Baaghi TV

Category: معاشرہ و ثقافت

  • کتاب، بارش اور پلاؤ،لفظوں میں بسی ایک شام.تحریر:رضوانہ چغتائی

    کتاب، بارش اور پلاؤ،لفظوں میں بسی ایک شام.تحریر:رضوانہ چغتائی

    باہر سنبل کے درخت کی شاخیں بوجھل ہو رہی ہیں، .. بارش کی نرم بوندیں کھڑکی کی جالی سے چھن کر اندر آ رہی ہیں، ہلکی سی ٹھنڈک بھی ہوا میں گھلی گھلی سی ہے۔۔۔۔ سنبل کے درخت پر بارش کا پانی موتیوں کی طرح چمک رہا ہے، مٹی کی سوندھی خوشبو جیسے پورے ماحول کو اپنے سحر میں جکڑ چکی ہے۔…
    میں کھڑکی کے پاس بیٹھی ہوں, گلابی سنبل کے پھول بارش میں بھیگ کر اور زیادہ نکھر گئے ہیں۔۔۔کہنی کھڑکی کی لکڑی پر ٹکاتی ہوں اور ریشم کے پھول بغور دیکھتی ہوں۔۔۔ سبحان اللہ۔۔۔اس قدر خوبصورت۔۔۔ سوال ابھرتا ہے ذہن میں کیا واقعی ان سے ریشم نکلتی ہے۔۔۔۔ کیسے۔۔۔۔، دل جواب دیتا ہے ، اللہ کے حکم سے۔۔۔ جیسے اللہ رات میں سے دن کو طلوع کرتے ہیں ،ویسے ان میں سے ریشم بھی بنانے پر قادر ہیں۔۔۔۔میرے سامنے کی سڑک پانی میں بھیگی ہے۔۔۔۔ تارکول کی سیاہ سڑک پہ نگاہیں جمائے دوبارہ سوچتی ہوں شاید دور کسی گھر کی کھڑکی سے بھی ایک اور روح شاید اسی منظر کو دیکھ رہی ہو، اپنے انداز میں، اپنے خیالات میں۔۔۔۔ محبت کے کئی اور رنگ اوڑھ رکھے ہوں شاید۔۔۔۔۔

    میرے سامنے پلاؤ کی ایک پلیٹ رکھی ہے، گرم چاولوں سے اٹھتی بھاپ میں زیرہ، دارچینی اور لونگ کی خوشبو ملی ہوئی ہے۔ ایک نوالہ لیتے ہی زبان پر نمکین سا ذائقہ بکھر جاتا ہے، اور دل بےاختیار کہتا ہے۔۔۔۔الحمدللہ! کیسا کرم ہے رب کا کہ زمین سے پیدا ہونے والے دانے یوں ذائقہ، خوشبو اور تسکین میں ڈھل جاتے ہیں۔

    بارش کے موسم میں پلاؤ کا مزہ کچھ اور ہی ہوتا ہے، خاص طور پر جب ہر نوالے کے ساتھ باہر کا بھیگا منظر اور اندر کی خاموشی ایک ساتھ محسوس ہو۔ لیکن اس پورے منظر میں جو سب سے قیمتی چیز ہے، وہ میرے ہاتھ میں کھلی کتاب ہے۔۔۔۔

    کوئی بھی کتاب صرف صفحات کا مجموعہ نہیں ہوتی، بلکہ ایک ایسی دنیا ہوتی ہے جہاں لفظ زندہ ہیں، جہاں کہانیاں سانس لیتی ہیں، اور جہاں حقیقت اور تخیل کے درمیان کی سرحد مدھم ہو جاتی ہے۔ میں جیسے جیسے ورق پلٹتی ہوں، لفظ میرے اندر اترتے جاتے ہیں، میرے خیالات میں، میری روح میں، میرے وجود میں۔۔۔۔کبھی کسی جملے پر دل ٹھہر جاتا ہے، کبھی کسی کہانی میں خود کو پا لیتی ہوں، اور کبھی کوئی لفظ مجھے وہ جواب دے دیتا ہے جس کی تلاش میں جانے کب سے تھی۔۔۔۔۔ یا شاید کتاب مجھے تلاش کرتے کرتے مجھ تک پہنچ جاتی ہے۔۔۔ یا ہم میں سے ہر کسی کے پاس اس کے نصیب کے لفظ پہنچ جاتے ہیں ۔۔۔۔ راستہ دکھانے ۔۔۔ ہے نا

    کتابیں صرف پڑھنے کے لیے نہیں ہوتیں، یہ وہ روشنی ہوتی ہیں جو زندگی کے اندھیروں میں راستہ دکھاتی ہیں۔ یہ وہ خاموش دوست ہوتی ہیں جو بغیر کسی صدا کے بولتی ہیں، بغیر کسی شرط کے ساتھ دیتی ہیں، اور بغیر کسی رشتے کے زندگی کا حصہ بن جاتی ہیں۔

    الحمدللہ! کیسے خوبصورت ہیں یہ لفظ، کیسی سائبان ہیں یہ کہانیاں، اور کیسا مہربان ہے وہ رب، جس نے لفظوں میں بھی روشنی رکھ دی۔۔۔۔ یہ لمحات ، یہ تصویر کہیں میرے اندر جذب ہو گئی ہے،ایسا لگا ہے جیسے کہ وقت نے میرے لئے کچھ دیر کے لیے اپنی رفتار سست کر دی ہو۔ باہر موسم شاعری جیسا ہے، اور اندر دل کسی ان کہی کہانی کے سحر میں گرفتار، کتاب کی گفتگو، اور میرے اردگرد اللہ کی بےشمار نعمتیں— مٹی کی سوندھی خوشبو اور پلاؤ کا ذائقہ ۔۔۔۔ الحمدللہ ، ثم الحمدللہ۔۔۔۔!!!!
    دل بے اختیار سرگوشی کر رہا ہےنا۔۔۔۔
    فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ
    (پس تم اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے؟)
    بقلم خود: رضوانہ چغتائی

  • مرے لہو کو چھڑک دو تمام گلشن میں.تحریر: مبشر حسن شاہ

    مرے لہو کو چھڑک دو تمام گلشن میں.تحریر: مبشر حسن شاہ

    (قصہ درد 2)
    کچھ روز پہلے قلم سے سر قلم کروانے کا شوق اچانک انگڑائی لے کر بیدار ہوا تو قصہ درد کہہ ڈالا، پنجاب حکومت، محکمہ تعلیم اور وزیر تعلیم کو مخاطب کر کے اساتذہ کا مقدمہ لڑنے کی کوشش کی۔ اس کے بعد ایک معاشرتی موضوع پر لکھنے کی کوشش کی لیکن طبیعت میں وہ روانی نہ تھی۔ کچھ کمی تھی۔ تبھی عنوان بہ ہیت شعر آیا
    میرے لہو کو چھڑک دو تمام گلشن میں میری وفاوں پے انگلی اٹھا رہا ہے کوئی آج دوبارہ سوچا تو خیال آیا کہ قصہ درد ایک نہیں یہ تو داستان امیر حمزہ سے طویل اور بلبل ہزار داستاں سے ضخیم ہے۔ سابقہ تحریر پر کچھ قارئین نے رائے دی ہے کہ الفاظ کا انتخاب آسان کریں ۔ ان کی رائے کا بھی شکریہ۔ شعروں کے انتخاب نے رسوا کیا مجھے کے مصداق کچھ ایسا ہی انتخاب
    پچھلی تحریر میں الفاظ ہوا
    خیر قصہ مختصر آج کا موضوع مالی معاملات حکومت اور اساتذہ سے جڑا ہے۔ سرکاری سکولز میں بیس روپے ماہانہ فروغ تعلیم فنڈ کے نام سے ہر طالب علم سے لیا جاتا ہے۔ جن طلباء کے بارے ہیڈ ماسٹر کو علم ہو وہ یہ 20 روپے کی خطیر رقم بیک جنبش قلم معاف بھی کر سکتا ہے۔ آہ ہمارے چھوٹے چھوٹے اختیارات اب وصولی ایف ٹی ایف یعنی فروغ تعلیم فنڈ حکومت و محکمہ کے احکامات ہیں کہ اسے بینک میں جمع کرایا جائے 5000 روپے سے زائد رقم چوبیس گھنٹے سے زائد پاس رکھنا محکمانہ اجازت نہ ہے. اس رقم کو سکول کے اکاونٹ میں جمع کرایا جاتا ہے پھر اخراجات کے لیے دوبارہ بذریعہ چیک نکلوایا جاتا ہے۔ ایک اور اکاونٹ نان سیلری بجٹ NSB ہے ، جو کہ سکول کے نام پر بینک میں کھولا جاتا ہے۔ یہاں سے وہ رام کہانی شروع ہوتی ہے جس کو پڑھ کر بقول مشتاق یوسفی( مرد قتل کردیتے یا ہیں خودکشی) سکول مینیجمنٹ کونسل کے نام سے مقامی افراد کی ایک کمیٹی ہر سکول میں موجود ہے جس کا ہر ماہ اجلاس ہوتا ہے اس کمیٹی کا مقرر کردہ رکن این ایس بی اور ایف ٹی ایف فنڈز دونوں اکاونٹس کا شریک دستخط یعنی کو سگنیٹری ہوتا ہے۔ شریک چئیرمین کے دستخط بینک میں جوائنٹ اکاونٹ میں اپ ڈیٹ کرانے کے لیے نئی بینکنگ پالیسی کے تحت ہیڈ کی سیلری سلپ اور کو سگنیٹری کی آمدن کے ثبوت کے لیے اس کی زمین زرعی کا فرد یا کوئی بھی آمدن کا ثبوت دینا ہوتا ہے۔ اب لطیفہ یہ ہے کہ دونوں اکاونٹس کی آمدن گورنمنٹ کے فنڈَز سے ہے لیکن بینک پتہ نہیں کیا سمجھ کر ڈیل کر رہے ہیں۔

    خود پر بیتی ایک داستاں سناتا کہ چند سال پہلے ایک بینک منیجر نے این ایس بی اکاونٹس کے بارے خطاب کرتے ہوئے فرمایا تھا کہ یہ بے نامی اکاونٹس عنقریب بند کر دیے جائیں گے عرض کی یہ پنجاب حکومت کے بی ہاف پر کھولے گئے ہیں ارشاد ہوا ہیں تو بے نام اکاونٹس سے ملتے جلتے نہ کوئی انسانی اکاونٹ ٹائٹل نہ آمدن کا کوئی واضح ذریعہ۔ خیر یہ تو حکومت پنجاب، اور تعلیم کے محکمہ میں وزارت کے لیول کی نا اہلی ہے۔ آگے چلتے ہیں۔ ہر خریداری جو ان اکاونٹس سے کی جائے اس پر مختلف رقم پر مختلف ٹیکس دینا لازمی ہے۔ یعنی پہلے لاہور سے رقم سکولز کے اکاونٹس میں اور پھر اسی رقم پر ٹیکس باالفاظ دیگر حکومت ہی حکومت سے ٹیکس لے رہی۔ اساتذہ ٹیکس نہ دیں تب بھی مرتے اور دیں تو ایک نئی داستاں۔ چلیں یہ تو ہوئی انتطامی نا اہلی۔ اب رقم بینک سے بذریعہ چیک نکلوانے کے لیے سب سے پہلے تو سکول کونسل کا اجلاس منعقد ہوتا ہے جس میں اس امر کی توثیق کی جاتی ہے کہ پیسے نکلوانے کی واقعی ضرورت ہے اس کے بعد اس اجلاس سے ایک دو یا تین رکنی کمیٹی برائے خریداری بذریعہ منظور شدہ رقم تشکیل پاتی ہے۔ پھر ہیڈ یا کو سگنیٹری بینک جا کر رقم نکلواتے ہیں اب چونکہ 5000 سے زائد کیش پاس رکھنا ممنوع ہے لہذا رقم نکلوانے کے فوراً بعد مطلوبہ شے کو تلاش کر کے اس کی خرید و ادائیگی ہوتی ہے ساتھ سی نیا کام شروع اب بل لینا ہے اور بل پر رقم سکول کانام پتہ مقدار شے نرخ۔ الگ و واضح درج ہوں دوسرے بل پر رسید ادائیگی ہو اب ان دونوں بلز کو لاکر اخراجات کے بلز کی فائل میں محفوظ کرنے سے پہلے بل کی پشت پر ایک مرتبہ پھر چند ایس ایم سی ممبران اور ہیڈز دستخط کریں گے اور رسیدی ٹکٹ بھی لگایا جائے گا۔ جو چیز جس مقصد کے لیے خریدی گئی اگلے اجلاس میں وہ کمیٹی کو معائنہ و ملاحظہ کرائی جائے گی اور اجلاس کی کاروائی تحریر کر کے اس پر ایک بار پھر دستخط ہوں گے۔

    اب چلتے ہیں حکومتی و محکمانہ ہدایات کی طرف کہ خریداری صرف اس دکان سے کریں جو این ٹی این رجسٹرڈ ہو ٹیکس کے معاملات میں ایڈوانس ٹیکس ادا کر رہی ہو اور جب ان کے ہاتھ سکول ہیڈز آتے تو وہ ایڈوانس ٹیکس جمع کرا چکے ہوتے لہذا وہ رقم بھی اوور چارجنگ کر کے پوری کی جاتی یا اشیاء کی کوالٹی کم کر دی جاتی۔ اگر خریداری خود کی تو شرح ٹیکس کے حساب سے اس شے کی قیمت کے ساتھ ٹیکس الگ جمع کرانا لازمی ہے۔ یعنی پہلے ایک ادارہ یعنی محکمہ تعلیم اپنے زیر سرپرستی چلنے والے اداروں کو رقم دیتا ہے۔ اس رقم کو بینک اپنی پالیسی کے تحت الگ سے ماہانہ یا سہ ماہی 49 روپے، 35 روپے کٹوتی کرتا ہے پھر وہی رقم کیش ہو کر حکومت کو کچھ حصہ ٹیکس کی شکل میں واپس کر دیا جاتا ہے۔ بک رہا ہوں جنوں میں کیا کیا، کچھ نہ سمجھے خدا کرے کوئی۔ قصہ درد جاری ہے۔ درخت کاٹنا وہ بھی سکول میں پرانے اساتذہ کے مطابق بندہ مارنے کے برابر جرم ہے۔ اب بڑا درخت بعض دفعہ کٹوانا لازم ہو تو،
    (کیونکہ چاردیواری کے قریب یا پانی کے بور کے نزدیک جڑیں و ٹہنیاں مسائل بناتی ہیں ) اب اس جرم ضعیفی کی سزا سنیں۔

    سب سے پہلے وہی اجلاس سکول کونسل، پھر من ترا حاجی بگویم تو مرا حاجی بگو کے مصداق اجلاس میں تائید اس کے بعد چین آف کمانڈ کو ملحوظ خاطر رکھ کر اسسٹنٹ ایجوکیشن آفیسر کو درخواست اس کی منظوری کے بعد ڈپٹی ڈسٹرکٹ ایجوکیشن سے منظوری۔ ٹھہریں۔۔۔۔۔ دلی ہنوَز دور است۔ اب ڈپٹی ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر محکمہ جنگلات کو لیٹر لکھے گا اس کے بعد محکمہ جنگلات اپنے سٹاف کے ذریعے سکول کا وزٹ کرے گا اور درخت کو جانچ کر اس کی متوقع قیمت مقرر کر کے ڈپٹی ڈی ای او کو تحریری رپورٹ دے گا اب ہیڈ کو کم از کم مقررہ ریٹ پردرخت بیچنے کی اجازت بذریعہ دفتر ایجوکیشن آفس ملے گی اور درخت کو (لکڑی) بیچ کر جو رقم ملے گی اسے اکاونٹ میں جمع کرانا لازمی چاہے کتنی ہی ضروری پیمنٹ ہو ایک دفعہ پیسے اکاونٹ ایف ٹی ایف میں جائیں گے پھر نکلوا لیجئے۔

    تماشا دیدنی ٹھہرا مگر دیکھے گا کون؟

    اب چلتے ہیں آڈٹ کی جانب اصول یہ ہے کہ مالی سال کے بلز باترتیب ایک فائل میں ہوں۔ فائل میں موجود بل پر مالک دکان کی مہر و دستخط ہوں۔ بل کی پشت پر ہیڈ اور کو سگنیٹری سمیت دیگر اراکین کے دستخط یوں۔ جس رقم کا آڈٹ ہو رہا ہے اس کو خرچ کرنے کی منظوری کا تحریری اجلاس ایس ایم سی درج ہو۔ سٹاک رجسٹر پر تحریر ہو ساتھ ہی ساتھ SIS سکول انفارمیشن سسٹم ایپ پر بھی چیک نمبر، تاریخ اور خریداری یا خرچ تحریر ہو۔ اس سارے لایعنی اور بے مقصد عمل سے مالی بے ضابطگی سے بچنے اور اخراجات شفاف کرنے میں مدد ملتی ( بقول بلکہ بحکم محکمہ تعلیم ). اس سارے عمل میں اتنی پیچیدگی ہے کہ شفاف ادائیگی بھی ضابطے کی کاروائی میں کے داو پیچ کی تاب نہ لاکر مشکوک ٹھہرتی جس سے ایک اور مسئلہ لاینحل کھڑا ہوتا ہے آڈٹ آبجیکشن۔ جس کے بعد ہیڈ ٹیچر کو لاہور، ضلع اور تحصیل کے درمیان شٹل کاک بنا دیا جاتا ہے ۔ اتنی زیادہ بے ترتیب اور لایعنی ہدایت کے بعد پڑھانے کے لیے نہ وقت ملتا ہی ہمت۔ تھک ہار کے جب سونے کو لیٹتے تو کسی نہ کسی نے سوشل میڈیا پر لکھا ہوتا اساتذہ کی تنخواہیں بہت زیادہ اور کام کم ہے۔ اللہ کے بندے ٹیچرز کی اوسط تنخواہ اس تمام عمل سے گزرنے کے باوجود، نوکری پر روز ایک شرط، پینشن غیر یقینی پھر بھی اگر زیادہ ہے تو بند کر دیں ویسے بھی بچتا تو کچھ نہیں بس دل کے بہلانے کو ہم بھی یہ نوکری کر رہے۔ اساتذہ کو ریلیف دینا ہے تو خدارا مشکل مبہم اور بے کار وقت ضائع کرنے والے ان کاموں سے ان کی جان چھڑوائیں بلکہ خود بھی چھوڑ دیں۔ خواتین ہیڈذ کبھی بینک کبھی آڈٹ میں پھنس کر گھر میں کام چھوڑ کر یہ تمام ضابطے کی کاروائی مکمل کرتے کئی مرتبہ دیر سے واپس جاتی ہیں غیر معمولی مسائل اور خانگی مسائل کے حوالے سے جس مشکل کا سامنا کرتی ہیں اس کا بھی احساس کم از کم حکومت کو نہیں۔ ویسے بھی حکومت کا تو کام ہی وہ کروانا کہ بندہ کرپٹ نہ ہوکر بھی جب ان بھول بھلیوں میں پھنسے تو مجبوراً کرپٹ ہوجاتا۔ آخری بات کہ خدا را اس عمل کو آسان کیجیے آڈٹ کا طریقہ بدلیں چیک اینڈ بیلنس کا نظام بھی بدلیں اس کے بعد جو کرپشن کرے بے شک نوکری سے نکال دیں لیکن یہ جو کچھ ہو رہا یہ ختم کریں
    اس کا جواب ایک ہی لمحے میں ختم تھا (پالیسی میٹرز)
    پھر بھی مرے سوال کا حق دیر تک رہا

    قوم کے معمار،ظلم وجبر کا شکار

  • رمضان میں خرچ کرنے کا ثواب.تحریر:نورفاطمہ

    رمضان میں خرچ کرنے کا ثواب.تحریر:نورفاطمہ

    رمضان المبارک کا مہینہ مسلمانوں کے لیے روحانی طور پر نہایت اہمیت کا حامل ہے۔ یہ مہینہ اللہ کی خاص رحمتوں، برکتوں، اور مغفرت کا ہے۔ رمضان کے دنوں میں ہر عمل کا اجر کئی گنا بڑھا دیا جاتا ہے۔ اس مہینے میں، جہاں روزہ رکھنا فرض ہے، وہاں ہمیں اپنی نیتوں کو صاف اور اپنے اعمال کو بہتر بنانے کی کوشش کرنی چاہیے۔حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ رمضان میں کئے جانے والے نیک اعمال کا اجر بہت زیادہ بڑھا دیا جاتا ہے، حتیٰ کہ اگر ہم کسی غریب، یتیم یا محتاج پر ایک روپیہ خرچ کرتے ہیں، تو اللہ اس عمل کا ستّر گنا زیادہ اجر عطا فرماتا ہے۔

    رمضان میں صدقہ دینے کی اہمیت بے شمار ہے۔ قرآن میں بار بار صدقہ دینے کی ترغیب دی گئی ہے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی صدقہ دینے کو بہت بڑا عمل قرار دیا۔ رمضان کے مہینے میں صدقہ دینے سے نہ صرف ہمارے گناہ معاف ہوتے ہیں بلکہ اللہ کی رضا اور خوشنودی حاصل ہوتی ہے۔حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”جو شخص رمضان کے مہینے میں ایک روپیہ کسی غریب یا محتاج پر خرچ کرتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کے اس عمل کو ستر گنا بڑھا دیتا ہے۔” (مسلم)اس حدیث سے یہ واضح ہوتا ہے کہ رمضان میں کیا گیا صدقہ ایک معمولی عمل سے کہیں زیادہ قیمتی ہو جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی عبادات کو قبول کرتا ہے اور ان کی نیک نیتی اور خلوص کو دیکھ کر ان کے اجر کو بڑھا دیتا ہے۔

    غریب اور محتاج لوگوں کی مدد کرنا انسانیت کی سب سے بڑی خدمت ہے۔ رمضان کے مہینے میں اگر ہم اپنی استطاعت کے مطابق کسی غریب کی مدد کرتے ہیں تو نہ صرف ہم اس کی زندگی میں خوشیاں لاتے ہیں بلکہ ہمیں اللہ کی رضا بھی حاصل ہوتی ہے۔ایک روپیہ بھی کسی کے لیے بہت قیمتی ہو سکتا ہے، خاص طور پر جب وہ غریب ہو۔ رمضان میں جب ہم غریبوں اور یتیموں کی مدد کرتے ہیں، تو اللہ تعالیٰ ہمیں اس عمل کا بے شمار ثواب عطا فرماتا ہے۔یاد رکھیں، رمضان میں کسی غریب کی مدد کرنا صرف مالی مدد نہیں بلکہ ان کے ساتھ حسن سلوک کرنا اور ان کے لیے دعائیں کرنا بھی صدقہ میں شامل ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”سب سے بہتر صدقہ وہ ہے جو کسی غریب یا محتاج کو دیا جائے۔”

    رمضان کے مہینے میں صدقہ دینے سے اللہ تعالیٰ ہمارے گناہوں کو معاف کر دیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ صدقہ دینے والوں کی دعاؤں کو قبول کرتا ہے اور ان کی زندگی میں برکتیں نازل کرتا ہے۔ کسی غریب پر خرچ کرنے سے نہ صرف وہ خوش ہوتا ہے بلکہ اس کا دل بھی سکون پاتا ہے، جس سے ہمارے دل میں بھی سکون آتا ہے۔ ہر نیک عمل کا مقصد اللہ کی رضا کا حصول ہونا چاہیے اور رمضان میں صدقہ دینے سے ہمیں اللہ کی رضا ملتی ہے۔شریعت میں اس بات کی وضاحت کی گئی ہے کہ جو بھی شخص اللہ کی راہ میں خرچ کرتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کے اس عمل کا ستر گنا زیادہ اجر دیتا ہے۔اگر آپ ایک روپیہ خرچ کرتے ہیں، تو اس کا ثواب ستر گنا زیادہ ہو جاتا ہے۔یعنی اگر آپ کسی غریب پر ایک روپیہ خرچ کرتے ہیں تو اللہ تعالیٰ آپ کے اس ایک روپیہ کو ستر گنا بڑھا کر آپ کے نامہ اعمال میں ڈال دیتا ہے۔ یہ عمل نہ صرف آپ کے دل کی سکونت کا باعث بنے گا بلکہ آپ کے روحانی درجات بھی بلند ہوں گے۔

    رمضان کا مہینہ ایک ایسا موقع ہے جب ہم اپنے دلوں کو صاف کر سکتے ہیں اور اپنے اعمال کی اصلاح کر سکتے ہیں۔ اس مہینے میں صدقہ دینے سے نہ صرف دنیا میں ہمارے رزق میں برکت آتی ہے بلکہ آخرت میں بھی ہمیں انعام ملتا ہے۔ اگر ہم رمضان میں کسی غریب پر ایک روپیہ خرچ کرتے ہیں، تو اللہ تعالیٰ اس عمل کا ستر گنا زیادہ ثواب دیتا ہے، جو ہمارے لیے ایک عظیم انعام ہے۔اس لیے رمضان میں صدقہ دینے اور غریبوں کی مدد کرنے کا عمل ہمیں چاہیے کہ اپنی زندگی کا حصہ بنائیں اور اس مہینے کو بھرپور طریقے سے اللہ کی رضا کے حصول کے لیے استعمال کریں

  • اپیل بنام وزیر اعلیٰ پنجاب ، انصاف دو، میرا صفدر علی مجھ سے چھین لیا گیا،تحریر:شاہد نسیم چوہدری

    اپیل بنام وزیر اعلیٰ پنجاب ، انصاف دو، میرا صفدر علی مجھ سے چھین لیا گیا،تحریر:شاہد نسیم چوہدری

    محترمہ وزیر اعلیٰ پنجاب، مریم نواز صاحبہ!
    آج میں ایک باپ کی حیثیت سے آپ کے در پر انصاف کی بھیک مانگنے آیا ہوں۔ میرا دل زخمی ہے، میری دنیا اجڑ چکی ہے، میری امیدوں کا چراغ بجھا دیا گیا ہے۔ میں حیدر علی، ایک مظلوم باپ، جس کے جگر کا ٹکڑا، 23 سالہ معصوم صفدر علی، ناحق قتل کر دیا گیا۔ وہ میرا خواب تھا، میری امید تھا، میرے بوڑھے کندھوں کا سہارا تھا، مگر اسے بے دردی سے چھین لیا گیا۔
    یہ کیسا انصاف ہے؟
    سمن آباد، فیصل آباد کی وہ سڑکیں، جو کبھی میرے بیٹے کے قدموں کی آہٹ پہ مسکراتی تھیں، آج سسک رہی ہیں۔ میرے صفدر کو نانا پاپا پیزا شاپ کے مالک کے حکم پر ایک بے حس سیکیورٹی گارڈ نے گولی مار دی۔ ایک ایسی گولی جو میرے بیٹے کے سینے میں اتری اور میرے دل کو چھلنی کر گئی۔ کیا یہ ہے قانون؟ کیا ایسے قتل عام کا کوئی حساب نہیں؟ کیا میرے بیٹے کا خون اتنا سستا تھا کہ کوئی بھی طاقتور شخص اپنی مرضی سے اسے بہا سکتا تھا؟صفدر علی کوئی بدمعاش یا جرائم پیشہ فرد نہیں تھا، وہ تو صرف اپنی محنت کی کمائی سے اپنے چھوٹے بہن بھائیوں کا پیٹ پال رہا تھا۔ اس کی مسکراہٹ، اس کے خواب، اس کے ارمان، سب ایک لمحے میں چھین لیے گئے۔ مجھے آج تک سمجھ نہیں آئی کہ میرے بچے کا قصور کیا تھا؟ وہ کیوں مارا گیا؟

    وزیر اعلیٰ صاحبہ، کیا میرا بیٹا قصوروار تھا؟
    آپ بھی ایک ماں ہیں، آپ بیٹے،بیٹیوں کی عزت کی داعی ہیں، آپ نے ہمیشہ خواتین، نوجوانوں اور محروم طبقات کے حق میں آواز بلند کی ہے۔ میں جانتا ہوں کہ آپ کو معلوم ہے کہ ایک ماں کے دل پر کیا گزرتی ہے جب اس کا لخت جگر اس کے سامنے خون میں لت پت ہو۔ مگر میں ایک باپ ہوں، اور میرا دل اس دکھ سے دوہرا ہو چکا ہے۔وزیر اعلیٰ صاحبہ! میری اہلیہ کا برا حال ہے، وہ دن رات اپنے بیٹے کے لیے رو رہی ہے۔ میری بیٹیاں اپنے بھائی کو یاد کر کے تڑپ رہی ہیں۔ ہم سب کو انصاف چاہیے۔ ہمیں بس یہی پوچھنا ہے کہ کیا ہمارے بچوں کا خون اتنا ارزاں ہو چکا ہے کہ کوئی بھی اثر و رسوخ والا شخص، کسی بھی دن، کسی بھی وقت ان کی جان لے سکتا ہے؟

    قاتلوں کو نشانِ عبرت بنایا جائے!
    ہمیں بتایا گیا ہے کہ قاتل گرفتار ہو چکے ہیں، لیکن کیا ان پر واقعی وہی قانون لاگو کیا جا رہا ہے جو کسی عام مجرم پر ہوتا؟ یا پھر وہ بااثر ہونے کی بنا پر کسی رعایت کے منتظر ہیں؟ بتانے والے بتاتے ہیں کہ حوالات میں وہ مہمانوں کی طرح بیٹھے ہیں۔۔۔۔۔میں یہ نہیں چاہتا کہ صرف مقدمہ درج ہو، میں یہ بھی نہیں چاہتا کہ صرف زبانی تسلیاں دی جائیں۔ میں انصاف چاہتا ہوں، وہ انصاف جو کھلی آنکھوں سے نظر آئے۔ میں چاہتا ہوں کہ میرے بیٹے کے قاتلوں کو سرعام پھانسی دی جائے، تاکہ آئندہ کوئی بھی شخص کسی ماں کے لعل کو یوں چھیننے سے پہلے ہزار بار سوچے۔یہ کیس صرف صفدر علی کا نہیں ہے، یہ ہر محنت کش کا کیس ہے، ہر اس باپ کا کیس ہے جو اپنے بچوں کے بہتر مستقبل کے لیے رات دن ایک کرتا ہے۔ اگر آج صفدر کے قاتل آزاد گھومتے رہے، اگر آج ان کو ان کے جرم کی سخت ترین سزا نہ دی گئی، تو کل کوئی اور صفدر علی مارا جائے گا، کوئی اور ماں اپنا بیٹا کھو دے گی، کوئی اور بہن اپنے بھائی کی جدائی میں آنسو بہائے گی۔میری اپیل، میری آخری امید
    محترمہ مریم نواز صاحبہ، میں آپ کے انصاف پر بھروسہ کرتا ہوں۔ میں جانتا ہوں کہ آپ اس کیس کو نظر انداز نہیں کریں گی۔ آپ کو اپنے صوبے کے شہریوں کے حقوق کی حفاظت کرنی ہے، اور میرے بیٹے کے قاتلوں کو عبرتناک سزا دلوا کر ثابت کرنا ہے کہ پنجاب میں قانون سب کے لیے برابر ہے۔میں آپ سے دست بستہ التجا کرتا ہوں:صفدر علی قتل کیس کو فوری طور پر دہشت گردی ایکٹ کے تحت ٹرائل میں لایا جائے۔
    ملزمان کو سرعام پھانسی دی جائے تاکہ دوسروں کے لیے نشانِ عبرت بنیں۔اس کیس کو فاسٹ ٹریک عدالت میں سنا جائے تاکہ میرے بیٹے کے خون کے ساتھ انصاف میں تاخیر نہ ہو۔نانا پاپا پیزا شاپ کو فوری طور پر سیل کیا جائے اور اس کے مالکان کو بھی برابر کی سزا دی جائے کیونکہ انہوں نے ایک معصوم جان کے قتل کا حکم دیا تھا۔سیکیورٹی گارڈز کے غلط استعمال پر سخت قانون سازی کی جائے تاکہ آئندہ کوئی غیر ذمہ دار شخص کسی کی زندگی سے نہ کھیل سکے۔

    وزیر اعلیٰ صاحبہ، میں ٹوٹ چکا ہوں، مگر انصاف کے لیے ابھی بھی کھڑا ہوں۔ مجھے امید ہے کہ آپ میری فریاد سنیں گی اور میرا دکھ بانٹیں گی۔ اگر آج انصاف نہ ملا تو کل یہ آگ کسی اور کے گھر پہنچے گی۔
    میں انصاف مانگتا ہوں، میں انصاف کا حق دار ہوں!
    اللہ آپ کو اس آزمائش میں سرخرو کرے اور آپ کو وہ ہمت دے کہ آپ ایک مظلوم باپ کے آنسو پونچھ سکیں۔حیدر علی، والد صفدر علی

  • 21 فروری: مادری زبانوں کا عالمی دن اور سرائیکی کا درخشاں مستقبل

    21 فروری: مادری زبانوں کا عالمی دن اور سرائیکی کا درخشاں مستقبل

    21 فروری: مادری زبانوں کا عالمی دن اور سرائیکی کا درخشاں مستقبل
    تحقیق و تحریر: ڈاکٹر محمد الطاف ڈاھر جلالوی
    altafkhandahir@gmail.com
    21 فروری کو "مادری زبانوں کے عالمی دن” کے طور پر منایا جاتا ہے۔اس دن کا مقصد دنیا بھر میں مختلف زبانوں کی اہمیت،افادیت اور تحفظ کے بارے میں آگاہی بڑھانا ہے۔خاص طور پر دنیا کی ان کی کمزور زبانوں کے وجود کی حفاظت کرنا ہے،جوخطرے میں ہیں۔اس دن کی بنیاد 1999ء میں اقوام متحدہ کے عالمی ادارے یونیسکو (UNESCO) نے رکھی تھی۔تاکہ زبانوں کی تنوع،علم وادب،عرفان وحکمت،روحانیت اور ثقافتی ورثے کی حفاظت کی جاسکے۔ماہرین لسانیات کے مطابق مادری زبان ایک فرد کی وہ زبان ہوتی ہے،جسے اس نے بچپن میں اپنے والدین یا قریبی لوگوں سے سیکھا ہو۔اور جو اُس کی روح، ثقافت،وجدان،شعور،تہذیب وتمدن اور شناخت کا لازمی حصہ ہوتی ہے۔مادری زبان کا تحفظ اس بات کی ضمانت ہے کہ قدیم انسانی نسل در نسل والدین کی دانش،اعلی اخلاق،تعلیم وتربیت،رسوم رواج،ادب،ثقافتی ورثہ اور تاریخ محفوظ رہیں گے۔

    21 فروری کو اس دن کا تعین اس لیے کیا گیا ہے کیونکہ 1952 میں بنگلہ دیش (سابق مشرقی پاکستان) کے دارالحکومت ڈھاکہ میں حکومت کے ذریعے بنگالی زبان کو سرکاری زبان کے طور پر تسلیم نہ کیے جانے پر طلباء نے احتجاج کیا تھا۔جس میں پولیس کی فائرنگ سے کئی افراد شہید ہوگئے تھے۔اس واقعے کی یاد میں 21 فروری کو مادری زبان کا عالمی دن منانے کی شروعات ہوئی۔اس دن کا مرکزی مقصد مادری زبانوں کی اہمیت کو اجاگر کرنا ہے۔کلچر اگر ایک جسم ہے تو اس کی روح روشنی زبان ہی ہوتی ہے۔ماں کا احترام دنیا کے ہر مذہب کا خوبصورت فلسفہ ہے۔انسانوں کی مختلف زبانیں،ثقافتیں اور روایات خوبصورت رنگ برنگے پھولوں کی مانند ہیں۔جس سے آپس میں اتحاد ویکجہتی اور محبت و خلوص کی خوشبو مہکتی ہے۔

    کائنات کے خالق حقیقی رب العزت جلال کریم نے انسانوں کی ہدایت کے لیے عملی مثالی کردار والے ہر عہد میں برگزیدہ انبیاء کرام علیہم السلام اجمعین کو ان کی مادری زبانوں میں تبلیغ کی اجازت فرمائی۔انسان میں اعلی ترین ذریعہ ابلاغ زبان ہے۔مادری زبان بہترین و آسان ترین کلیہ ہدایت وتربیت ہے۔بلاشبہ زبان کسی بھی انسان کی ذات اور شناخت کا اہم ترین جزو ہے اسی لیے اسے بنیادی انسانی حقوق میں شمار کیا جاتا ہے۔ایک تحقیق کے مطابق اس وقت دنیا بھر میں تقریباً ساڑھے چھ ہزار سے 7ہزار زبانیں بولی جاتی ہیں۔پاکستانی ماہرینِ لسانیات کے مطابق ملک بھر میں مختلف لہجوں کے فرق سے 74 زبانیں بولی جاتی ہیں۔

    سال2010ء کی ہایئر ایجوکیشن کمیشن رپورٹ کے مطابق پاکستان کی سب سے بڑی زبان سرائیکی کو مانا گیا ہے۔لفط سرائیکی سرسوتی سے نکلا ہے۔علم آثارقدیمہ ریسرچ مطابق موجودہ روہی چولستان کا ایک گمشدہ شہر گنویری والا دریائے ہاکڑہ سرسوتی تہذیب و تمدن کا تقریبا آٹھ ہزار سال قدیم تاریخی شہر ہے۔سرائیکی زبان کی ادبی روایت کئی صدیوں پر محیط ہے۔ حضرت بہاالدین زکریا ملتانی رحمتہ اللہ علیہ اور حضرت بابا فرید الدین مسعود گنج شکر ملتانی رحمۃاللہ علیہ کی سرائیکی شاعری دراصل کلاسک سرائیکی مادری زبان کی شناخت و عظمت کی گواہی ہے۔سرائیکی مہان کلاسک شاعر حضرت خواجہ غلام فرید رحمتہ اللہ علیہ سرائیکی زبان کا لازوال عروج ہے۔”میں تے یار فرید منیسوں رل مل شہر بھنبھور” سرائیکی خطے کے قدیم ہزار سالہ ادبی و ثقافتی دستاویز ہے۔لیکن صد افسوس کہ آج تک اس زبان کو وہ مقام و مرتبہ حاصل نہیں ہو سکا ۔جو اس کا اولین حق تھا۔یہ ادبی اعتبار سے کسی بھی دوسری زبان سے پیچھے نہیں ہے۔اس میں ہمارے مذہب اسلام،دین،فقہ،علم و ادب اور تہذیب و ثقافت کا بیش قیمت سرمایہ موجود ہے۔

    پاکستان کے ہر صوبے اور ہرضلع میں سرائیکی زبان بولی اور سمجھی جاتی ہے۔انڈیا میں کثیر تعداد میں سرائیکی زبان بولنے افراد رہتے ہیں۔سرائیکی زبان اب عالمی شہرت یافتہ زبان کا اعزاز حاصل کرچکی ہے۔سرائیکی وسیب میں ہر حملہ آور نے اس کے زرخیز خطے پر قبضہ کرنے کے لیے مقامی لوگوں کی زبان اور ثقافت پر شدید حملہ کیا۔مگر دھرتی واسیوں نے مکمل اعتماد و یقین سے ان کے عزائم خاک میں ملا دئیے۔سرائیکی علاقہ محبت و احترام آدمیت اور تصوف سے مالا مال ہے۔سرائیکی آکھان جو "مٹھاس تے وفا دا ڈوجھا ناں سرائیکی ہے”۔سندھ میں جس کو سرائیکی نہیں آتی اس کو ڈھگو کہا جاتا ہے۔

    انگریز نے فاتحانِ عالم کی طرح ہمت اور بہادری کے ساتھ برصغیر کو فتح نہیں کیا۔بلکہ تاجروں کا بھیس بدل کر روٹی کی بھیک مانگتے ہوئے بھارت میں آیا اور مغلیہ حکمرانوں کے سامنے دامن پھیلا کر تجارتی سہولیات حاصل کیں۔لیکن موقع ملتے ہی لٹیروں اور ڈاکوؤں کی طرح اپنے ہی محسنوں کے گھر پرقبضہ کر لیا۔انگریزنے قدم جمانے کے بعد مقامی زبانوں کو نظر انداز کر دیا۔یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ کسی قوم کو مٹانا ہو تو اس کی زبان مٹا دو‘‘ تو قوم کی روایات، تہذیب، ثقافت، تاریخ اور اس کی قومیت غرض سب کچھ مٹ جائے گا۔

    مادری زبان انسان کی شناخت، ابلاغ، تعلیم اور ترقی کا بنیادی ذریعہ ہے۔لیکن جب زبان ناپید ہوتی ہے تو اس کے ساتھ تہذیب و تمدن اور ثقافت کا بھی خاتمہ ہو جاتا ہے۔اسی لئے دنیا بھر میں ابتدائی تعلیم مادری زبان میں دیے جانے کا انتظام ہوتا ہے۔کیونکہ بچے کے ذہن میں راسخ الفاظ اس کے اور نظام تعلیم کے درمیان ایک آسان اور زود اثر تفہیم کا تعلق پیدا کر دیتے ہیں۔لیکن انگریزوں نے سرائیکی وسیب میں رائج نظامِ تعلیم کو ختم کرتے ہوئے پرائمری تک تعلیم کے لیے مقامی زبانوں سرائیکی،بلوچی،پنجابی،سندھی،پشتو، بلتی،گلگتی وغیرہ کی جگہ اردو زبان کو لازمی قرار دیا۔جبکہ فارسی کی جگہ انگریزی سرکاری زبان بنا دی گئی۔ انگریزی بولنے اور پڑھنے والے اعلیٰ تعلیم یافتہ کہلانے لگے۔جب کہ مقامی مادری زبانوں سے محبت کرنے والے مہذب اہل علم جاہل،جانگلی،ان پڑھ اور گنوار کہلانے لگے۔

    مادری زبان انسان میں احساس عزت و توقیر،غیرت، اخلاقی اقدار، سلیقہ،وفا، دلیری، ثقافت و تہذیب وتمدن اور وطن عزیز سے بے پناہ عقیدت پیدا کرتی ہے۔مگر انگریز نے غلامی کا وار اس انداز میں کیا کہ مسلمانوں کا صدیوں سے رائج نصاب بے وقعت ہو گیا۔ایک طرف مسلمان معاشی و سماجی طور پر دلد ل میں پھنستے چلے گئے تو دوسری طرف تعلیمی میدان میں انگریزی زبان کے فروغ کا زور و شور ان کو لے ڈوبا۔علم و عمل کی بنیاد پر برصغیر پر ہزار سال حکومت کرنے والی مسلم قوم کو ایک دم جاہل گنوار بنا کر رکھ دیا گیا۔انگریز کی اس کاری ضرب کی وجہ سے مسلمان اندھیروں میں ڈوبتے چلے گئے۔

    سرائیکی دھرتی کے عظیم ہیرو احمد خان کھرل شہید اور نواب مظفر خان شہید کو ڈاکو اور لٹیرے بنا کر پیش کیا گیا۔اِس طرح سرائیکی وسیب کی نئی نسل اپنی ہی مادری زبان اور ثقافت پر نازاں ہونے کی بجائے شرمندگی محسوس کرنے لگے۔انگریز نے ملتان پر قبضہ کیا۔ ملتان جو ہزاروں سال پرانی سرائیکی ریت وثقافت اور شناخت کا مرکز رہا۔جس کی گواہی آج کے ضرب المثل ہیں۔جو صدیوں سے سینہ بہ سینہ سرائیکی قوم میں منتقل ہورہے ہیں۔جئیں نہ ڈٹھا ملتان نہ او ہندو نہ او مسلمان”۔آگرہ اگر دلی مگر ملتان سب کا پدر”۔ناجائز قبضہ گیری نے یہاں کے لوگوں کو احساس کمتری میں مبتلا کردیا اور انگریزی و اردو زبان کو اتنا اونچا درجہ دے دیا گ،عوام دیسی زبانیں بولنے میں شرمندگی محسوس کرنے لگے۔

    مگر آج بھی نوآبادیاتی نظام کے خاتمے کے بعد بھی ہرشعبہ ہائے زندگی میں انگریزی کو ہی اہمیت دی جا رہی ہے۔اس میں کوئی شک نہیں کہ انگریزی ایک ترقی یافتہ اور جدید سائنسی علوم کے ذخیرے سے مالا مال زبان ہے۔لیکن یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ دنیا کی کسی بھی قوم نے اپنی زبان اور روایات چھوڑ کر کسی غیر کی زبان اور تہذیب و تمدن کو اپنا کر کبھی ترقی نہیں کی۔کیونکہ مادری زبان انسان کی شناخت، ابلاغ، تصوف،تعلیم اور ترقی کا بنیادی ذریعہ ہے۔لیکن جب زبان ناپید ہوتی ہے تو اسکے ساتھ ثقافتوں اور روایات کا بھی خاتمہ ہو جاتا ہے۔جس سوسائٹی میں دانشور اپنی دھرتی کے ساتھ جُڑے رہتے ہیں اور ان کا تعلق اپنی مٹی کے ساتھ مضبوط ہوتا ہے تو ان ممالک کی عوام اپنی ثقافت،زبان اور اپنی تاریخ پر فخر کرتی ہیں۔لہٰذا ہمیں ہر صورت اپنی ماں بولی کا بغیر کسی تعصب کے ضرورتحفظ کرنا چاہیے۔

    حکومتِ وقت مادری و علاقائی اور قومی زبانوں کے ادباء و شعراء اور محققین کی سرپرستی کرے۔ان کی تخلیقات کو سرکاری سطح پر شائع کیا جائے۔ اور اس کے ساتھ ساتھ دیگر عالمی زبانوں کی کتب کو قومی و علاقائی زبانوں میں ترجمہ کیا جائے۔تاکہ ہماری قوم اندھیروں سے نکل کر وقت کے ساتھ ساتھ دنیا میں اپنا آپ منوا سکے۔سرائیکی مادری زبان کا مستقبل روشن ہے کہ پاکستان میں مقامی زبانوں میں سب سے زیادہ کتابیں سرائیکی میں شائع ہورہی ہیں۔الحمداللہ 2011ء سے سرائیکی زبان کالجز سطح پر نصاب کا حصہ ہے۔یونیورسٹیوں میں سندھی،بلوچی،پنجابی
    ،پشتون زبانوں میں اے ڈی پی،بی ایس،ایم فِل اور پی ایچ ڈی پروگرامز کی طرح اب سرائیکی میں بھی یونیورسٹی سطح پر اعلی تعلیم وتربیت دی جاری ہے۔سرائیکی مضمون فرسٹ ائیر کے پہلے سٹوڈنٹس راقم الحروف کے بہاولنگر کالج کے ہی تھے۔اب پرائمری و مڈل اور میٹرک میں سرائیکی نصاب سازی کا خواب حقیقت رواں دواں ہے۔تاہم ان ڈگریوں کی معاشی اہمیت و افادیت کو محدود سمجھا جارہاہے۔ کیونکہ ماں بولی کے احترام کے سوا عملاً کچھ نہیں ملتا۔میرے نزدیک جو قوم آپنی ماں بولی،والدین اور وطن عزیز کی ہمیشہ خیر و سلامتی اور خوشحالی کے لیے عملی اقدامات کرتی رہے گی۔وہ قوم ہمیشہ عزت و وقار سے جیتی رہے گی۔ورنہ خود کسی غلام ہوکر خاک میں مل خاک بن صفحہ ہستی سے مٹ جائے گی۔

    سرائیکی زبان وادب کی آبیاری کے لیے جدید کلاسک شعراء کرام میں رفعت عباس،عاشق بزدار،جہانگیر مخلص،عزیز شاہد،ثاقب قریشی،شاہد عالم شاہد،سلیم صابر اورشاکر شجاع آبادی جیسے عظیم شاعر اہم کردار ادا کررہے ہیں۔نوجوان طبقہ اپنی زبان و ثقافت کے فروغ کیلئے عملی جدوجہد کررہے ہیں۔یہ اشارے شاندار مستقبل کی روشن دلیل ہیں۔ہر انسان اور ہر مادری زبان کا تحفظ ہم سب انسانوں کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔سرائیکی زبان کو فوری دیگر زبانوں کی طرح پی ایس سی،سی ایس ایس امتحانات میں شامل کیا جائے۔سکولوں میں فوری سرائیکی سیٹوں کا اشتہار دیا جائے۔سرائیکی خطے میں سرائیکی بنک اور سرائیکی یونیورسٹی کے قیام سے مقامی سرائیکی مادری زبان بولنے والا کا اعتماد بلند ہوگا۔معاشی ترقی کا نیا پہیہ چلے گا۔اردو بھی عملاً سرکاری زبان نہیں اور اسے بھی انگریزی کی ضرورت کے سبب علاقائی زبانوں کے خیمے میں پناہ لینی پڑ گئی ہے۔

    حکومتِ پاکستان کو چاہیے کہ ابتدائی کلاسز میں مادری زبان کو ذریعہ تعلیم بنائے۔پارلیمنٹ و نادرا میں بھی سندھی زبان کی طرح قومی شناختی کارڈ بھی سرائیکی میں جاری کیے جائیں۔سرائیکی وسیب کی ہر یونیورسٹی میں سرائیکی شعبے لازمی قائم ہوں۔دنیا کے کئی ممالک نے مادری زبانوں کی ضرورت و اہمیت کو مانتے ہوئے تسلیم کیا ہے کہ ہر بچے کو اپنی مادری زبان میں تعلیم کا حق حاصل ہے اور تمام زبانوں کی بلا امتیاز ترویج و ترقی شہریوں کے بنیادی حقوق اور ریاستی فرائض کا حصہ ہے۔لیکن پاکستان میں آج بھی علاقائی زبانوں کی اہمیت اور مقام و مرتبے پر بحث جاری ہے۔سندھ میں سندھی کی طرح سرائیکی زبان کو شامل کیاجائے،خیبر پختونخوا میں پشتو کی طرح ڈیرہ اسماعیل خان گومل یونیورسٹی میں سرائیکی زبان کے شعبے کو ہزارہ ڈویژن میں سرائیکی کو شروع کیا جائےاور بلوچستان میں بلوچی ابتدائی تعلیمی درجات میں پڑھائی کے ساتھ سرائیکی زبان بھی شامل کی جائے۔

    حکومت پنجاب ہائیر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ ،پنجاب کری کولم ٹکسٹ بک بورڈ لاہور نے سرائیکی گیارہویں جماعت کی کتاب چھاپ کر سرائیکی مادری زبان کی ترویج کو تاریخی اہمیت دی ہے۔اس سے آپس میں مقامی سطح پر ثقافتی ورثے کو محفوظ فروغ ملے گا۔مادری زبان میں تعلیم سے بچے بہت جلد نئی باتوں کو سمجھ جاتے ہیں اور اس سے بچوں کی تعلیمی صحت پر خوشگوار اثرات مرتب ہوتے ہیں۔جس سے زبان کی آبیاری ہوتی ہے۔اس کے برعکس جن اقوام کا اپنی ہی مٹی سے تعلق کمزور ہو جاتا ہے۔شکست اور ذلت و پستی ان کا مقدر بن جاتی ہے۔اس لیے ضروری ہے کہ پرائمری سے تمام صوبوں میں مقامی زبانوں کو لازمی مضمون کے طور پر پڑھایا جائے۔مادری زبان انسان کی پہلی زبان ہی نہیں بلکہ پہلی ابتدائی درسگاہ،ثقافت، شناخت،تاریخ اور تعلقات کی بنیادی جڑ ہے۔

    مادری زبان کی اہمیت کا ادراک انسانی ترقی،معاشرتی ہم آہنگی اور عالمی سطح پر اثرات کے حوالے سے بے حد ضروری ہے۔مادری زبان انسان کی پہچان اور کلچرل تنوع کی علامت ہے۔ایک شخص کی مادری زبان اس کی نسلی علم ودانش،ثقافتی اقدار اور جغرافیائی تاریخ کو ظاہر کرتی ہے۔اس زبان کے ذریعے فرد اپنی تہذیب وتمدن،کلچر،فہیم،ادب،روایات اور رسوم و رواج کو زندہ رکھتا ہے اور اپنے آباؤ اجداد کے تجربات کو آنے والی نسلوں تک منتقل کرتا ہے۔جب انسان اپنی مادری زبان میں بات کرتا ہے، تو وہ اپنے آپ کو زیادہ قدرتی اور حقیقی انداز میں اظہار خیال کرتا ہے۔مادری زبان میں تعلیم حاصل کرنا طالب علم کے لئے زیادہ فائدہ مند ہوتا ہے۔جب بچوں کو اپنی مادری زبان میں پڑھایا جاتا ہے، تو ان کی تفہیمی صلاحیت اور سیکھنے کی رفتار بہتر ہوتی ہے۔ مادری زبان میں تعلیم حاصل کرنے والے بچے زیادہ خود اعتماد، دلیر،وفادار، تخلیقی اور سیکھنے میں فعال ہوتے ہیں۔اس کے علاوہ مادری زبان میں تعلیم حاصل کرنے سے بچوں میں نئے تصورات،فنون لطیفہ،خیالات اور مہارتوں کو بہتر طور پر سمجھنے میں مدد فراہم ہوتی ہے۔

    سماجی اور ثقافتی روابط ہمیشہ مادری زبان سے ہی مضبوط ہوتےہیں۔افراد کو ایک دوسرے کے قریب لاتی ہے اور ان کے درمیان بہتر سماجی تعلقات قائم کرتی ہے۔ یہ زبان افراد کو اپنے خاندان، دوستوں اور کمیونٹی کے ساتھ جڑنے کا ایک قدرتی طریقہ فراہم کرتی ہے۔مادری زبان میں گفتگو کرتے وقت لوگ زیادہ آرام دہ اور اعتماد محسوس کرتے ہیں۔جس سے معاشرتی ہم آہنگی اور تعاون بڑھتا ہے۔ مادری زبان انسان کی جذباتی اور نفسیاتی حالت پر بھی گہرا اثر ڈالتی ہے۔جب انسان اپنی مادری زبان میں بات کرتا ہے تو وہ اپنے خیالات اور جذبات کو زیادہ بہتر انداز میں ظاہر کر سکتا ہے۔مادری زبان میں انسان زیادہ کھل کر اپنی باتوں کو شیئر کرتا ہے،جو اس کے ذہنی سکون اور جذباتی خوشی کے لیے ضروری ہے۔

    فطرت کا دوسرا خوبصورت نظارہ مادری زبان ہے۔اگر ایک زبان ختم ہو جاتی ہے تو اس کے ساتھ اس زبان میں چھپی سماجی و ثقافتی معلومات،ادب،حکمت ودانش،روایات اور علم بھی ضائع ہو جاتا ہے۔مادری زبانوں کا تحفظ اور ترقی عالمی سطح پر انسانوں کی متنوع شناخت اور ثقافتوں کے احترام کی علامت ہی نہیں بلکہ عالمی سطح پر دنیا میں مختلف زبانوں کا ہونے کے باوجود مادری زبانوں کی اہمیت کو تسلیم کیا جانا عالمی تعلقات اور تعاون کو فروغ دیتا ہے۔عالمی تنظیمیں اور ادارے مادری زبانوں کے تحفظ اور فروغ کے لئے سرگرم ہیں۔

    مادری زبان نہ صرف ایک زبان ہے بلکہ یہ ایک فرد کی ثقافتی شناخت، تعلیمی ترقی،جذباتی سکون،روحانی وابستگی اور عالمی سطح پر تعلقات کو مستحکم کرنے کا ذریعہ ہے۔ اس کی اہمیت کو سمجھنا اور اس کی قدر کرنا ہماری ذمہ داری ہے تاکہ ہم اپنی نسلوں کو ایک مضبوط بنیاد فراہم کر سکیں۔مادری زبان کا تحفظ اور اس کا فروغ ایک روشن اور ہم آہنگ دنیا کی تشکیل میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔مادری زبان میں ہی انسان مکمل طور اپنے دکھ سکھ کا قصہ بیان کرتاہے۔سرائیکی کلاسک شاعر حضرت خواجہ غلام فرید رحمتہ اللہ علیہ نے کیا خوب تخیل تخلیق کیا ہے۔
    کیا حال سنڑاواں دل دا
    کوئی محرم راز نہ ملدا

    سرائیکی ماں بولی سرائیکی ماں بولی
    سبھ توں مٹھی سبھ توں چسولی۔

  • موت کے بعد تدفین یا چتا، کون سا راستہ بہتر ہے؟

    موت کے بعد تدفین یا چتا، کون سا راستہ بہتر ہے؟

    موت کے بعد تدفین یا چتا، کون سا راستہ بہتر ہے؟
    تحریر:ڈاکٹرغلام مصطفیٰ بڈانی
    موت ایک اٹل حقیقت ہے، جس سے نہ کوئی فرد بچ سکتا ہے اور نہ کوئی قوم، ہر مذہب میں موت کے بعد کے مراحل اور آخری رسومات کا ایک خاص طریقہ رائج ہے۔ اسلام میں میت کو دفنانے کا حکم دیا گیا ہے جبکہ ہندو مت میں جلانے کی رسم کو مقدس مانا جاتا ہے۔ لیکن اگر حقیقت پر نظر ڈالی جائے تو ہندو مت میں مردہ سوزی کا عمل ایک بھیانک اور تکلیف دہ حقیقت کو آشکار کرتا ہے۔ خاص طور پر بنارس کے مانیکرنیکا گھاٹ پر ہونے والے مناظر انسان کی روح کو جھنجھوڑ کر رکھ دیتے ہیں۔

    اسلام نے تدفین کو نہ صرف ایک فطری عمل قرار دیا بلکہ اسے انسانی عظمت اور پاکیزگی کے عین مطابق بھی قرار دیا ہے۔ قرآن مجید میں ہابیل اور قابیل کے واقعے میں اللہ تعالی نے تدفین کی ہدایت کو واضح فرمایا، "پھر اللہ نے ایک کوا بھیجا جو زمین کھود رہا تھا تاکہ اسے دکھائے کہ وہ اپنے بھائی کی لاش کو کیسے چھپائے”(سور المائدہ 31)۔ یہ آیت واضح کرتی ہے کہ انسانی لاش کو مٹی میں دفنانا ایک الہی حکم اور فطری طریقہ ہے۔

    میت کو دفنانے کے کئی فوائد اور حکمتیں ہیں، سب سے پہلے یہ طریقہ پاکیزگی اور وقار کو یقینی بناتا ہے۔ میت کو غسل دیا جاتا ہے، کفن پہنایا جاتا ہے اور انتہائی احترام کے ساتھ دفن کیا جاتا ہے۔ دوسرے تدفین ماحولیاتی تحفظ کے اصولوں کے عین مطابق ہے کیونکہ دفنانے سے زمین میں میت کے اجزا تحلیل ہو جاتے ہیں اور فطرت میں کوئی آلودگی پیدا نہیں ہوتی۔ مزید برآں قبر کی زندگی برزخ کی ایک شکل ہے، جہاں میت کے اعمال کے مطابق برتاؤ کیا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ قرآن میں بارہا ذکر ہے کہ"اسی(زمین)سے ہم نے تمہیں پیدا کیا اور اسی میں ہم تمہیں واپس لوٹائیں گے اور اسی سے ہم تمہیں دوبارہ نکالیں گے”( سور طہ 55)۔

    ہندو مت میں میت کو جلانے کی رسم صدیوں سے جاری ہے۔ ان کا عقیدہ ہے کہ آگ میں جلنے سے روح مکتی (نجات) پا لیتی ہے اور گنگا میں راکھ بہانے سے پاپ دُھل جاتے ہیں۔ خاص طور پر بنارس کا مانیکرنیکا گھاٹ ہندوؤں کے نزدیک انتہائی مقدس مقام ہے، جہاں روزانہ سینکڑوں لاشیں جلائی جاتی ہیں۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ شمشان گھاٹ پر روزانہ جلی ہوئی لاشوں کا دھواں فضا کو آلودہ کرتا ہے۔ لکڑی کی کمی کے باعث اکثر لاشیں مکمل طور پر نہیں جل پاتیں اور انہیں گنگا میں بہا دیا جاتا ہے۔ گنگا میں نہانے اور اس کا پانی پینے والے یہی نہیں جانتے کہ وہ پانی انسانی راکھ اور نجاست سے بھرا ہوتا ہے۔ قرآن کے مطابق انسان کی نجات صرف اللہ کی رضا اور اعمال صالحہ میں مضمر ہے نہ کہ کسی مخصوص مقام پر جلنے میں۔

    اللہ تعالی نے قرآن میں ارشاد فرمایاکہ"اور بے شک ہم نے بنی آدم کو عزت دی اور انہیں خشکی اور تری میں سوار کیا اور انہیں پاکیزہ چیزوں کا رزق عطا کیا اور اپنی بہت سی مخلوقات پر فضیلت د ی”(سورة الاسرا ،70)، یہ آیت انسان کی عظمت کو واضح کرتی ہے اور ثابت کرتی ہے کہ اسلام میں ہر عمل انسانی شرف اور عزت کے مطابق ہوتا ہے۔ تدفین کا طریقہ اسلامی پاکیزگی، سادگی اور عزت نفس کے اصولوں پر مبنی ہے جبکہ جلانے کا عمل انسانی وقار کے برعکس اور وحشت ناک تصور ہے۔

    رات کے وقت بنارس کے شمشان گھاٹ کا منظر اور بھی زیادہ خوفناک ہوتا ہے۔ جلتی ہوئی چتائیں، ہر طرف دھواں، راکھ میں لپٹے انسانی سائے، بانسوں سے کھوپڑیوں کو توڑنے کی آوازیں اور گنگا میں بہتی ہوئی ادھ جلی لاشیں اور گنگا کنارے ان لاشوں کو بھنبھوڑ کتے اور دوسرے جانور،جہاں وحشت ہی وحشت ہو۔ کیا یہی وہ مقدس جگہ ہے جہاں مکتی حاصل ہوتی ہے؟ حقیقت تو یہ ہے کہ یہ جگہ زمین پر جہنم کے ایک منظر سے کم نہیں۔

    اسلام میں تدفین کا نظام اللہ کی ایک عظیم نعمت ہے جو انسانی شرف اور فطرت کے عین مطابق ہے۔ جبکہ ہندو مت میں چتا پر جلانے کا عمل نہ صرف بے رحمانہ ہے بلکہ ماحولیاتی اور انسانی صحت کے لیے بھی خطرہ ہے۔ ہر عقل مند شخص اگر تدبر کرے تو وہ سمجھ سکتا ہے کہ قبر سکون، رحمت اور پاکیزگی کا ذریعہ ہے جبکہ آگ اور راکھ کی دنیا عذاب اور بے سکونی کی علامت ہے۔

    اللہ تعالی نے قرآن میں فرمایاکہ "بے شک ہم نے ظالموں کے لیے وہ آگ تیار کر رکھی ہے جس کی دیواریں انہیں گھیر لیں گی.” (سور ةالکہف 29)۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ چتا کی یہ آگ اسی عذاب کی ایک جھلک ہو؟ ایک ایسی آگ جس میں ایک انسان کو جلتے ہوئے راکھ میں بدل دیا جاتا ہے؟ کیا یہ ممکن نہیں کہ جو لوگ دنیا میں اپنے پیاروں کو آگ میں جھونکنے کو مقدس سمجھتے ہیں، وہی آخرت میں بھی ایسی ہی آگ کے مستحق ٹھہریں؟

    ذرا سوچئے اور ان سوالات کا جواب دیجئے کہ موت کے بعد تدفین یا چتا، کون سا راستہ بہتر ہے؟ کیا عزت و وقار کے ساتھ زمین کی آغوش میں سپرد کرنا زیادہ مناسب نہیں یا پھر جلتی چتا کی نذر کر دینا؟ کیا پاکیزگی اور سکون کی راہ افضل نہیں یا پھر آگ اور دھوئیں کی ہولناکی؟ فیصلہ عقل اور فطرت کے مطابق ہونا چاہیے کیونکہ انسان کا شرف اور آخری منزل ایک مقدس حقیقت ہے جس کا احترام ہر حال میں لازم ہے۔

  • گنویری والا: ہڑپہ وموہنجودڑو سے بھی قدیم سات ہزار سالہ سرائیکی تہذیب کا مرکز(تیسری وآخری قسط)

    گنویری والا: ہڑپہ وموہنجودڑو سے بھی قدیم سات ہزار سالہ سرائیکی تہذیب کا مرکز(تیسری وآخری قسط)

    گنویری والا: ہڑپہ وموہنجودڑو سے بھی قدیم سات ہزار سالہ سرائیکی تہذیب کا مرکز
    تحقیق و تحریر:ڈاکٹر محمد الطاف ڈاھر جلالوی
    altafkhandahir@gmail.com
    خلاصہ :یہ آرٹیکل سرائیکی خطے کی قدیم تہذیب و تمدن، خاص طور پر گنویری والا شہر کی تاریخی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے۔ گنویری والا، جو ہڑپہ اور موہنجودڑو سے قدیم ہے، وادی ہاکڑہ کے کنارے واقع ایک عظیم تاریخی مرکز رہا ہے۔ آرٹیکل میں علم آثار قدیمہ کی اہمیت بیان کی گئی ہے، جو قدیم تہذیبوں اور تمدن کے مطالعے کا ذریعہ ہے اور یہ آرٹیکل تین اقساط پر مشتمل ہے .اس سلسلے کی تیسری وآخری قسط ملاحظہ فرمائیں

    دنیا کے ابتدائی قدیمی ورثے دریائے سرسوتی کنارے آباد سرائیکی تہذیبی شہر گنویری والا کا مستقبل اور چیلنجز
    اللہ رب العزت انسان کے غور و فکر اور عملی فلاحی تحقیقی کام کو پسند فرماتا ہے۔دنیا میں جدت اور خوشحال اکنامک سکلڈ انفارمیشن میرے نزدیک آرکیالوجی سائنس کی بدولت ممکن ہوئی ہے۔جن قوموں نے قرآن مجید اور دیگر مقدس قدیم کتابوں ویدک لٹریچر،انجیل،تورات،زبور کی بدولت دنیا میں موجود دریائی،میدانی،پہاڑی،سمندری،جنگلات اور ریگستانوں میں چھپے انسانی تمدنی،ثقافتی اور تاریخی قدیم عجوبے تہذیبی خزانوں کو ڈھونڈا اور ان پرانے ورثے آثارقدیمہ کی بدولت نئی حکمت و دانش سے اپنے مستقبل کو محفوظ بنایا.آج دنیا میں امریکہ،چین، روس،برطانیہ، فرانس،جاپان، قطر،دوبئی، سعودی عرب جیسے عظیم ممالک کی مضبوط شکل میں موجود ہیں۔

    دریائےسرسوتی سرائیکی وسیب روہی چولستان کے ابتدائی انسانی دنیا کے مشترکہ تہذیبی اثاثے کے حوالے سے سرسوتی اور سرائیکی کا سات ہزار سے آٹھ ہزار شہر گنویری کی قدامت بارے اہم شہادت قابل غور بات ہے۔سرائیکی محقق سید نور علی ضامن حسینی بخاری ریٹائرڈ ڈپٹی چیف انجینئر آبپاشی مغربی پاکستان (آل اولاد حضرت سید شیر شاہ جلال الدین حیدر سرخ پوش بخاری رحمتہ اللہ علیہ) نے اپنی کتاب "معارف سرائیکی” ناشر مصطفٰی شاہ اکیڈمی احمدپورشرقیہ، مطبع پنجاب آرٹ پریس لاہور،اول اشاعت 1972ء کے صحفہ نمبر11 پر اپنے ایک بے تکلف پنجابی دوست دانشور پرویز حسن صادق کو انٹرویو میں کہا کہ سرائیکی تو قرآن پاک کے ” اصحاب الرس ” کی زبان ہے۔جس کا ذکر قرآن مجید کی سورہ فرقان، سورہ ق میں موجود ہے۔

    اس کا ثبوت انہوں نے صفحہ نمبر 104 پر سر آرل سٹین کی ریسرچ مطابق دریائے گھاگھرا،سرسوتی جس کی عظمت کے گیت مقدس کتاب رگ وید سنسکرت زبان میں موجود ہیں اور جرمن دانشور پروفیسر آردان راتھ کی تحقیق موجب دریائے سندھو یعنی دریائے انڈس کو رگ وید میں بیان کردہ دریائےسرسوتی کہا گیا ہے۔بہت سے دوسرے دانشوروں اور میری صحیح رائے کے مطابق سرسوتی سے مراد دراصل "سویراس وتی ” ہوسکتا ہے۔یعنی اصحاب الرس کا دریا۔اسی بناء پر یہ یقین غالب ہے کہ سرائیکی کا لفظ دراصل سویراکی تھا جو آہستہ آہستہ بگڑ کر سرائیکی ہوگیا۔

    ان حقائق کی روشنی میں کیا ہمارے مقامی سرائیکی وسیب کے عوامی نمائندے اپنے قدیم تاریخی،تمدنی،ثقافتی ورثے کے تحفظ کے لئے ایم این ایز، ایم پی ایز نے کیا کلیدی کردار ادا کیا ہے؟۔یہ اہم سوال ہے۔کیا سرائیکی خطے میں گنویری والا میوزیم قائم ہوا؟کیا سرائیکی وسیب میں سرسوتی گنویری والا کے مقام پر ہاکڑہ سرسوتی یونیورسٹی کے قیام کے لئے عملی اقدامات ہوئے؟کیا سرائیکی لینگؤیج،آرٹ اینڈ آرکیالوجی کلچرل سنٹر کا قیام قلعہ ڈیراور چولستان پر قائم ہوا؟کیا چولستان کے قدیم تاریخی قلعوں کی تزئین و آرائش کے عملی اقدامات ہوئے؟
    چند گزارشات سے سرائیکی خطے کی روہی میں تعمیر نو اور ترقی کے امکانات روشن ہوسکتے ہیں۔

    ان تمام اہم مسائل کو سرائیکی وسیب کے ہر شاعر،قصولی،نقاد،دانشور،ادیب،محقق اور صحافی نے اپنے ورثے کے تحفظ کے لئے ایمانداری سے ہر جگہ فریاد کرتے نظر آ رہے ہیں۔سوشل میڈیا پر نوجوان نسل اب اپنے تہذیبی ورثے کی حفاظت اور تعمیر نو کے لیے آگے آرہے ہیں۔سرائیکی شاعر پیشے کے اعتبار سے وکیل ثاقب قریشی کا سرائیکی کلام میں سرائیکی ورثے کے کمال تخیل پیش کیا۔
    گالھ ٹرپئی اے اینکوں پندھ کریندا ڈیکھیں
    اے نہ سمجھیں میڈی منزل کوں زمانے لگسن


    شاعر اپنی دھرتی کے سفیر ہوتے ہیں۔سرائیکی روہی چولستانی احمدپورشرقیہ کے مزاحمتی مزاج شاعر جہانگیر مخلص روہی ریگستان اور سرائیکی تہذیب وتمدن،ثقافت اور شناخت کی بے بسی پر نوحہ خوانی اور عشق کرتے نظر آ رہے ہیں۔
    پہلی قسط پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں
    گنویری والا: ہڑپہ و موہنجودڑو سے بھی قدیم سرائیکی تہذیب کا مرکز (پہلی قسط)
    دوسری قسط پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں
    گنویری والا: ہڑپہ وموہنجودڑو سے بھی قدیم سات ہزار سالہ سرائیکی تہذیب کا مرکز(دوسری قسط)
    سرسوتی تہذیب وتمدن سے محبت اور مزاحمت ان کے کلام کا خاصہ ہے۔سرائیکی دانشور عبدالباسط بھٹی اور شاعر جہانگیر مخلص کا سرائیکی روہی کے تمدنی،ثقافتی قلعہ ڈیراور چولستان کی جیپ ریلی مرکز پر ہر سال سالانہ سرائیکی خواجہ فرید امن میلہ منعقد کرانا دراصل سرائیکی وسیب کی محرومیوں کے اظہار کا سنہڑا ہے۔پرہ باکھ ان کی سرائیکی شاعری کا شاہکار نمونہ ہے۔ان کے کلام کا تخیل کمال حیرت کا سماں پیدا کرتاہے۔

    سرائیکی دھرتی روہی کے آٹھ ہزار سال تہذیب وتمدن کا گہوارہ،دکھ درد ان کے جیون کی کتھا ہے۔اپنی سرائیکی ریاست بہاولپور کے نوابوں اور مقامی سیاسی نمائندوں کے نام اہم پیغام دیا ہے۔کلام ملاحظہ فرمائیں۔

    اساں مونجھاں تیڈیاں،اساں کونجاں تیڈیاں
    سدھ نی کیئں گول وچ گئے ہیں گاریئے اساں
    کیا ڈسوں جانیاں! تیڈی دھرتی اتے
    دم حیاتی دے کیویں گزاریئے اساں

    دم دلاسے اساں، صرف کاسے اساں
    تیڈے وسبے دے کھل ٹوک ہاسے اساں

    ساکوں کوئی یاد نی کون ہاسے اساں
    سنج دی مانڑی اساں،پنج دی ہاری اساں

    اسی طرح رحیم یار خان سسی دی ماڑی بھٹہ واہن کے مہان کلاسک شاعر سئیں ممتاز حیدر ڈاھر کی شاعری "کشکول وچ سمندر” سرائیکی خطے کی وادی سرسوتی تہذیبی ورثے کے محافظ گنویری والا شہر روہی چولستان سے محبت کو عید مبارک کہتے ہیں۔دھرتی ماں سے محبت ہر سرائیکی شاعر کے تخیل کا خوبصورت عکس ہے۔کلام ملاحظہ فرمائیں۔

    جو وی ساہ دا سانگا جوڑے
    سچی سانجھ دے سانگے
    جیئں دل وچ ماء دھرتی دا درد ہے
    رتی بھانویں شارک
    اونکوں عید مبارک

    حکومت وقت کو اپنے قومی ورثے گنویری والا کی فوری حفاظت کے لیے مستقل بنیادوں پر عملی اقدامات ہڑپہ و موہنجوداڑو طرز جیسے اٹھانا ہوں گے۔گنویری والا میوزیم اور ہاکڑہ سرسوتی یونیورسٹی کے قیام سے ہی سرائیکی قدیم تہذیبی و تمدنی ثقافتی ورثے کا تحفظ ممکن ہوگا۔خبر خوش آئند ہے کہ ابتدائی مراحل میں قلعہ ڈیراور کو ورلڈ ہیریٹیج میں شامل کر لیا گیا ہے۔امید ہے کہ نئی نوجوان نسل اپنے قومی ورثے کی منفرد شناخت کے لیے ایمانداری سے عملی طور تحقیق کرے گی اور نئے چھپے خزانوں سے پردہ اٹھائے گی۔

    افسوس کی بات یہ ہے کہ کھدائی سے ملنے قیمتی نوادرات کو بہاولپور میوزیم میں نہیں رکھا گیا۔مقامی روہیلوں کی رپورٹ کے مطابق پرانی تہذیب و تمدن کے مرکزی شہر گنویری والا سے چور قیمتی اثاثہ سے نوادرات چوری کرکے اونے پونے بیچ رہے ہیں۔اقوام متحدہ کے آرکیالوجی اداروں کو پاکستان کے ساتھ مل کر چولستان روہی سرائیکی وسیب کے ورلڈ ہیریٹیج سٹی گنویری والا کے مقام پر ہاکڑہ سرسوتی یونیورسٹی کے فوری قیام اور ساتھ ہی گنویری والا میوزیم کے قائم سے سرائیکی علاقے میں سیاحت کو فروغ ملے گا۔علاقے میں معاشی ترقی کا نیا دور شروع ہوگا۔

    سرائیکی ثقافتی تمدنی سات سے آٹھ ہزار سال پرانے گمشدہ شہر گنویری والا کی کھدائی کے لیے مزید ارتقائی ہنگامی بنیادوں پر پراجیکٹس کی گرانٹس جاری کرنا ہوں گی۔تہذیب وتمدن ،رسوم،حکمت و دانش،ترقی یافتہ پالیسیوں کی تلاش،زبان،سرائیکی سماجیات، روایات،ثقافت،ادب اور فنون لطیفہ کے ورلڈ اثاثےکی آگاہی ہم سب کا قومی فریضہ ہے۔گنویری والا شہر کی کھدائی سے قیمتی خزانوں سے پردہ چاک کرکے ملکی وقار و زر مبادلہ میں بھی بلند اضافہ ہوگا۔

    خواجہ غلام فرید رحمتہ اللہ علیہ سرائیکی مہان کلاسک شاعر نے 56 سالہ زندگی میں تقریبا 18 سال روہی چولستان جھوک فرید کنڈا فرید میں گزارے۔ان کو دفن قیمتی خزانوں کا علم تھا اور اپنے شاندار خوشحال مستقبل کا بھی پتہ تھا۔اس لئے خواجہ غلام فرید رحمتہ اللہ علیہ نے اپنے ریاستی سرائیکی نواب صادق محمد خان عباسی چہارم کو کہا تھا کہ اپنی نگری آپ وسا توں پٹ انگریزی تھانے سے مراد روہی چولستان آپ نے خود آباد کرنا ہےاور پٹ انگریزی تھانے کی اصطلاح دراصل اعلی جدید علم و ٹیکنالوجی کی تحقیق،خود داری،دیانت داری اور محنت کا استعارہ بیان فرمایا۔روہی چولستان کی شادابی اور معاشی ترقی کا حسین خواب حقیقت کا اظہار ایک صدی پہلے کر چکے ہیں۔اب صرف ایمانداری سے عمل کی ضرورت ہے۔سرائیکی وسیب کی نوجوان نسل کو قلم،کتاب،لائیبریری اور ریسرچ لیبارٹری میں دن رات جدید علم و ہنر اور ٹیکنالوجی کے اوزاروں سے اپنے مستقبل کو محفوظ بنانا ہوگا۔سرائیکی مہان کلاسک صوفی شاعر سیئں خواجہ غلام فرید رحمتہ اللہ علیہ کا مکمل دیوان فرید سرائیکی سماجیات کی مضبوط دستاویزات ہیں۔ان کے کلام آفاقیت میں روہی سے عشق محبت،امید اور تصوفانہ فلسفے سے تقویت ملے گی۔

    اگر آج بھی حکمران، مقامی سیاستدان اور سرائیکی وسیب کے دعویدار خوابِ غفلت سے نہ جاگے تو تاریخ ہمیں معاف نہیں کرے گی۔گنویری والا، جو ہڑپہ و موہنجوداڑو سے بھی زیادہ قدیم ہے،محض داستان بن کر رہ جائے گا۔ اور ہماری آنے والی نسلیں ہمیں بے حسی اور غفلت کا مجرم ٹھہرائیں گی۔ وقت کا تقاضا ہے کہ ہم اپنی عظمت کو مٹی میں دفن ہونے سے بچائیں،ورنہ کل ہمیں اپنی شناخت کے ملبے پر کھڑے ہو کر صرف افسوس ہی کرنا پڑے گا!

    وقت کا پہیہ رکنے والا نہیں مگر تاریخ بے رحم ہوتی ہے۔جو قومیں اپنی پہچان اور ورثے کی حفاظت نہیں کرتیں، وہ ماضی کے کھنڈرات میں دفن ہو جاتی ہیں۔ گنویری والا ہماری شناخت، تہذیب اور تاریخی ورثے کا نشان ہے، جسے بچانا ہماری اجتماعی ذمہ داری ہے۔ اگر آج بھی ہم نے آنکھیں نہ کھولیں تو کل یہ زمین کسی اور کی نہیں بلکہ ہماری اپنی بے حسی کی گواہی دے گی۔ فیصلہ ہمارے ہاتھ میں ہے، تاریخ میں سر اٹھا کر زندہ رہنا ہے یا مٹ جانے والوں میں شامل ہونا ہے۔

  • انسداد پولیو مہم کی کامیابی .تحریر: جان محمد رمضان

    انسداد پولیو مہم کی کامیابی .تحریر: جان محمد رمضان

    ستمبر 2024 سے اب تک پاکستان میں پولیو کے کیسز میں ایک نمایاں کمی آئی ہے، جو کہ انسداد پولیو مہم کی کامیاب حکمت عملی کا نتیجہ ہے۔ اس مثبت تبدیلی کا اثر پورے ملک میں دیکھا جا رہا ہے، اور اس نے عوامی سطح پر پولیو کے مکمل خاتمے کے لیے حکومت کے عزم اور کوششوں کی طرف اشارہ کیا ہے۔پولیو ایک مہلک وائرس ہے جو بچوں کو عمر بھر کے لیے معذور کر سکتا ہے۔ پاکستان جیسے ممالک میں جہاں پولیو کا پھیلاؤ ایک سنگین مسئلہ رہا ہے، وہاں اس وائرس کی روک تھام کے لیے کئی سالوں سے کوششیں کی جا رہی ہیں۔ لیکن 2024 کے آخری حصے میں پولیو کیسز میں کمی نے انسداد پولیو مہم کی مؤثریت کو ثابت کیا ہے۔پاکستان کے مختلف صوبوں میں، خاص طور پر بلوچستان، سندھ اور جنوبی خیبر پختونخوا میں پولیو کیسز میں نمایاں کمی دیکھنے کو ملی ہے۔ اس کمی کا تعلق ان علاقوں میں انسداد پولیو مہم کی بھرپور کاوشوں سے ہے جہاں پہلے پولیو کے کیسز زیادہ ریکارڈ ہوئے تھے۔

    پاکستان کے وزیراعظم نے پولیو کے کیسز میں کمی اور پولیو کی بروقت شناخت کے لیے تمام صوبوں کی انتظامیہ کی کاوشوں کو سراہا۔ وزیراعظم نے کہا کہ پولیو کیسز میں یہ کمی ملک بھر میں حکومت کے عزم، انتظامیہ کی محنت، اور عوام کی حمایت کا نتیجہ ہے۔ اُنہوں نے یہ بھی کہا کہ ملک میں پولیو کا مکمل خاتمہ صرف وفاق اور صوبوں کے باہمی تعاون سے ہی ممکن ہو گا۔پولیو کیسز میں کمی کو صوبوں کی انتظامیہ کی انتھک محنت کا نتیجہ قرار دیا گیا ہے۔ مختلف صوبوں کی حکومتوں نے انسداد پولیو مہم کو اپنے اپنے علاقوں میں بھرپور طریقے سے جاری رکھا اور بچوں تک ویکسین پہنچانے کے لیے ہر ممکن تدابیر اختیار کیں۔ صوبوں نے اپنی نگرانی کے نظام کو مضبوط بنایا اور پولیو کے وائرس کو پھیلنے سے روکنے کے لیے موثر اقدامات کیے۔

    پاکستان میں انسداد پولیو مہم کے تمام پہلوؤں کی نگرانی کے لیے ایک جدید آئی ٹی ڈیش بورڈ کا استعمال کیا جا رہا ہے۔ اس ڈیش بورڈ کے ذریعے حکام پولیو مہم کی ترقی، ویکسینیشن کی شرح اور کیسز کی صورتحال پر مسلسل نظر رکھتے ہیں۔ اس کا مقصد مہم کی ہر سطح پر بہتر کارکردگی کو یقینی بنانا اور فوری طور پر کسی بھی چیلنج کا حل تلاش کرنا ہے۔سال 2025 کے آغاز میں پولیو سے متاثرہ اضلاع میں پولیو کیسز میں مزید کمی دیکھنے کو ملی ہے۔ خاص طور پر بلوچستان، سندھ اور جنوبی خیبر پختونخوا میں پولیو کیسز میں واضح کمی نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ انسداد پولیو مہم کی حکمت عملی کامیاب جا رہی ہے۔ اس کامیابی کے پیچھے حکومتی عزم اور عوامی تعاون کا بڑا ہاتھ ہے۔

    پاکستان میں پولیو کے کیسز میں کمی ایک مثبت قدم ہے اور یہ پاکستان کے عوام، حکومت اور بین الاقوامی اداروں کی محنت کا نتیجہ ہے۔ انسداد پولیو مہم کی مؤثریت کی بدولت پاکستان پولیو کے خاتمے کے قریب پہنچ رہا ہے۔ تاہم، اس کے مکمل خاتمے کے لیے ابھی مزید محنت کی ضرورت ہے اور عوام کو مسلسل آگاہی فراہم کرنا ضروری ہے۔پاکستان کے تمام حصوں میں پولیو کے خاتمے کے لیے وفاق اور صوبوں کے درمیان تعاون کی اہمیت واضح ہو چکی ہے۔ ہم سب کی اجتماعی کوششوں سے ہی پولیو کو پاکستان سے مکمل طور پر ختم کیا جا سکتا ہے۔

    jaan

  • گنویری والا: ہڑپہ وموہنجودڑو سے بھی قدیم سات ہزار سالہ سرائیکی تہذیب کا مرکز(دوسری قسط)

    گنویری والا: ہڑپہ وموہنجودڑو سے بھی قدیم سات ہزار سالہ سرائیکی تہذیب کا مرکز(دوسری قسط)

    گنویری والا: ہڑپہ وموہنجودڑو سے بھی قدیم سات ہزار سالہ سرائیکی تہذیب کا مرکز
    تحقیق و تحریر:ڈاکٹر محمد الطاف ڈاھر جلالوی
    altafkhandahir@gmail.com
    خلاصہ :یہ آرٹیکل سرائیکی خطے کی قدیم تہذیب و تمدن، خاص طور پر گنویری والا شہر کی تاریخی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے۔ گنویری والا، جو ہڑپہ اور موہنجودڑو سے قدیم ہے، وادی ہاکڑہ کے کنارے واقع ایک عظیم تاریخی مرکز رہا ہے۔ آرٹیکل میں علم آثار قدیمہ کی اہمیت بیان کی گئی ہے، جو قدیم تہذیبوں اور تمدن کے مطالعے کا ذریعہ ہے اور یہ آرٹیکل تین اقساط پر مشتمل ہے .اس سلسلے کی دوسری قسط ملاحظہ فرمائیں

    سرائیکی قدیم چولستان کے تاریخی تمدنی مرکزی شہر گنویری والا کی دریافت اور کھدائی

    دوسری قسط کا خلاصہ
    زمین میں دفن شہر گنویری والا چولستان کی ایک سات ہزار سال پرانی سرائیکی تہذیب وتمدن کا مرکز ہے۔1970ء تا 1975ء میں ڈاکٹر رفیق مغل کی قیادت میں اس کی کھدائی کے لیے ابتدائی کاوشیں سامنے آئیں۔جس سے ثابت ہوا کہ یہ شہر مقامی سرائیکی تہذیب و ثقافت اور زبان کا آئینہ کا ہے۔یہاں کی قدیم دستکاری،زیورات اور مٹی کے برتن دنیا بھر میں گئے۔ تحقیق سے چولستان کی تہذیب کو پانچ ادوار میں تقسیم کیا گیا، قبل از ہڑپائی، ہاکڑہ دور، ابتدائی ہڑپائی دور، عروج یافتہ ہڑپائی دور اور متاخر ہڑپائی دور۔ گنویری والا شہر وادی سندھ تہذیب وتمدن کے ساتھ جڑا ہوا ہے۔اس وجہ سے وادی ہاکڑہ سرسوتی تہذیب وتمدن کو وادی سندھ کی تہذیب وتمدن کی ماں مانا گیا۔اور اس کی اہمیت عالمی سطح پر تسلیم کی گئی ہے۔

    دوسری قسط
    احمدپور شرقیہ کی ہردلعزیز بردبار روحانی شخصیت بڑے بھائی دوست ماہر فلکیات و کلینکل سائیکالوجیسٹ جام اسد عباس لاڑ جن کی علم فلکیات پر شاندار کتاب”علم نجوم بحیثیت رہبر وجوہ نفسیاتی عوارض”سال 2024ء منظر عام پر آئی ہے۔ایک دن دوران گفتگو اُن سے سوال کیا کہ گنویری والا چولستان کی تاریخی،تمدنی،تہذیبی اور ثقافتی حیثیت آپ کے علم کے مطابق کیا ہوسکتی ہے؟ اس سوال کے جواب میں دھیمے لہجے میں جناب اسد لاڑ نے کہا کہ قدرت اب صحرائی علاقوں کو دوبارہ عروج یافتہ بنائے گی۔میرا ماننا ہے کہ دنیا کے تمام ریگستان ہزاروں سال پہلے دریاؤں کی گزر گاہ رہ چکے ہیں۔مجھے میرا علم بتا رہا ہے کہ سرائیکی روہی چولستان میں قدیم آٹھ ہزار سال تہذیب وتمدن کے آثار لازمی ہوں گے۔واللہ اعلم بالصواب۔باقی میرا اللہ پاک بہتر جانتا ہے۔اب اس حوالے سے تحقیقاتی آرکیالوجی تھیوری سے عملی حقائق تلاش کرنے کی سعی کرتے ہیں۔

    گنویری والا چولستان کی باقاعدہ کھدائی کے لیے عملی اقدامات سابق ماہر آثار قدیمہ ڈائریکٹر جنرل آرکیالوجی ڈیپارٹمنٹ ڈاکٹر رفیق مغل کی دن رات محنت سے 1970ء سے 1975ء کے دوران سامنے آئے۔ اس کا نتیجہ مارچ 2024ء میں سرکاری فنڈز کی مد میں 20 ملین یعنی 2 کروڑ روپے کی لاگت سے کھدائی کا تاریخی مرحلہ دیکھنے کو ملا ،جب ڈاکٹر رفیق مغل اپنی آرکیالوجی ٹیم سابق کمشنر بہاولپور ڈویژن ڈاکٹر احتشام انور کے ساتھ مل کر سرائیکی وسیب کی عالمگیر قدامت کا گہوارہ شہر گنویری والا کی کھدائی کا آغاز کیا۔

    راقم الحروف نے اپنے آرکیالوجسٹ دوست اعجاز الرحمن بلوچ اور جام غلام یاسین لاڑ کے ساتھ 2022ء میں اس مقام کا دورہ کیا۔جہاں برجی گنویری والا کی مخصوص شکل کو دیکھا گیا۔ڈاکٹر رفیق مغل نے اپنے تھیسس کے ذریعے ثابت کیا کہ گنویری والا شہر روہی چولستان کی اپنی مقامی تہذیب کا حصہ ہے اور یہ تمدن باہر سے نہیں آئی بلکہ مقامی طور پر پروان چڑھی۔

    روہی چولستان کے قدیم تاریخی تمدنی سات ہزار سالہ شہر گنویری والا کی عظمت کی بنیاد پر ہی وادی ہاکڑہ سرسوتی تہذیب و تمدن کو وادی سندھ تہذیب و تمدن کی ماں مانا گیا ہے۔دنیا کی اہم تہذیبوں میں وادی نیل کی مصری اہرامی تہذیب وتمدن اور وادی دجلہ و فرات کی میسوپوٹیمیا سمیرین تہذیب وتمدن کو وادی سندھ تہذیب وتمدن کا ہم عصر مانا جاتا ہے۔

    پہلی قسط پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں
    گنویری والا: ہڑپہ وموہنجودڑو سے بھی قدیم سات ہزار سالہ سرائیکی تہذیب کا مرکز(پہلی قسط)
    تاہم بیل گاڑی،مہریں،مٹی کے برتن،ایک سینگ والے جانور کی مورتیاں
    ،زیورات،زراعت کے اوزار اور دستکاریوں کے قدیم تاریخی شواہد نے سرائیکی علاقے روہی چولستان کے بہاولپوری ثقافتی شہر گنویری والا کو سات ہزار سال پرانا شہر تسلیم کیا ہے۔

    مختلف میڈیا رپورٹس اور ادارہ آرکیالوجی پاکستان کی پریس ریلیز کے مطابق گنویری والا سات ہزار سال پرانا شہر ہے۔پاکستان کے مایہ ناز پہلے آرکیالوجسٹ ڈاکٹر رفیق مغل کی ریسرچ کے مطابق وادی سندھ تہذیب و تمدن کی بنیاد ابتدائی ہڑپائی تمدن (2500 سے 3200 قبل مسیح) کے ساتھ دریائے ہاکڑہ سرسوتی تہذیب و تمدن کے شہر گنویری والا پر پروان چڑھی۔

    آرکیالوجی تحقیق سے یہ بھی ثابت ہوا ہے کہ قدیم افغانستان سے ملنے والے انسانی زیورات اور گنویری والا سے دریافت ہونے والے نمونے ایک جیسے ہیں۔اس عظیم تہذیب کے لوگوں کی دستکاریوں کے قدیم شاہکار تجارت کے ذریعے دنیا کے کونے کونے تک رسائی حاصل کی۔

    چولستان روہی اور سرائیکی وسیب کی اس منفرد تہذیب کے وارث شہر کو قدیم تہذیبی ارتقاء کے اعتبار سے ابنِ حنیف کی کتاب "سات دریاؤں کی سرزمین” (فکشن ہاؤس لاہور، اول 1997ء، دوم 2017ء) میں نمایاں مقام دیا گیا ہے۔اس کتاب کے صفحہ نمبر 27 پر ڈاکٹر رفیق مغل کی 1974ء سے 1977ء کے دوران موسم سرما میں چولستان وادی ہاکڑہ سرسوتی تہذیب کے چار دوروں کا ذکر موجود ہے۔

    رگ وید سنسکرت زبان میں دریائے سرسوتی ندی کی عظمت کا خوبصورت تذکرہ موجود ہے،جو اس تہذیب کی اہمیت کو مزید اجاگر کرتا ہے۔رگ وید میں مقدس سرسوتی سرائیکی ندی کی شان میں بھجن، جسے سرائیکی شاعر و محقق ڈاکٹر نصراللہ خان ناصر نے اپنی کتاب "سرائیکی شاعری دا ارتقاء” کے صفحہ نمبر 28 پر درج کیا۔اس طرح ہے:

    سرسوتی امدی ہے شور و غل کریندی ہوئی
    غذا گھن تے اساڈے کیتے حصن حصین ہے۔

    آریہ قوم نے سنسکرت زبان میں مقدس ویدک لٹریچر جیسے رگ وید میں مقدس ندی دریائے سرسوتی کے علاوہ دریائے سندھ، ستلج، چناب، بیاس، راوی، جہلم، گنگا، جمنا دیوتاؤں اور دریاؤں کی شان میں قصیدے لکھے۔

    ڈاکٹر رفیق مغل نے چولستان میں 424 قدیم بستیاں دریافت کیں۔بیٹی وادی سندھ تہذیب و تمدن جو دراصل ماں وادی ہاکڑہ سرسوتی گھارا، گھاگھرا تہذیب و تمدن کی کوکھ سے پیدا ہوئی، اس کی آغوش میں پلی بڑھی۔ ہاکڑہ چولستان تمدن کو 3000/4000 قبل مسیح کا عہد کہا گیا ہے اور اسے پانچ ادوار میں تقسیم کیا جاتا ہے.
    1۔ قبل از ہڑپائی دور (3000/2500 ق م)
    2۔ ہاکڑہ دور (3000/3500 ق م)
    3۔ ابتدائی ہڑپائی دور (2500/3200 ق م)
    4۔ عروج یافتہ ہڑپائی دور (2000/2500 ق م)
    5۔ متاخر ہڑپائی دور (1800 ق م)

    روہی چولستان کے قدیم تہذیبی و تمدنی باقیات اولین انسانی شعور کی بنیادیں ہیں۔ڈاکٹر رفیق مغل کے تحقیقی کام کو غیر ملکی ماہرین آثارِ قدیمہ میں پنسلوانیا یونیورسٹی آف امریکہ کے لوئی فیم،ڈیلز،شیفر، مارشیا،میڈو، لیمبرگ اور کارلووسکی نےقدر کی نگاہ سے دیکھا ہے۔مصنف صدیق طاہر کی روہی چولستان کی قدامت پر "وادی ہاکڑہ اور اس کے آثارِ قدیمہ” کے نام سے ایک بہترین کتاب الگ پہچان رکھتی ہے۔

    سرائیکی خطے کی قدیم تہذیب و تمدن میں کھلے گھر،نکاسی آب کا انتظام، لباس و زیورات کا شوق، واش رومز اور دیگر دستکاریوں کا ہنر ان کی روزمرہ زندگی گزارنے کا مضبوط ثقافتی اور تاریخی شاندار قصہ ہے۔مجسمہ سازی، کوزہ گری،کانسی کے بت چولستانی تمدنی ثقافتی اقدار کے عروج کی گواہی دیتے ہیں۔

    سابق خوشحال ریاست بہاولپور کے نواب سر صادق محمد خان عباسی پنجم رحمۃ اللہ علیہ کی اولاد میں پرنس میاں عثمان داؤد خان عباسی (سابق ڈپٹی اسپیکر صوبائی اسمبلی پنجاب) کا کہنا ہے کہ انہوں نے خود 1974ء میں چھ ہزار سال قدیم روہی چولستان، گنویری والا سمیت چولستانی تہذیب و تمدن کے آثار کی کھدائی کے لیے پراجیکٹ منظور کرایا۔ لیکن بعد میں وزیراعظم پاکستان ذوالفقار علی بھٹو کے عہد میں چولستانی قدیم تاریخی تہذیب و تمدن کی کھدائی کے منصوبے بند کر دیے گئے۔

    ان کا مزید کہنا تھا کہ چولستان سے کچھ قیمتی قدیم نوادرات،جن میں مٹی کے برتن،ہار سنگھار کے نقش،مہریں،سکے وغیرہ شامل ہیں،میرے ایک دوست فرنچ ماہرِ آثارِ قدیمہ نے چولستانی پرانے تہذیبی مقامات سےحاصل کیے۔پھر چند ماہ بعد رپورٹ بھجوائی، جس کے مطابق ان اشیاء کی قدامت 6000 چھ ہزار سال قدیم بتائی گئی۔

    میں نے خود (راقم الحروف)ان سے اپنے تھیسز بعنوان مقالہ پی ایچ ڈی شعبہ سرائیکی اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور (پاکستان)”سرائیکی لوک قصے اتے چولستانی قصے دے اثرات ” عید الفطر کے موقع پر سال 2021ء میں ملاقات کے دوران معلومات حاصل کیں۔مقامی روہیلے چولستانی کہتے ہیں کہ شدید بارش کے موسم میں قلعوں اور قدیم کھنڈرات میں سے لوگوں کو قیمتی اشیاء ملتی ہیں۔ریسرچ رپورٹ کے مطابق ایک سینگ والے جانور کی مورتیاں بھی ملی ہیں۔

    گنویری والا شہر 80 ہیکٹر پر پھیلا ہوا ہے۔روہیلے اس اجڑے ٹھیڑھ کو کالا پہاڑ بھی کہتے ہیں۔جو ایک وقت میں دریائے سرسوتی ندی کے کنارے آباد تھا۔ یہ شہر ہڑپہ سے بڑا ہے۔مگر موہنجو داڑو سے چھوٹا ہے۔ دونوں قدیم شہر کے درمیان کا شہر گنویری والا چولستان لگ بھگ ہڑپہ سے 260 کلومیٹر جب کہ موہنجو داڑو سے 340 کلومیٹر دور ہے۔

    جو قومیں اپنے قدیم تاریخی تہذیبی ورثے کی حفاظت کرتی ہیں۔وہی دنیا میں ترقی یافتہ قومیں تصور کی جاتیں ہیں۔ چولستان روہی سرائیکی ڈویژن بہاولپور میں تقریباً 500 قدیم تاریخی آرکیالوجی سائٹس ہیں۔ سرائیکی ریاست بہاولپور جس کو محلوں کا خوبصورت شاندار جدید تاریخی شہر بھی کہا جاتا ہے۔ اس کے ریگستان چولستان میں 19 تاریخی بوسیدہ قلعے اپنے وارثوں کو اپنی تزئین و آرائش اور بقاء کے لیے مٹی کے بوسیدہ در و دیواروں سے فریاد کر رہے ہیں۔
    جاری ہے

  • گنویری والا: ہڑپہ و موہنجودڑو سے بھی قدیم سرائیکی تہذیب کا مرکز (پہلی قسط)

    گنویری والا: ہڑپہ و موہنجودڑو سے بھی قدیم سرائیکی تہذیب کا مرکز (پہلی قسط)

    گنویری والا: ہڑپہ و موہنجودڑو سے بھی قدیم سرائیکی تہذیب کا مرکز
    تحقیق و تحریر:ڈاکٹر محمد الطاف ڈاھر جلالوی
    altafkhandahir@gmail.com
    خلاصہ :یہ آرٹیکل سرائیکی خطے کی قدیم تہذیب و تمدن، خاص طور پر گنویری والا شہر کی تاریخی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے۔ گنویری والا، جو ہڑپہ اور موہنجودڑو سے قدیم ہے، وادی ہاکڑہ کے کنارے واقع ایک عظیم تاریخی مرکز رہا ہے۔ آرٹیکل میں علم آثار قدیمہ کی اہمیت بیان کی گئی ہے، جو قدیم تہذیبوں اور تمدن کے مطالعے کا ذریعہ ہے اور یہ آرٹیکل تین اقساط پر مشتمل ہے .

    پہلی قسط کا خلاصہ
    سرائیکی وسیب کی قدیم تہذیب و تمدن، خاص طور پر گنویری والا شہر، تاریخی، ثقافتی، اور آثارِ قدیمہ کے حوالے سے غیرمعمولی اہمیت رکھتا ہے۔ گنویری والا، جو ہڑپہ اور موہنجودڑو سے بھی قدیم ہے، سرائیکی خطے کے تاریخی ورثے کی شناخت کا مرکز ہے۔
    آرٹیکل میں علم آثار قدیمہ کی اہمیت، سرائیکی وسیب کے تاریخی پس منظر، گمشدہ شہروں کی دریافت، اور ان کی ثقافتی و تمدنی اقدار کو اجاگر کیا گیا ہے۔ وادی ہاکڑہ اور گنویری والا کی کھدائی سے حاصل ہونے والی معلومات نہ صرف ماضی کی تہذیب کی عکاسی کرتی ہیں بلکہ اس خطے کی موجودہ شناخت اور ترقی کے لیے تحقیق اور تحفظ کی ضرورت پر بھی زور دیتی ہیں۔
    یہ قسط علم، تحقیق، اور ورثے کی حفاظت کی اہمیت پر روشنی ڈالتی ہے، جبکہ سرائیکی وسیب کے امن، محبت، اور ثقافتی اقدار کو اجاگر کرتی ہے۔

    پہلی قسط

    علم آثارقدیمہ کی ریسرچ تھیوری سے سرائیکی قدیم تہذیب وتمدن کا تاریخی پس منظر اور اہمیت
    تحقیق کا مطلب عشق و محبت کی وہ قیمت ہے جو قدیم بوسیدہ کتابوں کے اوراق پر چھپی مٹی کی خوشبو، نیند کی قربانیوں اور صحرائے چولستان کی نہ ختم ہونے والی تپتی ریت پر پوشیدہ قیمتی خزانوں کی تلاش میں ادا کی جاتی ہے۔ غور و فکر اور فلاح انسانیت کا فلسفہ تمام مذاہب کا مشترکہ پیغام ہے۔اللہ تعالیٰ نے اپنی حکمت کے بے شمار راز آسمان و زمین میں پوشیدہ رکھے ہیں اور علم ان رازوں کو سمجھنے کا اعلی ترین ذریعہ ہے۔علم کے تین حروف میں "ع” عشق، "ل” لطافت اور "م” محبت کی علامت ہیں۔

    قرآن مجید رب العالمین کا زندہ معجزہ ہے جو علم وعرفان اور حکمت کا سرچشمہ ہے۔اللہ تعالیٰ کے پاک فرمان کا مفہوم یہ ہے کہ علم کی طلب رکھنے والے اور اس سے منہ موڑنے والے برابر نہیں ہو سکتے۔علم کے متلاشی زندہ دل ہیں جبکہ علم سے غافل افراد گویا مردہ ہیں۔نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے: "علم مومن کی گمشدہ میراث ہے، جہاں سے ملے اسے حاصل کرو۔” یہ فرمان اپنی بےمثال جامعیت اور حکمت کے سبب رحمت العالمین کی عظمت کا واضح ثبوت ہے۔

    "آثار قدیمہ” یا "آرکیالوجی” وہ علم ہے جو بطنِ زمین میں دفن قدیم تہذیبوں، گمشدہ شہروں اور ان کے آثار کو منظر عام پر لاتا ہے۔ آثار قدیمہ کے مطالعے سے ہمیں ماضی کی تہذیب، تمدن،تاریخ،ادب،فنون، رہن سہن،وصیت نصحیت، پالیسی، عملی حکمت و دانش،زبان، روایات اور رسم و رواج کا علم ہوتا ہے۔ ان دریافتوں میں سکّے، کھنڈرات، مٹی کے برتن، پتھروں کی تختیاں، مخطوطات، ہڈیاں، مجسمے، زیورات، اوزار، اور دیگر قیمتی نوادرات شامل ہیں۔ اسی لیے آرکیالوجی کو تمام علوم کی ماں کہا جاتا ہے۔

    سرائیکی وسیب میں روہی چولستان کی وادی ہاکڑہ جو ہزاروں سال پرانی تہذیب اور تمدن کا مرکز رہا ہے، ایک اہم آثار قدیمہ کی جگہ ہے۔ گمشدہ شہر "گنویری والا” اسی وادی کا ابتدائی حصہ ہے، جو قدیم دریائے سرسوتی کے میٹھے پانی سے سیراب ہوتا تھا۔ معروف محقق اور دانشور سید نور الحسن ضامن بخاری احمدپوری نے اپنی کتاب معارف سرائیکی میں اس جگہ کو قرآن مجید کی سورۃ الفرقان میں مذکور "اصحاب الرس” کے مقام سے منسلک کیا ہے۔

    قرآن مجید میں ذکر کی گئی مختلف اقوام کے عروج و زوال کے قصے آج بھی ہمیں حقیقت کی طرف لے جاتے ہیں۔ گنویری والا، جو اب خاموشی سے زمین کے نیچے دفن ہے، قلعہ ڈیراور سے تقریباً 55 کلومیٹر جنوب مغرب کی جانب واقع ہے۔یہ مقام اپنی تاریخی تہذیبی،تمدنی اور ثقافتی اقدار کے خزانے کے ساتھ آج بھی تحقیق کا منتظر ہے اور موجودہ چولستانی جیپ ریلی کا مرکز ہونے کی وجہ سے دنیا کی توجہ کا محور بنتا جا رہا ہے۔

    گنویری والا شہر کے حوالے سے یہ معلومات قابل ذکر ہیں کہ اس کا پہلی بار ذکر آرکیالوجسٹ سر آئرل سٹین نے 1941ء میں کیا۔انہوں نے موہنجوداڑو، ہڑپہ،رحمان ڈھیری، پتن منارہ، قلعہ ڈیراور، بی بی جند وڈی کا مقبرہ، قلعہ بل اوٹ، سوئی وہاڑ، جلیل پور، مہرگڑھ، اوچ، ملتان اور پاکستان بھر کے آثار قدیمہ کی ابتدائی کھدائی کے پراجیکٹس میں حوالہ دیا۔

    سرائیکی خطے کے قدیم چولستانی حکمران راجپوت قبائل کے بارے میں ایک کہاوت عام ہے جس میں آٹھ قوموں کا ذکر کیا گیا ہے۔ یہ قومیں آج بھی دریائے سندھ کے دونوں کناروں اور روہی میں آباد ہیں۔تاریخی کتب میں درج ہے کہ سکندر مقدونی کو ملتان میں "خونی برج” کے مقام پر سرائیکی ملہی قوم کے ایک بہادر سپہ سالار نے زہریلے خنجر یا تیر سے شدید زخمی کیا، جس کے نتیجے میں وہ ہلاک ہوا۔

    سرائیکی وسیب آج بھی صوفی ازم، امن، اور زراعت کے لحاظ سے مالا مال ہے۔اس کی معاشی خوشحالی حملہ آوروں کے لیے قبضہ گیری اور قتل گاہ ثابت ہوئی۔ ملتان شہر کی تاریخی تہذیب کے حوالے سے سرائیکی کہاوت مشہور ہے: "جئیں نہ ڈٹھا ملتان نہ او ہندو نہ او مسلمان۔” اردو کی ایک مشہور ضرب المثل بھی ملتان کی اہمیت بیان کرتی ہے: "آگرہ اگر، دلی مگر، ملتان سب کا پدر۔”

    روہی چولستان، دمان، تھل اور راوا جیسے علاقے سرائیکی وسیب کی چھ سے سات ہزار سال پرانی تہذیب کی گواہی دیتے ہیں۔امن، محبت،اتحاد،عدم تشدد،تصوف،خلوص،فطرت سے پیار،احترام آدمیت،مٹھاس،برداشت،صبروتحمل،فنونِ لطیفہ سے عشق،دستکاری اور ہنر مندی اس خطے کے اہم موضوعات اور نمایاں خصوصیات ہیں۔

    سرائیکی قدیم چولستانی حکمرانوں کے حوالے سے ایک مشہور کہاوت کا نمونہ ملاحظہ کریں"جہاں اتحاد، بہادری اور خلوص ہو، وہاں عظیم قومیں جنم لیتی ہیں۔”

    سنگلی جنہاں دی ڈاڈی سوڈھی جنہاں دی ماء
    ملہی جنڑے پنج پتر ڈاھر،بھٹہ،لنگاہ،نائچ، شجراء

    آج کا روہی چولستان سرائیکی وسیب ایک مرتبہ پھر دنیا کو امن و رواداری،معاشی خوشحالی،تعمیر نو اور ترقی کی ضمانت دینے کا خوبصورت گیت گا کر سنا رہا ہے۔روہی چولستان گنویری والا شہر کی بنیادی تہذیب وتمدن سرائیکی وسیب کی اپنی ہے۔یہ تہذیب باہر سے آکر آباد نہیں ہوئی ہے۔
    جاری ہے۔