13نومبر کا دن تھا ، باپ دو دن سے بیٹی کے نمبر پر کال کر رہا تھا جو چار سال پہلے ڈسکہ کے نواحی گاؤں بیاہی گئی تھی ۔ مگر نمبر دو روز سے بند تھا ، وہ گھبرا کر بیٹی کے سسرال چلا آیا اور پوچھا زارا کہاں ہے ؟ فون کیوں بند ہے اس کا ، جبکہ زارا کا دو سال کا بیٹا گھر میں موجود تھا ، ساس اور نندوں نے بتایا دو دن پہلے رات کو کسی آشنا کے ساتھ بھاگ گئی ، موبائل بھی ساتھ لے گئی ۔ ہم تو کسی کو منہ دکھانے کے قابل نہیں رہے ، خاموشی سے تلاش کررہے ہیں ۔۔۔
باپ کو یقین نہ آیا ، چار سال پہلے اس نے بہت چاؤ سے اس کا رشتہ اس کی خالہ صغری کے بیٹے قدیر سے کیا ، اور وہ دونوں بہت خوش تھے ، ہاں سگی خالہ اس سے اکثر نالاں رہتی تھی مگر وہ پھر بھی بیٹی کو نباہ اور صبر کی تلقین کرتا رہا ۔ اس نے تلاش گمشدگی کے لیے پولیس کی مدد لی ، پولیس نے سسرالیوں کے بیان لیے ، زارا کی ساس اور نندوں کو شامل تفتیش کیا گیا ، ہر ایک کے بیان میں تضاد موجود تھا ، جس پر پولیس نے ان کو گرفتار کر لیا۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ زارا بھاگی نہیں بلکہ 11 نومبر کی رات انہوں اس کو مار کر پھینک دیا تھا۔ اور اس کے شوہر کو بھی یہی بتایا کہ وہ کسی سے رابطے میں تھی اور گھر سے نکل گئی ، جبکہ زارا سات ماہ کی حاملہ تھی ، اس کے ساتھ ننھی جان بھی ماری گئی ۔
جھگڑا کیا تھا؟ وہی ساس بہو کی ازلی چپقلش اور نند بھابی کا بیر ۔۔۔ زارا کی پانچ نندیں تھیں اور قدیر ان کا اکلوتا بھائی ۔۔ اور انہوں نے خود زارا کا رشتہ مانگا اور اپنے ہاتھوں سے رخصت کرکے گھر لائیں ۔ جھگڑا پیسے کا اور محبت کی تقسیم کا تھا ، ان کا خیال تھا ان کا بیٹا سارا خرچ بہو کے ہاتھ پر رکھتا ہے جبکہ وہ الگ سے ماں کو پیسے بھیجتا تھا ، مگر ان کی خواہش تھی کہ سب کچھ ماں بہنوں کو دینا چاہیے ،اور وہ خود زارا کو ماہانہ خرچ کے طور پر دیں ، انہی جھگڑوں سے تنگ آ کر قدیر اسے پچھلے سال اٹلی بھی لے گیا اور حالات بہتر ہونے پر خود کچھ ماہ پہلے سسرال چھوڑ گیا ۔ اس بار ساس اور نندوں نے سوچا کہ زارا کو واپس ہی نہ جانے دیا جائے اور قدیر کی ساری کمائی اور توجہ ہمیں ملے ، پلان کے تحت لاہور سے کسی کو بلایا ، فجر سے کچھ دیر پہلے سوئی ہوئی زارا کے منہ پر تکیہ رکھ کر سانس بند کی اور موت کے حوالے کردیا ۔۔۔ اب مسئلہ لاش کا تھا کہ وہ کہاں کریں ۔۔ اور شناخت کیسے چھپائیں تو سر کو دھڑ سے الگ کرکے چولہے پر جلایا گیا تاکہ نین نقش مسخ ہوجائیں ، پھر جسم کاٹ کر دو الگ الگ بوریوں میں ڈالا ، ایک بوری نہر میں اور ایک دور جھاڑیوں میں پھینک دی ۔ پولیس نے ان کی نشان دہی پر مختلف جگہوں سے جسم کی باقیات برآمد کر لیں ۔
لوگ کہتے ہیں رشتہ اپنوں میں کریں ۔۔ اپنا مارے گا بھی تو چھاؤں میں ڈالے گا۔۔ یہاں تو چھاؤں میں بھی نہیں ڈالا گیا ۔۔۔ اور پھر اپنا ہو ۔۔ تو مارے ہی کیوں ؟؟
تیری میری کی ہوندی اے
دھی تے جھلیا دھی ہوندی اے
Category: معاشرہ و ثقافت
-

دھی تے جھلیا دھی ہوندی اے .تحریر:آصفہ عنبرین قاضی
-

خواب جو بکھر گئے ذرا سی لاپرواہی سے.تحریر: فیضان شیخ
زندگی کی دوڑ میں ہم اکثر اپنے خوابوں کی روشنی میں آگے بڑھتے ہیں۔ ہمیں پتہ بھی نہیں چلتا کہ کب وہ خواب ہمارے ہاتھوں سے پھسل جاتے ہیں اور حادثے کا شکار ہو جاتے ہیں۔ آج چکوال میں ہونے والے افسوسناک حادثے نے ہمیں پھر سے جھنجھوڑ دیا۔ ایک باراتیوں کی بس، جو استور سے خوشیوں کے لمحات کو لیے راولپنڈی کی طرف جا رہی تھی، تھلیچی پل کے قریب اپنے سفر کی آخری منزل پر پہنچ گئی۔ تیز موڑ کاٹتے ہوئے بس گہری کھائی میں جاگری اور دریا کے بہاؤ میں گم ہوگئی۔ اس حادثے میں ایک ہی خاندان کے کئی افراد زندگی سے محروم ہوگئے، اور کچھ لاپتہ ہیں جن کی تلاش اب بھی جاری ہے۔
ریسکیو ٹیمیں پوری کوششوں سے جائے حادثہ پر کام کر رہی ہیں۔ اب تک کچھ نعشیں برآمد ہو چکی ہیں، مگر کئی لوگ ابھی تک لاپتہ ہیں، اور ان کے خاندان ان کی واپسی کی امید لیے بیٹھے ہیں۔ یہ حادثہ ہمارے دلوں میں سوالات پیدا کرتا ہے کہ آیا یہ سانحے ہم روک سکتے ہیں؟ کیا ہم اپنے پیاروں کی زندگیوں کی حفاظت کر سکتے ہیں؟ اور اس کا جواب ہمیں "ہاں” کی صورت میں ملتا ہے، اگر ہم سب سڑکوں پر احتیاط کے اصول اپنانے کا عہد کریں۔
یہی اصول ہمیں بار بار روڈ سیفٹی کی اہمیت اور اس کے اصولوں کی پابندی کی ضرورت کا احساس دلاتے ہیں۔ جب ہم سڑکوں پر نکلتے ہیں، تو ہم صرف اپنی زندگی نہیں بلکہ اپنے اردگرد کے لوگوں کی زندگیاں بھی اپنے ہاتھوں میں لے کر چلتے ہیں۔ روڈ سیفٹی کے اصول، جیسے کہ رفتار کی پابندی، ڈرائیونگ کے دوران مکمل توجہ اور طویل سفر میں وقتاً فوقتاً آرام کرنا، ہمارے اور دوسروں کے تحفظ کے لیے انتہائی ضروری ہیں۔
اس شعور کو پھیلانے اور معاشرے میں روڈ سیفٹی کی اہمیت کو اجاگر کرنے کے لیے ٹی این این ڈیجیٹل کے سرپرست اعلیٰ، شیخ ناصر محمود، کی خدمات ناقابل فراموش ہیں۔ انہوں نے اپنی زندگی کو روڈ سیفٹی کے پیغام کو عام کرنے کے لیے وقف کیا ہے۔ انہوں نے عوام میں یہ شعور پیدا کیا کہ گاڑی چلانا محض رفتار کا کھیل نہیں بلکہ ذمہ داری کا تقاضا ہے۔ انہوں نے نہ صرف تربیتی پروگرامز کا انعقاد کیا بلکہ لوگوں کو یہ سکھایا کہ احتیاط سے کی گئی ڈرائیونگ حادثات کو روکنے کا مؤثر ذریعہ ہے۔
شیخ ناصر محمود کی خدمات اس بات کا عملی ثبوت ہیں کہ کس طرح ایک فرد کی کوششیں معاشرے میں بڑی تبدیلی لا سکتی ہیں۔ ان کی کاوشوں کی بدولت بے شمار لوگوں نے روڈ سیفٹی کے اصول اپنائے، اور ان کی تربیت سے کئی حادثات کو روکا جا چکا ہے۔ ان کی کوششیں ہمیں یہ یقین دلاتی ہیں کہ اگر ہم سب روڈ سیفٹی کے اصولوں کو اپنی زندگیوں کا حصہ بنائیں تو ہم اپنے پیاروں کو حادثات سے بچا سکتے ہیں اور خوشیوں کے خواب بکھرنے سے روک سکتے ہیں۔
آج کے حادثے کو ہمیں ایک یاد دہانی کے طور پر لینا چاہیے کہ زندگی کا ہر لمحہ نازک ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنی ذمہ داری کا احساس کریں اور روڈ سیفٹی کے اصولوں کو معمولی نہ سمجھیں۔ شیخ ناصر محمود جیسے لوگوں کی کاوشوں کو سراہنا اور ان کے پیغام کو عام کرنا ہمارا فرض ہے۔ اگر ہم نے آج یہ عہد کر لیا کہ ہم سڑکوں پر احتیاط اور ذمہ داری سے سفر کریں گے، تو شاید ہم کل کئی زندگیاں محفوظ کر سکیں اور کئی خاندانوں کے خواب بکھرنے سے بچا سکیں۔
-

نتاشہ کا کیا ہوگا …… تحریر:محمد نورالہدیٰ
کراچی میں کارساز کے مقام پر امیرزادی نتاشہ کی طوفانی رفتار لینڈ کروزر سے ہلاک ہونے والے افراد کے بعد اگرچہ ملزمہ پولیس کسٹڈی میں ہے۔ لیکن بااثر طبقات کی جانب سے وقوع پذیر ہونے والے ایسے کیسز اور واقعات کی شہرت کو مدنظر رکھتے ہوئے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ ملزمہ نتاشہ وہاں کتنے سکون میں ہوگی۔ گو کہ اس کیس میں کراچی پولیس کا متاثرین کے ساتھ رویہ اور برتاؤ حیرت انگیز طور پر قابل تحسین ہے، پولیس حکام کے ساتھ ساتھ صوبے کے اہم حکومتی عہدیداروں نے بھی لواحقین کو انصاف کی یقین دہانی کروائی ہے …… لیکن ہائی پروفائل کیسز میں پولیس، قانون یا مجموعی طور پر جوڈیشل سسٹم کو بھلا کون خاطر میں لاتا ہے؟۔ ہمارے قانون کے اندر بھی ایک قانون موجود ہے جو ایسے اثر رسوخ رکھنے والوں کے تحفظ کی راہ نکالتا ہے۔ ریمنڈ ڈیوس، شاہ رخ جتوئی، مجید اچکزئی اور نجانے ایسے کتنے ہی نام ہیں جنہوں نے اپنی معاشرتی پوزیشن کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ہمارے قانون اور نظامِ انصاف کی آزادی اور شفافیت کو عیاں کیا۔
کارساز میں باپ بیٹی کو کچلنے والی نتاشہ کی مالی حیثیت بھی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں رہی۔ بڑی بڑی کمپنیوں کے اہم عہدوں پر فائز اس خاتون سے جب واقعہ سرزد ہوا تو اس کے وکلاء اور ڈاکٹرز کی جانب سے کبھی نفسیاتی، کبھی ذہنی دباؤ کا شکار، کبھی انٹرنیشنل ڈرائیونگ لائسنس ہولڈر اور کبھی کچھ اور تاویلیں گھڑ کے معاملے کی سنگینی کو کم کرنے کی کوشش کی گئی۔ بات بنتی دکھائی نہ دی تو موصوفہ کو درمیانی راستہ دینے کیلئے ایسے مزید حربے بھی استعمال کئے گئے۔ دوسری جانب نتاشہ کی سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیوز میں بھی واضح ہے کہ ملزمہ کو اپنے کئے پر کوئی شرمندگی نہیں ہے اور وہ قانون کو انگلیوں پر نچانے کا یقین رکھے ہوئے ہے۔ ملزمہ کا اطمینان بھی بتا رہا ہے کہ وہ ایسا کرنے میں کامیاب رہے گی اور جلد وکٹری کا نشان بنا کر نظامِ انصاف کا منہ چڑا رہی ہوگی۔
وکیل کا کہنا ہے کہ نتاشہ فیملی، متاثرہ فیملی کو قانونی طور پر متعین کردہ 68 لاکھ روپے دیت فی فرد کے حساب سے ادا کرنے کو تیار ہے۔ یہ بگڑے ہوئے رئیس دیت کے اسلامی قانون کا فائدہ اپنے مقاصد کیلئے کتنی آسانی سے اٹھا لیتے ہیں، اس کا اندازہ ہمیں اس طرز کے سابقہ کیسز سے بخوبی ہوجاتا ہے۔ المیہ تو یہ بھی ہے کہ ہمارے نظام عدل کے رکھوالے بھی اس طرح کے ”چھوٹے موٹے“ کیسز پر اپنا حق ادا نہیں کرتے، بلکہ عوامی مسائل کی بجائے غیر ضروری مسائل پر زیادہ توجہ دیتے ہیں۔ ہمارے صحافی دوست نوید چوہدری نے ایسے طرزِ عمل پر کیا خوب تبصرہ کیا ہے کہ ”جس معاشرے میں زندگی لڈو کا کھیل بن جائے اور ریاست کا تمام نظام سانپ کو بچانے نکل پڑے، وہاں صرف سانپوں کا راج ہو سکتاہے“۔ ایسے واقعات میں عام تاثر یہی دیا جاتا ہے کہ لواحقین جھک گئے اورانہوں نے ملزم کو معاف کر دیا۔ لیکن حقیقت اس کے برعکس ہوتی ہے۔ متاثرین کو سرنڈر ہونے پر مجبور کیا جاتا ہے اور نظام عدل انہیں تحفظ فراہم کرنے میں ناکام رہتا ہے۔ قانون بھی اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے سے ہچکچاتا ہے۔ ایسے میں غریب کے پاس طاقتور کی بات ماننے کے علاوہ کوئی آپشن بھی نہیں بچتی۔
نتاشہ جیسی حیثیت کے افراد کے کیسز میں بالخصوص جوڈیشل سسٹم کا کردار ہمیشہ ہی سوالیہ نشان رہا ہے۔ متاثرین کے خون کی قیمت لگانا ”بڑے لوگوں“ کا بائیں ہاتھ کا کام ہے۔ انصاف کو یہ اپنے گھر کے دربان سے زیادہ کی حیثیت نہیں دیتے۔ ایسے میں ”نتاشہ کا کیا ہوگا“، اس سوال کا جواب تلاش کرنے کی ضرورت نہیں۔ البتہ اس رویے میں تبدیلی لانے کی ضرورت ہے کہ جب قانون کا واسطہ کسی اثر و رسوخ رکھنے والے سے پڑ جائے تو قانون معمول کے تقاضے پورے کرنے سے نجانے کیوں خوفزدہ ہو جاتا ہے۔ ہمارا نظام عدل خودمختار اور بااختیار ہو تو ہمیں یہ دن نہ دیکھنے پڑیں۔
یہ امر بھی حقیقت پر مبنی ہے کہ ہمای بھولی بھالی قوم ہر کیس میں انصاف کی امید لگا لیتی ہے۔ موجودہ کیس پر بھی پورے پاکستان کی نظریں ہیں۔ حالانکہ ماضی کے تجربات کو مدنظر رکھیں تو یہ کیس آغاز سے ہی اختتام پذیر ہو چکا ہے۔ دنیا کو دکھانے کیلئے صرف فارمیلیٹی پوری کی جا رہی ہے۔ جب نتاشہ کا میڈیا ٹرائل کچھ تھمے گا اور ہمیں دیگر عنوانات میں الجھا دیا جائے گا تو ہم بھی یہ موضوع بھول کر حالات کی رو میں بہنا شروع ہو جائیں گے اور متاثرین دل پر جبر کر کے خاموش رہنے پر مجبور ہو جائیں گے، کیونکہ ہمارے نظام میں مظلوم کی داد رسی کی کوئی شق شامل نہیں ہے۔ طاقتور اور کمزور کے درمیان تفریق کرنے والا نظام نجانے کب تبدیل ہوگا اور ہمارا نظام عدل کب درست طریقے سے اپنا کردار ادا کر پائے گا، اس سوال کا جواب تلاش کرتے کتنی نسلیں گزر گئیں اور مزید نجانے کتنی گزر جائیں گی۔
منفی افعال ملک کی جڑیں کھوکھلی کررہے ہیں اور ہم گذشتہ 77 سال سے یہ سب برداشت کررہے ہیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ہم لوگ ایک قوم ہیں یا ایک ہجوم …… کیا ہماری وقعت -

کارساز حادثہ،تلخ حقائق ،مبشر لقمان نے کیا حق ادا، تجزیہ: شہزاد قریشی
گزشتہ روز ایک اور سانحہ کارساز رونما ہو گیا اور کراچی کی ایک سڑک پر ایک غریب محنت کش اور اس کی تعلیم یافتہ بیٹی کو ایک سرمایہ دار گروپ کی خاتون نے ٹکر مار کر نہ صرف لقمہ اجل بنا ڈالا بلکہ دیگر افراد کو بھی اپنی گاڑی تلے کچل کر زخمی کر دیا اور پھر قانون نے اسے تھانے پہنچا کر ایئرکنڈیشن کمرے کی زینت بنایا ،پھر اگلے روز جیسا کہ توقع تھی عدالت میں بھی پیش نہ کی جا سکی اور دولت کی کارسازیاں منظر عام پر آتی گئیں وطن عزیز میں قانون کی بالادستی، حقوق کی برابری اور انصاف کی اعلیٰ پیمانوں کی دھجیاں توکارساز کے سانحات میں قوم سے پوشیدہ نہیں مگر اس سانحہ کارساز نے صحافت کے نام نہاد ستونوں کی کارسازی بھی آشکار کر دی اور قوم کو دکھا دیا کہ سرمایہ دار نے صحافت کی آزادی، صحافت کی اخلاقیات، صحافت کے اصولوں، صحافت کے اسباق کو بھی سانحہ کارساز سے اٹھا کر بحیرہ ہند میں غرق کر دیا ہے۔
پاکستان کی صحافت کے نام نہاد علمبردار انگریزی میں شائع ہونے والے کراچی کے بعض اخبارات نے اپنی ناک تلے ہونے والے حادثے کی خبر کو مختصر رکھا۔ جبکہ الیکٹرانک میڈیا کابھی کچھ یہی حال رہا۔ صحافت میں یہی سکھایا اور پڑھایا جاتا ہے کہ جتنا بڑا واقعہ ہوتا ہے اتنا ہی نمایاں ہوتا ہے کچھ کراچی کے انگریزی اخبارات نے اپنی صحافت کو زندہ بھیمرکھا جبکہ معروف اینکر مبشر لقمان نے اپنے پروگرام میں اس دلخراش واقعہ کے اصل حقائق قوم کے سامنے رکھ دیئے ڈرائیونگ لائسنس کے بارے کہا گیا کہ وہ غیر ملکی لائسنس ہے امریکہ سے لے کر برطانیہ تک کسی ذہنی مریض کو لائسنس نہیں دیا جاتا ،مبینہ طور پر کراچی کے ڈاکٹروں نے اس خاتون کو ذہنی مریضہ قرار دیا ہے جو بارہ کروڑ کی گاڑی چلا رہی تھی اسے صحافیان پاکستان بلاشبہ الیکٹرانک میڈیا کے مالکان اور پرنٹ میڈیا کے مالکان کی اکثریت سرمایہ داروں کی ہو چکی ہے جن کا صحافت سے دور کا بھی واسطہ نہیں تاہم اپنی صحافت کو برقرار رکھو قصیدے بولنے اور لکھنے والے یاد رکھیں کہیں ایسا نہ ہو کہ کوئی بہت بڑا واقعہ کسی دن آپ کو اخبار شائع کرنے سے روک دے۔
امیر اور غریب کا فرق نہ آئین پاکستان میں ہے اور نہ آئین جہان میں اشتہاری پارٹیوں اور سرمایہ دار رشتہ داریوں کی خبریں دبانے سے آ پکی آواز بھی دب جائے گی یاد رکھیئے ! قوم عاد جیسی طاقتور قوموں اور فرعون جیسے طاقتور بادشاہوں نے بھی جب ظلم اور زیادتی کا بازار گرم کیا تو رب ذوالجلال کا فرمان ہے کہ ’’آخر تیرے رب نے ان سب پر عذاب کا کوڑا برسایا‘‘ (سورہ الفجر)
-

کیا چیز آپ کو خوش کر سکتی ہے؟
یہ ایک ایسا سوال ہے جو ہر کسی کے ذہن میں گردش کرتا ہے – خوشی کیا ہے اور ہم اسے کیسے حاصل کر سکتے ہیں؟ ارسطو اس خیال کا حامل ہے کہ "خوشیاں ہم پر منحصر ہوتی ہیں۔ وہ خوشی کو انسانی زندگی کا مرکزی مقصد اور ایک الگ مقصد کے طور پر دیکھتا ہے، جس کے لیے مختلف حالات کی تکمیل ضروری ہے، جس میں جسمانی اور ذہنی دونوں قسم کی تندرستی شامل ہے۔ تاہم، کیا خوشی کے لیے ضروری تمام حالات کی مقدار ہر فرد کے لیے ایک سی ہوتی ہے، چاہے وہ کسی بھی سماجی،معاشی پس منظر یا ثقافت سے تعلق رکھتا ہو؟… شاید نہیں۔
بعض اوقات خوش رہنے کے لیے کوشش کرنا کب زیادہ چاہ کی وجہ سے لالچ میں تبدیل ہو جاتا ہے، اور اکثر یہ دوسروں کے حقوق پامال کرنے کے نتیجے میں، جیسے اس جدید دور میں، ہم بہت سی پریشانیوں کا شکار ہیں، جن میں نفسیاتی تکلیف یا صدمہ، ٹیکنالوجی کا بے جا استعمال، کام اور تعلیم کے معاشی معیارات کا دباؤ، اور ہم عمروں کے ساتھ مقابلہ بازی شامل ہیں۔ یہ سب عوامل ہماری توانائی کو کم کرتے ہیں اور خوشی کے توازن کو بگاڑ دیتے ہیں۔
میری ذاتی رائے میں، میں البرٹ کیموس سے زیادہ متفق ہوں۔ انہوں نے ایک بار کہا تھا، "اگر آپ یہ تلاش جاری رکھتے ہیں کہ خوشی کس چیز پر مشتمل ہے تو آپ کبھی خوش نہیں ہوں گے۔ اگر آپ زندگی کے معنی تلاش کر رہے ہیں تو آپ کبھی زندہ نہیں رہیں گے۔” اگر ہم صرف اپنی روزمرہ کی زندگی کو جاری رکھتے ہیں تو توازن تلاش کرنے کے بعد خوشی خود بخود مل جائے گی۔
ارسطو کہتا ہے کہ اگر خوشی ایک عادت یا تربیت یافتہ فیکلٹی ہوتی۔ اگر یہ سچ ہے تو دنیا کی دولت سے مالا مال تمام لوگوں کو خوش ہونا چاہیے اور جو نہیں ہیں ان کو ناخوش ہونا چاہیے۔سوال یہ ہے کہ آپ کو کس چیز سے خوشی ملتی ہے؟ یہ انفرادی سماجی و اقتصادی پس منظر سے نمٹنے والے کثیر جہتی عوامل پر منحصر ہوگا یعنی انفرادی یا نفسیاتی طور پر۔
اگر ہم خوشی کے حصول کے لیے ایک طویل المدتی ہدف کا تعاقب کرتے ہیں، تو ہم روزانہ کی بنیاد پر حاصل کرنے کے لیے وہاں کی خوشی سے محروم رہ جاتے ہیں۔ آپ کے بچے کا پہلا قدم، آپ کے ساتھی یا اکیلے کے ساتھ سکون، کتاب پڑھنا، موسیقی سننا، آپ کے ہاتھ میں کافی کا پیالا؟ پھولوں کی مہک ،خوشی کا حصول کوئی آخری مقصد نہیں ہے۔ یہ ایک عمل ہے۔اگر ہم اپنی روزمرہ کی زندگی کو بغیر کسی پریشانی کے گزارتے ہیں تو خوشی خود بخود پیدا ہو جائے گی جب ہم ذہنی اور جسمانی توازن پیدا کر لیں گے۔’ارسطو کا کہنا ہے کہ اگر خوشی ایک عادت یا سیکھی ہوئی صلاحیت ہوتی تو پھر دنیا کے تمام امیر لوگ خوش ہوتے’
-

عید قربان پر ہماری چھوٹی سی نیکی . تحریر: ماشا نور
جہاں سے گاڑی گزرتی لوگوں کا ایک ہی سوال ہوتا ہاں بھائی کتنے کا
جی ہاں یہاں بات قربانی کے جانور کے ہورہی ہے مسلمانوں کے اہم تہوار کی مالی استطاعت رکھنے والا ہر مسلمان اپنی طرف سے قربانی کرے گا بات کریں کراچی کی تو کہا جاتا ہے جنتا بڑا لاہور سے اس سے بڑی تو کراچی کی مویشی منڈی ہے یہ تو ہوئی مذاق کی بات "لاہور والے دل پرنا لیں ” کراچی کی مویشی منڈی میں خوب رونقین ہوتی لوگ جانور خریدنے پوری پوری فیملیز کے ساتھ جاتے بھرپور انجوائے کرنے کے بعد جانور خریدہ جاتا بچے بڑے خواتین سب ہی قربانی کے جانوروں سے محبت کرتے ہیں یہی وجہ ہے قربانی کے وقت آنکھوں میں آنسو آجاتے
جہاں کسی جانور کی گاڑی محلے میں داخل ہوئی بچے خوب ہنگامہ ڈالتے گاڑی کے پیچھے پیچھے بھاگتے نوجواں بھی ہاتھوں میں موبائل لیے فورا ویڈیو بنانا شروع کردیتے کے کب جانور بھاگے اکثر نوجوانوں کی کوشش ہوتی جانور بھاگ جاے لڑکے شرارت میں بندھے جانور کی رسی کھول کر بھاگ جاتے آپ کو ہر سال ہی جانوروں کی گاڑی سے اترتے وقت یا قربانی کے وقت بھاگنے کی ویڈیوز نظر آتی ہونگی جن کو دیکھ کر خوب ہنسی آتیاس کے ساتھ ہی قصایوں کی تو جیسے چاندی تو چھوڑیں انکے ہاتھ تو جیسے چھڑے نہیں سونا لگ جاتا بڑی بھاری قیمت میں جانور گرائے جاتےجہاں اناڑی قصائی کی جیب بھرتی وہی گرم دماغ کے جانوروں سے خوب لاتیں ٹکریں بھی کھانی پڑتی بہت سے تو ہسپتال پہنچ جاتے ہیں
ایسے میں کچھ نوجوان دوست ٹولیاں بنا کر موسمی قصائی بنے پھرتے ان کی اچھی کمائی ہوجاتی اناڑی قصائی جانور کو تکلیف تو دیتے ہیں ساتھ وہ گوشت بھی بے تکا بنا جاتے اب مالک کیا کہے کم پیسے دینے کے چکر میں خود یہ کارنامہ سر انجام دیا ورنا جہاں لاکھ کا جانور خرید سکتے وہاں دس ہزار اچھے قصائی کو دے کر جانور زبح کروایا جاسکتا ہے
چلیں آگے بڑھتے ہیں اب باری آتی ہے خواتین کی تو کیا سنائیں آپکو ہم انکا دکھ سارا دن کچن میں گزرتا پہلے کلیجی بنائیں پھر فرمائشی پروگرام ہوگا شروع کباب ،بریانی ، پسندے، بھنا گوشت، دن میں یہ سب چل جاتا رات میں مرد حضرات چھت پر باربی کیو کا انتظام اپنے ہاتھوں میں لیتے تب کہیں خواتین کی جان آزاد ہوتی بچے تو خوب مزے کرتے گوشت کی چھوٹی چھوٹی تھیلیاں اٹھائیں دوستوں کے گھر جارہے ہوتے "آج ہماری باربی کیو پارٹی ہے” عید کے ایک ہفتے بعد تک دعوتیں چلتی رہتی کبھی میکے والے کبھی سسرال والے تو کبھی دوست یار خوب محفل جمتی ہے اپنی ان خوشیوں میں یاد رکھیں ان لوگوں کو جنکے گھر کوئی ایک گوشت کی بوٹی دینے نہیں جاتا نظروں میں رکھیں ابھی سے ایسے مستحق افراد کو جو مانگتے نہیں ویسے تو سب ہی قربانی کے گوشت کو غریبوں میں تقسیم کرتے ہیں پر اس بار کچھ خاص توجہ دیں ان خاندانوں پر جو بےروزگاری کا شکار ہیں، مہنگائی کے دور میں قربانی نہیں کر سکتے، کرنے کو تو چھوٹی سی نیکی ہے مگر اجر بہت زیادہ ہے ضروری نہیں جن رشتےداروں کے گھر قربانی ہورہی ہو وہاں گوشت دیا جائے انکی بجائے اپنے علاقے آس پڑوس دفتروں میں لوگوں کو نظروں میں رکھیں امید کرتی ہوں یہ تحریر پڑھ کر آپکے دماغ میں کچھ چہرے آئے ہونگے
-

عورتِیں مردوں سے کیا چاہتی ہیں؟
تحریر یاسمین آفتاب
یہ سوال صدیوں سے زیرِ بحث رہا ہے، اور اس کا جواب پیچیدہ اور کئی عوامل پر منحصر ہے۔ تاہم، ایک بنیادی عنصر جو اکثر روابط کی کامیابی کا سبب بنتا ہے، وہ ہے باہمی احترام۔ ایک رشتے میں جہاں عزت و احترام موجود نہ ہو، اسے دوبارہ قائم کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ خواتین اس احترام کی مستحق ہیں جو مرد ایک دوسرے کو دیتے ہیں۔ بے ادبی یا فوقیت جتانے کا رویہ نہ صرف رشتے میں تلخی پیدا کرتا ہے بلکہ اسے ٹوٹنے کی راہ پر بھی لے جاتا ہے۔ ہمارے اور دنیا کے بہت سے معاشروں میں، پیشہ ور ماہر خواتین کو اکثر ان کے مرد ہم منصب کے مقابلے میں کم تر سمجھا جاتا ہے۔ دفتر کے اوقات کے بعد بھی گھر کی ذمہ داریوں کا بوجھ اکثر خواتین ہی پر ڈال دیا جاتا ہے، جبکہ مرد ساتھی یا ان کے خاندان سے مناسب مدد نہ ملنے سے خواتین کا کیریئر متاثر ہوتا ہے۔ یہ چیلنج خاص طور پر اس وقت بڑھ جاتا ہے جب خواتین خاندان بنانے کا فیصلہ کرتی ہیں۔ تاہم، خاندان اور مرد ساتھی کی طرف سے مناسب تعاون اور سمجھ سے ان مشکلات کو کم کیا جا سکتا ہے۔
کسی بھی مضبوط رشتے کی بنیاد ایک دوسرے کے جذبات کا خیال رکھنا ہے۔ جوڑے کو نہ صرف ایک دوسرے کی جدوجہدوں کو تسلیم کرنا چاہیے بلکہ ان کی حمایت اور حوصلہ افزائی بھی کرنی چاہیے۔ ایک دوسرے کا خیال رکھنا اور پیار کرنا ایک کامیاب رشتے کی روح ہے۔ یہ بات سمجھنا ضروری ہے کہ جسمانی طاقت ذہانت کی علامت نہیں ہے۔ ایک صحت مند رشتے کے لیے ضروری ہے کہ دونوں فریق مل کر مسائل کا حل نکالیں اور سوچ سمجھ کر فیصلے کریں۔ کسی پر بھی اپنی مرضی مسلط کرنے کی کوشش نہ صرف رشتے کو کمزور کرتی ہے بلکہ اس میں تلخیا بھی پیدا کرتی ہے۔ سماجی کرداروں کی بنیاد پر کسی کا استحصال رشتے کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتا ہے۔ثقافتی پس منظر اور تعصبات اس بات کو متاثر کرتے ہیں کہ ہم صنفی کرداروں کو کیسے دیکھتے ہیں۔ مردوں کو اپنے تعصبات سے آگاہ ہونا چاہیے اور اس بات پر غور کرنا چاہیے کہ سماجی رویے خواتین کو کس طرح منفی طور پر متاثر کرتے ہیں۔ باپ، بھائی یا شوہر جیسے کرداروں میں مرد کی حمایت خواتین کے لیے اپنے مقاصد حاصل کرنے میں کلیدی حیثیت رکھتی ہے۔جب بات قربت کی آتی ہے تو، خواتین اس بات کی تعریف کرتی ہیں جب مرد ہر چیز کو جنسی تعلقات سے جوڑ کر نہ دیکھیں۔ اچھے سلوک کو کسی غرض سے کیا گیا رویہ نہ سمجھا جائے۔ خواتین کو حقیقی تعاون اور مہربانی کی اہمیت ہوتی ہے جو جنسی توقعات سے وابستہ نہ ہو۔ احترام، سمجھ اور تعاون وہ بنیادی ستون ہیں جن کی بنیاد پر عورت ایک مرد میں تلاش کرتی ہے۔ -

سرگودھا میں مسیحیوں پر حملہ: ہم یہاں کیسے پہنچے؟
پنجاب کے شہر سرگودھا میں افسوسناک واقعہ پیش آیا، سرگودھامیں پیش آنے والا سانحہ ہجوم کے بے قابو تشدد کی ایک سنگین یاد دہانی ہے جس سے ہماری قوم کو دوچار کر رہا ہے۔ ایک مشتعل ہجوم نے ایک شخص پر توہین مذہب کا الزام لگاتے ہوئے املاک کی توڑ پھوڑ کی اور اسے قتل کرنے کی کوشش کی۔ ویڈیو ز سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی ہیں،سوشل میڈیا فوٹیج میں دکھایا گیا ہے کہ ایک ہجوم نے ایک شخص کو گھیرے میں لیا ہوا ہے، اس ہجوم میں نوجوان بھی شامل ہیں، وہ فرنیچر کی توڑ پھوڑ کر رہے ہیں۔ ایک اور ویڈیو میں ایک گھر کے باہر ایک بڑی آگ کو دکھایا گیا ہے۔
اقلیتی حقوق مارچ کے ایک بیان میں اشارہ کیا گیا ہے کہ مبینہ طور پر ایک مقامی مولوی کی طرف سے بیان کے بعد مشتعل ہجوم نے ایک 70 سالہ شخص کو مار دیا ، اس کے گھر اور فیکٹری کو نذر آتش کر دیا۔ پریشان کن طور پر، ہجوم کی جانب سے حملے کی ویڈیوز میں پنجاب پولیس کے افسران کو خاموش تماشائی کے طور پر کھڑے دکھایا گیا ہے، جو حملہ آوروں کو ان کی خاموشی سے منظوری اور سہولت کاری کا مشورہ دیتے ہیں۔ سرگودھا پولیس نے واقعے میں ملوث 15 افراد کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ تاہم، یہ جڑانوالہ کیس میں اسی طرح کی گرفتاریوں اور گرجا گھروں، عیسائیوں کے گھروں اور کمیونٹیز پر متعدد دوسرے ہجوم کے حملوں کو ذہن میں لاتا ہے۔ اہم سوال یہ ہے کہ کیا ان حملہ آوروں میں سے کسی کو سزا کا سامنا کرنا پڑا ہے؟
بہت طویل عرصے سے، پاکستان کے توہین رسالت کے قوانین کو ذاتی انتقام اور مذہبی ایذا رسانی کے ہتھیار کے طور پر غلط استعمال کیا جا رہا ہے۔ اس حوصلہ افزائی نے ایک ایسا ماحول پیدا کیا ہے جہاں مختلف انتہا پسند دھڑے ہجومی تشدد کو بھڑکانے کے لیے مذہبی جذبات کا استحصال کرتے ہیں۔اس طرح کے تشدد کو بھڑکانے اور اس میں ملوث ہونے والوں کا احتساب ہونا چاہیے۔ پولیس اور دیگر حکام کی غیر فعال مداخلت جاری نہیں رہ سکتی۔ معصوم جانوں کے تحفظ اور قانون کی حکمرانی کو برقرار رکھنے میں ناکام رہنے والوں کو ذمہ دار ٹھہرایا جانا چاہیے۔
واقعات و سانحات کے بعد ،حکومت اور پولیس کی خاموشی، اس کے بعد خالی بیان بازی، اہم سوالات کو جنم دیتی ہے،وہ کس کو مطمئن کرنے کی کوشش کر رہے ہیں؟ عدم برداشت کو اتنی چھوٹ کیوں دی جاتی ہے؟ مذہبی اختلافات پر عدم برداشت کا غلبہ کیوں ہے؟ اس مسئلے کی جڑ 7 ستمبر 1974 تک جا سکتی ہے جب وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت نے مذہبی علماء کی خوشنودی کے لیے احمدیوں کو غیر مسلم قرار دیا تھا۔ فرح ناز اصفہانی نے 2017 میں نوٹ کیا کہ مذہبی جماعتوں نے ایک متفقہ قرارداد منظور کرنے کے لیے سیکولر اپوزیشن اراکین کی حمایت حاصل کی جس میں وفاقی حکومت پر زور دیا گیا کہ وہ احمدیوں کو ان کے ختم نبوت میں کفر کی وجہ سے اقلیت قرار دے۔
نئی قانون سازی اور فوجی کارروائیوں کے ذریعے دہشت گردی اور پرتشدد انتہا پسندی کے خلاف زیرو ٹالرنس کا حکومتی نقطہ نظر درست سمت میں ایک قدم ہے۔ تاہم، مستقبل کے خطرات کو روکنے اور زیادہ جامع معاشرے کو فروغ دینے کے لیے اختراعی سیاسی، اقتصادی اور تعلیمی حکمت عملی ضروری ہے۔ انتہا پسندی کے خلاف جنگ کے لیے نہ صرف سخت قوانین اور نفاذ کی ضرورت ہوتی ہے بلکہ اس طرح کے تشدد کو ہوا دینے والے بنیادی سماجی، اقتصادی اور تعلیمی مسائل کو حل کرنے کی بھی کوشش کی جاتی ہے۔ ریاست کو اس بات کو یقینی بنانے کے لیے جامع اقدامات کرنا ہوں گے کہ تمام شہریوں بالخصوص اقلیتوں کے حقوق کا تحفظ کیا جائے اور ایسے گھناؤنے فعل کا شکار ہونے والوں کو انصاف فراہم کیا جائے۔
-

دوپٹہ، وزیراعلیٰ پنجاب اور لیڈی پولیس آفیسر
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے خاتون پولیس افسر کا دوپٹہ سر سے اترنے کے بعد اسے پہنا دیا،واقعہ کی ویڈیو جو وزیراعلیٰ کی میڈیا ٹیم نے بنائی وہ وائرل ہو گئی اور اس پر تبصروں کا سلسلہ شروع ہو گیا،جو معاشرے میں تیزی سے پولرائزیشن کا اشارہ ہے۔
ویڈیو کلپ کا کیپشن اسے "ہمدردی اور سمجھ ” کا لمحہ قرار دیتا ہے۔ بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ یہ مریم نواز کی ’اخلاقی پولیسنگ‘ تھی، جس میں یہ بتایا گیا کہ خواتین کو کس طرح کا لباس پہننا چاہیے۔ ان کا خیال ہے کہ لباس پہننا ذاتی معاملہ ہے اور وزیر اعلیٰ مریم نواز نے پولیس افسر کی ذاتی جگہ پر حملہ کیا۔ اس بات کی نشاندہی بھی کی گئی کہ لیڈی پولیس آفیسر نے پہلے ہی سر پر دوپٹہ پہن رکھا تھا، اور جیسا کہ یہ پھسل گیا تھا، وزیر اعلیٰ مریم نواز نے اسے محض ’’ٹھیک‘‘ کیا۔
یہاں اہم بات یہ سمجھنے کی ہے کہ مریم نواز اب صرف مریم نواز نہیں رہیں۔ وہ پنجاب کی پہلی خاتون وزیراعلیٰ ہیں۔ انکے ہر عمل کو قریب سے دیکھا جائے گا، اورحامی و مخالف دونوں طرح کے تجزیہ کار اس کے کاموں پر اپنی رائے دیں گے،

مریم نواز کی میڈیا ٹیم نے جوش میں آ کر مریم نواز کی جانب سے خاتون پولیس افسر کے دوپٹہ درست کرنے کے لمحے کو پی آر سٹنٹ شو میں بدل دیا۔ دوسری غلطی، عنوان میں الفاظ کا چناؤ نامناسب تھا۔ اصطلاح ‘ہمدرد’ کا مطلب احساس یا ہمدردی ظاہر کرنا اور دوسروں کی مدد کرنے کی خواہش ہے، جبکہ ‘سمجھنا’ کسی موضوع یا صورتحال کے بارے میں علم ہے،ویڈیو کے تناظر میں ان اصطلاحات کا استعمال گمراہ کن تھا۔ذاتی طور پر،سرکاری حیثیت میں کوئی بھی جسمانی قربت انتہائی نامناسب ہے۔ جونیئر کے لباس کو درست کرنے والا سینئر، چاہے اسکی نیت کتنی ہی مثبت کیوں نہ ہو، سرکاری ماحول میں ناقابل قبول ہے۔
اگر یہ عمل واقعی ‘ہمدردی’ تھا، تو سب سے زیادہ ہمدردانہ عمل یہ ہوتا کہ اسے سوشل میڈیا پر مکمل طور پر شیئر نہ کیا جاتا۔ حجاب کی حرمت کا احترام کیا جاتا اور پولیس افسر کے وقار کو برقرار رکھا جاتا -

اوچ شریف:اپنی ثقافت یاد رکھنے والی قومیں تاریخ میں زندہ رہتی ہیں۔ڈاکٹر ضیاء الحق بڈانی
اوچ شریف،باغی ٹی وی (نامہ نگارحبیب خان )اپنی ثقافت یاد رکھنے والی قومیں تاریخ میں زندہ رہتی ہیں،جو قومیں اپنی ثقافت، تہذیب کو بھلا دیتی ہیں وہ تاریخ سے ہی مٹ جاتی ہیں
ان خیالات کا اظہار کرتے ہوئے بلوچ قبیلہ کے عامل صحافی ڈاکٹر ضیاء الحق بڈانی بلوچ ،شمس خان رند بلوچ ،اجمل خان بلوچ، ساجد خان بلوچ ،مجتہد رضوی ۔حفیظ خان بلوچ، آمنہ نذر بلوچ کا بلوچ کلچر ڈے کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا کہ معاشرتی نا ہمواریوں کے خاتمے کے لئے قوموں کا اتحاد نا گزیر ہو چکا ہے ۔
انہوں نے بلوچ کلچر ڈے کے موقع پر بلوچی پگڑ ی پہن کے ثقافتی ریت بحال رکھی۔ان کا مزید بلوچ قبیلہ کے تعارف میں گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا کہ بلوچ کے لفظی معنی”بلند تاج”کے ہیں ۔ بلوچ نسلاََ عرب ہیں تاہم بلوچ کو مختلف ادوار میں مختلف قوموں نے بعل، بلوص، بلوس ، بلوث اور بلوچ لکھا ۔ اہل بابل اپنے قومی دیوتا کوبعل یعنی عظیم کہا کرتے تھے۔ ہمارے ہاں لفظ بلوچ فارسی سے مشہور ہوا۔
انہوں نے کلچر ڈے کے موقع پر پوری بلوچ قوم کو پیغام دیتے ہوئے کہا ہے کہ بلوچی ثقافت کو زندہ رکھنے کے لیے ہمارے آباؤ اجداد نے لازوال قربانیوں کی داستان رقم کی اور اب وقت کا تقاضا ہے کہ بلوچ قوم اپنی ثقافت کو زندہ رکھنے کے لیے اتحاد قائم کریں اور اپنے کلچر کو فروغ دیں۔