Baaghi TV

Category: معاشرہ و ثقافت

  • ماسک — عبداللہ سیال

    ماسک — عبداللہ سیال

    ماسک نے بڑے بڑوں کے عیب چھپا رکھے ہیں.

    جناب منصف!
    جس طرح تم نے اپنے براؤزر میں کچھ مخصوص ٹیب چھپا رکھے ہیں
    اسی طرح ماسک نے بڑے بڑوں کے عیب چھپا رکھے ہیں.

    جناب منصف!
    کل دن کی ہی بات ہے، عجب ہوئی اک واردات یے
    میں گھر سے نکلا ہی تھا کہ ایک ماسک پوش نے میری کنپٹی پر رکھ دی بندوق کی نالی، اور زور زور سے کہنے لگا آج چل جائیو سالی
    کہنے لگا کہ نکالو جو کچھ جیب میں ہے
    میں نے کہا نکال لو جو کچھ جیب میں ہے.
    اس نے میری جیبوں کو ٹٹولا، پھر منہ بنا کر بولا
    تم تو خاطر خواہ امیر لگتے ہو، جیب میں صرف دو والے سکے رکھتے ہو.
    میں نے کہا دل سے امیر ہوں، شکل سے غربت جھلکتی ہے
    ماسک جیسی چیز میرے عیبوں کو ڈھکتی ہے.
    مایوس ہو کر اس ٹریگر جو دبایا، پانی کا اک فوارہ سا باہر نکل آیا
    یعنی اس کمینے نے مجھے پاگل بنایا.
    جی میں آئی کہ ڈاکو کو پہچانا جائے، اس کی ڈکیتیوں کو لگام ڈالا جائے
    یہ سوچ کر میں اسکے پیچھے ہو لیا، من ہی من اپنی بے عزتی پر رو لیا
    تھوڑا آگے گیا تو کیا دیکھتا ہوں
    پانچ چھ لڑکے ماسک پہن کر کھڑے ہیں، سبھی کے ہاتھوں میں پستول اور چھڑے ہیں.
    انہی چھڑوں کے ذریعے وہ دیہاڑی لگاتے ہیں
    اور ماسک پہن کر اپنے عیب چھپاتے ہیں.

    جناب منصف!
    ایک سیاسی جلسی میں ہوا شرکت کا احتمال، پڑھے لکھے افراد تھے وہاں خال خال
    جلسی کے اختتام پر کہا گیا دعا کرائی جائے، دعا کے بعد ایک کپ چائے پلائی جائے
    دعا کیلئے مگر کوئی آگے نہ آسکا، مارے شرم کے ہاتھ اٹھا نہ سکا
    اتنے میں ایک ماسک پوش کھڑا ہوا اور ہوا میں ہاتھ بلند کرکے انتہائی نامناسب انداز میں کہا
    "یا الٰہی! تیری… بارگاہ میں التجا کرتے ہیں.”
    میں نے سوچا یہ کس کی دعا کا اثر اتنا دلخراش ہے
    ماسک اترا تو معلوم پڑا، یہ تو ایک بدمعاش ہے
    وہ بدمعاش جس نے اپنے اثاثے فرام نیب چھپا رکھے ہیں
    ماسک نے بڑے بڑوں کے عیب چھپا رکھے ہیں.

    جناب منصف!
    ماسک کے استعمال کا سب سے بڑا فائدہ نوجوان نسل کو یوں ہوا ہے کہ اب ہالی ووڈ کی فلموں میں اداکاروں نے ماسک پہن رکھے ہیں.
    ماسک پہن کر وہ اپنی ثقافت کا سرعام اظہار کر نہیں سکتے
    اور ہم گھر والوں کے ساتھ بیٹھ کر فلم دیکھنے سے ڈر نہیں سکتے.

    جناب منصف!
    اک روز میں اور میرا دوست کررہے تھے کچھ مردانہ باتیں…
    باتوں باتوں میں ہماری آواز ہوگئی اس قدر بلند
    کمرے سے باہر تک جانے لگا ہماری باتوں کا گند

    اتنے میں ایک صاحب اندر جھانکنے آگئے، کہنے لگے نوجوان تم تو چھاگئے
    اس عمر میں جب سب کرتے ہیں بچگانہ باتیں، تم کررہے ہو سرعام مردانہ باتیں
    ذرا اپنی پیاری سی صورت تو دکھاؤ، ذرا اپنا یہ ماسک تو اٹھاؤ
    میں ان کی سازش کو سمجھ گیا اور ماسک اتارے بغیر کہا…

    یہ سب راز قدرت نے غیب میں چھپا رکھے ہیں
    ماسک نے بڑے بڑوں کے عیب چھپا رکھے ہیں.

    جناب منصف!
    اک روز ہمارا امتحاں ہوا، امتحاں نہیں بلکہ طعنۂ جاں ہوا
    اس روز بھی ماسک نے ہماری کم علمی کو چھپایا، پہلے کا A دوسرے کا D ہر کوئی چلایا
    آج بھی ہمارے کارنامے اس لیب چھپا رکھے ہیں
    ماسک نے بڑے بڑوں کے عیب چھپا رکھے ہیں.

    جناب منصف!
    زمانہ بہت خطرناک ہے. ہر کوئی شاطر ہے، ہر کوئی مکار ہے.
    آج کے انساں نے اپنے اندر کیا کیا مکر و فریب چھپا رکھے ہیں
    یہ تو خدائی ماسک نے بڑے بڑوں کے عیب چھپا رکھے ہیں

    ماسک نے بڑے بڑوں کے عیب چھپا رکھے ہیں…!

  • فرقہ پرستی اور میرا بیٹا

    فرقہ پرستی اور میرا بیٹا

    فرقہ پرستی اور میرا بیٹا
    تحریر:محمد ریاض
    پاپا جی، ہم کون ہیں؟ بیٹا، کیا مطلب؟ پاپا جی ہمار ا کون سا مذہب ہے؟ بیٹا، ہم مسلمان ہیں۔ نہیں پاپا جی ہم کون ہیں؟ مطلب ہم بریلوی ہیں؟دیوبندی ہیں؟ شیعہ ہیں یا پھر وہابی؟بیٹا اس طرح نہیں کہتے، ہم صرف مسلمان ہیں،اگر کوئی آپ سے دوبارہ پوچھے تو آپ نے صرف یہی کہنا ہے کہ ہم مسلمان ہیں۔ اچھا پاپا جی!! ویسے بیٹا آپکو یہ سب کیسے پتا؟ پا پا جی، میری کلاس میں میرا دوست مجھ سے یہ پوچھ رہا تھاکہ آپ لوگ کون ہیں؟بریلوی ہیں، دیوبندی ہیں شیعہ ہیں یا پھروہابی؟ گزشتہ دنوں درج بالا سوال و جواب کی نشست بندہ ناچیز اور اسکے انگلش میڈیم سکول میں جماعت چہارم میں پڑھنے والے بیٹے محمد احمد ریاض کے درمیان ہوئی۔ بہرحال اس تحریر میں بندہ ناچیزکا اپنی اُس کیفیت کا یہاں بیان کرنا مشکل ہی نہیں بلکہ ناممکن بھی ہے کہ جس وقت میرا ننھا شہزادہ یہ سوالات پوچھ رہا تھا۔آپ اندازہ لگائیں کہ فرقہ پرستی ہمارے ہاں کس حد تک پہنچ چکی ہے۔ کہ ننھے مُنھے بچے جنہوں نے پاکستان کی باگ دوڑ سنبھالنی ہے ان بچوں کے ابھی کھیلنے کودنے، شرارتیں کرنے کے دن ہیں اور قرآن مجید و فرقان حمید سیکھنے اور اسکے ساتھ ساتھ دین اسلام کی پیاری پیاری باتیں اور دعائیں سیکھنے کے دن ہیں ان ننھے منھے ذہنوں میں یہ فرقہ پرستی کون ڈال رہا ہے؟ اس حقیقت سے بھی آنکھیں نہیں چُرائی جا سکتیں کہ کلمہ طیبہ کے نام پر بننے والی اسلامی ریاست پاکستان میں فرقہ پرستی سے نہ ہی ہماری مساجد و مدارس محفوظ ہیں بلکہ گھر، محلے، بازار، فیکٹریاں، رشتہ داریاں، سول سوسائٹی، اسکول، کالج اور یونیورسٹیز بھی محفوظ نہیں ہیں۔ بالفاظِ دیگر زندگی کے ہر شعبہ کے افراد اس مسئلے کا شکار ہوچکے ہیں۔ اپنے بیٹے سے اس تکلیف دہ نشست کے بعد میں نے اللہ کریم کا کروڑہاکروڑ شکر ادا کیا کہ اللہ کریم کی ذات نے بہت عرصہ پہلے ہی اِن مسائل سے بالا تر ہوکر ایک مسلمان کی حیثیت سے زندگی گزار کر اتحادِ اُمت کے لئے کام کرنے کی مجھے توفیق عطا فرمائی۔ الحمدللہ، میں تمام مسالک کے ساتھیوں کو مسلمان سمجھتا ہوں۔ الحمدللہ،میں بہت عرصہ سے مسلمانوں کے ہر مسلک کی مسجد میں نماز ادا کرلیتا ہوں۔ چاہے وہ مسجد بریلوی مکاتبِ فکر کی ہو یا دیوبندی یا پھراہلحدیث۔ ہر مسلک کے امام کے پیچھے نماز ادا کرلیتا ہوں۔الحمدللہ میں اللہ کریم کی ذات پر پختہ ایمان و یقین رکھتے ہوئے نماز ادا کرتا ہوں کہ ان شاء اللہ ہر مسلمان کے پیچھے میری نماز قبول ہوگی۔ اپنے ننھے شہزادے کیساتھ اس چھوٹی سی گفت وشنید کے بعد میں نے اللہ کریم کا اس بات پر بھی شکر ادا کیا کہ میں نے اسی کی توفیق اور عطا ء سے اپنے ننھے شہزادے کو مسلک پرستی اور فرقہ پرستی کے مسائل سے محفوظ رکھا ہوا ہے۔ میں اپنے ننھے شہزادے کو اپنے علاقہ کے ہر مسلک کی مسجد میں نماز کے لئے لیکر چلا جاتا ہوں۔نماز کے لئے جاتے ہوئے میرا بیٹا جس مسجد کی طرف اشارہ کرتا ہے میں اسکو اسی مسجد میں لیکر چلا جاتا ہوں۔کیونکہ جس دن میں نے ننھے شہزادے کو کہا کہ بیٹا اس مسجد میں نماز پڑھنے کے لئے نہیں جانا تو اس ننھے شہزادے کے دماغ میں طرح طرح کے سوالات آئیں گے، جیسا کہ پاپا جی اس مسجد میں نماز پڑھنے کیوں نہیں جانا؟ تو یقینی بات ہے مجھے یہ کہنا پڑے گا کہ بیٹا اس مسجد میں ہماری نماز نہیں ہوتی۔ بیٹے نے پھر اگلا سوال داغ دینا ہے کہ پاپا جی اس مسجد میں ہماری نماز کیوں نہیں ہوتی؟ اس سوال کے بدلے میرے پاس کوئی اور جواب نہیں ہوگا کہ بیٹا یہ مسجد بریلویوں کی ہے یا پھر دیوبندیوں یا وہابیوں کی ہے۔ ننھے دماغ نے پھر اگلا سوال کرنا ہے کہ پاپا جی یہ بریلوی، دیوبندی اور وہابی کون ہوتے ہیں؟ پھر یقینی بات ہے کہ میرے پاس ہر مسلک کے بارے میں منفی باتیں کرنے کے سوا کوئی محفوظ راستہ نہ ہوگاکہ بچپن ہی میں اس ننھے دماغ میں مسلمانوں کی ہر جماعت کے بارے میں زہرآلود مواد کو کوٹ کوٹ کر بھر دیا جائے۔میرا ننھا شہزادہ کسی مسجد میں اونچی آواز میں آمین کی آوازیں بھی سنتا ہے تو کسی جگہ پر کلمہ طیبہ اور درود و سلام کا باآواز بلند ورد بھی سنتا ہے۔کہیں پر سینے پر ہاتھ رکھے اور کہیں پر زیر ناف ہاتھ باندھے، کہیں پر رفع یدین کیساتھ تو کہیں پر بغیر رفع یدین کیساتھ فرزندان توحید کو نماز پڑھتے دیکھتا ہے۔یاد رہے مسلمانوں کے درمیان نماز و دیگر عبادات کی ادائیگی میں اختلاف رائے صدیوں سے جاری ہے، لیکن اسکا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ ان اختلافات کی بناء پر دشمنی، نفرت، عداوت، دوریاں اور پھر اس سے بڑھ کر قتل و غارت گری جیسے فتنوں کو جنم دیا جائے۔ بندہ نا چیز برصغیر پاک و ہند کے جید علماء کرام سے چند ادنیٰ سے سوالات کرنے کی جسارت کرے گا کہ قرآن و احادیث کی کس مقدس کتاب میں بریلوی، دیوبندی یا وہابی مسلک کا ذکر درج ہے؟ کیا دِین اسلام کی تعلیمات ہمیں فرقہ پرستی سے روکتی ہیں یا پھر فرقہ پرستی کو پروان چڑھانے کی ترغیب دیتی ہیں؟ہونا تو یہ چاہئے کہ برصغیر پاک و ہند کے تمام علماء کرام اپنی تمام تر توانیاں ہمارے ہاں پائی جانے والی خرافات، شرک و بدعات کا قلع قمع کرنے اور غیر مسلم افراد کو دین اسلام کی طرف راغب کرنے میں صرف کریں ناکہ اپنے اپنے مسالک کے دفاع میں دن رات ایک کردیں۔انتہائی ادب واحترام سے یہ بات کرنے کی جسارت کررہا ہوں کہ بدقسمتی سے برصغیر پاک و ہند میں اپنے آپکو مسلمان کہلوانے سے زیادہ بریلوی، دیوبندی اور اہلحدیث کہلوانے میں زیادہ فخر محسوس کیا جاتا ہے۔ اللہ کریم مجھ سمیت پوری امت مسلمہ کو فرقہ پرستی سے بالا تر ہوکر مسلمان کی حیثیت سے اُمت کے اتحاد کے لئے جدوجہد کرنے کی ہمت، توفیق و استقامت عطا فرمائے اور باہمی محبت و الفت نصیب فرمائے۔ آمین ثم آمین

  • "پاکستان ٹرانس جینڈر ایکٹ” — شہنیلہ بیلگم والا

    "پاکستان ٹرانس جینڈر ایکٹ” — شہنیلہ بیلگم والا

    کہتے ہیں کہ ایک بادشاہ کو اپنی بہن سے شادی کرنی تھی. یہ وہ فعل ہے جس کی اجازت کسی بھی مذہب میں نہیں. بادشاہ نے اپنے مصاحبوں سے مشورہ کیا. ایک شیطان صفت مصاحب نے مشورہ دیا کہ کوئی بھی بڑا دھماکہ فوری طور پر نہیں کیا جاتا. پہلے اس کے لیے زمین نرم کی جاتی ہے. عوام کو پہلے ہلکی پھلکی بے غیرتی کا عادی بنایا جاتا ہے. پھر جب رب کے قانون کے صریحاً خلاف ورزی کی جاتی ہے تو عوامی ردعمل انتہائی معمولی ہوتا ہے بلکہ کبھی کبھی تو ہوتا بھی نہیں.

    اس کی مثال آج کل کے دور میں یہ ہے کہ پہلے میڈیا کے زریعے ہمیں مزاح کے نام پہ ایک مرد کو ساڑھی پہنا کر سج سنوار کر بٹھایا گیا ( بیگم نوازش علی). پھر اس کے بعد آہستہ آہستہ ہر دوسرے ڈرامے میں ایک مرد لہرا کر بل کھاتا ہوا نظر آیا. عوام نے اسے مزاح کا ایک انداز سمجھا. اب اگر روزمرہ کی زندگی میں بھی کوئی ایسا کرتا نظر آتا ہے تو ہم اسے ٹھنڈے پیٹوں برداشت کرتے ہیں. پھر پچھلے دنوں ایک مرد جو اعلیٰ تعلیم یافتہ ہے ( ڈاکٹر)، لیکن کھلے عام سیکس چینج کو اپنا حق مانتا ہے. خود کو عورت کی طرح پیش کرتا ہے اور ہم جنس پرست ہونے پہ فخر کرتا ہے، اسے ایک اسکول میں بطور رول ماڈل مدعو کیا گیا. جس پہ کچھ والدین نے اعتراض کیا. باقی والدین اس کی انگریزی سے مرعوب ہوتے رہے.

    اعتراض یہ کیا جاتا ہے کہ اسلام میں ایسے لوگوں کا کیا مقام ہے. یہ مکمل مرد اور عورت اپنی جنس سے مطمئن نہیں، اسی لیے وہ خواجہ سراؤں کی آڑ لے کر پاکستان میں ایک ایسا قانون پاس کروانا چاہتے ہیں جس سے ان کو اپنا گھناؤنا فعل کرنے کی مکمل آزادی مل جائے.

    کم علمی کے باعث بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ اسلام میں خواجہ سراؤں کے وہی حقوق ہیں جو ایک مرد یا عورت کے ہیں. یہاں تک کہ وراثت میں بھی اگر ایک خواجہ سرا عورت کے نزدیک تر ہے تو ترکے میں عورت کے برابر اور اگر ایک مرد کے نزدیک تر ہے تو مرد کے برابر حصہ ملے گا. یہ باتیں ہم سے چھپائی جاتی ہیں. انسانیت کے نام پہ اپنی فحاشی کی آزادی درکار ہے. یہ قوم لوط کا فعل ہے جس پہ اللہ کا غضب ایسے بھڑکا تھا کہ توبہ کرنے کے لیے تین دن کا وقت بھی نہیں دیا گیا جو اس سے پہلے تمام گمراہ قوموں کو دیا گیا تھا.

    اکتوبر میں اس بل پر پارلیمانی کمیٹی فیصلہ کرے گی. ہم سب کی زمہ داری ہے کہ ہم بھرپور احتجاج کر کے اس بل کو رکوائیں. ہمیں یہ کام ہر قسم کی سیاسی وابستگی سے اٹھ کر کرنا ہے. یاد رہے کہ اللہ کا عذاب اور غضب صرف ان پہ نہیں آتا جو اس فعل میں ملوث ہوتے ہیں بلکہ ان پہ بھی آتا ہے جو اس کو قبیح فعل سمجھتے ہوئے بھی خاموشی اختیار کرتے ہیں.

    اللہ ہم سب کو صراط مستقیم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے آمین ثم آمین۔

  • "سکون صرف قبر میں ہے”   — اعجازالحق عثمانی

    "سکون صرف قبر میں ہے” — اعجازالحق عثمانی

    ڈربہ نما گھروں پر مشتمل یہ ہمارے ملک کا ایک بہت بڑا شہر ہے۔ گلی کے نکڑ پر لگا فلٹریشن پلانٹ یہاں کے باسیوں کو صاف پانی مہیا کرنے کےلیے لگایا گیا ہے۔ پلانٹ کے گرد مکڑی کے جالے فلٹریشن پلانٹ کو سیکورٹی مہیا کررہے ہیں۔ فلٹریشن پلانٹ کے عین سامنے ابلتا گٹر اور ایک کیچڑ زدہ نالی ہے ۔جہاں رہائش پذیر مچھر پڑوس میں قائم ایک ہاسپٹل کےلیے مریض مہیا کرنے میں رات دن مصروف ہیں۔اس شہر میں کچرے کے انبار اور ملک کے اخبار تعداد میں مساوی ہیں۔ یہاں کچرا اُٹھانے اور ہٹانے سے زیادہ تجاوزات ہٹانے کا عمل جاری رہتا ہے۔

    شہر کے وسط میں رکشوں کی پھٹ پھٹ۔۔۔۔۔۔کان کے پردے پھاڑتے ٹھیلے والوں کے سپیکرز، اور مسلسل ہارن کی آوازوں سے الجھا دماغ۔۔۔۔۔۔ دھواں چھوڑتی گاڑیاں، بغیر سائلنسر کے بائیکس سڑکوں پر نکلتے ہی آپ کا منہ سر ایک کر دیتے ہیں۔ شہروں کے گھٹن بھرے ماحول اور آلوگی سے لبریز آب و ہوا میں سکون کا حصول تو ممکن نہیں ہے۔شاید”سکون صرف قبر میں ہے”

    گھبرائیے بغیر، آئیے اسی شہر کے کسی دوسرے حصے کی طرف چلتے ہیں۔ یہاں چنگچی رکشے، پرانی کاریں ناپید ہیں۔ موٹر سائیکل بھی خال خال نظر آتے ہیں۔ سڑکیں برف کی طرح صاف ستھری ہیں۔ یہاں ہر طرف بنگلہ نما بڑے بڑے گھر ہیں۔ نئے طرز اور ماڈلز کی گاڑیاں بغیر دھول اڑائے یہاں سڑکوں پر اڑتی نظر آتی ہیں۔ بڑے مالز، چمکتے فروٹ (شاید ان دکانوں پر فروٹ خراب ہی نہیں ہوتے؟) ۔۔۔۔شیشے کے پار مکھیوں سے کوسوں دور گوشت۔۔۔۔۔۔۔ اور ان سب جگہوں پر منظم طریقے سے خریداری کرتے لوگ۔ انہی مالز کے بلکل قریب دو چار بڑے بڑے ہسپتال بھی ہیں۔ معیاری خوراک کی دستیابی کے باوجود یہاں کے ہسپتالوں میں دل، گردے اور پھیپھڑوں کے مریضوں کا بہت رش رہتا ہے۔ سکون یہاں بھی نا پید ہے۔

    آئیے اب اس شہر سے دور چلتے ہیں۔ یہاں کچے مکانوں میں لوگ بیٹھے گپ شپ میں مشغول ہیں۔ شدید گرمی ہے۔ بجلی پچھلے چھ گھنٹوں سے بند ہے۔ایک معروف فلمی گیت ہے،

    گوری تیرا گاؤں بڑا پیارا میں تو گیا مارا، آ کے یہاں رے
    اس پر روپ تیرا سادا چندرما جیوں آدھا، آدھا جواں رے

    جی کرتا ہے مور کے پاؤں میں پائلیا پہنا دوں
    کوہو کوہو گاتی کوئلیا کو پھولوں کا گہنا دوں

    یہیں گھر اپنا بنانے کو پنچھی کرے دیکھو
    تنکے جمع رے، تنکے جمع رے

    اس پر روپ تیرا سادا چندرما جیوں آدھا، آدھا جواں رے
    گوری تیرا گاؤں بڑا پیارا میں تو گیا مارا، آ کے یہاں

    "۔۔۔۔میں تو گیا مارا ، آکے یہاں” یہ بات اس فلمی گیت میں شاید اب کے گاؤں کے لیے کہی گئی ہے۔یہاں شہروں کے طرح ٹھیلے والوں کے سپیکرز کی آوازیں تو دماغ کو بے سکون نہیں کرتیں۔مگر کبھی کبھار سائیکل سوار آوازیں لگاتا گاؤں میں پھرتا پایا جاتا ہے۔

    یہاں ضروریات زندگی کی بیشتر اشیاء ناپید ہیں ۔مگر ایک نکڑ پر مکیھوں کی نگرانی میں سموسے تیار ہورہے ہیں۔یہاں چوہدریوں، وڈیروں اور جاگیر داروں کا راج ہوتا ہے جو ادھر کے لوگوں کو اپنی رعایا سمجھ کر ان کی جان، مال اور عزت کا خوب استحصال کیا جاتا ہے۔

    یہاں نہ تو پکی سڑکیں ہیں۔ اول تو تعلیمی ادارے ہیں ہی نہیں اور جہاں ہیں وہاں صرف ادارے ہیں تعلیم نہیں ۔ڈسپنسریز و ہیلتھ مراکز بھی عملے کے بغیر ہی ہوتے ہیں۔ مگر نیم حکیم اور عطائی ڈاکٹروں کی ادھر بھرمار ہوتی ہے ۔غرض یہ کہ مصیبتیں بال کھولے چوبیس گھنٹے یہاں تعینات رہتی ہیں۔ خستہ حال سڑکیں، بند نالیاں اور ان میں بیٹھے مچھر ہر آتے جاتے کو لازماً یوں کاٹ رہے ہیں کہ جیسے حکومت نے اس دیہات کے لوگوں کو کورونا ویکسین لگانے کی ذمہ انکو دے رکھی ہو۔ مچھروں کے باعث بیماریاں یہاں بھی پھوٹ پھوٹ پڑتی ہیں۔ادھر بھی ایسا لگتا ہے کہ "سکون صرف قبر میں ہے”.

    مگر!

    اب تو گھبرا کے یہ کہتے ہیں کہ مر جائیں گے
    مر کے بھی چین نہ پایا تو کدھر جائیں گے

  • اللہ تعالی ٹوٹے ہوئے دلوں کے قریب کیوں ہوتا ہے ؟ — ثمینہ کوثر

    اللہ تعالی ٹوٹے ہوئے دلوں کے قریب کیوں ہوتا ہے ؟ — ثمینہ کوثر

    ایک روایت میں ہے کہ ایک مرتبہ حضرت موسی علیہ السلام نے فرمایا کہ: اے میرے رب عزوجل میں آپ کو کہاں تلاش کروں؟ تو اللہ تعالی نے فرمایا کہ : مجھے ٹوٹے ہوئے دلوں کے پاس تلاش کرو ۔

    اسی طرح ایک اور روایت میں ہے کہ حضرت داود علیہ السلام نے عرض کیا: اے میرے اللہ عزوجل! اگر میں تجھے تلاش کروں، تو تو مجھے کہاں ملے گا ؟ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ارشاد فرمایا: (میں) ان لوگوں کے پاس ملوں گا، جن کے دل میرے خوف سے شکستہ (ٹوٹے ہوئے ) ہوں۔

    یہ تھیں وہ روایات جن میں بتایا گیا ہے کہ اللہ تعالی ٹوٹے ہوئے دلوں کے پاس ہوتا ہے یا پھر اللہ ٹوٹے ہوئے دلوں میں بستا ہے ۔ کبھی آپ نے سوچا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنا مسکن ٹوٹے ہوئے دلوں کو ہی کیوں بنایا ہے ۔ آخر ان ٹوٹے ہوئے دلوں میں کیا خوبی ہے کہ اگر ہم اللہ کو تلاش کریں گے تو وہ ہمیں ان ٹوٹے ہوئے دلوں میں ہی ملے گا ۔ تو آج ہم یہ جاننے کی کوشش کرتے ہیں کہ آخر کیا وجہ ہے کہ اللہ تعالی ان ٹوٹے ہوئے دلوں میں بستا ہے ۔

    دراصل اللہ تعالی ہر پاکیزہ اور صاف ستھرے دل میں رہتا ہے ، جو دل ایمان کی روشنی سے منور ہوتے ہیں ، اللہ تعالی انہی دلوں میں اپنا بسیرا بنا لیتا ہے لیکن اکثر ایسا ہوتا ہے کہ ہمارے دلوں میں کوئی ایسا شخص ، کوئی ایسی چیز ، کوئی ایسی خواہش پیدا ہو جاتی ہے کہ ہم اسی میں کھو جاتے ہیں ، ہم اس چیز میں ، اس انسان ان میں اس قدر مگن ہو جاتے ہیں کہ اس چیز ، اس انسان اور اس خواہش کی تمنا اور محبت ہمارے دلوں میں بہت زیادہ بڑھ جاتی ہے ، جس سے آہستہ آہستہ ہمارے دلوں سے اللہ تعالی کی محبت کم ہونے لگتی ہے اور ہمارے دل آہستہ آہستہ نفاق ، خود غرضی ، ہٹ دھرمی اور منافقت سے بھر جاتے ہیں ۔ ہماری کوشش ہوتی ہے کہ ہم ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کی کوشش کریں ۔ ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش میں ہم ایک دوسرے کو گرانے کی کوشش میں لگے رہتے ہیں اور ہم اپنی خواہش ، اپنی محبت اور اپنی تمنا کو پانے کے لیے کسی بھی حد سے گزر جانے کو تیار ہوتے ہیں اور پھر ایک وقت ایسا بھی آتا ہے کہ ہم اس خواہش ، اس تمنا اور اس محبت کی وجہ سے ریزہ ریزہ کر دیے جاتے ہیں ۔ ہم جن چیزوں کے لئے اللہ تعالی کی نافرمانی شروع کر چکے ہوتے ہیں ، جن کاموں کی وجہ سے گناہوں کی دلدل میں گرتے چلے جارہے ہوتے ہیں ، جس دل میں ہم نے اللہ تعالی کے علاوہ کسی اور کو بسا لیا ہوتا ہے ، پھر اسی چیز ، اسی محبت ، اسی انسان کے ذریعے ہمارا دل ریزہ ریزہ کیا جاتا ہے ۔ ریزہ ریزہ بھی ایسا کہ اگر ساری کائنات بھی اس ٹوٹے ہوئے دل کی کرچیاں جمع کرنے کی کوشش کرے کرے تو یہ کسی کے بس کی بات نہیں رہتی اور جب یہ دل ریزہ ریزہ ہو جاتا ہے تو تب ایک دفعہ پھر سے اس تمناء ، اس خواہش ، اس محبت کے ساتھ ساتھ ہمارے دل سے نفرتیں ، نفاق ، خود غرضی ، جھوٹ ، فریب اور ہوس سب نکل جاتا ہے ۔ جب دل ریزہ ریزہ ہو جاتے ہیں تو یہ تمام برائیوں اور گناہوں سے پاک کر دیے جاتے ہیں ۔ پھر اس کو جوڑنے والا اگر کوئی ہوتا ہے تو صرف ایک اللہ ۔ جب یہ ریزہ ریزہ دل نفرت ، حسد اور لالچ سے پاک ہوتا ہے تو اللہ تعالی کو یہ دل پھر سے محبوب ہو جاتا ہے ۔

    وہ دل جس میں ہم نے ایسے شخص کو بسایا تھا جس کی محبت کو ہم نے اللہ تعالی کی محبت سے زیادہ اہمیت دی تھی پھر وہی دل دوبارہ سے ہر غیر کی محبت سے پاک ہو چکا ہوتا ہے اور جب ٹوٹا ہوا دل ہر قسم کے شرک سے پاک ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ بھی دوبارہ سے اسی دل کو اپنا مسکن بنا لیتا ہے ۔ اللہ تعالی اس پاکیزہ ٹوٹے ہوئے دل کو اپنا مسکن بنا لیتا ہے ۔ اسی دل میں اپنا ڈیرہ جما لیتا ہے اور پھر وہ ٹوٹا ہوا دل بے حد مطمئن اور پرسکون ہو جاتا ہے اور پھر نہ صرف یہ کہ وہ خود سکون میں ہوتا ہے بلکہ اس دنیا جہان میں جتنے بھی بے سکون اللہ سے ملنے کے خواہشمند ہوتے ہیں اللہ تعالی ان سب کو اس ٹوٹے ہوئے دل کا پتہ بتا دیتا ہے اور پھر یہی کہتا ہے کہ مجھے شکستہ دلوں کے پاس ، ٹوٹے ہوئے دلوں کے پاس تلاش کرو میں وہی ملوں گا ۔ بس اتنا یاد رکھیں کہ اگر دل ٹوٹ گیا ہو اور اس کو جوڑنے والا کوئی نظر نہ آ رہا ہو تو سمجھ لیں کہ یہ اللہ تعالی کی امانت تھی اور اللہ تعالی نے ہی اسے بنایا تھا ، اب پھر سے وہی ایسا کاریگر ہے کہ اس ٹوٹے ہوئے دل کو صرف وہی جوڑ سکتا ہے ۔ یقین جانیں کہ اللہ تعالی اس ٹوٹے ہوئے دل کو اس طرح سے دوبارہ جوڑے گا کہ کہیں کوئی پیوند نظر نہیں آئے گا کہیں کوئی جوڑ نظر نہیں آئے گا ۔ یہاں تک کہ یہ ٹوٹے ہوئے دل جڑ جانے کے بعد بھی کبھی بھی نفرت حسد اور گناہ کی آماجگاہ نہیں بنیں گے لہذا جب بھی دل ٹوٹے تو اسے اس کے اصل مالک کے پاس لے جایا کریں اور ایک بات ہمیشہ یاد رکھیں کہ اگر آپ کا دل نہیں بھی ٹوٹا تو بھی اپنے دل کو حسد ، جھوٹ اور منافقت جیسی بری صفات سے پاک کر لیجئے ۔ اللہ تعالی پھر بھی آپ کے دل کو اپنا مسکن بنا لے گا ۔ یاد رکھیے کہ اپنے دل کو کبھی بھی ایسی تمنا ، خواہش اور محبت میں مبتلا مت کیجئے جس سے اللہ کی ساتھ محبت میں کمی آجائے ۔

  • مجھے فخر ہے، میرا تعلق اس قوم سے ہے. — ثمینہ کوثر

    مجھے فخر ہے، میرا تعلق اس قوم سے ہے. — ثمینہ کوثر

    آج ایک تصویر پر نظر پڑی تو میں ایک دم سوچنے پر مجبور ہوگئی کہ میرا تعلق کس قدر خوش نصیب ، بہادر ، نڈر اور مضبوط حوصلوں والی قوم سے ہے ، جس کے جذبوں کو کبھی بھی شکست نہیں دی جاسکتی ، میری قوم کے جذبوں کو کوئی شکست دے بھی نہیں سکتا ۔ یہ وہ قوم ہے کہ جب اللہ تعالی کی طرف سے زلزلے یا سیلاب کی صورت میں آزمائش آئے تو یہ قوم پھر بھی ثابت قدم رہتی ہے ۔ اگر اس قوم پر اندرونی اور بیرونی طور پر جنگ شروع ہو جائے تو بھی یہ قوم ثابت قدم رہتی ہے ۔ مجھے فخر ہے کہ میرا تعلق ایسی قوم سے ہے جہاں مصیبت بعد میں آتی ہے اور لوگ پہلے متحد ہو جاتے ہیں ، لوگ اپنے ذاتی اختلافات بھلا کر ایک دوسرے کا دست و بازو بننے کی کوشش کرتے ہیں ، مجھے فخر ہے کہ میرا تعلق اس قوم سے ہے جسے میں نے 2008 ء کے زلزلے میں بھی متحد ہوتے دیکھا تھا ، مجھے فخر ہے کہ میرا تعلق اس قوم سے ہے جسے میں نے ملک بھر میں سیلاب کی وجہ سے ایک بار پھر متحد ہوتے ہوئے دیکھا ہے ۔

    ایمان والوں کی یہ پہچان ہے کہ وہ اپنے اوپر دوسروں کو ترجیح دیتے ہیں ۔ آج ایسی ہی ایک تصویر پر نظر پڑی جس میں صاف نظر آ رہا ہے کہ کاغذ اٹھانے والا ایک بچہ ، محنت مزدوری کرنے والا ایک بچہ ، دن رات محنت کرکے اپنے خاندان کی پرورش کرنے والا بچہ ، اپنی دن بھر کی مزدوری سیلاب زدگان کی امداد میں دے رہا تھا ، یہ تصویر دیکھ کر میرا سر فخر سے بلند ہوگیا اور مجھے اپنی قوم کے ایمان پر رشک آنے لگا کہ جس قوم کے مزدور بچے ایسا مضبوط ایمان لئے پھر رہے ہوں کہ وہ اپنے اوپر دوسرے بہن بھائیوں ، مجبور اور بے بس بہن بھائیوں کو ترجیح دے رہے ہوں یقینا ان لوگوں کا ایمان قابل رشک ہی ہے کیوں کہ یہی وہ لوگ ہیں جن کے ایمان کامل ہیں ، قدرتی آفات جب آتی ہیں تو اپنے ساتھ کچھ اچھے اثرات بھی لے کر آتی ہیں ، جب میری قوم کا شیرازہ بکھر رہا ہو ، جب لوگ ایک دوسرے کے دست و گریباں ہوں ، جب سیاست دان ایک دوسرے کو نوچ کھانے کو تیار ہوں ، جب پوری قوم ایک دوسرے کے ساتھ حسد ، لالچ اور خود غرضی میں مبتلا ہو ، جب بہن بھائی اور بھائی بھائی ایک دوسرے کے جانی دشمن بن رہے ہوں ، جب لوگ ایک دوسرے کو سننے اور سمجھنے کی بجائے ایک دوسرے کے گلے کاٹنے کو تیار ہوں ، تو اس وقت وقت اللہ تعالی ایسی آزمائش میری قوم پر بھیج دیتا ہے اور پھر یہی ایک دوسرے کے جانی دشمن ، ایک دوسرے کی مدد کرتے نظر آتے ہیں ۔ ایک دوسرے کے جانی دشمن اپنے اوپر دوسروں کو ترجیح دیتے نظر آتے ہیں ۔ پھر اسی طرح میری قوم کا ہر مزدور ، چاہے وہ بچہ ہو یا بڑا اپنی دن بھر کی محنت اپنے مجبور ، بے بس اور لاچار مسلمان بھائی کو دیتا ہوا نظر آتا ہے ۔ ہاں مجھے فخر ہے میری قوم پر کہ ان کے ایمان اس طرح مضبوط ہیں کہ یہ مدینہ کے انصار کی طرح مہاجرین کو اپنا بھائی بنا لیتے ہیں ، ان کی ضروریات کو اپنی ضروریات سمجھتے ہیں ، خود کچھ کھائیں یا نہ کھائیں اپنے بھائی ، اپنے بے بس مسلمان بھائی کو ضرور دیتے ہیں ، ہاں میں نے ایسی ہی مشکلات اور حادثات میں اپنی قوم کو یکجا ہوتے دیکھا ہے ، ان بکھرے ہوئے ذروں کو مضبوط چٹان بنتے دیکھا ہے ،

    ہاں میں نے مصیبت کی ہر گھڑی میں اپنی قوم کو رنگ و نسل سے بالاتر ہو کر سوچتے ہوئے دیکھا ہے ، ہاں میں نے مشکل کی ہر گھڑی میں اپنی قوم کو ذات برادری سے باہر ہر ہر انسان کو اپنا سمجھتے ہوئے دیکھا ہے ، ہاں مجھے فخر ہے کہ میرا تعلق اس قوم سے ہے جس کے حوصلوں کو دنیا کی کوئی طاقت کم نہیں کر سکتی ، مجھے فخر ہے کہ میرا تعلق ایسی قوم سے ہے جیسے دنیا کی کوئی طاقت نہیں ہرا سکتی ، مجھے فخر ہے کہ میرا تعلق اس قوم سے ہے جس کا بچہ بچہ دوسروں کے دکھ درد کا سہارا بننا جانتا ہے ، مجھے فخر ہے کہ میرا تعلق اس قوم سے ہے جو مصیبت کی ہر گھڑی میں یکجا ہونا جانتی ہے ۔میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا تھا کہ 2008ء کے زلزلے میں میرے مجبور ، بے بس اور لاچار بہن بھائی جن کے خاندان زلزلے کی نظر ہو گئے ، جن کے گھر بار ختم ہوگئے ، ان آنکھوں نے خود دیکھا کہ انہوں نے ہمت نہیں ہاری ، وہ آگے بڑھے ، اپنے گھر بنائے ، اپنے خاندان بنائے ، یہ لوگ جو سیلاب سے متاثر ہوئے ہیں ، جن کے مویشی تک ختم ہوگئے ، جن کے پیارے سیلاب نے چھین لیے ، سیلاب جن کے گھر بہا کر لے گیا ، جنہوں نے نے اپنی عمر بھر کی کمائی کو ، اپنے پیاروں کو سیلاب کی نظر ہوتے دیکھا ہے ، یہ لوگ بھی ہمت نہیں ہاریں گے ۔ سیلاب چلا جائے گا لیکن ان لوگوں کی ہمتوں کو اور بھی بلند کر جائے گا ، یہ لوگ ہمت ہارنے کی بجائے ایک دوسرے کا سہارا بنیں گے ، زندگی کو نئے سرے سے شروع کریں گے ، آگے بڑھیں گے اور پھر ساری دنیا کو بتا دیں گے کہ ہاں ہم پاکستانی ہیں ۔ ہمارے جذبوں ، ہماری ہمتوں اور ہمارے حوصلوں کو کوئی شکست نہیں دے سکتا کیوں کہ ہم میں وہ لوگ موجود ہیں جو مضبوط ایمان والے ہیں ، جو خود پر دوسروں کو ترجیح دیتے ہیں ۔

  • مٹی کیا ہے؟ .  تحریر : کامران واحد

    مٹی کیا ہے؟ . تحریر : کامران واحد

    کیا یہ بنی نوعِ انسان کے وجود کا عنصرِ اعظم ہے؟
    کیا یہ نباتات کی افزائش کا محرکِ اعلیٰ ہے ؟
    کیا یہ فرشِ زمین کی تہوں میں موجود بنیادی مرکب ہے؟
    کیا یہ ریگزاروں کا جلتا ہوا جسم ہے؟
    اور کیا یہ شہرِ خموشاں میں مردہ اجسام کی شکست و ریخت کا اصل ذمہ دار ہے؟
    جی نہیں مٹی کے معانی اس سے کہیں بلند تر ہیں
    مٹی محبت کا پہلا آئینہ ہے۔ ہمارے اور ہمارے اردگرد کے ہر قسم کے اجمالی وجود کا آئینہ، جو انسانی عکس کو سنبھالے ہوئے ہے۔

    تو جب انسان اپنی مٹی سے محبت کا دعویٰ کرتے ہیں تو اس دعویٰ کا اصل کیا ہے؟
    اس کا اصل اپنے مٹی سے گندھے وجود کو کسی مقصدِ اعلیٰ کے لیے اپنے محیط کی مٹی میں ضم کر دینا ہے۔
    اور اس کی سب سے بہترین شکل مٹی کے خالق اور وطن کی خاطر اپنے جسم وجان قربان کرنا ہے۔
    وہ انسان عظیم ہیں جو اس مقصدِ اعلیٰ کے لیے اپنا سب کچھ لٹانے پر مصر ہیں۔
    وہ بھی جو دن رات اپنی تمام تر قوتیں اور محنتیں اپنے مٹی کی محبت میں خرچ کر رہے ہیں اور وہ بھی جو اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر دیتے ہیں۔
    ہم مٹی ہیں اور ہمارے وطن کی عظیم مٹی میں بے شمار شہداء کی مٹی ضم ہے۔
    ان سرپھروں کی مٹی جو اپنی جوانیاں اس مٹی کی حفاظت میں لٹادیتے ہیں۔
    ان مٹی سے بنے انسانوں کو مٹی اپنے سر کا تاج سمجھتی ہے اور اپنے اوپر ان کی نقل و حرکت کو اپنے لیے باعثِ اعزاز سمجھتی ہے۔

    مگر افسوس یہ ہے کہ اسی مٹی کا احسانِ وجود اٹھانے والے کچھ مٹی سے بنے لوگ، ان جوانیاں لٹانے والوں کی توھین اور استہزاء میں سرگرمِ عمل ہیں-
    ایسے لوگ ضمیر فروش بھی ہیں اور احسان فراموش بھی۔
    بھلا اس سے بڑھ کر احسان فراموشی اور ضمیر فروشی کیا ہوسکتی ہے کہ اسی مٹی سے بنے انسان کو اپنے وطن کی مٹی کی تزئین اور ارتقاء سے بیر ہوجائے۔
    آخر کون لوگ ہیں یہ۔ ان کی پہچان کیا ہے۔
    ان کی سب سے بڑی پہچان ان کے سینوں میں موجود مٹی کا بغض ہے جو ان کے مٹی سے بنے ہونٹوں سے زہر کی طرح اگلتا ہے۔
    اے مٹی کے بنے انسانو! مٹی کے ان دشمنوں کو پہچانو۔ وگرنہ شہرِ خموشاں کی مٹی اپنا قرض سود سمیت وصول کرنے کو تیار ہے۔

  • وطن عزیز اور نوجوانوں سے وابستہ توقعات — حاجی فضل محمود انجم

    وطن عزیز اور نوجوانوں سے وابستہ توقعات — حاجی فضل محمود انجم

    آج میں نے ارادہ کیا تھا کہ ہمارے وطن عزیز پاکستان کے آنے والے جشن آزادی کے بارے میں کالم تحریر کرونگا۔لکھنے بیٹھا تو لکھنے کا موڈ ہی نہیں بن رہا تھا۔بہتیرا سوچا کہ جشن آزادی کے حوالے سے کوئی ایسا گوشہ ذہن میں آجاۓ جس پہ سیر حاصل بحث کی جا سکے لیکن الفاظ تھے کہ آنے کا نام ہی نہیں لے رہے تھے۔ایسے محسوس ہوتا تھا کہ ایک جمود ہے جو سوچنے اور سمجھنے کی صلاحیت پہ قبضہ جما چکا ہے۔اسی اڈھیر بن میں تھا کہ معا” میرے ڈرائنگ روم کا دروازہ کھلا اور "ماما بلو”اندر داخل ہوا۔”ماما بلو”میرے شہر کی ایک ایسی شخصیت ہے جسے میں اپنا راہنماء اور مربی سمجھتا ہوں حالانکہ وہ چٹا ان پڑھ ہے۔کسی اسکول مدرسے یا کسی بھی تعلیمی ادارے کی اس نے آج تک شکل ہی نہیں دیکھی لیکن میں جب بھی لکھنے لکھانے میں کسی الجھن کا شکار ہوتا ہوں تو وہ آکر میری اس مشکل کو آسانی میں تبدیل کر دیتا ہے۔آج بھی ایسا ہی ہوا۔مجھے پریشان دیکھ کر کہنے لگا کہ صاحب آج آپ کچھ پریشان سے دکھائی دے رہے ہیں۔آپ کی طبیعت تو ٹھیک ہے۔میں نے اسے بتایا کہ ماما بلو -! طبیعت تو ٹھیک ہے بس آج پاکستان کے آنے والے جشن آزادی کی بارے میں کچھ لکھنا چاہ رہا تھا لیکن الفاظ ہیں کہ باوجود کوشش کے انکی آمد ہی نہیں ہو رہی۔میری بات سن کر کہنے لگا واہ صاحب یہ بھی کوئی بات ہے-! آپ نے لکھنا ہی ہے تو آجکل کی "یوتھ” کے بارے میں لکھیں اور یہ لکھیں کہ پاکستان بناتے وقت ہم نے اس نوجوان نسل سے کیا توقعات وابستہ کی تھیں اور ساتھ ہی یہ کہ آیا اس نوجوان نسل سے ہماری وہ توقعات پوری ہوئی ہیں یا نہیں جن کی ہم ان سے توقع کر رہے تھے ۔میں نے اسے کہا کہ "ماما بلو”تو ہی بتا -! تیری اس بارے میں کیا راۓ ہے۔؟ کہنے لگا صاحب میں تو ایک پڑھ آدمی ہوں لیکن آجکل کے نوجوان کو دیکھتا ہوں تو مجھے تو یہی لگتا ہے کہ ہم اپنے اس خواب کی تعبیر سے ابھی کوسوں دور ہیں۔میں نے وجہ پوچھی تو کہنے لگا صاحب-! سب سمجھتے ہیں کہ نوجوان کسی بھی قوم کا سرمایہ ہوتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ زندہ قومیں اپنے طلبہ اور نوجوانوں کو مستقبل کا معمار سمجھتی ہیں کیونکہ یہ نوجوان ہی ہوتے ہیں جو انفرادی طور پر بھی اور اجتماعی طور پر بھی اپنے کام سے اپنی کوشش سے اور اپنے جذبہ جنوں سے اپنے ملک کا نام روشن کرتے ہیں۔علامہ اقبال نے بھی انہی نوجوانوں کو ہی اپنا شاہین قرار دیا تھا اور وہ ان کیلئے دعائیں کرتے تھے۔انہوں نے کہا تھا کہ :-

    جوانوں کو میری آہ سحر دے
    پھر ان شاہیں بچوں کو بال و پر دے
    خدایا -! آرزو میری یہی ہے
    میرا نور بصیرت عام کر دے

    علامہ اقبال نے ان نوجوانوں کو انکے اسلاف کے کارنامے یاد دلا کر یہ کہا تھا کہ تو ایک ایسی قوم کا نوجوان ہے جس نے ماضی میں تمام دنیا پہ حکومت کی تھی اور ہر سو اپنا سکہ جمایا ہوا تھا۔اقبال نے انہیں ان کے اسلاف یاد دلاتے ہوۓ کہا تھا کہ:-

    کبھی اے نوجواں مسلم تدبر بھی کیا تو نے
    وہ کیا گردوں تھا تو جس کا ہے اک ٹوٹا ہوا تارا
    تجھے اس قوم نے پالا ہے آغوش محبت میں
    کچل ڈالا تھا جس نے پاؤں میں تاج سر دارا۔

    علامہ اقبال کے بعد بانی پاکستان حضرت قائد اعظم نے بھی نوجوانوں کو مستقبل کا معمار قرار دیا تھا۔انہوں نے نوجوانوں کی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے یوں فرمایا:

    ’’نوجوان طلبا میرے قابل اعتماد کارکن ہیں۔ تحریک پاکستان میں انھوں نے ناقابل فراموش خدمات سرانجام دی ہیں۔ طلباء نے اپنے بے پناہ جوش اور ولولے سے قوم کی تقدیر بدل ڈالی ہے۔‘‘ 1937 کے کلکتہ کے اجلاس میں قائد اعظم ؒنے نوجوانوں سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا:

    ’’نئی نسل کے نوجوانوں آپ میں سے اکثر ترقی کی منازل طے کرکے اقبال اور جناح بنیں گے۔ مجھے پورا یقین ہے کہ قوم کا مستقبل آپ لوگوں کے ہاتھوں میں مضبوط رہے گا۔‘

    ملک کا مستقبل نوجوانوں کے ہاتھوں میں مضبوط رہے گا۔یہی تھی وہ امید اور توقع جو قیام پاکستان کے موقع پر ہمارے اسلاف نے ان سے لگائی تھی مگر بدقسمتی سے ہم اس وقت کے نوجوانوں سے اب محروم ہو چکے ہیں۔اب ہمارا واسطہ جن نوجوانوں سے ہے ان میں تو سابقہ نوجوانوں کی خصوصیات کا عشر عشیر بھی نہیں ہے۔شائد ایسے ہی نوجوانوں کیلئے اقبال نے کہا تھا:-

    تجھے آباء سے اپنے کوئی نسبت ہو نہیں سکتی
    کہ تو گفتار وہ کردار تو ثابت وہ سیارا

    آج کا نوجوان تن آسان ہے۔وہ اپنی مردانگی کے جوہر میدان کارزار میں نہیں بلکہ سوشل میڈیا یعنی فیس بک۔ وٹس ایپ۔ ٹویٹر۔ میسنجر ۔یو ٹیوب۔ ٹک ٹاک اور اسی طرح کی دوسری سائٹس کے میدان میں دکھلانا زیادہ پسند کرتا ہے۔جہاں وہ اپنی سوچ اپنی فکر اور اپنے خیالات سے مطابقت نہ رکھنے والوں کی پگڑیاں اچھالتا ہے۔ان کی تضحیک کرتا ہے۔ان کا ٹھٹھہ اڑاتا ہے۔ان کو دقیانوس اور نہ جانے کیا کیا خیال کرتا ہے۔آج کا نوجوان تحقیق سے مہنہ موڑ کر تقلید کے پیچھے بھاگتا ہے۔

    اس طرح جو کچھ اسے پڑھایا جاتا ہے وہ اسی پہ کاربند ہو کے رہ جاتا ہے۔لوگ انفرادی اور اجتماعی طور پر اپنے مفادات کے حصول کیلئے انہیں استعمال کرتے ہیں اور یہ نوجوان بلا کچھ سوچے سمجھے اور غور و فکر کئے ان لوگوں کے پیچھے چل دیتے ہیں۔پھر یہ انہی کی زبان بولتے ہیں اور انہی کے افکار کو اپنا لیتے ہیں ۔ ان میں کچھ ایسے گروہ اور سیاسی پارٹیاں بھی شامل ہیں جو ان نوجوانوں کو اپنے مقاصد کی تکمیل کیلئے اور اپنے ایجنڈے کی ترویج کیلئے استعمال کرتی ہیں۔

    ایسے لوگوں کے مقاصد کبھی بھی اچھے نہیں ہو سکتے اس لئے وہ نوجونوں کو گمراہی کی طرف لے جاتے ہیں۔ان لوگوں کے ارادوں میں اگر کوئی شخص یا تنظیم مزاحم ہونے کی کوشش کرتی ہے تو یہ لوگ ٹرولنگ شروع کر دیتے ہیں اور اس کی عزت کو تار تار کر دیتے ہیں۔

    فی زمانہ حالات اب اس نہج پہ پہنچ چکے ہیں کہ سارے کا ہمارا سارا معاشرہ پراگندہ خیالی اور ذہنی پستی کی آماجگاہ بنتا جا رہا ہے۔معاشرے کی اس  حالت کے پس منظر میں بہت سے عوامل کارفرما ہیں جنہوں نے ایک مشرقی ثقافت۔ رہن سہن اور بود و باش کو گہنا کے رکھ دیا ہے۔کہاں وہ وقت کہ کہ ننگے سر بیٹی اپنے باپ کے سامنے آتے ہوۓ گھبراتی تھی اور ایک بھائی اسے اپنی عزت و وقار کے منافی خیال کرتا تھا کہ اس کی بہن اس کے سامنے اونچی آواز میں بات کرے اور اس کے سامنے آپنے آپ کو تھوڑا سا بنا سنوار لے۔

    یہی بہنیں جب اپنے بھائی کو ذرا غصے میں دیکھتی تھیں تو ڈر کے مارے ان کا خون خشک ہو جایا کرتا تھا۔اس لئے نہیں کہ اس کا  بھائی کوئی خونخوار قسم کی مخلوق ہوتا تھا یا یہ کہ وہ کسی جلاد  فیملی سے تعلق رکھتا تھا۔بھائی اپنی بہنوں سے پیار بھی رج کے کرتے تھے اور اس کی بات ماننا اور اس کی ضرویات کو پورا کرنا اپنا فرض سمجھتے تھے۔بلکہ وہ اپنی بہن کی خوشیوں کی خاطر اپنا تن من دھن بھی اس کے اوپر وار دیا کرتے تھے۔جب یہ حالات تھے تو معاشرہ بھی بڑا آئیڈیل تصور کیا جاتا تھا۔مان بہن بیٹی کو سب کی سانجھی سمجھا جاتا تھا۔

    یہاں تک کہ یہ بھی دیکھا گیا کہ جب کسی بچی کی شادی ہوتی تو پورا گاؤں بارات کا استقبال کیا کرتا تھا اور سب گاؤں والے مل کر اس بچی کو اس کے پیا گھر پہنچانے کیلئے اپنا کردار ادا کیا کرتے تھے۔مگر آج اس سوشل میڈیا نے ان ساری اقدار و روایات کو ملیا میٹ اور تباہ کر کے رکھ دیا ہے۔

    آج ہمارے معاشرے کی حالت کسی سے ڈھکی چھپی نہیں مگر سمجھدار لوگ وہی ہوتے ہیں جو ایسے لوگوں کی ہرزہ سرائیوں پہ توجہ نہیں کرتے کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ کسی دل جلے کو اس کی تضحیک آمیز ہرزہ سرائیوں کا جواب دینا ضروری نہیں۔ یہ تن آسان مخلوق کا مقصد اور نصب العین صرف یہی ہے کہ وہ سوشل میڈیا پر اپنی نبض رواں رکھنا چاہتی ہے اسلئے وہ اسی کو اپنی کامیابی خیال کرتے ہیں ۔

    ہمارا ایمان ہے، "وتعز من تشاء و تذل من تشاء” اگر کوئی مغلظ اور متنفر لہجے میں اپنی خباثت کا اظہار کرے تو اسے نظر انداز فرمائیں ، اپنے شہر اور علاقہ کے حوالے سے دستیاب سرکاری مشینری اور وسائل سے عوام کی خدمت کریں۔ آپس کی تلخیوں اور شکر رنجیوں کو پس پشت ڈال کر بھائی چارے کو مضبوط بنائیں اور اپنے نوجوانوں کی اچھی تربیت کریں۔

  • ٹیکسی ڈرائیور کی ایمانداری کی مثال، مہوش تبسم کی آب بیتی

    ٹیکسی ڈرائیور کی ایمانداری کی مثال، مہوش تبسم کی آب بیتی

    انسان دنیا میں کہیں بھی ہو اسکی پہچان اسکے کردار ، اخلاق سے ہوتی ہے، اچھے انسان کو اچھے الفاظ میں ہی یاد رکھا جاتا ہے . اگرمشکل میں ہوں اور پھر کوئی آپ کی مدد کرنے کو آئے جس کا یقین بھی نہ ہو تو جو دلی دعا دل سے نکلتی ہے وہ ہمیشہ قبول ہوتی ہے، میرا تعلق پاکستان سے ہوں اور آسٹریلیا میں مقیم ہوں، آسٹریلیا کے شہر پرتھ میں میرے ساتھ ایک ناقابل یقین واقعہ پیش آیا ،میں اپنی سوچ کے مطابق سوچ رہی تھی کیونکہ پاکستانیوں کی سوچ اور کام خواہ وہ کہیں بھی چلے جائیں ایک ہی رہتے ہیں،

    ہوا کچھ یوں کہ آج دوپہر مجھے اپنی بیٹی کو ڈاکٹر کے پاس لے کرجانا تھا ، جب میں ہسپتال جا رہی تھی تو موسم بہت خراب تھا تیز بارش اور ہوا چل رہی تھی ، میں نے ٹیکسی بُک کروائی ، ٹیکسی ڈرائیور تقریباً پچاس سے پچپن سال کی عمر کے انکل تھے ، بیٹی کو گود میں دیکھ کے وہ بھاگ کے ڈرائیونگ سیٹ سے اتر کر آئے اور میرے لئے ٹیکسی کا درازہ کھولا اور بیٹھنے میں مدد کی ، ویسے یہ یہاں کا کلچر ہے کہ اگر آپ کے ساتھ چھوٹا بچہ ہے تو ٹیکسی ڈرائیور آپکو بیٹھنے میں مدد کرے گا اور اگر آپ کے پاس بچے کی پرام یا بیگ ہے تو وہ خود اسکو ڈگی میں رکھے گا اور اترتے وقت بھی یہ سب کرے گا۔۔

    خیر میں ڈاکٹر کے کلینک پر پہنچی اور پانچ منٹ بعد مجھے احساس ہوا کہ میں اپنا موبائل تو میں ٹیکسی میں ہی بھول آئی ہوں۔ میں نے کلینک کے اسٹاف اور ڈاکٹر کے ساتھ اپنی پریشانی شئیر کی اورانہیں بتایا کہ میرا موبائل ٹیکسی میں ہی رہ گیا ہے، جس پر ہسپتال کی انتظامیہ بھی پریشان ہو گئی اور میں یوں محسوس کر رہی تھی کہ موبائل میرا نہیں بلکہ ہسپتال انتظامیہ کا کھو گیا ہے کیونکہ وہ بھی انتہائی فکر مند ہو گئے تھے، انہوں نے میرے موبائل پر کالز کیں، موبائل پر بیل جا رہی تھی لیکن کوئی اٹھا نہیں رہا تھا، ہسپتال انتظامیہ نے مجھے تسلی دی کہ پریشان نہ ہوں موبائل واپس مل جائے گا……لیکن…….میں پاکستانی….اور پاکستان میں کیا ہوتا ہے…..اگر کسی کو موبائل غلطی سے بھی کہیں رہ جائے تو پھر کبھی نہیں ملتا….اور میں پاکستانی ہو کر یہی سوچ رہی تھی کہ اب موبائل کا ملنا مشکل ہے،میں انہی سوچوں میں گم تھی کہ اچانک دیکھا ٹیکسی ڈرائیور کرسٹوفر پیٹرک دوبارہ ہسپتال میں آیا اور میرے پاس آ کر پوچھا کہ تم وہی ہو جس کو چھوڑ کر گیا تھا ، میں نے اثبات میں جواب دے دیا تو فوری مجھے اپنا موبائل فون واپس دے دیا

    ٹیکسی ڈرائیور کے اس اقدام سے مجھے حیرت کا جھٹکا لگا اور ساتھ میں اسکی ایمانداری سے بھی متاثر ہوئی ، جو میں پاکستانی بن کر سوچ رہی تھی ویسا نہیں ہوا بلکہ میری توقعات کے برعکس مجھے میرا ٹیکسی میں رہ جانے والا موبائل مل گیا. میں دعا کرتی ہوں کہ ہماری پاکستانی قوم بھی ایماندار بن جائے، جب ہماری قوم ایماندار بن جائے گی پاکستان ترقی کی جانب گامزن ہو گا اور اگر قوم ایماندار نہیں بنے گی تو پھر لٹیرے حکمران ہی مسلط ہوتے رہیں گے،ہمیں خود کو بدلنے کی ضرورت ہے،

  • افتراک و انتشار مسلم امہ کیلئے لمحہ فکریہ — حاجی فضل محمود انجم

    افتراک و انتشار مسلم امہ کیلئے لمحہ فکریہ — حاجی فضل محمود انجم

    لوگوں کو مختلف قوموں، ذاتوں اور سیاسی و مذہبی فرقوں میں اسی لیئے تقسيم کیا جاتا ہے، تاکہ وہ کسی ظلم کے خلاف متحدہ ہو کر آواز نہ اٹھا سکیں.یہ کتنی ستم ظریفی کی بات ہے آج پوری دنیا میں مسلمان ابتلاء و آزمائش سے دوچار ہیں۔دنیا کے جس کونے میں بھی جائیں مسلمان قوم کسی نہ کسی مسلے سے ضرور دوچار ہو گی۔

    اس صورت حال کے پیچھے دوسری وجوہات و عوامل کے ساتھ ساتھ اس قوم کی اپنی بد اعمالیاں بھی شامل ہیں۔تاریخ عالم کا مطالعہ کریں تو پتہ چلتا ہے مسلم امہ میں اس انتشار و افتراک کا آغاز خلیفہ راشد حضرت عثمان غنی رضی اللہ و تعالیٰ عنہ کے سانحہ شہادت سے ہی ہو گیا تھا۔ سیدنا عثمان غنی کو شہید کرنے کی یہ سازش درحقیقت اسلامی تاریخ کی سب سے اولین اور سب سے عظیم سازش تھی ، یہ سازش دراصل عبداللہ بن سباء اور اس کے منافقین ساتھیوں کی کاروائی تھی جو درحقیقت صرف حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے خلاف ہی نہ تھی بلکہ عالم اسلام اور تمام مسلمانوں کے خلاف تھی۔

    آپ کی شہادت کے بعد وہ دن ہے اور آج کا دن مسلمان تفرقہ اور آپس کے انتشار میں کچھ ایسے گرفتار ہوئے کہ آج تک اس کے گرداب اور چنگل سے نکل نہیں سکے۔حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد حضرت علی کرم اللہ وجہ کی خلافت کا سارا دور بھی نہ صرف اسی طرح کے آپس میں اختلافات ریشہ دوانیوں اور انتشار کی حالت میں گزرا۔بلکہ مسلمانوں کے مختلف گروہوں حتیٰ کہ حضرت علی کرم اللہ وجہ اور حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنھاء کے درمیان جنگیں تک لڑی گئیں۔

    اس بناء پر مسلمان کمزور سے کمزور تر ہوتے چلے گئے یہاں تک کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ کا خلافت پہ متمکن ہونا اور مسلمانوں کے گروہوں کے درمیان صلح کی خاطر خلافت چھوڑ دینا اور بعد ازاں حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ اور انکے ساتھیوں کی کربلا کے مقام پر شہادت مسلمانوں کے اسی انتشار و افتراک کا نتیجہ تھا۔

    اموی خاندان کے دور خلافت میں حالات پہلے سے بھی زیادہ دگرگوں ہوگئے تھے۔ بعد ازاں جب عباسی خاندان مسند خلافت پر براجمان ہوا تو انکے دور میں اس قوم کی حالت یہ تھی کہ ہر شعبہ زندگی انتشار کا شکار تھا۔اگر صرف بات کریں وارثان محراب و ممبر کی تو ان کی حالت کچھ اس طرح تھی کہ دارالحکومت بغداد شہرکا کوئی کونہ یا گوشہ ایسا نہیں تھا جہاں پہ ہر دوسرے دن انکے مسلکی اور دینی مناظرے نہ ہو رہے ہوں۔

    یہ مناظرے بھی کچھ اس طرح کی بحث و تمحیث پر مشتمل تھے کہ سوئی کی ایک نوک پر زیادہ سے زیادہ کتنے فرشتے بیٹھ سکتے ہیں۔؟پرندوں میں کوے پر بحث جاری تھی کہ کوا حلال ہے یا حرام ہے۔ایک مسلہ یہ بھی وجہ نزع تھا کہ مسواک کا شرعی سائز کتنا ہو- اختلاف اس بات پر تھا کہ بعض کہتے تھے کہ ایک بالشت ہو اس سے کم جائز نہیں اور بعض دیگر لوگ یہ کہتے تھے کہ نہیں ایک بالشت سے کم بھی جائز ہے۔

    یہ مناظرے اسی طرح بڑے زور و شور سے جاری تھے اور یہی وہ وقت تھا کہ جب ہلاکو خان نے اپنی تاتاری افواج کے ہمراہ دارالحکومت بغداد پہ حملہ کیا اور اس شہر کی اینٹ سے اینٹ بجا دی اور سب کچھ تہس نہس کر کے رکھ دیا۔سوئی کی نوک پر فرشتے بٹھانے والے تہ تیغ کر دئیے گئے۔مسواک کی حرمت پر لیکچر دینے والے مٹا دئیے گئے۔کوے کی حلال و حرام پر بحث کرنے والوں کی کھوپڑیوں کے مینار کچھ اس طرح بنا دیئے گئے کہ جنہیں گننا بھی ممکن نہ تھا۔بعد ازاں مسلمانوں کے سروں کے مینار بنانے والا ہلاکو خان خود بھی تہ تیغ ہوگیا اور اسے تاریخ کا حصہ بنے سینکڑوں سال بیت گئے لیکن یہ قوم اتنی ڈھیٹ نکلی کہ مجال ہے اس قوم کے کسی بھی فرد نے تاریخ سے ایک رتی بھر بھی سبق سیکھا ہو۔

    ہمارے آج بھی بحث و مباحثوں کے عنوانات ویسے ہی ہیں جو صدیوں پہلے تھے ۔داڑھی کی لمبائی کتنی ہونا ضروری ہے۔؟ شلوار ٹخنوں سے کتنی اونچی یا نیچی ہو۔؟ مردہ قبر میں سن سکتا ہے یا نہیں۔ قبر پہ آنے والے شخص کو قبر میں موجود مردہ پہچانتا ہے یا نہیں۔امام کے پیچھے سورة الفاتحہ پڑھنی چاہئے یا نہیں ۔ایک مسلک کے نزدیک رفع یدین ضروری ہے دوسرا اسے ضروری خیال نہیں کرتا۔کچھ لوگ غم حسین علیہ السلام مناتے ہوۓ ماتم کرتے ہیں دوسرے اس سے منع کرتے ہیں۔ہر مسلک کا داعی صرف اپنے آپ کو جنتی کہتا ہے جبکہ دوسرے کو جنت کے قریب بھی نہیں پھٹکنے دیتا۔

    پہلے یہ مناظرے بغداد شہر کے گلی کوچوں میں ہوتے تھے آج کے دور جدید میں یہ مناظرے سوشل میڈیا پر ہوتے ہیں بلکہ گھر گھر ہوتے ہیں۔اپنی نجی محفلوں میں ہوتے ہیں۔جلسوں میں ہوتے ہیں اور مسجدوں کے محراب و منبر پہ ہوتے ہیں۔اب تو ایک چھوٹی سی ڈیوائس نے ہر فرد کو ایک مناظر کی حیثیت دے دی ہے اور وہ اس کا استعمال کر کے جو اس کے ذہن میں آتا ہے وہ اناپ شناپ سوشل میڈیا پہ بکے جا رہا ہے۔

    ابھی کل ہی ایک محترمہ کسی چینل پہ بیٹھ کر ایک مولوی صاحب کے لتے لے رہی تھیں کہ جنت میں اللہ تعالیٰ نے مردوں کیلئے بہتر حوریں رکھی ہیں اور مرد کی عیاشی کا پورے کا پورا بندوبست کر دیا ہے لیکن عورتوں کیلئے کیا رکھا ہے۔؟ جواب دیا گیا کہ عورت اگر اپنے شوہر کے ساتھ جنت میں جاتی ہے تو وہ ان حوروں کی سردار ہوگی۔

    محترمہ کہتی ہے کہ واہ-! مرد کیلئے بہتر حوریں اور اسکی بیوی کیلئے وہی دنیا والا شوہر جسے شائد وہ دنیا میں دیکھنا بھی پسند نہ کرتی ہو۔ گویا اس قسم کی پریکٹس تھوڑے بہت فرق کے ساتھ صدیوں سے اب بھی جاری ہے اور جدید دور کا ہلاکو خان ایک ایک کر کے ان سب ملکوں ان کے مسلکوں اور فرقوں کو نیست و نابود کرتا ہوا آگے بڑھتا چلا آرہا ہے لیکن ہم میں اتنی طاقت نہیں کہ اسے روک سکیں۔

    جدید دور کے اس ہلاکو خان نے کسی کو بھی نہیں چھوڑا۔ لیبیا اور عراق کو دبوچا۔افغانستان کو خانہ جنگی میں کچھ اس طرح دھکیلا کہ وہ دہائیوں سے حالت جنگ میں ہے۔شام اردن اور لبنان کی اینٹ سے اینٹ بج چکی ہے۔کشمیریوں کو کچھ اس طرح مارا جا رہا ہے کہ وہ اپنی لاشیں بھی نہیں اٹھا سکتے اور نہ ہی وہ انہیں گن سکتے ہیں۔فلسطین ان کے اب بھی پنجہ استبداد میں ہے اور وہ انکے ظلم و ستم کے آگے بے بس ہیں اور مرنے کے سوا کوئی چارا نہیں۔مسلمان قوم کے بچے بوڑھے خواتین اور جوانوں کی لاشیں کوے نوچ نوچ کر کھاۓ جا رہے ہیں۔مسلم امہ انہیں دیکھ رہی ہے لیکن اسے روکنے کی طاقت ان میں نہیں۔

    آج حوا کی بیٹیاں اپنی عصمت چھپانے اور بچانے کیلئے امت کی چادر کا کونہ تلاش کر رہی ہیں لیکن یہ کونہ اسے مل نہیں رہا کیونکہ اب وہ بچا ہی نہیں گویا اب اس قوم میں کوئی محمد بن قاسم نہیں۔کوئی صلاح الدین ایوبی نہیں جو ان کی پکار کو سنے اور مدد کو پہنچے ۔

    ہم اب اس انتظار میں ہیں کہ شائد کوئی معجزہ ہو جائیگا اور ہم بچ جائیں گے۔ہم اب صرف اپنی باری کا انتظار کر رہے ہیں کہ ہم نے کب وقت کے اس ہلاکو خان سے تباہ ہونا ہے۔؟ میرا کہنا یہ ہے کہ انتظار ضرور کرو لیکن یہ یقین کر لینا کہ تباہ کرنے والے نے یہ نہیں دیکھنا کہ تم کس مسلک فرقے یا مذہب سے تعلق رکھتے ہو۔؟ وہ یقینا”یہ نہیں دیکھے گا کہ تم وہابی ہو دیوبندی ہو سنی ہو یا شیعہ ہو ۔وہ یقینا” یہ بھی نہیں دیکھے گا کہ تم اہل تشیع ہو۔اہل حدیث ہو یا اہل سنت ہو۔اس کے نزدیک تم صرف مسلمان ہو یعنی اس کے ازلی دشمن۔اسلئے اب بھی وقت ہے کہ چھوڑو آپس میں الجھنا اور سب ایک ہو جاؤ اس طرح ایک جیسے اللہ نے قرآن پاک میں حکم دیا ہے۔:-

    "اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو اور آپس میں تفرقہ نہ ڈالو”

    قرآن مجید اور احادیثِ مبارکہ میں بڑی کثرت سے اتحاد کو قائم رکھنے اور اپنے درمیان موجود خلفشار و انتشار سے بچنے کی بار بار ہدائت اور تلقین کی گئی ہے مگر ان سب کے باوجود بھی خلفشار و انتشار اب اتنا عام مرض بن چکا ہے کہ امت مسلمہ کو گھن کی طرح کھائے جارہا ہے اور علاقائی تعصب اور عصبیت پرستی کے روگ کی بو ہر جگہ محسوس کی جا رہی ہے۔ان حالات میں اب یہ بہت ضروری ہو گیا ہے کہ ہوری امت مسلمہ اپنے اختلافات کو ایک طرف رکھتے ہوۓ اتحاد و اتفاق کی طرف لوٹیں۔ دعا ہے اللہ تعالی ہم سب کو عقل سلیم عطا فرمائےاور آپس میں اخوت و محبت ہمدردی و خدا ترسی اور ملکی و ملی سیاسی و سماجی اور مسلکی و فروعی اختلافات سے بچائے اور امت واحدہ بن کر رہنے کی توفیق عطاء فرماے، خدا کرے کہ ہمارا کھویا ہوا شاندار ماضی ہمیں دوبارہ مل جائے اور ہم پھر سے ایک بار سربلندی و سرخروی سے اس دنیا میں جی سکیں اور جب اس دنیا سے جائیں تو اخروی کامیابی بھی حاصل کر سکیں۔میں نے اپنے دلی جذبات ایک کالم کی شکل میں بیان کر کے اپنس فرض ادا کر دیا ہے بقول اقبال:-

    اگرچہ بت ہیں جماعت کی آستینوں میں
    مجھے ہے حکم اذاں لا الہ الا اللہ