Baaghi TV

Category: معاشرہ و ثقافت

  • شادی بیاہ کے معاملات اور ہمارا معاشرہ.تحریر: نصیر الدین

    شادی بیاہ کے معاملات اور ہمارا معاشرہ.تحریر: نصیر الدین

    ہر ملک اور ہر علاقے میں جہیز مختلف صورتوں میں دیا جاتا ہے۔ جو عام طور پر زیورات، کپڑوں، نقدی اور روزانہ استعمال کے برتنوں پر مشتمل ہوتا ہے۔ برصغیر پاک و ہند کے مسلمانوں میں جہیز کی یہ مروجہ رسم ہندو اثرات کی وجہ سے داخل ہوئی اور ایک لعنت شکل اختیار کر گئی۔ برصغیر میں تو گاڑی بائک سونا زیور اور گھر کا فرنیچر پردے قالین وغیرہ تک مانگ لیا جاتا ہے
    دلہن کے مہر کے بدلے کے طور پر بھی جہیز کے تعین کی کوشش کی جاتی ہے
    اگرغور کیا جاۓ تو جہیز کے مطالبے کو رشوت کی ایک قسم کہا جا سکتا ہے
    آج کل ہر کوئی جہیز کو لعنت قرار دیتا ہے
    حالانکہ نبی پاک صلی اللہ الہ وسلم نے بھی اپنی بیٹی کو جہیز دیا تھا نبی ص کی سنت کو لعنت کیسے قرار دیا جا سکتا ہے دراصل لعنت تو اسے ہم نے خود بنا دیا ہے محض جہالت اور لالچ کی وجہ سے،لڑکے والے خاص طور پر سامان اور کپڑوں کی لسٹیں بنا کر باقاعدہ ڈیمانڈ کرتے ہیں اور ا س بات پر ذرا سی بھی شرمندگی محسوس نہیں کرتے….اپنے چار پانچ سو دوست، رشتےدار بھی شادی میں کھانے پر ضرور بلاتے ہیں اور ان باتوں کو اپنا حق سمجھتے ہیں شادی پر وی آئی پی مہمان نوازی کی توقع کرتے ہیں وجہ یہ کہ ہم لڑکے والے ہیں، ہونا تو یہ چاہٸے کہ لڑکی والے اپنی استطاعت کے مطابق اپنی لڑکی کو کچھ نئی زندگی کی شروعات کے لۓ شادی پر دیں ،نہ کہ لڑکے کے مہمانوں کو کھلانے پلانے کے ساتھ ساتھ سازو سامان کی بھی ذمہ داری اٹھایں_نجانے لڑکے والوں کو یہ خیال کیوں نہیں آتا کہ وہ ماں باپ جنہوں نے اپنی لخت جگر بیٹی کو بیس بائیس سال تک پالا پوسا، لاکھوں روپے خرچ کر کے تعلیم و تربیت کے زیور سے آراستہ کیا اوراب وہ اپنی لاڈلی بیٹی ایک دوسرے خاندان کے حوالے کرنے کا رسک لے رہے ہیں کہ نجانے لڑکا اور اسکا خاندان آگے جا کر کیسےنکلیں ، لڑکے والوں کو ایک ایسی شخصیت مل رہی ہے جو نہ صرف انکے خاندان کی نسل کو آگے بڑھائے گی بلکہ انکا گھر بھی سنبھالے گی

    اگر لڑکے والے صرف اتنا ھی سوچ لیں تو شاید طرح طرح کے مطالبات کر کے لڑکی والوں پر بوجھ نہ ڈالیں ایسی سوچ لڑکے کی تربیت، تعلیم غیرت اور خاندانی ہونے پر منحصر ہے بےغیرت اور کم نسل لڑکے کو ایسی سوچ نہیں آتی نہ ہی شرمندگی ہوتی ہے، گو کہ رشتہ طے کرنے سے پہلے دونوں طرف سے چھان بین ہوتی ہے لیکن پھر بھی کل کا کسے پتہ………. اسلام شادی بیاہ میں لڑکی والوں پر اس قسم کی کوئی پابندی نہیں عائد کرتا کہ وہ شادی میں لڑکے کے مہمانوں کو کھانا کھلائیں اور لژکے والوں کی شرطیں پوری کرتے پھریں بلکہ لڑکے کی ذمہ داری ہے شادی اور شادی کے بعد کی ضروریات زندگی سے متعلق ہر چیز کا پہلے سے خود بندوسبت کرکے رکھے پھر شادی کرے نہ کہ لڑکی سے کپڑے، کھانا اور سامان مانگے …… شادی کی خوشی میں وہ دعوت ولیمہ کا اہتمام کرے اور تمام دوست رشتےداروں کو کھانا کھلائے شادی میں لڑکی والوں پر کھاناکھلانے کابوجھ نہ ڈالےاگر اپنے رشتے داروں کو بلانے کا بہت شوق ہے تو شادی میں بھی انکے کھانے کا بندوبست لڑکااپنی جیب سے خود ہی کرے…….لڑکے والوں کو چاہیئے اگر ان کی یا انکے لڑکے کی اتنی حیثیت نہیں ہے تو شادی کو اس وقت تک کے لئے موخر کر دیں جب تک اس قابل نہ ہو جائیں تاکہ لڑکی والوں کے آگے ننگا اوربھوکا نہ بننا پڑے شادی کے معاملات نمٹانے کا صحیح طریقہ جانننے کیلۓ اپنے بزرگوں کے ساتھ ساتھ علماۓ دین سے بھی پوچھا اور مشورہ کیا جاۓ.

    اللہ تعالی ہم سب کو شادی بیاہ کے معاملات میں سمجھداری اوردین اسلام کے اصولوں پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے لڑکے اور اسکے خاندان کو بے غیرت کے بجائے غیرتمند، سمجھدار اور دوسروں کا احساس کرنے والا بنائے آمین…….. اسلام نے نکاح کو جتنا آسان بنایا ہے موجودہ معاشرتی ماحول نے اسے اتنا ہی مشکل تر بنا دیا ہے ………ادھار قرضے لے کرغیر ضروی رسموں سہرا, بارات مہندی, بری, شو بازی , فنکشن, دکھاوا وغیرہ جو شادی کو مشکل تر بناتے ہیں ختم کر کے سادگی اپناٸی جاۓ مسجد میں نکاح کا اہتمام ہو اور اس کے بعد سادہ سی شادی کی دعوت تک محدود رہا جاۓ جو آج کے دور میں سمجھداری اور عزت بچانے کا بہترین طریقہ ہے

  • ذہنی غلام قوم کب ہو گی آزاد.تحریر: ارم ثناء

    ذہنی غلام قوم کب ہو گی آزاد.تحریر: ارم ثناء

    ہم صرف نام کے آزاد ہیں، ورنہ ہمارے ذہن تو اب بھی غلامی میں ہیں، ہمارے اساتذہ جن کو چاہیے کہ وہ بچوں کو ایسے تیار کریں کہ وہ حق بات کرتے ہوئے ہچکچائیں نا۔ لیکن وہ بچوں کو ایسے تیار کرتے ہیں کہ وہ اپنی بات کو بھی دوسروں تک پہنچانے سے پہلے گئی مرتبہ سوچتے ہیں۔ ہماری درس گاہوں میں اگر کبھی کوئی ٹیچر غلط بات کرے اور بچے ٹیچر کو بتا دیں تو ٹیچر اس کا شکر ادا کرنے کی بجائے الٹا اس کو ڈانٹ دیتے ہیں جس سے بچے پر یہ اثر ہوتا ہے کہ وہ جس بھی جگہ پر کچھ غلط ہوتا دیکھے تو خاموش ہو جاتا ہے۔ ہمارے گھروں میں کوئی بہوئیں نہیں لانا چاہتا بلکہ وہ ایک ذہنی غلام لانا چاہتے ہیں جو بھی ان کے ساتھ غلط کرے بس اس کو خاموشی سے برداشت کر لیں۔

    میرے خیال میں بچوں کو سکول لیول پر ہی یہ سیکھانا چاہیے کہ وہ حق بات کےلئے کھڑے ہوں چاہے وہ غلط بات ٹیچر کرے یا والدین۔ جو بھی بات اسلام کے خلاف ہو اس کے خلاف کھڑے ہوجائیں۔ جس بھی جگہ پر دیکھیں کہ اللہ کی نافرمانی ہو رہی ہے آواز بلند کریں اس جگہ پر۔ بچے جب صحیح بات کریں تو ان کی حوصلہ افزائی کرنی چاہیے، بچے جب کسی بڑے کی غلطی کو نوٹ کرکے وہ آپ کی غلطی آپ کو بتائیں تو ان کا شکر ادا کریں۔

  • رویوں کا ادراک .تحریر:عینی ملک

    رویوں کا ادراک .تحریر:عینی ملک

    دو سال پہلے، جب بھی کوئی میری پوسٹ پر تضاد بھرا کمنٹ کرتا، تو میں فوراً دل برداشتہ ہو جاتی تھی۔ میرے ذہن میں بار بار یہ سوال آتا کہ آخر میرے ساتھ ہی ایسا کیوں ہو رہا ہے؟ میں خود کو مظلوم اور بےچارہ تصور کرتی، جیسے دنیا نے میرے خلاف کوئی سازش کر رکھی ہو۔ ہر منفی تبصرہ میرے دل کو گہرائی تک زخمی کر دیتا، اور میں گھنٹوں یہی سوچتی رہتی کہ شاید مجھ میں ہی کوئی کمی ہے۔

    پھر ایک وقت آیا جب میں نے ان چیزوں کو گہرائی سے دیکھنا شروع کیا۔ میں نے محسوس کیا کہ یہاں موجود ہر انسان کی سوچنے، سمجھنے اور شعور کی سطح مختلف ہے۔ کچھ لوگ اپنے حالات سے ستائے ہوئے ہیں، کچھ اپنی خوشی کا اظہار کرنا چاہتے ہیں، اور کچھ بس دوسروں کو نیچا دکھانے یا ان کی باتوں میں خامیاں نکالنے میں خوشی محسوس کرتے ہیں۔

    اسی دوران، میں نے ایک اور دلچسپ رویہ نوٹ کیا۔ بعض لوگ بے تُکی بات پر بھی واہ واہ کر کے چلے جاتے ہیں، جیسے انہوں نے کسی بات پر غور کیے بغیر ہی تعریف کرنا اپنی عادت بنا لی ہو۔ کبھی کبھی ان کی یہ تعریف مصنوعی لگتی تھی، اور کبھی یہ احساس ہوتا کہ شاید وہ محض اپنی موجودگی کا احساس دلانے کے لیے ایسا کر رہے ہیں۔

    یہ سب دیکھ کر میں نے یہ جانا کہ لوگوں کے رویے اور ان کے ردعمل اکثر ان کی اپنی شخصیت، مزاج، یا حالات کا عکس ہوتے ہیں، نہ کہ میری بات یا میری شخصیت کا۔ تب میں نے یہ فیصلہ کیا کہ میں دوسروں کے تبصروں کو اپنے دل پر لینے کے بجائے، ان پر غور کیے بغیر آگے بڑھوں گی۔

    یہ شعور حاصل کرنا میرے لیے ایک طاقتور سبق تھا۔ میں نے سیکھا کہ اپنی زندگی کی خوشی اور سکون کو دوسروں کی رائے سے مشروط نہیں کرنا چاہیے۔ اب میں جانتی ہوں کہ دنیا کی رنگا رنگی اور لوگوں کے مختلف رویے اس دنیا کی خوبصورتی ہیں، اور ہمیں بس اپنے راستے پر اعتماد اور سکون کے ساتھ چلتے رہنا چاہیے۔اور اچھے لوگوں کی رائے کو اہمیت دینا چاہیے۔

  • رشتہ کوئی بھی ہو اہم ہوتا ہے ،تحریر:شمائل عبداللہ

    رشتہ کوئی بھی ہو اہم ہوتا ہے ،تحریر:شمائل عبداللہ

    اپنا مختصر سا تعارف کروا دوں کہ میں بھی ایک مرد ہوں کوئی خواجہ سرا نہیں جو یہ باتیں لکھ رہا ہوں تلخ لگ سکتی ہیں مگر حقیقت ہیں۔میں نے کہیں پڑھا تھا "”اگر آپ کسی عورت کو اکیلا دیکھ کر بھی ہوس سے پاک ہیں پھر یا تو آپ فرشتے ہیں یا پھر خواجہ سرا”
    اس بات کا مطلب کیا ہے؟
    کیا مرد اور عورت صرف میاں بیوی ہیں؟
    کیا عورت سے ہمارا اور کوئی رشتہ نہیں؟
    پھر ماں بہن بیٹی یہ سب کیا ہیں؟
    اگر اتنی ہی ہوس چڑھی ہے اگر نہیں ضبط ہو رہا تو یہ آپشن آپ کے پاس موجود ہیں۔
    ان ناموں سے بھی غیرت کا کیا فائدہ کہ ان رشتوں کا بھی پاس کہاں رکھا گیا معاشرے میں بہت کچھ غلیظ ہو رہا ہے جو بیان سے باہر ہے۔
    افسوس کہ آج ہمیں محض حوروں کی ہوس ہے جس کی وجہ سے ہم تھوڑے بہت اچھے ہیں لیکن خدا نیتوں کو جانتا اس لئے یاد رکھو کہ:-
    ” حوروں کی ہوس رکھنے والوں کو حورے ملین گے فرشتوں سے ”
    ہم اکثر منہ بولے رشتوں کی مخالفت اسی وجہ سے کرتے ہیں۔ تو سوچئے ہم سگے رشتوں کے ساتھ کیا کر رہے ہیں؟
    کہیں نانا دوتی کیساتھ لگا ہے کہیں باپ بیٹی کے ساتھ۔
    علامہ اقبال کا شعر یاد آتا ہے کہ:-
    "یہ کوئی نہیں کہتا کہ میں خود ہوں خراب
    ہر کوئی کہہ رہا ہے زمانہ خراب ہے”
    اپنی آنکھ کا شہتیر نظر انداز کرکے ہم دوسرے کی آنکھ سے تنکا نکالنا بخوبی جانتے ہیں. یاد رکھو کہ گناہ کی سوچ ہی گناہ کرنے کے مترادف ہے گناہ کر گزرنا ضروری نہیں۔
    پھر علی زریون بھی کہتے ہیں کہ:-
    ” ازل سے لیکر اب تک عورت کو
    سوا جسم کے کیا سمجھا گیا ہے ”
    ویسے حوس کا نشانہ تو خیر سے خواجہ سرا بھی ہیں بلکہ جانور پرندے بچے ہر شے ہی کئی لوگ تو اکیلے میں بھی ۔۔۔۔ تو کیا ہر چیز پردہ کرے؟ بات کو سمجھئے گا تحریر میں پردے کی مخالفت نہیں کی گئی”
    پھر مخالفت ہے لڑکی لڑکے کی دوستی کی یعنی خود کو ٹھیک نہیں کرنا مخالفت کرنی ہے۔
    پھر یوں کرو کہ سب سے بول چال بند کردو کیونکہ” ہم جنس پرستی ” بھی عام ہے۔
    میں فیشن کے خلاف نہیں ہوں فیشن نیا انداز ہے لیکن ” ہم نے بجائے اچھی چیزوں کو فیشن بنانے کے بدی کو فیشن بنا رکھا ہے اور جو روکے وہ پرانے خیالات کا ہے”
    ” کچھ اس وجہ سے بھی ہے بدی عروج پر
    خدا کی نظر سے کسی نے دیکھا نہیں عورت کو”
    ایک جگہ لکھا تھا۔
    مرد عورت کے بیچ تیسرا شیطان ہوتا ہے کیوں؟
    کیا آپ کبھی اپنی بہنوں کیساتھ نہیں بیٹھے؟
    اور اگر ایسا ہے بھی تو ہمیں اسے حاوی نہیں کرنا مقابلہ کرنا ہے تاکہ ہم سے بھاگ جائے”
    بھلے شاہ کہتے ہیں:-
    ۔۔۔۔پہلاں من اپنے نوں پڑھ
    فر مندر مسجد وڈ
    جدوں نفس جاوے ترا مر
    فر نال شیطاناں لڑ۔۔۔۔
    یعنی سب سے بڑا شیطان ہمارے اندر ہے ہمارا ” نفس ”
    ہم کہتے فلاں لڑکی کا لباس دیکھ کر ہم نے ایسا کیا بھئی مت بھولیں آپ اشرف المخلوقات ہیں۔
    اگر سامنے والا غلط ہے تو اس کا ردعمل کرکے آپ نے خود کو حیوان بنا لیا "
    کیونکہ فوری ردعمل انہی کا کام ہے انسان کے پاس تو قوت برداشت ہے۔
    خدا نے آدم کو محافظ حوا کو مددگار بنایا ۔۔۔
    لیکن افسوس دونوں بھول گئے۔
    دوستی کے حوالہ سے بھی کئی شعراء کہتے ہیں۔
    حوس و حوانیت سے اٹھ کر دیکھو
    لڑکیوں سے اچھا دوست مل جائے تو کہنا
    پھر
    نہ دیکھ حسن کو حوس و حوانیت کی نگاہوں سے
    عورت اگر دوست نہیں تو پھر کچھ بھی نہیں
    ایک اور لائن تھی کہ:-
    "وہ مری دوست ہے میں اسے اچھا لگتا ہوں”
    یہ ہے دوستی بس اچھا لگنا بالکل ایسے جیسے بہن بھائی اور ہم نے اسے محبت سے جوڑ دیا جو بالکل الگ بات ہے۔
    ایک آخری بات یہ بھی کرنا چاہوں گا کہ ہمیں گلہ ہے کہ زمانہ محبت کو نہیں سمجھتا تو کیا ہم خود سمجھتے ہیں محبت کو؟
    …زمانہ سمجھے محبت کو یہ مسئلہ بعد کا ہے لیکن!!!
    پہلے سمجھیں تو محبت کرنے والے محبت کو…
    ہماری جہالت کہیں کہیں کہتی ہے کہ منہ بولے بہن بھائی ہو سکتے ہیں مگر لڑکی لڑکے کی دوستی نہیں یہ سب ہمارے ہی ذہن کے خرافات ہیں۔
    رشتہ کوئی بھی ہو اہم ہوتا ہے
    بس نظر و نظریہ ہی وہم ہوتا ہے

  • دھی تے جھلیا دھی ہوندی اے .تحریر:آصفہ عنبرین قاضی

    دھی تے جھلیا دھی ہوندی اے .تحریر:آصفہ عنبرین قاضی

    13نومبر کا دن تھا ، باپ دو دن سے بیٹی کے نمبر پر کال کر رہا تھا جو چار سال پہلے ڈسکہ کے نواحی گاؤں بیاہی گئی تھی ۔ مگر نمبر دو روز سے بند تھا ، وہ گھبرا کر بیٹی کے سسرال چلا آیا اور پوچھا زارا کہاں ہے ؟ فون کیوں بند ہے اس کا ، جبکہ زارا کا دو سال کا بیٹا گھر میں موجود تھا ، ساس اور نندوں نے بتایا دو دن پہلے رات کو کسی آشنا کے ساتھ بھاگ گئی ، موبائل بھی ساتھ لے گئی ۔ ہم تو کسی کو منہ دکھانے کے قابل نہیں رہے ، خاموشی سے تلاش کررہے ہیں ۔۔۔
    باپ کو یقین نہ آیا ، چار سال پہلے اس نے بہت چاؤ سے اس کا رشتہ اس کی خالہ صغری کے بیٹے قدیر سے کیا ، اور وہ دونوں بہت خوش تھے ، ہاں سگی خالہ اس سے اکثر نالاں رہتی تھی مگر وہ پھر بھی بیٹی کو نباہ اور صبر کی تلقین کرتا رہا ۔ اس نے تلاش گمشدگی کے لیے پولیس کی مدد لی ، پولیس نے سسرالیوں کے بیان لیے ، زارا کی ساس اور نندوں کو شامل تفتیش کیا گیا ، ہر ایک کے بیان میں تضاد موجود تھا ، جس پر پولیس نے ان کو گرفتار کر لیا۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ زارا بھاگی نہیں بلکہ 11 نومبر کی رات انہوں اس کو مار کر پھینک دیا تھا۔ اور اس کے شوہر کو بھی یہی بتایا کہ وہ کسی سے رابطے میں تھی اور گھر سے نکل گئی ، جبکہ زارا سات ماہ کی حاملہ تھی ، اس کے ساتھ ننھی جان بھی ماری گئی ۔
    جھگڑا کیا تھا؟ وہی ساس بہو کی ازلی چپقلش اور نند بھابی کا بیر ۔۔۔ زارا کی پانچ نندیں تھیں اور قدیر ان کا اکلوتا بھائی ۔۔ اور انہوں نے خود زارا کا رشتہ مانگا اور اپنے ہاتھوں سے رخصت کرکے گھر لائیں ۔ جھگڑا پیسے کا اور محبت کی تقسیم کا تھا ، ان کا خیال تھا ان کا بیٹا سارا خرچ بہو کے ہاتھ پر رکھتا ہے جبکہ وہ الگ سے ماں کو پیسے بھیجتا تھا ، مگر ان کی خواہش تھی کہ سب کچھ ماں بہنوں کو دینا چاہیے ،اور وہ خود زارا کو ماہانہ خرچ کے طور پر دیں ، انہی جھگڑوں سے تنگ آ کر قدیر اسے پچھلے سال اٹلی بھی لے گیا اور حالات بہتر ہونے پر خود کچھ ماہ پہلے سسرال چھوڑ گیا ۔ اس بار ساس اور نندوں نے سوچا کہ زارا کو واپس ہی نہ جانے دیا جائے اور قدیر کی ساری کمائی اور توجہ ہمیں ملے ، پلان کے تحت لاہور سے کسی کو بلایا ، فجر سے کچھ دیر پہلے سوئی ہوئی زارا کے منہ پر تکیہ رکھ کر سانس بند کی اور موت کے حوالے کردیا ۔۔۔ اب مسئلہ لاش کا تھا کہ وہ کہاں کریں ۔۔ اور شناخت کیسے چھپائیں تو سر کو دھڑ سے الگ کرکے چولہے پر جلایا گیا تاکہ نین نقش مسخ ہوجائیں ، پھر جسم کاٹ کر دو الگ الگ بوریوں میں ڈالا ، ایک بوری نہر میں اور ایک دور جھاڑیوں میں پھینک دی ۔ پولیس نے ان کی نشان دہی پر مختلف جگہوں سے جسم کی باقیات برآمد کر لیں ۔
    لوگ کہتے ہیں رشتہ اپنوں میں کریں ۔۔ اپنا مارے گا بھی تو چھاؤں میں ڈالے گا۔۔ یہاں تو چھاؤں میں بھی نہیں ڈالا گیا ۔۔۔ اور پھر اپنا ہو ۔۔ تو مارے ہی کیوں ؟؟
    تیری میری کی ہوندی اے
    دھی تے جھلیا دھی ہوندی اے

  • خواب جو بکھر گئے ذرا سی لاپرواہی سے.تحریر: فیضان شیخ

    خواب جو بکھر گئے ذرا سی لاپرواہی سے.تحریر: فیضان شیخ

    زندگی کی دوڑ میں ہم اکثر اپنے خوابوں کی روشنی میں آگے بڑھتے ہیں۔ ہمیں پتہ بھی نہیں چلتا کہ کب وہ خواب ہمارے ہاتھوں سے پھسل جاتے ہیں اور حادثے کا شکار ہو جاتے ہیں۔ آج چکوال میں ہونے والے افسوسناک حادثے نے ہمیں پھر سے جھنجھوڑ دیا۔ ایک باراتیوں کی بس، جو استور سے خوشیوں کے لمحات کو لیے راولپنڈی کی طرف جا رہی تھی، تھلیچی پل کے قریب اپنے سفر کی آخری منزل پر پہنچ گئی۔ تیز موڑ کاٹتے ہوئے بس گہری کھائی میں جاگری اور دریا کے بہاؤ میں گم ہوگئی۔ اس حادثے میں ایک ہی خاندان کے کئی افراد زندگی سے محروم ہوگئے، اور کچھ لاپتہ ہیں جن کی تلاش اب بھی جاری ہے۔

    ریسکیو ٹیمیں پوری کوششوں سے جائے حادثہ پر کام کر رہی ہیں۔ اب تک کچھ نعشیں برآمد ہو چکی ہیں، مگر کئی لوگ ابھی تک لاپتہ ہیں، اور ان کے خاندان ان کی واپسی کی امید لیے بیٹھے ہیں۔ یہ حادثہ ہمارے دلوں میں سوالات پیدا کرتا ہے کہ آیا یہ سانحے ہم روک سکتے ہیں؟ کیا ہم اپنے پیاروں کی زندگیوں کی حفاظت کر سکتے ہیں؟ اور اس کا جواب ہمیں "ہاں” کی صورت میں ملتا ہے، اگر ہم سب سڑکوں پر احتیاط کے اصول اپنانے کا عہد کریں۔

    یہی اصول ہمیں بار بار روڈ سیفٹی کی اہمیت اور اس کے اصولوں کی پابندی کی ضرورت کا احساس دلاتے ہیں۔ جب ہم سڑکوں پر نکلتے ہیں، تو ہم صرف اپنی زندگی نہیں بلکہ اپنے اردگرد کے لوگوں کی زندگیاں بھی اپنے ہاتھوں میں لے کر چلتے ہیں۔ روڈ سیفٹی کے اصول، جیسے کہ رفتار کی پابندی، ڈرائیونگ کے دوران مکمل توجہ اور طویل سفر میں وقتاً فوقتاً آرام کرنا، ہمارے اور دوسروں کے تحفظ کے لیے انتہائی ضروری ہیں۔

    اس شعور کو پھیلانے اور معاشرے میں روڈ سیفٹی کی اہمیت کو اجاگر کرنے کے لیے ٹی این این ڈیجیٹل کے سرپرست اعلیٰ، شیخ ناصر محمود، کی خدمات ناقابل فراموش ہیں۔ انہوں نے اپنی زندگی کو روڈ سیفٹی کے پیغام کو عام کرنے کے لیے وقف کیا ہے۔ انہوں نے عوام میں یہ شعور پیدا کیا کہ گاڑی چلانا محض رفتار کا کھیل نہیں بلکہ ذمہ داری کا تقاضا ہے۔ انہوں نے نہ صرف تربیتی پروگرامز کا انعقاد کیا بلکہ لوگوں کو یہ سکھایا کہ احتیاط سے کی گئی ڈرائیونگ حادثات کو روکنے کا مؤثر ذریعہ ہے۔

    شیخ ناصر محمود کی خدمات اس بات کا عملی ثبوت ہیں کہ کس طرح ایک فرد کی کوششیں معاشرے میں بڑی تبدیلی لا سکتی ہیں۔ ان کی کاوشوں کی بدولت بے شمار لوگوں نے روڈ سیفٹی کے اصول اپنائے، اور ان کی تربیت سے کئی حادثات کو روکا جا چکا ہے۔ ان کی کوششیں ہمیں یہ یقین دلاتی ہیں کہ اگر ہم سب روڈ سیفٹی کے اصولوں کو اپنی زندگیوں کا حصہ بنائیں تو ہم اپنے پیاروں کو حادثات سے بچا سکتے ہیں اور خوشیوں کے خواب بکھرنے سے روک سکتے ہیں۔

    آج کے حادثے کو ہمیں ایک یاد دہانی کے طور پر لینا چاہیے کہ زندگی کا ہر لمحہ نازک ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنی ذمہ داری کا احساس کریں اور روڈ سیفٹی کے اصولوں کو معمولی نہ سمجھیں۔ شیخ ناصر محمود جیسے لوگوں کی کاوشوں کو سراہنا اور ان کے پیغام کو عام کرنا ہمارا فرض ہے۔ اگر ہم نے آج یہ عہد کر لیا کہ ہم سڑکوں پر احتیاط اور ذمہ داری سے سفر کریں گے، تو شاید ہم کل کئی زندگیاں محفوظ کر سکیں اور کئی خاندانوں کے خواب بکھرنے سے بچا سکیں۔

  • نتاشہ کا کیا ہوگا …… تحریر:محمد نورالہدیٰ

    نتاشہ کا کیا ہوگا …… تحریر:محمد نورالہدیٰ

    کراچی میں کارساز کے مقام پر امیرزادی نتاشہ کی طوفانی رفتار لینڈ کروزر سے ہلاک ہونے والے افراد کے بعد اگرچہ ملزمہ پولیس کسٹڈی میں ہے۔ لیکن بااثر طبقات کی جانب سے وقوع پذیر ہونے والے ایسے کیسز اور واقعات کی شہرت کو مدنظر رکھتے ہوئے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ ملزمہ نتاشہ وہاں کتنے سکون میں ہوگی۔ گو کہ اس کیس میں کراچی پولیس کا متاثرین کے ساتھ رویہ اور برتاؤ حیرت انگیز طور پر قابل تحسین ہے، پولیس حکام کے ساتھ ساتھ صوبے کے اہم حکومتی عہدیداروں نے بھی لواحقین کو انصاف کی یقین دہانی کروائی ہے …… لیکن ہائی پروفائل کیسز میں پولیس، قانون یا مجموعی طور پر جوڈیشل سسٹم کو بھلا کون خاطر میں لاتا ہے؟۔ ہمارے قانون کے اندر بھی ایک قانون موجود ہے جو ایسے اثر رسوخ رکھنے والوں کے تحفظ کی راہ نکالتا ہے۔ ریمنڈ ڈیوس، شاہ رخ جتوئی، مجید اچکزئی اور نجانے ایسے کتنے ہی نام ہیں جنہوں نے اپنی معاشرتی پوزیشن کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ہمارے قانون اور نظامِ انصاف کی آزادی اور شفافیت کو عیاں کیا۔

    کارساز میں باپ بیٹی کو کچلنے والی نتاشہ کی مالی حیثیت بھی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں رہی۔ بڑی بڑی کمپنیوں کے اہم عہدوں پر فائز اس خاتون سے جب واقعہ سرزد ہوا تو اس کے وکلاء اور ڈاکٹرز کی جانب سے کبھی نفسیاتی، کبھی ذہنی دباؤ کا شکار، کبھی انٹرنیشنل ڈرائیونگ لائسنس ہولڈر اور کبھی کچھ اور تاویلیں گھڑ کے معاملے کی سنگینی کو کم کرنے کی کوشش کی گئی۔ بات بنتی دکھائی نہ دی تو موصوفہ کو درمیانی راستہ دینے کیلئے ایسے مزید حربے بھی استعمال کئے گئے۔ دوسری جانب نتاشہ کی سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیوز میں بھی واضح ہے کہ ملزمہ کو اپنے کئے پر کوئی شرمندگی نہیں ہے اور وہ قانون کو انگلیوں پر نچانے کا یقین رکھے ہوئے ہے۔ ملزمہ کا اطمینان بھی بتا رہا ہے کہ وہ ایسا کرنے میں کامیاب رہے گی اور جلد وکٹری کا نشان بنا کر نظامِ انصاف کا منہ چڑا رہی ہوگی۔

    وکیل کا کہنا ہے کہ نتاشہ فیملی، متاثرہ فیملی کو قانونی طور پر متعین کردہ 68 لاکھ روپے دیت فی فرد کے حساب سے ادا کرنے کو تیار ہے۔ یہ بگڑے ہوئے رئیس دیت کے اسلامی قانون کا فائدہ اپنے مقاصد کیلئے کتنی آسانی سے اٹھا لیتے ہیں، اس کا اندازہ ہمیں اس طرز کے سابقہ کیسز سے بخوبی ہوجاتا ہے۔ المیہ تو یہ بھی ہے کہ ہمارے نظام عدل کے رکھوالے بھی اس طرح کے ”چھوٹے موٹے“ کیسز پر اپنا حق ادا نہیں کرتے، بلکہ عوامی مسائل کی بجائے غیر ضروری مسائل پر زیادہ توجہ دیتے ہیں۔ ہمارے صحافی دوست نوید چوہدری نے ایسے طرزِ عمل پر کیا خوب تبصرہ کیا ہے کہ ”جس معاشرے میں زندگی لڈو کا کھیل بن جائے اور ریاست کا تمام نظام سانپ کو بچانے نکل پڑے، وہاں صرف سانپوں کا راج ہو سکتاہے“۔ ایسے واقعات میں عام تاثر یہی دیا جاتا ہے کہ لواحقین جھک گئے اورانہوں نے ملزم کو معاف کر دیا۔ لیکن حقیقت اس کے برعکس ہوتی ہے۔ متاثرین کو سرنڈر ہونے پر مجبور کیا جاتا ہے اور نظام عدل انہیں تحفظ فراہم کرنے میں ناکام رہتا ہے۔ قانون بھی اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے سے ہچکچاتا ہے۔ ایسے میں غریب کے پاس طاقتور کی بات ماننے کے علاوہ کوئی آپشن بھی نہیں بچتی۔

    نتاشہ جیسی حیثیت کے افراد کے کیسز میں بالخصوص جوڈیشل سسٹم کا کردار ہمیشہ ہی سوالیہ نشان رہا ہے۔ متاثرین کے خون کی قیمت لگانا ”بڑے لوگوں“ کا بائیں ہاتھ کا کام ہے۔ انصاف کو یہ اپنے گھر کے دربان سے زیادہ کی حیثیت نہیں دیتے۔ ایسے میں ”نتاشہ کا کیا ہوگا“، اس سوال کا جواب تلاش کرنے کی ضرورت نہیں۔ البتہ اس رویے میں تبدیلی لانے کی ضرورت ہے کہ جب قانون کا واسطہ کسی اثر و رسوخ رکھنے والے سے پڑ جائے تو قانون معمول کے تقاضے پورے کرنے سے نجانے کیوں خوفزدہ ہو جاتا ہے۔ ہمارا نظام عدل خودمختار اور بااختیار ہو تو ہمیں یہ دن نہ دیکھنے پڑیں۔

    یہ امر بھی حقیقت پر مبنی ہے کہ ہمای بھولی بھالی قوم ہر کیس میں انصاف کی امید لگا لیتی ہے۔ موجودہ کیس پر بھی پورے پاکستان کی نظریں ہیں۔ حالانکہ ماضی کے تجربات کو مدنظر رکھیں تو یہ کیس آغاز سے ہی اختتام پذیر ہو چکا ہے۔ دنیا کو دکھانے کیلئے صرف فارمیلیٹی پوری کی جا رہی ہے۔ جب نتاشہ کا میڈیا ٹرائل کچھ تھمے گا اور ہمیں دیگر عنوانات میں الجھا دیا جائے گا تو ہم بھی یہ موضوع بھول کر حالات کی رو میں بہنا شروع ہو جائیں گے اور متاثرین دل پر جبر کر کے خاموش رہنے پر مجبور ہو جائیں گے، کیونکہ ہمارے نظام میں مظلوم کی داد رسی کی کوئی شق شامل نہیں ہے۔ طاقتور اور کمزور کے درمیان تفریق کرنے والا نظام نجانے کب تبدیل ہوگا اور ہمارا نظام عدل کب درست طریقے سے اپنا کردار ادا کر پائے گا، اس سوال کا جواب تلاش کرتے کتنی نسلیں گزر گئیں اور مزید نجانے کتنی گزر جائیں گی۔
    منفی افعال ملک کی جڑیں کھوکھلی کررہے ہیں اور ہم گذشتہ 77 سال سے یہ سب برداشت کررہے ہیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ہم لوگ ایک قوم ہیں یا ایک ہجوم …… کیا ہماری وقعت

  • کارساز حادثہ،تلخ حقائق ،مبشر لقمان نے کیا حق ادا، تجزیہ: شہزاد قریشی

    کارساز حادثہ،تلخ حقائق ،مبشر لقمان نے کیا حق ادا، تجزیہ: شہزاد قریشی

    گزشتہ روز ایک اور سانحہ کارساز رونما ہو گیا اور کراچی کی ایک سڑک پر ایک غریب محنت کش اور اس کی تعلیم یافتہ بیٹی کو ایک سرمایہ دار گروپ کی خاتون نے ٹکر مار کر نہ صرف لقمہ اجل بنا ڈالا بلکہ دیگر افراد کو بھی اپنی گاڑی تلے کچل کر زخمی کر دیا اور پھر قانون نے اسے تھانے پہنچا کر ایئرکنڈیشن کمرے کی زینت بنایا ،پھر اگلے روز جیسا کہ توقع تھی عدالت میں بھی پیش نہ کی جا سکی اور دولت کی کارسازیاں منظر عام پر آتی گئیں وطن عزیز میں قانون کی بالادستی، حقوق کی برابری اور انصاف کی اعلیٰ پیمانوں کی دھجیاں توکارساز کے سانحات میں قوم سے پوشیدہ نہیں مگر اس سانحہ کارساز نے صحافت کے نام نہاد ستونوں کی کارسازی بھی آشکار کر دی اور قوم کو دکھا دیا کہ سرمایہ دار نے صحافت کی آزادی، صحافت کی اخلاقیات، صحافت کے اصولوں، صحافت کے اسباق کو بھی سانحہ کارساز سے اٹھا کر بحیرہ ہند میں غرق کر دیا ہے۔

    پاکستان کی صحافت کے نام نہاد علمبردار انگریزی میں شائع ہونے والے کراچی کے بعض اخبارات نے اپنی ناک تلے ہونے والے حادثے کی خبر کو مختصر رکھا۔ جبکہ الیکٹرانک میڈیا کابھی کچھ یہی حال رہا۔ صحافت میں یہی سکھایا اور پڑھایا جاتا ہے کہ جتنا بڑا واقعہ ہوتا ہے اتنا ہی نمایاں ہوتا ہے کچھ کراچی کے انگریزی اخبارات نے اپنی صحافت کو زندہ بھیمرکھا جبکہ معروف اینکر مبشر لقمان نے اپنے پروگرام میں اس دلخراش واقعہ کے اصل حقائق قوم کے سامنے رکھ دیئے ڈرائیونگ لائسنس کے بارے کہا گیا کہ وہ غیر ملکی لائسنس ہے امریکہ سے لے کر برطانیہ تک کسی ذہنی مریض کو لائسنس نہیں دیا جاتا ،مبینہ طور پر کراچی کے ڈاکٹروں نے اس خاتون کو ذہنی مریضہ قرار دیا ہے جو بارہ کروڑ کی گاڑی چلا رہی تھی اسے صحافیان پاکستان بلاشبہ الیکٹرانک میڈیا کے مالکان اور پرنٹ میڈیا کے مالکان کی اکثریت سرمایہ داروں کی ہو چکی ہے جن کا صحافت سے دور کا بھی واسطہ نہیں تاہم اپنی صحافت کو برقرار رکھو قصیدے بولنے اور لکھنے والے یاد رکھیں کہیں ایسا نہ ہو کہ کوئی بہت بڑا واقعہ کسی دن آپ کو اخبار شائع کرنے سے روک دے۔

    امیر اور غریب کا فرق نہ آئین پاکستان میں ہے اور نہ آئین جہان میں اشتہاری پارٹیوں اور سرمایہ دار رشتہ داریوں کی خبریں دبانے سے آ پکی آواز بھی دب جائے گی یاد رکھیئے ! قوم عاد جیسی طاقتور قوموں اور فرعون جیسے طاقتور بادشاہوں نے بھی جب ظلم اور زیادتی کا بازار گرم کیا تو رب ذوالجلال کا فرمان ہے کہ ’’آخر تیرے رب نے ان سب پر عذاب کا کوڑا برسایا‘‘ (سورہ الفجر)

  • کیا چیز آپ کو خوش کر سکتی ہے؟

    کیا چیز آپ کو خوش کر سکتی ہے؟

    یہ ایک ایسا سوال ہے جو ہر کسی کے ذہن میں گردش کرتا ہے – خوشی کیا ہے اور ہم اسے کیسے حاصل کر سکتے ہیں؟ ارسطو اس خیال کا حامل ہے کہ "خوشیاں ہم پر منحصر ہوتی ہیں۔ وہ خوشی کو انسانی زندگی کا مرکزی مقصد اور ایک الگ مقصد کے طور پر دیکھتا ہے، جس کے لیے مختلف حالات کی تکمیل ضروری ہے، جس میں جسمانی اور ذہنی دونوں قسم کی تندرستی شامل ہے۔ تاہم، کیا خوشی کے لیے ضروری تمام حالات کی مقدار ہر فرد کے لیے ایک سی ہوتی ہے، چاہے وہ کسی بھی سماجی،معاشی پس منظر یا ثقافت سے تعلق رکھتا ہو؟… شاید نہیں۔

    بعض اوقات خوش رہنے کے لیے کوشش کرنا کب زیادہ چاہ کی وجہ سے لالچ میں تبدیل ہو جاتا ہے، اور اکثر یہ دوسروں کے حقوق پامال کرنے کے نتیجے میں، جیسے اس جدید دور میں، ہم بہت سی پریشانیوں کا شکار ہیں، جن میں نفسیاتی تکلیف یا صدمہ، ٹیکنالوجی کا بے جا استعمال، کام اور تعلیم کے معاشی معیارات کا دباؤ، اور ہم عمروں کے ساتھ مقابلہ بازی شامل ہیں۔ یہ سب عوامل ہماری توانائی کو کم کرتے ہیں اور خوشی کے توازن کو بگاڑ دیتے ہیں۔

    میری ذاتی رائے میں، میں البرٹ کیموس سے زیادہ متفق ہوں۔ انہوں نے ایک بار کہا تھا، "اگر آپ یہ تلاش جاری رکھتے ہیں کہ خوشی کس چیز پر مشتمل ہے تو آپ کبھی خوش نہیں ہوں گے۔ اگر آپ زندگی کے معنی تلاش کر رہے ہیں تو آپ کبھی زندہ نہیں رہیں گے۔” اگر ہم صرف اپنی روزمرہ کی زندگی کو جاری رکھتے ہیں تو توازن تلاش کرنے کے بعد خوشی خود بخود مل جائے گی۔

    ارسطو کہتا ہے کہ اگر خوشی ایک عادت یا تربیت یافتہ فیکلٹی ہوتی۔ اگر یہ سچ ہے تو دنیا کی دولت سے مالا مال تمام لوگوں کو خوش ہونا چاہیے اور جو نہیں ہیں ان کو ناخوش ہونا چاہیے۔سوال یہ ہے کہ آپ کو کس چیز سے خوشی ملتی ہے؟ یہ انفرادی سماجی و اقتصادی پس منظر سے نمٹنے والے کثیر جہتی عوامل پر منحصر ہوگا یعنی انفرادی یا نفسیاتی طور پر۔

    اگر ہم خوشی کے حصول کے لیے ایک طویل المدتی ہدف کا تعاقب کرتے ہیں، تو ہم روزانہ کی بنیاد پر حاصل کرنے کے لیے وہاں کی خوشی سے محروم رہ جاتے ہیں۔ آپ کے بچے کا پہلا قدم، آپ کے ساتھی یا اکیلے کے ساتھ سکون، کتاب پڑھنا، موسیقی سننا، آپ کے ہاتھ میں کافی کا پیالا؟ پھولوں کی مہک ،خوشی کا حصول کوئی آخری مقصد نہیں ہے۔ یہ ایک عمل ہے۔اگر ہم اپنی روزمرہ کی زندگی کو بغیر کسی پریشانی کے گزارتے ہیں تو خوشی خود بخود پیدا ہو جائے گی جب ہم ذہنی اور جسمانی توازن پیدا کر لیں گے۔’ارسطو کا کہنا ہے کہ اگر خوشی ایک عادت یا سیکھی ہوئی صلاحیت ہوتی تو پھر دنیا کے تمام امیر لوگ خوش ہوتے’

  • عید قربان پر ہماری چھوٹی سی نیکی . تحریر: ماشا نور

    عید قربان پر ہماری چھوٹی سی نیکی . تحریر: ماشا نور

    جہاں سے گاڑی گزرتی لوگوں کا ایک ہی سوال ہوتا ہاں بھائی کتنے کا
    جی ہاں یہاں بات قربانی کے جانور کے ہورہی ہے مسلمانوں کے اہم تہوار کی مالی استطاعت رکھنے والا ہر مسلمان اپنی طرف سے قربانی کرے گا بات کریں کراچی کی تو کہا جاتا ہے جنتا بڑا لاہور سے اس سے بڑی تو کراچی کی مویشی منڈی ہے یہ تو ہوئی مذاق کی بات "لاہور والے دل پرنا لیں ” کراچی کی مویشی منڈی میں خوب رونقین ہوتی لوگ جانور خریدنے پوری پوری فیملیز کے ساتھ جاتے بھرپور انجوائے کرنے کے بعد جانور خریدہ جاتا بچے بڑے خواتین سب ہی قربانی کے جانوروں سے محبت کرتے ہیں یہی وجہ ہے قربانی کے وقت آنکھوں میں آنسو آجاتے
    جہاں کسی جانور کی گاڑی محلے میں داخل ہوئی بچے خوب ہنگامہ ڈالتے گاڑی کے پیچھے پیچھے بھاگتے نوجواں بھی ہاتھوں میں موبائل لیے فورا ویڈیو بنانا شروع کردیتے کے کب جانور بھاگے اکثر نوجوانوں کی کوشش ہوتی جانور بھاگ جاے لڑکے شرارت میں بندھے جانور کی رسی کھول کر بھاگ جاتے آپ کو ہر سال ہی جانوروں کی گاڑی سے اترتے وقت یا قربانی کے وقت بھاگنے کی ویڈیوز نظر آتی ہونگی جن کو دیکھ کر خوب ہنسی آتی

    اس کے ساتھ ہی قصایوں کی تو جیسے چاندی تو چھوڑیں انکے ہاتھ تو جیسے چھڑے نہیں سونا لگ جاتا بڑی بھاری قیمت میں جانور گرائے جاتےجہاں اناڑی قصائی کی جیب بھرتی وہی گرم دماغ کے جانوروں سے خوب لاتیں ٹکریں بھی کھانی پڑتی بہت سے تو ہسپتال پہنچ جاتے ہیں

    ایسے میں کچھ نوجوان دوست ٹولیاں بنا کر موسمی قصائی بنے پھرتے ان کی اچھی کمائی ہوجاتی اناڑی قصائی جانور کو تکلیف تو دیتے ہیں ساتھ وہ گوشت بھی بے تکا بنا جاتے اب مالک کیا کہے کم پیسے دینے کے چکر میں خود یہ کارنامہ سر انجام دیا ورنا جہاں لاکھ کا جانور خرید سکتے وہاں دس ہزار اچھے قصائی کو دے کر جانور زبح کروایا جاسکتا ہے

    چلیں آگے بڑھتے ہیں اب باری آتی ہے خواتین کی تو کیا سنائیں آپکو ہم انکا دکھ سارا دن کچن میں گزرتا پہلے کلیجی بنائیں پھر فرمائشی پروگرام ہوگا شروع کباب ،بریانی ، پسندے، بھنا گوشت، دن میں یہ سب چل جاتا رات میں مرد حضرات چھت پر باربی کیو کا انتظام اپنے ہاتھوں میں لیتے تب کہیں خواتین کی جان آزاد ہوتی بچے تو خوب مزے کرتے گوشت کی چھوٹی چھوٹی تھیلیاں اٹھائیں دوستوں کے گھر جارہے ہوتے "آج ہماری باربی کیو پارٹی ہے” عید کے ایک ہفتے بعد تک دعوتیں چلتی رہتی کبھی میکے والے کبھی سسرال والے تو کبھی دوست یار خوب محفل جمتی ہے اپنی ان خوشیوں میں یاد رکھیں ان لوگوں کو جنکے گھر کوئی ایک گوشت کی بوٹی دینے نہیں جاتا نظروں میں رکھیں ابھی سے ایسے مستحق افراد کو جو مانگتے نہیں ویسے تو سب ہی قربانی کے گوشت کو غریبوں میں تقسیم کرتے ہیں پر اس بار کچھ خاص توجہ دیں ان خاندانوں پر جو بےروزگاری کا شکار ہیں، مہنگائی کے دور میں قربانی نہیں کر سکتے، کرنے کو تو چھوٹی سی نیکی ہے مگر اجر بہت زیادہ ہے ضروری نہیں جن رشتےداروں کے گھر قربانی ہورہی ہو وہاں گوشت دیا جائے انکی بجائے اپنے علاقے آس پڑوس دفتروں میں لوگوں کو نظروں میں رکھیں امید کرتی ہوں یہ تحریر پڑھ کر آپکے دماغ میں کچھ چہرے آئے ہونگے