Baaghi TV

Category: مذہب

  • ڈیرہ غازیخان۔ محرم الحرام یوم عاشورہ ،پولیس کا فلیگ مارچ، پاک فوج اور رینجرز کی خدمات طلب

    ڈیرہ غازیخان۔ محرم الحرام یوم عاشورہ ،پولیس کا فلیگ مارچ، پاک فوج اور رینجرز کی خدمات طلب

    ڈیرہ غازیخان۔ محرم الحرام یوم عاشورہ ،پولیس کا فلیگ مارچ، پاک فوج اور رینجرز کی خدمات طلب
    مجالس اور جلوس کی ڈرون اور خفیہ کیمروں کے ذریعے نگرانی ،سوشل میڈیاکی بھی مانیٹرنگ شروع،عاشورہ تک ضلع میں 463 جلوس اور 940 مجالس منعقد ہوں گی127 مجالس اور 35 جلوسوں کو انتہائی حساس قرار دیا گیا ہے فرقہ وارانہ ہم آہنگی کی فضا برقرار رکھنے کیلئے 25 علما اور ذاکرین کی ضلع بندی اور 13 کی ضلع بندی کی گئی ہے
    باغی ٹی وی رپورٹ۔ڈیرہ غازیخان۔ محرم الحرام یوم عاشورہ جلوس روٹ پر ڈی پی او محمد علی وسیم کی ہدایت پر فلیگ مارچ۔ فیلگ مارچ میں ڈسٹرکٹ پولیس کے ہمراہ قانون نافذ کرنے والے ادارے ،ڈولفن فورس، ٹریفک پولیس اور ایلیٹ فورس کے دستے بھی شامل تھے۔فلیگ مارچ ایس پی انوسٹی گیشن غیور احمد خان کی قیادت میں پولیس لائن سے شروع ہو کر بمبے چوک اور روٹ جلوس کے راستہ سے ہوتا ہوا واپس پولیس لائن اختتام پذیر ہوا۔


    فلیگ مارچ کا مقصد عوام الناس کو یہ باور کرانا ہے کہ ڈسٹرکٹ پولیس ڈیرہ غازیخان ہر طرح کی صورت حال سے نمٹنے کے لئے تیار ہے۔دوسری طر ف وزیر اعلی پنجاب چوہدری پرویز الہی نے صوبائی وزیر خزانہ پنجاب سردار محمد محسن خان لغاری کو محرم الحرام اور سیلاب کے انتظامات کی نگرانی کیلئے ضلع ڈیرہ غازی خان ذمہ داریاں سونپ دی گئیں ہیں انہوں نے ڈیرہ غازی خان کا دورہ کیا سرکٹ ہائوس اور ضلعی کنٹرول روم میں بریفنگ دی گئی۔رکن صوبائی اسمبلی محمد حنیف پتافی ،ڈپٹی کمشنر محمد انور بریار ،ڈی پی او محمد علی وسیم اور دیگر موجود تھے ،صوبائی وزیر خزانہ پنجاب سردار محمد محسن خان لغاری نے میڈیا کے ساتھ بھی گفتگو کی ،صوبائی وزیر خزانہ پنجاب سردار محمد محسن خان لغاری نے کہا کہ محرم الحرام کے دوران امن و امان اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کی فضا برقرار رکھنے کیلئے سوشل میڈیا کو بھی مانیٹر کیا جائیگا ۔ مجالس اور جلوس کی ڈرون اور خفیہ کیمروں کے ذریعے نگرانی کی جائے گی۔امن و امان میں معاونت کیلئے پاک فوج اور رینجرز کی خدمات طلب کرلی گئی ہیں۔سوشل میڈیا پر نفرت اور اشتعال انگیز پوسٹ لگانے والے کا سراغ لگا کر سخت کارروائی کریں گے۔ایف آئی اے سائبر کرائم اور دیگر ادارے متحرک کردئیے گئے ہیں رکن صوبائی اسمبلی محمد حنیف پتافی نے کہا کہ ضلع میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی کی فضا کیلئے انتظامیہ اور امن کمیٹی کا اہم کردار ہے۔ڈپٹی کمشنر محمد انور بریار نے کہا کہ امن و امان میں معاونت کیلئے پاک فوج اور رینجرز کی خدمات طلب کرلی گئیں۔ ضلع میں حساس مقامات پر 54 سی سی ٹی وی کیمرے نصب کئے گئے ہیں۔ ڈی پی او محمد علی وسیم نے کہا کہ پنجاب پولیس،ایلیٹ اور دیگر فورسز سیکورٹی کے فرائض انجام دیں گے،عاشورہ تک ضلع میں 463 جلوس اور 940 مجالس منعقد ہوں گی127 مجالس اور 35 جلوسوں کو انتہائی حساس قرار دیا گیا ہے فرقہ وارانہ ہم آہنگی کی فضا برقرار رکھنے کیلئے 25 علما اور ذاکرین کی ضلع بندی اور 13 کی ضلع بندی کی گئی ہے

  • ماتھا ٹیکنا ایک ہندوانہ رسم — حسام درانی

    ماتھا ٹیکنا ایک ہندوانہ رسم — حسام درانی

    الف
    اللہ چنبے دی بوٹی میرے من وچ مرشد لائی ہو
    نفی اثبات دا پانی ملیں ہر رگے ہرجائی ہو
    اندر بوٹی مشک جمایا جان پھلاں تے آئی ہو
    جیوے مرشد کامل باہو جہس ایہہ بوٹی لائی ہو

    کلام باہو سے تحریر کا آغاز کرنے کا مقصد ایک موضوع کو زیر تحریر لانا تھا، ہم میں سے کتنے ہی اس کلام سے واقف ہیں اور صوفی ازم میں دلچسپی رکھنے والے ان اشعار کے معنی بھی خوب جانتے ہیں۔

    اصل موضوع تو ہے خدا کی واحدنیت کا اعتراف کرنا کسی کو اسکا ہم سر نا ٹھہرانا، اسی کی عبادت اور اسی کو سجدہ کرنا۔ اسلام کے بنیادی عقائد میں سے ایک اللہ کی پاک ذات کو ایک ماننا اسی کے آگے جھکنا اور ہر مسلمان اپنے تئیں دن بھر میں پانچ نمازوں کے دوران رکوع اور سجود کی حالت میں اس بات کا اقرار کرتا ہے کے سواے رب کی ذات کے کوئی سجدے کے قابل نہیں ہے۔

    راقم نا تو اسلام کا مفکر اور نا ہی کوئی مذہبی ٹھیکدار ہے لیکن کوشش ہمیشہ اسی بات کی ہوتی ہے کے اسلام کے بنیادی عقائد سے متصادم کسی بھی چیز کو صاحبان علم و عقل کی باتوں سے پرکھا جاے۔

    پاکستان میں ایک سیاسی جماعت کے سربراہ جو کے آجکل اسلامی تعلیمات کے مطابق عمل کرنے پر زور دیتے ہیں، جنہوں نے بہت سے علماء وقت سے تعلقات کی بنا پر پاکستان میں ہمیشہ خلفہ راشدین کے ادوار کی ہی مثالیں دیں ہیں اور سب سے بڑھ کر وہ اس بات کا کھلے عام کہتے ہیں کے حضرت عمر کا دور حکومت لے کر آئیں گے۔ لیکن اگر دیکھا جاے تو عملی طور پر بہت دفعہ ان سے ایسے کام سرزد ہو جاتے ہیں جو کے بعد میں ان کے لیے باعث ندامت ہوتے ہیں۔

    اسی طرح اگر ہم پاکستان کی سیاسی تاریخ میں دیکھتے ہیں تو بہت سے سیاست دان اورکئی سیاسی جماعتوں کے سربراہان اسلام کی محترم ہستیوں کو اپنے لیے رول ماڈل کا درجہ دیتے ہیں اور بات بات پر ان کے حوالہ جات دیے جاتے ہیں ، لیکن اس کارساز سیاست میں ان کے عمل کے ساتھ ساتھ اگر ان کی ذاتی زندگی پر نظر ڈالتے ہیں تو گراوٹ اور پستی کے علاوہ کچھ نظر نہیں آتا۔

    اب اگر انتہائی ماضی قریب کی بات کرتے ہیں تو قارئین نے اپنی آنکھوں، اور کانوں سے ابن عربی سے زیادہ علم کے بارے میں سنا اور اس ہستی کو دیکھا ، اسی طرح ناموس رسالت ؐ کے تحفظ کے لیے دشنام درازی سے لبریز اجتماعات کہیں حضرت عمر پر ہوے مواخذے کا شور ہوتا ہے تو کہیں ناموس رسالت پر سیاست سب کے سامنے ہیں۔

    اگر نیاز ی صاحب کی بات کرتے ہیں تو جیسے ہر انسان کو اپنی زندگی آزادانہ گزارنے کا پورا حق ہے اسی طرح نیازی صاحب بھی پاکستان کے ایک شہری کی طرح یہ حق رکھتے ہیں لیکن بطور ایک کرکٹ اسٹار اور ایک سیاستدان کے تمام لوگوں کی نظر ان پر ایک سپراسٹار والی ہوتی ہے۔ نیازی صاحب نے اپنی زندگی کا ایک بڑا حصہ لائم لائیٹ میں گزارا اور اب عمر کے اس حصے میں بھی اس سے جان چھڑوانا ناممکن ہے ، وہ جو بھی کرتے ہیں وہ فورا ہی زبان زد عام ہو جاتا ہے۔

    إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَِعِیْن سے اپنی تقریر کا آغاز کرنے والا (شکریہ پروفیسر رفیق اختر صاحب، کیونکہ انہوں نے کہا تھا کے تقریر ان الفاظ سے شروع کرو) اور اس کے فورا بعد نت نیا میوزک شروع ہو جاتا ہے۔ یاران من نے اسکو قول کیا اور ایک سے بڑھ کر ایک توجیہ دی، لیکن حالیہ ویڈیو میں نیازی صاحب کو سجدہ کرتے ہوے دیکھا جا سکتا ہے، یار لوگوں نے کہا کے ہو ہی نہین سکتا کے خان سجدہ کرے لیکن جب ویڈیو وائیرل ہوئی تو دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو گیا۔

    نیازی صاحب کی تمامتر سیاست کا مرکز صرف اور صرف وزارت عظمی کی کرسی کا حصول ہے جسکا اعادہ وہ انہوں نے بار ہا کیا، اسی کرسی کے حصول کے لیے تماتر جائز و ناجائز کام کرنے سے بھی نہیں چوکتے، لیکن جہاں کام کرنے کی باری تھی اور پورے پانچ سال تک بلا شرکت غیرے کے مطابق حکومت تھی وہاں کام کیا ہوا اور سارا وقت اسلام آباد اور لاہور کی سڑکوں کی خاک ہی چھانتے رہے بمعہ خلائی مخلوق کو سجدے ۔

    اور اب پانچ سال کے بعد جب تمام جماعتیں اپنے دور حکومت میں کئے گئے کام گنوا رہی ہیں تو نیازی صاحب اپنی پیرنی کا پلو تھامے مزاروں پر سجدے دینے لگ پڑے ہیں ۔ نیازی صاحب کی ان حرکات سے ایک بات یاد آتی ہے ۔

    ” پیر بابا علیہ الرحمہ کے مزار شریف پر ایک شخص زار و قطار رو رو کر دعا مانگ رہا تھا۔

    کہ

    ” اے پیرا بابا آپ کو تو معلوم ہے میں اکیلا ہوں ، تربور ( شریکے ) زیادہ ہیں۔ جائداد پر انھوں نے قبضہ کیا ہوا ہے ۔

    آپ ہی اب ساتھ دینا مجھے کم ازکم پانچ بیٹے عطا فرمانا”

    کچھ دیررونے کے بعد خاموش ہوجاتا پھر دعا کے لئے ہاتھ اٹھا کر اسی کرب کے ساتھ دعا مانگنے لگ جاتا ۔

    لیکن دوسری باری میں بیٹوں کی ڈیمانڈ پانچ سے چار پر آگئ۔

    کرتے کراتے آخرکار ایک پر آڑ گیا ۔

    کہ کم ازکم ایک بیٹے کے بغیر تو واپس خالی ہاتھ نہیں لوٹوں گا۔

    قریب ایک خدا ترس بندہ یہ سارا منظر دیکھ رہا تھا۔

    اس سے یہ حالت نہ دیکھی گئی اور پاس آکر پیار سے پوچھا ،

    ” بھائی صاحب آپ کی شادی کو کتنا عرصہ ہوا ہے ؟”

    وہ سائل غصے میں بولا

    ” شادی کی ہوئی ہوتی تو یہاں پر آتا؟؟؟؟”

    اگر پانچ سال خیبرپختونخوا میں کارکردگی دکھائی ہوتی تو پاکپتن کیا لینے جاتا ۔

    وزیراعظم کی کرسی کیلئے پہلے زندوں کے پاؤں گرتا رہا پھر پیرنی کے آگے اور اب مردوں کو سجدہ کرنے لگا۔

    وَتُذِلُّ مَن تَشَاءُ

    ثناء خواں تقدیس نیازی صاحب باہر آئے اور ایسی ایسی توجیہات پیش کیں کہ اللہ کی پناہ۔ لیکن میرے وہ تمام دوست اس بات کو بھول گئے کے اسلام کے بنیادی عقائد میں سے ایک سوائے رب کی ذات کے کسی کے آگے نہیں جھکنا، اور غیر اللہ کے سامنے تو شرک ہے۔ اس معاملے میں راقم کی کم علمی کو دوست احباب نے مختلف مشائخ کے آئمہ کرام کی کتب اور خطبات کے حوالہ جات سے پورا کیا۔

    چند یاران من نے تو جذبات میں یہاں تک کہ دیا کے جب وہ اپنے والد کے مرقد پر جاتے ہیں تو اسے بھی چومتے اور اپنا سر رکھتے ہیں ، یہ سجدہ تعظیمی تھا، کچھ نے کہا کے چوکھٹ چومی تھی ، کچھ نے کہا کے اسکا ایک گھٹنا ہوا میں تھا، الغرض جتنے منہ اتنی باتیں، صرف یہ بتانے کے لیے کے نیازی صاحب نے جو کیا وہ حلال تھا۔

    اگر اس معاملے میں مولانا احمد شاہ نورانی کی بات سنی جاے تو بقول ان کے مزارات پر جا کر سر جھکانا، سجدہ کرنا منع ہے، اگر عبادت کی غرض سے سجدہ یا جھک جانا شرک اور تعظیم کی غرض سے حرام ہے۔ امام احمد رضا رحمتہ اللہ نے قبر پر حاضری کی نسبت جو آداب بتاے ہیں یقینا وہ میرے قارئین کی نگاہوں سے اوجھل نہیں،

    اسی موضوع پر میرے ایک دوست/ بھائی نے پوسٹ کی کے اس ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کے کپتان کو پیرنی نے انگلی کا اشارہ کیا تو وہ فورا سجدہ ریز ہو گیا، اب بندہ زوجہ سوئم کے اشارے پر بھی نا چلے۔

    تو جناب یہ تو نیازی صاحب کی بہت پرانی عادت ہے انگلی کے اشارے پر چلنا چاہے بیگم کی انگلی ہو یا ایمپائر کی۔۔۔۔

    لیکن اسلام ان انگلیوں کے اشارے نہیں مانتا، اب چاہے عبادت کے لیے ہو یا تعظیم کے لیے

    سجدہ صرف ایک واحد ذات کے لیے

    سجدہ صرف خدا کے لیے۔

    کرسی کی محبت میں ہم آشفتہ سروں نے

    وہ سجدے کئے ہیں جو جائز بھی نہی تھے

    جو لوگ کہہ رہے ہیں چوکھٹ کو بوسہ دیا، وہ غور سے دیکھیں کہ خان صاحب چوکھٹ سے پہلے ہی سجدہ ریز ہو گئے، چوکھٹ پر منہ شریف رکھا نہیں، تو کیا وہ زمین چاٹ رہے تھے اور اسے بوسہ دے رہے تھے….

    حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا اور ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتےہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر نزع کی حالت طاری ہوئی تو آپ ﷺ اپنی چادر چہرہ مبارک پر باربار ڈال لیتے پھر جب شدت بڑھتی تو اسے ہٹا دیتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی حالت میں فرمایا تھا کہ اللہ کی لعنت ہو یہود و نصاریٰ پر جنہوں نے اپنے انبیاء کی قبروں کو سجدہ گاہ بنا لیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی امت کو ان(یہود ونصاریٰ) کے کئے سے ڈرانا چاہتے تھے۔

    (صحیح البخاری:3454)

  • علماء کرام پر اعتراض، حقیقت کیا؟؟؟  — نعمان سلطان

    علماء کرام پر اعتراض، حقیقت کیا؟؟؟ — نعمان سلطان

    اعتراض :–کیا علماء کرام قدامت پرست ہیں. اور جدید دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ نہیں ہیں.

    جواب :–اس اعتراض کے دو حصے ہیں.

    پہلا حصہ ہم علماء کرام کو قدامت پرست کیوں کہتے ہیں.

    دین اسلام آج سے تقریباً چودہ سو سال پہلے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی معرفت ہم تک پہنچا. کیوں کہ یہ دین اللہ پاک کا آخری اور مکمل دین ہے. اس لئے ہم نے دنیا میں زندگی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بتائے ہوئے طریقے کے مطابق گزارنی ہے.

    اس لئے ہمیں جب بھی کسی شرعی حکم کے بارے میں جاننا ہوتا ہے تو ہم قرآن، حدیث اور اجماع امت کو دیکھتے ہیں. اگر وہاں سے راہنمائی ملے تو ٹھیک ہے ورنہ پھر علماء امت قیاس کرتے ہیں اور اس کے مطابق وقت کے علماء متفقہ طور پر شرعی مسئلے کا حل بتاتے ہیں.

    یہ یاد رکھیں کہ دین کے اصول اور حکم اٹل ہیں ہم ان میں کمی بیشی نہیں کر سکتے ہیں. اور جب ہم اپنے شرعی معاملات کے حل کی راہنمائی کے لئے چودہ سو سال پیچھے دیکھتے ہیں تو یہ قدامت پرستی نہیں بلکہ اسلام کی حقانیت اور جامعیت کا ثبوت ہے.

    اعتراض کا دوسرا اور اہم حصہ کہ علماء جدید دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ نہیں؟؟؟؟

    جدید دور کے تقاضوں سے ہم عموماً مراد کپڑوں میں شلوار قمیض کے بجائے پینٹ شرٹ، زبان میں اردو اور عربی کے بجائے انگریزی، مدرسے سے فارغ التحصیل ہونے کے بجائے کسی یونیورسٹی کی ڈگری، اس کے علاوہ غیر نصابی سرگرمیاں جیسے ہوٹلنگ، کوئی گیم(کھیل ) یا کوئی سیمینار وغیرہ اور اس کے علاوہ روشن خیالی (اس کی تعریف لوگوں کی نظر میں مختلف ہے اور لوگوں کا سب سے زیادہ زور بھی اسی پر ہوتا ہے ) شامل ہیں.

    ابھی ہمیں سب سے پہلے یہ سمجھنا پڑے گا کہ مدارس میں اکثریت غریب گھرانوں کے بچے تعلیم حاصل کرتے ہیں. اور روشن خیالی کے علاوہ جتنی بھی چیزیں اوپر گنوائی گئی وہ غریب گھرانوں کے بچے دوران تعلیم اور کسی مسجد یا مدرسے میں نوکری ملنے کے بعد بھی افورڈ ہی نہیں کر سکتے. تو وہ انہیں اختیار کیسے کریں گے.

    اب جہاں تک بات روشن خیالی کی ہے. اگر وہ ممنوعات دین کے بارے میں ہے. تو جو دین کے اصول حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت سے طے ہو گئے ان میں ہم تبدیلی نہیں کر سکتے.

    لیکن بعض مقامات پر جہاں شریعت میں گنجائش یا ابہام ہے وہاں پر بعض علماء ضد میں آ کر انہیں بھی ممنوع کے درجے میں لے جاتے ہیں..اور اسی وجہ سے لوگ علماء سے متنفر ہوتے ہیں.

    ان مسائل کا حل:

    ابھی ضرورت اس امر کی ہے کہ جیسے سکولوں میں اسلامیات اور قرآن کی تعلیم لازمی ہے ایسے ہی مدرسوں میں بھی انگریزی سمیت جدید علوم کی تعلیم لازمی قرار دی جائے.ہمیں چاہیے ہم علماء کو صرف شادی بیاہ، جنازوں اور نمازیں پڑھانے تک محدود نہ رکھیں بلکہ انہیں اپنی سوشل تقریبات کا لازمی جز بنائیں تاکہ وہ بھی ہمارے ساتھ ہم آہنگ ہو سکیں اور علماء اور نوجوان نسل کے درمیان فاصلے کم ہو سکیں.

    پہلے وقتوں میں امیرالمومنین مرکزی مسجد میں خود نمازیں پڑھاتے تھے خطبے دیتے اور اہم اعلانات (جیسے اعلان جنگ وغیرہ) کرتے تھے. وہ اپنے وقت کے دین کے عالم بھی ہوتے تھے اور وہ اپنے طرز عمل سے ثابت کرتے تھے کہ علماء کرام کا کام صرف امامت کرنا نہیں بلکہ امت کی اصلاح اور قیادت کرنا ہے.

    اس کے علاوہ مفتی حضرات کے لئے ماہرین کی مدد سے دو سال کا فزکس، بائیو اور کیمسٹری کا سپیشل کورس مرتب کیا جائے. جس میں ارتقاء، بگ بینگ اور ان سے متعلقہ نظریات اور جدید تحقیق کے بارے میں آسان اور عام فہم زبان میں انہیں بتایا جائے.

    اور انہیں پابند کیا جائے جب تک آپ یہ کورس نہیں کرتے آپ صرف عالم دین ہوں گے. دینی معاملات میں فتویٰ نہیں دے سکیں گے. اور حکومت وقت کی طرف سے مساجد کے لئے چار یا پانچ درجے بنائے جائیں.

    مسجد کے خادم، خطیب، قاری اور مفتی صاحب کو اچھے گریڈ میں اچھی سے اچھی تنخواہ دی جائے تا کہ وہ فکر معاش سے بے فکر ہو کر دین کی خدمت کر سکیں.

    مساجد اور مدارس جب تک زکوٰۃ خیرات کے پیسے پر چلتے رہیں گے وہاں سے فرقہ واریت ختم نہیں ہو گی.. حکومت کو تمام دینی مدارس اور مساجد کو اپنے کنٹرول میں لینا چاہیے. اور مدارس میں علماء کے ساتھ ساتھ متعلقہ مضامین کے ماہر اساتذہ کو بھی طلباء کی تعلیم و تربیت کے لئے مستقل بنیادوں پر بھرتی کرنا چاہیے.ان تمام اور ان جیسے دیگر اقدامات سے جو مدارس سے علماء کی کھیپ تیار ہو گی وہ لازمی پراعتماد اور جدید دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہو گی.

  • دردِ دل کے واسطے پیدا کیا انسان کو! — حافظ گلزارعالم

    دردِ دل کے واسطے پیدا کیا انسان کو! — حافظ گلزارعالم

    خوش طبع بنئے، ہنس مکھ بنئے، خوشیاں بانٹئے۔ دو دن کی زندگی سے خود بھی لطف اندوز ہوں۔ دوسروں کو بھی خوش رکھیں۔ کبھی کسی کو دکھ نہ دیں۔ کبھی کسی کی دل آزاری ہو تو معافی میں پہل کریں۔ آپ ہردلعزیز بن جائیں گے۔

    دنیا میں ہر طرح کے اچھے برے لوگ بستے ہیں، سب اپنی اپنی زندگی گزارتے ہیں اور گزرجاتے ہیں۔ مگر یاد وہی رہتے ہیں، جو خوشیاں بانٹتے ہیں، دوسروں کے دکھ درد میں، اور خوشی غمی میں شریک ہوتے ہیں، سب کو اپنا سمجھتے ہیں، کسی کے لئے دل میں برائ نہیں رکھتے۔

    جس قدر ممکن ہو۔ خلق خدا کو نفع پہنچائیے۔ آپ کے بگڑے کام بنتے رہیں گے۔ اور اللہ آپ کو وہاں سے عطا کرینگے۔ جہاں سے آپ کا گمان بھی نہ ہوگا۔

    احادیث مبارکہ میں خلق خدا کو خوش رکھنے پر بڑی بشارتیں آئ ہیں۔
    1. حضرت انس اور حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہماسے روایت ہے کہ رحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’ساری مخلوق اللہ تعالیٰ کی عیال یعنی کنبہ ہے، پس اللہ تعالیٰ کو اپنی ساری مخلوق میں زیادہ محبت اس شخص سے ہے جو اس کے عیال (مخلوق) کے ساتھ حسن سلوک کرتا ہو ۔
    رواہ البیہقی فی شعب الإیمان، مشکوٰۃ/ص:۴۲۵/ باب الشفقۃ والرحمۃ علی الخلق/الفصل الثالث

    2.اللہ کا جو بندہ بیوہ اور کسی بے سہارا عورت، اسی طرح کسی مسکین حاجتمند کے کاموں میں دوڑ دھوپ کرتا ہو، ان کی خدمت کا کوئی کام کرتا ہو تو وہ عمل بھی عبادت ہے، اور اجر وثواب میں اس مجاہد کی طرح ہے جو اللہ تعالیٰ کے راستہ میں جد وجہد کرنے والا ہے، دونوں کا اجر وثواب برابر ہے ۔ آگے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میرا خیال یہ ہے کہ اس موقع پر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و صحبہ وسلّم نے یہ بھی ارشاد فرمایا : ’’خدمت خلق پر وہ اجر وثواب ملتا ہے جو دن بھر روزہ رکھنے والے کو اور رات بھر عبادت کرنے والے کو دیا جاتا ہے۔”
    متفق علیہ، مشکوٰۃ:۴۲۲/ باب الرحمۃ والشفقۃ علی الخلق

    3. نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ”رحم کرنے والوں پر رحمان رحم فرماتا ہے، تم زمین والوں پر رحم کرو، آسمان والا تم پر رحم کرے گا“
    أبو داود والترمذي وأحمد

    ان احادیث مبارکہ سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ اللہ کو اپنی مخلوق سے بہت محبت ہے۔ سو جو اس کی مخلوق کے ساتھ بھلائی کا معاملہ کرے۔ وہ اللہ کا محبوب بن جاتا ہے۔

    اسی کو ایک شاعر نے کہا

    یہ پہلا سبق ہے کتابِ ُہدیٰ کا
    کہ مخلوق ساری ہے کنبہ خدا

    عارف شیرازی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں :

    ز تسبیح وسجادہ و دلق نیست
    طریقت بجز خدمت خلق نیست

    یعنی تسبیح ہاتھ میں لے کر،مصلیٰ پر بیٹھ کر گوشہ میں بیٹھ کر اللہ اللہ کرنے اور گدڑی پہننے کا نام ہی عبادت نہیں ، بلکہ خیر کی نیت سے خیر کے کام انجام دینا نیز ضرورت کے موقع پر مخلوق کے کام آنا بھی نہایت اہم عبادت ہے ۔

    حضرت احمد علی لاہوری رحمہ اللہ فرمایا کرتے تھے کہ میرا ایک پاؤں ریل گاڑی کے پائیدان پر ہو اور دوسرا پلیٹ فارم پر اسی حالت میں مجھے کوئی آواز دے کر پوچھے کہ احمدعلی ذرا گاڑی میں سوار ہونے سے پہلے مجھے یہ بتادیجئے کہ پورے قرآن کا خلاصہ کیا ہے؟ تو میں کہہ دو نگا کہ پورے قرآن کا خلاصہ یہ ہے کہ اللہ کو راضی کرو عبادت کے ذریعہ ،محمدالرسول اللہ ؐکو راضی کرو اطاعت کے ذریعہ ،صحابہ کرا م کوراضی کرو محبت کے ذریعہ اور مخلوق خدا کو راضی کروخدمت کے ذریعہ۔

    الغرض یہ دنیا بھی ہمارے لئے جنت بن سکتی ہے، اگر ہم بھائ بھائ بن کر رہیں۔ صرف اپنا ہی فائدہ نہیں،سب کا فائدہ سوچیں۔ دلوں کی نفرتوں کو ختم کریں۔ سندھی پنجابی بلوچی پٹھان ضرور رہیں۔ مگر اس بنیاد پر کسی سے خود کو بہتر نہ سمجھیں، اور نہ دوسروں کو کمتر سمجھیں۔

    اور آخری دردمندانہ گزارش یہ ہے کہ حالیہ سیلاب کی تباہ کاریوں سے سے بہت نقصان ہوا ہے۔ جس قدر ممکن ہو متاثرین تک اپنی امداد خود پہنچائیں،یا ایسے معتبر رفاہی اداروں کے ساتھ تعاون کریں جو متاثرین تک امداد پہنچا رہے ہیں۔ اور دعا بھی کریں کہ اللہ ان تمام متاثرین کی مدد فرمائے، اور نقصان کا ازالہ فرمائے آمین۔

  • نیا سال مبارک ہو — حافظ گلزارعالم

    نیا سال مبارک ہو — حافظ گلزارعالم

    کل یکم محرم الحرام 1444 ھ کا دن تھا۔ ہجری/ قمری اعتبار سے نئے سال کا آغاز ہوگیا ہے۔ تمام عالم اسلام کو نیا سال بہت مبارک ہو۔ اللہ ہم سب کے لئے اس سال کو رحمتوں برکتوں اور کامیابیوں والا بنائے اور ہر تکلیف سے محفوظ رکھے آمین

    اس سال کو ہجری سال اس لئے کہتے ہیں کہ اس کی ابتدا حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپکے صحابہ رضی اللہ عنھم کے مکے سے مدینہ ہجرت کے واقعے سے فرمائ۔واقعہ ہجرت ہی کو اسلامی سال کا سن آغاز منتخب کرنے میں بڑی حکمتیں ہیں۔ یہ واقعہ مسلمانوں کے لیے دینی، تاریخی اعتبار سے خاص اہمیت رکھتا ہے، یہ اہلِ اسلام کو اس دور کی یاد دلاتا ہے، جب ان کو مکّی دور کے ابتلاء وآزمائش کی تنگ زندگی سے نجات ملی اور مستحکم وپائیدار اور مضبوط مستقر ملا، اسلام اور اہل اسلام کو پھولنے پھلنے کا موقع ہاتھ آیا اور یہیں سے مسلمانوں نے پوری دنیا کو رشد وہدایت اور توحید کا عالم گیر پیغام دیا اور دنیا کے ایک بڑے حصے تک اسلام کا پیغام پہنچایا۔

    اسلامی سال کا پہلا مہینہ محرم الحرام ہے۔ جو بڑی فضیلت والا اور حرمت والا مہینہ ہے۔ اس ماہ میں بڑے المناک واقعات بھی پیش آئے جن میں یکم محرم الحرام 24ھ کو شہادت عمر رضی اللہ عنہ اور 10 محرم الحرام 61 ھ کو واقعہ کربلا میں نواسہ رسول حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت کا المناک سانحہ سرفہرست ہے۔

    سال کے اس پہلے مہینے میں ہی اتنے عظیم دردناک واقعات میں بھی بڑی حکمت ہے۔ ہر مسلمان ان عظیم ہستیوں کی قربانیوں کو یاد کرے۔ کہ راہ حق میں انہوں نے ہر تکلیف اور پریشانی کا مقابلہ کیا۔ یہانتک کہ اپنی جانیں بھی قربان کردیں۔ یہ واقعات ہمیں یہ دعوت فکر دیتے ہیں کہ اصل کامیابی یہ ہے کہ انسان سچا راستہ ، صحیح مقصد، اعلی فکر اپنائے، اور پھر اس مقصد کے لئے اپنا سب کچھ قربان کردے۔

    اور وہ سچا راستہ صحیح مقصد اعلی فکر ایک مسلمان کی نظر میں یہی ہے کہ وہ اس زندگی کا ہر لمحہ اللہ جل شانہ کی بندگی میں گزارے۔ اور اس رستے میں اس کی جان بھی جائے تو دریغ نہ کرے۔

    میری زندگی کا مقصد تیرے دین کی سرفرازی
    میں اسی لئے مسلماں، میں اسی لئے نمازی

    اور بقول مرزا غالب

    جان دی دی ہوئی اسی کی تھی
    حق تو یوں ہے کہ حق ادا نہ ہوا

    اس سال کے پہلے دن یہ چند کام مفید ثابت ہونگے:

    محاسبہ: حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا قول ہے: حاسبوا انفسکم قبل ان تحاسبوا۔ یعنی اپنے نفس کا محاسبہ کرو، قبل اس کے کہ تمھارا محاسبہ کیا جائے ۔

    یوں تو صبح شام ہر ایک کو اپنا محاسبہ کر نا چاہیئے، مگر اس دن بطور خاص ہم یہ دیکھیں کہ کہیں ہم بے مقصد،فضول زندگی تو نہیں گزار رہے۔ کیا اللہ کے اور اسکے تمام بندوں کے حقوق ہم ادا کررہے ہیں۔ کیا ہم کسی ایسے کام میں تو مبتلا نہیں جس سے اللہ تعالیٰ ناراض ہوتے ہیں، یا جس سے اللہ کے کسی بھی بندے کو ہم سے تکلیف پہنچ رہی ہو؟

    نیت: تمام اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے۔ یعنی نیک اعمال کا اجر ہمیں تب ہی ملے گا ،جب ہماری نیتیں درست ہوں۔ لہذا ہر نیک کام کرنے سے پہلے یہ نیت کرلیں کہ میں محض اللہ کی خوشنودی کے لئے یہ کام کررہا ہوں۔

    نظام الاوقات: سال کے ہرمہینے، ہر ہفتے اور ہر دن کے لئے شیڈول بنائیں۔ اعتدال کے ساتھ اپنے تمام اہم کاموں کو ترتیب دیں۔ اعتدال کا مطلب یہ ہے کہ مختلف اوقات میں اتنا ہی کام کریں جو آپ بآسانی کرسکیں۔ نیز تفریح، صحت، اہل و عیال کے لئے بھی مناسب وقت ضرور رکھیں۔

    وقت کی قدر بڑی عظیم نعمت ہے۔ زندگی کا ایک ایک لمحہ بہت قیمتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اسکا ہر لمحہ سونے چاندی سے زیادہ قیمتی ہے۔۔ کسی ایک پل میں درست فیصلہ انسان کو فرش سے عرش پر پہنچا سکتا ہے۔۔ اور کبھی اس کے کسی ایک لمحے کی خطا صدیوں لاکھوں انسان بھگتتے ہیں۔۔ ٹیپو سلطان کے مرقد پر رقم رزمی کا یہ شعر اسی بات کو بیان کرتا ہے

    یہ جبر بھی دیکھا ہے تاریخ کی نظروں نے
    لمحوں نے خطا کی تھی صدیوں نے سزا پائی

    افسوس یہ ہے کہ وقت جس قدر قیمتی سرمایہ ہے اتنا ہی اس کے ساتھ ظالمانہ سلوک کیا جاتا ہے اور انتہائ بے دردی سے اس عظیم سرماۓ کو فضول کاموں میں ضائع کر دیا جاتا۔ اسی کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "نعمتان مغبون فیھما کثیر من الناس الصحة والفراغ”۔۔ صحت اور فراغت دو ایسی نعمتیں ہیں کہ بہت سارے لوگ ان کے بارے میں دھوکے میں پڑجاتے ہیں۔

    اور فرمایا: "من حسن اسلام المرء ترکہ مالایعنیہ” آدمی کے اسلام کی خوبیوں میں سے ایک خوبی یہ بھی ہے کہ وہ لایعنی اور فضول کاموں کو چھوڑدے۔۔

    الغرض اس دن اللہ تعالی کی عنایت کردہ بے شمار نعمتوں پر شکر کے ساتھ ساتھ دعا ہے کہ اللہ تعالی اس زندگی کے ایک ایک لمحے کی صحیح قدر کرنے کی توفیق دے، کہ

    یہ بڑے کرم کے ہیں فیصلے
    یہ بڑے نصیب کی بات ہے

  • حضرت عمربن الخطاب رضی اللہ عنہ اور ریاست مدینہ — حافظ شاہد محمود

    حضرت عمربن الخطاب رضی اللہ عنہ اور ریاست مدینہ — حافظ شاہد محمود

    رسول اللہ ﷺ کےصحابی خلیفۂ دوم امیرالمؤمنین فاروقِ اعظم حضرت عمربن الخطاب کاتعلق قبیلۂ قریش کے خاندان بنوعدی سے تھا جوکہ مکہ کے محلہ شُبیکہ میں آباد تھا۔

    بچپن میں تعلیم حاصل کی جس کی بنا پر شجاعت وبہادری کے ساتھ ساتھ معاملہ فہمی نیز فنِ تقریر وخطابت کوٹ کوٹ کر بھری تھی…اسی لیے قریشِ مکہ نے اپنا سفیر اور امور خارجہ کا مستقل نگران مقرر کیا تھا.

    جب آپ جوان ہووے تو قبیلۂ قریش کے دیگر افراد کی مانند تجارت کو اپنا مشغلہ بنایا فنونِ سپہ گری ، شمشیرزنی ، نیزہ بازی ، تیراندازی ، گھڑسواری ، پہلوانی اورکشتی کے فن میں کمال مہارت حاصل تھی ۔مکہ کے قریب ہرسال عُکاظ کا تاریخی میلے میں قوت بازو کاخوب مظاہرہ کیاکرتے تھے۔

    حضرت عمربن خطاب نے ابتدائی دورمیں دینِ اسلام قبول کیا اور عشرہ مبشرہ میں شامل ہیں.

    آپ رسول اللہ ﷺ کے سسربھی تھے،ام المؤمنین حضرت حفصہ رضی اللہ عنہاآپ ہی کی صاحبزادی تھیں.

    قبول اسلام پر بہت سی باتیں مشہور ہیں لیکن میں سمجھتا ہوں جو چیز سب سے زیادہ قبولیت اسلام کا سبب بنی وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نام لے کر خصوصی دعا ہی تھی.

    (اَللّھُمَّ أَعِزَّ الاِسلَامَ بِعُمَر بن الخَطَّاب أو بِعَمرو بن ھِشَام) یعنی’’اے اللہ!تودینِ اسلام کوقوت عطاء فرما عمربن خطاب ٗیاعمروبن ہشام کے ذریعے)
    تاریخ گواہ ہے کہ اُس ابتدائی دور میں مکہ میں مٹھی بھر مسلمانوں کو مشرکین مکہ کے ہاتھوں جن پریشانیوں کا سامنا تھا جناب عمر رضی اللہ عنہ کے قبول اسلام کی وجہ کافی حد کم ہوئیں تھی اور مسلمانوں میں ایک نئی روح پھونک دی تھی جس سے نہتے مسلمانوں نہال نظر آرہے تھے کیونکہ وہ بیت اللہ میں سرعام عبادت بھی کرنے لگے تھے.

    مکہ میں اسی طرح وقت گذرتا رہ حتیٰ کہ جب ہجرت کا حکم نازل ہوا توکیفیت یہ تھی کہ تمام مسلمانوں نے خفیہ طور پر مکہ سے مدینہ کی جانب ہجرت کی،جبکہ حضرت عمر نے جب ہجرت کا ارادہ فرمایا تو واحد شخص تھے جنہوں نے علی الاعلان بیت اللہ کا طواف کیا اور کہا جنہوں نے بچے یتم ، بیویوں کو بیوہ اور والدین کو رولانا ہے تو میرا راستہ روکے کیونکہ میں مدینہ جارہا ہوں سبحان اللہ.

    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جناب فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے محبت رکھتے تھے آپ نے ہر موقع پر جناب عمر بن خطاب کو یاد رکھتے کتب احادیث اس بات کی بخوبی گواہ ہیں چنانچہ چند احادیث مناقب حضرت عمر کو دیکھتے ہیں تاکہ ایمان تازہ ہوجائے.

    ٭…اِنَّ اللّہَ تَعَالَیٰ جَعَلَ الحَقَّ عَلَیٰ لِسَانِ عُمَرَ وَقَلبِہٖ
    ترجمہ:(بے شک اللہ تعالیٰ نے ’’حق ‘‘ کوعمرکی زبان پراوران کے دل میں رکھ دیاہے)

    ٭…لَو کَانَ نَبِيٌّ بَعدِي لَکَانَ عُمَرَ بن الخَطّاب
    ترجمہ:(میرے بعداگرکوئی نبی ہوتا تویقیناوہ عمربن خطاب ہی ہوتے)

    ٭…لَقَد کَانَ فِیمَا قَبلَکُم مِنَ الأُمَمِ ٌ مُحَدَّثُونَ مِن غَیرِ أن یَکُونُوا أنبِیَائَ فَاِن یَکُ فِي أُمَّتِي أَحَدٌ فَاِنَّہٗ عُمَرُ
    ترجمہ:(تم سے پہلی امتوں میں کچھ ایسے لوگ ہواکرتے تھے جواگرچہ نبی تونہیں تھے البتہ ان کے قلب میں [من جانب اللہ] القاء کیاجاتاتھا ، میری امت میں بھی اگرکوئی ایساانسان ہو تو یقینا وہ عمر ہی ہوسکتے ہیں )

    ٭…یَا ابنَ الخَطّابِ! وَالَّذِي نَفسِي بِیَدِہٖ مَا لَقِیَکَ الشَّیطَانُ سَالِکاً فَجّاً اِلَّاسَلَکَ فَجّاً غَیرَکَ
    ترجمہ:(اے ابنِ خطاب! قسم اس اللہ کی جس کے قبضے میں میری جان ہے،جب کبھی شیطان تمہیں کسی راستے پرچلتاہوا دیکھتا ہے تووہ فوراً [وہ راستہ چھوڑکر]دوسرے راستے پرچلنے لگتاہے)

    رسول اللہ ﷺ کے نزدیک اپنے جلیل القدرصحابی حضرت عمربن الخطاب کیلئے جومقام ومرتبہ تھا اس کا اندازہ مذکورہ بالا احادیث سے بخوبی کیاجاسکتا ہے۔

    حضرت عمربن خطاب ہمیشہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت اورصحبت ومعیت جو مقام حاصل ہوا وہ اپنی مثال آپ تھا.

    آپ ﷺ کے بعدخلیفۂ اول حضرت ابوبکرصدیق کے دورِخلافت میں حضرت عمربن خطاب کو انتہائی قریبی اورقابلِ اعتمادساتھی اورخصوصی مشیرکی حیثیت حاصل رہی،حضرت ابوبکرصدیق کوحضرت عمربن خطاب کے مشورے فہم وفراست اور دوراندیشی پرہمیشہ مکمل بھروسہ اوراطمینان رہا۔

    چنانچہ حضرت ابوبکرصدیق نے اپنے انتقال سے چند روز قبل مہاجرین وانصار میں سے ایک مجلس میں عمر بن خطاب کو خلیفہ نامزد کر دیا ۔ اس پر بعض افراد نے ان کی سختی پر بات کی تو حضرت ابوبکرصدیق نے جواب دیا کہ خلافت کی سختی کی وجہ وہ نرم ہو جائیں گے اس کے بعدمزید فرمایا: اگراللہ نے پوچھا تو یہ جواب دوں گاکہ اپنے بعد ایسے شخص کومسلمانوں کا فرمانروا بنا کر آیا ہوں جو تیرے بندوں میں سب سے بہتر ہے‘‘ ۔

    جس روز حضرت ابوبکرصدیق ؓ کا انتقال ہوا،اسی روزیعنی ۲۲/جمادیٰ الثانیہ سن ۱۳ہجری بروز پیر مدینہ میں تمام مسلمانوں نے حضرت عمر بن خطاب کے ہاتھ پربیعت کی۔

    خلافت سنبھالتے ہی حضرت عمربن خطاب نے لوگوں کے سامنے اپنے مختصرخطاب میں کہا:

    ’’لوگو!تمہارے معاملات میرے سپرد ہیں،اس لئے میری تمام سختی اب نرمی میں بدل چکی ہے،جو کوئی امن وامان اور سلامتی کے ساتھ رہنا چاہے،میں اس کیلئے انتہائی نرم ہوں ،البتہ جو لوگ دوسروں پر ظلم وزیادتی کرتے ہیں ، میری سختی ان کیلئے بدستور قائم رہے گی،اگر کوئی کسی کے ساتھ ظلم وزیادتی کرے گا تومیں اسے اُس وقت تک نہیں چھوڑوں گا جب تک اُس کا ایک رخسار زمین پر ٹکا کر اور دوسرے رخسار پر پاؤں رکھ کر اُس سے مظلوم کاحق وصول نہ کرلوں …اللہ کے بندو!اللہ سے ڈرو، مجھ سے درگذر کر کے میرا ہاتھ بٹاؤ،نیکی کو پھیلانے اور برائی کاراستہ روکنے میں میری مدد کرو، تمہاری جو خدمات اللہ نے میرے سپرد کی ہیں ان کے متعلق مجھے نصیحت کرو،میں تم سے یہ بات کہہ رہا ہوں ، اور تمہارے لئے اللہ سے مغفرت طلب کر رہا ہوں.‘‘

    یہ ہے اصلی ریاست مدینہ کے حکمران کا قوم سے پہلا خطاب سبحان اللہ.

    حضرت عمر بن الخطاب کا دورِ خلافت دس سال چھ مہینے اور پانچ دن رہا، اس مختصر عرصے میں اسلامی حکومت اقوام عالم تک پھیل چکی تھی…’’قادسیہ ‘‘اور’’یرموک‘‘جیسی تاریخی جنگوں اور قیصر و کسریٰ کی شکست نے تو دنیا کا جغرافیہ ہی بدل کر رکھ دیا تھا۔ حضرت عمربن خطاب نے جو علاقے فتح کئے ان کارقبہ ساڑھے بائیس لاکھ مربع میل سے کچھ زیادہ تھا…ایک لاکھ چھتیس ہزار شہر فتح ہوئے ،جن میں چار ہزار مساجد تعمیر کی گئیں ۔ یوں اہلِ ایمان کوایسی بے مثال اوریادگارعظمت ورِفعت نصیب ہوئی…جس کی نظیر دنیا میں کہیں نہیں ملتی ۔

    آج کسی حکمران کو اس کے نام نہیں بلکہ کام کی وجہ سے ہی دوام حاصل ہوتا ہے ہم یہاں ان کاموں کا ذکر کریں گے جو ریاست مدینہ کا وصف تھے جن کی وجہ ریاست مدینہ قائم ہوئی تھی ہمیں بھی ایسی ہی ریاست چاہیے جو امیرالمؤمنین حضرت عمربن الخطاب نے قائم کی تھی ریاست مدینہ جن چیزوں پر قائم تھی جو تاریخ میں پہلی دفعہ دیکھنے کو ملے مثلاً:

    1… ہجری اسلامی کیلنڈر کا آغاز۔
    2…سرکاری عہدے داروں کاہمیشہ سختی کے ساتھ کڑا محاسبہ۔
    3…بہت سے نئے شہروں کی تعمیر۔
    4…متعدد نئی فوجی چھاؤنیاں تعمیر کی گئیں۔
    5… دفاع کومضبوط ومؤثربنانے کی غرض سے متعدد نئے قلعے تعمیرکروائے۔
    6…پہلی بار باقاعدہ فوج اور پولیس کا محکمہ قائم کیا گیا۔
    7…سرحدی علاقوں میں گشت کی غرض سے مستقل سرحدی حفاظتی فوج تشکیل دی گئی۔
    8…مستقل فوج تشکیل دی گئی جس میں تیس ہزارگھوڑے تھے۔
    9…فوجیوں کیلئے باقاعدہ وظیفہ اورتنخواہیں مقررکی گئیں ۔
    10…ہرفوجی کیلئے ہرچھ ماہ بعدباقاعدہ چھٹی کی سہولت۔
    11…باقاعدہ بہترین عدالتی نظام۔
    12…بیت المال کا قیام۔
    13…رقبوں اور سڑکوں کی پیمائش۔
    14…مردم شماری کا نظام۔
    15…کاشتکاری کا باقاعدہ نظام قائم کیا گیا۔
    16…چار ہزار نئی مساجد کی تعمیر ۔
    17…مساجدمیں روشنی کا انتظام کیا گیا۔
    18…اماموں ، مؤذنوں اورخطیبوں کیلئے باقاعدہ وظائف مقرر کئے گئے۔
    19…معلمین اورمدرسین کیلئے باقاعدہ وظائف مقرر کئے گئے۔
    20…نظامِ وقف قائم کیا گیا۔
    21…غلہ واناج ودیگرغذائی اجناس کی حفاظت کی غرض سے بڑے بڑے گودام تیار کئے گئے۔
    22…اسلامی ریاست کا باقاعدہ سکہ جاری کیاگیا۔
    23…انصاف و قانون کا ایسا بول بالا جس کی مثالیں دنیا آج بھی دیتی ہے۔

    یہ تھی مسلمانوں کی ریاست مدینہ.

    اللہ تعالیٰ ہمیں اور ہمارے حکمرانوں کو جناب فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کے نقش قدم چلنا چاہیے اسی میں عزت و وقار اور دوام حاصل ہوتا ہے.

    اللہ تعالیٰ توفیق سے نوازے کہ ہم وطن عزیز پاکستان جو مدینہ ثانی ہے کو ریاست مدینہ بنتا دیکھ سکیں آمین یارب العالمین

  • کون عمر رض اور کونسے عمر رض اور کیسے عمر رض؟ — بلال شوکت آزاد

    کون عمر رض اور کونسے عمر رض اور کیسے عمر رض؟ — بلال شوکت آزاد

    آغاز تحریر کروں گا اس دعائے نبوی صل اللہ علیہ والہ وسلم کے مفہوم سے جو اسلام کی سربلندی کا اہم سنگ میل ثابت ہوئی۔

    دعائے نبوی صل اللہ علیہ والہ وسلم کا مفہوم!

    "اے رب عمر بن ہشام اور عمر بن خطاب میں سے ایک عمر دیدے۔”

    اور اللہ کو پسند آئے عمر بن خطاب رض اور عمر رض کو پسند آیا رب کی توحید والا دین اور عمر رض بنے توحید اور ختم نبوت کی ڈھال۔

    آج بس عمر رض بن جاؤ۔

    وہی عمر رض

    "جس کو اسلام کی سربلندی کی خاطر امت میں پانے کی دعا نبی صل اللہ علیہ والہ وسلم نے کی تھی۔”

    وہی عمر رض جس نے بوقت ہجرت للکارا تھا کہ

    "جس کو خواہش ہو کہ اس کی اولاد یتیم اور بیویاں, بیوہ ہوجائیں تو وہ آگے بڑھے اور عمر کا راستہ روکے۔”

    وہی عمر رض

    "جس کی موجودگی پر شیطان کا دم گھٹتا اور جسم خوف سے تھر تھر کانپتا تھا کہ راستہ بدلنے میں عافیت جانے۔”

    وہی عمر رض

    "جو کالی اندھیری راتوں کو بطور خلیفہ وقت مدینے کی گلیوں میں گشت کرتا اور سفید پوش فاقہ کشوں کے رزق کا بندوبست کرتا زمین پر اللہ کی جانب سے مخلوق کی کفالت پر معمور رہتے ہوئے۔”

    وہی عمر رض

    "جس کو نبوت پر معبوث ہونے کی بشارت خود آخری نبی صل اللہ علیہ والہ وسلم نے دی کہ اگر میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو وہ عمر ہوتا۔”

    وہی عمر رض

    "جن کے عدل اور انصاف کی یہ مثل تھی کہ ایک منافق مسلمان کی گردن کندھے سے جدا کردی ایک یہودی کے حق میں نبوی ص فیصلے, صدیقی رض فیصلے اور توہین رسالت کے ارتکاب کو پا کر۔”

    وہی عمر رض

    "جس کی اطاعت میں سیف اللہ خالد بن ولید رض معزول ہوکر مسجد میں ڈانٹ سنتے رہے اور اف تک نہ کی۔”

    وہی عمر رض

    "جس کی ہیبت سے قیصر و کسری کے دربار لرز جاتے تھے۔”

    وہی عمر رض

    "جس نے فتح بیت المقدس کے بعد فلسطین کا سفر ایک خادم اور اونٹ کے ساتھ ایسے شروع کیا کہ سواری کی باری باندھ لی اور جب سواری یروشلم میں داخل ہوئی تو اونٹ کی مہار خلیفہ وقت کے ہاتھ اور خادم اونٹ پر سوار دیکھ کر دشمن محو حیرت ہوگئے۔”

    وہی عمر رض

    "جس کے قبول اسلام نے ابتدائی مسلمانوں کو بیت اللہ میں بلا خوف وخطر جانے کا راستہ دیا۔”

    وہی عمر رض

    "جس کے پڑھائے ہوئے جنگی, امور حکومت اور شہری نظامت کے اسباق آج جدید دور میں ترقی یافتہ ممالک کے آئین میں الگ الگ ناموں سے موجود ہے پر ہم اسے "عمر لاء” کے نام سے جانتے ہیں۔”

    وہی عمر رض

    "جو 22 لاکھ مربع میل کا اکلوتا حاکم وقت لیکن 22 بائیس پیوند لگے کرتے میں رہنے والا سادہ اور عاجز حکمران۔”

    وہی عمر رض

    "جس کو بھری محفل میں اضافی کپڑے کا سوال کیا گیا اور اس عمر رض کے ماتھے پر شکن بھی نہ آئی اور جواب دیکر امت کو مطمئن کیا۔”

    وہی عمر رض

    "جس کا ذکر آج بھی شیاطین کی موت کے برابر ہے۔”

    جی ہاں یہ ہے وہ عمر رض اور ایسا تھے وہ عمر رض اور ایسے ہی عمر رض بننا ہے ہمیں۔

  • بکواس مت کیجئے — حافظ گلزارعالم

    بکواس مت کیجئے — حافظ گلزارعالم

    گو کہ یہ عنوان بھی آپکو پہلی نظر میں بکواس لگا ہوگا۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ نہایت حکیمانہ مقولہ ہے۔ کیونکہ آپ لاکھ خود کو پڑھے لکھے، مہذب اور سمجھدار سمجھتے ہوں، لیکن اگر آپ بغیر سوچے سمجھے کچھ بھی بول دیتے ہیں تو آپ بہرحال بکواس ہی فرمارہے ہیں۔

    آپ زبان سے وہی بات کہیں جس کے بارے میں آپکو یقین ہو کہ یہ بات سچی ہے،جھوٹ نہیں ہے۔ اچھی ہے، بری نہیں۔ مفید ہے، غیر مفید نہیں ہے۔ کسی کا دل خوش کرنے کیلئے ہے، کسی کی دل آزاری کیلئے نہیں ہے۔اگر آپ ہر دفعہ بولنے سے پہلے ان باتوں کو سوچ کر اچھی گفتگو کرتے ہیں تو مبارک ہو۔

    آپ مہذب، سلجھے ہوئے، بہترین انسان ہیں، بشرطیکہ آپ نہ صرف گفتار کے، کردار کے بھی غازی ہوں۔ یعنی نہ صرف آپ اچھا بولتے ہوں، اس پر عمل بھی کرتے ہوں، یا کم از کم عمل کرنے کی فکر میں لگے رہتے ہیں۔ کیونکہ

    عمل سے زندگی بنتی ہے، جنت بھی جہنم بھی
    یہ خاکی اپنی فطرت میں نہ نوری ہے نہ نوری

    بہرحال کچھ بھی بولنے سے پہلے اچھی طرح سوچ لیں کہ کل کسی عدالت میں مجھ سے میرے کہے ہوئے ایک ایک لفظ کا حساب لیا جائیگا۔ اگر بات اچھی ہوئ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:

    وَالْـکَلِمَۃُ الطَّیِّبَۃُ صَدَقَۃٌ ’’

    اوراچھی بات بھی صدقہ ہے‘‘ (صحیح بخاری)

    اور صدقہ بڑی عظیم عبادت ہے۔ اور اگر خدانخوستہ آپکی کہی ہوئ بات بری ہوئ تو یہ بڑے خطرے کی بات ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:

    ما يَلْفِظُ مِنْ قَوْلٍ إِلَّا لَدَيْہِ رَقِيبٌ عَتِيدٌ
    ( پارہ:26،سورۃ:ق، آیات:17،18)
    ترجمہ: ۔ تم جو بات بھی نکالتے ہو، اس پر نگران موجود ہے

    لہذا آپ کی ایک ہی بری،جھوٹی، غیبت، چغلی یا طنز پر مبنی بات اللہ کی ناراضگی کا سبب بن سکتی ہے۔ حدیث مبارک پڑھیئے:
    حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ مشہور صحابی ہیں، وہ ارشاد فرماتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی زبان مبارک پکڑی اور ارشاد فرمایا:

    ’’کُفَّ عَلَیْکَ ہٰذَا‘‘۔۔۔۔۔ ’’اس کو روکو۔‘‘ یعنی زبان کو قابو میں رکھو، یہ چلنے میں بے احتیاط اور بے باک نہ ہو۔ حضرت معاذ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! ’’وَإِنَّا لَمُؤَاخَذُوْنَ بِمَا نَتَکَلَّمُ بِہٖ‘‘۔۔۔۔۔’’ہم جو باتیں کرتے ہیں کیا ان پر بھی ہم سے مواخذہ ہوگا؟‘‘ باز پُرس کی جائے گی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’ثَکِلَتْکَ أُمُّکَ یَا مُعَاذُ!‘‘ ۔۔۔۔۔’’اے معاذ!تجھے تیری ماں روئے۔‘‘(عربی زبان کے محاورہ میں یہ کلمہ یہاں پیار ومحبت کے لیے ہے) ’’وَہَلْ یَکُبُّ النَّاسَ فِی النَّارِ عَلٰی وُجُوْہِہِمْ إِلاَّ حَصَائِدُ أَلْسِنَتِہِمْ‘‘ لوگوں کو دوزخ میں ان کے منہ کے بل زیادہ تر ان کی زبانوں کی بے باکانہ باتیں ہی ڈلوائیں گی،یعنی آدمی جہنم میں اوندھے منہ زیادہ تر زبان کی بے احتیاطیوں کی وجہ سے ہی ڈالے جائیں گے۔( ترمذی)

    زبان کی لغزشوں سے بچنے کا آسان طریقہ یہ ہے کہ انسان خاموشی کی عادت اپنالے۔ دیکھئے حدیث
    عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ( مَنْ صَمَتَ نَجَا ) .روى الترمذي (2501)

    ترجمہ: حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو خاموش رہا وہ نجات پاگیا (ترمذی)
    پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی عادت مبارکہ بھی یہی تھی کہ آپ بکثرت خاموش رہا کرتے تھے۔سماک کہتے ہیں: میں سیدنا جابر بن سمرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے عرض کیا: کیا آپ کو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی محفل میں شرکت کا اعزاز حاصل ہوتا رہا ہے؟ انہوں نے کہا: جی ہاں۔ آپ زیادہ تر خاموش رہنے والے اور کم ہنسنے والے تھے(مسند احمد)

    لہذا اگر ہم اس نیت سے خاموش اختیار کریں کہ یہ میرے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ ہے تو دو فائدے ہونگے۔ ایک تو فضول گوئی سے بچیں گے۔ دوسرا یہ کہ سنت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم پر عمل کرنے وجہ سے ہماری ساری خاموشی عبادت میں لکھی جائیگی۔

    مگر اس تمام مضمون سے یہ نتیجہ نکالنا بھی ہرگز درست نہیں کہ ہم "صم بکم” ( گونگے بہرے) رہیں۔ دین بہرحال اعتدال کا نام ہے۔ اور اس باب میں اعتدال یہ ہے کہ ہم فضول گوئی سے اجتناب کرتے ہوئے خاموش تو رہیں۔ مگر جب بولنے کا موقعہ ہوتو ضرور بولیں۔ اچھا بولیں۔

    صاف بولیں ۔ برمحل بولیں۔ خاموشی اور کلام میں اعتدال لانے کیلئے بشر بن حارث رحمہ اللہ کا یہ قول مفید ثابت ہوگا۔ آپ فرماتے ہیں
    إِذَا أَعْجَبَكَ الْكَلَامُ فَاصْمُتْ وَإِذَا أَعْجَبَكَ الصَّمْتُ فَتَكَلَّمْ

    "اگر تمہیں بولنا پسند ہو تو خاموش رہا کرو اور اگر تمہیں خاموش رہنا پسند ہو تو بولا کرو۔”
    [حلية الأولياء وطبقات الأصفياء – ط السعادة، جلد ۸، صفحہ نمبر ۳۴۷]

  • آئیے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے سیکھتے ہیں — نعمان علی ہاشم

    آئیے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے سیکھتے ہیں — نعمان علی ہاشم

    فضائل اور مناقب بیان کرنا بہت اچھی بات ہے. مگر کسی ہستی کے فضائل اور مناقب کے بیان پر ہی اکتفا کر جانا ہرگز کافی نہیں.
    کسی ہستی کے فضائل اور مناقب کا بیان کار ثواب بھی ہو سکتا ہے. مگر آپ اس ہستی کی سیرت سے کچھ سیکھنے سے عاری ہیں تو یقیناً آپ اچھے کردار کے حامل نہیں ہو سکتے.

    ہمارے ہاں سیرت النبی صل اللہ علیہ والہ وسلم کا بیان تو ہوتا ہے مگر عمومی رویوں سے اس کا اظہار کرنے سے ہم بطور معاشرہ قاصر ہیں.
    وہ تمام شخصیات جن کو اللہ تعالی نے دنیا میں کوئی نہ کوئی مقام عطا کیا، جن کے فضائل ومناقب آج ہم بیان کرتے ہیں، ہمیں یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو یہ مقام و مرتبہ کیسے عطا کیا؟
    .
    یکم محرم الحرام قریب ہے اور ہر طرف سیدنا عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ کے فضائل و مناقب کا تذکرہ ہے. بلاشبہ ان کا ذکر کرنا اور اچھی نیت کے ساتھ اچھے انداز کے ساتھ ان کا ذکر کرنا باعث اجر و تسکین ہے.

    مگر سوچنے اور غور کرنے کی بات یہ ہے کہ عمر کیسے بنتے ہیں؟

    آج ہم اخلاق و کردار یا اوصاف کے اندر ان کا مقابلہ نہیں کرسکتے مگر ان کی تقلید ضرور کر سکتے.
    .
    سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے اوصاف و کردار میں جو سب سے بنیادی چیز ہے وہ ڈٹ جانا ہے. آپ کے کردار کے اندر جھول یا نرمی کا کوئی عنصر نہیں. اسلام سے قبل اپنے قبیلے اور علاقے کے تمام تر مفادات کا تحفظ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے علم، حکمت کے ساتھ ساتھ اپنی تلوار کے ذریعے کیا.
    .
    دین اسلام کی حقانیت آشکار ہونے کے بعد سیدنا عمر فاروق نے اسی جاہ و جلال، بہادری و استقلال کے ساتھ اسلام اور اہل اسلام کے تمام تر حقوق کا تحفظ کیا.

    اسلام تو دنیا میں غالب ہونے کے لیے آیا ہے مگر کردار عمر سے یہ بات عیاں ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اسلام کو غالب کرنے کے لیے آئے تھے.
    .
    آپ اسلام کے آنے سے پہلے بھی اپنے قول و اقرار پر پہرہ دیتے تھے. اور اسلام لانے کے بعد بھی آپ کبھی اپنی بات سے منحرف نہیں ہوئے. دنیا کا مفاد لالچ اور خوف آپ کو کبھی زیر نہیں کر سکا.
    .
    آپ نے اللہ کی عطا کردہ فطرت سلیم کی حفاظت اس قدر عمدہ انداز سے کی کہ آپ کے دماغ کے اندر پیدا ہونے والے خیالات اللہ تعالی نے قرآن بنا کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل کیے.
    .
    جدید فلسفہ میں اقبال جس خودی کی بات کرتے ہیں سیدناعمرفاروق میں وہ خودی بدرجہ اتم موجود تھی.
    .
    تاریخ کا مطالعہ کرنے والے احباب یہ بات جانتے ہیں کہ اقتدار میں آنے سے قبل اور اقتدار میں آنے کے بعد سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے طرز زندگی میں کوئی تبدیلی واقع نہیں ہوئی.
    .
    سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے اوصاف حمیدہ کی برکت ہے کہ آج عمر فاروق رضی اللہ عنہ کو انصاف کا معیار مقرر کیا گیا ہے.
    .
    تاریخ انسانی میں سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ سے قبل کوئی ایسا حکمران نہیں تھا جس کی سلطنت کے اندر تعلیم، صحت تعمیرات، افوج اور انصاف کے باقاعدہ فعال شعبے موجود ہوں.
    .
    یہ آپ کے کردار کا ہی خاصہ تھا کہ نئے آنے والے مذہب اور تہذیب کو 22 سے 25 سال کے اندر 22 لاکھ مربع میل سے بھی زائد رقبے پر متعارف کروایا.
    .
    سچائی، دیانت، جرات، انصاف، تقویٰ، دردانسانیت اور محمد صل اللہ علیہ والہ وسلم و دین محمد صل اللہ علیہ والہ وسلم سے محبت جیسے اوصاف کے بغیر یہ سب ممکن نہیں تھا.

    ہمیں مناقب بیان کرنے کے ساتھ ساتھ ان تمام چیزوں پر غور کرنا چاہیے جو عمر ابن خطاب کو عظیم مصلح و حکمران عمر فاروق اعظم بناتی ہیں.

    محض قصے بیان کرنے سے بات نہیں بنے گی. وہ تمام اوصاف جو سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی سیرت میں موجود تھے ان کی تقلید سے ہی بات بنے گی.

    محض غلبے کی باتیں اسلام کو دنیا میں غالب نہیں کریں گی. اسے غالب کرنے کے لیے عمر فاروق کے نقش قدم پر چلنا ہوگا.

    اگر سیرت فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کو عملی شکل دینے کے بجائے محض ثواب کی نیت سے بیان کرتے رہیں گے تو یقین کیجئے حالات نہیں بدلیں گے.

  • وہ تو امیر عمر تھے. رضی اللہ عنہ — عاشق علی بخاری

    وہ تو امیر عمر تھے. رضی اللہ عنہ — عاشق علی بخاری

    دنیا عظیم لوگوں سے بھری ہوئی ہے. اور کچھ شخصیات ایسی تھی جو منفی کاموں کی وجہ سے مشہور ہوئیں، ظلم و جبر، فساد فی الارض کی جو نشانی تھیں، وہ صفحہ دنیا پہ آئے لیکن اس زمین پر ایک کلنک کی نشانی بن کر رہ گئے. البتہ بہت ساری شخصیات دنیا اور لوگوں کے لیے سراپا خیر تھے اور دنیا کے نظام کے آئیڈیل کی حیثیت بن گئے. لوگ ان کے دشمن ہونے کے باوجود ان کے دیے ہوئے نظام کے معترف ہی نہیں بلکہ اپنے ملک میں اس کا نفاذ بھی کرتے ہیں.

    رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیثِ مبارکہ بھی ہے. جو زمانہ جاہلیت میں اچھا تھا وہ اسلام میں بھی اچھا ہوگا. (الحدیث)

    دیکھیے تو کون آرہا ہے، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم مکمل تیاری حالت میں آجاتے ہیں کہ کہہں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو نقصان نہ پہنچا دیں. فرمایا آنے دو.

    اور پھر ان کا آنا مظلوموں کے لیے سہارا بنے، اسلام کے لیے قوت اور ظالموں کے سامنے مضبوط قلعہ بن گئے. یہ تو وہی عمر ہیں جن کے لیے دعائیں مانگی جارہی تھیں.

    اللھم اھد عمرین، اے اللہ ان دونوں (ابوجہل و عمر رضی اللہ عنہ) میں سے جو محبوب ہے اس کے ذریعے عزت عطا فرما.

    اور پھر جب آئے تو کیا ہی کمال شخصیت بنے. رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم خواب دیکھتے ہیں: فرمایا عمر کی قمیض اتنی لمبی ہے کہ وہ کھینچ رہے ہیں. تعبیر یہ کی کہ یہ دین میں زیادہ ہونگے.

    رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم دوسرا خواب دیکھتے ہیں: فرمایا میں دودھ پیتا ہوں اور دودھ کی تری مجھے ناخنوں میں نظر آنے لگتی اور پھر عمر کو دیتا ہوں، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم تعبیر پوچھتے ہیں فرمایا اس سے مراد علم ہے.

    ان کا آنا یقیناً خیر ہی تھا کیونکہ وہ دین کا قلعہ تھے، وہ علم کے مینار تھے. وہ ایمان و اسلام کے لیے عزت کا سبب تھے اور ہیں. یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے بہترین کارنامے سرانجام دینے کی توفیق عطا فرمائی.

    رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں آپ بہترین مشیر ثابت ہوئے. حتی کہ آپ کے ذہن کی باتیں یا مشورے قرآن بن کر نازل ہوئے. آپ اپنی جان مال کے ذریعے سے دین کے لیے قوت بنے. اس کے بعد خلیفہ اول کے دور میں بھی آپ ان کی ہر طرح مدد و تعاون کرتے رہے. صفاتِ باکمال کا نتیجہ ہی تھا کہ آپ خلافتِ راشدہ کے دورے امیر کے طور پر منتخب کیے گئے.

    یہیں سے آپ کا جوہر کمال کی حد کو پہنچنے لگا، اللہ تعالیٰ نے ایسے ایسے کارنامے سرانجام دلوائے کہ دنیا میں آنے والے بے شمار بادشاہ آپ کے عشرِ عشیر کو بھی نہیں پہنچتے.

    آپ کے کارناموں کی فہرست خاصی دلچسپ اور دنیا کے ٹھیکیداروں کو چونکا دینے والی بھی ہے.

    آپ نے وہ کام اس وقت سرانجام دیے جب اس کا بڑی بڑی سلطنتوں میں تصور بھی نہیں کیا جاسکتا. آپ نے فوجی و پولیس کا نظام دیا، مجاہدین کے وظائف مقرر کیے، دودھ پیتے بچوں کے لیے وظیفہ مقرر کیا. اسلامی سرحدات کو توسیع دی. احتساب کا کڑا نظام قائم کیا. اہم چیزوں میں سے ایک "انصاف کی فراہمی” کو یقینی بنایا. چاہے وہ کسی سرکاری شخص سے ہی متعلق کیوں نہ ہو.

    آپ رضی اللہ عنہ گو نا گو خصوصیات کی حامل شخصیت تھیں، جن سے اللہ تبارک وتعالیٰ نے اپنے دین متین کا کام لیا اور پھر ان کی وہ دعا بھی قبول ہوئی.

    اے اللہ مجھے شہرِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم میں شہادت عطا کرنا.

    اللّھم إني أسألك شھادة في سبيلك. آمين