Baaghi TV

Category: مذہب

  • ہر چمکتی چیز سونا نہیں ہوتی — نعمان سلطان

    ہر چمکتی چیز سونا نہیں ہوتی — نعمان سلطان

    کالج کے دنوں کی بات ہے ایک دن کالج میں کوئی پروگرام تھا ہم ازلی سست تو تھے ہی سونے پر سہاگہ ہم کوئی اہم شخصیت بھی نہ تھے اس وجہ سے پروگرام کے منتظمین نے ہمارا انتظار کرنا مناسب نہ سمجھا اور ہمارے بغیر ہی پروگرام شروع کر دیا ۔

    جب ہم کالج پہنچے تو کوئی لڑکا نعت شریف پڑھ رہا تھا اور اس کی آواز ہمیں دور سے سنائی دے رہی تھی اس لڑکے کی آواز اس قدر خوبصورت تھی کہ سیدھی دل میں اتر رہی تھی، بےساختہ دل کیا کہ اس کی صورت بھی دیکھی جائے ۔

    چنانچہ دل کی آواز پر لبیک کہا اور فوراً پروگرام میں پہنچ گئے، نعت پڑھنے والے لڑکے کا رنگ انتہائی سفید تھا جس کی وجہ سے نورانیت کا تاثر پیدا ہو رہا تھا اور مزید تعارف دوستوں نے کرا دیا کہ یہ لڑکا پیرزادہ اور مستقبل کا گدی نشین بھی ہے جس کی وجہ سے عقیدت بھی محسوس ہونے لگ گئی ۔

    تھوڑا عرصہ گزرا تو معلوم ہوا کہ صاحب موصوف چرس کو فقیری نشہ کہتے ہیں اس وجہ سے اکثر اپنے روحانی مدارج کی ترقی کے لئے چرس پیتے ہیں اور روحانی مدارج کا تو معلوم نہیں لیکن کالج کی تعلیم مکمل کرنے تک ہر قسم کے نشے سے ضرور آشنا ہو گئے تھے ۔

    نشے کے استعمال کی وجہ سے وہ دیگر خبائث میں بھی مبتلا ہو گئے اور اگر پیری فقیری کی وراثت ان کا انتظار نہ کر رہی ہوتی تو موصوف یقیناً تعلیم سے فراغت کے بعد ایک سکہ بند بدمعاش ہوتے ۔

    ہر شخص میں شخصی برائیاں اور خامیاں موجود ہوتیں ہیں اس لئے اس کے طرزِ عمل یا طرزِ زندگی پر ہمارا اعتراض نہیں بنتا لیکن مسئلہ یہ ہے کہ اگر شیطان جنت میں آدم و ہوا علیہ السلام کو بہکانے سے باز نہیں آیا تو کیا یہ موصوف سجادہ نشینی کے بعد سابقہ زندگی سے تائب ہو کر مومن بن گئے ہوں گے اور لوگوں کی عزتیں ان سے محفوظ رہے گی۔

    جو پیر اپنے بیٹے کو گمراہ ہونے سے نہیں بچا سکا وہ کیسے لوگوں کی بگڑی بنا سکتا ہے، ان جعلی پیروں کے پاس ایک ہی ہنر ہے لوگوں کی آنکھوں پر عقیدت کی پٹی باندھ کر ان کو نسل در نسل غلام بنا کر اپنی آنے والی نسلوں کی روزی روٹی کا بندوبست کرنا ۔

    جو لوگ حالات کی تنگدستی سے گھبرا کر رزق کی کشادگی کے لئے ان کے پاس جاتے ہیں وہ یہ نہیں سوچتے جنہوں نے خود چندے کے گلے رکھے ہوئے ہیں اور اپنی جھوٹی شان و شوکت کے لئے ہمارے نذرانوں کے محتاج ہیں وہ کیسے ہمارا رزق کشادہ کر سکتے ہیں ۔

    جو عورتیں ان کو فرشتوں کی طرح معصوم سمجھ عملیات کروانے کے لئے ان کو تنہائی میں ملتی ہیں آخر میں سب کچھ گنوا کر انہیں معلوم ہوتا ہے کہ یہ فرشتے نہیں بلکہ دنیاوی ابلیس ہیں ۔

    دنیا میں کامیابی کا ایک ہی راز ہے جتنا بڑا خواب اتنی زیادہ محنت، ہاں ایک بات ضرور ہے کہ اپنی سو فیصد پرفارمنس دے کر پھر نتیجہ قدرت یا قسمت پر (اپنے عقیدے کے مطابق) چھوڑ دو۔

    ان پیروں کی حقیقت کے لئے اتنا ہی کافی ہے کہ کرونا کہ دنوں میں کسی مائی کے لعل نے یہ دعویٰ نہیں کیا کہ کرونا کے مریضوں کو میرے پاس لاؤ میں ان کا علاج کروں گا یا میں بغیر کسی قسم کے حفاظتی انتظامات کے کرونا کے مریضوں کے ساتھ وقت گزار کر اپنی روحانی طاقت یا مقام ثابت کروں گا کیونکہ ان دنوں لوگوں کے ذہنوں میں یہ راسخ تھا کہ کرونا لاعلاج ہے۔

    ہمارے ساتھ ایک مستقبل کا گدی نشین پڑھتا تھا اس کی حرکتیں دیکھ کر ہماری آنکھوں سے عقیدت کی پٹی اتر گئی اور ہمیں سمجھ آ گئی کہ یہ رانگ نمبر ہیں تو براہ کرم آپ بھی اپنی آنکھوں سے عقیدت کی پٹی اتار دیں اور سمجھ لیں کہ ہر چمکتی چیز سونا نہیں ہوتی ۔

  • ’’چارلز ہتھوڑا‘‘ اور تاریخ اسلام — فرقان قریشی

    ’’چارلز ہتھوڑا‘‘ اور تاریخ اسلام — فرقان قریشی

    اکتوبر سنہ 732ء میں ایک بہت اہم واقعہ ہوا تھا ، شاید آپ میں سے کم ہی لوگ اس واقعے کو جانتے ہوں گے لیکن ایک بدترین شخص نے تاریخ کے اس واقعے کو اچھے طریقے سے یاد رکھا ہوا تھا ۔

    اور آپ کو پتہ ہے کہ اس شخص نے اس واقعے کے مرکزی کردار charles martel کا نام کہاں لکھا تھا ؟

    وہ تو میں آپ کو ابھی بتا دیتا ہوں لیکن یہ وہی چارلز مارٹل ہے جسے تاریخ ’’charles the hammer‘‘ یعنی ’’چارلز ہتھوڑا‘‘ بھی کہتی ہے ، وہی چارلز مارٹل جو اپنے باپ pepin کی اپنی ایک نوکرانی کے ساتھ ناجائز اولاد تھا اور وہی چارلز مارٹل جس نے وقت کی سب سے بڑی ملٹری پاور یعنی مسلمانوں کو ناقابل شکست بیس سال گزارنے کے بعد فرانس کے جنگل میں ہرا دیا تھا اور اموی جنرل عبدالحمٰن الغوفیقی کو مار دیا تھا ۔

    وہی چارلز مارٹل جس کی وجہ سے فرانس اور جرمنی مسلمانوں کے ہاتھ سے نکل گیا ۔ لیکن یہ لڑائی طاقت کی لڑائی نہیں تھی ، یہ لڑائی ایکچوئلی صبر کی لڑائی تھی اور اس لڑائی کا نام تھا battle of tours ۔

    چارلز مارٹل مسلم آرمی سے آدھی تعداد کے ساتھ جنگل میں تھا اور صبر سے انتظار کر رہا تھا کہ مسلمان جنگل میں آ کر لڑیں تاکہ مارٹل کو درختوں میں چھپنے کا فائدہ مل سکے اور مسلمان جنگل سے باہر انتظار کر رہے تھے کہ مارٹل باہر آ کر ہم سے لڑے تاکہ ہم اپنی تعداد اور طاقت سے اسے ہرائیں لیکن بالآخر سات دن بعد مسلمانوں کا صبر جواب دے گیا اور وہ جنگل میں داخل ہو گئے ۔ یورپ کے گھنے جنگلات جدھر آرمی کی تعداد کوئی معنے نہیں رکھتی تھی …

    اور مجھے جرمن مؤرخ hans delbruck کے الفاظ یاد ہیں کہ دنیا کی تاریخ میں battle of tours سے زیادہ اہم اور کوئی لڑائی نہیں ہوئی کیوں کہ اس دن اگر چارلز مارٹل ہار جاتا تو آج نہ کوئی holy roman empire ہوتی ، نہ پوپ رہتا اور نہ ہی عیسائیت کیوں کہ پھر اس وقت مسلمانوں کو پورے یورپ پر قبضہ کرنے سے روکنے والی کوئی آرمی اس دنیا نہیں تھی ۔

    انفیکٹ یہ وہ واحد لڑائی تھی جس کے بارے میں ایڈولف ہٹلر نے بھی یہ بات کہی تھی کہ اگر مسلمان وہ لڑائی جیت جاتے تو آج یہ دنیا ایک مسلمان دنیا ہوتی کیوں کہ مسلمان ایک دین لے کر آ رہے تھے ، ایک ایسا دین جو جرمن مزاج کے ساتھ پرفیکٹلی فِٹ بٹھتا ہے اور جرمنز کے لیے عیسائیت سے زیادہ سوٹ ایبل ہے ۔

    لیکن میں نے ابھی آپ کو یہ نہیں بتایا کہ چارلز مارٹل کا نام کس نے یاد رکھا ہوا تھا ؟

    تین سال پہلے نیوزی لینڈ کے ایک شخص نے 74 صفحوں کا ایک مینی فیسٹو لکھا تھا the great replacement اور اس نے یہ مینی فیسٹو نیوزی لینڈ کی وزیراعظم سمیت 30 میڈیا ہاؤسز کو ای میل کیا تھا ، اور ای میل کے بعد اس شخص نے نیوزی لینڈ کرائیسٹ چرچ کی ایک مسجد میں داخل ہو کر 51 نمازیوں کو شہید کر دیا تھا …

    اور اس قتل عام کو کرنے والی بندوق کی نلی پر اس زندیق نے … چارلز مارٹل کا نام لکھا ہوا تھا ، وہی چارلز مارٹل جس نے مسلمانوں کو شاید سب سے گہری چوٹ پہنچائی تھی ۔

    لیکن میں آپ کو یہ سب کیوں بتا رہا ہوں ؟

    اس دنیا میں کوئی بڑا واقعہ randomly نہیں ہو رہا ، یا تو وہ ماضی کے کسی بڑے واقعے سے جڑا ہوتا ہے یا پھر مستقبل کے کسی بڑے واقعے کا پیش خیمہ ہوتا ہے ۔

    اور میں آپ کو urge کرتا ہوں کہ تاریخ کو بھولیں مت ، ماضی کے واقعات کو یاد رکھیں ، تاکہ مستقبل کے لیے خود کو اور اپنی نسلوں کو تیار رکھ سکیں ۔

  • چھوڑ کے تیرا دامن رحمت, آقا ہم سے بھول ہوئی ہے!!! — طاہر محمود

    چھوڑ کے تیرا دامن رحمت, آقا ہم سے بھول ہوئی ہے!!! — طاہر محمود

    یہ وقت ہمیں کہاں لے آیا کہ بارود پھٹے تو تکبیر کا نعرہ لگے۔ مساجد و امام بارگاہوں کی صفیں لہو رنگ ہوں تو ہمارا عشق نکھرتا ۔ مندر اور کلیسا میں آگ جلے تو ہمارے ایمان کو جلا ملتی۔ اقلیتوں کی جان خطرے میں ڈالتے تو ہمارا اسلام خطرے سے نکلتا۔ ہم بھٹے میں جلتی لاشوں کی راکھ بنتی ہڈیوں پہ تقدیس رسالت کا قصر تعمیر کرتے۔ غیرمسلم بچی کے ننگے سر پہ چادر ڈالنے کی بجائے جبری نکاح کرنے میں ہمارا من تسکین پاتا۔ جلتے لاشے کے ساتھ تصاویر ہمارے عشق رسول کی سند ہوتیں۔

    رسول اللہ ﷺ ! ہم شرمندہ ہیں۔

    اہل کلیسا نے آپ کے نہیں, ہمارے کردار کے خاکے بنائے۔

    ہمارے خطیبوں کی شعلہ نوائیوں اور جعلی محدثین کی فسانہ طرازیوں کے کارٹون بنے۔ ان میں عکس تمہاری بےداغ سیرت کا نہیں, ہمارے اعمال بد کا ہے۔ تمہیں تو دشمن نے صادق و امیں کہا, ہمِیں ننگ نکلے کہ کوئی اعتبار کو تیار نہیں۔

    ہم تو بھول گئے کہ تو رحمة اللعالمین ہے۔ تو منبع جود و سخا ہے۔ تو مصدر عطا ہے۔ ہم نے مرنے مارنے اور گلے اتارنے سے کم پہ بات نہیں کی۔ سہیل بن عمرو تیرے نام سے رسول اللہ مٹاتا ہے۔ دریدہ دہنی کرتا ہے۔ جب وہ گرفتار ہوتا ہے تو عمر بن خطاب اس کے دانت توڑنے کی اجازت طلب کرتا ہے مگر یہ کیا ! ارشاد ہوتا ہے کہ میرے رب نے چہرے بگاڑنے والا بنا کر نہیں بھیجا۔ یہ وہ نبی تو نہیں جس سے ہمیں اپاہج خطیبوں نے روشناس کروایا۔

    اہل مکہ خون کے پیاسے ہیں۔ غلہ کی کمی ہے۔ مگر ثمامہ بن اثال کو حکم ملتا ہے کہ کسی صورت غلہ نہ روکو۔ ہم تو بھوکے ننگے ہو کر بھی بائکاٹ سے کم پہ راضی نہیں۔ اب یہ کیا ! ابو سفیان آیا ہے۔ مکہ میں قحط ہے۔ مدینہ کیوں آیا بھلا, نبی سے دعا کروانے ۔ کہتا ہے, اے محمد! تیری قوم ہلاک ہو رہی ہے ۔ نبی دعا بھی کرتا ہے۔ تحفے اور اجناس سے بھی نوازتا ہے ۔
    ہائے کیا کیا سبق بھلا بیٹھے ہم ۔

    عیسائی آئے ہیں ۔ عبادت کا وقت ہے۔ وہ جگہ ڈھونڈنے لگتے تو مسجد نبوی کا صحن حاضر ملتا ہے۔ ہمارے زعماء نے مسجد کو مسلک بنا دیا۔ ارے وہ بدو کدھر ہے! جسے کل مارنے دوڑے تھے صحابہ ۔ کہ گستاخ ہے۔ آ گیا۔ اس کو اونٹ بھی عطا کرو۔ مال مویشی بھی دو۔

    وارفتگی میں تیری شان بلند کرتا ہے اور تو اس بات پہ خوش, کہ جہنم سے بچ گیا۔ مگر تیرے فقیہ تو توبہ کا موقع دینے کے سزاوار بھی نہیں۔

    کچرا پھینکنے والی بڑھیا کی روایت ہمارے خطباء کے نزدیک ضعیف سہی, مگر طائف کے پتھروں والی تو قوی روایت ہو گی۔ اے اللہ کے نبی, انہیں تباہ کر دیا جائے۔ نہیں ۔ یہ تو جانتے نہیں میں کون ہوں۔ احد میں پتھر لگتے۔ چہرہ لہولہان۔ زبان پہ دعا, اے اللہ یہ لوگ مجھے جانتے ہی نہیں۔ ہدایت دے انہیں۔

    خامہ بشکستیم و لب بستیم از تعریف دوست

    کیا کیا سناؤں, کیا کیا لکھوں۔ تیرے حلم پہ, تیرے کرم پہ, تیری عطا پہ, تیرے عفو پہ, تیری رحمت پہ, تیری شان کریمی پہ ۔ تیری محبت پہ, تیری بندہ نوازی پہ, تیرے تبسم کی عادت پہ, تیرے معاف کر دینے کی خصلت پہ, تیرے نور بصیرت پہ ۔

    یا رسول اللہ! طائف والوں بھی تجھے نہ پہچانا۔ پتھر مارنے والے بھی تجھے نہ پہچانتے تھے۔ خاکے بنانے والے بھی تجھ سے ناواقف ہیں۔ مگر اے اللہ کے رسول, پہچانتے تو ہم بھی نہیں تجھے ۔ ہم بھی تیری شان رحیمی سے ناواقف ہیں۔ ہم تیرے نام پہ بےگناہوں کی جانیں لے سکتے ہیں ۔ تیرے دیے عفو و حلم کا سبق بھول چکے۔

    مسلماں آں فقیرے کج کلاہے
    رمید از سینہء او سوز و آہے
    دلش نالد, چرا نالد, نداند
    نگاہے یارسول اللہ, نگاہے

  • کیا آپ جانتے ہیں کہ CEDAW کس بلا کا نام ہے؟ — ڈاکٹر رضوان اسد خان

    کیا آپ جانتے ہیں کہ CEDAW کس بلا کا نام ہے؟ — ڈاکٹر رضوان اسد خان

    کیا آپ جانتے ہیں کہ CEDAW کس بلا کا نام ہے؟

    Convention for Elimination of Discrimination Against Women

    یہ اقوام متحدہ کا، عورتوں کے حقوق سے متعلق چارٹر ہے جس پر پاکستان نے دسمبر، 1996 میں دستخط کر کے انہیں تسلیم کیا تھا۔
    اب یا تو ہمارے مقتدر حلقے اسلام سے بالکل جاہل ہیں، یا بیرونی سازشوں کے دست و پا۔۔۔۔ کیونکہ اسی کنوینشن کو جن بنیادوں پر سعودی عرب نے ڈنکے کی چوٹ پر رد کر دیا تھا، وہ ملاحظہ فرمائیں ۔۔۔۔

    1۔۔ اس کنونشن میں کہا گیا ہے کہ عورت بھی مرد جیسی ہے جبکہ قرآن کہتا ہے کہ مرد عورت جیسا نہیں ہوتا۔

    2۔۔ اس کنونشن کے مطابق مرد ایک سے زیادہ شادیاں نہیں کر سکتا جبکہ اسلام 4 شادیوں تک کی اجازت دیتا ہے۔

    3۔۔ اس کنونشن کے مطابق بچوں کو انکی ماؤں کے نام سے پکارنا چاہیے (مثلاً نومولود بچے جنکا اپنا نام ابھی نہیں رکھا گیا ہوتا) جبکہ اسلام میں اولاد کو اسکے باپ کے نام سے پہچانا جاتا ہے۔

    4۔۔ اس کنونشن کے مطابق بیوہ یا طلاق یافتہ عورت کی کوئی عدت نہیں ہونی چاہیے۔ وہ جب چاہے نکاح کر لے۔ اسلام بیوہ اور مطلقہ کو عدت کے دوران نکاح سے سختی سے روکتا ہے۔

    5۔۔ اس کنونشن کے مطابق مرد، عورت اور اپنی بالغ بیٹیوں کا سرپرست نہیں ہو سکتا جبکہ اسلام نے مرد کو قوام اور خاندان کا سربراہ قرار دیا ہے۔

    6۔۔ اس کنونشن کے مطابق مرد اور عورت کی وراثت برابر ہونی چاہیے جبکہ اسلام میں بہنوں کا حصہ بھائیوں سے آدھا ہے۔

    7۔۔ اس کنونشن کے مطابق عورت کو عورت سے نکاح کی اجازت ہونی چاہیے جبکہ شریعت میں اسکا تصور بھی محال ہے۔

    8۔۔ اس کنونشن کے مطابق عورت کو اسقاط حمل کا حق ہونا چاہیے جو صریحاً غیر اسلامی ہے۔

    9۔۔ اس کنونشن کے مطابق کنواری عورت کے، باہمی رضامندی کے ساتھ منعقدہ جنسی تعلقات(زنا) پر کوئی سزا نہیں ہونی چاہیے جبکہ اسلام میں یہ قابل سزا جرم ہے۔

    10۔۔ اس کنونشن کے مطابق عورت بھی جب چاہے مرد کو طلاق دے سکتی ہے، جب چاہے کسی دوسرے مرد سے شادی کر سکتی ہے جو کہ اسلامی قوانین کے خلاف ہے۔

    11۔۔ اس کنونشن کے مطابق عورت 18 سال سے پہلے شادی نہیں کر سکتی جبکہ اسلام میں بلوغت کے وقت نکاح کی اجازت ہے۔

    اب اس بات پر ذہن دوڑائیں کہ اسلام اور فیمن ازم کس طرح ایک ساتھ چل سکتے ہیں؟

    یہ ناممکن کام کیسے ہو سکتا ہے؟

    چوکور مثلث کیسے بنائی جا سکتی ہے؟

    "اسلامی فیمنسٹ” ۔۔۔۔ یہ اصطلاح محض oxymoron ہی نہیں، بلکہ یہ کہلوانے والے لوگ دنیا کے سب سے بڑے "مورون”( یعنی بیوقوف) ہیں۔۔۔۔!!!

  • ” سورۃ النازعات کا تعارف” — عبدالحفیظ چنیوٹی

    ” سورۃ النازعات کا تعارف” — عبدالحفیظ چنیوٹی

    قرآن مجید کے 30 پارے کی79 ویں سورت جس میں 46 آیات، الفاظ 179 اور حروف 762 ہیں۔

    دور نزول: مکی

    نام
    پہلے ہی لفظ النٰزعٰت سے ماخوذ ہے۔

    زمانہ نزول
    حضرت عبد اللہ بن عباس کا بیان ہے کہ یہ سورہ نباء (عم یتسآءلون) کے بعد نازل ہوئی ہے۔
    یہ ابتدائی زمانے کی نازل شدہ سورتوں میں سے ہے۔

    اس کا موضوع قیامت اور زندگی بعد موت کا اثبات ہے اور ساتھ ساتھ اس بات پر خبردار بھی کیا گیا ہے کہ خدا کے رسول کو جھٹلانے کا انجام کیا ہوگا۔

    آغاز کلام اللہ میں موت کے وقت جان نکالنے والے اور اللہ کے احکام کو بلا تاخیر بجانے والے اور حکم الٰہی کے مطابق ساری کائنات کا انتظام کرنے والے فرشتوں کی قسم کھا کر یقین دلایا گیا ہے کہ قیامت ضرور واقع ہوگی اور موت کے بعد دوسری زندگی ضرور پیش آ کر رہے گی۔ کیونکہ جن فرشتوں کے ہاتھوں آج جان نکالی جاتی ہے، انہی کے ہاتھوں دوبارہ جان ڈالی بھی جا سکتی ہے اور جو فرشتے آج اللہ کے حکم کی تعمیل بلا تاخیر بجا لاتے اور کائنات کا انتظام چلاتے ہیں، وہی فرشتے کل اسی خدا کے حکم سے کائنات کا یہ نظام درہم برہم بھی کر سکتے ہیں

    اس کے بعد لوگوں کو بتایا گیا ہے کہ یہ کام، جسے تم بالکل ناممکن سمجھتے ہو، اللہ تعالٰی کیلئے سرے سے کوئی دشوار کام ہی نہیں ہے جس کیلئے کسی بڑی تیاری کی ضرورت ہو۔ بس ایک جھٹکا دنیا کے اس نظام کو درہم برہم کر دے گا اور دوسرا جھٹکا اس کیلئے بالکل کافی ہوگا کہ دوسری دنیا میں یکایک تم اپنے آپ کو زندہ موجود پاؤ۔ اس وقت وہی لوگ جو اس کا انکار کر رہے تھے، خوف سے کانپ رہے ہوں گے اور سہمی ہوئی نگاہوں سے وہ سب کچھ ہوتے دیکھ رہے ہوں گے جس کو وہ اپنے نزدیک ناممکن سمجھتے تھے۔ پھر حضرت موسٰی اور فرعون کا قصہ مختصراً بیان کر کے لوگوں کو خبردار کیا گیا ہے کہ رسول کو جھٹلانے اور اس کی ہدایت و رہنمائی کو رد کرنے اور چالبازیوں سے اس کو شکست دینے کی کوشش کا کیا انجام فرعون دیکھ چکا ہے۔ اس سے عبرت حاصل کر کے اس روش سے باز نہ آؤ گے تو وہی انجام تمہیں بھی دیکھنا پڑے گا۔

    اس کے بعد آیت 27 سے 33 تک آخرت اور حیات بعد الموت کے دلائل بیان کیے گئے ہیں۔ اس سلسلے میں پہلے منکرین سے پوچھا گیا ہے کہ تمہیں دوبارہ پیدا کر دینا زیادہ سخت کام ہے یا اس عظیم کائنات کو پیدا کرنا جو عالم بالا میں اپنے بے حد و حساب ستاروں اور سیاروں کے ساتھ پھیلی ہوئی ہے؟ جس خدا کے لیے یہ کام مشکل نہ تھا اس کے لیے تمہاری بارِ گرد تخلیق آخر کیوں مشکل ہوگی؟ صرف ایک فقرے میں امکانِ آخرت کی یہ مسکِت دلیل پیش کرنے کے بعد زمین اور اس سروسامان کی طرف توجہ دلائی گئی ہے جو زمین میں انسان اور حیوان کی زیست کے لیے فراہم کیا گیا ہے اور جس کی ہر چیز اس بات کی شہادت دے رہی ہے کہ وہ بڑی حکمت کے ساتھ کسی نہ کسی مقصد کو پورا کرنے کے لیے بنائی گئی ہے۔ یہ اشارہ کر کے اس سوال کو انسان کی عقل پر چھوڑ دیا گیا ہے کہ وہ خود اپنی جگہ سوچ کر رائے قائم کرے کہ آیا اس حکیمانہ نظام میں انسان جیسی مخلوق کو اختیارات اور ذمہ داریاں سونپ کر اس کا محاسبہ کرنا زیادہ مقتضائے حکمت نظر آتا ہے یا یہ کہ وہ زمین ہر طرح کے کام کر کے مر جائے اور خاک میں مل کر ہمیشہ کے لیے فنا ہو جائے اور کبھی اس سے حساب نہ لیا جائے کہ ان اختیارات کو اس نے کیسے استعمال کیا اور ان ذمہ داریوں کو کس طرح ادا کیا؟ اس سوال پر بحث کرنے کی بجائے آیات 34 – 41 میں یہ بتایا گیا ہے کہ جب آخرت برپا ہوگی تو انسان کے دائمی اور ابدی مستقبل کا فیصلہ اس بنیاد پر ہوگا کہ کس نے دنیا میں حدِ بندگی سے تجاوز کر کے اپنے حدا سے سرکشی کی اور دنیا ہی کے فائدوں اور لذتوں کو مقصود بنا لیا اور کس نے اپنے رب کے سامنے کھڑے ہونے کا خوف کیا اور نفس کی ناجائز خواہشات کو پورا کرنے سے خود کو بچایا۔ یہ بات خود بخود اوپر کے سوال کا صحیح جواب ہر اس شخص کو بتا دیتی ہے جو ضد اور ہٹ دھرمی سے پاک ہو کر ایمانداری کے ساتھ اس پر غور کرے گا۔ کیونکہ انسان کو دنیا میں اختیارات اور ذمہ داریاں سونپنے کا بالکل عقلی، منطقی اور اخلاقی تقاضا یہی ہے کہ اسی بنیاد پر آخر کار اس کا محاسبہ کیا جائے اور اسے جزا یا سزا دی جائے۔

    آخر میں کفار مکہ کے اس سوال کا جواب دیا گیا ہے کہ وہ قیامت آئے گی کب؟ یہ سوال وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے بار بار کرتے تھے۔ جواب میں فرمایا گیا ہے کہ اس کے وقت کا علم اللہ کے سوا کسی کو نہیں ہے۔ رسول کا کام صرف خبردار کر دینا ہے کہ وہ وقت آئے گا ضرور۔ اب جس کا جی چاہے اس کے آنے کا خوف کر کے اپنا رویہ درست کر لے اور جس کا جی چاہے بے خوف ہو کر شترِ بے مہار کی طرح چلتا رہے۔ جب وہ وقت آ جائے گا تو وہی لوگ جو اس دنیا کی زندگی پر مر مٹتے تھے اور اسی کو سب کچھ سمجھتے تھے، یہ محسوس کریں گے کہ دنیا میں وہ صرف گھڑی بھر ٹھہرے تھے۔ اس وقت انہیں معلوم ہوگا کہ اس چند روزہ زندگی کی خاطر انہوں نے کس طرح ہمیشہ کے لئے اپنا مستقبل برباد کر لیا۔

  • "محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رحمتہ اللعالمین ہیں” — عبدالحفیظ چنیوٹی

    "محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رحمتہ اللعالمین ہیں” — عبدالحفیظ چنیوٹی

    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے بہترین وہ ہے جس کے اخلاق اور کردار سب سے اچھے ہوں۔

    یہ بات مشہور ہے کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم حسن اخلاق اور کردار کا بہترین نمونہ تھے۔ وہ نرم مزاج، ہمدرد اور معاشرے میں کسی بھی حیثیت کے باوجود ہر ایک کے لئے ہمیشہ مہربان تھے۔ حتیٰ کہ ان کے دشمن بھی اس کے کردار کی بہت زیادہ باتیں کرتے تھے۔

    نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی:

    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں سکھایا کہ حسن اخلاق صرف شائستہ ہونے کا نام نہیں ہے۔ وہ دوسروں کے بارے میں فکر مند ہیں اور ان کی ضروریات کو ہم سے پہلے سوچتے ہیں۔ فرمایا:

    ’’تم میں سے کوئی اس وقت تک مومن نہیں ہوسکتا جب تک وہ اپنے بھائی کے لیے وہی پسند نہ کرے جو اپنے لیے پسند کرتا ہے۔‘‘
    (صحیح البخاری ومسلم)

    “مضبوط وہ نہیں ہے جو اپنی طاقت سے لوگوں پر غالب آجائے، بلکہ طاقتور وہ ہے جو غصے کی حالت میں اپنے آپ پر قابو رکھے۔”
    (صحیح البخاری ومسلم)

    “اگر کسی نے تم پر ظلم کیا ہے تو اس کا بدلہ احسان سے نہ دو بلکہ اس سے بہتر چیز سے اس کی تلافی کرو۔” ( ترمذی)

    ’’تم میں سے کوئی اس وقت تک مومن نہیں ہو سکتا جب تک کہ اس کی خواہشات اس کے تابع نہ ہو جائیں جو میں لایا ہوں۔‘‘
    (بخاری ومسلم)

    “جب دو مسلمان ملیں گے، مصافحہ کریں گے اور ایک دوسرے سے مسکرائیں گے تو اللہ ان دونوں کو معاف کر دے گا۔” ( ترمذی)

    “ایمان میں سب سے کامل ایمان والے وہ ہیں جن کے اخلاق بہترین ہیں۔” ( ترمذی)

    ’’تم میں سے کوئی اس وقت تک مومن نہیں ہوسکتا جب تک وہ اپنے بھائی کے لیے وہی پسند نہ کرے جو اپنے لیے پسند کرتا ہے۔‘‘ (صحیح البخاری ومسلم)

    “سب سے پیاری چیزیں جن سے میرا رب اپنی تسبیح کرتا ہے وہ رحم اور شفقت ہے۔” (صحیح البخاری)

    “اپنے بھائی کے لیے تمہاری مسکراہٹ صدقہ ہے۔” (ابو داؤد)

    ان احادیث سے ہم یہ سیکھیں گے کہ اچھے اخلاق ہمارے ایمان کا ایک اہم حصہ ہیں، اور یہ کہ ہمیں ہمیشہ دوسروں کے ساتھ حسن سلوک اور احترام کے ساتھ پیش آنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ ہمیں بھی اپنے غصے پر قابو پانے کی کوشش کرنی چاہیے، اور کبھی کسی سے بدلہ نہیں لینا چاہیے جس نے ہم پر ظلم کیا ہو۔ اس کے بجائے، ہمیں بہت زیادہ مہربان اور معاف کرنے والے بن کر ان کے ساتھ معاملات درست کرنے کی کوشش کرنی چاہیئے۔

    جب ہم دوسروں سے ملتے ہیں تو ہمیں ہمیشہ مسکراہٹ اور مصافحہ کے ساتھ ان کا استقبال کرنا چاہیے۔ شائستگی کا یہ آسان عمل کسی کو قابل قدر اور تعریف کا احساس دلانے میں بہت آگے جا سکتا ہے۔ اور یہ وہ چیز ہے جو ہم سب کر سکتے ہیں، چاہے ہماری سماجی حیثیت یا معاشی صورتحال کچھ بھی ہو۔

    نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی شخصیت کا سب سے اہم پہلو ان کا بہترین کردار تھا۔ وہ اپنی شفقت، ہمدردی اور سخاوت کے لیے مشہور تھے۔ وہ ہمیشہ دوسروں کے ساتھ احترام اور شائستگی کے ساتھ پیش آئے، چاہے ان کی سماجی حیثیت یا مذہب کچھ بھی ہو۔

    حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) اپنے فصاحت و بلاغت کے انداز میں بھی مشہور تھے۔ انہوں نے ہمیشہ اپنے الفاظ کا انتخاب احتیاط سے کیا اور اس انداز میں بات کی جو سچائی اور مہربان دونوں تھی۔ ان کی تقریریں ہمیشہ متاثر کن اور حوصلہ افزا ہوتی تھیں، بغیر کسی سخت یا جارحانہ انداز کے۔

    مجموعی طور پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بہترین کردار اور شائستہ انداز نے انہیں اس وقت کے دیگر رہنماؤں سے ممتاز کر دیا۔ اور یہ ان بہت سی وجوہات میں سے ایک ہے جس کی وجہ سے وہ آج بھی پوری دنیا کے مسلمانوں میں قابل عزت اور قابل احترام ہیں۔

    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں سکھایا کہ حسن اخلاق صرف شائستہ ہونے کا نام نہیں ہے۔ وہ دوسروں کے بارے میں فکر مند ہیں اور ان کی ضروریات کو ہم سے پہلے سوچتے ہیں۔ فرمایا:

    حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کے کچھ واقعات:

    ایک دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو اپنے کپڑے کے ساتھ گلی میں چلتے ہوئے دیکھا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس کے پاس گئے اور شائستگی سے کہا، “معاف کیجئے، جناب، لگتا ہے آپ کے کپڑے ٹھیک نہیں ہیں، کیا آپ چاہیں گے کہ میں ان کو ٹھیک کرنے میں آپ کی مدد کروں؟” وہ شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مہربانی سے اتنا متاثر ہوا کہ اس نے فوراً توبہ کی اور مسلمان ہو گیا۔

    ایک اور موقع پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اصحاب کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک اعرابی آیا اور ان کے بالکل سامنے حاجت کی۔اعرابی کی بدتمیزی سے سب کو ناگوار گزرا لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اٹھ کر چلے گئے۔ جب آپ کے ساتھیوں نے آپ سے پوچھا کہ آپ نے کچھ کیوں نہیں کہا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں ایسی بات کہنے کے بجائے چھوڑ دوں گا جس سے اللہ ناراض ہو۔

    ایک دفعہ ایک عورت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس مدد کے لیے آئی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا کہ اسے کیا ضرورت ہے اور اس نے کہا کہ اسے اپنے بچوں کے لیے کھانا چاہیئے. اس کے بعد حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی چادر اتار کر اسے دے دی اور فرمایا کہ یہ لے لو اور اسے بیچ کر اپنے بچوں کے لیے کھانا خریدو۔

    محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک بار جنازے کے پاس سے گزر رہے تھے اور آپ نماز جنازہ میں شریک ہوئے۔ جب آپ کے ساتھیوں نے آپ سے پوچھا کہ آپ نے ایسا کیوں کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، “کیا یہ کافی نہیں کہ ہم اللہ کے ہیں اور اسی کی طرف لوٹتے ہیں؟ ہم سب کو اپنے بھائی کی مغفرت کی دعا کرنی چاہیے۔”

    ایک دفعہ ایک آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور مدد کی درخواست کی۔ نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا کہ اسے کیا چاہیے اور اس آدمی نے کہا کہ اسے پیسے کی ضرورت ہے۔ نبیؐ نے اپنی قمیص اتار کر اس شخص کو دے دی اور فرمایا کہ اسے بیچ دو اور اس رقم کو اپنی مدد کے لیے استعمال کرو۔

  • "ماہِ ربیع الاول میں گھروں سے زیادہ دلوں کو روشن کرنے کی ضرورت ہے”  — اعجازالحق عثمانی

    "ماہِ ربیع الاول میں گھروں سے زیادہ دلوں کو روشن کرنے کی ضرورت ہے” — اعجازالحق عثمانی

    ربیع الاوّل ایک ایسا عظیم الشان مہینہ ہے ۔ جس میں تاریکی، روشنی میں بدلی۔اور جہالت ، تہذیب میں تبدیل ہوئی۔ ربیع الاول کی اس قدر فضیلت کی وجہ نبی آخر الزماں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پیدائش مبارکہ ہے۔ اسی ماہ یعنی ربیع الاول کی 12 تاریخ کو اللہ تعالیٰ نے اپنے آخری نبی، پیغمبروں کے سردار، جنت کے سردار کے نانا، آقا کائنات، وجہ تخلیق کائنات محمد مصطفیٰ ،احمد مجتبیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس کائنات فانی میں بھیج کر نہ صرف مسلمانوں یا انسانوں، بلکہ کائنات کی ہر اک مخلوق پر ایک بہت بڑا احسان فرمایا۔اللہ تعالیٰ نے ہم انسانوں پر بے شمار احسانات کیے ۔ ہمارے لیے ماں باپ بنائے۔ رشتے بنائے ۔

    پھر ان رشتوں میں ہمارے لیے پیار و احساس جیسے جذبات پیدا کیے۔ موسم ، رنگ برنگے پھول اور دل کو چھو لینے والی قدرتی حسن سے مالا مال جگہیں بنائیں۔پھر کھانے کے لیے کیا کیا نہ بنایا ۔یہ سب بڑے احسانات ہیں۔ مگر ان سب احسانوں سے اللہ تعالیٰ کا بڑا احسان ہمارے درمیان اپنے آخری پیغمبر حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بھیجنا ہے۔اس احسان کے بارے اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں ۔

    لَقَدْ مَنَّ اللّهُ عَلَى الْمُؤمِنِينَ إِذْ بَعَثَ فِيهِمْ رَسُولاً مِّنْ أَنفُسِهِمْ يَتْلُواْ عَلَيْهِمْ آيَاتِهِ وَيُزَكِّيهِمْ وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ وَإِن كَانُواْ مِن قَبْلُ لَفِي ضَلَالٍ مُّبِينٍo (سورۃ آل عمران 3 : 164)

    ترجمہ: "بے شک اللہ نے مسلمانوں پر بڑا احسان فرمایا کہ ان میں انہیں میں سے عظمت والا رسول بھیجا جو ان پر اس کی آیتیں پڑھتا ہے اور انھیں پاک کرتا ہے اور انھیں کتاب وحکمت کی تعلیم دیتا ہے اگرچہ وہ لوگ اس سے پہلے کھلی گمراہی میں تھے”۔

    بلاشبہ عرب حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پیدائش سے پہلے گمراہی اور جہالت میں ڈوبے ہوئے تھے۔ چاروں جانب گناہوں اور جہالت کا اندھیرا اس قدر گہرا تھا کہ اچھائی کا ہونا ناممکن سا ہوگیا تھا۔ باپ ، بیٹے کا دشمن تھا۔ اور بیٹیوں کو باپ زندہ در گور کر دیتے تھے ۔ رشتوں کی تمیز ختم اور خون سفید ہوچکے تھے ۔

    حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم نے آکر ہمیں اشرف المخلوقات ہونے کے قابل بنایا۔ جہالت کو تہذیب اور اندھیرے کو روشنی میں ایسے بدلا کہ ایک دوسرے کی جان کے دشمن ایک دوسرے کے بھائی بن گئے ۔ بیوی کو باندھی سمجھنے والے ، اسے نصف ایمان کا درجہ دینے لگے ۔

    بیٹیوں کو زندہ در گور کرنے کی بجائے انھیں رحمت سمجھا جانے لگا۔یہ سب کیوں نہ ہوتا ۔ حضور صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کا کردار اور اسوہ اس قدر کامل تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے جانی دشمن بھی آپ کی صداقت اور ایمانتداری کو سلام کرتے تھے ۔

    سلام اے آمنہ کے لال ‘ اے محبوب سبحانی
    سلام اے فخر موجودات ‘ فخر نوعِ انسانی

    سلام! اے آتشیں زنجیرِ باطل توڑنے والے
    سلام! اے خاک کے ٹوٹے ہوئے دل جوڑنے والے

    سلام اس پر کہ جس نے بے کسوں کی دستگیری کی
    سلام اس پر کہ جس نے بادشاہی میں فقیری کی

    ربیع الاول کی آمد سے قبل ہی مسلمان اس کے استقبال کی تیاریوں میں مصروف ہوجاتے ہیں۔ ربیع الاول کے آغاز سے ہی گھروں، دفاتر اور مساجد میں چراغ کیا جاتا ہے ۔گھر ،گھر ،گلی ،گلی روشن نظر آتی ہے ۔ مگر ربیع الاول میں جس ہستی کی آمد پر ہم خوشیاں مناتے ہیں ۔ کیا اس ہستی کا پیغام ہمیں یاد ہے ؟۔ گھر تو روشن کر لیتے ہیں ۔ مگر دلوں میں نفرتیں، کدورتیں اور بغص ہی رکھتے ہیں ۔ ماہ ربیع الاول میں گھروں سے زیادہ دلوں کو روشن کرنے کی ضرورت ہے ۔ ہم جہالت کے اندھیروں میں پھر سے ڈوبتے جارہے ہیں۔ کیونکہ ہم نے ماہ ربیع الاول کے پیغام کو فراموش کر کے ، اس ماہِ مبارک میں صرف گھر روشن اور جھنڈیاں لگانے شروع کر دی ہیں۔

    بیشتر لوگ اب بیٹیوں کو رحمت کی بجائے زحمت سمجھنے لگے ہیں ۔ روزانہ کی بنیاد پر کئی ایسے کیسز سامنے آتے ہیں کہ بیٹی کی پیدائش پر شوہر نے بیوی کو طلاق دے دی ۔ بیٹے نے باپ کو اور باپ نے بیٹے کو قتل کر دیا۔ یہ سارے واقعات رونما نہ ہوتے ۔اگر ہم نے ربیع الاول اور اس ماہِ مبارک میں پیدا ہونے والی ہستی کے پیغام کو روشن کیا ہوتا۔ اگر ہم نے اپنے گھروں کو روشن کرنے کی بجائے، حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیغام کو روشن کیا ہوتا تو آج کا یہ معاشرہ بہت بہتر ہوتا۔

  • تیسری جنس: کچھ مزید وضاحت — ارشد خان صافی

    تیسری جنس: کچھ مزید وضاحت — ارشد خان صافی

    ٹرانسجنڈرز بل پر اپنی گزشتہ گزارشات کے تسلسل میں اور اس سلسلے سیاسی نیم ملاؤں فتویٰ بازی اور سیکولر دیسی لبرلوں کے نیم حکیمانہ نظریات کے تناظر میں مزید کچھ وضاحت پیش خدمات ہے- ٹرانسجنڈرز کے معاملے کو حسب روایت ہمارے وہ نیم حکیم اور نیم خواندہ قسم کے "سیکولر ترقی پسند” پیچیدہ بنا رہے ہیں جو الحاد اور کافرانہ لادینیت کو یا تو اپنی جہالت کی وجہ سے سیکولر ترقی پسندی کہتے اور سمجھتے ہیں یا پھر اپنے نفسیاتی مسائل کی وجہ سے ایک ایجنڈے کہ تحت مذہب بیزاری کو انسانیت دوستی کا لبادہ پہناتے ہیں باوجودیکہ اب تو ساینسدانوں میں بھی اس بات پر اجماع ہے کہ مذھب اور سانس ایک دوسرے کی زد نہیں بلکہ دو مختلف میدان ہیں- سائنس کے میدان کے صائب اہل فکر معاشرتی اقدار اور سماجی علوم کے معاملات میں سائنس کو بنیاد بنا کر فطرت کے خلاف جنگ کو کبھی ترقی پسندانہ سوچ نہیں کہتے ہیں – جو لوگ قران پر ایمان رکھتے ہیں انکےلئے تو یہ مسلہ بہت سادہ ہے کہ الله سبحانہ تعالہ فرماتے ہیں:

    وَ مِنْ كُلِّ شَیْءٍ خَلَقْنَا زَوْجَیْنِ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُوْنَ- (الذاريات – 49)
    اور جو چیزیں ہم نے پیدا کیں ان کے ہم نے جوڑے بنائے تاکہ تم نصیحت پکڑو!

    وَمِنْ اٰيٰتِهٖۤ اَنْ خَلَقَ لَكُمْ مِّنْ اَنْفُسِكُمْ اَزْوَاجًا لِّتَسْكُنُوْۤا اِلَيْهَا وَجَعَلَ بَيْنَكُمْ مَّوَدَّةً وَّرَحْمَةً ۗ (الروم آية ۲۱)
    اور اس کی نشانیوں میں سے یہ ہے کہ اس نے تمہارے لیے تمہاری ہی نفس سے بیویاں بنائیں تاکہ تم ان کے پاس سکون حاصل کرو اور تمہارے درمیان محبّت اور رحمت پیدا کر دی

    سیدھی سی بات ہے کہ سیکولر انسانی تاریخ اور تمام آسمانی کتابیں انسان میں صرف دو جنسوں یعنی مرد اور عورت کے وجود کی تصدیق کرتی ہے- انسانی اور مذہبی تاریخ میں تمام احکامات، اخلاقی ضابطے اور قوانین بھی دو جنسوں اور اصناف یعنی مرد اور عورت یا نراور مادہ کے تقسیم پر مبنی ہے- لہٰذا تیسری جنس اور صنف فطری قوانین کے مطابق بھی خلاف معمول معذوری یا بیماری کا مظہر ہے- اب یہ معذوری طبعی یا حیاتیاتی یعنی بیالوجیکل بھی ہوسکتی ہے جس میں کسی انسان کے ایکس اور وائی کروسوم یا جنسی غدود میں بے قاعدگیوں کی وجہ سے اس میں دونوں جنسوں کے اعضاء یا خصوصیات ظاہر ہوجاتی ہے اور نفسیاتی بھی جس میں کسی ایک صنف یا جینڈر میں میں پیدا ہونے والا فرد بشمول ہم جنس پرستی کے دوسرے صنف میں پیدا ہونے والے افراد کی طرح کا جنسی میلان رکھتا ہے- پہلی قسم جنکو جدید طبی اصطلاح میں ِانٹرسیکس یا بین صنفی ہجڑا اور اسلامی فق کی زبان میں خنثی کہا جاتا ہے تو ظاہر ہے کسی بھی معذور کی طرح انسانی اور اسلامی اخلاقیات کے تحت طبی علاج اور معاشرے کے سہارے کے مستحق ہوتے ہیں اور اس علاج میں جنسی اعضاء کی جراحی یا سرجری بھی شامل ہے- میڈیکل سائنس کی تاریخ میں ایک بھی ایسا کیس نہیں ہے جس میں کسی خنثی کے مردانہ اور زنانہ دونوں اعضاء موثر ہو اسلئے سرجری کے عمل سے ایسے کئی کیسز میں مریض کے موثر جنسی اعضاء رئیسہ کو بحال کرکے انکے اصلی جنس کے مطابق ڈھالا جاسکتا ہے- دوسری قسم جنکا مسلہ نفسیاتی اور اسلام سمیت اکثر مذہب اور روایتی اقدار کے تحت اخلاقی ہے اپنے اعلانیہ جنسی رحجانات کے لحاظ سے کئی صورتوں پر مشتمل ہے جنکیلئیے ماڈرن مغربی یا سیکولر معاشروں میں ہومو سکچول (ہم جنس پرست) ، گے، لزبین اور بائیسکچول جیسے اصطلاحات ہوتے ہیں اور جنھیں اجتماعی طور پر LGBT طبقہ کہا جاتا ہے- اسلامی فقہ میں اس طبقے کو عمومی طور پر مخنث کہا جاتا ہے اور اسلامی نظام عدل صرف انکے غیر فطری احساسات یا رحجانات کو یا محض کسی کے مخنث ہونے کو جرم قرار دیکرانکےلئے کوئی سزا تو تجویز نہیں کرتا لیکن مغربی سیکولر معاشرے کے اقدار کے برعکس اس طبقے کے جنسی ذوق کیلئے معاشرتی اقدار اور قوانین کو بدلنے کی جازت نہیں دیتا- اس میں ان طبقے کے غیر فطری شادیوں کو ناجائز قرار دینے کے ساتھ ساتھ سرجری کے ذریعے قدرتی غدود یا فطری جنسی اعضاء میں تبدیلی پر پابندی بھی شامل ہے-

    مغربی لادین سیکولر قوانین میں اخلاقیات سے مذہبی اور فطری اقدار کی مکمل جدائی کے باعث پیدائشی صنف یا جینڈر اور اپنے ذاتی رحجان یا ذوق کے تحت اختیار کے گیے شعوری سکس یا جنس کو دو مختلف چیزیں قرار دی گئی ہے جبکہ اسلامی قوانین اور اقدار اس طرح کے کسی مصنوعی خود ساختہ شناخت کو تسلیم نہیں کرتے جسکا اثر کسی فرد کی ذاتی جنسی زندگی تک محدود نہیں رہتا بلکہ خاندان کا ادارہ اور معاشرتی اقدار کو متاثر کرتا ہے- پاکستان میں ٹراسنجینڈر بل کو ڈرافٹ کرنے والوں یا تو مسلے کو نوعیت کے متعلق اپنی کم علمی یا جہالت یا پھر کسی ایجنڈے کے تحت اس دونوں متنوع طبقات کو ٹرانسجنڈر کے عمومی اصطلاح کے تحت ایک ہی قانون میں خصوصی حقوق دیے ہیں جس سے جماعت اسلامی کے سینیٹر مشتاق احمد خان صاحب کے نشان دہی پر بوجوہ شدید قسم کے اعتراضات اور رد عمل آیا ہے جس میں ظاہر ہے سینیٹر صاحب کا مواقف اصولی طور پر درست ہے- مجوزہ بل پر اعتراض کی وجوہات میں اسلامی تعلیمات اور اصولوں کی خلافورزی کے علاوہ ایک جائز اعتراض یہ بھی ہے کہ پاکستانی جیسے معاشروں مذہب کے علاوہ بھی غیر مسلم اور سخت مذہبی رحجانات نہ رکھنے والے افراد اور طبقات کے بھی کچھ حساس معاشرتی روایات ہوتے ہیں- معاشرے کے عمومی اقدار کے خلاف رحجانات یا جنسی زوق رکھنے والوں کی طرف سے بل کے تحت بنے قوانین کے غلط استعمال کے ذریعے ایسے افراد کا اپنی خود ساختہ جنسی شناخت کے تحت معاشرتی میل جول شدید قسم کی معاشرتی پیچیدگیوں اور متشدد جرائم کا باعث سکتی ہے- اسلئے سیکولر معاشروں میں بھی عمومی معاشرتی اقدار کے خلاف ایسے متنازعہ قوانین سے اجتناب کیا جاتا ہے- جہاں تک اسلامی فقہ کی بات ہے تو نیم خواندہ دیسی لبرلوں اور سرخوں کے عمومی تاثر کے برعکس باقی پوسٹ ماڈرن معاشرتی اور قانونی مسائل کی طرح اس معاملے میں بھی اسلامی تعلیمات بانجھ نہیں ہیں- رسول اللہﷺ کے عہد مبارک میں بھی تیسری جنس موجود تھی جنکا ذکر بخاری اور ابو داوود کے روایات میں ملتا ہے- بعض کے نام بھی ملتے تھے جیسے کہ معیت ،نافع ،ابوماریہ الجنّہ اور مابور اور یہ لوگ رسول اللہﷺ کے ساتھ شرائع اسلام ادا کرتےتھے۔ نمازیں پڑھتے ،جہاد میں شریک ہوتے، پورے شہری وں انسانی حقوق رکھتے تھے اور دیگر امور خیر بھی بجا لاتے تھے۔ ان کے کچھ طبقات کی سماجی اقدار کے خلاف حرکتوں کی وجہ سے ان کے خلاف کچھ معاشرتی پابندیاں لگا دی گئی تھی- اسی طرح روایتی اسلامی اصول قانون میں مخنث، خنثی اور ہم جنس پرست کے تین مختلف صورتوں واضح فرق اور متعلقہ احکام آج کے پوسٹ ماڈرن معاشرتی جنسی مسائل میں بھی اسلامی فقۂ کی رہنمائی کیلئے موجود ہیں– اس طرح اگر انسانی حقوق کے نام پر قانون الہی کو کسی طبقے کے ذوق یا نفسیاتی عوارض کی خاطر بدلنے کا اختیار معاشرے اور ریاست کو دے دیا جاے تو پھر تو بچوں کے جنسی زیادتی کرنیوالے اور جنسی یا نفسیاتی تسکین کیلئے کئی اور قسم کے "غیر روایتی” اعمال کو بھی جائز قرار دیکر قانونی تحفظ دیا جاسکے گا جن میں کئی سیکولر اور مکمل لادین معاشروں کے معیار پر بھی بدترین جرائم ہیں-

  • ہیں لوگ وہی جہاں میں اچھے، آتے ہیں جو کام دوسروں کے۔۔۔!!!

    ہیں لوگ وہی جہاں میں اچھے، آتے ہیں جو کام دوسروں کے۔۔۔!!!

    ہیں لوگ وہی جہاں میں اچھے، آتے ہیں جو کام دوسروں کے۔۔۔!!!
    تحریر: شوکت ملک
    اس نفسا نفسی، مفاد پرستی اور خود غرضی کے دور میں بھی کچھ فرشتہ صفت اللّٰہ پاک کے محبوب بندے ابھی تک دنیا میں موجود ہیں، جو صرف اپنے لیے نہیں بلکہ دوسروں کےلیے بھی جیتے ہیں، ایسی ہی ایک خوش شکل، خوش لباس، با اخلاق، انسانی خدمت کے جذبے سے لبریز، درد دل رکھنے والی عاجزی و انکساری سے بھرپور شخصیت ملک فضل الرحمٰن کی بھی ہے، جوکہ لذیذہ مرغ پلاؤ راولپنڈی و اسلام آباد کے چیف ایگزیکٹو اور ق لیگ کی یوتھ ونگ کے سینئر عہدے دار بھی ہیں، ملک صاحب سے غیبی شناسائی ہے اور وقتاً فوقتاً بذریعہ فون کالز، میسجز ان سے بات ہوتی رہتی ہے، یہ میری بدقسمتی ہے کہ تاحال ان سے بالمشافہ ملاقات نہ ہو سکی، موجودہ دور میں پیسہ، مال و دولت تو ہر ایرے غیرے کے پاس موجود ہے مگر میں نے اپنی چند سالہ زندگی میں ملک فضل الرحمٰن جیسی غرور و تکبر سے پاک، عاجزی و انکساری سے بھرپور شخصیت نہیں دیکھی، جوکہ ہر چھوٹے، بڑے، امیر و غریب سے یکساں برتاؤ رکھتے ہوئے خصوصی شفقت فرماتے ہیں۔ ملک صاحب چاہے کورونا جیسی موذی وباء ہو، مری میں بدانتظامی کے باعث انسانی جانوں کا ضیاع ہو یا سیلاب جیسی ناگہانی آفت ہمہ وقت دکھی انسانیت کی خدمت میں پیش پیش رہتے ہیں، شاید یہی صفت ہی اصل میں ان کی کامیابی کی کنجی ہے کہ اللّٰہ تعالٰی نے ان کو دنیا کی تمام نعمتوں اور آسائشوں سے نواز رکھا ہے۔ جب بھی ملک صاحب سے کسی غریب و لاچار کی مدد کی درخواست کی انہوں نے بلاحیل و حجت دل کھول کر تعاون کیا، شاید ایسے ہی لوگوں کے بارے میں حضرت علامہ اقبال اپنی نظم "ہمدردی” میں کئی سال پہلے فرما گئے تھے کہ:
    ہیں لوگ وہی جہاں میں اچھے
    آتے ہیں جو کام دوسروں کے
    دعا ہے اللّٰہ سبحانہ وتعالیٰ ملک صاحب کی جان، مال و اولاد، کاروبار اور زندگی میں مزید برکتیں عطاء فرمائے اور یونہی دکھی انسانیت کی خدمت کرنے کی توفیق عطاء فرمائے۔ آمین

  • ٹرانس جینڈر ایکٹ کیا اور اس کی مخالفت کیوں ضروری ہے؟ — شہنیلہ بیلگم والا

    ٹرانس جینڈر ایکٹ کیا اور اس کی مخالفت کیوں ضروری ہے؟ — شہنیلہ بیلگم والا

    کوشش کر رہی ہوں کہ اس بات کو عام فہم انداز میں سمجھا سکوں.

    دنیا کا کوئی بھی انسان مکمل نہیں ہوتا. بعض کجیاں واضح ہوتی ہیں اور بعض غیر واضح. بعض ہمارے معاشرے میں بآسانی تسلیم کر لی جاتی ہیں. جیسے اپنی مثال دیتی ہوں. میری نظر آٹھ سال کی عمر میں ہی کمزور ہوگئی تھی. امی نے فوراً ہی میری آئی سائٹ چیک کروائی. ڈاکٹر سے پوچھ کر ہر وہ خوراک کھلائی جس سے نظر تیز ہو. یہ زیادہ تر گھروں میں عام رویہ ہوتا ہے. اسی طرح اگر کوئی لڑکا یا لڑکی جنس مخالف کی طرح حرکتیں کرتا/ کرتی ہے، تو گھر والوں کو اس، کا سدباب کرنا چاہیے. یہاں پہ لڑکے کی مثال اس لیے دے رہی ہوں کہ یہ مثالیں ہمارے اردگرد زیادہ ہیں. اگر کسی گھر میں بہنیں زیادہ ہیں تو اکلوتا لڑکا ہر وقت ان کے ساتھ بیٹھ بیٹھ کر لڑکیوں کی عادات و حرکات نادانستگی میں اپنا لیتا ہے اور اگر شروع میں ہی اس کا سدباب نہ کیا جائے تو عمر بڑھنے کے ساتھ یہ عادتیں پختہ ہوتی جاتی ہیں. پھر ایسے لڑکے جانِ محلہ کہلاتے ہیں. ان کو ایکسپلائٹ کرنے میں خاندان اور محلے کے اوباش اور بدفطرت لوگوں کا بہت بڑا، ہاتھ ہوتا ہے.

    یہاں بات مکمل مرد اور عورت کی ہو رہی ہے خواجہ سراؤں کی نہیں خواجہ سراؤں کی اس وقت جو حالت ہے اس کے زمہ دار ہم سب ہیں. ہم نے انہیں تفریح طبع کا سامان بنا کر رکھ دیا. ان کا پورا حق ہے کہ انہیں بھی ہر طرح کے مواقع ملیں جو کسی بھی مرد یا عورت کو ہمارے معاشرے میں حاصل ہیں. اس کے لیے ہر قسم کی قانون سازی ضروری ہے لیکن ان کی آڑ میں جو مزموم سازش رچائی جا رہی ہے اس کے لیے آواز اٹھانا انتہائی اہم ہے.

    اس قانون سے وہ لوگ فائدہ اٹھانا چاہ رہے ہیں جو مکمل مرد اور عورت ہیں لیکن اپنی جنس سے خوش نہیں. صاف لفظوں میں بیان کیا جائے تو ان کو ہم جنس پرستی کی آزادی چاہیے. میں یہ نہیں کہتی کہ یہ ہمارے معاشرے میں نہیں ہے لیکن کیا جو گناہ اور جرم ہمارے معاشرے میں ہو رہا ہے اس کو قانونی جواز اور اجازت دے دیں.

    جس فعل کے بارے میں قرآن پاک میں تفصیل سے بیان کر دیا گیا ہے. آپ اس کو شخصی آزادی اور ترجیح کے نام پر حلال نہیں کر سکتے. ہم جس معاشرے میں رہتے ہیں اس میں دین کی معمولی شد بدھ رکھنے والا بھی جانتا ہے کہ یہ حرام ہے. جو کرتے ہیں وہ بھی جانتے ہیں.. اس کے باوجود یہ ہمارے معاشرے میں پنپ رہا ہے. اگر اس کو قانونی استحکام مل گیا تو سوچییے کیا حشر ہوگا. یہ لمحہ فکریہ ہے. اس پہ آواز اٹھانی ہے. یہ ہماری نسلوں کی بقا اور ہماری آخرت کا معاملہ ہے.