Baaghi TV

Category: معاشرہ و ثقافت

  • تمباکو نوشی کیخلاف پنجاب حکومت کا احسن فیصلہ،تحریر: نور فاطمہ

    تمباکو نوشی کیخلاف پنجاب حکومت کا احسن فیصلہ،تحریر: نور فاطمہ

    تمباکو نوشی دنیا بھر میں لاکھوں جانیں لینے والی ایک خاموش قاتل ہے۔ پاکستان میں بھی ہر سال ہزاروں افراد سگریٹ نوشی سے پیدا ہونے والی بیماریوں کا شکار ہو جاتے ہیں۔ ان حالات میں حکومتِ پنجاب نے ایک جرات مندانہ اور بروقت فیصلہ کرتے ہوئے انسدادِ تمباکو نوشی آرڈیننس 2002 پر سختی سے عملدرآمد کا اعلان کیا ہے، جس کا مقصد شہریوں، خاص طور پر نوجوان نسل کو سگریٹ نوشی کے مضر اثرات سے بچانا ہے۔پنجاب حکومت کی جانب سے جاری کردہ احکامات کے مطابق، اب راولپنڈی سمیت پورے صوبے میں عوامی مقامات پر سگریٹ نوشی پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ اس فیصلے کے تحت مخصوص مقامات پر سگریٹ نوشی پر جرمانے کی رقم 1000 روپے سے لے کر 1 لاکھ روپے تک ہو سکتی ہے۔

    تمام سرکاری اور نجی دفاتر،تعلیمی ادارے (اسکول، کالج، یونیورسٹیاں)،اسپتال، کلینکس اور دیگر طبی مراکز،شاپنگ مالز، مارکیٹیں، ہوٹلز،پبلک ٹرانسپورٹ، بس اسٹینڈز، ریلوے اسٹیشنز اور ہوائی اڈے ان تمام مقامات پر تمباکو نوشی پر پابندی ہو گی،یہ فیصلہ نہ صرف عوامی صحت کی بہتری کے لیے ہے بلکہ صاف ستھری اور تمباکو سے پاک فضا کے قیام کی طرف ایک مثبت قدم بھی ہے۔حکومت نے سگریٹ و تمباکو مصنوعات فروخت کرنے والے دکانداروں کے لیے بھی سخت ضابطے متعارف کرائے ہیں،ہر دکان پر نمایاں طور پر “تمباکو نوشی صحت کے لیے مضر ہے” کا نوٹس آویزاں کرنا لازمی ہوگا۔کسی بھی تعلیمی ادارے کے 50 میٹر کے اندر سگریٹ یا کسی بھی تمباکو مصنوعات کی فروخت پر مکمل پابندی ہو گی۔یہ ضابطے اس لیے بھی اہم ہیں تاکہ بچوں اور نوجوانوں کو کم عمری میں اس لت سے دور رکھا جا سکے۔

    حکومتِ پنجاب نے متعلقہ اداروں کو ہدایت دی ہے کہ وہ اس قانون پر سختی سے عملدرآمد کو یقینی بنائیں۔ پولیس، مقامی انتظامیہ، محکمۂ صحت اور سول سوسائٹی کے اشتراک سے ایک جامع حکمت عملی تیار کی جا رہی ہے ،تمباکو نوشی کے خلاف مہمات چلائی جائیں گی،خلاف ورزی کرنے والوں کو موقع پر جرمانے کیے جائیں گے،عوام میں شعور و آگاہی بڑھانے کے لیے آگاہی مہمات کا انعقاد کیا جائے گا

    سگریٹ نوشی صرف ایک عادت نہیں، بلکہ ایک ایسا خطرناک عمل ہے جو کئی جان لیوا بیماریوں کا پیش خیمہ ہے، جیسے کہ پھیپھڑوں کا کینسر،دل کی بیماریاں،سانس کی بیماریاں (دمہ، برونکائٹس)،منہ، گلے اور معدے کا کینسر و دیگر،عالمی ادارہ صحت کے مطابق، ہر سال دنیا بھر میں تمباکو نوشی سے 80 لاکھ سے زائد اموات واقع ہوتی ہیں۔یہ قانون صرف حکومت کا نہیں بلکہ ہر شہری کی ذمہ داری ہے کہ وہ نہ صرف خود سگریٹ نوشی سے پرہیز کرے، بلکہ دوسروں کو بھی اس سے باز رکھے۔ معاشرے کے تمام طبقات بشمول والدین،اساتذہ،دکاندار،میڈیا،سوشل ایکٹیوسٹکو چاہیے کہ وہ اس قومی مہم کا حصہ بنیں اور اپنے اردگرد تمباکو نوشی کے خلاف آواز بلند کریں۔حکومت پنجاب کا انسدادِ تمباکو نوشی آرڈیننس پر سختی سے عملدرآمد کا فیصلہ وقت کی اہم ضرورت ہے۔ اگر یہ فیصلہ سنجیدگی سے نافذ کیا گیا اور عوامی شعور کو بھی بیدار کیا گیا تو یہ نہ صرف ایک صحت مند معاشرے کی بنیاد بنے گا بلکہ آئندہ نسلوں کو ایک صاف ستھرا اور تمباکو سے پاک ماحول فراہم کرنے میں بھی مدد دے گا۔آئیے! ہم سب مل کر اس مہم کا حصہ بنیں اور ایک تمباکو فری پاکستان کی طرف قدم بڑھائیں۔

  • شہید صفدر علی ، چیف جسٹس سے ازخود نوٹس کی اپیل۔ تحریر:شاہد نسیم چوہدری

    شہید صفدر علی ، چیف جسٹس سے ازخود نوٹس کی اپیل۔ تحریر:شاہد نسیم چوہدری

    22 فروری 2025 کا دن فیصل آباد کی تاریخ میں ایک سیاہ دن کے طور پر یاد رکھا جائے گا، جب ایک عام، محنت کش نوجوان صفدر علی، پاپا نانا پیزا شاپ کے اندر بے دردی سے شہید کر دیا گیا۔ شہادت ایک عظمت کا رتبہ ہے، جو اکثر ظالم کے ہاتھوں، بے گناہی کی سزا بن کر نصیب ہوتا ہے۔ صفدر علی کی شہادت نہ صرف ایک فرد کا نقصان ہے، بلکہ یہ ہمارے سماجی و عدالتی نظام کے ماتھے پر ایک نہ مٹنے والا دھبہ ہے۔
    صفدر علی نہ کوئی مجرم تھا، نہ کسی جھگڑے کا حصہ، نہ کسی ذاتی دشمنی کا شکار۔ وہ صرف پیزا لینے گیا تھا، تاکہ اپنے اہلِ خانہ کے ساتھ ایک خوشگوار لمحہ گزار سکے۔ مگر ظالموں نے اس کی مسکراہٹ کو گولیوں سے چھین لیا۔ ایف آئی آر نمبر 375/25 کے مطابق، پیزا شاپ پر تعینات سیکیورٹی گارڈ بصویر نے مالک آصف کے اشتعال دلانے پر صفدر پر فائرنگ کی۔ وہ سڑک پر تڑپتا رہا، اور لوگ تماشائی بنے کھڑے رہے۔ پیزا شاپ کا مالک بھی قریب کھڑا تھا، مگر اس نے مدد کرنے کے بجائے تماشا دیکھا۔یہ صرف صفدر علی کی شہادت نہیں تھی، بلکہ یہ ہمارے ضمیر کی موت تھی۔ ایک زندہ انسان کے بے گناہ قتل پر معاشرہ خاموش رہا، نظامِ قانون خاموش رہا، اور وہ ادارے بھی خاموش رہے جو عوام کی حفاظت کے دعویدار ہیں۔مگر صفدر کے والد، حیدر علی، خاموش نہیں رہے۔ وہ اپنے بیٹے کی لاش کو دفن کرنے کے بعد انصاف کی راہوں پر نکل پڑے۔ انہوں نے تھانہ سمن آباد میں مقدمہ درج کروایا، قاتلوں کو نامزد کیا، مگر شہید حیدر علی کے والد کا کہنا ہے کہ قانون نے جیسے ان کے بیٹے کے خون پر سودا کر لیا ہو۔ ایس ایچ او امتیاز جپہ اور تفتیشی افسر ناصر عباس نے آصف کو دس دن مہمان بنا کر تھانے میں رکھا، ریمانڈ بھی نہ لیا، اور پھر "بے گناہ” قرار دے کر چھوڑ دیا۔یہ وہی ایس ایچ او ہے، جو اب اینٹی نارکاٹکس فورس کے ہاتھوں بھاری منشیات سمیت رنگے ہاتھوں گرفتار ہو کر معطل ہو چکا ہے۔ حیدر علی کا کہنا ہے کہ کیا اب بھی یہ سوال باقی ہے کہ منشیات فروش ایس ایچ او کی زیر نگرانی تفتیشی ناصر عباس نے صفدر علی کے قاتل کو بے گناہ کیوں قرار دیا؟ کیا وہی ہاتھ جو منشیات بیچتے ہیں، قاتلوں کو بھی بچاتے ہیں؟

    صفدر علی کی شہادت، پاکستان کے اس نظامِ انصاف پر ایک سنگین سوال ہے، جو طاقتور کے سامنے جھک جاتا ہے، اور مظلوم کے دروازے بند کر دیتا ہے۔ آج حیدر علی دربدر کی ٹھوکریں کھا رہے ہیں۔ وہ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف سے لے کر چیف جسٹس پاکستان تک سب کو پکار رہے ہیں۔ وہ پوچھتے ہیں:”میرا بیٹا بے گناہ تھا، شہید ہوا۔ اس کا قاتل آزاد کیسے ہے؟”یہ سوال صرف حیدر علی کا نہیں، یہ ہر اس باپ کا ہے جس کا بیٹا ظلم کا نشانہ بن کر انصاف سے محروم ہو گیا۔ صفدر علی کی شہادت اس بات کی علامت ہے کہ ہم ایک ایسے معاشرے میں جی رہے ہیں جہاں عام آدمی کا خون پانی سے بھی سستا ہو چکا ہے، اور طاقتور کے لیے قانون فقط ایک تماشا بن گیا ہے۔
    اب ہمیں فیصلہ کرنا ہوگا:
    کیا ہم صفدر علی کی شہادت کو یونہی فراموش کر دیں؟.کیا ہم حیدر علی کی فریاد کو در و دیوار سے ٹکرا کر خاموش ہونے دیں؟یا ہم سب اس باپ کے ساتھ کھڑے ہوں گے، اور اس بے گناہ شہید کے لیے آواز بلند کریں گے؟.ہمیں اب خاموشی توڑنی ہوگی۔ہمیں درج ذیل اقدامات پر زور دینا ہوگا:1. شہید صفدر علی قتل کیس کی غیر جانبدارانہ، نئی تفتیش کا حکم دیا جائے – اعلیٰ پولیس افسران پر مشتمل شفاف تحقیقاتی ٹیم بنائی جائے۔2. تھانہ سمن آباد کے ملوث افسران کے خلاف سخت کارروائی کی جائے – امتیاز جپہ اور تفتیشی ناصر عباس جیسے اہلکاروں کے کردار کا بھی جائزہ لینا ہوگا۔3. عدلیہ ازخود نوٹس لے – تاکہ یہ ثابت ہو کہ عدالتیں صرف طاقتور کے لیے نہیں، عام انسان کے لیے بھی ہیں۔4. پولیس اصلاحات کو فوری طور پر نافذ کیا جائے – سیاسی اثر و رسوخ سے آزاد تفتیشی نظام بنایا جائے۔5. شہید صفدر علی کو ریاستی سطح پر انصاف دلایا جائے – تاکہ اس کی شہادت رائیگاں نہ جائے۔
    حکومت، ریاست اور ادارے اگر اب بھی نہ جاگے، تو آنے والے وقت میں صفدر علی جیسے معصوم شہید ہوتے رہیں گے، اور حیدر علی جیسے باپ انصاف کے لیے در بدر ہوتے رہیں گے۔
    صفدر علی ہم سب کا بیٹا ہے۔ اگر ہم نے آج اس کے لیےے آواز نہ اٹھائی، تو کل ہمارا اپنا بچہ بھی کسی پیزا شاپ کے اندرظلم کا نشانہ بن سکتا ہے۔کیا ہم شہید صفدر علی کے لیے کھڑے ہوں گے؟ یا ایک بار پھر خاموش تماشائی بنے رہیں گے ؟ شہید صفدر علی کے دکھی ماں باپ نےچیف جسٹس سپریم کورٹ سے ازخود نوٹس لینے کی اپیل کی ہے ۔۔۔!!

  • مکمل انسان .تحریر : شمائل عبداللہ

    مکمل انسان .تحریر : شمائل عبداللہ

    ہمارے معاشرے میں اکثر معذور افراد کو ” ایب نارمل ” کہا جاتا ہے لیکن دیکھا جائے تو یہ نامکمل انسان ہی حقیقت میں مکمل ہوتا ہے۔ کہ کبھی کسی معذور کی نظر میں حوس نہیں دیکھی گئی سوائے خواجہ سرا کے وہ بھی اس لئے کہ ان کی معذوری میں ذرا فرق ہے لیکن باوجود اس کے وہی اس چیز کا زیادہ شکار ہوئے کبھی کسی معذور نے ریپ نہیں کیا۔ اور تو اور کہیں کہیں لفظوں اور باتوں کو سمجھنے کا شعور بھی سب سے زیادہ انہی میں پایا گیا ۔ لیکن یہ بھی سچ ہے کہ ایک معذور کے احساس و جذبات کو نہ تو سمجھا گیا نہ لکھا گیا۔ ابھی پرسوں کی ہی بات ہے میں خبروں میں سن رہا تھا۔ ویسے تو میری دلچسپی نہیں ہے خبروں میں لیکن والد محترم لگاتے ہیں تو سن لیتا ہوں۔ دو بچے کنوئیں میں گر گئے تھے کوئی ان کی مدد کو نہ گیا سب کو اپنی جان بچانی تھی اور جنہوں نے انہیں بچایا وہ ایک معذور طبقہ تھا بغیر جان کی پرواہ کئے۔ اب بتائیے نامکمل کون؟ انسانیت کن میں ہے؟ حقیقی معذور کون؟ میں جب اس طرح کے واقعات دیکھتا ہوں تو کہانیوں پر یقین آنے لگتا ہے ہاں یہ الگ بات ہے کہ محبت سب کو ہوتی ہے شاید انہیں بھی ہو آخر کو وہ انسان تو ہیں؟ لیکن عام لوگوں کی طرح کی سوچ سے وہ پرے ہیں تو ایب نارمل کون ہوا؟ کئی مرتبہ دوست انہیں بھی چاہئیے ہوتے ہیں لیکن یہ اتنے باہمت ہوتے ہیں کہ اکیلے جی سکیں۔ ان کا واحد سہارا خدا اور ان کے اپنے ہیں اور یہ اسی میں خوش ہیں لیکن عام عوام کبھی خوش نہیں ہوتی بعض اوقات اپنے بھی اکتا جاتے ہیں لیکن خدا تو نہیں اکتاتا ناں ؟ یہ اس میں بھی خوش ہیں کیونکہ خدا کی مرضی بھی یہی ہے کہ ہم خوشی اور شکر گزاری کریں اور بلا ناغہ دعا کریں اور یہ لوگ ایسے ہی ہیں عام لوگوں میں یہ بات ہے کہ وہ خود پہ اور خدا پہ یقین رکھتے ہیں لیکن ان کا خود پہ نہیں بلکہ یقین کامل ایمان توکل سب خدا پر ہوتا ہے ان کی امید و محبت بھی دنیا نہیں بلکہ خدا ہے کیونکہ دنیا سے دوستی خدا سے دشمنی ہے ہمیں اس جہاں میں تو رہنا ہے مگر اس کے ہم شکل نہیں بننا بقول شاعر :-
    زمانہ دوست ہو جائے تو بہت محتاط ہو جانا
    منافق لوگ بڑے مخلص ہوا کرتے ہیں اکثر

    میں نے کہیں پہ لکھا تھا کہ محبت ہونا ضروری ہے لیکن شادی ضروری نہیں یہ بات میں نے کسی غلط ارادے نہیں لکھی تھی بلکہ اس لئے لکھی کہ ہم محبت کا مقابلہ نہیں کر سکتے یہ کچھ نہیں دیکھتی لیکن شادی بہت بڑا زندگی بدل دینے والا فیصلہ ہے۔ سو ہم اپنے احساسات و جذبات پر صبر کر سکتے ہیں۔ یہی بہتر ہوگا کیونکہ محبت تو سات پردوں میں بھی واجب ہے امید ہے پڑھنے والے بات کو سمجھیں۔ لیکن عام لوگوں کا کردار دیکھوں تو مجھے وہ شعر یاد آتا ہے کیا خوب کہا ہے کسی نے کہ:-
    جسم کی پوجا کرتا ہے یہ آج کا فلسفہ
    یہی اگر محبت ہے تو ہم جاہل ہی اچھے
    فی امان اللہ

  • اسٹیج ڈراموں کا معاشرتی اثر اور فحاشی،تحریر:جان محمد رمضان

    اسٹیج ڈراموں کا معاشرتی اثر اور فحاشی،تحریر:جان محمد رمضان

    پاکستان میں اسٹیج ڈرامے ایک طویل عرصے سے مختلف نوعیت کی محافل کا حصہ بنے ہوئے ہیں، مگر ان ڈراموں میں عورت کے کردار اور اس کے ساتھ ہونے والے سلوک پر مسلسل سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ ان ڈراموں میں عورت کو جس طریقے سے پیش کیا جاتا ہے اور ان میں جو نازیبہ اور فحاشی بھرے جملے استعمال کیے جاتے ہیں، وہ نہ صرف ان ڈراموں کو ایک تفریح کا ذریعہ بناتے ہیں بلکہ معاشرتی اقدار کو بھی شدید نقصان پہنچاتے ہیں۔

    اسٹیج ڈراموں میں فحاشی کا استعمال ایک معمول بن چکا ہے، جہاں عورت کو صرف تفریح کا سامان سمجھا جاتا ہے۔ ایک طرف ڈرامے میں عورت کو بیوی، ماں، بہن یا بیٹی کے روپ میں دکھایا جاتا ہے، تو دوسری طرف اسے نازیبہ اور فحاش جملوں کے ذریعے تماشائیوں کو ہنسانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ ان ڈراموں میں عورت کی عزت کو مسلسل پامال کیا جاتا ہے، چاہے وہ کسی گانے کی صورت میں ہو یا پھر غیر اخلاقی شاعری کے ذریعے۔ اس سب کا مقصد صرف اور صرف تماشائیوں کی ہنسی ہنسانا اور اس کے بدلے مال و دولت کمانا ہوتا ہے۔یہ اسٹیج ڈرامے دراصل معاشرے کے لیے ایک منفی پیغام دیتے ہیں، جس میں خواتین کو جنسی طور پر ابھارنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ ان ڈراموں میں عورت کے کردار کو ناپاک اور بے عزت کیا جاتا ہے، جس کا براہ راست اثر نوجوان نسل پر پڑتا ہے۔ یہ ڈرامے صرف تفریح کا ذریعہ نہیں بلکہ ایک ایسا طریقہ ہیں جس سے عورت کے حقوق کی پامالی کی جاتی ہے اور اس کے ساتھ غیر اخلاقی سلوک کو معمول بنایا جاتا ہے۔

    کچھ عرصے سے حکومت کے نمائندے، جیسے عظمیٰ بخاری صاحبہ نے اس صورتحال پر سختی سے اعتراض کیا ہے اور اس پر پابندی عائد کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ اسٹیج ڈرامے خواتین کی توہین کر رہے ہیں اور انہیں بے پردہ کرنے کو فن سمجھا جا رہا ہے، جو کسی طور بھی قابل قبول نہیں ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اس نوعیت کے ڈراموں پر مکمل پابندی لگائی جائے تاکہ معاشرتی اقدار کی حفاظت کی جا سکے۔بہت سے اسٹیج ڈراموں میں کام کرنے والے اداکار اور اداکارائیں خود کو "فنکار” کہلانے کی کوشش کرتے ہیں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ ان کا یہ طرز عمل نہ صرف ان کی ذاتی عزت کو نقصان پہنچا رہا ہے بلکہ پورے معاشرے کو بھی بے عزتی کی طرف دھکیل رہا ہے۔ ان فنکاروں کے بارے میں سکھ برادری اور دیگر غیر مسلم کمیونٹیز بھی یہی رائے رکھتی ہیں کہ عورت کے ساتھ اس طرح کی توہین کرنا کسی بھی معاشرتی یا مذہبی اصول کے خلاف ہے۔

    آج اگر عظمیٰ بخاری صاحبہ اس اسٹیج ڈراموں پر پابندی کی بات کر رہی ہیں تو یہ دراصل اس بات کی ضرورت ہے کہ اس نوعیت کے فحاشی بھرے ڈراموں کو بند کیا جائے اور ایک ایسا ماحول بنایا جائے جس میں عورت کی عزت و احترام کو مقدم رکھا جائے۔ ان اسٹیج ڈراموں میں کام کرنے والے افراد کو محض فنکار نہ سمجھا جائے بلکہ انہیں وہ مقام اور عزت دی جائے جس کے وہ حقدار ہیں۔ ان ڈراموں کی روک تھام سے نہ صرف معاشرتی تبدیلی ممکن ہے بلکہ ایک صحت مند اور اخلاقی ماحول بھی قائم کیا جا سکتا ہے۔عظمیٰ بخاری صاحبہ سے درخواست ہے کہ ان اسٹیج ڈراموں پر مکمل پابندی عائد کی جائے تاکہ ہمارا معاشرہ بہتر اور اخلاقی اصولوں پر قائم ہو سکے۔

  • ساڈا کتا،کتا ۔۔۔تے،تواڈا کتا ٹومی ،خدارا لوگوں کو جینے دو،تحریر:ملک سلمان

    ساڈا کتا،کتا ۔۔۔تے،تواڈا کتا ٹومی ،خدارا لوگوں کو جینے دو،تحریر:ملک سلمان

    ساڈا کتا،کتا ۔۔۔تے،تواڈا کتا ٹومی ،خدارا لوگوں کو جینے دو،
    ادھر دیکھو، باہر دے ملکاں والیاں نے ویکھنی اے، کی کہن گے سانو، اسکو پکڑو سیدھا کرو
    یہ الفاظ قانون کے محافظوں کے قوم کی عزتوں کے بارے ہیں۔ پولیس تو عزتوں کی محافظ ہوتی ہے تم کیونکر عزتوں کو پامال کرنے والے اور لٹیرے بن گئے۔ خواتین کے چہروں پر تیز ٹارچ کی روشنی کرتے ہوئے ویڈیو بنانا اور یہ کہنا کہ یہ ویڈیو وائرل ہوگی ناصرف پاکستان بلکہ بیرون ملک بھی۔ اسی طرح لڑکوں کو بھی ویڈیو بناتے وقت پولیس کی طرف سے اس بات کا اعلان کیا گیا کہ ”تواڈی ویڈیو ٹک ٹاک تے آوے گی“

    جس نے جو جرم کیا اس کیلئے اسے عدالت میں پیش کرنا چاہئے تھا ناکہ ویڈیو بنا کر سوشل میڈیا پر وائرل کرنا۔ یہ اختیارات سے تجاوز اور لاقانونیت کی انتہا ہے۔ چیف جسٹس آف پاکستان، چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ میڈم عالیہ نیلم اور چیف منسٹر پنجاب مریم نواز شریف سے گزارش ہے کہ انصاف کا ترازو اس بات کا متقاضی ہے کہ ویڈیو بنانے اور وائرل کرنے والے تمام پولیس افسران و اہلکاروں کو اس مجرمانہ غفلت پر ناصرف نوکریوں سے فارغ کیا جائے بلکہ پیکا ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کرکے پیڈا ایکٹ کی کاروائی کی جائے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں، قانون نافظ کرنے والے اداروں اور وزیراعلیٰ پنجاب کیلئے یہ ٹیسٹ کیس ہے کہ پنجاب میں پولیس گردی چلنی ہے یہ انصاف اور انسانیت۔ یہ پہلا واقع نہیں ہے آئے دن پولیس کی طرف سے ایسی کاروائیاں دیکھنے کو ملتی ہیں۔ لوگوں میں خوف و ہراس پیدا نا کریں اس طرح تو پولیس شک کی بنیاد پر جس کے گھر مرضی گھس جائے۔ چادر اور چار دیواری کا تقدس پامال نہ کریں۔ ہاں اگر کوئی سرعام فحاشی کرتا ہے یا غیر قانونی ڈانسنگ کلب بنا رہا ہے تو قانونی کاروائی کریں نہ کہ ویڈیو بنا کر شوشل میڈیا پر وائرل کریں۔

    پولیس اہلکاروں کی طرف سے ویڈیو وائرل کرنے کے الفاظ کے عین مطابق بالکل ویسا ہی ہوا 24گھنٹے سے بھی کم وقت میں ایف آئی آر میں نامزد 34مردوں اور 21خواتین کو سوشل میڈیا پر سارے پاکستان اور کئی ممالک نے دیکھا۔ اس بدنامی کی بعد ان میں سے کتنے ہی جوان ہیں جو اس شرمندگی کے باعث پاکستان میں نہیں رہ سکیں گے، کتنے ذہین افراد ذہنی ازیت کا شکار ہو جائیں گے۔ جس کسی کو بھی ان نوجوانوں کے بارے ذہین کہنے پر اعتراض ہے ان کی یاداشت کیلئے عرض کرنا چاہتا ہوں کہ بیوروکریسی اور سیاسی افراد کی ذہانت پر تو کوئی شک نہیں۔ پولیس افسران، بیوروکریسی اور سیاستدانوں کے ڈرگ ٹیسٹ کروا لیں وثوق سے کہتا ہوں کے کم از کم ایک تہائی شراب نوشی اور منشیات کے عادی ملیں گے۔ اسی طرح انہی ذہین افراد کی دو تہائی یعنی ڈبل تعداد شیشہ، سگریٹ نوشی اور مجرہ پارٹیوں کے رسیا ملیں گے۔

    2023کی بات ہے لاہور میں ایک اہم سیٹ پر پوسٹڈ آفیسر کے سٹاف کی لیٹ نائٹ کال آئی سر معذرت آپ کو ڈسٹرب کر رہا ہوں۔۔۔۔صاحب نے زیادہ پی لی ہے اور اپنے کپڑے پھاڑ کر عجیب حرکتیں کر رہے ہیں ایسی حالت میں انکو گھر کیسے لیکر جاؤں۔ میں نے اس سے لوکیشن پوچھی اور رات گئے اسے وہاں سے ریسکیو کیا۔ جب اسے ریسکیو کرنے گیا تو اس محفل میں بیوروکریسی کے افسران ہول سیل میں موجود تھے۔ پولیس افسران، بیوروکریسی اور سیاستدان ریگولر بنیادوں پر ایسی پارٹیوں کا اہتمام کرتے رہتے ہیں۔سرکاری افسران اور سیاستدانوں میں پارٹی گروپ جوائن کرنا کامیابی کی سیڑھی سمجھا جاتا ہے۔ بیوروکریسی میں پارٹی گروپ کی گیم بہت بلند ہے جہاں پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس، پولیس سروس آف پاکستان اور پی ایم ایس اور دیگر سروس گروپس کی باہمی عداوت کے برعکس اس بزم (پارٹی گروپ) میں برابری اور بھائی چارے کا عظیم مظاہرہ دیکھنے کو ملتا ہے۔ ان سارے سخت گیر اور معزز افسران کی کہانی لاہور کی پچیس، کراچی کی چھتیس اور اسلام آباد کی بیالیس رقاصاؤں کی گرد گھومتی ہے۔ حسین زلفوں کے اسیر ہونے والے بڑے بڑے ناموں کے چھوٹے کرتوت سن کر یہ چکڑ چوہدری نما مخلوق انتہائی حقیر لگنے لگتے ہیں۔ لاہور کے چند افسران نے گینگ بنا رکھا ہے جو اپنے سنئیر افسران کی مخصوص لڑکیوں سے دوستیاں کرواتے ہیں اور بعد میں انکے زیعے اہم پوسٹنگ لیتے اور اپنے کام نکلواتے ہیں۔ اگر پکڑنا ہے تو ان بلیک میلرز کو پکڑیں۔ شوگر ڈیڈی یا جیسا بھی کلچر ہے اگر دونوں فریق طے شدہ مفادات کے تحت تعلق رکھتے ہیں تو کسی بھی فریق کو بلیک میلنگ نہیں کرنی چاہئے۔

    جہاں تک شیشہ کیفے پر پابندی کی بات ہے لاہور، اسلام آباد کراچی سمیت تمام بڑے شہروں میں سینکڑوں کے حساب سے شیشہ کیفے موجود ہیں۔ شیشہ کیفے والے لوکیشن کے حساب سے ایک لاکھ سے تیس لاکھ ماہانہ تک پولیس اور انتظامی افسران کو بھتہ دیتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ حکومت شیشہ کیفے کی حد تک لیگل ٹیکس کیوں نہیں اکٹھا کرتی بجائے اس کے کہ کروڑوں اور اربوں روپیہ افسران کی جیبوں میں جاتا ہے۔پبلک مقامات، سرکاری و پرائیویٹ دفاتر میں سگریٹ نوشی کرنا جرم ہے جس کی سزا قید اور جرمانہ ہے لیکن یہ سیگریت نوشی کرنے والے افسران و افراد پبلک مقامات اور سرکاری دفاتر میں سرعام سگریٹ نوشی کرکے دوسروں کو اذیت دیتے ہیں۔
    جو کوئی جیسی بھی تفریح کرتا ہے اگر وہ اپنے گھر کی چار دیواری میں کرتا ہے تو اسے جینے دیں۔ پہلے ہی بہت سٹریس ہے لوگوں کی زندگیوں کو عذاب نہ بنائیں۔

  • فلسطین اور امت مسلمہ کی بے حسی .تحریر: ارم ثناء

    فلسطین اور امت مسلمہ کی بے حسی .تحریر: ارم ثناء

    ایک امت، جسد واحد جس کو ایک جسم کی مانند کہا جاتا ہے۔ جس کے آباؤ اجداد نے کئی کئی سالوں تک کئی مربع میل پر حکومت کی ہے، جن کے نام سے ہی غیر مسلم ڈرتے تھے۔ آج اسی امت کے ایک حصے کو بڑی بے دردی سے ختم کیا جا رہا ہے، جبکہ دوسرا حصہ اپنے عیش و آرام کی زندگی بسر کر رہا ہے۔ ایک زمانہ تھا کہ اسی قوم کی مائیں سلطان صلاح الدین ایوبی، محمد فتح پیدا کرتی تھیں، جبکہ آج اسی قوم کی مائیں ٹک ٹاکر، ادکار پیدا کرتیں ہیں۔
    ایک زمانہ تھا کہ جب اس قوم کی عورتوں نے اپنے زیورات، بیٹے تک اللہ کی راہ میں قربان کر دیے تھے، جبکہ آج کی نوجوان نسل اسرائیلی پروڈکٹس کا بائیکاٹ تک نہیں کر سکتی۔ یہ لوگ macdonald, coca-cola, lay’s l, وغیرہ کو نہیں چھوڑ سکتے۔ ہماری آج کی نوجوان نسل کو لگتا ہے کہ گاڑیوں کے پیچھے فلسطین کے جھنڈے لگا لینے سے اور گاڑیوں کے اوپر "free Palestine” لکھنے سے انہوں نے حق ادا کردیا ہے، کل کو قیامت میں ان سے اس حوالے سے سوال وجواب نہیں کیا جائے گا۔ اے امت مسلمہ اپنے ذہنوں سے یہ نکال دو، "کہ تم لوگوں سے سوالات نہیں کیے جائیں گے”. اے امت مسلمہ تم لوگوں سے ضرور پوچھا جائے گا۔ تم لوگ اللہ کے دشمنوں کی مالی مدد کررہے ہو تم کو کیا لگتا ہے؟ کہ اللہ تعالیٰ تم کو چھوڑ دے گا؟ تم لوگوں نے اللہ کے احکامات کو پس پشت ڈال دیا یے، تم لوگوں نے اللہ کے احکامات پر اپنے نفس کو ترجیح دی ہے۔ اللہ نے سورتہ البقرہ کی آیت 155 میں فرمایا ہے۔
    وَ لَنَبۡلُوَنَّکُمۡ بِشَیۡءٍ مِّنَ الۡخَوۡفِ وَ الۡجُوۡعِ وَ نَقۡصٍ مِّنَ الۡاَمۡوَالِ وَ الۡاَنۡفُسِ وَ الثَّمَرٰتِ ؕ وَ بَشِّرِ الصّٰبِرِیۡنَ ﴿۱۵۵﴾ۙ
    ترجمہ: اور ہم کسی نہ کسی طرح تمہاری آزمائش ضرور کریں گے ، دشمن کے ڈر سے ، بھوک پیاس سے ، مال و جان اور پھلوں کی کمی سے اور ان صبر کرنے والوں کو خوشخبری دے دیجئے ۔

    آج یہ صرف فلسطین کے مسلمانوں کی آزمائش نہیں ہے۔ یہ پوری امت مسلمہ کی آزمائش ہے، وہ لوگ اپنی آزمائش پر ثابت قدمی سے ڈٹے رہے۔ انہوں نے اللہ کے احکامات پر عمل کرکے اپنے نفس کی خواہشات کو پیچھے چھوڑ کر اللہ کی رضا حاصل کر لی ہے۔ اور ہم لوگ اسی خیالات میں خوش ہیں کہ قیامت والے دن حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے ہماری سفارش کر دینی ہے۔ جی بالکل آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کی سفارش کرنی ہے،
    Surat No 25 : سورة الفرقان – Ayat No 43

    اَرَءَیۡتَ مَنِ اتَّخَذَ اِلٰـہَہٗ ہَوٰىہُ ؕ اَفَاَنۡتَ تَکُوۡنُ عَلَیۡہِ وَکِیۡلًا ﴿ۙ۴۳﴾
    ترجمہ: کیا آپ نے اسے بھی دیکھا جو اپنی خواہش نفس کو اپنا معبود بنائے ہوئے ہے کیا آپ اس کے ذمہ دار ہوسکتے ہیں؟

    کیا آج ہم نے اپنے نفس کو اللہ کے احکامات پر ترجیح نہیں دی؟ ہم کو جہاد، قتال کا حکم ہے کیا ہم جہاد کر رہے ہیں؟ کیا ہماری آج کی نوجوان نسل جہاد کےلئے تیار ہے؟ کیا ہماری مائیں اپنے بچوں کو اللہ کی راہ میں قربان کر سکتی ہیں؟ ان سب کا جواب ہے۔ "نہیں” کیوں؟ کیونکہ ہم یہ عیش و عشرت کی زندگی نہیں چھوڑ سکتے، ہم لوگ اپنے نفس کو نہیں مار سکتے، ہم اتنے بہادر نہیں ہیں کہ ہم اپنا جان و مال اللہ کی راہ میں قربان کر دیں۔ ہم لوگ تو بے حیائی کو نہیں چھوڑ سکتے، ہم نوجوان نسل آج اپنی نظروں کی حفاظت نہیں کر سکتی، ہم مائیں بہنیں آج پردہ نہیں کر سکتی، تو یہ جہاد کیوں کر کریں گے؟ اب سب لوگ اپنا محاسبہ کریں کہ کیا کل کو قیامت کے دن حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہماری سفارش کریں گے؟ جبکہ ہم لوگ اللہ اور اس کے دین کے دشمنوں کی معیشت کو مضبوط کر رہے ہیں، ہم لوگ ان کی پروڈکٹس کا بائیکاٹ نہیں کر سکتے، جبکہ ہم اللہ کے احکامات کو پس پشت ڈال چکے ہیں۔ ہمیں چاہیے کہ ہمیں اپنے بچوں کی تربیت اسلام کے مطابق کرنی چاہیے، ان کو صحابہ کرام اور جنگی واقعات سنا کر بڑا کرنا چاہیے، نا کہ کارٹون دیکھا کر۔ ہمیں اسلام کا گہرائی سے مطالعہ کرنا چاہیے۔ امت مسلمہ کو اپنی بے حسی چھوڑ کر اللہ کے احکامات پر عمل کرنا چاہیے۔ ہمیں اپنی نوجوان نسل کو جہاد کےلئے تیار کرنا چاہیے۔

  • میلہ اوچ شریف، روحانیت سے تفریح تک کا سفر

    میلہ اوچ شریف، روحانیت سے تفریح تک کا سفر

    میلہ اوچ شریف، روحانیت سے تفریح تک کا سفر
    تحریر:حبیب خان (نامہ نگار باغی ٹی وی )
    میلہ اوچ شریف ایک ایسا روحانی اجتماع ہے جو برصغیر کی تاریخ میں اہم مقام رکھتا ہے۔ یہ میلہ دراصل ان عظیم اولیائے کرام کی یاد میں منایا جاتا ہے جنہوں نے اپنی زندگی میں دین اسلام کی ترویج اور لوگوں کی روحانی رہنمائی کی۔ ان بزرگ ہستیوں میں حضرت جلال الدین سرخ پوش بخاری، حضرت بہاؤ الدین زکریا ملتانی، حضرت بابا فرید الدین گنج شکر اور حضرت عثمان مروندی (لعل شہباز قلندر) شامل ہیں۔ ان اولیائے کرام کی تعلیمات کا مقصد انسانوں کو روحانیت کی طرف متوجہ کرنا، ظلم و جبر سے نجات دلانا اور محبت، امن اور بھائی چارے کا پیغام دینا تھا۔ ان کی زندگی کے ہر پہلو میں انسانیت کی خدمت اور خدا کی رضا کی تلاش تھی، لیکن افسوس کہ آج میلہ اوچ شریف میں ان کے مقاصد سے ہٹ کر مختلف نوعیت کی سرگرمیاں دکھائی دیتی ہیں۔

    حضرت جلال الدین سرخ پوش بخاری، حضرت بہاؤ الدین زکریا، حضرت بابا فرید الدین گنج شکر اور حضرت عثمان مروندی کی تعلیمات نہ صرف عبادات کے حوالے سے بلکہ معاشرتی اصلاحات پر بھی زور دیتی تھیں۔ ان بزرگوں کا مقصد لوگوں کے دلوں میں خدا کی محبت بٹھانا، انسانوں کے درمیان بھائی چارے کو فروغ دینا اور ظلم و فساد کے خلاف جہاد کرنا تھا۔ ان کا پیغام محبت، اخوت اور انسانیت کی خدمت تھا، جس میں کسی قسم کا لالچ، تشہیر یا دنیاوی مفاد کی جگہ نہ تھی۔

    ان بزرگ ہستیوں کی زندگی اور ان کی تعلیمات کے مطابق میلہ اوچ شریف ایک روحانی اجتماع ہونا چاہیے تھا جہاں عقیدت مند اپنے روحانی سفر کو مکمل کرنے اور اپنے عقیدے کو مضبوط کرنے آتے۔ ان کا مقصد لوگوں کے دلوں میں تقویٰ، خشوع اور ایمان کی روشنی بٹھانا تھا۔

    وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ میلہ اوچ شریف کی روحانیت میں کمی واقع ہوئی ہے اور اس میں شامل سرگرمیاں اس کے اصلی مقصد سے بہت دور ہو چکی ہیں۔ جہاں ایک طرف یہ میلہ اولیائے کرام کی یاد میں ہونا چاہیے تھا، وہاں اب یہ ایک تفریحی اور تجارتی ایونٹ بن چکا ہے۔ تفریحی پروگراموں کی شکل میں فحاشی اور اخلاقی گراوٹ نے اس میلے کی روح کو متاثر کیا ہے۔

    آج کے میلے میں ورائٹی شوز، سرکس اور دیگر تفریحی پروگرام شامل ہیں، جہاں عریانی اور فحاشی کا پرچار کیا جاتا ہے۔ رقاصائیں نیم عریاں لباس میں رقص کرتی ہیں اور یہ سب کچھ "تفریح” کے نام پر پیش کیا جاتا ہے۔ ایسے پروگرام نہ صرف اولیائے کرام کی تعلیمات سے متصادم ہیں، بلکہ یہ عوامی سطح پر اخلاقی گراوٹ کا سبب بھی بن رہے ہیں۔ ان سرگرمیوں میں شریک ہونے والے افراد کی دولت کو لٹانا اور ان سے دھوکہ دہی کرنا، اس میلے کے اصل مقصد کے بالکل برعکس ہے۔ یہ سب کچھ اس بات کا غماز ہے کہ میلے میں شریک ہونے والے افراد اور انتظامیہ نے اولیائے کرام کے پیغام کو بھلا دیا ہے اور اس کے بجائے تجارتی مفادات اور عوامی تفریح کے ذریعے پیسہ کمانا شروع کر دیا ہے۔

    اولیائے کرام کی تعلیمات میں سب سے اہم پہلو انسانوں کی خدمت اور اللہ کی رضا کی تلاش ہے۔ ان بزرگوں کی زندگی میں عبادت، علم، اخلاقی عظمت اور انسانوں کی مدد کی اہمیت تھی۔ حضرت جلال الدین سرخ پوش بخاری اور حضرت بہاؤ الدین زکریا ملتانی کی تعلیمات کی بنیاد پر انسانیت کی خدمت اور تقویٰ کی اہمیت کو اجاگر کیا گیا تھا، لیکن آج جب ہم میلہ اوچ شریف کی صورت حال دیکھتے ہیں تو اس میں ان کی تعلیمات کے برعکس سرگرمیاں بڑھ گئی ہیں۔

    میلہ اوچ شریف میں اولیائے کرام کی تعلیمات کو یاد رکھنا اور ان کے پیغامات کو فروغ دینا بہت ضروری ہے۔ اس میلے کو دوبارہ اس کی اصل روح میں ڈھالنے کے لیے ضروری ہے کہ وہاں اخلاقی طور پر صحت مند پروگرامز کا انعقاد کیا جائے، جو لوگوں کو روحانیت کی طرف مائل کریں اور ان کے دلوں میں تقویٰ، ہمت اور محبت کا جذبہ پیدا کریں۔

    میلہ اوچ شریف کی سیکیورٹی اور انتظامی تدابیر بھی ایک سنگین مسئلہ ہیں۔ جب اتنے بڑے پیمانے پر لوگ جمع ہوتے ہیں تو ان کے لیے امن و امان کا قیام انتہائی ضروری ہے۔ ضلعی انتظامیہ اور سیکیورٹی ادارے اضافی نفری تعینات کرتے ہیں، لیکن ان کے اقدامات صرف جرائم کو روکنے کے لیے نہیں بلکہ میلے کی اصلی روح کو بحال کرنے کے لیے بھی ہونے چاہئیں۔ عوامی سطح پر ہونے والی اخلاقی گراوٹ اور جرائم کی روک تھام کے لیے حکومتی اداروں کا کردار بہت اہم ہے۔

    میلہ اوچ شریف کی اصلی روح کو واپس لانے کے لیے ضروری ہے کہ میلے کی سرگرمیاں مذہبی، اصلاحی اور ثقافتی پروگرامز تک محدود کی جائیں۔ اولیائے کرام کی تعلیمات پر عمل کرتے ہوئے لوگوں کو اخلاقی تربیت، روحانی رہنمائی اور تقویٰ کی اہمیت بتائی جائے۔ اس کے ساتھ ساتھ سیکیورٹی کے انتظامات کو مزید بہتر بنایا جائے تاکہ عوام کو امن و سکون کے ساتھ روحانی ترقی کے مواقع مل سکیں۔

  • خاموش مجرم.تحریر:عائشہ اسحاق

    خاموش مجرم.تحریر:عائشہ اسحاق

    کیا آپ نے کبھی سوچا کہ ہم سب پاکستان کی موجودہ خستہ صورتحال کے ذمہ دار میں ،مقروض پاکستان کی زبوں حالی کا ذمہ دار کرپٹ سیاست دانوں کو ٹھہرانا اور سوشل میڈیا پر پوسٹ یا سٹیٹس لگا کر کو ستے رہنا معمول بن چکا ہے لیکن ہم اس امر پر غور کرنا گوارہ نہیں کرتے کہ جہاں غیر منصفانہ ،ظالمانہ اور کرپٹ نظام کے خلاف ہمیں متحد ہو کر کھڑے ہونا اور حق کی آواز بننا چاہیئے وہاں ہم سوشل میڈیا پر خاموشی اختیار کرنا مناسب سمجھتے ہیں جو ایک سنگین جرم ہے جس کا خمیازہ ہماری آنے والی نسلیں بھی بھگتیں گی۔

    ظالم کو مزید طاقتور مظلوم کی خاموشی بناتی ہے۔ دیکھتے ہیں کہ وطن عزیز اور قوم کی بد حالی کے ذمہ دار اور غداروں کا ہماری خاموشی نے کس طرح ساتھ دیا۔ تاریخ گواہ ہے بانی پاکستان قائد اعظم محمدعلی جناح اپنی ہی قائم کر دہ ریاست میں مٹھی بھر غداروں کے ہاتھوں محفوظ نہ رہ سکے، قیام پاکستان کی خاطر بھائی کے ہمراہ شانہ بشانہ چلنے والی بانی پاکستان کی بہن مادر ملت محترمہ فاطمہ جناح اسی ملک میں غدار ٹھہرا دی گئی مگر ہم خاموش رہے۔گزشتہ برس خواب پاکستان دیکھنے والے شاعر مشرق علامہ اقبال کے پوتے اور بہو کو سر عام تشدد کا نشانہ بنا کر اسی ملک میں ان کی تذلیل کی گئی مگر ہم خاموش رہے۔

    مخلوط نظام تعلیم کے نام پر چلائے جانے والے تعلیمی اداروں نے ہماری نوجوان نسلوں کو فحاشی اور نشے جیسی دلدل میں دھکیل دیا ہم سے۔ہمارا باوقار نظام ،تعلیم چھین کر مخلوط تعلیمی انتظام رائج کر دیا گیا جس کا ہمارے دین میں کوئی وجود نہیں اس طرح ہماری نسلیں دین اسلام کی اصل تعلیم سے دور ہو چکی ہیں مگر ہم خاموش ہیں۔اسلامی جمہوریہ پاکستان میں سودی نظام ڈنکے کی چوٹ پر چلایا جارہا ہے جو سراسر اللہ اور اللہ کے رسول خاتم النبین” سے کھلا اعلان جنگ ہے مگر ہم اس پر بھی خاموش ہیں۔ناموس رسالت کا تحفظ ہر مسلمان پر فرض ، کوئی گستاخی کا واقعہ ہوتو بھی اس پر بھی ہم انتہائی کمزور سا احتجاج کر کے خاموش ہی ہو جاتے ہیں،قانون نافذ کرنے والے اداروں کی حالت یہ ہے کہ وہا ں انصاف طاقتور اور امیروں کا کھلوناہے جسے بآسانی خریدا جا سکتا ہے تمام تر قوانین صرف غریبوں اور کمزوروں پر لاگو ہیں جبکہ با اثر افراد کوئی بھی گھناونا جرم کرنے کے بعد قانون کی بولی لگا کر مکڑی کے جانے کی طرح پھاڑتے ہوئے نکل جاتے ہیں عدالتوں کے باہر لگے ترازو میں انصاف نظر نہیں آتا.

    سوال یہ ہے کہ لیاقت علی خان کے قاتل پکڑے نہ جاسکے ،بے نظیر بھٹو شہید سمیت کئی رہنماؤں کے قاتل آج تک نہیں پکڑے جاسکے، کراچی میں میں ٹارگٹ کلنگ میں قتل ہونیوالے سینکڑوں لوگوں کے قاتل پکڑے نہیں جاسکے۔ بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں عرصہ دراز سے ہونیوار خود کش دھماکوں کے نشانات ڈھونڈے نہ جا سکے۔ قاتل تو دور کراچی میں ہونے والے سٹریٹ کرائمز کرنے والے تک گرفتار نہ ہو سکے مگرجب غلامی کرنے پر آئیں تو انکل ٹرمپ کی خدمت میں ان کا مجرم محض کچھ ہی گھنٹوں میں پکڑ کر حوالےکر دیا گیا جس پر آج ٹرمپ پاکستان کا خصوصی شکریہ ادا کر رہا ہے کہ ہمارے انتہائی مطلوب مجرم کو ہمارے حوالے کر دیا گیا ہے۔ہماری بہن پاکستانی خاتون ڈاکٹر عافیہ صدیقی آج بھی امریکی قید خانے میں بے حد اذیت ناک زندگی گزار رہی ہے مگر ہم خاموش ہیں۔کسی سابقہ امریکی صدرنے ٹھیک کہا تھا کہ یہ پاکستانی چند پیسوں کی خاطر اپنی ماں کو بھی بیچ سکتے ہیں وقت نے ایک بار پھر آج ثابت کر دیا ہے۔یہ ریاست کے فیصلے ہیں، اداروں کے فیصلے ہیں.حکومتوں کے فیصلے ہیں اور یہ ایوانوں میں بھاشن جھاڑنے والے لیڈرز خواہ وہ کسی بھی جماعت سے تعلق رکھتے ہوں سب ایک ہی جھنکار پر ناچتے ہیں جب آواز آتی ہے۔” ہم تم کو ڈالر دے گا ڈالر ! ”

    ہم سب پاکستان کی اپنی اور اپنی نسلوں کی تباہی خاموش تماشائی بن کر دیکھ رہے ہیں ، بجلی ، گیس ، پانی کے بلوں میں ناجائز بے حد اضافہ، ٹیکس غریب کا گلہ گھونٹ رہے ہیں، روٹی سے لے کر کفن تک ٹیکس ادا کرنے والی قوم کا بچہ پیدا ہوتے ہی مقروض ہیں،مگر ہم خاموش ہیں،ظالموں کے ظلم کو ہماری خاموشی تقویت بخش رہی ہے، یہ کیسا خوف ہے جو ہمیں ہماری تباہی کے ذمہ داروں کا ساتھی بنا رہا ہے۔حضرت علی کا فرمان ہے۔، قبرستان بھرے پڑے ہیں ایسے لوگوں سے جو حق کیلئے اس لیئے کھڑے نہ ہوئے کہ کہیں وہ مارے نہ جائیں ؟لہذا خاموشی کو محفوظ پناہ گا ہ سمجھنا ہمیں نہ صرف خود کا مجرم بنارہا ہے بلکہ یہ بزدلانہ عمل ہی ہماری تباہی کا اصل ذمہ دار ہے ہمیں بلا کسی خوف کے حق کیلئے یکجا ہو کر ظالموں کے ہاتھ کاٹنے کی ضرورت ہے۔

  • تہواروں پر حقیقی سکون اور خوشی حاصل کرنے کا طریقہ .ملک سلمان

    تہواروں پر حقیقی سکون اور خوشی حاصل کرنے کا طریقہ .ملک سلمان

    گذشتہ روز ہر کوئی نئے کپڑے زیب تن کیے عید کی خوشیاں منانے میں مشغول تھا، بینک کے اے ٹی ایم پر گیا تو بینک گارڈ کو دیکھا کہ وہ نئے کپڑوں کی جگہ اپنی وردی میں کھڑا تھا۔ میں نے پوچھا کہ انکل جی آپ کو عید کی چھٹی نہیں ملی اس نے کہا کہ سر اتنی قسمت کہاں دو میں سے کسی ایک عید کی ہی چھٹی ملتی ہے۔ میں نے پیسے نکلواتے وقت فیصلہ کیا کہ اگر کوئی عیدی کا حقدار ہے تو ایسے لوگ ہیں جو اپنے گھر اور خاندان سے دور رہ کر اپنی عید قربان کرکے رزق حلال کما رہے ہیں۔میں نے اسے پیسے تھماتے ہوئے کہا کہ چاچا عیدی اس نے دعائیں دیتے ہوئے شکریہ ادا کیا۔ اسی طرح چند اور مقامات پر ڈیوٹی پر مامور افراد کو عیدی دی۔ خاص طور پر لاہور اور گاؤں دونوں جگہ گھریلو ملازمین اور محلے کے گارڈ کو عیدی دی۔ رات کو دوستوں کے ساتھ کھانا کھانے کیلئے ریسٹوران کا رخ کیا تو وہاں بھی ویٹر کو روٹین سے زیادہ ٹپ بطور عیدی دی۔ ان تھوڑی تنخواہ والے ملازمین کو تھوڑی سی رقم بطور عیدی دیکر نیکی کی فوری قبولیت کا احساس ہوا۔ یقین کریں قبولیت کا احساس نماز، روزہ اور عبادات سے بھی زیادہ تھا، حقیقی سکون اور خوشی۔

    نماز، روزہ اور عبادات لازم ہیں اور ریگولر کرتے بھی ہیں اس کے باوجود اللہ سے قبولیت کیلئے دعا گو بھی ہوتے ہیں لیکن ایسے لوگوں کے ساتھ نیکی کرتے وقت پتا نہیں کیوں ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اللہ عبادات بھی ایسے اعمال سے ہی قبول کرے گا۔ چند ہفتے قبل دوران سفر ایک مسجد میں جمعہ کی نماز کیلئے رکا، گاڑی سے مصلیٰ (جائے نماز) لی، جمعہ کی دوسری اور آخری رکعت میں سلام پھیرنے سے چند لمحے قبل ایک نمازی ساتھ شامل ہوا اور میرے ساتھ سڑک پر تشہد کی حالت میں بیٹھ گیا، میں سفر میں بھی تھا اور جلدی بھی تھی لیکن سوچا کہ ”سلمان“ اللہ ایسا جلدی والا جمعہ قبول کرے نہ کرے لیکن اس بندے کو نماز کیلئے مصلیٰ دینے سے اللہ ضرور راضی ہو گا، میں سلام پھیر کر کھڑا ہوگیا اور جائے نماز اسکی طرف کردی کہ اپنی نماز مکمل کرلو یقین کریں واقعی ایسا ہوا، بہت سکون ملا کہ اللہ نے یہ عمل ضرور قبول کیا ہوگیا۔ مجھے لگتا ہے کہ اللہ نے عبادات کا اصل مقصد انسانیت ہی رکھا ہے اگر نماز اور عبادات کے بعد بھی ہم میں احترام انسانیت نہیں تو پھر اپنا محاسبہ اور اصلاح کی ضرورت ہے۔ مجھے بینک کے پریمئم ورلڈ کارڈ پر اچھا خاصا ڈسکاؤنٹ مل جاتا ہے، روٹین میں کسی نہ کسی بیکری سے ڈسکائنٹ پر بریڈ لیکر گاڑی میں رکھ لیتا ہوں جہاں کوئی کتا، بلی یا جانور نظر آتا ہے گاڑی آہستہ یا روک کر اسے کھلا دیتا ہوں یقین کریں ان بے زبان جانوروں کو معمولی سا کھانا کھلا کر جو تسکین ملتی ہے اس کا کوئی حساب نہیں۔ ریسٹوران پر جاتا ہوں تو اگر کھانا بچ جائے تو پیک کروا کر خود راستے میں کسی نہ کسی جانور کو کھلا دیتا ہوں۔
    ہر عید پر نئے کپڑے پہنتے ہیں شاپنگ کرتے ہیں، عید آتی ہے اور گزر جاتی ہیں لیکن جس عید پر حقیقی خوشی ملی وہ 2005کی عید ہے۔ اکتوبر2005کے زلزلے میں اپنے گھر سے کمبل رضائیاں، کھانے کی اشیاء سمیت اچھا خاصاسامان لیا۔ ابو، امی، بہن بھائیوں سب کے نئے کپڑے اور جوتیاں زلزلہ زدگان کو عطیہ کرنے کا فیصلہ کیا۔ میں اسلامیہ کالج سول لائنز لاہور پڑھتا تھا تو اسلامی جمیعت طلبہ نے زلزلہ زدگان کی مدد کیلئے ”عید کاروان“ روانہ کرنا تھا۔ عید کاروان کیلئے بہت سارے طلبہ رضاکارانہ طور پر مدد کیلئے جارہے تھے ضلع قصور سے میں، جواد سلیم اور عرفان چوہدری بھی کاروان میں شامل ہوگئے۔ اپنے نئے کپڑے زلزلہ زدگان کو عطیہ کرکے خود پرانے کپڑوں کے ساتھ گھڑھی حبیب اللہ بالاکوٹ آزاد کشمیر میں لوگوں کی مدد کرتے ہوئے گزاری اس عید کی حقیقی خوشی کو آج بھی محسوس کرسکتا ہوں۔
    میرے قریبی دوست اکثر کہتے ہیں کہ آپ اشرافیہ اور بدمعاشیہ سے جتنے پنگے لیتے ہیں غریبوں اور بے زبان جانوروں کی دعائیں ہی ہیں جو آپ کو بچا دیتی ہیں۔

  • آن  لائن گینگز  بچوں کو کیسے نشانہ بنا رہے،والدین خبردار

    آن لائن گینگز بچوں کو کیسے نشانہ بنا رہے،والدین خبردار

    آن لائن دنیا میں ہر لمحہ کچھ نیا اور حیران کن ہو رہا ہے، لیکن حالیہ برسوں میں ایک انتہائی خطرناک رجحان سامنے آیا ہے، جو نوجوانوں، خاص طور پر لڑکیوں کے لیے شدید خطرے کا باعث بن رہا ہے۔ یہ "کام” (Com) نامی آن لائن گروہوں کی ایک ایسی شیطانی دنیا ہے، جہاں نوعمر لڑکے ایک دوسرے سے زیادہ سفاک اور ظالمانہ بننے کی دوڑ میں شامل ہو رہے ہیں۔

    جو* نامی ماں کو ایک سال تک یہ معلوم نہ ہو سکا کہ اس کی بیٹی میری* "کام” کے چنگل میں پھنس چکی ہے۔ میری کو دھوکہ دے کر خود کو نقصان پہنچانے اور بچوں کے جنسی استحصال کے مواد بھیجنے پر مجبور کیا گیا۔ جو کے مطابق، اس ظلم نے میری پر خوفناک اثر ڈالا، وہ نیند سے محروم ہو گئی، دوستوں سے الگ تھلگ ہو گئی اور اس کا وزن تیزی سے کم ہونے لگا۔جو تمام والدین کو اس خطرے سے آگاہ کرنا چاہتی ہیں اور ان کا مشورہ ہے کہ بچوں کو انٹرنیٹ تک رسائی دینے میں دیر کریں اور زیادہ سے زیادہ پیرنٹل کنٹرولز کا استعمال کریں۔

    آن لائن گینگز کے بھیانک حربے
    "کام” ان بچوں کو نشانہ بناتا ہے جو جذباتی طور پر کمزور ہوتے ہیں، انہیں دھوکہ دے کر گھناؤنے مطالبات کیے جاتے ہیں، اور پھر دھمکیاں دے کر مزید خطرناک مواد مانگا جاتا ہے۔ میری بھی اسی جال میں پھنس چکی تھی۔
    جو نے بتایا کہ "میں خوفزدہ تھی کہ اگر میں اس کا موبائل لے لوں گی تو وہ خودکشی کر لے گی، اس لیے میں نے اکثر اس پر یقین کرنے کا فیصلہ کیا۔”

    یہ گینگ کیسے کام کرتے ہیں؟
    "کام” کے پیچھے کوئی ایک لیڈر نہیں ہے بلکہ یہ مختلف گروہوں کا ایک نیٹ ورک ہے۔ نیشنل کرائم ایجنسی (NCA) کے مطابق، ان گروہوں میں زیادہ تر نوعمر لڑکے شامل ہیں، جو سائبر کرائم، فراڈ، مالویئر اٹیک اور جنسی استحصال جیسے گھناؤنے جرائم میں ملوث ہیں۔این سی اے کے ڈائریکٹر جیمز بیبج کے مطابق: "ہم نے دیکھا ہے کہ ہزاروں صارفین لاکھوں پیغامات میں جسمانی اور جنسی تشدد پر گفتگو کر رہے ہیں۔ یہ ایک تیزی سے بڑھتا ہوا خطرہ ہے۔”

    سلی* نامی ماں کی 12 سالہ بیٹی بھی "کام” کے نشانے پر تھی۔ ابتدا میں بات چیت معمولی تھی، مگر آہستہ آہستہ گفتگو خودکشی، ذہنی صحت اور جسمانی نقصان تک جا پہنچی، اور آخرکار اس سے برہنہ تصاویر مانگی گئیں۔جب سلی کو اس بارے میں معلوم ہوا تو وہ سکتے میں آگئی۔ اس کی بیٹی ابھی تک صدمے اور شرمندگی میں مبتلا ہے۔

    "کام” بین الاقوامی سطح پر کام کرتا ہے اور اس کے کچھ ممبران برطانیہ میں بھی موجود ہیں۔2024 میں، ویسٹ سسیکس کا رہائشی 18 سالہ کیمرون فنیگن "کام” سے جڑے جرائم میں ملوث پایا گیا اور اسے 6 سال قید کی سزا دی گئی۔ اس پر دہشت گردی کے مواد رکھنے، بچوں کی فحش تصاویر رکھنے اور خودکشی کی ترغیب دینے کے الزامات ثابت ہوئے۔سائبر کرائم کی تحقیقات میں شامل "کیلی” نامی ایک ماہر کے مطابق: "ان چیٹس کو پڑھنا بدترین تجربہ تھا۔ تصاویر سے زیادہ خوفناک چیز وہ گفتگو تھی جو یہ مجرم کر رہے تھے۔”

    "کام” میں شامل افراد نوجوانوں کو بلیک میل کرنے کے لیے "ڈاکسنگ” (ذاتی معلومات لیک کرنا) اور "سواٹنگ” جیسے حربے استعمال کرتے ہیں۔ سواٹنگ میں جھوٹی شکایات درج کروا کر پولیس کو کسی کے گھر بھیج دیا جاتا ہے، جس کے نتیجے میں بعض اوقات جان لیوا واقعات بھی پیش آ سکتے ہیں۔اس کے علاوہ، "کام” کے کچھ ممبران "روبلوکس” جیسے بچوں کے آن لائن گیمز میں شامل ہو کر معصوم بچوں کو ورغلاتے ہیں، ان سے جنسی استحصال کرتے ہیں، اور پھر انہیں بلیک میل کیا جاتا ہے۔

    جب اس حوالے سے ٹیلی گرام، ڈسکارڈ اور روبلوکس سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے بتایا کہ وہ مسلسل نقصان دہ مواد کی نگرانی کر رہے ہیں اور "کام” سے منسلک گروپس کو ڈیلیٹ کیا جا رہا ہے۔ ٹیلی گرام کے مطابق، فروری 2024 میں تمام "کام” گروپس کو ڈیلیٹ کر دیا گیا اور مزید مانیٹرنگ جاری ہے۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ آن لائن دنیا میں بچوں کے ساتھ دوستانہ گفتگو کرنا بے حد ضروری ہے۔ جیمز بیبج کے مطابق: "ہم یہ سمجھتے ہیں کہ اگر کوئی بچہ گھر میں انٹرنیٹ استعمال کر رہا ہے تو وہ محفوظ ہے، مگر حقیقت اس کے برعکس ہے۔”سلی نے والدین کو متنبہ کرتے ہوئے کہا: "آپ اپنی اولاد کو کھو سکتے ہیں۔ ہمیں مل کر اس کے خلاف کام کرنا ہوگا تاکہ ہمارے بچے محفوظ رہیں۔”ماہرین کے مطابق، حکومت، اسکولز، سوشل میڈیا کمپنیوں اور والدین کو مل کر اقدامات کرنے کی ضرورت ہے تاکہ "کام” جیسے خطرناک نیٹ ورکس کو جڑ سے اکھاڑا جا سکے۔