Baaghi TV

Category: معاشرہ و ثقافت

  • اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور،سیکنڈل اور حقائق،تحریر: ارشاد احمد ارشد

    اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور،سیکنڈل اور حقائق،تحریر: ارشاد احمد ارشد

    پاکستان کی معروف قدیمی درس گاہ ۔۔۔۔اسلامیہ یونیورسٹی بہالپور اور اس کے سابق وائس چانسلر ڈاکٹر اطہر محبوب کو بدنام کرنے کےلئے جو جھوٹ بولے گئے ۔۔۔وہ سب غلط ثابت ہوئے ہیں ۔ ڈاکٹر اطہر محبوب اور یونیورسٹی کو بدنام کرنے کا اسیکنڈل جب منظر عام پر آیا تو اسی وقت ہی معمولی سوجھ بوجھ رکھنے والا ہر شخص سمجھ گیا تھا کہ یہ سازش ہے اور الزام تراشی ہے ۔اس کے بعد جو حقائق منظر عام پر آئے اور خاص کر وزیر اعلیٰ پنجاب کی درخواست پر لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس نے جو ٹربیونل بنایا اس نے بھی اپنی آزادا نہ تحقیقات کے بعد یہ بتا دیا ہے کہ آئی یو بی کو بدنام کرنے کےلئے جو سکینڈل بنایا گیا وہ سب جھوٹ تھا ۔
    اب آئیں مختصراَ َ اس واردات کا جائزہ لیتے ہیں ۔ کسی بھی ادارے میں انتظامی اعتبار سے چیف سکیورٹی آفیسر کا عہدہ انتہائی اہمیت کا حامل ہوتا ہے، چیف سکیورٹی آفیسر ادارے کے حفاظتی معاملات کا ذمہ دار ہوتا ہے ۔لہذا ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت سب سے پہلے یونیورسٹی کے چیف سکیورٹی آفیسر ریٹائرڈ میجر اعجاز شاہ کو ٹارگٹ کیا گیا۔ اس مقصد کےلئے جو سیکنڈل گھڑا گیا وہ یہ تھا کہ یونیورسٹی کے چیف سکیورٹی آفیسر سے منشیات اور اس کے موبائل سے 5,500 یونیورسٹی کی طالبات کی نازیبا ویڈیوز برآمد ہوئی ہیں اس سے یہ تاثر دینا مقصود تھا کہ یونیورسٹی کا چیف سیکورٹی آفیسر ایک جرائم پیشہ اور اخلاق باختہ شخص ہے ۔ اس کے ساتھ ہی سوشل میڈیا پر یونیورسٹی کے کچھ دیگر سٹاف کے بارے میں تواتر کے ساتھ منشیات اور ویڈیوز برآمدگی کی خبریں چلائی گئیں جنھیں اور سن کر یوں لگتا تھا جیسے یونیورسٹی میں اساتذہ اور سٹاف نہیں اٹھائی گیر ہیں اور یہ اسلامیہ یونیورسٹی نہیں بلکہ جرائم پیشہ افراد اور منشیات کا اڈاہے ۔

    یہ ایسی ہولناک سازش تھی کہ جس نے ملک بھر میں غم وغصے اور اضطراب کی کیفیت برپا کردی۔ نہ صرف اندرون ملک بلکہ بیرون ملک بھی یونیورسٹی کے بارے میں سوالات اٹھنے لگے ۔ ان حالات میں ضروری تھا کہ اس سازش کا پردہ چاک کیا جاتا چنانچہ ڈاکٹر اطہر محبوب نے سب سے پہلے خود کو اور اپنے سٹاف کو احتساب اور خون ٹیسٹ کروانے کےلئے پیش کیا ۔ آئی جی پنجاب کو مراسلہ لکھ کر آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا۔کئی ادارہ جاتی کمیٹیاں قائم کی گئیں جن میں جنوبی پنجاب سے ہائر ایجوکیشن کے ممبران بھی شامل کیے گئے تھے ۔ وزیراعلیٰ پنجاب نے بھی دو ڈی آئی جی لیول کے پولیس اہلکار اور ایک صوبائی سیکرٹری پر مشتمل ایک اعلی تحقیقاتی کمیٹی بھیجی ۔ ان سب نے مکمل تفتیش اور تحقیق کے بعد کہا کہ اس سکینڈل کا کوئی وجود نہیں ہے نہ کوئی ویڈیو بنی اور نہ برآمد ہوئی ہے ۔ اس سلسلہ میں مزید کاروائی یہ کی گئی کہ وزیراعلیٰ پنجاب نے چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ کو ایک حاضر سروس جج کے تقرر کےلئے درخواست ارسال کردی ۔ چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ نے جسٹس سردار محمد ڈوگر کو بطور ٹربیونل جج نامزد کیا تاکہ وہ یونیورسٹی کے طلبہ کے منشیات استعمال کرنے ،بلیک میلنگ اور جنسی استحصال کرنے کی تفتیش کریں ۔

    جسٹس سردار ڈوگر نے پوری تحقیق کے بعد جو رپورٹ تیار کی اس کے درج ذیل نکات ہیں :
    یونیورسٹی کی حدود میں نہ تو مبینہ منشیات استعمال ہوئیں اور نہ ہی جنسی استحصال ہوا ۔ اور اس ضمن میں کوئی گینگ بھی نہیں پایا گیا جو ایسا ارتکاب کرتا ہو ۔ کسی پکے ثبوت یا شہادت کے بغیر ہی جنسی ہراسگی یا منشیات کے استعمال کے الزام پر پولیس نے اس کیس کو مس ہینڈل کیا اور یوں یونیورسٹی کو بدنام کیا گیا ۔ یوینورسٹی میں طالبات یا ارکان جامعہ کے جنسی ہراسانی یا منشیات کے استعمال میں ملوث ہونے کی خبریں سوشل میڈیا کے لوگوں نے پھیلا ئیں جن سے یونیورسٹی کو بدنام کیا گیا اور طالبات اور پروفیسرز کی عزت اور وقار پر بھی حرف آیا ۔
    ٹربیونل نے درج ذیل افراد کو سازش رچانے کا ذمہ دار ٹھہرایا
    جمشید ڈی ایس پی /سی آئی اے
    ایس ایچ او تھانہ دراوڑ
    سید محمد عباس ڈی پی او بہاولپور
    عبداللہ نامی ٹاﺅٹ پولیس جس کے خلاف کریمنل مقدمے کی سفارش کی گئی
    اقرار الحسن سید ٹی وی اینکر ، یوٹیوبر /ولاگر اور ثاقب مشتاق یوٹیوبر اور بلاگر( لودھراں )

    ٹربیونل نے اپنی رپورٹ نے واضح طور پر لکھا کہ ان ولاگر نے بغیر تصدیق کے ولاگ کئے اور یونیورسٹی کو بدنام کیا ۔
    جسٹس سردار ڈوگر کی اس رپورٹ سے بھی یہ بات بالکل واضح ہورہی ہے کہ آئی یو بی ، اس کے سٹاف سابق وی سی اور طالبات کو ایک دانستہ سازش کے تحت بدنام کیا گیا ہے ۔

    یہاں ایک بہت اہم سوال بھی ہے کہ آئی یوبی کے خلاف یہ گھناﺅنی سازش کیوں کی گئی اور اس کے مقاصد کیا تھے ۔۔۔۔ ؟
    اس کا جواب یہ ہے پروفیسر ڈاکٹر اطہر محبوب نے چار سال کے عرصہ میں یونیورسٹی کے تعلیمی اور تدریسی معیار کو بہتر بنانے کےلئے جو کاوشیں کیں ۔۔۔۔انھیں ناکام بنانا مقصود تھا ۔ پروفیسر ڈاکٹر اطہر محبوب ایک طرف امریکی یونیورسٹیوں سے فارغ التحصیل ہیں،نامور ماہرِ تعلیم اور مثالی منتظم ہیں تو دوسری طرف وہ دین سے ، قرآن سے ، علما سے اور مساجد سے گہری محبت رکھتے ہیں۔انھوں نے اپنے دور میں یونیورسٹی کے تعلیمی معیار کو بہتر بنانے کےلئے بیشمار اقدامات کئے ہیں ۔۔۔مثلاََ طلبہ وطالبات کو زیور تعلیم سے آراستہ کرنے کےلئے روایتی طریقہ کار سے ہٹ کر اعلیٰ تعلیم یافتہ اساتذہ کی خدمات حاصل کی گئیں ، لائق اور ذہین طلبہ کی حوصلہ افزائی کےلئے وظائف جاری کئے گئے،ایسے مفید ڈگری پروگراموں کی تعداد میں اضافہ کیا گیا جن کی معاشرے میں بہت زیادہ ڈیمانڈ ہے ، طلبہ وطالبات کی بڑھتی ہوئی تعداد کے پیش نظر متعدد شفٹوں میں کلاسوں کا اجرا کیا گیا ، مختلف کیمپس میں ضروریات کے مطابق سہولیات میں اضافہ ہوا ، آمدو رفت کےلئے پہلے سے موجود ٹرانسپورٹ کی سہولیات کو نہ صرف بہتر کیا گیا بلکہ ان میں اضافہ بھی کیا گیا ، صحت مند سرگرمیوں کے لئے کھیلوں اور دیگر ہم نصابی سرگرمیاں جاری کی گئیں ۔یہ وہ قدامات تھے جنھوں نے ایک طرف یونیورسٹی کے معیار تعلیم کو چار چاند لگا دیے تو دوسری طرف اس کی مقبولیت میں بھی بے حد اضافہ ہونے لگا ۔طلبہ وطالبات جوق در جوق یونیورسٹی کا رخ کرنے کےلئے اور یونیورسٹی کی کلاسز تنگ داماں کا شکوہ کرنے لگیں ۔فیکلٹیز جو پہلے صرف چھ تھیں ان کی تعداد13تک جاپہنچی ۔ پہلے یونیورسٹی میں کل وقتی اساتذہ 400تھے پھر ایک وقت آیاجب کل وقتی اساتذہ کی تعداد 400سے بڑھ کر 1400تک جاپہنچی ۔جب لائق فائق اور اعلیٰ تعلیم یافتہ اساتذہ یونیورسٹی کی زینت بنے توطلبہ وطالبات کی تعداد میں بھی ریکارڈ اضافہ ہوا ۔ ڈاکٹر اطہر محبوب کے اسلامیہ یونیورسٹی میں آنے سے پہلے طلبہ وطالبات کی تعداد صرف 13,000تھی جو 65,000ہزار تک جاپہنچی ۔ اسی طرح ڈاکٹر اطہر محبوب کے اس جامعہ میں آنے سے پہلے طالبات کی تعداد صرف 4000تھی جو 27,000تک چلی گئی ۔ اس کا واضح مطلب یہ تھا کہ ڈاکٹر اطہر محبوب کے یونیورسٹی میں آنے کے بعد والدین کا خصوصاََ بچیوں کے حوالے سے یونیورسٹی پر اعتماد میں اضافہ ہوا ۔

    یہ ہے ڈاکٹر اطہر محبوب کی تعلیمی کاوشوں کا مختصر تذکرہ ۔ ان کاوشوں کی وجہ سے علاقے میں موجود بعض نجی تعلیمی اداروں کے کاروبار مانند پڑنے لگے تھے اس کے ساتھ یہ خبریں بھی گردش کررہی تھیں کہ ڈاکٹر اطہر محبوب کو بطور وی سی مزید توسیع دی جائے گی ۔ اسلئے مبینہ طور پر یونیورسٹی کو بدنام کرنے اور ڈاکٹر اطہر محبوب کا دوسری ٹرم کےلئے راستہ روکنے کی خاطر یہ ڈرامہ پلے کیا گیا ۔حقیقت یہ ہے کہ یہ ڈرامہ جنھوں نے پلے کیاانھوں نے اچھے مسلمان اور شہری ہونے کا ثبوت نہیں دیا بلکہ چند ٹکوں کی خاطر اپنے ہی منہ پر کالک ملی ہے ۔ ضرورت اس امر کی ہے عدالتی ٹربیونل نے اس شرمناک ڈرامہ کے جن کرداروں کی نشاندھی کی ہے ان کے خلاف سخت کاروائی کی جائے اور ڈاکٹر اطہر محبوب کو بطور وی سی توسیع دی جائے تاکہ انھوں نے پسماندہ علاقے کی جس یونیورسٹی کے تعلیمی معیار کو بہتر بنانے کا جوسفر شروع کیا تھا وہ چلتا رہے ۔

    بہاولپوراسلامیہ یونیورسٹی میں خواتین ٹیچرزکاسی آئی اے پولیس پر ہراسانی کاالزام

    اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور،بزدار دورمیں وائس چانسلرکو نکالنے کی سفارش ہوئی تھی

    سابق وائس چانسلر ڈاکٹر اطہر محبوب کو امریکہ جانے سے روک دیا گیا
    irshad arshad

  • محکمہ بہبود آبادی،عوامی آگاہی کیلئے مسلسل مصروف عمل،تحریر:صباءفاروق

    محکمہ بہبود آبادی،عوامی آگاہی کیلئے مسلسل مصروف عمل،تحریر:صباءفاروق

    محکمہ بہبود آبادی،حکومت پنجاب عوام الناس میں خاندانی منصوبہ بندی، بچوں کی پیدائش میں وقفہ، زچہ و بچہ کی صحت،ماں کے دودھ کی اہمیت سمیت دیگر اہم موضوعات پر آگاہی و شعور کے فروغ کیلئے مسلسل مصروف عمل ہے۔عوام کو آگاہی اور شعور فراہم کرنے کیلئے روایتی ذرائع ابلاغ جیسا کہ ٹی وی چینلز،ریڈیو اوراخبارات سے استفادہ تو اٹھایا ہی جاتا ہے مگر محکمہ بہبود آبادی کے پیغامات کو گھر گھر پہنچانے اور مزید آسان طریقہ سے عوام کو خوشحالی اور صحت کا پیغام سمجھانے کیلئے متعدد جدیدطریقہ جات بھی زیر استعمال لائے جا رہے ہیں ۔

    ٹیلی ویژن،عوامی آگاہی کا مستند ذریعہ
    ٹیلی ویژن آج پاکستان کے ہر گھر موجود ہے اور ہر انسان دن میں کئی بار معلومات، انٹرٹینمنٹ وغیرہ کے حصول کیلئے ٹیلی ویژن دیکھتا ہے۔ ٹی وی چینلز کو ایک وقت میں لاکھوں لوگ دیکھ رہے ہوتے ہیں اور دنیا بھر میں پیغامات کی نشریات کیلئے ٹی وی چینلز کو منفرد اور ممتا ز حیثیت حاصل ہے۔ محکمہ بہبود آبادی عوامی سطح پر شعور و آگاہی عام کرنے کیلئے اب تک ہزاروں پیغامات نشر کر چکا ہے اور اس آگاہی مہم کی بدولت نہایت مثبت نتائج موصول ہو رہے ہیں اور محکمہ مزید آگاہی عام کرنے کیلئے مسلسل مصروف عمل ہے۔

    معلومات کی فراہمی کیلئے پرنٹ میڈیا کا استعمال
    اخبارات کو چونکہ معلومات کا مستند ذریعہ سمجھا جاتا ہے اور معاشرے میں اخبار بینی کا رواج آج بھی اتنا ہی ہے جتنا دہائیوں پہلے تھا۔ محکمہ بہبود آبادی گزشتہ دوسالوں سے اخبارات میں سینکڑوں پرنٹ ایڈز شائع کر چکا ہے جہاں عوام الناس کو خاندانی منصوبہ بندی، جدید اور محفوظ طریقہ جات، ماں بچہ کی صحت، پیدائش میں وقفہ مناسب وقفہ، ماں کے دودھ کی اہمیت، جنسی،ذہنی و جسمانی صحت کے حوالے سے معلومات فراہم کی جاتی ہیںاور معاشرے میں محکمہ بہبود آبادی کی جانب سے دی گئی معلومات کو نا صرف مستند سمجھا جاتا ہے بلکہ ان پر عمل درآمد بھی یقینی بنایا جا رہا ہے۔عوامی سوچ میں تبدیلی لانے اور خوشحال،روشن مستقبل کی جانب قدم بڑھانے کیلئے امیدافزاءنتائج موصول ہوئے ہیں۔

    بذریعہ ریڈیو،عوام تک رسائی
    عوامی سطح پر خاندانی منصوبہ بندی اور دیگر اہم موضوعات پر آگاہی عام کرنے کیلئے ریڈیو اسٹیشنز کی وسیع تعداد زیر استعمال لائی جا رہی ہے۔ محکمہ بہبود آبادی تمام ذرائع ابلاغ کو بروئے کار لاتے ہوئے عوامی آگاہی کیلئے مسلسل مصروف عمل ہے۔چونکہ عوام کی ایک کثیر تعداددوران سفر،دفاتر یاگھروں میں ریڈیو سننا پسند کرتے ہیں اور ریڈیوکئی دہائیوں سے معلومات کا مستند ترین ذریعہ سمجھا جارہا ہے اور اسی افادیت کو مد نظر رکھتے ہوئے محکمہ بہبود آبادی اب تک ریڈیو پر سینکڑوں پیغامات نشر کر چکا ہے۔ اور عوامی سطح پر خوب پزیرائی حاصل ہوئی ہے۔

    ڈیجیٹل میڈیا کے ذریعے آگاہی
    چونکہ دنیا بھر میں ڈیجیٹل دور میں سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے ذریعے آگاہی مہم کا اجراءانتہائی مو ¿ثر طریقہ سمجھا جاتا ہے،افادیت کے پیش نظر پنجاب بھر میں تحصیل اور یونین کونسل کی سطح پر محکمہ بہبود آبادی کے سوشل میڈیا گروپس تشکیل دیئے گئے ہیں جہاں روزانہ کی بنیاد پر ہونے والی پیشرفت،سرگرمیوں اورپیغامات کی تشہیر کی جاتی ہے۔سوشل میڈیا کے ذریعے آگاہی کا مقصد زیادہ سے زیادہ عوام تک پیغام پہنچانے کے علاوہ خاندانی منصوبہ بندی اور تولیدی صحت سے متعلق نوجوان طبقہ تک آسان رسائی بھی ممکن بنانا ہے۔ تحصیل اور یونین کونسل کی سطح پر بنائے گئے ان سوشل میڈیا گروپس کے حوصلہ افزاءنتائج موصول ہوئے ہیں اور نوجوان طبقہ سمیت معاشرے کے ہر طبقہ کی جانب سے محکمہ بہبود آبادی کے پیغامات پزیزائی مل رہی ہے۔

    صوبائی،ضلعی،تحصیل اور یونین کونسل کی سطح پر آگاہی
    عوام الناس اوربالخصوص نوجوان طبقہ میں خاندانی منصوبہ بندی اور دیگر خدمات سے متعلق آگاہی کیلئے قومی سطح پر سیمینارز، صوبائی سطح پر کانفرنسز اورضلعی و تحصیل کی سطح پر میٹنگز کا انعقاد باقاعدگی سے ممکن بنایا جاتا ہے اور ماہرین کے ساتھ طلباءاور دیگر طبقہ جات کی براہ راست گفتگو سے ان کے ذہنوں میں موجودابہام اور روایتی تصورات کا ازالہ سائنسی اورمنطقی دلائل سے ممکن بنایا جاتا ہے۔اس کے علاوہ یونین کونسل کی سطح پر سکھی گھر اور دیگر چھوٹی کمیٹیوں کے ذریعے خواتین اور مردوں تک خاندانی منصوبہ بندی کے جدید طریقہ جات، فوائد اور خوشحالی کے رہنما اصولوں کے بارے آگاہی عام کی جاتی ہے۔

    مقامی زبانوں میں آسان پیغام
    مقامی لوگوں کوخاندانی منصوبہ بندی کی افادیت کے بارے آگاہی فراہم کرنے کیلئے مقامی زبانوں جیساکہ پنجابی، سرائیکی اور پوٹھوہاری وغیرہ میں پیغامات کی تشہیر ممکن بنائی جاتی ہے جس کیلئے ٹی وی، ریڈیو سمیت سوشل میڈیا کے تمام پلیٹ فارمز زیر استعمال لائے جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ مقامی لوگوں کی سچی کہانیاں،انہی کی زبانی،مقامی زبان میں دیگر لوگوں کو بتائی جاتی ہیں تا کہ عوام الناس غلط فہمیوں کی بجائے حقائق کو مد نظر رکھتے ہوئے اپنے خوشحال مستقبل کے بارے 100فیصددرست فیصلہ ممکن بنا سکیں۔

    بذریعہ پتلی تماشہ عوامی سطح پر آگاہی
    محکمہ بہبود آبادی، عوام الناس کو شعور فراہم کرنے کیلئے ضلعی سطح پر پتلی تماشوں کا انعقاد ممکن بنا رہا ہے جس میں بچوں کی کم تعداد،ان کی تعلیم تربیت اور ان کے روشن مستقبل کیلئے والدین کو آگاہی فراہم کی جاتی ہے اس کے علاوہ خاندانی منصوبہ بندی، بچوں کی پیدائش میں وقفہ،زچہ و بچہ کی صحت اور دیگر اہم سماجی معاملات سے متعلق کردار ڈرامہ کی صورت میں شعور عام کر رہے ہیں اور عوامی سطح پر پتلی تماشوں کی نمائش کو بھرپور پزیرائی مل رہی ہے اور عوام ان کرداروں سے سیکھ کر عملی زندگی میں متوازن خاندان اور صحت معاشرے کے ساتھ ساتھ خوشحال پاکستان کی جانب قدم بڑھا رہے ہیں۔

    اِن ہاو س سٹوڈیو کاآغاز
    محکمہ بہبود آبادی کی جانب سے اِن ہاوس سٹوڈیو کا بھی آغاز کیا گیا ہے جہاں ماہرین خاندانی منصوبہ بندی، جدید اور محفوظ طریقہ جات، ماں بچہ کی صحت، پیدائش میں وقفہ مناسب وقفہ، ماں کے دودھ کی اہمیت، جنسی،ذہنی و جسمانی صحت کے حوالے سے عوام کو اہم معلومات فراہم کرتے ہیں جس کو بعدازاں ڈیجیٹل میڈیا کے تمام پلیٹ فارمز پر پوسٹ کیا جاتا ہے تا کہ زیادہ سے زیادہ لوگوں تک محکمہ کا پیغام پہنچا کر خوشحال کل اور صحت مند آج کے خواب کو عملی تعبیر فراہم کی جا سکے۔

    ورکرز بھی متوازن سوچ کے فروغ کیلئے مصروف عمل
    محکمہ بہبود آبادی کی جانب سے خاندانی منصوبہ بندی اپنا کر خوشحال پاکستان کی تشکیل کیلئے ہر میدان میں رائے عامہ ہموارکی جا رہی ہے جہاں محکمہ بہبود آبادی کے ہر ورکرکی تربیت اس انداز میں ممکن بنائی گئی ہے کہ وہ انفرادی و اجتماعی طور پر اپنے دوست احباب، رشتے داروں اور اپنی کمیونٹی میں خاندانی منصوبہ بندی کے فروغ کیلئے آگاہی فراہم کر رہا ہے۔ ورکرزخاندانی منصوبہ بندی کے حوالے سے معاشرے میں قائم فرسودہ خیالات اور غلط فہمیوں کا سائنسی اور منطقی انداز میں ازالہ کررہے ہیں۔ اس کے علاوہ وہ لوگوں کو نہ صرف خاندانی منصوبہ بندی کے حوالے سے آگاہی فراہم کر رہے ہیں بلکہ وہ خاندانی منصوبہ بندی کے قابل بھروسہ اور جدید طریقہ جات تک بھی عوامی رسائی ممکن بنا رہے ہیں تاکہ معاشرے میں نئی سوچ کے فروغ سے ایک خوشحال پاکستان کی تشکیل ممکن بنائی جا سکے۔یہ ورکرز کی محنت کے ہی نتائج ہیں کہ خاندانی منصوبہ بندی کو اپنانے والوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اور عوام الناس زیادہ بچوں، بیٹوں کی خواہش سمیت دیگرفرسودہ خیالات ترک کررہے ہیں۔ آگاہی کے اشتہارات سے محکمہ،لوگوں کی ذہن سازی اس انداز سے کر رہا ہے کہ وہ اب والدین بچوں کی تعداد کا تعین کرتے وقت زیادہ تعداد کی بجائے ان کی بہتر تعلیم تربیت اور اچھی صحت کو ترجیح دیتے ہیں۔

    عوامی سوچ اور رویوں میں واضح تبدیلی
    محکمہ بہبود آبادی لوگوں کے رویوں میں مثبت تبدیلی لانے کیلئے مسلسل مصروف عمل ہے۔محکمہ،عوام الناس کے سماجی رویوں میں تبدیلی لانے کیلئے قومی ذرائع ابلاغ جیسا کہ الیکٹرانک،پرنٹ،سوشل اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر کامیابی سے آگاہی مہم کو فروغ دے رہا ہے۔محکمہ اپنی آگاہی مہم میں بیٹیوں کی تعلیم تربیت اور ان کے مساوی حقوق کے بارے عوام الناس میں شعور اجاگرکر رہا ہے۔ بچوں کی زیادہ تعداد کی بجائے،ان کی بہتر تعلیم و تربیت پر بھی زور دیا جا رہاہے۔ عوامی رویوں میں تبدیلی لانے کیلئے خواتین کی خود مختاری اور انہیں تعلیم تربیت کی فراہمی کو اولین ترجیح بنایا گیا ہے جہاں فرسودہ روایات و پرانی سوچ کی بجائے اپنوں کے روشن کل کی بات عوام تک پہنچائی گئی ہے۔ خاندانی منصوبہ بندی کی جدید اور محفوظ سہولیات چھوٹے خاندان کے روشن کل کی مضبوط بنیاد قرار دی گئی ہیں۔ عوامی سطح پر بچوں کی پیدائش میں وقفہ اور بچوں کی کم تعداد یقینی بناکر ان کے روشن مستقبل کی تشکیل کیلئے بھی رائے عامہ بنائی گئی ہے۔آئیں!خاندانی منصوبہ بندی اپنا کر چھوٹے خاندان کو خوشیوں اور صحت کی مضبوط بنیاد فراہم کریں اور خوشحال پاکستان کی تشکیل کیلئے اپنا کردارادا کریں کیونکہ سوچ میں تبدیلی سے ہی ممکن ہے متوازن خاندان، خوشحال پاکستان

    saba

    ماحولیاتی تبدیلیوں سے پاک پنجاب کیلئے پر عزم
    محکمہ بہبود آبادی،عوام الناس کو ماحولیاتی تبدیلیوں اور ان کے مضر اثرات سے بچاوءکیلئے بھی آگاہی عام کر رہا ہے۔ دنیا بھر میں جنگلات کارقبہ تیزی سے کم ہورہاہے، آتش زدگی اوردیگرقدرتی وانسانی عوامل سے جنگلات کیلئے خدشات اورخطرات بڑھ رہے ہیں،اس صورتحال کے تناظرمیں انسانی صحت اورغذائی سلامتی کے تحفظ کیلئے اقدامات ضروری ہیں۔ ماحولیات اورایکونظام کے تحفظ کیلئے کئے جانے والے عالمی معاہدوں پرعمل درآمد کیاجائے۔اس وقت ماحولیاتی تبدیلیوں سے دنیا کی 40 فیصدآبادی کو خطرات لاحق ہیں اس تناظرمیں ایکونظام کی بحالی کیلئے تمام ممالک کواپنامشترکہ لائحہ عمل اختیارکرنا پڑے گا۔عالمی ماحولیاتی اداروں کی تحقیق کے مطابق کسی بھی ملک کے خشک رقبے کا 25فیصد جنگلات پہ مشتمل ہونا نہایت مناسب اورانسانی زندگی کیلئے انتہائی ضروری تصور کیا جاتا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق پاکستان میں 3.3فیصد جنگلات موجود ہیں جو کہ تیزی سے کم ہو رہے ہیں۔

    متوازن غذا اور نفسیاتی صحت،سب سے پہلے
    محکمہ بہبود آبادی کے زیر نگرانی کوالیفائیڈ نیوٹریشنسٹ اورسائیکالوجسٹ ضلعی سطح پر اپنی خدمات فراہم کر رہے ہیں جو متوازن غذا کی افادیت، غذائی مسائل سے نجات،حاملہ خواتین کیلئے ضروری غذائی اجزاءکے علاوہ ذہنی،جسمانی اور جنسی صحت کے تحفظ کے حوالے سے اہم خدمات سر انجام دہے رہے ہیں۔ عوام الناس بالخصوص خواتین کو نفسیاتی مسائل کے آسان حل بتائے جاتے ہیں،ورزش سمیت دیگر معمولات میں ہم آہنگی اور ذہنی سکون کے حوالے سے اہم نکات پر زور دیا جاتا ہے۔

    عوامی صحت،ہماری اولین ترجیح
    محکمہ بہبود آبادی،صحت عامہ کے تحفظ کو یقینی بنانے کیلئے ڈینگی، نمونیا، وبائی امراض سے متعلق ویکسینیشن،متوازن غذا،ماں بچہ کی صحت سے متعلق اہم معلومات اور ماں کے دودھ کی اہمیت سمیت دیگر اہم مسائل سے متعلق بھی معلومات ڈیجیٹل اور قومی میڈیا کے ذریعے آگاہی عام کر رہا ہے۔ جس کا مقصد عوام الناس کو صحت کے حوالے سے نئی معلومات فراہم کر کے نہ صرف خوشحال بلکہ صحت مند معاشرے کی تشکیل ممکن بنانا ہے.

    saba farooq

  • تمباکو سے پاک پاکستان…اک امید

    تمباکو سے پاک پاکستان…اک امید

    سگریٹ پر ٹیکس، عالمی بینک نے تمباکو نوش افرادکو بری خبر سنا دی، عالمی بینک نے سگریٹ پرٹیکس میں اضافے کی سفارش کی ہے، رپورٹ کے مطابق پاکستان میں سگریٹ کی قیمتیں خطے میں سب سے کم ہیں، قیمتیں کم ہونے کی وجہ ٹیکس کا کم ہونا ہے، ٹیکس کم ہونے کی وجہ سے سگریٹ کی فروخت زیادہ ہوتی ہے اور سالانہ تین لاکھ سے زائد افراد کی سگریٹ نوشی کی وجہ سے موت ہو جاتی ہے

    ورلڈ بینک نے اپنی رپورٹ میں اس بات پر روشنی ڈالی ہے کہ پریمیم سگریٹ (16.50 روپے فی سگریٹ) پر موجودہ شرح کو عام کیٹگری کے سگریٹ پر بھی لاگو کرکے جی ڈی پی کے 0.4 فیصد کا نمایاں ریونیو حاصل کیا جا سکتا ہے، رپورٹ میں اس اقدام کے ذریعے معاشی اور صحت سے متعلق فوائد کے امکانات کو اجاگر کیا گیا ہے،پاکستان میں سگریٹ پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کی وصولی اس وقت اپنی متوقع شرح سے کم ہے، مالی سال 21 کے دوران جی ڈی پی کا صرف 0.5 فیصد حصہ اس وصولی سے ملا ہے،سگریٹ پر ٹیکس، جو کہ جی ڈی پی کا 0.19 فیصد ہے، حالیہ برسوں میں نسبتاً جمود کا شکار رہا ہے،

    سگریٹ مضر صحت ہے، سگریٹ کی پیکٹ پر لکھا ہونے کے باوجود کوئی سگریٹ چھوڑنے کو تیار نہیں، گھر میں کچھ کھانے کو ہے یا نہیں؟ سگریٹ ضرور پینا ہے، بجلی کا بل جمع کروانے کے پیسے نہیں،بچوں کو سرکاری سکول میں اسلئے داخل کروایا کہ پرائیویٹ کی فیس نہیں دے سکتے، بیمار ہو جائیں تو سرکاری ہسپتال میں لائن میں لگیں ،پرائیویٹ ہسپتال نہیں جا سکتے کہ فیسوں کے پیسے نہیں، البتہ، دھواں اڑانے کے لیے ، سگریٹ پینے کے لئے روز پیسے ہوتے ہیں اور روز ہی خرچ ہوتے ہیں، ایک پیکٹ سگریٹ کی قیمت کا ماہانہ اگر حساب کیا جائے تو سگریٹ نوش کم از کم ماہانہ چھ سے دس ہزار کے سگریٹ پی جاتا ہے، ان پیسوں‌سے وہ اپنے بچوں کی اچھی تعلیم، اچھی صحت، اچھی غذا کا بندوبست کر سکتا ہے تا ہم سگریٹ ضروری باقی سب جائیں بھاڑ میں…

    ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں تقریبا ڈھائی کروڑ افراد سگریٹ نوشی کرتے ہیں،رپورٹ عالمی ادارے ٹوبیکو ہارم ریڈ کشن نے تیار کی،رپورٹ میں کہا گیا کہ تمباکو نوشی کا تدارک کرنے کی ضرورت ہے، پاکستان میں تمباکو نوشی کے خلاف مہم چلا کر 12 لاکھ جانیں بچائی جا سکتی ہیں، تمباکو نوشی سے شرح اموات بڑھ چکی ہے،رپورٹ کے مطابق پاکستان میں تمباکو نوشی کرنے والے بالغ افراد کی تعداد دو کروڑ 39 لاکھ ہے ،ان میں سے چھ فیصد ای سگریٹ اور ویپنگ کا استعمال کرتے ہیں،پاکستان میں عوامی مقامات پر سگریٹ نوشی پر پابندی ہے لیکن قانون پر عملدرآمد نہیں ہو رہا کیونکہ پاکستان شاید بنا ہی اسی لئے کہ ہر بندے کا اپنا ہی قانون ہے،جہاں پابندی ہو یا رکاوٹیں ہوں پاکستانی وہیں غلط کام کرنے کو نہ صرف ترجیح دیتے بلکہ اس پر فخر بھی کرتے ہیں، تعلیمی اداروں میں تمباکو نوشی بڑھ چکی، پولیس کو کاروائی کی ہدایت ہے لیکن اسکے باوجود تعلیمی ادارے نہ صرف سگریٹ بلکہ منشیات کے گڑھ بن چکے ہیں،طالبات میں بھی سگریٹ نوشی دیکھنے میں آئی ہے ،

    پاکستان میں تمباکو نوشی پر کنٹرول ،یہ ایک چیلنج ہے، حکومت کو تمباکو ساز کمپنیوں کی جانب سے رشوتیں دی جاتی ہیں جس کی وجہ سے ٹیکسز نہیں لگتے، عالمی بینک نے تو سفارش کر دی لیکن اب مزید ٹیکس کون لگائے گا؟ سگریٹ ساز کمپنیاں سفارشیں شروع کروا دیں گی اور اگر کوئی فائل نکلی تو پھر نوٹوں کی گڈی تلے دب جائے گی،پاکستان اسلام کے نام پر حاصل کیا گیا ملک ، یہ بات ہر پاکستانی کہتا ہے، تاہم تمباکو سے پاک پاکستان، اس نعرے کو بھی پھیلانے کی ضرورت ہے، سیاسی جماعتوں کو اپنے منشور میں اس نعرے کو شامل کرنا چاہئے، سیاسی لیڈران کو اس نعرےکو اپنانا چاہئے کہ وہ اپنے نسل کو تمباکو کی زیر سے بچائیں گے اور تمباکو سے پاک پاکستان بنائیں گے،

    شفقت کی "شفقت” لڑکیوں کے لیے سگریٹ مہنگا۔۔۔۔ نوجوان کس حال میں؟

    تمباکو پر ہیلتھ لیوی ٹیکس – ایک جائزہ ،تحریر: راجہ ارشد

    ہیلتھ لیوی ،تحریر:ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی

    ویسے تو ہیلتھ لیوی کی منظوری 2019جون میں ہوچکی ہے

    تمباکو جیسی مصنوعات صحت کی خرابی اور پیداواری نقصان کا سبب بنتی ہیں

    ” ہیلتھ لیوی کے نفاذ میں تاخیر کیوں” تحریر: افشین

     اگر کھلے مقام پر کوئی سگریٹ پی رہا ہو تو اسکو "گھوریں”

  • زندگی ایک کڑا امتحان،تحریر : ریحانہ جدون

    زندگی ایک کڑا امتحان،تحریر : ریحانہ جدون

    یہ وہ عورت تھی جو ایک خوشحال اور زندگی سے بھرپور زندگی گزار رہی تھی مگر حالات نے اس مقام پر لا کھڑا کردیا کہ اسے مرنا آسان لگنے لگا تھا ….

    کبھی اپنا وقت بھی آ ئے گا…. یہ کہنے کو تو ایک تسلی ہے مگر اس ایک جملے میں ہم نہیں جانتے کتنے ہی لوگ اپنی امیدوں کے پورا ہونے کے انتظار میں بیٹھے بیٹھے اپنی زندگی گزار دیتے ہیں اور پھر اپنی حسرتوں اپنی امیدوں کو اپنے ساتھ لیے اس دنیا سے چلے جاتے ہیں ,
    البتہ اپنے پیچھے کئی سوالات چھوڑ جاتے ہیں کہ انہوں نے وقت کے انتظار میں بیٹھے رہنے کی بجائے ایک چھوٹی سی کوشش بھی کی ہوتی تو شاید ان کی تکلیفیں کم ہوجاتیں,
    اور جو لوگ اپنی حیثیت کے مطابق کوشش بھی کرتے ہیں مگر اس کے اردگرد کے لوگ اس کو support نہیں کرتے اگر ایسے وقت اسے تھوڑی سی بھی support مل جائے تو کئی لوگ اپنے رویوں میں نہ صرف تبدیلی لے آئیں گے بلکہ اس انسان کے ساتھ کی گئی ناانصافیوں کا ازالہ بھی کریں گے
    ہم زندگی میں کئی لوگوں سے ملتے ہیں ان کے مسکراتے چہرے دیکھ کر اکثر غلط اندازہ لگا لیتے ہیں کہ یہ بھرپور زندگی گزار رہے ہیں مگر ان کے مسکراتے چہروں کے پیچھے کئی راز ہوتے ہیں جو نہ ہم جان سکتے ہیں اور نہ وہ کسی پر ظاہر ہونے دیتے ہیں.
    مانتی ہوں کہ وقت ایک سا نہیں رہتا مگر جس انسان نے اپنے بھلے وقت میں کسی کے ساتھ زیادتی نہیں کی, اپنوں کا خیال رکھا مگر جب اس انسان پر برا وقت آتا ہے ناں تو یقین کریں جس پر ان کو پورا بھروسہ ہوتا ہے کہ وہ اسے اکیلا نہیں چھوڑیں گے وہی اس انسان سے کنارہ کشی اختیار کر لیتے ہیں اور وہ انسان ان کے سامنے ڈوب رہا ہوتا ہے مگر وہ دور سے تماشائی بنے اس کا تماشہ دیکھ رہے ہوتے ہیں.
    کیا اپنوں کا ایسا طرز عمل اس انسان کو ہمت دے گا ؟؟؟
    اس کو تو اوع دلبرداشتہ کردے گا کہ میں کیا کرتا رہا اور میرے ساتھ کیا ہورہا ہے….
    آ ج یہ تحریر لکھتے ہوئے میرے ذہن میں کئی سوالات امڈ رہے ہیں کہ آخر ایسا کیوں ہوتا ہے کہ اپنے ہی لوگ اپنوں کے ساتھ ایسا سلوک کرتے ہیں…
    وہ مجھے بتا رہی تھی کہ اب گھر میں بیچنے کو کچھ بھی نہیں بچا, گاڑی خالہ کو بیچ دی اب ایک چھت رہ گئی ہے وہ بھی جیٹھانی کہہ رہی کہ اگر بیچنا ہوا تو مجھے بتا دینا میں خرید لونگی….
    یہ اس عورت کو کہا جا رہا ہے جو انہی لوگوں کا اس وقت سہارا بنی جب اس کی جیٹھانی بیوہ ہوئی تھی اور اس کے گھر کے اخراجات بچوں کی پڑھائی کا زمہ اس عورت نے اٹھایا تھا اور آخر کار اسکے بچے اپنے پیروں پر کھڑے ہوگئے…
    کہتے ہیں ناں کہ وقت ایک سا نہیں رہتا کسی کو اللہ دے کر آ زماتا ہے اور کسی کو اس سے محروم رکھ کر,
    اس عورت کے شوہر کی جاب چار پانچ سال پہلے کسی وجہ سے چلی گئی اور تب سے یہ عورت کسی کے آ گے ہاتھ پھیلانے کی بجائے خود گھر سے باہر کام کرنے جانے لگی اور وہی ہوا جو ہمارے ہاں اکثر ہوتا ہے کہ اسے کئی طرح کی باتوں کا تنقید کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے
    آ ج وہ کسی کام سے میرے گھر آئی تو میری زرا سی تسلی سے اس کی آنکھیں بھر آ ئیں
    میرے چپ کروانے پر بولی کہ کاش میرے گھر والوں کو میری تکلیفوں کا احساس ہو کہ میں کس اذیت سے گزر رہی ہوں, وہ روتے روتے کہنے لگی کہ آپا میں بہت حساس ہوں شاید…. میری ماں بھی نہیں رہی کہ اس کی گود میں سر رکھ کر رو لوں, میں اپنے بچوں میں اپنی ماں کا پیار ڈھونڈتی ہوں کہ مجھے وہ سہارا دیں مگر آپا ان کو بھی میری تکلیفیں نظر نہیں آرہی…
    میں کیسے ان کی ضرورتیں پوری کررہی ہوں یہ ان کو نہیں پتا…
    بس دعا کرتی ہوں کہ اللہ کسی کو سب کچھ دے کر پھر تنگدستی نہ دے کیونکہ عیش و آرام کے بعد تنگدستی کی زندگی جینا بہت کٹھن ہے.
    میں نے اسے حوصلہ دیا کہ انشاءاللہ سب ٹھیک ہوجائے گا اللہ پر بھروسہ رکھو تو آ نسوؤں سے بھری آنکھوں کے ساتھ مجھے دیکھنے لگی اور ساتھ گویا ہوئی آپا میں اپنے شوہر کو کہتی ہوں کوئی کام تلاش کرے تو کہتا ہے کوئی کام ملتا ہی نہیں تو کیا کروں کہاں جا کے کام کروں تم کام کررہی ہو ناں… اور جب جواب میں اسے کہتی ہوں میرے میں ہمت نہیں رہی ہے گھر میں بیٹھنے سے کام تمھیں نہیں ملے گا ڈھونڈنا شروع کروگے تو ملے گا تو کہتا ہے ساری زندگی میں نے عیش کروائی ہے کیا ہوگیا جو اب تم کام کر رہی ہو.
    آپا کیا وہ عیش کی زندگی میں نے اکیلے گزاری تھی کہ اب سارا بوجھ مجھے اٹھانا پڑ رہا ہے ؟ اس عیش میں اس کے اپنے گھر والے بھی تو تھے ناں

    یہ کہتے وہ مجھے سوالیہ نظروں سے دیکھنے لگی مگر میرے پاس اس کے سوالوں کا جواب نہیں تھا سوائے تسلی دینے کے کہ حوصلہ رکھو سب بہتر ہوجائے گا تو جواب میں اس کا جواب آیا کہ جب میں ہی نہ رہی تو سب ٹھیک ہوگا بھی تو مجھے کیا….

    اس کی اس بات پر میں نے حیرانگی سے پوچھا ایسا کیوں کہہ رہی ہو تو وہ بولی آ پا میں سوچتی تھی کہ خودکشی کرنے والوں کو ڈر کیوں نہیں لگتا مگر اب سمجھ آرہی ہے کہ لوگ خودکشی کو کیوں اتنا آ سان سمجھتے ہیں ایک بار کی تکلیف ہوتی ہے ناں, روز روز کی تکلیفوں سے کم از کم نجات تو پالیتے ہیں,
    میں نے اس کی پوری بات سن کر اس کو ڈانٹا کہ اپنے ذہن سے منفی سوچ نکالو کہ خودکشی کرنے سے سب تکلیفیں ختم ہوجائیں گی تم ایک پڑھی لکھی لڑکی ہو کر ایسی باتیں کررہی ہو مجھے حیرت ہے, اپنے آپ کو مضبوط بناؤ جیسے دکھاتی ہو کہ تم ہمت والی ہو, اور خودکشی بزدل لوگ کرتے ہیں جو حالات کا مقابلہ نہیں کرسکتے. خیر میرے ڈانٹنے پر وہ تھوڑا مسکرا دی اور میرے گلے لگ گئی یہ کہتے ہوئے کہ آپا کبھی تو اپنا وقت بھی آئے گا ناں ؟اس کی بات سن کر میں نے مصنوعی ہنسی سے کہا ہاں انشاءاللہ ضرور آئے گا بس انسان کو ثابت قدم رہنا چاہیے.

    یہ وہ عورت تھی جو ایک خوشحال اور زندگی سے بھرپور زندگی گزار رہی تھی مگر حالات نے اس مقام پر لا کھڑا کردیا کہ اسے مرنا آسان لگنے لگا تھا ،اس کے برے حالات سے زیادہ میرے خیال میں اسے اس کے اپنوں کے رویے اذیت دے رہے تھے کیونکہ بقول اس کے کہ اس کی تکلیفوں کا کسی کو بھی احساس نہیں ،وہ اپنی استطاعت کے مطابق مشکل حالات کا اکیلے مقابلہ کررہی تھی کیونکہ اسے مشکل حالات کے ساتھ ساتھ اپنوں کے منفی رویوں کا بھی سامنا کرنا پڑ رہا تھا جس کی وجہ سے وہ مایوسی کا شکار ہوگئی تھی

    یہ سچ ہے کہ زندگی میں اتار چڑھاؤ آ تے رہتے ہیں اور زندگی کے اتار چڑھاؤ ہی انسان کو سبق سیکھا دیتے ہیں,
    اس کڑے وقت میں وہ گھر داری کے ساتھ ساتھ کام کرنے کے لئے گھر سے باہر نکلتی ہے اس کو بہت سی باتیں اور تنقید بھی سننے کو ملتی ہے اسکی حوصلہ شکنی کی جاتی ہے کیونکہ یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ ہمارا معاشرہ مردوں کا ہے عورت جتنا مرضی کام کر لے اس کی حوصلہ افزائی کم ہی کی جاتی ہے.

    یہاں اس اکیلی کی زمہ داری نہیں تھی, ان حالات میں اسے اسکے شوہر کی زیادہ support کی ضرورت تھی مگر جو نظر نہیں آتی, اگر اس کا ساتھ ان حالات میں شوہر بھی دیتا تو کم از کم وہ زندگی سے مایوس نہ ہوتی, وہ آ ج خود کو اکیلا محسوس نہ کرتی, شوہر کا یہ کہنا کہ ساری زندگی عیش کروائی ہے تو کیا ہوا اب جو تمھیں کام کرنا پڑ رہا ہے یہ ہر لحاظ سے غلط سوچ ہے
    ہمیں اس معاشرے میں سب کو ساتھ لے کر چلنا ہے تو گھر سے باہر کام کرنے والی خواتین کا عزت دینا ہوگی ان کو تحفظ کا احساس دلانا ہوگا اور یہ تبھی ہوگا جب ہم منفی کی بجائے مثبت سوچ رکھیں گے جب دوسروں کی تکالیف کا احساس کریں گے جزاک اللہ
    @Rehna_7

  • بریسٹ کینسر …… لوگ کیا کہیں گے۔۔؟ (محمد نورالہدیٰ)

    بریسٹ کینسر …… لوگ کیا کہیں گے۔۔؟ (محمد نورالہدیٰ)

    پاکستان میں ہر سال اکتوبر کا مہینہ بریسٹ کینسر سے آگاہی کے طور پر منایا جاتا ہے۔ یہ مہینہ شروع ہوتا ہے تو میری نظر میں کئی ایسے قریبی رشتہ دار اور دوست احباب گھومنے لگتے ہیں جو بریسٹ کینسر کا شکار ہوئے اور آج ہم میں موجود نہیں۔ تب معاشرے میں چھاتی کے سرطان کے حوالے سے زیادہ آگاہی موجود نہیں تھی۔ گو کہ علم ہونے پر علاج کیلئے بہت بھاگ دوڑ ہوئی۔ کوئی ہسپتال، پیر، فقیر نہیں چھوڑا گیا۔ مالی وسائل نہ ہونے کے باوجود بھی اپنی حیثیت سے بڑھ کر علاج کی ہر کوشش کی گئی۔ مگر بہت تاخیر ہو چکی تھی۔ بریسٹ کینسر سے آگاہی کا مہینہ میرے اندر مذکورہ تمام متاثرین اور لواحقین کے دُکھ تازہ کر دیتا ہے۔
    مختلف بیماریوں سے نہ صرف آگاہی رکھنا، بلکہ ان کے علاج کی کوشش ہر فرد کا حق ہے۔ اس کا خود کو اس حق سے محروم رکھنا اپنے ساتھ ایک ایسی زیادتی ہے جس کا ازالہ سالوں بھگتنا پڑتا ہے۔ خواتین میں چھاتی کے بڑھتے سرطان کی ایک بڑی وجہ جھجک ہے۔ ”لوگ کیا کہیں گے“ یا، معمولی مسئلہ سمجھ کر پہلے ایسی بیماری کو نظرانداز کیا جاتا ہے یا پھر دیسی ٹوٹکوں کو ترجیح دی جاتی ہے۔ جب بات بگڑ جاتی ہے تو علاج کیلئے یہاں وہاں بھاگا جاتا ہے، مگر تب بہت دیر ہو چکی ہوتی ہے۔ حالانکہ ماہرین کا موقف ہے کہ بریسٹ کینسر ایسی بیماری ہے جس کو ابتدائی طور پر ہی پکڑا جا ئے تو بچنے کے چانسز 95 فیصد سے زائد ہوتے ہیں۔ تاہم دنیا کے بدلتے مزاج اور ترجیحات کے ساتھ ساتھ اب صورتحال مختلف ہوچکی ہے۔ جس معاشرے میں پہلے مذکورہ حوالے سے بات کرنے میں جھجک آڑے رہتی تھی، وہاں اب ”پنک ربن“ نامی ایک پلیٹ فارم کی وجہ سے خواتین میں بریسٹ کینسر سے بچاؤ سے آگاہی اور مختلف ہدایات دینے کے ضمن میں منظم آگاہی مہم بھرپور انداز میں چلائی جاتی ہے اور علاج میں کوتاہی نہ برتنے بارے انہیں خبردار کیا جاتا ہے۔
    پاکستان میں بریسٹ کینسر کی شرح پورے ایشیا میں سب سے زیادہ ہے۔ ہر 9 میں سے 1 خاتون کو بریسٹ کینسر ہونے کا رسک ہے۔ جس کا واضح مطلب یہ ہے کہ پاکستان میں ایک کروڑ سے زائد خواتین بریسٹ کینسر کے رسک پر ہیں۔ پاکستان تھرڈ ورلڈ ممالک سے تعلق رکھنا والا وہ ملک ہے جہاں 60 فیصد سے زائد افراد خط غربت سے نیچے زندگی بسر کر رہے ہیں۔ ایسی صورتحال میں لوگ مہنگے علاج کے خوف سے بھی ہسپتالوں میں جانے سے کتراتے ہیں۔ اگر ڈاکٹر تشخیص کی مناسب فیس بھی وصول کرے تو ادویات ہی اس قدر مہنگی ہوتی ہیں کہ انہیں ریگولر بنیادوں پر لیتے رہنا عام آدمی کے بس کی بات نہیں۔ اسی لئے آغاز میں چھاتی میں پیدا ہونے والی تبدیلیوں کو معمولی گردانا جاتا ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ پنجاب حکومت نے سرکاری ہسپتالوں میں جو 18 میموگرام مشینیں انسٹال کی ہیں، ان سے استفادہ کرنے والی خواتین کی تعداد بے حد مایوس کن ہے۔تحقیق بتاتی ہے کہ اسی رویے کی وجہ سے تقریباً 70 فیصد خواتین اُس وقت ہسپتال میں علاج شروع کرواتی ہیں جب وہ انجانے میں بریسٹ کینسر کی تیسری اسٹیج پر پہنچ چکی ہوتی ہیں اور یوں پاکستان میں ہر سال 40 ہزار سے زائد خواتین موت کے منہ میں جا رہی ہیں۔ اگر وہ تیسری اسٹیج کی بجائے ابتداء میں ہی مستند جگہوں سے اپنا چیک اپ کروانا شروع کر دیں تو نہ صرف علاج کے اخراجات کنٹرول میں رہیں گے بلکہ ان کا شمار صحتیاب ہو کر اس مرض سے چھٹکارہ پانے والی 95 فیصد خواتین میں ہوگا۔

    جنسی طور پر ہراساں کرنے پر طالبہ نے دس سال بعد ٹیچر کو گرفتار کروا دیا

    غیر ملکی خاتون کے سامنے 21 سالہ نوجوان نے پینٹ اتاری اور……خاتون نے کیا قدم اٹھایا؟

    بیوی طلاق لینے عدالت پہنچ گئی، کہا شادی کو تین سال ہو گئے، شوہر نہیں کرتا یہ "کام”

    50 ہزار میں بچہ فروخت کرنے والی ماں گرفتار

    واش روم استعمال کیا،آرڈر کیوں نہیں دیا؟گلوریا جینز مری کے ملازمین کا حاملہ خاتون پر تشدد،ملزمان گرفتار

    خاتون کی لاش کے کئے 56 ٹکڑے، ٕگوشت بھی کھایا ، ملزمان کا تہلکہ خیز انکشاف

    ایم بی اے کی طالبہ کو ہراساں کرنا ساتھی طالب علم کو مہنگا پڑ گیا

    تعلیمی ادارے میں ہوا شرمناک کام،68 طالبات کے اتروا دیئے گئے کپڑے

    شوہرکے موبائل میں بیوی نے دیکھی لڑکی کی تصویر،پھر اٹھایا کونسا قدم؟

    خاتون پولیس اہلکار کے کپڑے بدلنے کی خفیہ ویڈیو بنانے پر 3 کیمرہ مینوں کے خلاف کاروائی

    ”پنک ربن“ کے مطابق پاکستان میں ہر سال چھاتی کے کینسر کے 90 ہزار نئے مریض سامنے آتے ہیں۔ اس صورتحال میں خواتین میں جھجک کا عنصر ختم کرنے کیلئے وسیع پیمانے پر آگاہی مہم کی ضرورت ہے۔ آگاہی کا فقدان دور کرنے اور اس کے خاطر خواہ نتائج حاصل کرنے کیلئے آگاہی مہم کا دائرہ کار مساجد میں خطبوں، تعلیمی اداروں میں سیمینارز، ہسپتالوں اور کاروباری پوائنٹس پر تشہیری ذرائع کے استعمال حتیٰ کہ گھروں تک آگاہی پمفلٹس پہنچانے کی صورت میں بڑھانے کی ضرورت ہے تاکہ معاشرے میں لائف لانگ میسج سرایت کر سکے۔ اس کے ساتھ ساتھ اس امر کی بھی ضرورت ہے کہ ہر زون کی سطح پر فری ڈائیگناسٹک سروسز مہیا کی جائیں۔ جبکہ یہ بھی ضروری ہے کہ جن ہسپتالوں میں یہ سروسز موجود ہیں وہاں خواتین کو ٹیسٹوں اور علاج کیلئے شارٹ سے شارٹ ٹائم دیا جائے تاکہ ان کی تیز ترین ریکوری ممکن ہو سکے۔ خواتین میں چھاتی کے سرطان کی بڑھتی شرح دیکھتے ہوئے کہا جا سکتا ہے کہ اب ”لوگ کیا کہیں گے“ سے آگے نکلنا ہوگا۔ اس ضمن میں یہ امر بھی یقینی بنانا انتہائی ضروری ہے کہ جو خواتین چھاتی کے سرطان کی تیسری اور چوتھی اسٹیج پر پہنچ چکی ہیں ان کیلئے علاج کی سہولیات کم لاگت کی جائیں تاکہ ان کے گھر والے بآسانی ان کا علاج کروا سکیں …… وگرنہ 20 لاکھ روپے کے قریب ہونے والا علاج ہر خاتون کیلئے کروانا ممکن نہیں

  • پاکستان میں تشدد کا ہولناک واقعہ

    پاکستان میں تشدد کا ہولناک واقعہ

    زنیرہ ماہم کی حالیہ ویڈیو نے 14 سالہ لڑکی کے ساتھ ہولناک زیادتی کا پردہ فاش کیا ہے،
    زنیرہ ماہم کی جانب سے شیئر کی گئی ایک حالیہ ویڈیو نے پورے پاکستان میں ہلچل مچا دی ہے۔ جس میں وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں مبینہ طور پر ایک سول جج کی سربراہی میں ایک خاندان کے ہاتھوں 14 سالہ لڑکی پر وحشیانہ تشدد کا انکشاف ہوا ہے۔ ویڈیو میں کم از کم 15 مختلف مقامات پر لڑکی کو تشدد کا نشانہ بنانے کے پریشان کن مناظر دکھائے گئے ہیں۔ یہاں تک کہ تشدد اس کے جنسی اعضاء تک بھی کیا گیا ہے،۔ لڑکی کے سر پر ایک کھلا زخم بتایا جاتا ہے، جس کے اندر کیڑے رینگتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ بعد میں اسے تشدد کرنے والوں نے ایک بس سٹاپ پر چھوڑ دیا اور بالآخر اس کے والدین اسے سرگودھا کے ایک ہسپتال لے گئے، وہاں پر اسکا علاج نہ ہونے کی وجہ سے اسے مزید علاج کے لیے لاہور کے ایک سرکاری ہسپتال میں منتقل کر دیا گیا ہے۔

    حکام نے لڑکی کے لیے روزگار تلاش کرنے کے ذمہ دار فرد کو گرفتار کر لیا ہے۔ لیکن حیران کن طور پر اس واقعے میں مبینہ طور پر ملوث ہونے کے باوجود، پولیس کی جانب سے جج اور ان کی اہلیہ سے تاحال کوئی تحقیقات نہیں کی گئی۔ جج نے کسی بھی غلط کام سے انکار کیا ہے، اس حقیقت کے باوجود کہ متاثرہ لڑکی کو خاندان نے چھ ماہ سے ملازم رکھا تھا۔

    لنک: https://www.youtube.com/watch?v=rcRsOJ2hfz0

    اس افسوسناک واقعے نے ایک بار پھر پاکستانی معاشرے میں پائی جانے والی عدم مساوات کو بے نقاب کر دیا ہے۔ جہاں بااثر افراد اکثر اپنے اعمال کے لیے جوابدہی سے بچ سکتے ہیں۔ جب کہ عام عوام کو معمولی جرائم کے لیے بھی سخت نتائج کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ بدعنوانی اقتدار میں رہنے والوں کے لئے ڈھال بنتی ہے، انہیں انصاف سے بچاتی ہے، اور یہاں تک کہ اگر وہ چاہیں تو ملک چھوڑ دیتے ہیں۔ یہ واضح تضاد ملک کے تمام صوبوں میں قیدیوں کی خطرناک تعداد میں ظاہر ہوتا ہے، جن کو سزا نہیں دی گئی۔ جس کا تناسب سندھ میں 70%، کے پی میں 71%، بلوچستان میں 59%، اور پنجاب میں 55% تک پہنچ گیا ہے – بااثر مجرم سزا سے بچتے رہتے ہیں، اور اکثر بیرون ملک چلے جاتے ہیں

    کسی کی سماجی حیثیت سے قطع نظر، معاشرے میں انصاف اور مساوات کی بالادستی ہونی چاہیے۔ یہ واقعہ ملک میں بدعنوانی، استثنیٰ، اور عام آدمی کے ساتھ غیر منصفانہ سلوک کے مروجہ مسائل سے نمٹنے کے لیے اصلاحات کی فوری ضرورت کو اجاگر کرتا ہے۔ ان مشکلات کو تسلیم کرنے اور ان سے نمٹنے کے ذریعے ہی، پاکستان ایک منصفانہ اور ہمدرد معاشرہ بن سکتا ہے۔ جو اپنے سب سے زیادہ کمزوروں کی حفاظت کرتا ہے۔

  • ملازمہ پر تشدد،دست قلم لرز رہا ہے،تجزیہ: شہزاد قریشی

    ملازمہ پر تشدد،دست قلم لرز رہا ہے،تجزیہ: شہزاد قریشی

    سرگودھا میں ایک غریب گھریلو ملازمہ بچی کو معاشرے کے پڑھے لکھے اور عوام کو انصاف فراہم کرنے والوں نے جس طرح تشدد کا نشانہ بنایا اس پر لکھیں توکیا لکھیں؟ انسان تو انسان چرند و پرند بھی شرمندہ ہیں۔ کیا لکھا جائے اور کتنا لکھا جائے۔ دست قلم لرز رہا ہے۔ عقل و دماغ مائوف، ہمارا معاشرہ کدھر جا رہا ہے۔ بھلا ہو پولیس کا،جنہوں نے تشدد کرنے والی ایک سول جج کی بیگم کیخلاف مقدمہ درج کر لیا۔ پنجاب پولیس میں ڈی پی او سرگودھا جیسے ایماندار فرض شناس آفیسر موجود ہیں بھلا ہو ہمارے سیاستدانوں کا جنہوں نے اس محکمہ میں مداخلت اتنی کی کہ یہ اپنی آزادی سے کام نہیں کر سکتے۔ تاہم اسلام آباد میں درج ہونے والے مقدمے سے ثابت ہوتا ہے کہ پولیس میں قانون کی حکمرانی کی رٹ کو قائم کرنے والے افسران موجود ہیں۔

    عرب نیوزمیں ڈاکٹر علی عواد اسیری جو پاکستان میں سعودی عرب کے سفیر رہ چکے ہیں وہ لکھتے ہیں کہ پاکستان کے وزیراعظم شہبازشریف ایک مشکل لیکن نتیجہ خیز مدت کے اختتام کے قریب ہیں۔ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور قطر کے ساتھ سرمایہ کاری اور تجارتی تعلقات جس میں اہم پالیسی فیصلے کئے گئے ہیں۔ پاکستان کی معیشت میں جی سی سی ایک اہم کردار ادا کرتا ہے۔ پاکستان کے سویلین اور فوجی رہنما سمجھتے ہیں کہ سرمایہ کاری بحران سے دوچار معیشت کو جی سی سی پائیدار ترقی کی جانب مستحکم راستے پر ڈالنے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔

    ڈاکٹر علی عواد اسیری لکھتے ہیں شہبازشریف کو اقتدار سنبھالنے کے بعد اہم چیلنجوں کا سامنا کرنا پڑا مالیاتی ڈیفالٹ کے دہانے پر موجود ملک کو وراثت میں ملا تاہم پاکستان اتنا مستحکم ہے کہ نگران سیٹ اپ کی طرف آسانی سے منتقل ہو سکے۔ نومبر میں جنرل عاصم منیر کی بطور آرمی چیف کے عہدے پر تقرری کے بعد سے سیاسی انتشار کم ہو گیا بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے ساتھ عملے کی سطح کا ایک نیا معاہدہ جون میں اختتام پذیر ہوا۔ چائنا پاکستان کو ریڈور بحال ہو گیا۔ جبکہ امریکہ کے ساتھ بھی تعلقات دوبارہ پٹڑی پر آگئے۔ سب سے بڑی قابل ذکر بات سول ملٹری تعاون نے جی سی سی اقتصادی میدان میں توسیع کی ہے جس سے سرکردہ معیشتوں کے ساتھ پاکستان کی اقتصادی شراکت داری کو نئی رفتار ملی ہے۔ پاکستان کے سویلین اور فوجی رہنما غیر ملکی قرضوں پر انحصار کے خطرے کو سمجھتے ہیں۔ اس سلسلے میں دوست ممالک سے سرمایہ کاری کو راغب کر کے ایک مضبوط اقتصادی بنیاد ڈالنے کی تیاری کر رہے ہیں شہبازشریف نے پاکستان میں معاشی بحالی کے امکانات کو بڑھانے کے لئے اچھا کام کیا ہے امید ہے مستقبل کی سیاسی قیادت اقتصادی پالیسیوں میں موجودہ رفتار کو برقرار رکھے گی خاص طور پر ترقی پذیر جی سی سی شراکت داری کے حوالے سے، قارئین ملکی معیشت کو مستحکم کرنے کے لئے ملک کے بیورو کریٹ سول انتظامیہ کو بھی اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ تاکہ پاکستان ترقی یافتہ ممالک کی صف میں کھڑا ہو سکے۔

  • بیت النورآرفن سنٹر یتیم بچیوں کی تعلیم وتربیت اور کفالت کا مثالی ادارہ

    بیت النورآرفن سنٹر یتیم بچیوں کی تعلیم وتربیت اور کفالت کا مثالی ادارہ

    تحریر: ارشاد احمد ارشد
    پاکستان میں اس وقت متعدد ادارے یتیم بچوں کی ترتیب وکفالت کاکام کررہے ہیں لیکن یتیم بچیوں کی کفالت کرنے والے ادارے شائد نہ ہونے کے برابر ہیں ۔ اس کمی کو محسوس کرتے ہوئے چوہدری محمد حسن ایڈووکیٹ اور ان کے ساتھیوں نے ” بیت النور آرفن سنٹر “ کے نام سے یتیم بچیوں کی کفالت وتربیت کے لئے ایک ادارہ بنایا ہے جو لاہور میڈیکل ہاﺅسنگ سکیم مین کینال روڈ نزد ہربنس پورہ میں واقع ہے ۔ چوہدری محمد حسن نے ایک سوال کے جواب میں کہا لوگ ہم سے پوچھتے ہیں کہ پاکستان میں لاکھوں یتیم بچے ہیں لیکن کیا وجہ ہے کہ ہم نے صرف یتیم بچیوں کے لیے ہی یہ ادارہ کیوں بنایاہے؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ بچہ یتیم ہوجائے تو اس کےلئے خود کو سنبھالنا آسان ہوتا ہے بہ نسبت بچیوں کے ۔بچیاں پھولوں کی طرح نرم و نازک ہوتی ہیں، ان کے دل بھی نرم ونازک ہوتے ہیں ، بچیوں کےلئے مشکلات کا سامنا کرنا مشکل ہوتا ہے، بچی کے سر سے باپ کا سایہ اٹھ جائے تو وہ رشتے داروں اور معاشرے کے رحم وکرم پر ہوتی ہے ۔اسلئے بچیوں کو زیادہ محبت اور شفقت کی ضرورت ہوتی ہے ۔ کہا جاتا ہے کہ ایک بچی کی تربیت صحیح طرح سے کی جائے تو ایک خاندان سنور جاتا ہے۔ اسلئے ہم کہہ سکتے ہیں کہ بچیوں کی تربیت بچوں کے مقابلے میں زیادہ اہم ہے اس پس منظر میں ہم نے بچیوں کا ادارہ بنانے کو ترجیح دی ہے ۔ تاکہ ایسی بچیاں جن کے باپ داغ مفارقت دے گئے ہیں اسلامی ماحول میں اور باعزت طریقے سے ان کی پرورش وتربیت کی جائے ۔ دینی ودنیوی علوم سے انھیں بہرہ مند کیا جائے اور اس کے ساتھ ساتھ انھیں کوئی ہنر بھی سکھایا جائے ۔

    اپنا گھر اور ماں باپ کا نعم البدل تو کوئی بھی نہیں تاہم ہماری کوشش ہے کہ ادارے میں بچیوں کو بالکل گھر کا ماحول دیا جائے، انھیں ماں باپ کی کمی محسوس نہ ہونے دی جائے ، ان کے زخموں پر مرہم رکھا جائے ، ان کے غموں اور دکھوں کا مداوا کیا جائے ۔انھیں سیدہ فاطمہ ، سیدہ عائشہ اور سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنھن کی سیرت وکردار سے روشناس کروایا جائے ۔” بیت النور آرفن سنٹر “ میں 25بچیاں زیر کفالت ہیں ۔ ان کی تعلیم وتربیت کےلئے دینی ودنیوی علوم پر مشتمل بہترین نصاب اور قابل ترین اساتذہ ہیں ، عصری علوم سیکھانے کےلئے بہترین سکولنگ کا انتظام ہے ۔ہر بچی پر انفرادی توجہ دی جاتی ہے ، اس کی فطری صلاحیت اور قابلیت کے مطابق علم سے بہرہ مند کرنے کی کوشش کی جاتی ہے ۔ عصری علوم کے ساتھ کمپیوٹر ٹیکنالوجی اورٹیکنیکل تعلیم سے روشناس کروانا بھی ادارے کے منشور میں شامل ہے ، صوم وصلوة کا پابند بنایا جاتا اور نفلی روزوں کی ترغیب دی جاتی ہے ۔ بچیوں کو علوم شریعہ ، دروس ، قرآن وحدیث ، حفظ وناظرہ ، تجوید وقرآت کے ساتھ ساتھ جدید نصاب کے مطابق اردو ، انگلش ، عربی ،سائنس، ریاضی و دیگر سبجیکٹ پڑھائے جاتے ہیں ۔الحمد للہ ہم نے ایسا نصاب ترتیب دیا ہے کہ جسے پڑھ کر یہ بچیاں دین کی عالمہ ومبلغہ بننے کے ساتھ ساتھ ڈاکٹر ، انجئیر اور قانون دان بھی بن سکیں گی ۔ بچیوں کو مروجہ ہنر بھی سیکھائے جائیں گے تاکہ وہ باعزت زندگی گزار سکیں ۔یہ بات معلوم ہے کہ صحتمند دماغ صحتمند جسم میں ہوتا ہے بچوں کےلئے تعلیم کے ساتھ تفریحی سرگرمیاں بھی بے حد ضروری ہوتی ہیں جس کےلئے مختلف تفریحی پروگرام کاشیڈول بھی ترتیب دیا جاتا ہے ، لاہور کے خوبصورت ترین تفریحی مقامات جیساکہ سکائی لینڈ، جوائے لینڈ اور دیگر مقامات وباغات کی انھیں سیر کروائی جاتی ہے ، پرائمری سے اعلیٰ تعلیم اور شادی کی ذمہ داری بیت النور آرفن سنٹر نے لے رکھی ہے ۔ ہمارے ادارے کا سٹاف 8افراد پر مشتمل ہے جس میں معلمات ، باورچی ، ایڈمن ، آیا ، صفائی کےلئے خاتون اور دیگر عملہ شامل ہے ۔ ادارے کے سالانہ اخراجات ایک کروڑ ہیں جن میں بلڈنگ کا کرایہ ، اساتذہ، دیگر عملہ کی تنخواہیں ، کچن کے اخراجات ، بجلی ، گیس کے بل اور بچیوں کے کپڑے جوتے وغیرہ شامل ہیں ۔ عمدہ تعلیم وتربیت کے ساتھ ہم بچیوں کو معیاری رہائش ، طبی سہولتیں، جسمانی نشو ونما کے مطابق اچھا کھانا ،کھانے کے ساتھ دودھ ، موسمی پھل ،پسند کے مطابق آئس کریم ، بسکٹ ، صاف ستھرا لباس ،صحت کی بحالی اور علاج معالجہ کےلئے ماہر نفسیات ، ان ڈور گیمز، ہر بچی کےلئے الگ الگ بیڈ ، اسٹڈی ٹیبل ، اسٹڈی چئیر ، الماری وغیرہ کی سہولیات دے رہے ہیں ۔ دن کا آغاز نماز فجر سے ہوتا ہے ، اس کے بعد صبح کے اذکار پڑھے جاتے ہیں ، اذکار کے بعد ایک گھنٹہ آرام کا وقفہ ہوتا ہے ، ساڑھے سات سے ساڑھے نوبجے تک قرآن مجید کی تلاوت ، تجوید اور گرائمر کا پیریڈ ہوتا ہے ۔ بعد ازاں ناشتہ اور سکول کی تیاری کا وقت دیا جاتا ہے پھر مختلف اسباق کے پیریڈ ہوتے ہیں ۔ ایک بجے سے دو بجے تک بریک ہوتی ہے جس میں نماز ظہر ادا کی جاتی ہے اور کھانا کھایا جاتا ہے ، دو بجے سے چار بجے تک سکول کی تعلیم دی جاتی ہے ، نماز عصر سے نماز مغرب تک چھٹی ہوتی ہے جس میں بچیاں کھیلتی ہیں ۔ ” بیت النور آرفن سنٹر “ کے اندر ہی کینٹین ہے جہاں سے بچیاں اپنی دلپسند اشیا لیتی اور کھاتی ہیں ۔ نماز مغر ب کے بعد ایک گھنٹہ تک قرآن کلاس ہوتی ہے ، پھر رات کا کھانا کھایا جاتا ہے ، اس کے بعد نماز عشا ادا کی جاتی ہے ، نماز عشا کے بعد پھر ایک گھنٹہ تفریح کےلئے وقت دیا جاتا ہے جس میں بچیاں کھیلتی ہیں ،اسلامی گیمز یا اسلامی کارٹون دیکھتی ہیں جبکہ ساڑھے دس بجے تعلیمی دن کااختتام ہوتا ہے اس کے بعد رات کے اذکار اور دعائیں پڑھ کر بچیاں سونے کےلئے لیٹ جاتی ہیں ۔

    بشری نے بچوں سے نہ ملنےدیا، کیا شرط رکھی؟ خان کیسے انگلیوں پر ناچا؟

    ہوشیار،بشری بی بی،عمران خان ،شرمناک خبرآ گئی ،مونس مال لے کر فرار

    بشریٰ بی بی، بزدار، حریم شاہ گینگ بے نقاب،مبشر لقمان کو کیسے پھنسایا؟ تہلکہ خیز انکشاف

    تحریک انصاف میں پھوٹ پڑ گئی، فرح گوگی کی کرپشن کی فیکٹریاں بحال

    عام طور پر یتیم بچوں یا بچیوں کے لیے بنائے گئے اداروں کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ان میں کھانے پینے ، رہائش اور یونیفارم کا معقول انتظام نہیں ہوتا ۔جبکہ بیت النور آرفن سنٹر کے بارے میں میں اتنا ہی کہوں گا کہ ہماری کوئی ماں ، بہن بیٹی کسی وقت بھی اچانک ہمارے ادارے کا وزٹ کرے تو ان شاءاللہ یہاں دی جانے والی سہولتوں سے اس کا دل سو فیصد مطمن ہوگا ۔

    بیت النور آرفن سنٹر کرائے کی بلڈنگ میں ہے جبکہ کرائے کی مد میں ہمیں ہر ماہ بھاری رقم ادا کرنا پڑتی ہے ۔ بیت النور آرفن سنٹر میں داخلے کی خواہشمند بچیوں کی تعداد زیادہ ہے لیکن جگہ کی قلت کی وجہ سے زیادہ بچیاں رکھنا ہمارے لئے ممکن نہیں ہے۔ ادارے کی اپنی بلڈنگ ہو اور وسیع بھی ہو تو ہمارے لئے زیادہ بچیاں رکھنا ممکن ہوجائے گا ۔
    کوئی بھی کام کیا جائے تو اصل چیز ہوتی ہے اس کے ثمرات وفوائد ۔ مجھے خوشی ہے کہ جس مقصد کی خاطر ہم نے بیت النورآرفن سنٹر قائم کیا اللہ نے کم وقت میں ہمیں اس کے نتائج اور فوائد وثمرات دکھانا شروع کردیے ہیں ۔ جو بچیاں ہمارے پاس زیر تعلیم ہیں ان کی مائیں ہم سے مطئمن اور خوش ہیں ۔اس سلسلہ میں بے شمار واقعات ہیں ایک ماں نے ہمیں بتایا کہ جب میری بچی ماہانہ چھٹی پر گھر آئی تو وہ کہنے لگی ” امی جان ! رات کو ہم نے جلدی سونا ہے “ میں نے کہا بیٹی اتنی جلدی بھی کیا ہے؟ ۔ بیٹی کہنی لگی ” امی جان ! رات کو جلدی نہ سوئے تو صبح نماز کے وقت میں اٹھ نہیں پاﺅں گی اور اس طرح سے میری نماز رہ جائے گی ۔“ ایک اور ماں نے ہمیں بتایا کہ جب میری بیٹی چھٹی پر گھر آئی تو وہ رات کو بار بار اٹھ کرگھڑی سے ٹائم دیکھ رہی تھی ۔اس دوران اچانک میری آنکھ بھی کھل گئی میں نے پوچھا بیٹی کیا بات ہے ، خیریت تو ہے ، کیا وجہ ہے نیند نہیں آرہی کیا ؟ ۔۔۔۔؟ بیٹی جو جواب دیا وہ نہایت ہی ایمان افروز تھا ۔ کہنے لگی” امی میں نماز کا وقت دیکھ رہی ہوں یہ نہ ہو کہ میں سوئی رہ جاﺅں اور میری نماز ضائع ہوجائے “ یہ ہیں الحمدللہ ہماری تربیت کے اثرات ۔اگر کوئی صاحب یتیم بچی کی کفالت کرکے جنت میں رسول مقبول ﷺ کی ہمسائیگی چاہتے ہیں تو بیت النور آرفن سنٹر کے درج ذیل نمبر 0322-2211911 پر رابطہ کرسکتے ہیں ۔

  • پاکستان میں سیلاب متاثرین کی مشکلات کا سلسلہ تاحال جاری

    پاکستان میں سیلاب متاثرین کی مشکلات کا سلسلہ تاحال جاری

    پاکستان میں سیلاب متاثرین کی مشکلات کا سلسلہ تاحال جاری

    ایک طرف پوری قوم آئینی ڈرامہ کے گرداب میں پھنسی ہوئی ہے جبکہ دوسری طرف گزشتہ سیلاب سے متاثر ہونے والے افراد کسمپرسی کی حالت گزار رہے ہیں. ایک اندازے کے مطابق تقریبا دس ملین افراد پینے کے صاف پانی سے محروم ہیں جبکہ جو پانی دستیاب ہے اس سے پھیلنے والی بیماریاں اموات کا باعث بن رہی ہیں۔ جیسے کہ ملیریا اور ہیضہ سب سے زیادہ پھیلنے والی بیماریاں ہیں۔

    اسی طرح خوراک کی کمی سے غذائی قلت پیدا ہو رہی ہے اور ریکارڈ کی جانے والی اموات کی تعداد تقریباً 1,739 ہوچکی ہیں اور زیادہ تر اموات ایسی ہیں غیر محفوط ماحول کے پیش نظر ہوئی ہیں. الجزیرہ کی ایک رپورٹ کے مطابق زیادہ تر لوگوں کو سیلاب سے پہلے بھی کوئی خاص پینے کے صاف پانی تک رسائی نہیں تھی جبکہ جو پانی کا دستیاب نظام موجود تھا اسے بھی سیلاب نے بری طرح نقصان پہنچایا دیا۔ یونیسیف کا کہنا ہے کہ ’سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں رہنے والے خاندانوں کے پاس بیماریوں سے متاثرہ پانی پینے اوراسے استعمال کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہے.

    یونیسیف پاکستان نے 20 مارچ 2023 کو ایک ٹویٹ میں کہا تھا کہ "پاکستان میں سیلاب کے 6 ماہ بعد، 9.6 ملین بچوں کو اب بھی زندگی بچانے والی امداد کی ضرورت ہے۔ ہمیں پینے کا صاف پانی فراہم کرنے اور بیت الخلاء کی تعمیر سمیت متاثرین کو صفائی کی اہم خدمات فراہم کرنے کے لیے اپنے عطیہ دہندگان کا مسلسل تعاون درکار ہے کیونکہ اس سب کی متاثرین کو اشد ضرورت ہے۔ تاہم ڈونر ایجنسی کے مطابق اب تک امداد کی نصف سے بھی کم ضرورت پوری ہوئی ہے.

    جبکہ سب سے پہلے ان ضروری معاملات کو حل کرنا انتہائی ضروری ہے اور اسکے بعد انفراسٹرکچر کی تعمیر نو کرنا، بھی لازمی تاکہ لوگوں پر پڑنے والے پیچیدہ منفی اقتصادی اثرات سے بھی بچا جا سکے۔ بروکنگز انسٹی ٹیوٹ کے مطابق صرف تنظیم نو کی لاگت 16.3 بلین ڈالر ہے جبکہ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اس میں بحالی اور تعمیر نو کا فریم ورک (4RF) معاش اور زراعت کی بحالی سمیت نجی مکانات کی تعمیر نو اور سڑکوں، پلوں، اسکولوں اور اسپتالوں سمیت عوامی بنیادی ڈھانچے کی تعمیر نو بھی شامل ہے.

    واضح رہے کہ سیلاب سے متاثرہ اکثر آبادی خوراک، کپڑے سمیت بنیادی سہولیات اور سروں پر چھت سے محروم ہے جبکہ بنیادی ادویات کی بھی کمی ہے جیسے تیز بخار پر قابو پانے کے لیے اینٹی پائریٹک گولیاں وغیرہ شامل ہیں علاوہ ازیں بچوں میں غذائیت کی کمی کے ساتھ صحت کے مسائل جیسے سستی اور کمزوری وسیع پیمانے پر پھیلی ہوئی ہے۔

  • در حقیقت روٹی کھا گئی ہم کو،تحریر:حیدرعلی صدیقی

    در حقیقت روٹی کھا گئی ہم کو،تحریر:حیدرعلی صدیقی

    در حقیقت روٹی کھا گئی ہم کو،تحریر:حیدرعلی صدیقی

    یہ بات تقریباً سبھی لوگوں کے علم میں ہوگی کہ روٹی، کپڑا، مکان ہر باشندۀ ریاست کا بنیادی حق ہے اور حکومت وقت کی ذمہ داری ہے کہ یہ حق مستحق کو بلا لحاظ رنگ و نسل، بلا تفریق مذہب و مسلک فراہم کرے۔
    مختلف حکومتیں اپنی اسی ذمہ داری کو نبھانے کے لیے مختلف اقدامات کررہی ہے، اور عوام کو سہولت کے ساتھ ضروریات پورا کرنے کا موقع دیتی ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ کونسی حکومت اپنی ان ذمہ داریوں کو پورا کرچکی ہے اور کونسی نہیں، اور کونسی اس سلسلے میں خاطر خواہ اقدامات کررہی ہے۔ عصر حاضر میں مہنگائی کے لہر سے بہت سے ممالک دوچار ہیں جن میں پاکستان کا نام بھی سر فہرست ہے، جہاں آئے روز مہنگائی اور گرانفروشی کی شرح اوپر جارہی ہے، مہنگائی کی حالیہ طوفانی لہر نے غریب عوام کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے، لوگ فاقوں پہ مجبور ہیں، غریب تو غریب متوسط طبقہ بھی ان حالات کو برداشت نہیں کرسکتا، اگر کوئی گرانفروشی کے خلاف آواز اٹھائے تو اس پر کوئی کان نہیں دھرتا۔ اشیائے خورد و نوش اور دیگر اشیائے ضرورت کے قیمتوں میں ظالمانہ اضافے کے وجہ سے ایک عام مزدور اسکا بوجھ برداشت نہیں کرسکتا، لیکن ہر کوئی مجبوری کے سبب حتی الوسع کوشش میں ہے کہ وہ اپنا اور اپنے پیاروں کے پیٹ پالنے کے لیے کوئی اقدام کرے۔ حکومت پاکستان نے عوام کے لیے وزیراعظم میاں شہباز شریف کے حکم پر رمضان پیکیج کا اعلان کیا ہے جس کے تحت عوام کو مفت آٹا ملے گا، اور اس حکمنامے پر باقاعده عمل بھی شروع کیا گیا ہے۔ لیکن حکومت نے اس کے لیے کوئی پلان نہیں بنایا کہ یہ آٹا کس طریقہ کار سے تقسیم کیا جائے گا؟ اور کون کون اس پیکیج سے مستفید ہونگے؟
    اور اسی لیے افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ پاکستان کے دیگر بہت سی منصوبوں کی طرح یہ منصوبہ بھی بدنظمی اور افراتفری کا شکار ہے۔ جہاں بھی آٹا فراہم کرنے کی سہولت ہے وہاں ایک ہلچل مچا ہوا ہے، آٹے کے غیرمنصفانہ تقسیم پر عوام میں بھگدڑ شروع ہے، شہریوں نے آٹے کے ٹرکوں پر ایک ہنگامہ آرائی برپا کی ہے، ہر کوئی اپنا اور اہل و عیال کا پیٹ پالنے کے لیے مسابقہ میں ہے۔ مہنگائی کے آگ میں جھلسے شہری سارا دن آٹا حاصل کرنے کے لیے دھکے کھا رہے ہیں، کیونکہ پیٹ کی ضرورت تو کسی ایک طبقے کا مسئلہ نہیں اور نہ یہ صرف غریب باشندوں کی ضرورت ہے۔ ایک فرد کے پیچھے اہل و عیال بھوک سے نڈھال رہے ہوتے ہیں تو اس کے پاس یہ سب برداشت کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں۔ سارا دن جھگڑوں پہ جھگڑے ہوتے ہیں، کئی قیمتی زندگیاں بھی فنا ہوئے، جس روٹی کے لیے قیمتی جان کھونا پڑے وہ مفت نہیں بلکہ بہت مہنگی ہے۔

    بظاہر تو یہ پیکیج غریب اور کمزور شہریوں کے لیے ہے لیکن کوئی بھی یقین سے نہیں کہہ سکتا کہ یہ اپنے مستحقوں کو پہنچ رہا ہے، کیونکہ غریب تو غریب ساتھ میں گزار حال طبقہ بھی اس پیکیج سے بھرپور مستفید ہونے میں کوئی کسر نہیں چھوڑتا۔ نظم و نسق نہ ہونے کے وجہ سے مضبوط اور طاقتور لوگ آسانی سے آٹے کے دو تین تھیلے حاصل کرکے خوشی سے واپس جاتے ہیں، لیکن کمزور افراد اور خواتین سارا دن دھکے پہ دھکے کھا کر مایوس گھر لوٹتے ہیں۔ آٹے کے لائنوں میں بدنظمی کی صورتحال یہ ہے کہ رمضان کے مبارک مہینے میں ہر روز جھگڑے ہوتے ہیں، روزانہ کی بنیاد پر کئی قیمتی جانیں ضائع ہوتی ہیں۔ نظم و نسق کے عدم موجودگی کے وجہ سے صورتحال انتہائی دل خراش ہے۔
    در اصل انسانی ضروریات میں آٹا انسان کی وہ بنیادی ضرورت ہے جس کے بغیر زندگی گزارنا بہت مشکل ہے۔ اگر روٹی ہو تو کوئی اس کو سالن، چٹنی، اچار حتی کہ سادہ پانی کے ساتھ بھی کھا سکتا ہے، لیکن اگر آٹا نہ ہو تو سالن وغیرہ اکیلے بھوک کا سامان مهیا نہیں کرسکتے۔

    بدقسمتی سے پاکستانی حکومت آٹے کے تقسیم کے اہم مسئلے کے حل میں ناکامی یا لاپروائی کا شکار ہوئی، اور بجائے اس کے کہ کوئی بہتر نظم و نسق کے ذریعے یہ آٹا مستحق افراد میں تقسیم کرتی تا کہ ان کی عزت نفس بھی محفوظ رہتی اور ضرورت بھی پوری ہوجاتی۔ لیکن معاملہ برعکس ہوا اور حکومتی نظم نہ ہونے کے سبب آٹے کے گاڑیوں پر عوام کا سیلاب امڈ آیا، کیا مزدور و کیا ملازم! کیا فقیر و کیا آسودہ حال! کیا مرد و کیا عورت! سب کے سب دوڑ پڑے، اور آٹے کے تھیلی حاصل کرنے کے لیے ایک دوسرے کے ساتھ دست و گریباں نظر آئے۔ پاکستان کا حکمران اور بیوروکریٹ طبقہ اطمینان و سکون کے ساتھ اپنے حویلیوں میں آرام فرما ہے، لیکن ریاست کے غریب مائیں آٹے کے لائنوں میں کھلے آسماں کے تحت بارش کے قطروں میں بھیگ رہی ہیں، ریاست کا مزدور طبقہ اپنے حق دار ہونے یا نہ ہونے کےلیے لائنوں میں کھڑا انتظار کر رہا ہے، اور دن کے اختتام پر اسے نا امید لوٹنا پڑتا ہے۔ اور مجال ہے کہ کسی حکومتی اہلکار کی آنکھ کھلے اور اس طرف توجہ کرے، اور کوئی نظم و نسق وضع کرے! وزیر اعظم کی طرف سے اس کام کو مزید تیز کرنے کی ہدایت تو دی جاتی ہے لیکن نظم و ضبط کے لیے کوئی اقدام نہیں کی جاتی۔ آٹا سنٹر میں جو ذمہ داران بیٹھے ہیں انکی بھی اپنی من مانی ہے، جسے چاہے پہلے آٹا دے اور جسے چاہے اسے آخر میں کھڑا کردیتے ہیں۔ اگر آپ آٹا سنٹر کے ذمہ داران کے رشتہ داروں اور تعلق داروں سے ہے تو آپ خوش بخت ہے کیونکہ وہ آپ کو پہلے آٹا دیتے ہیں اگر چہ آپ تاخیر سے کیوں نہ آئے ہو۔ لیکن اگر سنٹر کے ذمہ داران سے آپ کا کوئی تعلق نہیں، آپ ایک عام شہری ہے تو پھر آپ کا خدا سہارا ہو کیونکہ پھر آپ کو کوئی بھی توجہ نہیں دے گا، لائن میں کھڑے تھکا دینے والے انتظار کے بعد جب آپ کی باری آئے گی تو آپ کو نا اہل یا آٹا ختم ہونے کا کہہ کر واپس کیا جاتا ہے۔ یہ فقط میرے جذبات نہیں بلکہ آنکھوں دیکھا حال ہے، اور یہی حال ہر آٹا سنٹر پر آپ دیکھیں گے، یہ ریاست کا اس اہم منصوبے کے لیے نظم و ضبط نہ ہونے کا وجہ ہے۔ پاکستان میں مردم شماری، پولیو، یا دیگر منصوبوں کے لیے گھر گھر گھومنے والے اہلکار بمع سیکیورٹی تو موجود ہیں لیکن آٹے کے تقسیم کے اس اہم پیکیج کے لیے حکومت کے پاس قحط الرجال ہے، علاج وغیرہ کے بغیر بھی انسان کے زندہ رہنے کی امید ہے لیکن روٹی کے بغیر انسان بالاخر مر ہی جاتا ہے۔ لیکن افسوس اس اہم منصوبے کی نظم و ضبط میں حکومت ناکام اور لاپرواہ رہی۔ اگر اب بھی حکومت نے اس پیکیج کے لیے کوئی نظم وضع نہیں کی تو آٹے کے غیر منصفانہ تقسیم کا یہ سلسلہ چلتا رہے گا، اور اس سے وہ لوگ مستفید ہونگے جو پہلے ہی سے گزار حال اور آسودہ حال ہیں، اور مستحق اور حق دار لوگ محروم رہیں گے اور حکومت کے اس افراتفری کے شکار منصوبے کے وجہ سے ذلیل و خوار ہو کر مریں گے اور انکی لاشیں بزبان حال گویا ہوگی؂
    بظاہر روٹی تو ہم نے کھانی تھی
    در حقیقت روٹی کھا گئی ہم کو