Baaghi TV

Category: معاشرہ و ثقافت

  • موازنہ کرنا چھوڑ دیجئے!!! — محمد فھد حارث

    موازنہ کرنا چھوڑ دیجئے!!! — محمد فھد حارث

    2019ء میں نئی کمپنی نے ہماری کمپنی کو ایکوائر کیا تو مامون اور ریا کو آفر لیٹر میں تنخواہ دس ہزار درہم بڑھادی جبکہ مجھے صرف ڈھائی ہزار درہم بڑھائے۔۔۔ میرے ساتھ ہی ایسا کیوں ہوتا ہے؟؟؟

    تصویر کا دوسرا رخ: پروفیشنلی مامون مجھ سے دس سال جبکہ ریا پانچ سال سینئر ہے اور یہ دونوں کمپنی میں مجھ سے گیارہ سال قبل سے کام کررہے ہیں۔ لیکن 2011ء میں جب میں نے کمپنی جوائن کی تو پروفیشنلی ان سے جونیر ہونے کے باوجود 8 سال تک مامون کے برابر اور ریا سے زیاددہ تنخواہ لیتا رہا جبکہ انکا اور میرا گریڈ سیم تھا۔۔۔۔۔ تب مامون اور ریا کو کیسا لگتا ہوگا؟؟؟؟

    ارے یہ کیا تیسرا سال ہے اور میرے ماتحت کام کرنے والے احمد کو اپریزل میں 4 ریٹنگ مل رہی ہے جبکہ کئی اچیومنٹس کے باوجود مجھے پچھلے دو سال سے 3 ریٹنگ مل رہی ہے۔۔۔۔۔ میرے ساتھ ہی ایسا کیوں ہوتا ہے؟؟؟

    تصویر کا دوسرا رخ: احمد اور میں پروفیشنل تجربے میں برابر ہیں یعنی پچھلے اٹھارہ سالوں سے ہم ٹیلیکوم انڈسٹری میں کام کررہے ہیں۔ احمد کے پاس انجینیرنگ کے ساتھ ساتھ ایم بی اے کی ڈگری بھی ہے جبکہ میں فقط انجینئر ہی ہوں لیکن اس کے باوجود میں اس سے دو گریڈ سینئر اور اسکا لائن مینجر ہوں۔۔۔۔ احمد کو کیسا لگتا ہوگا؟

    ارے یہ کیا، میرے دوست نے اپنی بیگم کو اس سال شادی کی سالگرہ پر سونے کا سیٹ دیا جبکہ میں تو دوسرے خرچوں کے سبب اس سال بیگم کو کچھ نہ دے سکا۔۔۔۔۔ میرے ساتھ ہی ایسا کیوں ہوتا ہے؟؟؟

    تصویر کا دوسرا رخ: سالوں کوشش اور انتھک محنت کرنے کے بعد دوست کو اس سال اچھی جاب آفر ہوئی اور وہ کم تنخواہ سے زہادہ تنخواہ والی نوکری سوئچ کرسکا۔ اسی سبب اتنے سالوں میں پہلی دفعہ اس نے اپنی بیگم کو اتنا مہنگا تحفہ دیا جبکہ میری جاب تو ہمیشہ اچھی رہی اور شادی کے ہر سال ہی میں کچھ نہ کچھ مہنگا تحفہ بیگم کو دیتا رہتا ہوں۔۔۔۔ جب میں تحفہ دیتا ہونگا اور میرا دوست نہ دے سکتا ہوگا تو اسکو کیسا لگتا ہوگا؟؟؟

    پس خود کا دوسروں سے موازنہ کرنا چھوڑ دیجئے۔ دوسرے کے پاس کیا ہے اور وہ وہاں کن مشکلات سے پہنچا ہے، آپکو اسکا ادراک کبھی نہیں ہوسکتا۔ آپ جس جگہ موجود ہیں، وہ آپ کے لیے اللہ کی طرف سے ودیعت بہترین جگہ ہے۔ جو احسان مالک نے آپ پر کر رکھا ہے، دوسرے اسے رشک کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ پس جو ہے جیسا ہے اس پر خوش و مطمئن رہنا سیکھیے۔ جو نہیں ہے، اس کی کڑ کڑ میں لگے رہے تو زندگی جہنم بن جائے گی۔ یہ مت دیکھیے کہ آپ کے پاس کیا نہیں ہے؟ بلکہ یہ دیکھیے کہ آپ کے پاس وہ کیا کیا ہے جس سے دوسرے محروم ہیں جبکہ عقل و جسم، پڑھائی و ٹیلنٹ میں وہ آپ سے کسی طور کم نہیں۔

  • روایات کی طرف لوٹ آئیں!!! — ڈاکٹرعدنان نیازی

    روایات کی طرف لوٹ آئیں!!! — ڈاکٹرعدنان نیازی

    میری دو دن قبل والی تحریر پڑھ کرکل ایک دوست نے اپنی سٹوری سنائی۔ اسے دوسرے ذرائع سے کنفرم کر کے لکھ رہا ہوں۔

    وہ بتانے لگے کہ میرے والدین دوسرے شہر میں ہیں۔ مجھے جاب کے سلسلے میں فیصل آباد رہنا ہے تومیں نے شادی بھی یہیں کرنے کا سوچا۔ مختلف رشتہ داروں، جان پہچان والوں اور رشتہ سنٹرز کو رشتے کے لیے کہا۔ چونکہ میری جاب بہت اچھی ہے، تنخواہ لاکھوں میں ہونے کی وجہ سے رشتہ ڈھونڈھنا کچھ خاص مشکل نہیں تھا۔ میں نے سب رشتہ کرانے والوں کو صاف صاف بتا دیا تھا کہ مجھے جاب والی لڑکی نہیں چاہیے۔ مجھے گھریلو لڑکی چاہیے ، چاہے اس کی تعلیم کم ہی کیوں نہ ہو۔ مجھے باہر کے کھانے نہیں پسند تو اسے کھانا بنانا بھی آنا چاہیے، جہیز مجھے بالکل ہی نہیں چاہیے بس میری طرح شریف ہوں، اخلاق اچھا ہو۔

    ایک جگہ بات تھوڑی آگے بڑھی تو والدین کے ساتھ دیکھنے گئے۔ وہاں کھانا بھی بہترین پیش کیا گیا۔ ہر چیز پر کہا گیا کہ میری ہونے والی بیوی نے ہی بنایا ہے۔ باقی سب کچھ بھی والدین کو اور مجھے پسند آیا تو یہ رشتہ طے ہو گیا۔

    شادی کے بعدجب اسے فیصل آباد اپنے ساتھ لایا تو اس نے بتایا کہ مجھے تو کچھ بھی بنانا نہیں آتا۔ میں نے پوچھا کہ پھر شادی سے قبل آپ کے گھر والوں نے کیوں کہا تھا کہ سب آپ نے بنایا ہے۔

    وہ بتانے لگی کہ رشتہ کروانے والوں نے کہا تھا کہ کھانے کا اچھا انتظام کر لینا اور کہہ دینا کہ لڑکی نے بنایا ہے سب۔ رشتہ ہو جائے گا تو پھر کون ان باتوں کو دیکھتا ہے۔ لاکھوں میں تنخواہ ہے لڑکے کی۔ وہ نوکرانی کا انتظام بھی کر ہی لے گا۔ تو امی اور خالہ نے مل کر بنایا اور کہا کہ میں نے بنایا ہے۔

    وہ دوست کہنے لگے کہ مجھے اس جھوٹ پر غصہ تو آیا مگر اب شادی ہو چکی تھی۔ اس لیے اپنی بیوی سے کہا کہ چلیں اب سیکھ لیں۔ یہ کوئی اتنا مشکل کام نہیں ہے۔ کچھ یو ٹیوب سے مدد لیں، کچھ امی ہے۔ کچھ کام والی بتا دے گی اور مدد بھی کروائے گی۔ لیکن آپ سیکھ لیں۔ مجھے نہ باہر کے کھانے پسند ہیں اور نہ ہی کام والی یہ اچھے سے کرتی ہے۔ لیکن میری بیوی نے اس پر کوئی توجہ ہی نہیں دی۔ پہلے میں پیار سے سمجھاتا رہا، پھر تھوڑا غصہ کیا مگر اسے تو گویا کچن میں جانے سے ہی چڑ تھی۔

    چھ ماہ تک گزارا کیا مگر جب اس نے اس معاملے میں بالکل ہی کوئی بات ماننے سے انکار کر دیا تو مجبوراً اسے میکے بھجوا دیا کہ شاید کچھ حالات بہتر ہوں۔ چار پانچ ماہ وہاں رہی لیکن اس کے والدین کا بھی یہی کہنا تھا کہ ہم نے بیٹی کی شادی کی ہے، نوکرانی بنا کر نہیں بھیجا کہ آپ کے لیے کھانے بنائے۔

    بیچ میں بزرگوں کو ڈالا تاکہ معاملہ سلجھ سکے ۔ مزید تین چاہ ماہ کے لیے اسے لے آیا۔ یوں ایک سال گزر گیا لیکن وہ اس پر بالکل بھی راضی نہ ہوئی۔

    وہ دوست افسردہ لہجے میں کہنے لگے کہ جب بالکل ہی کوئی صورت نہ رہی تو میں نے ایک طلاق دے کر گھر بھیج دیا کہ شاید اس سے ہی کوئی فرق پڑے اور وہ کچھ لچک دکھائے۔ عدت تک انتظار کیا لیکن ان کی طرف سے ایسی کوئی کوشش نہیں کی گئی۔

    اس کے بعد میں نے دوسری شادی کی سوچا۔دوسری شادی تھی تو اچھی نوکری اور تنخواہ کے باوجود اب کی بار رشتہ ڈھونڈھنے میں بہت زیادہ مشکل پیش آئی۔ اب کی بار جہاں بھی رشتے کی بات چلی تو میں نے ہر جگہ یہ بھی شرط رکھی کہ ہونے والی بیوی سے گھر والوں کی موجودگی میں خود بھی یہ بات کروں گا۔جہاں بھی بات چلی تو پہلی شادی کی ناکامی کی وجہ ضرور بتائی تاکہ دوسری ناکام نہ ہو۔

    دوسرا یہ کہ پہلے منگنی کی، کچھ عرصہ منگنی رہی۔ پھر گھر والوں کو بہنوں کو کہا کہ ان کے گھر اس دوران جائیں اور دیکھیں کہ وہ کچھ بناتی بھی ہے یا پھر سے ویسا ہی نہ ہو ۔ پھر جا کر دل مطمئن ہوا اور اب اللہ کا شکر ہے کہ دوسری شادی کے بعد میرا گھر پرسکون چل رہا ہے۔ میں اپنی بیوی کا خیال رکھتا ہوں اور وہ میرا۔

    وہ دوست بتانے لگے کہ آج کل جاب والی لڑکی کا رشتہ تو بآسانی مل جاتا ہے، والدین لاکھوں کا جہیز بھی دینے کو تیار ہوتے ہیں لیکن گھر سنبھالنے کی بات کریں تو ایسے گھورتے ہیں جیسے پتہ نہیں کتنی غلط بات کر دی ہے۔ حالانکہ یہ کتنا خوبصورت نظام ہے کہ میاں بیوی زندگی اچھے سے گزارنے کے لیے مل کر رہیں، مرد باہر کے کام بہت احسن طریقے سے کر سکتا ہے تو وہ کمانے کی ذمہ داری نبھائے، باہر کے سارے کام کرے اور عورت گھر کے اندر کے سارے معاملات کو دیکھے۔

    ہمارے والدین کی زندگیوں میں اسی وجہ سے سکون تھا اور کم پیسے میں بھی سب بہترین چلتا رہا۔ اب پیسے کی دوڑ میں دونوں کمانے کے چکروں میں اپنا سکون ہی برباد کر بیٹھے ہیں۔ نہ بچوں کو توجہ، پیار ملتا ہے نہ شوہر کا خیال رکھ پاتی ہے۔لیکن عورت جاب بھی کرتی ہو تب بھی گھر کے کاموں کا اضافی بوجھ بھی اسی پر ہوتا ہے۔ کاش کہ ہم پیسے کے لالچ کی بجائے اپنی روایات کی طرف لوٹ آئیں اور پرسکون زندگی گزاریں۔

  • نعمتوں کی قدر — انجنئیر ظفر اقبال وٹو

    نعمتوں کی قدر — انجنئیر ظفر اقبال وٹو

    کووِڈ کے دوران ایک سینئیر پروفیشنل انجنئیر خلیجی ملک سے اپنی نوکری سے فارغ ہوگئے اور کئی ماہ بے روزگار رہنے کے بعد بالآخر ہماری فرم میں ایک منیجمنٹ پوزیشن کے لئے منتخب ہوگئے۔ پراجیکٹ سائٹ ان کے گھر ملتان سے دو گھنٹے کے فاصلے پر ایک ضلعی ہیڈ کوارٹر سطح کے شہر میں تھی جہاں انہوں نے ہر وقت موجود رہ کر اپنی ٹیم سے کام کروانا تھا سوائے ہفتہ وار چھٹی کے جو کہ تعمیراتی منصوبوں میں جمعہ والے دن ہوتی ہے۔

    شروع میں چند دن انہوں نے ٹھیک ٹھاک کام کیا لیکن پھر روزانہ پراجیکٹ کی گاڑی پر ملتان سے آنا جانا شروع کردیا۔ مجھ تک بات پہنچی تو ان سے رابطہ کرکے کہا کہ آپ کو ہر وقت سائٹ پر ہونا چاہئے جہاں کمپنی نے آپ کو رہائش ، کھانے اور ٹرانسپورٹ کی سہولت دی ہوئی ہے۔ انہوں نے اپنے والدین کی خراب صحت کا بتایا اور وعدہ کیا کہ یہ چند دن کی بات ہے اور والدین کی صحت بہتر ہوتے ہی وہ دوبارہ سائٹ پر شفٹ ہو جائیں گے۔

    تاہم وہ دن نہ آیا اور اب انہوں نے روزانہ دس گیارہ بجے سائٹ پر پہنچنا اور تین بجے ملتان واپسی کرنا شروع کردی۔ پھر ہر ہفتے ایک آدھ دن ناغہ مارنا شروع کردیا ۔ ہمارے بار بار رابطہ کرنے پر وہ بتاتے کہ وہ سائٹ پر مکمل رابطے میں ہیں اور کلائنٹ کو بھی سنبھالا ہوا ہے جس کا دفتر ملتان میں تھا۔ تاہم ہم نے انہیں فوراً سائٹ پر شفٹ ہونے کا کہا لیکن ان کی روٹین تبدیل نہ ہوئی ۔ ان کے بقول وہ بیمار والدین کو کسی کے حوالے نہیں کر سکتے جس پر ہم نے انہیں ایک دو ماہ چھٹی لینے یا پھر جاب تبدیل کرنے کی آفر کی مگر انہوں نے سابقہ روٹین برقرار رکھی۔

    ہم نے پراجیکٹ کی بگڑتی صورت حال کے پیشِ نظر ایک اور قابل بندے کو سیلیکٹ کرکے ان کی جگہ بھیج دیا کہ چارج ان کے حوالے کردیں۔ وہ فرم کے صدر دفتر حاضر ہوئے معافی تلافی کی اور آئندہ سے نظم و ضبط کی پابندی کے وعدے کے ساتھ پھر سے سائٹ پر شفٹ ہو گئے۔ ایک آدھ مہینہ صحیح نکالنے کے بعد وہ دوبارہ پرانی روٹین پر آگئے اور کلائنٹ کے لوگوں کے ساتھ گروپ بنا کر ہفتے میں دو تین دن غائب رہنے لگے۔

    ہم نے انہیں ایک مہینہ کا ایڈوانس نوٹس دے کر نیا انجنئیر سائٹ پر بھیج دیا اور ان کو گھر بھیج دیا۔ کچھ عرصہ تو انہوں نے مختلف ذرائع سے دباؤ ڈلوا کر واپس آنے کی کوشش کی لیکن الحمدللّٰہ ناکام رہے اور اس عرصے میں نئے بندے نے کام سنبھال لیا اور پراجیکٹ سیدھا ہونے لگا۔کبھی کبھار پرانے بندے کو فارغ کرنے پر افسوس بھی ہوتا لیکن ان کی وجہ سے کام بھی کافی متاثر ہورہا تھا۔

    کچھ دن پہلے ان کا دوبارہ میسیج آیا ہے کہ آپ نے تو مجھے فارغ کردیا تھا لیکن میں پھر خلیج آگیا ہوں، اس سے کئی گنا بہتر جاب پر۔ سوچ رہا ہوں اس کے بیمار والدین کس حال میں ہوں گے؟ اس پراجیکٹ پر تو وہ ہفتے میں ایک دو دن انہیں ملنے جا سکتا تھا لیکن خلیج سے تو شائد ایک دو سال بعد ہی واپس آنا نصیب ہو۔ ہم کیوں نہیں اپنی موجود نعمتوں کی قدر کرتے؟

  • مردوں کے حقوق کے لیے آواز اٹھائیں!!! — پروفیسر ایچ ایم زبیر

    مردوں کے حقوق کے لیے آواز اٹھائیں!!! — پروفیسر ایچ ایم زبیر

    رابی پیر زادہ کی ایک ویڈیو وائرل ہوئی ہے کہ جس میں وہ یہ کہہ رہی ہیں کہ ہمارے ہاں ایک خاص کلاس میں عورتیں مردوں کے حقوق ادا نہیں کرتیں بلکہ ان کے ساتھ زیادتی کرتی ہیں۔ اس پر لبرلز کو آگ لگی ہوئی ہے۔ فیمنسٹوں اور لبرلز کا اس قدر اثر ہے کہ اب تو بہت سے مذہبی حلیے والوں کو بھی یہ پسند نہیں آتا کہ آپ مرد کے حق میں خیر کے دو جملے ہی کہہ دیں۔ ان کے خیال میں مرد ہر صورت اور ہر کلاس میں ظالم ہی ہے اور ہوتا ہے۔ یہی حققیت ہے، اسی کو قبول کرو۔

    یہاں کوئی بھی کبھی مردوں کے حق میں دو جملے لکھ دے یا کہہ دے تو ایک خاص کلاس کی عورتوں کو آگ لگی جاتی ہے کہ عورت کے خلاف لکھا ہے۔ تو جب عورت کے حقوق پر لکھا جاتا ہے تو کیا وہ مرد کے خلاف لکھا جاتا ہے۔ اس وقت عورتوں کے حقوق کی این جی اوز بہت زیادہ ہو گئی ہیں، کیا مرد اور کیا عورتیں، دونوں ہی عورتوں کے حقوق کے ترانے پڑھنے میں لگے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ مردوں کے حقوق پر بھی بات کی جائے۔

    اس دنیا میں ہر طبقہ اپنے حقوق کی جنگ لڑتا ہے، کوئی مزدور سے نہیں کہتا کہ وہ سرمایہ دار کے حقوق کی بات کرے، کوئی مالک سے توقع نہیں رکھتا کہ وہ ملازم کے حقوق کی جنگ لڑے۔ لیکن مرد صرف وہ مظلوم طبقہ ہے کہ جس سے یہ امید لگائی جاتی ہے کہ وہ عورتوں کے حقوق کی جنگ بھی لڑے اور اپنے حق کی بات بھی نہ کرے۔ کیا منافقت ہے!

    ایک مرد اگر اپنے حقوق کی بات نہیں کرے گا تو کون کرے گا! دنیا کا ہر طبقہ اپنے حقوق کی جنگ لڑتا ہے نہ کہ دوسرے کی۔ یہ فطری امر ہے۔ صرف مرد سے یہ توقع کیوں ہے کہ وہ عورت کے حقوق کی جنگ لڑے اور وہ بھی اپنے آپ سے، کمال ہے۔ عورتیں صرف اظہار زیادہ کرتی ہیں ورنہ مردوں کی تکلیف، اذیت ان سے بہت بڑھ کر ہوتی ہے۔ اسے اللہ نے مرد بنایا ہے، وہ اپنی مرادنگی کے خلاف سمجھتا ہے کہ زیادہ رونا دھونا کرے۔ لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ زیادہ رونا دھونا کرنے والیوں کے مسائل بھی زیادہ ہیں اور تکلیف بھی۔

    اس وقت ضرورت اس امر کی ہے کہ ایسا ادب تخلیق کیا جائے جو مرد کے درد کو اظہار کی زبان دے، ایسا آرٹ تخلیق کیا جائے، جو مرد کی تکلیف کی صورت گری کرے۔ عورتوں کے حقوق کے ترانے بہت پڑھے جا چکے ہیں اور پڑھے جا رہے ہیں، کوئی خدمت خلق کرنی ہے تو مردوں کے حقوق کی این جی او ہی کھول دیں۔ اور کچھ نہ سہی، کم از کم یہ تاثر تو زائل ہو کہ عورت ہی ہر جگہ اور ہر صورت مظلوم ہوتی ہے۔

    یہاں ہر طبقے کے حقوق کا عالمی دن منایا جاتا ہے، خاص طور عورتوں کے حقوق پر تو مارچ بھی ہوتے ہیں، کبھی مردوں کے حقوق کے عالمی دن کا سنا ہے کہ جس سے توقع یہ ہے کہ وہ سب کے حقوق کا عالمی دن مقرر کرے۔ تو اس کے اپنے کوئی حقوق نہیں ہیں، اس نے صرف دینا ہی دینا ہے، لینا اس کا کام نہیں ہے کیا۔ وہ کہیں سے لے گا تو آگے دے گا۔ جب اسے کچھ ملے گا ہی نہیں تو آگے کیا بانٹے گا۔ اسے بھی تو تعلق چاہیے، محبت چاہیے، عزت چاہیے، احترام چاہیے بلکہ وہ سب کچھ چاہیے جو عورت مرد سے مانگتی ہے۔

  • مانگنے کی نفسیات!!! — محمود فیاض

    مانگنے کی نفسیات!!! — محمود فیاض

    مانگنے کی نفسیات ۔ ۔ ۔ بھکاری یا بادشاہ ۔ ۔ چوائس آپ کی اپنی ہے؟

    میں نے جب کمپیوٹر سائنس میں بیچلرز ڈگری کے لیے کالج جوائن کیا تو شائد کلاس کا سب سے غریب لڑکا ہونگا۔ ۔ کالج میں متمول گھرانوں کے لڑکوں سے دوستی ہو گئی ۔ ۔ ۔ جن کا کام تھا کہ ہر بریک میں کسی ایک کی گاڑی میں بیٹھ کر قریبی ریسٹورنٹ چلے جانا اور من مرضی کے اسنیکس کھانا۔ ۔ ۔ آئس کریم ، کافی، ڈرنکس وغیرہ ۔ ۔

    ان چار سالوں میں میں نے کیسے گزارا کیا، یہ اپنے ایک دوست کی زبانی بتاتا ہوں، جو کالج گریجوئشن کے بعد ایک روز ملنے گھر چلا آیا۔ ۔ یہ ان دوستوں میں سے ایک تھا جو انیس سو بانوے (ورلڈ کپ والا 🙂 ) میں گاڑی پر کالج آتے تھے ( اب تو نو دولتیے بہت ہو گئے ہیں) ۔ ۔ ۔ اس دوست نے جب میرا گھر دیکھا تو دوستوں والی بےتکلفی سے بولا، اوئے محمود تم نے کبھی بتایا ہی نہیں کہ تم اس قدر غریب ہو ۔ ۔ ۔ میں نے شرمیلی ہنسی ہنسی ۔ ۔ بس یار ۔۔۔ یہی سب ہے جو تمہارے سامنے ہے ۔۔۔

    (دھیان کیجیے، میں نے شرمیلی ہنسی کہا شرمندگی والی نہیں۔ ۔ کیونکہ ان چار سالوں میں نہ کبھی اپنی حیثیت چھپانے کی کوشش کی اور نہ بڑھا کر بتانے کی۔ یعنی نہ امیروں جیسا دکھنے کی جھوٹی کوشش کی، ۔ ۔ اور نہ اپنی غربت کو اشتہار بنایا۔ ۔ بس دوستوں کے ساتھ دوستی ہی نباہی۔ )

    دوست نے کہا، ۔ ۔ ۔ مگر ان تمام سالوں میں تم نے کبھی احساس نہیں ہونے دیا۔ ۔ کہ تمہاری جیب میں پیسے نہیں رہے۔ تم اپنے پیسے خود دیتے تھے۔ ۔ اگر کبھی ہماری ٹریٹ ہوتی تھی، تو کبھی تمہاری ٹریٹ ہوتی تھی۔ ۔ ہمیں لگا ہی نہیں کبھی کوئی فرق۔ ۔

    دوستو، فرق تھا۔ ۔ ۔ بہت بڑا فرق تھا۔ ۔ انکے کپڑے جوتے ہر سیزن بدل۔جاتے تھے۔ فیشن کے مطابق ہوتے تھے۔ ۔ میرے کپڑے جوتے صاف تو ہوتے تھے مگر پرانے تھے۔ ۔ جوتا اوپر سے پالش ہوتا تھا مگر اسکا تلا اتنا پتلا تھا کہ گرمی میں سڑک کی گرمی اور سردی میں کنکریٹ کی ٹھنڈک پاؤں تک آتی تھی۔ ۔ ۔

    دوسرا فرق یہ تھا کہ جس روز میری جیب میں اپنے ڈرنک کافی کے پیسے نہیں ہوتے تھے، میں خاموشی سے کسی اسائنمنٹ کو پورا کرنے کے بہانے آئی ٹی لیب میں گھس جاتا تھا، ۔ ۔ اور وقت گزر جاتا تھا۔

    جانے یہ ہماری جنریشن تک تھا یا اب نوجوانوں میں بھی کچھ ایسے ہی خوددار نوجوان ہونگے جو جیب میں اپنے پیسوں کے علاوہ کسی سے امید یا لالچ نہیں رکھتے۔ ۔ ۔ کیونکہ میں مسلسل مشاہدہ کرتا ہوں کہ سوشل میڈیا پر بھی اور عام میل جول میں بھی اکثر ایسے لوگ سامنے آتے ہیں جو دعوت دینے سے زیادہ دعوت کھانے کی خواہش کرتے نظر آتے ہیں۔ ۔ ۔ تحفہ دینے کی بجائے مانگنے کا رواج چل پڑا ہے شائد۔ ۔ ۔ کالج گوئنگ کی اکثر بات چیت میں دوسرے سے پارٹی چھیننے کی پلاننگ ہوتی ہے، ۔ ۔

    اس سے زیادہ شرمندگی والا رویہ آنلائن سیلز کے اشتہار میں ہوتا ہے، جہاں لوگ ڈھٹائی سے مفت مانگنے کا کام کرتے ہیں۔ کتاب کے اشتہار یا ریویو پر کتاب مفت مانگنے والوں کی قطار لگ جاتی ہے۔ ۔ اور کوئی پوچھے تو اپنی تہی دستی، تنگ دامنی، غربت کا رونا رویا جاتا ہے۔

    مجھے لگتا ہے کہ بھکاری نفسیات ہماری اگلی جنریشنز میں بڑھتی جا رہی ہے، اور خود داری اور مہمانداری پرانے قصے ہوتے جا رہے ہیں۔ مادیت پرستی ہے، کردار و تربیت کی کمی ہے، یا گھٹیا تربیت جو کچھ قبائل سے اب مین اسٹریم میں داخل ہو رہی ہے، ۔ ۔ جو بھی ہے، اس سے ایسی سماجی روایت بن رہی ہے جس میں مفت بری کوئی عیب نہیں ہے۔

    دوسری جانب، اللہ کی نعمتوں کا کفران ہے جب آپ ٹھیک ٹھاک ہوتے ہوئے محض ایک پیزے، ایک برگر، ایک بریانی، یا ایک کتاب کی خاطر اپنی جیب خالی ہونے کا رونا روتے ہو۔ ۔ ۔ خدا شکر کرنے والوں کو نوازتا ہے اور ناشکری والوں کو ناپسند کرتا ہے۔ انکا رزق یقینا سکڑ جاتا ہے۔

    میں نے اپنے دوست کو اپنے دادا جی کی نصیحت سنائی، جو وہ مجھے ہمیشہ کرتے تھے۔ کہ انسان اپنی جیب سے نہیں اپنے دل سے امیر ہوتا ہے۔ دل امیر ہو تو جیب میں چند روپے بھی پادشاہئ ہے، اور دل غریب ہے تو ایک وسیع سلطنت کا بادشاہ بھی غریب ہے۔ ۔ ۔

    بس میں نے کالج کے ان سالوں میں دادا جی کی اس نصیحت پر عمل کیا اور کچھ نہیں۔ ۔ ۔ بادشاہ پیاسا بھی ہو تو وہ کتے کی مانند جوہڑ پر منہ نہیں جھکاتا۔ ۔

    اللہ ہمیں بھکاری نفسیات سے بچائے اور ہمارے بچوں کو بادشاہوں جیسا جینا سکھائے۔ آمین۔

  • دنیا سے بے رغبتی دین اسلام نہیں سکھاتا!!! — ڈاکٹر عدنان خان نیازی

    دنیا سے بے رغبتی دین اسلام نہیں سکھاتا!!! — ڈاکٹر عدنان خان نیازی

    پاکستان میں اس وقت ایک لاکھ کے قریب دینی مدارس ہیں جس میں لاکھوں طلباء زیر تعلیم ہیں۔ ان میں سے زیادہ تر یتیم، مسکین اور غریب طلباء ہیں جو مدارس میں ہی رہائش پذیر ہوتے ہیں یعنی ان کے چوبیس گھنٹے مدرسے میں ہی گزرتے ہیں۔ کئی کئی سالوں کی تعلیم کے بعد جب طالب علم باہر نکلتے ہیں تو بڑی مشکل سے انھیں کوئی نوکری ملتی ہے۔

    مل بھی جائے تو زیادہ تر کیسز میں کسی مسجد کے خادم، مؤذن، امام مسجد یا پھر کسی مدرس میں قاری ، عالم وغیرہ کے طور پر ہوتی ہے۔ اس میں تنخواہ بہت ہی تھوڑی ہوتی ہے جو کے سات سے پندرہ ہزار تک ہوتی ہے۔ یعنی اتنے سال مدرسے میں لگانے کے باوجود جیسے غریب مسکین پہلے ہوتے ہیں ویسے ہی رہتے ہیں۔

    دینی تعلیم کوئی اتنی مشکل بھی نہیں کہ اس کے ساتھ کوئی دوسری تعلیم یا ہنر کے لیے کچھ وقت نہ نکالا جا سکے۔

    مدارس اگر دن میں صرف ایک یا دو گھنٹے کسی ہنر کے سکھانے کے لیے مختص کر دیں یا پھر ہفتے میں کوئی ایک دن اس کام کے لیے مختص کر دیں تو یہی طالب علم کوئی نہ کوئی ہنر سیکھ کر باعزت روزی بھی کما سکیں گے اور یہ اتنی زیادہ ہوتی ہے کہ ان میں سے اکثریت امامت وغیرہ کے فرائض مفت میں ہی انجام دینے کو راضی ہوجائے گی۔

    پھر اس کا سب سے بڑا فائدہ یہ بھی ہوگا کہ ابھی انھیں اس بات کی فکر ہوتی ہے کہ ان کی کوئی بات مسجد کمیٹی کو بری نہ لگ جائے اس لیے بہت سے موضوعات پر بالکل ہی خاموش رہتے ہیں جس پر جمعہ کے خطبے میں بات کرنی چاہیے، جب یہ مسجد کے تنخواہ دار نہیں ہونگے تو بلاجھجھک حق بات کہہ سکیں گے۔

    کورسزاور سکلز میں آنلائن سکلز بھی ہوسکتی ہیں جس میں بنیادی انگریزی تعلیم کے ساتھ آنلائن قرآن کی تعلیم تاکہ باہر سے زرمبادلہ پاکستان لا سکیں۔ اس طرح صرف آدھا گھنٹہ باہر کے کسی ملک میں پڑھا کر امام مسجد کی تنخواہ سے بھی زیادہ پیسے کما سکتے ہیں۔
    ایسے ہی باقی بھی بہت سی آنلائن سکلز جیسے گرافک ڈیزائننگ، ٹائپنگ، کانٹینٹ رائٹنگ، وغیرہ جیسی کئی ہیں۔

    آنلائن کے علاوہ کئی آف لائن کام بھی سکھائے جاسکتے ہیں جیسے درزی، پلمبر، الیکٹریشن، اے سی سروس، واشنگ مشین سروس، گیس کا کام، فریجوں کا کام، گاڑیوں کا میکنک ، یو پی ایس ٹھیک کرنے والے، وغیرہ وغیرہ جیسی بڑی لمبی لسٹ ہے۔

    امام مسجد کے لیے فجر کی نماز سے ظہر کی نماز تک کم سے کم بھی چھ سے سات گھنٹے کا وقت ہوتا ہے۔ باقی وقت نہ بھی دے ، صرف اسی میں کام کر لے تو اچھی خاص کمائی کی جاسکتی ہے۔ اگر باہر پڑھانا ہے تو اس وقت سو لیا جائے اور رات کو عشاء سے فجر کے درمیان بھی کئی گھنٹوں کا وقت ہوتا ہے۔

    کوئی رول ماڈل مدرسہ اس طرز پر شروع ہونا چاہیے تاکہ وہاں سے صرف عالم دین نہ نکلیں بلکہ اچھے ٹیکنیشن بھی ہوں ۔ یہ لوگ اپنے بہترین طرز عمل سے اسلام کے بہترین داعی بھی ہو سکتے ہیں۔ روزی روٹی کے ساتھ مختلف لوگوں کو دینی مسائل کے بارے بتانا اور دین کی تبلیغ بھی زیادہ لوگوں کو ہو سکتی ہے۔

    دنیا سے بے رغبتی دین اسلام نہیں سکھاتا بلکہ دنیا میں رہ کر دین و دنیا دونوں کو ساتھ ساتھ لے کر چلنا ہی اصل کامیابی ہے۔ جب آپ کے پاس پیسہ ہوتا ہے تو دنیا والے آپ کی دین سے متعلق بات بھی غور سے سنتے ہیں۔

    اگر کوئی ایسا مدرسہ آپ کی نظر میں ہے تو اس کا بتائیں تاکہ لوگ وہاں اپنے بچوں کو بھیجیں اور اگر کوئی نہیں ہے تو کوئی ایسا دوست ہے جو اس کی بنیاد رکھ سکے؟

  • تقسیم کرنے والا!!! — انیس الرحمن باغی

    تقسیم کرنے والا!!! — انیس الرحمن باغی

    اٹک میں موجود ختم نبوت ہوٹل اکثر ہماری چائے کی بیٹھک کی جگہ ہوتی ہے کہ یہاں کی چائے بہت معیاری ہوتی ہے اور دوسرا یہاں کا کھلا ماحول آپ کی طبیعیت کی بیزاری کو دور کرنے میں معاون ہوتا ہے۔

    آج بھی ہم نے چائے پینے کا ارادہ بنایا تو ختم نبوت ہوٹل کو ہی چل دیئے چائے ابھی پہنچی نہیں تھی ہم گپ شپ میں مصروف تھے کہ میرے بائیں بیٹھے بھائی نے مجھے متوجہ کر کے کہا کہ یہ ساتھ تیسرے ٹیبل پر بزرگ بیٹھے ہیں ان کے پاس کھانے کیلئے پیسے نہیں ہیں ویٹر کو کہہ رہے تھے کہ میرے پاس 40 روپے میں مجھے روٹی کھلا دو تو ویٹر نے کہا کہ بابا جی 40 روپے میں تو چائے نہیں آتی کھانا کیسے آپ کو کھلاؤں؟؟؟ یہ سب گفتگو میرے ساتھ بیٹھے بھائی نے سنی تو مجھے کہا کہ جا کر کاؤنٹر پر بتا دو کہ ان بابا جی کو کھانا کھلا دیں رقم کی ادائیگی ہم کریں گے۔ ان شاءاللہ

    کاؤنٹر پر جا کر میں انہیں کہہ کر آیا کہ بابا جی کو کھانا دیا جائے، ساتھ ہی چائے پلانے کا بھی کہہ دیا واپس آکر کہا کہ بابا جی یہ چالیس روپے جیب میں ڈالیں روٹی آپ کو دے دیتے ہیں بابا جی منہ سے کلمہ شکر نکلا اور برکت کی دعا دی لیکن آنکھوں سے یاسیت کی کیفیت نہ گئی اور کہنے لگے میں تو کھا لونگا لیکن میرے بچے جو کل سے بھوکے ہیں وہ کیا کریں گیں؟ ایڈریس کی بابت پوچھا تو کہنے لگے کہ حاجی شاہ رہتا ہوں کل کسی سیاسی شخصیت کا نام لیکر کہتے ان کے پاس گیا کہ کچھ کھانے کیلئے دے دو تو مجھے کہا گیا کہ صاحب موجود نہیں بعد میں آنا کا کہہ کر ٹال دیا گیا۔

    ساتھ موجود دوسرے بھائی نے 300 روپے بابا جی کو کرایہ کی مد میں پیسے دیئے اور کہا کہ آپ رکشہ میں بیٹھ کر مرکز مصعب بن عمیر پیپلز کالونی پہنچیں ہم آپ کے بچوں کیلئے راشن کا بندو بست کرتے ہیں۔ مقامی بھائی نے مدرسہ میں فون کر کے ایک راشن پیک تیار کرنے کو کہا جو کہ مدرسہ کے بچوں کے راشن سے ہی بننا تھا۔ میں نے بابا جی کو مرکز کا ایڈریس سمجھایا اور اپنا نمبر انہیں دیا کہ وہاں پہنچ کر مجھے فون کریں۔

    ہمارے چائے پینے کے بعد مرکز پہنچنے کے کچھ دیر بعد ہی مجھے ایک غیر مانوس نمبر سے کال آئی میں نے السلام علیکم کہا تو وہی مانوس سی نحیف آواز سنائی دی
    "پتر میں اوہ بابا بول رہیا آں جسان تساں روٹی کھوائی اے میں ماشاءاللہ سی این جی ت بیٹھا آں”
    میں نے بابا جی کو کہا کہ بابا جی آپ وہیں بیٹھیں میں آیا میں نے راشن اٹھایا اور ایک بھائی کو موٹر سائیکل پر بٹھا کر ماشاءاللہ CNG پر پہنچا ان باباجی کو سامان دیا اور ان کو دعاؤں میں یاد رکھنے کا کہا تو بابا جی نے فقط نم آنکھوں کو چھلکنے سے روکا ورنہ وہ چھلکنے کو بے تاب تھیں۔ کہنے لگے مستریوں کے ساتھ کام کرتا ہوں بازو کمزور ہوگئے کہ اب مزدوری نہیں کر سکتا تین بچیاں اور ایک چھوٹا بچہ ہے۔

    ہم نے بابا جی کو نماز پڑھنے اور رب سے دعا کرنے اور محتاجی دور کرنے کی دعا مانگنے کی تلقین کی اور سب کیلئے دعا کی تلقین کی اور کہا کہ بابا جی پوری کوشش ہوگی کہ آپ کو ماہانہ معقول راشن پہنچایا جا سکے، اور جلدی موٹرسائیکل کو واپس موڑا کہ کہیں بابا جی کی آنکھیں چھلک نہ پڑیں۔ اور واپسی پر سوچ رہا تھا کہ دنیا میں کیسے کیسے مجبور لوگ ہیں اور سفید پوش لوگ ہیں جو کسی کے آگے ہاتھ نہیں پھیلاتے اور ان کا حق پیشہ ور مانگنے والے دست سوال دراز کر کے کھا جاتے ہیں۔ اور ساتھ ہی رب تعالیٰ کا شکر بھی ادا کیا کہ اس نے دینے والا اور تقسیم کرنے والا بنایا کہ اس نے اپنے علاؤہ کسی کا محتاج نہیں بننے دیا۔

  • LGBTQ+ ایمبریلا سے آبادی کا بڑھنا رک سکتا ہے؟ — بلال شوکت آزاد

    LGBTQ+ ایمبریلا سے آبادی کا بڑھنا رک سکتا ہے؟ — بلال شوکت آزاد

    نیو ورلڈ آرڈر کے تحت ایجنڈا 2030 میں سر فہرست تین مسائل ہیں جس کا تعلق دنیا کی کل آبادی کے اندھا دھند پھیلاؤ سے ہے۔

    1- آبادی
    2-خوراک
    3-ماحولیات

    اب آبادی کے مزید پھیلاؤ کے لیے مختلف طریقے, نظام, تحاریک اور معاشرتی ڈھانچے تشکیل دیئے گئے, تشکسل دیئے جارہے ہیں اور مزید تشکیل دیئے جائیں گے جس سے بغیر کسی زیادہ خون خرابے کے قدرتی طور پر نسل انسانی کی بڑھتی ہوئی آبادی پر کنٹرول حاصل کیا جائے گا۔

    بحث اور تفصیل کافی طویل ہے, مختصراً یہ کہ LGBTQ+ ایمبریلا سے آبادی کا بڑھنا رک سکتا ہے اور پہلے سے بڑھی ہوئی آبادی میں کمی واقع ہوسکتی ہے اور جب آبادی کم ہوگی اور مزید نہیں پھیلے گی تو فی کس خوراک کا تخمینہ گھٹے گا اور ماحولیاتی آلودگی بھی کم ہوسکے گی کہ کم آبادی میں انڈسٹریل کمپلیکسز کی پروڈکشن کا پیک لیول کم ہوگا۔

    وہ کیسے؟

    وہ ایسے کہ اول غیر فطری جنسی رشتوں سے عمل تولید کا قدرتی سائیکل ٹوٹ جائے گا جس سے ایک تو نئی پیدائش رک جائے گی اور دوم غیر فطری جنسی رشتوں سے جان لیوا وائرسز اور بیکٹریا کی منتقلی کی بدولت لاعلاج بیماریاں عام ہوجائیں گی جس سے پہلے سے موجود آبادی کا خطیر حصہ قبروں کی جانب رواں دواں ہوگا۔

    جب ایسا ہوگا تو یقینا بڑھی ہوئی یا بڑھتی ہوئی آبادی کی وجہ سے جو خوراک اور ماحولیات متاثر تھے یا ہورہے تھے وہ مزید متاثر ہونے سے بچ جائیں گے۔

    مزید یہ کہ جن معاشروں میں خاندان نامی انسٹیٹیوٹ کا وجود عنقا ہورہا ہے یا ہوچکا ہے وہاں تو خاموش تباہی کی شروعات ہوچکی لیکن اب نیو ورلڈ آرڈر کے تحت ایجنڈا 2030 کے کرتا دھرتاؤں کا بنیادی ہدف تیسری دنیا ہے جہاں پوری دنیا کی آبادی کا 60 سے 70 فیصد آباد ہے اور جو دنیا کی خوراک اور ماحول پر زیادہ اثر انداز ہورہے ہیں۔

    اور ہاں عورت کی آزادی بھی اس ایجنڈے کا ایک بنیادی جزو ہے کہ جب ” عورت میرا جسم میری مرضی ” کا نعرہ بلند کرکے مرد کو ٹھینگا دکھا کر راستہ ناپے گی تو پھر بھی بچی کچھی صورتحال جس میں پیدائش کا امکان رہتا ہے وہ بھی ختم یا کم ہوجائے گی۔

    لبرل, سیکیولر, ترقی پسند اور ملحدین آپ کو یہ باتیں کرنے پر جہالت, قدامت پسند اور سازشی تھیوریز کے پروردہ کہہ کر اپنا رانجھا راضی کرنے کی کوشش کریں گے لیکن یاد رکھنا ہم جوابدہ اللہ کو ہیں تھڑے باز تھرڈ کلاس لبرل, سیکیولر, ترقی پسند اور ملحدین مخلوق کو نہیں اور یہ سب بتانا اور آگاہ کرنا امر بالمعروف اور نہی عن المنکر میں آتا ہے لہذا اس فتنہ عظیم سے بچیں۔

  • ہمارا نظام افرنگ سے فرق — ابو الوفا محمد حماد اثری

    ہمارا نظام افرنگ سے فرق — ابو الوفا محمد حماد اثری

    ہاسپٹل کے ماحول میں رہنا ایک ہولناک تجربہ رہا ہے۔ کوئی ایکسیڈنٹ کا مارا آرہا ہے، کسی بزرگ کو تکلیف نے ادھ موا کر چھوڑا ہے اور کئی کم نصیب تکلیف سے بے ہوش ہیں سرہانے کھڑے ہو کر دعائیں مانگنے والا کوئی نہیں اور کسی کے مر جانے پر رونے والا بھی کوئی نہیں۔

    ہمت ہے ڈاکٹر لوگوں کی، وہاں کی فضا میں دن رات کاٹ لیتے ہیں، ہمیں تو جب بھی جانا ہوا وحشت لے کر لوٹے۔

    جن دنوں ہم چچا کو لے ہاسپٹل میں تھے تو ساتھ والے بیڈ پر ایک بزرگ بے ہوش پڑے تھے۔ ان کے بیٹے دن رات ان کی کئیر میں لگے رہتے، مجال ہے جو ایک لمحے کے لئے بھی جدا ہوتے ہوں، لیکن بزرگ ان سے جدا ہوگئے۔

    اور ایک بزرگ کے بیٹے نے باہر سے ہی پیسے بھیج دئیے تھے کہ ابے کو ٹھیک کروا لو، میرے پاس واپس آنے کا ٹائم نہیں۔ مادیت کی ہوس نے بھی ہم پر عجیب عذاب مسلط کئے ہیں، کہ ایک باپ اپنے بیٹے کو پالتا ہے، پوستا ہے، جوان کرتا ہے، اور پھر مادیت کے ہرکارے اس بچے کو پڑھانے آجاتے ہیں کہ تیرا والد تیری ترقی میں رکاوٹ بن کے کھڑا ہے۔ زندگی کے سرد و گرم سے بے نیاز ہو کر بیٹے کو پالنے والا، اپنے بیٹے کے گرمجوشی والے استقبال سے محروم محض کر دیا جاتا ہے۔

    یہ خداوندان نظام افرنگ، جب کہیں طاقت میں آجائیں تو بوڑھوں کو اولڈ ہاوسز میں منتقل کر دیتے ہیں، کیوں کہ ان کے اپنے ہی بیٹوں کے لئے باپ کی نسبت نوکری بہر حال اہم ہوچکی ہے اور دل ان کا اس پر مطمئن ہے کہ اولڈ ہاوس میں باپ محفوظ رہتا ہے۔

    کبھی سوچتا ہوں کہ خدا ایسی شدید تنہائی ہمیں نا دکھائے تو اچھا، جہاں انسان رشتوں کے احساس سے محروم ہو کر کسی مشینی زندگی کا آلہ بن کر رہ جائے۔ جہاں باپ بیٹے پر حاکم ہونے کی بجائے، کسی اولڈ ہاوس میں بیٹھ کر اس کی راہ تک رہا ہو، جہاں حاکمیت کے احساسات اچانک غلامی میں بدل جاتے ہیں، جہاں کاندھوں پہ کھیلنے والا لاڈلہ والد کا بوجھ کاندھوں سے اتار پھینکتا ہے۔ خدا نا دکھائے، مگر معاشرہ اسی گھٹن کا شکار ہونے جا رہا ہے۔

    پھر کملی والا یاد آجاتا ہے، میں قربان آقا کی ذات پر، کہ باپ اپنی پوری حاکمیت کے ساتھ گھر کے سربراہ کے طور پر بیٹھا ہے۔ بیٹے کو والد کا فیصلہ غلط بھی لگتا ہے تو اپنی رائے دینے کے لئے کئی کئی دن لفظ ڈھونڈنے میں لگا دے، مبادا میرا والد ناراض نا ہوجائے۔ اور یہی ایک فرق ہمارا نظام افرنگ سے ہے، کہ یہاں بیٹا باپ سے بات کرتے ہوئے ڈرتا ہے اور وہاں باپ ہزاروں باتیں اس لئے بھی نہیں کر پاتا کہ بیٹا کہیں ناراض نا ہوجائے۔

  • میراثیت کی لت — عثمان ای ایم

    میراثیت کی لت — عثمان ای ایم

    جنگل میں ایک بندر چیخا "اُووہ اُووہ ہا اُووہ۔۔۔۔ ”
    دیگر سب بندر بھی شروع "اُووہ اُووہ ہا اُووہ۔۔۔۔ ”
    بہت شور مچا، لیکن دو چار منٹ میں سب خاموش ہو گئے۔

    پھر کسی گدھے نے پکارا۔۔۔ "ڈھچوں ڈھچوں ۔۔۔ پاوا۔۔۔۔ لاوا۔۔۔۔”
    دیگر لاکھوں گدھے بھی شروع ” ڈھچوں ڈھچوں پاوا۔۔۔۔۔ لاوا۔۔۔۔ پاوا۔۔۔ لاوا۔۔۔۔”
    اڑتالیس گھنٹے سے زیادہ ہونے کو آ گئے ہیں، یہ سب گدھے ابھی تک ڈھچوں ڈھچوں کر رہے ہیں۔

    عمومی جانور اپنی حیوانی جبلت سے مجبور ہوتے ہیں، ان کو شعور نہیں ہوتا کہ وہ جو کچھ کر رہے ہیں اس کو چھوڑ کر کچھ مفید اور تعمیری کام کر لیں۔ اس کے باوجود وہ بھی کچھ دیر چوں چوں کر کے، غرا کر ، بھونک بھونک کر آخر چپ ہو جاتے ہیں۔

    لیکن ان حیوانوں کا کیا کیا جائے جن کے ہاتھوں میں کی بورڈز آ گئے ہیں اور ان کی ڈھچوں ڈھچوں بند نہیں ہو رہی۔ پھر کچھ لوگ پوچھتے ہیں کہ فلاں فلاں میراثی، بھانڈ اور چوڑے چمار یا فلاں فاحشہ کو فلاں ندا یاسر نامی میڈیا طوائف نے اپنے پروگرام میں کیوں بلا لیا۔ تو یہی "پاوا لاوا” بیضہ نامطلوب اچانک ہاں ہاں کرتے ہوئے "اخلاقیات بریگیڈ” کے پیادے بن جاتے ہیں۔

    اللہ کی مار ہو گھٹیا اندھے بہرے حکمرانوں پر، فحش میڈیا پر، اور ان انتہائی گھٹیا اور بداخلاق پنجابی تھیٹر والوں پر، جنہوں نے کروڑوں لوگوں کو بھانڈ اور میراثی بنانے اور ذومعنی اور فحش باتیں سکھانے میں نمایاں کردار ادا کیا۔

    ان کو میراثیت کی ایسی لت لگی ہے کہ ان کا حال اس میراثی سے بھی بدتر ہو گیا ہے جو اپنے باپ کی فوتگی پر بھی پولی پولی ڈھولکی بجا کر اپنی لت پوری کرنے کے چکر میں تھا۔