Baaghi TV

Category: معاشرہ و ثقافت

  • قدیم چولستان : سرائیکی تہذیب کے منفرد رنگ،دوسری قسط

    قدیم چولستان : سرائیکی تہذیب کے منفرد رنگ،دوسری قسط

    قدیم چولستان : سرائیکی تہذیب کے منفرد رنگ
    تحقیق و تحریر:ڈاکٹر محمد الطاف ڈاھر جلالوی
    altafkhandahir@gmail.com
    قارئین کرام !اس مضمون میں قدیم چولستان کی وادی ہاکڑہ اور سرائیکی تہذیب کی منفرد جھلکیوں کا احاطہ کیا گیا ہے۔ یہ چار اقساط پر مشتمل سلسلہ سرائیکی ثقافت کی گہرائیوں، رسوم و رواج اور تاریخی ورثے پر روشنی ڈالے گا۔اس کی دوسری قسط ملاحظہ فرمائیں

    سرائیکی ثقافت کی بنیادیں،زبان،موسیقی اور شاعری

    روہی چولستان کے روایتی رسوم میں شادی خوشی کی ریتیں،روہی چولستان امن فرید میلے،جیپ ریلی اور اونٹوں کی ریس جیسی تقریبات میں جھمر رقص،لوک موسیقی اور چولستانی دستکاریوں کی نمائش ثقافت کی روح ہیں۔خواتین کی مہندی کی رسم اور روحانی عقیدت کے مراکز جیسے چنن پیر درگاہ نے مقامی رسوم و رواج کو صدیوں تک زندہ رکھا۔ روہی کے روایتی فنون لطیفہ میں لوک گائیکی، دستی خوبصورت رنگین پنکھوں اور مٹی کے برتنوں،ہینڈی کرافٹ اشیاء کی تیاری نمایاں ہیں۔

    لفظ چولستان کی ایٹمالوجی
    (اشتقاقیات) لسانیات پر غور کریں تو لفظ خالص سرائیکی زبان کی شناخت،ادب ودانش،شعور،فنون لطیفہ،اخلاقی اقدار،تہذیب وتمدن
    ،روایات،رہن سہن رسوم و رواج اور تاریخ کی مکمل ڈکشنری ہے۔سرائیکی میں "چول” کا مطلب ہل چل،چلنا پھرنا،ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہونا،ستان سے مراد "جگہ” ہے۔گویا چولستان ریت کے ٹیلوں کی ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقلی ہے۔ریت کے پہاڑ کو سرائیکی وسیب میں روہی کہا جاتاہے۔روہی چولستان وسیع عریض الفاظ کی مضبوط ترین لغت ہے۔

    پہلی قسط پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

    قدیم چولستان، سرائیکی تہذیب کے منفرد رنگ
    جو سرائیکی سماجیات کا خوبصورت اظہار،امن و رواداری کا قیمتی خزانہ ہے۔پندھ پندھیرو افراد کے لیے روہی چولستان کا سفر سحر انگیز سرمایہ اور جادونگری ہے۔سرائیکی مہان روہیلا کلاسک شاعر حضرت سفیرؔلشاری سئیں روہی چولستان سرائیکی لوگوں اور اپنے صحرائی ماحول کو شاندار ثقافتی و تمدنی رنگوں میں حسین لفظوں سے زندگی کا خوبصورت روپ دیا ہے۔ان کے مجموعے کلام میں سرائیکی مزاحمتی مزاج، محبت اور دھرتی سے بے پناہ عقیدت کافیوں،نظموں،لوک گیتوں اور ڈوہڑوں کی شکل میں نظر آتی ہے۔ان کے شاندار کلام آفاقیت میں خوبصورت چولستان روہی کے منظر کا نمونہ ملاحظہ فرمائیں۔

    روہی وُٹھڑی مینگھ ملہاراں،سانول موڑ مہاراں
    چھمبھڑ،بندھ تے ݙہریں پاݨی،ٹوبھے تار متاراں

    بکھڑا،ݙودھک،مونیاں،چھپری،ڳنڈھیل،الیٹی
    لمب،اوئیݨ تے دھامݨ،سٹھ پئی نال وساہ ولھیٹی
    ہلڑا،بھرٹ،مرٹ،سٹ لاٹھی،کترݨ،لائین بہاراں

    لاݨے،پھوڳ تے لاݨیاں،کھپوں،کنڈیاں مکاں لایاں
    شاں شاں کرتے شوکن مورے،پینگھے جھوٹن لایاں
    گندلاں وانگوں سیٹوں نکتن،کُھمبیاں غیر شماراں

    وڳ ݙاچیاں دے ،دھݨ ڳائیں دے،بھیݙاں،ٻکریاں چھانگاں
    لیلے ، گابے کھیوے سمدن،ہرن مریندن چھانگاں
    بے فکرے تھی مستیاں دے وچ،ٹُُردن جوڑ قطاراں

    ٹٻیاں تے چڑھ ٻہندن چھیڑو،ونجھلی دے سُر لیندن
    سورٹ،جوگ،پہاڑی ڳاندن،جھوک ݙو مال ولیندن
    اگلاں مار ملاکاں جوجھن،بونگن گھنڈ تنواراں

    ݙیکھݨ لائق نظارا ہوندےمال اچ پوندی ݙوبھی
    کیڑاں نال سݙیندن چھیڑو،اڑی آ ۔۔ ندی ،ٹوبھی
    ناں دی کو تے نند شوکیندن ،کھیر دیاں وہندن دھاراں

    پاݨی وانگوں ݙدھ ورتاون،بچدے جاڳا لاون
    سہجوں سنگ سہیلیاں رل مل ول چا راند مچاون
    کئی پیاں کھیݙن پیر گساواں،کئی رل ڳاون واراں

    دھمی ویلے وقت سہیلے جاڳن سگھڑ سیاݨیاں
    سُتھرے بھانڈے ݙہی پلہارن بہندن گھت مندھاݨیاں
    حق ہو،حق ہو گھومے ݙیون پڑھ پڑھ استغفاراں

    سائیاں ٻاجھوں مال ݙوہیلا ،کئی نی ہتھ پھریندا
    کیندی ٻکری،کون سنبھالے ،ہر کوئی ہے درکیندا
    اپݨی آپ سنبھال سفیرا ،لہہ رل ڳئی دیاں ساراں

    رنگ برنگی رسمیں اور اشیاء چولستان روہی کی شاندار تہذیبی،ثقافتی قدیمی آرٹ اینڈ آرکیالوجی کے نقش و نگار کو اجاگر کرتی ہیں۔پاکستان کے دلکش کلاسک کلچرل ورثے کا اہم سرمایہ اور سرائیکی شناختی حوالہ ہیں۔الگ پہچان کی مشہور ریاست بہاولپور روہی چولستان کی سادہ مٹھاس بھری رسومات،رواج ریتیں اصل میں روایتی ثقافتی ورثےکی شناخت کا زیور ہیں۔اونٹنیوں کی گود بھرائی کا میلہ دراصل روہی کے باسیوں کی آپس میں اتحاد ویکجہتی اور محبت و یقین کا اظہار اور میل میلاپ ہوتا ہے۔یہ رسم چولستان کے مقامی لوگوں کی اونٹنیوں سے گہری وابستگی کو ظاہر کرتی ہے۔گائے،بھیڑ بکریوں اور اونٹ کے مال مویشی کو روہیلے اپنی روزی روٹی کے ذرائع آمدن اور مالی خوشحالی کی ضمانت سمجھتے ہیں۔شادی بیاہ کی طرز پر اونٹنیوں کو مختلف زیورات اور رنگ برنگے کپڑوں سے سجایا جاتا ہے۔اس موقع پر لوک گیت گائے جاتے ہیں اور خواتین خصوصی رقص جھمر پیش کرتی ہیں۔پانی سبزہ اور زندگی کی رونق و شادابی کی علامت جانا جاتا ہے۔پانی کی تقسیم کی رسم میں چولستان صحرائے ریگستان کی اہم ریت رواج اس وجہ سے ہے کہ پانی کی منصفانہ تقسیم سے ہی تمام روہی گلزار بن جاتی ہے۔دلوں میں محبت و پیار کے جذبات پیدا ہوتے ہیں۔صحرائی علاقوں میں پانی کی کمی ایک سنگین مسئلہ ہے۔ یہاں پانی کی تقسیم ایک مخصوص طریقۂ کار کے تحت کی جاتی ہے۔ جس میں ہر خاندان کے لیے مساوی حصہ مختص کیا جاتا ہے۔ اس رسم میں برادری کی یکجہتی اور باہمی احترام کو اجاگر کیا جاتا ہے۔

    چاندنی رات کا دلفریب منظر لوک سر سنگیت کی محفل روہیلوں کےلئے نئی امنگ اور خوشی کا سماں پیدا کرتی ہے۔مکمل چاند چودھویں کی رات کو مقامی لوگ کھلے صحرا میں جمع ہوتے ہیں۔اس موقع پر روایتی سازوں جیسے رباب،ہارمونیم اور ڈھول کے ساتھ لوک گیت گاتے ہیں۔ یہ راتیں مقامی ادب،موسیقی اور ثقافت کو زندہ رکھنے کا ایک اہم ذریعہ ہیں۔ریت کی مٹی کی خوشبو ماں کی ممتا کو سلام تحیسن پیش کرتی ہے۔کچی زمین پر نئے بچے کی مالش کی رسم رسم دراصل ریت سے بےپناہ محبت کا اظہار ہے۔یہ رسم نوزائیدہ بچوں کی صحت اور جسمانی مضبوطی کے لیے کی جاتی ہے۔مقامی خواتین گرم ریت یا زمین پر بچے کی مالش کرتی ہیں جو ان کے روایتی علاج کا حصہ بھی جانا جاتا ہے۔اونٹ سجانے کے مقابلے روہی علاقے کی سب سے خوبصورت اور منفرد قدیم تاریخی رسم ہے۔خوبصورت اونٹنی کا انتخاب الگ ریت رواج کی پہچان ہے۔چولستان صحرائے ریگستان کا ہوائی جہاز بھی اونٹ کو کہا جاتا ہے۔اونٹوں کو زیورات رنگین کپڑوں اور مہندی سے سجایا جاتا ہے۔جیتنے والے اونٹ کے مالک کو انعامات دیے جاتے ہیں۔

    شادی خانہ آبادی مبارک بیاہ کی ثقافتی رسموں،ریت و رواج کو صدیوں سے منایا جارہا ہے۔آج بھی شادی کی خوشیوں کے رنگ میں منفرد رسمیں نمایاں ہیں۔گنڈھییں پہلی رسم ہے جس میں دونوں خاندانوں میں دلہن کنوار ،دولہا گھوٹ کے والدین بزرگوار شادی کی تاریخ طے کرتے ہیں۔دولہے کی والدہ کی طرف سے دلہن کو لال چنئی ڈوپٹہ پہنایا جاتا ہے۔اس کے بعد دعاخیر پتاسے کی رسم ادا کی جاتی ہے اور خوشی کےگیت گائے جاتےہیں۔کانڈھا شادی کی اہم رسم ہوتی ہے جو دور حق ہمسائے رشتے داروں کو نائی کے ذریعے سنہیا پیغامات دیےجاتےہیں۔اج کل واٹس ایپ پر خوبصورت کارڈ بھیجے جاتے ہیں جس پر مہندی،جاگا، دولہے کی سہرا بندی کی رسم، بارات روانگی اور ولیمہ کی تواریخ درج ہوتیں ہیں۔اس کے بعد دول نغارے،جاگے،بین بانسری شرنا کی رسمیں شروع ہو جاتیں ہیں۔تقریبا ایک ہفتہ پورا بوا،چاچی،ماسی،مامی کی طرف سے رات کو جاگے سجائے جاتے ہیں۔دن کو شادی کے گھر کو روشنائی رنگین بتیوں سے سجایا جاتا ہے۔

    سارا دن میوزک موسیقی سہرے گیت گائے جاتےہیں۔رات کو محفل موسیقی کی رسم میں موہن بھگت جیسے گلوکاروں کی طرف سے فن گائیکی سے لوگوں کے دلوں کو خوب لطف اندوز کیا جاتاہے۔نٹوں کا تماشہ بھی ایک ثقافتی لحاظ اہم رسم سمجھی جاتی ہے۔ڈرامہ تھیٹر کا انعقاد امیر لوک اپنے دیروں پر کرتےہیں،مختلف روایتی پکوانوں و کھانوں کی دعوتیں شادی کی رسومات میں سب سے اہم سمجھی جاتی ہے۔ونوا،کھارے پر چڑھنے کی رسم قدیم زمانے سے رائج ہے۔اس کا مقصد دلہن والوں اور وس وسیب کو یقین دلانا ہوتا ہے کہ دولہا جسمانی طور پر کارآمد ہے۔ روزی روٹی کما کر اپنی دلہن کو خوشیاں دے سکتا ہے۔روحانی مرشد سید سے خصوصی دعائیں کی رسم بارات روانگی سے پہلے بھی اور واپسی خیر سلامتی سے کےلیے ہوتی ہے۔رسم نکاح اہم سنت رسول ہے۔

    مسلم روہیلے کمیونٹی نکاح پہلے یا پھر دلہن کی طرف جاکر مسجد میں ادا کی جاتی ہے۔مٹھائی یا چھووراے پتاسے تقسیم کیے جاتے ہیں۔کپڑے پھاڑنے کی رسم دولہا کے دوست ادا کرتے ہیں۔نہانے سے پہلے پرانے کپڑوں کو پھاڑ دیا جاتا ہے۔نئی صاف ستھرائی پوشاک دولہا لباس پہنایا جاتا ہے۔سہرا پہنانے کی رسم ادا کی جاتی ہے۔والدین سمیت قریبی رشتہ دار دوست پھلوں اور پیسوں والے ہار اور مالا پہناتے ہیں۔اسی طرح دلہن والے گھر بھی خوشیوں کی رسمیں روایتی ثقافتی انداز میں ادا کیں جاتیں ہیں۔مینڈھی کی رسم میں دلہن کو مہندی لگائی جاتی ہے، رخصتی سے تقریبا سات دن پہلے دولہن الگ تھلگ کمرے میں رہتی ہے۔اس دوران کنوار دلہن کو چیکو ابٹن کی رسم سے گزارا جاتا ہے۔گھڑی گھڑولا کی رسم دولہے کی بہنیں ادا کرتیں ہیں۔خوشیوں کے گیت سہرے گاتیں ہیں۔بارات روانگی سے پہلے دو نفل شکرانہ مسجد میں ادا کئے جاتے ہیں۔صدقہ خیرات رتول کی رسم ادا کی جاتی ہے۔ہندو روہیلے مندر کی زیارت کرت ہیں۔

    سرائیکی ثقافتی جھمر رقص کی رسم شادی بیاہ کی روح ہوتی ہے۔یہ عمل پوری شادی کی ہر رسم ورواج خاصہ ہوتا ہے۔گانا پہنانے کی رسم کے موقع پر دولہے گھوٹ کو دائیں ہاتھ کی کلائی پر خوبصورت رنگین ثقافتی گانا باندھا جاتا ہے۔گھوٹ والوں کی طرف سے وڑھی ڈاج جہیز کی رسم ادا کی جاتی ہے۔جس میں دلہن کو دی جانے والی سوئی سے لے کر بیڈ روم تک ہر چیز وسیبی عورتوں کو دکھائی جاتی ہے۔گھوٹ دولہا کے معمولات کو سنبھالنے اس کی ہر ممکن حکم کی تعمیل کے لیے سبالا سنبھالے کا انتخاب عموما ہوشیار مسات،ملیر،سوتر میں سے ہوتا ہے۔ ویہانہ جوتی چوری کی رسم بھی رخصتی کے موقع پر سالیاں ادا کرتیں ہیں۔دولہا منہ مانگی رقم دے کر روانہ ہوتا ہے۔پھل چنائی کی رسم میں پھولوں سے گھوٹ کنوار کا خوبصورت شاندار استقبال کیا جاتا ہے۔

    دودھ کھیر پلائی کی رسم میں دولہے کا باقی دودھ دولہن کو پلایا جاتا ہے۔تاکہ اللہ پاک کی رحمت سےجوڑی سلامت رہے اور محبت آخر تک قائم و دائم رہے۔ہاتھ کی مٹھی کھلائی کی رسم میں اکثر دولہن اپنے دولہے کی عزت رکھتی ہے۔دولہن کی گھنڈ کھلائی چہرہ شیشہ دکھائی کی رسم نئے گھر میں ساس (سس)،(سوہرا) سسر قیمتی تحائف سے ادا کرتے ہیں۔لاواں کی رسم میں دولہا دولہن دونوں کے سروں کو پیارے سے آپس میں ملائے جاتے ہیں۔دروازہ پکڑنے کی رسم میں دولہن خود سے نئے گھر آنے سے پہلے ادا کرتی ہے۔اس موقع پر سسسر اپنی نئی دولہن کو کوئی جانور یا کوئی قیمتی چیز پیش کرتا ہے۔

    ولیمہ کی رسم میں تمام برادری کو شاندار پکوان پیش کیے جاتےہیں۔گانا کھولنے کی رسم تیسرے دن ادا کی جاتی ہے۔ستوواڑہ کی رسم میں دولہن سات دن بعد کچھ دن پرانی یادوں کو تازہ کرنےکےلیے اپنے میکے چلی جاتی ہے۔پھر ہفتہ گزارنے کے بعد گھر واپس آکر اپنی ساسوں ماں سے گھریلو زندگی ہاتھ بٹانا شروع کر دیتی ہے۔اس شادی بیاہ کی روایتی رنگوں سے بھری رسمیں ختم ہوجاتیں ہیں۔پھر اللہ پاک کے حکم سے عورت کو بچے کی تخلیق کی خوشخبری ملتی ہے۔پھر گود بھرائی کی رسم ادا کی جاتی ہے۔اس طرح یہ سلسلہ جاری رہتا ہے۔
    جاری ہے

  • پنجاب میں سُلگتی نفرت،سازش یا حقیقت؟

    پنجاب میں سُلگتی نفرت،سازش یا حقیقت؟

    پنجاب میں سُلگتی نفرت،سازش یا حقیقت؟
    تحریر:ڈاکٹرغلام مصطفےٰ بڈانی
    پنجاب، پاکستان کے وجود کا اہم حصہ یعنی دل ہے جو اس وقت ایک غیر یقینی صورتحال سے دوچار ہے، جہاں قوم پرستی اور سازش کے بیج بوئے جا رہے ہیں۔ خواجہ غلام فرید کے مزار پر منعقد ہونے والی "روہی انٹرنیشنل پنجابی کانفرنس” کے تناظرمیں سامنے آنے والے نفرت انگیز بیانات نے ایک خطرناک صورت حال پیدا کر دی ہے۔ یہ تنازع صرف سرائیکی اور پنجابی عوام کے درمیان نفرت کو ہوا دینے کی کوشش نہیں بلکہ یہ پاکستان کی قومی یکجہتی کو کمزور کرنے کی ایک سوچی سمجھی چال بھی ہو سکتی ہے۔

    سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیوز نے اس تنازع کو مزید گمبھیر بنا دیا ہے۔ ان ویڈیوز میں کانفرنس کے منتظمین کی جانب سے سرائیکی عوام کو "پناہ گزین” کہہ کر انہیں پنجاب چھوڑنے کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔ یہ بیانات ایک منظم سازش کا پتہ دیتے ہیں، جن میں پنجابی اور سرائیکی عوام کے درمیان نفرت کی دیوار کھڑی کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ ان میں استعمال کی جانے والی زبان نہ صرف اشتعال انگیز ہے بلکہ ایک خطرناک رجحان کی نشاندہی کرتی ہے، جس کا مقصد عوام کو تقسیم کرکے قومی ہم آہنگی کو نقصان پہنچانا ہے۔

    یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر یہ تنازع کس کے مفاد میں ہے؟ کون اس صورتحال سے فائدہ اٹھا رہا ہے؟ اگر ماضی میں جھانک کر دیکھا جائے تو پاکستان دشمن عناصر نےمختلف علاقوں میں بدامنی اور تقسیم پیدا کرنے کی کوشش کی ہے، جیسے بلوچستان میں علیحدگی پسند تحریکوں کو ہوا دینا، خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کا فروغ اور سندھ میں قوم پرستی کو ابھارنے کی کوشش۔ ان تمام سازشوں کے ناکام ہونے کے بعد اب پنجاب کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

    یہ صورتحال اس وقت زیادہ سنگین ہو جاتی ہے جب ہم دیکھتے ہیں کہ سوشل میڈیا پر بغیر تصدیق کے نفرت انگیز بیانات اور مواد وائرل ہو رہے ہیں۔ یہ پلیٹ فارمز ایک اہم ذریعہ بن چکے ہیں، جن کے ذریعے لوگ جذباتی ہو کر غلط معلومات پھیلا رہے ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ عوام میں اشتعال بڑھ رہا ہے اور تقسیم کی خلیج گہری ہو رہی ہے۔

    پنجاب ایک ایسا صوبہ ہے جہاں مختلف قومیتیں، ثقافتیں اور زبانیں محبت اور ہم آہنگی کے ساتھ رہتی آئی ہیں۔ پنجابی، سرائیکی، بلوچی اور پختون عوام کے درمیان نہ صرف سماجی تعلقات ہیں بلکہ رشتہ داریاں بھی ہیں۔ ایسے میں اس تنازع کو ہوا دینا دراصل ان تمام تاریخی رشتوں اور روایات کو نقصان پہنچانے کے مترادف ہے جو صدیوں سے قائم ہیں۔

    اس مسئلے کے حل کے لیے فوری اقدامات کی ضرورت ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ اس تنازع کو سنجیدگی سے لے اور ان عناصر کے خلاف سخت کارروائی کرے جو نفرت پھیلانے میں ملوث ہیں۔ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف جنہوں نے پنجابی کانفرنس کرانے کی اجازت دی،جس کی آڑ میں پاکستان کی سالمیت کے خلاف سازش پروان چڑھ رہی ہے ، وزیراعظم پاکستان اور دیگر اعلیٰ حکام کو ایک مشترکہ حکمت عملی کے تحت کام کرنا ہوگا تاکہ ایسے واقعات کا اعادہ نہ ہو۔اور صدرپاکستان محمدآصف علی زرداری جب محترمہ بےنظیر بھٹوشہید ہوئی تھیں تو اس وقت بھی پاکستان میں نفرت کا بیج بونے والوں کو "پاکستان کھپے ” کا نعرہ لگا کر منہ توڑ جواب دیا تھا ،آج بھی اسی نعرے "پاکستان کھپے "کی اشد ضرورت ہے

    میڈیا پر بھی ایک بڑی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ذمہ داری کا مظاہرہ کرے اور صرف وہ مواد نشر کرے جو عوام کو جوڑنے اور قومی یکجہتی کو فروغ دینے میں معاون ہو۔ صحافیوں اور میڈیا ہاؤسز کو چاہیے کہ وہ ایسی خبروں کو نشر کرنے سے گریز کریں جو مزید اشتعال پیدا کریں۔

    عوام کو بھی اپنی ذمہ داری کو سمجھنا ہوگا۔ جذباتی ہونے کے بجائے حقائق پر مبنی معلومات کو اپنانا ہوگا۔ تعلیم کے ذریعے رواداری اور بھائی چارے کے پیغام کو فروغ دینا ہوگا۔ علماء، اساتذہ اور سماجی رہنما اور سیاستدان بھی عوام کو اتحاد و یکجہتی کی اہمیت سے آگاہ کرنے میں کردار ادا کریں۔

    سب سے اہم بات یہ ہے کہ حکومت نفرت انگیز بیانات دینے والوں کے خلاف سخت ترین قانونی کارروائی کرے۔ اس کے ساتھ ساتھ، سوشل میڈیا پر نفرت پھیلانے والے اکاؤنٹس کو بند کیا جائے اور اس قسم کے مواد پر مکمل پابندی عائد کی جائے۔

    یہ تنازع صرف پنجاب تک محدود نہیں ہے بلکہ یہ پاکستان کی سالمیت کے لیے ایک بڑا خطرہ ہے۔ ہمیں مل کر ان عناصر کو ناکام بنانا ہوگا جو ہماری قومی وحدت کو نقصان پہنچانا چاہتے ہیں۔ یاد رکھیں کہ پاکستان کے دشمن ہمیشہ مختلف ہتھکنڈوں کے ذریعے ملک میں بدامنی پھیلانے کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔ ان سازشوں کو ناکام بنانے کے لیے ہمیں قومی سطح پر اتحاد کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔

    اگر آج ہم نے اس چنگاری کو بجھانے میں تاخیر کی تو کل یہ ایک ایسی آگ میں تبدیل ہو سکتی ہے جس پر قابو پانا ناممکن ہو جائے گا۔ وقت کا تقاضا ہے کہ ہم سب مل کر پاکستان کی قومی یکجہتی اور سلامتی کو مضبوط کریں تاکہ یہ ملک ہمیشہ ترقی، خوشحالی اور امن کی راہ پر گامزن رہے۔

  • انسانیت کا عملی مظاہرہ: فیصل آباد کا خاموش مسیحا

    انسانیت کا عملی مظاہرہ: فیصل آباد کا خاموش مسیحا

    انسانیت کا عملی مظاہرہ: فیصل آباد کا خاموش مسیحا
    تحریر:شاہد نسیم۔چوہدری
    فیصل آباد کی گلیاں اور سڑکیں ہر روز لاکھوں افراد کی زندگیوں کا مشاہدہ کرتی ہیں۔ کہیں خوشیاں ہیں، تو کہیں مسائل کے پہاڑ۔ لیکن انہی ہجوموں میں کچھ ایسے افراد بھی ہیں جو خاموشی سے انسانیت کی خدمت میں مصروف ہیں، اور انہی میں سے ایک ہے میاں رحمان علی، ایک نوجوان جس نے اپنے چھوٹے سے اقدام سے انسانیت کا حقیقی مفہوم پیش کیا ہے۔

    رحمان علی فیصل آباد کا ایک عام سا لڑکا ہے، جو اپنی زندگی کو لوگوں کی مدد کے لیے وقف کر چکا ہے۔ روزمرہ زندگی میں وہ ایک موٹر سائیکل پر سفر کرتے ہوئے ان افراد کی مدد کرتا ہے جن کے موٹر سائیکل کا پٹرول ختم ہو جاتا ہے۔ وہ کسی اجنبی کو سڑک پر پریشان دیکھ کر رک جاتا ہے، ان کی مدد کے لیے پٹرول فراہم کرتا ہے، اور خاموشی سے آگے بڑھ جاتا ہے۔اس کے علاوہ، سردیوں کے سخت موسم میں وہ ان لوگوں کے لیے جیکٹ، جوتے اور جرابیں فراہم کرتا ہے جو ان سہولیات سے محروم ہیں۔ سب سے اہم بات یہ کہ وہ اپنی شناخت چھپائے رکھتا ہے۔ نہ کسی سے داد کی طلب، نہ کسی سے شاباشی کی خواہش۔ یہی خاموشی اور خلوص اس کے کام کو مزید خاص بناتا ہے۔

    انسانیت کی خدمت: ایک عظیم مشن ،انسانیت کا حقیقی مطلب یہی ہے کہ دوسروں کے مسائل کو اپنا مسئلہ سمجھا جائے اور بلا کسی غرض کے ان کی مدد کی جائے۔ رحمان علی کا یہ عمل ہمارے معاشرے کے انفرادی کرداروں کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے۔ جہاں لوگ اکثر مدد کرنے سے پہلے ذاتی فوائد پر غور کرتے ہیں، وہاں ایسے افراد کسی روشنی کے مینار کی طرح ہوتے ہیں جو تاریکی میں رہنمائی فراہم کرتے ہیں۔
    معاشرتی مسائل اور حل
    ہمارے معاشرے میں بے شمار افراد غربت، بے گھری، اور بنیادی سہولیات کی کمی کا شکار ہیں۔ ایسے افراد کی مدد کرنا حکومت اور اداروں کی ذمہ داری ضرور ہے، لیکن انفرادی سطح پر بھی ہم میں سے ہر شخص کچھ نہ کچھ کر سکتا ہے۔میاں رحمان علی جیسے افراد کا عمل ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ بڑے بڑے منصوبے بنانے کے بجائے چھوٹے مگر مؤثر اقدامات سے بھی دنیا کو بہتر بنایا جا سکتا ہے۔

    احساس اور قربانی کی اہمیت :رحمان علی کی کہانی ہمیں احساس دلاتی ہے کہ انسانیت کا حقیقی جوہر دوسروں کی تکلیف کو محسوس کرنا اور اسے کم کرنے کی کوشش کرنا ہے۔مدد کا جذبہ: بغیر کسی لالچ کے دوسروں کے لیے کچھ کرنا ایک نادر صفت ہے۔قربانی کا جذبہ: اپنی ذات کی پرواہ کیے بغیر دوسروں کی مدد کے لیے آگے بڑھنا معاشرے کی خوبصورتی کو نمایاں کرتا ہے۔خود اعتمادی: اپنے عمل کو کسی شہرت کے بغیر انجام دینا اس بات کی علامت ہے کہ انسان اپنی نیت میں سچا ہے۔ایسا معاشرہ کیسے بنایا جائے؟ہم سب کی یہ ذمہ داری ہے کہ ہم ایسے افراد کے کاموں سے سیکھیں اور ان کی پیروی کریں۔ اگر ہر شخص اپنے اردگرد کے لوگوں کے مسائل پر تھوڑا سا دھیان دے اور اپنی استطاعت کے مطابق مدد کرے، تو یہ دنیا ایک بہتر جگہ بن سکتی ہے۔

    رحمان علی جیسے لوگ ہمیں یہ سکھاتے ہیں کہ سماجی تبدیلی صرف بڑے منصوبوں سے نہیں بلکہ چھوٹے چھوٹے اعمال سے بھی ممکن ہے۔خلوص اور عاجزی کا درسرحمان علی کا عمل ہمیں عاجزی اور خلوص کا درس دیتا ہے۔ اپنی نیک نیتی کے ساتھ کسی کی مدد کرنا اور اس کا کریڈٹ نہ لینا ایک عظیم کام ہے۔ اس عمل سے ہمیں یہ سیکھنے کو ملتا ہے کہ خدمت خلق کے لیے نیت اور عمل کافی ہے، نہ کہ تشہیر اور ستائش۔فیصل آباد کے اس خاموش مسیحا کی کہانی معاشرے کے ہر فرد کے لیے ایک سبق ہے۔ یہ ہمیں یاد دلاتی ہے کہ انسانیت کا حقیقی حسن دوسروں کے لیے آسانیاں پیدا کرنے میں ہے۔آئیے، ہم سب مل کر اپنے اپنے طور پر انسانیت کی خدمت کریں اور اس دنیا کو ایک بہتر اور پرسکون جگہ بنائیں۔رحمان علی جیسے افراد کی کہانیاں ہمیں امید اور حوصلہ فراہم کرتی ہیں کہ نیکی اور خلوص کی شمع ہمیشہ جلتی رہے گی، چاہے دنیا میں کتنی ہی مشکلات کیوں نہ ہوں۔
    یہی انسانیت ہے، یہی اصل زندگی کا مقصد۔

  • قدیم چولستان، سرائیکی تہذیب  کے منفرد رنگ

    قدیم چولستان، سرائیکی تہذیب کے منفرد رنگ

    قدیم چولستان، سرائیکی تہذیب کے منفرد رنگ
    تحقیق و تحریر:ڈاکٹر محمد الطاف ڈاہر جلالوی
    altafkhandahir@gmail.com
    اس مضمون میں قدیم چولستان کی وادی ہاکڑہ اور سرائیکی تہذیب کی منفرد جھلکیوں کا احاطہ کیا گیا ہے۔ یہ چار اقساط پر مشتمل سلسلہ سرائیکی ثقافت کی گہرائیوں، رسوم و رواج اور تاریخی ورثے پر روشنی ڈالے گا۔

    پہلی قسط . قدیم وادی ہاکڑہ کی تمدنی اقدار،تاریخ کے گمشدہ راز
    چولستانی وادی ہاکڑہ کا تاریخی پس منظر ہزاروں سال پرانا ہے۔جہاں انسانی تخلیقیت نے مادری زبان،روحانیت،ادب، اور ثقافت کے ذریعے تمدنی و تہذیبی اقدار کو پروان چڑھایا۔روہی چولستان کے منفرد رسوم و رواج اور دستکاریوں نے عالمی سطح پر سرائیکی ثقافت کو الگ پہچان دی۔ قدیم آثار جیسے گنویری والا اور قلعہ ڈیراور آج بھی اس خطے کی تہذیبی تاریخ کی گواہی دیتے ہیں۔

    فلسفہ امن و بقائے انسانیت اور فکر معاش نے انسانی تخلیقی خوبیوں اور صلاحیتوں کو پروان چڑھایا۔خلیفہ خداوندی حیوان ناطق انسان نے ہمیشہ مادری زبان کے در سے علم وادب کی روشن خوبصورت قلم مشعل اور شعور کی آگاہی سے منفرد انداز میں آرٹ،کلچر اور سوسائٹی کی بدولت عظیم سمندروں،دریاؤں،ندیوں،چشموں اور ٹوبھوں کے کناروں پر نئی تہذیبوں اور تمدنوں کو تخلیق کیا۔ہزاروں سال پرانی وادی ہاکڑہ سرسوتی کی سرائیکی خطے روہی چولستان کی ثقافت اپنے مخصوص رسم و رواج اور دستکاریوں کی بدولت پاکستان سمیت اقوام عالم میں الگ خاص حیثیت رکھتی ہے۔

    کرہ ارض پر مجبور انسان نے اپنے دکھ سکھ کے اظہار کے لیے ہی رسوم و رواج کی روایات کو فروغ دیا۔صحرائی علاقے بہاولپور کے گلزار صادق روہی چولستان کے کنارے وادی ہاکڑہ سرسوتی تہذیب وتمدن کی آغوش میں پلنے والی مضبوط رواج ریتیں اور رسوم نے روہیلوں کی زندگی میں نئی راہیں تلاش کیں۔قدیم آثارقدیمہ کا حامل شہر گنویری والا،موج گڑھ،قلعہ مروٹ،پتن منارہ،قلعہ ڈیراور جیپ ریلی مرکز چولستان کے ساتھ دیگرچولستانی پرانے گمشدہ محلوں اور قلعوں کے کھنڈرات دراصل آج کے گوپوں میں زندہ جاوید روایات اور رسموں کی گواہی ہیں،روہی کی قابل استعمال اشیاء کا ذکر اور خوبصورت منظر نگاری اپنی نوعیت میں انوکھی ہیں۔

    چولستان اور روہی سرائیکی وسیب کی عالمگیر تہذیب وتمدن،تصوف اور ثقافت اپنی قدیم روایتوں اور منفرد انداز کے باعث بہت مشہور ہے ۔یہاں کی ثقافتی رسموں و رواج اور اشیاء کا نمایاں ذکر سرائیکی وسیب کی بین الاقوامی سطح پر امن و محبت،تصوف،علم وادب،رواداری،خلوص،وفا،
    ،ہمدردی،صبروتحمل،برداشت،دیانت، شرافت،امانت،اتحاد،احترام آدمیت کے فلسفے کی علامات ہیں۔

    مشہور ثقافتی مقامی و انٹرنیشنل چولستانی میلہ، چنن پیر میلہ، جھوک فرید امن میلہ، قلعہ ڈیراور فرید امن میلہ،چولستان جیپ ریلی کے سالانہ تہواروں میں روایتی رقص جھمر،مخصوص چولستانی لباس،موسیقی اور علاقائی دستکاریوں کی نمائش ہر عام خاص سیاح کو اپنی طرف متوجہ کرتی ہے۔

    اونٹوں کی دوڑ کا ثقافتی تہوار چولستان روہی کے لوگوں بڑے جوش و خروش سے مناتے ہیں۔اس ریس میں نوجوان طاقتور صحرائی ہوائی جہاز خوبصورت نقش و نگار سے مزین اونٹ ہر ایک کو دوڑتے ہوئے بھاتے ہیں۔لوک موسیقی روہی چولستان کی روح ہے۔فنون لطیفہ میں شاعری کی تاثیر کو موسیقی کے سازوں سے مزین کیا جاتا ہے۔

    سرائیکی چولستانی لوک گلوکارجیسے مرحوم فقیرا بھگت کا بیٹا موہن بھگت،اوڈ بھگت، مجید مچلا،مٹھو چولستانی اپنی سریلی گائیکی کے ذریعے علاقائی رنگ پیش کرتے ہیں۔ڈھول ناچ کی رسم کو شادی بیاہ اور دیگر خوشی کے مواقع پر ڈھول کی تھاپ پر رقص جھمر مخصوص دائرہ میں سرائیکی اجرک و چنئی کے رنگوں سے رسم ادا کی جاتی ہے۔

    چولستانی مہندی کی مخصوص رسم شادیوں میں خاص قسم کی مہندی سے ادا کی جاتی ہے۔رسم کی دلکشی صدیوں پرانی انسانی جذبات کی ترجمانی کرتی ہے۔روہی چولستان میں روح کی روحانی تسکین کے لیے پیر سید کی درگاہ کی حاضری لازمی جز زندگی ہے۔

    چادر پوشی کی خاص مذہبی اور ثقافتی رسم عقیدت اوراحساسات کی عملی سکون واطمینان قلب کا خوبصورت جہاں سے جڑی ہوتی ہے۔چولستانی مسلم و ہندو کمیونٹی حضرت سید شیر شاہ جلال الدین حیدر سرخ پوش بخاری رحمتہ اللہ علیہ،مہان سرائیکی شاعر حضرت خواجہ غلام فرید رحمتہ اللہ علیہ،قلعہ ڈیراور پر موجود اصحاب کی قبور حضرت چنن پیر رحمتہ اللہ علیہ اور حضرت روحل فقیر (سکھر روہڑی) کو اپنا روحانی مرشد کامل حقیقی مانتے ہیں۔مسجد مندر میں اپنی روحانی تقریبات ادا کرتے ہیں۔چادر پوشی کی رسم روہی چولستان میں بہت اہمیت رکھتی ہے۔

    مشہور ثقافتی اشیاء میں چولستانی کڑھائی کے کپڑے،ہاتھ سے کڑھی بنی ہوئی شال،دوپٹے،کنگن،چوڑیاں، شیشے اور دھات کے بنے خوبصورت زیورات،مٹی کے برتن،خاص طور پر مٹی کے گھڑے اور صراحی،اونٹ کے بالوں سے بنی اشیاء میں رسی،قالین اور دیگر دستکاریاں میں چولستانی لوئی اور کمبل، اون اور روئی سے بنی گرم اشیاء،چاکی ہنر میں لکڑی سے بنی روزمرہ استعمال کی اشیاء جیسے کھجور کے پتوں سے بنی ٹوکریاں،سرائیکی بلوچی چپل جو منفرد ڈیزائن کی بدولت مخصوص علاقائی پہچان رکھتی ہے۔

    یہ رسمیں اور اشیاء چولستان اور روہی کی شاندار تہذیبی،ثقافتی قدیمی آرٹ اینڈ آرکیالوجی کے نقش و نگار کو اجاگر کرتی ہیں۔ پاکستان کے دلکش کلاسک کلچرل ورثے کا اہم سرائیکی شناختی حوالہ ہیں۔الگ پہچان کی مشہور ریاست بہاولپور روہی چولستان کی سادہ مٹھاس بھری رسمیں روایتی ثقافتی ورثےکی شناخت کا زیور ہیں۔

    سوئی کم کریجے
    جہیں وچ اللہ آپ بنڑیجے
    مار نغارا انا الحق دا
    سولی سر چڑھیجے
    وچ کفر اسلام کڈاہاں
    عاشق تاں نہ اڑیجے
    جاری ہے ۔

  • پیراڈائز ہوٹل ٹوبہ ٹیک سنگھ میں انوکھی شادی

    پیراڈائز ہوٹل ٹوبہ ٹیک سنگھ میں انوکھی شادی

    پیراڈائز ہوٹل ٹوبہ ٹیک سنگھ میں انوکھی شادی:دین،معاشرے اور اخلاقیات کا زوال
    تحریر:شاہد نسیم چوہدری
    ٹوبہ ٹیک سنگھ میں شورکوٹ روڈ پر واقع دی پیراڈائز ہوٹل میں ایک انوکھی شادی سرانجام پائی ۔۔۔جو ،معاشرے اور اخلاقیات کی پستی کا واضح ثبوت ہے،ارباز نامی لڑکے کی خواجہ سرا میڈم دعا سے سرعام شادی نے پورے علاقے میں ایک ہلچل مچا دی۔ اس شادی کی تقریب میں نہ صرف روایتی رسومات جیسے دودھ پلائی اور رخصتی ادا کی گئیں، نکاح نہیں کرایا گیا۔ رقص و سرود کی محفل بھی سجائی گئی جس میں نوٹ نچھاور کیے گئے اور علاقے بھر کے خواجہ سراؤں نے شرکت کی۔

    یہ واقعہ ہمارے معاشرتی، دینی اور اخلاقی رویوں کا آئینہ ہے جو ایک سنجیدہ بحث کا تقاضا کرتا ہے۔اسلامی اصولوں کی خلاف ورزی :دین اسلام نکاح کو پاکیزگی اور نسل انسانی کی افزائش کے لیے مقرر کرتا ہے، اور اس کے اصول واضح ہیں۔ قرآن و سنت کے مطابق مرد کا مرد سے، عورت کا عورت سے اور مرد کا خواجہ سرا سے شادی کرنا جائز نہیں۔یہ اصول اس لیے ہیں کہ اسلامی معاشرت کی بنیاد خاندانی نظام پر ہے جو نکاح کے دائرے میں رہ کر نسل انسانی کو آگے بڑھاتا ہے۔ خواجہ سرا کی جنس ایک الگ موضوع ہے، لیکن اس شادی نے نہ صرف ان دینی اصولوں کو پامال کیا بلکہ اسلامی اقدار کو بھی مجروح کیا۔شادی کی تقریب میں نکاح کا سرے سے کوئی ذکر نہ ہونا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ یہ شادی ایک غیر سنجیدہ اور شرعی اصولوں کے برعکس عمل تھا۔ جب اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے واضح احکامات کو نظرانداز کیا جاتا ہے، تو یہ اللہ کے عذاب کو دعوت دینے کے مترادف ہوتا ہے۔

    معاشرتی پہلو: تضاد اور زوال ،یہ واقعہ صرف دینی اصولوں کی خلاف ورزی نہیں بلکہ ہمارے معاشرتی زوال کی بھی ایک بڑی علامت ہے۔شادی کی تقریب کے دوران رقص و سرود اور نوٹ نچھاور کرنا خواجہ سراؤں کو تفریح کا ذریعہ بنانے کا مظہر ہے۔ ہم بحیثیت معاشرہ ان کے ساتھ ہمدردی کے بجائے انہیں تماشہ بنا رہے ہیں۔خواجہ سراؤں کے رقص کو سرعام دیکھنا اور اس پر خوشی کا اظہار کرنا اخلاقیات کے زوال کی نشاندہی کرتا ہے۔اور پھر اس سے شادی کے نام پر ساتھ لے جانا سر عام زناکاری کے زمرے میں آتاہے، یہ رویہ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ ہم اپنی روایات اور اقدار کو نظرانداز کر چکے ہیں۔

    معاشرتی طور پر خواجہ سراؤں کو اب تک نہ تو برابری کا درجہ ملا ہے اور نہ ہی ان کے حقوق کی فراہمی ممکن ہو سکی ہے۔ اس کے باوجود ایسے تماشوں میں انہیں مرکز بنا کر پیش کرنا ہمارے دوہرے معیار کو ظاہر کرتا ہے۔شریعت اور خواجہ سرا بارے اگر غور کیا جائے تواسلامی تعلیمات خواجہ سراؤں کے ساتھ انصاف اور احترام کا درس دیتی ہیں۔ قرآن و سنت میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ ہر انسان کے ساتھ عدل و انصاف کیا جائے، لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ شرعی اصولوں کو توڑ کر اپنی عیش و عشرت کیلئے ان کے لیے علیحدہ قوانین بنائے جائیں۔خواجہ سراؤں کو ان کے حقوق دینا ضروری ہے، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ معاشرتی اور دینی اصولوں کو پس پشت ڈال دیا جائے۔

    ارباز اور دعا کی شادی نہ صرف شرعی اصولوں کے خلاف ہے بلکہ یہ ایک خطرناک مثال بھی قائم کرتی ہے جو معاشرتی انتشار کو جنم دے سکتی ہے۔اس جیسے اعمال دین اسلام کی نظر میں سخت ناپسندیدہ ہیں۔اس تقریب میں یہ عمل سرعام کیا گیا، جو کھلم کھلا گناہ ہے۔نکاح، شادی کی بنیاد اور ایک مقدس معاہدہ ہے، لیکن یہاں نکاح کو نظرانداز کر دیا گیا۔ یہ عمل معاشرتی اقدار کی پامالی ہے۔

    خواجہ سراؤں کو ایسے مقاصد کیلئے تقریبات میں استعمال کرنا شرعی اور اخلاقی طور پر غلط ہے۔ان کی عزت نفس کو مجروح کرنے کے مترادف ہے۔ معاشرے کی ذمہ داری ہے،یہ وقت ہے کہ ہم بحیثیت قوم اپنے اعمال کا جائزہ لیں اور اصلاح کی طرف بڑھیں۔معاشرے میں دینی تعلیمات کو فروغ دینا اور اسلامی اصولوں پر عمل پیرا ہونا ضروری ہے۔ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے قانون سازی کی جائے اور ان پر عمل درآمد کو یقینی بنایا جائے۔

    خواجہ سراؤں کے حقوق:خواجہ سراؤں کو ان کے شرعی اور قانونی حقوق فراہم کیے جائیں تاکہ وہ معاشرے میں باعزت زندگی گزار سکیں۔معاشرے کو خواجہ سراؤں کو انسان سمجھنا اور ان کے ساتھ برابری کا سلوک کرنا سیکھنا ہوگا۔ارباز اور دعا کی شادی نے دینی اور معاشرتی اصولوں کو توڑ کر ہمیں ہمارے زوال کا آئینہ دکھایا ہے۔ یہ وقت ہے کہ ہم اپنی ذمہ داریوں کو سمجھیں اور اپنے اعمال کا جائزہ لیں۔ اللہ تعالیٰ نے ہمیں اپنے احکامات پر عمل کرنے کا حکم دیا ہے، اور ان سے انحراف کرنا صرف دنیاوی نقصان ہی نہیں بلکہ اخروی عذاب کا بھی سبب بن سکتا ہے۔اللہ ہمیں ہدایت دے کہ ہم اپنے اعمال درست کریں، خواجہ سراؤں کو ان کے جائز حقوق دیں، اور دینی اصولوں کی پاسداری کرتے ہوئے معاشرتی اصلاح کی طرف بڑھیں۔ یہ وقت ہے کہ ہم اپنی روایات اور اقدار کو زندہ کریں اور ایسے اعمال سے باز رہیں جو اللہ کے قہر کو دعوت دیں۔

    نوٹ : دی پیراڈائز ہوٹل ٹوبہ ٹیک سنگھ کے ذمہ دار عاصم سے اس شادی بارے معلومات لینے کیلئے فون کیا گیا تو انہوں نے بتایا کہ بات بالکل ٹھیک ہے،یہ واقعہ ایسے ہی ہے۔جب ان سے سوال کیا گیا کہ یہ تقریب کس نے،کس تاریخ کو،کتنے لوگوں کے لئے بکنگ کروائی اور بل کتنا بنا۔۔تو انہوں نے فون بند کردیا اور بارہا رابطہ کرنے پر بھی فون اٹینڈ نہیں کیا۔۔۔۔،

  • سگریٹ،جان و مال کا دشمن،تحریر: حنا سرور

    سگریٹ،جان و مال کا دشمن،تحریر: حنا سرور

    پاکستان میں مہنگائی کی صورتحال دن بہ دن بڑھتی جا رہی ہے۔ لوگ اپنی روزمرہ کی ضروریات پوری کرنے کے لئے سخت محنت کرتے ہیں، لیکن پھر بھی اکثر انہیں مہنگائی کی وجہ سے مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس کے باوجود پاکستانی قوم میں ایک حیرت انگیز تضاد پایا جاتا ہے: ایک طرف مہنگائی کا رونا رویا جاتا ہے اور دوسری طرف عوام اپنی جیب سے پیسہ نکال کر ایسی چیزوں پر خرچ کر رہے ہیں جو نہ صرف صحت کے لئے مضر ہیں بلکہ ان کی مالی حالت پر بھی منفی اثرات مرتب کرتی ہیں۔ ان میں سب سے بڑی چیز سگریٹ نوشی ہے۔

    سگریٹ نوشی ایک ایسی عادت ہے جو نہ صرف فرد کی صحت کو تباہ کرتی ہے بلکہ اس سے معاشرے پر بھی گہرے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ سگریٹ میں موجود کیمیکلز اور زہریلے مادے انسان کے پھیپھڑوں، دل اور دیگر اعضاء پر حملہ کرتے ہیں، جس کے نتیجے میں کینسر، دل کی بیماریوں اور سانس کی بیماریوں کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ اس کے باوجود پاکستانی قوم بڑی تعداد میں سگریٹ پینے کی عادت میں مبتلا ہے۔پاکستانی عوام اس بات سے بخوبی آگاہ ہیں کہ سگریٹ نوشی صحت کے لئے کتنی خطرناک ہے، لیکن پھر بھی وہ اسے ترک کرنے میں ناکام ہیں۔ اس کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ سگریٹ نوشی ایک نشے کی عادت بن چکی ہے، جس سے چھٹکارا حاصل کرنا بہت مشکل ہو جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ لوگ اپنی صحت کے ساتھ ساتھ اپنی مالی حالت کو بھی نقصان پہنچا رہے ہیں۔

    پاکستان میں جہاں لاکھوں خاندان بنیادی ضروریات جیسے کھانا، تعلیم، اور علاج معالجے کے لئے جدوجہد کر رہے ہیں، وہیں ایک بڑی تعداد ایسی بھی ہے جو سگریٹ نوشی کی عادت میں مبتلا ہے۔ یہ صورتحال انتہائی افسوسناک ہے کہ کچھ لوگ اپنے بچوں کو کھانا نہیں دے پاتے لیکن سگریٹ خریدنے کے لئے پیسہ نکال لیتے ہیں۔ کچھ والدین اس بات کی شکایت کرتے ہیں کہ ان کے پاس اپنے بچوں کی فیس جمع کرنے کے لئے پیسے نہیں ہیں، لیکن وہ سگریٹ کے لئے رقم نکالنے میں کامیاب ہوتے ہیں۔ اس طرح وہ اپنی صحت، دولت اور بچوں کے مستقبل کو برباد کر رہے ہیں۔

    یہاں پر حکومت کا کردار بہت اہم ہے۔ اگرچہ حکومت نے کئی بار سگریٹ پر ٹیکس بڑھانے کی کوشش کی ہے، لیکن یہ اقدام ابھی تک اس حد تک مؤثر ثابت نہیں ہو سکا جتنا متوقع تھا۔ حکومت کو چاہئے کہ وہ سگریٹ کی قیمتوں میں مزید اضافہ کرے تاکہ یہ غریب آدمی کی پہنچ سے دور ہو جائے۔ اگر عوام کو یہ سمجھ آ جائے کہ سگریٹ نوشی کی عادت ترک کرنا صرف صحت کے لئے نہیں بلکہ مالی فائدے کے لئے بھی ضروری ہے، تو شاید وہ اس عادت کو ترک کرنے میں کامیاب ہو سکیں۔

    حکومت کو چاہیے کہ وہ سگریٹ نوشی کے نقصانات کے بارے میں عوام میں آگاہی پیدا کرے۔ اس کے لئے میڈیا اور اسکولوں میں تعلیمی پروگرامز منعقد کیے جا سکتے ہیں۔سگریٹ کی قیمتوں میں اضافہ کیا جائے تاکہ غریب لوگ اس کی خریداری سے گریز کریں۔ مذہبی اداروں اور سماجی تنظیموں کو اس بات کا شعور دینا چاہئے کہ سگریٹ نوشی نہ صرف صحت کے لئے نقصان دہ ہے بلکہ یہ معاشرتی طور پر بھی غلط ہے۔

    پاکستانی قوم کو اپنے معاشرتی اور صحت کے مسائل کے بارے میں سوچنے کی ضرورت ہے۔ اگر ہم نے سگریٹ نوشی جیسے مضر صحت عادات کو ترک نہ کیا تو یہ نہ صرف ہماری صحت بلکہ ہمارے ملک کی معیشت کے لئے بھی خطرناک ثابت ہو گا۔ ہمیں اپنی عادات کو بہتر بنانا ہوگا اور ایسی چیزوں پر خرچ کرنے کی بجائے جو ہماری زندگیوں کو تباہ کر دیں، ہمیں اپنی زندگیوں کو بہتر بنانے کی کوشش کرنی چاہئے۔

  • چولستانی گوپے میں چھپی روہی کی دلکش ثقافت،تیسری قسط

    چولستانی گوپے میں چھپی روہی کی دلکش ثقافت،تیسری قسط

    چولستانی گوپے میں چھپی روہی کی دلکش ثقافت
    تحریر: ڈاکٹر محمد الطاف ڈاھر جلالوی
    altafkhandahir@gmail.com
    تیسری قسط کا خلاصہ:
    تیسری قسط میں چولستان کے ماحولیاتی چیلنجز جیسے موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے بارشوں کی بے قاعدگی اور زمین کی زرخیزی میں کمی کو بیان کیا گیا ہے۔اس قسط میں چولستانی خواتین کے مسائل اور ان کے حقوق کے حوالے سے بھی بات کی گئی ہے۔خاص طور پر صحت،تعلیم اور روزگار کے حوالے سے روہی چولستان کے نوجوانوں کی مشکلات پر روشنی ڈالی گئی ہے۔شہروں کی طرف روزگار کے حصول کے لیے ہجرت کرنے،ذریعہ معاش کے مواقع کی کمی کو بھی اجاگر کیا گیا ہے۔گوپے میں چھپی چولستانی ثقافت اور اس کے ورثے کی اہمیت کو بھی بیان کیا گیا ہے۔ اور اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ حکومتی اور غیر سرکاری اداروں کی بروقت پلاننگ اور پروجیکٹس سے چولستان کے مسائل کو حل کیا جا سکتا ہے۔ تاکہ مقامی لوگوں کی زندگی کو بہتر اور خوشحال بنایا جا سکے۔

    تیسری و آخری قسط
    چولستان کی ثقافت اور ترقی کے امکانات
    چولستان کی ثقافت اور ترقی کے امکانات پر نظر ڈالیں تو یہ خطہ اپنے اندر بے شمار تہذیبی، لسانی اور ادبی خزانے سموئے ہوئے ہے۔ یہاں کی مادری زبانوں کا لٹریچر، صوفی ازم، امن و رواداری کا پیغام اور آثار قدیمہ کے نایاب نمونے، سبھی چولستان کے منفرد تشخص کو اجاگر کرتے ہیں۔

    چولستان کی ریتلی زمین میں تخلیقی کہانیاں اور نظمیں پروان چڑھتی ہیں، جن کی بنیادیں علم، ادب، دانش اور خوشحالی کے گہرے اصولوں پر استوار ہیں۔ سرائیکی خطہ جو سات دریاؤں کی سرزمین ملتان کا حصہ ہے، ہمیشہ سے شاعری، صوفیانہ خیالات اور ثقافتی رنگوں کا گہوارہ رہا ہے۔

    اسلم جاوید چودھری جیسے سرائیکی وسیب کے شاعر، جو اپنی نظم "میکوں آکھ نہ پنج دریائی” کے ذریعے سرائیکی ثقافت اور عوامی جذبات کی نمائندگی کرتے ہیں، اس خطے کے ادبی سرمایہ میں اہم مقام رکھتے ہیں۔ ان کا کلام عام فہم ہونے کے باوجود گہری معنویت لیے ہوتا ہے، جو ہر طبقے کو متاثر کرتا ہے۔

    پہلی قسط پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں
    چولستانی گوپے میں چھپی روہی کی دلکش ثقافت
    دوسری قسط پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں
    چولستانی گوپے میں چھپی روہی کی دلکش ثقافت
    چولستان کی ثقافتی اہمیت کو سمجھتے ہوئے، اس خطے میں ترقی کے بے پناہ امکانات موجود ہیں۔ سیاحت، آثار قدیمہ، اور مقامی آرٹ و دستکاری کو فروغ دے کر نہ صرف یہاں کے لوگوں کے معیار زندگی کو بہتر بنایا جا سکتا ہے بلکہ عالمی سطح پر بھی اس علاقے کی شناخت کو اجاگر کیا جا سکتا ہے۔

    میں تسا،میڈی دھرتی تسی
    تسی روہی جائی
    میکوں آکھ نہ پنج دریائی


    ان کے فلسفۂ شاعری کی رفعت اور نقطۂ عروج کا خلاصہ دراصل سرائیکی وسیب کی علیحدہ شناخت، نئے صوبے کی منزلِ مقصود کا سچا خواب، خود مختاری، خود اعتمادی، تعمیرِ نو اور ثقافتی ورثے کا حسین امتزاج ہے۔ روہی، چولستان، راوا، تھل، دمان اور کوہِ سلیمان کی جاذب بےبسی اور امید کا خوبصورت اظہار ایسے ہے جیسے دریا کو کوزے میں بند کیا گیا ہو۔

    روہی کے باسی اپنی گائیں، بھیڑ بکریوں اور اونٹوں سے عشق کرتے ہیں۔ ان کے خالص دودھ اور مکھن سے دیسی گھی تیار کیا جاتا ہے۔ تاہم، چولستان میں پانی کی عدم دستیابی اور خوراک کی قلت ایک بڑا مسئلہ بنتا جا رہا ہے۔ یہاں کے زیادہ تر لوگ مال مویشی پال کر روزی کماتے ہیں، لیکن چارے کی کمی اور بیماریوں کے خطرات ان کی آمدنی کو محدود کر دیتے ہیں۔ جانوروں کی افزائش اور صحت کے مسائل کے حل کے لیے جدید ویٹرنری خدمات اور چارے کی دستیابی میں اضافہ ضروری ہے۔

    تعلیم کے فقدان نے بھی چولستان کے لوگوں کو ترقی سے محروم رکھا ہوا ہے۔ علاقے میں تعلیمی اداروں کی کمی، موجودہ اسکولوں کی خستہ حالی اور عوام میں تعلیم کے حوالے سے شعور کی کمی نے بچوں کو تعلیمی مواقع سے محروم کر دیا ہے۔ خاص طور پر لڑکیوں کی تعلیم کے حوالے سے مسائل اور معاشرتی رکاوٹیں زیادہ سنگین ہیں۔ ان مسائل کے حل کے لیے حکومت اور غیر سرکاری تنظیموں کو مل کر تعلیمی سہولیات کو بہتر بنانا ہوگا۔

    صحت کی سہولیات کی کمی بھی چولستان کے باسیوں کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے۔ ہسپتالوں اور طبی مراکز کی غیر موجودگی، صحت کی بنیادی خدمات کا فقدان اور طبی عملے کی کمی نے لوگوں کو معمولی بیماریوں کے علاج کے لیے بھی طویل فاصلے طے کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔ نتیجتاً، کئی لوگ بروقت طبی امداد نہ ملنے کے باعث جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔

    روہی کے لوگ اپنی روحانی تجلیات کے منبع کو حضرت سید شیر شاہ جلال الدین حیدر سرخ پوش بخاری علیہ الرحمہ (اوچ شریف) سے منسوب کرتے ہیں اور چنن پیر رحمتہ اللہ علیہ کی درگاہ پر اپنی اولاد کی سلامتی کے لیے اللہ پاک سے دعائیں مانگتے ہیں۔

    روہی کی مشکلات کو حسین پیرائے میں کمال خوبصورت اشعار کی شکل میں شاعر نے نفیس لفظوں کا کمال حیرت انگیز رنگ اس طرح دیا ہے۔شاعری لطیف جذبوں کا خوبصورت اظہار اور قصہ ہے۔کیا کمال کاری گری سے قدیم تہذیب وتمدن وادی ھاکڑہ سرسوتی کی کہانی اور پیار کا گیت ہے۔
    شاہد عالم شاہد کی شاعری کا حسن ملاحظہ فرمائیں۔

    ریشم ریشم ہوٹھیں اتے رہ گئے اصلوں جندرے
    اکھیں نال کریندا رہ گئے یار کمال دے قصے
    کیا شہزادیاں کیا پریاں کیا دیہہ کیا محل منارے
    بکھے بالیں کوں تاں بھاندن روٹی دال دے قصے

    کونجاں روہی لنگھ ویندیاں ہن راتیں کوں
    بٹا کھو وی فجریں تونڑیں واہندا ہا

    روزگار کے محدود مواقع چولستان کے نوجوانوں کو بڑے شہروں کی طرف ہجرت پر مجبور کر رہے ہیں۔مقامی سطح پر روزگار کے مواقع نہ ہونے کے سبب بہت سے لوگ محنت مزدوری کے لیے شہروں میں جا کر اپنی زندگی بسر کرتے ہیں، جس سے ان کے خاندان مزید مشکلات کا شکار ہو جاتے ہیں۔ہنر سکھانے والے مراکز اور زرعی منصوبے چولستان میں روزگار کے مواقع پیدا کرنے میں معاون ہو سکتے ہیں۔

    صحرائی ماحول میں خواتین کو بھی بے شمار چیلنجز کا سامنا ہے۔گوپوں میں رہنے والی خواتین پانی لانے،کھانے کی تیاری اور گھر کے دیگر کاموں میں اپنی زندگی کا بڑا حصہ صرف کرتی ہیں۔ان خواتین کو صحت،تعلیم اور روزگار کے بروقت مواقع فراہم کرنا حکومت وقت فوری ذمہ داری ہے۔تاکہ وہ اپنی زندگی کو بہتر بنا سکیں۔ماحولیاتی مسائل بھی چولستان کے لیے سنگین خطرہ ہیں۔

    موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے بارشوں کی بے قاعدگی اور صحرائی علاقوں میں پھیلتی ہوئی خشکی نے یہاں کی زمین کو مزید بنجر اور غیر زرخیز بنا دیا ہے۔جنگلات کی کٹائی اور مویشیوں کی تعداد میں اضافے نے ان مسائل کو مزید بڑھا دیا ہے۔ ماحولیاتی توازن کو برقرار رکھنے کے لیے درخت لگانے اور پانی ذخیرہ کرنے کے جدید طریقوں کو اپنانا ہوگا۔

    ثقافتی لحاظ سے چولستان کے باسی منفرد روایات اور طرز زندگی رکھتے ہیں۔ لیکن ان کی ثقافت بھی ان مشکلات سے متاثر ہو رہی ہے۔ مٹی کے گوپے،جو ان کی رہائش کا مرکز ہیں۔سخت گرمی اور سردی کے موسم میں رہنے کے لیے ناکافی ثابت ہوتے ہیں۔ان کے رہائشی مسائل کو حل کرنے کے لیے جدید لیکن ثقافت کے مطابق مکانات فراہم کیے جا سکتے ہیں۔

    چولستان کے مسائل کو حل کرنے کے لیے حکومتی اقدامات، غیر سرکاری تنظیموں کی شمولیت، اور مقامی لوگوں کی شراکت داری ضروری ہے۔پانی کی فراہمی کے نظام کو بہتر بنانے، تعلیم اور صحت کے مراکز قائم کرنے،اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے لیے جامع منصوبہ بندی کی ضرورت ہے۔صرف ان اقدامات سے ہی چولستان کے باسیوں کی زندگی کو بہتر بنایا جا سکتا ہے اور ان کے خوابوں کو حقیقت کا روپ دیا جا سکتا ہے۔

    حسین و جمیل روہی کے سرائیکی گوپے کے ثقافتی اور تہذیبی ورثے کے حقیقی قصے نئی اور پر امید نسل تک پہنچانے میں چولستان کے قصہ گو، فنکار، اور شعراء اہم کردار ادا کر رہے ہیں، تاکہ نوجوان طبقہ اپنے محفوظ ورثے کی منفرد شناخت پر فخر کر سکے۔ ہمیں تو پرامن چولستان کا ہر موسم بہار جیسا محسوس ہوتا ہے، جہاں باغوں میں ہر قسم کے چرند پرند اپنی دھن میں گاتے ہیں۔ کونج کا دلکش نغمہ سرائیکی خطے کے ریت کے ٹیلوں کی دلنشینی میں مزید اضافہ کرتا ہے۔

    کونجاں وانگوں ول ول اساں ریت اتوں پئے بھوندے
    شاہد کل سرمایہ ساڈا ہن صحرا دے موسم

    تاہم، روہی اور چولستان کے باسیوں کے خوابوں کی تکمیل اور انہیں ضروریاتِ زندگی کی فراہمی کے ساتھ ترقی کے دھارے میں شامل کرنے کے لیے حکومت کو فوری اقدامات کرنا ہوں گے، تاکہ یہ خوبصورت گوپے ہمیشہ آباد رہیں۔ ان میں خوشیوں کے گیت گائے جائیں اورچولستان ، روہی کی سرزمین ہمیشہ خوشحال اور پررونق رہے۔

  • چولستانی گوپے میں چھپی روہی کی دلکش ثقافت،دوسری قسط

    چولستانی گوپے میں چھپی روہی کی دلکش ثقافت،دوسری قسط

    چولستانی گوپے میں چھپی روہی کی دلکش ثقافت
    تحریر: ڈاکٹر محمد الطاف ڈاھر جلالوی
    altafkhandahir@gmail.com
    قسط کا خلاصہ:
    دوسری قسط میں چولستانی گوپوں کی ثقافت،فنون لطیفہ اور روہیلوں کی زندگی کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ شاعر شاہد عالم شاہد لشاری کی شاعری اور چولستانی معیشت، جیسے مویشیوں کی پرورش اور روزگار کی کمی کے مسائل کو بیان کیا گیا ہے۔ چولستان کے لوگوں کی زندگی کی سب سے بڑی آزمائش پانی کی کمی اور قحط سالی کے اثرات ہیں۔ بارشوں کی کمی اور "ٹوبھوں” میں پانی کا ذخیرہ کرنے کی مشکلات نے ان کی روزمرہ کی زندگی کو متاثر کیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی، تعلیم کی کمی اور صحت کے مسائل بھی اہم موضوعات ہیں جن پر حکومتی اقدامات کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے۔

    دوسری قسط، چولستان کی زندگی کے چیلنجز
    چولستان کے باسیوں کے لیے پانی کی قلت سب سے بڑا چیلنج ہے۔ ٹوبھوں میں جمع کیا جانے والا پانی ان کے لیے زندگی کا سہارا ہے، لیکن بارش کی کمی ان ذخائر کو ناکافی بنا دیتی ہے۔ گرمیوں میں درجہ حرارت پچاس ڈگری سے تجاوز کر جاتا ہے، جس کے باعث لوگ اور ان کے مویشی ہجرت پر مجبور ہو جاتے ہیں۔تعلیم اور صحت کی سہولیات کی کمی نے چولستان کے لوگوں کو مزید مشکلات میں ڈال دیا ہے۔ لڑکیوں کی تعلیم اور مقامی اسکولوں کی خستہ حالی جیسے مسائل فوری توجہ کے متقاضی ہیں۔ صحت کی بنیادی سہولیات کے بغیر لوگ معمولی بیماریوں کے علاج کے لیے دور دراز علاقوں کا رخ کرنے پر مجبور ہیں، جو کئی بار جان لیوا ثابت ہوتا ہے۔

    چولستان کی دلکش سرزمین اپنے دھرتی جائے کو اپنی طرف متوجہ کرتی ہے۔سرائیکی وسیب کے لوگ سیدھے سادے، ریت کی طرح نرم و نازک ہیں۔نرم مزاجی،صوفیانہ امن پسند رنگ اور کلچرل روایات سے جڑے ہوئے ہیں۔اپنی دھرتی کی ہر چیز سے بےپناہ محبت کرتے ہیں۔عالمی مشہور شاعر شاہد عالم شاہد لشاری جن کی گزرگزران روہی رہتل ہے۔سرائیکی وسیب کی بین الاقوامی شہرت یافتہ روہی ان کی روح ہے۔ریت اور روایت، تہذیب وتمدن،ثقافت،فنون لطیفہ میں خطاطی، موسیقی،مصوری، شاعری سب انسان کی چھپی امیدوں اور خواہشات کا خوبصورت اظہار ہے۔شاعر اپنی شاعری سے اپنے علاقے کی تاریخ،ادب اور شعور کے خزانوں کو دنیا میں اجاگر کرتاہے۔

    کسی خطے کی رنگین شاعری میں جتنا بڑا کینوس ہوگا، وہ دھرتی اتنی جاندار،شاندار اور عرفان وحکمت کی بلندیوں کو چھوہے گی۔یہ کمال اللہ پاک نے سرائیکی وسیب کے شعراء کرام کو بہت زیادہ دان کیا ہے۔پاکستان کے خوبصورت حسین مادری زبانوں کے گلدستے میں سب سے زیادہ کتابیں شاعری سرائیکی زبان و ادب کی ہیں۔ سرائیکی عہد جدید کا خوبصورت کلاسک شاعر شاہد عالم شاہد کا عالم شاعری میں کمال خوبصورتی جھلک رہی ہے۔

    پاتے گھگھرا چولی چنی بولا بینسر
    روہی دی ہک حور ٹری ہےریت نچی ہے

    گوپے دیوچ پوہ دی رات کوں قصہ ٹر پئے
    ڈھلدیں ڈھلدیں رات ڈھلی ہے ریت نچی ہے
    کنگن والے بھاء دے مچ تے بہہ تے شاہد
    "موہن” کافی جو آکھی ہے ریت نچی ہے

    اجڑے گوپے کوں مٹی دے گھبکار مہکار وانگوں لگے
    بھرے ٹوبھے دے چودھار ڈیکھوں جڈے مال چردا ودے

    اج تاں کترن دی خوشبو نے جھمر مچائی ہے پرے تھل تلک
    نین سادے مرادے کھڑن ڈیکھدے مال چردا ودے

    سرائیکی ادبی فورم "فکر فرید” بانی صاحبزادہ شیر میاں خان عباسی کے دیرے روہی چولستان کنگن آلے بنگلے پر ٹھنڈی ٹھار راتوں میں بھاہ کے مچ کے اردگرد سرائیکی مشاعرہ و موسیقی کی وجد بھری آواز کی دھن سے دوشیزہ محبوبہ حسین دلربا منظر میں چنگاری بن کر ریت پر خوب رقص جھمر کرکے عاشقوں کے دلوں کو خوب بھاتی ہے۔اس کا رنگ و چہرہ غزل کا روپ ہے۔

    پہلی قسط پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں
    چولستانی گوپے میں چھپی روہی کی دلکش ثقافت
    ککڑ،بیر،شرینہہ،جال پیلھوں کا درخت بھی ان کا ایک قسم کا اوپن گوپہ ہوتاہے۔جہاں ٹوبھے کے پانی کی چاہت،وہاں بیٹھ کر ککھ کانوں سے گھریلو آسائشی سامان میں موڑے بنانا، پتلی باریک لکڑی سے گوپہ تیار کرنا وغیرہ روہی کے باسیوں کے لیے ذریعہ معاش اور گزر گزران کے اوزار نعمت خداوندی سےکم نہیں ہیں۔ کانوں سے گوپے بھی تیار ہورہے ہیں۔پرانے نئے قصے بھی آشکار ہورہے ہیں۔راتوں کو جاگ کر مستی بھری یادیں تازہ کی جاتیں ہیں۔شاعر نے ایک ایک لمحہ محفوظ کرکے اپنے طلسماتی فکری صلاحیتوں سے شاعری کا نیا جہاں گوپہ تشکیل دے دیا ہے۔شاعر نے اچھوتے انداز میں اپنی بات کو اس طرح بیان کی ہے۔

    کنگن آلے دے گھاٹے شرینہاں تلے رات ٹردی پئی اے
    نال قصے دے قصہ پیا جاگدے مال چردا ودے

    ساڈی نبھ ویسی زندگی ریت اچ
    دفن تھی ویسی ہر خوشی ریت اچ
    ساڈے جیونڑ دے آسرے سارے
    ساڈے سکھ وی عذاب وی ریت اچ
    او جو وچھڑے تاں ول تے نی آیا
    مونجھ رل گئی ہے بلکدی ریت اچ
    میڈی روہی تے مار ڈیوو میکوں
    رت میڈی رل ونجے میڈی ریت وچ

    سرائیکی جگ مشہور شاعر اسلم جاوید کا اپنے خوبصورت مزاحمتی شعری مجموعے طبل کلہاڑی میں دل بھاتے انداز میں روہی اور تھل کے صحرائی ماحول کو شاندار رنگوں میں اپنا مدعا بیان کیا۔سرائیکی وسیب میں تھل اور چولستان روہی گوپوں میں چھپا ثقافتی ورثہ حقیقت میں سادہ سماجی روایات،چاہت،خلوص، امن و رواداری کا درس ہے۔سرائیکی دھرتی روحانیت سے مالامال ہے۔یہاں کا ہر زبان بولنے والا فرد ہماری تہذیبی زمینی میٹھے پھل آم،کھجور اور شہد کی مٹھاس کا خوبصورت اظہار ہے۔ہر وسیبی کا کردار گھاٹے درخت کی چھاں ہے۔ہمارا سفر عشق مجازی سے عشق حقیقی کی طرف ہے۔اسلم جاوید چودھری کا قصہ اپنی روہی چولستان کی چھ ہزار سال قدیم تہذیب وتمدن سے عشق کی لازوال داستان ہے۔سرائیکی شعراء کرام نے لفظ روہی کو بطور استعارہ محرومی،دہشت،وحشت، کرب وبلا، جنت،بہشت،خوشی،سنگلاخ مشکلات،ترقی،خوشحالی،،بے بسی، امن،محبت،الگ شناخت،وچھوڑا،وصل،وادی عشق، مونجھ، ڈکھ، ہمدردی،خلوص،برداشت، صبر وشکر، بے نیازی،خود اعتمادی،خواہشات کا لامتناہی روحانی سفر،تحمل،امید،آس،ملال استعمال کیا ہے۔جس نے روہی کا جو پہلو یا رنگ دیکھا اس نے وہی بیان کردیا۔
    تھل، روہی چولستان الفاظ سرائیکی جہانوں کا نیا عجیب عالم حیرت ہے۔

    تھل ہے قصہ مونجھ دا ۔۔۔۔۔۔۔ روہی عشق دا ناں
    اکھ بھالی دا میلہ ڈیکھاں ڈھولی نال کراں

    چولستان دے رنگ ہزاراں جال کرینہہ دی چھاں
    کیڑھا نندروں ٹردا ویندے آرھ ارینہہ دی چھاں
    جتھاں میکوں کندن ملدی اتھ شرینہہ دی چھاں

    پیلوں پکیاں چݨ تے اکھیاں ڈولی ڈھاک ہے ساوی
    پیلوں پکیاں لب اچ مکھیاں مونہہ مسواک ہے ساوی
    پیلوں پکیاں میں نہ چکھیاں ساڈی ٻاک ہے ساوی

    چولستان میں حسن وجمال بھری حیات بشریت،حیوانات اور نباتات کی بقاء کا سب سے اہم ذریعہ پانی ہے۔صحرائی علاقے میں بارش نہ ہونے کی صورت میں پانی جمع کرنے کے لیے "ٹوبھے” بنائے جاتے ہیں۔جو گوپوں کے نزدیک چھوٹے تالابوں کی صورت میں موجود ہوتے ہیں۔ٹوبھوں کا پانی مقامی لوگوں اور ان کے جانوروں کی زندگی کا سہارا ہے۔جب بارش کی پھلواڑی کی پہلی پھنوار چولستان کی ریت پر پڑتی ہے تو خوشبو ہر سوں پھیل جاتی ہے۔نئی دلہن ریت بن کر خوب گنگناتی ہے۔رقص جھمر کھیلتی ہے۔تمام روہیلوں کے چہرے مسلسل خوشی اور شادی مانی کے نہ تھمنے والے احساسات کی رم جھم برسات شروع ہوجاتی ہے۔ہر طرف کھلا کھلا چہرہ نظر آتاہے۔عاشق اپنی محبوبہ کے ملن کے متلاشی نظر آتے ہیں۔برسا موسم سے پہلے ریت خوب دھمال کرتی ہے۔ابھا،لما،پوادھ پچادھ ہر طرف سریلی آوازیں آنا شروع ہوجاتیں ہیں۔شاعر خود اگر روہیلا ہو تو اس کا تخیل کمال حسین نظر آتا ہے۔نمونہ کلام مادری زبان میں ہو تو ابلاغ بہت ہی عمدہ ہوتا ہے۔

    ابھے توں بدلی اسری ہے ریت نچی ہے
    مینہ دی پہلی پھینگ ڈھٹی ہے ریت نچی ہے

    جال اتوں پیلھوں چنڑدے نازک ہھتیں توں
    مہندی دی خشبو نکتی ہے ریت نچی ہے

    ٹوبھے اتے لتھین کونجاں اصلوں مونجھاں
    ول سانول دی گالھ چلی ہے ریت نچی ہے

    تاہم مینہ بارش کی کمی کے باعث ٹوبھے اکثر خشک ہو جاتے ہیں اور قحط سالی کا بیاباں منظر عام بات ہے۔گرمیوں میں جب درجہ حرارت 50 ڈگری سے تجاوز کر جاتا ہے تو گوپوں میں رہنے والے روہیلے ہجرت پر مجبور ہو جاتے ہیں۔پانی کی قلت نہ صرف ان کی روزمرہ کی معاشی و سماجی زندگی کو مشکل بناتی ہے بلکہ جانوروں،چرند پرند اور سرسبز پودوں کی زندگی کو بھی خطرے میں ڈال دیتی ہے۔چولستان روہی کے سادہ نفیس،یقین کامل کی طاقت سے مالامال باشندے صحرائی علاقے میں زندگی بسر کرتے ہوئے صدیوں سے شدید مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔ان کی زندگی کی سب سے بڑی آزمائش پانی کی کمی ہے۔مگر قدرتی بارش عظیم نعمت خداوندی اور خوشحالی کی ضمانت ہے۔

    بارشوں کا نہ ہونا صرف ان کی روزمرہ کی زندگی بلکہ ان کے مستقبل پر بھی گہرے اثرات ڈالتی ہے۔ کیونکہ چولستان کا بیشتر انحصار بارشوں پر ہوتا ہےجو سال بھر میں چند بار ہوتی ہیں۔اور یہی پانی "ٹوبھہ ” نامی ذخائر میں جمع کیا جاتا ہے۔تاہم، بارش کی کمی اور ذخیرہ شدہ پانی کی محدود مقدار کی وجہ سے یہ وسائل ناکافی ثابت ہوتے ہیں۔ٹوبھے کے میٹھے پانی خوبصورت وادی پر انسان،حیوان،شجر، چرند پرند سبھی خوشی خوشی زندگی گزارتے اور رب العزت جلال کا شکر ورد کرتے ہیں۔مگر بارش کی کمی اور ٹوبھوں کی خشکی جیسے سخت حالات میں لوگ اپنے جانوروں اور خود اپنی بقا کے لیے دوسرے علاقوں کی طرف ہجرت پر مجبور ہو جاتے ہیں۔اپنی چولستان دھرتی پر بارش ہونے کی شدید تمنا نے کلاسک شاعر شاہد عالم شاھد لشاری کیا خوب تخیل تخلیق کیا ہے۔صبح سے شام تک صحرائے چولستان کے چٹیل ڈاہروں وسیع میدانوں میں سارا دن مال مویشی چرانے والے بکر وال کی گھر کی طرف واپسی سفر کو اپنے شاندار لفظوں کی رنگین چادر پہنائی ہے۔خوبصورت نظارہ کہ سارا دن چرواہا نے دعائیں مانگیں کہ ہماری طرف بارش ہوگی۔مگر پتہ چلا ابر رحمت ہماری طرف نہ آیا بلکہ پہاڑوں پر خوب برسا۔شاعر کا حسین کلام توجہ طلب ہے۔

    سجھ کوں گھر تیئں پجا تےولداپئے
    کوئی بکریاں چراتے ولدا پئے

    ریت رل گئی ہے سر تے پھینگ نی پئی
    جھڑ پہاڑیاں پسا تے ولدا پئے

    جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔

  • چولستانی گوپے میں چھپی روہی کی دلکش ثقافت،پہلی قسط

    چولستانی گوپے میں چھپی روہی کی دلکش ثقافت،پہلی قسط

    چولستانی گوپے میں چھپی روہی کی دلکش ثقافت
    تحریر: ڈاکٹر محمد الطاف ڈاھر جلالوی
    altafkhandahir@gmail.com
    قسط کا خلاصہ
    چولستانی ثقافت اور روہی کی خوبصورتی کو بیان کرنے والے اس آرٹیکل کی پہلی قسط میں، چولستان کے لوگوں کی زندگی، خواجہ غلام فرید اور دیگر سرائیکی شاعروں کے کلام کے ذریعے بیان کی گئی ہے۔ خواجہ فرید کی شاعری میں چولستان کی روحانی اور ثقافتی اہمیت کا ذکر کیا گیا ہے، جو عشق، تصوف، اور انسانیت کے اہم موضوعات کو بیان کرتی ہے۔ چولستان میں "گوپے” کی اہمیت پر بھی بات کی گئی ہے، جو کہ نہ صرف رہائش کے لئے بلکہ ثقافت اور قدیم روایات کی عکاسی کرتے ہیں۔ گوپے کی تعمیر میں مٹی اور درختوں کی چھال کا استعمال، اور اس کے اندر رہنے والے افراد کی محنت اور محبت کی مثال دی گئی ہے۔

    پہلی قسط کا موضوع ،روہی کی دلکش ثقافت اور سرائیکی ادب
    چولستان کے لوگ پانی کو زندگی کی علامت اور سب سے بڑی نعمت سمجھتے ہیں۔ روہی کے صحرا کا ہر منظر عشق حقیقی اور مجازی کی کہانی سناتا ہے، جو کلاسیکی سرائیکی ادب میں نمایاں طور پر نظر آتا ہے۔ خواجہ غلام فریدؒ نے چولستان کے ریت کے ٹیلوں اور ٹوبھوں کو اپنی شاعری کا مرکز بنایا، جہاں تصوف اور سادگی کا حسین امتزاج موجود ہے۔ان کے کلام میں عشق، تصوف، اور انسانی جذبات کی گہرائی کو ریت کے ٹیلوں کی صورت میں پیش کیا گیا۔ مثال کے طور پر:
    اتھ درد منداں دے دیرے
    جتھ کرڑ کنڈا بوئی ڈھیر اے

    شاہد عالم شاھد لشاری کی شاعری بھی روہی کی ثقافت کو ایک منفرد انداز میں پیش کرتی ہے۔ گوپے، مٹی کی جھونپڑیوں کا ذکر، سرائیکی ثقافت کا اہم حصہ ہے۔ گوپے نہ صرف رہائش کی ضرورت پوری کرتے ہیں بلکہ چولستان کے لوگوں کی محنت اور ثقافتی خوبصورتی کی عکاسی کرتے ہیں-

    پہلی قسط
    پانی اور زندگی کی رونق چولستان کے لوگوں کے لیے خواب حسن کی حقیقت ہے۔روہی اگر عاشق کے لیے ایک طرف وصال بہشت ہے تو دوسری طرف وچھوڑے مونجھ ملال کی وحشت کربلا بھی ہے۔عشق مجازی سے عشق حقیقی کے سفر کا آغاز بھی چولستان روہی تھل کے ریت کے ٹیلوں سے ہوتاہے۔نگری مظہر جلال کی روحانی روہی کے کلاسک سرائیکی شاعر خواجہ غلام فرید رحمتہ اللہ علیہ کا زیادہ تر عرصہ چولستانی ٹوبھوں اور ریت کے ٹیلوں کے ذروں کے ساتھ گزرا ہے۔سادگی،تصوف اور خالص پیلھوں جیسی خوبصورت مٹھاس ان کے کلام آفاقیت کا خاص موضوع ہے۔گوپے میں روہی کی ثقافت کا قصہ 271 کافیوں پر مشتمل سرائیکی دیوان فرید دراصل سرائیکی سماجیات کا آئینہ ہے۔

    روہیلے کے لیے روہی کشمیر جنت نظیر ہے۔دھوپ کی تپش اس کے لیے برف کی طرح سفید لباس ہے۔خواجہ فرید کا خوبصورت عکس روہی دراصل سرائیکی علم وادب،عرفان وحکمت،تصوف،تہذیب وتمدن اور ثقافت کا سچا قصہ ہے۔سرائیکی مہان شاعر خواجہ فرید کو سرائیکی روحانی شاعر کا مقام حاصل ہے۔ان کے آفاقی فلسفہ میں روہی کا رنگ سب سے نمایاں ہے۔عشق حقیقی،تصوف،محبت،احساس، ہمدردی،کائنات کاحسن،احترام آدمیت،امن جیسے عظیم موضوعات ان کا حاصل کلام ہے۔

    اتھ درد منداں دے دیرے
    جتھ کرڑ کنڈا بوئی ڈھیر اے

    لانڑے، پھوگ اساڈے مانڑے
    ٹبڑے،بھٹڑے، ڈاہر، ٹکانڑے

    سرائیکی زبان و ادب کے جدید کلاسک شاعر شاہد عالم شاہد لشاری نے خوبصورت انداز میں روہی روپ کے قصے کو گوپے میں بیٹھ کر شاندار لفظوں کے تخیل سے تصویر کشی کی ہے۔الفاظ کی کاری گری ملاحظہ فرمائیں۔

    گوپے دیوچ اجرک ویڑھ تے ٹکڑانویں گندی تے
    بڈھا پاندھی ٹوری بیٹھے رلئے مال دے قصے

    مینہ دا زم زم وٹھے بلدی روہی اتے مال چردا ودے
    ساولیں جم پیاں ایجھا امرت ڈھٹے مال فردا ودے


    سرائیکی کلاسیکل مہان شاعر ڈاکٹر اشولال نے روہی چولستان کی چھ ہزار سال کی وادی ہاکڑہ سرسوتی تہذیب وتمدن کے مرکزی شہر گنویری والا اور قلعہ ڈیراور کی عظمت کو اپنے لازوال انداز کلام میں یوں بیان کیا ہے۔

    ساڈے اندروں وگدی اے سرسوتی
    ساڈے اندروں ہاکڑا وگدا اے
    اے گلیاں یار ڈیراور دیاں
    ساکوں ڈیکھ کے اینویں لگدا اے
    جیویں ہنڑیں ہنڑیں کوئی ویندا پئے
    جیویں ہنڑیں ہنڑیں کوئی ول آسی


    خواجہ فرید سئیں نے روہی تھل کے منظر کو باغ بہشت قرار دیا ہے۔

    روہی راوے تھیاں گلزاراں
    تھل چترانگ وی باغ بہاراں
    گھنڈ تنواراں بارش باراں
    چرچے دھاونڑ گاونڑ دے
    چاندنی رات ملہاری ڈینہ ہے
    تھڈڑیاں ہیلاں رم جھم مینہ ہے
    سوہنی موسم لگڑا نینہہ ہے
    گئے ویلھے غم کھاونڑ دے


    چولستان روہی کے صحرا کی اپنی خاموش خوبصورتی،ٹوبھےگوپے،قلعوں کا ثقافتی تاریخی تہذیبی ورثہ اور سخت زندگی کے سچے قصے بہت مشہور ہیں۔ محلاں کی سابق سرائیکی دھرتی ریاست بہاولپور میں واقع قلعہ ڈیراور چولستان کی پہچان ہے۔اس سے جڑی بستیوں میں آج بھی روہیلے مٹی اور درختوں کی چھال سے بنے روایتی رنگین "گوپوں” میں رہتے ہیں۔یہ گوپے صرف رہائش کے لیے گھر نہیں بلکہ روہی کی دلکش ثقافت اور یہاں کے لوگوں کی صدیوں پرانی عملی جدوجہد کی عکاس ہیں۔

    گوپے مٹی اور درختوں کی چھال سے بنائے جاتے ہیں اور انہیں خاص مہارت سے تعمیر کیا جاتا ہے۔سرائیکی جدید کلاسک شاعر شاہد عالم شاہد لشاری کے شاعری مجموعہ کا نام بھی "گوپے دے وچ قصہ” ایک منفرد اعزاز ہے۔گوپے کی دیواروں پر مٹی کا لیپ اور باریکی سے کی گئی صفائی ستھرائی اور رنگینی چولستانی دیہی فن کا مظہر ہے ۔شدید گرمی یا سردی کے موسم میں ان گوپوں کو شاپر یا شیٹ سے ڈھانپ دیا جاتا ہے۔ تاکہ اندر رہنے والوں کو موسم کی شدت سے بچایا جا سکے۔

    گوپے نہ صرف روہیلوں کی رہائش کی ضرورت کو پورا کرتے ہیں۔ بلکہ مہمانوں کے لئے آرائش و آرام اور محبت کا اعلی نمونہ بھی ہیں۔ان کی تعمیر اور سجاوٹ چولستانی فنکارانہ ذوق کی گواہی دیتی ہے۔کانے سے بنے گوپے،پتلیں،چکیں اور موڑھوں کے علاوہ سر اور کانہاں ( سرکنڈے ) سے بنی چولستانی چنگیریں و دیگر ہاتھ سے بنی اشیاء کو چولستانی و روہی واسیوں کے ہاتھوں کی ہنرمندی اور شاہکار کاریگری کی جادو گری بھی کہا جاسکتا ہے..جاری ہے

  • چولستانی گندی: ثقافت اور کفایت شعاری کا شاہکار

    چولستانی گندی: ثقافت اور کفایت شعاری کا شاہکار

    چولستانی گندی: ثقافت اور کفایت شعاری کا شاہکار
    ڈاکٹر محمد الطاف ڈاھر جلالوی
    altafkhandahir@gmail.com
    چولستان اور سندھ کی ثقافت کا ایک نمایاں پہلو "چولستانی گندی” ہے، جو نہ صرف کفایت شعاری بلکہ خوبصورت روایتی ہنر کا بہترین نمونہ ہے۔ یہ گندی، جو کپڑے کے اضافی ٹکڑوں سے بنائی جاتی ہے، نہ صرف گھریلو ضروریات کو پورا کرتی ہے بلکہ مقامی ثقافت اور روایات کی دلکش علامت بھی ہے۔ چولستانی گندی کو بنانے کا عمل ان خواتین کی ہنر مندی اور محنت کا عکاس ہے جو اپنے محدود وسائل میں بے مثال تخلیقی صلاحیتوں کا مظاہرہ کرتی ہیں۔ گھروں میں بچ جانے والے کپڑوں کے ٹکڑوں کو بڑی مہارت سے جوڑ کر یہ گندی تیار کی جاتی ہے، جو نہ صرف خوبصورت ہوتی ہے بلکہ پائیداری کی ایک عمدہ مثال بھی پیش کرتی ہے۔

    روہی چولستان کی خواتین اپنی محنت، لگن اور کفایت شعاری کی علامت ہیں۔ وہ گھروں میں استعمال شدہ اضافی کپڑوں کو ضائع کرنے کے بجائے انہیں خوبصورت شاہکار میں تبدیل کرتی ہیں۔ یہ گندیاں نہ صرف چارپائیوں پر بچھانے کے کام آتی ہیں بلکہ مہمانوں کے لیے زمین پر قالین کی جگہ استعمال کی جاتی ہیں۔ ان گندیوں کی تیاری کا عمل نہ صرف گھریلو معیشت کو مستحکم کرتا ہے بلکہ خواتین کی تخلیقی صلاحیتوں کو بھی نکھارتا ہے۔ شادی بیاہ اور دیگر خوشی کے مواقع پر یہ گندیاں تحفے کے طور پر دی جاتی ہیں، جو محبت، خلوص اور ثقافتی ورثے کی علامت ہوتی ہیں۔

    چولستانی ثقافت کا یہ پہلو ماضی کی جھلک بھی پیش کرتا ہے، جب خاندانوں میں اتحاد اور محبت کا اظہار ان گندیوں کے ذریعے کیا جاتا تھا۔ نورپور نورنگا کی پرانی یادیں اس بات کی گواہ ہیں کہ دادی اماں اور بوا اماں نئی دلہنوں اور نومولود بچوں کے لیے خوبصورت گندیاں تیار کرتیں۔ یہ عمل نہ صرف محبت اور خلوص کو فروغ دیتا تھا بلکہ خواتین کی ہنرمندی اور اتحاد کی علامت بھی تھا۔ خواتین رل مل کر دلہنوں کے جہیز میں گندیاں شامل کرتیں، جو ان کے خلوص اور کفایت شعاری کا بہترین ثبوت ہوتا تھا۔

    چولستانی گندی کی اہمیت نہ صرف گھریلو زندگی تک محدود ہے بلکہ یہ مقامی معیشت کے لیے بھی اہم کردار ادا کرتی ہے۔ اگر حکومت وقت اس ہنر کی سرپرستی کرے اور ڈیراور قلعے جیسے مقامات پر خواتین کے لیے تربیتی ادارے قائم کرے، تو یہ نہ صرف مقامی معیشت کو مضبوط کرے گا بلکہ عالمی سطح پر بھی پاکستان کے ثقافتی ورثے کو اجاگر کرے گا۔ اس اقدام سے مقامی خواتین کو اپنے ہنر کو بہتر بنانے اور اپنی آمدنی میں اضافے کے مواقع ملیں گے۔

    سرائیکی قدرتی حسین و جمیل خوبصورت روہی چولستانی خطے کی گندی نہ صرف رنگوں سے محبت کی علامت ہے بلکہ یہ کفایت شعاری اور گھریلو معیشت کو بہتر بنانے کا ایک موثر ذریعہ بھی ہے۔ اس کے ذریعے خواتین نہ صرف اضافی کپڑوں کا بہترین استعمال کرتی ہیں بلکہ اپنی تخلیقی صلاحیتوں کا بھی مظاہرہ کرتی ہیں۔ ان گندیوں کی تیاری سے خواتین کے اندر کفایت شعاری اور خود انحصاری کا جذبہ پیدا ہوتا ہے، جو کہ ایک خوشحال معاشرے کی بنیاد ہے۔

    مذہب اسلام سمیت تمام مذاہب سادہ اور آسان زندگی کو خوشحالی کا راز سمجھتے ہیں۔ چولستانی گندی اسی اصول کی عملی مثال پیش کرتی ہے۔ یہ خواتین اپنی محدود آمدنی کو بڑی حکمت اور مہارت سے استعمال کرتی ہیں اور اپنی زندگیوں کو خوشحال بناتی ہیں۔ اگر حکومت ان ہنر مند خواتین کو مراعات دے اور ان کی بنائی ہوئی مصنوعات کو عالمی منڈی تک رسائی فراہم کرے، تو نہ صرف ان کی زندگیوں میں بہتری آئے گی بلکہ پاکستان کی معیشت کو بھی فائدہ ہوگا۔

    چولستانی گندی نہ صرف کفایت شعاری بلکہ ثقافتی استحکام کی بھی ایک مثال ہے۔ ہمیں اس خوبصورت ہنر پر فخر کرنا چاہیے اور اس کی ترقی کے لیے بھرپور کردار ادا کرنا چاہیے۔ کیونکہ کفایت شعاری اور سادگی ہی کامیاب زندگی کی اصل کنجی ہیں۔ چولستان کی رنگین ثقافت اور اس کے باسیوں کی محنت کو عالمی سطح پر اجاگر کرنے کی اشد ضرورت ہے تاکہ یہ ورثہ ہمیشہ زندہ رہے اور نئی نسلوں کے لیے مشعل راہ بنے۔