Baaghi TV

Category: معاشرہ و ثقافت

  • تھکن ،ذہنی دباؤ،رات نیند نہ آئے تو کیا کرنا چاہئے؟ماہرین کی رائے

    تھکن ،ذہنی دباؤ،رات نیند نہ آئے تو کیا کرنا چاہئے؟ماہرین کی رائے

    دنیا بھر میں سیاسی تبدیلیاں، تجارتی جنگوں کے امکانات، اسٹاک مارکیٹ میں افراتفری، اور صارفین کے لیے بڑھتی ہوئی قیمتوں کا سامنا ہو رہا ہے، جب کہ ہزاروں افراد کی ملازمتیں بھی ختم ہو رہی ہیں، اور اس کا اثر مزید لوگوں پر بھی پڑے گا۔ ان دنوں میں تبدیلی اور غیر یقینی صورتحال ایک عام بات ہے، اور یہ بے چینی اور ذہنی دباؤ پیدا کرتی ہے۔دباؤ، جیسا کہ ہم سب جانتے ہیں، نیند کو متاثر کر سکتا ہے۔ بہت سے افراد کے لیے یہ دباؤ بے خوابی کا سبب بن سکتا ہے، جو کہ نیند میں مشکل، نیند کا برقرار نہ رہنا، یا زیادہ جلدی جاگنا جیسی شکایات کا باعث بنتی ہے۔ اگر بے خوابی کا مسئلہ دیر تک رہے تو یہ دل کے دورے اور فالج جیسے سنگین صحت کے مسائل کا سبب بن سکتا ہے۔

    نیند کے ماہر ڈاکٹر انا کریگر کا کہنا ہے کہ، "ہر کسی کی بے خوابی کی ایک مخصوص حد ہوتی ہے، اور کبھی کبھار کچھ ایسے عوامل آتے ہیں جو اس حد کو پار کر دیتے ہیں، جس کی وجہ سے نیند نہیں آتی۔ یہ دباؤ ذاتی، پیشہ ورانہ، ماحولیاتی یا سیاسی بھی ہو سکتا ہے۔”

    پچھلی کچھ دہائیوں میں سیاسی اور معاشرتی افراتفری کے دوران بے خوابی کے معاملات میں اضافہ دیکھنے کو ملا ہے، جیسا کہ مائشیلا ڈریپ نے بتایا، جو کہ اوہایو کے کلیولینڈ کلینک میں نیند کے مسائل کے ماہر ہیں۔ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر آپ بے خوابی کا شکار ہیں، تو بستر پر تڑپنے کی بجائے اٹھ کر کچھ آرام دہ کام کریں، اور کم روشنی میں رہنے کی کوشش کریں۔ نیند کے مسائل میں مبتلا افراد کو اس بات سے بچنا چاہیے کہ وہ اپنی نیند کی کیفیت کے بارے میں زیادہ فکر مند ہوں، کیونکہ یہ پریشانی نیند کے مسائل کو بڑھا سکتی ہے۔

    عمر ایک اہم خطرے کا عنصر ہے، کیونکہ بزرگ افراد پہلے ہی صحت کے مسائل یا دائمی درد کی وجہ سے نیند کی مشکلات کا شکار ہو سکتے ہیں اور ایسے میں اضافی دباؤ انہیں مزید متاثر کر سکتا ہے۔ خواتین میں بے خوابی کی شرح مردوں سے زیادہ ہوتی ہے، اور ایسے افراد جو کہ خاندان میں کسی کو بے خوابی کا سامنا ہے، وہ بھی زیادہ متاثر ہو سکتے ہیں۔ماہرین کا مشورہ ہے کہ رات کو سوشل میڈیا یا خبریں چیک کرنے کی عادت کو ختم کیا جائے۔ جینیفر منڈٹ، جو کہ یونیورسٹی آف یوٹاہ میں نیند کی ماہر ہیں، کہتی ہیں کہ "نیند سے پہلے خبریں دیکھنا یا سوشل میڈیا پر وقت گزارنا نیند میں خلل ڈال سکتا ہے، اس لیے نیند سے ایک گھنٹہ پہلے اس سے بچنا چاہیے۔”الکحل یا دیگر نشہ آور اشیاء کا استعمال نیند کو بہتر کرنے کے لیے نہیں کرنا چاہیے، کیونکہ یہ دراصل نیند کو مزید خراب کر سکتی ہیں۔ اس کے علاوہ، دن بھر زیادہ کیفین کا استعمال بھی نیند کے مسائل کا سبب بن سکتا ہے۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ بے خوابی کے مسائل کو مستقل شکل اختیار کرنے سے بچانے کے لیے سلیپ بیہیویرل تھراپی (CBT-I) ایک بہترین طریقہ ہے۔ اس طریقہ کار میں نیند کے شیڈول کو بہتر بنانے پر زور دیا جاتا ہے اور نیند کے ماحول کو مثبت بنانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ اگر آپ کو نیند کے مسائل کا سامنا ہے، تو ضروری ہے کہ آپ اپنی نیند کی عادات اور ماحول پر توجہ دیں اور ان عوامل سے بچیں جو نیند کو خراب کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ، اگر ضروری ہو تو ماہرین سے مدد لیں تاکہ آپ کی نیند کو بہتر بنایا جا سکے اور آپ ذہنی اور جسمانی طور پر بہتر محسوس کر سکیں۔

  • خواتین کے حقوق کے تحفظ میں لاپرواہی،ذمہ دار کون. تحریر : جان محمد رمضان

    خواتین کے حقوق کے تحفظ میں لاپرواہی،ذمہ دار کون. تحریر : جان محمد رمضان

    خواتین کے حقوق کے تحفظ میں لاپرواہی،ذمہ دار کون. تحریر : جان محمد رمضان
    پاکستان سمیت دنیا بھر میں 8 مارچ کو خواتین کا عالمی دن بڑے جوش و خروش سے منایا گیا۔ اس دن کا مقصد خواتین کے حقوق اور ان کی معاشرتی حیثیت کو اجاگر کرنا ہوتا ہے۔ ملک بھر میں مختلف تقاریب، ورکشاپس اور سیمینارز کا انعقاد کیا گیا، جس میں خواتین کے حقوق کے بارے میں بات چیت کی گئی اور ان کی کامیابیوں کو سراہا گیا۔ تاہم، اس دن کے بعد جو افسوسناک واقعہ سامنے آیا، وہ اس بات کا غماز ہے کہ ہمارے معاشرے میں خواتین کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں اور تشدد کے حوالے سے ابھی بھی ایک بڑی خاموشی اور لاپرواہی کا عالم ہے۔

    8 مارچ کے بعد، وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں ایف 9 پارک کے قریب ایک معروف فوڈ چین کے باہر ایک سنگین واقعہ پیش آیا۔ سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو سامنے آئی، جس میں دکھایا گیا کہ ایک نوجوان خواتین کو سڑک پر زدوکوب کر رہا ہے انہیں بالوں سے پکڑ کر گھسیٹا گیا.اس ویڈیو نے پورے ملک میں ایک ہلچل مچائی اور خواتین کے حقوق کے بارے میں ایک نئے سوالات اٹھا دیے۔ویڈیو میں واضح طور پر دکھائی دیتا ہے کہ یہ واقعہ نہ صرف خواتین کے ساتھ تشدد کا ہے بلکہ اس میں ان کی بے بسی اور بدترین صورت حال بھی سامنے آتی ہے۔ پولیس نے متاثرہ خاتون کی مدعیت میں مقدمہ درج کیا اور ایف آئی آر کے مطابق، مرکزی ملزم جمال نے اپنے ساتھیوں کے ہمراہ 23 فروری کی رات خواتین کو مارا پیٹا اور ان سے 10 تولہ زیورات اور 20 لاکھ روپے نقد چھین لیے۔

    پولیس نے فوری طور پر کارروائی کرتے ہوئے ملزم جمال کو گرفتار کیا، لیکن اس کے بعد ایک نیا پہلو سامنے آیا۔ 10 مارچ کو یہ انکشاف ہوا کہ ملزم جمال اور متاثرہ خواتین کے درمیان صلح ہو گئی ہے۔ خواتین نے اپنے بیان میں کہا کہ یہ سب محض ایک غلط فہمی تھی اور اس وجہ سے وہ یہ مقدمہ واپس لے رہی ہیں۔ خواتین نے عدالت میں یہ کہا کہ اگر جمال کو ضمانت ملتی ہے یا وہ بری ہو جاتا ہے تو انہیں کوئی اعتراض نہیں ہے۔پولیس نے مقدمہ درج کر کے ملزم جمال نامی شخص کو گرفتارتو کر لیالیکن ایسے لگتا ہے کہ ملزم کے ہاتھ لمبے تھے، اندراج مقدمہ کے بعد تشدد کا شکار خواتین نے ملزم کے ساتھ صلح کر لی اور عدالت میں بیان دے دیا کہ غلط فہمی ہوئی…ابے غلط فہمی کس چیز کی…ویڈیو سامنے آئی…تشدد ہوا..سر عام ہوا..مقدمہ درج ہوا…پھر غلط فہمی کس بات کی….یہی چلتا ہے پاکستانی معاشرے میں..ملزم کو ضمانت ملے گی کل وہ کسی اور کو تشدد کا نشانہ بنائے گا پھر آوازیں اٹھیں گی ہائے خواتین پر تشدد..لیکن یہ جو خواتین تشدد کے بعد بھی صلح کر رہی…اب نام نہاد خواتین کے حقوق کی دعویدار تنظیموں کے منہ کو تالے کیوں لگ گئے، آئیں سامنے اور کہیں کہ ہم مدعی بنیں گی لیکن وہ کبھی ایسا نہیں کریں گی.

    یہ واقعہ ہمیں اس حقیقت سے آگاہ کرتا ہے کہ ہمارے معاشرتی نظام میں خواتین کے حقوق کے تحفظ کے لئے نہ صرف قانونی اقدامات کی ضرورت ہے بلکہ ان کا اعتماد بھی ضروری ہے تاکہ وہ اپنی آواز بلند کرسکیں اور ظالموں کے خلاف کھڑے ہو سکیں۔ پاکستان میں خواتین کو تحفظ چاہیے تو انہیں اپنے حقوق کے لئے ڈٹ کر کھڑا ہونا ہوگا۔ مار کھا کر صلح کر لینا، مجرم کو مزید شہہ دینے کے مترادف ہے۔ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ اگر کسی عورت کو ظلم کا سامنا ہو اور وہ اس کے خلاف آواز نہ اٹھائے تو یہ ظلم بڑھتا ہی چلا جائے گا۔کل کو اگر ان خواتین کو کہیں اور سے تشدد کا سامنا ہوا تو اس کی ذمہ داری ان خود ہی ہوگی جنہوں نے اپنی خاموشی سے مجرم کو مزید حوصلہ دیا۔ ہمیں اس بات کا شعور حاصل کرنا ہوگا کہ حقوق کا تحفظ صرف اس صورت ممکن ہے جب ہم ان کے لئے سنجیدہ کوششیں کریں اور معاشرتی بدعنوانیوں کو جڑ سے اکھاڑ پھینکیں۔

    پاکستان میں خواتین کے حقوق کے تحفظ کے لئے حکومت، ادارے، اور خواتین کی خود کی کوششیں اہم ہیں۔ ہمیں خواتین کے ساتھ ہمدردی اور احترام کے ساتھ پیش آنا ہوگا، تاکہ وہ اپنے حقوق کے لئے لڑ سکیں اور معاشرتی سطح پر اپنی مقام بنا سکیں۔ جب تک ہم اس معاملے کو سنجیدگی سے نہیں لیں گے، تب تک خواتین کو ان کے حقوق نہیں مل پائیں گے اور اس طرح کے افسوسناک واقعات ہمیشہ ہمارے معاشرے کا حصہ بنے رہیں گے۔

  • صحت میں بہتری کے لیے عملی اقدامات اور چیلنجز.تحریر:ملک سلمان

    صحت میں بہتری کے لیے عملی اقدامات اور چیلنجز.تحریر:ملک سلمان

    مریم نواز شریف کے میو ہسپتال والے وزٹ سے اب تک میں نے لاہور اور پنجاب کے درجنوں ہسپتالوں میں داخل مریضوں کا فیڈ بیک لیا تو 100فیصد کی رائے تھی کہ مریم نواز کے میو ہسپتال کے ایم ایس کی معطلی کے بعد باقی ہسپتالوں میں بھی فوری بہتری آئی ہے تاریخ کا پہلا موقع ہے کہ ڈاکٹروں کو بھی احتساب کا ڈر ہوا ہے۔ خاص طور پر میو ہسپتال کے مریضوں اور لواحقین کا کہنا تھا وزیراعلیٰ پنجاب ان کی دل کی آواز بنی ہیں، مریم نواز کے وزٹ سے پہلے ڈاکٹرسرنج اور برنولہ تک باہر سے منگواتے تھے جبکہ محکمہ صحت کے سرکاری ریکارڈ کے مطابق دو لاکھ سرنج اور اتنے ہی برنولہ میو ہسپتال کے پاس موجود تھے۔
    پاکستان میں شعبہ صحت کیلئے گذشتہ تیس سالوں میں ہم نے ورلڈ بینک سے 2ارب20کروڑ ڈالر سے زائد کے پراجیکٹس لیے۔
    دیگر بین الاقوامی تنظیموں کی فنڈنگ اور حکومت کا سالانہ بجٹ اس کے علاوہ ہے۔ اس کے باوجود شعبہ صحت میں تنزلی کی وجہ صرف یہی ہے کہ کروڑوں اور اربوں کے فنڈز ڈاکٹرز کے حوالے کردیے۔ انتظامی معاملات کا تجربہ نہ ہونے کی وجہ سے اربوں کھربوں روپے بدانتظامی اور کرپشن کی نظر ہو گئے۔
    میں نے گذشتہ کالم میں بھی لکھا تھا کہ دیگر ترقی یافتہ ممالک کی طرح ہمیں بھی ایم ایس کی سیٹ کوختم کرکے ایڈمنسٹریٹر لگانا ہوں گے۔
    ٹیچنگ ہسپتالوں کیلئے آرمی کے ریٹائرڈ لیفٹنٹ کرنل، پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس اور پی ایم ایس کے گریڈ انیس کے افسران کو ایڈمنسٹریٹر بنایا جائے،ان افسران کے ہوتے ہوئے کسی بھی ہسپتال میں ڈاکٹروں کی بلیک میلنگ اور ہڑتال ہوجائے تو پھر کہیے گا۔
    ڈائریکٹر فنانس پاکستان آڈٹ اینڈ اکاؤنٹس سروس اور فنانس ڈیپارٹمنٹ سے ہونے چاہئے۔ایڈمنسٹریشن اور فنانس کی سیٹوں پر کسی بھی صورت ڈاکٹر کو نہیں لگانا چاہئے۔
    تمام اضلاع کے چیف ایگزیکٹو ہیلتھ کیلئے گریڈ 18کے پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس اور پی ایم ایس افسران بہترین انتخاب ثابت ہوسکتے ہیں جبکہ تحصیل لیول اور چھوٹے ہسپتالوں کیلئے گریڈ 17اور 18کے ایڈمنسٹریٹو تجربے کے حامل ایڈمن افسران کی بھرتی کی جائے۔
    شعبہ صحت میں بہتری کا واحد حل یہی ہے کہ ڈاکٹرز کو انتظامی عہدوں سے مکمل الگ کر کے صرف علاج معالجہ پر فوکس کرنے کا کہا جائے اور انتظامی سیٹوں پر انتظامی افسران کی تقرری کی جائے۔
    شعبہ صحت میں بہتری کے لیے پریکٹیکل اقدامات پر جہاں عام عوام مریم نواز کو دعائیں دے رہی ہے وہیں چند سرکاری ڈاکٹر سوشل میڈیا پر مریم نواز کے خلاف محاذ بنائے ہوئے غلیظ کمپین کر رہے ہیں ۔
    میں بارہا توجہ دلا چکا ہوں کہ ڈاکٹرز اور پیرامیڈیکل سٹاف صحافی اور یوٹیوب پوڈکاسٹر بنتے جا رہے ہیں۔ سرکاری ڈاکٹرز اور پیرامیڈیکل سٹاف کی صحافتی سرگرمیوں اور پرائیویٹ ہسپتالوں میں پریکٹس پر پیڈا ایکٹ لگایا جائے جبکہ حکومت مخالف پروپیگنڈا کرنے والے باقی افراد پر پیکا ایکٹ لگانا ہی واحد ہے۔

  • لیکن ایک مُٹھی میں میرے خواب کہاں آتے ہیں.تحریر:سائرہ اعوان

    لیکن ایک مُٹھی میں میرے خواب کہاں آتے ہیں.تحریر:سائرہ اعوان

    پہاڑوں کے پیالوں میں یہ وہ درسگاہ ہے جہاں ابو نے ایک استاد کے طور پر اپنے فرائض سنبھالے تو یہ ویرانے میں جلتی بجھتی لو کی طرح تھا ، جس کی مدھم روشنی کو کوئی ٹھہر کر نہیں دیکھتا
    ابو نے پہلے دن سے اسے گھر کی طرح سنبھالا
    یہ سکول ایک ڈھوک میں موجود ہے۔ ڈھوک گاؤں سے بھی مختصر ، جنگلوں میں بسیرے کے مقام کو کہتے ہیں۔یہاں بجلی ، پانی کی سہولت موجود نہیں اور جن گھروں سے بچے یہاں آتے ہیں وہاں ابھی تک شعور کی خوشبو نہیں آئی اور وہاں کے مکین بھیڑ بکریاں چرا کر زندگی گزار جاتے ہیں۔یہاں کے بچے بہت ذہین ہیں ، ایک طالب علم جو قوتِ گویائی سے محروم ہے اسے دور سے آنے والوں کی آہٹ کا ادراک ہوجاتا تھا اور وہ سارے اسباق سب سے جلدی یاد کرلیتا تھا۔یہی نہیں کچھ بچوں کے ساتھ ان کا پالتو کتا سکول تک آتا اور دروازے پر بیٹھا رہتا اور پھر انہی کے ساتھ واپس چلا جاتا تھا ، جب یہ بچے اس ڈھوک سے کچھ دور ہمارے گاؤں کے ہائی سکول میں داخل ہوئے تب بھی وہ کتا اس اس سکول تک آتا ہے اور دروازے پر بیٹھ جاتا ہے، جب بچے واپس آتے تو ان کے ساتھ گھر کو لٹتا ہے۔

    جس قدر ان بچوں میں خواب اور شوق کی تازگی بھری ہے ، اتنا ہی وہاں کے والدین کو اپنا پرانا طرزِ حیات بدل کر بچوں کو پڑھنے کے لیے سکول بھیجنے پر قائل کرنا ایک مشکل کام رہا ہے۔
    ایسے میں پڑھنے والوں کو یاد نہ ہو ، ہم نے اس سکول کے لیے فنڈز اکٹھے کیے ، اس کارخیر میں آپ میں سے ایک مخصوص شخصیت نے پوری دلجمعی سے حصہ لیا اور سمندروں پار بیٹھ کر اس کچی مٹی میں خواب بونے والوں کا ساتھ دیا
    اسی فنڈ سے ہم نے یہاں ایک کمرہ تعمیر کروایا تھا جس پر سرکار کا کوئی دھیان نہ تھا ، اپنی مدد آپ کے تحت یہاں اونٹوں پر بھر بھر پانی لایا جاتا اور سخت موسموں میں بھی کسی طرح اس کام کو مکمل کیا۔دیکھتے ہی دیکھتے یہ مدھم لو اپنی پوری آب و تاب سے چمکی۔

    یہاں درخت لگائے گئے ، کلاس رومز کو شاندار انداز میں مزین کیا گیا اور کوئی سہولت نہ ہونے کے باوجود یہاں علم کی حرارت اور خوابوں کی روشنی بجھنے نہ دی۔یہ ابو نے اکیلے نہیں کیا ، آپ سب نے اس وقت ساتھ دیا جب اس ویرانے میں زندگی کے کرنے کو کوئی امید نہ ملتی تھی۔جب ابو کو اس کارکردگی پر appreciation letter دیا گیا تو میرا دل شدت سے چاہا کہ میں اسے آپ سب کے نام بھی کروں ، ہر وہ انسان جس نے کچھ برس پہلے ہماری مدد کی اور ان بچوں کو دعا دی تھی یہ حُسن کارکردگی آپ سب کے نام ہے اور ایک یاددہانی ہے کہ خیر کا ایک پل بھی کبھی ضائع نہیں جاتا
    اور کوئی خواب چھوٹا یا عام نہیں ہوتا ، ابو کو بہت لوگوں نے کہا کہ یہاں اتنی محنت کرنے کی کیا ضرورت ہے جبکہ انہوں نے یہ کہہ کر جاری رکھا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے ان بچوں تک کسی مقصد سے بھیجا ہے۔ابو نے اس درسگاہ میں ہمیشہ نہیں رہنا مگر یہ درسگاہ ہمیشہ یاد رکھے گی کہ کسی نے اپنی حیات کا ایک وسیع حصہ اس درسگاہ کو محبت دینے میں خرچ کردیا تھا۔
    میں نے ابو سے سیکھا ہے جہاں پانی بھی نہ ہو ، اس مٹی پر بھی پھول پیڑ خوشبو اگائے جاسکتے ہیں۔خوابوں کے ویرانوں میں شوق کی ایک بوند بھی کافی ہوجاتی ہے۔
    پڑھنے والی آنکھ مسکرائے
    سائرہ اعوان
    وادی سون سکیسر
    school

  • موبائل فون اور انٹرنیٹ، دور جدید کی اہمیت اور چیلنجز.تحریر : شہزادی ثمرین

    موبائل فون اور انٹرنیٹ، دور جدید کی اہمیت اور چیلنجز.تحریر : شہزادی ثمرین

    موبائل فون آج کے دور کی ایک اہم ضرورت بن چکا ہے۔ اگر ہم تاریخ کے صفحات پر نظر ڈالیں تو ہم دیکھ سکتے ہیں کہ انسانوں کے درمیان رابطہ قائم رکھنے کے لیے مختلف ذرائع کا استعمال کیا گیا تھا، لیکن یہ ذرائع ہمیشہ محدود اور مشکل ہوتے تھے۔ اگر کسی کا رشتہ دار گھر سے طویل سفر پر نکلتا تو ہفتوں یا مہینوں تک اس کی خبر نہیں ملتی تھی، جب تک کہ وہ واپس نہ آ جائے۔ اس دور میں خط و کتابت کا آغاز ہوا، جس سے لوگ ایک دوسرے کی خیریت دریافت کرتے تھے، لیکن پھر بھی خط بھیجنے کا عمل وقت لیتا تھا۔

    وقت کے ساتھ ساتھ پیغام رسانی کے نئے ذرائع سامنے آنا شروع ہوئے۔ ٹیلیفون کا استعمال اس حوالے سے ایک سنگ میل ثابت ہوا، جس سے لوگ فوراً ایک دوسرے تک اپنا پیغام پہنچا سکتے تھے۔ لیکن آج کل موبائل فون نے ٹیلیفون کی جگہ لے لی ہے اور یہ ہماری روزمرہ کی زندگی کا حصہ بن چکا ہے۔ اب پاکستان میں ہر شخص کے ہاتھ میں موبائل فون ہوتا ہے، چاہے وہ مرد ہو، عورت ہو، بچہ ہو یا بزرگ، ہر عمر کے افراد اس کا استعمال کرتے ہیں۔

    موبائل فون نے ہماری زندگیوں کو بے حد آسان بنا دیا ہے۔ اس کے ذریعے ہم دنیا بھر سے جڑ سکتے ہیں، بات چیت کر سکتے ہیں، اور مختلف کاموں کو آسانی سے انجام دے سکتے ہیں۔ موبائل فون کی کچھ اہم خصوصیات یہ ہیں،موبائل فون پر پیغام بھیجنا ایک انتہائی آسان عمل ہے۔ وٹس ایپ اور دیگر ایپس کے ذریعے ہم تیزی سے پیغامات ارسال کر سکتے ہیں۔موبائل فون کی بدولت ہم نہ صرف آواز، بلکہ کسی دوسرے شخص کی شکل بھی دیکھ سکتے ہیں۔ اس سے دور دراز کے رشتہ داروں یا دوستوں کے ساتھ رابطہ کرنا بہت آسان ہوگیا ہے۔موبائل میں مختلف گیمز، موویز، اور ویڈیوز کا ایک وسیع ذخیرہ موجود ہے جس سے لوگ اپنے فارغ وقت میں تفریح حاصل کرتے ہیں۔موبائل فون میں کیلکولیٹر، کلینڈر، موسم کی معلومات، اور سڑکوں کے نقشے جیسی بہت سی سہولتیں شامل ہیں، جو ہمیں روزانہ کی زندگی میں مدد فراہم کرتی ہیں۔

    اگرچہ موبائل فون اور انٹرنیٹ نے ہماری زندگیوں کو بہت آسان بنایا ہے، مگر ان کے کچھ نقصانات بھی ہیں جنہیں نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ بچے موبائل پر گیمز کھیلنے، ویڈیوز دیکھنے اور دیگر تفریحی مواد میں غرق ہو جاتے ہیں جس سے ان کی تعلیم متاثر ہوتی ہے۔ بہت سے بچے موبائل کی وجہ سے اپنی پڑھائی پر توجہ نہیں دے پاتے، جس سے ان کی تعلیمی کارکردگی میں کمی آتی ہے۔ انٹرنیٹ پر لوگوں کے ساتھ فراڈ کرنا بہت آسان ہو گیا ہے۔ بعض لوگ آن لائن کام کے جھانسے دے کر لوگوں سے پیسہ وصول کرتے ہیں اور پھر غائب ہو جاتے ہیں۔ موبائل فون اور انٹرنیٹ کا زیادہ استعمال بچوں اور بڑوں دونوں پر نفسیاتی اثرات مرتب کرتا ہے۔ یہ ٹیکنالوجی ہمارے ذہنوں کو انتشار کی طرف لے جا رہی ہے۔ موبائل فون کا زیادہ استعمال فیملی تعلقات کو کمزور کر رہا ہے۔ والدین اور بچے ایک دوسرے سے دور ہو رہے ہیں، اور اس کا برا اثر گھریلو ماحول پر پڑ رہا ہے۔آج کل ٹک ٹاک جیسی ایپس نے نوجوانوں میں ایک نیا رجحان پیدا کیا ہے۔ نوجوان لڑکے اور لڑکیاں سارا دن ٹک ٹاک ویڈیوز بنانے میں مصروف رہتے ہیں۔ اس سے ان کی پڑھائی اور دیگر ضروری کام متاثر ہو رہے ہیں۔ والدین اکثر اس بات سے بے خبر ہوتے ہیں کہ ان کے بچے کیا کر رہے ہیں۔

    موجودہ حالات میں حکومت کو انٹرنیٹ اور موبائل فون کے استعمال کو کنٹرول کرنے کے لیے سخت اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ اگر یہ صورتحال ایسے ہی رہی تو آنے والے سالوں میں ہماری قوم کی ترقی خطرے میں پڑ جائے گی۔ بچوں اور نوجوانوں کو انٹرنیٹ اور موبائل فون کے منفی اثرات سے بچانے کے لیے مناسب قوانین بنانا ضروری ہے۔موبائل فون اور انٹرنیٹ نے ہماری زندگی کو بے حد سہولت بخشا ہے، مگر ان کے استعمال میں اعتدال ضروری ہے۔ ہمیں اپنے بچوں اور نوجوانوں کو ان ٹیکنالوجیز کے صحیح استعمال کے بارے میں آگاہی دینی چاہیے تاکہ وہ ان کا فائدہ اٹھا سکیں، نہ کہ ان سے نقصان پہنچے۔

  • کتاب، بارش اور پلاؤ،لفظوں میں بسی ایک شام.تحریر:رضوانہ چغتائی

    کتاب، بارش اور پلاؤ،لفظوں میں بسی ایک شام.تحریر:رضوانہ چغتائی

    باہر سنبل کے درخت کی شاخیں بوجھل ہو رہی ہیں، .. بارش کی نرم بوندیں کھڑکی کی جالی سے چھن کر اندر آ رہی ہیں، ہلکی سی ٹھنڈک بھی ہوا میں گھلی گھلی سی ہے۔۔۔۔ سنبل کے درخت پر بارش کا پانی موتیوں کی طرح چمک رہا ہے، مٹی کی سوندھی خوشبو جیسے پورے ماحول کو اپنے سحر میں جکڑ چکی ہے۔…
    میں کھڑکی کے پاس بیٹھی ہوں, گلابی سنبل کے پھول بارش میں بھیگ کر اور زیادہ نکھر گئے ہیں۔۔۔کہنی کھڑکی کی لکڑی پر ٹکاتی ہوں اور ریشم کے پھول بغور دیکھتی ہوں۔۔۔ سبحان اللہ۔۔۔اس قدر خوبصورت۔۔۔ سوال ابھرتا ہے ذہن میں کیا واقعی ان سے ریشم نکلتی ہے۔۔۔۔ کیسے۔۔۔۔، دل جواب دیتا ہے ، اللہ کے حکم سے۔۔۔ جیسے اللہ رات میں سے دن کو طلوع کرتے ہیں ،ویسے ان میں سے ریشم بھی بنانے پر قادر ہیں۔۔۔۔میرے سامنے کی سڑک پانی میں بھیگی ہے۔۔۔۔ تارکول کی سیاہ سڑک پہ نگاہیں جمائے دوبارہ سوچتی ہوں شاید دور کسی گھر کی کھڑکی سے بھی ایک اور روح شاید اسی منظر کو دیکھ رہی ہو، اپنے انداز میں، اپنے خیالات میں۔۔۔۔ محبت کے کئی اور رنگ اوڑھ رکھے ہوں شاید۔۔۔۔۔

    میرے سامنے پلاؤ کی ایک پلیٹ رکھی ہے، گرم چاولوں سے اٹھتی بھاپ میں زیرہ، دارچینی اور لونگ کی خوشبو ملی ہوئی ہے۔ ایک نوالہ لیتے ہی زبان پر نمکین سا ذائقہ بکھر جاتا ہے، اور دل بےاختیار کہتا ہے۔۔۔۔الحمدللہ! کیسا کرم ہے رب کا کہ زمین سے پیدا ہونے والے دانے یوں ذائقہ، خوشبو اور تسکین میں ڈھل جاتے ہیں۔

    بارش کے موسم میں پلاؤ کا مزہ کچھ اور ہی ہوتا ہے، خاص طور پر جب ہر نوالے کے ساتھ باہر کا بھیگا منظر اور اندر کی خاموشی ایک ساتھ محسوس ہو۔ لیکن اس پورے منظر میں جو سب سے قیمتی چیز ہے، وہ میرے ہاتھ میں کھلی کتاب ہے۔۔۔۔

    کوئی بھی کتاب صرف صفحات کا مجموعہ نہیں ہوتی، بلکہ ایک ایسی دنیا ہوتی ہے جہاں لفظ زندہ ہیں، جہاں کہانیاں سانس لیتی ہیں، اور جہاں حقیقت اور تخیل کے درمیان کی سرحد مدھم ہو جاتی ہے۔ میں جیسے جیسے ورق پلٹتی ہوں، لفظ میرے اندر اترتے جاتے ہیں، میرے خیالات میں، میری روح میں، میرے وجود میں۔۔۔۔کبھی کسی جملے پر دل ٹھہر جاتا ہے، کبھی کسی کہانی میں خود کو پا لیتی ہوں، اور کبھی کوئی لفظ مجھے وہ جواب دے دیتا ہے جس کی تلاش میں جانے کب سے تھی۔۔۔۔۔ یا شاید کتاب مجھے تلاش کرتے کرتے مجھ تک پہنچ جاتی ہے۔۔۔ یا ہم میں سے ہر کسی کے پاس اس کے نصیب کے لفظ پہنچ جاتے ہیں ۔۔۔۔ راستہ دکھانے ۔۔۔ ہے نا

    کتابیں صرف پڑھنے کے لیے نہیں ہوتیں، یہ وہ روشنی ہوتی ہیں جو زندگی کے اندھیروں میں راستہ دکھاتی ہیں۔ یہ وہ خاموش دوست ہوتی ہیں جو بغیر کسی صدا کے بولتی ہیں، بغیر کسی شرط کے ساتھ دیتی ہیں، اور بغیر کسی رشتے کے زندگی کا حصہ بن جاتی ہیں۔

    الحمدللہ! کیسے خوبصورت ہیں یہ لفظ، کیسی سائبان ہیں یہ کہانیاں، اور کیسا مہربان ہے وہ رب، جس نے لفظوں میں بھی روشنی رکھ دی۔۔۔۔ یہ لمحات ، یہ تصویر کہیں میرے اندر جذب ہو گئی ہے،ایسا لگا ہے جیسے کہ وقت نے میرے لئے کچھ دیر کے لیے اپنی رفتار سست کر دی ہو۔ باہر موسم شاعری جیسا ہے، اور اندر دل کسی ان کہی کہانی کے سحر میں گرفتار، کتاب کی گفتگو، اور میرے اردگرد اللہ کی بےشمار نعمتیں— مٹی کی سوندھی خوشبو اور پلاؤ کا ذائقہ ۔۔۔۔ الحمدللہ ، ثم الحمدللہ۔۔۔۔!!!!
    دل بے اختیار سرگوشی کر رہا ہےنا۔۔۔۔
    فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ
    (پس تم اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے؟)
    بقلم خود: رضوانہ چغتائی

  • مرے لہو کو چھڑک دو تمام گلشن میں.تحریر: مبشر حسن شاہ

    مرے لہو کو چھڑک دو تمام گلشن میں.تحریر: مبشر حسن شاہ

    (قصہ درد 2)
    کچھ روز پہلے قلم سے سر قلم کروانے کا شوق اچانک انگڑائی لے کر بیدار ہوا تو قصہ درد کہہ ڈالا، پنجاب حکومت، محکمہ تعلیم اور وزیر تعلیم کو مخاطب کر کے اساتذہ کا مقدمہ لڑنے کی کوشش کی۔ اس کے بعد ایک معاشرتی موضوع پر لکھنے کی کوشش کی لیکن طبیعت میں وہ روانی نہ تھی۔ کچھ کمی تھی۔ تبھی عنوان بہ ہیت شعر آیا
    میرے لہو کو چھڑک دو تمام گلشن میں میری وفاوں پے انگلی اٹھا رہا ہے کوئی آج دوبارہ سوچا تو خیال آیا کہ قصہ درد ایک نہیں یہ تو داستان امیر حمزہ سے طویل اور بلبل ہزار داستاں سے ضخیم ہے۔ سابقہ تحریر پر کچھ قارئین نے رائے دی ہے کہ الفاظ کا انتخاب آسان کریں ۔ ان کی رائے کا بھی شکریہ۔ شعروں کے انتخاب نے رسوا کیا مجھے کے مصداق کچھ ایسا ہی انتخاب
    پچھلی تحریر میں الفاظ ہوا
    خیر قصہ مختصر آج کا موضوع مالی معاملات حکومت اور اساتذہ سے جڑا ہے۔ سرکاری سکولز میں بیس روپے ماہانہ فروغ تعلیم فنڈ کے نام سے ہر طالب علم سے لیا جاتا ہے۔ جن طلباء کے بارے ہیڈ ماسٹر کو علم ہو وہ یہ 20 روپے کی خطیر رقم بیک جنبش قلم معاف بھی کر سکتا ہے۔ آہ ہمارے چھوٹے چھوٹے اختیارات اب وصولی ایف ٹی ایف یعنی فروغ تعلیم فنڈ حکومت و محکمہ کے احکامات ہیں کہ اسے بینک میں جمع کرایا جائے 5000 روپے سے زائد رقم چوبیس گھنٹے سے زائد پاس رکھنا محکمانہ اجازت نہ ہے. اس رقم کو سکول کے اکاونٹ میں جمع کرایا جاتا ہے پھر اخراجات کے لیے دوبارہ بذریعہ چیک نکلوایا جاتا ہے۔ ایک اور اکاونٹ نان سیلری بجٹ NSB ہے ، جو کہ سکول کے نام پر بینک میں کھولا جاتا ہے۔ یہاں سے وہ رام کہانی شروع ہوتی ہے جس کو پڑھ کر بقول مشتاق یوسفی( مرد قتل کردیتے یا ہیں خودکشی) سکول مینیجمنٹ کونسل کے نام سے مقامی افراد کی ایک کمیٹی ہر سکول میں موجود ہے جس کا ہر ماہ اجلاس ہوتا ہے اس کمیٹی کا مقرر کردہ رکن این ایس بی اور ایف ٹی ایف فنڈز دونوں اکاونٹس کا شریک دستخط یعنی کو سگنیٹری ہوتا ہے۔ شریک چئیرمین کے دستخط بینک میں جوائنٹ اکاونٹ میں اپ ڈیٹ کرانے کے لیے نئی بینکنگ پالیسی کے تحت ہیڈ کی سیلری سلپ اور کو سگنیٹری کی آمدن کے ثبوت کے لیے اس کی زمین زرعی کا فرد یا کوئی بھی آمدن کا ثبوت دینا ہوتا ہے۔ اب لطیفہ یہ ہے کہ دونوں اکاونٹس کی آمدن گورنمنٹ کے فنڈَز سے ہے لیکن بینک پتہ نہیں کیا سمجھ کر ڈیل کر رہے ہیں۔

    خود پر بیتی ایک داستاں سناتا کہ چند سال پہلے ایک بینک منیجر نے این ایس بی اکاونٹس کے بارے خطاب کرتے ہوئے فرمایا تھا کہ یہ بے نامی اکاونٹس عنقریب بند کر دیے جائیں گے عرض کی یہ پنجاب حکومت کے بی ہاف پر کھولے گئے ہیں ارشاد ہوا ہیں تو بے نام اکاونٹس سے ملتے جلتے نہ کوئی انسانی اکاونٹ ٹائٹل نہ آمدن کا کوئی واضح ذریعہ۔ خیر یہ تو حکومت پنجاب، اور تعلیم کے محکمہ میں وزارت کے لیول کی نا اہلی ہے۔ آگے چلتے ہیں۔ ہر خریداری جو ان اکاونٹس سے کی جائے اس پر مختلف رقم پر مختلف ٹیکس دینا لازمی ہے۔ یعنی پہلے لاہور سے رقم سکولز کے اکاونٹس میں اور پھر اسی رقم پر ٹیکس باالفاظ دیگر حکومت ہی حکومت سے ٹیکس لے رہی۔ اساتذہ ٹیکس نہ دیں تب بھی مرتے اور دیں تو ایک نئی داستاں۔ چلیں یہ تو ہوئی انتطامی نا اہلی۔ اب رقم بینک سے بذریعہ چیک نکلوانے کے لیے سب سے پہلے تو سکول کونسل کا اجلاس منعقد ہوتا ہے جس میں اس امر کی توثیق کی جاتی ہے کہ پیسے نکلوانے کی واقعی ضرورت ہے اس کے بعد اس اجلاس سے ایک دو یا تین رکنی کمیٹی برائے خریداری بذریعہ منظور شدہ رقم تشکیل پاتی ہے۔ پھر ہیڈ یا کو سگنیٹری بینک جا کر رقم نکلواتے ہیں اب چونکہ 5000 سے زائد کیش پاس رکھنا ممنوع ہے لہذا رقم نکلوانے کے فوراً بعد مطلوبہ شے کو تلاش کر کے اس کی خرید و ادائیگی ہوتی ہے ساتھ سی نیا کام شروع اب بل لینا ہے اور بل پر رقم سکول کانام پتہ مقدار شے نرخ۔ الگ و واضح درج ہوں دوسرے بل پر رسید ادائیگی ہو اب ان دونوں بلز کو لاکر اخراجات کے بلز کی فائل میں محفوظ کرنے سے پہلے بل کی پشت پر ایک مرتبہ پھر چند ایس ایم سی ممبران اور ہیڈز دستخط کریں گے اور رسیدی ٹکٹ بھی لگایا جائے گا۔ جو چیز جس مقصد کے لیے خریدی گئی اگلے اجلاس میں وہ کمیٹی کو معائنہ و ملاحظہ کرائی جائے گی اور اجلاس کی کاروائی تحریر کر کے اس پر ایک بار پھر دستخط ہوں گے۔

    اب چلتے ہیں حکومتی و محکمانہ ہدایات کی طرف کہ خریداری صرف اس دکان سے کریں جو این ٹی این رجسٹرڈ ہو ٹیکس کے معاملات میں ایڈوانس ٹیکس ادا کر رہی ہو اور جب ان کے ہاتھ سکول ہیڈز آتے تو وہ ایڈوانس ٹیکس جمع کرا چکے ہوتے لہذا وہ رقم بھی اوور چارجنگ کر کے پوری کی جاتی یا اشیاء کی کوالٹی کم کر دی جاتی۔ اگر خریداری خود کی تو شرح ٹیکس کے حساب سے اس شے کی قیمت کے ساتھ ٹیکس الگ جمع کرانا لازمی ہے۔ یعنی پہلے ایک ادارہ یعنی محکمہ تعلیم اپنے زیر سرپرستی چلنے والے اداروں کو رقم دیتا ہے۔ اس رقم کو بینک اپنی پالیسی کے تحت الگ سے ماہانہ یا سہ ماہی 49 روپے، 35 روپے کٹوتی کرتا ہے پھر وہی رقم کیش ہو کر حکومت کو کچھ حصہ ٹیکس کی شکل میں واپس کر دیا جاتا ہے۔ بک رہا ہوں جنوں میں کیا کیا، کچھ نہ سمجھے خدا کرے کوئی۔ قصہ درد جاری ہے۔ درخت کاٹنا وہ بھی سکول میں پرانے اساتذہ کے مطابق بندہ مارنے کے برابر جرم ہے۔ اب بڑا درخت بعض دفعہ کٹوانا لازم ہو تو،
    (کیونکہ چاردیواری کے قریب یا پانی کے بور کے نزدیک جڑیں و ٹہنیاں مسائل بناتی ہیں ) اب اس جرم ضعیفی کی سزا سنیں۔

    سب سے پہلے وہی اجلاس سکول کونسل، پھر من ترا حاجی بگویم تو مرا حاجی بگو کے مصداق اجلاس میں تائید اس کے بعد چین آف کمانڈ کو ملحوظ خاطر رکھ کر اسسٹنٹ ایجوکیشن آفیسر کو درخواست اس کی منظوری کے بعد ڈپٹی ڈسٹرکٹ ایجوکیشن سے منظوری۔ ٹھہریں۔۔۔۔۔ دلی ہنوَز دور است۔ اب ڈپٹی ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر محکمہ جنگلات کو لیٹر لکھے گا اس کے بعد محکمہ جنگلات اپنے سٹاف کے ذریعے سکول کا وزٹ کرے گا اور درخت کو جانچ کر اس کی متوقع قیمت مقرر کر کے ڈپٹی ڈی ای او کو تحریری رپورٹ دے گا اب ہیڈ کو کم از کم مقررہ ریٹ پردرخت بیچنے کی اجازت بذریعہ دفتر ایجوکیشن آفس ملے گی اور درخت کو (لکڑی) بیچ کر جو رقم ملے گی اسے اکاونٹ میں جمع کرانا لازمی چاہے کتنی ہی ضروری پیمنٹ ہو ایک دفعہ پیسے اکاونٹ ایف ٹی ایف میں جائیں گے پھر نکلوا لیجئے۔

    تماشا دیدنی ٹھہرا مگر دیکھے گا کون؟

    اب چلتے ہیں آڈٹ کی جانب اصول یہ ہے کہ مالی سال کے بلز باترتیب ایک فائل میں ہوں۔ فائل میں موجود بل پر مالک دکان کی مہر و دستخط ہوں۔ بل کی پشت پر ہیڈ اور کو سگنیٹری سمیت دیگر اراکین کے دستخط یوں۔ جس رقم کا آڈٹ ہو رہا ہے اس کو خرچ کرنے کی منظوری کا تحریری اجلاس ایس ایم سی درج ہو۔ سٹاک رجسٹر پر تحریر ہو ساتھ ہی ساتھ SIS سکول انفارمیشن سسٹم ایپ پر بھی چیک نمبر، تاریخ اور خریداری یا خرچ تحریر ہو۔ اس سارے لایعنی اور بے مقصد عمل سے مالی بے ضابطگی سے بچنے اور اخراجات شفاف کرنے میں مدد ملتی ( بقول بلکہ بحکم محکمہ تعلیم ). اس سارے عمل میں اتنی پیچیدگی ہے کہ شفاف ادائیگی بھی ضابطے کی کاروائی میں کے داو پیچ کی تاب نہ لاکر مشکوک ٹھہرتی جس سے ایک اور مسئلہ لاینحل کھڑا ہوتا ہے آڈٹ آبجیکشن۔ جس کے بعد ہیڈ ٹیچر کو لاہور، ضلع اور تحصیل کے درمیان شٹل کاک بنا دیا جاتا ہے ۔ اتنی زیادہ بے ترتیب اور لایعنی ہدایت کے بعد پڑھانے کے لیے نہ وقت ملتا ہی ہمت۔ تھک ہار کے جب سونے کو لیٹتے تو کسی نہ کسی نے سوشل میڈیا پر لکھا ہوتا اساتذہ کی تنخواہیں بہت زیادہ اور کام کم ہے۔ اللہ کے بندے ٹیچرز کی اوسط تنخواہ اس تمام عمل سے گزرنے کے باوجود، نوکری پر روز ایک شرط، پینشن غیر یقینی پھر بھی اگر زیادہ ہے تو بند کر دیں ویسے بھی بچتا تو کچھ نہیں بس دل کے بہلانے کو ہم بھی یہ نوکری کر رہے۔ اساتذہ کو ریلیف دینا ہے تو خدارا مشکل مبہم اور بے کار وقت ضائع کرنے والے ان کاموں سے ان کی جان چھڑوائیں بلکہ خود بھی چھوڑ دیں۔ خواتین ہیڈذ کبھی بینک کبھی آڈٹ میں پھنس کر گھر میں کام چھوڑ کر یہ تمام ضابطے کی کاروائی مکمل کرتے کئی مرتبہ دیر سے واپس جاتی ہیں غیر معمولی مسائل اور خانگی مسائل کے حوالے سے جس مشکل کا سامنا کرتی ہیں اس کا بھی احساس کم از کم حکومت کو نہیں۔ ویسے بھی حکومت کا تو کام ہی وہ کروانا کہ بندہ کرپٹ نہ ہوکر بھی جب ان بھول بھلیوں میں پھنسے تو مجبوراً کرپٹ ہوجاتا۔ آخری بات کہ خدا را اس عمل کو آسان کیجیے آڈٹ کا طریقہ بدلیں چیک اینڈ بیلنس کا نظام بھی بدلیں اس کے بعد جو کرپشن کرے بے شک نوکری سے نکال دیں لیکن یہ جو کچھ ہو رہا یہ ختم کریں
    اس کا جواب ایک ہی لمحے میں ختم تھا (پالیسی میٹرز)
    پھر بھی مرے سوال کا حق دیر تک رہا

    قوم کے معمار،ظلم وجبر کا شکار

  • رمضان میں خرچ کرنے کا ثواب.تحریر:نورفاطمہ

    رمضان میں خرچ کرنے کا ثواب.تحریر:نورفاطمہ

    رمضان المبارک کا مہینہ مسلمانوں کے لیے روحانی طور پر نہایت اہمیت کا حامل ہے۔ یہ مہینہ اللہ کی خاص رحمتوں، برکتوں، اور مغفرت کا ہے۔ رمضان کے دنوں میں ہر عمل کا اجر کئی گنا بڑھا دیا جاتا ہے۔ اس مہینے میں، جہاں روزہ رکھنا فرض ہے، وہاں ہمیں اپنی نیتوں کو صاف اور اپنے اعمال کو بہتر بنانے کی کوشش کرنی چاہیے۔حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ رمضان میں کئے جانے والے نیک اعمال کا اجر بہت زیادہ بڑھا دیا جاتا ہے، حتیٰ کہ اگر ہم کسی غریب، یتیم یا محتاج پر ایک روپیہ خرچ کرتے ہیں، تو اللہ اس عمل کا ستّر گنا زیادہ اجر عطا فرماتا ہے۔

    رمضان میں صدقہ دینے کی اہمیت بے شمار ہے۔ قرآن میں بار بار صدقہ دینے کی ترغیب دی گئی ہے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی صدقہ دینے کو بہت بڑا عمل قرار دیا۔ رمضان کے مہینے میں صدقہ دینے سے نہ صرف ہمارے گناہ معاف ہوتے ہیں بلکہ اللہ کی رضا اور خوشنودی حاصل ہوتی ہے۔حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”جو شخص رمضان کے مہینے میں ایک روپیہ کسی غریب یا محتاج پر خرچ کرتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کے اس عمل کو ستر گنا بڑھا دیتا ہے۔” (مسلم)اس حدیث سے یہ واضح ہوتا ہے کہ رمضان میں کیا گیا صدقہ ایک معمولی عمل سے کہیں زیادہ قیمتی ہو جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی عبادات کو قبول کرتا ہے اور ان کی نیک نیتی اور خلوص کو دیکھ کر ان کے اجر کو بڑھا دیتا ہے۔

    غریب اور محتاج لوگوں کی مدد کرنا انسانیت کی سب سے بڑی خدمت ہے۔ رمضان کے مہینے میں اگر ہم اپنی استطاعت کے مطابق کسی غریب کی مدد کرتے ہیں تو نہ صرف ہم اس کی زندگی میں خوشیاں لاتے ہیں بلکہ ہمیں اللہ کی رضا بھی حاصل ہوتی ہے۔ایک روپیہ بھی کسی کے لیے بہت قیمتی ہو سکتا ہے، خاص طور پر جب وہ غریب ہو۔ رمضان میں جب ہم غریبوں اور یتیموں کی مدد کرتے ہیں، تو اللہ تعالیٰ ہمیں اس عمل کا بے شمار ثواب عطا فرماتا ہے۔یاد رکھیں، رمضان میں کسی غریب کی مدد کرنا صرف مالی مدد نہیں بلکہ ان کے ساتھ حسن سلوک کرنا اور ان کے لیے دعائیں کرنا بھی صدقہ میں شامل ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”سب سے بہتر صدقہ وہ ہے جو کسی غریب یا محتاج کو دیا جائے۔”

    رمضان کے مہینے میں صدقہ دینے سے اللہ تعالیٰ ہمارے گناہوں کو معاف کر دیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ صدقہ دینے والوں کی دعاؤں کو قبول کرتا ہے اور ان کی زندگی میں برکتیں نازل کرتا ہے۔ کسی غریب پر خرچ کرنے سے نہ صرف وہ خوش ہوتا ہے بلکہ اس کا دل بھی سکون پاتا ہے، جس سے ہمارے دل میں بھی سکون آتا ہے۔ ہر نیک عمل کا مقصد اللہ کی رضا کا حصول ہونا چاہیے اور رمضان میں صدقہ دینے سے ہمیں اللہ کی رضا ملتی ہے۔شریعت میں اس بات کی وضاحت کی گئی ہے کہ جو بھی شخص اللہ کی راہ میں خرچ کرتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کے اس عمل کا ستر گنا زیادہ اجر دیتا ہے۔اگر آپ ایک روپیہ خرچ کرتے ہیں، تو اس کا ثواب ستر گنا زیادہ ہو جاتا ہے۔یعنی اگر آپ کسی غریب پر ایک روپیہ خرچ کرتے ہیں تو اللہ تعالیٰ آپ کے اس ایک روپیہ کو ستر گنا بڑھا کر آپ کے نامہ اعمال میں ڈال دیتا ہے۔ یہ عمل نہ صرف آپ کے دل کی سکونت کا باعث بنے گا بلکہ آپ کے روحانی درجات بھی بلند ہوں گے۔

    رمضان کا مہینہ ایک ایسا موقع ہے جب ہم اپنے دلوں کو صاف کر سکتے ہیں اور اپنے اعمال کی اصلاح کر سکتے ہیں۔ اس مہینے میں صدقہ دینے سے نہ صرف دنیا میں ہمارے رزق میں برکت آتی ہے بلکہ آخرت میں بھی ہمیں انعام ملتا ہے۔ اگر ہم رمضان میں کسی غریب پر ایک روپیہ خرچ کرتے ہیں، تو اللہ تعالیٰ اس عمل کا ستر گنا زیادہ ثواب دیتا ہے، جو ہمارے لیے ایک عظیم انعام ہے۔اس لیے رمضان میں صدقہ دینے اور غریبوں کی مدد کرنے کا عمل ہمیں چاہیے کہ اپنی زندگی کا حصہ بنائیں اور اس مہینے کو بھرپور طریقے سے اللہ کی رضا کے حصول کے لیے استعمال کریں

  • اپیل بنام وزیر اعلیٰ پنجاب ، انصاف دو، میرا صفدر علی مجھ سے چھین لیا گیا،تحریر:شاہد نسیم چوہدری

    اپیل بنام وزیر اعلیٰ پنجاب ، انصاف دو، میرا صفدر علی مجھ سے چھین لیا گیا،تحریر:شاہد نسیم چوہدری

    محترمہ وزیر اعلیٰ پنجاب، مریم نواز صاحبہ!
    آج میں ایک باپ کی حیثیت سے آپ کے در پر انصاف کی بھیک مانگنے آیا ہوں۔ میرا دل زخمی ہے، میری دنیا اجڑ چکی ہے، میری امیدوں کا چراغ بجھا دیا گیا ہے۔ میں حیدر علی، ایک مظلوم باپ، جس کے جگر کا ٹکڑا، 23 سالہ معصوم صفدر علی، ناحق قتل کر دیا گیا۔ وہ میرا خواب تھا، میری امید تھا، میرے بوڑھے کندھوں کا سہارا تھا، مگر اسے بے دردی سے چھین لیا گیا۔
    یہ کیسا انصاف ہے؟
    سمن آباد، فیصل آباد کی وہ سڑکیں، جو کبھی میرے بیٹے کے قدموں کی آہٹ پہ مسکراتی تھیں، آج سسک رہی ہیں۔ میرے صفدر کو نانا پاپا پیزا شاپ کے مالک کے حکم پر ایک بے حس سیکیورٹی گارڈ نے گولی مار دی۔ ایک ایسی گولی جو میرے بیٹے کے سینے میں اتری اور میرے دل کو چھلنی کر گئی۔ کیا یہ ہے قانون؟ کیا ایسے قتل عام کا کوئی حساب نہیں؟ کیا میرے بیٹے کا خون اتنا سستا تھا کہ کوئی بھی طاقتور شخص اپنی مرضی سے اسے بہا سکتا تھا؟صفدر علی کوئی بدمعاش یا جرائم پیشہ فرد نہیں تھا، وہ تو صرف اپنی محنت کی کمائی سے اپنے چھوٹے بہن بھائیوں کا پیٹ پال رہا تھا۔ اس کی مسکراہٹ، اس کے خواب، اس کے ارمان، سب ایک لمحے میں چھین لیے گئے۔ مجھے آج تک سمجھ نہیں آئی کہ میرے بچے کا قصور کیا تھا؟ وہ کیوں مارا گیا؟

    وزیر اعلیٰ صاحبہ، کیا میرا بیٹا قصوروار تھا؟
    آپ بھی ایک ماں ہیں، آپ بیٹے،بیٹیوں کی عزت کی داعی ہیں، آپ نے ہمیشہ خواتین، نوجوانوں اور محروم طبقات کے حق میں آواز بلند کی ہے۔ میں جانتا ہوں کہ آپ کو معلوم ہے کہ ایک ماں کے دل پر کیا گزرتی ہے جب اس کا لخت جگر اس کے سامنے خون میں لت پت ہو۔ مگر میں ایک باپ ہوں، اور میرا دل اس دکھ سے دوہرا ہو چکا ہے۔وزیر اعلیٰ صاحبہ! میری اہلیہ کا برا حال ہے، وہ دن رات اپنے بیٹے کے لیے رو رہی ہے۔ میری بیٹیاں اپنے بھائی کو یاد کر کے تڑپ رہی ہیں۔ ہم سب کو انصاف چاہیے۔ ہمیں بس یہی پوچھنا ہے کہ کیا ہمارے بچوں کا خون اتنا ارزاں ہو چکا ہے کہ کوئی بھی اثر و رسوخ والا شخص، کسی بھی دن، کسی بھی وقت ان کی جان لے سکتا ہے؟

    قاتلوں کو نشانِ عبرت بنایا جائے!
    ہمیں بتایا گیا ہے کہ قاتل گرفتار ہو چکے ہیں، لیکن کیا ان پر واقعی وہی قانون لاگو کیا جا رہا ہے جو کسی عام مجرم پر ہوتا؟ یا پھر وہ بااثر ہونے کی بنا پر کسی رعایت کے منتظر ہیں؟ بتانے والے بتاتے ہیں کہ حوالات میں وہ مہمانوں کی طرح بیٹھے ہیں۔۔۔۔۔میں یہ نہیں چاہتا کہ صرف مقدمہ درج ہو، میں یہ بھی نہیں چاہتا کہ صرف زبانی تسلیاں دی جائیں۔ میں انصاف چاہتا ہوں، وہ انصاف جو کھلی آنکھوں سے نظر آئے۔ میں چاہتا ہوں کہ میرے بیٹے کے قاتلوں کو سرعام پھانسی دی جائے، تاکہ آئندہ کوئی بھی شخص کسی ماں کے لعل کو یوں چھیننے سے پہلے ہزار بار سوچے۔یہ کیس صرف صفدر علی کا نہیں ہے، یہ ہر محنت کش کا کیس ہے، ہر اس باپ کا کیس ہے جو اپنے بچوں کے بہتر مستقبل کے لیے رات دن ایک کرتا ہے۔ اگر آج صفدر کے قاتل آزاد گھومتے رہے، اگر آج ان کو ان کے جرم کی سخت ترین سزا نہ دی گئی، تو کل کوئی اور صفدر علی مارا جائے گا، کوئی اور ماں اپنا بیٹا کھو دے گی، کوئی اور بہن اپنے بھائی کی جدائی میں آنسو بہائے گی۔میری اپیل، میری آخری امید
    محترمہ مریم نواز صاحبہ، میں آپ کے انصاف پر بھروسہ کرتا ہوں۔ میں جانتا ہوں کہ آپ اس کیس کو نظر انداز نہیں کریں گی۔ آپ کو اپنے صوبے کے شہریوں کے حقوق کی حفاظت کرنی ہے، اور میرے بیٹے کے قاتلوں کو عبرتناک سزا دلوا کر ثابت کرنا ہے کہ پنجاب میں قانون سب کے لیے برابر ہے۔میں آپ سے دست بستہ التجا کرتا ہوں:صفدر علی قتل کیس کو فوری طور پر دہشت گردی ایکٹ کے تحت ٹرائل میں لایا جائے۔
    ملزمان کو سرعام پھانسی دی جائے تاکہ دوسروں کے لیے نشانِ عبرت بنیں۔اس کیس کو فاسٹ ٹریک عدالت میں سنا جائے تاکہ میرے بیٹے کے خون کے ساتھ انصاف میں تاخیر نہ ہو۔نانا پاپا پیزا شاپ کو فوری طور پر سیل کیا جائے اور اس کے مالکان کو بھی برابر کی سزا دی جائے کیونکہ انہوں نے ایک معصوم جان کے قتل کا حکم دیا تھا۔سیکیورٹی گارڈز کے غلط استعمال پر سخت قانون سازی کی جائے تاکہ آئندہ کوئی غیر ذمہ دار شخص کسی کی زندگی سے نہ کھیل سکے۔

    وزیر اعلیٰ صاحبہ، میں ٹوٹ چکا ہوں، مگر انصاف کے لیے ابھی بھی کھڑا ہوں۔ مجھے امید ہے کہ آپ میری فریاد سنیں گی اور میرا دکھ بانٹیں گی۔ اگر آج انصاف نہ ملا تو کل یہ آگ کسی اور کے گھر پہنچے گی۔
    میں انصاف مانگتا ہوں، میں انصاف کا حق دار ہوں!
    اللہ آپ کو اس آزمائش میں سرخرو کرے اور آپ کو وہ ہمت دے کہ آپ ایک مظلوم باپ کے آنسو پونچھ سکیں۔حیدر علی، والد صفدر علی

  • 21 فروری: مادری زبانوں کا عالمی دن اور سرائیکی کا درخشاں مستقبل

    21 فروری: مادری زبانوں کا عالمی دن اور سرائیکی کا درخشاں مستقبل

    21 فروری: مادری زبانوں کا عالمی دن اور سرائیکی کا درخشاں مستقبل
    تحقیق و تحریر: ڈاکٹر محمد الطاف ڈاھر جلالوی
    altafkhandahir@gmail.com
    21 فروری کو "مادری زبانوں کے عالمی دن” کے طور پر منایا جاتا ہے۔اس دن کا مقصد دنیا بھر میں مختلف زبانوں کی اہمیت،افادیت اور تحفظ کے بارے میں آگاہی بڑھانا ہے۔خاص طور پر دنیا کی ان کی کمزور زبانوں کے وجود کی حفاظت کرنا ہے،جوخطرے میں ہیں۔اس دن کی بنیاد 1999ء میں اقوام متحدہ کے عالمی ادارے یونیسکو (UNESCO) نے رکھی تھی۔تاکہ زبانوں کی تنوع،علم وادب،عرفان وحکمت،روحانیت اور ثقافتی ورثے کی حفاظت کی جاسکے۔ماہرین لسانیات کے مطابق مادری زبان ایک فرد کی وہ زبان ہوتی ہے،جسے اس نے بچپن میں اپنے والدین یا قریبی لوگوں سے سیکھا ہو۔اور جو اُس کی روح، ثقافت،وجدان،شعور،تہذیب وتمدن اور شناخت کا لازمی حصہ ہوتی ہے۔مادری زبان کا تحفظ اس بات کی ضمانت ہے کہ قدیم انسانی نسل در نسل والدین کی دانش،اعلی اخلاق،تعلیم وتربیت،رسوم رواج،ادب،ثقافتی ورثہ اور تاریخ محفوظ رہیں گے۔

    21 فروری کو اس دن کا تعین اس لیے کیا گیا ہے کیونکہ 1952 میں بنگلہ دیش (سابق مشرقی پاکستان) کے دارالحکومت ڈھاکہ میں حکومت کے ذریعے بنگالی زبان کو سرکاری زبان کے طور پر تسلیم نہ کیے جانے پر طلباء نے احتجاج کیا تھا۔جس میں پولیس کی فائرنگ سے کئی افراد شہید ہوگئے تھے۔اس واقعے کی یاد میں 21 فروری کو مادری زبان کا عالمی دن منانے کی شروعات ہوئی۔اس دن کا مرکزی مقصد مادری زبانوں کی اہمیت کو اجاگر کرنا ہے۔کلچر اگر ایک جسم ہے تو اس کی روح روشنی زبان ہی ہوتی ہے۔ماں کا احترام دنیا کے ہر مذہب کا خوبصورت فلسفہ ہے۔انسانوں کی مختلف زبانیں،ثقافتیں اور روایات خوبصورت رنگ برنگے پھولوں کی مانند ہیں۔جس سے آپس میں اتحاد ویکجہتی اور محبت و خلوص کی خوشبو مہکتی ہے۔

    کائنات کے خالق حقیقی رب العزت جلال کریم نے انسانوں کی ہدایت کے لیے عملی مثالی کردار والے ہر عہد میں برگزیدہ انبیاء کرام علیہم السلام اجمعین کو ان کی مادری زبانوں میں تبلیغ کی اجازت فرمائی۔انسان میں اعلی ترین ذریعہ ابلاغ زبان ہے۔مادری زبان بہترین و آسان ترین کلیہ ہدایت وتربیت ہے۔بلاشبہ زبان کسی بھی انسان کی ذات اور شناخت کا اہم ترین جزو ہے اسی لیے اسے بنیادی انسانی حقوق میں شمار کیا جاتا ہے۔ایک تحقیق کے مطابق اس وقت دنیا بھر میں تقریباً ساڑھے چھ ہزار سے 7ہزار زبانیں بولی جاتی ہیں۔پاکستانی ماہرینِ لسانیات کے مطابق ملک بھر میں مختلف لہجوں کے فرق سے 74 زبانیں بولی جاتی ہیں۔

    سال2010ء کی ہایئر ایجوکیشن کمیشن رپورٹ کے مطابق پاکستان کی سب سے بڑی زبان سرائیکی کو مانا گیا ہے۔لفط سرائیکی سرسوتی سے نکلا ہے۔علم آثارقدیمہ ریسرچ مطابق موجودہ روہی چولستان کا ایک گمشدہ شہر گنویری والا دریائے ہاکڑہ سرسوتی تہذیب و تمدن کا تقریبا آٹھ ہزار سال قدیم تاریخی شہر ہے۔سرائیکی زبان کی ادبی روایت کئی صدیوں پر محیط ہے۔ حضرت بہاالدین زکریا ملتانی رحمتہ اللہ علیہ اور حضرت بابا فرید الدین مسعود گنج شکر ملتانی رحمۃاللہ علیہ کی سرائیکی شاعری دراصل کلاسک سرائیکی مادری زبان کی شناخت و عظمت کی گواہی ہے۔سرائیکی مہان کلاسک شاعر حضرت خواجہ غلام فرید رحمتہ اللہ علیہ سرائیکی زبان کا لازوال عروج ہے۔”میں تے یار فرید منیسوں رل مل شہر بھنبھور” سرائیکی خطے کے قدیم ہزار سالہ ادبی و ثقافتی دستاویز ہے۔لیکن صد افسوس کہ آج تک اس زبان کو وہ مقام و مرتبہ حاصل نہیں ہو سکا ۔جو اس کا اولین حق تھا۔یہ ادبی اعتبار سے کسی بھی دوسری زبان سے پیچھے نہیں ہے۔اس میں ہمارے مذہب اسلام،دین،فقہ،علم و ادب اور تہذیب و ثقافت کا بیش قیمت سرمایہ موجود ہے۔

    پاکستان کے ہر صوبے اور ہرضلع میں سرائیکی زبان بولی اور سمجھی جاتی ہے۔انڈیا میں کثیر تعداد میں سرائیکی زبان بولنے افراد رہتے ہیں۔سرائیکی زبان اب عالمی شہرت یافتہ زبان کا اعزاز حاصل کرچکی ہے۔سرائیکی وسیب میں ہر حملہ آور نے اس کے زرخیز خطے پر قبضہ کرنے کے لیے مقامی لوگوں کی زبان اور ثقافت پر شدید حملہ کیا۔مگر دھرتی واسیوں نے مکمل اعتماد و یقین سے ان کے عزائم خاک میں ملا دئیے۔سرائیکی علاقہ محبت و احترام آدمیت اور تصوف سے مالا مال ہے۔سرائیکی آکھان جو "مٹھاس تے وفا دا ڈوجھا ناں سرائیکی ہے”۔سندھ میں جس کو سرائیکی نہیں آتی اس کو ڈھگو کہا جاتا ہے۔

    انگریز نے فاتحانِ عالم کی طرح ہمت اور بہادری کے ساتھ برصغیر کو فتح نہیں کیا۔بلکہ تاجروں کا بھیس بدل کر روٹی کی بھیک مانگتے ہوئے بھارت میں آیا اور مغلیہ حکمرانوں کے سامنے دامن پھیلا کر تجارتی سہولیات حاصل کیں۔لیکن موقع ملتے ہی لٹیروں اور ڈاکوؤں کی طرح اپنے ہی محسنوں کے گھر پرقبضہ کر لیا۔انگریزنے قدم جمانے کے بعد مقامی زبانوں کو نظر انداز کر دیا۔یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ کسی قوم کو مٹانا ہو تو اس کی زبان مٹا دو‘‘ تو قوم کی روایات، تہذیب، ثقافت، تاریخ اور اس کی قومیت غرض سب کچھ مٹ جائے گا۔

    مادری زبان انسان کی شناخت، ابلاغ، تعلیم اور ترقی کا بنیادی ذریعہ ہے۔لیکن جب زبان ناپید ہوتی ہے تو اس کے ساتھ تہذیب و تمدن اور ثقافت کا بھی خاتمہ ہو جاتا ہے۔اسی لئے دنیا بھر میں ابتدائی تعلیم مادری زبان میں دیے جانے کا انتظام ہوتا ہے۔کیونکہ بچے کے ذہن میں راسخ الفاظ اس کے اور نظام تعلیم کے درمیان ایک آسان اور زود اثر تفہیم کا تعلق پیدا کر دیتے ہیں۔لیکن انگریزوں نے سرائیکی وسیب میں رائج نظامِ تعلیم کو ختم کرتے ہوئے پرائمری تک تعلیم کے لیے مقامی زبانوں سرائیکی،بلوچی،پنجابی،سندھی،پشتو، بلتی،گلگتی وغیرہ کی جگہ اردو زبان کو لازمی قرار دیا۔جبکہ فارسی کی جگہ انگریزی سرکاری زبان بنا دی گئی۔ انگریزی بولنے اور پڑھنے والے اعلیٰ تعلیم یافتہ کہلانے لگے۔جب کہ مقامی مادری زبانوں سے محبت کرنے والے مہذب اہل علم جاہل،جانگلی،ان پڑھ اور گنوار کہلانے لگے۔

    مادری زبان انسان میں احساس عزت و توقیر،غیرت، اخلاقی اقدار، سلیقہ،وفا، دلیری، ثقافت و تہذیب وتمدن اور وطن عزیز سے بے پناہ عقیدت پیدا کرتی ہے۔مگر انگریز نے غلامی کا وار اس انداز میں کیا کہ مسلمانوں کا صدیوں سے رائج نصاب بے وقعت ہو گیا۔ایک طرف مسلمان معاشی و سماجی طور پر دلد ل میں پھنستے چلے گئے تو دوسری طرف تعلیمی میدان میں انگریزی زبان کے فروغ کا زور و شور ان کو لے ڈوبا۔علم و عمل کی بنیاد پر برصغیر پر ہزار سال حکومت کرنے والی مسلم قوم کو ایک دم جاہل گنوار بنا کر رکھ دیا گیا۔انگریز کی اس کاری ضرب کی وجہ سے مسلمان اندھیروں میں ڈوبتے چلے گئے۔

    سرائیکی دھرتی کے عظیم ہیرو احمد خان کھرل شہید اور نواب مظفر خان شہید کو ڈاکو اور لٹیرے بنا کر پیش کیا گیا۔اِس طرح سرائیکی وسیب کی نئی نسل اپنی ہی مادری زبان اور ثقافت پر نازاں ہونے کی بجائے شرمندگی محسوس کرنے لگے۔انگریز نے ملتان پر قبضہ کیا۔ ملتان جو ہزاروں سال پرانی سرائیکی ریت وثقافت اور شناخت کا مرکز رہا۔جس کی گواہی آج کے ضرب المثل ہیں۔جو صدیوں سے سینہ بہ سینہ سرائیکی قوم میں منتقل ہورہے ہیں۔جئیں نہ ڈٹھا ملتان نہ او ہندو نہ او مسلمان”۔آگرہ اگر دلی مگر ملتان سب کا پدر”۔ناجائز قبضہ گیری نے یہاں کے لوگوں کو احساس کمتری میں مبتلا کردیا اور انگریزی و اردو زبان کو اتنا اونچا درجہ دے دیا گ،عوام دیسی زبانیں بولنے میں شرمندگی محسوس کرنے لگے۔

    مگر آج بھی نوآبادیاتی نظام کے خاتمے کے بعد بھی ہرشعبہ ہائے زندگی میں انگریزی کو ہی اہمیت دی جا رہی ہے۔اس میں کوئی شک نہیں کہ انگریزی ایک ترقی یافتہ اور جدید سائنسی علوم کے ذخیرے سے مالا مال زبان ہے۔لیکن یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ دنیا کی کسی بھی قوم نے اپنی زبان اور روایات چھوڑ کر کسی غیر کی زبان اور تہذیب و تمدن کو اپنا کر کبھی ترقی نہیں کی۔کیونکہ مادری زبان انسان کی شناخت، ابلاغ، تصوف،تعلیم اور ترقی کا بنیادی ذریعہ ہے۔لیکن جب زبان ناپید ہوتی ہے تو اسکے ساتھ ثقافتوں اور روایات کا بھی خاتمہ ہو جاتا ہے۔جس سوسائٹی میں دانشور اپنی دھرتی کے ساتھ جُڑے رہتے ہیں اور ان کا تعلق اپنی مٹی کے ساتھ مضبوط ہوتا ہے تو ان ممالک کی عوام اپنی ثقافت،زبان اور اپنی تاریخ پر فخر کرتی ہیں۔لہٰذا ہمیں ہر صورت اپنی ماں بولی کا بغیر کسی تعصب کے ضرورتحفظ کرنا چاہیے۔

    حکومتِ وقت مادری و علاقائی اور قومی زبانوں کے ادباء و شعراء اور محققین کی سرپرستی کرے۔ان کی تخلیقات کو سرکاری سطح پر شائع کیا جائے۔ اور اس کے ساتھ ساتھ دیگر عالمی زبانوں کی کتب کو قومی و علاقائی زبانوں میں ترجمہ کیا جائے۔تاکہ ہماری قوم اندھیروں سے نکل کر وقت کے ساتھ ساتھ دنیا میں اپنا آپ منوا سکے۔سرائیکی مادری زبان کا مستقبل روشن ہے کہ پاکستان میں مقامی زبانوں میں سب سے زیادہ کتابیں سرائیکی میں شائع ہورہی ہیں۔الحمداللہ 2011ء سے سرائیکی زبان کالجز سطح پر نصاب کا حصہ ہے۔یونیورسٹیوں میں سندھی،بلوچی،پنجابی
    ،پشتون زبانوں میں اے ڈی پی،بی ایس،ایم فِل اور پی ایچ ڈی پروگرامز کی طرح اب سرائیکی میں بھی یونیورسٹی سطح پر اعلی تعلیم وتربیت دی جاری ہے۔سرائیکی مضمون فرسٹ ائیر کے پہلے سٹوڈنٹس راقم الحروف کے بہاولنگر کالج کے ہی تھے۔اب پرائمری و مڈل اور میٹرک میں سرائیکی نصاب سازی کا خواب حقیقت رواں دواں ہے۔تاہم ان ڈگریوں کی معاشی اہمیت و افادیت کو محدود سمجھا جارہاہے۔ کیونکہ ماں بولی کے احترام کے سوا عملاً کچھ نہیں ملتا۔میرے نزدیک جو قوم آپنی ماں بولی،والدین اور وطن عزیز کی ہمیشہ خیر و سلامتی اور خوشحالی کے لیے عملی اقدامات کرتی رہے گی۔وہ قوم ہمیشہ عزت و وقار سے جیتی رہے گی۔ورنہ خود کسی غلام ہوکر خاک میں مل خاک بن صفحہ ہستی سے مٹ جائے گی۔

    سرائیکی زبان وادب کی آبیاری کے لیے جدید کلاسک شعراء کرام میں رفعت عباس،عاشق بزدار،جہانگیر مخلص،عزیز شاہد،ثاقب قریشی،شاہد عالم شاہد،سلیم صابر اورشاکر شجاع آبادی جیسے عظیم شاعر اہم کردار ادا کررہے ہیں۔نوجوان طبقہ اپنی زبان و ثقافت کے فروغ کیلئے عملی جدوجہد کررہے ہیں۔یہ اشارے شاندار مستقبل کی روشن دلیل ہیں۔ہر انسان اور ہر مادری زبان کا تحفظ ہم سب انسانوں کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔سرائیکی زبان کو فوری دیگر زبانوں کی طرح پی ایس سی،سی ایس ایس امتحانات میں شامل کیا جائے۔سکولوں میں فوری سرائیکی سیٹوں کا اشتہار دیا جائے۔سرائیکی خطے میں سرائیکی بنک اور سرائیکی یونیورسٹی کے قیام سے مقامی سرائیکی مادری زبان بولنے والا کا اعتماد بلند ہوگا۔معاشی ترقی کا نیا پہیہ چلے گا۔اردو بھی عملاً سرکاری زبان نہیں اور اسے بھی انگریزی کی ضرورت کے سبب علاقائی زبانوں کے خیمے میں پناہ لینی پڑ گئی ہے۔

    حکومتِ پاکستان کو چاہیے کہ ابتدائی کلاسز میں مادری زبان کو ذریعہ تعلیم بنائے۔پارلیمنٹ و نادرا میں بھی سندھی زبان کی طرح قومی شناختی کارڈ بھی سرائیکی میں جاری کیے جائیں۔سرائیکی وسیب کی ہر یونیورسٹی میں سرائیکی شعبے لازمی قائم ہوں۔دنیا کے کئی ممالک نے مادری زبانوں کی ضرورت و اہمیت کو مانتے ہوئے تسلیم کیا ہے کہ ہر بچے کو اپنی مادری زبان میں تعلیم کا حق حاصل ہے اور تمام زبانوں کی بلا امتیاز ترویج و ترقی شہریوں کے بنیادی حقوق اور ریاستی فرائض کا حصہ ہے۔لیکن پاکستان میں آج بھی علاقائی زبانوں کی اہمیت اور مقام و مرتبے پر بحث جاری ہے۔سندھ میں سندھی کی طرح سرائیکی زبان کو شامل کیاجائے،خیبر پختونخوا میں پشتو کی طرح ڈیرہ اسماعیل خان گومل یونیورسٹی میں سرائیکی زبان کے شعبے کو ہزارہ ڈویژن میں سرائیکی کو شروع کیا جائےاور بلوچستان میں بلوچی ابتدائی تعلیمی درجات میں پڑھائی کے ساتھ سرائیکی زبان بھی شامل کی جائے۔

    حکومت پنجاب ہائیر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ ،پنجاب کری کولم ٹکسٹ بک بورڈ لاہور نے سرائیکی گیارہویں جماعت کی کتاب چھاپ کر سرائیکی مادری زبان کی ترویج کو تاریخی اہمیت دی ہے۔اس سے آپس میں مقامی سطح پر ثقافتی ورثے کو محفوظ فروغ ملے گا۔مادری زبان میں تعلیم سے بچے بہت جلد نئی باتوں کو سمجھ جاتے ہیں اور اس سے بچوں کی تعلیمی صحت پر خوشگوار اثرات مرتب ہوتے ہیں۔جس سے زبان کی آبیاری ہوتی ہے۔اس کے برعکس جن اقوام کا اپنی ہی مٹی سے تعلق کمزور ہو جاتا ہے۔شکست اور ذلت و پستی ان کا مقدر بن جاتی ہے۔اس لیے ضروری ہے کہ پرائمری سے تمام صوبوں میں مقامی زبانوں کو لازمی مضمون کے طور پر پڑھایا جائے۔مادری زبان انسان کی پہلی زبان ہی نہیں بلکہ پہلی ابتدائی درسگاہ،ثقافت، شناخت،تاریخ اور تعلقات کی بنیادی جڑ ہے۔

    مادری زبان کی اہمیت کا ادراک انسانی ترقی،معاشرتی ہم آہنگی اور عالمی سطح پر اثرات کے حوالے سے بے حد ضروری ہے۔مادری زبان انسان کی پہچان اور کلچرل تنوع کی علامت ہے۔ایک شخص کی مادری زبان اس کی نسلی علم ودانش،ثقافتی اقدار اور جغرافیائی تاریخ کو ظاہر کرتی ہے۔اس زبان کے ذریعے فرد اپنی تہذیب وتمدن،کلچر،فہیم،ادب،روایات اور رسوم و رواج کو زندہ رکھتا ہے اور اپنے آباؤ اجداد کے تجربات کو آنے والی نسلوں تک منتقل کرتا ہے۔جب انسان اپنی مادری زبان میں بات کرتا ہے، تو وہ اپنے آپ کو زیادہ قدرتی اور حقیقی انداز میں اظہار خیال کرتا ہے۔مادری زبان میں تعلیم حاصل کرنا طالب علم کے لئے زیادہ فائدہ مند ہوتا ہے۔جب بچوں کو اپنی مادری زبان میں پڑھایا جاتا ہے، تو ان کی تفہیمی صلاحیت اور سیکھنے کی رفتار بہتر ہوتی ہے۔ مادری زبان میں تعلیم حاصل کرنے والے بچے زیادہ خود اعتماد، دلیر،وفادار، تخلیقی اور سیکھنے میں فعال ہوتے ہیں۔اس کے علاوہ مادری زبان میں تعلیم حاصل کرنے سے بچوں میں نئے تصورات،فنون لطیفہ،خیالات اور مہارتوں کو بہتر طور پر سمجھنے میں مدد فراہم ہوتی ہے۔

    سماجی اور ثقافتی روابط ہمیشہ مادری زبان سے ہی مضبوط ہوتےہیں۔افراد کو ایک دوسرے کے قریب لاتی ہے اور ان کے درمیان بہتر سماجی تعلقات قائم کرتی ہے۔ یہ زبان افراد کو اپنے خاندان، دوستوں اور کمیونٹی کے ساتھ جڑنے کا ایک قدرتی طریقہ فراہم کرتی ہے۔مادری زبان میں گفتگو کرتے وقت لوگ زیادہ آرام دہ اور اعتماد محسوس کرتے ہیں۔جس سے معاشرتی ہم آہنگی اور تعاون بڑھتا ہے۔ مادری زبان انسان کی جذباتی اور نفسیاتی حالت پر بھی گہرا اثر ڈالتی ہے۔جب انسان اپنی مادری زبان میں بات کرتا ہے تو وہ اپنے خیالات اور جذبات کو زیادہ بہتر انداز میں ظاہر کر سکتا ہے۔مادری زبان میں انسان زیادہ کھل کر اپنی باتوں کو شیئر کرتا ہے،جو اس کے ذہنی سکون اور جذباتی خوشی کے لیے ضروری ہے۔

    فطرت کا دوسرا خوبصورت نظارہ مادری زبان ہے۔اگر ایک زبان ختم ہو جاتی ہے تو اس کے ساتھ اس زبان میں چھپی سماجی و ثقافتی معلومات،ادب،حکمت ودانش،روایات اور علم بھی ضائع ہو جاتا ہے۔مادری زبانوں کا تحفظ اور ترقی عالمی سطح پر انسانوں کی متنوع شناخت اور ثقافتوں کے احترام کی علامت ہی نہیں بلکہ عالمی سطح پر دنیا میں مختلف زبانوں کا ہونے کے باوجود مادری زبانوں کی اہمیت کو تسلیم کیا جانا عالمی تعلقات اور تعاون کو فروغ دیتا ہے۔عالمی تنظیمیں اور ادارے مادری زبانوں کے تحفظ اور فروغ کے لئے سرگرم ہیں۔

    مادری زبان نہ صرف ایک زبان ہے بلکہ یہ ایک فرد کی ثقافتی شناخت، تعلیمی ترقی،جذباتی سکون،روحانی وابستگی اور عالمی سطح پر تعلقات کو مستحکم کرنے کا ذریعہ ہے۔ اس کی اہمیت کو سمجھنا اور اس کی قدر کرنا ہماری ذمہ داری ہے تاکہ ہم اپنی نسلوں کو ایک مضبوط بنیاد فراہم کر سکیں۔مادری زبان کا تحفظ اور اس کا فروغ ایک روشن اور ہم آہنگ دنیا کی تشکیل میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔مادری زبان میں ہی انسان مکمل طور اپنے دکھ سکھ کا قصہ بیان کرتاہے۔سرائیکی کلاسک شاعر حضرت خواجہ غلام فرید رحمتہ اللہ علیہ نے کیا خوب تخیل تخلیق کیا ہے۔
    کیا حال سنڑاواں دل دا
    کوئی محرم راز نہ ملدا

    سرائیکی ماں بولی سرائیکی ماں بولی
    سبھ توں مٹھی سبھ توں چسولی۔