Baaghi TV

Category: معاشرہ و ثقافت

  • ملازمہ پر تشدد،دست قلم لرز رہا ہے،تجزیہ: شہزاد قریشی

    ملازمہ پر تشدد،دست قلم لرز رہا ہے،تجزیہ: شہزاد قریشی

    سرگودھا میں ایک غریب گھریلو ملازمہ بچی کو معاشرے کے پڑھے لکھے اور عوام کو انصاف فراہم کرنے والوں نے جس طرح تشدد کا نشانہ بنایا اس پر لکھیں توکیا لکھیں؟ انسان تو انسان چرند و پرند بھی شرمندہ ہیں۔ کیا لکھا جائے اور کتنا لکھا جائے۔ دست قلم لرز رہا ہے۔ عقل و دماغ مائوف، ہمارا معاشرہ کدھر جا رہا ہے۔ بھلا ہو پولیس کا،جنہوں نے تشدد کرنے والی ایک سول جج کی بیگم کیخلاف مقدمہ درج کر لیا۔ پنجاب پولیس میں ڈی پی او سرگودھا جیسے ایماندار فرض شناس آفیسر موجود ہیں بھلا ہو ہمارے سیاستدانوں کا جنہوں نے اس محکمہ میں مداخلت اتنی کی کہ یہ اپنی آزادی سے کام نہیں کر سکتے۔ تاہم اسلام آباد میں درج ہونے والے مقدمے سے ثابت ہوتا ہے کہ پولیس میں قانون کی حکمرانی کی رٹ کو قائم کرنے والے افسران موجود ہیں۔

    عرب نیوزمیں ڈاکٹر علی عواد اسیری جو پاکستان میں سعودی عرب کے سفیر رہ چکے ہیں وہ لکھتے ہیں کہ پاکستان کے وزیراعظم شہبازشریف ایک مشکل لیکن نتیجہ خیز مدت کے اختتام کے قریب ہیں۔ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور قطر کے ساتھ سرمایہ کاری اور تجارتی تعلقات جس میں اہم پالیسی فیصلے کئے گئے ہیں۔ پاکستان کی معیشت میں جی سی سی ایک اہم کردار ادا کرتا ہے۔ پاکستان کے سویلین اور فوجی رہنما سمجھتے ہیں کہ سرمایہ کاری بحران سے دوچار معیشت کو جی سی سی پائیدار ترقی کی جانب مستحکم راستے پر ڈالنے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔

    ڈاکٹر علی عواد اسیری لکھتے ہیں شہبازشریف کو اقتدار سنبھالنے کے بعد اہم چیلنجوں کا سامنا کرنا پڑا مالیاتی ڈیفالٹ کے دہانے پر موجود ملک کو وراثت میں ملا تاہم پاکستان اتنا مستحکم ہے کہ نگران سیٹ اپ کی طرف آسانی سے منتقل ہو سکے۔ نومبر میں جنرل عاصم منیر کی بطور آرمی چیف کے عہدے پر تقرری کے بعد سے سیاسی انتشار کم ہو گیا بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے ساتھ عملے کی سطح کا ایک نیا معاہدہ جون میں اختتام پذیر ہوا۔ چائنا پاکستان کو ریڈور بحال ہو گیا۔ جبکہ امریکہ کے ساتھ بھی تعلقات دوبارہ پٹڑی پر آگئے۔ سب سے بڑی قابل ذکر بات سول ملٹری تعاون نے جی سی سی اقتصادی میدان میں توسیع کی ہے جس سے سرکردہ معیشتوں کے ساتھ پاکستان کی اقتصادی شراکت داری کو نئی رفتار ملی ہے۔ پاکستان کے سویلین اور فوجی رہنما غیر ملکی قرضوں پر انحصار کے خطرے کو سمجھتے ہیں۔ اس سلسلے میں دوست ممالک سے سرمایہ کاری کو راغب کر کے ایک مضبوط اقتصادی بنیاد ڈالنے کی تیاری کر رہے ہیں شہبازشریف نے پاکستان میں معاشی بحالی کے امکانات کو بڑھانے کے لئے اچھا کام کیا ہے امید ہے مستقبل کی سیاسی قیادت اقتصادی پالیسیوں میں موجودہ رفتار کو برقرار رکھے گی خاص طور پر ترقی پذیر جی سی سی شراکت داری کے حوالے سے، قارئین ملکی معیشت کو مستحکم کرنے کے لئے ملک کے بیورو کریٹ سول انتظامیہ کو بھی اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ تاکہ پاکستان ترقی یافتہ ممالک کی صف میں کھڑا ہو سکے۔

  • بیت النورآرفن سنٹر یتیم بچیوں کی تعلیم وتربیت اور کفالت کا مثالی ادارہ

    بیت النورآرفن سنٹر یتیم بچیوں کی تعلیم وتربیت اور کفالت کا مثالی ادارہ

    تحریر: ارشاد احمد ارشد
    پاکستان میں اس وقت متعدد ادارے یتیم بچوں کی ترتیب وکفالت کاکام کررہے ہیں لیکن یتیم بچیوں کی کفالت کرنے والے ادارے شائد نہ ہونے کے برابر ہیں ۔ اس کمی کو محسوس کرتے ہوئے چوہدری محمد حسن ایڈووکیٹ اور ان کے ساتھیوں نے ” بیت النور آرفن سنٹر “ کے نام سے یتیم بچیوں کی کفالت وتربیت کے لئے ایک ادارہ بنایا ہے جو لاہور میڈیکل ہاﺅسنگ سکیم مین کینال روڈ نزد ہربنس پورہ میں واقع ہے ۔ چوہدری محمد حسن نے ایک سوال کے جواب میں کہا لوگ ہم سے پوچھتے ہیں کہ پاکستان میں لاکھوں یتیم بچے ہیں لیکن کیا وجہ ہے کہ ہم نے صرف یتیم بچیوں کے لیے ہی یہ ادارہ کیوں بنایاہے؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ بچہ یتیم ہوجائے تو اس کےلئے خود کو سنبھالنا آسان ہوتا ہے بہ نسبت بچیوں کے ۔بچیاں پھولوں کی طرح نرم و نازک ہوتی ہیں، ان کے دل بھی نرم ونازک ہوتے ہیں ، بچیوں کےلئے مشکلات کا سامنا کرنا مشکل ہوتا ہے، بچی کے سر سے باپ کا سایہ اٹھ جائے تو وہ رشتے داروں اور معاشرے کے رحم وکرم پر ہوتی ہے ۔اسلئے بچیوں کو زیادہ محبت اور شفقت کی ضرورت ہوتی ہے ۔ کہا جاتا ہے کہ ایک بچی کی تربیت صحیح طرح سے کی جائے تو ایک خاندان سنور جاتا ہے۔ اسلئے ہم کہہ سکتے ہیں کہ بچیوں کی تربیت بچوں کے مقابلے میں زیادہ اہم ہے اس پس منظر میں ہم نے بچیوں کا ادارہ بنانے کو ترجیح دی ہے ۔ تاکہ ایسی بچیاں جن کے باپ داغ مفارقت دے گئے ہیں اسلامی ماحول میں اور باعزت طریقے سے ان کی پرورش وتربیت کی جائے ۔ دینی ودنیوی علوم سے انھیں بہرہ مند کیا جائے اور اس کے ساتھ ساتھ انھیں کوئی ہنر بھی سکھایا جائے ۔

    اپنا گھر اور ماں باپ کا نعم البدل تو کوئی بھی نہیں تاہم ہماری کوشش ہے کہ ادارے میں بچیوں کو بالکل گھر کا ماحول دیا جائے، انھیں ماں باپ کی کمی محسوس نہ ہونے دی جائے ، ان کے زخموں پر مرہم رکھا جائے ، ان کے غموں اور دکھوں کا مداوا کیا جائے ۔انھیں سیدہ فاطمہ ، سیدہ عائشہ اور سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنھن کی سیرت وکردار سے روشناس کروایا جائے ۔” بیت النور آرفن سنٹر “ میں 25بچیاں زیر کفالت ہیں ۔ ان کی تعلیم وتربیت کےلئے دینی ودنیوی علوم پر مشتمل بہترین نصاب اور قابل ترین اساتذہ ہیں ، عصری علوم سیکھانے کےلئے بہترین سکولنگ کا انتظام ہے ۔ہر بچی پر انفرادی توجہ دی جاتی ہے ، اس کی فطری صلاحیت اور قابلیت کے مطابق علم سے بہرہ مند کرنے کی کوشش کی جاتی ہے ۔ عصری علوم کے ساتھ کمپیوٹر ٹیکنالوجی اورٹیکنیکل تعلیم سے روشناس کروانا بھی ادارے کے منشور میں شامل ہے ، صوم وصلوة کا پابند بنایا جاتا اور نفلی روزوں کی ترغیب دی جاتی ہے ۔ بچیوں کو علوم شریعہ ، دروس ، قرآن وحدیث ، حفظ وناظرہ ، تجوید وقرآت کے ساتھ ساتھ جدید نصاب کے مطابق اردو ، انگلش ، عربی ،سائنس، ریاضی و دیگر سبجیکٹ پڑھائے جاتے ہیں ۔الحمد للہ ہم نے ایسا نصاب ترتیب دیا ہے کہ جسے پڑھ کر یہ بچیاں دین کی عالمہ ومبلغہ بننے کے ساتھ ساتھ ڈاکٹر ، انجئیر اور قانون دان بھی بن سکیں گی ۔ بچیوں کو مروجہ ہنر بھی سیکھائے جائیں گے تاکہ وہ باعزت زندگی گزار سکیں ۔یہ بات معلوم ہے کہ صحتمند دماغ صحتمند جسم میں ہوتا ہے بچوں کےلئے تعلیم کے ساتھ تفریحی سرگرمیاں بھی بے حد ضروری ہوتی ہیں جس کےلئے مختلف تفریحی پروگرام کاشیڈول بھی ترتیب دیا جاتا ہے ، لاہور کے خوبصورت ترین تفریحی مقامات جیساکہ سکائی لینڈ، جوائے لینڈ اور دیگر مقامات وباغات کی انھیں سیر کروائی جاتی ہے ، پرائمری سے اعلیٰ تعلیم اور شادی کی ذمہ داری بیت النور آرفن سنٹر نے لے رکھی ہے ۔ ہمارے ادارے کا سٹاف 8افراد پر مشتمل ہے جس میں معلمات ، باورچی ، ایڈمن ، آیا ، صفائی کےلئے خاتون اور دیگر عملہ شامل ہے ۔ ادارے کے سالانہ اخراجات ایک کروڑ ہیں جن میں بلڈنگ کا کرایہ ، اساتذہ، دیگر عملہ کی تنخواہیں ، کچن کے اخراجات ، بجلی ، گیس کے بل اور بچیوں کے کپڑے جوتے وغیرہ شامل ہیں ۔ عمدہ تعلیم وتربیت کے ساتھ ہم بچیوں کو معیاری رہائش ، طبی سہولتیں، جسمانی نشو ونما کے مطابق اچھا کھانا ،کھانے کے ساتھ دودھ ، موسمی پھل ،پسند کے مطابق آئس کریم ، بسکٹ ، صاف ستھرا لباس ،صحت کی بحالی اور علاج معالجہ کےلئے ماہر نفسیات ، ان ڈور گیمز، ہر بچی کےلئے الگ الگ بیڈ ، اسٹڈی ٹیبل ، اسٹڈی چئیر ، الماری وغیرہ کی سہولیات دے رہے ہیں ۔ دن کا آغاز نماز فجر سے ہوتا ہے ، اس کے بعد صبح کے اذکار پڑھے جاتے ہیں ، اذکار کے بعد ایک گھنٹہ آرام کا وقفہ ہوتا ہے ، ساڑھے سات سے ساڑھے نوبجے تک قرآن مجید کی تلاوت ، تجوید اور گرائمر کا پیریڈ ہوتا ہے ۔ بعد ازاں ناشتہ اور سکول کی تیاری کا وقت دیا جاتا ہے پھر مختلف اسباق کے پیریڈ ہوتے ہیں ۔ ایک بجے سے دو بجے تک بریک ہوتی ہے جس میں نماز ظہر ادا کی جاتی ہے اور کھانا کھایا جاتا ہے ، دو بجے سے چار بجے تک سکول کی تعلیم دی جاتی ہے ، نماز عصر سے نماز مغرب تک چھٹی ہوتی ہے جس میں بچیاں کھیلتی ہیں ۔ ” بیت النور آرفن سنٹر “ کے اندر ہی کینٹین ہے جہاں سے بچیاں اپنی دلپسند اشیا لیتی اور کھاتی ہیں ۔ نماز مغر ب کے بعد ایک گھنٹہ تک قرآن کلاس ہوتی ہے ، پھر رات کا کھانا کھایا جاتا ہے ، اس کے بعد نماز عشا ادا کی جاتی ہے ، نماز عشا کے بعد پھر ایک گھنٹہ تفریح کےلئے وقت دیا جاتا ہے جس میں بچیاں کھیلتی ہیں ،اسلامی گیمز یا اسلامی کارٹون دیکھتی ہیں جبکہ ساڑھے دس بجے تعلیمی دن کااختتام ہوتا ہے اس کے بعد رات کے اذکار اور دعائیں پڑھ کر بچیاں سونے کےلئے لیٹ جاتی ہیں ۔

    بشری نے بچوں سے نہ ملنےدیا، کیا شرط رکھی؟ خان کیسے انگلیوں پر ناچا؟

    ہوشیار،بشری بی بی،عمران خان ،شرمناک خبرآ گئی ،مونس مال لے کر فرار

    بشریٰ بی بی، بزدار، حریم شاہ گینگ بے نقاب،مبشر لقمان کو کیسے پھنسایا؟ تہلکہ خیز انکشاف

    تحریک انصاف میں پھوٹ پڑ گئی، فرح گوگی کی کرپشن کی فیکٹریاں بحال

    عام طور پر یتیم بچوں یا بچیوں کے لیے بنائے گئے اداروں کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ان میں کھانے پینے ، رہائش اور یونیفارم کا معقول انتظام نہیں ہوتا ۔جبکہ بیت النور آرفن سنٹر کے بارے میں میں اتنا ہی کہوں گا کہ ہماری کوئی ماں ، بہن بیٹی کسی وقت بھی اچانک ہمارے ادارے کا وزٹ کرے تو ان شاءاللہ یہاں دی جانے والی سہولتوں سے اس کا دل سو فیصد مطمن ہوگا ۔

    بیت النور آرفن سنٹر کرائے کی بلڈنگ میں ہے جبکہ کرائے کی مد میں ہمیں ہر ماہ بھاری رقم ادا کرنا پڑتی ہے ۔ بیت النور آرفن سنٹر میں داخلے کی خواہشمند بچیوں کی تعداد زیادہ ہے لیکن جگہ کی قلت کی وجہ سے زیادہ بچیاں رکھنا ہمارے لئے ممکن نہیں ہے۔ ادارے کی اپنی بلڈنگ ہو اور وسیع بھی ہو تو ہمارے لئے زیادہ بچیاں رکھنا ممکن ہوجائے گا ۔
    کوئی بھی کام کیا جائے تو اصل چیز ہوتی ہے اس کے ثمرات وفوائد ۔ مجھے خوشی ہے کہ جس مقصد کی خاطر ہم نے بیت النورآرفن سنٹر قائم کیا اللہ نے کم وقت میں ہمیں اس کے نتائج اور فوائد وثمرات دکھانا شروع کردیے ہیں ۔ جو بچیاں ہمارے پاس زیر تعلیم ہیں ان کی مائیں ہم سے مطئمن اور خوش ہیں ۔اس سلسلہ میں بے شمار واقعات ہیں ایک ماں نے ہمیں بتایا کہ جب میری بچی ماہانہ چھٹی پر گھر آئی تو وہ کہنے لگی ” امی جان ! رات کو ہم نے جلدی سونا ہے “ میں نے کہا بیٹی اتنی جلدی بھی کیا ہے؟ ۔ بیٹی کہنی لگی ” امی جان ! رات کو جلدی نہ سوئے تو صبح نماز کے وقت میں اٹھ نہیں پاﺅں گی اور اس طرح سے میری نماز رہ جائے گی ۔“ ایک اور ماں نے ہمیں بتایا کہ جب میری بیٹی چھٹی پر گھر آئی تو وہ رات کو بار بار اٹھ کرگھڑی سے ٹائم دیکھ رہی تھی ۔اس دوران اچانک میری آنکھ بھی کھل گئی میں نے پوچھا بیٹی کیا بات ہے ، خیریت تو ہے ، کیا وجہ ہے نیند نہیں آرہی کیا ؟ ۔۔۔۔؟ بیٹی جو جواب دیا وہ نہایت ہی ایمان افروز تھا ۔ کہنے لگی” امی میں نماز کا وقت دیکھ رہی ہوں یہ نہ ہو کہ میں سوئی رہ جاﺅں اور میری نماز ضائع ہوجائے “ یہ ہیں الحمدللہ ہماری تربیت کے اثرات ۔اگر کوئی صاحب یتیم بچی کی کفالت کرکے جنت میں رسول مقبول ﷺ کی ہمسائیگی چاہتے ہیں تو بیت النور آرفن سنٹر کے درج ذیل نمبر 0322-2211911 پر رابطہ کرسکتے ہیں ۔

  • پاکستان میں سیلاب متاثرین کی مشکلات کا سلسلہ تاحال جاری

    پاکستان میں سیلاب متاثرین کی مشکلات کا سلسلہ تاحال جاری

    پاکستان میں سیلاب متاثرین کی مشکلات کا سلسلہ تاحال جاری

    ایک طرف پوری قوم آئینی ڈرامہ کے گرداب میں پھنسی ہوئی ہے جبکہ دوسری طرف گزشتہ سیلاب سے متاثر ہونے والے افراد کسمپرسی کی حالت گزار رہے ہیں. ایک اندازے کے مطابق تقریبا دس ملین افراد پینے کے صاف پانی سے محروم ہیں جبکہ جو پانی دستیاب ہے اس سے پھیلنے والی بیماریاں اموات کا باعث بن رہی ہیں۔ جیسے کہ ملیریا اور ہیضہ سب سے زیادہ پھیلنے والی بیماریاں ہیں۔

    اسی طرح خوراک کی کمی سے غذائی قلت پیدا ہو رہی ہے اور ریکارڈ کی جانے والی اموات کی تعداد تقریباً 1,739 ہوچکی ہیں اور زیادہ تر اموات ایسی ہیں غیر محفوط ماحول کے پیش نظر ہوئی ہیں. الجزیرہ کی ایک رپورٹ کے مطابق زیادہ تر لوگوں کو سیلاب سے پہلے بھی کوئی خاص پینے کے صاف پانی تک رسائی نہیں تھی جبکہ جو پانی کا دستیاب نظام موجود تھا اسے بھی سیلاب نے بری طرح نقصان پہنچایا دیا۔ یونیسیف کا کہنا ہے کہ ’سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں رہنے والے خاندانوں کے پاس بیماریوں سے متاثرہ پانی پینے اوراسے استعمال کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہے.

    یونیسیف پاکستان نے 20 مارچ 2023 کو ایک ٹویٹ میں کہا تھا کہ "پاکستان میں سیلاب کے 6 ماہ بعد، 9.6 ملین بچوں کو اب بھی زندگی بچانے والی امداد کی ضرورت ہے۔ ہمیں پینے کا صاف پانی فراہم کرنے اور بیت الخلاء کی تعمیر سمیت متاثرین کو صفائی کی اہم خدمات فراہم کرنے کے لیے اپنے عطیہ دہندگان کا مسلسل تعاون درکار ہے کیونکہ اس سب کی متاثرین کو اشد ضرورت ہے۔ تاہم ڈونر ایجنسی کے مطابق اب تک امداد کی نصف سے بھی کم ضرورت پوری ہوئی ہے.

    جبکہ سب سے پہلے ان ضروری معاملات کو حل کرنا انتہائی ضروری ہے اور اسکے بعد انفراسٹرکچر کی تعمیر نو کرنا، بھی لازمی تاکہ لوگوں پر پڑنے والے پیچیدہ منفی اقتصادی اثرات سے بھی بچا جا سکے۔ بروکنگز انسٹی ٹیوٹ کے مطابق صرف تنظیم نو کی لاگت 16.3 بلین ڈالر ہے جبکہ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اس میں بحالی اور تعمیر نو کا فریم ورک (4RF) معاش اور زراعت کی بحالی سمیت نجی مکانات کی تعمیر نو اور سڑکوں، پلوں، اسکولوں اور اسپتالوں سمیت عوامی بنیادی ڈھانچے کی تعمیر نو بھی شامل ہے.

    واضح رہے کہ سیلاب سے متاثرہ اکثر آبادی خوراک، کپڑے سمیت بنیادی سہولیات اور سروں پر چھت سے محروم ہے جبکہ بنیادی ادویات کی بھی کمی ہے جیسے تیز بخار پر قابو پانے کے لیے اینٹی پائریٹک گولیاں وغیرہ شامل ہیں علاوہ ازیں بچوں میں غذائیت کی کمی کے ساتھ صحت کے مسائل جیسے سستی اور کمزوری وسیع پیمانے پر پھیلی ہوئی ہے۔

  • در حقیقت روٹی کھا گئی ہم کو،تحریر:حیدرعلی صدیقی

    در حقیقت روٹی کھا گئی ہم کو،تحریر:حیدرعلی صدیقی

    در حقیقت روٹی کھا گئی ہم کو،تحریر:حیدرعلی صدیقی

    یہ بات تقریباً سبھی لوگوں کے علم میں ہوگی کہ روٹی، کپڑا، مکان ہر باشندۀ ریاست کا بنیادی حق ہے اور حکومت وقت کی ذمہ داری ہے کہ یہ حق مستحق کو بلا لحاظ رنگ و نسل، بلا تفریق مذہب و مسلک فراہم کرے۔
    مختلف حکومتیں اپنی اسی ذمہ داری کو نبھانے کے لیے مختلف اقدامات کررہی ہے، اور عوام کو سہولت کے ساتھ ضروریات پورا کرنے کا موقع دیتی ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ کونسی حکومت اپنی ان ذمہ داریوں کو پورا کرچکی ہے اور کونسی نہیں، اور کونسی اس سلسلے میں خاطر خواہ اقدامات کررہی ہے۔ عصر حاضر میں مہنگائی کے لہر سے بہت سے ممالک دوچار ہیں جن میں پاکستان کا نام بھی سر فہرست ہے، جہاں آئے روز مہنگائی اور گرانفروشی کی شرح اوپر جارہی ہے، مہنگائی کی حالیہ طوفانی لہر نے غریب عوام کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے، لوگ فاقوں پہ مجبور ہیں، غریب تو غریب متوسط طبقہ بھی ان حالات کو برداشت نہیں کرسکتا، اگر کوئی گرانفروشی کے خلاف آواز اٹھائے تو اس پر کوئی کان نہیں دھرتا۔ اشیائے خورد و نوش اور دیگر اشیائے ضرورت کے قیمتوں میں ظالمانہ اضافے کے وجہ سے ایک عام مزدور اسکا بوجھ برداشت نہیں کرسکتا، لیکن ہر کوئی مجبوری کے سبب حتی الوسع کوشش میں ہے کہ وہ اپنا اور اپنے پیاروں کے پیٹ پالنے کے لیے کوئی اقدام کرے۔ حکومت پاکستان نے عوام کے لیے وزیراعظم میاں شہباز شریف کے حکم پر رمضان پیکیج کا اعلان کیا ہے جس کے تحت عوام کو مفت آٹا ملے گا، اور اس حکمنامے پر باقاعده عمل بھی شروع کیا گیا ہے۔ لیکن حکومت نے اس کے لیے کوئی پلان نہیں بنایا کہ یہ آٹا کس طریقہ کار سے تقسیم کیا جائے گا؟ اور کون کون اس پیکیج سے مستفید ہونگے؟
    اور اسی لیے افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ پاکستان کے دیگر بہت سی منصوبوں کی طرح یہ منصوبہ بھی بدنظمی اور افراتفری کا شکار ہے۔ جہاں بھی آٹا فراہم کرنے کی سہولت ہے وہاں ایک ہلچل مچا ہوا ہے، آٹے کے غیرمنصفانہ تقسیم پر عوام میں بھگدڑ شروع ہے، شہریوں نے آٹے کے ٹرکوں پر ایک ہنگامہ آرائی برپا کی ہے، ہر کوئی اپنا اور اہل و عیال کا پیٹ پالنے کے لیے مسابقہ میں ہے۔ مہنگائی کے آگ میں جھلسے شہری سارا دن آٹا حاصل کرنے کے لیے دھکے کھا رہے ہیں، کیونکہ پیٹ کی ضرورت تو کسی ایک طبقے کا مسئلہ نہیں اور نہ یہ صرف غریب باشندوں کی ضرورت ہے۔ ایک فرد کے پیچھے اہل و عیال بھوک سے نڈھال رہے ہوتے ہیں تو اس کے پاس یہ سب برداشت کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں۔ سارا دن جھگڑوں پہ جھگڑے ہوتے ہیں، کئی قیمتی زندگیاں بھی فنا ہوئے، جس روٹی کے لیے قیمتی جان کھونا پڑے وہ مفت نہیں بلکہ بہت مہنگی ہے۔

    بظاہر تو یہ پیکیج غریب اور کمزور شہریوں کے لیے ہے لیکن کوئی بھی یقین سے نہیں کہہ سکتا کہ یہ اپنے مستحقوں کو پہنچ رہا ہے، کیونکہ غریب تو غریب ساتھ میں گزار حال طبقہ بھی اس پیکیج سے بھرپور مستفید ہونے میں کوئی کسر نہیں چھوڑتا۔ نظم و نسق نہ ہونے کے وجہ سے مضبوط اور طاقتور لوگ آسانی سے آٹے کے دو تین تھیلے حاصل کرکے خوشی سے واپس جاتے ہیں، لیکن کمزور افراد اور خواتین سارا دن دھکے پہ دھکے کھا کر مایوس گھر لوٹتے ہیں۔ آٹے کے لائنوں میں بدنظمی کی صورتحال یہ ہے کہ رمضان کے مبارک مہینے میں ہر روز جھگڑے ہوتے ہیں، روزانہ کی بنیاد پر کئی قیمتی جانیں ضائع ہوتی ہیں۔ نظم و نسق کے عدم موجودگی کے وجہ سے صورتحال انتہائی دل خراش ہے۔
    در اصل انسانی ضروریات میں آٹا انسان کی وہ بنیادی ضرورت ہے جس کے بغیر زندگی گزارنا بہت مشکل ہے۔ اگر روٹی ہو تو کوئی اس کو سالن، چٹنی، اچار حتی کہ سادہ پانی کے ساتھ بھی کھا سکتا ہے، لیکن اگر آٹا نہ ہو تو سالن وغیرہ اکیلے بھوک کا سامان مهیا نہیں کرسکتے۔

    بدقسمتی سے پاکستانی حکومت آٹے کے تقسیم کے اہم مسئلے کے حل میں ناکامی یا لاپروائی کا شکار ہوئی، اور بجائے اس کے کہ کوئی بہتر نظم و نسق کے ذریعے یہ آٹا مستحق افراد میں تقسیم کرتی تا کہ ان کی عزت نفس بھی محفوظ رہتی اور ضرورت بھی پوری ہوجاتی۔ لیکن معاملہ برعکس ہوا اور حکومتی نظم نہ ہونے کے سبب آٹے کے گاڑیوں پر عوام کا سیلاب امڈ آیا، کیا مزدور و کیا ملازم! کیا فقیر و کیا آسودہ حال! کیا مرد و کیا عورت! سب کے سب دوڑ پڑے، اور آٹے کے تھیلی حاصل کرنے کے لیے ایک دوسرے کے ساتھ دست و گریباں نظر آئے۔ پاکستان کا حکمران اور بیوروکریٹ طبقہ اطمینان و سکون کے ساتھ اپنے حویلیوں میں آرام فرما ہے، لیکن ریاست کے غریب مائیں آٹے کے لائنوں میں کھلے آسماں کے تحت بارش کے قطروں میں بھیگ رہی ہیں، ریاست کا مزدور طبقہ اپنے حق دار ہونے یا نہ ہونے کےلیے لائنوں میں کھڑا انتظار کر رہا ہے، اور دن کے اختتام پر اسے نا امید لوٹنا پڑتا ہے۔ اور مجال ہے کہ کسی حکومتی اہلکار کی آنکھ کھلے اور اس طرف توجہ کرے، اور کوئی نظم و نسق وضع کرے! وزیر اعظم کی طرف سے اس کام کو مزید تیز کرنے کی ہدایت تو دی جاتی ہے لیکن نظم و ضبط کے لیے کوئی اقدام نہیں کی جاتی۔ آٹا سنٹر میں جو ذمہ داران بیٹھے ہیں انکی بھی اپنی من مانی ہے، جسے چاہے پہلے آٹا دے اور جسے چاہے اسے آخر میں کھڑا کردیتے ہیں۔ اگر آپ آٹا سنٹر کے ذمہ داران کے رشتہ داروں اور تعلق داروں سے ہے تو آپ خوش بخت ہے کیونکہ وہ آپ کو پہلے آٹا دیتے ہیں اگر چہ آپ تاخیر سے کیوں نہ آئے ہو۔ لیکن اگر سنٹر کے ذمہ داران سے آپ کا کوئی تعلق نہیں، آپ ایک عام شہری ہے تو پھر آپ کا خدا سہارا ہو کیونکہ پھر آپ کو کوئی بھی توجہ نہیں دے گا، لائن میں کھڑے تھکا دینے والے انتظار کے بعد جب آپ کی باری آئے گی تو آپ کو نا اہل یا آٹا ختم ہونے کا کہہ کر واپس کیا جاتا ہے۔ یہ فقط میرے جذبات نہیں بلکہ آنکھوں دیکھا حال ہے، اور یہی حال ہر آٹا سنٹر پر آپ دیکھیں گے، یہ ریاست کا اس اہم منصوبے کے لیے نظم و ضبط نہ ہونے کا وجہ ہے۔ پاکستان میں مردم شماری، پولیو، یا دیگر منصوبوں کے لیے گھر گھر گھومنے والے اہلکار بمع سیکیورٹی تو موجود ہیں لیکن آٹے کے تقسیم کے اس اہم پیکیج کے لیے حکومت کے پاس قحط الرجال ہے، علاج وغیرہ کے بغیر بھی انسان کے زندہ رہنے کی امید ہے لیکن روٹی کے بغیر انسان بالاخر مر ہی جاتا ہے۔ لیکن افسوس اس اہم منصوبے کی نظم و ضبط میں حکومت ناکام اور لاپرواہ رہی۔ اگر اب بھی حکومت نے اس پیکیج کے لیے کوئی نظم وضع نہیں کی تو آٹے کے غیر منصفانہ تقسیم کا یہ سلسلہ چلتا رہے گا، اور اس سے وہ لوگ مستفید ہونگے جو پہلے ہی سے گزار حال اور آسودہ حال ہیں، اور مستحق اور حق دار لوگ محروم رہیں گے اور حکومت کے اس افراتفری کے شکار منصوبے کے وجہ سے ذلیل و خوار ہو کر مریں گے اور انکی لاشیں بزبان حال گویا ہوگی؂
    بظاہر روٹی تو ہم نے کھانی تھی
    در حقیقت روٹی کھا گئی ہم کو

  • نصیر آباد کے عوام بندوق اور بددعا کی زد میں

    نصیر آباد کے عوام بندوق اور بددعا کی زد میں

    نصیر آباد کے عوام بندوق اور بددعا کی زد میں

    گستاخی معاف/ محبوب علی مگسی

    بلوچستان کے ضلع نصیر آباد کے عوام کی اکثریت تو خوش نصیب ہے کہ وہ قبائلی سرداروں ، نوابوں،پیروں اور گدی نشینوں کی دسترس سے باہر ہیں لیکن اس کے باوجود ایک کثیر تعداد قبائلی سرداروں، نوابوں، پیروں اور گدی نشینوں کے شکنجے میں کسے ہوئے ہے وہ اپنے سرداروں اور مرشدوں سے دور ہوتے ہوئے بھی ان کی رینج میں ہیں ۔ ایسے افراد پر اس وقت ایک طرح کی مصیبت ٹوٹ پڑتی ہے جب بلدیاتی یا عام انتخابات کا انعقاد ہوتا ہے۔ ضلع نصیر آباد میں جو قبائلی سردار یا سید آباد ہیں وہ اس سوچ کے حامل نہیں یا پھر اس پوزیشن میں نہیں ہیں کہ اپنے قبیلے کے افراد یا اپنے مریدین اور عقیدتمندوں کو زبردستی بھیڑ بکریوں کی طرح ہانک کر ان سے اپنی مرضی کے مطابق ووٹ حاصل کریں یا انہیں ووٹ دلانے کیلئے فروخت کریں مگر نصیر آباد سے باہر چند ایک ایسے بلوچ سردار اور کچھ گدی نشین ہیں جو کہ دور رہ کر بھی اپنے قبیلے کے افراد یا اپنے مریدوں کو اپنے حکم کے مطابق چلانے کی قوت اور طاقت رکھتے ہیں ۔

    ان کی ایک کال یا ایک پیغام پر ان کے قبیلے کے افراد اور مریدین اپنا ووٹ ان کے قدموں میں ڈال دیتے ہیں اور ان کی مرضی کے مطابق اپنا ووٹ استعمال کرتے ہیں ایسے بہت کم افراد ہیں جو کہ اپنے سرداروں اور اپنے پیر و مرشد کے ناجائز احکامات کو ماننے سے انکار کرتے ہوئے اپنے ضمیر اور اپنی مرضی کے مطابق اپنا ووٹ استعمال کرتے ہیں لیکن اکثر لوگ سرداروں کے گن پوائنٹ اور گدی نشینوں کی بد دعا سے ڈرتے ہیں ۔

  • گیارہ سالہ نسرینہ کی دکھ بھری داستان،تحریر:اکمل خان قادری

    گیارہ سالہ نسرینہ کی دکھ بھری داستان،تحریر:اکمل خان قادری

    لنڈی کوتل کی گیارہ سالہ بچی نسرینہ (فرضی نام) اپنے خاندان کی واحد کفیل ہے جو اپنے خاندان کی کفالت کے لیے پاک افغان طورخم سرحد پر زمانے کی سختیاں جھیلتے ہوئے محنت مزدری کررہی ہے جوپل صراط سے کم نہیں ایک بم دھماکے میں والد کی وفات کے بعد خاندان کی کفالت کی ذمہ داریاں نبھاتے ہوئے زندگی بیت رہی ہے جس روزمزدری نہ ملے اس دن پورا خاندان فاقہ کرنے پر مجبورہوتا ہے۔

    پاک افغان بارڈر طورخم پر بڑی تعداد میں چھوٹے چھوٹے بچے اور بچیاں محنت مزدوری کرتے ہوئے نظر اتے ہیں جس میں ہر ایک کی کہانی اپنی جگہ پر ایک منفرد اور انوکھی حیثیت رکھتی ہے جبکہ 11سالہ بچی نسرین (فرضی نام)کی کہانی کچھ الگ تھلگ ہے کیونکہ وہ محنت مزدری بھی کرتی ہے اور گھر کاکام کاج بھی ان کے ذمہ ہے۔ وہ کہتی ہے کہ 2015 میں کابل میں ایک دھاکہ میں ان کا والد جاں بحق ہوگیا اس وقت ان کی عمر پانچ سال تھی تاہم میری ماں نے گھر چلانے کے لیے آستین چڑھالی اوروہ دوسروں کے گھروں میں کام کاج کرکے پیٹ پالتی تھی میں بھی ان کے ساتھ جاتی تھی مگرآہستہآہستہ ماں کی صحت خراب ہورہی تھی اور ڈاکٹروں نے ان کی بیماری کو دمہ کی بیماری قرار دیدیا اور یوں 2021میں میری ماں کی صحت جواب دے گئی اور میں نے طورخم سرحد پر سامان لیجانے اور لانے کی محنت مزدوری کرنے کا فیصلہ کر لیا کیونکہ ہمارے پاس دوسرا آپشن نہیں تھا۔

    وہ کہتی ہے کہ طورخم سرحد پار کرنا ان کے لیے جان جوکھوں کے کام سے کم نہیں ہے کیونکہ کبھی کبھی ہم سرحد پر تعینات اہلکار کے ہاتھوں تشدد کا نشانہ بھی بنتے ہیں جو بہت ازیت ناک ہوتی ہے۔وہ کہتی ہے کہ دو لمحے ان کے لیے انتہائی دکھ درد بھری ہوتے ہیں ایک یہ کہ جس دن دیہاڑی نہ ملے اور دوسرا یہ کہ جب کمیشن کار انہیں وقت پر ان کو ان کی دیہاڑی کے پیسے نہ دے تو ایسی حالت میں گھر کو خالی ہاتھ واپس لوٹنا پڑتا ہے جس سے ہمارے گھر میں فاقہ ہوتا ہے۔

    نسرین مزید کہتی ہے کہ محنت مشقت سے واپسی پر گھر کاکام بھی وہی کرتی ہے کیونکہ ان کی ماں بستر پر پڑی دمہ میں مبتلا مریضہ ہے کھانا بنانا، روٹی پکانا،برتن اور کپڑے دھونا،جھاڑو دینا ماں کو وقت پر دوائی دینا یہ سب ان کے ذمہ ہیں۔ وہ کہتی ہے کہ جس دن ان کا والد دھماکہ کی زد میں آیا اس سے ایک ماہ پہلے ان کی ایک بہن پیدا ہوئی تھی جب کہ بہن سے ایک سال چھوٹاایک بھائی بھی ہے جن کی عمریں اب علی الترتیب 8اور 9سال کی بنتی ہیں تاہم وہ دونوں جسمانی طورپر معذور ہیں جو پڑھنے کے قابل ہیں اور نہ میری طرح کا کام کاج کا۔ وہ کہتی ہے کہ نو سال میں، میں نے بھی محنت مشقت شروع کی تھی اگر میری بہن جسمانی طورپر آج ٹھیک ہو تی تو وہ بھی میرے ساتھ کام پر جاتی اور میرا ہاتھ بٹاتا۔

    قصور کے بعد تلہ گنگ میں جنسی سیکنڈل. امام مسجد کی مدرسہ پڑھنے والی بچیوں کی ساتھ زیادتی

    سوشل میڈیا چیٹ سے روکنے پر بیوی نے کیا خلع کا دعویٰ دائر، شوہر نے بھی لگایا گھناؤنا الزام

    سابق اہلیہ کی غیراخلاقی تصاویر سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کرنے والے ملزم پر کب ہو گی فردجرم عائد؟

    ‏سوشل میڈیا پرغلط خبریں پھیلانا اورانکو بلاتصدیق فارورڈ کرنا جرم ہے، آصف اقبال سائبر ونگ ایف آئی اے

    سوشل میڈیا پر جعلی آئی ڈیز کے ذریعے لڑکی بن کر لوگوں کو پھنسانے والا گرفتار

    کرونا میں مرد کو ہمبستری سے روکنا گناہ یا ثواب

    جب ان سے سوال کیا گیا کہ بہت سی بچے گاڑیوں کے نچے اکر کچل گئے متعدد ذخمی ہوگئے ہیں دوسری طرف تشدد کے واقعات بھی اپ کے سامنے ہیں تو ایسے حالات میں اپ کو ڈر نہیں لگتی تو انہوں نے بتایا کہ یہ ڈر کم، ڈر وہ بہت زیادہ ہے کہ جس دن میں گھر کچھ لے نہ جاوں ماں کے لیے دوائی کا بندوبست نہ کرو اس لیے میں نہیں ڈرتی۔وہ کہتی ہے کہ مجھے پڑھنے کا بہت شوق ہے تاہم وہ ایک خواب ہوکر رہ گیا ہے آخر میں انہوں نے بہت آہ کے ساتھ کہا کہ کھیل کود کے لیے بھی وقت نہیں ہے۔

    اس کے علاوہ رحیم گل (فرضی نام)کی ایک دس سالہ بیٹی بھی طورخم میں محنت مزدوری کرتی ہے جب ان کے والد سے پوچھا گیا کہ یہ بچی کے سکول جانے کا وقت ہے اپ کیوں اپنی بیٹی محنت مشقت کے لیے بھیجتے ہیں تو انہوں نے کہا کہ میں دونوں ٹانگوں سے معذور ہوں اگر میری یہ بیٹی کام پر نہ گئی تو ہمیں کھانے کو کچھ نہ ملے گااس کمر توڑ مہنگائی میں گھر کے اور بھی بہت سی ضروریات اور لوازمات ہیں جن کو پورا کرنا اسان کام نہیں ہے جب ان کی بیٹی قدسیہ (فرضی نام) سے پوچھا گیا کہ محنت مزدوری کرتے ہوئے آپ کوڈر نہیں لگتا کیونکہ اپ جتنی عمر کی لڑکیاں سکول جاتی ہیں اور کھیلتی ہیں تو انہوں جواب دیا کہ میری سب سے بڑی خوشی یہ ہے کہ شام کو میں اپنے معذور والد کے ہاتھ میں دن بھر کی کمائی کا پیسہ تھما دوں ۔


    پاک افغان طورخم سرحد پر تعینات اہلکاروں کے تشدد اور پکڑنے سے بچنے کے لیے بچے اور بچیاں بڑی گاڑیوں کے نیچے چھپتے ہیں جن کے ہاتھوں میں سامان بھی ہو تا ہے۔ مگر وہ دنیا و ما فیہا سے بے خبر ٹائر وں کی زد میں آ کر کچل بھی جاتے ہیں ۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 2022 سے لیکر اب تک 6 بچے اس طرح کے حادثات میں جاں بحق جبکہ 10سے زائد ذخمی ہوئے ہیں۔ طورخم سرحد پر چائلڈ لیبر کم کرنے کے لیے کئی این جی اوز نے کام شروع کیا تھا مگر سب اپنا مشن ادھورا چھوڑ کر چلے گئے چائلڈ لیبر میں مصروف بچوں اور بچیوں کے لیے سکول قائم کیاگیا تھا انہیں عصر حاضر کی تعلیم دلوانے کا وعدہ کیا گیاتھا مگر وہ ایفائے عہد نہ کر سکا اور نہ بچوں اور بچیوں کی حصول تعلیم کی تشنگی پوری ہو سکی۔

    لاک ڈاؤن ختم کیا جائے، شوہر کے دن رات ہمبستری سے تنگ خاتون کا مطالبہ

    واٹس ایپ کے ذریعے فحش پیغام بھیجنے والا ملزم ہوا گرفتار، کئے ہوش اڑا دینے والے انکشاف

    شادی سے انکار، لڑکی نے کی خودکشی تو لڑکے نے بھی کیا ایسا کام کہ سب ہوئے پریشان

    شوہرکے موبائل میں بیوی نے دیکھی لڑکی کی تصویر،پھر اٹھایا کونسا قدم؟

    خاتون پولیس اہلکار کے کپڑے بدلنے کی خفیہ ویڈیو بنانے پر 3 کیمرہ مینوں کے خلاف کاروائی

    پاکستان میں وفاقی اور خیبر پختون خوا کے صوبائی سطح پر کم و بیش تقریباً 2 0قوانین چائلڈ لیبر کے خاتمہ کے لیے بنائے گئے ہیں اس کے علاوہ چائلڈ لیبر کے خاتمہ کے لیے پاکستان بین الاقوامی سطح پر مختلف فورمز کا پارٹنر بھی ہے مگر بد قسمتی سے پاکستان میں چائلڈ لیبر کا حجم بڑھ رہا ہے کیونکہ ان قوانین پر اس طرح عمل درامد نہیں کیاجا تا جس جذبہ سے وہ وضع کیے گئے تھے۔ ہیومن رائیٹس کمیشن رپورٹ کے مطابق خیبر پختون خوا میں چائلڈ لیبرنگ میں مصروف بچوں اور بچیوں کی تعداد 10لاکھ سے زیادہ ہے۔ پروٹیکشن اف چائلڈ رائیٹس کے ایک این جی او کے ڈائریکٹر عمران ٹکر نے بتایا کہ یہ حکومت کی ذمہ داری بنتی ہے کہ قومی سطح پر چائلڈ لیبر کا ایک جامع سروے کرے کیونکہ بین الاقوامی معاہدوں اور قوانین کو مد نظر رکھتے ہوئے حقیقی ڈیٹا حاصل کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے ان کی تعلیم کے لیے بجٹ کا ایک بڑا حصہ مختص کرنا چاہئے تاکہ ہر بچہ سکول جا سکے کیونکہ صرف تعلیم ہی کے زریعے اس کا خاتمہ ممکن ہے۔ووکیشنل تعلیمی اداروں خواہ رسمی ہو یا غیر رسمی کو قائم کیاجائے اور غربت کے خاتمہ کے لیے ایک پائیدار پروگرام کا اغاذکیاجائے اور ان بچوں کو اس پروگرام کا ہدف بنایاجائے جو چائلڈ لیبر کرتے ہیں یا سٹریٹ میں ہیں۔قوانین پر سختی سے عمل درامد کیاجانا چاہئے انسپیکشن نظام کو مظبوط کرناچاہئے اور بڑی سطح پر اگاہی پروگرامات کا انعقاد کیاجائے کہ بچوں اور بچیوں کو کام کی بجائے سکولوں کو بھیجا جائے۔

  • نیکی کا زمانہ ہی نہیں ،تحریر: ریحانہ جدون

    نیکی کا زمانہ ہی نہیں ،تحریر: ریحانہ جدون

    ہمارا جسم ہمارا hard ware ہے جس میں دل دماغ اور باقی جسمانی اعضاء شامل ہیں
    اللہ نے ہمیں hard ware دیا ہوا ہے اب اس میں software ہم نے ڈالنا ہے
    جس طرح کا software ڈالیں گے اسی طرح ہمارا سسٹم چلے گا اور اسی طرح ہمارے ایکشن ہونگے

    نیکی کا زمانہ ہی نہیں ہے
    یہ جملہ آپ نے اپنی زندگی میں ایک دفعہ تو ضرور سنا ہوگا
    کوئی ایک تجربہ جب آپ نے کسی کے ساتھ نیکی کی ہو یا کسی کی مدد کی ہو اور اس کے بدلے اس انسان نے بعد میں آپ کی نیکی یا مدد کو پس پشت ڈال کی آپ سے برا برتاؤ کیا ہو یا آپکی اچھائی کے بدلے دوسروں سے آپکی غیبت کی ہو یا کسی وجہ سے آپ کا دشمن بن گیا ہو… تو ایسے مقام پر آپ یا دوسرے لوگ ضرور کہتے ہونگے کہ اس کے ساتھ نیکی کرنی ہی نہیں چاہیے تھی.,
    ہم ایسا کیوں کہتے ہیں یا دوسرے لوگ ایسا کیوں کہتے ہیں ؟؟کیونکہ ہم بھول جاتے ہیں کہ جزا اور سزا کا اختیار صرف اللہ کے ہاتھ میں ہے کسی انسان کے ہاتھ نہیں, اور ہم دنیا کے مادی اور فانی چیزوں میں تو ایک دوسرے کے مقابلے میں کھڑے ہو جاتے ہیں لیکن کبھی ہم نے یہ سوچا ہے کہ خیر و بھلائی کے کاموں میں بھی دوسروں سے جیتنا چاہییے .جب ہم نیکی اللہ کی رضا کی نیت سے کرتے ہیں تو اس کے بدلے کا یقین بھی اللہ پر رکھنا چاہیے ناکہ ہر نیکی کے پیچھے کوئی نہ کوئی دُنیاوی مفاد کار فرما ہو,
    جب آپ اللہ کی رضا کے لئے کسی کے ساتھ نیکی کرتے ہیں تو وہ اللہ کے ہاں ریکارڈ ہوجاتی ہے. ہمارا جسم ہمارا hard ware ہے جس میں دل دماغ اور باقی جسمانی اعضاء شامل ہیں اللہ نے ہمیں hard ware دیا ہوا ہے اب اس میں software ہم نے ڈالنا ہے جس طرح کا software ڈالیں گے اسی طرح ہمارا سسٹم چلے گا اور اسی طرح ہمارے ایکشن ہونگے اگر آپ نے software اپنے دماغ میں ڈالا ہوا ہے کہ (نیکی کا تو کوئی زمانہ ہی نہیں…) تو آپ واقعی میں کوئی نیکی نہیں کرو گے , آپ کسی کی مدد نہیں کریں گے اور نیکیوں کے مواقع ضائع کر دیں گے جو ایمان کی کمزوری بھی ہے دوسروں کے دکھ درد کا احساس نہیں ہوگا بےحسی آپ کے اندر اپنا ٹھکانہ بنا لے گی. آپ کے اعمال پر آپ کے belief system کا بہت گہرا اثر ہوتا ہے اس لئے اپنا belief system بدلیں

    صحابہ کرام اپنے وقت میں ایک دوسرے سے زیادہ نیکیاں کمانے میں مقابلہ کیا کرتے تھے کیونکہ ان کا یقین تھا کہ ان کی نیکیاں اللہ ریکارڈ کر رہا ہے. ہمیں بھی چاہیے ہم کبھی بھی نیکی کا موقع ہاتھ سے جانے نہ دیں, اگر کسی کو مدد کی ضرورت ہے تو اس کی ضرور مدد کریں جیسا کہ اللہ نے فرمایا کہ نیکیوں میں ایک دوسرے سے آگے بڑھو. اور دیکھا جائے تو بے شمار نعمتیں اللہ نے ہماری بھلائی کے لئے عطا کی ہیں اور اس کا بدلہ وہ ہم سے کچھ نہیں چاہتا.. خدا کے بندوں سے نیکی کرنا اللہ کو بہت پسند ہے اور جو لوگ اللہ کے بندوں سے محبت کرتے ہیں وہ اللہ کے دوست ہوتے ہیں.
    روایت ہے کہ
    تم زمین والوں پر رحم کرو, آسمان والا تم پر رحم فرمائے گا.
    بخاری اور مسلم کی روایت ہے کہ جو بندوں پر رحم نہیں کرتا اللہ بھی اسے اپنی رحمت سے محروم کر دیتا ہے.
    اس لئے ضرورت مندوں سے محبت اور ہمدردی کریں اور ان کی ضرورتوں کو پورا کرنے میں مدد کریں تاکہ اللہ کی رضا حاصل ہو.
    @Rehna_7

    قصور کے بعد تلہ گنگ میں جنسی سیکنڈل. امام مسجد کی مدرسہ پڑھنے والی بچیوں کی ساتھ زیادتی

    سوشل میڈیا چیٹ سے روکنے پر بیوی نے کیا خلع کا دعویٰ دائر، شوہر نے بھی لگایا گھناؤنا الزام

    سابق اہلیہ کی غیراخلاقی تصاویر سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کرنے والے ملزم پر کب ہو گی فردجرم عائد؟

    ‏سوشل میڈیا پرغلط خبریں پھیلانا اورانکو بلاتصدیق فارورڈ کرنا جرم ہے، آصف اقبال سائبر ونگ ایف آئی اے

    سوشل میڈیا پر جعلی آئی ڈیز کے ذریعے لڑکی بن کر لوگوں کو پھنسانے والا گرفتار

    کرونا میں مرد کو ہمبستری سے روکنا گناہ یا ثواب

    لاک ڈاؤن ختم کیا جائے، شوہر کے دن رات ہمبستری سے تنگ خاتون کا مطالبہ

    واٹس ایپ کے ذریعے فحش پیغام بھیجنے والا ملزم ہوا گرفتار، کئے ہوش اڑا دینے والے انکشاف

    شادی سے انکار، لڑکی نے کی خودکشی تو لڑکے نے بھی کیا ایسا کام کہ سب ہوئے پریشان

    شوہرکے موبائل میں بیوی نے دیکھی لڑکی کی تصویر،پھر اٹھایا کونسا قدم؟

    خاتون پولیس اہلکار کے کپڑے بدلنے کی خفیہ ویڈیو بنانے پر 3 کیمرہ مینوں کے خلاف کاروائی

  • رمضان ، عوام اور مہنگائی

    رمضان ، عوام اور مہنگائی

    رواں برس رمضان المبارک میں پہلی بار ایسا کچھ دیکھنے کو مل رہا ہے جو قربانی والی عید پر دیکھنے کو ملتا، رمضان میں راشن کے حصول کے لئے کل ایک ہی روز میں 10 سے 12 لوگوں نے میرے دروازے پر دستک دی،افسوسناک بات یہ کہ دیکھنے میں وہ غریب نہیں تھے، چھوٹے بچے، عورتوں کے ساتھ مرد تھے،جنہیں ہم لوئر مڈل کلاس کہتے ہیں، یقینا وہ اس علاقے میں کام کرنیوالی ملازمائیں ہوں گی یا سابقہ ملازمائیں جن کی کالز آتی ہیں رمضان میں راشن پیکج کے لئے،

    شہری علاقوں میں خوراک کی افراط زر کی شرح 42 فیصد ہو چکی ، چیزیں بہت مشکل ہو چکی صرف غریبوں کے لئے نہیں بلکہ جو اوپر کا طبقہ ہے وہاں بھی یہی صورتحال ہے، گھر، کاریں سب موجود ہے لیکن گھر کے اندر ملازموں کی تعداد کم کر دی گئی، ڈرائیور چلے گئے، گاڑیاں دھونے کے لئے قریبی علاقے کا لڑکا آ جاتا ہے، باروچی جو مستقل ملازم تھے انکو جزوقتی کر دیا گیا ہے،

    مالی مشکلات کی وجہ سے رمضان المبارک ایک آزمائش بن جاتا ہے،خود ساختہ مہنگائی بھی رمضان میں ہو جاتی ہے، اشیاء کی قیمتیں دکاندار تو من مانی قیمتوں پر فروخت کرتے ہی ہیں تا ہم اس بار رمضان کے آغاز سے حکومت نے بھی کچھ ایسا ہی کام کیا، آٹے کی قیمت جو رمضان سے قبل دس کلو کے تھیلے کی 650 روپے سرکاری قیمت تھی وہ رمضان کے آغاز سے حکومت نے قیمت بڑھائی اور اب وہی دس کلو کا سرکاری آٹا 1150 روپے میں مل رہا ہے،گروسری سٹور سمیت کوئی ایسی جگہ نہیں جو رعایتی نرخوں پر چیزیں فروخت کرے،لاہور ، اسلام آباد اور پنڈی میں سستی ایرانی مصنوعات میسر ہیں،گروسری سٹور میں ایرانی سامان موجود ہوتا ہے جس میں تیل اور پنیر بہت مشہور ہے، سامان بلوچستان ایران سرحد کے راستے لایا جاتا ہے، ایرانی مصنوعات پہلے بلوچستان اور لیاری کراچی میں ملتی تھیں لیکن اب دیگر شہروں میں بھی مل رہی ہیں

    ایک چیز جس پر ہمیں غور کرنا چاہیے کہ کھانے پینے کی اشیاء مہنگی ہونے کی وجہ سے زیادہ تر لوگ کم ڈشز بنا رہے ہیں۔ سحر اور افطار کی تیاری کم کی جا رہی ہے لیکن اب بھی ایسے لوگ موجود ہیں جو افطاری کے بعد نماز کے لیے وقفہ کرتے ہیں اورپھرنمازکے بعد اسی طرح ہی ڈنر کرتے ہیں،اور پھر سحری کے لیے خصوصی پکوان تیار کیے جاتے ہیں۔ہمیں اپنے آپ سے سوال کرنے کی ضرورت ہے کہ کیا یہ اسلام کی روح ہے؟ کیا روزے کا مطلب یہ ہے کہ روزے سے پہلے اور بعد میں دس مختلف پکوانوں کے ساتھ سحری و افطاری کی جائے؟ ہم کیوں پکوانوں اور ڈشز کی طرف جاتے ہیں ، کسی عام کھانے سے روزہ کیوں نہیں کھولتے، جیسے سادہ افطاری کریں اور اسکے بعد ون ڈش ڈنر ہو، اگر کسی کو بہت کچھ نصیب ہو تو کیا وہ اسلام کی روح کو مدنظر رکھتے ہوئے اس رقم کو غریبوں کو کھانا کھلانے کے لیے استعمال نہ کرے؟

  • بامقصد نشست معاشرتی ترقی کی ضمانت،تحریر:طلحہ ملک

    بامقصد نشست معاشرتی ترقی کی ضمانت،تحریر:طلحہ ملک

    ماضی قریب کی بات ہے کہ لوگ اپنے روز مرہ معاملات سے فارغ ہو کر شام میں مل بیٹھا کرتے اور دن بھر کا بوجھ ہلکا کرنے کے لیے دوست احباب سے خوش گپیاں لگاتے، اب کی نسبت بہت اچھا دور تھا لوگ زیادہ پڑھے لکھے بھی نہ تھے مگر سلجھی ہوئی گفتگو کرتے بہت سے لوگ اپنی ان بیٹھکوں سے بہت کچھ سیکھتے باہم مل بیٹھنے سے جن تجربات اور مشاہدات کو اخذ کرتے انہیں لکھ لیا کرتے یا بہتر خوبیوں کو زندگی میں ڈھال لیا کرتے یوں ان کی یہ بیٹھکیں ان کے لیے مفید ثابت ہوا کرتیں

    وقت نے ایک دم سے کروٹ لی اور موبائل انٹرنیٹ کا دور آیا فلموں ڈراموں سے بچوں نے جو سیکھا اسے اپنی زندگی کا حصہ بنا لیا چائے ڈھابے کی جگہ سینیما گھروں یا پان سگریٹ کے اڈوں نے لے لی دن بھر کی تھکان اتارنے کے مقصد سے کی جانے والی باتوں کی جگہ گالی گلوچ اور فحش گوئی نے لے لی۔ دیکھا جائے تو اس زمانے اور اُس زمانے میں بہت زیادہ گیپ موجود نہیں اگرچے ہم نے اُن ڈھابوں پر لگی با مقصد بیٹھکوں جس نے بہت سے ادیب و شعرا کو جنم دیا میں شمولیت اختیار نہیں کی مگر ابھی ایسے لوگ موجود ہیں جنہوں نے ایسی مجالس سے استفادہ کیا ہے اور اپنی کامیابی کا لوہا منوایا ہے مگر افسوس اس بات پر ہے کہ نوجوان نسل نے اپنا مقابلہ اپنے سے بہتر لوگوں کے ساتھ کرنے کے لیے روایات کو ترک کر کے مادیت کو پسند کیا اور عام سادے اور کچے گھروں میں رہنے والے نوجوان بھی اسی پان شاپ یا کسی ایسی جگہ پر بیٹھنا پسند کرتے ہیں جہاں ان کی پہنچ بھی بہ مشکل ہوتی ہے شوق نوابوں والے اور عادتیں خرابوں والی اپنا لیتے ہیں ان میں عام طور پر ایسے نوجوان موجود ہیں جن کے والدین مذہبی گھرانے سے تعلق ہونے پر فخر محسوس کرتے ہیں اور صاحبزادہ گھر سے باہر امیروں کی بیٹھکوں میں بیٹھ کر شیشہ پینے، گلیوں میں آوارہ گردی کرنے پان تھوکنے اور قہقہے لگانے میں فخر محسوس کرتا ہے۔

    اگرچے زمانہ بدل چکا ہے اور اس زمانے کے ساتھ ترقی کرنا بھی ضروری ہے مگر ایسا نہیں کہ آپ اچھی اور بُری مجلس کی سوجھ بوجھ ہی نہیں رکھتے ہر دور میں اچھائی اور برائی کے پہلو موجود رہے ہیں آج اگر پان شاپس، سنوکر، ویڈیو گیمز یا دیگر اڈے موجود ہیں تو وہیں بہت سی ایسی جگہیں بھی موجود ہیں جو نوجوانوں کے مستقبل کے لیے بہترین تربیت گاہ بن سکتی ہیں اگر ہم کتاب لائبریری یا ای لائبریری کی بات نہ بھی کریں تو وقت گزاری کے لیے آج بھی ہر شہر میں چائے ڈھابے موجود ہیں بلکہ ہم دیکھتے ہیں کہ گذشتہ کچھ عرصے سے اس کا رجہان بڑھتا جا رہا ہے یہ بات ایک طرف تو خوش آئند بھی ہے مگر کسی حد تک مایوس کن بھی کہ اگر چند لوگ بیٹھ کر اچھی گفتگو کر بھی رہے ہوں تو وہ جلدی وہاں سے محض اس لیے اٹھ کر چلے جاتے ہیں کہ قریبی میز پر اونچی آواز سے یا تو کوئی میوزک چلا لے گا یا گالی گلوچ اور فحش گوئی شروع ہو جائے گی وغیرہ

    اگر اب ایسی بیٹھکوں کا رواج عام ہو ہی رہا ہے تو ہمیں چاہیے کہ دیگر لغویات اور فضولیات کی بیٹھکوں کے عوض ان کو اپنا لیا جائے اور اکٹھے بیٹھ کر فضول مباحثے اور سیاست کی بجائے ملکی مفاد میں مثبت گفتگو کی جائے کاروبار کی بہتری کے لیے مشاورتیں کی جائیں ادب و آداب والی مجالس کو دوبارہ بحال کیا جائے تو کم از کم یہ جو چند سال کا خلا آیا ہے شاید یہ پُر ہو سکے

  • "چغد” اور "چغد گَروں” کی دنیا کے اسرار و رموز!!! — بلال شوکت آزاد

    "چغد” اور "چغد گَروں” کی دنیا کے اسرار و رموز!!! — بلال شوکت آزاد

    2005 سے 2022 تک مختلف النوع تجربات, مشاہدات اور مطالعات کے بعد احقر اس نتیجے پر پہنچا ہے کہ

    1-دعوت و اصلاح کے سب سے زیادہ حقدار آپ کے ارد گرد موجود لوگ مطلب رشتے دار اور دوست احباب ہوتے ہیں لہذا لنڈی کوتل وغیرہ یا اس سے بھی آگے تک کسی فلاں ڈھمکاں کو دعوت و اصلاح کی غرض سے جاکر تنگ کرنا معیوب نا صحیح لیکن افضل بھی نہیں۔

    2-خدمت خلق, صلہ رحمی اور ایثار و اخوت کے بھی سب سے زیادہ حقدار آپ کے ارد گرد موجود لوگ مطلب رشتے دار اور دوست احباب ہوتے ہیں لہذا لنڈی کوتل وغیرہ یا اس سے بھی آگے تک کسی فلاں ڈھمکاں کو خدمت خلق, صلہ رحمی اور ایثار و اخوت کی غرض سے جاکر مدد کرنا معیوب نا صحیح لیکن افضل بھی نہیں۔

    3-آزادی, انقلاب, تبدیلی اور ترقی و خوشحالی کے لیے آپ کی جسمانی, روحانی اور نفسانی جد و جہد اور جہاد کے بھی سب سے زیادہ حقدار آپ کے ارد گرد موجود لوگ مطلب رشتے دار اور دوست احباب ہوتے ہیں لہذا لنڈی کوتل وغیرہ یا اس سے بھی آگے تک کسی فلاں ڈھمکاں کی آزادی, انقلاب, تبدیلی اور ترقی و خوشحالی کے لیے آپ کا جسمانی, روحانی اور نفسانی جد و جہد اور جہاد کی غرض سے جانا اور مدد کرنا بھی معیوب نا صحیح لیکن افضل بھی نہیں۔

    4-آپ کی جوانی, صحت, دولت, علم اور خلوص کے بھی سب سے زیادہ حقدار آپ کے ارد گرد موجود لوگ مطلب رشتے دار اور دوست احباب ہوتے ہیں لہذا لنڈی کوتل وغیرہ یا اس سے بھی آگے تک کسی فلاں ڈھمکاں پر آپ کی جوانی, صحت, دولت, علم اور خلوص خرچ کرنا معیوب نا صحیح لیکن افضل بھی نہیں۔

    اپنی زندگی کے اٹھارہ بیس سال گزار کر جو آپ بھی یہی سبق یہی نتیحہ اخذ کریں گے اس سے بہتر ہے کہ ہم سے ہی عبرت حاصل کرلیں, فی زمانہ اوپر درج معاملات میں حد درجہ دلچسپی اور شمولیت وغیرہ سے بڑا فتنہ مجھے تو نظر نہیں آتا۔۔۔ اور پتہ ہے نا کہ فتنوں سے دور بھاگنے کا حکم ہے کیونکہ فتنوں کی سرکوبی کا خیال دل میں پالنا اور متحرک ہونا بھی ایک فتنہ ہی ہے لہذادور دور بہت دور رہنے میں ہی عافیت ہے۔

    کیونکہ آپ کو کسی کاز, کسی تنظیم, کسی جماعت, کسی انجمن یا کسی ادارے سے منسلکیت کی جو قیمت چکانی پڑتی ہے اس میں آپ کی ذاتی و اجتماعی زندگی کے تار و پود بکھرنا تو سر فہرست ہے لیکن کسی بھی مشکل, مصیبت, تنگدستی اور بیماری میں چراغ تلے اندھیرا کے مصداق تہی داماں رہنا پڑتا ہے, سفید پوشی اور انا کے مارے آپ تو منہ نہیں کھولتے لیکن آپ کو چپکی کسی کاز, کسی تنظیم, کسی جماعت, کسی انجمن یا کسی ادارے کی وظیفہ خور جونکیں المعروف عہدیداران و ذمہ دران جو کہ آپ کی جوانی, صحت, دولت, علم اور خلوص کو آپ سے براہ راست کشید کرکے کاز, تنظیم, جماعت, انجمن یا ادارے کو فیول مہیا کرکے اپنے نمبر ٹانگتے ہیں وہ یا تو آپ کی مشکل, مصیبت, تنگدستی اور بیماری کے وقت آپ کو کسی جگہ نظر نہیں آئیں گے یا مروتاً نظر بھی آئیں گے تو آپ کو قرآن و حدیث سے صبر شکر کے یہ لمبے لمبے لیکچر سنا کر آپ کو اُن کی عظمت کا قائل کریں گے, ہاں دو تین درجن کیلے اور موسم کی مناسبت سے دو تین کلو دیگر پھل آپ کو میسر آسکتا ہے اگر آپ ان کے سامنے "چغد” بنے بیٹھے رہیں اور بعد میں بھی ان کے احکامات بلکہ اشارہ ابرو پر "چغد” بنے بنے عمل پیرا رہیں تو یہ والی "عیاشی” آپ کو مل سکتی ہے۔۔۔

    یقین مانو نوجوانوں, تمہاری کسی کو نہیں پڑی۔۔۔ تم بجز اپنے یا اپنے ارد گرد موجود رشتہ دار و دوست احباب کے کسی کی فکر میں مت گھلو اور پرائے پھٹے میں کودو کیونکہ ہر کاز, تنظیم, جماعت, انجمن یا ادارے کو صرف تمہاری جوانی, صحت, دولت, علم اور خلوص چاہیے ہوتا ہے اپنا چورن منجن بیچنے اور ٹیکس فری دولت شہرت اور مزے لوٹنے کے لیے وگرنہ کسی کاز, تنظیم, جماعت, انجمن یا ادارے کے ذمہ داران ان مسٹرز اور صاحبان وغیرہ وغیرہ کی اصلیت جاننی ہو کہ یہ کتنے بڑے خدا ترس, خدمت خلق کے جذبات سے سرشار اور خدائی خدمتگار ہیں ان کے ارد گرد موجود رشتہ دار و دوست احباب اور محلے داروں سے جاکر پوچھو۔۔۔ اصلیت جان کر چھٹی کا دودھ نہ یاد آئے تو کہنا۔۔۔

    کچھ لوگ آپ کو پانچ انگلیاں برابر نہیں ہوتیں اور کالی بھیڑوں اور گندی مچھلی والی مثالیں سناکر رام کرنا چاہیں گے لیکن یاد رکھنا کہ یہ سب ہی وہ کالی بھیڑیں اور گندی مچھلیاں ہونگی جنہوں نے "چغد” بننے کے بجائے "چغد” بنانے میں مہارت حاصل کرکے ہر طرح کے فوائد حاصل کیے ہونگے یا کر رہے ہونگے۔۔۔

    جی ہاں, ہر کاز, تنظیم, جماعت, انجمن یا ادارے میں دو طرح کے لوگ ہوتے ہیں لیڈرشپ کی لیئر کے بعد۔۔۔ ایک کہلاتے ہیں "چغد”, جوکہ کسی بھی کاز, تنظیم, جماعت, انجمن یا ادارے کا فیول ہوتے ہیں جبکہ دوسرے کہلاتے ہیں "چغد گَر” یعنی "چغد بنانے والے”, جو کہ کسی بھی کاز, تنظیم, جماعت, انجمن یا ادارے میں لیڈرشپ اور فیول کے درمیان برج کا کردار ادا کرتے اور کسی بھی کاز, تنظیم, جماعت, انجمن یا ادارے کی نرسری چلانے والے ہوتے ہیں اور ان کا سر اور دس انگلیاں کڑاہی میں ہوتی ہیں اور اوپر سے مستزاد یہ کہ انہیں استثنی حاصل ہوتا ہے خواہ ان کے کھاتوں میں کے ٹو پہاڑ جتنی کرپشن نکل آئے, لیڈرشپ کو آپ اول تو ان کے علم اور دستیابی کے بغیر مل نہیں سکتے اور اگر کسی طرح مل لو تو لیڈرشپ آپ کو اتنی بزدلانہ طریقے سے ملے, سنے اور ڈیل کرے گی کہ آپ حیران اور پریشان رہ جائیں گے کہ کیا یہ وہی صاحبان ہیں جو کشتوں کے پشتے لگانے کی بھڑکیں مار مار کر آدھی دنیا میں مشہور و معروف ہیں جبکہ ان کی اوقات یہ ہے کہ اپنے ماتحت چند "چغد گَروں” کی کرپشن پر ہاتھ نہیں ڈال سکتے, بے بس اور معذور و مجبور ہیں۔۔۔ تب آپ اپنی تمام ریاضت اور محنت اور کاز, تنظیم, جماعت, انجمن یا ادارے اور ان کی لیڈرشپ پر دو حرف بھیج کر آجائیں گے اور روزانہ سوچیں گے کہ

    "کیوں۔۔۔ آخر میں ہی کیوں؟”

    تو اس کا دو ٹوک جواب ہے کہ

    "تم چغد ہو اس لیے تم ہی, ہاں تم ہی”

    دیکھو بھئی بڑا سیدھا فنڈا ہے کسی کاز, تنظیم, جماعت, انجمن یا ادارے میں رہ کر ترقی و خوشحالی کی منازل طے کرنا کہ تم جاتے وقت بیشک "چغد” تھے لیکن ساری عمر وہاں "چغد” بنے رہے اور "چغد گَر” نا بنے تو تم ہی قصور وار ہو لہذا اگر تم "چغد گَر” نہیں بن سکتے تو پھر اوپر لکھے چار اصولوں کی روشنی میں اپنے ارد گرد موجود رشتہ دار اور دوست احباب کے ساتھ منسلک رہو بجائے کسی کاز, تنظیم, جماعت, انجمن یا ادارے سے منسلک ہونے کے, کیونکہ یہ دنیا ہی اور ہے, یہ کہلاتی ہے "چغد” اور "چغد گَروں” کی دنیا, جس کے اسرار و رموز ہی اور ہیں جو آپ کو سمجھ آگئے تو آپ "چغد گَر” ورنہ آپ سے بڑا "چغد” نہ کوئی تھا, نہ ہے اور نہ ہوگا!!!