باغی ٹی وی : لسبیلہ .پاکستان تحریک انصاف ضلع لسبیلہ کے سینئر رہنما میر رضا خان نتھوانی زہری سینئر رہنما شاہنواز محمد حسنی نے پاکستان تحریک انصاف ضلع لسبیلہ کے سینئر رہنما میر غلام حسین لاشاری کے ساس کی وفات پر ان کے رہائشگاہ لاشاری ہاؤس حیدرآباد میں تعزیت فاتحہ خوانی کی ہے اس موقے پر لاشاری برادری کی معزز شخصیت وڈیرہ میھوں خان لاشاری ، عنایت اللّه لاشاری، صدام حسین لاشاری، بشام الدین لاشاری پاکستان تحریک انصاف حیدرآباد لطیف آباد نمبر یوسی 137 کے نامزد امیدوار برائے یو سی چیئرمین سیف الرحمن خان یوسی 138 پی ٹی آئی کے نامزد امیدوار برائے یو سی چیئرمین سلمان خان بھی تعزیت فاتحہ خوانی میں موجود تھے اور مرحومہ کے لئے دعا کی ہے کہ اللّه پاک مرحومہ کو جنت الفردوس میں اعلی مقام عطا فرمائے اور لواحقین کو صبر و جمیل عطا فرمائے آمین
Category: معاشرہ و ثقافت
-

دوسروں کی آواز بننے والا آج خود مدد کے لیے پکار رہا ہے
باغی ٹی وی : پنڈی بھٹیاں(شاھدکھرل)صحافی جو دوسروں کے لیے آواز اٹھاتا ہے جب اس پر برا وقت آتا ہے تو اس کی مدد کو بہت کم لوگ سامنے آتے ہیں حافظ آباد کا معظم علی جو مختلف ٹی وی چینل ویب چینلز اخبارات کے لیے رپوٹنگ کرتا رہا ہے عرصہ تین سال سے دل کے عارضہ میں مبتلا ہو کر چارپائی تک محدود ہو گیا متعدد مرتبہ سوشل میڈیا پر آواز بھی اٹھائی گی معظم علی کا کہنا ہے گھر کا سارا سامان بک چکا ہے ایک ماہ 25000 ہزار کے قریب ادویات آتی ہیں 6 ہزار بجلی کا بل ہے گھر کے لیے دیگر اخراجات ہیں اگر کوئی مدد کر جاتا ہے تو گھر میں کھانا پکتا ہے ورنہ فاقے کرنے پڑتے ہیں میں روز روز اپیل کر کے تنگ آچکا ہوں بیماری کی وجہ سے بہن بھائی دوست رشتہ دار چھوڑ گے ہیں ہزاروں روپے کا مقروض ہوں جن سے قرضہ لے کر معاملات چلاتا رہا وہ بھی غریب لوگ ہیں مالی حالات خراب ہیں اب وہ قرض کی واپسی کا تقاضا کرتے ہیں معظم علی کا کہنا ہے مجبوراً حالات سے تنگ آکر خود کشی کے بارے میں سوشل میڈیا پر میسج شئیر کیا ہے معظم علی کا کہنا ہے پاکستان سمیت دنیا بھر میں بہت سارے صاحب استطاعت لوگ کوبھی بھی شخص کوئی چھوٹا موٹا کاروبار، آٹورکشہ وغیرہ بنا دے میں اپنی بیٹی کی مدد سے اپنا نظام زندگی خود چلا لوں گا معظم علی کی مدد کے لیے سرکاری محکموں سمیت سماجی، صحافتی تنظیمیں آگے بڑھ کر ایک جان بچائیں اس سے قبل کہ دیر ہو جائے معظم علی کی مدد کے لیے دیے گے نمبر 03112982071 پر رابطہ کر کے مدد کی جاسکتی ہے
-

کندھ کوٹ : سیلاب زدہ علاقوں میں تحریک لبیک پاکستان کی امدادی سرگرمیاں جاری
باغی ٹی وی : کندھکوٹ ( نامہ نگار) سیلاب زدہ علاقوں میں تحریک لبیک پاکستان علامہ سعد حسین رضوی کی حکم پر تحریک لبیک گمبٹ کے رہنمائوں کی جانب سے پی اے سیکریٹری گمبٹ کے گائوں خانڑ ناریجو اور دیگر گائوں میں امدادی سرگرمیاں تیزی سے جاری
تفصیلات کے مطابق تحریک لبیک پاکستان کی جانب سے متاثرین میں راشن اور ادویات تقسیم کئے گئے مختلف علاقوں اور دیہاتوں میں گمبٹ تحریک لبیک پاکستان کی جانب سے متاثرین کی بحالی کے لیے تمام مثبت اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں تحریک لبیک پاکستان تعلقہ گمبٹ کی جانب سے راشن اور ادویات سمیت دیگر امدادی سامان متاثریں میں تقسیم کرنے کا عمل جاری تحریک لبیک پاکستان کی جانب سے بستر کمبل پانی اودیات اور دیگر ضروریات کے سامان غریب مستحق برسات متاثرین میں تقسیم تحریک لبیک پاکستان تعلقہ گمبٹ میں بارشوں سے متاثرہ افراد کی بحالی کے لئے دن رات کوشاں میں مصروف عمل اس موقع پر تحریک لبیک کے سرپرست اعلیٰ علامہ تاج محمّد ضلع امیر قادری برکت علی میمن حفاظ امیر احمد ناریجو نے کہا کہ ہم اعلیٰ قیادت کے حکم پر سیلاب متاثرین کی مدد کے لیے رانی پور اور گمبٹ کے مختلف علاقوں میں راشن اور فری میڈیکل کیمپ لگائی ہیں تحریک لبیک کے امیر قادری برکت علی میمن نے کہا کہ راشن اور فری میڈیکل کیمپ کا مقصد یہ ہے کہ ضلع کے بارانی علاقوں میں عوام کو ڈیلی ویجز پر کہانے پینے اور صحت کی سہولیات فراہم کرنا ہے تاکہ بڑھتی ہوئی وبائی امراض کو روکا جا سکے۔ -

ہندستان بمعنی پاکستان — علی منورؔ
ہندستان آغاز سے ہی تہذیب و تمدن کا مسکن رہا ہے۔جہاں دنیا کی قدیم ترین تہذیبیں وجود میں آئیں، وہیں پہ لوگوں نے بولنا سیکھا۔زبان کے ذریعے اپنے جذبات و احساسات کا اظہار سیکھا۔ دنیا میں سب سے پہلے زبانوں کے لیے رسم الخط بھی یہیں پہ وجود میں آئے۔ ہندستان لفظ کا اطلاق دراصل جہاں دریائے سندھ کے مشرقی سمت تمام علاقوں پر ہوتا ہے وہیں پہ عربوں نے فارس اور عرب کے مشرقی سمت علاقے کو ہند کا نام دیا۔مختلف سلطنتوں اور بادشاہتوں کے زیر اثر ہند کی سرحدیں بدلتی رہیں، مغل مسلمانوں کے پروقار دور میں ہندستان میں موجودہ افغانستان ، بھارت، پاکستان، بنگلہ دیش اور نیپال کے کچھ حصے شامل رہے تو انگریز کے دور میں موجودہ پاکستان، بھارت اور بنگلہ دیش, ہندستان کہلائے۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ موجودہ ہندو قوم کی وجہ سے یہ سرزمین ہندستان نہیں کہلائی بلکہ ہندستان کی مناسبت سے یہاں کے لوگوں کو ہندو کہا گیا اور بعد از ایک مخصوص مذہب کے پیروکار ہندو کہلائے۔
بہرحال یہ بحث الگ اور مستقل موضوع کی متقاضی ہے۔ عموما تقسیم ہند سے قبل کے ملک کو "ہندستان” جب کہ تقسیم کے بعد والے ملک بھارت کو "ہندوستان” کہا جاتا ہے۔ درحقیقت اس سرزمین کو دریائے سندھ کی مناسبت سے سندھو پکارا گیا مگر جب کم و بیش 600 سال قبل مسیح کے زمانے میں ایرانی شہنشاہ نے سندھو ندی اور آگے کی زمینوں پہ قبضہ کیا تو اس سرزمین کو ہند یا ہندو کہہ کر پکارا، کیونکہ ان کی زبان میں حرف "س” نہیں تھا۔بعض احادیث میں بھی اس سرزمین کا نام "ہند” کے نام سے ہی آیا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق اس پورے خطے کو دریائے سندھ کی مناسبت سے سکندر اعظم کے زمانے تک ایک ہی نام سے پکارا گیا پھر بعد میں آنے والے فاتحین نے اسے اپنی زبانوں کے لحاظ سے سند، ہند، انڈ کہہ کر پکارا، موجودہ لفظ انڈیا اسی سے نکلا ہے۔ س، ہ اور الف کا استعمال اپنی زبانوں کے حروف کے اعتبار سے کیا۔اور یہاں کے لوگ بھی اسی اعتبار سے سندھو، انڈو یا انڈوس اور ہندو کہلائے۔مغلوں کے دور میں جب ایرانی دربار سے رشتہ داریاں عام ہوئیں تو اس ہند کو فارسی لفظ ستان کے ساتھ ملا کر ملک کا نام ہندستان کر دیا گیا جو صدیوں تک چلتا رہا۔
انگریزوں کے دور میں معاملات کچھ اس طرح خلط ملط ہوئے کہ ہندستان کو انجانے اور غلط فہمیوں کے ساتھ ہندوستان لکھا گیا۔ حقیقت تو یہ ہے کہ اس سرزمین کو تاریخی کتب میں کبھی بھی ہندوستان نہیں لکھا گیا، بلکہ ہر جگہ اس کا نام ہندستان ہی ہے۔ موجودہ دور میں بہت کم لوگوں میں یہ احساس پایا جاتا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ اس لفظ کی ہئیت کو برقرار اور قائم و دائم رکھا جائے کیونکہ تقسیم کے بعد پاکستانی ہونے کی حیثیت سے بہت سے معاملات اس لفظ کی درستی کے ساتھ جڑے ہیں۔ دنیا بھر میں جب بھی کسی بھی میدان میں تاریخی اعتبار سے کچھ بھی لکھا یا پڑھا جاتا ہے تو ہندستان لفظ کا اطلاق صرف موجودہ بھارت پر نہیں بلکہ پاکستان، بھارت اور بنگلہ دیش پر ہوتا ہے۔ جیسے کسی درخت، جانور یا جڑی بوٹیوں کے حوالے سے جب بھی کوئی بات ہندستان کے ساتھ خاص کر کے کہی جاتی تو مراد پورے خطے سے ہوتی ہے نہ کہ صرف موجودہ بھارت سے۔ یہی وجہ ہے کہ جب دنیا کی قدیم ترین تہذیبوں کا ذکر چھیڑا جائے تو موہن جوداڑو اور ہڑپہ کے بنا بات آگے نہیں بڑھ سکتی اور یہ کہا جاتا ہے کہ دنیا کی قدیم ترین تہذیب سرزمین ہندستان پر وجود میں آئی، جبکہ یہ دونوں تہذیبیں موجودہ پاکستان میں ہیں۔
اسی طرح وہ جگہیں جو موجودہ بھارت میں موجود ہیں مگر ان پر لفظ ہندستان بول دیا جائے تو اطلاق پاکستان ، بنگلہ دیش اور موجودہ بھارت پر بھی ہو گا بلکہ بعض معاملات میں تو نیپال اور افغانستان کو بھی شامل کرنے پڑتا ہے کیونکہ بہت سے ادوار میں یہ دونوں ممالک بھی ہندستان میں شامل رہے۔گویا کسی بھی تاریخی معاملے پر حق صرف پاکستان یا بھارت کا نہیں بلکہ یہ دونوں ممالک ایک دوسرے سے الگ رہ کر اور دشمنی نبھانے کے باوجود ہر تاریخی چیز پر مشرکہ حق رکھتے ہیں۔
زمینی حقائق کو سامنے رکھیں تو تقسیم ہند کے بعد صرف لوگ اور زمینیں ہی تقسیم نہیں ہوئیں بلکہ صدیوں پرانی تہذیب و تمدن اور ثقافت بھی تقسیم ہوئی ۔جہاں کھجور اور اردو مسلمان ٹھہریں وہیں پہ ناریل اور سنسکرت ہندو بن گئیں۔ غرض یہ بٹوارہ کسی ایک چیز کا نہیں تھا ہر ہر چیز بانٹ لی گئی، راتوں رات معیار تبدیل ہوئے اور دونوں ممالک ایک ساتھ الگ الگ راہوں پر نئی دنیا کے سفر میں نکلے۔
اب دونوں ممالک کو خود طے کرنا تھا کہ وہ دنیا میں اپنا مقام کہاں بناتے ہیں۔مگر افسوس کہ پڑوسی ملک نے اس سفر میں ہمیں کہیں بہت پیچھے چھوڑ دیا۔بھارت نے اس سفر میں جہاں خود کو آگے پڑھایا وہیں ساتھ ہی ساتھ ہمیں بھی پیچھے دھکیلا۔ کبھی انگریز وائسرائے کے ساتھ مل کر بے ایمانی سے خطے کو اس طرح کاٹا کہ ہماری شہ رگ کشمیر ان کے پنجے میں چلی گئی اور ہم کشمیر کے ساتھ ساتھ اپنے ہی پانی کے لیے ان کے سامنے ہاتھ پھیلانے پر مجبور ہوئے۔ کبھی تقسیم کے محض ایک سال بعد ہی ہماری ایک پوری ریاست حیدرآباد دکن کو عالمی قوانین کی دھجیاں بکھیرتے ہوئے ہم سے چھین کر کاٹ ڈالا اور ہم ان سے سامنے ممنا بھی نہ سکے۔ بھارت نے اسی پر بس نہیں کی بلکہ پاکستان کو ہر ممکن دباتے ہوئے عالمی برادری کے سامنے رسوا کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیا۔ اور تو اور خود بھارت میں علیحدگی پسند تنظیمیں دراصل ہندو کے تشدد کا ہی تو رد عمل ہیں۔
پاکستان بھر میں بھارت کی طرف سے امن کو سبوتاژ کرنے کی کوششیش بھی کسی سے ڈھکی چھپیں نہیں۔ سقوط ڈھاکہ کا غم آج بھی کروڑوں لوگوں کے دلوں کا درد ہے اور سقوط سرینگر ہماری نیم رضا مندی سے وجود پا رہا ہے، ہندو انتہا پسندوں کے ہاتھوں بابری مسجد کی شہادت ایک الگ المناک باب ہے۔ ایسے تمام حالات میں ہم پر بحیثیت قوم کچھ اضافی ذمہ داریاں بھی عائد ہوتی ہیں جن سے عہدہ برا ہونا ہماری آنے والی نسلوں کا ہم پر قرض ہے۔
اپنے تاریخی ورثے سے ہاتھ ہٹا لینا صدیوں تک کا وہ نقصان ہے جس کی بھرپائی کبھی ممکن نہیں۔ نوجوان طالب علم نسل کبھی کسی جگہ یہ پڑھ کر احساس کمتری میں مبتلا نہ ہوں کہ فلاں چیز یا جاندار کا مسکن انڈیا ہے، کوئی یہ نہ سوچے کہ شاید بھارت کے پاس کوئی ایسی خاص چیز ہے جس سے پاکستانی محروم ہیں۔ایمانداری کا تقاضا ہے کہ یہ بات پاک و ہند اور بنگال کے ہر فرد کے ذہن میں راسخ ہو کہ لفظ "ہندستان” یا "انڈیا” سے مراد بھارت نہیں بلکہ 1947 سے قبل والا برصغیر ہے۔
اقبال کے اشعار "سارے جہاں سے اچھا، ہندستاں ہمارا” اور داغ کے اشعار "ہندستاں میں دھوم ہماری زباں کی ہے” پورے برصغیر کے لیے تھے۔
اپنی اصل سے محبت اور وفا داری کا تقاضا ہے کہ اپنے درد کو سینے میں زندہ رکھتے ہوئے اپنے حق کو سب سے مقدم رکھا جائے۔ -

محسن انسانیت ﷺ کے عطا کردہ انسانی حقوق
محسن انسانیت ﷺ کے عطا کردہ انسانی حقوق
تحریر : محمد ریاض ایڈووکیٹ
اگر آپ اقوام متحدہ کے ”انسانی حقوق کا عالمی علامیہ“ اور جمہوری ممالک خصوصا پاکستان کے آئین میں درج بنیادی انسانی حقوق کا مطالعہ کریں تو آپکو انتہائی خوشگوار حیرت محسوس ہوگی کہ زمانہ جدید میں بنیادی انسانی حقوق طے کرتے وقت نبی کریم ﷺ کے خطبہ حجتہ الوداع سے رہنمائی لی گئی ہے۔ آپ کی صحبت میں ایک لاکھ سے زائد مسلمانوں نے 10 ہجری میں حج اداکیا۔9 ذوالحجہ کو نبی کریم ﷺ نے وادی عرفات میں خطبہ حجتہ الوداع ارشاد فرمایا۔ یہ خطبہ نبی کریم ﷺ کا آخری وعظ تھا۔ درحقیقت 14 صدیاں پہلے یہ خطبہ محسن انسانیت حضرت محمد ﷺ کی جانب سے بنی نوع انسان کے لئے بنیادی انسانی حقوق کا اجراء تھا۔ اس عظیم خطبہ میں نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
ہاں! میں نے آج جاہلیت کے تمام دستوروں کو اپنے پاؤں تلے کچل دیا ہے۔ اللہ عزوجل نے تم سے جاہلیت کی گمراہیاں دور کردیں۔ نسبی فخر مٹا دیئے۔ مومن متقی اور فاجر شقی ہے۔ آج کے بعد عربی کو عجمی پر اور عجمی کو عربی پر کسی قسم کی فضلیت نہیں۔ انسان سب آدم ؑ کی اولاد ہیں اور آدمؑ مٹی سے پیدا کئے گئے تھے۔ ہر مسلمان دوسرے مسلمان کا بھائی ہے تمام مسلمان ایک ہی برادری ہیں۔ اے لوگو! اپنے غلاموں کا خیال کرو جو خود کھاؤ وہی ان کو کھلاؤ۔ جو خود پہنو وہی انکو پہناؤ۔ جاہلیت کے خون کے دعوے سب کے سب باطل کردئیے گئے۔ سب سے پہلے میں اپنے خاندان کا خون یعنی ربیعہ بن الحارث کے بیٹے کا خون باطل کرتا ہوں۔ جاہلیت کے تمام سود بھی باطل کرتا ہوں۔ عورتوں کے معاملے میں اللہ سے ڈرتے رہو۔ تمہارا عورتوں پر اور عورتوں کا تم پر حق ہے۔ تمہارا خون اور تمہارا مال اسی طرح حرام ہے جس طرح یہ دن اس مہینے میں اور اس شہر میں حرام ہے تاآنکہ تم (بروز قیامت) اپنے پروردگار سے جاملو۔ میں تم میں ایک چیز چھوڑ رہا ہوں اگر تم نے اسکو مضبوطی سے پکڑا تو تم کبھی گمراہ نہ ہوگے وہ چیز اللہ عزوجل کی کتاب یعنی قرآن مجید ہے۔ اللہ نے ہر حق دار کو ازروئے قانون وراثت اسکا حق دے دیا۔ اب کسی وارث کے حق میں وصیت جائز نہیں۔ لڑکا اسکا ہے جس کے بستر پر پیدا ہوا۔ زانی کے لئے پتھر ہے اسکا حساب اللہ کے ذمے ہے۔ جو شخص اپنے باپ کے علاوہ کسی اور کے نسب سے ہونے کا دعویٰ کرے اور جو غلام اپنے مولا کے سوا کسی اور کی طرف اپنی نسبت کرے اس پر اللہ کی لعنت۔ ہاں عورت کو اپنے شوہر کے مال میں سے اسکی اجازت کے بغیر کچھ لینا جائز نہیں۔ قرض ادا کیا جائے۔ ادھار واپس دیا جائے۔ عطیہ لوٹا دیا جائے۔ ضامن تاوان کا ذمہ دار ہے اور ہاں! میرے بعد گمراہ نہ ہوجاناکہ خود ایک دوسرے کی گردن مارنے لگو۔ تم کو اللہ کے سامنے حاضر ہونا ہے اور وہ تم سے تمہارے اعمال کی بازپرس کرے گا۔ ہاں! مجرم اپنے جرم کا خود ذمہ دار ہے۔ باپ کے جرم کا ذمہ دار بیٹا اور بیٹے کے جرم کا ذمہ دار باپ نہیں۔ اگر کوئی ناک کٹا حبشی تمہارا امیر ہو اور وہ تم کو اللہ کی کتاب کے مطابق لیکر چلے تو اسکی اطاعت اور فرمانبرداری کرو۔ ہاں! شیطان اس بات سے مایوس ہوچکا کہ تمہارے اس شہر (مکہ مکرمہ) میں قیامت تک پھر کبھی اسکی پرستش نہیں کی جائے گی۔لیکن تم چھوٹی چھوٹی باتوں میں اسکی پیروی کروگے اور وہ اس پر خوش ہوگا۔ اپنے پروردگار کی عبادت کرو۔ پانچوں وقت کی نماز پڑھو۔ مہینے(رمضان) کے روزے رکھا کرو اور میرے احکام کی اطاعت کرو، اللہ کی جنت میں داخل ہوجاؤگے۔مذہب میں غلو اور مبالغے سے بچے رہنا کیونکہ تم سے پہلی قومیں اسی سے برباد ہوئیں۔ خطبہ دینے کے بعد رسول اکرم ﷺ نے لوگوں سے مخاطب ہوکر پوچھا: ”ہاں! کیامیں نے اللہ کا پیغام سنا دیا؟“۔ لوگوں نے جواب دیا: ”ہاں اے اللہ کے رسول ﷺ“۔ آپ ﷺ نے فرمایا: اے اللہ تو گواہ رہیو۔ آپ ﷺ نے پھر پوچھا: ”تم سے اللہ کے ہاں میری بابت پوچھا جائے گا تم کیا کہوگے؟“۔مسلمانوں نے عرض کیا کہ ہم کہیں گے کہ آپ ﷺ نے اللہ کا پیغام پہنچا دیا اور اپنا فرض ادا کیا اسکے بعد آپ ﷺ نے آسمان کی طرف تین دفعہ انگلی اُٹھا کر تین دفعہ کہا کہ ”اے اللہ تو گواہ رہیو“۔ جس روز نبی کریم ﷺ نے عرفات میں یہ خطبہ ارشاد فرمایا اسی دن اللہ کی طرف سے انہیں وحی کے ذریعے حسب ذیل پیغا م ملا: ”آج میں نے تمہارے لئے تمہارا دین کامل کردیا اور تم پر اپنی نعمت پوری کردی اور تمہارے لئے اسلام کو دین پسند کرلیا (پارہ 6، سورۃ المائدہ آیت نمبر 3)“۔ حج ادائیگی کے بعد مدینہ کی طرف لوٹتے وقت آپ ﷺ نے غدیر خم کے مقام پر صحابہ کرام رضوان اللہ تعالی علیھم اجمعین کے سامنے ایک مختصر سا خطبہ دیا۔ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”اے لوگو! میں بھی بشر ہوں ممکن ہے اللہ کا فرشتہ جلد آجائے اور مجھے قبول کرنا پڑے، میں تمہارے درمیان دو بھاری چیزیں چھوڑتا ہوں، ان میں سے ایک تو کتاب اللہ ہے جس کے اندر ہدایت اور روشنی ہے، پس اللہ کی کتاب کومضبوطی سے پکڑو اور اس سے چمٹے رہو۔ دوسری چیزمیرے اہل بیت ہیں۔ اپنے اہل بیت کے بارے میں، میں تم کو اللہ کی یاد دلاتا ہوں۔
نبی کریم ﷺ کی جانب سے عطا کردہ بنیادی انسانی حقوق روز قیامت تک آنے والی بنی نوع انسانی اور خصوصا مسلمانوں کے لئے ذریعہ نجات ہیں۔ اللہ کریم سب مسلمانوں کو باہمی اتحاد اور نبی کریم ﷺ کی تعلیمات پر من و عن پیروی کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ اللہ کی کروڑہا رحمتیں نازل ہوں نبی کریم ﷺ پر آپ کی اہل بیت پر اور آپ کے اصحاب کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیھم اجمعین پر۔آمین ثم آمین (بحوالہ تاریخ اسلام) -

ٹرانس جینڈر ایکٹ، خواجہ سراؤں کے حقوق پر ڈاکا؟ — اعجازالحق عثمانی
ہمارے معاشرے میں اقلیتوں کے حقوق کا تو نام و نشان تک نہیں پایا جاتا،اور جو رویہ بطور معاشرہ ہمارا خواجہ سراؤں کے ساتھ ہے وہ تو پوچھیے ہی مت۔ خواجہ سرا انتہائی قابل رحم جنس اس لیے بھی ہیں۔ کہ ہم نے انھیں ایک الگ جنس تسلیم کرنے پر آج تک تسلیم ہی نہیں کیا ۔ پیدا ہوتے ہی یہ طبقہ در بدر کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہو جاتا ہے۔
ہمارے ہاں خواجہ سراؤں کے بارے میں بہت ساری غلط فہمیاں ہیں ، شاید انہی غلط فہمیوں کو وجہ سے معاشرہ اس تیسری جنس کو قبول نہیں کرتا۔خواجہ سرا ہوتا کیا ہے ؟ اس بات کا جواب سائنسی بنیادوں پر جاننے کی کوشش کرتے ہیں ۔شناخت کا سب سے زیادہ موثر طریقہ ڈی این اے ہے۔
ڈی این اے میں موجود "ایکس” اور "وائے” کروموسومز جنسی شناخت کرتے ہیں۔فرٹیلائزیشن سے پہلے صرف "ایکس” کروموسوم ہی پایا جاتا ہے ۔جبکہ سپرم میں یا تو "ایکس” کروموسوم ہوتا ہے، یا پھر "وائے”۔ "ایکس” کروموسوم سے جنم لینے والی جنس لڑکی جبکہ "وائے” کروموسومز کی فرٹیلائزیشن ہو تو پیدا ہونے والی جنس لڑکا ہوگا۔
لیکن بعض دفعہ کسی لڑکے میں لڑکیوں کی خصوصیات جبکہ لڑکیوں میں لڑکوں کی خصوصیات آجاتی ہیں ۔ظاہری جسمامت لڑکیوں والی ،اور بعض افراد میں خصوصیات لڑکوں والی آجاتی ہیں ۔ ایسی جنس کو خواجہ سرا کہتے ہیں ۔
2018ء میں پاکستان کی قومی اسمبلی میں ٹرانس جینڈر ایکٹ پیش ہوتا ہے۔ جس کے تحت ٹرانس جینڈر کو ڈرائیونگ لائسنس کے ساتھ ساتھ جنسی ہراسانی سے تحفظ کی فراہمی اور ان سے بھیک منگوانے پر پچاس ہزار روپے جرمانہ کی سزا متعین ہوتی ہے۔یہاں تک تو بات ٹرانس جینڈر طبقے کے حق میں تھی اور ان سارے حقوق کا یہ طبقہ حقدار بھی ہے۔ مگر اس ایکٹ کی چند ایک کلاز ایسی ہیں، جن کے بعد میں تو کم از کم اس کو ایکٹ کو خواجہ سراؤں کے حقوق پر ڈاکا کہوں گا۔
کیونکہ معاشرے سے اٹھ کر کوئی بھی مرد یا عورت کہے کہ وہ خواجہ سرا ہے تو بغیر کسی طبعی روپوٹس اور تحقیق کے مان لیا جائے تو یہ دراصل خواجہ سرا طبقے کے حق پر ڈاکا ہے۔اس ایکٹ کے تحت کوئی بھی شخص خود اپنی جنس کا تعین کر سکتا ہے ۔اور بغیر کسی میڈیکل رپورٹ کے، یعنی کوئی بھی شخص نادرا کو درخواست دے کر اپنی جنس مرد سے تبدیل کروا کے عورت یا عورت سے مرد کروا سکتا ہے۔ خواجہ سراؤں کو حق ہے کہ وہ خود اپنی جنس کا تعین کریں ۔
کیونکہ بعض خواجہ سرا بچوں کے جنسی اعضا بچپن سے نہیں پہچانے جاسکتے ۔ بلوغت سے پہلے جنسی غدود فعال نہیں ہوتے اور جنسی ہارمونز کی مقدار بھی کم ہوتی ہے ۔اس لیے جسمانی ساخت سے پہچان خاصا پیچیدہ عمل ہوتا ہے ۔ ایسے میں وہ بچے اپنی جنس کا تعین خود ہی بہتر طور پر کر سکتے ہیں ۔
مگر۔۔۔۔۔۔ایسے کھلا کھلم آزادی کہ جس کا جی چاہے اپنی جنس کا تعین خود کرنے بیٹھ جائے ، کسی طور پر بھی بڑی تباہی اور بربادی سے کم نہیں،معاشرے کی ان کالی بھیڑوں کو لگا کیسے اور کون ڈالے گا جو اس ایکٹ کی آڑ میں، اسے ہم جنس پرستوں کے تحفظ کا قانون بنا لیں گے۔
-

ماسک — عبداللہ سیال
ماسک نے بڑے بڑوں کے عیب چھپا رکھے ہیں.
جناب منصف!
جس طرح تم نے اپنے براؤزر میں کچھ مخصوص ٹیب چھپا رکھے ہیں
اسی طرح ماسک نے بڑے بڑوں کے عیب چھپا رکھے ہیں.جناب منصف!
کل دن کی ہی بات ہے، عجب ہوئی اک واردات یے
میں گھر سے نکلا ہی تھا کہ ایک ماسک پوش نے میری کنپٹی پر رکھ دی بندوق کی نالی، اور زور زور سے کہنے لگا آج چل جائیو سالی
کہنے لگا کہ نکالو جو کچھ جیب میں ہے
میں نے کہا نکال لو جو کچھ جیب میں ہے.
اس نے میری جیبوں کو ٹٹولا، پھر منہ بنا کر بولا
تم تو خاطر خواہ امیر لگتے ہو، جیب میں صرف دو والے سکے رکھتے ہو.
میں نے کہا دل سے امیر ہوں، شکل سے غربت جھلکتی ہے
ماسک جیسی چیز میرے عیبوں کو ڈھکتی ہے.
مایوس ہو کر اس ٹریگر جو دبایا، پانی کا اک فوارہ سا باہر نکل آیا
یعنی اس کمینے نے مجھے پاگل بنایا.
جی میں آئی کہ ڈاکو کو پہچانا جائے، اس کی ڈکیتیوں کو لگام ڈالا جائے
یہ سوچ کر میں اسکے پیچھے ہو لیا، من ہی من اپنی بے عزتی پر رو لیا
تھوڑا آگے گیا تو کیا دیکھتا ہوں
پانچ چھ لڑکے ماسک پہن کر کھڑے ہیں، سبھی کے ہاتھوں میں پستول اور چھڑے ہیں.
انہی چھڑوں کے ذریعے وہ دیہاڑی لگاتے ہیں
اور ماسک پہن کر اپنے عیب چھپاتے ہیں.جناب منصف!
ایک سیاسی جلسی میں ہوا شرکت کا احتمال، پڑھے لکھے افراد تھے وہاں خال خال
جلسی کے اختتام پر کہا گیا دعا کرائی جائے، دعا کے بعد ایک کپ چائے پلائی جائے
دعا کیلئے مگر کوئی آگے نہ آسکا، مارے شرم کے ہاتھ اٹھا نہ سکا
اتنے میں ایک ماسک پوش کھڑا ہوا اور ہوا میں ہاتھ بلند کرکے انتہائی نامناسب انداز میں کہا
"یا الٰہی! تیری… بارگاہ میں التجا کرتے ہیں.”
میں نے سوچا یہ کس کی دعا کا اثر اتنا دلخراش ہے
ماسک اترا تو معلوم پڑا، یہ تو ایک بدمعاش ہے
وہ بدمعاش جس نے اپنے اثاثے فرام نیب چھپا رکھے ہیں
ماسک نے بڑے بڑوں کے عیب چھپا رکھے ہیں.جناب منصف!
ماسک کے استعمال کا سب سے بڑا فائدہ نوجوان نسل کو یوں ہوا ہے کہ اب ہالی ووڈ کی فلموں میں اداکاروں نے ماسک پہن رکھے ہیں.
ماسک پہن کر وہ اپنی ثقافت کا سرعام اظہار کر نہیں سکتے
اور ہم گھر والوں کے ساتھ بیٹھ کر فلم دیکھنے سے ڈر نہیں سکتے.جناب منصف!
اک روز میں اور میرا دوست کررہے تھے کچھ مردانہ باتیں…
باتوں باتوں میں ہماری آواز ہوگئی اس قدر بلند
کمرے سے باہر تک جانے لگا ہماری باتوں کا گنداتنے میں ایک صاحب اندر جھانکنے آگئے، کہنے لگے نوجوان تم تو چھاگئے
اس عمر میں جب سب کرتے ہیں بچگانہ باتیں، تم کررہے ہو سرعام مردانہ باتیں
ذرا اپنی پیاری سی صورت تو دکھاؤ، ذرا اپنا یہ ماسک تو اٹھاؤ
میں ان کی سازش کو سمجھ گیا اور ماسک اتارے بغیر کہا…یہ سب راز قدرت نے غیب میں چھپا رکھے ہیں
ماسک نے بڑے بڑوں کے عیب چھپا رکھے ہیں.جناب منصف!
اک روز ہمارا امتحاں ہوا، امتحاں نہیں بلکہ طعنۂ جاں ہوا
اس روز بھی ماسک نے ہماری کم علمی کو چھپایا، پہلے کا A دوسرے کا D ہر کوئی چلایا
آج بھی ہمارے کارنامے اس لیب چھپا رکھے ہیں
ماسک نے بڑے بڑوں کے عیب چھپا رکھے ہیں.جناب منصف!
زمانہ بہت خطرناک ہے. ہر کوئی شاطر ہے، ہر کوئی مکار ہے.
آج کے انساں نے اپنے اندر کیا کیا مکر و فریب چھپا رکھے ہیں
یہ تو خدائی ماسک نے بڑے بڑوں کے عیب چھپا رکھے ہیںماسک نے بڑے بڑوں کے عیب چھپا رکھے ہیں…!
-

فرقہ پرستی اور میرا بیٹا
فرقہ پرستی اور میرا بیٹا
تحریر:محمد ریاض
پاپا جی، ہم کون ہیں؟ بیٹا، کیا مطلب؟ پاپا جی ہمار ا کون سا مذہب ہے؟ بیٹا، ہم مسلمان ہیں۔ نہیں پاپا جی ہم کون ہیں؟ مطلب ہم بریلوی ہیں؟دیوبندی ہیں؟ شیعہ ہیں یا پھر وہابی؟بیٹا اس طرح نہیں کہتے، ہم صرف مسلمان ہیں،اگر کوئی آپ سے دوبارہ پوچھے تو آپ نے صرف یہی کہنا ہے کہ ہم مسلمان ہیں۔ اچھا پاپا جی!! ویسے بیٹا آپکو یہ سب کیسے پتا؟ پا پا جی، میری کلاس میں میرا دوست مجھ سے یہ پوچھ رہا تھاکہ آپ لوگ کون ہیں؟بریلوی ہیں، دیوبندی ہیں شیعہ ہیں یا پھروہابی؟ گزشتہ دنوں درج بالا سوال و جواب کی نشست بندہ ناچیز اور اسکے انگلش میڈیم سکول میں جماعت چہارم میں پڑھنے والے بیٹے محمد احمد ریاض کے درمیان ہوئی۔ بہرحال اس تحریر میں بندہ ناچیزکا اپنی اُس کیفیت کا یہاں بیان کرنا مشکل ہی نہیں بلکہ ناممکن بھی ہے کہ جس وقت میرا ننھا شہزادہ یہ سوالات پوچھ رہا تھا۔آپ اندازہ لگائیں کہ فرقہ پرستی ہمارے ہاں کس حد تک پہنچ چکی ہے۔ کہ ننھے مُنھے بچے جنہوں نے پاکستان کی باگ دوڑ سنبھالنی ہے ان بچوں کے ابھی کھیلنے کودنے، شرارتیں کرنے کے دن ہیں اور قرآن مجید و فرقان حمید سیکھنے اور اسکے ساتھ ساتھ دین اسلام کی پیاری پیاری باتیں اور دعائیں سیکھنے کے دن ہیں ان ننھے منھے ذہنوں میں یہ فرقہ پرستی کون ڈال رہا ہے؟ اس حقیقت سے بھی آنکھیں نہیں چُرائی جا سکتیں کہ کلمہ طیبہ کے نام پر بننے والی اسلامی ریاست پاکستان میں فرقہ پرستی سے نہ ہی ہماری مساجد و مدارس محفوظ ہیں بلکہ گھر، محلے، بازار، فیکٹریاں، رشتہ داریاں، سول سوسائٹی، اسکول، کالج اور یونیورسٹیز بھی محفوظ نہیں ہیں۔ بالفاظِ دیگر زندگی کے ہر شعبہ کے افراد اس مسئلے کا شکار ہوچکے ہیں۔ اپنے بیٹے سے اس تکلیف دہ نشست کے بعد میں نے اللہ کریم کا کروڑہاکروڑ شکر ادا کیا کہ اللہ کریم کی ذات نے بہت عرصہ پہلے ہی اِن مسائل سے بالا تر ہوکر ایک مسلمان کی حیثیت سے زندگی گزار کر اتحادِ اُمت کے لئے کام کرنے کی مجھے توفیق عطا فرمائی۔ الحمدللہ، میں تمام مسالک کے ساتھیوں کو مسلمان سمجھتا ہوں۔ الحمدللہ،میں بہت عرصہ سے مسلمانوں کے ہر مسلک کی مسجد میں نماز ادا کرلیتا ہوں۔ چاہے وہ مسجد بریلوی مکاتبِ فکر کی ہو یا دیوبندی یا پھراہلحدیث۔ ہر مسلک کے امام کے پیچھے نماز ادا کرلیتا ہوں۔الحمدللہ میں اللہ کریم کی ذات پر پختہ ایمان و یقین رکھتے ہوئے نماز ادا کرتا ہوں کہ ان شاء اللہ ہر مسلمان کے پیچھے میری نماز قبول ہوگی۔ اپنے ننھے شہزادے کیساتھ اس چھوٹی سی گفت وشنید کے بعد میں نے اللہ کریم کا اس بات پر بھی شکر ادا کیا کہ میں نے اسی کی توفیق اور عطا ء سے اپنے ننھے شہزادے کو مسلک پرستی اور فرقہ پرستی کے مسائل سے محفوظ رکھا ہوا ہے۔ میں اپنے ننھے شہزادے کو اپنے علاقہ کے ہر مسلک کی مسجد میں نماز کے لئے لیکر چلا جاتا ہوں۔نماز کے لئے جاتے ہوئے میرا بیٹا جس مسجد کی طرف اشارہ کرتا ہے میں اسکو اسی مسجد میں لیکر چلا جاتا ہوں۔کیونکہ جس دن میں نے ننھے شہزادے کو کہا کہ بیٹا اس مسجد میں نماز پڑھنے کے لئے نہیں جانا تو اس ننھے شہزادے کے دماغ میں طرح طرح کے سوالات آئیں گے، جیسا کہ پاپا جی اس مسجد میں نماز پڑھنے کیوں نہیں جانا؟ تو یقینی بات ہے مجھے یہ کہنا پڑے گا کہ بیٹا اس مسجد میں ہماری نماز نہیں ہوتی۔ بیٹے نے پھر اگلا سوال داغ دینا ہے کہ پاپا جی اس مسجد میں ہماری نماز کیوں نہیں ہوتی؟ اس سوال کے بدلے میرے پاس کوئی اور جواب نہیں ہوگا کہ بیٹا یہ مسجد بریلویوں کی ہے یا پھر دیوبندیوں یا وہابیوں کی ہے۔ ننھے دماغ نے پھر اگلا سوال کرنا ہے کہ پاپا جی یہ بریلوی، دیوبندی اور وہابی کون ہوتے ہیں؟ پھر یقینی بات ہے کہ میرے پاس ہر مسلک کے بارے میں منفی باتیں کرنے کے سوا کوئی محفوظ راستہ نہ ہوگاکہ بچپن ہی میں اس ننھے دماغ میں مسلمانوں کی ہر جماعت کے بارے میں زہرآلود مواد کو کوٹ کوٹ کر بھر دیا جائے۔میرا ننھا شہزادہ کسی مسجد میں اونچی آواز میں آمین کی آوازیں بھی سنتا ہے تو کسی جگہ پر کلمہ طیبہ اور درود و سلام کا باآواز بلند ورد بھی سنتا ہے۔کہیں پر سینے پر ہاتھ رکھے اور کہیں پر زیر ناف ہاتھ باندھے، کہیں پر رفع یدین کیساتھ تو کہیں پر بغیر رفع یدین کیساتھ فرزندان توحید کو نماز پڑھتے دیکھتا ہے۔یاد رہے مسلمانوں کے درمیان نماز و دیگر عبادات کی ادائیگی میں اختلاف رائے صدیوں سے جاری ہے، لیکن اسکا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ ان اختلافات کی بناء پر دشمنی، نفرت، عداوت، دوریاں اور پھر اس سے بڑھ کر قتل و غارت گری جیسے فتنوں کو جنم دیا جائے۔ بندہ نا چیز برصغیر پاک و ہند کے جید علماء کرام سے چند ادنیٰ سے سوالات کرنے کی جسارت کرے گا کہ قرآن و احادیث کی کس مقدس کتاب میں بریلوی، دیوبندی یا وہابی مسلک کا ذکر درج ہے؟ کیا دِین اسلام کی تعلیمات ہمیں فرقہ پرستی سے روکتی ہیں یا پھر فرقہ پرستی کو پروان چڑھانے کی ترغیب دیتی ہیں؟ہونا تو یہ چاہئے کہ برصغیر پاک و ہند کے تمام علماء کرام اپنی تمام تر توانیاں ہمارے ہاں پائی جانے والی خرافات، شرک و بدعات کا قلع قمع کرنے اور غیر مسلم افراد کو دین اسلام کی طرف راغب کرنے میں صرف کریں ناکہ اپنے اپنے مسالک کے دفاع میں دن رات ایک کردیں۔انتہائی ادب واحترام سے یہ بات کرنے کی جسارت کررہا ہوں کہ بدقسمتی سے برصغیر پاک و ہند میں اپنے آپکو مسلمان کہلوانے سے زیادہ بریلوی، دیوبندی اور اہلحدیث کہلوانے میں زیادہ فخر محسوس کیا جاتا ہے۔ اللہ کریم مجھ سمیت پوری امت مسلمہ کو فرقہ پرستی سے بالا تر ہوکر مسلمان کی حیثیت سے اُمت کے اتحاد کے لئے جدوجہد کرنے کی ہمت، توفیق و استقامت عطا فرمائے اور باہمی محبت و الفت نصیب فرمائے۔ آمین ثم آمین -

"پاکستان ٹرانس جینڈر ایکٹ” — شہنیلہ بیلگم والا
کہتے ہیں کہ ایک بادشاہ کو اپنی بہن سے شادی کرنی تھی. یہ وہ فعل ہے جس کی اجازت کسی بھی مذہب میں نہیں. بادشاہ نے اپنے مصاحبوں سے مشورہ کیا. ایک شیطان صفت مصاحب نے مشورہ دیا کہ کوئی بھی بڑا دھماکہ فوری طور پر نہیں کیا جاتا. پہلے اس کے لیے زمین نرم کی جاتی ہے. عوام کو پہلے ہلکی پھلکی بے غیرتی کا عادی بنایا جاتا ہے. پھر جب رب کے قانون کے صریحاً خلاف ورزی کی جاتی ہے تو عوامی ردعمل انتہائی معمولی ہوتا ہے بلکہ کبھی کبھی تو ہوتا بھی نہیں.
اس کی مثال آج کل کے دور میں یہ ہے کہ پہلے میڈیا کے زریعے ہمیں مزاح کے نام پہ ایک مرد کو ساڑھی پہنا کر سج سنوار کر بٹھایا گیا ( بیگم نوازش علی). پھر اس کے بعد آہستہ آہستہ ہر دوسرے ڈرامے میں ایک مرد لہرا کر بل کھاتا ہوا نظر آیا. عوام نے اسے مزاح کا ایک انداز سمجھا. اب اگر روزمرہ کی زندگی میں بھی کوئی ایسا کرتا نظر آتا ہے تو ہم اسے ٹھنڈے پیٹوں برداشت کرتے ہیں. پھر پچھلے دنوں ایک مرد جو اعلیٰ تعلیم یافتہ ہے ( ڈاکٹر)، لیکن کھلے عام سیکس چینج کو اپنا حق مانتا ہے. خود کو عورت کی طرح پیش کرتا ہے اور ہم جنس پرست ہونے پہ فخر کرتا ہے، اسے ایک اسکول میں بطور رول ماڈل مدعو کیا گیا. جس پہ کچھ والدین نے اعتراض کیا. باقی والدین اس کی انگریزی سے مرعوب ہوتے رہے.
اعتراض یہ کیا جاتا ہے کہ اسلام میں ایسے لوگوں کا کیا مقام ہے. یہ مکمل مرد اور عورت اپنی جنس سے مطمئن نہیں، اسی لیے وہ خواجہ سراؤں کی آڑ لے کر پاکستان میں ایک ایسا قانون پاس کروانا چاہتے ہیں جس سے ان کو اپنا گھناؤنا فعل کرنے کی مکمل آزادی مل جائے.
کم علمی کے باعث بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ اسلام میں خواجہ سراؤں کے وہی حقوق ہیں جو ایک مرد یا عورت کے ہیں. یہاں تک کہ وراثت میں بھی اگر ایک خواجہ سرا عورت کے نزدیک تر ہے تو ترکے میں عورت کے برابر اور اگر ایک مرد کے نزدیک تر ہے تو مرد کے برابر حصہ ملے گا. یہ باتیں ہم سے چھپائی جاتی ہیں. انسانیت کے نام پہ اپنی فحاشی کی آزادی درکار ہے. یہ قوم لوط کا فعل ہے جس پہ اللہ کا غضب ایسے بھڑکا تھا کہ توبہ کرنے کے لیے تین دن کا وقت بھی نہیں دیا گیا جو اس سے پہلے تمام گمراہ قوموں کو دیا گیا تھا.
اکتوبر میں اس بل پر پارلیمانی کمیٹی فیصلہ کرے گی. ہم سب کی زمہ داری ہے کہ ہم بھرپور احتجاج کر کے اس بل کو رکوائیں. ہمیں یہ کام ہر قسم کی سیاسی وابستگی سے اٹھ کر کرنا ہے. یاد رہے کہ اللہ کا عذاب اور غضب صرف ان پہ نہیں آتا جو اس فعل میں ملوث ہوتے ہیں بلکہ ان پہ بھی آتا ہے جو اس کو قبیح فعل سمجھتے ہوئے بھی خاموشی اختیار کرتے ہیں.
اللہ ہم سب کو صراط مستقیم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے آمین ثم آمین۔
-

"سکون صرف قبر میں ہے” — اعجازالحق عثمانی
ڈربہ نما گھروں پر مشتمل یہ ہمارے ملک کا ایک بہت بڑا شہر ہے۔ گلی کے نکڑ پر لگا فلٹریشن پلانٹ یہاں کے باسیوں کو صاف پانی مہیا کرنے کےلیے لگایا گیا ہے۔ پلانٹ کے گرد مکڑی کے جالے فلٹریشن پلانٹ کو سیکورٹی مہیا کررہے ہیں۔ فلٹریشن پلانٹ کے عین سامنے ابلتا گٹر اور ایک کیچڑ زدہ نالی ہے ۔جہاں رہائش پذیر مچھر پڑوس میں قائم ایک ہاسپٹل کےلیے مریض مہیا کرنے میں رات دن مصروف ہیں۔اس شہر میں کچرے کے انبار اور ملک کے اخبار تعداد میں مساوی ہیں۔ یہاں کچرا اُٹھانے اور ہٹانے سے زیادہ تجاوزات ہٹانے کا عمل جاری رہتا ہے۔
شہر کے وسط میں رکشوں کی پھٹ پھٹ۔۔۔۔۔۔کان کے پردے پھاڑتے ٹھیلے والوں کے سپیکرز، اور مسلسل ہارن کی آوازوں سے الجھا دماغ۔۔۔۔۔۔ دھواں چھوڑتی گاڑیاں، بغیر سائلنسر کے بائیکس سڑکوں پر نکلتے ہی آپ کا منہ سر ایک کر دیتے ہیں۔ شہروں کے گھٹن بھرے ماحول اور آلوگی سے لبریز آب و ہوا میں سکون کا حصول تو ممکن نہیں ہے۔شاید”سکون صرف قبر میں ہے”
گھبرائیے بغیر، آئیے اسی شہر کے کسی دوسرے حصے کی طرف چلتے ہیں۔ یہاں چنگچی رکشے، پرانی کاریں ناپید ہیں۔ موٹر سائیکل بھی خال خال نظر آتے ہیں۔ سڑکیں برف کی طرح صاف ستھری ہیں۔ یہاں ہر طرف بنگلہ نما بڑے بڑے گھر ہیں۔ نئے طرز اور ماڈلز کی گاڑیاں بغیر دھول اڑائے یہاں سڑکوں پر اڑتی نظر آتی ہیں۔ بڑے مالز، چمکتے فروٹ (شاید ان دکانوں پر فروٹ خراب ہی نہیں ہوتے؟) ۔۔۔۔شیشے کے پار مکھیوں سے کوسوں دور گوشت۔۔۔۔۔۔۔ اور ان سب جگہوں پر منظم طریقے سے خریداری کرتے لوگ۔ انہی مالز کے بلکل قریب دو چار بڑے بڑے ہسپتال بھی ہیں۔ معیاری خوراک کی دستیابی کے باوجود یہاں کے ہسپتالوں میں دل، گردے اور پھیپھڑوں کے مریضوں کا بہت رش رہتا ہے۔ سکون یہاں بھی نا پید ہے۔
آئیے اب اس شہر سے دور چلتے ہیں۔ یہاں کچے مکانوں میں لوگ بیٹھے گپ شپ میں مشغول ہیں۔ شدید گرمی ہے۔ بجلی پچھلے چھ گھنٹوں سے بند ہے۔ایک معروف فلمی گیت ہے،
گوری تیرا گاؤں بڑا پیارا میں تو گیا مارا، آ کے یہاں رے
اس پر روپ تیرا سادا چندرما جیوں آدھا، آدھا جواں رےجی کرتا ہے مور کے پاؤں میں پائلیا پہنا دوں
کوہو کوہو گاتی کوئلیا کو پھولوں کا گہنا دوںیہیں گھر اپنا بنانے کو پنچھی کرے دیکھو
تنکے جمع رے، تنکے جمع رےاس پر روپ تیرا سادا چندرما جیوں آدھا، آدھا جواں رے
گوری تیرا گاؤں بڑا پیارا میں تو گیا مارا، آ کے یہاں"۔۔۔۔میں تو گیا مارا ، آکے یہاں” یہ بات اس فلمی گیت میں شاید اب کے گاؤں کے لیے کہی گئی ہے۔یہاں شہروں کے طرح ٹھیلے والوں کے سپیکرز کی آوازیں تو دماغ کو بے سکون نہیں کرتیں۔مگر کبھی کبھار سائیکل سوار آوازیں لگاتا گاؤں میں پھرتا پایا جاتا ہے۔
یہاں ضروریات زندگی کی بیشتر اشیاء ناپید ہیں ۔مگر ایک نکڑ پر مکیھوں کی نگرانی میں سموسے تیار ہورہے ہیں۔یہاں چوہدریوں، وڈیروں اور جاگیر داروں کا راج ہوتا ہے جو ادھر کے لوگوں کو اپنی رعایا سمجھ کر ان کی جان، مال اور عزت کا خوب استحصال کیا جاتا ہے۔
یہاں نہ تو پکی سڑکیں ہیں۔ اول تو تعلیمی ادارے ہیں ہی نہیں اور جہاں ہیں وہاں صرف ادارے ہیں تعلیم نہیں ۔ڈسپنسریز و ہیلتھ مراکز بھی عملے کے بغیر ہی ہوتے ہیں۔ مگر نیم حکیم اور عطائی ڈاکٹروں کی ادھر بھرمار ہوتی ہے ۔غرض یہ کہ مصیبتیں بال کھولے چوبیس گھنٹے یہاں تعینات رہتی ہیں۔ خستہ حال سڑکیں، بند نالیاں اور ان میں بیٹھے مچھر ہر آتے جاتے کو لازماً یوں کاٹ رہے ہیں کہ جیسے حکومت نے اس دیہات کے لوگوں کو کورونا ویکسین لگانے کی ذمہ انکو دے رکھی ہو۔ مچھروں کے باعث بیماریاں یہاں بھی پھوٹ پھوٹ پڑتی ہیں۔ادھر بھی ایسا لگتا ہے کہ "سکون صرف قبر میں ہے”.
مگر!
اب تو گھبرا کے یہ کہتے ہیں کہ مر جائیں گے
مر کے بھی چین نہ پایا تو کدھر جائیں گے
