Baaghi TV

Category: معاشرہ و ثقافت

  • قدیم چولستان، سرائیکی تہذیب  کے منفرد رنگ

    قدیم چولستان، سرائیکی تہذیب کے منفرد رنگ

    قدیم چولستان، سرائیکی تہذیب کے منفرد رنگ
    تحقیق و تحریر:ڈاکٹر محمد الطاف ڈاہر جلالوی
    altafkhandahir@gmail.com
    اس مضمون میں قدیم چولستان کی وادی ہاکڑہ اور سرائیکی تہذیب کی منفرد جھلکیوں کا احاطہ کیا گیا ہے۔ یہ چار اقساط پر مشتمل سلسلہ سرائیکی ثقافت کی گہرائیوں، رسوم و رواج اور تاریخی ورثے پر روشنی ڈالے گا۔

    پہلی قسط . قدیم وادی ہاکڑہ کی تمدنی اقدار،تاریخ کے گمشدہ راز
    چولستانی وادی ہاکڑہ کا تاریخی پس منظر ہزاروں سال پرانا ہے۔جہاں انسانی تخلیقیت نے مادری زبان،روحانیت،ادب، اور ثقافت کے ذریعے تمدنی و تہذیبی اقدار کو پروان چڑھایا۔روہی چولستان کے منفرد رسوم و رواج اور دستکاریوں نے عالمی سطح پر سرائیکی ثقافت کو الگ پہچان دی۔ قدیم آثار جیسے گنویری والا اور قلعہ ڈیراور آج بھی اس خطے کی تہذیبی تاریخ کی گواہی دیتے ہیں۔

    فلسفہ امن و بقائے انسانیت اور فکر معاش نے انسانی تخلیقی خوبیوں اور صلاحیتوں کو پروان چڑھایا۔خلیفہ خداوندی حیوان ناطق انسان نے ہمیشہ مادری زبان کے در سے علم وادب کی روشن خوبصورت قلم مشعل اور شعور کی آگاہی سے منفرد انداز میں آرٹ،کلچر اور سوسائٹی کی بدولت عظیم سمندروں،دریاؤں،ندیوں،چشموں اور ٹوبھوں کے کناروں پر نئی تہذیبوں اور تمدنوں کو تخلیق کیا۔ہزاروں سال پرانی وادی ہاکڑہ سرسوتی کی سرائیکی خطے روہی چولستان کی ثقافت اپنے مخصوص رسم و رواج اور دستکاریوں کی بدولت پاکستان سمیت اقوام عالم میں الگ خاص حیثیت رکھتی ہے۔

    کرہ ارض پر مجبور انسان نے اپنے دکھ سکھ کے اظہار کے لیے ہی رسوم و رواج کی روایات کو فروغ دیا۔صحرائی علاقے بہاولپور کے گلزار صادق روہی چولستان کے کنارے وادی ہاکڑہ سرسوتی تہذیب وتمدن کی آغوش میں پلنے والی مضبوط رواج ریتیں اور رسوم نے روہیلوں کی زندگی میں نئی راہیں تلاش کیں۔قدیم آثارقدیمہ کا حامل شہر گنویری والا،موج گڑھ،قلعہ مروٹ،پتن منارہ،قلعہ ڈیراور جیپ ریلی مرکز چولستان کے ساتھ دیگرچولستانی پرانے گمشدہ محلوں اور قلعوں کے کھنڈرات دراصل آج کے گوپوں میں زندہ جاوید روایات اور رسموں کی گواہی ہیں،روہی کی قابل استعمال اشیاء کا ذکر اور خوبصورت منظر نگاری اپنی نوعیت میں انوکھی ہیں۔

    چولستان اور روہی سرائیکی وسیب کی عالمگیر تہذیب وتمدن،تصوف اور ثقافت اپنی قدیم روایتوں اور منفرد انداز کے باعث بہت مشہور ہے ۔یہاں کی ثقافتی رسموں و رواج اور اشیاء کا نمایاں ذکر سرائیکی وسیب کی بین الاقوامی سطح پر امن و محبت،تصوف،علم وادب،رواداری،خلوص،وفا،
    ،ہمدردی،صبروتحمل،برداشت،دیانت، شرافت،امانت،اتحاد،احترام آدمیت کے فلسفے کی علامات ہیں۔

    مشہور ثقافتی مقامی و انٹرنیشنل چولستانی میلہ، چنن پیر میلہ، جھوک فرید امن میلہ، قلعہ ڈیراور فرید امن میلہ،چولستان جیپ ریلی کے سالانہ تہواروں میں روایتی رقص جھمر،مخصوص چولستانی لباس،موسیقی اور علاقائی دستکاریوں کی نمائش ہر عام خاص سیاح کو اپنی طرف متوجہ کرتی ہے۔

    اونٹوں کی دوڑ کا ثقافتی تہوار چولستان روہی کے لوگوں بڑے جوش و خروش سے مناتے ہیں۔اس ریس میں نوجوان طاقتور صحرائی ہوائی جہاز خوبصورت نقش و نگار سے مزین اونٹ ہر ایک کو دوڑتے ہوئے بھاتے ہیں۔لوک موسیقی روہی چولستان کی روح ہے۔فنون لطیفہ میں شاعری کی تاثیر کو موسیقی کے سازوں سے مزین کیا جاتا ہے۔

    سرائیکی چولستانی لوک گلوکارجیسے مرحوم فقیرا بھگت کا بیٹا موہن بھگت،اوڈ بھگت، مجید مچلا،مٹھو چولستانی اپنی سریلی گائیکی کے ذریعے علاقائی رنگ پیش کرتے ہیں۔ڈھول ناچ کی رسم کو شادی بیاہ اور دیگر خوشی کے مواقع پر ڈھول کی تھاپ پر رقص جھمر مخصوص دائرہ میں سرائیکی اجرک و چنئی کے رنگوں سے رسم ادا کی جاتی ہے۔

    چولستانی مہندی کی مخصوص رسم شادیوں میں خاص قسم کی مہندی سے ادا کی جاتی ہے۔رسم کی دلکشی صدیوں پرانی انسانی جذبات کی ترجمانی کرتی ہے۔روہی چولستان میں روح کی روحانی تسکین کے لیے پیر سید کی درگاہ کی حاضری لازمی جز زندگی ہے۔

    چادر پوشی کی خاص مذہبی اور ثقافتی رسم عقیدت اوراحساسات کی عملی سکون واطمینان قلب کا خوبصورت جہاں سے جڑی ہوتی ہے۔چولستانی مسلم و ہندو کمیونٹی حضرت سید شیر شاہ جلال الدین حیدر سرخ پوش بخاری رحمتہ اللہ علیہ،مہان سرائیکی شاعر حضرت خواجہ غلام فرید رحمتہ اللہ علیہ،قلعہ ڈیراور پر موجود اصحاب کی قبور حضرت چنن پیر رحمتہ اللہ علیہ اور حضرت روحل فقیر (سکھر روہڑی) کو اپنا روحانی مرشد کامل حقیقی مانتے ہیں۔مسجد مندر میں اپنی روحانی تقریبات ادا کرتے ہیں۔چادر پوشی کی رسم روہی چولستان میں بہت اہمیت رکھتی ہے۔

    مشہور ثقافتی اشیاء میں چولستانی کڑھائی کے کپڑے،ہاتھ سے کڑھی بنی ہوئی شال،دوپٹے،کنگن،چوڑیاں، شیشے اور دھات کے بنے خوبصورت زیورات،مٹی کے برتن،خاص طور پر مٹی کے گھڑے اور صراحی،اونٹ کے بالوں سے بنی اشیاء میں رسی،قالین اور دیگر دستکاریاں میں چولستانی لوئی اور کمبل، اون اور روئی سے بنی گرم اشیاء،چاکی ہنر میں لکڑی سے بنی روزمرہ استعمال کی اشیاء جیسے کھجور کے پتوں سے بنی ٹوکریاں،سرائیکی بلوچی چپل جو منفرد ڈیزائن کی بدولت مخصوص علاقائی پہچان رکھتی ہے۔

    یہ رسمیں اور اشیاء چولستان اور روہی کی شاندار تہذیبی،ثقافتی قدیمی آرٹ اینڈ آرکیالوجی کے نقش و نگار کو اجاگر کرتی ہیں۔ پاکستان کے دلکش کلاسک کلچرل ورثے کا اہم سرائیکی شناختی حوالہ ہیں۔الگ پہچان کی مشہور ریاست بہاولپور روہی چولستان کی سادہ مٹھاس بھری رسمیں روایتی ثقافتی ورثےکی شناخت کا زیور ہیں۔

    سوئی کم کریجے
    جہیں وچ اللہ آپ بنڑیجے
    مار نغارا انا الحق دا
    سولی سر چڑھیجے
    وچ کفر اسلام کڈاہاں
    عاشق تاں نہ اڑیجے
    جاری ہے ۔

  • پیراڈائز ہوٹل ٹوبہ ٹیک سنگھ میں انوکھی شادی

    پیراڈائز ہوٹل ٹوبہ ٹیک سنگھ میں انوکھی شادی

    پیراڈائز ہوٹل ٹوبہ ٹیک سنگھ میں انوکھی شادی:دین،معاشرے اور اخلاقیات کا زوال
    تحریر:شاہد نسیم چوہدری
    ٹوبہ ٹیک سنگھ میں شورکوٹ روڈ پر واقع دی پیراڈائز ہوٹل میں ایک انوکھی شادی سرانجام پائی ۔۔۔جو ،معاشرے اور اخلاقیات کی پستی کا واضح ثبوت ہے،ارباز نامی لڑکے کی خواجہ سرا میڈم دعا سے سرعام شادی نے پورے علاقے میں ایک ہلچل مچا دی۔ اس شادی کی تقریب میں نہ صرف روایتی رسومات جیسے دودھ پلائی اور رخصتی ادا کی گئیں، نکاح نہیں کرایا گیا۔ رقص و سرود کی محفل بھی سجائی گئی جس میں نوٹ نچھاور کیے گئے اور علاقے بھر کے خواجہ سراؤں نے شرکت کی۔

    یہ واقعہ ہمارے معاشرتی، دینی اور اخلاقی رویوں کا آئینہ ہے جو ایک سنجیدہ بحث کا تقاضا کرتا ہے۔اسلامی اصولوں کی خلاف ورزی :دین اسلام نکاح کو پاکیزگی اور نسل انسانی کی افزائش کے لیے مقرر کرتا ہے، اور اس کے اصول واضح ہیں۔ قرآن و سنت کے مطابق مرد کا مرد سے، عورت کا عورت سے اور مرد کا خواجہ سرا سے شادی کرنا جائز نہیں۔یہ اصول اس لیے ہیں کہ اسلامی معاشرت کی بنیاد خاندانی نظام پر ہے جو نکاح کے دائرے میں رہ کر نسل انسانی کو آگے بڑھاتا ہے۔ خواجہ سرا کی جنس ایک الگ موضوع ہے، لیکن اس شادی نے نہ صرف ان دینی اصولوں کو پامال کیا بلکہ اسلامی اقدار کو بھی مجروح کیا۔شادی کی تقریب میں نکاح کا سرے سے کوئی ذکر نہ ہونا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ یہ شادی ایک غیر سنجیدہ اور شرعی اصولوں کے برعکس عمل تھا۔ جب اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے واضح احکامات کو نظرانداز کیا جاتا ہے، تو یہ اللہ کے عذاب کو دعوت دینے کے مترادف ہوتا ہے۔

    معاشرتی پہلو: تضاد اور زوال ،یہ واقعہ صرف دینی اصولوں کی خلاف ورزی نہیں بلکہ ہمارے معاشرتی زوال کی بھی ایک بڑی علامت ہے۔شادی کی تقریب کے دوران رقص و سرود اور نوٹ نچھاور کرنا خواجہ سراؤں کو تفریح کا ذریعہ بنانے کا مظہر ہے۔ ہم بحیثیت معاشرہ ان کے ساتھ ہمدردی کے بجائے انہیں تماشہ بنا رہے ہیں۔خواجہ سراؤں کے رقص کو سرعام دیکھنا اور اس پر خوشی کا اظہار کرنا اخلاقیات کے زوال کی نشاندہی کرتا ہے۔اور پھر اس سے شادی کے نام پر ساتھ لے جانا سر عام زناکاری کے زمرے میں آتاہے، یہ رویہ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ ہم اپنی روایات اور اقدار کو نظرانداز کر چکے ہیں۔

    معاشرتی طور پر خواجہ سراؤں کو اب تک نہ تو برابری کا درجہ ملا ہے اور نہ ہی ان کے حقوق کی فراہمی ممکن ہو سکی ہے۔ اس کے باوجود ایسے تماشوں میں انہیں مرکز بنا کر پیش کرنا ہمارے دوہرے معیار کو ظاہر کرتا ہے۔شریعت اور خواجہ سرا بارے اگر غور کیا جائے تواسلامی تعلیمات خواجہ سراؤں کے ساتھ انصاف اور احترام کا درس دیتی ہیں۔ قرآن و سنت میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ ہر انسان کے ساتھ عدل و انصاف کیا جائے، لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ شرعی اصولوں کو توڑ کر اپنی عیش و عشرت کیلئے ان کے لیے علیحدہ قوانین بنائے جائیں۔خواجہ سراؤں کو ان کے حقوق دینا ضروری ہے، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ معاشرتی اور دینی اصولوں کو پس پشت ڈال دیا جائے۔

    ارباز اور دعا کی شادی نہ صرف شرعی اصولوں کے خلاف ہے بلکہ یہ ایک خطرناک مثال بھی قائم کرتی ہے جو معاشرتی انتشار کو جنم دے سکتی ہے۔اس جیسے اعمال دین اسلام کی نظر میں سخت ناپسندیدہ ہیں۔اس تقریب میں یہ عمل سرعام کیا گیا، جو کھلم کھلا گناہ ہے۔نکاح، شادی کی بنیاد اور ایک مقدس معاہدہ ہے، لیکن یہاں نکاح کو نظرانداز کر دیا گیا۔ یہ عمل معاشرتی اقدار کی پامالی ہے۔

    خواجہ سراؤں کو ایسے مقاصد کیلئے تقریبات میں استعمال کرنا شرعی اور اخلاقی طور پر غلط ہے۔ان کی عزت نفس کو مجروح کرنے کے مترادف ہے۔ معاشرے کی ذمہ داری ہے،یہ وقت ہے کہ ہم بحیثیت قوم اپنے اعمال کا جائزہ لیں اور اصلاح کی طرف بڑھیں۔معاشرے میں دینی تعلیمات کو فروغ دینا اور اسلامی اصولوں پر عمل پیرا ہونا ضروری ہے۔ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے قانون سازی کی جائے اور ان پر عمل درآمد کو یقینی بنایا جائے۔

    خواجہ سراؤں کے حقوق:خواجہ سراؤں کو ان کے شرعی اور قانونی حقوق فراہم کیے جائیں تاکہ وہ معاشرے میں باعزت زندگی گزار سکیں۔معاشرے کو خواجہ سراؤں کو انسان سمجھنا اور ان کے ساتھ برابری کا سلوک کرنا سیکھنا ہوگا۔ارباز اور دعا کی شادی نے دینی اور معاشرتی اصولوں کو توڑ کر ہمیں ہمارے زوال کا آئینہ دکھایا ہے۔ یہ وقت ہے کہ ہم اپنی ذمہ داریوں کو سمجھیں اور اپنے اعمال کا جائزہ لیں۔ اللہ تعالیٰ نے ہمیں اپنے احکامات پر عمل کرنے کا حکم دیا ہے، اور ان سے انحراف کرنا صرف دنیاوی نقصان ہی نہیں بلکہ اخروی عذاب کا بھی سبب بن سکتا ہے۔اللہ ہمیں ہدایت دے کہ ہم اپنے اعمال درست کریں، خواجہ سراؤں کو ان کے جائز حقوق دیں، اور دینی اصولوں کی پاسداری کرتے ہوئے معاشرتی اصلاح کی طرف بڑھیں۔ یہ وقت ہے کہ ہم اپنی روایات اور اقدار کو زندہ کریں اور ایسے اعمال سے باز رہیں جو اللہ کے قہر کو دعوت دیں۔

    نوٹ : دی پیراڈائز ہوٹل ٹوبہ ٹیک سنگھ کے ذمہ دار عاصم سے اس شادی بارے معلومات لینے کیلئے فون کیا گیا تو انہوں نے بتایا کہ بات بالکل ٹھیک ہے،یہ واقعہ ایسے ہی ہے۔جب ان سے سوال کیا گیا کہ یہ تقریب کس نے،کس تاریخ کو،کتنے لوگوں کے لئے بکنگ کروائی اور بل کتنا بنا۔۔تو انہوں نے فون بند کردیا اور بارہا رابطہ کرنے پر بھی فون اٹینڈ نہیں کیا۔۔۔۔،

  • سگریٹ،جان و مال کا دشمن،تحریر: حنا سرور

    سگریٹ،جان و مال کا دشمن،تحریر: حنا سرور

    پاکستان میں مہنگائی کی صورتحال دن بہ دن بڑھتی جا رہی ہے۔ لوگ اپنی روزمرہ کی ضروریات پوری کرنے کے لئے سخت محنت کرتے ہیں، لیکن پھر بھی اکثر انہیں مہنگائی کی وجہ سے مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس کے باوجود پاکستانی قوم میں ایک حیرت انگیز تضاد پایا جاتا ہے: ایک طرف مہنگائی کا رونا رویا جاتا ہے اور دوسری طرف عوام اپنی جیب سے پیسہ نکال کر ایسی چیزوں پر خرچ کر رہے ہیں جو نہ صرف صحت کے لئے مضر ہیں بلکہ ان کی مالی حالت پر بھی منفی اثرات مرتب کرتی ہیں۔ ان میں سب سے بڑی چیز سگریٹ نوشی ہے۔

    سگریٹ نوشی ایک ایسی عادت ہے جو نہ صرف فرد کی صحت کو تباہ کرتی ہے بلکہ اس سے معاشرے پر بھی گہرے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ سگریٹ میں موجود کیمیکلز اور زہریلے مادے انسان کے پھیپھڑوں، دل اور دیگر اعضاء پر حملہ کرتے ہیں، جس کے نتیجے میں کینسر، دل کی بیماریوں اور سانس کی بیماریوں کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ اس کے باوجود پاکستانی قوم بڑی تعداد میں سگریٹ پینے کی عادت میں مبتلا ہے۔پاکستانی عوام اس بات سے بخوبی آگاہ ہیں کہ سگریٹ نوشی صحت کے لئے کتنی خطرناک ہے، لیکن پھر بھی وہ اسے ترک کرنے میں ناکام ہیں۔ اس کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ سگریٹ نوشی ایک نشے کی عادت بن چکی ہے، جس سے چھٹکارا حاصل کرنا بہت مشکل ہو جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ لوگ اپنی صحت کے ساتھ ساتھ اپنی مالی حالت کو بھی نقصان پہنچا رہے ہیں۔

    پاکستان میں جہاں لاکھوں خاندان بنیادی ضروریات جیسے کھانا، تعلیم، اور علاج معالجے کے لئے جدوجہد کر رہے ہیں، وہیں ایک بڑی تعداد ایسی بھی ہے جو سگریٹ نوشی کی عادت میں مبتلا ہے۔ یہ صورتحال انتہائی افسوسناک ہے کہ کچھ لوگ اپنے بچوں کو کھانا نہیں دے پاتے لیکن سگریٹ خریدنے کے لئے پیسہ نکال لیتے ہیں۔ کچھ والدین اس بات کی شکایت کرتے ہیں کہ ان کے پاس اپنے بچوں کی فیس جمع کرنے کے لئے پیسے نہیں ہیں، لیکن وہ سگریٹ کے لئے رقم نکالنے میں کامیاب ہوتے ہیں۔ اس طرح وہ اپنی صحت، دولت اور بچوں کے مستقبل کو برباد کر رہے ہیں۔

    یہاں پر حکومت کا کردار بہت اہم ہے۔ اگرچہ حکومت نے کئی بار سگریٹ پر ٹیکس بڑھانے کی کوشش کی ہے، لیکن یہ اقدام ابھی تک اس حد تک مؤثر ثابت نہیں ہو سکا جتنا متوقع تھا۔ حکومت کو چاہئے کہ وہ سگریٹ کی قیمتوں میں مزید اضافہ کرے تاکہ یہ غریب آدمی کی پہنچ سے دور ہو جائے۔ اگر عوام کو یہ سمجھ آ جائے کہ سگریٹ نوشی کی عادت ترک کرنا صرف صحت کے لئے نہیں بلکہ مالی فائدے کے لئے بھی ضروری ہے، تو شاید وہ اس عادت کو ترک کرنے میں کامیاب ہو سکیں۔

    حکومت کو چاہیے کہ وہ سگریٹ نوشی کے نقصانات کے بارے میں عوام میں آگاہی پیدا کرے۔ اس کے لئے میڈیا اور اسکولوں میں تعلیمی پروگرامز منعقد کیے جا سکتے ہیں۔سگریٹ کی قیمتوں میں اضافہ کیا جائے تاکہ غریب لوگ اس کی خریداری سے گریز کریں۔ مذہبی اداروں اور سماجی تنظیموں کو اس بات کا شعور دینا چاہئے کہ سگریٹ نوشی نہ صرف صحت کے لئے نقصان دہ ہے بلکہ یہ معاشرتی طور پر بھی غلط ہے۔

    پاکستانی قوم کو اپنے معاشرتی اور صحت کے مسائل کے بارے میں سوچنے کی ضرورت ہے۔ اگر ہم نے سگریٹ نوشی جیسے مضر صحت عادات کو ترک نہ کیا تو یہ نہ صرف ہماری صحت بلکہ ہمارے ملک کی معیشت کے لئے بھی خطرناک ثابت ہو گا۔ ہمیں اپنی عادات کو بہتر بنانا ہوگا اور ایسی چیزوں پر خرچ کرنے کی بجائے جو ہماری زندگیوں کو تباہ کر دیں، ہمیں اپنی زندگیوں کو بہتر بنانے کی کوشش کرنی چاہئے۔

  • چولستانی گوپے میں چھپی روہی کی دلکش ثقافت،تیسری قسط

    چولستانی گوپے میں چھپی روہی کی دلکش ثقافت،تیسری قسط

    چولستانی گوپے میں چھپی روہی کی دلکش ثقافت
    تحریر: ڈاکٹر محمد الطاف ڈاھر جلالوی
    altafkhandahir@gmail.com
    تیسری قسط کا خلاصہ:
    تیسری قسط میں چولستان کے ماحولیاتی چیلنجز جیسے موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے بارشوں کی بے قاعدگی اور زمین کی زرخیزی میں کمی کو بیان کیا گیا ہے۔اس قسط میں چولستانی خواتین کے مسائل اور ان کے حقوق کے حوالے سے بھی بات کی گئی ہے۔خاص طور پر صحت،تعلیم اور روزگار کے حوالے سے روہی چولستان کے نوجوانوں کی مشکلات پر روشنی ڈالی گئی ہے۔شہروں کی طرف روزگار کے حصول کے لیے ہجرت کرنے،ذریعہ معاش کے مواقع کی کمی کو بھی اجاگر کیا گیا ہے۔گوپے میں چھپی چولستانی ثقافت اور اس کے ورثے کی اہمیت کو بھی بیان کیا گیا ہے۔ اور اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ حکومتی اور غیر سرکاری اداروں کی بروقت پلاننگ اور پروجیکٹس سے چولستان کے مسائل کو حل کیا جا سکتا ہے۔ تاکہ مقامی لوگوں کی زندگی کو بہتر اور خوشحال بنایا جا سکے۔

    تیسری و آخری قسط
    چولستان کی ثقافت اور ترقی کے امکانات
    چولستان کی ثقافت اور ترقی کے امکانات پر نظر ڈالیں تو یہ خطہ اپنے اندر بے شمار تہذیبی، لسانی اور ادبی خزانے سموئے ہوئے ہے۔ یہاں کی مادری زبانوں کا لٹریچر، صوفی ازم، امن و رواداری کا پیغام اور آثار قدیمہ کے نایاب نمونے، سبھی چولستان کے منفرد تشخص کو اجاگر کرتے ہیں۔

    چولستان کی ریتلی زمین میں تخلیقی کہانیاں اور نظمیں پروان چڑھتی ہیں، جن کی بنیادیں علم، ادب، دانش اور خوشحالی کے گہرے اصولوں پر استوار ہیں۔ سرائیکی خطہ جو سات دریاؤں کی سرزمین ملتان کا حصہ ہے، ہمیشہ سے شاعری، صوفیانہ خیالات اور ثقافتی رنگوں کا گہوارہ رہا ہے۔

    اسلم جاوید چودھری جیسے سرائیکی وسیب کے شاعر، جو اپنی نظم "میکوں آکھ نہ پنج دریائی” کے ذریعے سرائیکی ثقافت اور عوامی جذبات کی نمائندگی کرتے ہیں، اس خطے کے ادبی سرمایہ میں اہم مقام رکھتے ہیں۔ ان کا کلام عام فہم ہونے کے باوجود گہری معنویت لیے ہوتا ہے، جو ہر طبقے کو متاثر کرتا ہے۔

    پہلی قسط پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں
    چولستانی گوپے میں چھپی روہی کی دلکش ثقافت
    دوسری قسط پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں
    چولستانی گوپے میں چھپی روہی کی دلکش ثقافت
    چولستان کی ثقافتی اہمیت کو سمجھتے ہوئے، اس خطے میں ترقی کے بے پناہ امکانات موجود ہیں۔ سیاحت، آثار قدیمہ، اور مقامی آرٹ و دستکاری کو فروغ دے کر نہ صرف یہاں کے لوگوں کے معیار زندگی کو بہتر بنایا جا سکتا ہے بلکہ عالمی سطح پر بھی اس علاقے کی شناخت کو اجاگر کیا جا سکتا ہے۔

    میں تسا،میڈی دھرتی تسی
    تسی روہی جائی
    میکوں آکھ نہ پنج دریائی


    ان کے فلسفۂ شاعری کی رفعت اور نقطۂ عروج کا خلاصہ دراصل سرائیکی وسیب کی علیحدہ شناخت، نئے صوبے کی منزلِ مقصود کا سچا خواب، خود مختاری، خود اعتمادی، تعمیرِ نو اور ثقافتی ورثے کا حسین امتزاج ہے۔ روہی، چولستان، راوا، تھل، دمان اور کوہِ سلیمان کی جاذب بےبسی اور امید کا خوبصورت اظہار ایسے ہے جیسے دریا کو کوزے میں بند کیا گیا ہو۔

    روہی کے باسی اپنی گائیں، بھیڑ بکریوں اور اونٹوں سے عشق کرتے ہیں۔ ان کے خالص دودھ اور مکھن سے دیسی گھی تیار کیا جاتا ہے۔ تاہم، چولستان میں پانی کی عدم دستیابی اور خوراک کی قلت ایک بڑا مسئلہ بنتا جا رہا ہے۔ یہاں کے زیادہ تر لوگ مال مویشی پال کر روزی کماتے ہیں، لیکن چارے کی کمی اور بیماریوں کے خطرات ان کی آمدنی کو محدود کر دیتے ہیں۔ جانوروں کی افزائش اور صحت کے مسائل کے حل کے لیے جدید ویٹرنری خدمات اور چارے کی دستیابی میں اضافہ ضروری ہے۔

    تعلیم کے فقدان نے بھی چولستان کے لوگوں کو ترقی سے محروم رکھا ہوا ہے۔ علاقے میں تعلیمی اداروں کی کمی، موجودہ اسکولوں کی خستہ حالی اور عوام میں تعلیم کے حوالے سے شعور کی کمی نے بچوں کو تعلیمی مواقع سے محروم کر دیا ہے۔ خاص طور پر لڑکیوں کی تعلیم کے حوالے سے مسائل اور معاشرتی رکاوٹیں زیادہ سنگین ہیں۔ ان مسائل کے حل کے لیے حکومت اور غیر سرکاری تنظیموں کو مل کر تعلیمی سہولیات کو بہتر بنانا ہوگا۔

    صحت کی سہولیات کی کمی بھی چولستان کے باسیوں کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے۔ ہسپتالوں اور طبی مراکز کی غیر موجودگی، صحت کی بنیادی خدمات کا فقدان اور طبی عملے کی کمی نے لوگوں کو معمولی بیماریوں کے علاج کے لیے بھی طویل فاصلے طے کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔ نتیجتاً، کئی لوگ بروقت طبی امداد نہ ملنے کے باعث جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔

    روہی کے لوگ اپنی روحانی تجلیات کے منبع کو حضرت سید شیر شاہ جلال الدین حیدر سرخ پوش بخاری علیہ الرحمہ (اوچ شریف) سے منسوب کرتے ہیں اور چنن پیر رحمتہ اللہ علیہ کی درگاہ پر اپنی اولاد کی سلامتی کے لیے اللہ پاک سے دعائیں مانگتے ہیں۔

    روہی کی مشکلات کو حسین پیرائے میں کمال خوبصورت اشعار کی شکل میں شاعر نے نفیس لفظوں کا کمال حیرت انگیز رنگ اس طرح دیا ہے۔شاعری لطیف جذبوں کا خوبصورت اظہار اور قصہ ہے۔کیا کمال کاری گری سے قدیم تہذیب وتمدن وادی ھاکڑہ سرسوتی کی کہانی اور پیار کا گیت ہے۔
    شاہد عالم شاہد کی شاعری کا حسن ملاحظہ فرمائیں۔

    ریشم ریشم ہوٹھیں اتے رہ گئے اصلوں جندرے
    اکھیں نال کریندا رہ گئے یار کمال دے قصے
    کیا شہزادیاں کیا پریاں کیا دیہہ کیا محل منارے
    بکھے بالیں کوں تاں بھاندن روٹی دال دے قصے

    کونجاں روہی لنگھ ویندیاں ہن راتیں کوں
    بٹا کھو وی فجریں تونڑیں واہندا ہا

    روزگار کے محدود مواقع چولستان کے نوجوانوں کو بڑے شہروں کی طرف ہجرت پر مجبور کر رہے ہیں۔مقامی سطح پر روزگار کے مواقع نہ ہونے کے سبب بہت سے لوگ محنت مزدوری کے لیے شہروں میں جا کر اپنی زندگی بسر کرتے ہیں، جس سے ان کے خاندان مزید مشکلات کا شکار ہو جاتے ہیں۔ہنر سکھانے والے مراکز اور زرعی منصوبے چولستان میں روزگار کے مواقع پیدا کرنے میں معاون ہو سکتے ہیں۔

    صحرائی ماحول میں خواتین کو بھی بے شمار چیلنجز کا سامنا ہے۔گوپوں میں رہنے والی خواتین پانی لانے،کھانے کی تیاری اور گھر کے دیگر کاموں میں اپنی زندگی کا بڑا حصہ صرف کرتی ہیں۔ان خواتین کو صحت،تعلیم اور روزگار کے بروقت مواقع فراہم کرنا حکومت وقت فوری ذمہ داری ہے۔تاکہ وہ اپنی زندگی کو بہتر بنا سکیں۔ماحولیاتی مسائل بھی چولستان کے لیے سنگین خطرہ ہیں۔

    موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے بارشوں کی بے قاعدگی اور صحرائی علاقوں میں پھیلتی ہوئی خشکی نے یہاں کی زمین کو مزید بنجر اور غیر زرخیز بنا دیا ہے۔جنگلات کی کٹائی اور مویشیوں کی تعداد میں اضافے نے ان مسائل کو مزید بڑھا دیا ہے۔ ماحولیاتی توازن کو برقرار رکھنے کے لیے درخت لگانے اور پانی ذخیرہ کرنے کے جدید طریقوں کو اپنانا ہوگا۔

    ثقافتی لحاظ سے چولستان کے باسی منفرد روایات اور طرز زندگی رکھتے ہیں۔ لیکن ان کی ثقافت بھی ان مشکلات سے متاثر ہو رہی ہے۔ مٹی کے گوپے،جو ان کی رہائش کا مرکز ہیں۔سخت گرمی اور سردی کے موسم میں رہنے کے لیے ناکافی ثابت ہوتے ہیں۔ان کے رہائشی مسائل کو حل کرنے کے لیے جدید لیکن ثقافت کے مطابق مکانات فراہم کیے جا سکتے ہیں۔

    چولستان کے مسائل کو حل کرنے کے لیے حکومتی اقدامات، غیر سرکاری تنظیموں کی شمولیت، اور مقامی لوگوں کی شراکت داری ضروری ہے۔پانی کی فراہمی کے نظام کو بہتر بنانے، تعلیم اور صحت کے مراکز قائم کرنے،اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے لیے جامع منصوبہ بندی کی ضرورت ہے۔صرف ان اقدامات سے ہی چولستان کے باسیوں کی زندگی کو بہتر بنایا جا سکتا ہے اور ان کے خوابوں کو حقیقت کا روپ دیا جا سکتا ہے۔

    حسین و جمیل روہی کے سرائیکی گوپے کے ثقافتی اور تہذیبی ورثے کے حقیقی قصے نئی اور پر امید نسل تک پہنچانے میں چولستان کے قصہ گو، فنکار، اور شعراء اہم کردار ادا کر رہے ہیں، تاکہ نوجوان طبقہ اپنے محفوظ ورثے کی منفرد شناخت پر فخر کر سکے۔ ہمیں تو پرامن چولستان کا ہر موسم بہار جیسا محسوس ہوتا ہے، جہاں باغوں میں ہر قسم کے چرند پرند اپنی دھن میں گاتے ہیں۔ کونج کا دلکش نغمہ سرائیکی خطے کے ریت کے ٹیلوں کی دلنشینی میں مزید اضافہ کرتا ہے۔

    کونجاں وانگوں ول ول اساں ریت اتوں پئے بھوندے
    شاہد کل سرمایہ ساڈا ہن صحرا دے موسم

    تاہم، روہی اور چولستان کے باسیوں کے خوابوں کی تکمیل اور انہیں ضروریاتِ زندگی کی فراہمی کے ساتھ ترقی کے دھارے میں شامل کرنے کے لیے حکومت کو فوری اقدامات کرنا ہوں گے، تاکہ یہ خوبصورت گوپے ہمیشہ آباد رہیں۔ ان میں خوشیوں کے گیت گائے جائیں اورچولستان ، روہی کی سرزمین ہمیشہ خوشحال اور پررونق رہے۔

  • چولستانی گوپے میں چھپی روہی کی دلکش ثقافت،دوسری قسط

    چولستانی گوپے میں چھپی روہی کی دلکش ثقافت،دوسری قسط

    چولستانی گوپے میں چھپی روہی کی دلکش ثقافت
    تحریر: ڈاکٹر محمد الطاف ڈاھر جلالوی
    altafkhandahir@gmail.com
    قسط کا خلاصہ:
    دوسری قسط میں چولستانی گوپوں کی ثقافت،فنون لطیفہ اور روہیلوں کی زندگی کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ شاعر شاہد عالم شاہد لشاری کی شاعری اور چولستانی معیشت، جیسے مویشیوں کی پرورش اور روزگار کی کمی کے مسائل کو بیان کیا گیا ہے۔ چولستان کے لوگوں کی زندگی کی سب سے بڑی آزمائش پانی کی کمی اور قحط سالی کے اثرات ہیں۔ بارشوں کی کمی اور "ٹوبھوں” میں پانی کا ذخیرہ کرنے کی مشکلات نے ان کی روزمرہ کی زندگی کو متاثر کیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی، تعلیم کی کمی اور صحت کے مسائل بھی اہم موضوعات ہیں جن پر حکومتی اقدامات کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے۔

    دوسری قسط، چولستان کی زندگی کے چیلنجز
    چولستان کے باسیوں کے لیے پانی کی قلت سب سے بڑا چیلنج ہے۔ ٹوبھوں میں جمع کیا جانے والا پانی ان کے لیے زندگی کا سہارا ہے، لیکن بارش کی کمی ان ذخائر کو ناکافی بنا دیتی ہے۔ گرمیوں میں درجہ حرارت پچاس ڈگری سے تجاوز کر جاتا ہے، جس کے باعث لوگ اور ان کے مویشی ہجرت پر مجبور ہو جاتے ہیں۔تعلیم اور صحت کی سہولیات کی کمی نے چولستان کے لوگوں کو مزید مشکلات میں ڈال دیا ہے۔ لڑکیوں کی تعلیم اور مقامی اسکولوں کی خستہ حالی جیسے مسائل فوری توجہ کے متقاضی ہیں۔ صحت کی بنیادی سہولیات کے بغیر لوگ معمولی بیماریوں کے علاج کے لیے دور دراز علاقوں کا رخ کرنے پر مجبور ہیں، جو کئی بار جان لیوا ثابت ہوتا ہے۔

    چولستان کی دلکش سرزمین اپنے دھرتی جائے کو اپنی طرف متوجہ کرتی ہے۔سرائیکی وسیب کے لوگ سیدھے سادے، ریت کی طرح نرم و نازک ہیں۔نرم مزاجی،صوفیانہ امن پسند رنگ اور کلچرل روایات سے جڑے ہوئے ہیں۔اپنی دھرتی کی ہر چیز سے بےپناہ محبت کرتے ہیں۔عالمی مشہور شاعر شاہد عالم شاہد لشاری جن کی گزرگزران روہی رہتل ہے۔سرائیکی وسیب کی بین الاقوامی شہرت یافتہ روہی ان کی روح ہے۔ریت اور روایت، تہذیب وتمدن،ثقافت،فنون لطیفہ میں خطاطی، موسیقی،مصوری، شاعری سب انسان کی چھپی امیدوں اور خواہشات کا خوبصورت اظہار ہے۔شاعر اپنی شاعری سے اپنے علاقے کی تاریخ،ادب اور شعور کے خزانوں کو دنیا میں اجاگر کرتاہے۔

    کسی خطے کی رنگین شاعری میں جتنا بڑا کینوس ہوگا، وہ دھرتی اتنی جاندار،شاندار اور عرفان وحکمت کی بلندیوں کو چھوہے گی۔یہ کمال اللہ پاک نے سرائیکی وسیب کے شعراء کرام کو بہت زیادہ دان کیا ہے۔پاکستان کے خوبصورت حسین مادری زبانوں کے گلدستے میں سب سے زیادہ کتابیں شاعری سرائیکی زبان و ادب کی ہیں۔ سرائیکی عہد جدید کا خوبصورت کلاسک شاعر شاہد عالم شاہد کا عالم شاعری میں کمال خوبصورتی جھلک رہی ہے۔

    پاتے گھگھرا چولی چنی بولا بینسر
    روہی دی ہک حور ٹری ہےریت نچی ہے

    گوپے دیوچ پوہ دی رات کوں قصہ ٹر پئے
    ڈھلدیں ڈھلدیں رات ڈھلی ہے ریت نچی ہے
    کنگن والے بھاء دے مچ تے بہہ تے شاہد
    "موہن” کافی جو آکھی ہے ریت نچی ہے

    اجڑے گوپے کوں مٹی دے گھبکار مہکار وانگوں لگے
    بھرے ٹوبھے دے چودھار ڈیکھوں جڈے مال چردا ودے

    اج تاں کترن دی خوشبو نے جھمر مچائی ہے پرے تھل تلک
    نین سادے مرادے کھڑن ڈیکھدے مال چردا ودے

    سرائیکی ادبی فورم "فکر فرید” بانی صاحبزادہ شیر میاں خان عباسی کے دیرے روہی چولستان کنگن آلے بنگلے پر ٹھنڈی ٹھار راتوں میں بھاہ کے مچ کے اردگرد سرائیکی مشاعرہ و موسیقی کی وجد بھری آواز کی دھن سے دوشیزہ محبوبہ حسین دلربا منظر میں چنگاری بن کر ریت پر خوب رقص جھمر کرکے عاشقوں کے دلوں کو خوب بھاتی ہے۔اس کا رنگ و چہرہ غزل کا روپ ہے۔

    پہلی قسط پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں
    چولستانی گوپے میں چھپی روہی کی دلکش ثقافت
    ککڑ،بیر،شرینہہ،جال پیلھوں کا درخت بھی ان کا ایک قسم کا اوپن گوپہ ہوتاہے۔جہاں ٹوبھے کے پانی کی چاہت،وہاں بیٹھ کر ککھ کانوں سے گھریلو آسائشی سامان میں موڑے بنانا، پتلی باریک لکڑی سے گوپہ تیار کرنا وغیرہ روہی کے باسیوں کے لیے ذریعہ معاش اور گزر گزران کے اوزار نعمت خداوندی سےکم نہیں ہیں۔ کانوں سے گوپے بھی تیار ہورہے ہیں۔پرانے نئے قصے بھی آشکار ہورہے ہیں۔راتوں کو جاگ کر مستی بھری یادیں تازہ کی جاتیں ہیں۔شاعر نے ایک ایک لمحہ محفوظ کرکے اپنے طلسماتی فکری صلاحیتوں سے شاعری کا نیا جہاں گوپہ تشکیل دے دیا ہے۔شاعر نے اچھوتے انداز میں اپنی بات کو اس طرح بیان کی ہے۔

    کنگن آلے دے گھاٹے شرینہاں تلے رات ٹردی پئی اے
    نال قصے دے قصہ پیا جاگدے مال چردا ودے

    ساڈی نبھ ویسی زندگی ریت اچ
    دفن تھی ویسی ہر خوشی ریت اچ
    ساڈے جیونڑ دے آسرے سارے
    ساڈے سکھ وی عذاب وی ریت اچ
    او جو وچھڑے تاں ول تے نی آیا
    مونجھ رل گئی ہے بلکدی ریت اچ
    میڈی روہی تے مار ڈیوو میکوں
    رت میڈی رل ونجے میڈی ریت وچ

    سرائیکی جگ مشہور شاعر اسلم جاوید کا اپنے خوبصورت مزاحمتی شعری مجموعے طبل کلہاڑی میں دل بھاتے انداز میں روہی اور تھل کے صحرائی ماحول کو شاندار رنگوں میں اپنا مدعا بیان کیا۔سرائیکی وسیب میں تھل اور چولستان روہی گوپوں میں چھپا ثقافتی ورثہ حقیقت میں سادہ سماجی روایات،چاہت،خلوص، امن و رواداری کا درس ہے۔سرائیکی دھرتی روحانیت سے مالامال ہے۔یہاں کا ہر زبان بولنے والا فرد ہماری تہذیبی زمینی میٹھے پھل آم،کھجور اور شہد کی مٹھاس کا خوبصورت اظہار ہے۔ہر وسیبی کا کردار گھاٹے درخت کی چھاں ہے۔ہمارا سفر عشق مجازی سے عشق حقیقی کی طرف ہے۔اسلم جاوید چودھری کا قصہ اپنی روہی چولستان کی چھ ہزار سال قدیم تہذیب وتمدن سے عشق کی لازوال داستان ہے۔سرائیکی شعراء کرام نے لفظ روہی کو بطور استعارہ محرومی،دہشت،وحشت، کرب وبلا، جنت،بہشت،خوشی،سنگلاخ مشکلات،ترقی،خوشحالی،،بے بسی، امن،محبت،الگ شناخت،وچھوڑا،وصل،وادی عشق، مونجھ، ڈکھ، ہمدردی،خلوص،برداشت، صبر وشکر، بے نیازی،خود اعتمادی،خواہشات کا لامتناہی روحانی سفر،تحمل،امید،آس،ملال استعمال کیا ہے۔جس نے روہی کا جو پہلو یا رنگ دیکھا اس نے وہی بیان کردیا۔
    تھل، روہی چولستان الفاظ سرائیکی جہانوں کا نیا عجیب عالم حیرت ہے۔

    تھل ہے قصہ مونجھ دا ۔۔۔۔۔۔۔ روہی عشق دا ناں
    اکھ بھالی دا میلہ ڈیکھاں ڈھولی نال کراں

    چولستان دے رنگ ہزاراں جال کرینہہ دی چھاں
    کیڑھا نندروں ٹردا ویندے آرھ ارینہہ دی چھاں
    جتھاں میکوں کندن ملدی اتھ شرینہہ دی چھاں

    پیلوں پکیاں چݨ تے اکھیاں ڈولی ڈھاک ہے ساوی
    پیلوں پکیاں لب اچ مکھیاں مونہہ مسواک ہے ساوی
    پیلوں پکیاں میں نہ چکھیاں ساڈی ٻاک ہے ساوی

    چولستان میں حسن وجمال بھری حیات بشریت،حیوانات اور نباتات کی بقاء کا سب سے اہم ذریعہ پانی ہے۔صحرائی علاقے میں بارش نہ ہونے کی صورت میں پانی جمع کرنے کے لیے "ٹوبھے” بنائے جاتے ہیں۔جو گوپوں کے نزدیک چھوٹے تالابوں کی صورت میں موجود ہوتے ہیں۔ٹوبھوں کا پانی مقامی لوگوں اور ان کے جانوروں کی زندگی کا سہارا ہے۔جب بارش کی پھلواڑی کی پہلی پھنوار چولستان کی ریت پر پڑتی ہے تو خوشبو ہر سوں پھیل جاتی ہے۔نئی دلہن ریت بن کر خوب گنگناتی ہے۔رقص جھمر کھیلتی ہے۔تمام روہیلوں کے چہرے مسلسل خوشی اور شادی مانی کے نہ تھمنے والے احساسات کی رم جھم برسات شروع ہوجاتی ہے۔ہر طرف کھلا کھلا چہرہ نظر آتاہے۔عاشق اپنی محبوبہ کے ملن کے متلاشی نظر آتے ہیں۔برسا موسم سے پہلے ریت خوب دھمال کرتی ہے۔ابھا،لما،پوادھ پچادھ ہر طرف سریلی آوازیں آنا شروع ہوجاتیں ہیں۔شاعر خود اگر روہیلا ہو تو اس کا تخیل کمال حسین نظر آتا ہے۔نمونہ کلام مادری زبان میں ہو تو ابلاغ بہت ہی عمدہ ہوتا ہے۔

    ابھے توں بدلی اسری ہے ریت نچی ہے
    مینہ دی پہلی پھینگ ڈھٹی ہے ریت نچی ہے

    جال اتوں پیلھوں چنڑدے نازک ہھتیں توں
    مہندی دی خشبو نکتی ہے ریت نچی ہے

    ٹوبھے اتے لتھین کونجاں اصلوں مونجھاں
    ول سانول دی گالھ چلی ہے ریت نچی ہے

    تاہم مینہ بارش کی کمی کے باعث ٹوبھے اکثر خشک ہو جاتے ہیں اور قحط سالی کا بیاباں منظر عام بات ہے۔گرمیوں میں جب درجہ حرارت 50 ڈگری سے تجاوز کر جاتا ہے تو گوپوں میں رہنے والے روہیلے ہجرت پر مجبور ہو جاتے ہیں۔پانی کی قلت نہ صرف ان کی روزمرہ کی معاشی و سماجی زندگی کو مشکل بناتی ہے بلکہ جانوروں،چرند پرند اور سرسبز پودوں کی زندگی کو بھی خطرے میں ڈال دیتی ہے۔چولستان روہی کے سادہ نفیس،یقین کامل کی طاقت سے مالامال باشندے صحرائی علاقے میں زندگی بسر کرتے ہوئے صدیوں سے شدید مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔ان کی زندگی کی سب سے بڑی آزمائش پانی کی کمی ہے۔مگر قدرتی بارش عظیم نعمت خداوندی اور خوشحالی کی ضمانت ہے۔

    بارشوں کا نہ ہونا صرف ان کی روزمرہ کی زندگی بلکہ ان کے مستقبل پر بھی گہرے اثرات ڈالتی ہے۔ کیونکہ چولستان کا بیشتر انحصار بارشوں پر ہوتا ہےجو سال بھر میں چند بار ہوتی ہیں۔اور یہی پانی "ٹوبھہ ” نامی ذخائر میں جمع کیا جاتا ہے۔تاہم، بارش کی کمی اور ذخیرہ شدہ پانی کی محدود مقدار کی وجہ سے یہ وسائل ناکافی ثابت ہوتے ہیں۔ٹوبھے کے میٹھے پانی خوبصورت وادی پر انسان،حیوان،شجر، چرند پرند سبھی خوشی خوشی زندگی گزارتے اور رب العزت جلال کا شکر ورد کرتے ہیں۔مگر بارش کی کمی اور ٹوبھوں کی خشکی جیسے سخت حالات میں لوگ اپنے جانوروں اور خود اپنی بقا کے لیے دوسرے علاقوں کی طرف ہجرت پر مجبور ہو جاتے ہیں۔اپنی چولستان دھرتی پر بارش ہونے کی شدید تمنا نے کلاسک شاعر شاہد عالم شاھد لشاری کیا خوب تخیل تخلیق کیا ہے۔صبح سے شام تک صحرائے چولستان کے چٹیل ڈاہروں وسیع میدانوں میں سارا دن مال مویشی چرانے والے بکر وال کی گھر کی طرف واپسی سفر کو اپنے شاندار لفظوں کی رنگین چادر پہنائی ہے۔خوبصورت نظارہ کہ سارا دن چرواہا نے دعائیں مانگیں کہ ہماری طرف بارش ہوگی۔مگر پتہ چلا ابر رحمت ہماری طرف نہ آیا بلکہ پہاڑوں پر خوب برسا۔شاعر کا حسین کلام توجہ طلب ہے۔

    سجھ کوں گھر تیئں پجا تےولداپئے
    کوئی بکریاں چراتے ولدا پئے

    ریت رل گئی ہے سر تے پھینگ نی پئی
    جھڑ پہاڑیاں پسا تے ولدا پئے

    جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔

  • چولستانی گوپے میں چھپی روہی کی دلکش ثقافت،پہلی قسط

    چولستانی گوپے میں چھپی روہی کی دلکش ثقافت،پہلی قسط

    چولستانی گوپے میں چھپی روہی کی دلکش ثقافت
    تحریر: ڈاکٹر محمد الطاف ڈاھر جلالوی
    altafkhandahir@gmail.com
    قسط کا خلاصہ
    چولستانی ثقافت اور روہی کی خوبصورتی کو بیان کرنے والے اس آرٹیکل کی پہلی قسط میں، چولستان کے لوگوں کی زندگی، خواجہ غلام فرید اور دیگر سرائیکی شاعروں کے کلام کے ذریعے بیان کی گئی ہے۔ خواجہ فرید کی شاعری میں چولستان کی روحانی اور ثقافتی اہمیت کا ذکر کیا گیا ہے، جو عشق، تصوف، اور انسانیت کے اہم موضوعات کو بیان کرتی ہے۔ چولستان میں "گوپے” کی اہمیت پر بھی بات کی گئی ہے، جو کہ نہ صرف رہائش کے لئے بلکہ ثقافت اور قدیم روایات کی عکاسی کرتے ہیں۔ گوپے کی تعمیر میں مٹی اور درختوں کی چھال کا استعمال، اور اس کے اندر رہنے والے افراد کی محنت اور محبت کی مثال دی گئی ہے۔

    پہلی قسط کا موضوع ،روہی کی دلکش ثقافت اور سرائیکی ادب
    چولستان کے لوگ پانی کو زندگی کی علامت اور سب سے بڑی نعمت سمجھتے ہیں۔ روہی کے صحرا کا ہر منظر عشق حقیقی اور مجازی کی کہانی سناتا ہے، جو کلاسیکی سرائیکی ادب میں نمایاں طور پر نظر آتا ہے۔ خواجہ غلام فریدؒ نے چولستان کے ریت کے ٹیلوں اور ٹوبھوں کو اپنی شاعری کا مرکز بنایا، جہاں تصوف اور سادگی کا حسین امتزاج موجود ہے۔ان کے کلام میں عشق، تصوف، اور انسانی جذبات کی گہرائی کو ریت کے ٹیلوں کی صورت میں پیش کیا گیا۔ مثال کے طور پر:
    اتھ درد منداں دے دیرے
    جتھ کرڑ کنڈا بوئی ڈھیر اے

    شاہد عالم شاھد لشاری کی شاعری بھی روہی کی ثقافت کو ایک منفرد انداز میں پیش کرتی ہے۔ گوپے، مٹی کی جھونپڑیوں کا ذکر، سرائیکی ثقافت کا اہم حصہ ہے۔ گوپے نہ صرف رہائش کی ضرورت پوری کرتے ہیں بلکہ چولستان کے لوگوں کی محنت اور ثقافتی خوبصورتی کی عکاسی کرتے ہیں-

    پہلی قسط
    پانی اور زندگی کی رونق چولستان کے لوگوں کے لیے خواب حسن کی حقیقت ہے۔روہی اگر عاشق کے لیے ایک طرف وصال بہشت ہے تو دوسری طرف وچھوڑے مونجھ ملال کی وحشت کربلا بھی ہے۔عشق مجازی سے عشق حقیقی کے سفر کا آغاز بھی چولستان روہی تھل کے ریت کے ٹیلوں سے ہوتاہے۔نگری مظہر جلال کی روحانی روہی کے کلاسک سرائیکی شاعر خواجہ غلام فرید رحمتہ اللہ علیہ کا زیادہ تر عرصہ چولستانی ٹوبھوں اور ریت کے ٹیلوں کے ذروں کے ساتھ گزرا ہے۔سادگی،تصوف اور خالص پیلھوں جیسی خوبصورت مٹھاس ان کے کلام آفاقیت کا خاص موضوع ہے۔گوپے میں روہی کی ثقافت کا قصہ 271 کافیوں پر مشتمل سرائیکی دیوان فرید دراصل سرائیکی سماجیات کا آئینہ ہے۔

    روہیلے کے لیے روہی کشمیر جنت نظیر ہے۔دھوپ کی تپش اس کے لیے برف کی طرح سفید لباس ہے۔خواجہ فرید کا خوبصورت عکس روہی دراصل سرائیکی علم وادب،عرفان وحکمت،تصوف،تہذیب وتمدن اور ثقافت کا سچا قصہ ہے۔سرائیکی مہان شاعر خواجہ فرید کو سرائیکی روحانی شاعر کا مقام حاصل ہے۔ان کے آفاقی فلسفہ میں روہی کا رنگ سب سے نمایاں ہے۔عشق حقیقی،تصوف،محبت،احساس، ہمدردی،کائنات کاحسن،احترام آدمیت،امن جیسے عظیم موضوعات ان کا حاصل کلام ہے۔

    اتھ درد منداں دے دیرے
    جتھ کرڑ کنڈا بوئی ڈھیر اے

    لانڑے، پھوگ اساڈے مانڑے
    ٹبڑے،بھٹڑے، ڈاہر، ٹکانڑے

    سرائیکی زبان و ادب کے جدید کلاسک شاعر شاہد عالم شاہد لشاری نے خوبصورت انداز میں روہی روپ کے قصے کو گوپے میں بیٹھ کر شاندار لفظوں کے تخیل سے تصویر کشی کی ہے۔الفاظ کی کاری گری ملاحظہ فرمائیں۔

    گوپے دیوچ اجرک ویڑھ تے ٹکڑانویں گندی تے
    بڈھا پاندھی ٹوری بیٹھے رلئے مال دے قصے

    مینہ دا زم زم وٹھے بلدی روہی اتے مال چردا ودے
    ساولیں جم پیاں ایجھا امرت ڈھٹے مال فردا ودے


    سرائیکی کلاسیکل مہان شاعر ڈاکٹر اشولال نے روہی چولستان کی چھ ہزار سال کی وادی ہاکڑہ سرسوتی تہذیب وتمدن کے مرکزی شہر گنویری والا اور قلعہ ڈیراور کی عظمت کو اپنے لازوال انداز کلام میں یوں بیان کیا ہے۔

    ساڈے اندروں وگدی اے سرسوتی
    ساڈے اندروں ہاکڑا وگدا اے
    اے گلیاں یار ڈیراور دیاں
    ساکوں ڈیکھ کے اینویں لگدا اے
    جیویں ہنڑیں ہنڑیں کوئی ویندا پئے
    جیویں ہنڑیں ہنڑیں کوئی ول آسی


    خواجہ فرید سئیں نے روہی تھل کے منظر کو باغ بہشت قرار دیا ہے۔

    روہی راوے تھیاں گلزاراں
    تھل چترانگ وی باغ بہاراں
    گھنڈ تنواراں بارش باراں
    چرچے دھاونڑ گاونڑ دے
    چاندنی رات ملہاری ڈینہ ہے
    تھڈڑیاں ہیلاں رم جھم مینہ ہے
    سوہنی موسم لگڑا نینہہ ہے
    گئے ویلھے غم کھاونڑ دے


    چولستان روہی کے صحرا کی اپنی خاموش خوبصورتی،ٹوبھےگوپے،قلعوں کا ثقافتی تاریخی تہذیبی ورثہ اور سخت زندگی کے سچے قصے بہت مشہور ہیں۔ محلاں کی سابق سرائیکی دھرتی ریاست بہاولپور میں واقع قلعہ ڈیراور چولستان کی پہچان ہے۔اس سے جڑی بستیوں میں آج بھی روہیلے مٹی اور درختوں کی چھال سے بنے روایتی رنگین "گوپوں” میں رہتے ہیں۔یہ گوپے صرف رہائش کے لیے گھر نہیں بلکہ روہی کی دلکش ثقافت اور یہاں کے لوگوں کی صدیوں پرانی عملی جدوجہد کی عکاس ہیں۔

    گوپے مٹی اور درختوں کی چھال سے بنائے جاتے ہیں اور انہیں خاص مہارت سے تعمیر کیا جاتا ہے۔سرائیکی جدید کلاسک شاعر شاہد عالم شاہد لشاری کے شاعری مجموعہ کا نام بھی "گوپے دے وچ قصہ” ایک منفرد اعزاز ہے۔گوپے کی دیواروں پر مٹی کا لیپ اور باریکی سے کی گئی صفائی ستھرائی اور رنگینی چولستانی دیہی فن کا مظہر ہے ۔شدید گرمی یا سردی کے موسم میں ان گوپوں کو شاپر یا شیٹ سے ڈھانپ دیا جاتا ہے۔ تاکہ اندر رہنے والوں کو موسم کی شدت سے بچایا جا سکے۔

    گوپے نہ صرف روہیلوں کی رہائش کی ضرورت کو پورا کرتے ہیں۔ بلکہ مہمانوں کے لئے آرائش و آرام اور محبت کا اعلی نمونہ بھی ہیں۔ان کی تعمیر اور سجاوٹ چولستانی فنکارانہ ذوق کی گواہی دیتی ہے۔کانے سے بنے گوپے،پتلیں،چکیں اور موڑھوں کے علاوہ سر اور کانہاں ( سرکنڈے ) سے بنی چولستانی چنگیریں و دیگر ہاتھ سے بنی اشیاء کو چولستانی و روہی واسیوں کے ہاتھوں کی ہنرمندی اور شاہکار کاریگری کی جادو گری بھی کہا جاسکتا ہے..جاری ہے

  • چولستانی گندی: ثقافت اور کفایت شعاری کا شاہکار

    چولستانی گندی: ثقافت اور کفایت شعاری کا شاہکار

    چولستانی گندی: ثقافت اور کفایت شعاری کا شاہکار
    ڈاکٹر محمد الطاف ڈاھر جلالوی
    altafkhandahir@gmail.com
    چولستان اور سندھ کی ثقافت کا ایک نمایاں پہلو "چولستانی گندی” ہے، جو نہ صرف کفایت شعاری بلکہ خوبصورت روایتی ہنر کا بہترین نمونہ ہے۔ یہ گندی، جو کپڑے کے اضافی ٹکڑوں سے بنائی جاتی ہے، نہ صرف گھریلو ضروریات کو پورا کرتی ہے بلکہ مقامی ثقافت اور روایات کی دلکش علامت بھی ہے۔ چولستانی گندی کو بنانے کا عمل ان خواتین کی ہنر مندی اور محنت کا عکاس ہے جو اپنے محدود وسائل میں بے مثال تخلیقی صلاحیتوں کا مظاہرہ کرتی ہیں۔ گھروں میں بچ جانے والے کپڑوں کے ٹکڑوں کو بڑی مہارت سے جوڑ کر یہ گندی تیار کی جاتی ہے، جو نہ صرف خوبصورت ہوتی ہے بلکہ پائیداری کی ایک عمدہ مثال بھی پیش کرتی ہے۔

    روہی چولستان کی خواتین اپنی محنت، لگن اور کفایت شعاری کی علامت ہیں۔ وہ گھروں میں استعمال شدہ اضافی کپڑوں کو ضائع کرنے کے بجائے انہیں خوبصورت شاہکار میں تبدیل کرتی ہیں۔ یہ گندیاں نہ صرف چارپائیوں پر بچھانے کے کام آتی ہیں بلکہ مہمانوں کے لیے زمین پر قالین کی جگہ استعمال کی جاتی ہیں۔ ان گندیوں کی تیاری کا عمل نہ صرف گھریلو معیشت کو مستحکم کرتا ہے بلکہ خواتین کی تخلیقی صلاحیتوں کو بھی نکھارتا ہے۔ شادی بیاہ اور دیگر خوشی کے مواقع پر یہ گندیاں تحفے کے طور پر دی جاتی ہیں، جو محبت، خلوص اور ثقافتی ورثے کی علامت ہوتی ہیں۔

    چولستانی ثقافت کا یہ پہلو ماضی کی جھلک بھی پیش کرتا ہے، جب خاندانوں میں اتحاد اور محبت کا اظہار ان گندیوں کے ذریعے کیا جاتا تھا۔ نورپور نورنگا کی پرانی یادیں اس بات کی گواہ ہیں کہ دادی اماں اور بوا اماں نئی دلہنوں اور نومولود بچوں کے لیے خوبصورت گندیاں تیار کرتیں۔ یہ عمل نہ صرف محبت اور خلوص کو فروغ دیتا تھا بلکہ خواتین کی ہنرمندی اور اتحاد کی علامت بھی تھا۔ خواتین رل مل کر دلہنوں کے جہیز میں گندیاں شامل کرتیں، جو ان کے خلوص اور کفایت شعاری کا بہترین ثبوت ہوتا تھا۔

    چولستانی گندی کی اہمیت نہ صرف گھریلو زندگی تک محدود ہے بلکہ یہ مقامی معیشت کے لیے بھی اہم کردار ادا کرتی ہے۔ اگر حکومت وقت اس ہنر کی سرپرستی کرے اور ڈیراور قلعے جیسے مقامات پر خواتین کے لیے تربیتی ادارے قائم کرے، تو یہ نہ صرف مقامی معیشت کو مضبوط کرے گا بلکہ عالمی سطح پر بھی پاکستان کے ثقافتی ورثے کو اجاگر کرے گا۔ اس اقدام سے مقامی خواتین کو اپنے ہنر کو بہتر بنانے اور اپنی آمدنی میں اضافے کے مواقع ملیں گے۔

    سرائیکی قدرتی حسین و جمیل خوبصورت روہی چولستانی خطے کی گندی نہ صرف رنگوں سے محبت کی علامت ہے بلکہ یہ کفایت شعاری اور گھریلو معیشت کو بہتر بنانے کا ایک موثر ذریعہ بھی ہے۔ اس کے ذریعے خواتین نہ صرف اضافی کپڑوں کا بہترین استعمال کرتی ہیں بلکہ اپنی تخلیقی صلاحیتوں کا بھی مظاہرہ کرتی ہیں۔ ان گندیوں کی تیاری سے خواتین کے اندر کفایت شعاری اور خود انحصاری کا جذبہ پیدا ہوتا ہے، جو کہ ایک خوشحال معاشرے کی بنیاد ہے۔

    مذہب اسلام سمیت تمام مذاہب سادہ اور آسان زندگی کو خوشحالی کا راز سمجھتے ہیں۔ چولستانی گندی اسی اصول کی عملی مثال پیش کرتی ہے۔ یہ خواتین اپنی محدود آمدنی کو بڑی حکمت اور مہارت سے استعمال کرتی ہیں اور اپنی زندگیوں کو خوشحال بناتی ہیں۔ اگر حکومت ان ہنر مند خواتین کو مراعات دے اور ان کی بنائی ہوئی مصنوعات کو عالمی منڈی تک رسائی فراہم کرے، تو نہ صرف ان کی زندگیوں میں بہتری آئے گی بلکہ پاکستان کی معیشت کو بھی فائدہ ہوگا۔

    چولستانی گندی نہ صرف کفایت شعاری بلکہ ثقافتی استحکام کی بھی ایک مثال ہے۔ ہمیں اس خوبصورت ہنر پر فخر کرنا چاہیے اور اس کی ترقی کے لیے بھرپور کردار ادا کرنا چاہیے۔ کیونکہ کفایت شعاری اور سادگی ہی کامیاب زندگی کی اصل کنجی ہیں۔ چولستان کی رنگین ثقافت اور اس کے باسیوں کی محنت کو عالمی سطح پر اجاگر کرنے کی اشد ضرورت ہے تاکہ یہ ورثہ ہمیشہ زندہ رہے اور نئی نسلوں کے لیے مشعل راہ بنے۔

  • خاندانی افراد کے بے تکے سوالات کا سامنا کیسے کیا جائے

    خاندانی افراد کے بے تکے سوالات کا سامنا کیسے کیا جائے

    جب دسترخوان سجایا جاتا ہے اور دوست و خاندان اکٹھے ہوتے ہیں، تو آپ کو پہلے ہی اندازہ ہوتا ہے کہ کون سے سوالات یا تبصرے آپ کی جانب آئیں گے۔ یہ تبصرے کھانے، آپ کے وزن، پیسوں، تعلقات، کیریئر یا بچوں کے حوالے سے ہو سکتے ہیں — جو بھی موضوع ہو، اس قسم کی صورتحال بہت سے لوگوں کے لیے نئی نہیں ہے۔

    ڈاکٹر روزین کیپانا ہوڈج، جو ایک ماہر نفسیات ہیں، کے مطابق، تعطیلات ہمیشہ خوشی کا موقع نہیں ہوتیں — اکثر اس لیے کیونکہ ہم متوقع تنازعے یا نامناسب سوالات کے بارے میں سوچتے ہیں۔ لیکن خاموش رہنے یا غصے میں آ کر رد عمل ظاہر کرنے کی بجائے، وہ سفارش کرتی ہیں کہ حدود مقرر کریں۔ماہرین کا کہنا ہے کہ حدود مقرر کرنا لڑائی کا آغاز نہیں ہوتا، بلکہ یہ اپنے احساسات اور ضروریات کو دوسرے تک پہنچانے کا ایک مؤثر طریقہ ہے۔ کیمی اورنج، جو یوٹاہ کی ایک حدود کی کوچ ہیں، کے مطابق، حدود مقرر کرنا مشکل ہو سکتا ہے اور اس کے لیے تھوڑی تیاری کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ آپ رد عمل کی بجائے اپنے احساسات کا تحفظ کر سکیں۔

    اپنے جذبات کی حفاظت کے لیے تیاری کیسے کریں؟
    1. پہلے سے اپنی ضروریات کا تعین کریں:
    ماہر تھراپسٹ جینیفر رولن، جو روک ویل، میری لینڈ میں ایٹنگ ڈس آرڈر سینٹر کی بانی ہیں، کہتی ہیں کہ سب سے پہلا قدم یہ ہے کہ آپ اپنی ضروریات کے بارے میں سوچیں۔ تعطیلات سے قبل یہ طے کریں کہ آپ کو کون سے سوالات یا تبصرے پریشان کن محسوس ہو سکتے ہیں۔”یہ فیصلہ کریں کہ یہ وہ تبصرے ہیں جو مجھے پریشان کرتے ہیں، اور میں ان کا جواب کس طرح دوں گا۔”

    محفوظ موضوعات کی فہرست تیار کریں:
    ڈاکٹر کیپانا ہوڈج تجویز کرتی ہیں کہ آپ ایک فہرست تیار کریں جس میں وہ موضوعات شامل ہوں جو آپ کے لیے محفوظ ہیں۔ اگر بات چیت کسی حساس موضوع کی طرف مڑ جائے، تو آپ ان موضوعات پر بات کر کے ماحول کو نرم کر سکتے ہیں۔

    نرمی سے "میں” کے جملے استعمال کریں:
    مثلاً، "میں اس موضوع پر بات نہیں کر سکتا/کرتی کیونکہ یہ مجھے غیر آرام دہ محسوس کراتا ہے” — اس طرح آپ کا جواب کم الزام دہ اور زیادہ فہم و تدبر پر مبنی ہوگا۔

    مذاق بھی کر سکتے ہیں:
    ڈاکٹر کیپانا ہوڈج تجویز کرتی ہیں کہ آپ تھوڑی ہنسی مذاق کے ساتھ ماحول کو ہلکا کر سکتے ہیں۔ مثلاً، آپ ایک "بنگو بورڈ” بنا سکتے ہیں جس پر وہ تمام تبصرے لکھیں جو آپ توقع کرتے ہیں کہ لوگ کریں گے اور پھر ان پر ہنسی مذاق کے ساتھ نشان لگا سکتے ہیں۔

    "کیا تم نے وزن بڑھا لیا؟”
    رولن کے مطابق، وزن یا کھانے کے بارے میں تبصرے اکثر پریشان کن ہوتے ہیں، چاہے وہ تنقید ہو یا خوش دلی سے کیے گئے ہوں۔”یہ ضروری ہے کہ آپ اس بات کو سمجھیں کہ جو تبصرے لوگ کھانے اور وزن کے بارے میں کرتے ہیں، وہ زیادہ تر ان کی اپنی خودی اور خوراک کے بارے میں فکروں کی عکاسی کرتے ہیں۔” آپ اس پر جواب دے سکتے ہیں، "مجھے اندازہ ہے کہ آپ اپنی ڈائیٹ کے بارے میں پرجوش ہیں، لیکن میں ابھی میں وزن کم کرنے کی کوشش کر رہا ہوں اس لیے میں نہیں چاہوں گا/گی کہ ہم اس پر بات کریں۔”

    "تم اب تک اکیلے کیوں ہو؟”
    اورنج کے مطابق، اگر کوئی شخص آپ کے ذاتی تعلقات کے بارے میں سوال کرے تو آپ انہیں دو موقع دے سکتے ہیں۔ پہلے موقع پر آپ بات کو ہنسی مذاق میں تبدیل کر سکتے ہیں، اور دوسرے موقع پر آپ براہ راست جواب دے سکتے ہیں جیسے: "جب میں اس بارے میں فیصلہ کر لوں گا/گی، تو آپ کو بتا دوں گا/گی۔”

    "تم شادی کب کر رہے ہو؟”
    شادی یا بچوں کے حوالے سے سوالات بھی اکثر دباؤ بڑھا دیتے ہیں، لیکن زیادہ تر یہ سوالات محبت اور خوشی کے جذبات سے آتے ہیں۔ اورنج تجویز کرتی ہیں کہ آپ ان سوالات کو ہنسی مذاق سے ٹال سکتے ہیں، جیسے: "مجھے خوشی ہے کہ آپ کو محبت کے بارے میں اتنی پرجوشی ہے، مجھے یاد ہے، آپ اور انکل گیری کیسے ملے تھے؟”

    ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر آپ تعطیلات کے دوران خاندان کے افراد کے ناپسندیدہ یا بے تکے سوالات کا سامنا کرتے ہیں، تو اہم بات یہ ہے کہ آپ خود کو پرسکون رکھتے ہوئے اپنے جذبات اور حدود کو واضح طور پر بیان کریں۔ اس طرح نہ صرف آپ اپنے جذبات کی حفاظت کر سکتے ہیں، بلکہ آپ خاندان کے افراد کے ساتھ ایک زیادہ پرسکون اور خوشگوار وقت گزارنے میں کامیاب ہو سکتے ہیں۔

    سائرہ یوسف کی چاکلیٹس چوری کرنے کی ویڈیو کا معمہ حل ہو گیا

    یشما گل کی شادی سے متعلق پوسٹ سوشل میڈیا پر وائرل

  • سیم جینڈر سے جنسی کشش نفسیاتی مسئلہ.تحریر:ملک ارشد

    سیم جینڈر سے جنسی کشش نفسیاتی مسئلہ.تحریر:ملک ارشد

    آج کل کے دور میں بہت سے نوجوانوں میں ہم جنسیت (سیم جینڈر سے جنسی کشش) کا رجحان بڑھتا جا رہا ہے۔ یہ مسئلہ نہ صرف فرد کی ذہنی حالت کا عکاس ہے بلکہ ہمارے معاشرتی اور ثقافتی ماحول سے بھی گہرا تعلق رکھتا ہے۔ بعض لوگ اس رجحان کو صرف ایک "ذہنی بیماری” یا "غلط سوچ” سمجھتے ہیں، لیکن حقیقت میں یہ ایک پیچیدہ نفسیاتی اور سماجی مسئلہ ہے جسے مختلف زاویوں سے سمجھنا ضروری ہے۔

    ہم جنسیت کی کشش کی نفسیات میں ایک اہم پہلو "دماغی تربیت” یا "مائنڈ سیٹنگ” ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ ہر انسان میں جنسی کشش موجود ہوتی ہے، اور یہ کشش مختلف لوگوں میں مختلف نوعیت کی ہو سکتی ہے۔ بعض اوقات، فرد کا دماغ کسی ایک جینڈر (مخالف یا ہم جنس) کے لئے زیادہ کشش محسوس کرتا ہے۔اگر ہم نفسیاتی لحاظ سے بات کریں، تو یہ کہا جا سکتا ہے کہ اگر کسی فرد نے بچپن میں غیر صحت مند ماحول میں پرورش پائی ہو یا کسی خاص نوعیت کے ذہنی دباؤ یا چیلنجز کا سامنا کیا ہو، تو اس کا دماغ اس صورتحال کو ایک خاص طریقے سے پروسیس کرتا ہے۔ ایسے حالات میں، وہ ہم جنس سے جنسی کشش محسوس کرنے لگتا ہے۔اس کو ایک طرح سے "برین فیڈنگ” یا "مائنڈ سیٹنگ” کہا جا سکتا ہے جس کے ذریعے فرد اپنے ذہن میں غیر فطری رجحانات پیدا کرتا ہے۔ یہ دراصل ایک نفسیاتی اثر ہے، جس میں بچپن میں گزرے ہوئے تجربات اور معاشرتی تربیت کا بڑا ہاتھ ہوتا ہے۔

    ہر انسان میں قدرتی طور پر دونوں جینڈر (مرد اور عورت) سے جنسی کشش محسوس کرنے کی صلاحیت ہوتی ہے۔ یہ کشش معمول کی بات ہے اور ہر فرد کے اندر کسی نہ کسی صورت میں موجود ہوتی ہے۔ تاہم، جب ہم سیم جینڈر سے جنسی کشش کی بات کرتے ہیں، تو یہ ایک مختلف نوعیت کی کشش ہوتی ہے۔یہ حقیقت ہے کہ ہم سب اپنے والدین، بہن بھائیوں، اور قریبی رشتہ داروں کے ساتھ محبت اور عزت رکھتے ہیں۔ یہ بھی ایک نوع کی "کشش” ہوتی ہے، مگر اس کشش کی نوعیت اور اس کا اظہار مختلف ہوتا ہے۔ صحت مند نفسیاتی اور سماجی تربیت ہمیں بتاتی ہے کہ ہم جنس کے افراد کے ساتھ عزت و احترام کی بنیاد پر تعلق قائم کیا جائے، نہ کہ کسی جنسی جذبے کے طور پر۔

    ہماری مذہبی تعلیمات اور اخلاقی تربیت بھی ہماری جنسی کشش کی سمت کو متعین کرتی ہیں۔ اسلام، مسیحیت، ہندومت اور دیگر مذاہب میں ہم جنسیت کو غیر فطری اور غلط سمجھا گیا ہے۔ مذہبی تعلیمات میں بتایا گیا ہے کہ مرد اور عورت کا رشتہ قدرتی اور فطری ہے، اور اسی میں انسان کی جسمانی اور روحانی سکونت ہے۔جب افراد مذہبی تربیت سے آراستہ ہوتے ہیں، تو ان کے ذہن میں یہ بات واضح ہوتی ہے کہ کسی بھی قسم کی ہم جنسیت کی طرف رغبت غیر فطری ہے اور اس سے بچنا چاہیے۔ یہ تربیت انسان کو اپنی جنسی کشش کو صحیح سمت میں متحرک کرنے میں مدد دیتی ہے اور اس کی زندگی میں سکون و سکونت کا باعث بنتی ہے۔

    ایک اور اہم پہلو جو سیم جینڈر سے جنسی کشش کی طرف رجحان پیدا کر سکتا ہے، وہ بچپن کے زمانے میں ہونے والے نفسیاتی ٹراما (چائلڈ ایج ٹراما) ہیں۔ اگر بچپن میں کسی فرد کو مخالف جینڈر کی طرف سے کوئی منفی تجربہ، تشویش یا جسمانی یا ذہنی اذیت کا سامنا ہوتا ہے، تو اس کا دماغ اس تجربے کو اپنی جنسی کشش کے طور پر پروسیس کر سکتا ہے۔اس کا اثر بعد کی زندگی پر پڑتا ہے، اور فرد سیم جینڈر کی طرف اپنی جنسی کشش محسوس کرنے لگتا ہے۔ اس نفسیاتی مسئلے کو حل کرنے کے لئے ضروری ہے کہ چائلڈ ایج ٹراما کو درست طریقے سے علاج کیا جائے، تاکہ دماغ کے کرپٹ سگنلز دوبارہ نیچرل پیٹرن پر آ جائیں۔

    ہمیں یہ سمجھنا ضروری ہے کہ ہر شخص کا دماغ اور تربیت مختلف ہوتی ہے۔ اگر کسی شخص کو سیم جینڈر کی طرف کشش محسوس ہوتی ہے، تو یہ اس کے ذہنی اور نفسیاتی پس منظر پر منحصر ہوتا ہے۔ یہ ہمیشہ ذہنی بیماری یا گندی سوچ نہیں ہوتی، بلکہ یہ ایک پیچیدہ نفسیاتی اور سماجی مسئلہ ہو سکتا ہے۔ہمیں اپنے ذہنوں میں یہ بات رکھنی چاہیے کہ احترام اور محبت کے جذبات ہر نوع کے رشتہ میں موجود ہوتے ہیں، چاہے وہ مخالف جینڈر ہو یا ہم جنس۔ یہ صرف تربیت اور ماحول پر منحصر ہے کہ ہم اس کشش کو کس طرح سمجھتے ہیں اور اس کا اظہار کس طرح کرتے ہیں۔

    سیم جینڈر سے جنسی کشش ایک پیچیدہ مسئلہ ہے جسے صرف ذہنی بیماری کے طور پر نہیں دیکھا جا سکتا۔ یہ نفسیاتی، سماجی اور مذہبی عوامل سے متاثر ہو سکتا ہے، اور اس کے حل کے لیے بہتر تربیت، ذہنی سکون اور مثبت ماحول کی ضرورت ہے۔ اگر کسی فرد میں اس کشش کا اظہار ہو رہا ہو، تو اس کو صحیح طریقے سے سمجھنا اور اس کا علاج کرنا ضروری ہے تاکہ وہ قدرتی، فطری اور صحت مند ذہنی حالت کی طرف واپس آ سکے۔آخرکار، ہمارے ذہنوں کو قدرتی اور صحت مند پیٹرن کے ساتھ تربیت دینا ہماری زندگی کو بہتر بنا سکتا ہے اور ہمیں سکون فراہم کر سکتا ہے۔

  • آئیے ہاتھ بڑھائیے.تحریر:قرۃالعین خالد

    آئیے ہاتھ بڑھائیے.تحریر:قرۃالعین خالد

    آئیے ہاتھ بڑھائیے
    تحریر:قرۃالعین خالد
    الحمدللہ! دارالفلاح ایک ایسا ادارہ ہے جو بے آسرا ماؤں اور بچوں کے لیے محفوظ پناہ گاہ ہے۔ دارالفلاح کی بنیاد 1967 میں رکھی گئی۔1965 کی جنگ کے بعد بہت سی خواتین بیوہ ہو گئیں تو اس ادارے کی بنیاد رکھی گئی۔ پنجاب میں تقریبا چھ شہروں میں دارالفلاح اپنا کام بےحد خوش اسلوبی سے سر انجام دے رہا ہے۔ جن میں لاہور راولپنڈی ملتان بہاولپور سرگودھا اور سیالکوٹ شامل ہیں۔

    الحمدللہ رب العالمین 12 دسمبر 2024 بروز بدھ "سعدین انسٹیٹیوٹ” کی جانب سے ایک موٹیویشنل سیشن کا اہتمام کیا گیا جس کا مقصد خواتین کو زندگی کے مقصد سے آگاہ کرنا تھا۔ زندگی اور خالات سے پریشان خواتین سے بات کر کے ان کا تعلق رب سے جوڑنے کی ادنی سی کوشش کی گئی۔ ڈپٹی ڈائریکٹر میاں شاہد صاحب سے بات چیت کے دوران اندازہ ہوا کہ وہ ایک درد دل رکھنے والے انسان ہیں اور وہ ان خواتین اور بچوں کی دینی تعلیم کے لیے خاص اہتمام کرتے ہیں۔ وارڈن میم تعظیم صاحبہ بھی اس کار خیر میں اپنی ٹیم کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑی ہیں۔

    گو کہ یہ ادارہ سوشل ویلفیئر اینڈ بیعت المال گورنمنٹ آف پنجاب کی زیرِ سرپرستی میں ہے لیکن سیالکوٹ کے رہائشی بھی درد دل رکھتے ہوئے ہمیشہ ادارے کے ساتھ تعاون کرتے ہیں۔ میں قرۃالعین خالد کالم نگار، مصنفہ سی ای او سعدین انسٹیٹیوٹ "مقصد حیات” پر بات کرتے ہوئے اداس چہروں پر مسکراہٹ بکھرتے دیکھ سکون قلب کے ساتھ واپس گھر آئی۔ اللہ رب العزت سے دعا ہے کہ ہم سب کو ہمارا حقیقی مقصد حیات سمجھا دے آمین۔

    میں اپنی دوست شافیہ کاشف کی شکر گزار ہوں جس کے توسط سے مجھے دارالفلاح کے انتظامیہ اور وہاں کے رہائشیوں سے اتنے قریب سے ملنے کا موقع ملا۔ دارالفلاح نہ صرف بے بس ماں بچے کے لیے پناہ گاہ ہے بلکہ وہاں خواتین کو ہنر سکھانے کا مکمل انتظام بھی موجود ہے جسے سیکھ کر خواتین مستقبل میں اپنا اور اپنے بچوں کا خود خیال رکھ سکتی ہیں۔

    مخیر افراد سے گذارش ہے کہ ایسے اداروں کا خاص خیال رکھا کریں اللہ ربّ العزت سب کے رشتوں کو سلامت رکھے آمین۔ آئیے ہاتھ بڑھائیے اور اپنے حصے کی شمع روشن کریں۔