Baaghi TV

Category: معاشرہ و ثقافت

  • موت کے بعد تدفین یا چتا، کون سا راستہ بہتر ہے؟

    موت کے بعد تدفین یا چتا، کون سا راستہ بہتر ہے؟

    موت کے بعد تدفین یا چتا، کون سا راستہ بہتر ہے؟
    تحریر:ڈاکٹرغلام مصطفیٰ بڈانی
    موت ایک اٹل حقیقت ہے، جس سے نہ کوئی فرد بچ سکتا ہے اور نہ کوئی قوم، ہر مذہب میں موت کے بعد کے مراحل اور آخری رسومات کا ایک خاص طریقہ رائج ہے۔ اسلام میں میت کو دفنانے کا حکم دیا گیا ہے جبکہ ہندو مت میں جلانے کی رسم کو مقدس مانا جاتا ہے۔ لیکن اگر حقیقت پر نظر ڈالی جائے تو ہندو مت میں مردہ سوزی کا عمل ایک بھیانک اور تکلیف دہ حقیقت کو آشکار کرتا ہے۔ خاص طور پر بنارس کے مانیکرنیکا گھاٹ پر ہونے والے مناظر انسان کی روح کو جھنجھوڑ کر رکھ دیتے ہیں۔

    اسلام نے تدفین کو نہ صرف ایک فطری عمل قرار دیا بلکہ اسے انسانی عظمت اور پاکیزگی کے عین مطابق بھی قرار دیا ہے۔ قرآن مجید میں ہابیل اور قابیل کے واقعے میں اللہ تعالی نے تدفین کی ہدایت کو واضح فرمایا، "پھر اللہ نے ایک کوا بھیجا جو زمین کھود رہا تھا تاکہ اسے دکھائے کہ وہ اپنے بھائی کی لاش کو کیسے چھپائے”(سور المائدہ 31)۔ یہ آیت واضح کرتی ہے کہ انسانی لاش کو مٹی میں دفنانا ایک الہی حکم اور فطری طریقہ ہے۔

    میت کو دفنانے کے کئی فوائد اور حکمتیں ہیں، سب سے پہلے یہ طریقہ پاکیزگی اور وقار کو یقینی بناتا ہے۔ میت کو غسل دیا جاتا ہے، کفن پہنایا جاتا ہے اور انتہائی احترام کے ساتھ دفن کیا جاتا ہے۔ دوسرے تدفین ماحولیاتی تحفظ کے اصولوں کے عین مطابق ہے کیونکہ دفنانے سے زمین میں میت کے اجزا تحلیل ہو جاتے ہیں اور فطرت میں کوئی آلودگی پیدا نہیں ہوتی۔ مزید برآں قبر کی زندگی برزخ کی ایک شکل ہے، جہاں میت کے اعمال کے مطابق برتاؤ کیا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ قرآن میں بارہا ذکر ہے کہ"اسی(زمین)سے ہم نے تمہیں پیدا کیا اور اسی میں ہم تمہیں واپس لوٹائیں گے اور اسی سے ہم تمہیں دوبارہ نکالیں گے”( سور طہ 55)۔

    ہندو مت میں میت کو جلانے کی رسم صدیوں سے جاری ہے۔ ان کا عقیدہ ہے کہ آگ میں جلنے سے روح مکتی (نجات) پا لیتی ہے اور گنگا میں راکھ بہانے سے پاپ دُھل جاتے ہیں۔ خاص طور پر بنارس کا مانیکرنیکا گھاٹ ہندوؤں کے نزدیک انتہائی مقدس مقام ہے، جہاں روزانہ سینکڑوں لاشیں جلائی جاتی ہیں۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ شمشان گھاٹ پر روزانہ جلی ہوئی لاشوں کا دھواں فضا کو آلودہ کرتا ہے۔ لکڑی کی کمی کے باعث اکثر لاشیں مکمل طور پر نہیں جل پاتیں اور انہیں گنگا میں بہا دیا جاتا ہے۔ گنگا میں نہانے اور اس کا پانی پینے والے یہی نہیں جانتے کہ وہ پانی انسانی راکھ اور نجاست سے بھرا ہوتا ہے۔ قرآن کے مطابق انسان کی نجات صرف اللہ کی رضا اور اعمال صالحہ میں مضمر ہے نہ کہ کسی مخصوص مقام پر جلنے میں۔

    اللہ تعالی نے قرآن میں ارشاد فرمایاکہ"اور بے شک ہم نے بنی آدم کو عزت دی اور انہیں خشکی اور تری میں سوار کیا اور انہیں پاکیزہ چیزوں کا رزق عطا کیا اور اپنی بہت سی مخلوقات پر فضیلت د ی”(سورة الاسرا ،70)، یہ آیت انسان کی عظمت کو واضح کرتی ہے اور ثابت کرتی ہے کہ اسلام میں ہر عمل انسانی شرف اور عزت کے مطابق ہوتا ہے۔ تدفین کا طریقہ اسلامی پاکیزگی، سادگی اور عزت نفس کے اصولوں پر مبنی ہے جبکہ جلانے کا عمل انسانی وقار کے برعکس اور وحشت ناک تصور ہے۔

    رات کے وقت بنارس کے شمشان گھاٹ کا منظر اور بھی زیادہ خوفناک ہوتا ہے۔ جلتی ہوئی چتائیں، ہر طرف دھواں، راکھ میں لپٹے انسانی سائے، بانسوں سے کھوپڑیوں کو توڑنے کی آوازیں اور گنگا میں بہتی ہوئی ادھ جلی لاشیں اور گنگا کنارے ان لاشوں کو بھنبھوڑ کتے اور دوسرے جانور،جہاں وحشت ہی وحشت ہو۔ کیا یہی وہ مقدس جگہ ہے جہاں مکتی حاصل ہوتی ہے؟ حقیقت تو یہ ہے کہ یہ جگہ زمین پر جہنم کے ایک منظر سے کم نہیں۔

    اسلام میں تدفین کا نظام اللہ کی ایک عظیم نعمت ہے جو انسانی شرف اور فطرت کے عین مطابق ہے۔ جبکہ ہندو مت میں چتا پر جلانے کا عمل نہ صرف بے رحمانہ ہے بلکہ ماحولیاتی اور انسانی صحت کے لیے بھی خطرہ ہے۔ ہر عقل مند شخص اگر تدبر کرے تو وہ سمجھ سکتا ہے کہ قبر سکون، رحمت اور پاکیزگی کا ذریعہ ہے جبکہ آگ اور راکھ کی دنیا عذاب اور بے سکونی کی علامت ہے۔

    اللہ تعالی نے قرآن میں فرمایاکہ "بے شک ہم نے ظالموں کے لیے وہ آگ تیار کر رکھی ہے جس کی دیواریں انہیں گھیر لیں گی.” (سور ةالکہف 29)۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ چتا کی یہ آگ اسی عذاب کی ایک جھلک ہو؟ ایک ایسی آگ جس میں ایک انسان کو جلتے ہوئے راکھ میں بدل دیا جاتا ہے؟ کیا یہ ممکن نہیں کہ جو لوگ دنیا میں اپنے پیاروں کو آگ میں جھونکنے کو مقدس سمجھتے ہیں، وہی آخرت میں بھی ایسی ہی آگ کے مستحق ٹھہریں؟

    ذرا سوچئے اور ان سوالات کا جواب دیجئے کہ موت کے بعد تدفین یا چتا، کون سا راستہ بہتر ہے؟ کیا عزت و وقار کے ساتھ زمین کی آغوش میں سپرد کرنا زیادہ مناسب نہیں یا پھر جلتی چتا کی نذر کر دینا؟ کیا پاکیزگی اور سکون کی راہ افضل نہیں یا پھر آگ اور دھوئیں کی ہولناکی؟ فیصلہ عقل اور فطرت کے مطابق ہونا چاہیے کیونکہ انسان کا شرف اور آخری منزل ایک مقدس حقیقت ہے جس کا احترام ہر حال میں لازم ہے۔

  • گنویری والا: ہڑپہ وموہنجودڑو سے بھی قدیم سات ہزار سالہ سرائیکی تہذیب کا مرکز(تیسری وآخری قسط)

    گنویری والا: ہڑپہ وموہنجودڑو سے بھی قدیم سات ہزار سالہ سرائیکی تہذیب کا مرکز(تیسری وآخری قسط)

    گنویری والا: ہڑپہ وموہنجودڑو سے بھی قدیم سات ہزار سالہ سرائیکی تہذیب کا مرکز
    تحقیق و تحریر:ڈاکٹر محمد الطاف ڈاھر جلالوی
    altafkhandahir@gmail.com
    خلاصہ :یہ آرٹیکل سرائیکی خطے کی قدیم تہذیب و تمدن، خاص طور پر گنویری والا شہر کی تاریخی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے۔ گنویری والا، جو ہڑپہ اور موہنجودڑو سے قدیم ہے، وادی ہاکڑہ کے کنارے واقع ایک عظیم تاریخی مرکز رہا ہے۔ آرٹیکل میں علم آثار قدیمہ کی اہمیت بیان کی گئی ہے، جو قدیم تہذیبوں اور تمدن کے مطالعے کا ذریعہ ہے اور یہ آرٹیکل تین اقساط پر مشتمل ہے .اس سلسلے کی تیسری وآخری قسط ملاحظہ فرمائیں

    دنیا کے ابتدائی قدیمی ورثے دریائے سرسوتی کنارے آباد سرائیکی تہذیبی شہر گنویری والا کا مستقبل اور چیلنجز
    اللہ رب العزت انسان کے غور و فکر اور عملی فلاحی تحقیقی کام کو پسند فرماتا ہے۔دنیا میں جدت اور خوشحال اکنامک سکلڈ انفارمیشن میرے نزدیک آرکیالوجی سائنس کی بدولت ممکن ہوئی ہے۔جن قوموں نے قرآن مجید اور دیگر مقدس قدیم کتابوں ویدک لٹریچر،انجیل،تورات،زبور کی بدولت دنیا میں موجود دریائی،میدانی،پہاڑی،سمندری،جنگلات اور ریگستانوں میں چھپے انسانی تمدنی،ثقافتی اور تاریخی قدیم عجوبے تہذیبی خزانوں کو ڈھونڈا اور ان پرانے ورثے آثارقدیمہ کی بدولت نئی حکمت و دانش سے اپنے مستقبل کو محفوظ بنایا.آج دنیا میں امریکہ،چین، روس،برطانیہ، فرانس،جاپان، قطر،دوبئی، سعودی عرب جیسے عظیم ممالک کی مضبوط شکل میں موجود ہیں۔

    دریائےسرسوتی سرائیکی وسیب روہی چولستان کے ابتدائی انسانی دنیا کے مشترکہ تہذیبی اثاثے کے حوالے سے سرسوتی اور سرائیکی کا سات ہزار سے آٹھ ہزار شہر گنویری کی قدامت بارے اہم شہادت قابل غور بات ہے۔سرائیکی محقق سید نور علی ضامن حسینی بخاری ریٹائرڈ ڈپٹی چیف انجینئر آبپاشی مغربی پاکستان (آل اولاد حضرت سید شیر شاہ جلال الدین حیدر سرخ پوش بخاری رحمتہ اللہ علیہ) نے اپنی کتاب "معارف سرائیکی” ناشر مصطفٰی شاہ اکیڈمی احمدپورشرقیہ، مطبع پنجاب آرٹ پریس لاہور،اول اشاعت 1972ء کے صحفہ نمبر11 پر اپنے ایک بے تکلف پنجابی دوست دانشور پرویز حسن صادق کو انٹرویو میں کہا کہ سرائیکی تو قرآن پاک کے ” اصحاب الرس ” کی زبان ہے۔جس کا ذکر قرآن مجید کی سورہ فرقان، سورہ ق میں موجود ہے۔

    اس کا ثبوت انہوں نے صفحہ نمبر 104 پر سر آرل سٹین کی ریسرچ مطابق دریائے گھاگھرا،سرسوتی جس کی عظمت کے گیت مقدس کتاب رگ وید سنسکرت زبان میں موجود ہیں اور جرمن دانشور پروفیسر آردان راتھ کی تحقیق موجب دریائے سندھو یعنی دریائے انڈس کو رگ وید میں بیان کردہ دریائےسرسوتی کہا گیا ہے۔بہت سے دوسرے دانشوروں اور میری صحیح رائے کے مطابق سرسوتی سے مراد دراصل "سویراس وتی ” ہوسکتا ہے۔یعنی اصحاب الرس کا دریا۔اسی بناء پر یہ یقین غالب ہے کہ سرائیکی کا لفظ دراصل سویراکی تھا جو آہستہ آہستہ بگڑ کر سرائیکی ہوگیا۔

    ان حقائق کی روشنی میں کیا ہمارے مقامی سرائیکی وسیب کے عوامی نمائندے اپنے قدیم تاریخی،تمدنی،ثقافتی ورثے کے تحفظ کے لئے ایم این ایز، ایم پی ایز نے کیا کلیدی کردار ادا کیا ہے؟۔یہ اہم سوال ہے۔کیا سرائیکی خطے میں گنویری والا میوزیم قائم ہوا؟کیا سرائیکی وسیب میں سرسوتی گنویری والا کے مقام پر ہاکڑہ سرسوتی یونیورسٹی کے قیام کے لئے عملی اقدامات ہوئے؟کیا سرائیکی لینگؤیج،آرٹ اینڈ آرکیالوجی کلچرل سنٹر کا قیام قلعہ ڈیراور چولستان پر قائم ہوا؟کیا چولستان کے قدیم تاریخی قلعوں کی تزئین و آرائش کے عملی اقدامات ہوئے؟
    چند گزارشات سے سرائیکی خطے کی روہی میں تعمیر نو اور ترقی کے امکانات روشن ہوسکتے ہیں۔

    ان تمام اہم مسائل کو سرائیکی وسیب کے ہر شاعر،قصولی،نقاد،دانشور،ادیب،محقق اور صحافی نے اپنے ورثے کے تحفظ کے لئے ایمانداری سے ہر جگہ فریاد کرتے نظر آ رہے ہیں۔سوشل میڈیا پر نوجوان نسل اب اپنے تہذیبی ورثے کی حفاظت اور تعمیر نو کے لیے آگے آرہے ہیں۔سرائیکی شاعر پیشے کے اعتبار سے وکیل ثاقب قریشی کا سرائیکی کلام میں سرائیکی ورثے کے کمال تخیل پیش کیا۔
    گالھ ٹرپئی اے اینکوں پندھ کریندا ڈیکھیں
    اے نہ سمجھیں میڈی منزل کوں زمانے لگسن


    شاعر اپنی دھرتی کے سفیر ہوتے ہیں۔سرائیکی روہی چولستانی احمدپورشرقیہ کے مزاحمتی مزاج شاعر جہانگیر مخلص روہی ریگستان اور سرائیکی تہذیب وتمدن،ثقافت اور شناخت کی بے بسی پر نوحہ خوانی اور عشق کرتے نظر آ رہے ہیں۔
    پہلی قسط پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں
    گنویری والا: ہڑپہ و موہنجودڑو سے بھی قدیم سرائیکی تہذیب کا مرکز (پہلی قسط)
    دوسری قسط پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں
    گنویری والا: ہڑپہ وموہنجودڑو سے بھی قدیم سات ہزار سالہ سرائیکی تہذیب کا مرکز(دوسری قسط)
    سرسوتی تہذیب وتمدن سے محبت اور مزاحمت ان کے کلام کا خاصہ ہے۔سرائیکی دانشور عبدالباسط بھٹی اور شاعر جہانگیر مخلص کا سرائیکی روہی کے تمدنی،ثقافتی قلعہ ڈیراور چولستان کی جیپ ریلی مرکز پر ہر سال سالانہ سرائیکی خواجہ فرید امن میلہ منعقد کرانا دراصل سرائیکی وسیب کی محرومیوں کے اظہار کا سنہڑا ہے۔پرہ باکھ ان کی سرائیکی شاعری کا شاہکار نمونہ ہے۔ان کے کلام کا تخیل کمال حیرت کا سماں پیدا کرتاہے۔

    سرائیکی دھرتی روہی کے آٹھ ہزار سال تہذیب وتمدن کا گہوارہ،دکھ درد ان کے جیون کی کتھا ہے۔اپنی سرائیکی ریاست بہاولپور کے نوابوں اور مقامی سیاسی نمائندوں کے نام اہم پیغام دیا ہے۔کلام ملاحظہ فرمائیں۔

    اساں مونجھاں تیڈیاں،اساں کونجاں تیڈیاں
    سدھ نی کیئں گول وچ گئے ہیں گاریئے اساں
    کیا ڈسوں جانیاں! تیڈی دھرتی اتے
    دم حیاتی دے کیویں گزاریئے اساں

    دم دلاسے اساں، صرف کاسے اساں
    تیڈے وسبے دے کھل ٹوک ہاسے اساں

    ساکوں کوئی یاد نی کون ہاسے اساں
    سنج دی مانڑی اساں،پنج دی ہاری اساں

    اسی طرح رحیم یار خان سسی دی ماڑی بھٹہ واہن کے مہان کلاسک شاعر سئیں ممتاز حیدر ڈاھر کی شاعری "کشکول وچ سمندر” سرائیکی خطے کی وادی سرسوتی تہذیبی ورثے کے محافظ گنویری والا شہر روہی چولستان سے محبت کو عید مبارک کہتے ہیں۔دھرتی ماں سے محبت ہر سرائیکی شاعر کے تخیل کا خوبصورت عکس ہے۔کلام ملاحظہ فرمائیں۔

    جو وی ساہ دا سانگا جوڑے
    سچی سانجھ دے سانگے
    جیئں دل وچ ماء دھرتی دا درد ہے
    رتی بھانویں شارک
    اونکوں عید مبارک

    حکومت وقت کو اپنے قومی ورثے گنویری والا کی فوری حفاظت کے لیے مستقل بنیادوں پر عملی اقدامات ہڑپہ و موہنجوداڑو طرز جیسے اٹھانا ہوں گے۔گنویری والا میوزیم اور ہاکڑہ سرسوتی یونیورسٹی کے قیام سے ہی سرائیکی قدیم تہذیبی و تمدنی ثقافتی ورثے کا تحفظ ممکن ہوگا۔خبر خوش آئند ہے کہ ابتدائی مراحل میں قلعہ ڈیراور کو ورلڈ ہیریٹیج میں شامل کر لیا گیا ہے۔امید ہے کہ نئی نوجوان نسل اپنے قومی ورثے کی منفرد شناخت کے لیے ایمانداری سے عملی طور تحقیق کرے گی اور نئے چھپے خزانوں سے پردہ اٹھائے گی۔

    افسوس کی بات یہ ہے کہ کھدائی سے ملنے قیمتی نوادرات کو بہاولپور میوزیم میں نہیں رکھا گیا۔مقامی روہیلوں کی رپورٹ کے مطابق پرانی تہذیب و تمدن کے مرکزی شہر گنویری والا سے چور قیمتی اثاثہ سے نوادرات چوری کرکے اونے پونے بیچ رہے ہیں۔اقوام متحدہ کے آرکیالوجی اداروں کو پاکستان کے ساتھ مل کر چولستان روہی سرائیکی وسیب کے ورلڈ ہیریٹیج سٹی گنویری والا کے مقام پر ہاکڑہ سرسوتی یونیورسٹی کے فوری قیام اور ساتھ ہی گنویری والا میوزیم کے قائم سے سرائیکی علاقے میں سیاحت کو فروغ ملے گا۔علاقے میں معاشی ترقی کا نیا دور شروع ہوگا۔

    سرائیکی ثقافتی تمدنی سات سے آٹھ ہزار سال پرانے گمشدہ شہر گنویری والا کی کھدائی کے لیے مزید ارتقائی ہنگامی بنیادوں پر پراجیکٹس کی گرانٹس جاری کرنا ہوں گی۔تہذیب وتمدن ،رسوم،حکمت و دانش،ترقی یافتہ پالیسیوں کی تلاش،زبان،سرائیکی سماجیات، روایات،ثقافت،ادب اور فنون لطیفہ کے ورلڈ اثاثےکی آگاہی ہم سب کا قومی فریضہ ہے۔گنویری والا شہر کی کھدائی سے قیمتی خزانوں سے پردہ چاک کرکے ملکی وقار و زر مبادلہ میں بھی بلند اضافہ ہوگا۔

    خواجہ غلام فرید رحمتہ اللہ علیہ سرائیکی مہان کلاسک شاعر نے 56 سالہ زندگی میں تقریبا 18 سال روہی چولستان جھوک فرید کنڈا فرید میں گزارے۔ان کو دفن قیمتی خزانوں کا علم تھا اور اپنے شاندار خوشحال مستقبل کا بھی پتہ تھا۔اس لئے خواجہ غلام فرید رحمتہ اللہ علیہ نے اپنے ریاستی سرائیکی نواب صادق محمد خان عباسی چہارم کو کہا تھا کہ اپنی نگری آپ وسا توں پٹ انگریزی تھانے سے مراد روہی چولستان آپ نے خود آباد کرنا ہےاور پٹ انگریزی تھانے کی اصطلاح دراصل اعلی جدید علم و ٹیکنالوجی کی تحقیق،خود داری،دیانت داری اور محنت کا استعارہ بیان فرمایا۔روہی چولستان کی شادابی اور معاشی ترقی کا حسین خواب حقیقت کا اظہار ایک صدی پہلے کر چکے ہیں۔اب صرف ایمانداری سے عمل کی ضرورت ہے۔سرائیکی وسیب کی نوجوان نسل کو قلم،کتاب،لائیبریری اور ریسرچ لیبارٹری میں دن رات جدید علم و ہنر اور ٹیکنالوجی کے اوزاروں سے اپنے مستقبل کو محفوظ بنانا ہوگا۔سرائیکی مہان کلاسک صوفی شاعر سیئں خواجہ غلام فرید رحمتہ اللہ علیہ کا مکمل دیوان فرید سرائیکی سماجیات کی مضبوط دستاویزات ہیں۔ان کے کلام آفاقیت میں روہی سے عشق محبت،امید اور تصوفانہ فلسفے سے تقویت ملے گی۔

    اگر آج بھی حکمران، مقامی سیاستدان اور سرائیکی وسیب کے دعویدار خوابِ غفلت سے نہ جاگے تو تاریخ ہمیں معاف نہیں کرے گی۔گنویری والا، جو ہڑپہ و موہنجوداڑو سے بھی زیادہ قدیم ہے،محض داستان بن کر رہ جائے گا۔ اور ہماری آنے والی نسلیں ہمیں بے حسی اور غفلت کا مجرم ٹھہرائیں گی۔ وقت کا تقاضا ہے کہ ہم اپنی عظمت کو مٹی میں دفن ہونے سے بچائیں،ورنہ کل ہمیں اپنی شناخت کے ملبے پر کھڑے ہو کر صرف افسوس ہی کرنا پڑے گا!

    وقت کا پہیہ رکنے والا نہیں مگر تاریخ بے رحم ہوتی ہے۔جو قومیں اپنی پہچان اور ورثے کی حفاظت نہیں کرتیں، وہ ماضی کے کھنڈرات میں دفن ہو جاتی ہیں۔ گنویری والا ہماری شناخت، تہذیب اور تاریخی ورثے کا نشان ہے، جسے بچانا ہماری اجتماعی ذمہ داری ہے۔ اگر آج بھی ہم نے آنکھیں نہ کھولیں تو کل یہ زمین کسی اور کی نہیں بلکہ ہماری اپنی بے حسی کی گواہی دے گی۔ فیصلہ ہمارے ہاتھ میں ہے، تاریخ میں سر اٹھا کر زندہ رہنا ہے یا مٹ جانے والوں میں شامل ہونا ہے۔

  • انسداد پولیو مہم کی کامیابی .تحریر: جان محمد رمضان

    انسداد پولیو مہم کی کامیابی .تحریر: جان محمد رمضان

    ستمبر 2024 سے اب تک پاکستان میں پولیو کے کیسز میں ایک نمایاں کمی آئی ہے، جو کہ انسداد پولیو مہم کی کامیاب حکمت عملی کا نتیجہ ہے۔ اس مثبت تبدیلی کا اثر پورے ملک میں دیکھا جا رہا ہے، اور اس نے عوامی سطح پر پولیو کے مکمل خاتمے کے لیے حکومت کے عزم اور کوششوں کی طرف اشارہ کیا ہے۔پولیو ایک مہلک وائرس ہے جو بچوں کو عمر بھر کے لیے معذور کر سکتا ہے۔ پاکستان جیسے ممالک میں جہاں پولیو کا پھیلاؤ ایک سنگین مسئلہ رہا ہے، وہاں اس وائرس کی روک تھام کے لیے کئی سالوں سے کوششیں کی جا رہی ہیں۔ لیکن 2024 کے آخری حصے میں پولیو کیسز میں کمی نے انسداد پولیو مہم کی مؤثریت کو ثابت کیا ہے۔پاکستان کے مختلف صوبوں میں، خاص طور پر بلوچستان، سندھ اور جنوبی خیبر پختونخوا میں پولیو کیسز میں نمایاں کمی دیکھنے کو ملی ہے۔ اس کمی کا تعلق ان علاقوں میں انسداد پولیو مہم کی بھرپور کاوشوں سے ہے جہاں پہلے پولیو کے کیسز زیادہ ریکارڈ ہوئے تھے۔

    پاکستان کے وزیراعظم نے پولیو کے کیسز میں کمی اور پولیو کی بروقت شناخت کے لیے تمام صوبوں کی انتظامیہ کی کاوشوں کو سراہا۔ وزیراعظم نے کہا کہ پولیو کیسز میں یہ کمی ملک بھر میں حکومت کے عزم، انتظامیہ کی محنت، اور عوام کی حمایت کا نتیجہ ہے۔ اُنہوں نے یہ بھی کہا کہ ملک میں پولیو کا مکمل خاتمہ صرف وفاق اور صوبوں کے باہمی تعاون سے ہی ممکن ہو گا۔پولیو کیسز میں کمی کو صوبوں کی انتظامیہ کی انتھک محنت کا نتیجہ قرار دیا گیا ہے۔ مختلف صوبوں کی حکومتوں نے انسداد پولیو مہم کو اپنے اپنے علاقوں میں بھرپور طریقے سے جاری رکھا اور بچوں تک ویکسین پہنچانے کے لیے ہر ممکن تدابیر اختیار کیں۔ صوبوں نے اپنی نگرانی کے نظام کو مضبوط بنایا اور پولیو کے وائرس کو پھیلنے سے روکنے کے لیے موثر اقدامات کیے۔

    پاکستان میں انسداد پولیو مہم کے تمام پہلوؤں کی نگرانی کے لیے ایک جدید آئی ٹی ڈیش بورڈ کا استعمال کیا جا رہا ہے۔ اس ڈیش بورڈ کے ذریعے حکام پولیو مہم کی ترقی، ویکسینیشن کی شرح اور کیسز کی صورتحال پر مسلسل نظر رکھتے ہیں۔ اس کا مقصد مہم کی ہر سطح پر بہتر کارکردگی کو یقینی بنانا اور فوری طور پر کسی بھی چیلنج کا حل تلاش کرنا ہے۔سال 2025 کے آغاز میں پولیو سے متاثرہ اضلاع میں پولیو کیسز میں مزید کمی دیکھنے کو ملی ہے۔ خاص طور پر بلوچستان، سندھ اور جنوبی خیبر پختونخوا میں پولیو کیسز میں واضح کمی نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ انسداد پولیو مہم کی حکمت عملی کامیاب جا رہی ہے۔ اس کامیابی کے پیچھے حکومتی عزم اور عوامی تعاون کا بڑا ہاتھ ہے۔

    پاکستان میں پولیو کے کیسز میں کمی ایک مثبت قدم ہے اور یہ پاکستان کے عوام، حکومت اور بین الاقوامی اداروں کی محنت کا نتیجہ ہے۔ انسداد پولیو مہم کی مؤثریت کی بدولت پاکستان پولیو کے خاتمے کے قریب پہنچ رہا ہے۔ تاہم، اس کے مکمل خاتمے کے لیے ابھی مزید محنت کی ضرورت ہے اور عوام کو مسلسل آگاہی فراہم کرنا ضروری ہے۔پاکستان کے تمام حصوں میں پولیو کے خاتمے کے لیے وفاق اور صوبوں کے درمیان تعاون کی اہمیت واضح ہو چکی ہے۔ ہم سب کی اجتماعی کوششوں سے ہی پولیو کو پاکستان سے مکمل طور پر ختم کیا جا سکتا ہے۔

    jaan

  • گنویری والا: ہڑپہ وموہنجودڑو سے بھی قدیم سات ہزار سالہ سرائیکی تہذیب کا مرکز(دوسری قسط)

    گنویری والا: ہڑپہ وموہنجودڑو سے بھی قدیم سات ہزار سالہ سرائیکی تہذیب کا مرکز(دوسری قسط)

    گنویری والا: ہڑپہ وموہنجودڑو سے بھی قدیم سات ہزار سالہ سرائیکی تہذیب کا مرکز
    تحقیق و تحریر:ڈاکٹر محمد الطاف ڈاھر جلالوی
    altafkhandahir@gmail.com
    خلاصہ :یہ آرٹیکل سرائیکی خطے کی قدیم تہذیب و تمدن، خاص طور پر گنویری والا شہر کی تاریخی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے۔ گنویری والا، جو ہڑپہ اور موہنجودڑو سے قدیم ہے، وادی ہاکڑہ کے کنارے واقع ایک عظیم تاریخی مرکز رہا ہے۔ آرٹیکل میں علم آثار قدیمہ کی اہمیت بیان کی گئی ہے، جو قدیم تہذیبوں اور تمدن کے مطالعے کا ذریعہ ہے اور یہ آرٹیکل تین اقساط پر مشتمل ہے .اس سلسلے کی دوسری قسط ملاحظہ فرمائیں

    سرائیکی قدیم چولستان کے تاریخی تمدنی مرکزی شہر گنویری والا کی دریافت اور کھدائی

    دوسری قسط کا خلاصہ
    زمین میں دفن شہر گنویری والا چولستان کی ایک سات ہزار سال پرانی سرائیکی تہذیب وتمدن کا مرکز ہے۔1970ء تا 1975ء میں ڈاکٹر رفیق مغل کی قیادت میں اس کی کھدائی کے لیے ابتدائی کاوشیں سامنے آئیں۔جس سے ثابت ہوا کہ یہ شہر مقامی سرائیکی تہذیب و ثقافت اور زبان کا آئینہ کا ہے۔یہاں کی قدیم دستکاری،زیورات اور مٹی کے برتن دنیا بھر میں گئے۔ تحقیق سے چولستان کی تہذیب کو پانچ ادوار میں تقسیم کیا گیا، قبل از ہڑپائی، ہاکڑہ دور، ابتدائی ہڑپائی دور، عروج یافتہ ہڑپائی دور اور متاخر ہڑپائی دور۔ گنویری والا شہر وادی سندھ تہذیب وتمدن کے ساتھ جڑا ہوا ہے۔اس وجہ سے وادی ہاکڑہ سرسوتی تہذیب وتمدن کو وادی سندھ کی تہذیب وتمدن کی ماں مانا گیا۔اور اس کی اہمیت عالمی سطح پر تسلیم کی گئی ہے۔

    دوسری قسط
    احمدپور شرقیہ کی ہردلعزیز بردبار روحانی شخصیت بڑے بھائی دوست ماہر فلکیات و کلینکل سائیکالوجیسٹ جام اسد عباس لاڑ جن کی علم فلکیات پر شاندار کتاب”علم نجوم بحیثیت رہبر وجوہ نفسیاتی عوارض”سال 2024ء منظر عام پر آئی ہے۔ایک دن دوران گفتگو اُن سے سوال کیا کہ گنویری والا چولستان کی تاریخی،تمدنی،تہذیبی اور ثقافتی حیثیت آپ کے علم کے مطابق کیا ہوسکتی ہے؟ اس سوال کے جواب میں دھیمے لہجے میں جناب اسد لاڑ نے کہا کہ قدرت اب صحرائی علاقوں کو دوبارہ عروج یافتہ بنائے گی۔میرا ماننا ہے کہ دنیا کے تمام ریگستان ہزاروں سال پہلے دریاؤں کی گزر گاہ رہ چکے ہیں۔مجھے میرا علم بتا رہا ہے کہ سرائیکی روہی چولستان میں قدیم آٹھ ہزار سال تہذیب وتمدن کے آثار لازمی ہوں گے۔واللہ اعلم بالصواب۔باقی میرا اللہ پاک بہتر جانتا ہے۔اب اس حوالے سے تحقیقاتی آرکیالوجی تھیوری سے عملی حقائق تلاش کرنے کی سعی کرتے ہیں۔

    گنویری والا چولستان کی باقاعدہ کھدائی کے لیے عملی اقدامات سابق ماہر آثار قدیمہ ڈائریکٹر جنرل آرکیالوجی ڈیپارٹمنٹ ڈاکٹر رفیق مغل کی دن رات محنت سے 1970ء سے 1975ء کے دوران سامنے آئے۔ اس کا نتیجہ مارچ 2024ء میں سرکاری فنڈز کی مد میں 20 ملین یعنی 2 کروڑ روپے کی لاگت سے کھدائی کا تاریخی مرحلہ دیکھنے کو ملا ،جب ڈاکٹر رفیق مغل اپنی آرکیالوجی ٹیم سابق کمشنر بہاولپور ڈویژن ڈاکٹر احتشام انور کے ساتھ مل کر سرائیکی وسیب کی عالمگیر قدامت کا گہوارہ شہر گنویری والا کی کھدائی کا آغاز کیا۔

    راقم الحروف نے اپنے آرکیالوجسٹ دوست اعجاز الرحمن بلوچ اور جام غلام یاسین لاڑ کے ساتھ 2022ء میں اس مقام کا دورہ کیا۔جہاں برجی گنویری والا کی مخصوص شکل کو دیکھا گیا۔ڈاکٹر رفیق مغل نے اپنے تھیسس کے ذریعے ثابت کیا کہ گنویری والا شہر روہی چولستان کی اپنی مقامی تہذیب کا حصہ ہے اور یہ تمدن باہر سے نہیں آئی بلکہ مقامی طور پر پروان چڑھی۔

    روہی چولستان کے قدیم تاریخی تمدنی سات ہزار سالہ شہر گنویری والا کی عظمت کی بنیاد پر ہی وادی ہاکڑہ سرسوتی تہذیب و تمدن کو وادی سندھ تہذیب و تمدن کی ماں مانا گیا ہے۔دنیا کی اہم تہذیبوں میں وادی نیل کی مصری اہرامی تہذیب وتمدن اور وادی دجلہ و فرات کی میسوپوٹیمیا سمیرین تہذیب وتمدن کو وادی سندھ تہذیب وتمدن کا ہم عصر مانا جاتا ہے۔

    پہلی قسط پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں
    گنویری والا: ہڑپہ وموہنجودڑو سے بھی قدیم سات ہزار سالہ سرائیکی تہذیب کا مرکز(پہلی قسط)
    تاہم بیل گاڑی،مہریں،مٹی کے برتن،ایک سینگ والے جانور کی مورتیاں
    ،زیورات،زراعت کے اوزار اور دستکاریوں کے قدیم تاریخی شواہد نے سرائیکی علاقے روہی چولستان کے بہاولپوری ثقافتی شہر گنویری والا کو سات ہزار سال پرانا شہر تسلیم کیا ہے۔

    مختلف میڈیا رپورٹس اور ادارہ آرکیالوجی پاکستان کی پریس ریلیز کے مطابق گنویری والا سات ہزار سال پرانا شہر ہے۔پاکستان کے مایہ ناز پہلے آرکیالوجسٹ ڈاکٹر رفیق مغل کی ریسرچ کے مطابق وادی سندھ تہذیب و تمدن کی بنیاد ابتدائی ہڑپائی تمدن (2500 سے 3200 قبل مسیح) کے ساتھ دریائے ہاکڑہ سرسوتی تہذیب و تمدن کے شہر گنویری والا پر پروان چڑھی۔

    آرکیالوجی تحقیق سے یہ بھی ثابت ہوا ہے کہ قدیم افغانستان سے ملنے والے انسانی زیورات اور گنویری والا سے دریافت ہونے والے نمونے ایک جیسے ہیں۔اس عظیم تہذیب کے لوگوں کی دستکاریوں کے قدیم شاہکار تجارت کے ذریعے دنیا کے کونے کونے تک رسائی حاصل کی۔

    چولستان روہی اور سرائیکی وسیب کی اس منفرد تہذیب کے وارث شہر کو قدیم تہذیبی ارتقاء کے اعتبار سے ابنِ حنیف کی کتاب "سات دریاؤں کی سرزمین” (فکشن ہاؤس لاہور، اول 1997ء، دوم 2017ء) میں نمایاں مقام دیا گیا ہے۔اس کتاب کے صفحہ نمبر 27 پر ڈاکٹر رفیق مغل کی 1974ء سے 1977ء کے دوران موسم سرما میں چولستان وادی ہاکڑہ سرسوتی تہذیب کے چار دوروں کا ذکر موجود ہے۔

    رگ وید سنسکرت زبان میں دریائے سرسوتی ندی کی عظمت کا خوبصورت تذکرہ موجود ہے،جو اس تہذیب کی اہمیت کو مزید اجاگر کرتا ہے۔رگ وید میں مقدس سرسوتی سرائیکی ندی کی شان میں بھجن، جسے سرائیکی شاعر و محقق ڈاکٹر نصراللہ خان ناصر نے اپنی کتاب "سرائیکی شاعری دا ارتقاء” کے صفحہ نمبر 28 پر درج کیا۔اس طرح ہے:

    سرسوتی امدی ہے شور و غل کریندی ہوئی
    غذا گھن تے اساڈے کیتے حصن حصین ہے۔

    آریہ قوم نے سنسکرت زبان میں مقدس ویدک لٹریچر جیسے رگ وید میں مقدس ندی دریائے سرسوتی کے علاوہ دریائے سندھ، ستلج، چناب، بیاس، راوی، جہلم، گنگا، جمنا دیوتاؤں اور دریاؤں کی شان میں قصیدے لکھے۔

    ڈاکٹر رفیق مغل نے چولستان میں 424 قدیم بستیاں دریافت کیں۔بیٹی وادی سندھ تہذیب و تمدن جو دراصل ماں وادی ہاکڑہ سرسوتی گھارا، گھاگھرا تہذیب و تمدن کی کوکھ سے پیدا ہوئی، اس کی آغوش میں پلی بڑھی۔ ہاکڑہ چولستان تمدن کو 3000/4000 قبل مسیح کا عہد کہا گیا ہے اور اسے پانچ ادوار میں تقسیم کیا جاتا ہے.
    1۔ قبل از ہڑپائی دور (3000/2500 ق م)
    2۔ ہاکڑہ دور (3000/3500 ق م)
    3۔ ابتدائی ہڑپائی دور (2500/3200 ق م)
    4۔ عروج یافتہ ہڑپائی دور (2000/2500 ق م)
    5۔ متاخر ہڑپائی دور (1800 ق م)

    روہی چولستان کے قدیم تہذیبی و تمدنی باقیات اولین انسانی شعور کی بنیادیں ہیں۔ڈاکٹر رفیق مغل کے تحقیقی کام کو غیر ملکی ماہرین آثارِ قدیمہ میں پنسلوانیا یونیورسٹی آف امریکہ کے لوئی فیم،ڈیلز،شیفر، مارشیا،میڈو، لیمبرگ اور کارلووسکی نےقدر کی نگاہ سے دیکھا ہے۔مصنف صدیق طاہر کی روہی چولستان کی قدامت پر "وادی ہاکڑہ اور اس کے آثارِ قدیمہ” کے نام سے ایک بہترین کتاب الگ پہچان رکھتی ہے۔

    سرائیکی خطے کی قدیم تہذیب و تمدن میں کھلے گھر،نکاسی آب کا انتظام، لباس و زیورات کا شوق، واش رومز اور دیگر دستکاریوں کا ہنر ان کی روزمرہ زندگی گزارنے کا مضبوط ثقافتی اور تاریخی شاندار قصہ ہے۔مجسمہ سازی، کوزہ گری،کانسی کے بت چولستانی تمدنی ثقافتی اقدار کے عروج کی گواہی دیتے ہیں۔

    سابق خوشحال ریاست بہاولپور کے نواب سر صادق محمد خان عباسی پنجم رحمۃ اللہ علیہ کی اولاد میں پرنس میاں عثمان داؤد خان عباسی (سابق ڈپٹی اسپیکر صوبائی اسمبلی پنجاب) کا کہنا ہے کہ انہوں نے خود 1974ء میں چھ ہزار سال قدیم روہی چولستان، گنویری والا سمیت چولستانی تہذیب و تمدن کے آثار کی کھدائی کے لیے پراجیکٹ منظور کرایا۔ لیکن بعد میں وزیراعظم پاکستان ذوالفقار علی بھٹو کے عہد میں چولستانی قدیم تاریخی تہذیب و تمدن کی کھدائی کے منصوبے بند کر دیے گئے۔

    ان کا مزید کہنا تھا کہ چولستان سے کچھ قیمتی قدیم نوادرات،جن میں مٹی کے برتن،ہار سنگھار کے نقش،مہریں،سکے وغیرہ شامل ہیں،میرے ایک دوست فرنچ ماہرِ آثارِ قدیمہ نے چولستانی پرانے تہذیبی مقامات سےحاصل کیے۔پھر چند ماہ بعد رپورٹ بھجوائی، جس کے مطابق ان اشیاء کی قدامت 6000 چھ ہزار سال قدیم بتائی گئی۔

    میں نے خود (راقم الحروف)ان سے اپنے تھیسز بعنوان مقالہ پی ایچ ڈی شعبہ سرائیکی اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور (پاکستان)”سرائیکی لوک قصے اتے چولستانی قصے دے اثرات ” عید الفطر کے موقع پر سال 2021ء میں ملاقات کے دوران معلومات حاصل کیں۔مقامی روہیلے چولستانی کہتے ہیں کہ شدید بارش کے موسم میں قلعوں اور قدیم کھنڈرات میں سے لوگوں کو قیمتی اشیاء ملتی ہیں۔ریسرچ رپورٹ کے مطابق ایک سینگ والے جانور کی مورتیاں بھی ملی ہیں۔

    گنویری والا شہر 80 ہیکٹر پر پھیلا ہوا ہے۔روہیلے اس اجڑے ٹھیڑھ کو کالا پہاڑ بھی کہتے ہیں۔جو ایک وقت میں دریائے سرسوتی ندی کے کنارے آباد تھا۔ یہ شہر ہڑپہ سے بڑا ہے۔مگر موہنجو داڑو سے چھوٹا ہے۔ دونوں قدیم شہر کے درمیان کا شہر گنویری والا چولستان لگ بھگ ہڑپہ سے 260 کلومیٹر جب کہ موہنجو داڑو سے 340 کلومیٹر دور ہے۔

    جو قومیں اپنے قدیم تاریخی تہذیبی ورثے کی حفاظت کرتی ہیں۔وہی دنیا میں ترقی یافتہ قومیں تصور کی جاتیں ہیں۔ چولستان روہی سرائیکی ڈویژن بہاولپور میں تقریباً 500 قدیم تاریخی آرکیالوجی سائٹس ہیں۔ سرائیکی ریاست بہاولپور جس کو محلوں کا خوبصورت شاندار جدید تاریخی شہر بھی کہا جاتا ہے۔ اس کے ریگستان چولستان میں 19 تاریخی بوسیدہ قلعے اپنے وارثوں کو اپنی تزئین و آرائش اور بقاء کے لیے مٹی کے بوسیدہ در و دیواروں سے فریاد کر رہے ہیں۔
    جاری ہے

  • گنویری والا: ہڑپہ و موہنجودڑو سے بھی قدیم سرائیکی تہذیب کا مرکز (پہلی قسط)

    گنویری والا: ہڑپہ و موہنجودڑو سے بھی قدیم سرائیکی تہذیب کا مرکز (پہلی قسط)

    گنویری والا: ہڑپہ و موہنجودڑو سے بھی قدیم سرائیکی تہذیب کا مرکز
    تحقیق و تحریر:ڈاکٹر محمد الطاف ڈاھر جلالوی
    altafkhandahir@gmail.com
    خلاصہ :یہ آرٹیکل سرائیکی خطے کی قدیم تہذیب و تمدن، خاص طور پر گنویری والا شہر کی تاریخی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے۔ گنویری والا، جو ہڑپہ اور موہنجودڑو سے قدیم ہے، وادی ہاکڑہ کے کنارے واقع ایک عظیم تاریخی مرکز رہا ہے۔ آرٹیکل میں علم آثار قدیمہ کی اہمیت بیان کی گئی ہے، جو قدیم تہذیبوں اور تمدن کے مطالعے کا ذریعہ ہے اور یہ آرٹیکل تین اقساط پر مشتمل ہے .

    پہلی قسط کا خلاصہ
    سرائیکی وسیب کی قدیم تہذیب و تمدن، خاص طور پر گنویری والا شہر، تاریخی، ثقافتی، اور آثارِ قدیمہ کے حوالے سے غیرمعمولی اہمیت رکھتا ہے۔ گنویری والا، جو ہڑپہ اور موہنجودڑو سے بھی قدیم ہے، سرائیکی خطے کے تاریخی ورثے کی شناخت کا مرکز ہے۔
    آرٹیکل میں علم آثار قدیمہ کی اہمیت، سرائیکی وسیب کے تاریخی پس منظر، گمشدہ شہروں کی دریافت، اور ان کی ثقافتی و تمدنی اقدار کو اجاگر کیا گیا ہے۔ وادی ہاکڑہ اور گنویری والا کی کھدائی سے حاصل ہونے والی معلومات نہ صرف ماضی کی تہذیب کی عکاسی کرتی ہیں بلکہ اس خطے کی موجودہ شناخت اور ترقی کے لیے تحقیق اور تحفظ کی ضرورت پر بھی زور دیتی ہیں۔
    یہ قسط علم، تحقیق، اور ورثے کی حفاظت کی اہمیت پر روشنی ڈالتی ہے، جبکہ سرائیکی وسیب کے امن، محبت، اور ثقافتی اقدار کو اجاگر کرتی ہے۔

    پہلی قسط

    علم آثارقدیمہ کی ریسرچ تھیوری سے سرائیکی قدیم تہذیب وتمدن کا تاریخی پس منظر اور اہمیت
    تحقیق کا مطلب عشق و محبت کی وہ قیمت ہے جو قدیم بوسیدہ کتابوں کے اوراق پر چھپی مٹی کی خوشبو، نیند کی قربانیوں اور صحرائے چولستان کی نہ ختم ہونے والی تپتی ریت پر پوشیدہ قیمتی خزانوں کی تلاش میں ادا کی جاتی ہے۔ غور و فکر اور فلاح انسانیت کا فلسفہ تمام مذاہب کا مشترکہ پیغام ہے۔اللہ تعالیٰ نے اپنی حکمت کے بے شمار راز آسمان و زمین میں پوشیدہ رکھے ہیں اور علم ان رازوں کو سمجھنے کا اعلی ترین ذریعہ ہے۔علم کے تین حروف میں "ع” عشق، "ل” لطافت اور "م” محبت کی علامت ہیں۔

    قرآن مجید رب العالمین کا زندہ معجزہ ہے جو علم وعرفان اور حکمت کا سرچشمہ ہے۔اللہ تعالیٰ کے پاک فرمان کا مفہوم یہ ہے کہ علم کی طلب رکھنے والے اور اس سے منہ موڑنے والے برابر نہیں ہو سکتے۔علم کے متلاشی زندہ دل ہیں جبکہ علم سے غافل افراد گویا مردہ ہیں۔نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے: "علم مومن کی گمشدہ میراث ہے، جہاں سے ملے اسے حاصل کرو۔” یہ فرمان اپنی بےمثال جامعیت اور حکمت کے سبب رحمت العالمین کی عظمت کا واضح ثبوت ہے۔

    "آثار قدیمہ” یا "آرکیالوجی” وہ علم ہے جو بطنِ زمین میں دفن قدیم تہذیبوں، گمشدہ شہروں اور ان کے آثار کو منظر عام پر لاتا ہے۔ آثار قدیمہ کے مطالعے سے ہمیں ماضی کی تہذیب، تمدن،تاریخ،ادب،فنون، رہن سہن،وصیت نصحیت، پالیسی، عملی حکمت و دانش،زبان، روایات اور رسم و رواج کا علم ہوتا ہے۔ ان دریافتوں میں سکّے، کھنڈرات، مٹی کے برتن، پتھروں کی تختیاں، مخطوطات، ہڈیاں، مجسمے، زیورات، اوزار، اور دیگر قیمتی نوادرات شامل ہیں۔ اسی لیے آرکیالوجی کو تمام علوم کی ماں کہا جاتا ہے۔

    سرائیکی وسیب میں روہی چولستان کی وادی ہاکڑہ جو ہزاروں سال پرانی تہذیب اور تمدن کا مرکز رہا ہے، ایک اہم آثار قدیمہ کی جگہ ہے۔ گمشدہ شہر "گنویری والا” اسی وادی کا ابتدائی حصہ ہے، جو قدیم دریائے سرسوتی کے میٹھے پانی سے سیراب ہوتا تھا۔ معروف محقق اور دانشور سید نور الحسن ضامن بخاری احمدپوری نے اپنی کتاب معارف سرائیکی میں اس جگہ کو قرآن مجید کی سورۃ الفرقان میں مذکور "اصحاب الرس” کے مقام سے منسلک کیا ہے۔

    قرآن مجید میں ذکر کی گئی مختلف اقوام کے عروج و زوال کے قصے آج بھی ہمیں حقیقت کی طرف لے جاتے ہیں۔ گنویری والا، جو اب خاموشی سے زمین کے نیچے دفن ہے، قلعہ ڈیراور سے تقریباً 55 کلومیٹر جنوب مغرب کی جانب واقع ہے۔یہ مقام اپنی تاریخی تہذیبی،تمدنی اور ثقافتی اقدار کے خزانے کے ساتھ آج بھی تحقیق کا منتظر ہے اور موجودہ چولستانی جیپ ریلی کا مرکز ہونے کی وجہ سے دنیا کی توجہ کا محور بنتا جا رہا ہے۔

    گنویری والا شہر کے حوالے سے یہ معلومات قابل ذکر ہیں کہ اس کا پہلی بار ذکر آرکیالوجسٹ سر آئرل سٹین نے 1941ء میں کیا۔انہوں نے موہنجوداڑو، ہڑپہ،رحمان ڈھیری، پتن منارہ، قلعہ ڈیراور، بی بی جند وڈی کا مقبرہ، قلعہ بل اوٹ، سوئی وہاڑ، جلیل پور، مہرگڑھ، اوچ، ملتان اور پاکستان بھر کے آثار قدیمہ کی ابتدائی کھدائی کے پراجیکٹس میں حوالہ دیا۔

    سرائیکی خطے کے قدیم چولستانی حکمران راجپوت قبائل کے بارے میں ایک کہاوت عام ہے جس میں آٹھ قوموں کا ذکر کیا گیا ہے۔ یہ قومیں آج بھی دریائے سندھ کے دونوں کناروں اور روہی میں آباد ہیں۔تاریخی کتب میں درج ہے کہ سکندر مقدونی کو ملتان میں "خونی برج” کے مقام پر سرائیکی ملہی قوم کے ایک بہادر سپہ سالار نے زہریلے خنجر یا تیر سے شدید زخمی کیا، جس کے نتیجے میں وہ ہلاک ہوا۔

    سرائیکی وسیب آج بھی صوفی ازم، امن، اور زراعت کے لحاظ سے مالا مال ہے۔اس کی معاشی خوشحالی حملہ آوروں کے لیے قبضہ گیری اور قتل گاہ ثابت ہوئی۔ ملتان شہر کی تاریخی تہذیب کے حوالے سے سرائیکی کہاوت مشہور ہے: "جئیں نہ ڈٹھا ملتان نہ او ہندو نہ او مسلمان۔” اردو کی ایک مشہور ضرب المثل بھی ملتان کی اہمیت بیان کرتی ہے: "آگرہ اگر، دلی مگر، ملتان سب کا پدر۔”

    روہی چولستان، دمان، تھل اور راوا جیسے علاقے سرائیکی وسیب کی چھ سے سات ہزار سال پرانی تہذیب کی گواہی دیتے ہیں۔امن، محبت،اتحاد،عدم تشدد،تصوف،خلوص،فطرت سے پیار،احترام آدمیت،مٹھاس،برداشت،صبروتحمل،فنونِ لطیفہ سے عشق،دستکاری اور ہنر مندی اس خطے کے اہم موضوعات اور نمایاں خصوصیات ہیں۔

    سرائیکی قدیم چولستانی حکمرانوں کے حوالے سے ایک مشہور کہاوت کا نمونہ ملاحظہ کریں"جہاں اتحاد، بہادری اور خلوص ہو، وہاں عظیم قومیں جنم لیتی ہیں۔”

    سنگلی جنہاں دی ڈاڈی سوڈھی جنہاں دی ماء
    ملہی جنڑے پنج پتر ڈاھر،بھٹہ،لنگاہ،نائچ، شجراء

    آج کا روہی چولستان سرائیکی وسیب ایک مرتبہ پھر دنیا کو امن و رواداری،معاشی خوشحالی،تعمیر نو اور ترقی کی ضمانت دینے کا خوبصورت گیت گا کر سنا رہا ہے۔روہی چولستان گنویری والا شہر کی بنیادی تہذیب وتمدن سرائیکی وسیب کی اپنی ہے۔یہ تہذیب باہر سے آکر آباد نہیں ہوئی ہے۔
    جاری ہے۔

  • قدیم چولستان : سرائیکی تہذیب  کے منفرد رنگ،چوتھی قسط

    قدیم چولستان : سرائیکی تہذیب کے منفرد رنگ،چوتھی قسط

    قدیم چولستان : سرائیکی تہذیب کے منفرد رنگ
    تحقیق و تحریر:ڈاکٹر محمد الطاف ڈاھر جلالوی
    altafkhandahir@gmail.com
    اس مضمون میں قدیم چولستان کی وادی ہاکڑہ اور سرائیکی تہذیب کی منفرد جھلکیوں کا احاطہ کیا گیا ہے۔ چار اقساط پر مشتمل اس سلسلے میں سرائیکی ثقافت کی گہرائیوں،رسوم و رواج اور تاریخی ورثے پر روشنی ڈالی گئی ۔
    اس سلسلہ کی چوتھی اور آخری قسط

    چولستان کے چیلنجز،ماحولیاتی مسائل اور ثقافتی بقا
    سرسبز گرین پاکستان کا حسین خواب کو حقیقت میں بدلنے کے لیے روہی چولستان کی انسانی،حیوانی اور نباتاتی خوشحالی اور تعمیر نو سے سرائیکی مقامی آبادی معاشی ترقی حاصل کرے گی۔چولستانی دستکاریوں میں اونٹ کی کھال سے تیار کردہ اشیاء،کھجور کے پتوں کی بُنائی سے خوبصورت قابل استعمال گھریلو چیزیں اور ریت سے بنے گلدان شامل ہیں۔مقامی فنون میں چراغوں پر مصوری اور شطرنج کے بورڈز خاص اہمیت رکھتے ہیں۔پانی کی تقسیم اور اونٹنیوں کی گود بھرائی جیسے منفرد تہوار اس علاقے کے عوامی اتحاد اور ثقافت کی عکاسی کرتے ہیں۔

    سرائیکی سابق خوشحال ریاست بہاولپور کا خوبصورت روہی چولستان کا رقبہ تین اضلاع بہاول نگر،بہاولپور اور رحیم یار خان موجود بہاولپور ڈویژن پر مشتمل ہے۔روہی چولستان کا کل رقبہ تقریبا ننانوے لاکھ 9900000 میں قابل استعمال رقبہ 25 فیصد ہے۔باقی 75 فیصد رقبہ ناقابل کاشت ہے۔صحرائے چولستان کو دو بڑے حصوں میں تقسیم کیا جاتا ہے۔چھوٹی روہی اور بڑی روہی کے نام سے جانا جاتاہے۔

    سرسبز گرین پاکستان اور خوشحال چولستان کے لیے مقامی سرائیکی روہیلوں کی مستقل دیرپا رہائش اور قدرتی وسائل و اثاثہ جات کی حفاظت کے لیے مستقل بنیادوں پر حکمت عملی بنانا ہوگی۔چند گزارشات سے روہی چولستان دھرتی کو سرسبز قابل استعمال بنایا جا سکتا ہے۔

    1۔بڑی روہی سے چھوٹی روہی کے درمیان سڑکوں کا جال بچھانا ہوگا۔مقامی سطح پر ثقافتی ورثے کے تحفظ کیلئے اقدامات اٹھانا ہوں گے ۔
    2۔مقامی سرائیکی روہیلوں کو مالکانہ حقوق دینا ہوگے۔
    3۔فوڈز انڈسٹری قائم کرنا ہوگی۔
    ویٹرنری شفاخانہ ویکسین کی بروقت فراہمی یقینی بنانا ہوگی۔
    4۔چکنی مٹی والے ڈاہروں پر نئے پختہ ٹوبھے تعمیر کرنا ہوں گے۔
    5۔چولستان کا زیر زمین کڑوا سمندری پانی میں ماہی پروری کو فروغ دینا ہوگا۔

    6۔قیمتی جڑی بوٹیوں اور معدنیات کے وسائل سے فوائد حاصل کرنے کے لیے چولستان ترقیاتی ادارہ، اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور چولستان ریسرچ ادارہ، بارانی ریسرچ سنٹر،ایگری ریسرچ سنٹر سب کی ایک مشترکہ ریسرچ ورک کونسل قائم کرنا ہوگی۔
    7۔سبز چارہ کے لیے اور حیوانات کی بقاء کے لیے جدید ٹیکنالوجی ادارے قائم کرنا ہوں گے۔
    8۔موسم حریف میں جوار، باجرہ،گوار،تل،سوہانجناہ،ماش دال،پیاز،مرچ،بیر،پیلھوں،پنڈ کھجور اسپغول کو جبکہ موسم ربیع میں سرسوں،رایا،توڑی کی فصلوں کو فروغ دیا جائے تاکہ زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ ہو۔

    9۔سیلاب کے دوران پانی کی رسائی کو چولستان تک پہنچاکر پانی کے میٹھے ذرائع میں بے پناہ اضافہ کیا جاسکتا ہے۔
    10۔خشک سالی کے دوران ٹینکرز کے ذریعے پانی کی بروقت فراہمی سے روہیلوں اور ان کے جانوروں کی زندگی کو بچایا جا سکتا ہے۔
    11۔سخت دھوپ سے سولر انرجی چولستان کے وسیع میدانوں سے حاصل کی جاسکتی ہے۔
    12۔چولستانی روہی کی ریت سے بہترین سلیکا حاصل کیا جاسکتا ہے۔

    13۔چھ سے سات ہزار سال قدیم تہذیب وتمدن وادی ھاکڑہ سرسوتی کے آثار قدیمہ سے قیمتی خزانوں سے مالامال نوادرات کو حاصل کرکے اقوام متحدہ اداروں کی توجہ اور معاشی امداد حاصل کی جاسکتی ہے۔
    14۔قلعہ ڈیراور،گنویری والا،پتن منارہ،دیگر پرانے گمشدہ محلوں اور قلعوں کی تزئین و آرائش سے سیاحت کو فروغ دے کر زرمبادلہ میں اضافہ کیا جاسکتا ہے۔

    خواجہ فرید سئیں کی خوبصورت روہی کی خوشحالی کے لئے ٹوبھوں کی تعمیر نو کی شدید خواہش دراصل سرائیکی وسیب میں معاشی ترقی کا خواب حقیقت کا ادراک نئے صوبے کا قیام ہے۔

    پہلی قسط پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں
    قدیم چولستان، سرائیکی تہذیب کے منفرد رنگ
    دوسری قسط پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں
    قدیم چولستان، سرائیکی تہذیب کے منفرد رنگ
    تیسری قسط قسط پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں
    قدیم چولستان، سرائیکی تہذیب کے منفرد رنگ
    سرائیکی علاقے کی معاشی خوشحالی پاکستان کی بقائے معیشت ہے۔دیوان فرید سرائیکی دراصل سرائیکی خطے راوا،تھل دمان پہاڑ اور روحانی روہی چولستان سے بھریل لسانی و سماجی ورثے کا خوبصورت خزانہ ہے۔سرائیکی قوم کے صحیفے کی حیثیت رکھتا ہے۔روہی سرائیکی قوم کے لیے پریم نگر ہے۔کلام فرید میں حسین رہتل ثقافتی رنگوں کے منفرد نمونے ملاحظہ فرمائیں۔

    ٹوبھا کھٹا ڈے سوہنی جا تاڑ تے
    اوجھا نہ ہووے ساری ماڑ تے

    سوہنے یار باجھوں میڈی نئیں سردی
    تانگھ آوے ودھدی، سک آوے چڑھدی

    پورب للہاوے تے پتالوں پانی آوے

    کیسر بھنڑی چولی چنری
    ول ول مینہہ پساوے
    پورب ماڑ ڈکھن دے بادل
    کوئی آوے کوئی جاوے

    روہی رنگ رنگیلی
    چک کھپ ہار حمیلاں پاوے
    بوٹے بوٹے گھنڈ سہاگوں
    گیت پرم دے گاوے

    پردیسی یارا وا پورب دی گھلے
    ساون مینہ برسات دی واری
    پھوگ پھلی کھپ پھلے
    گاجاں گجکن بجلیاں لسکن
    ذوقوں دلڑی چلے
    چتر سہاگ دا جھلے
    جئے تیئں پانی پلہر نہ کھٹسی
    کون بھلا سندھ جلے

    درد فرید ہمیشہ ہووے
    سارے پاپ دوئی دے دھووے

    تھل چترانگ اندر میں سسی
    بیلیں بیٹیں ہیر

    ساون مینگھ ملہاراں
    سہجوں تھلڑیں مال نہ ماوے
    پیسوں پانی دھاروں دھاری
    ڈیسوں جھوک تراوے

    بدلے دردوں روون
    بجلی اکھ مارے مسکاوے

    کن من کنیاں رم رجھم بادل
    بارش برکے برکے وو!
    کر یار اساں ول آون دی
    اج سہج کنوں اکھ پھرکے وو!

    پریم نگر ہے دیس تمہارا
    پھرتے کہاں اداسی رے

    چولستان روہی کی شاندار رنگ رنگیلی تہذیبی منفرد رسمیں اور اشیاء نہ صرف ان علاقوں کی ثقافتی پہچان ہیں۔بلکہ قدیم سرائیکی ڈیراوری باسیوں کی تخلیقی اختراعات،صلاحیتوں،خوبیوں،صبر و استقامت،امن ومحبت،الگ شناخت کی اعلی مثالیں بھی ہیں۔ان قدیم رسوم و رواج،ریت و روایات اور دستکاریوں کو محفوظ بنانے اور فروغ دینے سے پاکستان کے ثقافتی ورثے کو مضبوطی ملے گی اور فنون لطیفہ کے ہیرٹیج سٹی میں بھی بلند مقام حاصل ہوگا.

    اقوام متحدہ کے آرٹ اینڈ کلچر،آرکیالوجی اداروں کو سرائیکی وسیب کی چھ ہزار سال قدیم تہذیب وتمدن وادی ھاکڑہ سرسوتی کے اہم ثقافتی ورثے کے پاسبان شہر گنویری والا جو وادی سندھ تہذیب وتمدن کے ہڑپہ و موہنجوداڑو کے درمیان کا شہر ہے۔یہاں میوزیم قائم کرنے سے روہی کے قلعہ ڈیراور سمیت قلعوں سے جڑی ثقافتی ورثے کی حفاظت ممکن ہوگی۔نئی نسل اپنے قومی ورثے سے محروم ہونے سے بچ جائے گی۔

    آئے مست ڈیہاڑے ساون دے
    وہ ساون دے من بھاون دے
    بدلے پورب ماڑ ڈکھن دے
    کجلے بھورے سو سو ونڑ دے
    چارے طرفوں زور پونڑ دے
    سارے جوڑ وساونڑ دے
    (خواجہ فرید)

  • قدیم چولستان : سرائیکی تہذیب  کے منفرد رنگ،تیسری قسط

    قدیم چولستان : سرائیکی تہذیب کے منفرد رنگ،تیسری قسط

    قدیم چولستان : سرائیکی تہذیب کے منفرد رنگ
    تحقیق و تحریر:ڈاکٹر محمد الطاف ڈاھر جلالوی
    altafkhandahir@gmail.com
    قارئین کرام !اس مضمون میں قدیم چولستان کی وادی ہاکڑہ اور سرائیکی تہذیب کی منفرد جھلکیوں کا احاطہ کیا گیا ہے۔ یہ چار اقساط پر مشتمل سلسلہ سرائیکی ثقافت کی گہرائیوں، رسوم و رواج اور تاریخی ورثے پر روشنی ڈالے گا۔اس کی تیسری قسط ملاحظہ فرمائیں

    سرائیکی رسوم و رواج،کلام فرید میں روہی کی منفرد رنگینی،تہوار اور روایات
    قسط کا خلاصہ:
    چولستان کی شادمانی،خوشی و غمی تقریبات ثقافتی رنگوں سے مزین رسم و رواج سے بھرپور ہیں۔جن میں جھمر رقص،اجرک اور چنئی کے رنگ،رات کی چاندنی کے لطیف جذبوں کی محفل موسیقی،سرائیکی مہان کلاسک اول و آخر قادر الکلام شاعر خواجہ فرید کی کافیوں میں راگوں کی پر ترنم سوز گائیکی کے میلے،کھیلوں سے جنون کی حد تک لگاو،ثقافتی قدیمی تہذیبی تہوار مقامی ثقافت کی دلکش مضبوطی کو ظاہر کرتی ہیں۔دلہن کی رخصتی،دولہا کی سہرا بندی اور صدقہ و خیرات کی روایات آج بھی برقرار ہیں۔گویاچولستانی روہیلا فطرت سے جڑی خوشی میں ایسے رقص جھمر کرتا ہے۔جیسے بارش رم جھم مینہ برساتی ہے۔ریت ناچتی ہے اور کترن کی خوشبو بن کر کالے ہرن کی طرح آزاد دوڑتی روہی کو محبت و پیار کا گیت سناتی ہے۔

    تیسری قسط
    انسان نے خوشیوں کے ایک ایک کے لمحے کو رسم و رواج کا نام دے کر زندگی میں دکھوں سے لڑنے کی حکمت عملی بنائی ہے۔بارات کے لیے اونٹوں کے کچاوے کی رسم بھی چولستان روہی تھل کا اظہار مسرت و شادمانی ہے۔شادی بیاہ کے موقع پر بارات کو خاص انداز میں اونٹوں کے ذریعے لے جایا جاتا ہے۔جدید فیشن و رواج کی سہولت ٹریکٹر ٹرالی پر جنج کا منظر اپنا رنگین ثقافتی جہاں رکھتا ہے۔اونٹوں کو روایتی زیورات،چمکدار کپڑوں اور کچاوے سے سجایا جاتا ہے۔

    پہلی قسط پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں
    دوسری قسط پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں
    یہ منظر نہایت دلکش اور ثقافتی اہمیت کا حامل ہوتا ہے۔ پورے علاقے میں خوشی اور مسرت کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ سرائیکی دیوان خواجہ غلام فرید روہی چولستان سرائیکی سماجیات کا خوبصورت خزانہ ہے۔جس میں فطرت سے عشق کا فلسفہ ہے۔روہی عاشق کے لیے وصال یار بہشت ہے۔روہی حسین جمیل خوبصورت نازک نازو جٹی جنت کی حور عین بشارت ہے۔رات کی روح صبح صادق سے شام تک صحرائے چولستان کی تپتی ریت پر محبت کے گیتوں سے روہی کے سبزہ سیراب مال مویشی کے سفید دودھ سے مکھن اور لسی اپنے نرم نازک ہاتھوں سے اپنے محبوب کی پیاس کی شدت کو مساوی کرتی ہے۔ان کے کلام آفاقیت میں حسن وجمال روہی واضح ہے۔

    اے روہی یار ملاوڑی وے
    شالا ہووے ہر دم ساوڑی وے
    ونج پیسوں لسڑی گاوڑی وے
    گھن اپنے سوہنے سئیں کنوں

    وچ روہی دے راہندیاں
    نازک نازو جٹیاں
    راتیں کرن شکار دلیں کوں
    ڈینہیاں ولورڑن مٹیاں

    ریت مٹی کی عبادت کی رسم چولستان کے صحرائی لوگوں کی زندگی میں سختیوں کے باوجود اس کی خوبصورتی اور قدرتی وسائل کا احترام کرنے کے مترادف ہے۔ریت کی عبادت ایک علامتی رسم ہے۔جس میں دعا اور شکرانے کے کلمات شامل ہوتے ہیں۔دھرتی ماں سے محبت و عقیدہ کا استعارہ ہے۔رات کا شکار یہ ایک پرانی روایت ہے جس میں مقامی لوگ مکمل تاریکی میں شکار کرتے ہیں۔اس فن میں مہارت حاصل کرنے کے لیے صبر،چالاکی اور ٹیم ورک کی ضرورت ہوتی ہے۔

    منفرد چولستانی وسائل سے اشیاء بنانا روایتی فنون لطیفہ سے عشق کا قصہ ہے۔اونٹ کی کھال پر نقش و نگار فن کا کمال حیرت انگیز مظہر ہے۔اونٹ کی کھال پر ہاتھ سے بنائے گئے نقش و نگار چولستان کی خاص دستکاری ہے۔ان کھالوں سے جوتے، تھیلےاور دیگر اشیاء تیار کی جاتی ہیں۔ریتیلا گلدان بھی جھوک فرید روہی کے خوبصورت حسن کی عکاسی ہے۔صحرا کی ریت کو مٹی کے ساتھ ملا کر منفرد گلدان بنائے جاتے ہیں۔یہ گلدان اپنے مخصوص ڈیزائن اور استحکام کے باعث بہت پسند کیے جاتے ہیں۔

    کھجور کے پتوں سے مخصوص طریقے سے بُن کر مضبوط رسی تیار کی جاتی ہے۔ جو زراعت اور روزمرہ زندگی میں استعمال ہوتی ہے۔ریت کے مصوری والے چراغ بھی کمال ہنر کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔یہ چراغ مٹی اور ریت کے مرکب سے بنائے جاتے ہیں۔ ان پر مختلف پھولدار مناظر اور نقش و نگار ہاتھ سے بنائے جاتے ہیں۔یہ چراغ نہ صرف روشنی بلکہ ثقافتی خوبصورتی کا ذریعہ بھی ہیں۔چولستانی خوشبو جس میں قدرتی جڑی بوٹی کترن کو دنیا بھر میں بہت پسند کیا جاتا ہے۔

    روہیلے چولستانی اپنی ثقافتی زندگی میں ریت، ریت کی مٹی سے جڑی ہر خوشی اس کے وادی جنت نظیر کشمیر ہے۔روہی کی روح پانی مینہ بارش ہے۔خواجہ فرید سئیں نے روہی کی دلکش سرزمین کو اپنے لازوال کلام آفاقیت سے خوبصورت تخلیق کیا ہے۔سردی ہو یا گرمی صحرائے ریگستان کے سادہ،خلوص و نفیس مٹھاس بھرے لوگوں کے لیے موسم برسات،ساون کا مہینہ دراصل موسم بہار سہاگ ہے۔عید کا سماں ہے۔خواجہ فرید کا سرائیکی روہی رنگ ملاحظہ فرمائیں۔

    ساون ڈینہہ سہاگ دے
    ہر دم مینگھ ملہار
    رل کر ساتھ گزاروں
    جوبھن دے دن چار

    ساون وقت سہاگ دے
    رم رجھم برسن بادل
    بٹھ پئے ہجر دے ڈینہڑے
    عمر گزاروں رل رل

    ساون مینگھ ملہاراں
    ترس پووی پنل آ موڑ مہاراں

    اغن پپہیے کرن بلارے
    رس کوئل کوک سنائی
    ملک ملہیر وسایم مولا
    سبھ گل پھل خنکی چائی
    رل مل سیاں ڈیون مبارک
    مد بھاگ سہاگ دی آئی
    مدتاں پچھے رانجھن ملیا
    رب اجڑی جھوک وسائی

    چولستان وادی ہاکڑہ تہذیب وتمدن چھ ہزار سال قدیم تاریخی ثقافتی ورثے کی محفوظ ہے۔چند میڈیا رپورٹس پر سات ہزار سال پرانی سرسوتی تہذیب وتمدن بھی کہا جارہا ہے۔اس پہلی مرتبہ 1975ء میں ڈائریکٹر آثارقدیمہ ریسرچر ڈاکٹر رفیق مغل نے کھدائی کے دوران انکشاف کیا۔چولستان کا قدیم ترین قومی ورثہ،آج کا فنون لطیفہ،روہیلوں کی ہنرمندی چولستان کی مال مویشی پال منڈی پاکستان کی معاشی خوشحالی میں اہم کردار ادا کررہی ہے۔

    روہی میں طرح طرح کی جڑی بوٹیوں اور اونٹ کے دودھ کے ذریعے تیار کی جانے والی خوشبو مقامی لوگوں کی روایت کا حصہ ہے۔یہ خوشبو نہ صرف منفرد ہے بلکہ اسے شفا بخش بھی سمجھا جاتا ہے۔چولستان کے روایتی کمبلوں پر صحرا کے مناظر، اونٹ اور مقامی زندگی کے عکس بُنائی کے ذریعے پیش کیے جاتے ہیں۔خواجہ فرید سئیں روہی میں اپنی رہائش گاہ کے لئے گوپہ جھوپڑی کے لیے کھکھ کانے، لائی،لانڑے،کھپ کا استعمال کررہے ہیں۔مقامی روایتی ثقافتی دستکاری کی افادیت بتا رہے ہیں۔

    جھوپڑ جوڑ بنیسوں کھپ دے
    تھل دے صاف پساڑ تے

    یہ دستکاری روایتی فنون کی عکاسی کرتی ہے۔ریت سے بنے گیم بورڈ روہی کھیلوں میں خاص اہمیت کے حامل ہیں۔صحرا کی ریت اور مٹی سے تیار کردہ شطرنج اور لڈو کے بورڈ منفرد فن کا شاہکار ہیں۔یہ نہ صرف کھیل کے لیے استعمال ہوتے ہیں بلکہ خوبصورت آرائشی اشیاء کے طور پر بھی پسند کیے جاتے ہیں۔اونٹنیوں کی گود بھرائی تہوار ایک منفرد اور دلکش ثقافتی رسم و روایت ہے جس میں اونٹنیوں کو شادی بیاہ کی طرز پر سجایا جاتا ہے۔اس میلے میں خاص طور پر اونٹنیوں کی زینت کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ جنہیں رنگ برنگے کپڑوں،جھالر دار گھنٹیوں اور خوبصورت زیورات سے آراستہ کیا جاتا ہے۔میلہ مقامی لوگوں کے لیے نہ صرف تفریح کا باعث ہوتا ہے بلکہ یہ اونٹوں کے مالکان کے لیے اپنی مہارت اور اونٹوں کی خوبصورتی کا مظاہرہ کرنے کا موقع بھی فراہم کرتا ہے۔

    یہ میلہ مختلف ثقافتی سرگرمیوں،موسیقی، روایتی کھانوں اور اونٹوں کی دلچسپ مقابلوں کے ساتھ منایا جاتا ہے۔جہاں دیہاتی اور شہری افراد بڑی تعداد میں شرکت کرتے ہیں۔اس قسم کے میلے دیہی ثقافت کو اجاگر کرنے کے ساتھ ساتھ سیاحت کو فروغ دینے کا ذریعہ بھی بنتے ہیں۔اونٹ کے دودھ کا پاؤڈر روایتی طریقے سے اونٹ کے دودھ کو خشک کرکے پاؤڈر بنایا جاتا ہے جو مقامی لوگ غذائی اور طبی مقاصد کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ یہ پاؤڈر معدے کی بیماریوں کے لیے مفید سمجھا جاتا ہے۔پانی سے سبزہ لہلہاتی چہل پہل زندگی خوبصورت وادی ہے۔اگر پانی نہیں ٹوبھے خشک اور قحط سالی کا بیاباں منظر ہوتاہے۔خواجہ فرید سئیں کے لیے روہی چولستان کی زندگی ایک طرف خوشی کا اسباب ہے تو دوسری طرف وچھوڑے مونجھ ملال غموں کا خوبصورت جہاں ہے۔تخیلاتی قوت کا رنگ نہایت عمدہ ہے۔

    میڈا خوشیاں دا اسباب وی توں
    میڈا سولاں دا سامان وی توں

    جاری ہے

  • قدیم چولستان : سرائیکی تہذیب کے منفرد رنگ،دوسری قسط

    قدیم چولستان : سرائیکی تہذیب کے منفرد رنگ،دوسری قسط

    قدیم چولستان : سرائیکی تہذیب کے منفرد رنگ
    تحقیق و تحریر:ڈاکٹر محمد الطاف ڈاھر جلالوی
    altafkhandahir@gmail.com
    قارئین کرام !اس مضمون میں قدیم چولستان کی وادی ہاکڑہ اور سرائیکی تہذیب کی منفرد جھلکیوں کا احاطہ کیا گیا ہے۔ یہ چار اقساط پر مشتمل سلسلہ سرائیکی ثقافت کی گہرائیوں، رسوم و رواج اور تاریخی ورثے پر روشنی ڈالے گا۔اس کی دوسری قسط ملاحظہ فرمائیں

    سرائیکی ثقافت کی بنیادیں،زبان،موسیقی اور شاعری

    روہی چولستان کے روایتی رسوم میں شادی خوشی کی ریتیں،روہی چولستان امن فرید میلے،جیپ ریلی اور اونٹوں کی ریس جیسی تقریبات میں جھمر رقص،لوک موسیقی اور چولستانی دستکاریوں کی نمائش ثقافت کی روح ہیں۔خواتین کی مہندی کی رسم اور روحانی عقیدت کے مراکز جیسے چنن پیر درگاہ نے مقامی رسوم و رواج کو صدیوں تک زندہ رکھا۔ روہی کے روایتی فنون لطیفہ میں لوک گائیکی، دستی خوبصورت رنگین پنکھوں اور مٹی کے برتنوں،ہینڈی کرافٹ اشیاء کی تیاری نمایاں ہیں۔

    لفظ چولستان کی ایٹمالوجی
    (اشتقاقیات) لسانیات پر غور کریں تو لفظ خالص سرائیکی زبان کی شناخت،ادب ودانش،شعور،فنون لطیفہ،اخلاقی اقدار،تہذیب وتمدن
    ،روایات،رہن سہن رسوم و رواج اور تاریخ کی مکمل ڈکشنری ہے۔سرائیکی میں "چول” کا مطلب ہل چل،چلنا پھرنا،ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہونا،ستان سے مراد "جگہ” ہے۔گویا چولستان ریت کے ٹیلوں کی ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقلی ہے۔ریت کے پہاڑ کو سرائیکی وسیب میں روہی کہا جاتاہے۔روہی چولستان وسیع عریض الفاظ کی مضبوط ترین لغت ہے۔

    پہلی قسط پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

    قدیم چولستان، سرائیکی تہذیب کے منفرد رنگ
    جو سرائیکی سماجیات کا خوبصورت اظہار،امن و رواداری کا قیمتی خزانہ ہے۔پندھ پندھیرو افراد کے لیے روہی چولستان کا سفر سحر انگیز سرمایہ اور جادونگری ہے۔سرائیکی مہان روہیلا کلاسک شاعر حضرت سفیرؔلشاری سئیں روہی چولستان سرائیکی لوگوں اور اپنے صحرائی ماحول کو شاندار ثقافتی و تمدنی رنگوں میں حسین لفظوں سے زندگی کا خوبصورت روپ دیا ہے۔ان کے مجموعے کلام میں سرائیکی مزاحمتی مزاج، محبت اور دھرتی سے بے پناہ عقیدت کافیوں،نظموں،لوک گیتوں اور ڈوہڑوں کی شکل میں نظر آتی ہے۔ان کے شاندار کلام آفاقیت میں خوبصورت چولستان روہی کے منظر کا نمونہ ملاحظہ فرمائیں۔

    روہی وُٹھڑی مینگھ ملہاراں،سانول موڑ مہاراں
    چھمبھڑ،بندھ تے ݙہریں پاݨی،ٹوبھے تار متاراں

    بکھڑا،ݙودھک،مونیاں،چھپری،ڳنڈھیل،الیٹی
    لمب،اوئیݨ تے دھامݨ،سٹھ پئی نال وساہ ولھیٹی
    ہلڑا،بھرٹ،مرٹ،سٹ لاٹھی،کترݨ،لائین بہاراں

    لاݨے،پھوڳ تے لاݨیاں،کھپوں،کنڈیاں مکاں لایاں
    شاں شاں کرتے شوکن مورے،پینگھے جھوٹن لایاں
    گندلاں وانگوں سیٹوں نکتن،کُھمبیاں غیر شماراں

    وڳ ݙاچیاں دے ،دھݨ ڳائیں دے،بھیݙاں،ٻکریاں چھانگاں
    لیلے ، گابے کھیوے سمدن،ہرن مریندن چھانگاں
    بے فکرے تھی مستیاں دے وچ،ٹُُردن جوڑ قطاراں

    ٹٻیاں تے چڑھ ٻہندن چھیڑو،ونجھلی دے سُر لیندن
    سورٹ،جوگ،پہاڑی ڳاندن،جھوک ݙو مال ولیندن
    اگلاں مار ملاکاں جوجھن،بونگن گھنڈ تنواراں

    ݙیکھݨ لائق نظارا ہوندےمال اچ پوندی ݙوبھی
    کیڑاں نال سݙیندن چھیڑو،اڑی آ ۔۔ ندی ،ٹوبھی
    ناں دی کو تے نند شوکیندن ،کھیر دیاں وہندن دھاراں

    پاݨی وانگوں ݙدھ ورتاون،بچدے جاڳا لاون
    سہجوں سنگ سہیلیاں رل مل ول چا راند مچاون
    کئی پیاں کھیݙن پیر گساواں،کئی رل ڳاون واراں

    دھمی ویلے وقت سہیلے جاڳن سگھڑ سیاݨیاں
    سُتھرے بھانڈے ݙہی پلہارن بہندن گھت مندھاݨیاں
    حق ہو،حق ہو گھومے ݙیون پڑھ پڑھ استغفاراں

    سائیاں ٻاجھوں مال ݙوہیلا ،کئی نی ہتھ پھریندا
    کیندی ٻکری،کون سنبھالے ،ہر کوئی ہے درکیندا
    اپݨی آپ سنبھال سفیرا ،لہہ رل ڳئی دیاں ساراں

    رنگ برنگی رسمیں اور اشیاء چولستان روہی کی شاندار تہذیبی،ثقافتی قدیمی آرٹ اینڈ آرکیالوجی کے نقش و نگار کو اجاگر کرتی ہیں۔پاکستان کے دلکش کلاسک کلچرل ورثے کا اہم سرمایہ اور سرائیکی شناختی حوالہ ہیں۔الگ پہچان کی مشہور ریاست بہاولپور روہی چولستان کی سادہ مٹھاس بھری رسومات،رواج ریتیں اصل میں روایتی ثقافتی ورثےکی شناخت کا زیور ہیں۔اونٹنیوں کی گود بھرائی کا میلہ دراصل روہی کے باسیوں کی آپس میں اتحاد ویکجہتی اور محبت و یقین کا اظہار اور میل میلاپ ہوتا ہے۔یہ رسم چولستان کے مقامی لوگوں کی اونٹنیوں سے گہری وابستگی کو ظاہر کرتی ہے۔گائے،بھیڑ بکریوں اور اونٹ کے مال مویشی کو روہیلے اپنی روزی روٹی کے ذرائع آمدن اور مالی خوشحالی کی ضمانت سمجھتے ہیں۔شادی بیاہ کی طرز پر اونٹنیوں کو مختلف زیورات اور رنگ برنگے کپڑوں سے سجایا جاتا ہے۔اس موقع پر لوک گیت گائے جاتے ہیں اور خواتین خصوصی رقص جھمر پیش کرتی ہیں۔پانی سبزہ اور زندگی کی رونق و شادابی کی علامت جانا جاتا ہے۔پانی کی تقسیم کی رسم میں چولستان صحرائے ریگستان کی اہم ریت رواج اس وجہ سے ہے کہ پانی کی منصفانہ تقسیم سے ہی تمام روہی گلزار بن جاتی ہے۔دلوں میں محبت و پیار کے جذبات پیدا ہوتے ہیں۔صحرائی علاقوں میں پانی کی کمی ایک سنگین مسئلہ ہے۔ یہاں پانی کی تقسیم ایک مخصوص طریقۂ کار کے تحت کی جاتی ہے۔ جس میں ہر خاندان کے لیے مساوی حصہ مختص کیا جاتا ہے۔ اس رسم میں برادری کی یکجہتی اور باہمی احترام کو اجاگر کیا جاتا ہے۔

    چاندنی رات کا دلفریب منظر لوک سر سنگیت کی محفل روہیلوں کےلئے نئی امنگ اور خوشی کا سماں پیدا کرتی ہے۔مکمل چاند چودھویں کی رات کو مقامی لوگ کھلے صحرا میں جمع ہوتے ہیں۔اس موقع پر روایتی سازوں جیسے رباب،ہارمونیم اور ڈھول کے ساتھ لوک گیت گاتے ہیں۔ یہ راتیں مقامی ادب،موسیقی اور ثقافت کو زندہ رکھنے کا ایک اہم ذریعہ ہیں۔ریت کی مٹی کی خوشبو ماں کی ممتا کو سلام تحیسن پیش کرتی ہے۔کچی زمین پر نئے بچے کی مالش کی رسم رسم دراصل ریت سے بےپناہ محبت کا اظہار ہے۔یہ رسم نوزائیدہ بچوں کی صحت اور جسمانی مضبوطی کے لیے کی جاتی ہے۔مقامی خواتین گرم ریت یا زمین پر بچے کی مالش کرتی ہیں جو ان کے روایتی علاج کا حصہ بھی جانا جاتا ہے۔اونٹ سجانے کے مقابلے روہی علاقے کی سب سے خوبصورت اور منفرد قدیم تاریخی رسم ہے۔خوبصورت اونٹنی کا انتخاب الگ ریت رواج کی پہچان ہے۔چولستان صحرائے ریگستان کا ہوائی جہاز بھی اونٹ کو کہا جاتا ہے۔اونٹوں کو زیورات رنگین کپڑوں اور مہندی سے سجایا جاتا ہے۔جیتنے والے اونٹ کے مالک کو انعامات دیے جاتے ہیں۔

    شادی خانہ آبادی مبارک بیاہ کی ثقافتی رسموں،ریت و رواج کو صدیوں سے منایا جارہا ہے۔آج بھی شادی کی خوشیوں کے رنگ میں منفرد رسمیں نمایاں ہیں۔گنڈھییں پہلی رسم ہے جس میں دونوں خاندانوں میں دلہن کنوار ،دولہا گھوٹ کے والدین بزرگوار شادی کی تاریخ طے کرتے ہیں۔دولہے کی والدہ کی طرف سے دلہن کو لال چنئی ڈوپٹہ پہنایا جاتا ہے۔اس کے بعد دعاخیر پتاسے کی رسم ادا کی جاتی ہے اور خوشی کےگیت گائے جاتےہیں۔کانڈھا شادی کی اہم رسم ہوتی ہے جو دور حق ہمسائے رشتے داروں کو نائی کے ذریعے سنہیا پیغامات دیےجاتےہیں۔اج کل واٹس ایپ پر خوبصورت کارڈ بھیجے جاتے ہیں جس پر مہندی،جاگا، دولہے کی سہرا بندی کی رسم، بارات روانگی اور ولیمہ کی تواریخ درج ہوتیں ہیں۔اس کے بعد دول نغارے،جاگے،بین بانسری شرنا کی رسمیں شروع ہو جاتیں ہیں۔تقریبا ایک ہفتہ پورا بوا،چاچی،ماسی،مامی کی طرف سے رات کو جاگے سجائے جاتے ہیں۔دن کو شادی کے گھر کو روشنائی رنگین بتیوں سے سجایا جاتا ہے۔

    سارا دن میوزک موسیقی سہرے گیت گائے جاتےہیں۔رات کو محفل موسیقی کی رسم میں موہن بھگت جیسے گلوکاروں کی طرف سے فن گائیکی سے لوگوں کے دلوں کو خوب لطف اندوز کیا جاتاہے۔نٹوں کا تماشہ بھی ایک ثقافتی لحاظ اہم رسم سمجھی جاتی ہے۔ڈرامہ تھیٹر کا انعقاد امیر لوک اپنے دیروں پر کرتےہیں،مختلف روایتی پکوانوں و کھانوں کی دعوتیں شادی کی رسومات میں سب سے اہم سمجھی جاتی ہے۔ونوا،کھارے پر چڑھنے کی رسم قدیم زمانے سے رائج ہے۔اس کا مقصد دلہن والوں اور وس وسیب کو یقین دلانا ہوتا ہے کہ دولہا جسمانی طور پر کارآمد ہے۔ روزی روٹی کما کر اپنی دلہن کو خوشیاں دے سکتا ہے۔روحانی مرشد سید سے خصوصی دعائیں کی رسم بارات روانگی سے پہلے بھی اور واپسی خیر سلامتی سے کےلیے ہوتی ہے۔رسم نکاح اہم سنت رسول ہے۔

    مسلم روہیلے کمیونٹی نکاح پہلے یا پھر دلہن کی طرف جاکر مسجد میں ادا کی جاتی ہے۔مٹھائی یا چھووراے پتاسے تقسیم کیے جاتے ہیں۔کپڑے پھاڑنے کی رسم دولہا کے دوست ادا کرتے ہیں۔نہانے سے پہلے پرانے کپڑوں کو پھاڑ دیا جاتا ہے۔نئی صاف ستھرائی پوشاک دولہا لباس پہنایا جاتا ہے۔سہرا پہنانے کی رسم ادا کی جاتی ہے۔والدین سمیت قریبی رشتہ دار دوست پھلوں اور پیسوں والے ہار اور مالا پہناتے ہیں۔اسی طرح دلہن والے گھر بھی خوشیوں کی رسمیں روایتی ثقافتی انداز میں ادا کیں جاتیں ہیں۔مینڈھی کی رسم میں دلہن کو مہندی لگائی جاتی ہے، رخصتی سے تقریبا سات دن پہلے دولہن الگ تھلگ کمرے میں رہتی ہے۔اس دوران کنوار دلہن کو چیکو ابٹن کی رسم سے گزارا جاتا ہے۔گھڑی گھڑولا کی رسم دولہے کی بہنیں ادا کرتیں ہیں۔خوشیوں کے گیت سہرے گاتیں ہیں۔بارات روانگی سے پہلے دو نفل شکرانہ مسجد میں ادا کئے جاتے ہیں۔صدقہ خیرات رتول کی رسم ادا کی جاتی ہے۔ہندو روہیلے مندر کی زیارت کرت ہیں۔

    سرائیکی ثقافتی جھمر رقص کی رسم شادی بیاہ کی روح ہوتی ہے۔یہ عمل پوری شادی کی ہر رسم ورواج خاصہ ہوتا ہے۔گانا پہنانے کی رسم کے موقع پر دولہے گھوٹ کو دائیں ہاتھ کی کلائی پر خوبصورت رنگین ثقافتی گانا باندھا جاتا ہے۔گھوٹ والوں کی طرف سے وڑھی ڈاج جہیز کی رسم ادا کی جاتی ہے۔جس میں دلہن کو دی جانے والی سوئی سے لے کر بیڈ روم تک ہر چیز وسیبی عورتوں کو دکھائی جاتی ہے۔گھوٹ دولہا کے معمولات کو سنبھالنے اس کی ہر ممکن حکم کی تعمیل کے لیے سبالا سنبھالے کا انتخاب عموما ہوشیار مسات،ملیر،سوتر میں سے ہوتا ہے۔ ویہانہ جوتی چوری کی رسم بھی رخصتی کے موقع پر سالیاں ادا کرتیں ہیں۔دولہا منہ مانگی رقم دے کر روانہ ہوتا ہے۔پھل چنائی کی رسم میں پھولوں سے گھوٹ کنوار کا خوبصورت شاندار استقبال کیا جاتا ہے۔

    دودھ کھیر پلائی کی رسم میں دولہے کا باقی دودھ دولہن کو پلایا جاتا ہے۔تاکہ اللہ پاک کی رحمت سےجوڑی سلامت رہے اور محبت آخر تک قائم و دائم رہے۔ہاتھ کی مٹھی کھلائی کی رسم میں اکثر دولہن اپنے دولہے کی عزت رکھتی ہے۔دولہن کی گھنڈ کھلائی چہرہ شیشہ دکھائی کی رسم نئے گھر میں ساس (سس)،(سوہرا) سسر قیمتی تحائف سے ادا کرتے ہیں۔لاواں کی رسم میں دولہا دولہن دونوں کے سروں کو پیارے سے آپس میں ملائے جاتے ہیں۔دروازہ پکڑنے کی رسم میں دولہن خود سے نئے گھر آنے سے پہلے ادا کرتی ہے۔اس موقع پر سسسر اپنی نئی دولہن کو کوئی جانور یا کوئی قیمتی چیز پیش کرتا ہے۔

    ولیمہ کی رسم میں تمام برادری کو شاندار پکوان پیش کیے جاتےہیں۔گانا کھولنے کی رسم تیسرے دن ادا کی جاتی ہے۔ستوواڑہ کی رسم میں دولہن سات دن بعد کچھ دن پرانی یادوں کو تازہ کرنےکےلیے اپنے میکے چلی جاتی ہے۔پھر ہفتہ گزارنے کے بعد گھر واپس آکر اپنی ساسوں ماں سے گھریلو زندگی ہاتھ بٹانا شروع کر دیتی ہے۔اس شادی بیاہ کی روایتی رنگوں سے بھری رسمیں ختم ہوجاتیں ہیں۔پھر اللہ پاک کے حکم سے عورت کو بچے کی تخلیق کی خوشخبری ملتی ہے۔پھر گود بھرائی کی رسم ادا کی جاتی ہے۔اس طرح یہ سلسلہ جاری رہتا ہے۔
    جاری ہے

  • پنجاب میں سُلگتی نفرت،سازش یا حقیقت؟

    پنجاب میں سُلگتی نفرت،سازش یا حقیقت؟

    پنجاب میں سُلگتی نفرت،سازش یا حقیقت؟
    تحریر:ڈاکٹرغلام مصطفےٰ بڈانی
    پنجاب، پاکستان کے وجود کا اہم حصہ یعنی دل ہے جو اس وقت ایک غیر یقینی صورتحال سے دوچار ہے، جہاں قوم پرستی اور سازش کے بیج بوئے جا رہے ہیں۔ خواجہ غلام فرید کے مزار پر منعقد ہونے والی "روہی انٹرنیشنل پنجابی کانفرنس” کے تناظرمیں سامنے آنے والے نفرت انگیز بیانات نے ایک خطرناک صورت حال پیدا کر دی ہے۔ یہ تنازع صرف سرائیکی اور پنجابی عوام کے درمیان نفرت کو ہوا دینے کی کوشش نہیں بلکہ یہ پاکستان کی قومی یکجہتی کو کمزور کرنے کی ایک سوچی سمجھی چال بھی ہو سکتی ہے۔

    سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیوز نے اس تنازع کو مزید گمبھیر بنا دیا ہے۔ ان ویڈیوز میں کانفرنس کے منتظمین کی جانب سے سرائیکی عوام کو "پناہ گزین” کہہ کر انہیں پنجاب چھوڑنے کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔ یہ بیانات ایک منظم سازش کا پتہ دیتے ہیں، جن میں پنجابی اور سرائیکی عوام کے درمیان نفرت کی دیوار کھڑی کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ ان میں استعمال کی جانے والی زبان نہ صرف اشتعال انگیز ہے بلکہ ایک خطرناک رجحان کی نشاندہی کرتی ہے، جس کا مقصد عوام کو تقسیم کرکے قومی ہم آہنگی کو نقصان پہنچانا ہے۔

    یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر یہ تنازع کس کے مفاد میں ہے؟ کون اس صورتحال سے فائدہ اٹھا رہا ہے؟ اگر ماضی میں جھانک کر دیکھا جائے تو پاکستان دشمن عناصر نےمختلف علاقوں میں بدامنی اور تقسیم پیدا کرنے کی کوشش کی ہے، جیسے بلوچستان میں علیحدگی پسند تحریکوں کو ہوا دینا، خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کا فروغ اور سندھ میں قوم پرستی کو ابھارنے کی کوشش۔ ان تمام سازشوں کے ناکام ہونے کے بعد اب پنجاب کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

    یہ صورتحال اس وقت زیادہ سنگین ہو جاتی ہے جب ہم دیکھتے ہیں کہ سوشل میڈیا پر بغیر تصدیق کے نفرت انگیز بیانات اور مواد وائرل ہو رہے ہیں۔ یہ پلیٹ فارمز ایک اہم ذریعہ بن چکے ہیں، جن کے ذریعے لوگ جذباتی ہو کر غلط معلومات پھیلا رہے ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ عوام میں اشتعال بڑھ رہا ہے اور تقسیم کی خلیج گہری ہو رہی ہے۔

    پنجاب ایک ایسا صوبہ ہے جہاں مختلف قومیتیں، ثقافتیں اور زبانیں محبت اور ہم آہنگی کے ساتھ رہتی آئی ہیں۔ پنجابی، سرائیکی، بلوچی اور پختون عوام کے درمیان نہ صرف سماجی تعلقات ہیں بلکہ رشتہ داریاں بھی ہیں۔ ایسے میں اس تنازع کو ہوا دینا دراصل ان تمام تاریخی رشتوں اور روایات کو نقصان پہنچانے کے مترادف ہے جو صدیوں سے قائم ہیں۔

    اس مسئلے کے حل کے لیے فوری اقدامات کی ضرورت ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ اس تنازع کو سنجیدگی سے لے اور ان عناصر کے خلاف سخت کارروائی کرے جو نفرت پھیلانے میں ملوث ہیں۔ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف جنہوں نے پنجابی کانفرنس کرانے کی اجازت دی،جس کی آڑ میں پاکستان کی سالمیت کے خلاف سازش پروان چڑھ رہی ہے ، وزیراعظم پاکستان اور دیگر اعلیٰ حکام کو ایک مشترکہ حکمت عملی کے تحت کام کرنا ہوگا تاکہ ایسے واقعات کا اعادہ نہ ہو۔اور صدرپاکستان محمدآصف علی زرداری جب محترمہ بےنظیر بھٹوشہید ہوئی تھیں تو اس وقت بھی پاکستان میں نفرت کا بیج بونے والوں کو "پاکستان کھپے ” کا نعرہ لگا کر منہ توڑ جواب دیا تھا ،آج بھی اسی نعرے "پاکستان کھپے "کی اشد ضرورت ہے

    میڈیا پر بھی ایک بڑی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ذمہ داری کا مظاہرہ کرے اور صرف وہ مواد نشر کرے جو عوام کو جوڑنے اور قومی یکجہتی کو فروغ دینے میں معاون ہو۔ صحافیوں اور میڈیا ہاؤسز کو چاہیے کہ وہ ایسی خبروں کو نشر کرنے سے گریز کریں جو مزید اشتعال پیدا کریں۔

    عوام کو بھی اپنی ذمہ داری کو سمجھنا ہوگا۔ جذباتی ہونے کے بجائے حقائق پر مبنی معلومات کو اپنانا ہوگا۔ تعلیم کے ذریعے رواداری اور بھائی چارے کے پیغام کو فروغ دینا ہوگا۔ علماء، اساتذہ اور سماجی رہنما اور سیاستدان بھی عوام کو اتحاد و یکجہتی کی اہمیت سے آگاہ کرنے میں کردار ادا کریں۔

    سب سے اہم بات یہ ہے کہ حکومت نفرت انگیز بیانات دینے والوں کے خلاف سخت ترین قانونی کارروائی کرے۔ اس کے ساتھ ساتھ، سوشل میڈیا پر نفرت پھیلانے والے اکاؤنٹس کو بند کیا جائے اور اس قسم کے مواد پر مکمل پابندی عائد کی جائے۔

    یہ تنازع صرف پنجاب تک محدود نہیں ہے بلکہ یہ پاکستان کی سالمیت کے لیے ایک بڑا خطرہ ہے۔ ہمیں مل کر ان عناصر کو ناکام بنانا ہوگا جو ہماری قومی وحدت کو نقصان پہنچانا چاہتے ہیں۔ یاد رکھیں کہ پاکستان کے دشمن ہمیشہ مختلف ہتھکنڈوں کے ذریعے ملک میں بدامنی پھیلانے کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔ ان سازشوں کو ناکام بنانے کے لیے ہمیں قومی سطح پر اتحاد کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔

    اگر آج ہم نے اس چنگاری کو بجھانے میں تاخیر کی تو کل یہ ایک ایسی آگ میں تبدیل ہو سکتی ہے جس پر قابو پانا ناممکن ہو جائے گا۔ وقت کا تقاضا ہے کہ ہم سب مل کر پاکستان کی قومی یکجہتی اور سلامتی کو مضبوط کریں تاکہ یہ ملک ہمیشہ ترقی، خوشحالی اور امن کی راہ پر گامزن رہے۔

  • انسانیت کا عملی مظاہرہ: فیصل آباد کا خاموش مسیحا

    انسانیت کا عملی مظاہرہ: فیصل آباد کا خاموش مسیحا

    انسانیت کا عملی مظاہرہ: فیصل آباد کا خاموش مسیحا
    تحریر:شاہد نسیم۔چوہدری
    فیصل آباد کی گلیاں اور سڑکیں ہر روز لاکھوں افراد کی زندگیوں کا مشاہدہ کرتی ہیں۔ کہیں خوشیاں ہیں، تو کہیں مسائل کے پہاڑ۔ لیکن انہی ہجوموں میں کچھ ایسے افراد بھی ہیں جو خاموشی سے انسانیت کی خدمت میں مصروف ہیں، اور انہی میں سے ایک ہے میاں رحمان علی، ایک نوجوان جس نے اپنے چھوٹے سے اقدام سے انسانیت کا حقیقی مفہوم پیش کیا ہے۔

    رحمان علی فیصل آباد کا ایک عام سا لڑکا ہے، جو اپنی زندگی کو لوگوں کی مدد کے لیے وقف کر چکا ہے۔ روزمرہ زندگی میں وہ ایک موٹر سائیکل پر سفر کرتے ہوئے ان افراد کی مدد کرتا ہے جن کے موٹر سائیکل کا پٹرول ختم ہو جاتا ہے۔ وہ کسی اجنبی کو سڑک پر پریشان دیکھ کر رک جاتا ہے، ان کی مدد کے لیے پٹرول فراہم کرتا ہے، اور خاموشی سے آگے بڑھ جاتا ہے۔اس کے علاوہ، سردیوں کے سخت موسم میں وہ ان لوگوں کے لیے جیکٹ، جوتے اور جرابیں فراہم کرتا ہے جو ان سہولیات سے محروم ہیں۔ سب سے اہم بات یہ کہ وہ اپنی شناخت چھپائے رکھتا ہے۔ نہ کسی سے داد کی طلب، نہ کسی سے شاباشی کی خواہش۔ یہی خاموشی اور خلوص اس کے کام کو مزید خاص بناتا ہے۔

    انسانیت کی خدمت: ایک عظیم مشن ،انسانیت کا حقیقی مطلب یہی ہے کہ دوسروں کے مسائل کو اپنا مسئلہ سمجھا جائے اور بلا کسی غرض کے ان کی مدد کی جائے۔ رحمان علی کا یہ عمل ہمارے معاشرے کے انفرادی کرداروں کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے۔ جہاں لوگ اکثر مدد کرنے سے پہلے ذاتی فوائد پر غور کرتے ہیں، وہاں ایسے افراد کسی روشنی کے مینار کی طرح ہوتے ہیں جو تاریکی میں رہنمائی فراہم کرتے ہیں۔
    معاشرتی مسائل اور حل
    ہمارے معاشرے میں بے شمار افراد غربت، بے گھری، اور بنیادی سہولیات کی کمی کا شکار ہیں۔ ایسے افراد کی مدد کرنا حکومت اور اداروں کی ذمہ داری ضرور ہے، لیکن انفرادی سطح پر بھی ہم میں سے ہر شخص کچھ نہ کچھ کر سکتا ہے۔میاں رحمان علی جیسے افراد کا عمل ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ بڑے بڑے منصوبے بنانے کے بجائے چھوٹے مگر مؤثر اقدامات سے بھی دنیا کو بہتر بنایا جا سکتا ہے۔

    احساس اور قربانی کی اہمیت :رحمان علی کی کہانی ہمیں احساس دلاتی ہے کہ انسانیت کا حقیقی جوہر دوسروں کی تکلیف کو محسوس کرنا اور اسے کم کرنے کی کوشش کرنا ہے۔مدد کا جذبہ: بغیر کسی لالچ کے دوسروں کے لیے کچھ کرنا ایک نادر صفت ہے۔قربانی کا جذبہ: اپنی ذات کی پرواہ کیے بغیر دوسروں کی مدد کے لیے آگے بڑھنا معاشرے کی خوبصورتی کو نمایاں کرتا ہے۔خود اعتمادی: اپنے عمل کو کسی شہرت کے بغیر انجام دینا اس بات کی علامت ہے کہ انسان اپنی نیت میں سچا ہے۔ایسا معاشرہ کیسے بنایا جائے؟ہم سب کی یہ ذمہ داری ہے کہ ہم ایسے افراد کے کاموں سے سیکھیں اور ان کی پیروی کریں۔ اگر ہر شخص اپنے اردگرد کے لوگوں کے مسائل پر تھوڑا سا دھیان دے اور اپنی استطاعت کے مطابق مدد کرے، تو یہ دنیا ایک بہتر جگہ بن سکتی ہے۔

    رحمان علی جیسے لوگ ہمیں یہ سکھاتے ہیں کہ سماجی تبدیلی صرف بڑے منصوبوں سے نہیں بلکہ چھوٹے چھوٹے اعمال سے بھی ممکن ہے۔خلوص اور عاجزی کا درسرحمان علی کا عمل ہمیں عاجزی اور خلوص کا درس دیتا ہے۔ اپنی نیک نیتی کے ساتھ کسی کی مدد کرنا اور اس کا کریڈٹ نہ لینا ایک عظیم کام ہے۔ اس عمل سے ہمیں یہ سیکھنے کو ملتا ہے کہ خدمت خلق کے لیے نیت اور عمل کافی ہے، نہ کہ تشہیر اور ستائش۔فیصل آباد کے اس خاموش مسیحا کی کہانی معاشرے کے ہر فرد کے لیے ایک سبق ہے۔ یہ ہمیں یاد دلاتی ہے کہ انسانیت کا حقیقی حسن دوسروں کے لیے آسانیاں پیدا کرنے میں ہے۔آئیے، ہم سب مل کر اپنے اپنے طور پر انسانیت کی خدمت کریں اور اس دنیا کو ایک بہتر اور پرسکون جگہ بنائیں۔رحمان علی جیسے افراد کی کہانیاں ہمیں امید اور حوصلہ فراہم کرتی ہیں کہ نیکی اور خلوص کی شمع ہمیشہ جلتی رہے گی، چاہے دنیا میں کتنی ہی مشکلات کیوں نہ ہوں۔
    یہی انسانیت ہے، یہی اصل زندگی کا مقصد۔