا مقام دوسری امتوں سے افضل ہے مگر افسوس کہ ہم پہلی امتوں سے بڑھ کر معزز تو ہیں مگر ہم میں پہلی امتوں والی ساری برائیاں موجود ہیں حالانکہ پہلی امتوں میں ایک آدھ برائی ہوتی تھی مگر وہ پھر بھی ہلاک وبرباد ہو جایا کرتی تھیں مگر ہم میں سب برائیاں ہیں مگر ہم پھر بھی قائم ہیں تو اس کی وجہ میرے نبی ذیشان نبی رحمت کی وہ دعا ہے کہ جس میں میرے نبی نے بارگاہ الٰہی میں دعا کی تھی کہ اے اللہ تعالیٰ تو ان سب کو ایک ساتھ بھوک و افلاس و قحط سے نا مارنا سو آج دیکھ لیجئے ساڑھے چودہ سو سال سے کئی عذاب آئے مگر میرے نبی کی دعا کے مطابق سارے ایک دم ہلاک نا ہوئے مگر افسوس کہ ہم اپنی برگزیدہ نبی خاتم النبیین کی دعا کا ناجائز فائدہ اٹھا رہے ہیں اور اپنے رب کو ناراض کر رہے ہیں
    اللہ تعالی قرآن کریم میں ارشاد فرماتے ہیں
    اس نے تمہیں برگزیدہ بنایا ہے اور تم پر دین کے بارے میں کوئی تنگی نہیں ڈالی ۔۔الحج 78
    اس آیت میں اللہ تعالی اپنے نبی کے ذریعے ہمیں پیغام دے رہے ہیں کہ ہم امت محمدی دوسری امتوں سے بہتر اور اعلی ہیں اور ہمارے ساتھ دین میں کوئی تنگی بھی نہیں اور جو آسانیاں ہمیں اس دین میں عطا ہوئیں وہ پہلی امتوں کو نا تھیں
    مگر آج پہلی امتوں کی طرح ہم میں بھی سرکشی و تکبر ،چوری و زنا ،شراب و شباب اور ذخیرہ اندوزی جیسے جرائم عام ہو گئے ہیں اسی لئے ہمارے سمجھانے کیلئے اللہ تعالی نے فرقان حمید میں فرمایا ہے
    اور جب ہم کسی بستی کی ہلاکت کا ارادہ کر لیتے ہیں تو وہاں کے خوشحال لوگوں کو ( کچھ ) حکم دیتے ہیں اور وہ اس بستی میں کھلی نافرمانی کرنے لگتے ہیں تو ان پر ( عذاب کی ) بات ثابت ہو جاتی ہے پھر ہم اسے تباہ و برباد کر دیتے ہیں ۔ بنی اسرائیل 16
    آج اس آیت کو سامنے رکھ کر دیکھیں اللہ نے ہمیں ساری نعمتوں سے نوازہ مگر پھر بھی ہم حد سے بڑھ گئے ہیں ہم اللہ کے عذاب کو بھول گئے ہیں سو اللہ نے ہمیں سمجھانے کیلئے ہلکا سا عذاب کرونا اور ٹڈی دل کی شکل میں بیجھا تاکہ ہم توبہ کر سکیں اور معاشرتی برائیوں سے تائب ہو جائیں خوش قسمتی سے ہم سب نبی کی مانگی گئی دعا کے مطابق بچے ہوئے ہیں ورنہ ہم سارے کے سارے پہلی امتوں کی طرح ہلاک ہو جاتے مگر افسوس ہم پھر بھی نہیں سمجھ رہے ہمارے اندر ،زنا،چوری،ڈکیتی،قتل و غارت گیری،ذخیرہ اندوزی،شرک و بدعت اور پہلی امتوں کی سی ہر برائی آ گئی ہے
    انہیں برائیوں پر اللہ نے فرمایا ہے
    پھر ہم نے ان پر طوفان بیجھا اور ٹڈیاں اور گھن کا کیڑا اور مینڈک اور خون ،کہ یہ سب کھلے کھلے معجزے تھے سو وہ تکبر کرتے رہے اور وہ لوگ کچھ تھے ہی جرائم پیشہ ۔۔الاعراف 133
    اللہ تعالی ہمیں سمجھا رہے ہیں کہ باز آ جاؤ ورنہ ہلاک ہو جاؤ گے جرائم پیشہ نا بنو اور تکبر سے بچوں تو اس لئے آج ہم پر کرونا وائرس کی شکل میں وباء مسلط ہے اور ٹڈیاں ہمارے کھیت کھلیان چاٹ رہی ہیں لہذہ اب وقت ہے عذاب الٰہی سے ڈرنے کا توبہ کرنے کا اور جرائم سے بچنے کا
    یہاں ایک وضاحت کرتا چلو کہ اللہ نے ہمیں عذاب دے کر بھی ایک احسان ہی کیا ہے جیسے کرونا سے صحت یاب ہونے پر ہمیں پلازمہ کی شکل میں اللہ کی طرف سے احسان ملا اسی طرح ٹڈی دل کے لشکر غریب اور لاک ڈاؤن سے متاثرہ لوگوں کیلئے احسان بن کر آئے کہ ہم اس حلال ٹڈی دل کو پکڑ کر کھا سکیں یا پھر اس کو پکڑ کر جانوروں اور پرندوں کی فیڈ بنانے والی فیکٹریوں کو بیچ کر کمائی کر سکیں کیونکہ ٹڈی دل پروٹین،کیلشیم،فاسفورس اور دیگر قدرتی اجزاء ہر مشتمل ایک انمول خزانہ ہے تو اب یہ ہمارے لئے سمجھنا انتہائی لازم ہے کہ اللہ تعالی ناراض ہیں اور ہم پر ہلکا سا عذاب مسلط کرکے ہماری اصلاح کر رہے ہیں سو ہمیں بھی اصلاح کی طرف آنا چاہئیے تاکہ ہم اخروی زندگی اچھی کر سکیں اللہ تعالی ہمیں اس وباء سے محفوظ رکھے اور سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے آمین

  • کرونا وائرس کے مسئلے میں الجھی دنیا کے نام رمضان کا پیغام!!! از قلم: غنی محمود قصوری

    کرونا وائرس کے مسئلے میں الجھی دنیا کے نام رمضان کا پیغام!!! از قلم: غنی محمود قصوری

    اسلامی سال کا نواں مہینہ رمضان کا ہے اس مقدس مہینے میں قرآن مجید کا نزول ہوا
    اللہ تعالی فرماتے ہیں
    یقیناً ہم نے اسے شب قدر میں نازل فرمایا ۔ سورہ القدر 1
    اس لئے اس مہینے کی حرمت باقی مہینوں سے زیادہ ہے اس مہینے میں مسلمان اپنے رب کو راضی کرنے کیلئے روزہ رکھتے ہیں سحری سے لے کر نماز مغرب تک مسلمان اپنے رب کے حکم سے کھانے پینے سے رک جاتے ہیں اس مہینے کی فرضیت بارے اللہ تعالی فرماتے ہیں
    اے ایمان والوں تم پر روزے رکھنا فرض کیا گیا ہے جس طرح تم سے پہلے لوگوں پر فرض کئے گئے تھے تاکہ تم تقوی اختیار کر سکو! سورہ البقرہ 183
    اس آیت میں اللہ تعالی نے وضع کر دیا کہ پہلی امتوں پر بھی روزے فرض تھے جیسے ہم پر فرض ہیں اور روزہ رکھنے سے بندہ متقی پرہیز گار بنتا ہے سو پرہیز گاری کو قائم رکھنے کیلئے اور اسلام پر ڈٹ جانے کیلئے روزے فرض کر دئیے گئے ہیں اللہ رب العزت کا مقصد روزے فرض کرکے ہمیں متقی اور پرہیز گار بنانا ہے جب بندہ متقی اور پرہیز گار بنتا ہے تب وہ جھوٹ ،غیبت،زنا ،چوری،ڈاکا غرضیکہ ہر برائی سے بچتا ہے اور نیکی کی طرف راغب ہوتا ہے
    انسان پورا سال غلطیاں گناہ کرتا رہتا ہے مگر وہ اس سے بے خبر رہتا ہے اور متقی بننے کی کوشش نہیں کرتا مگر آمد رمضان کیساتھ ہی مساجد نمازیوں سے بھر جاتی ہیں صدقہ و خیرات کی بہتات ہو جاتی ہے اور ہر بندہ تزکیہ نفس کی کوشش کرتا ہے تاکہ وہ متقی بن جائے اور اللہ کی طرف سے متقیوں کے لئے طے کردہ انعام جنت الفردوس کا حق دار ٹھہرے
    یہ مہینہ بہت برکتوں رحمتوں والا ہے اس مہینے اگر مسلمانوں کی عبادات بڑھ جاتی ہے تو اللہ رب العزت بھی اپنے بندوں کیلئے نیکیوں کا خزانہ کھول دیتے ہیں ایک کی گئی نیکی کے اجر کو بڑھا کر ستر گناہ یا اس سے بھی زیادہ اجر کر دیا جاتا ہے
    اس مہینے میں جہاں حقوق اللہ پر زور دیا گیا ہے وہاں حقوق العباد پر بھی خوب زور دیا گیا ہے اور شرک سے بچنے کے بعد اللہ تعالٰی نے سب سے زیادہ زور حقوق العباد یعنی بندوں کے حقوق پر دیا ہے
    اللہ تعالی فرماتے ہیں
    ساری اچھائی مشرق اور مغرب کی طرف منہ کرنے میں ہی نہیں بلکہ حقیقتًا اچھا وہ شخص ہے جو اللہ تعالٰی پر قیامت کے دن پر فرشتوں پر کتاب اللہ اور نبیوں پر ایمان رکھنے والا ہو جو مال سے محبت کرنے کے باوجود قرابت داروں یتیموں مسکینوں مسافروں اور سوال کرنے والوں کو دے غلاموں کو آزاد کرے نماز کی پابندی اور زکٰوۃ کی ادائیگی کرے جب وعدہ کرے تب اسے پورا کرے تنگدستی دکھ درد اور لڑائی کے وقت صبر کرے یہی سچّے لوگ ہیں اور یہی پرہیزگار ہیں ۔ سورہ البقرہ 177
    اس مہینے میں ہماری عبادات کا دائرہ کار تو وسیع ہونا ہی ہے مگر اس کیساتھ لوگوں کے حقوق بھی ہم پر بڑھ جاتے ہیں اپنے اردگرد قرب و جوار خاندان برادری گلی محلے کے لوگوں کی مدد ہم پر نفلی و فرضی عبادت کی طرح بڑھ جاتی ہے سو ہمیں چاہئیے کہ ہم اپنے سے کم اور غریب لوگوں کا زیادہ سے زیادہ مالی و ہر طرح کا خیال رکھیں تاکہ وہ بھی ماہ مقدس کے روزے رکھ کر سکون حاصل کر سکیں کیونکہ فرمان مصطفی ہے کہ اللہ تعالیٰ بندے کی مدد میں اس وقت تک لگا رہتا ہے جب تک بندہ اپنے بھائی کی مدد میں لگا رہتا ہے یہاں بھائی سے مراد تمام مسلمان ہیں
    چونکہ اس وقت پوری دنیا کووڈ 19 یعنی کرونا وائرس کی لپٹ میں ہے جس سے لوگوں کے کاروبار ختم ہو چکے ہیں لوگ کھانے پینے سے محروم ہیں اس صورت میں جہاں فرضی و نفلی عبادت ہم پر فرض ہے ویسے ہی اپنے بھائیوں کی مالی مدد اور اپنی عبادات کے دوران ان کے لئے دعا بھی ہم پر فرض ہے تاکہ اللہ رب العزت راضی ہو کر ہماری مدد میں لگے رہیں اور ہم اپنے بھائیوں کی مدد کی بدولت رحمت الہی سے فیض یاب ہوتے رہیں سو رمضان گزر رہا ہے اپنے بھائیوں کی مدد میں لگ جائیں ان کے کھانے پینے ان کی رہائش و آسائش کا اہتمام جلد سے جلد کیجئے تاکہ ایک نیکی کے بدلے ہم ستر گناہ اجر پا سکیں اور فرض روزے رکھنے میں ان کے معاون بن سکیں اللہ ہم سب سے راضی ہو جائے اور ہماری نفلی فرضی عبادات کیساتھ اپنے بھائیوں کی مدد کرنا بھی قبول فرمائے آمین

  • رمضان کیسے گزاریں؟ —-از—سید عتیق الرحمن 

    رمضان کیسے گزاریں؟ —-از—سید عتیق الرحمن 

    حضرتِ ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ حضور نبی رحمت ﷺ نے فرمایا کہ ”جب رمضان کا مہینہ آتا ہے تو آسمان کے تمام دروازے کھول دیے جاتے ہیں، جہنم کے دروازے بند کر دیے جاتے ہیں اور شیاطین کو جکڑ دیا جاتا ہے“(صحیح بخاری)  رمضان المبارک ایک ایسا مقدس مہینہ جو کہ رحمتوں، برکتوں اور انعامات سے بھرا ہے۔اللہ تعالیٰ نے12 مہینے بنائے ایک کو دوسرے پر فضیلت بخشی، ہر مہینے کو عظیم سے عظیم انعامات دیکر بھیجا۔مگر رمضان المبارک کا ماہ مقدس ایسا ہے جس میں ربِّ ذولجلال نے کسی خاص انعام کا ذکر نہیں کیا بلکہ آسمان کے تمام دروازے کھول کر ثابت کردیا کہ یہ مہینہ برکتیں ہی برکتیں سمیٹے ہوئے ہے۔

    اب غور طلب بات یہ کہ کیا محض دروازہ کھل جانا ہی اس امر کی دلیل ہے کہ آپ داخل ہوگے۔بھلے ہی آپ حرکت نہ کریں دروازے کی جانب نہ لپکیں، آپ سمجھیں گے کہ داخل ہوگئے۔ایسا نہیں ہے۔دروازے کا کُھل جانا ایک موقع مل جانے کے مترادف ہے اب ہم پر ہے کہ ہم اس موقعے سے کس قدر فائدہ اٹھا کر اندر داخل ہوسکتے ہیں۔ تو ہمیں کرنا کیا ہے؟  اللہ کی ذات نے فرمایا کہ”اے ایمان والو! روزے تم پر فرض کیے گئے جیسے تم سے پہلے لوگوں پر فرض ہوئے تاکہ تم پرہیز گار بن جاو“ سوال یہ ہے کہ کیا نماز پرہیز گار نہیں بناتی،

    حج پرہیز گار نہیں کرتا، زکوٰۃ پرہیز گار نہیں بناتی، دیگر عبادات پرہیز گاری کی ضامن نہیں ہیں؟؟  تو بات دراصل یہ ہے کہ روزہ درحقیقت ان تمام عبادات کا مجموعہ ہے اسلیے فرمایا گیا تاکہ تم پرہیز گار بن جاؤ، کیسے؟  ایسے کہ جب انسان حالتِ روزہ میں ہوتا ہے وہ کھانے، پینے سے رک جاتا ہے کیوں؟ اللہ کے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے۔اور اللہ کے حکم کی تعمیل ہی دراصل تقویٰ ہے۔نماز ہم پڑھتے ہیں کہ فرض ہے۔زکوٰۃ دیتے ہیں کہ فرض ہے نہ ادا کی تو مال حرام ہو گا۔حج ادا کرتے ہیں کبھی بخشش طلب کرنے کے لیے کبھی زیارت کی غرض سے۔روزہ وہ واحدعبادت ہے جو محض اللہ کے حکم کی تعمیل ہے اور اس دوران جن امور سے اجتناب کرتے ہیں وہ فقط اللہ کے حکم کی تعمیل کے لیے کیا جاتا ہے۔

    تقویٰ سے مراد یہ کہ انسان ”منہیات“ سے تو پرہیز کرتا ہی ہے اسکے ساتھ ساتھ مشتبہات سے بھی بچنے کی کوشش کرتا ہے۔روزے کی حالت میں بھی بالکل اسی طرح روزہ دار ہر اس عمل سے اس چیز سے بچنے کی کوشش کرتا ہے جو اسکے روزہ کو خراب کرے۔تو ثابت ہوا کہ روزے اسلیے فرض کیے گئے تاکہ ہم پرہیز گار بن جائیں۔اب ہمارا نقطہ یہ تھا کہ جنت کے دروازے کھول دیے گ?ے تو ہمیں داخل کیسے ہونا ہے؟ہم نے قیام و سجود کو، سحر و افطار کو، صدقات و خیرات کو، حرکت کا وسیلہ بنا کر جھوٹ، غیبت، چغلی، چوری اور اس جیسی دیگر آلائشوں کے کانٹوں کو اپنی راہ سے چن کر رستے کو صاف کر کے اس دروازے کی جانب بڑھنا ہے۔اور پھر اللہ کے احکام بجا لاتے ہوئے اپنی منزل تک پہنچنا ہے یوں ہم نے اس موقعے کا فائدہ اٹھا کر خوش نصیبی کو اپنا مقدر بنانا ہے۔

    اس ماہِ مقدس کا استقبال کیجیے۔خود کو عبادات کے لیے تیار کر کے، روزہ کے لیے عزمِ مصمم کر کے، ضرورتمندوں طعام کا حسبِ استطاعت انتظام کر کے، اپنے گھروں کو اس ماہِ مقدس کی آمد کی خوشی میں امن و سلامتی کا گہوارہ بنا کر۔اب سوال یہ کہ ہم روزہ کس حالت میں قضا کر سکتے ہیں اس فرض کی چھوٹ کن صورتوں میں ہے؟تو فرمایا(یہ) گنتی کے چند دن  (ہیں)،  پس اگر تم میں سے کوئی بیمار ہو یا سفر پر ہو تو دوسرے دنوں  (کے روزوں)  سے گنتی پوری کر لے،  اور جنہیں اس کی طاقت نہ ہو ان کے ذمے ایک مسکین کے کھانے کا بدلہ ہے،  پھر جو کوئی اپنی خوشی سے (زیادہ)  نیکی کرے تو وہ اس کے لئے بہتر ہے،  اور تمہارا روزہ رکھ لینا تمہارے لئے بہتر ہے اگر تم سمجھ سکو۔

    (ترجمہ آیات) تو اس میں حکم دیا گیا کہ کن حالات میں تم اس فرض کی قضا کرسکتے ہو۔یہ اس بات کی بھی دلیل ہے کہ دین اسلام آسان دین ہے اور اللہ اپنے بندوں پر بے جا ظلم نہیں کرتا۔ویسے تو روزے کے فضائل اور اسکی اہمیت بے شمار کے اسے احاطہ تحریر میں لانا ناممکن ہے کیونکہ اللہ کی ذات فرماتی ہے کہ ”روزہ میرے لیے ہے اسکا اجر بھی میں دونگا تو پھر سوچیے جس چیزکا اجر واضح الفاظ میں اللہ نے اپنے ذمہ لے لیا اسے بیان نہیں کیا اسے احاطہ تحریر میں لانا کیسے ممکن ہوسکتا ہے؟ اسکی اہمیت وفضیلت کی ایک جھلک دیکھیے۔

    حضرتِ موسیٰ علیہ السلام نے ایک بار اللہ سے کلام کرتے ہوئے پوچھا کہ”اے اللہ کوئی ایسا بھی ہے کوئی مجھ سے زیادہ تیرے قریب ہو؟“  تو اللہ کی ذات نے فرمایا کہ ”اے موسیٰ!ایک ایسی امت آئے گی ایک مہینہ ایسا ہوگا جسمیں انکے حلق خشک ہونگے، لب سوکھے ہونگے آنکھیں تھکی ہونگی جب وہ افطار کے لیے بیٹھیں گے اسوقت جب ہاتھ اٹھائیں گے تو میں انکے اتنا قریب ہونگا کہ کوئی پردہ حلال نہیں ہوگا۔آئیے ہم سب کوشش کرتے ہیں کہ رمضان المبارک کی برکتوں سے بھرپور فائدہ اٹھائیں۔اللہ پاک عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔

  • رمضان آگیا,آئیے خود کو بدلیں…تحریر :خنیس الرحمٰن

    رمضان آگیا,آئیے خود کو بدلیں…تحریر :خنیس الرحمٰن

    وہ موقع آن پہنچا ہے جس کا ہر مسلمان کو بے تابی سے انتظار تھا. آپ سمجھ تو گئے ہونگے. وہ برکتوں, سعادتوں اور رحمتوں والا مہینہ…..!
    سحری و افطاری کا اہتمام کرنا .. !
    دن بھر کا بھوکا رہنا….!
    ہر اس کام سے رک جانا جس کا اللہ اور نبی ذیشان صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا….!
    امر بالمعروف کے لیے اپنی کمر کو کس لینا….!
    قرآن کی کثرت سے تلاوت کرنا…!
    تراویح کا اہتمام کرنا…. !
    رب کے حضور اپنی التجائیں پیش کرنا….!
    صدقات وخیرات کا ادا کرنا….!
    اپنی انا کی قربانی دینا…. !
    تمام ان رشتوں کو پھر سے گلے لگا لینا جن سے گلے شکوے ہوا کرتے تھے….!
    توبہ و استغفار کے لیے اپنے رب کے آگے ہاتھ پھیلانا….!
    بھوکوں اور مستحقین کو روزہ افطار کروانا …!
    دوستوں اور رشتہ داروں کو افطار کرانا…..!
    رمضان المبارک کا محبتوں بھرا مہینہ اللہ پاک بھی پھر اپنے بندے سے خوش ہوجاتے ہیں کہ اللہ کا بندہ اللہ کے احکامات کو کس طرح سے بجالارہا ہے…. اللہ رب العزت اپنے بندے پر انعامات کی بارش برسا دیتا ہے….اللہ کہے گا اے میرے بندے تو نے دن بھر بھوک کے ساتھ میری خاطر گزارا جا میں تجھ سے جنت کا وعدہ کرتا ہوں… اے میرے بندے تو نے میری خاطر روزہ رکھا تیرے دل میں دنیا کا لالچ نہیں تا صرف میری رضا مقصود تھی میں تیرے سارے گذشتہ سال کے گناہ معاف کرتا ہوں…. اللہ اپنے بندے سے کہے گا تو نے میری خاطر روزہ رکھا, رات کا قیام کیا, نمازیں ادا کیں , زکوۃ ادا کی جا میں تجھ سے وعدہ کرتا ہوں روز قیامت تجھے صدیقین اور شہداء کے ساتھ کھڑا کروں گا….. اللہ اپنے بندے سے کہے گا تو نے میری خاطر روزہ رکھ کر نہ کسی کی غیبت کی ,نہ جھوٹ بولا, نہ کسی کو زبان سے تکلیف پہنچائی تیرے منہ کی بو میرے ہاں کستوری سے زیادہ پاکیزہ ہے….. اللہ اپنے بندے سے کہے گا تو جو مانگنا چاہتا ہے میں عطاء کروں گا تو مانگ کر تو دیکھ….. !
    آئیے اس سعادت سے محروم نہ رہ جائیں آگے بڑھ کر اپنے رب سے جنت کا سودا کریں….!
    اس ماہ مبارک میں زیادہ سے زیادہ اپنے رب کو راضی کرنے کی کوشش کریں….!
    میں اللہ سے دعاگو ہوں کہ مالک سب سے پہلے مجھے اور اس کے بعد آپ سب کو عمل کرنے کی توفیق دے آمین….
    گنہگار ہیں سب…. اللہ ہمیں موقع دے رہا ہے ہم اس موقع سے فائدہ اٹھائیں اور اس سے ضائع نہ ہونے دیں….

  • الکوحل ملا سینیٹائزر حلال یا حرام؟

    الکوحل ملا سینیٹائزر حلال یا حرام؟

    مفتی عبدالقوی کا کہنا ہے کہ موجودہ حالات کے پیش نظر اور وبا سے بچاو کی حفاظتی تدابیر کے لیے الکوحل ملا ہینڈ سینیٹائزر حلال ہے

    باغی ٹی وی : دنیا بھر میں پھیلی کورونا وبا کے پیش نظر حفاظتی تدابیر کے طور پر ماہرین نے سینیٹائزر استعمال کرنے پر زور دیا ہے وبا سے بچاو کے لیے بازار میں دستیاب ان ہیینڈ سینیٹائزر کو فوقیت دی جا رہی ہے جس میں۔الکوحل کی ایک خاص مقدار شامل ہے لیکن بحثیت مسلمان یہ بات ہمیں شک میں مبتلا کر دیتی ہے کہ اگر ہم الکوحل ملے سینیٹائزر کو ہاتھوں پر استعمال کریں تو ان ہاتھوں سے ہم کو ئی چیز کھاتے ہیں تو وہ ذرات ہمارے جسم میں داخل ہو جاتے ہیں کیا اس میں کوئی قباحت ہو سکتی ہے اس حوالے سے پروگرام سماء ود عفیفہ راو میں مفتی عبدالقوی جلوہ گر ہوئے انہوں نے انٹر ویو کے دوران الکوحل ملا ہینڈ سینیٹائزر حلال ہے یا حرام اس پر روشنی ڈالی

    مفتی عبدالقوی نے بتایا کہ وبا سے بچنے کے لیے ہر قسم کی احتیاطی تدابیر تو ہر حال میں اختیار کرنی ہیں کیونکہ قرآن پاک یہ درس پوری دنیا کو دے رہا ہے کہ جس نے ایک انسانیت کی جان بچائی احترام کیا گویا اس نے پوری انسانیت کی جان بچائی احترام کیا انہوں نے کہا پوری دنیا کی۔کیفیت ہمارے سامنے ہے چین نے احتیاطی تدابیر اپنا کر اس وبا سے نجاے حاصل کی پاکستان میں بھی حکومت علماء ماہرین طب اور فن سب نے احتیاطی تدابیر اختیار کیں اور عوام۔کو بھی زور دیا

    مفتی قوی نے کہا کہ احتیاطی تدابیر میں گرم۔پانی کا استعمال۔اور صاف ستھرائی شامل ہے انہوں نے کہا جراثیم کش الکوحل ملا ہینڈ سینیٹائزر استعمال کرنے کا فتوی کسی عالم دین کا نہیں بلکہ ماہرین طب اور ماہرین فن کا ہے

    مفتی عبدالقوی نے کہا کہ ہر چیز جو حرام ہے وہ پلید بھی ہے نہیں ہر حرام چیز پلید نہیں ہے انہوں نے کہا نجاست پلیدی اور حرمت یہ تینوں الگ چیزیں ہیں الکوحل اس لیے حرام ہے کیونکہ اس کا خمر ہے اور خمر کے معنی عقل کے اوپر خمار جب کوئی خمر استعمال کرےتو اسے اردگرد کا ہوش نہیں رہتا

    مفتی عبدالقوی نے کہا الکوحل ملا ہینڈ سینیٹائزر کا ہلکا سا سپرے جب ہم ہاتھوں پر کرتے ہیں تو اس کا اثر دماغ پر نہیں چڑھتا اس کے اثرات ذہن پر اثر انداز نہیں ہوتے وہ ہاتھ کے اوپر موجود رہتا ہے خمار نہیں ہوا تو اس کا مطلب حرام نہیں ہے اور ہر حرام چیز پلید نہیں ہے اگر سینیٹائزر کو استعمال کرنے کے بعد کھانا کھائیں گےتو اس کہ ہلکی سی مقدار اثرات مرتب نہیں کرے گی کسی مرض میں خاص شرط خاص وقت احتیاطی تدابیر کے لیے پلید چیزیں بھی پاک ہو جاتی ہیں

    مفتی قوی نے کہا کہ اپنی تسلی کے لیے جراثیم کش ہینڈسینیٹائزر جو حرام اور پلید ہے استعمال کرنے کے بعد اس پلیدی سے بچنے کے لیے کھانا کھانے سے پہلے گرم۔پانی سے ہاتھ دھولیں کیونکہ گرم۔پانی کا استعمال بھی احتیاطی تدابیر میں ماہرین نے بتایا ہے

    جبکہ مفتی عبدالقوی نے کہا میں دین میں آسانی ڈھنڈنے کا قائل ہوں میری رائے یہ ہے کہ آپ سینیٹائزر استعمال کرنے کے بعد بغیر ہاتھ دھوئے بھی کھانا کھا سکتے ہیں وہ حرام بھی نہیں نجس بھی

    مفتی قوی نے مزید کہا کہ اگر ماہرین طب اور فن نے کہا ہے ک. الکوحل ملا ہینڈ سینیٹائزر جراثیم کش ہے اس سے وبا سے بچے رہیں گے تو یہ حلال ہے اسی طرح اگر ماہرین طب وبا سے بچاو کے لیےاور حفاظتی تدابیر کے تحت الکوحل پینے کو کہیں گے تو میں برملا کہوں گا کہ تب بھی پینا حلا ل ہے اور پاک بھی

    گھر میں ہینڈ سینیٹائزر بنانے کا سستا اور آسان طریقہ

    گھر میں کورونا وائرس ختم کرنے کے طریقے

    این ڈی ایم اے کا کورونا سے بچاؤ کے حفاظتی سامان کی خریداری لوکل مارکیٹ سے کرنیکا فیصلہ

  • حکومت سرکاری سطح پر اجتماعی استغفار و توبہ کا پروگرام ترتیب دے،متحدہ علماء محاذ

    حکومت سرکاری سطح پر اجتماعی استغفار و توبہ کا پروگرام ترتیب دے،متحدہ علماء محاذ

    وفاقی و صوبائی حکومتیں عملی اقدامات میں مکمل طور پرناکام ہوچکی ہیں،متحدہ علماء محاذ
    مساجدکوحفاظتی تدابیر کے ساتھ پنج وقتہ اور نماز تراویح کے لیے کھولاجائے،علماء مشائخ کا مطالبہ
    زخیرہ اندوزوں،گرانفروشوں کو فوری گرفتار اور اشیائے خوردونوش میں 40فیصدکمی کا اعلان کیا جائے
    حکومت غریب عوام کی دہلیزپرراشن سمیت تمام بنیادی سہولیات کو یقینی بنائے،استقبال رمضان کی تقریب میں قرارداد

    کراچی: متحدہ علماء محاذپاکستان کے تحت مرکزی سیکریٹریٹ گلشن اقبال میں استقبال و تقدس رمضان اور کورونا وائرس سے پیدا شدہ موجودہ تشویشناک صورت حال پر اجلاس میں مختلف مکاتب فکر کے جید علماء مشائخ نے وفاقی و صوبائی حکومت کے ناقص اقدامات پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وفاقی و صوبائی حکومتیں عملی اقدامات میں مکمل طور پرناکام ہوچکی ہیں ایک دوسرے پر الزامات اورباہمی توتکار سے ریاست کی جگ ہنسائی ہورہی ہے مساجدکوحفاظتی تدابیر کے ساتھ پنج وقتہ اور نماز تراویح کے لیے کھولاجائے

    مختلف شہروں میں روکے گئے تبلیغی جماعت کے افرادکو گھروں کو روانہ کیاجائے۔زخیرہ اندوزوں،گرانفروشوں کو فوری گرفتار اور اشیائے خوردونوش میں 40 فیصدکمی کا اعلان کیا جائے متحدہ علماء محاذ کے چیئرمین علامہ عبدالخالق فریدی،بانی سیکریٹری جنرل مولانامحمدامین انصاری،علامہ قاضی احمد نورانی صدیقی،مولانا انتظارالحق تھانوی، علامہ یونس صدیقی سلفی،یعقوب احمد شیخ،علامہ علی کرار نقوی،علامہ مرتضی خان رحمانی،حافظ گل نواز و دیگر نے کہا کہ: قدرتی آفت کورونا کی آمد سے لیکر آج تک وفاقی اور صوبائی حکومتیں عملی اقدامات کرنے میں مکمل طور پر ناکام ہوچکی ہیں وفاق و صوبوں کے ایک دوسروں پر الزامات اور باہمی توتکارسے عالمی سطح پر ریاست پاکستان کی بدنامی ہوئی ہے،

    سرکاری سطح پر باقاعدہ علاج معالجے اور عوامی ضروریات کیلئے تاحال موثراقدامات نہیں کیے گئے،کچھ عناصر کورونا وائرس کے حوالے سے سوشل میڈیا پر فرقہ ورانہ پوسٹیں شیئر کرکے ملک کو فرقہ وارانہ تعصب اور منافرت کی طرف دھکیلنے کی سازش کررہے ہیں، حکمرانوں کی خاموشی قابل مذمت ہے

    انہوں نے مطالبہ کیاکہ ملک کے مختلف شہروں میں تبلیغی جماعت کے جن افرادکو روکاگیا ہے انہیں فی الفور باحفاظت گھروں کو روانہ کیاجائے،ان کے ساتھ ظلم جبر تشدد کرنے والوں کے خلاف فوری کاروائی کی جائے،صوبائی اور مرکزی حکومتیں مل بیٹ ھ کر مسائل کو حل کریں ملک بھر کے تاجروں کو محدود وقت کیلئے معاشی سرگرمیاں جاری رکھنے کی اجازت دی جائے‘ آئمہ مساجد و خطباء کے خلاف قائم مقدمات ختم کئے جائیں‘

    انتظامی افسران کو سنسی خیزی پھیلانے کی بجائے حکمت عملی سے مسائل حل کرنے کا پابندکیاجائے حکومت سرکاری سطح پر اجتماعی استغفار و توبہ کا پروگرام ترتیب دے اور عوام الناس کو بتایاجائے ایسے حالات میں اللہ سے رجوع ضروری ہے اور اللہ کے حکم سے ہی اس موذی بیماری سے چھٹکارا ملے گا۔ کورونامساجد آباد کرنے سے ختم ہوگا مساجد پر پابندیاں عذاب خدا وندی کو دعوت دینے کے مترادف ہے۔ حکومت غریب عوام کی دہلیزپرراشن سمیت تمام بنیادی سہولیات کو یقینی بنائے،راشن و امداد کے نام پر تصاویر و ویڈیوبناکر سفید پوش ضرورت مند مرد و خواتین کی تحقیر و تذلیل کے غیر شرعی عمل سے اجتناب کیا جائے

  • اور صبر و برداشت سے بڑی خیر وعطا کوئی نہیں…!!! تحریر:جویریہ چوہدری

    اور صبر و برداشت سے بڑی خیر وعطا کوئی نہیں…!!! تحریر:جویریہ چوہدری

    میں نے آٹے والی پیٹی میں سے گوندھنے کے لیئے آٹا نکالا،اور دیکھا کہ آٹا تو ختم ہونے کے قریب ہے…اور آج کل تو آٹے کی ضرورت بھی زیادہ ہے کیونکہ گھر کے سبھی افراد گھر پر ہیں اور پھر کوئی نہ کوئی مستحق بھی آ جاتا چنانچہ طبیعت کی ناسازی کے باوجود ارادہ کیا کہ چلو آج ایک بوری گندم ہی صاف کر دی جائے تاکہ چکی پر پیسنے کے لیئے بھیجی جا سکے…
    چارو نا چار گندم کی بالٹیاں بھر بھر کر صحن میں رکھنا شروع کر دیں،اور چھپی نگاہوں سے سب کو تلاشنا بھی شروع کیا کہ کوئی مدد کو آتا ہے کہ نہیں…
    لیکن ظاہر سی بات تھی سب اپنے اپنے کاموں میں مصروف تھے اور مجھ مسکین پر کسی نے نظرِ رحم نہ کی اور شاید سبھی میرے کام سے بے خبر تھے…
    مجھے دل ہی دل میں بلا کا غصہ آیا کہ بھئی کمال ہے گیمز کھیلنا بہت ضروری ہیں؟
    اندر ہی اندر قہقہے بلند ہو رہے ہیں؟؟
    ہاں فل آواز میں چولہے کی آواز آ رہی ہے ضرور کوئی ریسیپی تیار ہو رہی ہو گی محترمہ کی؟
    وہ تو بس کوکنگ سنبھال کر باہر سے بے فکر…
    یہ تو گارلک تکہ اور انڈوں کے حلوہ کی تیاریاں ہو رہی ہیں…
    اور ابھی کوکنگ کے بعد تلاوت و تفسیر کا وقت ہو جائے گا اور میری دلجوئی…؟
    اُف میں نے آج اکیلے کیا مصیبت سر ڈال لی ہے وغیرہ؟
    غرض خیالات کا سلسلہ اندر ہی اندر بہہ رہا تھا جو لبوں تک ابھی نہیں آیا تھا اور وجہ گردے میں درد تھی…
    خیر چند ہی لمحوں بعد جب سب نے میری عدم موجودگی کا نوٹس لیا تو سبھی بھاگے آئے کہ آپ کو کیا فکر پڑی تھی کل کر لیتیں،کون سا مجبوری تھی؟؟
    اب مجھے سب کے اپنے ہونے کا احساس ہونے لگا تھا…
    امی جان نے انڈا ابال کر بھیجا تھا کہ یہ اُسے دے آؤ کھالے…
    سسٹر سٹرابری دھو کر لے آئیں…
    اور بھائی گندم کی بالٹیاں بھر بھر کر مجھ تک پہنچانے لگے،اور صاف کی ہوئی الگ بوری میں ڈالنے لگے…
    چند لمحات پہلے کے خیالات ہوا ہو چکے تھے اب ایک سکون سا گھیرے ہوئے تھا…اُس وقت جو چاہا کہ ذرا چیخ کر سب کو بلاؤں کہ کہاں گئے ہو؟
    ایسا نہ کرنے پر فرحت رگوں میں اُتر رہی تھی اور میں نے انہیں یہ محسوس بھی نہ ہونے دیا کہ میں غصہ میں تھی…
    سو کام آدھے گھنٹہ میں مکمل بھی ہو چکا تھا کہ نمازِ ظہر کے لیئے اذان کی آواز بلند ہوئی تب میں نے شکر کیا کہ چلو بروقت فراغت ہوئی…اور دل میں اب پھر اک سوال اُبھرا کہ اگر میں ناراضگی کا اظہار کر ہی دیتی تو سب کے دل میں کیا بات جاتی؟
    سب کی ہنسی افسردگی میں بدل جاتی اور وہ مدد کرتے ہوئے بھی بوجھل ہو رہے ہوتے…
    حالانکہ ہر کام اور ہر لمحہ ساتھ نبھاتے ہیں…!!!

    صبح ناشتے کا پراٹھا،انڈا اور چائے کا کپ اُٹھا کر اپنے کمرے میں پہنچی،والدہ محترمہ بہت زبردست پراٹھا بناتی ہیں اور سبھی خاندان والے امی کے پراٹھے یاد کرتے ہیں…لیکن تین دن سے مجھے تو بالکل بھی پسند نہیں آ رہا تھا درمیان سے موٹا اور سائیڈ سے پتلا پراٹھا بھلا یہ کیا اصول ہوا؟
    آج تو جا کر امی جان سے شکایت کرتی ہوں کہ جیسے بھی ہو میں ناشتے میں خامی نہیں برداشت کر سکتی…
    چنگیر اُٹھا کر کچن میں پہنچی،دل تھا کہ آج تو چنگیر زور سے پٹخ دوں اور ساتھ ہی ایک مرحوم پڑوسی بابا جی بھی یاد آئے جن کو بہو کھانا دے کر آتی تھیں تو وہ اچھی طرح کھانا کھا کر پلیٹ صاف کر کے خالی چنگیر اور پلیٹ دور سے ہی پھینک دیتے جو بعض اوقات کام میں مگن بہو کی پیٹھ پہ آ لگتی وہ بہو اب بھی کبھی ملیں تو یہ دلچسپ آپ بیتیاں سناتی ہیں…
    خیر اسی خیال کے آتے ہی چنگیر تو آرام سے شیڈ پر رکھ دی اور ناراضگی میں باہر جانے لگی تو امی جان جو پیڑھی پر بیٹھی تھیں سمجھ کر کہنے لگیں،بچے آج تمہاری روٹی موٹی ہو گئی تھی…پتہ نہیں آٹا ٹھنڈا تھا کہ کیا میں نے تو روٹی بہت دقت سے بنائی ہے…
    ہاں جی امی وہ میں فریج میں آٹا رکھ کر نکالنا ہی بھول گئی تھی تو بہت سخت ہوگیا ہوگا معذرت امی جی…
    نہیں ذرا دھیان سے نکال دیا کرو کیونکہ صبح تو سردی سے میرے ہاتھ ٹھنڈے برف بنے ہوتے ہیں…
    جی ضرور امی…
    غلطی تو میری تھی اور میں ہی غصہ سے چنگیر پہ بھی غصہ نکالنا چاہ رہی تھی؟
    ،نگاہیں ندامت سے جھکنے لگیں…
    قارئین !!!
    یہ تو محض دو واقعات تحریر کیئے ہیں لیکن یہ سچ ہے کہ اکثر غلطی ہماری اپنی ہوتی ہے…
    ہم بات سمجھنے کی صلاحیت نہیں رکھتے ہوتے…
    کسی کی بات کا مقصد نظر انداز کر دیتے ہیں…
    اور محض بدگمانی اور عدم برداشت کی وجہ سے پھٹ پڑتے ہیں…
    جس کا نقصان بھی ہمیں ہی برداشت کرنا پڑتا ہے…
    سو زندگی میں مثبت بھی سوچتے رہنا چاہیئے…کبھی کسی کی چھوٹی موٹی غلطی کو نظر انداز بھی کر دینا چاہیئے…
    ہاں جہاں واضح غلطی کی اصلاح کی ضرورت محسوس ہو رہی ہو وہاں خاموش رہنا بھی غلط ہے…
    لیکن کسی کو محض وہم و گمان سے نشانے کی زد پر نہیں رکھنا چاہیئے…
    تھوڑی سی برداشت،صبر تحمل،بردباری بسا اوقات بڑے نقصانات سے بچا لیتے ہیں اور کبھی انہی کا خیال نہ رکھنے کی وجہ سے شرمندگی و نقصانات کا سامنا کرنا پڑتا ہے…
    ہر بات کو جوش کے آئینہ میں ہی دیکھنے کی بجائے کبھی ہوش کا آئینہ بھی سامنے رکھنا چاہیئے…
    مجھے یاد آیا کہ پچھلے دنوں میں نے کسی گروپ میں ایک پوسٹ فارورڈ کر دی جس میں مردوں کی گھریلو مصروفیات کا مزاحیہ جائزہ تھا… جو کہ ہمارے مردوں کی اکثریت کا رویہ بھی ہے…نظر سے گزری تو دلچسپ لگی۔۔۔ جبکہ میرا اصول زیادہ تر صرف اپنی تحریر ہی فارورڈ کرنا ہے تو ایک گروپ ممبر نے(نامعلوم بہن ہیں کہ بھائی؟) نے کمنٹ کیا کہ آپ لوگوں کو صرف ایکٹروں کے انداز ہی گروپ میں بھیجنا پسند ہیں کچھ تو…… کرو وغیرہ۔
    اب اگر میں چاہتی تو اس بلینک کو پُر کر سکتی تھی کہ شرم کرو،حیا کرو یا خیال کرو وغیرہ
    یعنی ان کا مطلب کیا تھا؟
    تو بات طول پکڑ لیتی،بحث لمبی ہو جاتی…حالانکہ اُس تحریر میں نہ تو ایکٹرز کا تذکرہ تھا اور نہ ہی میرا مدعا…
    جبکہ بعض اوقات گروپ میں کچھ چیزیں بالخصوص وڈیوز وغیرہ ناگوار بھی گزرتی ہیں لیکن گروپ میں موجود سبھی قابلِ احترام ممبرز کی رائے اور فکر یا پیغام کو سمجھنا ضروری ہوتا ہے…یہ بات تو سردست یاد آ گئی تو وضاحت کر دی ہے…
    بات ہم اپنے رویوّں میں تبدیلی کی کر رہے ہیں کہ جب تک ہم خود کو نہیں بدلتے…
    اَنا کو کم نہیں کرتے…
    کسی کی سوچ اور رائے کا احترام نہیں سیکھتے…
    اور محض بدگمانی اور تنقید کے تیروں کی برسات جاری رکھتے ہیں تو کسی بھی سفر کا مزہ ادھورہ رہ جاتا ہے…
    ہم اس کی لذت و چاشنی سے محروم رہ جاتے ہیں…
    محدود نظریات کے حامل بن جاتے ہیں
    چاہے وہ گھر ہو یا دفتر…
    فورمز ہوں یا ایوان…
    ہم تنہائی کا شکار ہونے لگتے ہیں کیونکہ ہم سب کو اپنی شخصیت اور سوچ کے آئینہ میں نہیں ڈھال سکتے ہمارے ذمہ بہترین نصیحت حکمت کے ساتھ پہنچا دینا ہے…!!!
    کبھی کچھ برداشت کر جانا…
    صبر کا گھونٹ پی جانا…
    بے پرواہ بن جانا بھی اس زندگی کے حُسن کو مذید چار چاند لگا دیتا ہے…
    رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا:
    "جو کوئی صبر کی عادت ڈالے اللّٰہ تعالٰی اسے صبر دے دیتا ہے اور کوئی عطا صبر سے زیادہ بہتر اور کشادگی والی نہیں…”
    (صحیح مسلم)۔
    جب ہم صبر و برداشت کا دامن تھام لیتے ہیں تو لاریب ہمارا ذہن وسیع،ظرف بلند اور دل کشادہ ہو جاتے ہیں…!!!!!

  • مودی جی اگر ننگا ہونے کا بھی کہ دیں تو لوگ خوشی خوشی عمل کریں گے—از—عزیز احمد نئی دہلی

    مودی جی اگر ننگا ہونے کا بھی کہ دیں تو لوگ خوشی خوشی عمل کریں گے—از—عزیز احمد نئی دہلی

    شہر کا شہر پاگل نہیں ہوا ہے, بیوقوف ہم لوگ ہیں جو حالات کی سنگینی کو سمجھ نہیں پارہے ہیں, تالی, تھالی, اور پھر دِیا جلانے کا حکم, اور اس پر اکثریت کا نہ صرف خوشی خوشی عمل کرنا, بلکہ پٹاخوں کے ذریعہ "کرونا وائرس” کو دیوالی کا تیوہار بنا دینا,

    صرف سطر نہیں بین السطور بھی پڑھنے کی کوشش کریں, اس وقت مودی جی کی ہندوستان میں مقبولیت کا یہ عالم ہے کہ اگر وہ کپڑا اتار شہر میں لوگوں کو ننگا چلنے کا بھی ٹاسک دے دیں, تو لوگ خوشی خوشی عمل کردیں, بلا مبالغہ وہ اس وقت ہندوستان کے بغیر تاج کے راجا ہیں, جن کا ہر قول ان کے ماننے والوں کے لئے آسمانی حکم کا درجہ رکھتا ہے, اور اس کی تعمیل میں وہ کسی بھی حد تک جا سکتے ہیں,

    لوگوں کی یہی ذہنیت میرے یقین کو تقویت پہونچائے جارہی ہے کہ کل کو اگر سمودھان کو تبدیل کرنے کی بات کی جاتی ہے تو مخالف میں اٹھنے والی آوازیں بس مسلمانوں کی ہوں گی, یا پھر چند وہ آوازیں جنہیں انگلیوں پر گنا جا سکے گا, جاہلوں سے زیادہ اس وقت پڑھے لکھے, اور خود کو Elite سمجھنے والے اسلاموفوبیا کے شکار ہیں, بھکتی دل و دماغ ہر حاوی ہوچکی ہے,

    مسلمانوں سے نفرت نیو نارمل بن چکا ہے, اچھے خاصے پڑھے لکھے, اور تو اور ڈاکٹر انجینئر بن کر عرب ملکوں میں پیسہ کمانے والے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کے ذریعہ ہندوستان میں مسلمانوں کی نسل کشی کی بات کرتے ہیں, مودی جی مستقبل میں ہاریں یا جیتیں, لیکن جو کھائی وہ کھود چکے ہیں, اسے بھرنے میں یقینیا سالوں لگ جائیں گے, بلکہ شاید بھرا بھی نہ جا سکے, اور سچویشن مستقبل میں مزید خراب ہوتا چلا جائے.