Baaghi TV

Category: معاشرہ و ثقافت

  • نصیر آباد کے عوام بندوق اور بددعا کی زد میں

    نصیر آباد کے عوام بندوق اور بددعا کی زد میں

    نصیر آباد کے عوام بندوق اور بددعا کی زد میں

    گستاخی معاف/ محبوب علی مگسی

    بلوچستان کے ضلع نصیر آباد کے عوام کی اکثریت تو خوش نصیب ہے کہ وہ قبائلی سرداروں ، نوابوں،پیروں اور گدی نشینوں کی دسترس سے باہر ہیں لیکن اس کے باوجود ایک کثیر تعداد قبائلی سرداروں، نوابوں، پیروں اور گدی نشینوں کے شکنجے میں کسے ہوئے ہے وہ اپنے سرداروں اور مرشدوں سے دور ہوتے ہوئے بھی ان کی رینج میں ہیں ۔ ایسے افراد پر اس وقت ایک طرح کی مصیبت ٹوٹ پڑتی ہے جب بلدیاتی یا عام انتخابات کا انعقاد ہوتا ہے۔ ضلع نصیر آباد میں جو قبائلی سردار یا سید آباد ہیں وہ اس سوچ کے حامل نہیں یا پھر اس پوزیشن میں نہیں ہیں کہ اپنے قبیلے کے افراد یا اپنے مریدین اور عقیدتمندوں کو زبردستی بھیڑ بکریوں کی طرح ہانک کر ان سے اپنی مرضی کے مطابق ووٹ حاصل کریں یا انہیں ووٹ دلانے کیلئے فروخت کریں مگر نصیر آباد سے باہر چند ایک ایسے بلوچ سردار اور کچھ گدی نشین ہیں جو کہ دور رہ کر بھی اپنے قبیلے کے افراد یا اپنے مریدوں کو اپنے حکم کے مطابق چلانے کی قوت اور طاقت رکھتے ہیں ۔

    ان کی ایک کال یا ایک پیغام پر ان کے قبیلے کے افراد اور مریدین اپنا ووٹ ان کے قدموں میں ڈال دیتے ہیں اور ان کی مرضی کے مطابق اپنا ووٹ استعمال کرتے ہیں ایسے بہت کم افراد ہیں جو کہ اپنے سرداروں اور اپنے پیر و مرشد کے ناجائز احکامات کو ماننے سے انکار کرتے ہوئے اپنے ضمیر اور اپنی مرضی کے مطابق اپنا ووٹ استعمال کرتے ہیں لیکن اکثر لوگ سرداروں کے گن پوائنٹ اور گدی نشینوں کی بد دعا سے ڈرتے ہیں ۔

  • گیارہ سالہ نسرینہ کی دکھ بھری داستان،تحریر:اکمل خان قادری

    گیارہ سالہ نسرینہ کی دکھ بھری داستان،تحریر:اکمل خان قادری

    لنڈی کوتل کی گیارہ سالہ بچی نسرینہ (فرضی نام) اپنے خاندان کی واحد کفیل ہے جو اپنے خاندان کی کفالت کے لیے پاک افغان طورخم سرحد پر زمانے کی سختیاں جھیلتے ہوئے محنت مزدری کررہی ہے جوپل صراط سے کم نہیں ایک بم دھماکے میں والد کی وفات کے بعد خاندان کی کفالت کی ذمہ داریاں نبھاتے ہوئے زندگی بیت رہی ہے جس روزمزدری نہ ملے اس دن پورا خاندان فاقہ کرنے پر مجبورہوتا ہے۔

    پاک افغان بارڈر طورخم پر بڑی تعداد میں چھوٹے چھوٹے بچے اور بچیاں محنت مزدوری کرتے ہوئے نظر اتے ہیں جس میں ہر ایک کی کہانی اپنی جگہ پر ایک منفرد اور انوکھی حیثیت رکھتی ہے جبکہ 11سالہ بچی نسرین (فرضی نام)کی کہانی کچھ الگ تھلگ ہے کیونکہ وہ محنت مزدری بھی کرتی ہے اور گھر کاکام کاج بھی ان کے ذمہ ہے۔ وہ کہتی ہے کہ 2015 میں کابل میں ایک دھاکہ میں ان کا والد جاں بحق ہوگیا اس وقت ان کی عمر پانچ سال تھی تاہم میری ماں نے گھر چلانے کے لیے آستین چڑھالی اوروہ دوسروں کے گھروں میں کام کاج کرکے پیٹ پالتی تھی میں بھی ان کے ساتھ جاتی تھی مگرآہستہآہستہ ماں کی صحت خراب ہورہی تھی اور ڈاکٹروں نے ان کی بیماری کو دمہ کی بیماری قرار دیدیا اور یوں 2021میں میری ماں کی صحت جواب دے گئی اور میں نے طورخم سرحد پر سامان لیجانے اور لانے کی محنت مزدوری کرنے کا فیصلہ کر لیا کیونکہ ہمارے پاس دوسرا آپشن نہیں تھا۔

    وہ کہتی ہے کہ طورخم سرحد پار کرنا ان کے لیے جان جوکھوں کے کام سے کم نہیں ہے کیونکہ کبھی کبھی ہم سرحد پر تعینات اہلکار کے ہاتھوں تشدد کا نشانہ بھی بنتے ہیں جو بہت ازیت ناک ہوتی ہے۔وہ کہتی ہے کہ دو لمحے ان کے لیے انتہائی دکھ درد بھری ہوتے ہیں ایک یہ کہ جس دن دیہاڑی نہ ملے اور دوسرا یہ کہ جب کمیشن کار انہیں وقت پر ان کو ان کی دیہاڑی کے پیسے نہ دے تو ایسی حالت میں گھر کو خالی ہاتھ واپس لوٹنا پڑتا ہے جس سے ہمارے گھر میں فاقہ ہوتا ہے۔

    نسرین مزید کہتی ہے کہ محنت مشقت سے واپسی پر گھر کاکام بھی وہی کرتی ہے کیونکہ ان کی ماں بستر پر پڑی دمہ میں مبتلا مریضہ ہے کھانا بنانا، روٹی پکانا،برتن اور کپڑے دھونا،جھاڑو دینا ماں کو وقت پر دوائی دینا یہ سب ان کے ذمہ ہیں۔ وہ کہتی ہے کہ جس دن ان کا والد دھماکہ کی زد میں آیا اس سے ایک ماہ پہلے ان کی ایک بہن پیدا ہوئی تھی جب کہ بہن سے ایک سال چھوٹاایک بھائی بھی ہے جن کی عمریں اب علی الترتیب 8اور 9سال کی بنتی ہیں تاہم وہ دونوں جسمانی طورپر معذور ہیں جو پڑھنے کے قابل ہیں اور نہ میری طرح کا کام کاج کا۔ وہ کہتی ہے کہ نو سال میں، میں نے بھی محنت مشقت شروع کی تھی اگر میری بہن جسمانی طورپر آج ٹھیک ہو تی تو وہ بھی میرے ساتھ کام پر جاتی اور میرا ہاتھ بٹاتا۔

    قصور کے بعد تلہ گنگ میں جنسی سیکنڈل. امام مسجد کی مدرسہ پڑھنے والی بچیوں کی ساتھ زیادتی

    سوشل میڈیا چیٹ سے روکنے پر بیوی نے کیا خلع کا دعویٰ دائر، شوہر نے بھی لگایا گھناؤنا الزام

    سابق اہلیہ کی غیراخلاقی تصاویر سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کرنے والے ملزم پر کب ہو گی فردجرم عائد؟

    ‏سوشل میڈیا پرغلط خبریں پھیلانا اورانکو بلاتصدیق فارورڈ کرنا جرم ہے، آصف اقبال سائبر ونگ ایف آئی اے

    سوشل میڈیا پر جعلی آئی ڈیز کے ذریعے لڑکی بن کر لوگوں کو پھنسانے والا گرفتار

    کرونا میں مرد کو ہمبستری سے روکنا گناہ یا ثواب

    جب ان سے سوال کیا گیا کہ بہت سی بچے گاڑیوں کے نچے اکر کچل گئے متعدد ذخمی ہوگئے ہیں دوسری طرف تشدد کے واقعات بھی اپ کے سامنے ہیں تو ایسے حالات میں اپ کو ڈر نہیں لگتی تو انہوں نے بتایا کہ یہ ڈر کم، ڈر وہ بہت زیادہ ہے کہ جس دن میں گھر کچھ لے نہ جاوں ماں کے لیے دوائی کا بندوبست نہ کرو اس لیے میں نہیں ڈرتی۔وہ کہتی ہے کہ مجھے پڑھنے کا بہت شوق ہے تاہم وہ ایک خواب ہوکر رہ گیا ہے آخر میں انہوں نے بہت آہ کے ساتھ کہا کہ کھیل کود کے لیے بھی وقت نہیں ہے۔

    اس کے علاوہ رحیم گل (فرضی نام)کی ایک دس سالہ بیٹی بھی طورخم میں محنت مزدوری کرتی ہے جب ان کے والد سے پوچھا گیا کہ یہ بچی کے سکول جانے کا وقت ہے اپ کیوں اپنی بیٹی محنت مشقت کے لیے بھیجتے ہیں تو انہوں نے کہا کہ میں دونوں ٹانگوں سے معذور ہوں اگر میری یہ بیٹی کام پر نہ گئی تو ہمیں کھانے کو کچھ نہ ملے گااس کمر توڑ مہنگائی میں گھر کے اور بھی بہت سی ضروریات اور لوازمات ہیں جن کو پورا کرنا اسان کام نہیں ہے جب ان کی بیٹی قدسیہ (فرضی نام) سے پوچھا گیا کہ محنت مزدوری کرتے ہوئے آپ کوڈر نہیں لگتا کیونکہ اپ جتنی عمر کی لڑکیاں سکول جاتی ہیں اور کھیلتی ہیں تو انہوں جواب دیا کہ میری سب سے بڑی خوشی یہ ہے کہ شام کو میں اپنے معذور والد کے ہاتھ میں دن بھر کی کمائی کا پیسہ تھما دوں ۔


    پاک افغان طورخم سرحد پر تعینات اہلکاروں کے تشدد اور پکڑنے سے بچنے کے لیے بچے اور بچیاں بڑی گاڑیوں کے نیچے چھپتے ہیں جن کے ہاتھوں میں سامان بھی ہو تا ہے۔ مگر وہ دنیا و ما فیہا سے بے خبر ٹائر وں کی زد میں آ کر کچل بھی جاتے ہیں ۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 2022 سے لیکر اب تک 6 بچے اس طرح کے حادثات میں جاں بحق جبکہ 10سے زائد ذخمی ہوئے ہیں۔ طورخم سرحد پر چائلڈ لیبر کم کرنے کے لیے کئی این جی اوز نے کام شروع کیا تھا مگر سب اپنا مشن ادھورا چھوڑ کر چلے گئے چائلڈ لیبر میں مصروف بچوں اور بچیوں کے لیے سکول قائم کیاگیا تھا انہیں عصر حاضر کی تعلیم دلوانے کا وعدہ کیا گیاتھا مگر وہ ایفائے عہد نہ کر سکا اور نہ بچوں اور بچیوں کی حصول تعلیم کی تشنگی پوری ہو سکی۔

    لاک ڈاؤن ختم کیا جائے، شوہر کے دن رات ہمبستری سے تنگ خاتون کا مطالبہ

    واٹس ایپ کے ذریعے فحش پیغام بھیجنے والا ملزم ہوا گرفتار، کئے ہوش اڑا دینے والے انکشاف

    شادی سے انکار، لڑکی نے کی خودکشی تو لڑکے نے بھی کیا ایسا کام کہ سب ہوئے پریشان

    شوہرکے موبائل میں بیوی نے دیکھی لڑکی کی تصویر،پھر اٹھایا کونسا قدم؟

    خاتون پولیس اہلکار کے کپڑے بدلنے کی خفیہ ویڈیو بنانے پر 3 کیمرہ مینوں کے خلاف کاروائی

    پاکستان میں وفاقی اور خیبر پختون خوا کے صوبائی سطح پر کم و بیش تقریباً 2 0قوانین چائلڈ لیبر کے خاتمہ کے لیے بنائے گئے ہیں اس کے علاوہ چائلڈ لیبر کے خاتمہ کے لیے پاکستان بین الاقوامی سطح پر مختلف فورمز کا پارٹنر بھی ہے مگر بد قسمتی سے پاکستان میں چائلڈ لیبر کا حجم بڑھ رہا ہے کیونکہ ان قوانین پر اس طرح عمل درامد نہیں کیاجا تا جس جذبہ سے وہ وضع کیے گئے تھے۔ ہیومن رائیٹس کمیشن رپورٹ کے مطابق خیبر پختون خوا میں چائلڈ لیبرنگ میں مصروف بچوں اور بچیوں کی تعداد 10لاکھ سے زیادہ ہے۔ پروٹیکشن اف چائلڈ رائیٹس کے ایک این جی او کے ڈائریکٹر عمران ٹکر نے بتایا کہ یہ حکومت کی ذمہ داری بنتی ہے کہ قومی سطح پر چائلڈ لیبر کا ایک جامع سروے کرے کیونکہ بین الاقوامی معاہدوں اور قوانین کو مد نظر رکھتے ہوئے حقیقی ڈیٹا حاصل کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے ان کی تعلیم کے لیے بجٹ کا ایک بڑا حصہ مختص کرنا چاہئے تاکہ ہر بچہ سکول جا سکے کیونکہ صرف تعلیم ہی کے زریعے اس کا خاتمہ ممکن ہے۔ووکیشنل تعلیمی اداروں خواہ رسمی ہو یا غیر رسمی کو قائم کیاجائے اور غربت کے خاتمہ کے لیے ایک پائیدار پروگرام کا اغاذکیاجائے اور ان بچوں کو اس پروگرام کا ہدف بنایاجائے جو چائلڈ لیبر کرتے ہیں یا سٹریٹ میں ہیں۔قوانین پر سختی سے عمل درامد کیاجانا چاہئے انسپیکشن نظام کو مظبوط کرناچاہئے اور بڑی سطح پر اگاہی پروگرامات کا انعقاد کیاجائے کہ بچوں اور بچیوں کو کام کی بجائے سکولوں کو بھیجا جائے۔

  • نیکی کا زمانہ ہی نہیں ،تحریر: ریحانہ جدون

    نیکی کا زمانہ ہی نہیں ،تحریر: ریحانہ جدون

    ہمارا جسم ہمارا hard ware ہے جس میں دل دماغ اور باقی جسمانی اعضاء شامل ہیں
    اللہ نے ہمیں hard ware دیا ہوا ہے اب اس میں software ہم نے ڈالنا ہے
    جس طرح کا software ڈالیں گے اسی طرح ہمارا سسٹم چلے گا اور اسی طرح ہمارے ایکشن ہونگے

    نیکی کا زمانہ ہی نہیں ہے
    یہ جملہ آپ نے اپنی زندگی میں ایک دفعہ تو ضرور سنا ہوگا
    کوئی ایک تجربہ جب آپ نے کسی کے ساتھ نیکی کی ہو یا کسی کی مدد کی ہو اور اس کے بدلے اس انسان نے بعد میں آپ کی نیکی یا مدد کو پس پشت ڈال کی آپ سے برا برتاؤ کیا ہو یا آپکی اچھائی کے بدلے دوسروں سے آپکی غیبت کی ہو یا کسی وجہ سے آپ کا دشمن بن گیا ہو… تو ایسے مقام پر آپ یا دوسرے لوگ ضرور کہتے ہونگے کہ اس کے ساتھ نیکی کرنی ہی نہیں چاہیے تھی.,
    ہم ایسا کیوں کہتے ہیں یا دوسرے لوگ ایسا کیوں کہتے ہیں ؟؟کیونکہ ہم بھول جاتے ہیں کہ جزا اور سزا کا اختیار صرف اللہ کے ہاتھ میں ہے کسی انسان کے ہاتھ نہیں, اور ہم دنیا کے مادی اور فانی چیزوں میں تو ایک دوسرے کے مقابلے میں کھڑے ہو جاتے ہیں لیکن کبھی ہم نے یہ سوچا ہے کہ خیر و بھلائی کے کاموں میں بھی دوسروں سے جیتنا چاہییے .جب ہم نیکی اللہ کی رضا کی نیت سے کرتے ہیں تو اس کے بدلے کا یقین بھی اللہ پر رکھنا چاہیے ناکہ ہر نیکی کے پیچھے کوئی نہ کوئی دُنیاوی مفاد کار فرما ہو,
    جب آپ اللہ کی رضا کے لئے کسی کے ساتھ نیکی کرتے ہیں تو وہ اللہ کے ہاں ریکارڈ ہوجاتی ہے. ہمارا جسم ہمارا hard ware ہے جس میں دل دماغ اور باقی جسمانی اعضاء شامل ہیں اللہ نے ہمیں hard ware دیا ہوا ہے اب اس میں software ہم نے ڈالنا ہے جس طرح کا software ڈالیں گے اسی طرح ہمارا سسٹم چلے گا اور اسی طرح ہمارے ایکشن ہونگے اگر آپ نے software اپنے دماغ میں ڈالا ہوا ہے کہ (نیکی کا تو کوئی زمانہ ہی نہیں…) تو آپ واقعی میں کوئی نیکی نہیں کرو گے , آپ کسی کی مدد نہیں کریں گے اور نیکیوں کے مواقع ضائع کر دیں گے جو ایمان کی کمزوری بھی ہے دوسروں کے دکھ درد کا احساس نہیں ہوگا بےحسی آپ کے اندر اپنا ٹھکانہ بنا لے گی. آپ کے اعمال پر آپ کے belief system کا بہت گہرا اثر ہوتا ہے اس لئے اپنا belief system بدلیں

    صحابہ کرام اپنے وقت میں ایک دوسرے سے زیادہ نیکیاں کمانے میں مقابلہ کیا کرتے تھے کیونکہ ان کا یقین تھا کہ ان کی نیکیاں اللہ ریکارڈ کر رہا ہے. ہمیں بھی چاہیے ہم کبھی بھی نیکی کا موقع ہاتھ سے جانے نہ دیں, اگر کسی کو مدد کی ضرورت ہے تو اس کی ضرور مدد کریں جیسا کہ اللہ نے فرمایا کہ نیکیوں میں ایک دوسرے سے آگے بڑھو. اور دیکھا جائے تو بے شمار نعمتیں اللہ نے ہماری بھلائی کے لئے عطا کی ہیں اور اس کا بدلہ وہ ہم سے کچھ نہیں چاہتا.. خدا کے بندوں سے نیکی کرنا اللہ کو بہت پسند ہے اور جو لوگ اللہ کے بندوں سے محبت کرتے ہیں وہ اللہ کے دوست ہوتے ہیں.
    روایت ہے کہ
    تم زمین والوں پر رحم کرو, آسمان والا تم پر رحم فرمائے گا.
    بخاری اور مسلم کی روایت ہے کہ جو بندوں پر رحم نہیں کرتا اللہ بھی اسے اپنی رحمت سے محروم کر دیتا ہے.
    اس لئے ضرورت مندوں سے محبت اور ہمدردی کریں اور ان کی ضرورتوں کو پورا کرنے میں مدد کریں تاکہ اللہ کی رضا حاصل ہو.
    @Rehna_7

    قصور کے بعد تلہ گنگ میں جنسی سیکنڈل. امام مسجد کی مدرسہ پڑھنے والی بچیوں کی ساتھ زیادتی

    سوشل میڈیا چیٹ سے روکنے پر بیوی نے کیا خلع کا دعویٰ دائر، شوہر نے بھی لگایا گھناؤنا الزام

    سابق اہلیہ کی غیراخلاقی تصاویر سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کرنے والے ملزم پر کب ہو گی فردجرم عائد؟

    ‏سوشل میڈیا پرغلط خبریں پھیلانا اورانکو بلاتصدیق فارورڈ کرنا جرم ہے، آصف اقبال سائبر ونگ ایف آئی اے

    سوشل میڈیا پر جعلی آئی ڈیز کے ذریعے لڑکی بن کر لوگوں کو پھنسانے والا گرفتار

    کرونا میں مرد کو ہمبستری سے روکنا گناہ یا ثواب

    لاک ڈاؤن ختم کیا جائے، شوہر کے دن رات ہمبستری سے تنگ خاتون کا مطالبہ

    واٹس ایپ کے ذریعے فحش پیغام بھیجنے والا ملزم ہوا گرفتار، کئے ہوش اڑا دینے والے انکشاف

    شادی سے انکار، لڑکی نے کی خودکشی تو لڑکے نے بھی کیا ایسا کام کہ سب ہوئے پریشان

    شوہرکے موبائل میں بیوی نے دیکھی لڑکی کی تصویر،پھر اٹھایا کونسا قدم؟

    خاتون پولیس اہلکار کے کپڑے بدلنے کی خفیہ ویڈیو بنانے پر 3 کیمرہ مینوں کے خلاف کاروائی

  • رمضان ، عوام اور مہنگائی

    رمضان ، عوام اور مہنگائی

    رواں برس رمضان المبارک میں پہلی بار ایسا کچھ دیکھنے کو مل رہا ہے جو قربانی والی عید پر دیکھنے کو ملتا، رمضان میں راشن کے حصول کے لئے کل ایک ہی روز میں 10 سے 12 لوگوں نے میرے دروازے پر دستک دی،افسوسناک بات یہ کہ دیکھنے میں وہ غریب نہیں تھے، چھوٹے بچے، عورتوں کے ساتھ مرد تھے،جنہیں ہم لوئر مڈل کلاس کہتے ہیں، یقینا وہ اس علاقے میں کام کرنیوالی ملازمائیں ہوں گی یا سابقہ ملازمائیں جن کی کالز آتی ہیں رمضان میں راشن پیکج کے لئے،

    شہری علاقوں میں خوراک کی افراط زر کی شرح 42 فیصد ہو چکی ، چیزیں بہت مشکل ہو چکی صرف غریبوں کے لئے نہیں بلکہ جو اوپر کا طبقہ ہے وہاں بھی یہی صورتحال ہے، گھر، کاریں سب موجود ہے لیکن گھر کے اندر ملازموں کی تعداد کم کر دی گئی، ڈرائیور چلے گئے، گاڑیاں دھونے کے لئے قریبی علاقے کا لڑکا آ جاتا ہے، باروچی جو مستقل ملازم تھے انکو جزوقتی کر دیا گیا ہے،

    مالی مشکلات کی وجہ سے رمضان المبارک ایک آزمائش بن جاتا ہے،خود ساختہ مہنگائی بھی رمضان میں ہو جاتی ہے، اشیاء کی قیمتیں دکاندار تو من مانی قیمتوں پر فروخت کرتے ہی ہیں تا ہم اس بار رمضان کے آغاز سے حکومت نے بھی کچھ ایسا ہی کام کیا، آٹے کی قیمت جو رمضان سے قبل دس کلو کے تھیلے کی 650 روپے سرکاری قیمت تھی وہ رمضان کے آغاز سے حکومت نے قیمت بڑھائی اور اب وہی دس کلو کا سرکاری آٹا 1150 روپے میں مل رہا ہے،گروسری سٹور سمیت کوئی ایسی جگہ نہیں جو رعایتی نرخوں پر چیزیں فروخت کرے،لاہور ، اسلام آباد اور پنڈی میں سستی ایرانی مصنوعات میسر ہیں،گروسری سٹور میں ایرانی سامان موجود ہوتا ہے جس میں تیل اور پنیر بہت مشہور ہے، سامان بلوچستان ایران سرحد کے راستے لایا جاتا ہے، ایرانی مصنوعات پہلے بلوچستان اور لیاری کراچی میں ملتی تھیں لیکن اب دیگر شہروں میں بھی مل رہی ہیں

    ایک چیز جس پر ہمیں غور کرنا چاہیے کہ کھانے پینے کی اشیاء مہنگی ہونے کی وجہ سے زیادہ تر لوگ کم ڈشز بنا رہے ہیں۔ سحر اور افطار کی تیاری کم کی جا رہی ہے لیکن اب بھی ایسے لوگ موجود ہیں جو افطاری کے بعد نماز کے لیے وقفہ کرتے ہیں اورپھرنمازکے بعد اسی طرح ہی ڈنر کرتے ہیں،اور پھر سحری کے لیے خصوصی پکوان تیار کیے جاتے ہیں۔ہمیں اپنے آپ سے سوال کرنے کی ضرورت ہے کہ کیا یہ اسلام کی روح ہے؟ کیا روزے کا مطلب یہ ہے کہ روزے سے پہلے اور بعد میں دس مختلف پکوانوں کے ساتھ سحری و افطاری کی جائے؟ ہم کیوں پکوانوں اور ڈشز کی طرف جاتے ہیں ، کسی عام کھانے سے روزہ کیوں نہیں کھولتے، جیسے سادہ افطاری کریں اور اسکے بعد ون ڈش ڈنر ہو، اگر کسی کو بہت کچھ نصیب ہو تو کیا وہ اسلام کی روح کو مدنظر رکھتے ہوئے اس رقم کو غریبوں کو کھانا کھلانے کے لیے استعمال نہ کرے؟

  • بامقصد نشست معاشرتی ترقی کی ضمانت،تحریر:طلحہ ملک

    بامقصد نشست معاشرتی ترقی کی ضمانت،تحریر:طلحہ ملک

    ماضی قریب کی بات ہے کہ لوگ اپنے روز مرہ معاملات سے فارغ ہو کر شام میں مل بیٹھا کرتے اور دن بھر کا بوجھ ہلکا کرنے کے لیے دوست احباب سے خوش گپیاں لگاتے، اب کی نسبت بہت اچھا دور تھا لوگ زیادہ پڑھے لکھے بھی نہ تھے مگر سلجھی ہوئی گفتگو کرتے بہت سے لوگ اپنی ان بیٹھکوں سے بہت کچھ سیکھتے باہم مل بیٹھنے سے جن تجربات اور مشاہدات کو اخذ کرتے انہیں لکھ لیا کرتے یا بہتر خوبیوں کو زندگی میں ڈھال لیا کرتے یوں ان کی یہ بیٹھکیں ان کے لیے مفید ثابت ہوا کرتیں

    وقت نے ایک دم سے کروٹ لی اور موبائل انٹرنیٹ کا دور آیا فلموں ڈراموں سے بچوں نے جو سیکھا اسے اپنی زندگی کا حصہ بنا لیا چائے ڈھابے کی جگہ سینیما گھروں یا پان سگریٹ کے اڈوں نے لے لی دن بھر کی تھکان اتارنے کے مقصد سے کی جانے والی باتوں کی جگہ گالی گلوچ اور فحش گوئی نے لے لی۔ دیکھا جائے تو اس زمانے اور اُس زمانے میں بہت زیادہ گیپ موجود نہیں اگرچے ہم نے اُن ڈھابوں پر لگی با مقصد بیٹھکوں جس نے بہت سے ادیب و شعرا کو جنم دیا میں شمولیت اختیار نہیں کی مگر ابھی ایسے لوگ موجود ہیں جنہوں نے ایسی مجالس سے استفادہ کیا ہے اور اپنی کامیابی کا لوہا منوایا ہے مگر افسوس اس بات پر ہے کہ نوجوان نسل نے اپنا مقابلہ اپنے سے بہتر لوگوں کے ساتھ کرنے کے لیے روایات کو ترک کر کے مادیت کو پسند کیا اور عام سادے اور کچے گھروں میں رہنے والے نوجوان بھی اسی پان شاپ یا کسی ایسی جگہ پر بیٹھنا پسند کرتے ہیں جہاں ان کی پہنچ بھی بہ مشکل ہوتی ہے شوق نوابوں والے اور عادتیں خرابوں والی اپنا لیتے ہیں ان میں عام طور پر ایسے نوجوان موجود ہیں جن کے والدین مذہبی گھرانے سے تعلق ہونے پر فخر محسوس کرتے ہیں اور صاحبزادہ گھر سے باہر امیروں کی بیٹھکوں میں بیٹھ کر شیشہ پینے، گلیوں میں آوارہ گردی کرنے پان تھوکنے اور قہقہے لگانے میں فخر محسوس کرتا ہے۔

    اگرچے زمانہ بدل چکا ہے اور اس زمانے کے ساتھ ترقی کرنا بھی ضروری ہے مگر ایسا نہیں کہ آپ اچھی اور بُری مجلس کی سوجھ بوجھ ہی نہیں رکھتے ہر دور میں اچھائی اور برائی کے پہلو موجود رہے ہیں آج اگر پان شاپس، سنوکر، ویڈیو گیمز یا دیگر اڈے موجود ہیں تو وہیں بہت سی ایسی جگہیں بھی موجود ہیں جو نوجوانوں کے مستقبل کے لیے بہترین تربیت گاہ بن سکتی ہیں اگر ہم کتاب لائبریری یا ای لائبریری کی بات نہ بھی کریں تو وقت گزاری کے لیے آج بھی ہر شہر میں چائے ڈھابے موجود ہیں بلکہ ہم دیکھتے ہیں کہ گذشتہ کچھ عرصے سے اس کا رجہان بڑھتا جا رہا ہے یہ بات ایک طرف تو خوش آئند بھی ہے مگر کسی حد تک مایوس کن بھی کہ اگر چند لوگ بیٹھ کر اچھی گفتگو کر بھی رہے ہوں تو وہ جلدی وہاں سے محض اس لیے اٹھ کر چلے جاتے ہیں کہ قریبی میز پر اونچی آواز سے یا تو کوئی میوزک چلا لے گا یا گالی گلوچ اور فحش گوئی شروع ہو جائے گی وغیرہ

    اگر اب ایسی بیٹھکوں کا رواج عام ہو ہی رہا ہے تو ہمیں چاہیے کہ دیگر لغویات اور فضولیات کی بیٹھکوں کے عوض ان کو اپنا لیا جائے اور اکٹھے بیٹھ کر فضول مباحثے اور سیاست کی بجائے ملکی مفاد میں مثبت گفتگو کی جائے کاروبار کی بہتری کے لیے مشاورتیں کی جائیں ادب و آداب والی مجالس کو دوبارہ بحال کیا جائے تو کم از کم یہ جو چند سال کا خلا آیا ہے شاید یہ پُر ہو سکے

  • "چغد” اور "چغد گَروں” کی دنیا کے اسرار و رموز!!! — بلال شوکت آزاد

    "چغد” اور "چغد گَروں” کی دنیا کے اسرار و رموز!!! — بلال شوکت آزاد

    2005 سے 2022 تک مختلف النوع تجربات, مشاہدات اور مطالعات کے بعد احقر اس نتیجے پر پہنچا ہے کہ

    1-دعوت و اصلاح کے سب سے زیادہ حقدار آپ کے ارد گرد موجود لوگ مطلب رشتے دار اور دوست احباب ہوتے ہیں لہذا لنڈی کوتل وغیرہ یا اس سے بھی آگے تک کسی فلاں ڈھمکاں کو دعوت و اصلاح کی غرض سے جاکر تنگ کرنا معیوب نا صحیح لیکن افضل بھی نہیں۔

    2-خدمت خلق, صلہ رحمی اور ایثار و اخوت کے بھی سب سے زیادہ حقدار آپ کے ارد گرد موجود لوگ مطلب رشتے دار اور دوست احباب ہوتے ہیں لہذا لنڈی کوتل وغیرہ یا اس سے بھی آگے تک کسی فلاں ڈھمکاں کو خدمت خلق, صلہ رحمی اور ایثار و اخوت کی غرض سے جاکر مدد کرنا معیوب نا صحیح لیکن افضل بھی نہیں۔

    3-آزادی, انقلاب, تبدیلی اور ترقی و خوشحالی کے لیے آپ کی جسمانی, روحانی اور نفسانی جد و جہد اور جہاد کے بھی سب سے زیادہ حقدار آپ کے ارد گرد موجود لوگ مطلب رشتے دار اور دوست احباب ہوتے ہیں لہذا لنڈی کوتل وغیرہ یا اس سے بھی آگے تک کسی فلاں ڈھمکاں کی آزادی, انقلاب, تبدیلی اور ترقی و خوشحالی کے لیے آپ کا جسمانی, روحانی اور نفسانی جد و جہد اور جہاد کی غرض سے جانا اور مدد کرنا بھی معیوب نا صحیح لیکن افضل بھی نہیں۔

    4-آپ کی جوانی, صحت, دولت, علم اور خلوص کے بھی سب سے زیادہ حقدار آپ کے ارد گرد موجود لوگ مطلب رشتے دار اور دوست احباب ہوتے ہیں لہذا لنڈی کوتل وغیرہ یا اس سے بھی آگے تک کسی فلاں ڈھمکاں پر آپ کی جوانی, صحت, دولت, علم اور خلوص خرچ کرنا معیوب نا صحیح لیکن افضل بھی نہیں۔

    اپنی زندگی کے اٹھارہ بیس سال گزار کر جو آپ بھی یہی سبق یہی نتیحہ اخذ کریں گے اس سے بہتر ہے کہ ہم سے ہی عبرت حاصل کرلیں, فی زمانہ اوپر درج معاملات میں حد درجہ دلچسپی اور شمولیت وغیرہ سے بڑا فتنہ مجھے تو نظر نہیں آتا۔۔۔ اور پتہ ہے نا کہ فتنوں سے دور بھاگنے کا حکم ہے کیونکہ فتنوں کی سرکوبی کا خیال دل میں پالنا اور متحرک ہونا بھی ایک فتنہ ہی ہے لہذادور دور بہت دور رہنے میں ہی عافیت ہے۔

    کیونکہ آپ کو کسی کاز, کسی تنظیم, کسی جماعت, کسی انجمن یا کسی ادارے سے منسلکیت کی جو قیمت چکانی پڑتی ہے اس میں آپ کی ذاتی و اجتماعی زندگی کے تار و پود بکھرنا تو سر فہرست ہے لیکن کسی بھی مشکل, مصیبت, تنگدستی اور بیماری میں چراغ تلے اندھیرا کے مصداق تہی داماں رہنا پڑتا ہے, سفید پوشی اور انا کے مارے آپ تو منہ نہیں کھولتے لیکن آپ کو چپکی کسی کاز, کسی تنظیم, کسی جماعت, کسی انجمن یا کسی ادارے کی وظیفہ خور جونکیں المعروف عہدیداران و ذمہ دران جو کہ آپ کی جوانی, صحت, دولت, علم اور خلوص کو آپ سے براہ راست کشید کرکے کاز, تنظیم, جماعت, انجمن یا ادارے کو فیول مہیا کرکے اپنے نمبر ٹانگتے ہیں وہ یا تو آپ کی مشکل, مصیبت, تنگدستی اور بیماری کے وقت آپ کو کسی جگہ نظر نہیں آئیں گے یا مروتاً نظر بھی آئیں گے تو آپ کو قرآن و حدیث سے صبر شکر کے یہ لمبے لمبے لیکچر سنا کر آپ کو اُن کی عظمت کا قائل کریں گے, ہاں دو تین درجن کیلے اور موسم کی مناسبت سے دو تین کلو دیگر پھل آپ کو میسر آسکتا ہے اگر آپ ان کے سامنے "چغد” بنے بیٹھے رہیں اور بعد میں بھی ان کے احکامات بلکہ اشارہ ابرو پر "چغد” بنے بنے عمل پیرا رہیں تو یہ والی "عیاشی” آپ کو مل سکتی ہے۔۔۔

    یقین مانو نوجوانوں, تمہاری کسی کو نہیں پڑی۔۔۔ تم بجز اپنے یا اپنے ارد گرد موجود رشتہ دار و دوست احباب کے کسی کی فکر میں مت گھلو اور پرائے پھٹے میں کودو کیونکہ ہر کاز, تنظیم, جماعت, انجمن یا ادارے کو صرف تمہاری جوانی, صحت, دولت, علم اور خلوص چاہیے ہوتا ہے اپنا چورن منجن بیچنے اور ٹیکس فری دولت شہرت اور مزے لوٹنے کے لیے وگرنہ کسی کاز, تنظیم, جماعت, انجمن یا ادارے کے ذمہ داران ان مسٹرز اور صاحبان وغیرہ وغیرہ کی اصلیت جاننی ہو کہ یہ کتنے بڑے خدا ترس, خدمت خلق کے جذبات سے سرشار اور خدائی خدمتگار ہیں ان کے ارد گرد موجود رشتہ دار و دوست احباب اور محلے داروں سے جاکر پوچھو۔۔۔ اصلیت جان کر چھٹی کا دودھ نہ یاد آئے تو کہنا۔۔۔

    کچھ لوگ آپ کو پانچ انگلیاں برابر نہیں ہوتیں اور کالی بھیڑوں اور گندی مچھلی والی مثالیں سناکر رام کرنا چاہیں گے لیکن یاد رکھنا کہ یہ سب ہی وہ کالی بھیڑیں اور گندی مچھلیاں ہونگی جنہوں نے "چغد” بننے کے بجائے "چغد” بنانے میں مہارت حاصل کرکے ہر طرح کے فوائد حاصل کیے ہونگے یا کر رہے ہونگے۔۔۔

    جی ہاں, ہر کاز, تنظیم, جماعت, انجمن یا ادارے میں دو طرح کے لوگ ہوتے ہیں لیڈرشپ کی لیئر کے بعد۔۔۔ ایک کہلاتے ہیں "چغد”, جوکہ کسی بھی کاز, تنظیم, جماعت, انجمن یا ادارے کا فیول ہوتے ہیں جبکہ دوسرے کہلاتے ہیں "چغد گَر” یعنی "چغد بنانے والے”, جو کہ کسی بھی کاز, تنظیم, جماعت, انجمن یا ادارے میں لیڈرشپ اور فیول کے درمیان برج کا کردار ادا کرتے اور کسی بھی کاز, تنظیم, جماعت, انجمن یا ادارے کی نرسری چلانے والے ہوتے ہیں اور ان کا سر اور دس انگلیاں کڑاہی میں ہوتی ہیں اور اوپر سے مستزاد یہ کہ انہیں استثنی حاصل ہوتا ہے خواہ ان کے کھاتوں میں کے ٹو پہاڑ جتنی کرپشن نکل آئے, لیڈرشپ کو آپ اول تو ان کے علم اور دستیابی کے بغیر مل نہیں سکتے اور اگر کسی طرح مل لو تو لیڈرشپ آپ کو اتنی بزدلانہ طریقے سے ملے, سنے اور ڈیل کرے گی کہ آپ حیران اور پریشان رہ جائیں گے کہ کیا یہ وہی صاحبان ہیں جو کشتوں کے پشتے لگانے کی بھڑکیں مار مار کر آدھی دنیا میں مشہور و معروف ہیں جبکہ ان کی اوقات یہ ہے کہ اپنے ماتحت چند "چغد گَروں” کی کرپشن پر ہاتھ نہیں ڈال سکتے, بے بس اور معذور و مجبور ہیں۔۔۔ تب آپ اپنی تمام ریاضت اور محنت اور کاز, تنظیم, جماعت, انجمن یا ادارے اور ان کی لیڈرشپ پر دو حرف بھیج کر آجائیں گے اور روزانہ سوچیں گے کہ

    "کیوں۔۔۔ آخر میں ہی کیوں؟”

    تو اس کا دو ٹوک جواب ہے کہ

    "تم چغد ہو اس لیے تم ہی, ہاں تم ہی”

    دیکھو بھئی بڑا سیدھا فنڈا ہے کسی کاز, تنظیم, جماعت, انجمن یا ادارے میں رہ کر ترقی و خوشحالی کی منازل طے کرنا کہ تم جاتے وقت بیشک "چغد” تھے لیکن ساری عمر وہاں "چغد” بنے رہے اور "چغد گَر” نا بنے تو تم ہی قصور وار ہو لہذا اگر تم "چغد گَر” نہیں بن سکتے تو پھر اوپر لکھے چار اصولوں کی روشنی میں اپنے ارد گرد موجود رشتہ دار اور دوست احباب کے ساتھ منسلک رہو بجائے کسی کاز, تنظیم, جماعت, انجمن یا ادارے سے منسلک ہونے کے, کیونکہ یہ دنیا ہی اور ہے, یہ کہلاتی ہے "چغد” اور "چغد گَروں” کی دنیا, جس کے اسرار و رموز ہی اور ہیں جو آپ کو سمجھ آگئے تو آپ "چغد گَر” ورنہ آپ سے بڑا "چغد” نہ کوئی تھا, نہ ہے اور نہ ہوگا!!!

  • موازنہ کرنا چھوڑ دیجئے!!! — محمد فھد حارث

    موازنہ کرنا چھوڑ دیجئے!!! — محمد فھد حارث

    2019ء میں نئی کمپنی نے ہماری کمپنی کو ایکوائر کیا تو مامون اور ریا کو آفر لیٹر میں تنخواہ دس ہزار درہم بڑھادی جبکہ مجھے صرف ڈھائی ہزار درہم بڑھائے۔۔۔ میرے ساتھ ہی ایسا کیوں ہوتا ہے؟؟؟

    تصویر کا دوسرا رخ: پروفیشنلی مامون مجھ سے دس سال جبکہ ریا پانچ سال سینئر ہے اور یہ دونوں کمپنی میں مجھ سے گیارہ سال قبل سے کام کررہے ہیں۔ لیکن 2011ء میں جب میں نے کمپنی جوائن کی تو پروفیشنلی ان سے جونیر ہونے کے باوجود 8 سال تک مامون کے برابر اور ریا سے زیاددہ تنخواہ لیتا رہا جبکہ انکا اور میرا گریڈ سیم تھا۔۔۔۔۔ تب مامون اور ریا کو کیسا لگتا ہوگا؟؟؟؟

    ارے یہ کیا تیسرا سال ہے اور میرے ماتحت کام کرنے والے احمد کو اپریزل میں 4 ریٹنگ مل رہی ہے جبکہ کئی اچیومنٹس کے باوجود مجھے پچھلے دو سال سے 3 ریٹنگ مل رہی ہے۔۔۔۔۔ میرے ساتھ ہی ایسا کیوں ہوتا ہے؟؟؟

    تصویر کا دوسرا رخ: احمد اور میں پروفیشنل تجربے میں برابر ہیں یعنی پچھلے اٹھارہ سالوں سے ہم ٹیلیکوم انڈسٹری میں کام کررہے ہیں۔ احمد کے پاس انجینیرنگ کے ساتھ ساتھ ایم بی اے کی ڈگری بھی ہے جبکہ میں فقط انجینئر ہی ہوں لیکن اس کے باوجود میں اس سے دو گریڈ سینئر اور اسکا لائن مینجر ہوں۔۔۔۔ احمد کو کیسا لگتا ہوگا؟

    ارے یہ کیا، میرے دوست نے اپنی بیگم کو اس سال شادی کی سالگرہ پر سونے کا سیٹ دیا جبکہ میں تو دوسرے خرچوں کے سبب اس سال بیگم کو کچھ نہ دے سکا۔۔۔۔۔ میرے ساتھ ہی ایسا کیوں ہوتا ہے؟؟؟

    تصویر کا دوسرا رخ: سالوں کوشش اور انتھک محنت کرنے کے بعد دوست کو اس سال اچھی جاب آفر ہوئی اور وہ کم تنخواہ سے زہادہ تنخواہ والی نوکری سوئچ کرسکا۔ اسی سبب اتنے سالوں میں پہلی دفعہ اس نے اپنی بیگم کو اتنا مہنگا تحفہ دیا جبکہ میری جاب تو ہمیشہ اچھی رہی اور شادی کے ہر سال ہی میں کچھ نہ کچھ مہنگا تحفہ بیگم کو دیتا رہتا ہوں۔۔۔۔ جب میں تحفہ دیتا ہونگا اور میرا دوست نہ دے سکتا ہوگا تو اسکو کیسا لگتا ہوگا؟؟؟

    پس خود کا دوسروں سے موازنہ کرنا چھوڑ دیجئے۔ دوسرے کے پاس کیا ہے اور وہ وہاں کن مشکلات سے پہنچا ہے، آپکو اسکا ادراک کبھی نہیں ہوسکتا۔ آپ جس جگہ موجود ہیں، وہ آپ کے لیے اللہ کی طرف سے ودیعت بہترین جگہ ہے۔ جو احسان مالک نے آپ پر کر رکھا ہے، دوسرے اسے رشک کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ پس جو ہے جیسا ہے اس پر خوش و مطمئن رہنا سیکھیے۔ جو نہیں ہے، اس کی کڑ کڑ میں لگے رہے تو زندگی جہنم بن جائے گی۔ یہ مت دیکھیے کہ آپ کے پاس کیا نہیں ہے؟ بلکہ یہ دیکھیے کہ آپ کے پاس وہ کیا کیا ہے جس سے دوسرے محروم ہیں جبکہ عقل و جسم، پڑھائی و ٹیلنٹ میں وہ آپ سے کسی طور کم نہیں۔

  • روایات کی طرف لوٹ آئیں!!! — ڈاکٹرعدنان نیازی

    روایات کی طرف لوٹ آئیں!!! — ڈاکٹرعدنان نیازی

    میری دو دن قبل والی تحریر پڑھ کرکل ایک دوست نے اپنی سٹوری سنائی۔ اسے دوسرے ذرائع سے کنفرم کر کے لکھ رہا ہوں۔

    وہ بتانے لگے کہ میرے والدین دوسرے شہر میں ہیں۔ مجھے جاب کے سلسلے میں فیصل آباد رہنا ہے تومیں نے شادی بھی یہیں کرنے کا سوچا۔ مختلف رشتہ داروں، جان پہچان والوں اور رشتہ سنٹرز کو رشتے کے لیے کہا۔ چونکہ میری جاب بہت اچھی ہے، تنخواہ لاکھوں میں ہونے کی وجہ سے رشتہ ڈھونڈھنا کچھ خاص مشکل نہیں تھا۔ میں نے سب رشتہ کرانے والوں کو صاف صاف بتا دیا تھا کہ مجھے جاب والی لڑکی نہیں چاہیے۔ مجھے گھریلو لڑکی چاہیے ، چاہے اس کی تعلیم کم ہی کیوں نہ ہو۔ مجھے باہر کے کھانے نہیں پسند تو اسے کھانا بنانا بھی آنا چاہیے، جہیز مجھے بالکل ہی نہیں چاہیے بس میری طرح شریف ہوں، اخلاق اچھا ہو۔

    ایک جگہ بات تھوڑی آگے بڑھی تو والدین کے ساتھ دیکھنے گئے۔ وہاں کھانا بھی بہترین پیش کیا گیا۔ ہر چیز پر کہا گیا کہ میری ہونے والی بیوی نے ہی بنایا ہے۔ باقی سب کچھ بھی والدین کو اور مجھے پسند آیا تو یہ رشتہ طے ہو گیا۔

    شادی کے بعدجب اسے فیصل آباد اپنے ساتھ لایا تو اس نے بتایا کہ مجھے تو کچھ بھی بنانا نہیں آتا۔ میں نے پوچھا کہ پھر شادی سے قبل آپ کے گھر والوں نے کیوں کہا تھا کہ سب آپ نے بنایا ہے۔

    وہ بتانے لگی کہ رشتہ کروانے والوں نے کہا تھا کہ کھانے کا اچھا انتظام کر لینا اور کہہ دینا کہ لڑکی نے بنایا ہے سب۔ رشتہ ہو جائے گا تو پھر کون ان باتوں کو دیکھتا ہے۔ لاکھوں میں تنخواہ ہے لڑکے کی۔ وہ نوکرانی کا انتظام بھی کر ہی لے گا۔ تو امی اور خالہ نے مل کر بنایا اور کہا کہ میں نے بنایا ہے۔

    وہ دوست کہنے لگے کہ مجھے اس جھوٹ پر غصہ تو آیا مگر اب شادی ہو چکی تھی۔ اس لیے اپنی بیوی سے کہا کہ چلیں اب سیکھ لیں۔ یہ کوئی اتنا مشکل کام نہیں ہے۔ کچھ یو ٹیوب سے مدد لیں، کچھ امی ہے۔ کچھ کام والی بتا دے گی اور مدد بھی کروائے گی۔ لیکن آپ سیکھ لیں۔ مجھے نہ باہر کے کھانے پسند ہیں اور نہ ہی کام والی یہ اچھے سے کرتی ہے۔ لیکن میری بیوی نے اس پر کوئی توجہ ہی نہیں دی۔ پہلے میں پیار سے سمجھاتا رہا، پھر تھوڑا غصہ کیا مگر اسے تو گویا کچن میں جانے سے ہی چڑ تھی۔

    چھ ماہ تک گزارا کیا مگر جب اس نے اس معاملے میں بالکل ہی کوئی بات ماننے سے انکار کر دیا تو مجبوراً اسے میکے بھجوا دیا کہ شاید کچھ حالات بہتر ہوں۔ چار پانچ ماہ وہاں رہی لیکن اس کے والدین کا بھی یہی کہنا تھا کہ ہم نے بیٹی کی شادی کی ہے، نوکرانی بنا کر نہیں بھیجا کہ آپ کے لیے کھانے بنائے۔

    بیچ میں بزرگوں کو ڈالا تاکہ معاملہ سلجھ سکے ۔ مزید تین چاہ ماہ کے لیے اسے لے آیا۔ یوں ایک سال گزر گیا لیکن وہ اس پر بالکل بھی راضی نہ ہوئی۔

    وہ دوست افسردہ لہجے میں کہنے لگے کہ جب بالکل ہی کوئی صورت نہ رہی تو میں نے ایک طلاق دے کر گھر بھیج دیا کہ شاید اس سے ہی کوئی فرق پڑے اور وہ کچھ لچک دکھائے۔ عدت تک انتظار کیا لیکن ان کی طرف سے ایسی کوئی کوشش نہیں کی گئی۔

    اس کے بعد میں نے دوسری شادی کی سوچا۔دوسری شادی تھی تو اچھی نوکری اور تنخواہ کے باوجود اب کی بار رشتہ ڈھونڈھنے میں بہت زیادہ مشکل پیش آئی۔ اب کی بار جہاں بھی رشتے کی بات چلی تو میں نے ہر جگہ یہ بھی شرط رکھی کہ ہونے والی بیوی سے گھر والوں کی موجودگی میں خود بھی یہ بات کروں گا۔جہاں بھی بات چلی تو پہلی شادی کی ناکامی کی وجہ ضرور بتائی تاکہ دوسری ناکام نہ ہو۔

    دوسرا یہ کہ پہلے منگنی کی، کچھ عرصہ منگنی رہی۔ پھر گھر والوں کو بہنوں کو کہا کہ ان کے گھر اس دوران جائیں اور دیکھیں کہ وہ کچھ بناتی بھی ہے یا پھر سے ویسا ہی نہ ہو ۔ پھر جا کر دل مطمئن ہوا اور اب اللہ کا شکر ہے کہ دوسری شادی کے بعد میرا گھر پرسکون چل رہا ہے۔ میں اپنی بیوی کا خیال رکھتا ہوں اور وہ میرا۔

    وہ دوست بتانے لگے کہ آج کل جاب والی لڑکی کا رشتہ تو بآسانی مل جاتا ہے، والدین لاکھوں کا جہیز بھی دینے کو تیار ہوتے ہیں لیکن گھر سنبھالنے کی بات کریں تو ایسے گھورتے ہیں جیسے پتہ نہیں کتنی غلط بات کر دی ہے۔ حالانکہ یہ کتنا خوبصورت نظام ہے کہ میاں بیوی زندگی اچھے سے گزارنے کے لیے مل کر رہیں، مرد باہر کے کام بہت احسن طریقے سے کر سکتا ہے تو وہ کمانے کی ذمہ داری نبھائے، باہر کے سارے کام کرے اور عورت گھر کے اندر کے سارے معاملات کو دیکھے۔

    ہمارے والدین کی زندگیوں میں اسی وجہ سے سکون تھا اور کم پیسے میں بھی سب بہترین چلتا رہا۔ اب پیسے کی دوڑ میں دونوں کمانے کے چکروں میں اپنا سکون ہی برباد کر بیٹھے ہیں۔ نہ بچوں کو توجہ، پیار ملتا ہے نہ شوہر کا خیال رکھ پاتی ہے۔لیکن عورت جاب بھی کرتی ہو تب بھی گھر کے کاموں کا اضافی بوجھ بھی اسی پر ہوتا ہے۔ کاش کہ ہم پیسے کے لالچ کی بجائے اپنی روایات کی طرف لوٹ آئیں اور پرسکون زندگی گزاریں۔

  • نعمتوں کی قدر — انجنئیر ظفر اقبال وٹو

    نعمتوں کی قدر — انجنئیر ظفر اقبال وٹو

    کووِڈ کے دوران ایک سینئیر پروفیشنل انجنئیر خلیجی ملک سے اپنی نوکری سے فارغ ہوگئے اور کئی ماہ بے روزگار رہنے کے بعد بالآخر ہماری فرم میں ایک منیجمنٹ پوزیشن کے لئے منتخب ہوگئے۔ پراجیکٹ سائٹ ان کے گھر ملتان سے دو گھنٹے کے فاصلے پر ایک ضلعی ہیڈ کوارٹر سطح کے شہر میں تھی جہاں انہوں نے ہر وقت موجود رہ کر اپنی ٹیم سے کام کروانا تھا سوائے ہفتہ وار چھٹی کے جو کہ تعمیراتی منصوبوں میں جمعہ والے دن ہوتی ہے۔

    شروع میں چند دن انہوں نے ٹھیک ٹھاک کام کیا لیکن پھر روزانہ پراجیکٹ کی گاڑی پر ملتان سے آنا جانا شروع کردیا۔ مجھ تک بات پہنچی تو ان سے رابطہ کرکے کہا کہ آپ کو ہر وقت سائٹ پر ہونا چاہئے جہاں کمپنی نے آپ کو رہائش ، کھانے اور ٹرانسپورٹ کی سہولت دی ہوئی ہے۔ انہوں نے اپنے والدین کی خراب صحت کا بتایا اور وعدہ کیا کہ یہ چند دن کی بات ہے اور والدین کی صحت بہتر ہوتے ہی وہ دوبارہ سائٹ پر شفٹ ہو جائیں گے۔

    تاہم وہ دن نہ آیا اور اب انہوں نے روزانہ دس گیارہ بجے سائٹ پر پہنچنا اور تین بجے ملتان واپسی کرنا شروع کردی۔ پھر ہر ہفتے ایک آدھ دن ناغہ مارنا شروع کردیا ۔ ہمارے بار بار رابطہ کرنے پر وہ بتاتے کہ وہ سائٹ پر مکمل رابطے میں ہیں اور کلائنٹ کو بھی سنبھالا ہوا ہے جس کا دفتر ملتان میں تھا۔ تاہم ہم نے انہیں فوراً سائٹ پر شفٹ ہونے کا کہا لیکن ان کی روٹین تبدیل نہ ہوئی ۔ ان کے بقول وہ بیمار والدین کو کسی کے حوالے نہیں کر سکتے جس پر ہم نے انہیں ایک دو ماہ چھٹی لینے یا پھر جاب تبدیل کرنے کی آفر کی مگر انہوں نے سابقہ روٹین برقرار رکھی۔

    ہم نے پراجیکٹ کی بگڑتی صورت حال کے پیشِ نظر ایک اور قابل بندے کو سیلیکٹ کرکے ان کی جگہ بھیج دیا کہ چارج ان کے حوالے کردیں۔ وہ فرم کے صدر دفتر حاضر ہوئے معافی تلافی کی اور آئندہ سے نظم و ضبط کی پابندی کے وعدے کے ساتھ پھر سے سائٹ پر شفٹ ہو گئے۔ ایک آدھ مہینہ صحیح نکالنے کے بعد وہ دوبارہ پرانی روٹین پر آگئے اور کلائنٹ کے لوگوں کے ساتھ گروپ بنا کر ہفتے میں دو تین دن غائب رہنے لگے۔

    ہم نے انہیں ایک مہینہ کا ایڈوانس نوٹس دے کر نیا انجنئیر سائٹ پر بھیج دیا اور ان کو گھر بھیج دیا۔ کچھ عرصہ تو انہوں نے مختلف ذرائع سے دباؤ ڈلوا کر واپس آنے کی کوشش کی لیکن الحمدللّٰہ ناکام رہے اور اس عرصے میں نئے بندے نے کام سنبھال لیا اور پراجیکٹ سیدھا ہونے لگا۔کبھی کبھار پرانے بندے کو فارغ کرنے پر افسوس بھی ہوتا لیکن ان کی وجہ سے کام بھی کافی متاثر ہورہا تھا۔

    کچھ دن پہلے ان کا دوبارہ میسیج آیا ہے کہ آپ نے تو مجھے فارغ کردیا تھا لیکن میں پھر خلیج آگیا ہوں، اس سے کئی گنا بہتر جاب پر۔ سوچ رہا ہوں اس کے بیمار والدین کس حال میں ہوں گے؟ اس پراجیکٹ پر تو وہ ہفتے میں ایک دو دن انہیں ملنے جا سکتا تھا لیکن خلیج سے تو شائد ایک دو سال بعد ہی واپس آنا نصیب ہو۔ ہم کیوں نہیں اپنی موجود نعمتوں کی قدر کرتے؟

  • مردوں کے حقوق کے لیے آواز اٹھائیں!!! — پروفیسر ایچ ایم زبیر

    مردوں کے حقوق کے لیے آواز اٹھائیں!!! — پروفیسر ایچ ایم زبیر

    رابی پیر زادہ کی ایک ویڈیو وائرل ہوئی ہے کہ جس میں وہ یہ کہہ رہی ہیں کہ ہمارے ہاں ایک خاص کلاس میں عورتیں مردوں کے حقوق ادا نہیں کرتیں بلکہ ان کے ساتھ زیادتی کرتی ہیں۔ اس پر لبرلز کو آگ لگی ہوئی ہے۔ فیمنسٹوں اور لبرلز کا اس قدر اثر ہے کہ اب تو بہت سے مذہبی حلیے والوں کو بھی یہ پسند نہیں آتا کہ آپ مرد کے حق میں خیر کے دو جملے ہی کہہ دیں۔ ان کے خیال میں مرد ہر صورت اور ہر کلاس میں ظالم ہی ہے اور ہوتا ہے۔ یہی حققیت ہے، اسی کو قبول کرو۔

    یہاں کوئی بھی کبھی مردوں کے حق میں دو جملے لکھ دے یا کہہ دے تو ایک خاص کلاس کی عورتوں کو آگ لگی جاتی ہے کہ عورت کے خلاف لکھا ہے۔ تو جب عورت کے حقوق پر لکھا جاتا ہے تو کیا وہ مرد کے خلاف لکھا جاتا ہے۔ اس وقت عورتوں کے حقوق کی این جی اوز بہت زیادہ ہو گئی ہیں، کیا مرد اور کیا عورتیں، دونوں ہی عورتوں کے حقوق کے ترانے پڑھنے میں لگے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ مردوں کے حقوق پر بھی بات کی جائے۔

    اس دنیا میں ہر طبقہ اپنے حقوق کی جنگ لڑتا ہے، کوئی مزدور سے نہیں کہتا کہ وہ سرمایہ دار کے حقوق کی بات کرے، کوئی مالک سے توقع نہیں رکھتا کہ وہ ملازم کے حقوق کی جنگ لڑے۔ لیکن مرد صرف وہ مظلوم طبقہ ہے کہ جس سے یہ امید لگائی جاتی ہے کہ وہ عورتوں کے حقوق کی جنگ بھی لڑے اور اپنے حق کی بات بھی نہ کرے۔ کیا منافقت ہے!

    ایک مرد اگر اپنے حقوق کی بات نہیں کرے گا تو کون کرے گا! دنیا کا ہر طبقہ اپنے حقوق کی جنگ لڑتا ہے نہ کہ دوسرے کی۔ یہ فطری امر ہے۔ صرف مرد سے یہ توقع کیوں ہے کہ وہ عورت کے حقوق کی جنگ لڑے اور وہ بھی اپنے آپ سے، کمال ہے۔ عورتیں صرف اظہار زیادہ کرتی ہیں ورنہ مردوں کی تکلیف، اذیت ان سے بہت بڑھ کر ہوتی ہے۔ اسے اللہ نے مرد بنایا ہے، وہ اپنی مرادنگی کے خلاف سمجھتا ہے کہ زیادہ رونا دھونا کرے۔ لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ زیادہ رونا دھونا کرنے والیوں کے مسائل بھی زیادہ ہیں اور تکلیف بھی۔

    اس وقت ضرورت اس امر کی ہے کہ ایسا ادب تخلیق کیا جائے جو مرد کے درد کو اظہار کی زبان دے، ایسا آرٹ تخلیق کیا جائے، جو مرد کی تکلیف کی صورت گری کرے۔ عورتوں کے حقوق کے ترانے بہت پڑھے جا چکے ہیں اور پڑھے جا رہے ہیں، کوئی خدمت خلق کرنی ہے تو مردوں کے حقوق کی این جی او ہی کھول دیں۔ اور کچھ نہ سہی، کم از کم یہ تاثر تو زائل ہو کہ عورت ہی ہر جگہ اور ہر صورت مظلوم ہوتی ہے۔

    یہاں ہر طبقے کے حقوق کا عالمی دن منایا جاتا ہے، خاص طور عورتوں کے حقوق پر تو مارچ بھی ہوتے ہیں، کبھی مردوں کے حقوق کے عالمی دن کا سنا ہے کہ جس سے توقع یہ ہے کہ وہ سب کے حقوق کا عالمی دن مقرر کرے۔ تو اس کے اپنے کوئی حقوق نہیں ہیں، اس نے صرف دینا ہی دینا ہے، لینا اس کا کام نہیں ہے کیا۔ وہ کہیں سے لے گا تو آگے دے گا۔ جب اسے کچھ ملے گا ہی نہیں تو آگے کیا بانٹے گا۔ اسے بھی تو تعلق چاہیے، محبت چاہیے، عزت چاہیے، احترام چاہیے بلکہ وہ سب کچھ چاہیے جو عورت مرد سے مانگتی ہے۔